37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsروح القرآن

Ayahs 37:41–44

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں جن کے لیے روزی ہے جانی پہچانی

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

میوے، اور وہ عزت سے رکھے جائیں گے

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

نعمت کے باغوں میں

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے

اُوْلٰٓئِکَ لَہُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ۔ فَوَاکِہُ ج وَھُمْ مُّکْرَمُوْنَ ۔ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ۔ عَلٰی سُرُرٍمُّتَقٰبِلِیْنَ ۔ (الصآفات : 41 تا 44) (یہ لوگ ہیں جن کے لیے روزی ہے جانی پہچانی۔ میوے، اور وہ عزت سے رکھے جائیں گے۔ نعمت کے باغوں میں۔ تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ) اہلِ جنت کا تذکرہ اہلِ جہنم کے حالات بیان کرنے کے بعد اہل جنت کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ پہلی دس آیتوں میں عام اہل جنت کا اکرام اور ان کو ملنے والی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور اس کے بعد کی آیات میں ایک خاص جنتی کا عبرت آموز واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ عام اہل جنت کے بارے میں پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ انھیں رزق وہ عطا کیا جائے گا جن کی تفصیل مختلف صورتوں میں بیان کی گئی ہے اور ان کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اور بعض اہل علم نے رزق معلوم سے یہ مراد لیا ہے کہ اس کے اوقات متعین اور معلوم ہیں۔ یعنی وہ رزق صبح و شام پابندی کے ساتھ عطا کیا جائے گا۔ ان اوقات میں کبھی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اور مزید یہ بات کہ دنیا میں ہر چیز کا ملنا ظن و گمان پر مبنی ہے۔ کیونکہ دنیا میں انسان کے حالات یکساں نہیں رہتے۔ اس بات کا امکان ہر وقت رہتا ہے کہ حالات میں کوئی بڑی تبدیلی آجائے۔ لیکن جنت میں کسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ وہاں ہر چیز کا ملنا یقینی اور دائمی ہے۔ یہ کھٹکا دلوں میں کبھی داخل نہیں ہوگا کہ جو عیش آج میسر ہے ہوسکتا ہے کل نہ ہو۔ دوسری آیت میں رزق کی خود تفصیل بیان کی گئی ہے کہ وہ رزق غذا کی صورت میں نہیں بلکہ فواکہ اور میووں کی شکل میں ہوگا۔ کیونکہ غذا کی ضرورت بھوک کو مٹانے کے لیے ہوتی ہے، صرف لذت حاصل کرنے کے لیے نہیں۔ اور جنت میں چونکہ ہر چیز ابدی ہوگی کسی چیز کو زوال نہیں ہوگا اس لیے وہاں بھوک نہیں لگے گی۔ کیونکہ بھوک لگنے کا مطلب یہ ہے کہ اجزائے جسم کے تحلیل ہونے کے بعد اب ضرورت ہے کہ کچھ کھا پی کر اس تحلیل کی کمی کو دور کیا جائے۔ وہاں کی زندگی بھی دائمی ہے اس لیے زندگی کی بقا کے لیے بھی وہاں غذا کی ضرورت نہیں ہوگی۔ البتہ انسان میں لطف و لذت کا احساس موجود ہوگا تو فواکہ پیش کرکے ان کے لطف و لذت کے احساس کو تسکین دی جائے گی۔ مزید فرمایا کہ اہل جنت کو نعمت والے باغوں میں نہایت عزت و احترام سے رکھا جائے گا کیونکہ اگر کسی مہمان کے لیے رنگا رنگ نعمتیں چن دی جائیں لیکن اسے احترام نہ دیا جائے تو نعمتیں انسان کے لیے کانٹوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ عزت و احترام سے معمولی ضیافت بھی مزہ دے جاتی ہے اور برے طریقے سے پیش کی جانے والی بیش بہا نعمتیں بھی حلق سے نیچے نہیں اترتیں۔ عزت کی جگہ اللہ کی جنت سے بڑھ کر اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ اس لیے ان نعمت کے باغوں کا اہل جنت کے ٹھکانے کے طور پر خصوصی طور پر ذکر فرمایا گیا۔ مجلس طرازی دوست نوازی اور چاریاری انسان کی ایسی ضرورت ہے کہ جس کے بغیر کوئی خوشی اور کوئی راحت مکمل نہیں ہوتی۔ اس لیے فرمایا گیا کہ جنت میں مجلسیں بھی جمیں گی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان مجلسوں کے شرکاء صرف لذتوں کے حصول کے لیے جمع نہیں ہوں گے بلکہ ان کے دل بھی ایک دوسرے کے قریب ہوں گے۔ اس لیے جب وہ مجلسوں میں بیٹھیں گے اگرچہ ان کی نشست تختوں پر ہوگی لیکن وہ آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ کسی کی پشت کسی کی طرف نہیں ہوگی اور کوئی پہلو بدل کر نہیں بیٹھے گا۔ ہر شخص دوسرے کی باتوں سے بھی محظوظ ہوگا اور ایک دوسرے کو دیکھ کر بھی راحت محسوس کریں گے۔
Ayahs 37:45–47

