Ayah 38:24قَالَ لَقَدْ ظَلَمَکَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِکَ اِلٰی نِعَاجِہٖ ط وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَـآئِ لَیَبْغِیْ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ اِلاَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَلِیْلٌ مَّا ھُمْ ط وَظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَـتَـنّٰـہُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّـہٗ وَخَرَّرَاکِعًاوَّاَنَابَ ۔ (صٓ: 24)
(حضرت دائود نے کہا کہ تمہارے بھائی نے تمہاری دنبی کو اپنی دنبیوں میں ملانے کا مطالبہ کرکے تمہارے اوپر ظلم کیا ہے اور بیشتر شرکاء اسی طرح ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں، بجز ان لوگوں کے جو ایمان رکھتے اور عمل صالح کرتے ہیں اور وہ بہت تھوڑے ہیں اور حضرت دائود نے گمان کیا کہ ہم نے اس کو آزمایا، تو اس نے اپنے رب سے استغفار کیا اور سجدے میں گرگیا اور توبہ کی۔ )
حضرت دائود (علیہ السلام) کا فیصلہ
حضرت دائود (علیہ السلام) نے مظلوم فریق کا بیان سن کر اور دوسرے فریق کی خاموشی سے اندازہ فرما لیا کہ زیادتی اس دولت مند فریق نے کی ہے اور پھر بےلاگ فیصلہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اس شخص نے تمہاری دنبی کو اپنی دمبیوں میں ملا لینے کا مطالبہ کرکے تمہارے اوپر ظلم کیا ہے۔ اور ساتھ ہی اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ بیشتر شرکائِ معاملہ ہمیشہ کمزور فریق پر ظلم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھیں اس بات کا خیال نہیں ہوتا کہ جو شخص نادار ہے اس کی ناداری کا علاج کیا جائے۔ بلکہ انھیں فکر اپنی دولت کو بڑھانے کی ہوتی ہے۔ چاہے اس کی امارت دوسرے کی ناداری پر اٹھانی پڑے۔ البتہ اس ظلم اور زیادتی سے صرف وہ لوگ بچتے ہیں جن کے پاس ایمان اور عمل صلاح کی پونجی ہوتی ہے۔ اور انھیں یقین ہے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے ہر بات کی جواب دہی کرنی ہے۔ اور ایسے لوگ انسانوں میں بہت زیادہ نہیں بہت تھوڑے ہیں، اسی لیے ظلم کا سلسلہ کہیں رکنے میں نہیں آتا۔ اس کے بعد ایک نہایت حیران کن بات آیت کریمہ میں فرمائی گئی ہے کہ جیسے ہی حضرت دائود (علیہ السلام) نے معاملے کے دونوں فریقوں کا فیصلہ سنایا، فوراً اس آئینہ میں انھیں اپنے کسی عمل کی جھلک دکھائی دی اور محسوس کیا کہ کسی حد تک اس سے ملتی جلتی بات مجھ سے بھی صادر ہوئی ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ” اوّاب “ بنایا ہے اور آپ اللہ تعالیٰ سے بہت ڈرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اس تعلق میں بادشاہت بھی حائل ہونے میں نہیں آتی۔ چناچہ جیسے ہی انھیں اپنے کسی عمل کا استحضار ہوا تو وہ فوراً اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک گئے۔ اور استغفار و توبہ کے لیے سجدے میں گرپڑے۔
حضرت دائود (علیہ السلام) کا تنبہ اور اس کی تفصیل
سوال یہ ہے کہ وہ کیا بات تھی جس نے حضرت دائود (علیہ السلام) کو پریشان کردیا۔ قرآن کریم نے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی اور اسے اپنے اور حضرت دائود (علیہ السلام) کے درمیان ایک راز ہی رہنے دیا۔ اسے دیکھتے ہوئے اس سے ہٹ کر اور کوئی بات صحیح نہیں ہوسکتی کہ جس بات کو اللہ تعالیٰ نے راز رکھا ہے ہمیں کیا حق ہے کہ ہم اس کی کھوج کرید کے پیچھے پڑیں۔ اس لیے خیال اور گمان کے گھوڑے دوڑانے کی بجائے ہمیں اس واقعہ کی روح کو اور حضرت دائود (علیہ السلام) کے طرز عمل کو اپنے لیے روشنی کا سامان بنانا چاہیے۔ اس لیے حافظ ابن کثیر جیسے محقق اور مفسر نے اپنی تفسیر میں اسی پر عمل کرتے ہوئے واقعہ کی تفصیلات سے خاموشی اختیار کی ہے۔ اور کوئی شک نہیں کہ یہ سب سے زیادہ محتاط اور سلامتی کا راستہ ہے۔ اسی لیے علمائے سلف سے منقول ہے کہ اِبْہَمُوْا مَااَبْہَمَہُ اللّٰہُ ” یعنی جس چیز کو اللہ نے مبہم چھوڑا ہے تم بھی اسے مبہم رہنے دو ۔ “ البتہ دوسرے مفسرین نے روایات و آثار کی روشنی میں اس امتحان اور آزمائش کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے ہم اسے معارف القرآن سے نقل کررہے ہیں۔
اس سلسلہ میں ایک عامیانہ روایت تو یہ مشہور ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کی نظر ایک مرتبہ اپنے ایک فوجی افسر اور یا کی بیوی پر پڑگئی تھی جس سے ان کے دل میں اس کے ساتھ نکاح کرنے کی خواہش پیدا ہوئی اور انھوں نے اور یا کو قتل کرانے کی غرض سے اسے خطرناک ترین مشن سونپ دیا جس میں وہ شہید ہوگیا اور بعد میں آپ نے اس کی بیوی سے شادی کرلی۔ اس عمل پر تنبیہ کرنے کے لیے یہ دو فرشتے انسانی شکل میں بھیجے گئے۔
لیکن یہ روایت بلاشبہ ان خرافات میں سے ہے جو یہودیوں کے زیراثر مسلمانوں میں بھی پھیل گئی تھیں۔ یہ روایت دراصل بائیبل کی کتاب سموئیل دوم باب 11 سے ماخوذ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بائیبل میں کھلم کھلا حضرت دائود (علیہ السلام) پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے معاذاللہ اور یا کی بیوی سے نکاح سے قبل ہی زنا کا ارتکاب کیا تھا اور ان تفسیری روایتوں میں زنا کے جزء کو حذف کردیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے اس اسرائیلی روایت کو دیکھا اور اس میں سے زنا کے قصے کو نکال کر اسے قرآن کریم کی مذکورہ آیتوں پر چسپاں کردیا حالانکہ یہ کتاب سموئیل ہی سرے سے بےاصل ہے۔ اور یہ روایت قطعی کذب و افتراء کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے تمام محقق مفسرین نے اس کی سخت تردید کی ہے۔
حافظ ابن کثیر ( رض) کے علاوہ علامہ ابن جوزی، قاضی ابوالسعود، قاضی بیضاوی، قاضی عیاض، امام رازی، علامہ ابوحیان اندلسی، خازن، زمحشری، ابن خرم، علامہ حفاجی، احمد بن نصر، ابوتمام اور علامہ آلوسی وغیرہ نے بھی اسے کذب و افتراء قرار دیا ہے۔ حافظ ابن کثیر ( رح) لکھتے ہیں :۔
” بعض مفسرین نے یہاں ایک قصہ ذکر کیا ہے جس کا اکثر حصہ اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔ آنحضرت ﷺ سے اس بارے میں کوئی ایسی بات ثابت نہیں جس کا اتباع واجب ہو، صرف ابن ابی حاتم ( رح) نے یہاں ایک حدیث روایت کی ہے مگر اس کی سند صحیح نہیں ہے۔ “
غرض بہت سے دلائل کی روشنی میں جن کی کچھ تفصیل امام رازی ( رح) کی تفسیر کبیر اور ابن جوزی ( رح) کی زادالمسیر وغیرہ میں موجود ہے یہ روایت تو اس آیت کی تفسیر میں قطعاً خارج از بحث ہوجاتی ہے۔
حکیم الامت حضرت تھانوی ( رح) نے اس آزمائش اور لغزش کی تشریح اس طرح فرمائی ہے کہ مقدمہ کے یہ دو فریق دیوار پھاند کر داخل ہوئے اور طرز مخاطبت بھی انتہائی گستاخانہ اختیار کیا کہ شروع ہی میں حضرت دائود (علیہ السلام) کو انصاف کرنے اور ظلم نہ کرنے کی نصیحتیں شروع کردیں، اس انداز کی گستاخی کی بنا پر کوئی عام آدمی ہوتا تو انھیں جواب دینے کے بجائے الٹی سزا دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کا یہ امتحان فرمایا کہ وہ بھی غصہ میں آکر انھیں سزا دیتے ہیں یا پیغمبرانہ عفو و تحمل سے کام لے کر ان کی بات سنتے ہیں۔
حضرت دائود (علیہ السلام) اس امتحان میں پورے اترے، لیکن اتنی سی فروگزاشت ہوگئی کہ فیصلہ سناتے وقت ظالم کو خطاب کرنے کے بجائے مظلوم کو مخاطب فرمایا جس سے ایک گو نہ جانبداری مترشح ہوتی تھی مگر اس پر فوراً تنبہ ہوا اور سجدے میں گرگئے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف فرما دیا۔ (بیان القرآن)
