38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsروح القرآن

Ayah 38:35

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

حضرت سلیمان نے دعا کی کہ اے میرے رب مجھے معاف فرما دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو، بیشک تو بڑا ہی بخشنے والا ہے

قَالَ رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَھَبْ لِیْ مُلْـکًا لاَّ یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْ م بَعْدِیْ ج اِنَّـکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ ۔ (صٓ: 35) (حضرت سلیمان نے دعا کی کہ اے میرے رب مجھے معاف فرما دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو، بیشک تو بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ ) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعا کی صحیح مراد اس آیت کریمہ سے پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جیسے ہی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اپنی فروگزاشت پر تنبہ ہوا تو آپ نے فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کیا اور بےساختہ پکار اٹھے کہ الٰہی مجھ سے جو بھی قصور ہوا ہے مجھے اپنے فضل و کرم سے معاف فرما دیجیے۔ میرے دل میں اگر اولاد کی حکومت کی خواہش پیدا ہوئی تھی تو میں اس سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اور اس پر استغفار کرتا ہوں۔ البتہ دشمنانِ دین کی سرکوبی اور علائے کلمۃ الحق کے لیے مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو کسی اور کے لیے سزاوار نہ ہو۔ بعض اہل تفسیر نے بعدی سے غیری مراد لیا ہے کہ ایسی سلطنت مجھے عطا فرمائی جائے کہ میرے سوا کوئی اور شخص اس کا سزاوار نہ ہو۔ یعنی میرے اپنے زمانے میں بھی سلطنت کے رعب و دبدبہ میں بینظیر سمجھا جاؤں اور کسی دشمن کو کبھی میرے ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہ ہو۔ اور بعض اہل تفسیر نے بعدی سے میرے بعد ہی مراد لیا ہے کہ میرے بعد بھی کسی کو ایسی عظیم الشان حکومت حاصل نہ ہو۔ چناچہ واقعہ بھی یہی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی زندگی میں بھی اور آپ کے بعد بھی آج تک کسی بھی بڑے سے بڑے حکمران کو وہ جاہ و جلال نصیب نہ ہوسکا جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو حاصل تھا۔ کیونکہ دنیا میں کوئی حکمران ایسا نہیں گزرا جس نے پرندوں پر حکومت کی ہو، جنات جس کے لیے مسخر کردیئے گئے ہوں اور ہَوائیں اس کے حکم کے مطابق چلتی ہوں۔ اِنَّـکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ ” بیشک تو سب سے بڑا بخشنے والا ہے “ اصل زور اس آخری جملے پر ہے کہ میں تیرا عاجز بندہ ہوں، میں ایسا کوئی استحقاق نہیں رکھتا جس کے حوالے سے میں آپ سے کوئی درخواست کرسکوں۔ تو نے پہلے بھی جو دیا وہ سراسر عطا اور بخشش تھی۔ اور اب بھی جو عطا فرمائے گا وہ صرف تیری دین ہوگی۔ اور اسی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ میں جو ایک غیرمعمولی حکومت کے لیے ہاتھ پھیلا رہا ہوں تو اس سے مقصود نہ اپنی ذات کی نمود ہے نہ اظہارِتفاخر، بلکہ مقصود ان مقاصدِعالیہ کو حاصل کرنا ہے جن کی ذمہ داری تو نے اپنے رسولوں پر ڈالی ہے۔ پروردگار نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی اور آپ کو جو کچھ عطا فرمایا اگلی آیات میں اس کی طرف اشارات فرمائے گئے ہیں۔
Ayahs 38:36–38

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

تو ہم نے تابع کردیا اس کے لیے ہوا کو، جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی، جدھر وہ پہنچنا چاہتا تھا

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور سرکش جنوں کو بھی ہم نے اس کے تابع کردیا ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور بہت سے دوسرے جنوں کو جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں

فَسَخَّرْنَا لَـہُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ رُخَـآئً حَیْثُ اَصَابَ ۔ وَالشَّیٰـطِیْنَ کُلَّ بَنَّـآئٍ وَّغَوَّاصٍ ۔ وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ ۔ (صٓ: 36 تا 38) (تو ہم نے تابع کردیا اس کے لیے ہوا کو، جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی، جدھر وہ پہنچنا چاہتا تھا۔ اور سرکش جنوں کو بھی ہم نے اس کے تابع کردیا ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور۔ اور بہت سے دوسرے جنوں کو جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ) آزمائش میں پورا اترنے پر نوازشات حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب آزمائش میں پورے اترے اور انھوں نے اپنی عبدیت، اوابیّت اور انابت کو پوری طرح ثابت کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی حکومت کی طاقت اور ہیبت میں بےپناہ اضافہ کردیا۔ ہَوائوں پر آپ کو ایسا تصرف بخشا جو اس سے پہلے کسی کو حاصل نہ ہوا تھا۔ اسی وجہ سے آپ کی بحری قوت آپ کے زمانے کی سب سے بڑی بحری قوت اور آپ کا بحری بیڑہ اپنے زمانے کا سب سے طاقتور بیڑہ تھا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ انھیں نہ کبھی ہوا کی کمی کا مسئلہ درپیش ہوتا، نہ اس کی شدت کا، وہ سخت سے سخت طوفانی ہَوائوں کا بھی نہایت کامیابی سے مقابلہ کرتے۔ ہوا کیسی بھی زوردار ہوتی وہ ہمیشہ ان کے لیے بادموافق بن کر چلتی۔ یہی وجہ ہے کہ سورة انبیاء میں جہاں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسخر کرنے کا ذکر کیا گیا ہے وہاں اَلرِّیْحُ عَاصِفَۃٌ یعنی بادتند کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور پیش نظر آیت میں تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ رُخَـآئً (وہ اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی) کے الفاظ آئے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان دونوں باتوں میں کوئی تعارض پایا جاتا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بادتند ہو یا باد نرم، اس کا کام یہ ہے کہ وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی ضرورت کے مطابق ان کے تجارتی بیڑوں میں اپنی ڈیوٹی انجام دے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جہاں کا بھی قصد کرتے تھے وہ بےروک ٹوک فصل و موسم کا انتظار کیے بغیر ان کے حسب حال اپنی خدمت انجام دیتی تھی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے سفر کے لیے جیسے چاہتے اس کو سازگار بناد لیتے۔ اس کے ساتھ ساتھ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں شریر جنوں کو بھی پابند کردیا گیا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو جنات آپ پر ایمان لا چکے تھے وہ تو ایمان کی وجہ سے آپ کے تابع فرمان تھے، لیکن جو آپ پر ایمان نہیں لاتے تھے انھیں آپ کے لیے مسخر کردیا گیا تھا۔ آپ ان سے جس طرح کی خدمت چاہتے تھے، لیتے تھے۔ ان میں نہایت ماہر معمار بھی تھے اور غوطہ خور بھی۔ معماروں کو بلند عمارتیں اٹھانے پر لگایا گیا تھا اور غوطہ خور سمندر سے قیمتی جواہر اور موتی نکال کر آپ کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ رہے باقی جنات جو ایمان سے محروم ہونے کی وجہ سے ایمانی ثقافت و تربیت سے محروم تھے، انھیں مختلف کاموں کے لیے ریزرو فورس کی حیثیت سے زنجیروں میں باندھ کر رکھا گیا تھا تاکہ انھیں عندالضرورت استعمال کیا جاسکے۔ یہ ضروری نہیں کہ ان کی زنجیریں لوہے کی ہوں بلکہ وہ اپنی تخلیقی ہیئت کے مطابق جس طرح کی بیڑیوں میں باندھے جاسکتے تھے انھیں بیڑیوں سے انھیں باندھا جاتا تھا۔
Ayahs 38:39–40

