Ayahs 37:156–157اَمْ لَـکُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌ۔ فَاْتُوْا بِکِتٰبِکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (الصآفات : 156، 157)
(کیا تمہارے پاس (ان باتوں کے لیے) کوئی واضح دلیل موجود ہے۔ تو لائو اپنی وہ کتاب اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ )
اپنے موقف پر کوئی واضح دلیل کتاب سے پیش کرو
یعنی بظاہر تمہارے پاس نہ کوئی عقلی دلیل موجود ہے اور نہ کوئی نقلی اور نہ کوئی عرفی۔ اس کے باوجود بھی تمہیں دعویٰ ہے اپنی بات کے صحیح ہونے کا، تو محض خالی دعویٰ تو کوئی معنی نہیں رکھتا، اس کے لیے تم اپنے پاس کوئی مضبوط دلیل رکھتے ہو تو اسے پیش کرو۔ لیکن وہ مضبوط دلیل کسی آسمانی کتاب کی شہادت کی صورت میں ہونی چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کوئی من گھڑت بات تو قبول نہیں کی جاسکتی۔ اور مزید یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جن مخلوقات کو پیدا کیا ہے اور جیسا پیدا کیا ہے اور ان کی جو بھی حیثیت ہے اسے اس کے سوا تو کوئی نہیں جانتا۔ اور اس کا ذریعہ انسانوں کے پاس اس کی نازل کردہ کتابیں ہیں جو اس نے اپنے رسولوں پر نازل کی ہیں اور اسی کو وحی الٰہی کہتے ہیں۔ اگر ایسی کوئی دلیل موجود ہے یعنی کسی آسمانی کتاب میں فرشتوں کے بارے میں کوئی بات کہی گئی ہے جسے تم نے عقیدہ بنا رکھا ہے تو اسے پیش کرو۔ اور اگر ایسا نہیں تو محض من گھڑت باتوں کو تو قبول نہیں کیا جاسکتا۔
Ayahs 37:158–160وَجَعَلُوْا بَیْنَـہٗ وَبَیْنَ الْجِنَّۃِ نَسَبًا ط وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ اِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ ۔ سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ اِلاَّعِبَادَاللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (الصآفات : 158 تا 160)
(اور انھوں نے اللہ اور جنوں کے درمیان ایک رشتہ جوڑ رکھا ہے اور جنوں کو خوب معلوم ہے کہ وہ گرفتار کیے جائیں گے۔ اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔ مگر اللہ کے وہ بندے جو چن لیے گئے ہیں۔ )
جنوں کا بھی اللہ تعالیٰ سے رشتہ جوڑ رکھا ہے
مشرکین کی داستانِ شرک بہت دراز ہے۔ انھوں نے صرف اس پر اکتفا نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد مانی اور فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیا، بلکہ اس سے بڑا ستم یہ کیا ہے کہ جنوں اور خدا کے درمیان بھی انھوں نے رشتہ جوڑ رکھا ہے۔ بعض مفسرین نے اس رشتے کو نسبی رشتہ قرار دیا ہے۔ وہ ابن کثیر، قرطبی اور تفسیرِکبیر کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ( رض) ، حسن بصری ( رض) اور ضحاک ( رض) سے منقول ہے کہ بعض اہل عرب کا عقیدہ یہ تھا کہ معاذاللہ ابلیس اللہ تعالیٰ کا بھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ خالقِ خیر ہے اور وہ خالق شر۔ یہاں اس باطل عقیدے کی تردید کی گئی ہے۔ لیکن بعض اہل علم نے جن میں علامہ زمحشری بھی شامل ہیں یہ کہا ہے کہ ” الجنہ “ سے مراد پیش نظر آیت کریمہ میں ملائکہ ہیں۔ کیونکہ الجنہ کا لفظ اپنے لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ” جن “ لغوی طور پر پوشیدہ مخلوق کو کہتے ہیں اور ملائکہ بھی اصلاً ایک پوشیدہ مخلوق ہی ہیں۔ لیکن راجح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہاں الجنہ سے مراد جن ہی ہیں۔ کیونکہ قرآن کریم میں ملائکہ اور جنات کا ذکر دو بالکل مختلف الجنس اور مختلف الصفات مخلوقات کی حیثیت سے ہوا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ جنات اپنی خلقت کے اعتبار سے انسان کے بالمقابل ملائکہ سے قریب تر ہیں۔ کیونکہ جنات کی خلقت نار سے ہوئی ہے اور فرشتوں کی نور سے اور انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان دونوں کو ایک قرار دے دیا جائے۔ اور جہاں تک اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان مشرکین کا رشتہ اور ناطہ قائم کرنے کا تعلق ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو تو مشرکین نے خدا کی ذات میں شریک بنایا تھا لیکن جنات کو خدا کے حقوق اور اس کی صفات میں شریک کر رکھا ہے۔ عبادت خاص اللہ تعالیٰ کا حق ہے لیکن یہ بدقسمت لوگ جنوں کو نافع و ضار اور علم غیب کے حصول کا ذریعہ مانتے ہیں اور اس وہم کی بنیاد پر ان کی عبادت کرتے اور ان کے لیے قربانیاں اور چڑھاوے پیش کرتے ہیں۔
مشرکین کی حماقت اور نادانی کو نمایاں کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ تو جنات کو اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک کرکے ان کی بندگی کرتے ہیں اور انھیں معبود کا درجہ دے رکھا ہے حالانکہ جنات کو خوب معلوم ہے کہ وہ بھی انسانوں کی طرح ایک دن پکڑے جائیں گے، اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لیے حاضر کیے جائیں گے اور جو ان میں مجرم ہوں گے وہ اپنے جرم کی پاداش میں مبتلائے عذاب ہوں گے۔ حیرانی کی بات ہے کہ جس مخلوق کو حشر کے روز اس صورتحال سے سابقہ پڑنے والا ہے مشرکین کی بیوقوفی کا کیا کہئے وہ انھیں اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھتے اور اپنے معبودوں میں شامل کرتے ہیں۔
قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے اور جابجا اس کی مثالیں پھیلی ہوئی ہیں کہ جب سلسلہ ٔ بیان کے اندر کوئی ایسی گھنائونی بات آجاتی ہے جس کی فوری تردید کی ضرورت ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ سلسلہ ٔ بیان روک کر فوری طور پر اس کی تردید فرماتے ہیں پھر سلسلہ کلام کو آگے بڑھنے کا موقع دیتے ہیں۔ یہاں بھی بات یہ ہورہی تھی کہ مشرکین نے جنات کا رشتہ خدا سے جوڑ دیا ہے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک کردیا ہے۔ تو سلسلہ کلام کو روک کر فوراً فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک ہے، جو کچھ مشرکین اس کے لیے بیان کرتے ہیں۔ اور وہ ان تمام نسبتوں سے مبرا ہے جو مشرکین نے اس کی طرف منسوب کر رکھی ہیں۔ نہ کوئی اس کی ذات میں شریک ہے اور نہ کوئی اس کی صفات میں، وہ بالکل وحدہ لاشریک ہے۔ چناچہ شرک کی اس آلودگی کی تردید کرنے کے بعد پھر سلسلہ کلام کو جوڑتے ہوئے فرمایا کہ تمام جنات میدانِ حشر میں مجرموں کی طرح گرفتار کرکے حاضر کیے جائیں گے۔ اور ان کے اعمال کے مطابق ان سے سلوک ہوگا۔ البتہ اس سے صرف وہ لوگ مستثنیٰ ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ اپنی بندگی اور اطاعت کی توفیق عطا فرمائیں گے اور وہ شیطان کے فتنوں سے محفوظ رہیں گے۔
Ayahs 37:161–163فَاِنَّـکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ ۔ مَـآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ بِفٰتِنِیْنَ ۔ اِلاَّ مَنْ ھُوَصَالِ الْجَحِیْمِ ۔ (الصآفات : 161 تا 163)
(پس بیشک تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ اللہ سے برگشتہ نہیں کرسکتے۔ مگر انھیں کو جو جہنم میں پڑنے والے ہیں۔ )
جنات کی پرستش کرنے والوں کو تنبیہ
