37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsروح القرآن

Ayahs 37:1–4

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

قسم ہے قطار درقطار صفیں باندھنے والے فرشتوں کی

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

پھر ڈانٹنے، پھٹکارنے والے فرشتوں کی

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر ذکر کرنے والے فرشتوں کی

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

پس تمہارا معبود ایک ہی ہے

وَالصّٰفّٰتِ صَفًّا۔ فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا۔ فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا۔ اِنَّ اِلٰـھَکُمْ لَوَاحِدٌ۔ (الصآفات : 1 تا 4) (قسم ہے قطار درقطار صفیں باندھنے والے فرشتوں کی۔ پھر ڈانٹنے، پھٹکارنے والے فرشتوں کی۔ پھر ذکر کرنے والے فرشتوں کی۔ پس تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ ) قسم دلیل ہوتی ہے یہاں فرشتوں کے تین گروہوں کی قسم کھائی گئی ہے ہم اس سے پہلے بھی متعدد مواقع پر ذکر کرچکے ہیں کہ جس لفظ پر وائو قسم کے لیے آتا ہے اسے قسم کہتے ہیں اور اس کے بعد آنے والا جملہ جوابِ قسم یا مقسم علیہ کہلاتا ہے۔ جوابِ قسم کی حیثیت دعویٰ کی ہوتی ہے اور قسم دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے قسم کو بطور دلیل کے لایا جاتا ہے۔ البتہ ہمارے شیوہ ٔ مخاطبت اور طرزتحریر کے برعکس دلیل پہلے دی جاتی ہے اور دعویٰ بعد میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ دعویٰ کے ذکر کرنے سے پہلے دلیل کے ذریعے انسانی دل و دماغ کی زمین کو دعویٰ کی قبولیت کے لیے ہموار کردیا جائے۔ جس طرح ایک کسان زمین کو تخم ریزی کے لیے پہلے ہموار کرتا ہے اور پھر اس میں تخم کاشت کرتا ہے۔ اسی طرح پروردگار بھی انسانی دماغوں کو پہلے دلائل کے ذریعے ہموار کرتا ہے اور پھر ان کے سامنے وہ باتیں لاتا ہے جنھیں قبول کرنا ان کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ یہاں بھی سب سے پہلے تین قسمیں کھائی گئی ہیں اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) اور اس دور کے اہم ترین مفسرین کی رائے یہ ہے کہ یہ تینوں قسمیں دراصل ملائکہ کے تین گروہوں کی ہیں جن میں پہلا گروہ وہ ہے جنھیں صافات کے نام سے یاد فرمایا گیا ہے جس کا معنی ہے صف باندھنے والے۔ اسے فرشتوں کی صفت کے طور پر ذکر فرمایا گیا ہے اور یہ وہ صفت ہے جس کا ذکر اسی سورة میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی زبانی کیا گیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں : وَمَا مِنَّا اِلاَّ لَـہٗ مُقَامٌ مَّعْلُوْمٌ وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصّٰافُوْنَ وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ ۔ ” اور ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک معین مقام ہے، اور ہم تو صف بستہ رہنے والے ہیں اور ہم تسبیح کرتے رہنے والے ہیں۔ “ دوسری آیت میں ان فرشتوں کی قسم کھائی گئی ہے جو زجر کرنے والے، ڈانٹنے اور دھتکارنے والے ہیں۔ یہ وہ فرشتے ہیں کہ جب جنات و شیاطین ان مقامات کے قریب جانے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے لیے ممنوع قرار دے دیے گئے ہیں اور یا فرشتوں کو سننے کے لیے ان کے راستوں میں بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں، تو یہ ان کو دھتکارتے ہیں اور شہاب ثاقب ان کا تعاقب کرتے ہیں۔ یعنی ملااعلیٰ اور عالم غیب کی خبروں کو محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک خصوصی انتظام کر رکھا ہے جس کی وجہ سے جنات و شیاطین کو ان علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں جہاں سے وہ فرشتوں کی کوئی سی ادھوری بات سن کر اور اپنی باتیں ساتھ شامل کرکے زمین پر کہانت کا بازار گرم کیے ہوئے تھے اور اس طرح سے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس کے بعد تیسری آیت میں ان فرشتوں کی قسم کھائی گئی ہے جنھیں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے قول میں مُسَبِّحُوْنَ کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔ یعنی ان کا کام ہی یہ ہے کہ وہ شب و روز اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح میں مصروف رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جن ملائکہ کی صفات یہ ہوں کہ وہ ہر وقت صف باندھے قطار درقطار اللہ تعالیٰ کے احکام کے انتظار میں کھڑے رہتے ہوں اور جنھیں سوائے بندگیِ رب کے کسی کام سے غرض نہ ہو ان کی زندگی میں اس کے سوا نہ کوئی خواہش پائی جاتی ہو اور نہ ان کی زندگی کا اس کے سوا کوئی نصب العین اور کوئی مقصد ہو۔ اور اگر آسمانوں کے ممنوعہ علاقوں میں جنات و شیاطین غیب کی خبریں چرانے اور فرشتوں سے کسی بات کو لے اڑنے کی کوشش کریں تو انھیں دھتکارتے اور ایسے علاقوں سے دور رکھتے ہوں اور ان میں سے کچھ فرشتوں کا کام یہ ہو کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی حمدوتسبیح میں مصروف رہتے ہوں تو کیا انھیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں شریک تصور کیا جاسکتا ہے۔ اور کیا ان کے بارے میں یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سامنا کرسکیں گے۔ اور کیا ان سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ پروردگارِ عالم کی مرضی کے خلاف کسی کی مدد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ چناچہ اس طرح سے فرشتوں کی صفات کی وضاحت اور ان کی حیثیت کو کھولنے کے بعد جوابِ قسم لایا گیا ہے کہ یہ تینوں باتیں اس بات پر دلیل ہیں کہ تمہارا اِلٰہ صرف ایک اِلٰہ ہے اور وہ خداوند ذوالجلال ہے جس کے قبضے میں کائنات کا نظام ہے جو سب کو زندگی اور موت دینے والا ہے۔ جن و انس کے علاوہ ہر مخلوق اس کے تکوینی نظام میں جکڑی ہوئی ہے۔ اس کے احکام سے سرتابی کسی مخلوق کے بس کی بات نہیں۔ تو وہ ملائکہ جنھیں نور سے پیدا کیا گیا ہے اور جن کی سرشت میں بندگی اور اطاعت کے سوا کوئی اور جذبہ رکھا ہی نہیں گیا۔ تو جو لوگ ان کو اس کا شریک بناتے ہیں اور ان کی شفاعت کی امید پر ان کی پوجا کررہے ہیں، وہ احمقوں کی دنیا میں بستے ہیں۔ فرشتوں کا خود اپنا طرزعمل ان کی گمراہی اور حماقت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔
Ayah 37:5

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

وہی رب ہے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا، اور وہی مالک ہے سارے مشرقوں کا