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

یہ ہماری بےحساب بخشش ہے، پس احسان کرو یا روک لو

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

یقینا اس کے لیے ہمارے پاس تقرب کا مقام اور بہترین مرجع ہے

ھٰذَا عَطَـآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِکْ بِغَیْرِ حِسَابٍ ۔ وَاِنَّ لَـہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَحُسْنَ مَاٰبٍ ۔ (صٓ: 39، 40) (یہ ہماری بےحساب بخشش ہے، پس احسان کرو یا روک لو۔ یقینا اس کے لیے ہمارے پاس تقرب کا مقام اور بہترین مرجع ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی بڑی سے بڑی بخشش بھی اس کی دین ہے خاتمہ کلام پر پروردگار نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے یہ فرمایا کہ تسخیرِعناصر اور شیاطین کا قبضے میں دینا یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں جو آپ کی امیدوں اور توقعات سے کہیں بڑھ چڑھ کے ہیں۔ آپ نے کبھی خواب و خیال میں بھی اس کا تصور نہیں کیا ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام پر کوئی قدغن نہیں۔ وہ اگر چاہے تو بےحساب بھی نوازتا ہے۔ البتہ ایک بات ضرور ہے کہ وہ بڑی سے بڑی بخشش پر بھی یہ تصور دیتا ہے کہ یہ ہماری عطا، ہماری بخشش اور ہمارا کرم ہے، لینے والا پیغمبر بھی کیوں نہ ہو وہ اس استحقاق کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے مزید یہ فرمایا کہ ہمارے یہ انعام و اکرام کی بارش ایسی نہیں جس میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوسکے، بلکہ یہ سب کچھ آپ کے اختیار میں دے دیا ہے، آپ اس کے مالک ہیں، آپ کو اس پر پورا حق ملکیت حاصل ہے، آپ جسے چاہیں عطا کریں اور جس سے چاہیں ہاتھ روک لیں۔ آپ کے حق ملکیت کو کوئی چیلنج نہیں کرسکے گا۔ دوسری آیت میں فرمایا کہ دنیا میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر عطا و بخشش کی جو بارش ہوئی ہے وہ تو یقینا بےمثال ہے لیکن یاد رہے کہ آپ نے یہ سب کچھ پا کر جب خودسری اور استکبار کا رویہ اختیار نہیں کیا بلکہ جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کے انعامات بڑھتے گئے، ویسے ویسے آپ کی عاجزی اور نیازمندی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ مقام قرب عطا فرمایا اور وہ بہترین مرجع دیا جس کا ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں جس طرح استکبار سب سے مکروہ اور مبعوض عمل ہے، اسی طرح جو بندہ بڑائی اور عظمت کے سارے اسباب رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بندگی کا حق ادا کرتا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی سے بچھتا چلا جاتا ہے اسے وہ مقام قرب عطا ہوتا ہے جس کا تصور بھی اس بندے کے نزدیک شاید مشکل ہو۔
Ayah 38:41

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایوب کا ذکر کروجب اس نے اپنے رب سے فریاد کی کہ شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں مبتلا کردیا ہے

وَاذْکُرْ عَبْدَنَـآ اَیُّوْبَ م اِذْ نَادٰی رَبَّـہٗٓ اِنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ ۔ (صٓ: 41) (اور ہمارے بندے ایوب کا ذکر کروجب اس نے اپنے رب سے فریاد کی کہ شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں مبتلا کردیا ہے۔ ) حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ابتلا اور آپ کا صبر نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو ہر طرح کے حالات میں صبر و شکر اور نا گفتہ بہ حالات میں بہتری اور کامیابی کا یقین پیدا کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے آئندہ چند انبیائے کرام کا مختصر تذکرہ کیا جارہا ہے، جس سے اندازہ ہوگا کہ انھوں نے کیسے نامساعد حالات میں صبر و شکر سے کام لیا اور مایوس ہونے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے ہی بہتری اور کامیابی کی امید رکھی۔ اور جب بھی مصائب نے حد درجہ آزوردہ کیا اور صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تو اللہ تعالیٰ ہی سے رجوع کیا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ان کے حالات بدلے، تکلیفیں دور فرمائیں اور فضل و انعام سے اس طرح نوازا کہ ان کا دولت و ثروت کا وہ زمانہ جو خواب و خیال ہو کر رہ گیا تھا عود کر آیا۔ ان میں سے پہلا واقعہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا ہے جن کا تذکرہ قرآن کریم میں اس سے پہلے بھی سورة النساء، سورة الانعام اور سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے۔ اور ہم وہاں بقدرعلم گزارشات پیش کرچکے ہیں۔ لیکن یہاں بھی تقریبِ فہم کے لیے چند باتیں پیش خدمت ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی شخصیت کا ذکر چونکہ قرآن کریم نے ایک سے زیادہ مرتبہ کیا ہے تو اس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ ان کے تاریخی شخصیت ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ رہی یہ بات کہ ان کا وطن کیا تھا، کس قوم سے تعلق رکھتے تھے، قرآن کریم چونکہ اس طرح کی تفصیلات سے سروکار نہیں رکھتا، اس لیے اس بارے میں کوئی حتمی بات کہنا مشکل ہے۔ کیونکہ جدید محققین میں سے کوئی انھیں اسرائیلی قرار دیتا ہے، کوئی مصری اور کوئی عرب۔ حضرت وہب بن منبہ ( رض) نے انھیں حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے عیسو کی نسل سے قرار دیا ہے۔ لیکن ان کی اس اطلاع کا مرجع کیا ہے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ ان کے زمانے کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ بعض انھیں حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہم السلام) کے زمانے کا آدمی قرار دیتے ہیں۔ اور بعض انھیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے سے بھی پہلے کی شخصیت سمجھتے ہیں۔ لیکن ان سب قیاسات کی بنیاد اس سفرِایوب یا صحیفہ ٔ ایوب پر ہے جو بائیبل کے مجموعہ کتب مقدسہ میں شامل ہے۔ لیکن خود اس صحیفے کا حال یہ ہے کہ اس کے مضامین میں تضاد ہے اور اس کی بیان کردہ تفصیلات قرآن مجید کے بیان سے اس حد تک مختلف ہیں کہ انھیں قبول نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن کریم نے انھیں انتہائی صابر و شاکر، عبدیت کا پیکر اور اوَّاب قرار دیا ہے۔ اور سفرِایوب سے قدم قدم پر ان کی بےصبری، ناشکری، اللہ تعالیٰ کی ذات پر بےاعتمادی اور ایک ٹوٹی ہوئی شخصیت کا اظہار ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن کریم تو انھیں ایک نمونے کی شخصیت کے طور پر پیش کرتا ہے، اگر ان کی شخصیت کی یہ صفات ہوتیں تو قرآن کریم انھیں کبھی بیان نہ کرتا۔ اس لیے کہ وہ تعمیر کردار کی کسی ضرورت کو پورا نہ کرسکتی تھیں۔ قرآن کریم کے بعض اشارات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل ہی میں سے تھے۔ انھوں نے زندگی کے بہت سے انقلابات دیکھے، لیکن وہ ہر دور میں اور ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے انتہائی صابر و شاکر بندے ثابت ہوئے۔ اسی لحاظ سے ان کو یہاں ذکر کیا جارہا ہے۔ تکلیف کی شیطان کی طرف نسبت سے مراد پہلی ہی آیت میں اس ابتلاء اور آزمائش کی طرف اشارہ ہے جس میں حضرت ایوب (علیہ السلام) مبتلاء کردیئے گئے تھے۔ اور یہ آزمائش اس حد تک سنگین اور تکلیف دہ تھی کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے پروردگار سے اس تکلیف کی فریاد تو کی لیکن تکلیف کا انتساب پروردگار کی طرف نہیں کیا، بلکہ یہ کہا کہ مجھے شیطان نے سخت تکلیف اور عذاب میں مبتلا کردیا ہے۔ اس سے بعض لوگوں کو شبہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو وسوسہ اندازی اور گمراہ کرنے کی بہت سی قوتیں عطا کی ہیں لیکن یہ اختیار اسے نہیں دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کسی نیک بندے کو بیمار ڈال دے اور اسے جسمانی اذیتوں میں مبتلاء کرکے بندگی اور راستی کی راہ سے ہٹنے پر مجبور کرے۔ اس لیے یہاں تکلیف اور عذاب کی جو نسبت کی گئی ہے اس کا مفہوم وہ نہیں جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ بعض اہل علم نے اس کا صحیح مطلب بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہاں جس تکلیف کا ذکر ہے وہ، وہ جسمانی تکلیف نہیں جس میں حضرت ایوب (علیہ السلام) مبتلاء تھے۔ بلکہ وہ روحانی، دماغی اور نفسیاتی تکلیف تھی جس میں شیطان وسوسہ اندازی کے ذریعے انھیں مبتلا کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ وہ بار بار اس طرح کی باتیں آپ کے ذہن میں ڈالنے کی کوشش کررہا تھا کہ اللہ تعالیٰ تو رحیم و کریم ہے، وہ کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا اور تم ہمیشہ اس بات کا تذکرہ کرتے رہے ہو، تو آخر تمہارے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے یہ اگر ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔ اور کبھی انھیں زمانہِ تکلیف کے دراز ہونے کے باعث اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت سے مایوس کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اور اس طرح آپ کے دل میں ناشکری کے بیج بوتا تھا۔ اور کبھی یہ کہہ کر ان کے ہاتھ سے دامن صبر کو چھڑانے کی کوشش کرتا تھا کہ یہ محض کتابی باتیں ہیں، حقیقت وہ ہے جس کا تم سامنا کررہے ہو۔ یہ ہیں وہ تکلیف دہ خیالات جن کی شکایت حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے کی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ بندے کو جو آزمائشیں پیش آتی ہیں وہ پیش تو اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے آتی ہیں لیکن ان کے پیش آنے میں ایک اہم عامل شیطان بھی ہوا کرتا ہے۔ مشیت اور قدرت کے پہلو سے وہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہوتی ہیں۔ اور سبب کے پہلو سے شیطان کی طرف۔ اسی پہلو کے حوالے سے حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنی تکلیف کو شیطان کی طرف منسوب کیا۔ چونکہ سفرِایوب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) بہت مالدار آدمی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیرمعمولی دولت و ثروت عطا فرمائی تھی۔ جانوروں کے ریوڑ، نوکروں کی فوج، کاروبار کرنے والے کارکنوں کا وسیع حلقہ اور دور تک پھیلی ہوئی زرعی زمینیں آپ کے قبضے میں تھیں۔ شیطان اور اس کے کارندوں کو اس سے حسد پیدا ہوا اور انھوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی عبادت و ریاضت اور اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری وہ اس وجہ سے ہے کہ انھیں دنیا کا کوئی غم نہیں۔ وہ ایک فارغ آدمی ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کریں گے تو اور کیا کریں گے، مزہ تو جب ہے کہ سب کچھ ان سے چھن جائے اور وہ نادارومفلس ہونے کے بعد پھر اللہ تعالیٰ کو یاد کریں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یہ دکھانے کے لیے اور شیطانی پروپیگنڈے کو ختم کرنے کے لیے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو دولت و ثروت کی ہر چیز سے محروم کردیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ آپ نان شبینہ تک کے محتاج ہوگئے۔ لیکن ان کی عبادت و ریاضت اور شکرگزاری میں کوئی کمی نہ آئی۔ تو حاسدوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ان کی شکرگزاری کا پتہ تو جب چلے جب وہ اپنی صحت و قوت بھی کھو بیٹھیں اور پھر بھی اللہ تعالیٰ کو یاد کریں۔ چناچہ پروردگار نے ان کی اس بات کو غلط ثابت کرنے کے لیے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو جسمانی آزار میں مبتلا کردیا۔ ایک طرف بےسروسامانی اور تنگدستی، اور دوسری طرف غایت درجہ کی جسمانی اذیت۔ راکھ کے ڈھیر پر بیٹھے ٹھیکرا لے کر جسم کو کھجلاتے رہتے، لیکن کبھی زبان پر حرف شکایت نہ آیا۔ ہر طرح کے حالات میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا۔ آخر اللہ تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہوگئی اور دنیا نے دیکھ لیا کہ صابر و شاکر لوگ کیسے ہوتے ہیں۔
Ayah 38:42

