37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsروح القرآن

Ayahs 37:117–118

وَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ Open ayah 37:117 in the Quran reader

ہم نے ان کو نہایت واضح کتاب عطا کی

وَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ Open ayah 37:118 in the Quran reader

اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت بخشی

وَاٰتَیْنٰـہُمَا الْـکِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَ ۔ وَھَدَیْنٰـہُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ۔ (الصآفات : 117، 118) (ہم نے ان کو نہایت واضح کتاب عطا کی۔ اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت بخشی۔ ) الْـکِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَ کا مفہوم حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرمائی، اسی طرح ایک واضح اور روشن کتاب بھی عطا فرمائی۔ اس کتاب سے یقینا کتاب تورات مراد ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو بطور خاص کتاب دیے جانے کا ذکر اس لیے فرمایا گیا ہے کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کسی امت کو بھی شریعت کسی واضح کتاب کی شکل میں عطا نہیں فرمائی، بلکہ لوگوں کو صرف زبانی تعلیم دی جاتی تھی۔ تورات کو یہ خاص امتیاز حاصل ہے کہ اس میں شریعت ایک مرتب اور روشن کتاب کی شکل میں دی گئی۔ تاریخ مذہب کے حوالے سے یہ بات کسی حد تک کھٹکتی ہے۔ کیونکہ تاریخ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے اور قرآن کریم نے بھی بعض جگہ اس طرف اشارے کیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول بھیجے ہیں ان میں سے ہر ایک کو کوئی کتاب یا صحیفہ عطا کیا گیا ہے۔ خصوصاً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر صحیفے نازل کیے گئے۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) پر ایک مستقل کتاب نازل کی گئی۔ بحرِمردار کے بعض غاروں میں کسی کتاب کے بعض نسخے ملے ہیں۔ گمان یہ ہے کہ یہ وہ کتاب ہے جو حضرت ادریس (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یقینا بعض رسولوں پر کتابیں نازل ہوئی ہیں تو ان میں صرف نصیحت کی باتیں ہی تو نہیں ہوں گی، شریعت کے احکام و نواہی بھی ہوں گے۔ البتہ یہ فرق ہوسکتا ہے کہ بعض بنیادی اور اہم احکام تحریری شکل میں دیے جاتے ہوں۔ اور دیگر احکام اور آداب کی تعلیم زبانی دی جاتی ہو۔ تو یہ ایک سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ صِرَاطَ الْمُسْتَـقِیْمَ کی ہدایت کا مفہوم یہ بات معلوم ہے کہ تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی، حضرت ہارون پر نہیں۔ لیکن انھیں چونکہ آپ کے ساتھ شریک رسالت بنایا گیا تھا اس لیے کتاب دیے جانے کے شرف میں انھیں بھی شامل کیا گیا ہے۔ مزید فرمایا کہ ہم نے انھیں صراط مستقیم کی ہدایت بھی بخشی تھی۔ اس سے دو باتوں کی طرف شاید اشارہ ہو۔ پہلی یہ بات کہ یہود نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر عموماً اور حضرت ہارون (علیہ السلام) پر خصوصاً بعض اتہامات لگائے ہیں اور بعض غلط باتیں ان کی طرف منسوب کی ہیں۔ اس سے ان باتوں کی تردید ہوجاتی ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ انسان کا صراط مستقیم پر فائز رہنا اور زندگی کے سفر میں کبھی اس جادہ مستقیم سے قدم کا ہٹنے نہ پانا، یہ صرف انبیاء کی خصوصیت ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو معصوم پیدا فرمایا۔ ان کی عصمت اور ان کے اسوہ حسنہ ہونے کی طرف یہ کہہ کر اشارہ کیا گیا ہے کہ ہم نے انھیں صراط مستقیم کی ہدایت کی تھی۔ اب اگر تم یہ دیکھنا چاہو کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی، عبادات، معاشرت، معیشت، معاملات، باہمی تعلقات غرضیکہ زندگی کے ہر شعبے میں صراط مستقیم کیا ہے تو اس کے لیے تمہیں وقت کے ہر رسول کی زندگی کو دیکھنا ہوگا اور انھیں میں سے ایک نمایاں مثال حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) بھی ہیں۔
Ayahs 37:119–122

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:119 in the Quran reader

اور بعد کی نسلوں میں ان کا ذکرخیر باقی رکھا

سَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 37:120 in the Quran reader

سلام ہے موسیٰ اور ہارون پر

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

ہم بہترین نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزاء دیتے ہیں

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

بیشک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

وَتَرَکْنَا عَلَیْہِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَ ۔ سَلٰمٌ عَلٰی مُوْسٰی وَھٰـرُوْنَ ۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ اِنَّھُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الصآفات : 119 تا 112) (اور بعد کی نسلوں میں ان کا ذکرخیر باقی رکھا۔ سلام ہے موسیٰ اور ہارون پر۔ ہم بہترین نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزاء دیتے ہیں۔ بیشک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ ) یہ ترجیع کی آیات ہیں ان کا مفہوم گزر چکا ہے یہ ترجیع کی آیات ہیں جو ایک ہی طرح کے مضمون کے بعد آتی ہیں۔ اس سے بتانا مقصود یہ ہوتا ہے کہ تم جن مقدس نفوس کا تذکرہ پڑھ رہے ہو ان کی بعض اقدار ایسی مشترک ہیں جو ان کی حقانیت کی علامت بھی ہیں اور تاریخ میں ان کے کردار کی گواہ بھی۔ یہ بتانے کے لیے کہ اس زمین کے وہ اشجارِطیبہ ہیں اور اس چمن کے وہ ثمراتِ لذیزہ ہیں جن سے تمہارے کام و دہن بار بار لذت اندوز ہوں گے۔ کیونکہ یہ ان نفوسِ قدسیہ کے جہدوعمل کے لازمی خصائص ہیں جن کا ظہور ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ چناچہ ان میں سے پہلی بات یہ فرمائی کہ تم مخالفین کی مخالفت کو دیکھ کر یہ گمان مت کرو کہ یہ قیمتی شخصیات تاریخ پر شاید اپنا اثر چھوڑ کر نہیں گئیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب تم اسی راستے پر آگے بڑھو گے تو تم محسوس کرو گے کہ ان کے بعد آنے والا قافلہ انھیں کے آثار کو لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ اور بعد کے آنے والی ہر مقدس روح اور ہر قابل ذکر شخص کی زبان پر ان کے لیے سلامتی کی دعائیں ہیں اور ان کی سلامتی کے چرچے ہیں۔ اور دادودہش کا ہمارا یہ طریقہ کسی ایک شخص یا خاندان کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص اور ہر اس قافلے کے لیے ہے جو اپنی ہمت سے بڑھ کر اخلاص بہم پہنچاتا اور حُسنِ عمل کے چراغ روشن کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے ساتھ بھی ہم نے یہی معاملہ کیا ہے اس لیے کہ ہمارے وہ ایسے صاحب ایمان بندے تھے کہ جن کے ایمان کے نور نے نہ جانے کہاں کہاں روشنی بکھیری ہے اور کن کن راستوں کو روشن کیا ہے۔
Ayah 37:123