اس آیت کریمہ میں جنات کی پرستش کرنے والوں اور ان کو معبود ماننے والوں کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم جنات کی مدد سے انسانوں کو گمراہ کرنے کا جو کاروبار کرتے ہو اور تم اس میں بہت کچھ کامیابی کی امید رکھتے ہو، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم جنات کی مدد سے اور ان کو ساتھ لے کر کیسے بھی فتنے اٹھائو اور گمراہی کے لیے کیسے کیسے پاپڑ بیلو، تم اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر تمہارا کوئی دائو کارگر نہیں ہوسکتا۔ البتہ تمہیں صرف ان لوگوں کو برگشتہ کرنے میں کامیابی ہوسکتی ہے جو اپنی بداعمالیوں کے باعث خود ہی جہنم میں پڑنے والے ہیں۔ یہ بات بالکل ویسی ہے جیسے ابلیس نے پروردگار سے عرض کی تھی کہ میں اولادِآدم کو گمراہ کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑوں گا۔ آپ ان میں سے بہت کم لوگوں کو شکرگزار پائیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ تیرا زور صرف انھیں لوگوں پر چلے گا جو تیری پیروی کرنے والے بنیں گے۔ میرے مخلص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا۔ یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگے گا اور حُسنِ نیت سے صراط مستقیم پر چلنے کی کوشش کرے گا تو راستے کی مشکلات اس کے لیے گمراہی کا سبب نہیں بنیں گی۔ بلکہ وہ انھیں مشکلات سے کندن بن کے نکلے گا اور شیطان کے سارے حربے ناکام ہوجائیں گے۔ بالکل یہی بات جنات اور ان کے پیروکاروں سے فرمائی گئی ہے۔
Ayahs 37:164–166وَمَا مِنَّـآ اِلاَّ لَـہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ۔ وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَ ۔ وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ ۔ (الصآفات : 164 تا 166)
(اور ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک معین مقام ہے۔ اور ہم اللہ کے حضور صف بستہ رہنے والے خدمتگار ہیں۔ اور ہم اس کی تسبیح کرتے رہنے والے ہیں۔ )
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے فرشتوں کے مقام کی وضاحت
اوپر کی آیات میں فرشتوں کی حیثیت کو واضح کیا گیا اور ان سے متعلق مشرکین کے عقائد کی تردید کی گئی۔ لیکن اب ان کے مقام و مرتبہ کی مزید وضاحت کے لیے فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا اپنا اعتراف ذکر فرمایا گیا ہے تاکہ مشرکین پر ان کی غلطی کو مزید واضح کردیا جائے۔ ان آیات سے اللہ تعالیٰ کے ارشادات کی تائید مقصود نہیں، اس لیے کہ وہ کسی تائید کا محتاج نہیں۔ پیش نظر صرف یہ ہے کہ مشرکین جو فرشتوں کے شریک خدا ہونے کے وہم میں مبتلا تھے ان کے وہم پر ضرب لگانے کے لیے حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) کی شہادت کو شامل کیا جائے۔ کیونکہ ان کی شہادت کے بعد اس عقیدے کے بطلان میں کوئی شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اپنے اور دیگر فرشتوں کے مقام و مرتبہ کے بارے میں واضح فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کا دائرہ کار معین اور اس کی رسائی محدود ہے۔ ایک معلوم مقام ہے جس سے ہم آگے پیچھے نہیں ہوسکتے۔ ان کی حدودکار واضح ہیں، ان کے فرائض کی نوعیت غیرمشتبہ ہے، بعض مقامات پر ان کی پرواز کی آخری حد مقرر کردی گئی ہے وہ اس سے آگے نہیں جاسکتے۔ آنحضرت ﷺ نے سدرۃ المنتہیٰ سے آگے جاتے ہوئے جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ساتھ جانے کے لیے کہا، تو انھوں نے صاف عرض کیا کہ میری رسائی کی آخری حد یہی ہے۔
اگر یک سرِ موئے برتر پرم
فروغِ تجلی بسوزد پرم
تو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کسی کام کا ارادہ تک نہیں کرسکتے۔ کسی کام کو بطورخود کرنا ان کی جبلت کے خلاف ہے۔ مزید فرمایا کہ ہم تو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے حضور میں صف بستہ رہنے والے ہیں اور اس کی تسبیح کرتے رہنے والے ہیں ان سے مراد نماز ہے۔ یعنی ہم صفیں باندھے اللہ تعالیٰ کے حضور اس کی نماز میں مشغول رہتے ہیں اور تسبیح سے اس طرف اشارہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو ان تمام باتوں سے ارفع و منزہ قرار دیتے ہیں جو اس کی شان کے منافی ہیں۔ یعنی ایک طرف سے یہ بات واضح فرمائی کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے اور ہمہ وقتی چاکر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی کے سوا کسی اور کام میں مصروف ہونا ہمارے بس کی بات نہیں۔ دوسری طرف یہ کہا کہ ہم چونکہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں تو اس کے شریک بننے کا تصور ہمارے قریب بھی کبھی پھٹکنے میں نہیں آتا۔ نہ جانے انسانوں نے ہمیں معبودوں میں کیسے شامل کرلیا اور ہم سے ایسی باتیں کیونکہ منسوب کردی گئیں۔