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

(ہم نے اسے حکم دیا) کہ زمین پر اپنا پائوں مارو، یہ نہانے کا بھی ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا بھی

اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ج ھٰذَا مُغْتَسَلٌ م بَارِدٌ وَّشَرَابٌ۔ (صٓ: 42) (ہم نے اسے حکم دیا) کہ زمین پر اپنا پائوں مارو، یہ نہانے کا بھی ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا بھی۔ ) صبر پر اللہ تعالیٰ کا فضل جب آپ نے آزمائشوں میں ثابت قدمی دکھائی اور مایوس ہونے کی بجائے برابر اپنے رب کو پکارتے رہے اور ادھر شیطان کے ایجنٹوں کا پر اپیگنڈا بھی ناکام ہوگیا اور لوگوں میں یہ بات نہ چل سکی کہ ایوب (علیہ السلام) اس لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں کہ وہ نہایت تنومند اور خوشحال آدمی ہیں۔ آپ نے جب نادار اور بیمار ہو کر بھی اللہ تعالیٰ ہی کو پکارا تو لوگوں کو اس حقیقت کا یقین آگیا۔ تب اللہ تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ضرور ہے لیکن لاوارث نہیں چھوڑتا۔ اور آزمائش کبھی اتنی دراز بھی نہیں ہوتی کہ جو رسوائی بن جائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ زمین پر پائوں مارو۔ ممکن ہے اس کے لیے قریب ہی کوئی جگہ مقرر کردی گئی ہو۔ اور ساتھ ہی فرمایا کہ جیسے ہی تم پائوں سے ٹھوکر لگائو گے تو وہیں سے ایک چشمہ جاری ہوجائے گا جس سے ٹھنڈا پانی ابلے گا۔ وہ پینے کے کام بھی آئے گا اور غسل کرنے کے بھی۔ پانی پینے سے اندر کی تمام خرابیاں ختم ہوجائیں گی۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کسی سخت جلدی مرض میں مبتلا تھے۔ اس لیے اس پانی سے غسل کرنے کا حکم دیا تاکہ غسل کرنے سے جلد کی تمام بیماریاں ختم ہوجائیں اور آپ کا پورا جسم جس طرح سر سے پائوں تک پھوڑا بن چکا تھا غسل کرنے اور پانی کے بہنے سے درست ہوتا چلا جائے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو صحت عطا فرمائی۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ پائوں کی ٹھوکر سے کسی چشمے کا جاری ہوجانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ کیونکہ ندیوں اور نالوں کے کنارے زمین کی بالائی سطح کے ذرا نیچے پانی کے سوتے دبے ہوتے ہیں جو بعض دفعہ پائوں کی ٹھوکر سے یا تھوڑا بہت کریدنے سے جاری ہوجاتے ہیں۔ ایسا ہی یہاں بھی ہوا ہوگا۔ لیکن یہ بات دل کو لگتی نہیں۔ اس لیے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا مکان کسی ندی کے کنارے پر نہیں تھا۔ آپ اپنے وقت کے امیرترین آدمی تھے یقینا کسی اچھے شہر میں امراء کی بستی میں آپ کی رہائش ہوگی۔ آپ کا سب کچھ چھن گیا لیکن آپ سے چھت تو نہیں چھینی گئی۔ اسی چھت کے نیچے آپ کو زمین پر پائوں مارنے کا حکم دیا گیا اور اس سے چشمہ پھوٹ نکلا۔ یہ یقینا ایک معجزہ تھا اور معجزے ہی کے طور پر قرآن کریم نے اس کو ذکر کیا ہے۔ اگر یہ معمول کی بات ہوتی تو غیرمعمولی طور پر ذکر کرنے کی ضرورت کیا تھی۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کے احسان اور رحمت کے ظہور کی کیا صورت تھی ؟
Ayah 38:43

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے بخشے اسے اس کے اہل و عیال اور ان کے مانند ان کے ساتھ اور بھی، اپنی طرف سے رحمت کے طور پر، اور عقل و فکر رکھنے والوں کے لیے درس کے طور پر

وَوَھَبْنَا لَـہٗٓ اَھْلَـہٗ وَمِثْلَھُمْ مَّعَھُمْ رَحْمَۃً مِّنَّا وَذِکْرٰی لِاُوْلِی الْاَلْبَابِ ۔ (صٓ: 43) (اور ہم نے بخشے اسے اس کے اہل و عیال اور ان کے مانند ان کے ساتھ اور بھی، اپنی طرف سے رحمت کے طور پر، اور عقل و فکر رکھنے والوں کے لیے درس کے طور پر۔ ) دولت و ثروت کی بہتات ہو اور حالات اچھے ہوں تو اجنبی بھی اپنے ہوجاتے ہیں اعزہ و اقرباء کا بھی ہجوم رہتا ہے۔ اور احباب کی بھی رونق لگی رہتی ہے۔ لیکن جب دن پھرجاتے ہیں اور حالات بگڑ جاتے ہیں تو آہستہ آہستہ اپنے بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ اہلِ دانش کے لیے سبق حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بےسروسامانی جب حد سے بڑھ گئی اور صحت نے جواب دے دیا تو آہستہ آہستہ گھر کے نوکرچاکر رخصت ہوگئے، مہمانوں نے آنا چھوڑ دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ آزمائش کا یہ زمانہ خاصہ طویل رہا۔ اس لیے بہت سے بچھڑ گئے اور بہت سے پچھڑ گئے۔ آپ کی بیوی کے سوا آپ کے پاس کوئی نہ رہا۔ لیکن جیسے ہی اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا تو سب بچھڑے ہوئے واپس آنے لگے۔ خدم و حشم کی بھرمار ہوگئی۔ بعض اہل علم کا کہنا تو یہ ہے کہ آپ کی جو اولاد موت کا شکار ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے انھیں ازسرنو زندہ کردیا۔ لیکن اگر یہ بات نہ بھی ہو تو یہ تو ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اور اولاد عطا فرمائی۔ اور جو کچھ پہلے عطا کر رکھا تھا اس سے بڑھ کر عطا فرمایا۔ اور یہ صرف اس لیے کیا تاکہ لوگوں پر یہ راز کھل جائے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ ہی کے ہو کے جیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے آستانے سے کبھی الگ نہیں ہوتے۔ ایک وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نوازشات بارش کی طرح ان پر برستی ہیں۔ اور دوسری یہ بات بتانا مقصود ہے کہ اس میں عقلمندوں کے لیے غور و فکر کا سامان بھی موجود ہے وہ یہ کہ حالات تو بدلتے رہتے ہیں لیکن بنیادی اقدار کبھی نہیں بدلتیں۔ حالات اچھے ہوں تو انسان میں کبھی سرکشی نہیں آنی چاہیے۔ اسے کبھی یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ میرے پاس جو کچھ ہے یہ میرے دست وبازو کی محنت اور دماغی رعنائی کا نتیجہ ہے۔ بلکہ ہمیشہ اسے یہ احساس رہنا چاہیے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔ وہ جس طرح دینے پر قادر ہے اسی طرح چھین لینے پر بھی قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے تو مجھے اس پر شکرگزار رہنا چاہیے۔ اور اگر اللہ نہ کرے یہ سب کچھ مجھ سے چھن جائے تو تب بھی اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ تقدیر کی بھلائی اور برائی سراسر اللہ وحدہ لاشریک کے اختیار میں ہے۔ وہ چاہے تو اچھے حالات کو بگاڑ دے اور چاہے تو برے حالات کو سنوار دے۔ ٹھیک کہا بہادر شاہ ظفر نے : ظفر آدمی نہ اسے جانئے گا ہو وہ کیسا ہی صاحب فہم و ذکا جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
Ayah 38:44