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور بیشک الیاس بھی یقینا پیغمبروں میں سے تھے

وَاِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ (الصآفات : 123) (اور بیشک الیاس بھی یقینا پیغمبروں میں سے تھے۔ ) حضرت الیاس (علیہ السلام) کی ذاتی اور منصبی زندگی کی بعض تفصیلات گزشتہ آیات میں جن جلیل القدر پیغمبروں کا ذکر آیا ہے اور جس ترتیب سے ان کا ذکر ہوا ہے تاریخ میں ان کا ظہور بھی اسی ترتیب سے ہوا ہے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) سے جن انبیائے کرام کا ذکر شروع ہورہا ہے ان کی ترتیب تاریخی نہیں بلکہ صفاتی ہے۔ اور ان کا ذکر بھی نہایت اجمال سے کیا گیا ہے۔ مقصود صرف یہ بتانا ہے کہ ان کی دعوت بھی وہی دعوت تھی جس کا ذکر آپ سابق انبیاء کے تذکرے میں پڑھ چکے ہیں۔ اور انھوں نے تمام تر ناموافق حالات کے باوجود اسی اخلاص اور جانفشانی سے لوگوں کی ہدایت کے لیے کام کیا ہے جو تمام انبیاء کرام کا طریقہ ہے۔ سب سے پہلے حضرت الیاس (علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ وہی پیغمبر ہیں جن کا ذکر تورات میں ایلیا کے نام سے ہوا ہے۔ یہ ان انبیائے کرام میں سے ہیں جو بنی اسرائیل کی طرف ہدایت کے لیے مبعوث ہوئے۔ موجودہ زمانے کے محققین ان کا زمانہ 775 اور 850 ق م کے درمیان متعین کرتے ہیں۔ وہ جلعاد کے رہنے والے تھے جو آج کل موجودہ ریاست اردن کے شمالی اضلاع پر مشتمل ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ان کے بیٹے کی نااہلی کی وجہ سے بنی اسرائیل کی سلطنت دو ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ ایک سلطنتِ یہود اور دوسرا سلطنتِ اسرائیل۔ اسرائیل کی ریاست شروع ہی سے ایسے سخت بگاڑ کی راہ پر چل پڑی تھی جس کی بدولت اس میں شرک و بت پرستی، ظلم و ستم اور فسق و فجور کا زور بڑھتا گیا۔ لیکن یہ بگاڑ اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ گیا جب اسرائیل کے بادشاہ اخی اب نے موجودہ لبنان کے بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ وہ چونکہ مشرکہ تھی اس لیے اس کے اثرات نے شرک کے لیے آسانیاں پیدا کردیں۔ خدائے واحد کی پرستش کی بجائے بعل کی پرستش کو عام رواج دے دیا گیا۔ یہی زمانہ ہے جب حضرت الیاس (علیہ السلام) یکایک منظر عام پر آئے۔ انھوں نے جلعاد سے آکر اخی اب کو نوٹس دیا کہ تیرے گناہوں کی پاداش میں اب اسرائیل کے ملک پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہ برسے گا حتیٰ کہ اوس تک بھی نہ پڑے گی۔ چناچہ تین ساڑھے تین سال تک بارش کا ایک چھینٹا تک بھی نہ گرا۔ بادشاہ کو کچھ دنوں کے لیے ہوش آیا تو اس نے حضرت الیاس (علیہ السلام) کے کہنے پر مجمع عام میں بعل کے بہت سے پجاریوں کو بھی قتل کرایا۔ پھر آپ نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے فوراً بارش نازل فرمائی اور دیکھتے ہی دیکھتے جل تھل ایک ہوگیا۔ لیکن بادشاہ پھر اپنی توبہ سے پھر گیا اور اپنی مشرک بیوی کے کہنے پر حضرت الیاس (علیہ السلام) کو قتل کرنا چاہا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت الیاس کو ملک چھوڑنا پڑا اور وہ چند سال تک کوہ سینا کے دامن میں پناہ گزین رہے۔ بائیبل نے وہ فریاد اپنے الفاظ میں نقل کی ہے جو اس زمانے میں حضرت الیاس (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے کی۔ ” بنی اسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کیا اور تیرے مذبحوں کو ڈھا دیا اور تیرے نیبوں کو تلوار سے قتل کیا اور ایک میں ہی کیلا بچا ہوں سو وہ میری جان لینے کے در پے ہیں۔ “ بنی اسرائیل کی دوسری ریاست سلطنتِ یہود میں بھی ایسی ہی خرابیاں پھیلیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے یہاں بھی ان کو سمجھانے کی کوشش کی اور بادشاہ کو ایک خط لکھا جس کے الفاظ یہ تھے : ” خداوند تیرے باپ دائود کا خدا یوں فرماتا ہے اس لیے کہ تو نہ اپنے باپ یہوسفط کی راہوں پر اور نہ یہوداہ کے بادشاہ آسا کی راہوں پر چلا بلکہ اسرائیل کے بادشاہ کی راہ پر چلا ہے۔ اور یہوداہ اور یروشلم کے باشندوں کو زنا کار بنایا جیسے اخی اب کے خاندان نے کیا۔ اور اپنے باپ کے گھرانے سے اپنے بھائیوں کو جو تجھ سے اچھے تھے قتل بھی کیا۔ سو دیکھ خداوند تیرے لوگوں کو اور تیری بیویوں کو اور تیرے سارے مال کو بڑی آفتوں سے مارے گا۔ اور تو انتڑیوں کے مرض سے سخت بیمار ہوجائے گا یہاں تک تیری انتڑیاں اس مرض کے سبب سے روز بروز نکلتی چلی جائیں گی۔ (2۔ تواریخ 21: 12۔ 15) حضرت الیاس (علیہ السلام) نے اپنے خط میں جو کچھ لکھا اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے وہی کچھ ہوا۔ پہلے یہ ریاست بیرونی حملہ آوروں کے حملوں سے تباہ ہوئی، دشمن اس کی بیوی تک کو پکڑ کرلے گیا اور پھر بادشاہ خود انتڑیوں کے مرض سے ہلاک ہوا۔ اس کے بعد حضرت الیاس (علیہ السلام) اسرائیل تشریف لے گئے۔ بادشاہ اور اس کے حواریوں کو سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر تباہی ان کا مقدر ہوچکی تھی۔ حضرت الیاس کی بددعا سے بادشاہ اور اس کا گھرانہ ختم ہوگیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی دنیا سے اٹھا لیا۔
Ayah 37:124

