37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsروح القرآن

Ayahs 37:79–82

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

اور سلامتی ہے نوح پر دنیا والوں میں

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزاء دیا کرتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے صاحب ایمان بندوں میں سے تھا

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا

سَلٰمٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ ۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ اِنَّـہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخِرِیْنَ ۔ (الصآفات : 79 تا 82) (اور سلامتی ہے نوح پر دنیا والوں میں۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزاء دیا کرتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے صاحب ایمان بندوں میں سے تھا۔ پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کے لیے دنیا ہی میں اظہارِتحسین اس سے بڑے اعزاز کی بات اور کیا ہوگی کہ دنیا ہی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے لیے تحسین و آفرین اور دنیا و آخرت دونوں میں برکت و سلامتی کی بشارت دی گئی ہے۔ اور بشارت بھی ایسی کتاب میں جو قیامت تک پڑھی جائے گی اور جس کی حامل امت قیامت تک اس دین کی امین بنائی گئی ہے جس دین کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) نے دکھ اٹھائے تھے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ایسی ہر دلعزیزی عطا فرمائی ہے کہ کسی مذہب کو ماننے والا ان کے بارے میں برا تصور نہیں رکھتا۔ تمام مذاہب کے پیروکار انھیں اپنا بزرگ جانتے اور ان کی تعظیم بجا لاتے ہیں۔ تمام محسنین کی یہی جزاء ہے اس کے بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا یہ اعزازو اکرام ان کی خصوصیت نہیں بلکہ ان صفات کا لازمی نتیجہ ہے جو انھوں نے اس کٹھن وادی میں انجام دیے۔ چناچہ جو شخص بھی راہ حق میں ایسی ہی استقامت، ایسی ہی جانفروشی اور ایسے ہی اللہ تعالیٰ پر بےپناہ اعتماد و توکل کا ثبوت دے گا اور وہ اس راستے میں مقام احسان پر فائز ہوگا یعنی اس کی حیثیت امام و قائد کی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ وہی معاملہ کرتا ہے جو اس نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کیا۔ سلام اس کا عنوان بنادیا جائے گا اور اس کی بیش بہا قربانیوں اور نیکیوں کا اسے بیش از بیش صلہ دیا جائے گا۔ اگلی آیت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے لیے ایک مستقل تاریخی سند جاری کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ مومن یہاں اپنے کامل معنی میں ہے۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) ہمارے ایسے بندے تھے کہ جنھیں ہماری ذات، ہماری صفات، ہمارے پیغام اور ہمارے وعدوں میں کبھی شک و شبہ اور اضمحلال کا شائبہ بھی نہیں ہوا۔ حالات کیسے بھی نامساعد رہے ان کی نظر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم، اس پر استقامت اور اس پر اجروثواب پر رہی ہے۔ ان کا دل ہمیشہ اس یقین سے لبریز رہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے کبھی ناکام نہیں ہونے دے گا، وہ اپنے بندوں کو کبھی ضائع نہیں کیا کرتا۔ ایک حقیقت کا انکشاف اگلی آیت میں ایک بہت بڑی حقیقت کا انکشاف کیا گیا ہے۔ دین حق سے برگشتہ اور دنیا ہی کو مطلوب و مقصود بنا کر زندگی کھپا دینے والے لوگ ہمیشہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہی اس دھرتی کا نمک ہیں۔ اور یہ دنیا ہمارے دم سے قائم ہے اور ہمارا وجود اس دنیا کے لیے باعث رحمت ہے۔ لیکن اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ وہ لوگ ہمارے یہاں قدروقیمت کے حامل ہوتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ اپنے لیے انتخاب کرلیتا ہے وہ لوگوں کی مخالفتوں کے زخم سہتے ہیں۔ اور راہ حق میں ہر چھوٹی بڑی مصیبت کو برداشت کرتے ہیں لیکن کبھی اپنے اللہ سے شکوہ نہیں کرتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے دین اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں۔ حق و باطل کی کشمکش میں جب آخری مرحلہ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نہ صرف بچا لیتا ہے بلکہ ہر طرح کے انعامات کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اور ان کے مقابلے میں دوسرے لوگ جو نہ جانے اپنے آپ کو کیا سے کیا سمجھتے تھے انھیں مٹا دیا جاتا ہے۔ جس طرح سونا خالص کرنے کے لیے کھوٹ جلایا جاتا ہے اسی طرح صاحب ایمان لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کی ایمانی صلاحیت کے باعث چھانٹ لیتا ہے اور باقی تمام لوگوں کو خش و خاشاک کی طرح جہنم میں جھونک دیتا ہے۔ یہ اس دنیا کی اصل حقیقت ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
Ayah 37:83

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور بیشک اسی کی جماعت میں سے ابراہیم بھی تھا