Ayahs 37:167–170وَاِنْ کَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَ ۔ لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِکْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ ۔ لَـکُنَّا عِبَادَاللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ فَـکَفَرُوْا بِہٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الصآفات : 167 تا 170)
(اور بیشک یہ لوگ کہتے تھے۔ کہ کاش ہمارے پاس پہلوں کی تعلیم ہوتی۔ تو ہم اللہ کے چنے ہوئے بندے ہوتے۔ تو انھوں نے اس کا انکار کردیا تو وہ عنقریب جان لیں گے۔ )
قریش کی بڑ اور اس پر تنبیہ
یہ مضمون اس سے پہلے سورة فاطر کی آیت 42 میں بھی گزر چکا ہے۔ مفہوم اس کا یہ ہے کہ قریش کے سامنے جب ان قوموں کا ذکر آتا جن کی طرف اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول مبعوث کیے گئے اور انھوں نے ان کی تکذیب کردی، جس کے نتیجہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا۔ تو قریش یہ سن کر بڑے اعتماد اور فخر کے ساتھ یہ بات کہتے کہ اگر سابقہ امتوں کی طرح ہمارے پاس کوئی تعلیم ہوتی یا ہماری طرف اللہ تعالیٰ کا کوئی رسول مبعوث ہوتا تو ہم تکذیب کی بجائے اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے۔ اور سابقہ امتوں کا سا رویہ ہرگز اختیار نہ کرتے۔ اس کی تعلیم و تربیت کو قبول کرتے اور اللہ تعالیٰ کے خالص بندے بن کردکھاتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب جبکہ اللہ تعالیٰ کا آخری رسول آگیا۔ ان کی ہدایت کے لیے کتاب نازل کردی گئی اور ان پر ایک ایک بات کھول کر عیاں کردی گئی۔ اور آنحضرت ﷺ کی دلآویز شخصیت اور آپ پر نازل ہونے والی کتاب کی فصاحت و بلاغت اور تائید میں آپ سے ظاہر ہونے والے معجزات، اور اس انتہائی بگڑے ہوئے معاشرے میں آنحضرت ﷺ کی بےعیب شخصیت اور قابل فخر سیرت و کردار نے پوری طرح آپ کی حقانیت ثابت کردی، تو ان کا حال یہ ہے کہ انھوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا ہے۔ نہ آنحضرت ﷺ کو رسول مانتے ہیں اور نہ آپ پر نازل ہونے والی کتاب کو اللہ تعالیٰ کی کتاب مانتے ہیں۔ تو ان کی اس روش پر تأسف کا اظہار کرتے ہوئے اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ یہ نادان عنقریب جان لیں گے کہ ان کی اس روش کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
Ayahs 37:171–173وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَاالْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِنَّھُمْ لَھُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ ۔ وَاِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ ۔ (الصآفات : 171 تا 173)
(اپنے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے ہمارا یہ کلمہ پہلے ہی صادر ہوچکا ہے۔ بیشک ان کی مدد کی جائے گی۔ اور بیشک ہمارا ہی لشکر غالب رہنے والا بنے گا۔ )
سنت اللہ کا ذکر