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ہو

اِذْقَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَلاَ تَتَّقُوْنَ ۔ (الصآفات : 124) (جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ہو۔ ) جب انھوں نے بنی اسرائیل کو دیکھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بعل پرستی میں مبتلا ہوگئے اور شریعت کے اتباعِ کی بجائے ہَوائے نفس کے اتباع کو اپنا طرزعمل بنا لیا ہے تو آپ نے ان سے کہا کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ہو، جب وہ تم سے تمہارے طرزعمل کے متعلق سوال کرے گا تو تم کیا جواب دو گے۔
Ayahs 37:125–126

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑتے ہو

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

اس اللہ کو جو تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے اگلے آبائواجداد کا بھی

اَتَدْعُوْنَ بَعْلاً وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ ۔ اللّٰہَ رَبَّـکُمْ وَ َربَّ اٰبَـآئِکُمُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (الصآفات : 125، 126) (کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑتے ہو۔ اس اللہ کو جو تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے اگلے آبائواجداد کا بھی۔ ) حضرت الیاس (علیہ السلام) کی دعوت آپ نے کہا کہ کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑتے ہو جو تمہارا بہترین خالق ہے۔ بہترین خالق سے یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کا کوئی اور حامل بھی ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم جس کی مخلوق ہو اس کے سوا کوئی اور خالق نہیں۔ ویسی صفت تخلیق سے متصف ہونا کسی اور کے بس کی بات نہیں۔ اور پھر صرف وہ تمہارا خالق ہی نہیں بلکہ تمہارا بھی اور تمہارے اگلے آبائواجداد کا بھی رب ہے۔ وہ صرف تمہیں پیدا کرکے ہی نہیں چھوڑ دیتا بلکہ تخلیق کے بعد ایک مخلوق کی جتنی ضرورتیں ہوسکتی ہیں ان تمام کو مہیا کرنے والا وہی ہے۔ عمر کے ساتھ ساتھ جیسے کچھ ان میں تبدیلی آتی ہے ان کا جاننے والا بھی وہی ہے۔ اور پھر ضروریات میں چونکہ وجدان، حواس، شعور اور عقل اپنے اپنے وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے ان کا عطا کرنے والا بھی وہی ہے۔ اور اس کائنات میں جتنے انسان کو نقصان پہنچانے والے امکانات موجود ہیں ان سے تحفظ دینے والا بھی وہی ہے۔ بچپن بالخصوص انسان کا بےبسی کی تصویر ہے۔ اسے خوبصورت بنانا اور ماں کے اندر مامتا پیدا کرنا، باپ میں شفقت کا فانوس روشن کرنا یہ سب اس کی ربوبیت کے اجزاء ہیں۔ یہ کیسا بےہودہ پن ہے کہ تم ایسے رب کو چھوڑ کر بعل کو پکارتے اور اس کی پرستش کرتے ہو۔
Ayahs 37:127–128

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

تو انھوں نے اس کو جھٹلا دیا تو بیشک وہ گرفتار کیے جانے والوں میں سے ہوں گے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

بجز ان بندگانِ خدا کے جن کو خالص کرلیا گیا تھا

فَکَذَّبُوْہُ فَاِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ ۔ اِلَّا عِبَادَاللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (الصآفات : 127، 128) (تو انھوں نے اس کو جھٹلا دیا تو بیشک وہ گرفتار کیے جانے والوں میں سے ہوں گے۔ بجز ان بندگانِ خدا کے جن کو خالص کرلیا گیا تھا۔ ) حضرت الیاس (علیہ السلام) نے جنھیں راہ راست پر لانے کی کوشش کی انھوں نے آپ کی کوششوں کی قدر کرنے کی بجائے آپ کی تکذیب کردی، آپ کی نبوت پر ایمان لانے کی بجائے آپ کو جھٹلایا اور بعل پرستی سے توبہ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اور دور ہٹ گئے۔ تو ایسے لوگ یقینا قیامت کے دن ان لوگوں میں ہوں گے جنھیں گرفتار کرکے نہایت ذلت کے ساتھ جہنم کے حوالے کردیا جائے گا۔ اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قوم کے سر پر عذاب تلا کھڑا ہے، تباہی اور بربادی ان کے دروازے پر پہنچ چکی ہے، ان کے بچائو کی ایک ہی صورت تھی کہ حضرت الیاس (علیہ السلام) پر ایمان لے آتے اور ان کی باتوں پر کان دھرتے۔ مگر اب معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنے اعمال کی پاداش میں پکڑے جائیں گے۔ اس میں صرف وہ لوگ بچیں گے جو حضرت الیاس (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی بندگی کے لیے چھانٹ لیا۔
Ayahs 37:129–132

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور ہم نے اس کا ذکر بعد کی نسلوں میں باقی رکھا