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

پھرائے جائیں گے ان پر شراب معین کے جام

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

چمکتی ہوئی شراب، پینے والوں کے لیے لذت ہی لذت

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

نہ اس میں کوئی ضرر ہوگا اور نہ اس کو پی کر بہکیں گے

یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍم۔ بَیْضَآئَ لَذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ ۔ لاَفِیْھَا غَوْلٌ وَّلاَ ھُمْ عَنْھَا یُنْزَفُوْنَ ۔ (الصآفات : 65 تا 47) (پھرائے جائیں گے ان پر شراب معین کے جام۔ چمکتی ہوئی شراب، پینے والوں کے لیے لذت ہی لذت۔ نہ اس میں کوئی ضرر ہوگا اور نہ اس کو پی کر بہکیں گے۔ ) اہلِ جنت کی مجلسی زندگی مجلسی زندگی کا لازمی حصہ اہل عرب میں تمام اہل مجلس کی شراب نوشی تھی۔ قیمتی سے قیمتی شراب مجلسوں میں مہیا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اور پھر نہایت اہتمام سے شراب کے جام گردش میں لائے جاتے تھے۔ اسلام نے عربوں کی زندگی میں جو تبدیلیاں پیدا کیں اور جسے انسانی زندگی کے لیے نمونہ بنایا وہ، وہ زندگی تھی جس میں عیش و عشرت، اسراف و تبذیر، بےخودی پیدا کرنے والے ماکولات و مشروبات اور مقصد زندگی سے بےپرواہ کرنے والی مصروفیات سے روک دیا گیا تھا۔ اور لہو ولعب اور عیش و نشاط کے تمام مشاغل ان لوگوں کو جنت میں بطور انعام دینے کا وعدہ کیا گیا جو دنیا میں ان سے دستکش رہ کر مجاہدانہ زندگی گزاریں گے۔ چناچہ اہل جنت کی مجلسی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وہ لوگ جب اپنی بیش قیمت مسانید پر براجمان ہو کر مجلس طرازی میں مصروف ہوں گے تو ان کی مجلس میں شراب کے جام مسلسل گردش میں رہیں گے۔ جام کے لیے ” کاس “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ لفظ عربی زبان میں ظرف اور مظروف یعنی پیالہ اور شراب دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور شراب کے لیے ” معین “ کا لفظ آیا ہے جس کا اطلاق ایسی مہنگی شراب پر بھی ہوتا ہے جو خالص اور بےآمیز ہو۔ اور ان چشموں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے جہاں سے شراب ابلتی ہے۔ دنیا میں تو ایسے چشموں کا وجود نہیں، لیکن قیامت کے دن اہل جنت کے لیے ایسے چشمے اور نہریں رواں کی جائیں گی جس میں پھلوں سے کشید کی ہوئی شراب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ شراب ابلے گی اور بہے گی اور اس کے لطف و لذت کا آج تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ اس کا رنگ سفید اور نہایت چمکدار ہوگا۔ اور وہ شراب لذیذ ہی نہیں بلکہ سراپا لذت ہوگی۔ کیونکہ قرآن کریم نے اس کے لیے لَذَّۃٌ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اگر اس لفظ کو مصدر قرار دیا جائے تو اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ شراب لذت دینے والی نہیں بلکہ مجسم لذت ہوگی۔ اس کی مثبت تعریف کرنے کے بعد ان باتوں کی تردید کی گئی ہے جو دنیا کی شراب کے لازمی خواص ہیں۔ وہ شراب جو دنیا میں عام چلتی ہے اس کو ہاتھ میں لیتے ہی سب سے پہلے بدبو اور سڑاند سے دماغ جل اٹھتا ہے۔ اس کا پہلا ہی گھونٹ آدمی کے ذائقے کو تلخ کردیتا ہے اور پھر حلق سے اترتے ہی پیٹ میں ہنگامہ کھڑا کردیتی ہے، پھر وہ دماغ کو چڑھتی ہے اور دورانِ سر لاحق ہوتا ہے۔ پھر دماغ پر اس کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ تو ان سے پوچھئے جو ایسی مجلسوں میں جانے کے عادی ہیں۔ اور اگر شراب پینے میں مکمل احتیاط سے کام نہ لیا جائے تو نہ آدمی کی زبان قابو میں رہتی ہے اور نہ اس کا جسم انسانیت کی حدود میں رہتا ہے۔ اور جو اپنے آپ کو واقعی میخوار سمجھتے ہیں ان کا تو اصرار یہ ہے کہ وہ شراب نوشی ہی کیا جو اپنا رنگ نہ دکھائے۔ کسی میخوار شاعر کا شعر ہے : یہ خاک پینا ہے کہ تھوڑی سی پی اور سو رہے جو پی کے تھا نے نہ پہنچے وہ بادہ خوار نہیں قرآن کریم کہتا ہے کہ جنت میں جس شراب کا دور چلے گا وہ ان تمام خرابیوں سے پاک ہوگی۔ اس سے بدبو کی بجائے خوشبو مہ کے گی۔ اس کا مزہ دماغ کو رونق بخشے گا۔ اس میں ” غول “ نہیں ہوگا۔ غول کے معنی دردسر، پیٹ کا درد، بدبو اور گندگی، عقل کا بہک جانا، مختلف معنی کیے گئے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اس سے سارے ہی معنی مراد ہیں۔ اس کو پی کر نہ اعضاء شکنی ہوگی، نہ عقل تعطل کا شکار ہوگی، وہ جسم اور دماغ دونوں کو نقصان دینے کی بجائے راحت اور سرور کا باعث بنے گی۔
Ayahs 37:48–49

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس باحیاء موٹی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