بعض مفسرین نے لغزش کی یہ تشریح کی ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے مدعا علیہ کو خاموش دیکھا تو اس کا بیان سنے بغیر صرف مدعی کی بات سن کر اپنی نصیحت میں ایسی باتیں فرمائیں جن سے فی الجملہ مدعی کی تائید ہوتی تھی حالانکہ پہلے مدعا علیہ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ اس کا موقف کیا ہے ؟ حضرت دائود (علیہ السلام) کا یہ ارشاد اگرچہ صرف ناصحانہ انداز میں تھا اور ابھی تک مقدمہ کے فیصلے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ تاہم ان جیسے جلیل القدر پیغمبر کے شایان شان نہیں تھا۔ اسی بات پر آپ بعد میں متنبہ ہو کر سجدہ ریز ہوئے۔ (روح المعانی)
بعض حضرات نے فرمایا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اپنا نظم اوقات ایسا بنایا ہوا تھا کہ چوبیس گھنٹے میں ہر وقت گھر کا کوئی نہ کوئی فرد عبادت، ذکر اور تسبیح میں مشغول رہتا تھا، ایک روز انھوں نے باری تعالیٰ سے عرض کیا کہ پروردگار ! دن اور ات کی کوئی گھڑی ایسی نہیں گزرتی جس میں دائود کے گھر والوں میں سے کوئی نہ کوئی آپ کی عبادت، نماز اور تسبیح و ذکر میں مشغول نہ ہو، باری تعالیٰ نے فرمایا کہ دائود ! یہ سب کچھ میری توفیق سے ہے اگر میری مدد شامل حال نہ ہو تو یہ بات تمہارے بس کی نہیں ہے، اور ایک دن میں تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دوں گا۔ اس کے بعد یہ واقعہ پیش آیا کہ وہ وقت حضرت دائود (علیہ السلام) کے مشغول عبادت ہونے کا تھا۔ اس ناگہانی قضیہ سے ان کے اوقات کا نظم مختل ہوگیا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) جھگڑا چکانے میں مشغول ہوگئے، آل دائود (علیہ السلام) کا کوئی اور فرد بھی اس وقت عبادت اور ذکرالٰہی میں مصروف نہ تھا۔ اس سے حضرت دائود (علیہ السلام) کو تنبہ ہوا کہ وہ فخریہ کلمہ جو زبان سے نکل گیا تھا، یہ مجھ سے غلطی ہوئی تھی۔ اس لیے آپ نے استغفار فرمایا اور سجدہ ریز ہوگئے۔ اس توجیہہ کی تائید حضرت ابن عباس ( رض) کے ایک ارشاد سے بھی ہوتی ہے جو مستدرک حاکم میں صحیح سند کے ساتھ منقول ہے۔ (احکام القرآن)
ان تمام تشریحات میں یہ بات مشترکہ طور پر تسلیم کی گئی ہے کہ مقدمہ فرضی نہیں بلکہ حقیقی تھا اور صورت مقدمہ کا حضرت دائود (علیہ السلام) کی آزمائش یا لغزش سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس کے برخلاف بہت سے مفسرین نے اس کی ایسی تشریح فرمائی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مقدمہ کے یہ فریقین انسان نہیں بلکہ فرشتے تھے اور انھیں اللہ تعالیٰ نے اس لیے بھیجا تھا کہ وہ ایسی فرضی صورت مقدمہ پیش کریں جس سے حضرت دائود (علیہ السلام) کو اپنی تغزش پر تنبہ ہوجائے۔
چناچہ ان حضرات کا یہ کہنا ہے کہ اور یا کو قتل کرانے اور اس کی بیوی سے نکاح کرلینے کا وہ قصہ تو غلط ہے لیکن حقیقت حال یہ تھی کہ بنی اسرائیل میں کسی شخص سے یہ فرمائش کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا کہ ” تم اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس کا نکاح مجھ سے کردو۔ “ اس زمانے میں اس فرمائش کا عام رواج بھی تھا۔ اور یہ بات خلاف مروت بھی نہ سمجھی جاتی تھی۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اسی بنا پر اور یا سے یہی فرمائش کی تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ دو فرشتے بھیج کر آپ کو تنبیہ فرمائی۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ بات صرف اتنی تھی کہ اور یا نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا ہوا تھا، حضرت دائود علیہ لسلام نے بھی اسی عورت کو اپنا پیغام دے دیا، اس سے اور یا کو بہت رنج ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر تنبیہ کے لیے یہ دو فرشتے بھیجے اور ایک لطیف پیرایہ میں اس لغزش پر تنبیہ فرمائی۔ قاضی ابویعلیٰ ( رح) نے اس توجیہہ پر قرآن کریم کے الفاظ وَعَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ سے استدلال فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ یہ جملہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ معاملہ محض خطبہ (منگنی) کے سلسلہ میں پیش آیا تھا۔ اور ابھی حضرت دائود (علیہ السلام) نے اس سے نکاح نہیں فرمایا تھا۔ (زادالمسیرلابن الجوزی ( رح) ۔ ص 116۔ ج 7)
اکثر مفسرین نے ان آخری دو تشریحات کو ترجیح دی ہے اور ان کی تائید بعض آثار صحابہ سے بھی ہوتی ہے۔ (ملاحظہ ہو روح المعانی، تفسیر ابی السعود، زادالمسیر، تفسیر کبیر وغیرہ) لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس آزمائش اور لغزش کی تفصیل نہ قرآن کریم سے ثابت ہے نہ کسی صحیح حدیث سے۔ اس لیے اتنی بات تو طے شدہ ہے کہ اور یا کو قتل کروانے کا جو قصہ مشہور ہے وہ غلط ہے لیکن اصل واقعہ کے بارے میں مذکورہ بالا تمام احتمالات موجود ہیں اور ان میں سے کس ایک کو قطعی اور یقینی نہیں کہا جاسکتا، لہٰذا سلامتی کی راہ وہی ہے جو حافظ ابن کثیر ( رح) نے اختیار کی کہ جس بات کو اللہ تعالیٰ نے مبہم چھوڑا ہے، ہم اپنے قیاسات اور اندازوں کے ذریعہ اس کی تفصیل کی کوشش نہ کریں جبکہ اس سے ہمارے کسی عمل کا تعلق نہیں۔ اس ابہام میں بھی یقینا کوئی حکمت ہے، لہٰذا صرف اتنے واقعہ پر ایمان رکھا جائے جو قرآن کریم میں مذکور ہے، باقی تفصیلات کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کیا جائے۔
سجدہ تلاوت کے احکام
وَخَرَّرَاکِعًاوَّاَنَابَ ” حضرت دائود سجدے میں گرگئے اور توبہ کی۔ “ یہ آیت سجدہ ہے۔ امام ابوحنیفہ ( رح) کے نزدیک اس آیت کو پڑھنے سے سجدہ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔ امامِ شافعی کہتے ہیں کہ یہ آیت سجدہ نہیں بلکہ آیت توبہ ہے۔ یعنی اس میں حضرت دائود (علیہ السلام) کی توبہ کا ذکر ہے۔ اس سلسلے میں جتنی روایات احادیث میں آئی ہیں ان سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ اس آیت پر سجدہ کیا۔ البتہ ایک موقع پر فرمایا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے توبہ کے طور پر سجدہ کیا تھا، ہم شکر کے طور پر سجدہ کرتے ہیں۔ اس سے امام شافعی نے یہ سمجھا ہے کہ اس سے سجدے کا وجوب ثابت نہیں ہوتا۔ لیکن حضرت عبداللہ ابن عباس کی ایک روایت جسے مجاہد نے نقل کیا ہے اس میں وہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا ہے اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدَا ھُمُ اقْتَدِہٖ ” یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہے لہٰذا آپ ان کے طریقے کی پیروی کریں۔ “ اس آیت میں لوگوں سے مراد انبیائے کرام ہیں۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بھی ایک نبی تھے۔ انھوں نے اگر اس موقع پر سجدہ کیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی ان کی اقتداء میں سجدہ کیا ہے تو آیت کے الفاظ کے حوالے سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے وجوب ثابت ہوتا ہے۔ بہرحال امام ابوحنیفہ ( رح) اور امام شافعی ( رح) کے درمیان اس آیت پر سجدہ کرنے کے معاملے میں اختلاف ہے لیکن ہم نے جو کچھ عرض کیا ہے اس سے یہ بات بہرحال واضح ہوتی ہے کہ اس آیت پر سجدہ کرنا بہتر ہے۔