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

سلام ہے اِل یاسین پر

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

ہم بہترین نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ ۔ سَلٰـمٌ عَلٰٓی اِلْ یَاسِیْنَ ۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ اِنَّـہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الصآفات : 129 تا 132) (اور ہم نے اس کا ذکر بعد کی نسلوں میں باقی رکھا۔ سلام ہے اِل یاسین پر۔ ہم بہترین نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ ) ان آیات کی تشریح ہوچکی ہے یہ وہی ترجیع کی آیات ہیں جو گزشتہ انبیائے کرام کی سرگزشتوں کے سلسلے میں گزری ہیں اور ان میں بار بار وہی باتیں فرمائی گئی ہیں جو اس مبارک قافلے کے ہر فرد کے لازمی خصائص اور یقینی انعامات ہیں۔ البتہ دوسری آیت میں اِل یاسین کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ حضرت الیاس (علیہ السلام) کا دوسرا نام ہے۔ جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا دوسرا نام ابراہام تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ نام تو آپ کا ایک ہی ہے البتہ اہل عرب میں عبرانی اسماء کے مختلف تلفظ رائج تھے۔ مثلاً حضرت میکائیل (علیہ السلام) کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا تھا۔ اسی طرح حضرت الیاس (علیہ السلام) کے نام کا تلفظ بھی مختلف رہا۔ ایک قول یہ ہے کہ اِل یاسین الیاس کی جمع ہے۔ اور اس سے مراد ان کے تمام آل و اتباع ہیں۔ قرآن کریم میں طورسینین طور کی جمع ہے۔ اس کا استعمال بھی اسی اصول کے تحت ہوا ہے۔ ناچیز کا گمان یہ ہے کہ بعض دفعہ قافیہ کی رعایت سے بھی اصل نام پر بعض حروف کا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ یہاں بھی اصل نام تو الیاس ہے لیکن قافیہ کی رعایت سے ی۔ ن کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ مفہوم ان آیات کا پہلے واضح کیا جا چکا ہے۔
Ayahs 37:133–138

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

بیشک لوط بھی یقینا پیغمبروں میں سے تھے

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے اسے اور اس کے سب گھر والوں کو نجات دی

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

بیشک تم ان کی بستیوں پر گزرتے ہو صبح کو بھی

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

اور رات کو بھی، تو کیا تم سمجھتے نہیں ہو

وَاِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِذْنَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَـہٗٓ اَجْمَعِیْنَ ۔ اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ ۔ ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ ۔ وَاِنَّـکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْھِمْ مُّصْبِحِیْنَ ۔ وَبِالَّیْلِ ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ (الصآفات : 133 تا 138) (بےشک لوط بھی یقینا پیغمبروں میں سے تھے۔ اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے اسے اور اس کے سب گھر والوں کو نجات دی۔ بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔ پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا۔ بیشک تم ان کی بستیوں پر گزرتے ہو صبح کو بھی۔ اور رات کو بھی، تو کیا تم سمجھتے نہیں ہو۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعوت، قوم کا جواب، ان کا انجام اور قریش کو تنبیہ حضرت لوط (علیہ السلام) جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور آپ پر ایمان لائے تھے اور ہجرت کے سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے میں آپ کے ساتھ تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں نبوت کی ذمہ داریوں سے گراں بار کیا اور ایک نہایت پاجی قوم جو بحرمردار کے قریب رہتی تھی اس کی اصلاح کی ذمہ داری پر فائز کیا۔ مختلف مواقع پر تفصیل سے ان کی سرگزشت گزر چکی ہے۔ یہاں تو بعض دیگر انبیائے کرام کے ساتھ ان کا تذکرہ قریش کو یہ سمجھانے کے لیے کیا جارہا ہے کہ جب بھی کسی قوم کی طرف اللہ تعالیٰ کا کوئی رسول سمجھانے کے لیے آتا ہے تو اس کے آنے سے اتمامِ حجت ہوجاتا ہے۔ اب اس قوم کی قسمت ترازو میں ہوتی ہے اگر وہ قبول کرلیتی ہے تو دنیا اور آخرت کی کامیابیاں اس کا مقدر بن جاتی ہیں۔ اور اگر تکذیب کرتی ہے تو صفحہ ہستی سے مٹا دی جاتی ہے۔ متعدد رسولوں اور ان کی قوموں کے تذکرے سے یہی بات ان کے ذہن نشین کرنا پیش نظر ہے تاکہ وہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کو کوئی معمولی واقعہ نہ سمجھیں۔ چناچہ اسی سلسلے میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی سرگزشت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے سچے رسولوں میں سے تھے۔ انھیں قوم کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا گیا۔ جب اس قوم کی بڑی تعداد نے ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ آگیا۔ آپ کو اور آپ کے صاحب ایمان اہل کو نجات دے دی گئی اور باقی سب کو تباہ کردیا گیا۔ حتیٰ کہ آپ کی رفیقہ ٔ حیات جس نے زندگی کے شب و روز آپ کے ساتھ گزارے تھے وہ بھی محض اس لیے تباہ ہونے والوں کے ساتھ تباہ کردی گئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی رفیقہ ٔ حیات ہونے کے باوجود آپ پر ایمان نہیں لائی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ کے یہاں نجات کا درومدار ایمان و عمل صالح پر ہے، مجرد رشتہ داری کسی کے کام آنے والی چیز نہیں۔ آخر میں ترجیع کی آیات لانے کی بجائے جو گزشتہ سرگزشتوں میں ہم پڑھ چکے ہیں قریش کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے کہ تم شب و روز ان کی بستیوں میں سے گزرتے ہو، تمہارے تجارتی قافلوں کے لیے وہی راستہ ہے۔ تم ان کھنڈرات کو دیکھتے ہو، لیکن ان کی تباہی کے اسباب پر کبھی غور نہیں کرتے۔ آخر یہاں کی خوبصورت آبادیاں کھنڈرات میں تبدیل کیوں ہوگئیں، ان میں بسنے والے مکین بھولی بسری یادیں کیوں بن گئے۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ ان کے ساتھ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی رسالت کی تکذیب کی۔ ان کے ہرچند سمجھانے کے باوجود انھوں نے سننے اور ماننے سے انکار کردیا۔ آخر اللہ تعالیٰ کی سنت حرکت میں آئی تو انھیں تباہ و برباد کردیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ تمہارے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی یہ سنت کیوں بدل جائے گی۔ اس کی سنت کبھی نہیں بدلتی۔ جو معاملہ پہلوں کے ساتھ ہوا، وہی ہر دور والوں کے ساتھ ہوگا۔
Ayahs 37:139–142