گویا کہ وہ محفوظ انڈے ہیں

وَعِنْدَھُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌ۔ کَاَنَّھُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ۔ (الصآفات : 48، 49) (اور ان کے پاس باحیاء موٹی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی۔ گویا کہ وہ محفوظ انڈے ہیں۔ ) اہلِ جنت کی نجی زندگی انسان کے لطف و لذت کے لمحات ہوں یا نہایت سنجیدہ غور و فکر کی ساعتیں، وہ اچھی بیوی کے بغیر نامکمل رہتی ہیں۔ یہ ضرورت ایسی فطری اور لازمی ہے کہ جنت میں جبکہ ہر جنتی ہر ضرورت اور احتیاج سے بےنیاز ہوچکا ہوگا ایک اچھی بیوی وہاں بھی اس کی چاہت ہوگی۔ عرب اپنی ساری گمراہیوں کے باوجود اپنے حرم میں شرم و حیاء کے قائل تھے۔ ان کے شعراء بھی ایسی کنواریوں اور نازنینوں کی تعریفیں کرتے تھے جو دوسرے لوگوں کی چشم تصور سے بھی دور رہتی ہوں۔ اور یہ ذوق ہر اس شخص اور اس قوم کا ہے جن کے یہاں غیرت و حمیت کو انسانی اقدار میں اہمیت حاصل ہے۔ چناچہ اسی تصور کے پیش نظر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اہل جنت کی رفاقت میں ایسی عورتیں ہوں گی جو شرم و حیاء کے اعتبار سے نگاہیں جھکانے والی ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے جن شوہروں کے ساتھ ان کا ازدواجی رشتہ قائم کردیا وہ ان کے علاوہ کسی بھی مرد کو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گی۔ علامہ ابن جوزی نے نقل کیا ہے کہ یہ عورتیں اپنے شوہروں سے کہیں گی میرے پروردگار کی عزت کی قسم جنت میں مجھے تم سے بہتر کوئی نظر نہیں آتا۔ جس اللہ نے مجھے تمہاری بیوی اور تمہیں میرا شوہر بنایا ہے تمام تعریفیں اسی کی ہیں۔ اور ان کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ بڑی بڑی آنکھوں والی ہوں گی جسے چشم غزال کہا جاتا ہے۔ دوسری آیت میں ان کے لیے جو تشبیہ استعمال کی گئی ہے اس میں بھی بیک وقت ان کی شرم و حیاء کی تصویر بھی کھینچ دی گئی ہے اور ان کی خوبصورتی کی بھی۔ ارشاد ہوتا ہے کہ وہ عورتیں ایسی ہیں گویا کہ وہ محفوظ انڈے ہیں۔ پرندہ عام طور پر انڈا اپنے پروں کے نیچے چھپا کے رکھتا ہے تاکہ اس پر بیرونی گردوغبار نہ پہنچے۔ اس لیے وہ نہایت صاف ستھرا ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے ان انڈوں سے انڈوں کی وہ جھلی مراد لی ہے جو چھلکے کے اندر پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عورتیں جھلی کی طرح نرم و نازک اور گداز ہوں گی۔ ہم جب دور جاہلیت کے ادب کو دیکھتے ہیں تو بکثرت نظر آتا ہے کہ ان کے شعراء نازنینوں کو تشبیہ شترمرغ کے انڈوں سے دیتے ہیں۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس تشبیہ میں عفت، صیانت اور رنگ تینوں چیزوں کا لحاظ رکھتے ہیں۔ اور ” مکنون “ نے اس میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ شترمرغ کے شکاری جانتے ہیں کہ تمام جانوروں میں شترمرغ اپنے انڈوں کی سب سے زیادہ حفاظت کرتا ہے۔ وہ حتی الامکان انھیں ریت میں چھپا کر رکھتا ہے۔ اس سے شرم و حیاء کی طرف اشارہ نکلتا ہے۔ اس کے انڈے سنہرے رنگ کے ہوتے ہیں۔ اس لیے شعراء خوبصورت عورتوں کے رنگ کو صفراء سے تعبیر کرتے ہیں۔ کیونکہ خوبصورت عورت کے لیے یہ رنگ سب سے پسندیدہ رنگ ہے۔ اس سے بتانا یہ مقصود ہے کہ جنتی عورتیں سنہرے رنگ کی نہایت نرم و نازک اور شرم و حیاء کی پیکر ہوں گی۔ ان کی بڑی بڑی آنکھیں ہوں گی جن میں قیامت کی بجلیاں مچلتی ہیں صرف اپنے شوہروں کے لیے دراز ہوں گی، ورنہ وہ جھکی رہیں گی۔
Ayahs 37:50–59

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا کہ میرا ایک ہمنشیں تھا

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

جو کہا کرتا تھا کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

کیا جب ہم مرجائیں گے مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو ہمیں جزاء و سزا دی جائے گی

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

پھر کہنے لگا کیا تم جھانک کر دیکھو گے

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

پھر وہ جھانکے گا اور اس کو جہنم کے بالکل بیچ میں دیکھے گا

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

کہے گا اللہ کی قسم تم تو مجھے تباہ ہی کردینے والے تھے

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

اگر میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو آج میں بھی پکڑے ہوئوں میں سے ہوتا