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَـھُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ ۔ (الصآفات : 5) (وہی رب ہے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا، اور وہی مالک ہے سارے مشرقوں کا۔ ) مقسم علیہ یعنی دعویٰ کی وضاحت یہ خبر کے بعد دوسری خبر ہے۔ یعنی وہ مبعودِحقیقی جو واحد اور احد ہے وہی تمام آسمانوں اور زمین اور اس کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب اور مالک ہے۔ اور وہی رب المشارق بھی ہے۔ مشارق مشرق کی جمع ہے۔ جمع جس طرح کثرت تعداد پر دلالت کرتی ہے اسی طرح اطراف کی وسعتوں پر بھی دلیل ہوتی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی کائنات جس کا وہ مالک ہے اس کی وسعتوں کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ لیکن اس سے مشرکین کو یہ غلطی لگی ہے کہ اتنی وسیع کائنات میں رہنے والے ایک ایک فرد کی ضرورتوں اور اس کے احساسات سے کون آگاہ ہوسکتا ہے۔ یقینا پروردگارِعالم نے بادشاہوں کی طرح نیچے بیشمار کارکن رکھے ہوئے ہیں اور ان کو بعض اختیارات دے کر بعض کام ان کے سپرد کردیے ہیں۔ اور اس طرح سے کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ چناچہ ان کی اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کائنات کے کسی گوشے سے نہ تو بیخبر ہے اور نہ اس کے انتظامات سے عاجز ہے۔ اور نہ وہ کسی علاقے کے انتظامات کو برقرار رکھنے کے لیے کسی کا محتاج ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز اس کی محتاج ہے۔ وہ ہر چیز کے نفع و ضرر اور اس کی قسمت کا مالک ہے۔ کسی کی بڑائی اور عظمت اس کی بڑائی اور عظمت کے لیے چیلنج نہیں بن سکتیں بلکہ سب عظمتیں اور بڑائیاں اس کی دین اور اس کی عطا ہے۔ وہ تمام اختیارات کا مالک ہے۔ عقل کی بات یہ ہے کہ عبادت، اطاعت، پرستش اور بندگی کا حق اگر کسی کو پہنچتا ہے تو صرف اس ذات کے لیے جو سب سے بڑا، سب سے عظیم، سب بڑائیوں کا مالک، ہر طرح کی احتیاج سے پاک اور سب اس کے محتاج ہیں۔ عقل اس بات کو کبھی تسلیم نہیں کرسکتی کہ کسی بےاختیار کی عبادت کی جائے، کسی بےاقتدار سے استمداد کی جائے، کسی محتاج کے سامنے اپنی حاجات پیش کی جائیں اور کسی پستی کے سامنے بلندیاں جھکیں، اور کسی محکوم کے سامنے حاکم سر نیچا کرے اور اس کے حضور درخواست کی جائے۔ چناچہ اس بات کی طرف اس آیت میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جو اس کائنات کا خالق ومالک رب اور فرمانروا اور تمام مشارق و مغارب کا حکمران ہے یقینا الوہیت اسی کو زیب دیتی ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ جس طرح پروردگار رب المشارق ہے اسی طرح رب المغارب بھی ہے۔ لیکن یہ بات چونکہ واضح ہے اس لیے اس کو ذکر نہیں فرمایا گیا۔ ویسے بھی مغارب، مشارق کے تحت ہیں۔ اس لیے جب اصل کا ذکر آگیا تو فرع کا ذکر کرنا ضروری نہ رہا۔ ممکن ہے یہاں مشارق کا ذکر اس لیے کیا گیا ہو کہ دنیا میں مشرکوں نے سب سے زیادہ پرستش سورج کی کی ہے جو مشرق سے نکلتا ہے۔
Ayahs 37:6–7

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

بیشک ہم ہی نے آسمانِ دنیا کو تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور ہم ہی نے اس کی حفاظت کی ہے ہر سرکش شیطان سے

اِنَّا زَیَّـنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِزِیْنَۃِ نِ الْـکَوَاکِبِ ۔ وَحِفْظًا مِّنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍ ۔ (الصآفات : 6، 7) (بےشک ہم ہی نے آسمانِ دنیا کو تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے۔ اور ہم ہی نے اس کی حفاظت کی ہے ہر سرکش شیطان سے۔ ) قدرتِ خداوندی کی وسعت اور حفاظت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح ہم نے اہل زمین کے لیے زمین میں دلچسپیوں کی ایک کائنات بسا رکھی ہے کہ نہ رنگوں کی بہار کی کوئی انتہا ہے اور نہ خوبصورت آوازوں اور دلنواز صدائوں اور ادائوں کا کوئی شمار ہے۔ انسان سرشام کسی جنگل میں نکل جائے تو پرندوں کی موسیقی اسے دوسری دنیا میں پہنچا دے گی۔ اور کبھی چھائی ہوئی گھٹا میں پہاڑوں کے دامن کی سیر کرے تو چاندی کے ابلتے ہوئے فوارے اور سیماب اگلتے ہوئے چشمے اور چیڑوں کے گڑے ہوئے جھنڈے انسان کے لیے جنت نگاہ بن جاتے ہیں۔ تو جس پروردگار نے زمین پر یہ جنت کا منظر قائم کر رکھا ہے اسی نے آسمانِ دنیا یعنی عالم بالا کو ستاروں کی قندیلوں سے روشن کر رکھا ہے۔ انسان جب چھٹی ہوئی چاندنی میں آسمانِ دنیا کو دیکھتا ہے تو وہ اس کی خوبصورتی میں کھو جاتا ہے۔ لیکن اسے یہ نہیں معلوم کہ جس پروردگار نے اس آسمان کو ستاروں سے خوبصورت بنایا ہے اسی نے اس کو ہر شیطانِ سرکش سے محفوظ بھی کردیا ہے۔ یعنی یہ عالم بالا اور سقف نیلگوں محض ایک خلاء ہی نہیں کہ جس کا جی چاہے اس میں نفوذ کرجائے بلکہ اس کی بندش ایسی مضبوط ہے اور اس کے مختلف خطے ایسی مستحکم سرحدوں سے محصور کیے گئے ہیں کہ کسی شیطانِ سرکش کا ان حدوں سے گزر جانا ممکن نہیں۔ اس خلاء کے اندر بےحدوحساب خطے ایسی مضبوط سرحدوں سے محفوظ کیے گئے ہیں جن کے مقابلے میں آہنی دیواروں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اور عجیب بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی سرکش شیطان اوپر جانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ستارے جو بظاہر مشعلوں کی صورت دکھائی دیتے ہیں ان ہی ستاروں کے ذریعے سے اس کی سرزنش کی جاتی ہے۔ قرآن کریم نے یہ مضمون مختلف اسالیب سے بیان کیا ہے۔ مثلاً ایک جگہ ارشاد فرمایا : وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَجَعَلْنٰـھَا رُجُوْمًا لِلشَّیٰطِیْنَ ۔ (الملک : 5) ” اور ہم نے سمائِ دنیا کو تاروں سے سجایا ہے اور ان کو شیاطین کے سنگسار کرنے کے لیے بھی بنایا ہے۔ “ دوسرے مقام میں ارشاد فرمایا : وَلَقَدْجَعَلْنَا فِی السَّمَآئِ بُرُوْجًا وَّزَیَّنَّھٰا لِلنَّاظِرِیْنَ وَحَفِظْنٰـھَا مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ رَّجِیْمٍ اِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمَعْ فَاَتْبَعْہٗ شِہَابٌ مُّبِیْنٌ۔ (الحجر : 16۔ 18) ” اور ہم نے آسمان میں برج بنائے اور اس کو دیکھنے والوں کے لیے ستاروں سے مزین کیا ہے اور اس کو ہر شیطانِ رجیم سے محفوظ کیا ہے اور اگر کوئی چھپ کے سننے کی کوشش کرے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے۔ “
Ayahs 37:8–10

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

وہ ملااعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے، ہر طرف سے دھتکارے جاتے ہیں

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

کھدیڑنے کے لیے اور ان کے لیے ایک دائمی عذاب ہے

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

مگر یہ کہ کوئی اچک لے کوئی بات تو ایک چمکتا ہوا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے

لاَ یَسَّمَّعُوْنَ اِلَی الْمَلَاِ الْاَعْلٰی وَیُقْذَفُوْنَ مِنْ کُلِّ جَانِبٍ ۔ دُحُوْرًا وَّ لَھُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ۔ اِلاَّ مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَۃَ فَاَتْبَعَہٗ شِھَابٌ ثَاقِبٌ۔ (الصآفات : 8 تا 10) (وہ ملاِاعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے، ہر طرف سے دھتکارے جاتے ہیں۔ کھدیڑنے کے لیے اور ان کے لیے ایک دائمی عذاب ہے۔ مگر یہ کہ کوئی اچک لے کوئی بات تو ایک چمکتا ہوا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ ) جنات کی بےبسی اور اہل عرب کے مشرکانہ خیالات کی تردید اہلِ عرب میں جس طرح فرشتوں کے بارے میں مشرکانہ خیالات پائے جاتے تھے اسی طرح وہ جنات کے بارے میں بھی یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ انھیں آسمان پر جانے، فرشتوں کی باتیں سننے اور عالم غیب کی بعض خبروں سے آگاہ ہونے کی سہولت حاصل ہے۔ اور انسانوں میں سے جو لوگ عملیات کے ذریعے ایسے جنات کو قابو کرلیتے ہیں وہ ان کے واسطے سے آسمان میں ہونے والے فیصلوں سے قبل از وقت آگاہ ہوجاتے ہیں۔ ایسے شخص کو ان کی زبان میں کاہن کہا جاتا تھا اور وہ غیب دانی کی شہرت رکھنے کی وجہ سے مرجعِ خلائق بنے رہتے تھے اور لوگوں کی ضعیف الاعتقادی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی جیبوں پر بھی ہاتھ صاف کرتے تھے اور ان کے خیالات اور اعتقاد میں بھی بگاڑ پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتے تھے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے جب نبوت کا دعویٰ فرمایا اور یہ کہا کہ مجھ پر ایک فرشتہ اللہ تعالیٰ کا کلام لے کر نازل ہوتا ہے تو لوگوں نے آپ کو بھی ایک کاہن قرار دیا۔ اور آپ کے بارے میں یہ بات کہنا شروع کردی کہ آپ کا تعلق بھی دوسرے کاہنوں کی طرح کسی شیطان سے ہے جو عالم بالا سے فرشتوں سے کچھ باتیں سن کر آپ کو بتاتا ہے اور آپ اسے وحی الٰہی کے نام سے لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ چناچہ ان تمام خرافات کی تردید کرتے ہوئے یہاں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ شیاطینِ جن میں سے کسی کی یہ طاقت نہیں کہ وہ آسمان پر جاسکیں اور ملااعلیٰ کی باتیں سن سکیں۔ لاَ یَسَّمَّعُوْنَ کا معنی ہے کہ وہ سننے کی کوشش کرتے ہیں لیکن سن نہیں سکتے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے وحی الٰہی کی حفاظت کے لیے ایسے انتظامات کردیے ہیں کہ اب کسی شیطان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ آسمان پر جا کر غیب کی کسی بات کو جاننے پر قادر ہوسکے۔ آیت میں الملأالاعلیٰ کا لفظ آیا ہے جس کا معنی ہے آسمان پر رہنے والے فرشتے۔ بعض اہل علم کے نزدیک اس سے مراد آسمانوں کے تمام فرشتے نہیں بلکہ اشرافِ ملائکہ مراد ہیں۔ ظاہر ہے کہ فرشتے نہ اپنے مناصب کے اعتبار سے یکساں ہیں نہ شرافت و مرتبہ کے اعتبار سے، اور نہ اپنے فرائض اور صلاحیتوں کے اعتبار سے سب ایک جیسے ہیں۔ یقینا ان میں وہ فرشتے بھی شامل ہیں جو زمین اور اہل زمین کے معاملات سے متعلق ہیں گے وہی شاید اس سے مراد ہیں۔ اور جنات ہمیشہ انھیں تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان کے لیے آسمانوں پر جانے کی کھلی اجازت تو پہلے بھی نہ تھی لیکن آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد ان پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔ لیکن یہ چونکہ اپنی خلقی ساخت کے اعتبار سے فرشتوں کے بہت قریب ہیں اس لیے ان کے لیے آسمانوں پر چلے جانا ناممکن نہیں۔ اور مزید یہ کہ جس طرح فرشتوں کی جبلت اور فطرت میں عصمت رکھی گئی ہے ان کی فطرت میں شرارت اور شیطنت کا غلبہ ہے۔ اس لیے ان میں سے بعض جنات اپنی فطرت اور جبلت سے مجبور ہو کر پابندی کے باوجود آسمانوں پر جانے کی کوشش کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام فرما دیا ہے کہ جب بھی جنات عالم بالا پر جانے کی کوشش کرتے ہیں تو فرشتے انھیں بری طرح دھتکارتے، مارتے اور کھدیڑتے ہیں اور کسی کو اوپر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اور اگر ان میں سے کوئی سرکش شیطان کوئی بات اچک کر بھاگنے کی کوشش کرتا ہے تو ایک دمکتا ہوا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ اور یہ شعلہ میزائل کی طرح اس پر گرتا ہے اور اس کا کام تمام کردیتا ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ کبھی تو اس مقصد کے لیے ستاروں ہی کو استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی آگ کا کوئی گولہ فرشتوں کی طرف سے ان پر پھینکا جاتا ہے جو ان کی کارکردگی کو ناکام کر کے رکھ دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی خدائی میں کوئی دخل نہیں وہ انتہائی فرمانبردار بندوں کی طرح یا تو عبادت میں مصروف رہتے ہیں اور یا ان امور کو سرانجام دینے میں لگے رہتے ہیں جو انھیں تفویض کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح جنات کو بھی انسانوں کے معاملات میں دخل دینے کی اجازت نہیں۔ اس لیے جو لوگ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھ کر ان کی پوجاپاٹ کرتے ہیں وہ محض اپنا نقصان کرتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ جنات کو علم غیب کا وسیلہ سمجھ کر ان سے تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ بھی احمقوں کی دنیا میں بستے ہیں۔ اس کائنات کا ایک ہی اِلٰہ ہے اور اسی کے ہاتھ میں ایک ایک مخلوق کے معاملات کی باگ ڈور ہے۔
Ayah 37:11

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

پس ان سے پوچھئے کیا ان کا پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا ان چیزوں کا جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں ان کو تو ہم نے لیس دار مٹی سے پیدا کیا ہے

فَاسْتَفْتِہِمْ اَھُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا ط اِنَّا خَلَقْنٰـھُمْ مِّنْ طِیْنٍ لاَّزِبٍ ۔ (الصآفات : 11) (پس ان سے پوچھئے کیا ان کا پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا ان چیزوں کا جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں ان کو تو ہم نے لیس دار مٹی سے پیدا کیا ہے۔ ) احوالِ قیامت سے پہلے امکانِ قیامت کی دلیل بعد کی آیات میں احوالِ قیامت کا بیان شروع ہورہا ہے۔ نزولِ قرآن اور آنحضرت ﷺ کی دعوت کے وقت قریش اور دیگر اہل مکہ کی جو کیفیت ہوتی تھی قرآن پاک کا ہر طالب علم اس سے واقف ہے۔ جیسے ہی آنحضرت ﷺ انذار کرتے ہوئے عذاب آخرت کا ذکر کرتے تو مخالفین فوراً بات کو اچک لیتے اور آپ کی ترغیب و ترہیب کو بےاثر کرنے کے لیے یہ سوالات اٹھاتے کہ قیامت کے احوال کا تذکرہ تو بعد میں کیجیے گا پہلے تو یہ ثابت کیجیے کہ قیامت واقعی آئے گی۔ اور ہم جو اس میں عقلی استبعاد محسوس کرتے ہیں پہلے اس کی تو کوئی توجیہ کیجیے۔ چناچہ اس ضرورت کے تحت پروردگار نے احوالِ قیامت کے ذکر سے پہلے اس کے امکان کو ذکر فرمایا۔ اور براہ راست گفتگو کرنے کی بجائے اس کی بنیاد ایک ایسے سوال پر رکھی ہے جس کے تمام تر جواب کی عمارت ان کے مسلمات پر اٹھائی گئی ہے۔ سوال یہ کیا گیا ہے کہ تم اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ کائنات کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق حتیٰ کہ زمین و آسمان اور پہاڑ تک ہم نے پیدا کیے ہیں۔ اور تمہیں ان کی تخلیق میں کوئی ذہنی استبعاد محسوس نہیں ہوتا۔ خدا لگتی کہو کہ کیا ان عظیم مخلوقات کا پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا خود تمہارا پیدا کرنا۔ اگر اتنی بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق میں ہمیں کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو کیا دوبارہ تمہاری تخلیق ہمارے لیے مشکل ہوگی۔ یہی مضمون سورة مومن میں دوسرے انداز سے بیان ہوا ہے۔ لیکن اس کی کاٹ بھی وہی ہے جو پیش نظر آیت میں ہے۔ ارشاد ہوا ہے لَخَلْقُ السَّمَوٰتِ وَالْاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرالنَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ ” آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کو پیدا کرنے سے زیادہ مشکل ہے، لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔ “ کیونکہ کائنات کی بڑی بڑی مخلوقات ایسی مختلف چیزوں سے پیدا کی گئی ہیں جن کا خام مواد ملنا آسان کام نہیں۔ ان کی تخلیق میں ایسی پیچیدگیاں ہیں جن کی گرہ کھولنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ لیکن جہاں تک انسان کا تعلق ہے اسے ہم نے چپکتی ہوئی مٹی یا لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے۔ اور مٹی کا مادہ جس طرح اس کی پیدائش کے وقت فراوانی سے موجود تھا آج بھی موجود ہے۔ اس وقت اگر انسان کو اس سے تخلیق کرتے ہوئے کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو آخرت کے وقت آخر اس کی تخلیق میں کیوں دشواری پیش آئے گی۔ ہم جب چاہیں گے ان کو پھر بنادیں گے۔ لیس دار گارے سے انسان کی پیدائش کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انسانوں کے جدِامجد کی پیدائش مٹی سے ہوئی تھی۔ اور پھر آگے نسل انسانی اسی کے نطفے سے وجود میں آئی۔ اور انسان کا یہ مادہ حیات اسی غذا سے بنتا ہے جو زمین سے نکلتی ہے۔ اور استقرارِحمل کے وقت سے مرتے دم تک اس کی پوری ہستی جن اجزاء سے مرکب ہوتی ہے وہ سب بھی غذا ہی سے فراہم ہوتے ہیں۔ یہ غذا خواہ حیوانی ہو یا نباتی، آخرکار اس کا ماخذ وہ مٹی ہے جو پانی کے ساتھ مل کر اس قابل ہوتی ہے کہ انسان کی خوراک کے لیے غلے، ترکاریاں اور پھل نکالے اور ان حیوانات کی پرورش کرے جن کا دودھ اور گوشت انسان کھاتا ہے۔ تو اگر نوع انسانی کی تخلیق کی ابتداء مٹی سے ہی ہوئی اور اسی سے نکلنے والی اشیاء اس کے مادہ حیات کی غذا بنی اور انسان کی تخلیق کا سلسلہ چلتا رہا، تو یہ سب کچھ تو اب بھی موجود ہے اور قیامت کے وقوع کے وقت بھی موجود ہوگا۔ تو پھر انسان کی ازسرنو زندگی میں عقلی استبعاد کس طرح پیدا ہوگیا۔ پیشِ نظر آیت کریمہ میں جو سوال اٹھایا گیا ہے اس میں چونکہ ” مَنْ “ کا لفظ استعمال ہوا ہے اس سے بعض اہل علم یہ گمان کرتے ہیں کہ قدرت کی پیدا کردہ چیزوں سے مراد شاید یہاں ملائکہ اور جنات کی تخلیق ہے۔ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے انسانوں کو مٹی سے پیدا کیا اور جنات کو نار سے اور فرشتوں کو نور سے تخلیق کیا ہے۔ تو کیا نار اور نور سے کسی مخلوق کا تخلیق کرنا زیادہ مشکل ہے یا مٹی سے انسان کا پیدا کرنا۔ یقینا نار اور نور سے تخلیق کا عمل زیادہ مشکل ہے اور جب اس مشکل کام میں ہمیں کوئی دشواری نہیں ہوئی تو انسانوں کو ازسرنو زندہ کرنے میں ہمیں کیوں دشواری ہوگی۔
Ayah 37:12