اس آیت میں رکوع کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی جھکنے کے ہیں لیکن اکثر مفسرین نے اس سے مراد سجدہ لیا ہے۔ اسی بناء پر امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ آیت سجدہ سن کر یا پڑھ کر آدمی سجدے کی بجائے صرف رکوع بھی کرسکتا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے رکوع کا لفظ استعمال کرکے سجدہ مراد لیا ہے تو معلوم ہوا کہ رکوع سجدے کا قائم مقام ہوسکتا ہے۔ البتہ اس سلسلے میں فقہاء نے کچھ وضاحتیں کی ہیں ان کا پیش نظر رہنا ضروری ہے۔
1 رکوع میں سجدہ صرف اس وقت ادا ہوگا جبکہ آیت سجدہ تلاوت کرنے کے فوراً بعد یا زیادہ سے زیادہ دو تین آیتیں مزید تلاوت کرکے رکوع کرلیا جائے۔ اور اگر آیت سجدہ کے بعد کھڑے کھڑے طویل قرأت کی تو سجدہ رکوع میں ادا نہیں ہوگا۔ (بدائع)
2 یہ ضروری ہے کہ سجدے کی آیت نماز میں پڑھی گئی ہو۔ نماز سے باہر تلاوت کرنے میں رکوع سے سجدہ ادا نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ رکوع صرف نماز میں عبادت ہے، نماز سے باہر مشروع نہیں۔ (بدائع)
3 اگر سجدہ تلاوت رکوع میں ادا کرنے کا خیال ہو تو رکوع میں جاتے وقت سجدہ تلاوت کی نیت کر لینی چاہیے۔ ورنہ اس رکوع سے سجدہ ادا نہیں ہوگا۔ (بدائع)
4 افضل بہرحال یہی ہے کہ سجدہ تلاوت کو نماز کے فرض رکوع میں ادا کرنے کی بجائے مستقل سجدہ کیا جائے۔ اور سجدہ سے اٹھ کر ایک دو آیتیں تلاوت کرکے پھر رکوع میں جائیں۔ (بدائع)
Ayah 38:25فَغَفَرْنَا لَـہٗ ذٰلِکَ ط وَاِنَّ لَــہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَحُسْنَ مَاٰبٍ ۔ (صٓ: 25)
(تو ہم نے اس کا وہ قصور معاف کردیا، اور بیشک اس کے لیے ہمارے پاس تقرب کا مقام ہے اور اچھا انجام ہے۔ )
حضرت دائود (علیہ السلام) کی قبولیتِ توبہ
حضرت دائود (علیہ السلام) کو دوسروں کی غلطیوں کے آئینہ میں اپنی غلطی کا احساس پیدا ہوگیا اور اس پر انھوں نے بےساختہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سر جھکا دیا اور توبہ کے لیے ہاتھ پھیلا دیئے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر ہم نے اس کا وہ قصور معاف کردیا۔ اس سے یہ ایک بات واضح ہوتی ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) سے جو قصور سرزد ہوا تھا وہ یقینا ایسا ضرور تھا جس پر توبہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ کیونکہ صغائر عبادات اور دوسری نیکیوں سے معاف ہوجاتے ہیں۔ لیکن کبائر توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے۔ اور مزید یہ فرمایا کہ اس توبہ اور انابت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کا مقام و مرتبہ پہلے سے دوچند کردیا۔ انھیں پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے یہاں تقرب کا مقام حاصل تھا اب اس میں اور اضافہ ہوگیا۔ اور آپ کے بہتر انجام میں اللہ تعالیٰ نے اور بہتری پیدا فرمائی۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) سے سرزد ہونے والا قصور بیشک کبائر میں شامل ہونے کے قابل کیوں نہ ہو اس میں سرکشی اور سرتابی کا عنصر ہرگز شامل نہیں تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ کے مقام تقرب میں کمی ہونے کا امکان تھا، اضافہ کا نہیں۔
Ayah 38:26یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰـکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعِ الْھَوٰی فَیُضِلَّـکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ م بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ ۔ (صٓ: 26)
(اے دائود ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے، تو لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرو، اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرنا وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی، جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لیے سخت سزا ہے، بوجہ اس کے کہ انھوں نے روزحساب کو بھلائے رکھا۔ )
خلافت و حکومت کے ذمہ داروں کے لیے ہدایات
حضرت دائود (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ ساتھ حکومت و سلطنت کی ذمہ داریاں بھی تفویض کی تھیں۔ اس لیے پیش نظر آیت کریمہ میں ایسے تمام لوگوں کے لیے جنھیں حکومت و سیاست سے واسطہ پڑتا ہے اور وہ اس حوالے سے کسی ذمہ دار منصب پر فائز ہوتے ہیں انھیں چند بنیادی باتوں کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ وہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے کسی غلطی کا ارتکاب نہ کرنے پائیں۔
یاد رہے کہ یہاں جن ذمہ داریوں کا ذکر فرمایا گیا ہے ان کا تعلق صرف حضرت دائود (علیہ السلام) سے نہیں بلکہ ہر اس شخصیت سے ہے جسے اللہ تعالیٰ حکومت و سلطنت کی ذمہ داریوں سے گراں بار کرتا ہے۔ چاہے وہ نبوت کے مقام رفیع پر فائز ہو یا نہ ہو۔ یہاں بطور خاص ان ہدایات کا ذکر شاید اس لیے کیا گیا ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی چونکہ معصوم ہوتے ہیں اس لیے انھیں ایسے ہدایات کی کیا ضرورت ہے جو خواہشاتِ نفس یا گناہ کے ارادے سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس میں بتانا یہ مقصود ہے کہ نبی یا غیر نبی کے لیے معیار ایک ہی ہے اور جواب طلبی بھی ایک جیسی ہوگی۔ یہ الگ بات ہے کہ نبی چونکہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا ہے اس لیے پروردگار اسے کسی ایسے کام میں ملوث نہیں ہونے دیتا جو شان نبوت کیخلاف ہو۔ تاہم انھیں اس طرح کی ہدایات دینا ہدایات کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ اور دوسرے حکمرانوں کو پوری طرح ان کی طرف متوجہ کرنا ہے۔
پہلی ہدایت یہ دی گئی ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا ہے اور ان انسانوں میں جو اللہ تعالیٰ کے نبی یا رسول ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ خود انھیں اپنی طرف سے اپنا خلیفہ نامزد کردیتے ہیں۔ لیکن دوسرے لوگ اس منصب پر فائز ہونے کے لیے لوگوں کے انتخاب اور اعتماد کے محتاج ہیں۔ وہ جس شخص کو بھی حکومت اور سلطنت کی ذمہ داریوں اور ہدایت و ارشاد کی گراں باریوں کے لیے منتخب کریں گے وہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہوں گے۔ البتہ جو ذمہ داری خلیفہ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے نبیوں پر عائد ہوتی ہے وہی غیرنبی پر بھی عائد ہوتی ہے۔ خلیفہ ہونے کے حوالے سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ اقتدارِاعلیٰ کا اصل مالک رب ذوالجلال ہے۔ انسان اس کی نیابت و خلافت میں اس کے احکام کو اس کے بندوں پر نافذ کرنے کا مجاز اور پابند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلفائے راشدین نے ہمیشہ اس نکتے پر زور دیا کہ ہم حکمران ہونے کے باوجود مقنن یعنی قانون بنانے والے نہیں بلکہ منفذ یعنی اللہ تعالیٰ کے قانون کو نافذ کرنے والے ہیں۔ حضرت عمرفاروق ( رض) بار بار اس بات کو دہراتے تھے کہ جب تم دیکھو کہ میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجائے اپنے احکام کی طرف تمہیں بلاتا ہوں تو تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم مجھے معزول کردو۔ کیونکہ میں تمہارا بادشاہ نہیں بلکہ تمہارا امیر اور اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہوں۔ اس سے یہ بات مبرہن ہوجاتی ہے کہ مسلمانوں کا حاکم شوریٰ یا اسمبلی اسلامی قانون کی تشریح یا تدوین تو کرسکتی ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی شریعت خاموش ہے اس میں قانون سازی بھی کرسکتی ہے۔ لیکن انھیں مطلقاً قانون سازی کا اختیار نہیں۔
دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ اسلامی ریاست کا بنیادی کام اقامتِ حق ہے۔ حکومت پر لازم ہے کہ وہ اپنے انتظامی معاملات اور تنازعات کے تصفیہ میں حق و انصاف سے کام لے۔ وہ مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تعلیم و تربیت کا ایسا انتظام کرے جو ان میں اپنی حیثیت کا شعور، اپنے مقصد زندگی سے وابستگی، اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق کی شناخت، انسانوں میں باہمی مساوات، وسائلِ رزق سے انتفاع کا برابر حق اللہ تعالیٰ کی شریعت کا مکمل احترام اور اس کی بالادستی کا گہرا احساس، اسلامی اصولوں کی مکمل پاسداری اور جزئیات کو طے کرنے کے لیے اسلامی مزاج اور اسلامی بصیرت کی بجاآوری کو سب سے پہلی ترجیح قرار دے۔
تیسری ہدایت جس پر اس آیت کریمہ میں سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ خواہشاتِ نفسانی کی پیروی سے حتی الامکان پرہیز کیا جائے۔ کیونکہ یہ وہ سم قاتل ہے جس کے مہلک اثرات سے نہ فرد محفوظ رہتا ہے نہ معاشرہ اور ملک۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہر فرد کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف جاگزیں ہوجائے اور اس کا دل و دماغ کبھی آخرت کی فکر سے بیگانہ نہ ہو۔ یوں تو اسلام کسی بھی ذمہ داری کے سپرد کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری قرار دیتا ہے کہ وہ شخص اس ذمہ داری کو ادا کرنے کا اہل بھی ہے یا نہیں۔ البتہ وہ سب سے زیادہ زور اس بات پر دیتا ہے کہ کوئی شخص اگر علم میں کمزور ہے تو دوسروں کے علم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اگر اصابتِ رائے میں کمی ہے تو ذہین و فطین مشیر اس کمی کو پورا کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر اس کے اندر فکرِآخرت کی بجائے دنیا طلبی کی ہوس ہے اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کے خوف کی بجائے موہوم مستقبل کے خدشات ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر انسانوں سے ڈرتا ہے اور اسے آخرت سے زیادہ دنیا بنانے کا شوق ہے تو ایسا شخص نفس انسانی کی دسیسہ کاریوں سے کبھی نہیں بچ سکتا۔ اور وہ شخص ہرگز اس قابل نہیں کہ اسے اسلامی خلافت کے منصب پر فائز کیا جائے۔ لیکن جو لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایات پر توجہ دینے سے بھی انکار کرتے ہیں اور ان کی اپنی ترجیحات اسلامی ترجیحات سے یکسر مختلف ہیں ایسے لوگوں کے لیے دنیا ہی میں سخت ترین عذاب ہے اور ایسی تلخ زندگی ہے جس میں کانٹوں کے سوا اور کچھ نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ بالکل بھول گئے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے حساب کے لیے بھی پیش ہونا ہے۔ چناچہ خلفائے راشدین میں انہی ہدایات کے نتیجے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی زندگیوں پر حکومت کے اثرات نہیں بلکہ فقرودرویشی کی چھاپ دکھائی دیتی ہے۔ ٹھیک کہا کسی نے :
آں مسلماناں کہ میری کردہ اند
در شہنشاہی فقیری کردہ اند
Ayah 38:27وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآئَ وِالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا بَاطِلاً ط ذَلِکَ ظَنُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ج فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنَ النَّارِ ۔ (صٓ: 27)
(اور ہم نے آسمان اور زمین اور ان چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں، فضول پیدا نہیں کیا، یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنھوں نے کفر کیا ہے، تو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، بربادی ہے جہنم کی آگ سے۔ )
وقوعِ قیامت پر دلیل
حضرت دائود (علیہ السلام) کی سرگزشت سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور ان کی راہ پر چلنے والے لوگ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری اور قیامت کے دن کی جوابدہی سے لرزاں اور ترساں رہتے تھے۔ اپنی زندگی میں کبھی انھیں اگر اس بات کا خیال بھی ہوگیا کہ ہم سے کوئی لغزش ہوگئی ہے تو وہ فوراً اللہ تعالیٰ کے سامنے گرپڑتے اور اپنی لغزشوں سے توبہ کرتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نبیوں اور اس کے تمام نیک بندوں نے اپنے قول و عمل سے دنیا کے سامنے یہ بات واضح کی کہ صالح زندگی کی ضمانت صرف اس بات میں ہے کہ آدمی کو آخرت کی فکر ہو، وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کا یقین رکھتا ہو اور ہمیشہ اس بات سے خوفزدہ رہے کہ میرے ایک ایک لمحے اور ایک ایک عمل کو اللہ تعالیٰ دیکھتا اور میرے نامہ عمل میں محفوظ کررہا ہے اور قیامت کے دن اسی کے مطابق مجھ سے معاملہ کیا جائے گا۔ یہ وہ یقین تھا جس نے انسانی زندگی میں دل و دماغ کے احساسات سے لے کر عمل اور اس کے ارادے تک ایک ایسی پاکیزگی پیدا کردی تھی جو اس تصور کے بغیر کسی اور طرح ممکن نہ تھی۔ چناچہ اس سرگزشت اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق کو ذکر کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ عام انسانوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ان کے سامنے اس حقیقت کو واضح فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے نبیوں کے ذریعے لوگوں میں آخرت کے تصور کو کیوں عام کرنے کی کوشش کی۔ اور یا یوں کہہ لیجئے کہ انسانوں کے لیے آخرت کا دن کیوں لازم ٹھہرایا جس میں ہر انسان اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر اپنی زندگی کے ایک ایک عمل کا حساب پیش کرے۔ چناچہ اس سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر ہم ایسا نہ کرتے تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ دنیا ایک بالکل باطل کارخانہ اور ایک کھلنڈرے کا کھیل ہے جس میں نیکی اور بدی، خیر و شر اور حق و باطل میں کوئی امتیاز ہی نہیں۔ اس کے پیدا کرنے میں نہ کوئی حکمت کارفرما ہے اور نہ اس کا کوئی مقصد ہے۔ ظاہر ہے کہ پروردگار کے حوالے سے ایسی سوچ بھی اختلالِ دماغ کے سوا اور کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ایک حکیم ہے اور حکیم کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس نے انسان کو جس طرح بےپایاں صلاحیتیں دے کر پیدا کیا اور اس کے لیے ربوبیت کا وسیع دسترخوان بچھایا۔ اس کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے وسیع امکانات کا دروازہ کھولا۔ اس کو صرف حواس ہی عطا نہیں کیے بلکہ جوہرِعقل، طلب و جستجو اور تحقیق و تسخیر کی بےپایاں قوتوں سے بھی نوازا۔ تو کیا یہ سب کچھ اس لیے کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو محض اس سے ایک کارعبث انجام دینا تھا۔ محض اسے ایک تفریح چاہیے تھی جس کے لیے کائنات کا کھلونا بنایا گیا۔ ایسا ہرگز نہیں، یہ دنیا نہ تو کوئی باطل کارخانہ ہے اور نہ کسی کھلنڈرے کا کھیل ہے۔ اور نہ اس کو باطل پیدا کیا گیا ہے۔ بلکہ اس کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور اس حق کے ظہور کے لیے قیامت کا دن مقرر کیا جس میں ہر شخص اپنی نیکی کا صلہ پائے گا اور جس نے بدی کمائی ہوگی وہ اس کی سزا بھگتے گا۔ اسی لیے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا گیا اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰـکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّـکُمْ اِلَیْنَا لاَ تُرْجَعُوْنَ ” کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تم کو فضول پیدا کردیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹائے جانے والے نہیں ہو۔ “ البتہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے یعنی جو اس دنیا کو بازیچہ اطفال سمجھتے ہیں اور جو آخرت کے منکر ہیں ان کے نزدیک یہ دنیا ہی سب کچھ ہے۔ وہ اس دنیا میں کیے جانے والے ہر عمل کو دنیا تک ہی محدود سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہیں کی خوشیاں اور یہیں کے غم حاصل زندگی ہیں۔ کوئی دوسری زندگی آنے والی نہیں جس میں انسان کو اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی پڑے۔ ان کا گمان یقینا یہ ہے کہ یہاں کی کسی نیکی کی کوئی جزاء نہیں اور کسی برائی کی کوئی سزا نہیں۔ یعنی نیکی اور بدی کے درمیان سرے سے کوئی امتیاز ہی نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زندگی اس طرح گزارتے ہیں کہ جس میں انھیں جزاء اور سزا کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں کا انجام دوزخ کی ہلاکی کے سوا اور کچھ نہیں۔ وہ یقینا جہنم میں جھونکے جائیں گے۔
Ayah 38:28اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ ز اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ کَالْفُجَّارِ ۔ (صٓ: 28)
(کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور ان کو جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں یکساں کردیں گے، کیا ہم متقیوں کو فاجروں جیسا بنادیں گے۔ )
آخرت سے انکار کا نتیجہ
یہ نتیجہ ہے آخرت سے انکار کرنے والوں کی فکر کا، کہ اگر ان کی اس بات کو مان لیا جائے کہ دنیا میں جس شخص نے نیکی کی اس کا کوئی صلہ نہیں، اور جس نے برائی کی اس کی کوئی سزا نہیں۔ کیونکہ دنیا میں ہر نیکی کی جزاء نہیں ملتی۔ اور ہر برائی کی سزا ممکن نہیں ہوتی۔ کتنے ایسے بڑے بڑے مجرم ہیں جو کبھی گرفت میں نہیں آتے۔ اور اگر گرفت میں آجائیں تو قانون ان کے اثرورسوخ کے سامنے بےبس ہو کے رہ جاتا ہے۔ اور کتنے ایسے خلق خدا کی بھلائی کے کام کرنے والے لوگ ہیں جنھیں کبھی دنیا میں تعریف سے یاد نہیں کیا جاتا۔ اور اگر کوئی نیکی چھپا کر کی گئی ہے تو اہل دنیا اس کے کرنے والے سے باخبر تک نہیں ہوتے۔ اور کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک مجرم اپنے جرم میں پکڑا بھی جاتا ہے لیکن جرم کے مطابق اسے سزا دینا عدالت کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اس نے کوئی پٹڑی اکھاڑ دی، سینکڑوں انسان حادثے کا شکار ہوگئے، بم بلاسٹ کردیا، کئی جانیں ضائع ہوگئیں، عدالت اسے زیادہ سے زیادہ ایک جان کے بدلے میں پھانسی پر لٹکا سکتی ہے، باقی جانوں کی قیمت کون ادا کرے گا ؟ جو لوگ آخرت کو تسلیم کرتے ہیں ان کے لیے تو اطمینان کی بات یہ ہے کہ یہاں اگر جزاء نہ ملی تو ہم اس کے طالب ہی کہاں ہیں، ہمیں تو آخرت میں جزا ملنی چاہیے۔ اور اگر مجرموں کو یہاں سزا نہیں ملی تو کوئی بات نہیں، آخرت میں جس عدالت سے واسطہ پیش آنے والا ہے اس کی نگاہوں سے کسی کا جرم مخفی نہیں۔ نہ کوئی مجرم اس کے اختیار کو چیلنج کرسکتا ہے۔ ہر کوئی اس کے سامنے بےبس ہوگا اور اپنے انجام کو پہنچے گا۔ لیکن آخرت کے منکرین کے پاس اس مشکل کا کوئی حل نہیں کہ اگر نیکی کی جزاء نہیں تو پھر دنیا میں نیکی کا اور محرک کیا ہے ؟۔ آخر لوگ نیکی اور بھلائی کے لیے کیوں قربانی دیں گے اور کیوں تکلیفیں اٹھائیں گے۔ اور اگر آخرت کی سزا نہیں تو پھر دنیا کی سزائوں سے بےنیاز لوگ آخر کس کے ڈر سے جرائم چھوڑیں گے۔ پھر تو یہ ماننا پڑے گا کہ یہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے اور اس کا کوئی حکمران نہیں۔ اور اگر کوئی حکمران ہے اور وہ نیک اور بد دونوں کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کرتا ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بالکل بےبس اور بیخبر ہے اور یا نہایت احمق اور ناانصاف ہے۔ ظاہر ہے یہ دونوں باتیں اللہ کریم کے لیے تصور میں بھی نہیں لائی جاسکتیں کیونکہ وہ ہر عیب سے پاک ہے۔ قرآن کریم میں بعض دوسرے مقامات پر بھی نہایت واضح انداز میں اس مضمون کو بیان فرمایا گیا ہے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ
اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السِّیِّاتِ اَنْ نَجْعَلَھُمْ کَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَائً مَّحْیَاھُمْ وَمَمَاتَھُمْ سَائَ مَایَحْکُمُوْنَ ۔
” کیا گمان کر رکھا ہے ان لوگوں نے جنھوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا کہ ہم انھیں ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اور ان کا جینا اور ان کا مرنا برابر کردیں گے، برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں۔ “
Ayah 38:29کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰـہُ اِلَیْکَ مُبٰـرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰـتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَا اُولُوا الْاَلْبَابِ ۔ (صٓ: 29)
(یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر تدبر کریں اور عقل رکھنے والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ )
نزولِ قرآن کا مقصد
آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ انہی حقائق کی یاددہانی اور تفہیم کے لیے ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب اتاری ہے۔ اور اس کتاب کا وصف یہ ہے کہ یہ مبارک ہے۔ برکت کا لفظ اضافے کے لیے بولا جاتا ہے اور جب کتاب ہدایت کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد لغوی طور پر بھی افزائشِ خیروسعادت ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی کتابیں انسانوں کو خیروسعادت پر قائم کرنے کے لیے آتی ہیں جس سے ان کی دنیا بھی بنتی ہے اور آخرت میں بھی سرخروئی نصیب ہوتی ہے۔ اور کتاب کے ذریعے وہ اصول دیئے جاتے ہیں جو انسانی زندگی کی ترقی، افزائش اور بہتری کے لیے سند کی حیثیت رکھتے ہیں۔ زندگی انفرادی ہو یا اجتماعی، اور اجتماعیت کا تعلق کسی بھی شعبہ زندگی سے ہو اللہ تعالیٰ کی کتاب ہر مقام پر رہنمائی دیتی اور انسان کی معنوی ضرورتوں کو پورا کرتی ہے۔ وہ نہ تو انسانی زندگی میں مصنوعی اضافہ ہونے دیتی ہے جس سے غلط فہمیوں کو راستہ ملے۔ اور نہ زندگی کو ان راستوں پر نکلنے دیتی ہے جہاں انسانیت حیوانیت کے دائرے میں داخل ہوجائے۔ انسان کے لیے صراط مستقیم کھولنا، پھر اس پر چلنے کی ترغیب دینا اور راہ کی مشکلات کو آسان بنانا اور قدم قدم پر نگرانی بھی کرنا اور رہنمائی بھی دینا یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا وہ عمل ہے جس نے اس کو مبارک بنادیا ہے۔ لیکن اس کتاب سے فائدہ اٹھانے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ ایک تو یہ کہ اس کتاب کی رہنمائی کو قبول کرنے اور اس پر ایمان لانے والے اس کی آیات پر غور و فکر کریں۔ یعنی اپنے ہوش و خرد کو دوسرے ذرائع کے حوالے کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر غور و فکر کرنے کا ذریعہ بنائیں۔ وہ جیسے جیسے تدبر کے عمل کو جاری رکھیں گے ویسے ویسے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی حکمتیں ان پر کھلتی جائیں گی اور عقل کی سیرابی کی ضرورت بھی پوری ہوتی جائے گی۔ اور دوسرا کام یہ ہے کہ عقل والے صرف غور و فکر ہی نہ کریں بلکہ وہ اس سے نصیحت اور یاددہانی حاصل کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب بیک وقت عقل کو جلا بھی بخشتی ہے اور دل کو نور بھی مہیا کرتی ہے۔ عقل کی پیدا کردہ الجھنوں کا حل بھی اس میں موجود ہے اور دلوں کی بےتابیوں اور بےقراریوں کے لیے تسکین بھی اسی کتاب میں ہے۔