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

اور کیا اب ہم مرنے والے نہیں ہیں

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

مگر جو ہم پہلی بار مرچکے، اب ہمیں کوئی عذاب نہیں ہوگا

فَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ ۔ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْھُمْ اِنِّیْ کَانَ لِیْ قَرِیْنٌ۔ یَّـقُوْلُ اَئِنَّـکَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ ۔ ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًاوَّعِظَامًائَ اِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ ۔ قَالَ ھَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ ۔ فَاطَّلَعَ فَرَاٰہُ فِیْ سَوَآئِ الْجَحِیْمِ ۔ قَالَ تَاللّٰہِ اِنْ کِدْتَّ لَتُرْدِیْنِ ۔ وَلَوْ لاَ نِعْمَۃُ رَبِّیْ لَـکُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ ۔ اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَ ۔ اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰی وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ۔ (الصآفات : 50 تا 59) (پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے۔ ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا کہ میرا ایک ہمنشیں تھا۔ جو کہا کرتا تھا کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو۔ کیا جب ہم مرجائیں گے مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو ہمیں جزاء و سزا دی جائے گی۔ پھر کہنے لگا کیا تم جھانک کر دیکھو گے۔ پھر وہ جھانکے گا اور اس کو جہنم کے بالکل بیچ میں دیکھے گا۔ کہے گا اللہ کی قسم تم تو مجھے تباہ ہی کردینے والے تھے۔ اگر میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو آج میں بھی پکڑے ہوئوں میں سے ہوتا۔ اور کیا اب ہم مرنے والے نہیں ہیں۔ مگر جو ہم پہلی بار مرچکے، اب ہمیں کوئی عذاب نہیں ہوگا۔ ) اہلِ جنت کے مابین ایک مکالمہ اس مجلس طرازی میں بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچے گی کہ انھیں دنیا میں گزارے ہوئے وہ دن یاد آئیں گے جب حق و باطل کی کشمکش میں مختلف لوگوں سے انھیں سابقہ پیش آتا تھا۔ ان میں کہیں اذیتوں سے گزرنا پڑتا تھا اور کبھی بعض دوستوں کی طنز وتعریض سے واسطہ پڑتا تھا۔ چناچہ اسی حوالے سے باتیں کرتے ہوئے ان میں سے ایک صاحب بولے کہ میرا ایک دوست تھا جو آخرت پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ جب کبھی اس سے آخرت کے حوالے سے بات ہوتی تو وہ نہایت تعجب اور تعریض کے انداز میں مجھ سے کہتا کہ کیا تم بھی آخرت کی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو۔ ارے بھائی ! جب ہم مر کے مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس وقت ہمیں زندہ کیا جائے گا۔ اور پھر میدانِ حشر میں جواب دہی پر مجبور کیا جائے گا اور اس طرح ہمیں جزاء و سزا سے گزارا جائے گا۔ کیا ان میں سے کوئی بات بھی ایسی ہے جسے عقل تسلیم کرتی ہو۔ کہا میرا وہ دوست ہمیشہ مجھ پر ہنستا اور مذاق اڑاتا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلامی عقائد پر قائم رکھا۔ آج ہم یہاں پہنچ گئے۔ لیکن میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اس کا انجام کیا ہوا ؟ پھر اپنے ساتھیوں سے کہے گا کہ کیا تم بھی اس کا انجام دیکھنا چاہو گے۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ اہل جنت کی خواہشوں کو پورا کرنے کا وعدہ کیا ہے چناچہ اس کی اس خواہش کی تکمیل کے لیے اسے اجازت دی جائے گی کہ وہ جہنم میں جھانک کر دیکھے۔ چناچہ اپنی مسند سے ایک طرف سر جھکاتے ہوئے وہ دیکھے گا کہ عین جہنم کے بیچ میں اس کا دوست کھڑا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت کو کیسی کیسی صلاحیتوں سے نوازے گا کہ وہ اپنے تخت پر بیٹھے بیٹھے جس شخص کو چاہیں گے دیکھ لیں گے، چاہے ان کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ حائل ہو۔ چناچہ جیسے ہی اس پر نظر پڑے گی تو وہ اپنے دوست کو خطاب کرتے ہوئے اس پر برہمی کا اظہار کرے گا اور کہے گا کہ ظالم اگر میں تیری باتوں کے پیچھے چلتا تو تو مجھے لے ڈوبتا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا کرم ہوا کہ میں تمہارے فریب سے محفوظ رہا۔ ورنہ جس عذاب میں تم آج گرفتار ہو اسی عذاب میں میں بھی پکڑا گیا ہوتا۔ اس مجلس کے تمام ساتھی اس منظر کو دیکھ کر اپنی کامیابیوں اور کامرانیوں پر جھوم اٹھیں گے اور ان کی زبانوں سے بےساختہ ایسی باتیں نکلیں گی جس سے ان کی غیرمعمولی خوشی کا اظہار ہوگا۔ وہ خوشی سے اچھلتے ہوئے کہیں گے کہ ہمیں جو موت آنا تھی وہ آچکی اب ہم کبھی نہیں مریں گے، موت کا کھٹکا تو گیا۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ڈر رہتا تھا، جنت میں آنے کے بعد وہ ڈر بھی جاتا رہا۔ اب نہ کسی موت کا اندیشہ ہے، نہ کسی عذاب کا ڈر۔ یہ جنت ہماری خوشیوں کی منزل ہے۔ ہم نے یہ منزل جیت کر سب سے بڑی بازی جیت لی ہے۔
Ayahs 37:60–61

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

یقینا یہ بہت بڑی کامیابی ہے

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

ایسی ہی کامیابی کے لیے کوشش کرنے والوں کو کوشش کرنی چاہیے

اِنَّ ھٰذَا لَھُوَالْفَوْزُالْعَظِیْمُ ۔ لِمِثْلِ ھٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ ۔ (الصآفات : 60، 61) (یقینا یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ایسی ہی کامیابی کے لیے کوشش کرنے والوں کو کوشش کرنی چاہیے۔ ) جنت کا حصول سب سے بڑی کامیابی ہے ہم جس منزل پر پہنچ گئے ہیں یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اس سے بڑی کسی اور کامیابی کا تصور انسان کے لیے ممکن نہیں۔ دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ ، وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ” پس جونارِ جہنم سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا پس وہ ٹھہرا کامیاب۔ “ دنیا میں رات دن کھوئے رہنا کوئی بڑی کامیابی نہیں، اصل کامیابی جنت کا حصول ہے، کسی کو اگر بڑی سے بڑی خوشی اور کامیابی کے لیے کوشش کرنا ہو تو اسے چاہیے کہ جنت کی طلب میں ہر ممکن کوشش کرے۔ کیونکہ نہ اس سے بہتر کوئی منزل ہے اور نہ اس سے زیادہ پاکیزہ کوئی کوشش ہے۔
Ayah 37:62

اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ Open ayah 37:62 in the Quran reader