گزشتہ آیت میں قریش کو جس انجام سے خبردار کیا گیا تھا اس آیت کریمہ میں اس انجام کی خبر دی گئی ہے۔ وہ انجام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور اس کی سنت یہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کا بگاڑ حد سے بڑھ جاتا ہے تو وہ ان کی ہدایت کے لیے اپنے انبیاء و رسل کو بھیجتا ہے۔ لیکن قوم ان پر ایمان لانے کی بجائے جب انکار پر تل جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے ذریعے ان پر اتمامِ حجت کردیتا ہے۔ اور اس شدید کشمکش میں جب قوم یہ سمجھتی ہے کہ ہدایت کی یہ پھوٹتی ہوئی کونپل ہماری مخالفت کے بگولوں کا مقابلہ نہیں کرسکے گی، اپنی موت آپ مرجائے گی یا ہم اسے توڑ دیں گے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی سنت حرکت میں آتی ہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کی مدد فرماتا ہے۔ اس مدد کے نتیجے میں کبھی تو ہدایت کا یہ قافلہ غالب آجاتا ہے اور صورتحال یکسر تبدیل ہوجاتی ہے۔ اور اگر قوم ہدایت سے عناد اور دشمنی کی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو مٹا دیتا ہے۔ رسول اور اس پر ایمان لانے والے کسی دوسرے علاقے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق انسانوں کی ہدایت کا سروسامان کرتے ہیں۔ اس سے قریش کو یہ تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ تم اپنی افرادی قوت، اپنے قبائل کی طاقت اور اپنی دولت و ثروت پر بھروسا کرتے ہوئے یہ مت سمجھو کہ تم آنحضرت ﷺ کی دعوت کو ناکام کردو گے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق اپنے رسول کی مدد کرے گا اور رسول اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ جو اس کا لشکر رہتا ہے اللہ تعالیٰ ان سب کو غالب فرمائے گا۔ کیونکہ حق و باطل کی کشمکش میں اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی معیت میں جس طرح مومنین کے لشکر کو رکھتا ہے، اسی طرح فرشتوں کا لشکر بھی اس کے ہمرکاب ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ایسے لشکر کو کون شکست دے سکتا ہے۔ سورة المومن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدے یا فیصلے کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ” اور ہم لازماً اپنے رسولوں کی اور اہل ایمان کی مدد کریں گے، دنیا کی زندگی میں بھی اور اس دن بھی جس دن گواہ، گواہی دینے کو اٹھیں گے۔ “
Ayahs 37:174–175فَتَوَلَّ عَنْھُمْ حَتّٰی حِیْنٍ ۔ وَّاَبْصِرْھُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ ۔ (الصآفات : 174، 175)
(پس اے پیغمبر آپ کچھ مدت تک ان سے اعراض کریں۔ اور دیکھتے رہیں وہ خود بھی عنقریب دیکھ لیں گے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس پر نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور صبر اور انتظار کی ہدایت کی گئی ہے۔ یعنی اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے فیصلے اور سنت کی وضاحت فرماتے ہوئے اس حقیقت کا انکشاف کیا ہے کہ حق و باطل کی اس خونخوار کشمکش میں غلبہ حق کا ہو کر رہے گا۔ اور اگر قریش ایمان نہ لائے تو اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد یہ مٹا دیے جائیں گے۔ لیکن ابھی اس فیصلے پر عمل کا وقت نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ اتمامِ حجت کب ہوتا ہے اور کافروں کی مہلت کب ختم ہوتی ہے۔ اس وقت تک آنحضرت ﷺ کو انتظار اور صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ البتہ اس بات کو واضح کردیا گیا ہے کہ غلبہ آنحضرت ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں کا ہوگا۔ آپ خاموشی سے دیکھتے رہیں کہ مخالفین کیا کررہے ہیں اور ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور یہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے کہ ان کی کاوشیں کیا رنگ لاتی ہیں۔