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

(اور ہم نے اس سے کہا) اپنے ہاتھ میں سینکوں کا ایک مٹھا لے، پھر اس سے مار دے اور اپنی قسم نہ توڑ، ہم نے اس کو نہایت صابر پایا، بہت خوب بندہ، بیشک اپنے رب کی طرف بہت رجوع کرنے والا

وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّہٖ وَلاَ تَحْنَثْ ط اِنَّا وَجَدْنٰـہُ صَابِرًا ط نِعْمَ الْعَبْدُ ط اِنَّـہٗٓ اَوَّابٌ۔ (صٓ: 44) (اور ہم نے اس سے کہا) اپنے ہاتھ میں سینکوں کا ایک مٹھا لے، پھر اس سے مار دے اور اپنی قسم نہ توڑ، ہم نے اس کو نہایت صابر پایا، بہت خوب بندہ، بیشک اپنے رب کی طرف بہت رجوع کرنے والا۔ ) حضرت ایوب (علیہ السلام) کی قسم اور اس کے کفارے کا مفہوم اس آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے کوئی قسم کھائی تھی۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ آپ کے دل میں کوئی ایسا خیال گزرا تھا جو صبر اور انابت الی اللہ کے خلاف تھا۔ اس پر پریشان ہو کر اپنے نفس کو سزا دینے کے لیے آپ نے یہ قسم کھائی تھی کہ میں اپنے آپ کو سو کوڑے ماروں گا۔ لیکن حضرت ابن عباس ( رض) سے جو روایت مروی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی بیوی کی ایک بات پر ناراض ہو کر اسے سو قمچیاں مارنے کی قسم کھائی تھی۔ اور یہی بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو صحت دے دی تو اب انھوں نے اپنی قسم پوری کرنے کا ارادہ کیا۔ لیکن حالت مرض کا غصہ چونکہ جاتا رہا تھا اس لیے آپ پریشان ہوگئے کہ اگر میں قسم پوری کرتا ہوں تو ناحق ایک بےگناہ کو سزا کی تکلیف اٹھانا پڑتی ہے۔ اور اگر اسے سزا سے بچاتا ہوں تو ایک گناہ کا ارتکاب ہوگا جو کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس مشکل سے نکالا اور یہ فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں اتنے سینکوں کا ایک مٹھا لو جتنے کوڑے مارنے کی آپ نے قسم کھائی ہے اور پھر ایک ہی دفعہ اپنی بیوی کو اس کی ایک ضرب لگا دو ، بشرطیکہ ہر تنکے اور سینک کا کوئی نہ کوئی حصہ مضروبہ کو چھو جائے تاکہ تمہاری قسم بھی پوری ہوجائے اور اسے کوئی خاص تکلیف بھی نہ پہنچے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ایوب (علیہ السلام) کے لیے خصوصی احسان تھا۔ کیونکہ آپ نے سالہا سال تک ناقابلِ برداشت اذیتیں برداشت کی تھیں لیکن کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور نہ کبھی زبان پر حرف شکایت آیا۔ آپ ہرحال میں اللہ تعالیٰ کے صابر و شاکر بندے بنے رہے۔ بیماری کی شدت میں آپ نے ایک تکلیف دہ قسم کھالی، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ایک آسان راستہ نکال دیا۔ کیونکہ اس کی واقعی صورت پر عمل کرنا نہایت مشکل تھا۔ نہ تو آپ اس کے مالی فدیئے کے متحمل تھے اور نہ آپ اس کے لیے ابھی اتنے صحت مند ہوئے تھے کہ کفارے کے روزے رکھ سکتے۔ اور مزید یہ کہ اگر اس عفیفہ کو کوڑے لگائے جاتے یا قمچیاں ماری جاتیں تو یہ بھی عجیب بات ہوتی کیونکہ وہی ایک جانِ ناتواں تھی جس نے نہ آپ کا ساتھ چھوڑا اور نہ آپ کی خدمت میں کمی کی۔ شریعت میں چونکہ اس چیز کا اہتمام ہے کہ اگر کسی حکم کی تعمیل اس کی اصلی صورت میں متعذرہو تو اس کی تعمیل شبہی صورت میں کی جائے اور اسے اس کا قائم مقام بنادیا جائے۔ یہاں بھی اسی اصول پر عمل کیا گیا۔ قسم سے متعلق بعض وضاحتیں اس آیت میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کو جو رعایت دی گئی فقہاء کرام میں اس کے بارے میں اختلاف ہوا۔ بعض فقہاء اسے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی خصوصیت سمجھتے ہیں۔ ان فقہاء میں امام مالک بھی شامل ہیں۔ کسی دوسرے کے لیے اس جواب کے قائل نہیں لیکن دوسری رائے یہ ہے کہ یہ آپ کی خصوصیت نہیں، دوسرے لوگ بھی اس رعایت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ امامِ ابوحنیفہ اور امام شافعی کی رائے یہی ہے۔ لیکن ان فقہاء نے دو شرطیں ضروری سمجھی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر تمام قمچیوں یا سینکوں کا ایک گٹھا بنا کر ایک ہی دفعہ مارا جائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اس شخص کے بدن پر جسے یہ سزا دی جارہی ہے ہر قمچیطولاً یا عرضاً ضرور لگ جائے۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ اس سے کچھ نہ کچھ تکلیف ضرور ہو۔ اگر اتنے ہلکے سے قمچیاں بدن کو لگائی گئیں کہ بالکل تکلیف نہ ہوئی تو قسم پوری نہ ہوگی۔ نبی کریم ﷺ نے بیماروں پر حد جاری کرتے ہوئے اس رعایت سے فائدہ اٹھایا ہے۔ علامہ ابوبکر جصاص نے حضرت سعید بن سعد بن عبادہ سے روایت نقل کی ہے کہ قبیلہ بنی ساعد میں ایک شخص سے زنا کا ارتکاب ہوا اور وہ ایسا مریض تھا کہ بس ہڈی اور چمڑہ رہ گیا تھا۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ ” کجھور کا ایک ٹہنا لو جس میں سو شاخیں ہوں اور اس سے بیک وقت اس شخص کو مار دو ۔ “ دوسری کتب حدیث میں بھی اس کی تائید کرنے والی کئی حدیثیں موجود ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی نامناسب یا مکروہ بات سے بچنے کے لیے اگر اس رعایت سے فائدہ اٹھایا جائے (اور اسے شرعی حیلہ قرار دیا گیا ہے) تو وہ جائز ہے۔ البتہ اس طرح کے حیلوں کی اس وقت اجازت ہے جبکہ انھیں شرعی مقاصد کے ابطال کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ اور اگر حیلہ کا مقصد یہ ہو کہ کسی حقدار کا حق باطل کیا جائے یا کسی صریح فعلِ حرام کو اس کی روح برقرار رکھتے ہوئے اپنے لیے حلال کرلیا جائے تو ایسا حیلہ بالکل ناجائز ہے۔ مثلاً زکوٰۃ سے بچنے کے لیے بعض لوگ یہ حیلہ کرتے ہیں کہ سال کے ختم ہونے سے ذرا پہلے اپنا مال بیوی کی ملکیت میں دے دیتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ بعد بیوی شوہر کی ملکیت میں منتقل کردیتی ہے۔ اور جب اگلا سال ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے تو پھر شوہر بیوی کو ہبہ کردیتا ہے۔ اس طرح کسی پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔ ایسا کرنا چونکہ مقاصدِ شریعہ کو باطل کرنے کی ایک کوشش ہے اس لیے حرام ہے۔ اور شاید اس کا وبال ترک زکوٰۃ کے وبال سے زیادہ بڑا ہو۔ (روح المعانی) بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے کسی بات کی قسم کھالی اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بات نامناسب ہے تو اسے قسم پر عمل کرنے کی بجائے وہی کام کرنا چاہیے جو اس کے لیے مناسب ہو۔ اور یہ مناسب بات پر عمل کرنا ہی اس کا کفارہ ہے۔ اور اس کی تائید میں ایک روایت بھی پیش کی جاتی ہے۔ لیکن اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس نے کسی نامناسب بات کی قسم کھالی ہے تو اسے اپنی قسم پوری کرنے کی بجائے مناسب بات پر عمل کرنا چاہیے۔ البتہ اسے اپنی قسم کا کفارہ ادا کرنا چاہیے۔ اور اگر مناسب بات پر عمل کرنا ہی قسم کا کفارہ ہوتا تو پروردگار حضرت ایوب (علیہ السلام) کو سینکوں کے گٹھے کے ذریعے قسم پوری کرنے کا حکم نہ دیتا۔ آنحضرت ﷺ کے ایک ارشاد سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے۔ اور معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ حدیث پہلی حدیث کے لیے ناسخ ہے۔ وہ حدیث یہ ہے کہ ” جو شخص ایک قسم کھالے، پھر بعد میں اس کی رائے یہ ہو کہ اس قسم کے خلاف عمل کرنا زیادہ بہتر ہے تو اسے چاہیے کہ وہ وہی کام کرے جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔ “ آیت کے آخر میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کی جن صفات کا ذکر کیا گیا ہے یہ وہی ہیں جن کا ذکر حضرت سلیمان اور حضرت دائود (علیہما السلام) کے حوالے سے کیا گیا۔ شاید کہنا مقصود یہ ہے کہ یہ ایک سونے کی زنجیر ہے جس کی یہ مختلف کڑیاں ہیں۔ یا ایک قافلہ حق ہے جس کے یہ مختلف افراد ہیں۔ یا ایک کہکشاں ہے جس کے یہ مختلف ستارے ہیں۔ لیکن ان کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ کسی حال میں بھی چاہے وہ خوشی کا موقع ہو یا غم کا ان کا تعلق اپنے اللہ سے کمزور نہیں ہوتا۔ وہ بلند مقامات پر فائز ہوتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کے بہترین عبد ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں جاہ و جلال بھی دیتا ہے اور قرب و کمال بھی۔ لیکن ان کی اصل شان اوَّابیتہوتی ہے جو ان کی زندگی کے ہر لمحے پر غالب رہتی ہے۔
Ayah 38:45