کیا مہمانی کے طور پر وہ بہتر ہے یا زقوم کا درخت

اَذٰلِکَ خَیْرٌنُّزُلاً اَمْ شَجَرَۃُ الزَّقُّوْمِ ۔ (الصآفات : 62) (کیا مہمانی کے طور پر وہ بہتر ہے یا زقوم کا درخت۔ ) اہلِ جنت کو جنت میں جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے جن ضیافتوں اور نعمتوں سے نوازا جائے گا اس کا ذکر کرنے کے بعد مخالفین سے پوچھا جارہا ہے کہ آخرت تو بہرحال آنی ہے تمہیں ازسرنو زندہ ہو کر اٹھنا ہے اور زندگی بھر کے اعمال کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کرنی ہے۔ اس جواب دہی کے نتیجہ میں دو میں سے ایک نتیجے کا سامنا لازمی ہے۔ کامیابی کی صورت میں جنت کی نعمتیں میسر آئیں گی اور ناکامی کی صورت میں جہنم میں داخل کردیا جائے گا۔ اور جہنم میں جس مہمانی سے اہل جہنم کو واسطہ پڑے گا وہ زقوم کی مہمانی ہوگی۔ ” نُزُل “ ا صل میں اولین مہمانی کو کہتے ہیں۔ مہمان جیسے ہی اپنی سواری سے اترتا ہے اور مہمان خانے میں اسے بٹھایا جاتا ہے تو کھانا پیش کرنے سے پہلے اس کی جو ہلکی پھلکی تواضع کی جاتی ہے اسے ” نُزُل “ کہتے ہیں۔ اہل جہنم کو سب سے پہلی جس ضیافت سے سابقہ پڑے گا وہ یہ ہوگی کہ اسے زقوم کھانے کو ملے گا۔ زقوم کی وضاحت زقوم دراصل ایک درخت کا نام ہے جو جزیرہ عرب کے علاقہ تہامہ میں پایا جاتا ہے۔ علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ یہ تمام بنجر صحرائوں میں ہوتا ہے۔ بعض حضرات کا خیال ہے یہ وہی درخت ہے جسے اردو میں تھوہر کہتے ہیں۔ اسی سے ملتا جلتا ہندوستان میں ایک درخت ہے جو ناگ پھن کے نام سے معروف ہے۔ بعض لوگوں نے اسے زقوم قرار دیا ہے۔ اس درخت کا مزہ نہایت کڑوا اور بو نہایت ناگوار ہوتی ہے۔ اور توڑنے پر اس سے دودھ کا رس نکلتا ہے جو اگر جسم کو لگ جائے تو ورم ہوجاتا ہے۔ ناگ پھن اس بھی زیادہ مکروہ درخت ہے اور وہ اپنی شکل و صورت میں بھی زیادہ خوفناک معلوم ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تھوہر یا ناگ پھن نام کے اعتبار سے ہوسکتا ہے زقوم کے قریب ہو۔ لیکن جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے زقوم بالکل اس سے الگ چیز ہے۔ یہ دونوں درخت اپنی بدنمائی اور کراہت کے باوجود زمین ہی میں پیدا ہوتے ہیں لیکن زقوم جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔ اور دوسرے درختوں کی طرح اس کی تربیت پانی، ہوا اور دھوپ میں نہیں ہوتی بلکہ آگ میں ہوتی ہے۔ اور یہ آگ کے بعض دیگر جانوروں کی طرح آگ ہی میں پھلتا پھولتا ہے۔ سوال کا حاصل یہ ہے کہ ایک طرف تو جنت کی وہ ضیافتیں ہیں جو اہل جنت کو دی جائیں گی اور وہ نعمتیں ہیں جن کی نظیر کہیں نہیں۔ اور دوسری طرف جہنم میں ہونے والی تواضع ہے جس کی ابتداء ہی زقوم سے ہوگی۔ جو آدمی اختلالِ دماغ کا شکار نہیں وہ بقائمی ہوش و حواس کبھی دوسری قسم کی ضیافت کو قبول نہیں کرسکتا۔
Ayahs 37:63–65

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ Open ayah 37:63 in the Quran reader

ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لیے فتنہ بنادیا ہے

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 37:64 in the Quran reader

بیشک وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہ سے نکلتا ہے

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ Open ayah 37:65 in the Quran reader

اس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر

اِنَّا جَعَلْنٰـھَا فِتْنَۃً لِّلظّٰلِمِیْنَ ۔ اِنَّھَا شَجَرَۃٌ تَخْرُجُ فِیْٓ اَصْلِ الْجَحِیْمِ ۔ طَلْعُھَا کَاَنَّـہٗ رُئُ وْسُ الشَّیٰطِیْنِ ۔ (الصآفات : 63 تا 65) (ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لیے فتنہ بنادیا ہے۔ بیشک وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہ سے نکلتا ہے۔ اس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔ ) زقوم کافروں کے لیے فتنہ جہنم میں اہل جہنم کے ساتھ جو سلوک ہوگا اس کا تذکرہ تو اس لیے کیا گیا تاکہ لوگ اس سے خوفزدہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف آئیں۔ لیکن ہم نے ظالموں کے لیے اسے فتنہ بنادیا۔ بجائے اس سے ڈر کر ہدایت قبول کرنے کے انھوں نے اس کا خوب خوب مذاق اڑایا۔ روایات میں ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تمہارا دوست یعنی محمد ﷺ کہتا ہے کہ آگ میں ایک درخت ہے، حالانکہ آگ اور درخت میں تو باہمی تضاد پایا جاتا ہے۔ درخت لکڑی سے بنتا ہے اور آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ اور جہاں بھی آگ ہوگی وہاں کسی کونپل کے پھوٹنے کا بھی امکان نہیں ہوگا۔ اور اس نے مذاق اڑاتے ہوئے یہ تک کہا کہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ یہ تو بہت اچھا ہے کہ جہنم میں مکھن اور کھجور کھانے کو ملے گی۔ قرآن کریم نے اگلی آیت میں ان دونوں باتوں کا جواب دیا کہ زقوم تو جہنم کی تہ میں اگنے والا ایک درخت ہے۔ اس لیے نہ تو اس سے مراد کھجور اور مکھن ہے اور نہ یہ اعتراض معقول ہے کہ آگ میں درخت کیسے ہوسکتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی مخلوق کے لیے ماحول کو سازگار بنانا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا حصہ ہے۔ وہ اگر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ درخت زمین میں اگیں اور پانی سے ان کی سیرابی ہو تو وہ درخت یقینا زمین میں اگیں گے۔ لیکن اگر وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ زقوم نام کا ایک درخت جہنم کی تہ سے نکلے تو اس کی قدرت کو کون چیلنج کرسکتا ہے۔ اس نے یقینا اس درخت کی فطرت اور جبلت اس طرح کی بنائی ہے کہ وہ آگ میں پیدا ہوتا ہے اور آگ ہی اسے سیراب کرتی اور پروان چڑھاتی ہے۔ اور یہی اس کے لیے مناسب ماحول ہے تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے۔ ایک بلیغ تشبیہ پھر اس درخت کو مزید ہولناک اور وحشت ناک دکھانے کے لیے یہ فرمایا گیا کہ اس سے نکلنے والے شگوفے اور خوشے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔ ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ نہ کسی نے شیطان کو دیکھا اور نہ اس کے سر کو۔ تو پھر زقوم کو اس سے تشبیہ دینے کا کیا فائدہ۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہر زبان میں ایسی چیزوں سے تشبیہ دینے کا رواج رہا ہے جن کا تعلق سراسر خیال سے ہو حقیقت سے نہیں۔ لیکن تشبیہ اس لیے دی جاتی ہے کہ عوام کے ذہنوں میں بعض دفعہ تخییلی چیزوں کا تصور حقیقت سے گہرا ہوتا ہے۔ اور وہ حقیقی چیزوں سے زیادہ ذہنوں پر اثر ڈالتی ہیں۔ مثلاً ایک عورت کی انتہائی خوبصورتی کا تصور دلانے کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ تو پری کی طرح ہے اور انتہائی بدصورتی کو بیان کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ وہ تو چڑیل ہے۔ آپ بھی کسی پراگندہ حال اور پراگندہ بال شخص کو دیکھتے ہیں تو بےساختہ کہتے ہیں کہ تم نے کیا بھوت جیسی شکل بنا رکھی ہے۔ حالانکہ نہ کسی نے چڑیل کو دیکھا، نہ پری کو اور نہ بھوت کو۔ لیکن ذہنوں پر اس کے اثرات ہمیشہ محسوس کیے گئے ہیں۔ یہاں بھی یہی حال ہے۔ زقوم کے پتوں اور کانٹوں کو شیطان کے سروں سے تشبیہ دے کر اس کی بدنمائی اور ہولناکی میں آخر حد تک اضافہ کردیا ہے۔
Ayah 37:66