Ayahs 37:176–179اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ۔ فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِھِمْ فَسَآئَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ ۔ وَتَوَلَّ عَنْھُمْ حَتّٰی حِیْنٍ ۔ وَّاَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ ۔ (الصآفات : 176 تا 179)
(کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ پس جب وہ ان کے صحن میں اترے گا تو بڑی ہی بری ہوگی ان لوگوں کی صبح جن کو اس سے متنبہ کیا جا چکا ہے۔ تو کچھ مدت کے لیے ان سے اعراض کرو۔ اور دیکھو، وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے۔ )
گزشتہ امتوں کے حوالے سے قریش کو انجامِ بد سے بچنے کی ہدایت
نبی کریم ﷺ تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں مخالفین کی مخالفت کو روکنے اور ان کے دلوں میں ایمان اتارنے کے لیے کبھی کبھی انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بھی ڈراتے تھے۔ کیونکہ یہ تاریخ کا سب سے بڑا سچ ہے کہ جب قوموں نے رسولوں کی تبلیغی کاوشوں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے ان کی تکذیب کردی تو پھر اللہ تعالیٰ کے عذاب نے انھیں آپکڑا۔ آپ گزشتہ امتوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھیں اس انجامِ بد سے بچنے کی تلقین فرماتے تھے۔ لیکن وہ بدنصیب بجائے ہدایت کو قبول کرنے کے شور مچاتے کہ آپ ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آیئے۔ ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اس سے بےپناہ اذیت پہنچتی کیونکہ آپ خوب جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے آجانے کے بعد کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔ لیکن مخالفین اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ اب قریش کو شاید آخری دفعہ تنبیہ کی جارہی ہے کہ نادانو ! جس عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہو، تمہیں کچھ اندازہ بھی ہے کہ وہ عذاب کیا چیز ہے۔ یاد رکھو اس کے آجانے کے بعد تم آٹھ آٹھ آنسو رو وئو گے لیکن تمہاری فریاد سنی نہیں جائے گی۔ اور چونکہ قبائل میں عام طور پر شب خون صبح کے وقت مارا جاتا ہے تو تباہی کا پیغام لاتا ہے۔ اس لیے یہاں بھی صباح کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں کو اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا جا چکا ہے تکذیب کی صورت میں انھیں بہت برے دن سے سابقہ پیش آنے والا ہے۔
یاد رہے کہ قریش اور دیگر اہل مکہ اور ان سے ملحقہ قبائل آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے بعد بھی اس لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچے رہے کہ مکہ معظمہ اور مختلف قبائل میں تمام تر معاشرتی اور سیاسی بائیکاٹ کے باوجود قبول ایمان کا سلسلہ رکا نہیں بلکہ دھیرے دھیرے جاری رہا۔ البتہ جہاں تک غلبہ حق کا تعلق ہے وہ قرآن کریم کی پیشگوئی کے مطابق حرف بہ حرف پورا ہوا۔ مسلمانوں کی قلت تعداد اور بےسروسامانی کے باوجود جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ اور پھر چند ہی سالوں کے بعد قافلہ حق پوری ہیبت اور جبروت کے ساتھ حرم کے صحن میں جا اترا، اور دو سال کا عرصہ مکمل نہیں ہونے پایا کہ پورے جزیرہ عرب میں اسلام کا پھریرا لہرانے لگا۔ اور وہ صبح اہل مکہ کے لیے کس قدر دہشت ناک تھی جب وہ ہاتھ باندھے حضور ﷺ کے سامنے کھڑے تھے اور آپ ان سے پوچھ رہے تھے کہ بتائو آج میں تم سے کیا سلوک کروں۔