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کا ذکر کرو جو قوت اور بصیرت رکھنے والے تھے

وَاذْکُرْ عِبٰـدَنَـآ اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ اُوْلِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ ۔ (صٓ: 45) (اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کا ذکر کرو جو قوت اور بصیرت رکھنے والے تھے۔ ) گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت کے لیے چند عظیم پیغمبروں کا تذکرہ جس مقصد کو نمایاں کرنے کے لیے حضرت دائود، حضرت سلیمان اور حضرت ایوب (علیہم السلام) کا تذکرہ کیا گیا، اسی حوالے سے چند عظیم پیغمبروں کا ذکر کیا جارہا ہے جو اسرائیلی سلسلہ رشد و ہدایت کے اصلی ستون ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تو اپنے دور کی دنیا میں امامت کا منصب حاصل رہا۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) ان کے بیٹے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) ان کے پوتے ہیں۔ انھوں نے ان علاقوں میں جہاں ان کو مبعوث کیا گیا تھا ہدایت اور رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ اور پھر انہی سے بنی اسرائیل کا سلسلہ چلا اور صدیوں تک رشد و ہدایت کا عَلَمانہی کے ہاتھ میں رہا۔ انہی میں پیغمبر پیدا ہوتے رہے اور انہی سے توحید کی امانت اس وقت کی دنیا کو میسر آتی رہی۔ اور وہ اپنے علم اور عمل کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی عبدیت اور اوَّابیت کے بہترین ترجمان تھے۔ ان کی جس نمایاں صفت نے ان کی زندگیوں کو دوسروں کے لیے مشعل راہ بنایا وہ یہ تھی کہ وہ ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے۔ ایدی، ید کی جمع ہے جس کا معنی ہے ہاتھ۔ اس سے عموماً قدرت و قوت مراد لی جاتی ہے۔ اور ابصار سے نگاہیں مراد لی جاتی ہیں۔ لیکن یہاں قوت وقدرت سے مراد عام قوت وقدرت نہیں بلکہ قوت عمل اور اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے مطلوب قوت مراد ہے۔ اور نگاہ سے مراد آنکھوں کی بینائی نہیں بلکہ دل کی بصیرت ہے۔ ان کی زندگی کا ہر فیصلہ اس بات پر گواہ ہے کہ وہ آنکھوں سے دیکھ کر نہیں بلکہ بصیرت کی نگاہ سے فیصلہ کرتے تھے۔ لوگوں کی نگاہ ہمیشہ اسباب پر رہتی ہے لیکن وہ مسبب الاسباب کی رضا کو دیکھتے تھے۔ اور جہاں تک قوت عمل کا تعلق ہے انھیں نہایت بدتر حالات میں بھی اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر چلنا اور حالات کے مطابق فریضہ نبوت کو ادا کرنا ہرگز گراں نہ تھا۔ وہ فقیر ہو کر بڑے سے بڑے امیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے تھے، بڑے سے بڑا آستانہ اور طاقت اور توانائی کا مرکز انھیں اپنے سامنے جھکانے پر قادر نہ تھا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی طرح وہ جنگلی غذائوں سے پیٹ بھرتے تھے۔ لیکن بڑے سے بڑے حکمران کے دربار میں حق گوئی سے انھیں کوئی نہ روک سکتا تھا۔ طاقت کے سرچشموں سے معاملہ کرتے ہوئے معلوم ہوتا تھا کہ ان سے بڑا طاقتور کوئی نہیں۔ دنیا اپنی ساری قوتوں کے باوجود کبھی انھیں ڈرانے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ حالات کے تیور دیکھ کر ہر آدمی یہ اندازہ کرسکتا تھا کہ ان کی جلائی ہوئی شمع زیادہ دنوں تک چل نہ سکے گی۔ لیکن وہ بصیرت کی نظر سے جانتے تھے کہ حق ہمیشہ غالب رہنے کے لیے آتا ہے۔ بظاہر مغلوب دکھائی دیتا ہے لیکن وہ مغلوب کبھی نہیں ہوتا۔ ان کی یہی وہ صفت ہے جس نے قافلہ حق کو ہمیشہ توانائی بخشی ہے۔
Ayahs 38:46–47

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

اور ہم نے انھیں امتیاز دیا ایک چنی ہوئی بات کا، اور وہ دارآخرت کی یاد تھی

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور وہ یقینا ہمارے نزدیک برگزیدہ اور نیک بندوں میں سے ہیں