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ Open ayah 37:66 in the Quran reader

پس وہ اسی سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

فَاِنَّھُمْ لَاٰکِلُوْنَ مِنْھَا فَمَالِئُوْنَ مِنْھَا الْـبُطُوْنَ ۔ (الصآفات : 66) (پس وہ اسی سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔ ) تکلیف دہ غذا یعنی آگ کی تپش اور عذاب کی شدت سے جبکہ وہ بھوک اور پیاس سے کلبلائیں گے تو اسی درخت کے پھل اور شاید اس کے پتوں کو انھیں کھانے پر مجبور کیا جائے گا۔ چونکہ اور کچھ کھانے کو نہیں ہوگا اس لیے وہ اسی سے اپنا پیٹ بھریں گے۔
Ayah 37:67

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ Open ayah 37:67 in the Quran reader

پھر ان کے لیے اس کے اوپر گرم پانی کی ملونی ہے

ثُمَّ اِنَّ لَھُمْ عَلَیْھَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍ ۔ (الصآفات : 67) (پھر ان کے لیے اس کے اوپر گرم پانی کی ملونی ہے۔ ) جلا ڈالنے والا مشروب پھر اس زقوم کو نگلنے اور پیٹ میں اتارنے کے لیے اوپر سے جو پانی پینے کو ملے گا وہ کھولتا ہوا پانی ہوگا۔ لیکن ان کے لیے مجبوری یہ ہوگی کہ حلق میں پھنسے ہوئے زقوم کے نوالے نیچے اترنے کا نام نہیں لیں گے۔ مجبوراً اسی گرم پانی سے جو آنتڑیوں کو جلا دے گا کام لینے پر مجبور ہوں گے۔
Ayah 37:68

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ Open ayah 37:68 in the Quran reader

پھر ان کا لوٹنا دوزخ کی طرف ہوگا

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَھُمْ لَاْ اِلَی الْجَحِیْمِ ۔ (الصآفات : 68) (پھر ان کا لوٹنا دوزخ کی طرف ہوگا۔ ) اصل ٹھکانہ جہنم اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب اہل دوزخ بھوک اور پیاس سے بیتابی کا اظہار کریں گے تو انھیں اس مقام کی طرف ہانک دیا جائے گا جہاں زقوم کے درخت اور کھولتے ہوئے پانی کے چشمے ہوں گے۔ زقوم سے جیسے کیسے وہ اپنا پیٹ بھریں گے اور پانی کے ابلتے ہوئے چشموں سے پیاس بجھائیں گے۔ پھر وہاں سے انھیں واپس جہنم کی اسی جگہ پر بھیج دیا جائے گا جہاں سے انھیں کھانے پینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اہل جہنم کو اولین ضیافت کے طور پر تو زقوم اور کھولتا ہوا پانی ملے گا، پھر وہاں سے ان کے اصل ٹھکانے یعنی جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔
Ayah 37:69

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ Open ayah 37:69 in the Quran reader

انھوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا

اِنَّہُمْ اَلْفَوْا اٰ بَآئَ ھُمْ ضَآلِّیْنَ ۔ فَھُمْ عَلٰٓی اٰ ثٰرِھِمْ یُھْرَعُوْنَ ۔ (الصآفات : 69، 70) (انھوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا۔ پھر یہ بھی ان کے نقش قدم پر بھاگتے رہے۔ ) اللہ تعالیٰ نے انسان کے امتحان کے لیے عقل اور بصیرت عطا کی ہے۔ البتہ مزید فضل و کرم کے طور پر وحی الٰہی کا سلسلہ شروع کیا اور اپنے رسول بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں۔ لیکن انسان کی کمزوری ہمیشہ یہی رہی ہے کہ وہ عقل و خرد اور بصیرت سے بہت کم کام لیتا ہے۔ اس لیے جب بھی اس کے سامنے حق آیا ہے تو بجائے اس کے کہ عقل و بصیرت کی کسوٹی پر حق و باطل کو پرکھے اور حق کو حق جان کر اس کا اتباع کرے۔ اس نے اس کی بجائے ہمیشہ آبائواجداد کے طریقے کی پیروی کی۔ اور جب بھی رسول نے انھیں حق کی طرف دعوت دی اور ان کے غلط رویوں پر تنقید کی انھوں نے رسول کو خبطی شاعر قرار دے کر اپنے آبائواجداد کی تقلید کو اپنا مذہب بنایا۔ اور اسی نے ان کو گمراہی کی دلدل میں دھکیل دیا۔
Ayahs 37:70–74