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

بلکہ آپ تعجب کررہے ہیں اور یہ لوگ مذاق اڑا رہے ہیں

بَلْ عَجِبْتَ وَیَسْخَرُوْنَ ۔ (الصآفات : 12) (بلکہ آپ تعجب کررہے ہیں اور یہ لوگ مذاق اڑا رہے ہیں۔ ) متکلم اور مخاطب کی سوچ اور ذوق میں تضاد یعنی قرآن کریم کے اتنے واضح اور آسان دلائل کے بعد ان کا انکار، اے پیغمبر ! آپ کے لیے تعجب انگیز ہے اور اسی لیے آپ حیران ہورہے ہیں کہ آخر ان کی عقلوں پر کیسے پتھر پڑگئے ہیں کہ بالکل سامنے کی بات کو بھی مان کر نہیں دے رہے کہ جن مخلوقات کی تخلیق ہر اعتبار سے نہایت حیرت انگیز ہے ان میں ان کے لیے کوئی عقلی استبعاد نہیں۔ اور انسان کی ازسرنو تخلیق یا انھیں زندہ کرکے اٹھانا جبکہ یہ اس واردات سے خود گزر چکے ہیں آخر کیا عقلی استبعاد رکھتی ہے کہ انھیں اس کا ماننا مشکل ہورہا ہے۔ اس لیے آپ کو ان کا اشکال باعث تعجب معلوم ہو رہا ہے۔ لیکن ان کا حال یہ ہے کہ وہ اتنی واضح بات کو قبول کرنے کی بجائے اس کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ یہ شخص جو دعویٰ نبوت سے پہلے تک نہایت سمجھدار، سنجیدہ مزاج اور مدبر خیال کیا جاتا تھا آج اسے کیا ہوگیا ہے کہ بوسیدہ ہڈیوں اور صدیوں پہلے مرنے والے انسانوں کے ازسرنو زندہ ہونے کا دعویٰ کررہا ہے جبکہ ان کے جسموں کا ذرہ ذرہ ہوا میں اڑ چکا اور ان کا کوئی نام و نشان تک موجود نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا پیغمبر ان کے سوئِ فہم، عقلی افلاس اور ذہنی کج روی پر تعجب کا اظہار کرتا ہے۔ اور وہ پیغمبر کی باتوں کو عقل و خرد سے عاری گمان کرکے تمسخر کا نشانہ بناتے ہیں۔ اندازہ کیجیے کہ دونوں سوچوں میں کس قدر دوری ہے۔ ایک مشرق ہے اور دوسرا مغرب۔ اس فکری تضاد اور رویوں میں اختلاف کا نتیجہ یہ ہے کہ :
Ayahs 37:13–15

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

اور جب انھیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت قبول نہیں کرتے

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے

وَاِذَاذُکِّرُوْا لاَ یَذْکُرُوْنَ ۔ وَاَذَا رَاَوْا اٰیـَۃً یَّسْتَسْخِرُوْنَ ۔ وَقَالُوْٓا اِنْ ھٰذَٓا اِلاَّ سِحْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الصآفات : 13 تا 15) (اور جب انھیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت قبول نہیں کرتے۔ اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ ) بدذوقی کے نتائج جب انھیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت قبول کرنے اور بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کا ذہنی سانچہ اس حد تک تبدیل ہوچکا ہے کہ وہ کسی صحیح بات کو قبول نہیں کرتا اور کوئی اچھی بات اس میں اترنے نہیں پاتی۔ کیونکہ افکار، ذہنی تربیت، صحیح ماحول اور امیال و عواطف، ذہنی ساخت کو تشکیل کرتے اور صالح کردار کی تعمیر کرتے ہیں۔ لیکن جب ان کی بجائے فکری کج روی، غلط تربیت، غلط ماحول اور مشرکانہ عقائد فیصلہ کن جگہ بنا لیتے ہیں تو پھر اس کے نتیجے میں ایسا فکری اور عملی قالب وجود میں آتا ہے جو اس آیت کریمہ میں بیان کیا گیا ہے۔ آج بھی ہم اپنے گردوپیش میں دونوں طرح کے ذہنی رویوں کو کارفرما دیکھتے ہیں اور دونوں سے پیدا ہونے والے فکری اور عملی اختلافات کو بھی جابجا دیکھنے کا موقع ملتا ہے اور ہزار کوشش کے باوجود بھی ان میں کہیں سازگاری ہوتی نظر نہیں آتی۔ تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم اس خرابی کے اسباب کو دور کرنے کی بجائے خرابی کی شاخوں سے کھیلتے رہتے ہیں۔ قرآن کریم مسلسل خرابی کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ جب تک یہ لوگ اپنے اعتقادات میں درستی پیدا نہیں کرتے مشرکانہ تصورات سے توبہ نہیں کرتے۔ اور آخرت کی جواب دہی کا احساس ان کے رگ و پے میں نہیں اترتا، اس وقت تک ان کے رویوں میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ وہ اگر بڑے سے بڑا معجزہ بھی دیکھتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے کسی عظیم نشانی کو دیکھنے کا موقع پاتے ہیں تو اس سے کوئی سبق سیکھنے کی بجائے اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک کھلا ہوا جادو ہے جس سے ہماری عقلوں کو شکار کیا جارہا ہے۔
Ayahs 37:16–17