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور بیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے تھا

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

یاد کرو جبکہ وہ ایک بھری کشتی کی طرف بھاگ نکلا

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا پس وہ دھکیلا گیا

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

پھر اس کو مچھلی نے نگل لیا اور وہ سزاوارِملامت تھا

وَاِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِذْ اَبَقَ اِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ ۔ فَسَاھَمَ فَـکَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَ ۔ فَالْتَقَمَہُ الْحُوْتُ وَھُوَ مُلِیْمٌ۔ (الصآفات : 139 تا 142) (اور بیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے تھا۔ یاد کرو جبکہ وہ ایک بھری کشتی کی طرف بھاگ نکلا۔ پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا پس وہ دھکیلا گیا۔ پھر اس کو مچھلی نے نگل لیا اور وہ سزاوارِملامت تھا۔ ) حضرت یونس (علیہ السلام) کی سرگزشت کے اہم واقعات اس سے پہلے قرآن مجید میں سورة یونس اور سورة انبیاء میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے۔ یہ تیسرا موقع ہے جب قرآن کریم میں آپ کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت یونس (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے رسول تھے اور اہل نینوا کی طرف انھیں مبعوث کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ آپ نے کتنے عرصے تک اہل نینوا کو سمجھایا، اپنی رسالت کی طرف بلایا، اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دعوت دی اور اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف انھیں مائل کیا۔ لیکن قوم نے جب مسلسل آپ کی دعوت کی ناقدری کی اور آپ کی بات ماننے سے انکار کردیا تو آپ نے یہ سوچ کر کہ ایسے ناقدروں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرنا جو اس کی قدر نہ پہنچانتے ہوں۔ نادانوں کے سامنے موتی پھینکنے کے مترادف ہے۔ اس لیے آپ ناراض ہو کر اور غیرت حق کے جوش میں قوم کی حدود سے نکل کھڑے ہوئے۔ ساحلِ سمندر معلوم ہوتا ہے بستی سے دور نہ تھا۔ آپ وہاں پہنچے، ایک سواریوں سے بھرا ہوا جہاز روانگی کے لیے آمادہ تھا، آپ اس میں سوار ہوگئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسے شاید آخری سواری کی ضرورت تھی اور وہ آپ کو لے کر چل پڑا۔ قرآن کریم نے ناراض ہو کر قوم سے نکل جانے کو اَبَقَسے تعبیر کیا ہے۔ عربی زبان میں یہ لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جبکہ غلام اپنے آقا کے یہاں سے بھاگ جائے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کسی انسان کے غلام نہیں بلکہ آپ اللہ تعالیٰ کے غلام تھے اور اللہ تعالیٰ ہی نے اہل نینوا کی ہدایت کے لیے آپ کو مبعوث کیا تھا۔ رسول ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے منتظر رہتے ہیں اور کسی کام میں نفس کی پیروی نہیں کرتے ہیں۔ پروردگار نے چونکہ اپنے انبیاء و رسل کو معصوم پیدا کیا ہے اس لیے وہ نفس کی پیروی میں کبھی ٹھوکر نہیں کھاتے۔ البتہ اتباعِ حق کے جوش میں کبھی کبھی وہ بھی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ یہ چیز غیرنبی میں ہو تو نہ صرف بری نہیں بلکہ پسندیدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کی علامت ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نبی چونکہ حق کی کسوٹی بن کر آتے ہیں اور وہ امت کے لیے ہر معاملے میں اسوہ حسنہ اور معیارِحق ہوتے ہیں۔ اس لیے کوئی سی بھی بےاعتدالی ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ باقی نہیں رہنے دیتا، فوراً اس پر گرفت فرماتا یا اصلاح کردیتا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) ایک رسول کی حیثیت سے نینوا میں اپنے فرائض ادا کرنے کے پابند تھے چاہے قوم آپ کی دعوت کو قبول کرے یا نہ کرے، آپ وہاں سے ہجرت اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر نہیں کرسکتے تھے۔ لیکن آپ نے اپنی قوم کی ناقدری کو غیرت حق کے خلاف سمجھا۔ اس لیے برہم ہو کر اپنی قوم اور تبلیغ کے میدان کو چھوڑ دیا۔ اور انھیں تین دن تک اللہ تعالیٰ کے عذاب کی تنبیہ فرما کر وہاں سے نکل کھڑے ہوئے۔ چناچہ پروردگار نے اس پر گرفت فرمائی۔ جب وہ جہاز میں سوار ہو کر روانہ ہوئے تو راستے میں جہاز طوفان میں گھر گیا۔ جہاز والوں نے اپنی روایت کے مطابق یہ سمجھا کہ اس میں یقینا کوئی بھاگا ہوا غلام سوار ہے یا کوئی مجرم ہے۔ جب تک اسے الگ کرکے دریا میں نہیں ڈالا جائے گا جہاز اس طوفان سے باہر نہیں نکل سکتا۔ چناچہ مجرم کو متعین کرنے کے لیے قرعہ کا فیصلہ کیا گیا۔ اگرچہ اسلام کسی کو قرعہ اندازی کے ذریعے مجرم ثابت کرنے کو جائز نہیں رکھتا، لیکن جہاز والوں نے اپنی روایت کے مطابق اس پر عمل کیا۔ اور کہا جاتا ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) سے ہی قرعہ اندازی کروائی گئی۔ کیونکہ جہاز میں سب سے زیادہ ثقہ اور باوقار وہی نظرآ رہے تھے، لیکن قدرت کی نیرنگی دیکھئے کہ قرعہ انھیں کے نام کا نکلا۔ وہ اس قرعہ کے مطابق سمندر میں لڑھکا دیے گئے۔ جیسے ہی حضرت یونس (علیہ السلام) پانی میں گرے ایک مچھلی نے انھیں نگل لیا۔ وہ مچھلی یقینا ویل اور شارک کی قسم کی مچھلیوں میں سے ہوگی جو آدمی کو سموچا نگل جاتی ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ جب مچھلی نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو نگلا تو وہ ملیم یعنی ملامت کے سزاوار تھے۔ یعنی جو افتاد ان کو پیش آئی وہ اس کے سزاوار تھے۔ کیونکہ جو فعل ان سے سرزد ہوا وہ ایک پیغمبر کی حیثیت سے ایسا تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے انھیں مستحقِ تنبیہ ٹھہرایا۔ انھوں نے یہ اقدام اگرچہ غیرت حق کی بنا پر کیا تھا اور نیک جذبہ اس کا محرک تھا لیکن پیغمبر کے ہر کام کے لیے اللہ تعالیٰ کا اذن ضروری ہے۔ ان کا بلند وبالا مرتبہ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا قریبی تعلق اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ کوئی کام بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کریں۔ اس وجہ سے ان پر سخت گرفت ہوئی۔
Ayahs 37:143–144