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

پھر یہ بھی ان کے نقش قدم پر بھاگتے رہے

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

حالانکہ اس سے پہلے بھی اگلوں میں بہت سے لوگ گمراہ ہوئے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

ان میں ہم نے اپنے انذار کرنے والے بھیجے

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

پس دیکھ لو ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جن کو انذار کیا گیا تھا

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

اس بدانجامی سے صرف وہی لوگ بچے جنھیں اللہ نے اپنے لیے مخصوص کرلیا تھا

وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَھُمْ اَکْثَرُالْاَوَّلِیْنَ ۔ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْہِمْ مُّنْذِرِیْنَ ۔ فَانْظُرْکَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُنْذَرِیْنَ ۔ اِلاَّ عِبَادَاللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (الصآفات : 71 تا 74) (حالانکہ اس سے پہلے بھی اگلوں میں بہت سے لوگ گمراہ ہوئے۔ ان میں ہم نے اپنے انذار کرنے والے بھیجے۔ پس دیکھ لو ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جن کو انذار کیا گیا تھا۔ (اس بدانجامی سے) صرف وہی لوگ بچے جنھیں اللہ نے اپنے لیے مخصوص کرلیا تھا۔ ) گمراہی کا اصل سبب آباء پرستی ہے آبائواجداد کی تقلید سے تباہ ہونے والے صرف قریش ہی نہیں بلکہ تاریخ میں بار بار اس حادثہ کا ظہور ہوچکا ہے۔ ان سے پہلے گزرنے والی اکثر قومیں اسی گمراہی میں مبتلا ہو کر تباہ و برباد ہوئیں۔ اب یہاں سے تاریخ کی طرف کلام کا رخ مڑ رہا ہے۔ اسی لیے اس کے بعد تاریخ سے ان قوموں کا ذکر کیا گیا ہے جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے انذار کے لیے اپنے رسول بھیجے جو ان کی غلط روش یا انجام سے ان کو آگاہ کرتے رہے ہیں۔ لیکن انھوں نے اپنے باپ دادا کی تقلید میں ان انذار کرنے والوں کی پرواہ نہ کی اور ان کی بات کو ٹھکرا دیا۔ بالآخر ان کا انجام جو ہوا وہ تاریخ نے محفوظ رکھا ہے۔ اس برے انجام سے صرف وہی لوگ محفوظ رہے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے لیے خاص کرلیا تھا۔
Ayahs 37:75–76

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو کیا ہی خوب ہیں ہم جواب دینے والے

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو بہت بڑی کلفت سے نجات دی

وَلَقَدْ نَادٰنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ ۔ وَنَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَـہٗ مِنَ الْـکَرْبِ الْعَظِیْمِ ۔ (الصآفات : 75، 76) (ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو کیا ہی خوب ہیں ہم جواب دینے والے۔ اور ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو بہت بڑی کلفت سے نجات دی۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کی مایوسی کے بعد دعا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت ہم اس سے پہلے سورة الشعراء آیات 17۔ 18 میں پڑھ چکے ہیں اور آگے سورة نوح میں مزید تفصیل سے پڑھیں گے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو صدیوں تک اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور خون جگر پی پی کر ان کی ہدایت کی کوشش کی۔ اس راہ کا کوئی دکھ ایسا نہیں جو آپ نے برداشت نہ کیا ہو۔ اور تبلیغ و دعوت اور افہام و تفہیم کا کوئی اسلوب نہیں جس سے آپ نے ان کی ہدایت کے لیے کام نہ لیا ہو۔ لیکن جب قوم نے دعوت قبول کرنے سے یکسر انکار کردیا حتیٰ کہ آپ کلیۃً ان کی ہدایت سے مایوس ہوگئے، تب آپ نے اللہ تعالیٰ کو پکارا اور قوم کے خلاف استغاثہ دائر کیا۔ اور نہایت عاجزی سے اپنی حالت بیان کرتے ہوئے کہا فَدَعَا رَبَّـہٗ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَاَنْتَصِرْ ” حضرت نوح نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوگیا ہوں، اب تو میری مدد کر۔ “ اور ان سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا : وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لاَ تَذَرْعَلٰی الْاَرْضِ مِنَ الْـکَافِرِیْنَ دَیَّارًا۔ اِنَّـکَ اِنْ َتذَرْہُمْ یُضِّلُّوْا عِبَاَدکَ وَلاَ یَلِدُوْا اِلاَّفَاجِرًا کَفَّارًا۔ ” اور نوح نے اپنے رب کو پکارا، اے میرے رب ! تو زمین پر کافروں میں سے کسی کو چلتا پھرتا نہ چھوڑ، اگر تو ان کو چھوڑے رکھے گا تو وہ صرف نا بکاروں اور ناشکروں کو جنم دیں گے۔ “ یاد رہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لیے اس وقت عذاب طلب کیا اور مایوسی کا اظہار کیا جب آپ اپنی طاقت کا آخری قطرہ بھی نچوڑ چکے تھے۔ اور تبلیغ و دعوت کے تمام ممکن ذرائع سے کام لے چکے تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول فرمایا۔ اور ان پر طوفان بھیج کر سب کو غرق کردیا اور صرف حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کے اہل کو نجات دی۔ اہل چونکہ ذُرِّیت اور مخلص مومنین دونوں پر بولا جاتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی اولاد میں سے صرف ان لوگوں کو نجات بخشی جو صاحب ایمان تھے۔ اور آپ کی اولاد کے علاوہ جو دوسرے لوگ ایمان لائے تھے انھیں بھی کشتی پر سوار ہونے کا موقع دیا اور اس طرح سے ان کی نجات کا سامان کیا۔ آپ کو اور آپ پر ایمان لانے والوں کو اگرچہ اس طوفان سے نجات بخشی جو اس وقت کی معلوم دنیا کی تباہی کا باعث بنا اور یہ یقینا اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام تھا۔ لیکن پروردگار نے اس کا ذکر کرنے کی بجائے اس صورتحال کا ذکر فرمایا جس میں تبلیغ و دعوت کے نتیجے میں آپ مبتلا تھے۔ وہ کرب عظیم تھا جس کا مقابلہ آپ صدیوں سے کررہے تھے یعنی وہ ظالم قوم جس کی طرف آپ مبعوث ہوئے تھے انھوں نے آپ کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے مخالفت اور اذیت رسانی کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا تھا۔ دکھ اور تکلیف کی کوئی ایسی شکل نہ تھی جو آپ پر اور آپ پر ایمان لانے والوں پر آزمائی نہیں گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تباہی کا سامان کرکے اس کرب عظیم سے آپ کو اور آپ کے اہل کو نجات بخشی۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی اس میں ایک طرح سے نبی کریم ﷺ کو تسلی بھی ہے کہ آپ کے ساتھ جو کچھ آپ کی قوم کررہی ہے یہی کچھ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کیا تھا۔ پھر دیکھ لیجیے پروردگار نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو کامیاب و کامران کیا اور وہ قوم طوفان کا شکار ہوگئی۔ اور اس طرح سے انھیں مٹایا گیا کہ کسی نے ان کی لاشوں تک کو نہیں دیکھا۔ اگر قریش اور دیگر مخالفین نے اپنی روش نہ بدلی اور قوم نوح کی طرح آپ کی مخالفت میں ہر ممکن طریقہ اختیار کر ڈالا تو وہ دن دور نہیں جب یہ لوگ بھی اسی صورتحال سے دوچار ہوں گے۔
Ayah 37:77