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا ہم اٹھائے جائیں گے

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے

ئَ اِذَا مِتْـنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًائَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ ۔ اَوَ اٰبـَـآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ ۔ (الصآفات : 16، 17) (کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا ہم اٹھائے جائیں گے۔ اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے۔ ) مزید وضاحت یہ ان کی ذہنی پسماندگی کی دلیل ہے کہ قرآن کریم اور صاحب قرآن ﷺ ہر ممکن طریقے سے انھیں سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن وہ اپنے ذہنی افلاس اور فکری گھٹن سے نکلنے کے لیے تیار نہیں۔ بار بار ایک ہی بات دہرا رہے ہیں کہ جب ہمیں موت چاٹ جائے گی پھر ایک وقت آئے گا ہم بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوجائیں گے اور ہڈیاں بھی گل سڑ کر خاک بن جائیں گی۔ ہوسکتا ہے انھیں ہوا اڑا کر کہیں کی کہیں لے جائے تو کیا ہم اس وقت بھی اٹھائے جائیں گے۔ اور مزید حیرت کی بات یہ کہ ہمارے آبائواجداد بھی اسی تجربے سے گزارے جائیں گے۔ اس سے آپ ان کی ذہنی کم مائیگی کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ وہ اپنے آبائواجداد کے حوالے سے مزید تعجب کا اظہار کررہے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے سامنے سب انسان یکساں ہیں۔ جو سلوک آج کے انسان سے ہوگا وہی ماضی اور مستقبل کے انسان سے بھی ہوگا۔ لیکن دورجاہلیت کا انسان یہ سمجھتا ہے کہ جو لوگ اس سے پہلے گزر گئے ہیں وہ شاید ہم سے مختلف حیثیتوں کے مالک تھے۔ اور یا وہ ماضی کا حصہ بن کر شاید کسی زیادہ قدروقیمت کے حامل ہوگئے ہیں۔ اس لیے ان کا اور ہمارا معاملہ کیسے ایک ہوسکتا ہے۔
Ayah 37:18

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

کہہ دیجیے ہاں، اور تم ذلیل و خوارہوکر زندہ ہو گے

قُلْ نَعَمْ وَاَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ ۔ (الصآفات : 18) (کہہ دیجیے ہاں، اور تم ذلیل و خوارہوکر زندہ ہو گے۔ ) مخالفین کا یہ سوال کہ کیا جب ہم مرگئے اور بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوگئے اور خاک ہو کر خاک میں مل گئے یا ذرات کی شکل میں ہوا میں اڑ گئے تو کیا ہم پھر بھی اٹھائے جائیں گے اور ہم سے پہلے ہمارے آبائواجداد گزر چکے ہیں، کیا انھیں بھی اٹھایا جائے گا ؟ عقلی دلیل تو اس سے پہلے گزر چکی ہے کہ تمہارے دوبارہ اٹھائے جانے اور ازسرنو زندہ کیے جانے میں کوئی عقلی استبعاد نہیں۔ البتہ اب شاہانہ لب و لہجے میں ان کے سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ ہاں تم بھی اور تمہارے آبائواجداد بھی زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے اور اس میں شک و شبہ کا کوئی امکان نہیں۔ اور ساتھ ہی یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ تم صرف اٹھائے نہیں جاؤ گے بلکہ ذلیل و خوار کرکے اٹھائے جاؤ گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں ازسرنو زندگی کا عطا ہونا یقینا ایک بہت بڑی بات ہے لیکن یہ سب کچھ تمہارے اعزاز کے لیے نہیں ہوگا بلکہ تمہیں اس لیے اٹھایا جائے گا تاکہ تم اپنے اعمال کی جواب دہی کرسکو، اور اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کا پوری طرح ظہور ہوسکے۔ جن لوگوں نے زندگی اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق گزاری انھیں نہایت عزت و احترام سے اٹھایا جائے گا، فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور نہایت عزت کے ٹھکانوں میں پہنچا یا جائے گا۔ لیکن تم نے چونکہ زندگی بھر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور سرکشی اور تمرد کے ساتھ زندگی گزاری اس لیے آج تمہاری اکڑی ہوئی گردنیں جھکا دی جائیں گی۔ اور تمہارے ساتھ وہ سلوک کیا جائے گا جو مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
Ayahs 37:19–21

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

سو وہ اٹھانا تو بس ایک ہی جھڑکی ہوگی کہ یکایک وہ دیکھنے لگیں گے

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اور کہیں گے ہائے ہماری کمبختی یہ تو بدلے کا دن ہے

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

فَاِنَّمَا ھِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ھُمْ یَنْظُرُوْنَ ۔ وَقَالُوْا یٰـوَیْلَنَا ھٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ ۔ ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ۔ (الصآفات : 19 تا 21) (سو وہ اٹھانا تو بس ایک ہی جھڑکی ہوگی کہ یکایک وہ دیکھنے لگیں گے۔ اور کہیں گے ہائے ہماری کمبختی یہ تو بدلے کا دن ہے۔ یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ ) قیامت کے منکرین کی بدحواسی سے دلیل قیامت کے منکرین اس کے وقوع کو بہت بڑی بات سمجھ کر ناقابلِ یقین خیال کرتے اور کبھی اسے خلاف عقل ٹھہراتے تھے۔ ان کے تصورات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ہمیں قیامت برپا کرنے میں کسی تیاری کی ضرورت نہیں ہوگی۔ نہ جن و انس کو ازسرنو اٹھانے میں ہمیں کوئی غیرمعمولی قوت صرف کرنا پڑے گی اور نہ اس کے لیے سامان فراہم کرنا ہوگا۔ بلکہ وہ تو ایک جھڑکی اور ڈانٹ ہوگی جس کے نتیجے میں انسان زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے اور میدانِ حشر کی طرف چل پڑیں گے۔ آیت میں زَجْرَۃٌ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ زجر کا اسم مرہ ہے۔ اور اس کے عربی زبان میں کئی معنی آتے ہیں۔ ان میں سے ایک معنی ہے مویشیوں کو چلنے پر آمادہ کرنے کے لیے ایسی آوازیں نکالنا جنھیں سن کر وہ اٹھ کھڑے ہوں۔ یہاں اس سے مراد وہ دوسرا صور ہے جو حضرت اسرافیل (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کرنے کے لیے پھونکیں گے۔ اس کے الفاظ کو دیکھتے ہوئے ایسا نقشہ نگاہوں کے سامنے آتا ہے کہ ابتدائے آفرینش سے قیامت تک جو انسان مرے ہوں گے یکایک ایک ڈانٹ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگی انھیں سنائی دے گی کہ اٹھ جاؤ، اور وہ بس آن کی آن میں سب اٹھ کھڑے ہوں گے۔ لیکن اہل تفسیر کا خیال یہ ہے کہ صورتحال یقینا اس سے مختلف نہیں ہوگی لیکن یہ کام صوراسرافیل سے لیا جائے گا تاکہ حشر و نشر کے منظر میں ہیبت کا اضافہ کردیا جائے۔ اور دوسرا حیران کن اثر اس صوراسرافیل کا یہ ہوگا کہ یہ لوگ اٹھتے ہی چاروں طرف تکنے لگیں گے۔ گویا کہ ان کے حواس بھی بحال کردیے جائیں گے۔ چناچہ ان کا پہلا احساس یہ ہوگا کہ ہائے ہماری کمبختی یہ تو وہی یوم الجزاء ہے جس کا ہم تمسخر اڑاتے رہے ہیں ممکن ہے فرشتوں کی طرف سے اس کا جواب دیا جائے۔ یا خود ان کا اپنا احساس بول اٹھے یا میدانِ حشر کا سارا ماحول اس وقت زبان حال سے گواہی دے رہا ہو کہ ہاں یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کو تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے۔ تصور ہی کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت منکرینِ قیامت پر کیسی قیامت گزرے گی۔
Ayahs 37:22–23

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

جمع کرو سب ظالموں کو اور ان کے ساتھیوں کو، اور جن کی وہ بندگی کیا کرتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