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

پس اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

تو وہ اسی مچھلی کے پیٹ میں رہتا لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک

فَلَوْلَآ اَنَّـہٗ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ ۔ لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِہٖٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ۔ (الصآفات : 143، 144) (پس اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا۔ تو وہ اسی مچھلی کے پیٹ میں رہتا لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک۔ ) تسبیح (آیت کریمہ) رحمتِ خداوندی کی ضمانت ہے قرآن کریم میں دیگر مواقع پر حضرت یونس (علیہ السلام) کے بارے میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہی حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں پہنچے تو آپ سمجھ گئے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے عتاب نے پکڑ لیا ہے۔ میں اپنے محل تبلیغ و دعوت اور اپنے مورچے سے اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی اجازت کے بغیر نکل آیا ہوں، اس کی وجہ سے یہ عتاب مجھ پر ہوا ہے۔ اب اس عتاب سے بچ نکلنے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ جس نے عتاب فرمایا ہے اسی کی رحمت کو پکارا جائے۔ اپنے قصور کا اعتراف کیا جائے اور اپنے آپ کو اس کے دروازے پر ڈال دیا جائے کیونکہ : جس نے دیا ہے درد، وہی چارہ گر بھی ہے کہنی ہے چارہ گر سے ہی خود چارہ گر کی بات چناچہ بےساختہ آپ کی زبان سے ہی نہیں بلکہ رگ و پے سے لاَاِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَـکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّلِمِیْنَ کی صدا گونجنے لگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس دعا میں یہ شان رکھی ہے کہ جو اسے دل کی آمادگی کے ساتھ پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مشکل آسان فرما دیتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کرم فرمایا اور مچھلی نے آپ کو دریا کی کسی ریتی پر اگل دیا۔ اور اگر آپ اللہ تعالیٰ سے یہ مناجات نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ قیامت تک کے لیے اسی مچھلی کے پیٹ میں پڑے رہتے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر حضرت یونس (علیہ السلام) تسبیح نہ کرتے تو وہ مچھلی قیامت تک زندہ رہتی بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس مچھلی کے پیٹ ہی کو حضرت یونس (علیہ السلام) کی قبر بنادیا جاتا۔
Ayahs 37:145–146

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ Open ayah 37:145 in the Quran reader

پھر ڈال دیا ہم نے اسے چٹیل میدان میں اور وہ نڈھال تھا

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ Open ayah 37:146 in the Quran reader

اور ہم نے اس پر ایک بیلدار درخت اگا دیا

فَنَبَذْنٰـہُ بِالْعَرَآئِ وَھُوَ سَقِیْمٌ۔ وَاَنْبَتْنَا عَلَیْہِ شَجَرَۃً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ ۔ (الصآفات : 145، 146) (پھر ڈال دیا ہم نے اسے چٹیل میدان میں اور وہ نڈھال تھا۔ اور ہم نے اس پر ایک بیلدار درخت اگا دیا۔ ) اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ظہور آخر مچھلی نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا کی کسی ریتی پر حضرت یونس (علیہ السلام) کو اگل دیا۔ آپ چونکہ مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے بالکل مضمحل اور نڈھال ہوگئے تھے اور کہا جاتا ہے کہ آپ کے جسم پر بال تک نہ رہے تھے۔ ایسی کمزور حالت میں نہ زمین کی سختی آپ کے لیے قابل برداشت تھی اور نہ موسم کی شدت۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایک بیلدار درخت آپ کے اوپر اگا دیا تاکہ اس کے پتے آپ کے لیے سایہ فراہم کریں اور اس کا رس آپ کے لیے غذا کا کام دے۔ یَقْطِیْنٍ اس درخت کو کہتے ہیں جس کا تنا نہ ہو۔ روایات میں ہے یہ کدو کی بیل تھی۔ اور شجرہ کا لفظ بتارہا ہے کہ یا تو اس کدو کی بیل کو اللہ تعالیٰ نے معجزہ کے طور پر تنہ دار بنادیا تھا اور یا کوئی اور درخت تھا جس پر وہ بیل چڑھا دی گئی تھی تاکہ اس سے گھنا سایہ میسر آسکے۔ ورنہ بیل سے سایہ ملنا مشکل تھا۔
Ayahs 37:147–148

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ Open ayah 37:147 in the Quran reader

ہم نے اسے ایک لاکھ یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ Open ayah 37:148 in the Quran reader

پس وہ لوگ ایمان لائے اور ہم نے انھیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا

وَاَرْسَلْنٰـہُ اِلٰی مِائَۃِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ ۔ فَاٰ مَنُوْا فَمَتَّعْنٰـھُمْ اِلٰی حِیْنٍ ۔ (الصآفات : 147، 148) ( ہم نے اسے ایک لاکھ یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا۔ پس وہ لوگ ایمان لائے اور ہم نے انھیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا۔ ) قوم کی طرف مراجعت اور قوم کی خوش نصیبی کچھ عرصہ بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کی حالت سنبھلی، آپ چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے غائب ہوجانے کے بعد جب آپ کی قوم نے عذاب کے آثار دیکھے تو وہ بچوں، بوڑھوں اور جانوروں سمیت گھروں سے باہر نکل آئے اور اللہ تعالیٰ سے انتہائی گریہ زاری کے ساتھ اپنی غفلت کی معافی مانگی، اپنے کفر اور شرک سے توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا۔ ان کے سر پر تلا ہوا عذاب ٹل گیا۔ یہ واحد قوم ہے کہ آیا ہوا عذاب اس سے واپس لے لیا۔ ان کے سر سے عذاب ٹلنے کی شاید وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر یہ سمجھ کر قوم سے نکل گئے کہ ان میں قبولیتِ ایمان کی صلاحیت نہیں۔ لیکن بعد میں قوم کی توبہ نے یہ ثابت کیا کہ ان میں ایمان کی صلاحیت موجود ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے انھیں چھوڑ کر جانے میں جلدی فرمائی۔ قوم نے توبہ کے ساتھ ساتھ حضرت یونس (علیہ السلام) کی تلاش بھی شدت سے جاری رکھی۔ حتیٰ کہ انھیں سمندر کے کنارے تلاش کرلیا۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو واپس اسی بستی یعنی نینوا میں جانے کا حکم دیا۔ چناچہ جیسے ہی آپ وہاں پہنچے لوگ دیوانہ وار آپ کی طرف لپکے اور ایمان لے آئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس وقت تک انھیں ایمان کی سعادت سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا اور جب تک انھوں نے اپنے ایمان کو شرک اور نافرمانی سے آلودہ نہیں کیا۔ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے یونس کو ایک لاکھ یا زیادہ لوگوں کی طرف بھیجا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو بستی میں رہنے والوں کی صحیح تعداد کا علم نہ تھا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ان کی بستی کو دیکھتا تو یہی اندازہ کرتا کہ اس شہر کی آبادی ایک لاکھ سے زائد ہی ہوگی کم نہ ہوگی۔ یہ عام گفتگو کا اسلوب ہے جسے یہاں ملحوظ رکھا گیا ہے۔ ویسے بھی دیکھا جائے تو کسی منظم ادارے یا منظم گروہ کی تعداد جو ہمیشہ شمار کی جاتی ہو اس کا تو ٹھیک ٹھیک اندازہ کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ لیکن قوموں کی تعداد یا شہر کی آبادی کے بارے میں کوئی متعین بات کہنا مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ بڑی آبادی والے شہروں یا قوموں میں زندگی اور موت کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ لوگ مرتے ہیں تو تعداد کم ہوجاتی ہے۔ نابالغ، بالغ ہوجاتے ہیں تو تعداد بڑھ جاتی ہے۔ بچے جوان ہوجاتے ہیں جو دوچار سال کا عمل ہوتا ہے تو تعداد کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔ بناء بریں ایک لاکھ کہنے کی بجائے اَوْ یَزِیْدُوْنَ فرمایا گیا تاکہ ان تمام امکانات کا احاطہ کرلیا جائے اور غلطی کا امکان باقی نہ رہے۔
Ayahs 37:149–150

فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ Open ayah 37:149 in the Quran reader

پس ان لوگوں سے پوچھئے کیا آپ کے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ہیں

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ Open ayah 37:150 in the Quran reader

کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں پیدا کیا اور وہ دیکھ رہے تھے

فَاسْتَفْتِھِمْ اَلَرِبِّکَ الْبَنَاتُ وَلَھُمُ الْبَنُوْنَ ۔ اَمْ خَلَقْنٰا الْمَلٰٓئِکَۃَ اِنَاثًا وَّھُمْ شٰھِدُوْنَ ۔ (الصآفات : 149، 150) (پس ان لوگوں سے پوچھئے کیا آپ کے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ہیں۔ کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں پیدا کیا اور وہ دیکھ رہے تھے۔ ) خاتمہ سورة کی آیات اور سابقہ مضمون کا اعادہ اور اختتام یہاں سے خاتمہ سورة کی آیات شروع ہورہی ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ جس مضمون سے اس سورة کا آغاز ہوا اسی پر اس کا اختتام بھی ہورہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب تک اس سورة میں جو کچھ کہا گیا ہے اب اس سورة کی آخری آیات میں اس کو Some off کیا جارہا ہے۔ انسان نے اسالیبِ کلام میں بہت ترقی کی ہے تب جا کر وہ وہاں پہنچا ہے جو قرآن کریم کا عام اسلوب ہے۔ لیکن بعض اسالیب ایسے ہیں جن پر ابھی تک انسان گرفت نہیں پاسکا۔ نہ اس کو پوری طرح سمجھ پایا ہے اور نہ اس کے استعمال پر قادر ہوا ہے۔ اس سورة کا آغاز ملائکہ کی الوہیت اور جنات کی غیب دانی کے ابطال سے ہوا ہے۔ اب آخر میں ان فرشتوں اور جنات کے بارے میں جو غلط عقائد لوگوں نے اختیار کر رکھے ہیں ان کا ابطال فرمایا جارہا ہے۔ وہاں بھی ان کے مشرکانہ خیالات کی تردید ایک سوال کی صورت میں شروع ہوئی تھی اور یہاں بھی سوال ہی سے اس کا آغاز کیا جارہا ہے۔ ملائکہ سے متعلق بعض قبائل کا عقیدہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب میں قریش، جہینہ، بنی سلمہ، خزاعہ اور بعض دوسرے قبائل کا عقیدہ یہ تھا کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ ان قبائل کے لوگ اس خیال سے ان کی پوجا کرتے اور قربانیاں دیتے تھے کہ اگر کبھی ہمیں پروردگار کی ناراضگی سے واسطہ پڑا تو پروردگار کی بیٹیاں ہمیں اس کے غضب سے بچا لیں گی۔ ان کے اس عقیدے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ سے کہا جارہا ہے کہ آپ ان سے پوچھئے کہ تم نے جو پروردگار کے متعلق یہ عقیدہ اختیار کر رکھا ہے کہ فرشتے اس کی بیٹیاں ہیں، کیا تم نے اس عقیدے کے اندر جو قباحتیں مضمر ہیں کبھی ان پر غور کیا ہے۔ ان میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ تم نے فرشتوں کو مونث گمان کر رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تمہیں اس کی خبر کیسے ہوئی کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے مونث پیدا فرمایا ہے۔ کیا فرشتوں کی تخلیق کے وقت تم موجود تھے، تم دیکھ رہے تھے کہ کس کس مخلوق کو پیدا کیا جارہا ہے اور ان میں مذکر کون ہے اور مونث کون ہے۔ اگر ایسی کوئی بات ہے تو اس کا ثبوت لائو۔ یہی مضمون سورة الزخرف میں بھی ان الفاظ میں بیان ہوا ہے : وَجْعَلُوا الْمَلٰئِکَۃَ الَّذِیْنَ ھُمْ عِبَادُالرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ط اَشَہِدُوْا خَلْقَھُمْ سَتُکْتَبُ شَہَادَتُھُمْ وَیُسْئَلُوْنَ ۔ ” کیا انھوں نے فرشتوں کو جو اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں عورتیں بنادیا ہے، کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے، ان کا یہ بیان لکھ رکھا جائے گا اور ان سے اس کی پرسش ہوگی۔ “
Ayahs 37:151–152

اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:151 in the Quran reader

خوب سن لو یہ لوگ محض من گھڑت طور پر یہ بات کہہ رہے ہیں

وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 37:152 in the Quran reader

کہ اللہ اولاد رکھتا ہے اور یہ بالکل جھوٹے ہیں

اَ لَآ اِنَّھُمْ مِّنْ اِفْـکِھِمْ لَیَقُوْلُوْنَ ۔ وَلَدَاللّٰہُ لا وَاِنَّھُمْ لَـکٰذِبُوْنَ ۔ (الصآفات : 151، 152) (خوب سن لو یہ لوگ محض من گھڑت طور پر یہ بات کہہ رہے ہیں۔ کہ اللہ اولاد رکھتا ہے اور یہ بالکل جھوٹے ہیں۔ ) غلط بات کا ثبوت مزید غلط بات سے وہ اوپر کی بات کا ثبوت تو کیا لائیں گے ان کی جہالت اور جسارت کا عالم یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد فرض کر رکھی ہے۔ نہ جانے کس کس کو اللہ تعالیٰ کی اولاد سمجھتے ہیں اور انھیں میں سے فرشتے بھی ہیں جن کو صرف اولاد ہی نہیں بلکہ اس کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ان کے پاس نہ کوئی عقلی ثبوت ہے اور نہ کوئی نقلی۔ بس اپنے جی سے کچھ باتیں گھڑ لی گئی ہیں اور انھیں عقیدے کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اور مزید جرأت کا عالم یہ ہے کہ ایسی ہی گھڑی ہوئی بعض باتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب بھی کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے وہ بالکل جھوٹے لوگ ہیں۔
Ayahs 37:153–155

اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ Open ayah 37:153 in the Quran reader

کیا اللہ نے بیٹوں پر بیٹیوں کو چنا ہے

مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 37:154 in the Quran reader

کیا ہے تمھیں، تم کیسے فیصلے کرتے ہو

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 37:155 in the Quran reader

کیا تم ہوش سے کام نہیں لیتے

اَصْطَفَے الْـبَنَاتِ عَلَی الْـبَنِیْنَ ۔ مَالَـکُمْ قف کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ ۔ اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (الصآفات : 153 تا 155) (کیا اللہ نے بیٹوں پر بیٹیوں کو چنا ہے۔ کیا ہے تمھیں، تم کیسے فیصلے کرتے ہو۔ کیا تم ہوش سے کام نہیں لیتے۔ ) اظہارِ تعجب اللہ تعالیٰ کی اولاد ہونے اور پھر فرشتوں کا اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہونے پر تو یقینا ان کے پاس نہ کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ کوئی نقلی۔ کیونکہ عقل اس بات کو کبھی باور نہیں کرسکتی کہ ایک واجب الوجود ذات جو ازل سے ہے اور جسے کبھی زوال نہیں، وہ ہر طرح کی احتیاج سے پاک ہے وہ جسم سے بھی مبرا ہے۔ کائنات کی ہر چیز اس کے سہارے سے باقی ہے۔ وہ خود کسی سہارے کی محتاج نہیں کہ ایسی ذات کی اولاد بھی ہوسکتی ہے ؟ اور جہاں تک نقلی دلیل کا تعلق ہے اس کے لیے کوئی ایسا قول یا ایسی روایت ہونی چاہیے جس کا کہنے والا جھوٹ کے ہر شائبے سے پاک ہو۔ ظاہر ہے ایسی بھی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں۔ بلکہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ عرف میں بھی کسی معزز ذات کے لیے ایسی کسی بات کو کبھی تسلیم نہیں کیا جاتا جسے معاشرے کا معروف اچھے اور عزت والے لوگوں کے لیے پسند نہ کرتا ہو۔ اس معاشرے کے وہ لوگ جو اپنے آپ کو بڑا غیرت مند اور عزت کی علامت سمجھتے ہیں وہ ہمیشہ بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ بیٹے کو اگر گوارہ کرتے بھی ہیں تو نہایت ناگواری کے ساتھ۔ تو سوال یہ ہے کہ وہ خالق کائنات جو عزت و حرمت میں سب سے بالا اور انتسابات میں سب سے اعلیٰ ہے اس کے بارے میں یہ کیسے فیصلہ کرلیا گیا کہ اس نے فرشتوں کو بیٹیاں بنایا اور پھر ان کو اپنے لیے پسند کرلیا۔ حالانکہ اگر اسے اپنے لیے کسی کو پیدا کرنا ہی تھا تو وہ بیٹیوں کے بجائے بیٹوں کو پیدا کرلیتا۔ یہ تو کسی طرح ممکن نہ تھا کہ جو مخلوق تمہارے نزدیک دوسروں سے کم تر ہے اسے وہ اپنے لیے اختیار کرلے۔ عقائد کے معاملے میں تمہاری ترجیحات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تم فیصلہ کرتے ہوئے ہوش سے کام نہیں لیتے۔ ورنہ تم اللہ تعالیٰ کے لیے کبھی وہ بات پسند نہ کرتے جو تم اپنے لیے پسند کرنے پر تیار نہیں ہو۔