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور ہم نے اس کی نسل کو باقی رہنے والا بنایا

وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّتَہٗ ھُمُ الْبٰـقِیْنَ ۔ (الصآفات : 77) (اور ہم نے اس کی نسل کو باقی رہنے والا بنایا۔ ) قرآن کریم نے سورة بنی اسرائیل میں بنی اسرائیل اور بعد کی دنیا کی آبادی کو ان لوگوں کی اولاد قرار دیا ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے تھے۔ اور کشتی میں صرف آپ کی اولاد نہیں بلکہ وہ لوگ بھی سوار تھے جو آپ پر ایمان لائے تھے۔ اس صورت میں پیش نظر آیت کریمہ میں ذُرِّیت سے مراد جسمانی اور ایمانی دونوں طرح کی ذُرِّیت مراد ہے۔ اور اگر اس سے مراد صرف نسبی ذُرِّیت ہی ہو تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ کی اولاد سے باہر کوئی اور شخص ایمان نہیں لایا جبکہ قرآن کریم نے جابجا ایسے اشارے کیے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ بھی آپ پر ایمان لائے۔ دونوں صورتوں میں یہ بات تو طے ہے کہ آپ کے ساتھ آپ کی اولاد ہو یا دوسرے لوگ وہ بہرحال صاحب ایمان لوگ تھے۔ وہ بہرحال باقی رہے اور جن لوگوں نے آپ پر ایمان لانے سے انکار کیا وہ تباہ و برباد ہوگئے۔ اس سے یہ بات خودبخود سامنے آتی ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں وقتی طور پر حالات کیسی بھی صورتحال اختیار کرلیں لیکن انجام اور مآل کے اعتبار سے بقاء صرف اہل حق کا مقدر ہے۔ بعض دفعہ حق دیکھنے کو مغلوب ہوجاتا ہے لیکن وہ حقیقت میں مغلوب نہیں ہوتا۔ ایک وقت آتا ہے جب حق کی روشنی سورج کی روشنی کی طرح غالب آجاتی ہے۔ جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں اِدھر ڈوبے ادھر نکلے، ادھر ڈوبے ادھر نکلے
Ayah 37:78

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

ہم نے اس کے طریقے پر پچھلوں کو چھوڑا

وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ ۔ (الصآفات : 78) (ہم نے اس کے طریقے پر پچھلوں کو چھوڑا۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کے ذکرخیر اور آپ کے پیغام کو بعد والوں میں باقی رکھا گزشتہ آیت کی وضاحت میں ہم نے جو کچھ عرض کیا ہے اس آیت نے اس پر مہرتصدیق ثبت کردی۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ و دعوت کے نتیجے میں بہت کم لوگ ایمان لائے۔ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی دعوت قبولیت سے محروم رہی۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بعد کے آنے والی دنیا میں چرچا آپ کے نام اور آپ کے دین کا رہا۔ مخالفین مٹ گئے اور ان کی مخالفت کی بنیادیں بھی ہل گئیں۔ لیکن حضرت نوح (علیہ السلام) کا نام اور آپ کی دعوت آج تک زندہ ہے۔ بعد میں کتنے عظیم رسول اور پیغمبر آئے جن کے لیے آپ کی اولوالعزمی، راہ حق میں آپ کی استقامت، اللہ تعالیٰ سے آپ کا بےپناہ لگائو اور تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں آپ کا غیرمعمولی شغف ان کے لیے مشعل راہ بنتا رہا اور لوگوں میں آپ کی نیک نامی تاریخ کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی۔ ہرگز نمیرد آنگہ دلش زندہ شد بعشق ثبت است برجریدہ عالم دوام ما