اِنَّـآ اَخْلَصْنٰـھُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَی الدَّارِ ۔ وَاِنَّھُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِ ۔ (صٓ: 46، 47) (اور ہم نے انھیں امتیاز دیا ایک چنی ہوئی بات کا، اور وہ دارآخرت کی یاد تھی۔ اور وہ یقینا ہمارے نزدیک برگزیدہ اور نیک بندوں میں سے ہیں۔ ) ان پیغمبروں کا خاص مشن پیشِ نظر آیت کریمہ میں متذکرہ انبیائے کرام کی ایک اور صفت کو بیان کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کی برگزیدگی اور ان کے ممتاز ہونے کی اصل وجہ تھی کہ ان کی ساری فکروسعی کا محورومدار اور حاصل فکرِآخرت کے سوا کچھ نہ تھا۔ آیت میں ذِکْرَی الدَّارِخالصتاً سے بدل واقع ہوا ہے اور دار سے مراد دارآخرت ہے۔ اس سے دو باتوں کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک تو یہ کہ وہ دنیا کو اپنا مقصدزندگی نہیں بلکہ اپنی ضرورت سمجھتے تھے۔ اور ضرورت بقدرضرورت اور بوقت ضرورت حاصل کی جاسکتی ہے۔ جسم و جان کی تمام توانائیاں اور قلب و دماغ کی تمام رعنائیاں اس کے لیے وقف نہیں کی جاسکتیں۔ زندگی کا مقصد ایسی چیز ہے جس سے زندگی میں کبھی فراغت نہیں ہوتی۔ یہ زندگی کا سفر بھی ہے اور زندگی کا ہدف بھی۔ کبھی زندگی کا سروسامان مقصد کے حصول کے لیے قربان ہوتا ہے۔ اور کبھی خود زندگی اس قربان گاہ کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ یہ دونوں صورتیں انسان کی کامیابی کی ہیں۔ کیونکہ اگر وہ سب کچھ مقصد کی خاطر لٹانے میں کامیاب رہا تو تب بھی اس نے کامیابی پا لی۔ اور اگر زندگی مقصد کے کام آگئی تو تب بھی وہ اپنی کامیابی کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ دوسری بات جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ آیت میں آخرت کے لیے صرف الدار کے لفظ کا استعمال یہ بتاتا ہے کہ دنیا سرے سے انسان کا گھر ہی نہیں بلکہ یہ ایک گزرگاہ ہے یا ایک مسافر خانہ ہے جس سے آدمی کو بہرحال رخصت ہوجانا ہے، اصل گھر وہی آخرت کا گھر ہے۔ دنیا آخرت کی تیاری کے لیے دی گئی ہے۔ اس میں آدمی کو اسی طرح ٹھہرنا ہے جس طرح ایک مسافر ایک مہمان خانے میں ٹھہرتا ہے۔ اس کا قیام وہاں مستقل نہیں ہوتا بلکہ اس کی نظر اپنے سفر اور اپنی منزل کی طرف رہتی ہے۔ اسی لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کُنْ فِی الدُّنْیَا کَاَنَّـکَ غَرِیْبٌ اَوْعَابِرُسَبِیْلٍ ” دنیا میں اس طرح رہ جیسے ایک اجنبی رہتا ہے یا مسافر رہتا ہے۔ “ آنحضرت ﷺ کے گھر کی بےسروسامانی کو دیکھ کر جب حضرت عمرفاروق ( رض) نے تأسف کا اظہار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے دنیا کی دلچسپیوں سے کیا کام، میں تو ایک مسافر ہوں ذرا سستانے کے لیے ٹھہر گیا ہوں۔ اس دنیا میں رہتے ہوئے ایک مومن کی فکر دنیا کو سنوارنے کی نہیں بلکہ آخرت کو سنوارنے کی ہے۔ وہ دنیا کو سنوارتا ہے لیکن ساتھ یہ احتیاط کرتا ہے کہ اس سے آخرت اجڑنے نہ پائے۔ لیکن آخرت کی قیمت پر دنیا کے سنوارنے میں نہ وقت برباد کرتا ہے نہ سرمایہ ضائع کرتا ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کی تعلیم دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نبی دنیا میں تشریف لاتے ہیں۔ دارِ فانی کی سجاوٹ پر نہ جا نیکیوں سے اپنا اصلی گھر سجا دوسری آیت میں فرمایا کہ یہی ہمارے نزدیک برگزیدہ اور نیک لوگ ہیں جو دنیا میں رہ کر بھی ہماری یاد سے کبھی غافل نہیں ہوتے۔ وہ غذا حاصل کرتے ہیں تو دل میں غذا عطا کرنے والے کی یاد ہوتی ہے۔ وہ رزق کے حصول کے لیے محنت کرتے ہیں لیکن دل رازق کی یاد سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔ وہ بڑے سے بڑے منصب پر فائز ہونے کے بعد بھی اس بات کو کبھی نہیں بھولتے کہ یہ منصب ایک امانت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس لیے دیا ہے تاکہ خلق خدا کے حقوق ادا کرو لیکن آخرت میں اس ذمہ داری کے حوالے سے جواب دہی کرنا ہوگی۔ انھیں تخت پر دیکھ کر بھی کوئی شخص یہ نہیں سمجھتا تھا کہ حکمرانی ان کے نفس اور ان کی ذات کو بالابلند کرنے کے لیے ہے۔ بلکہ انھیں دیکھ کر یہ تصور اور پختہ ہوجاتا تھا : ان کی حکومت سے ہے فاش، یہ رمز غریب سلطنتِ اہل دیں فقر ہے شاہی نہیں
Ayah 38:48

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور ذکر کرو اسماعیل، الیسع اور ذوالکفل کا، ان میں سے ہر ایک اخیار میں سے تھے

وَاذْکُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَالْیَسَعَ وَذَا الْـکِفْلِ ط وَکُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِ ۔ (صٓ: 48) (اور ذکر کرو اسماعیل، الیسع اور ذوالکفل کا، ان میں سے ہر ایک اخیار میں سے تھے۔ ) مزید انبیاء کا تذکرہ اور تعارف جس سلسلۃ الذہب کی عظیم کڑیاں حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) تھے، اسی سلسلہ کے قابل فخر ارکان حضرت اسماعیل، حضرت الیسع اور حضرت ذوالکفل (علیہم السلام) بھی تھے۔ ان میں سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تو معروف شخصیت تھے۔ البتہ باقی دو بزرگ شخصیتوں کا ذکر قرآن کریم میں صرف دو مرتبہ آیا ہے لیکن کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔ صاحب تفہیم القرآن نے ان پر دو مختصر نوٹ لکھے ہیں ہم انھیں یہاں نقل کررہے ہیں : قرآن مجید میں ان کا ذکر صرف دو جگہ آیا ہے۔ ایک سورة انعام آیت 86 میں۔ دوسرے اس جگہ۔ اور دونوں مقامات پر کوئی تفصیل نہیں ہے بلکہ صرف انبیائے کرام کے سلسلے میں ان کا نام لیا گیا ہے۔ وہ بنی اسرائیل کے اکابر انبیاء میں سے تھے۔ دریائے اردن کے کنارے ایک مقام ابیل محولہ (Abel Meholan) کے رہنے والے تھے۔ یہودی اور عیسائی ان کو الیشع (Elisha) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) جس زمانے میں جزیرہ نمائے سینا میں پناہ گزین تھے ان کو چند اہم کاموں کے لیے شام و فلسطین کی طرف واپس جانے کا حکم دیا گیا جن میں سے ایک کام یہ تھا کہ حضرت الیسع کو اپنی جانشینی کے لیے تیار کریں۔ اس فرمان کے مطابق جب حضرت الیاس (علیہ السلام) ان کی بستی پر پہنچے تو دیکھا کہ یہ بارہ جوڑی بیل آگے لیے زمین جوت رہے ہیں اور خود بارہویں جوڑی کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے ان پر اپنی چادر ڈال دی اور وہ کھیتی باڑی چھوڑ کر ساتھ ہو لیے۔ (سلاطین، باب 19، فقرات 15 تا 21) بائیبل کی کتاب 2 سلاطین میں باب 2 سے 13 تک ان کا تذکرہ بڑی تفصیل کے ساتھ درج ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شمالی فلسطین کی اسرائیلی سلطنت جب شرک و بت پرستی اور اخلاقی نجاستوں میں غرق ہوتی ہی چلی گئی تو آخرکار انھوں نے یا ہو بن یہوسفط بن نمسی کو اس خانوادہ شاہی کے خلاف کھڑا کیا جس کے کرتوتوں سے اسرائیل میں یہ برائیاں پھیلی تھیں اور اس نے نہ صرف بعل پرستی کا خاتمہ کیا بلکہ اس بدکردار خاندان کے بچے بچے کو قتل کردیا۔ لیکن اس اصلاحی انقلاب سے بھی وہ برائیاں پوری طرح نہ مٹ سکیں جو اسرائیل کی رگ رگ میں اتر چکی تھیں اور حضرت الیسع کی وفات کے بعد تو انھوں نے طوفانی شکل اختیار کرلی، یہاں تک کہ سامریہ پرا شوریوں کے پے در پے حملے شروع ہوگئے۔ ذوالکفل کا لفظی ترجمہ ہے ” صاحب نصیب “ اور مراد ہے اخلاقی بزرگی اور ثواب آخرت کے لحاظ سے صاحب نصیب، نہ کہ دنیوی فوائد و منافع کے لحاظ سے۔ یہ ان بزرگ کا نام نہیں بلکہ لقب ہے۔ قرآن مجید میں دو جگہ ان کا ذکرآیا ہے اور دونوں جگہ ان کو اسی لقب سے یاد کیا گیا ہے، نام نہیں لیا گیا۔ مفسرین کے اقوال اس معاملہ میں بہت مضطرب ہیں کہ یہ بزرگ کون ہیں، کس ملک اور قوم سے تعلق رکھتے ہیں، اور کس زمانے میں گزرے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کا دوسرا نام ہے (حالانکہ یہ صریحاً غلط ہے کیونکہ ان کا ذکر ابھی آگے آرہا ہے) کوئی کہتا ہے یہ حضرت الیاس (علیہ السلام) ہیں، کوئی یوشع بن نون کا نام لیتا ہے، کوئی کہتا ہے یہ الیسع ہیں، (حالانکہ یہ غلط ہے، سورة ص میں ان کا ذکر الگ کیا گیا ہے اور ذوالکفل کا الگ) ، کوئی انھیں حضرت الیسع (علیہ السلام) کا خلیفہ بتاتا ہے اور کسی کا قول ہے کہ یہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بیٹے تھے جو ان کے بعد نبی ہوئے اور ان کا اصلی نام بشر تھا۔ آلوسی نے روح المعانی میں لکھا ہے کہ ” یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ حزقیال (حزقی ایل) نبی ہیں جو بنی اسرائیل کی اسیری (597 ق م) کے زمانے میں نبوت پر سرفراز ہوئے اور نہر خابور کے کنارے ایک بستی میں فرائض نبوت انجام دیتے رہے۔ “ ان مختلف اقوال کی موجودگی میں یقین و اعتماد کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ فی الواقع یہ کون سے نبی ہیں۔ موجودہ زمانے کے مفسرین نے اپنا میلان حزقی ایل نبی کی طرف ظاہر کیا ہے لیکن ہمیں کوئی معقول دلیل ایسی نہیں ملی جس کی بنا پر یہ رائے قائم کی جاسکے۔ تاہم اگر اس کے لیے کوئی دلیل مل سکے تو یہ رائے قابل ترجیح ہوسکتی ہے، کیونکہ بائیبل کے صحیفہ حزقی ایل کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فی الواقع وہ اس تعریف کے مستحق ہیں جو اس آیت میں کی گئی ہے یعنی صابر اور صالح۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو یروشلم کی آخری تباہی سے پہلے بخت نصر کے ہاتھوں گرفتار ہوچکے تھے۔ بخت نصر نے عراق میں اسرائیلی قیدیوں کی ایک نوآبادی دریائے خابور کے کنارے قائم کردی تھی جس کا نام تل ابیب تھا۔ اسی مقام پر 594 ق م میں حضرت حزقی ایل نبوت کے منصب پر سرفراز ہوئے جبکہ ان کی عمر 30 سال تھی اور مسلسل 22 سال ایک طرف گرفتارِ بلا اسرائیلیوں کو اور دوسری طرف یروشلم کے غافل و سرشار باشندوں اور حکمرانوں کو چونکانے کی خدمت انجام دیتے رہے۔ اس کا رعظیم میں ان کے انہماک کا جو حال تھا اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ نبوت کے نویں سال ان کی بیوی جنھیں وہ خود ” منظورِنظر “ کہتے ہیں، انتقال کرجاتی ہیں، لوگ ان کی تعزیت کے لیے جمع ہوتے ہیں اور یہ اپنا دکھڑا چھوڑ کر اپنی ملت کو خدا کے اس عذاب سے ڈرانا شروع کردیتے ہیں جو اس کے سر پر تلا کھڑا تھا۔ (باب 24۔ آیات 15۔ 27) ۔ بائیبل کا صحیفہ حزقی ایل ان صحیفوں میں سے ہے جنھیں پڑھ کر واقعی یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ الہامی کلام ہے۔
Ayah 38:49