اللہ کو چھوڑ کر، پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھائو

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَھُمُ وَمَا کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ ۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاھْدُوْھُمْ اِلٰی صِرَاطِ الْجَحِیْمِ ۔ (الصآفات : 22، 23) (جمع کرو سب ظالموں کو اور ان کے ساتھیوں کو، اور جن کی وہ بندگی کیا کرتے تھے۔ اللہ کو چھوڑ کر، پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھائو۔ ) مجرمین کی میدانِ حشر میں حاضری کا ایک منظر الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاسے مراد ایک تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا، کیونکہ قرآن کریم میں شرک کو ظلم قرار دیا گیا ہے۔ اور دوسرے وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بغاوت، سرکشی اور نافرمانی کا رویہ اختیار کیا۔ قرآن کریم کی اصطلاح میں انھیں بھی ظالم کہا گیا ہے۔ َاَزْوَاجَ سے مراد وہ بیویاں بھی ہوسکتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دین سے بغاوت اور سرکشی میں اپنے شوہروں سے تعاون کرتی رہی ہیں۔ اور وہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے بغاوت اور سرکشی میں ان کے ہم مشرب اور معاون رہے ہیں۔ کیونکہ ازواج زوج کی جمع ہے۔ یہ بیوی اور ہم مشرب دونوں پر بولا جاتا ہے۔ البتہ حضرت عمرفاروق کے ارشاد سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ یہاں ازواج سے ہم مشرب اور ہم خیال لوگ مراد ہیں۔ یعنی سود خور دوسرے سودخوروں کے ساتھ، زنا کار دوسرے زانیوں کے ساتھ اور میخوار دوسرے میخواروں کے ساتھ جمع کیے جائیں گے۔ وَمَا کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ سے مراد وہ معبود بھی ہوسکتے ہیں مشرکین جن کی بندگی کیا کرتے تھے، جیسے بت اور شجروحجر وغیرہ۔ اور وہ انسان اور شیاطین بھی اس سے مراد لیے جاسکتے ہیں۔ جن کی کوشش یہ رہی ہے کہ ان کی بندگی کی جائے، اس کے سامنے سر جھکایا جائے اور انھیں بخشش اور مغفرت کا ذریعہ سمجھا جائے اور جو اپنے دامن گرفتگان کو جنت کا یقین دلاتے رہے۔ اور اسی طرح وہ لوگ بھی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے قانون کے مقابلے میں اپنے وضعی قوانین کی غیرمشروط اطاعت کروائی۔ اس آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ تمام مشرک اور سرکش لوگوں اور ان کے ہم مشربوں کو میدانِ حشر میں جمع کیا جائے۔ اور اسی طرح ان معبودوں کو بھی جن کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بندگی کی جاتی رہی اور ایسے رہنمائوں کو بھی جو اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کے توڑ پر اور اس کی حاکمیت کے مقابل میں اپنے وضعی قوانین اور اپنی حاکمیت کا صور پھونکتے رہے۔ اور پھر فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ ان سب کو جہنم کا راستہ دکھا دو تاکہ یہ لوگ اپنے انجام کو پہنچیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ برائی میں قیادت کے منصب پر فائز لوگ اکیلے ہی اللہ تعالیٰ کے غضب کا شکار نہیں ہوں گے بلکہ جو لوگ ان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور ان کے ہم نوالہ و ہم پیالہ رہے وہ بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ اسی طرح جن کی بندگی کی جاتی رہی اور وہ اس بندگی میں خود فریق رہے اور وہ اصنام اور شجروحجر، لوگ جن کی پوجا کرتے رہے یہ بھی جہنم میں اپنے پوجنے والوں کے ساتھ ہوں گے تاکہ انھیں اندازہ ہو کہ ہم جن کو خدا سمجھتے رہے ہیں ان کی حقیقت یہ تھی جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ البتہ وہ انبیاء و اولیاء اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندے جن کی تعلیمات کے برعکس ان سے عقیدت رکھنے والوں نے ان کے بارے میں بندگی کے تصورات رکھے ان پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا، بلکہ ان کی بیزاری کے اظہار کے بعد ممکن ہے مشرکین کے عذاب میں اضافہ ہوجائے۔
Ayahs 37:24–26

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور ذرا انھیں روکو، بیشک ان سے کچھ پوچھا جائے گا

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

بلکہ وہ آج اپنے آپ کو حوالے کیے دے رہے ہیں

وَقِفُوْھُمْ اِنَّہُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ ۔ مَالَـکُمْ لاَ تَنَاصَرُوْنَ ۔ بَلْ ھُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ ۔ (الصآفات : 24 تا 46) (اور ذرا انھیں روکو، بیشک ان سے کچھ پوچھا جائے گا۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے۔ بلکہ وہ آج اپنے آپ کو حوالے کیے دے رہے ہیں۔ ) منکرین کی تذلیل فرشتے جب ان مجرموں کو جہنم کی طرف لے کر جارہے ہوں گے تو انھیں حکم ملے گا کہ انھیں کچھ دیر کے لیے روکو، ان سے کچھ پوچھنا ہے۔ یہ لے جائے جانے والے سب وہ لوگ ہیں جن میں ایک سے ایک بڑا باغی اور سرکش رہ چکا ہے۔ اور ان کے تکبر کا عالم یہ تھا کہ یہ اپنے پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دیتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی کسی بات کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہ تھے۔ اور پھر یہ عام لوگ نہیں ان میں بیشتر لوگ دنیا میں بڑے سے بڑے مناصب پر فائز رہے ہیں۔ کوئی دنیوی جاہ و جلال کا دعویدار تھا اور کوئی علم و فضل میں کمالات کا، کسی کو اپنی مشیخیت پر ناز تھا اور کسی کو اپنے حسب و نسب کی برتری پر۔ لیکن آج یہ سب سر جھکائے خاموشی سے اس طرح حکم میں بندھے چلے جارہے ہوں گے کہ سب کی ہیکڑی نکل چکی ہوگی اور ہر ایک سراپا اطاعت بنا ہوا ہوگا۔ چناچہ انھیں روک کر ان سے یہ پوچھا جائے گا کہ دنیا میں تم ایک دوسرے کے معاون و مددگار تھے، تم نے ہر برائی کو فروغ دینے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لیا۔ تم میں اگر ایک قائد تھا تو دوسرے لوگ اس کی قیادت کا ایندھن بنے ہوئے تھے۔ اس کے لیے نعرے لگاتے، جھنڈے اٹھاتے اور اس کی سربلندی کے لیے پسینہ بہاتے اور مال صرف کرتے تھے۔ اور قائد اپنے پیروکاروں کی خاطر کیسے کیسے دکھ برداشت کرتے تھے۔ لیکن اپنی قیادت پر حرف نہیں آنے دیتے تھے۔ لیکن آج تم سب تنہا تنہا ایک دوسرے سے بیگانہ اپنی فکر میں مگن چلے جارہے ہو، آخر تم میں یہ تبدیلی کیوں آئی ؟ اور پھر دوسرے لوگ جو ان شامت زدوں کا نظارہ کررہے ہوں گے انھیں متوجہ کرکے فرمایا گیا ہے کہ ذرا انھیں دیکھو کہ یہ تو پوری طرح اپنے آپ کو سپرد کیے دے رہے ہیں۔ اپنی سرکشی کو بھول کر مکمل طور پر سپرانداز ہوچکے ہیں۔ انھیں اپنے دائیں بائیں کا کوئی ہوش نہیں۔ کل تک وہ جن کے لیے جان کھپاتے تھے آج انھیں پوچھنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ ہر شخص کو اپنے انجام کی فکر ہے۔ دراصل یہ نقشہ کھینچ کر قریش کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ تم آج اپنے جن تعلقات اور علاقات پر نازاں ہو اور جن وابستگیوں سے تم نے اپنے گروہ بنا رکھے ہیں قیامت کے دن ان میں سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔ وہاں ہر ایک کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ اس لیے آج سوچ لو کہ کل تمہارے ساتھ کیا گزرنے والی ہے تاکہ آج اس کی کوئی تجویز کرسکو۔
Ayahs 37:27–30

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے اور ایک دوسرے سے سوالات شروع کردیں گے

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

اور پیروی کرنے والے اپنے پیشوائوں سے) کہیں گے کہ تم ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے، نہیں بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا بلکہ تم ہی تھے حد سے نکل جانے والے

وَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ ۔ قَالُوْٓا اِنَّـکُمْ کُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ ۔ قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَـکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ۔ وَمَا کَانَ لَنَا عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ ج بَلْ کُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ ۔ (الصآفات : 27 تا 30) (اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے اور ایک دوسرے سے سوالات شروع کردیں گے۔ (اور پیروی کرنے والے اپنے پیشوائوں سے) کہیں گے کہ تم ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے۔ وہ جواب دیں گے، نہیں بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے۔ ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا بلکہ تم ہی تھے حد سے نکل جانے والے۔ ) میدانِ حشر کا ایک اور منظر لیڈروں اور پیرؤوں کی توتکار کفار کے اس ہجوم میں وہ لوگ بھی موجود ہوں گے جنھوں نے اپنی حیثیتِ عرفی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسروں کو گمراہ کیا ہوگا اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان کے پیچھے چل کر گمراہ ہوئے ہوں گے۔ اب جو ان کی نظر ایک دوسرے پر پڑے گی تو اس مصیبت میں یہ سمجھ کر کہ شاید ہمیں یہ بہانہ کوئی فائدہ دے سکے ایک دوسرے سے الجھ پڑیں گے۔ عوام اپنے قائدین سے کہیں گے کہ تم ہی لوگ ہو جو اصل میں آج ہماری اس مصیبت کے ذمہ دار ہو۔ تم نے اگر بہکانے میں زور صرف نہ کیا ہوتا اور ہماری صحیح رہنمائی کی ہوتی تو آج ہم اس مصیبت میں گرفتار نہ ہوتے۔ قرآن کریم نے اس کے لیے یمین کا لفظ استعمال کیا ہے کہ تم ہمارے پاس یمین کی طرف سے آتے تھے۔ یمین مختلف معنی رکھنے کی وجہ سے آیت میں مختلف مفاہیم کا باعث بنا ہے۔ یمین کا ایک معنی ہوتا ہے قوت و طاقت۔ اس لحاظ سے اس آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم کمزور لوگ تھے اور تم قوت و طاقت کی علامت تھے، اختیارات کا مرکز تھے، قیادت و سیادت کا تمہیں مقام حاصل تھا، تم اپنی تمام قوتوں سمیت ہم پر اپنا اثر ڈالنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس طرح سے تم نے ہمیں جدھر موڑا ہم ادھر مڑ گئے۔ دوسرا معنی یمین کا ہوتا ہے قسم۔ اس لحاظ سے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ تم قسم کھا کھا کر ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ ہمارا مذہب درست ہے اور رسول ﷺ کی تعلیم سراسر باطل ہے۔ یمین کا تیسرا معنی ہے خیر اور بھلائی۔ اس لحاظ سے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ تم ہمارے خیرخواہ بن کر ہمارے پاس آتے تھے اور ہمیں یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہیں جس راہ پر چلانا چاہتے ہیں وہی حق اور بھلائی کی راہ ہے۔ اس طرح سے ہم تمہارے فریب میں آگئے۔ لیکن بعض اہل علم نے آیت کے الفاظ کو ایک اسلوب قرار دیتے ہوئے یہ مفہوم لیا ہے کہ دراصل پیچھے چلنے والوں نے جب اپنے قائدین پر اپنی گمراہی کا الزام لگایا تو انھوں نے یہ کہا کہ تم ہمارے پاس آتے رہے ہو، کبھی دائیں سے، کبھی بائیں سے، کبھی آگے سے کبھی پیچھے سے۔ لیکن ابھی وہ صرف یہ کہہ پائے تھے کہ تم آتے رہے ہو ہمارے پاس کبھی دائیں سے، تو قائدین نے فوراً ان کی بات کاٹ لی تاکہ وہ ان کے الزام کو غلط ثابت کرسکیں۔ اور فوراً اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تم جو کچھ ہم پر الزام لگا رہے ہو کہ ہم تمہاری گمراہی کے ذمہ دار ہیں اس میں ذرہ بھر صداقت نہیں۔ تم درحقیقت خود ہی ایمان لانے والے نہ تھے ورنہ ہمارے پاس کوئی ایسی طاقت نہ تھی کہ جس سے ہم زبردستی تم سے اپنی بات منوا سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم خود ہی حد سے بڑھ جانے والی قوم ہو۔ اپنی گمراہی کے ذمہ دار تم خود ہو۔ تمہیں ایمان کی ذمہ داریاں قبول نہ تھیں، تمہارے نفس کی آزادیاں چونکہ رسول کی مخالفت میں محفوظ رہتی تھیں اس لیے تمہیں ہماری بات سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی، بلکہ تم نے ہماری ہر بات کو اپنے دل کی آواز سمجھا اور اسے قبول کرلیا۔ اب بجائے اس کے کہ اس حقیقت کو قبول کرلیا جائے تم نے ہمیں الزام دینا شروع کردیا ہے۔
Ayahs 37:31–32

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

آخر کار ہم پر ہمارے رب کی بات ثابت ہوگئی، بیشک ہم عذاب کا مزہ چکھنے والے ہیں

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

پس ہم نے تم کو گمراہ کیا، ہم خود گمراہ تھے

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَـآ صلے ق اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ ۔ فَاَغْوَیْنٰـکُمْ اِنَّا کُنَّا غٰوِیْنَ ۔ (الصآفات : 31، 32) (آخر کار ہم پر ہمارے رب کی بات ثابت ہوگئی، بیشک ہم عذاب کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ پس ہم نے تم کو گمراہ کیا، ہم خود گمراہ تھے۔ ) ابلیس نے جب اللہ تعالیٰ کے سامنے ہر زہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ میں اولادِ آدم کو ہر ممکن طریق سے گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ حتیٰ کہ ان میں سے اکثر کو آپ شکرگزار نہیں پائیں گے تو اس کے جواب میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ تمہارا دائو میرے نیک بندوں پر نہیں چلے گا۔ البتہ جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی میں تمہیں اور انھیں بھی جہنم کی نذر کردوں گا۔ بلکہ جہنم کو تم سے بھروں گا۔ قائدین یہ کہیں گے کہ ہم اپنے اعمال اور کفر کے باعث اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہم پر لازم ہوگیا۔ اب ہمیں جہنم کے عذاب کا مزہ چکھنا ہے۔ ہم چاہے اس کا ذمہ دار کسی کو بھی ٹھہرائیں لیکن ہم اپنی ذمہ داری سے انکار نہیں کرسکتے۔ اس لیے جہنم کے عذاب کا استحقاق ہم پر ثابت ہوچکا ہے۔ رہی یہ بات کہ ہم نے تمہیں گمراہ کیا تو اس میں تعجب کی بات کیا ہے ہم خود گمراہ تھے، ہماری دکان سے ملنے والی جنس گمراہی کے سوا اور کوئی نہ تھی۔ ہمارے دامن میں صرف گمراہی کے کانٹے تھے، تم جب ہمارے پاس آئے تو ہم وہی چیز پیش کرسکتے تھے جو ہمارے پاس تھی۔ اب اس پر شکایت بےمعنی ہے۔ درخت اپنا وہی پھل پیش کرتا ہے جو اسے لگتا ہے، ہم نے بھی وہی پھل آپ کے سامنے رکھا اور آپ چونکہ اس کے طلبگار تھے آپ نے شوق سے اسے قبول کیا، تو آج اس کا انجام سامنے ہے، شکایت بیکار ہے۔
Ayah 37:33

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

پس وہ سب اس دن عذاب میں شریک ہوں گے

فَاِنَّھُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ ۔ (الصآفات : 33) (پس وہ سب اس دن عذاب میں شریک ہوں گے۔ ) اللہ تعالیٰ کا فیصلہ قائدین اور ان کی پیروی کرنے والوں کی توتکار اور بحث کے بعد پروردگار فیصلہ کن انداز میں فرما رہا ہے کہ ان دونوں کو ان کی بحث سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ پیروی کرنے والوں کا یہ عذر مسموع نہیں ہوگا کہ ان کے قائدین نے انھیں گمراہ کیا تھا بلکہ ان کے گمراہ ہونے کی سزا انھیں اسی طرح ملے گی جیسے ان کے گمراہ کرنے والوں کو ملے گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو اتنی عقل دے رکھی ہے کہ وہ حق و باطل میں امتیاز کرسکے اور اس پر مزید اس کا کرم یہ ہے کہ اس نے سمجھانے بجھانے کے لیے اپنے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں۔ اور رسولوں کے چلے جانے کے بعد ہمیشہ ان کی راہ پر چلنے والے اہل علم نے لوگوں کو راہ راست پر چلنے کی تلقین کی۔ اس بنا پر ان کی گمراہی کی ذمہ داری ان پر ڈالی جائے گی کوئی دوسرا حوالہ انھیں فائدہ نہیں دے گا۔ اور نہ ان کے قائدین اور پیشوائوں کی کسی معذرت کو قبول کیا جائے گا بلکہ ان کی گمراہی کا وبال بھی انھیں پر پڑے گا۔ البتہ اگر کہیں ایسا ہو کہ طاقت اور احتیاج کے دبائو سے کسی کو باطل پر چلنے پر مجبور کردیا جائے اور اس کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ رہے ورنہ اس کی زندگی خطرے میں ہو۔ تو ممکن ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے کوئی رعایت ہوجائے۔ بجز اس کے کہ اور کوئی صورت ایسی نہیں جس میں اپنی گمراہی کا سبب دوسروں کو بتا کر جان چھڑانے کی کوشش کی جائے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں یہ عذر قبول کرلیا جائے۔
Ayahs 37:34–36