حیرانی کی بات ہے کہ یہ سورة مکی ہے اور فتح مکہ سے کئی سال پہلے اس کا نزول ہوا ہے اور اس وقت کے حالات اسلام اور مسلمانوں کے لیے نہایت حوصلہ شکن تھے۔ کوئی دور دور تک یہ تصور نہیں کرسکتا تھا کہ غلبہ حق کا کوئی امکان ہوسکتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے کس اعتماد کے ساتھ یہ خبر دی ہے کہ تم عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہو، تمہیں تباہ تو نہیں کیا جائے گا لیکن تمہاری مغلوبیت میں زیادہ دیر نہیں۔ جس اسلام کو تم ایک اجنبی چیز سمجھ رہے ہو وہ چند سالوں کے بعد اس دھرتی کا مقدر بننے والا ہے۔ اور پھر ایسا ہی ہو کے رہا ہے۔ اس لیے دوبارہ آنحضرت ﷺ سے کہا گیا ہے کہ آپ کچھ دنوں کے لیے ان مخالفین سے اعراض فرمایئے اور دیکھتے رہیے کہ یہ کشمکش کیا رنگ لاتی ہے۔ وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔
Ayahs 37:180–182سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ وَسَلٰـمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ ۔ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الصآفات : 180 تا 182)
(پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔ اور پیغمبروں پر سلامتی ہے۔ اور ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو رب العالمین ہے۔ )
خلاصہ سورة
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار نے ان تین آیتوں میں سورة کے جملہ مضامین کو سمیٹ دیا ہے۔ سورة میں سب سے زیادہ جس مضمون پر زور دیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، الوہیت اور ان تمام باتوں اور چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کرنا ہے جو مشرکین اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ چناچہ اسی مضمون کو سمیٹتے ہوئے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تمہارا رب وہ ہے جو تمام عزت و اقتدار کا حقیقی مالک ہے۔ اور وہ ان تمام باتوں سے ارفع اور پاک ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس طرح سے یہ آیت توحید کا کلمہ ٔ جامعہ ہے۔
اس سورة میں چند انبیاء اور رسل کے واقعات بیان کیے گئے ہیں جن سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا تقاضا یہ ہے کہ زمین پر بسنے والوں کو اس کے احکام اور اس کی مرضیات سے آگاہ کیا جائے۔ اس عظیم کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول مبعوث فرمائے اور ان کے لیے یہ بات مقدر کردی گئی کہ حالات کچھ بھی ہوں، تاریخ ہمیشہ انھیں سلام کرتی رہے گی۔ اور سلامتی ان کی مساعیِ جمیلہ کا دنیا میں ہمیشہ عنوان بنی رہے گی۔ ہمارے رسول پاک ﷺ نے چونکہ سب سے زیادہ وسعت اور جامعیت کے ساتھ اس فرض کو انجام دیا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ ان کے لیے سلامتی مخصوص کی۔ اور مخالفین کی ساری کوششوں کے باوجود ان کے نام اور احترام کو وہ عظمت ملی جو تاریخ میں کسی اور کو نہ مل سکی۔
جس طرح اللہ تعالیٰ ہر چھوٹی بڑی مخلوق کو رزق بہم پہنچاتا اور اس کی ضروریات پوری فرماتا ہے اسی طرح اس نے انسانوں کی معنوی اور روحانی ضرورتوں کو بھی بتمام و کمال پورا فرمایا، جس سے اس کی انسانیت کو بھی پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ اس کی کاوشوں سے زمین پر اللہ تعالیٰ کا وہ نظام قائم ہوا جس نے عدل اجتماعی کو زمین کا مقدر بنادیا۔ اور آخرت میں بھی اس کے عدل کامل کا ظہور ہوگا، ہر مستحقِ جزاء، جزاء پائے گا اور مستحقِ سزا، سزا سے بچ نہیں سکے گا۔ اس لیے جو شخص بھی ان باتوں پر غور کرے گا اس کی زبان پر بےساختہ یہ کلمہ جاری ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ قرطبی نے اپنی سند سے حضرت ابوسعید خدری کا یہ قول نقل کیا ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے کئی بار سنا کہ آپ نماز ختم ہونے کے بعد یہ آیات تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ متعدد تفاسیر میں حضرت علی ( رض) کا یہ قول منقول ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ قیامت کے دن اسے بھرپور پیمانے سے اجر ملے، اسے چاہیے کہ وہ اپنی ہر مجلس کے آخر میں یہ تین آیتیں پڑھا کرے۔