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ یاد دہانی ہے، بیشک اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے یقینا بہترین ٹھکانہ ہے

ھٰذَا ذِکْرٌ ط وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍ ۔ (صٓ: 49) (یہ یاد دہانی ہے، بیشک اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے یقینا بہترین ٹھکانہ ہے۔ ) ایک اہم بات کی طرف توجہ چند عظیم القدر انبیائے کرام کے ذکر کے بعد نہایت اہم بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسانی کمزوری یہ ہے کہ عظیم شخصیتوں کے تذکروں سے وہ محظوظ تو ہوتا ہے لیکن سبق بہت کم سیکھتا ہے۔ بڑے لوگوں کے واقعات سن لینا بجائے خود ایسی نیکی ہے جس پر اکتفا کرلیا جاتا ہے۔ اور یا یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ بڑے لوگ تھے ان کی باتیں بھی بڑی ہیں، ان کے کارنامے بھی بڑے ہیں۔ ہم اگر ان کی نقل کرنا بھی چاہیں تو ہمارے لیے ممکن نہیں۔ اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ محض ماضی کے قصے نہیں بلکہ تمہارے لیے درس موعظت اور زندگی کے عظیم سبق ہیں۔ ان کی زندگیوں، ان کے کارناموں اور ان کے اعمالِ حسنہ کو دیکھ کر تمہیں اندازہ ہونا چاہیے کہ جس راستے پر ہمیں چلنے کا حکم دیا گیا ہے اس راستے کے مینارہ نور یہ ہیں۔ اور یہ وہ مشعلیں ہیں جن کی روشنی میں ہم زندگی کا سفر طے کرسکتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی بات جو نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ نہایت اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے لوگ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقویٰ اور خشیت اس راستے کے وہ لازمی اوصاف ہیں جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کی ضمانت ہیں۔ اور نجات کی کامیاب صورت ہیں۔ انہی اوصاف کے باعث پہلے لوگوں کو اچھا ٹھکانا یعنی حُسنِ مآب نصیب ہوا۔ اور ہر دور میں یہ دولت انہی کے دم سے ملے گی۔
Ayahs 38:50–54

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن کے دروازے ان کے لیے کھولے ہوئے ہوں گے

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

ان میں وہ تکیے لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے، اور بہت سے میوے اور مشروبات طلب کرتے ہوں گے

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس شرمیلی ہم سِن حوریں ہوں گی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ ہیں وہ چیزیں جنھیں حساب کے دن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَّھُمُ الْاَبْوَابُ ۔ مُتَّـکِئِیْنَ فِیْھَا یَدْعُوْنَ فِیْھَا بِفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ وَّشَرَابٍ ۔ وَعِنْدَھُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ۔ ھٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ ۔ اِنَّ ھٰذَا لَرِزْقُنَا مَالَـہٗ مِنْ نَّفَادٍ ۔ (صٓ: 50 تا 54) (ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن کے دروازے ان کے لیے کھولے ہوئے ہوں گے۔ ان میں وہ تکیے لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے، اور بہت سے میوے اور مشروبات طلب کرتے ہوں گے۔ اور ان کے پاس شرمیلی ہم سِن حوریں ہوں گی۔ یہ ہیں وہ چیزیں جنھیں حساب کے دن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ ) حسن مآب کی وضاحت گزشتہ آیت میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے بہترین ٹھکانا ہے۔ پیش نظر آیت میں اس ٹھکانے کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔ وہ ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں جنھیں قرآن کریم جَنَّات سے تعبیر کرتا ہے۔ ان کی ممتاز صفت یہ ہے کہ وہ دنیا کے باغات کی طرح مرجھانے اور فنا ہونے والے نہیں ہوں گے، انھیں اللہ تعالیٰ ابدیت عطا فرمائے گا۔ ان باغات میں متقین کی عزت افزائی کا عالم یہ ہوگا کہ ان کے پہنچنے سے پہلے ان باغات کو آراستہ کیا جائے گا۔ استقبال کرنے والے مقرر کردیئے جائیں گے۔ جس طرح کسی معزز مہمان کی آمد پر پہلے ہی سے دروازے کھول کر راستوں پر خوش آمدید کہنے والے کھڑے کردیئے جاتے ہیں۔ اسی طرح ان کے لیے بھی دروازے پہلے سے ہی کھول دیئے گئے ہوں گے۔ استقبال کرنے والے نہایت مسرت و ابتہاج کے ساتھ انھیں خوش آمدید کہیں گے۔ جنت میں پہنچنے سے پہلے ان کی مسندیں آراستہ ہوچکی ہوں گی۔ اور سامانِ ضیافت پیش کرنے کے لیے نوکر چاکر مستعد کھڑے ہوں گے۔ اہل جنت جب وہاں غیرمعمولی اور حیران کن پھل اور مشروبات دیکھیں گے تو ان کی اشتہا اور طلب بڑھے گی، تو وہ نہایت بےتکلفی سے ہر قسم کے میوے اور مختلف قسم کے مشروبات خدام سے طلب کریں گے۔ مجلسی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی پرائیویٹ اور عائلی زندگی بھی خوشیوں سے معمور ہوگی۔ شرم و حیاء کے پیکر، باغیرت اور ایک شریف آدمی کے لیے سب سے زیادہ اطمینان بخش اور مسرت انگیز کوئی چیز اگر ہوسکتی ہے تو وہ باحیاء اور شرمیلی نازنین ہے جسے قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور ان خوشیوں کی تکمیل کے لیے مزید یہ فرمایا گیا کہ وہ باحیاء نازنینیں اپنے شوہروں کی ہم سِن ہوں گی۔ عمر کی یکسانی، جذبات کی یکسانی کو پیدا کرتی ہے۔ اور جذبات کی یکسانی مشترکہ خوشیوں کی ضمانت دیتی ہے۔ اور آخر میں فرمایا کہ یہ وہ نعمتیں ہیں اصحابِ ایمان سے جن کا دنیا میں بار بار وعدہ کیا گیا تھا۔ اور آج مزید اطمینان اور خوشی کے لیے یہ بھی یاددلایا جائے گا کہ یہ ہمارا وہ رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا جبکہ دنیا میں کسی خوشی کو قرار نہ تھا اور کسی نعمت کو دوام نہ تھا۔ لیکن یہاں نہ صرف ہر نعمت ابدیت لیے ہوئے ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا جائے گا۔
Ayahs 38:55–56