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو یہ گھمنڈ میں آجاتے تھے

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور کہتے تھے کہ کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں

اِنَّا کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ ۔ اِنَّہُمْ کَانُوْٓا اِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ لا یَسْتَـکْبِرُوْنَ ۔ وَیَـقُوْلُوْنَ اَئِنَّالَتَا رِکُوْٓا اٰلِھَتِنَا لِشَاعِرٍمَّجْنُوْنٍ ۔ (الصآفات : 34 تا 36) (ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو یہ گھمنڈ میں آجاتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ ) گزشتہ آیت کی مزید وضاحت گزشتہ آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے دین سے برگشتگی اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب پر قوموں کو سزا کسی ایک دور یا کسی ایک قوم کا معاملہ نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا اٹل اصول ہے کہ جب بھی کسی قوم نے ان جرائم کا ارتکاب کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ضرور گرفت فرمائی ہے۔ اسی حوالے سے فرمایا گیا ہے کہ ہم ہمیشہ مجرمین کے ساتھ ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔ چاہے کوئی آگے چلنے والا ہو یا پیچھے چلنے والا۔ ہر شخص کی گمراہی اس کی اپنی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ ہر دور کے انسانوں کا یہی حال رہا ہے کہ جب بھی انھیں کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں۔ تو جن لوگوں نے اپنی خدائی کا صور پھونک رکھا تھا اور جن طاغوتی قوتوں نے اپنے آستانے بچھا رکھے تھے اور وہ لوگوں کو اپنے طریقے کی پیروی پر مجبور کرتے تھے۔ اور اسی طرح وہ لوگ جنھوں نے اپنے لیے سجدہ گاہیں تجویز کررکھی تھیں اور مختلف قوتوں کی بندگی کو اپنا طرزعمل بنا رکھا تھا یہ سب بھڑک اٹھتے کہ اللہ تعالیٰ کا وہ رسول جو ہمیں توحید کی دعوت دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی الوہیت کی طرف بلاتا ہے یہ صحیح ہے کہ اس پر اترنے والی کتاب فصاحت و بلاغت کا مرقع ہے اور وہ عجیب و غریب خبریں دیتا ہے تو اس کی حیثیت اس کے سوا کیا ہے کہ وہ ایک بہت بڑا شاعر ہے اس لیے فصاحت و بلاغت اس کے منہ سے جھڑتی ہے۔ اور وہ دماغ کے فتور کا شکار ہے اس لیے الٹی سیدھی غیب کی خبریں دیتا ہے۔ تو کیا ایسے شخص کے کہنے پر ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہم اور ہمارے آبائواجداد بندگی کرتے رہے ہیں۔ یہ وہ گمراہی ہے جس کا شکار ماضی کی قومیں بھی رہی ہیں اور اب قریش بھی اسی کا شکار ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون چونکہ سب کے لیے ایک ہے اس لیے جس طرح گزشتہ معذب قومیں اپنے اس استکبار کی وجہ سے عجیب و غریب گمراہیوں کا شکار ہوئیں اسی طرح قریش بھی ہوچکے ہیں۔ تو جو سزا انھیں مل چکی ہے یقینا وہی سزا قریش کو بھی ملے گی اگر انھوں نے اپنی اصلاح نہ کی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قانون میں کسی کے لیے استثنیٰ نہیں۔
Ayah 37:37

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

بلکہ وہ حق لے کر آیا اور اس نے رسولوں کی تصدیق کی ہے

بَلْ جَآئَ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ (الصآفات : 37) (بلکہ وہ حق لے کر آیا اور اس نے رسولوں کی تصدیق کی ہے۔ ) قریش کے طعن کا جواب یہ قریش کو جواب دیا گیا ہے کہ جسے تم شاعر اور مجنون قرار دے رہے ہو، وہ شاعر اور مجنون نہیں اللہ تعالیٰ کا رسول ہے۔ اس کے رسول ہونے کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک ہر پیغمبر اور رسول نے اس کے آنے کی خبر دی اور اس کی علامات بتائیں۔ بعض رسولوں نے اس کے نام تک کی خبر دی۔ اس کی جائے پیدائش اور اس کے دارالہجرت تک کی اطلاع دی۔ انجیل میں اور زردشت کی بعض پیشگوئیوں میں فتح مکہ کی خبر دی گئی ہے اور آپ کے لشکر کے سپاہیوں کو نہ صرف قدوسی قرار دیا گیا ہے بلکہ ان کی تعداد تک بتائی گئی ہے۔ بعض کتابوں میں آپ کا حلیہ تک منقول ہے۔ آپ ان تمام خبروں اور پیشگوئیوں کا مصداق بن کر تشریف لائے ہیں۔ آپ نے اپنے سراپا سے ان خبروں کی تصدیق کی ہے جو آپ کی شکل و صورت کے بارے میں دی گئی ہیں اور آپ کی تعلیمات نے ان پیشگوئیوں کا مصداق بن کر دکھایا ہے جن میں آپ کی تعلیمات کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ تو ایسا رسول جو گزشتہ انبیائے کرام اور رسولانِ عظام کی پیشگوئیوں کا مصداق بن کر آیا ہو اسے شاعر اور مجنون قرار دینا صرف دیانت ہی نہیں، عقل و خرد کے ہر تقاضے کی بھی خلاف ورزی ہے۔
Ayahs 37:38–40

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

بیشک تم دردناک عذاب چکھنے والے ہو

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور تم اسی کا بدلہ دیے جائو گے جو تم کرتے رہے ہو

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

مگر اللہ کے خالص بندے ہی اس سے محفوظ رہیں گے

اِنَّـکُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِ ۔ وَمَا تُجْزَوْنَ اِلاَّ مَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ اِلاَّ عِبَادَاللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (الصآفات : 38 تا 40) (بےشک تم دردناک عذاب چکھنے والے ہو۔ اور تم اسی کا بدلہ دیے جاؤ گے جو تم کرتے رہے ہو۔ مگر اللہ کے خالص بندے ہی اس سے محفوظ رہیں گے۔ ) مجرمینِ قریش کا انجام تم نے اب تک ہمارے رسول کی دعوت کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ کے دین کو ناکام کرنے کی کوشش کی ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تم ایک دردناک عذاب کا استحقاق پیدا کرچکے ہو۔ وہ عذاب دنیا میں بھی اتر سکتا ہے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت اس کی داعی نہ ہوئی تو آخرت کے عذاب سے تو کوئی بچانے والا نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ دنیا میں کیے ہوئے اعمال کی سزا دیتا ہے۔ تم نے بھی اگر اپنی دنیوی زندگی کو درست نہ کیا تو آخرت میں تمہیں اپنے کرتوتوں کی جزاء دی جائے گی۔ اس عذاب سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے مخصوص بندوں میں شامل کرلیا جائے۔ اور اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ ایمان و عمل کو زادسفر بنایا جائے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لایا جائے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر جو شریعت نازل کی ہے اس کی پیروی اور اتباع میں زندگی گزاری جائے۔ مخلصین کے لفظ سے اس بات پر زور معلوم ہوتا ہے کہ مغفرت اور بخشش اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے استحقاق کا سررشتہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی بارگاہ سے وہی نوازا جاتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہو، کسی اور کے بس میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے بغیر اس کی نعمتوں میں سے کوئی حصہ دے سکے۔