Ayah 38:30وَوَھَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ ط نِعْمَ الْعَبْدُ ط اِنَّـہٗٓ اَوَّابٌ۔ (صٓ: 30)
(اور ہم نے دائود کو سلیمان عطا کیا، کیا خوب بندہ تھا، بیشک وہ اپنے اللہ کی طرف بہت ہی رجوع کرنے والا تھا۔ )
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا حقیقی کمال عبدیت ہے
حضرت دائود (علیہ السلام) کی سرگزشت کے بعد اب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر شروع کیا جارہا ہے۔ لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کسی خوبی اور بڑائی کو ذکر کرنے اور ان کے کسی کمال کا حوالہ دینے سے پہلے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے دائود کو سلیمان عطا کیا تھا۔ اس سے شاید اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ سلیمان درحقیقت حضرت دائود (علیہ السلام) کی عبادات، اللہ تعالیٰ کے ذکر میں بےپناہ اشتغال، اپنے فیصلوں میں خلق خدا کے ساتھ عدل و احسان اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی طرف انتہا درجے کے رجوع کے صلے کے طور پر اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھا۔
دوسری بات اس آیت سے جو نمایاں ہوتی دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شہرت ان کے خوارق و عجائب کی وجہ سے ہے۔ قرآن کریم نے بھی جابجا ان کا ذکر کیا ہے اور تورات نے بھی اس کے ذکر میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض لوگوں نے آپ کو اللہ تعالیٰ کا نبی ماننے کے باوجود ساحر قرار دے دیا اور آپ کے تمام کمالات کو عطائے خداوندی کی بجائے سحر کا نتیجہ سمجھا۔ اس لیے پروردگار نے اس گمراہی کے تدارک کے لیے ان کے کسی کمال کو ذکر کرنے کی بجائے ان کی جو حقیقت میں سب سے بڑی صفت تھی اس کا ذکر فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بہترین عبد تھے۔ یعنی ان کے کمالات اپنی جگہ، ان کا اعتراف یقینا ہم پر لازم ہے، لیکن ان کی اصل عظمت یہ ہے کہ وہ تمام کمالات رکھتے ہوئے بھی عبدیت کے اعلیٰ نمونہ تھے۔ اور یہی انسان کا اصل جوہر اور مقصد زندگی ہے۔ اسی کو پیدا کرنے اور نمایاں کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نبی دنیا میں تشریف لاتے رہے۔ لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہوگا کہ ان کی عبدیت کی شہادت ان کے اعمال تو دے ہی رہے تھے، پروردگار نے بھی دی۔ اور شاید اس سے بڑا کمال اور کوئی نہ ہو کہ آقا اپنے بندے کے بارے میں یہ کہے کہ وہ بہت خوب بندہ ہے۔ پھر اسی کمال کو مزید مبرہن کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ سلیمان بہترین بندہ تو تھے ہی اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر وہ اوَّاب بھی تھے، ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنے والے۔ اگر کبھی وہم بھی ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے لو لگانے اور اس کی یاد دل میں اتارنے یا اس کے کسی حکم کی تعمیل میں ذرہ بھر بھی کوتاہی ہوئی ہے تو وہ بےساختہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گرپڑتے تھے۔ اس لحاظ سے وہ اپنے والد ماجد کا ہوبہو عکس تھے۔ کیونکہ ان کی تعریف میں بھی پروردگار نے یہی لفظ استعمال فرمایا ہے۔ اور ایک بندے کی اس سے بڑی بندگی اور کیا ہوسکتی ہے جو اسے اپنے آقا کے اور قریب کردے کہ وہ اپنی ذرا سی غفلت پر بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس طرح ڈھیر ہوجائے کہ اس وقت تک سر نہ اٹھائے جب تک کہ قبولیت کی ٹھنڈک دل میں اتر نہ جائے۔ ماہرالقادری نے بالکل ٹھیک کہا :
اس دل پہ خدا کی رحمت ہو جس دل کی یہ حالت ہوتی ہے
اک بار خطا ہوجاتی ہے سو بار ندامت ہوتی ہے
Ayahs 38:31–33اِذْ عُرِضَ عَلَیْہِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُ ۔ فَقَالَ اِنِّیْ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِکْرِ رَبِّیْ ج حَتّٰی تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ۔ رُدُّوْھَا علَیَّ ط فَطَفِقَ مَسْحًا م بِالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ ۔ (صٓ: 31 تا 33)
(اس وقت کو یاد کرو جب شام کے وقت حضرت سلیمان کے سامنے اصیل اور عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے۔ تو اس نے کہا کہ میں نے دوست رکھا ہے مال کی محبت کو اپنے رب کی یاد کی وجہ سے یہاں تک کہ سورج پردے میں چھپ گیا۔ انھیں میرے پاس واپس لائو، پھر وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ )
آیت کی تفسیر میں اختلاف اور نقطہ اعتدال
گزشتہ رکوع میں حضرت دائود (علیہ السلام) کی سب سے بڑی صفت اوابیّت کو بیان فرمایا گیا۔ اور پھر اس پر ایک مثال بیان فرما کر ان کی اس حیثیت کو مستحکم کردیا گیا۔ اس رکوع میں ان کے صاحبزادے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی اس طرح پیش کیا گیا معلوم ہوتا ہے کہ وہ بالکل اپنے والد ماجد کے کمالات کا عکس ہیں۔ جس طرح ان کا سب سے بڑا وصف اوّاب ہونا تھا، اسی طرح بیٹا بھی اسی کمال کا حامل تھا۔ اور پھر ان کے اوّاب ہونے کی مثال بیان کی گئی ہے تاکہ ان کی سیرت کا یہ پہلو نمایاں ہوسکے۔
مفسرین نے پیش نظر آیات کریمہ میں بیان کردہ وصف کے لیے مختلف تعبیریں اختیار کی ہیں جو آیات کے الفاظ سے مترشح ہوتی۔ اور بعض روایات سے مؤید ہوتی ہیں۔ ایک گروہ کے نزدیک آیات کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) گھوڑوں کے معائنہ میں اس قدر مشغول ہوئے کہ عصر کی نماز قضاء ہوگئی یا کوئی وظیفہ جو اس وقت پڑھا کرتے تھے وہ چھوٹ گیا۔ آپ کو جیسے ہی احساس ہوا تو آپ نے گھوڑوں کو واپس لانے کا حکم دیا اور اس تغافل کی تلافی کے لیے تمام گھوڑوں کو ذبح کر ڈالا کہ ان کی وجہ سے یادالٰہی میں خلل واقع ہوا ہے۔
ان مفسرین نے تَوَارَتْ بِالْحِجَابِسے سورج کا غروب ہونا مراد لیا ہے۔ اور اس میں ایسی کوئی بات نہیں جسے قبول کرنا مشکل ہو۔ کیونکہ الشمس جو ” توارت “ کا فاعل ہے وہ یہاں محذوف ہے۔ اور عربی میں مشہور و معروف چیزوں کے لیے فعل کو اس طرح لانا ایک معمول کی بات ہے۔ البتہ اس تفسیر پر بعض لوگوں نے دو اعتراضات وارد کیے ہیں۔ پہلا اعتراض یہ ہے کہ گھوڑوں کے معائنے میں اس طرح کھو جانا کہ عصر کی نماز ہی ذہول کا شکار ہوجائے، یقینا حُبِ مال اور حُبِ دنیا پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ گھوڑے بھی دنیا کے مال و متاع میں شامل ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے رسول سے مال کی محبت میں ایسی وارفتگی، قبول کی جانے والی بات نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کا مزاج ہر لحاظ سے اعتدال کی تصویر ہوتا ہے۔ نہ اس پر نسیان کا غلبہ ہوتا ہے اور نہ اشتعال کا۔ چناچہ اس کا جواب دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ خود آیت کریمہ میں اس آیت کا جواب موجود ہے۔ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے قرآن کریم کی زبان میں یہ فرمایا کہ میں نے مال کی محبت کو صرف اپنے رب کی یاد کی وجہ سے دوست رکھا ہے۔ یعنی یہ گھوڑے چونکہ جہادی گھوڑے ہیں جن کی زندگیوں کا مقصد اعلائے کلمۃ الحق ہے، اس لیے ان سے محبت کلمہ ٔ حق سے محبت کرنے کے مترادف ہے۔ جو یقینا دنیا سے محبت نہیں بلکہ دین سے محبت کا نتیجہ ہے۔