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

یہ ( تو ہے متقیوں کا انجام) اور بیشک سرکشوں کے لیے بدترین ٹھکانا ہوگا

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

یعنی جہنم جس میں وہ داخل ہوں گے، پس کیا ہی بری قیام گاہ ہے

ھٰذَا ط وَاِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّمَاٰبٍ ۔ جَھَنَّمَ ج یَصْلَوْنَھَا ج فَبِئْسَ الْمِھَادُ ۔ (صٓ: 55، 56) یہ ( تو ہے متقیوں کا انجام) اور بیشک سرکشوں کے لیے بدترین ٹھکانا ہوگا۔ یعنی جہنم جس میں وہ داخل ہوں گے، پس کیا ہی بری قیام گاہ ہے۔ ) سرکشوں کا انجام متقیوں کو عطا کی جانے والی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد سرکشوں اور خودسروں کے انجام کا ذکر کیا جارہا ہے۔ طاغیوں کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ اشرافِ قریش ہیں جو تکبر اور مخالفت میں بالکل اندھے ہوچکے تھے اور اس سورة کے آغاز ہی میں ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ بات بات پر آنحضرت ﷺ کا مذاق اڑاتے اور بات بات پر جھگڑا کرتے تھے اور مسلمانوں میں سے کسی کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہ تھے۔ ان کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ ان کا انجام اور ان کا ٹھکانا بہت برا ہوگا۔ اور پھر اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔ جس سے بڑھ کر بدترین ٹھکانا اور کوئی نہیں۔ جو ایک نظر بھی اسے دیکھ لے وہ یقینا اسے بدترین قیام گاہ قرار دے گا۔
Ayahs 38:57–58

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ ہے (اصل آرام گاہ، لیکن اب) وہ مزہ چکھیں کھولتے ہوئے پانی اور پیپ لہو

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور اسی قبیل کی دوسری چیزوں کا

ھٰذَا لا فَلْیَذُوْقُوْہُ حَمِیْمٌ وَّغَسَّاقٌ۔ وَّاٰخَرُمِنْ شَکْلِہٖ اَزْوَاجٌ۔ (صٓ: 57، 58) یہ ہے (اصل آرام گاہ، لیکن اب) وہ مزہ چکھیں کھولتے ہوئے پانی اور پیپ لہو۔ اور اسی قبیل کی دوسری چیزوں کا۔ ) معلوم ہوتا ہے کہ انھیں جہنم میں داخل کرنے سے پہلے ابتدائی مہمانی کے طور پر ان چیزوں کے چکھنے کا حکم دیا جائے گا، یعنی انھیں سیر ہو کر کھانا جہنم کے اندر ملے گا، لیکن ابھی نُزُلیعنی اولین مہمانی کے طور پر حمیم اور غساق کا مزہ چکھو۔ جس طرح گھر میں آنے والے مہمان کو ابتدائی مہمانی کے طور پر کوئی ٹھنڈا یا گرم مشروب اور ان کے لوازمات میں سے کچھ کھانے کو دیا جاتا ہے، لیکن اصل کھانا کھانے کے وقت پیش کیا جاتا ہے۔ یہ تعریض کے انداز میں ان کی مہمانی کی جارہی ہے کہ جہنم میں تمہارے ساتھ کیا گزرتی ہے، یہ تو وہاں جا کر اندازہ ہوجائے گا، لیکن اس کا کچھ اندازہ ابھی سے کرلو، کہ تمہیں چکھنے یعنی کھانے اور پینے کو حمیم اور غساق دیا گیا ہے۔ حمیم ایسے کھولتے ہوئے پانی کو کہتے ہیں جس سے انتڑیاں جل اٹھتی ہیں اور غساق اگرچہ اہل لغت کے نزدیک انتہائی سرد چیز اور انتہائی بدبودار چیز پر بھی بولا جاتا ہے، لیکن اس کا معروف معنی پیپ، لہو یا کچ لہو ہے جو زخمی جسم سے بہتا ہے۔ اندازہ کیجیے کہ ان کی اولین مہمانی ہی کس قدر تکلیف دہ اور اذیت ناک ہوگی۔ مزید فرمایا کہ ان دو چیزوں کا نام تو ضروری تعارف کے لیے دیا گیا ہے۔ اسی قبیل کی دوسری مختلف النوع نفرت انگیز چیزیں بھی ہوں گی جو ذکر کے لائق نہیں۔ لیکن انھیں ان سے بھی واسطہ پڑے گا۔
Ayah 38:59

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

یہ ایک لشکر تمہارے ساتھ گھسا چلا آرہا ہے، خدا کی مار ان پر، یہ تو دوزخ میں پڑنے والے ہیں

ھٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَکُمْ ج لاَ مَرْحَبًا م بِہِمْ ط اِنَّھُمْ صَالُوا النَّارِ ۔ (صٓ: 59) (یہ ایک لشکر تمہارے ساتھ گھسا چلا آرہا ہے، خدا کی مار ان پر، یہ تو دوزخ میں پڑنے والے ہیں۔ ) اہلِ جہنم کی توتکار کفر کے سرغنوں اور لیڈروں کا حال بیان کرنے کے بعد اب بتایا جارہا ہے کہ انھیں بتایا جائے گا کہ جو لوگ ہمیشہ تمہارے پیروکار بنے رہے اور تمہاری لیڈری بھی ان کے بل بوتے پر چلتی رہی وہ بھی تمہاری طرف بڑھے چلے آرہے ہیں، ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو تمہارا انجام ہونے والا ہے۔ چناچہ جیسے ہی ان کی نظر ان پر پڑے گی تو بجائے ان سے کسی ہمدردی کے اظہار کے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے کہ خدا غارت کرے انھیں، ان کا ستیاناس ہو، ان کے لیے کوئی خوش آمدید نہیں، یہ بھی جہنم میں داخل ہونے والے ہیں۔ جس انجام سے ہم دوچار ہورہے ہیں ان کا انجام بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔
Ayah 38:60

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

(وہ سن کر) کہیں گے بلکہ تم، تم پر خدا کی مار، تمہیں نے ہمارے لیے یہ سامان کیا، کیسی بری ہے یہ جائے قرار

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ قف لاَ مَرْحَبًا م بِکُمْ ط اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْہُ لَنَا ج فَبِئْسَ الْقَرَارُ ۔ (صٓ: 60) (وہ سن کر) کہیں گے بلکہ تم، تم پر خدا کی مار، تمہیں نے ہمارے لیے یہ سامان کیا، کیسی بری ہے یہ جائے قرار ) ان لیڈروں کی بات جیسے ہی ان کے پیرو کاروں کے کانوں میں پڑے گی وہ غصے میں بےقابو ہوجائیں گے، دانت پیس کر جواب دیں گے کہ یہ تم، خدا کی مار تم پر، یہ بات کہہ رہے ہو، تمہیں نے یہ سب کچھ کیا۔ آج جس انجام سے ہم دوچار ہونے والے ہیں اس کا سامان تم نے آگے بھیجا۔ ذرا غور کیجیے، اس فقرے میں مبتداء کا اعادہ کیا گیا ہے اور دونوں مبتدائوں کے درمیان جملہ معترضہ لایا گیا ہے۔ پورے فقرے سے غصہ ابلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ پھر بےبسی سے سرتاپا حسرت بن کر ان کی زبان سے نکلے گا کہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے جس کا تم نے ہمارے لیے سامان کیا۔
Ayah 38:61

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

پھر وہ کہیں گے اے ہمارے رب، جن لوگوں نے ہمیں اس انجام کو پہنچانے کا بندوبست کیا، ان کو جہنم میں دگنا عذاب دیجیے

قُالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا ھٰذَا فَزِدْہُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ ۔ (صٓ: 61) (پھر وہ کہیں گے اے ہمارے رب، جن لوگوں نے ہمیں اس انجام کو پہنچانے کا بندوبست کیا، ان کو جہنم میں دگنا عذاب دیجیے۔ ) اب نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ آج ان کے ساتھ کسی قسم کی تلخی کا کوئی فائدہ نہیں، انھوں نے ہماری عاقبت تباہ کی ہے، ہم تو تباہ ہو ہی گئے ہیں لیکن ہماری عاجزانہ درخواست یہ ہے کہ آپ ان کو دگنا عذاب دیجیے، ایک ان کی اپنی گمراہی کا اور ایک دوسروں کو گمراہ کرنے کا۔ اس سے ہمارے عذاب میں کوئی تخفیف تو نہیں ہوگی لیکن ہمیں اتنی راحت ضرور ملے گی کہ جن لوگوں نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ان کو اس کی سزا مل گئی۔ ان آیات میں پروردگار نے ان کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔ لیکن قرآن کریم میں بعض دیگر آیات میں اس کا جواب منقول ہے کہ پروردگار ارشاد فرمائیں گے کہ تم دونوں کو دونا عذاب دیا جائے گا، کیونکہ ہم نے حق و باطل میں امتیاز کرنے کی صلاحیت دونوں کو بخشی تھی۔ نہ تم نے اس سے کام لیا اور نہ انھوں نے۔ وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور تمہیں بھی گمراہ کیا۔ اس لیے ان کو دونا عذاب دیا جائے گا۔ اور تمہیں دگنا عذاب اس لیے دیا جائے گا کہ تم نے بجائے عقل سے کام لینے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی بات ماننے کے ان لوگوں کے پیچھے چلے جو خود گمراہ تھے۔ جس طرح کسی کو گمراہ کرنا جرم ہے، اسی طرح عقل سے کام نہ لے کر گمراہ کی پیروی کرنا بھی تو جرم ہے۔