دوسرا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جب احساس ہوا کہ میں گھوڑوں کی محبت میں اس طرح کھو گیا کہ عصر کی نماز قضا ہوگئی۔ تو آپ نے ان تمام گھوڑوں کو ذبح کر ڈالا۔ یہ بلاشبہ ضیاع مال ہے، جس کا عام آدمی کے لیے بھی کوئی جواز نہیں، چہ جائیکہ اس کا ارتکاب ایک اللہ کے رسول سے ہو۔ اس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ یہ درحقیقت غلبہ ٔ حال سے مغلوبیت کا ایک واقعہ ہے اور شدید احساس میں ایسا ہوجانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ حضرت عمرفاروق ( رض) ایسے ہی غلبہ ٔ حال سے مغلوب ہو کر نبی کریم ﷺ کے انتقالِ پُرملال کا اس وقت تک انکار کرتے رہے جب تک حضرت صدیق اکبر ( رض) نے ان کے سامنے قرآن پاک کی آیت نہیں پڑھی۔ اور ویسے بھی علامہ سیوطی نے معجم طبرانی کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے عن ابی بن کعب عن النبی ﷺ فی قولہ فطفق مسحا بالسوق والاعناق قال قطع سوقھا واعناقھا بالسیف علامہ سیوطی نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ اس حدیث مرفوع کی وجہ سے اس تفسیر کو یقینا ایک اہمیت حاصل ہوجاتی ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ جن آئمہ تفسیر نے اس سے اختلاف کیا ہے ان میں حضرت ابن عباس ( رض) جیسے ترجمان القرآن بھی موجود ہیں تو پھر اس حدیث کے بارے میں یقینا یہ سمجھا جائے گا کہ اس حدیث کا حسن ہونا علامہ سیوطی کی رائے تو ہے لیکن دوسرے اہل علم اس سے اختلاف کرتے ہیں، ورنہ وہ کبھی اس سے مختلف تفسیر نہ کرتے۔
حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) سے جو تفسیر منقول ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے جب وہ گھوڑے معائنہ کے لیے پیش کیے گئے جو جہاد کے لیے تیار کیے گئے تھے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) انھیں دیکھ کر اس قدر مسرور ہوئے کہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ مجھے ان گھوڑوں سے جو محبت اور تعلق خاطر ہے وہ دنیا کی محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے پروردگار ہی کی یاد کی وجہ سے ہے، کیونکہ یہ جہاد کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ جب وہ گھوڑے ریس میں دوڑتے ہوئے آپ کی نگاہوں سے روپوش ہوگئے تو آپ نے حکم دیا کہ انھیں دوبارہ سامنے لایا جائے۔ چناچہ جب وہ دوبارہ سامنے آئے تو آپ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) کی یہ تفسیر زیادہ قرین صواب معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ قرآن مجید کے الفاظ سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔ اس میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی جس کی توجیہ کرنے کی ضرورت پیش آئے اور جس مقصد کے لیے یہ مثال دی گئی ہے وہ بھی اس سے پوری طرح واضح ہوجاتا ہے۔ بتلانا صرف یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے کیسے بہترین بندے تھے۔ وہ ہر وقت اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے اور حتی المقدور لو لگانے والے تھے۔ ہم نے انھیں کیسی عظیم نعمتوں سے نوازا، اقتدار کی بلندیوں تک پہنچایا اور حکومت و ریاست کو ہر طرح کی قوت اور ہیبت سے مستحکم کیا۔ باایں ہمہ اسے دنیا اپنی طرف متوجہ نہ کرسکی۔ اپنے عظیم جہادی دستے کو دیکھ کر بھی اسے اللہ تعالیٰ ہی کی یاد آئی اور اسی کے دین کی سربلندی کو ہمیشہ اپنی ترجیح بنایا۔
Ayah 38:34وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَاَلْقَیْنَا عَلٰی کُرْسِیِّہٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ ۔ (صٓ: 34)
(اور ہم نے سلیمان کو بھی آزمایا اور ڈال دیا اس کے تخت پر ایک دھڑ، پھر اس نے رجوع کیا۔ )
آیت کی تفسیر میں اشکال اور ابن کثیر کی رائے
یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی عبدیت، اوابیّت اور انابت الی اللہ کی ایک اور مثال بیان فرمائی گئی ہے۔ اس سے بتانا صرف یہ مقصود ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) باوجود اس کے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے دور کے سب سے بڑے حکمران تھے۔ شوکت اور طاقت ان کے نام کا لاحقہ ہو کر رہ گئی تھیں۔ بڑے سے بڑا دشمن ان کے نام اور عظمت سے گھبراتا تھا۔ لیکن جب کبھی ان سے کوئی لغزش ہوئی تو جیسے ہی تنبہ ہوا تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک گئے۔ ان کا تمام تر جاہ و جلال دین کے دشمنوں کے لیے تھا، اپنے رب کے سامنے وہ عبدیت اور انابت کی بہترین تصویر تھے۔ لیکن اس آیت کریمہ میں اس لغزش کو اتنے ملفوف انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ اس کا کھولنا چنداں آسان نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مقام قرآن مجید کے مشکل ترین مقامات میں سے ہے۔ حتمی طور پر اس کی کوئی تفصیل بیان کرنے کے لیے ہمیں کوئی یقینی بنیاد نہیں ملتی۔ تفصیلات نہ قرآن کریم میں موجود ہیں اور نہ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہیں۔ اس لیے بعض محقق مفسرین مثلاً حافظ ابن کثیر جیسے لوگوں کا رجحان یہاں بھی اس طرف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے جس بات کو مجمل چھوڑا ہے اس کی تفصیلات میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بس اتنی بات پر ایمان رکھنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو کسی آزمائش میں مبتلا کیا تھا جس کے نتیجے میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انابت و عبدیت پہلے سے بھی بڑھ گئی۔ اور اللہ تعالیٰ سے آپ کی اوابیّت اور زیادہ مستحکم ہوگئی۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب بڑے سے بڑا اللہ تعالیٰ کا رسول بھی آزمائش سے ماورا نہیں تو ہم کس شمار و قطار میں ہیں۔ اور اگر کبھی ایسی کسی آزمائش سے سابقہ پڑ ہی جائے تو ایک بندے کی بندگی کا کمال یہ ہے کہ وہ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس سے معافی مانگے، استغفار کرے اور اس طرح سے اپنے رب کو راضی کرلے۔
یہ عافیت کا وہ راستہ ہے جس کی طرف علامہ ابن کثیر نے رہنمائی فرمائی ہے۔ لیکن تجسس پسند طبیعتیں اس پر اکتفا نہیں کرتیں۔ اس لیے اس آیت کی تفسیر میں بھی لوگوں نے اپنے اپنے طریقے سے تفصیلات مہیا کرنے کی کوشش کی۔ ایک گروہ کا کہنا یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے یہ قصور ہوا تھا کہ ان کے محل میں ان کی ایک بیوی چالیس دن تک بت پرستی کرتی رہی اور وہ بیخبر رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک شیطان ان کی انگوٹھی چرانے میں کامیاب ہوگیا۔ اور یہی وہ انگوٹھی تھی جس کی بدولت وہ جن و انس اور ہَوائوں پر حکومت کرتے تھے۔ چناچہ انگوٹھی ہاتھ سے جاتے ہی آپ کا سارا اقتدار جاتا رہا۔ اور چالیس دن تک آپ دربدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے اور وہ شیطان آپ کی تصویر اختیار کیے آپ کے تخت پر بیٹھا حکومت کرتا رہا۔ آپ کی کرسی پر ایک دھڑ ڈال دینے سے مراد یہی شیطان ہے جو آپ کے تخت پر براجمان ہو کر حکومت کے اختیارات استعمال کرتا رہا۔ آخر کار سلطنت کے اعیان و اکابر اور علماء کو اس شیطان کی کارروائیوں سے شبہ ہوا تو انھوں نے اس شیطان کے سامنے تورات کھول کر رکھی اور وہ ڈر کر بھاگ نکلا۔ بھاگتے ہوئے انگوٹھی اس نے سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نے نگل لیا۔ پھر اتفاق سے وہ مچھلی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو مل گئی۔ اس کا پیٹ چاک کرنے پر وہ انگوٹھی نکل آئی۔ بس اس کا ہاتھ آنا تھا کہ جن و انس سب سلام کرتے ہوئے آپ کے سامنے آحاضر ہوئے۔ یہ وہ افسانہ ہے جو اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا جاتا ہے جو سراسر خرافات پر مشتمل ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تمام کمالات اور آپ کے تمام اختیارات کسی انگشتری کا کرشمہ نہ تھے بلکہ وہ سراسر اللہ تعالیٰ کی عطا اور اس کی عنایت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے کسی جن یا شیطان کو یہ طاقت عطا نہیں فرمائی کہ انبیائے کرام کی شکل اختیار کرکے خلق خدا کو گمراہ کرتا پھرے۔ یہ سراسر اسرائیلی تصورات اور خرافات ہیں۔ یوں تو انھوں نے ہر پیغمبر کے بارے میں ایسی لایعنی باتیں اپنی کتابوں میں لکھی ہیں جنھیں کوئی ایسا شخص جو آسمانی کتابوں کے مزاج سے واقف ہے اور تاریخِ مذاہب پر اس کی نظر ہے باور نہیں کرسکتا۔ لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں یہود نے بطورخاص ایسی ایسی باتیں لکھی ہیں کہ جن سے ان کے خبث باطن کا اندازہ ہوتا ہے۔ علامہ ابن کثیر ایسی ہی روایات کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ( اہل کتاب میں ایک جماعت ایسی ہے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نبی نہیں مانتی، پس ظاہر یہ ہے کہ یہ جھوٹے قصے انھیں لوگوں نے گھڑے ہیں) (تفسیر ابن کثیر ص 36۔ ج 4) ۔ لہٰذا اس قسم کی روایات کو ان قرآنی آیات کی تفسیر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔
بخاری اور مسلم نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ایک واقعہ آنحضرت ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے ایک ہی رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس اس ارادے سے جانے کی قسم کھائی کہ ہر بیوی سے ایک مجاہد فی سبیل اللہ پیدا ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرے گا۔ مگر آپ نے اس پر انشاء اللہ نہیں کہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ایک بیوی سے ایک ادھورا بچہ پیدا ہوا، جسے کسی خادم نے جا کر آپ کے تخت پر رکھ دیا۔ یہ گویا آپ کیلے تنبیہ تھی کہ آپ نے چونکہ اس کام کرنے سے پہلے انشاء اللہ نہیں کہا، اس لیے اللہ تعالیٰ کو آپ کی یہ بات پسند نہیں آئی۔ اور یہ ادھورا بچہ دراصل آپ کی فروگزاشت پر تنبیہ تھا۔
بعض اہل تفسیر نے اس واقعہ کو پیش نظر آیت کریمہ کی تفسیر کے طور پر پیش کیا۔ ان مفسرین میں بعض بڑے نام بھی شامل ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس واقعہ کو اس آیت کی تفسیر قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ یہ واقعہ جتنی روایات میں آیا ہے ان میں کہیں اس بات کی کوئی علامت نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس کو زیربحث آیت کی تفسیر میں ذکر فرمایا ہو۔ امام بخاری نے بھی یہ حدیث کتاب الجہاد، کتاب الانبیاء اور کتاب الایمان والنذور وغیرہ میں تو متعدد طریقوں سے نقل کی ہے۔ لیکن کتاب التفسیر میں سورة صٓکی تفسیر کے تحت اسے کہیں ذکر نہیں کیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کسی نصیحت کے ضمن میں اس واقعہ کو بیان کیا ہے۔ جیسے دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے متعدد واقعات بھی آپ نے وقتاً فوقتاً بیان فرمائے ہیں۔ اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ یہ واقعہ محض ایک واقعہ ہے، کسی آیت کی تفسیر نہیں۔
امرواقعہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ یا صحابہ کرام ( رض) سے ایسی کوئی بات منقول نہیں جسے اس آیت کی تفسیر کہا جاسکے۔ آئمہ ٔ تفسیر نے جتنی باتیں کہی ہیں وہ سب قیاسی ہیں۔ امامِ رازی نے قیاس سے کام لیتے ہوئے ” جسد “ سے خود حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو مراد لیا ہے اور اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ آپ شدید بیماری کے باعث اس قدر لاغر ہوگئے تھے کہ جب ان کو تخت پر لا کر بٹھایا گیا تو وہ ایک ادھورا دھڑ سا معلوم ہورہے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو صحت دی۔ لیکن متذکرہ بالا آیت کے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دیتے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے کوئی قصور سرزد ہوا تھا، اس قصور پر آپ کو تنبیہ اس شکل میں فرمائی گئی کہ آپ کے تخت پر ایک ” جسد “ لا کر ڈالا گیا۔ اور جب آپ کو اپنے قصور کا احساس ہوا تو آپ نے فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنے قصور کی معافی مانگی۔
بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اس آیت سے بعد کی آیت میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہی ہے اور پھر ایسی حکومت کی استدعا کی ہے کہ جیسی حکومت پھر کسی اور کو نہ ملے۔ اس سے مترشح ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی تھی کہ ان کے بعد ان کا بیٹا جانشین ہو۔ اور حکومت و فرماں روائی آئندہ انھیں کی نسل میں باقی رہے۔ کیونکہ وہ زمانہ بادشاہوں اور ملوک کا زمانہ تھا۔ عوام کے اقتدار کا ابھی کوئی تصور پیدا نہیں ہوا تھا۔ مذہب نے صرف یہ کیا کہ حکمرانوں کو اللہ تعالیٰ کا نائب قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ کی شریعت کو نافذ کرنا اور لوگوں کے تنازعات میں حق اور انصاف کے مطابق فیصلے کرنا اور کسی بھی معاملے میں اپنی پسند و ناپسند اور خواہشِ نفس کو دخیل نہ ہونے دینا اور اختیارات اور بیت المال کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھ کر بندوں کے اس میں حقوق ادا کرنا جیسی ہدایات دے کر بادشاہوں کو اللہ تعالیٰ کا سایہ بنادیا تھا۔ وقت کے چلن کے مطابق حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دل میں بھی اولاد کی حکومت کی آرزو پیدا ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اسی چیز کو ان کے حق میں فتنہ قرار دیا۔ اور اس پر وہ اس وقت متنبہ ہوئے جب ان کا ولی عہد ایک ایسا نالائق نوجوان بن کر اٹھا کہ جس کے طوراطوار یہ بتانے کے لیے کافی تھے کہ وہ اپنے والد ماجد اور اپنے جدِامجد کی سلطنت کو چند دنوں میں تباہ کرکے رکھ دے گا۔ قرآن کریم نے اسی نالائق بیٹے کو یہاں ” جسد “ قرار دیا ہے۔ اور آپ کو احساس دلا دیا کہ آپ جس بیٹے کے اقتدار کی تمنا رکھتے ہیں وہ ایک کندہ ناتراش ہے۔ تب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اپنی غلطی پر تنبہ ہوا اور آپ نے اپنی خواہش سے رجوع کرلیا اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ کر درخواست کی کہ بس یہ بادشاہی مجھ ہی پر ختم ہوجائے، میں اپنے بعد اپنی نسل میں بادشاہی جاری رکھنے کی تمنا سے باز آیا۔ یاد رہے کہ یہ تفسیر بھی محض قیاسی تفسیر ہے اسے اس آیت کی یقینی اور حتمی تفسیر قرار دینا مشکل ہے۔ لیکن جس مقصد کے لیے یہ واقعات لائے جارہے ہیں وہ بالکل واضح ہے کہ انسان جب بھی کسی مصیبت یا آزمائش میں مبتلا ہو تو اسے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرح پہلے سے زیادہ رجوع الی اللہ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