وَاِنَّ مِنْ شَیْعَتِہٖ لَاِبْرٰھِیْمَ ۔ (الصآفات : 83) (اور بیشک اسی کی جماعت میں سے ابراہیم بھی تھا۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کے قافلہ حق کے ایک سالار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں اس سے پہلے آیت 78 میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے طریقے کو بعد کے آنے والوں میں بھی باقی رکھا۔ پیش نظر آیت کریمہ اس کی دلیل ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک جلیل القدر شخصیت گزرے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے دور کا امام بنایا۔ اور آج دنیا میں تمام قابل ذکر مذاہب ان کو اپنا بزرگ مانتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں کہا گیا ہے کہ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی جماعت میں سے تھے۔ یعنی اہل حق کا وہ قافلہ جس کے سرخیل حضرت نوح (علیہ السلام) تھے ایک وقت آیا کہ اس کی قیادت و سیادت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سنبھالی۔ انھوں نے بھی اس راستے میں ایمان و احسان کی وہی قندیلیں روشن کیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے کی تھیں۔ اس راستے میں حضرت نوح (علیہ السلام) ہی کی طرح استقامت اور جانفروشی کی ہمیشہ رہنے والی مثالیں چھوڑیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ اسی صدق و اخلاص کا مظاہرہ کیا جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی روایت تھا۔ اندازہ کیجیے کہ جس قافلے کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسا قافلہ سالار ملے اس قافلے کے بارے میں کون کہہ سکتا ہے کہ وہ کبھی مٹ بھی سکتا ہے۔ تاریخ کے سفر میں نشیب و فراز کے مراحل تو آسکتے ہیں لیکن کبھی اس قافلے کا سفر رکنے میں نہیں آتا۔ کبھی اس قافلے کی قیادت حضرت نوح (علیہ السلام) نے کی تھی پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس کو نئی تاب و تواں بخشی، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی قیادت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سپرد فرمائی۔ درحقیقت تمام انبیاء و رسل کی ملت ایک ہی رہی ہے، راستہ ایک رہا ہے، دعوت میں کبھی تبدیلی نہیں آئی۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ کبھی اس کی علمبرداری کسی نے کی ہے اور کبھی کسی نے، لیکن یہ قافلہ رکنے کبھی نہیں پایا۔
Ayah 37:84

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جب وہ اپنے رب کے حضور قلب سلیم لے کے آیا

اِذْجَآئَ رَبَّـہٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ۔ (الصآفات : 84) (جب وہ اپنے رب کے حضور قلب سلیم لے کے آیا۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اصل سرمایہ قلب سلیم ہے اس راہ کے قافلہ سالاروں کی سب سے بڑی متاع یہ قلب سلیم ہے۔ اور یہی وہ علامت ہے جسے حنیفیت کہا گیا ہے۔ کیونکہ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو تمام اعتقادی اور اخلاقی خرابیوں سے پاک ہو، جو شرک و نفاق کے امراض سے بالکل محفوظ ہو، جس میں نافرمانی اور سرکشی کا کوئی جذبہ نہ پایا جاتا ہو، اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس کے تعلق میں کوئی الجھائو نہ ہو، اس کی منزل بھی اللہ تعالیٰ کی ذات ہو اور اس کا راستہ بھی صراط مستقیم ہو۔ اللہ تعالیٰ سے جس کی محبت میں کوئی دوسری محبت حائل نہ ہوسکے، بڑی سے بڑی قربانی اس کے لیے اس راستے کا ایک ایسا مرحلہ ہو جس سے گزرے بغیر دل کو تسکین نہ ملتی ہو۔ مزید یہ کہ ایسا گوہرگراں مایہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں لے کے آیا۔ کیونکہ اسے خوب معلوم ہے کہ دل کی بیداری اور آبادی بھی اسی محبوب و مطلوب سے ہے اور کسی اور کی پرچھائیں بھی اس دل میں اس محبوب کو گوارا نہیں۔ وہ اپنے دل کو ہر طرف سے صاف اور پاکیزہ کرکے اور ہر تمنا دل سے نکال کر اپنے رب کو دعوت دیتا ہے۔ ہر تمنا دل سے رخصت ہوگئی اب تو آجا اب تو خلوت ہوگئی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اسی کیفیت کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ مقام و مرتبہ اس عمر میں عطا فرما دیا تھا جس عمر میں جوانی دیوانگی کی منزلیں طے کرتی ہے۔ چناچہ اس نعمت سے سرشار ہونے کے بعد انھوں نے سب سے پہلے اپنے والد سے اور ان کے واسطے سے اپنی قوم سے خطاب کیا۔
Ayahs 37:85–86

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تم لوگ کس چیز کو پوجتے ہو

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا اللہ کے سوا دوسرے جھوٹ گھڑے ہوئے معبودوں کے طالب ہو

اِذْقَالَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖ مَاذَا تَعْبُدُوْنَ ۔ اَئِفْکًا اٰلِھَۃً دُوْنَ اللّٰہِ تُرِیْدُوْنَ ۔ (الصآفات : 85، 86) (جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تم لوگ کس چیز کو پوجتے ہو۔ کیا اللہ کے سوا دوسرے جھوٹ گھڑے ہوئے معبودوں کے طالب ہو۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت توحید اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو فکروعمل اور دعوت و تبلیغ میں چونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا جانشین اور ساتھی قرار دیا ہے۔ اس لیے یہ کیسے ممکن تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جو نورتوحید عطا کیا گیا تھا آپ اسے دوسرے لوگوں کے سامنے پیش نہ فرماتے۔ اور آپ کو جس قلب سلیم سے آراستہ فرما کر دنیا میں مبعوث کیا گیا تھا وہ دل آپ کو خاموش رہنے دیتا۔ اس لیے آپ نے اپنے والد اور اپنی قوم سے براہ راست پوچھا کہ زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا معبود کون ہے اور ہم کس کی بندگی بجا لاتے ہیں۔ کیونکہ اسی سوال کے جواب میں پوری زندگی کی سلامتی کی ضمانت ہے۔ کوئی انسان ایسا نہیں جو ہر طرح کی پرستش اور اطاعت سے بیگانہ ہو۔ کوئی شخص اگر مذہب سے لاتعلق ہونے کی بنا پر کسی بڑی ہستی کی پرستش یا اطاعت نہیں کرتا تو وہ اپنے نفس کی بندگی بجا لاتا ہے۔ ہَوائے نفس اور خواہشِ نفس اپنی ہدایت اور نگرانی میں وہ سب کچھ کرواتی ہیں جو ان کی پرستش کا تقاضا ہے۔ اس لیے انسان کی فطرت اور اس کی جبلت کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ اس سوال کا سامنا کرے۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سب سے پہلے یہی سوال کیا۔ اور اس سوال کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے بندے نہیں ہو تو پھر کیا تم نے اس کے مقابلے میں جھوٹ موٹ خدا بنا رکھے ہیں اور ان کی بندگی بجا لاتے ہو۔ حالانکہ اس سے بڑی بےحقیقت اور غلط بات اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ آدمی پرستش اور اطاعت سے تو انکار نہ کرے البتہ اس پرستش اور اطاعت کے لیے اپنے جی سے گھڑ کر کوئی معبود بنا لے اور اسی کی بندگی پر اصرار کرنے لگے۔
Ayah 37:87

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

تو رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے

فَمَا ظَنُّـکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الصآفات : 87) (تو رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے۔ ) مخالفین کے اعتقادات سے استدلال یعنی اگر تمہارے اپنے گھڑے ہوئے اور بنائے ہوئے خدا معبود ہوسکتے ہیں تو رب العالمین کے بارے میں تم کیا گمان رکھتے ہو۔ جس کے بارے میں تمہیں اعتراف ہے کہ وہ ساری کائنات کا خالق ومالک ہے، وہی ساری کائنات کا رب اور پالنے والا ہے، اسی کی ربوبیت کا فیضان کائنات کی ہر مخلوق کو پہنچ رہا ہے، وہی بےپایاں علم اور قدرت کا مالک ہے، کائنات میں بسنے والی کوئی مخلوق اس کے علم سے باہر نہیں اور کوئی مخلوق اس کی قدرت کو چیلنج نہیں کرسکتی۔ بڑی سے بڑی شخصیت بھی اس کے سامنے ذرہ ناچیز سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ وہ جس طرح مخلوقات کی ضروریات فراہم کررہا ہے اسی طرح ان کی حفاظت بھی کر رہا ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس ہمہ صفت موصوف ذات کو چھوڑ کر کسی اور کو رب یا معبود بنا لیا جائے جبکہ اس کے سوا ہر مخلوق فانی، عاجز، محتاج اور کائنات کی بیشتر مخلوقات سے بیخبر ہے۔ کائنات کی وسعتیں اس کی علمی بساط سے باہر ہیں۔ اس کا دامن مخلوقات کی ضروریات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ نہ وہ کسی کی زندگی کا کفیل ہے اور نہ کسی کو موت دینے پر قادر ہے۔ تو پھر اللہ رب العالمین کے مقابلے میں کسی اور کو معبود بنا لینا ایک ایسی جسارت ہے جسے نہ عقل قبول کرتی ہے نہ اخلاق اجازت دیتا ہے۔
Ayahs 37:88–90

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

پھر اس نے ستاروں پر ایک نظر ڈالی

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

اور کہا کہ میری طبیعت خراب ہے

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

پس وہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے

فَنَظَرَ نَظْرَۃً فِی النُّجُوْمِ ۔ فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ۔ فَتَوَلَّوْا عَنْہُ مُدْبِرِیْنَ ۔ (الصآفات : 88 تا 90) (پھر اس نے ستاروں پر ایک نظر ڈالی۔ اور کہا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ پس وہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ ) آیت کا پس منظر اور اس کا مفہوم اسی آیات کا پس منظر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت و تبلیغ کو ایک عرصہ گزر گیا تھا لیکن نہ گھر میں اس کے لیے جگہ بن سکی تھی نہ گھر سے باہر اسے کوئی ہمنوائی مل سکی۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ فیصلہ کرلیا کہ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے لوگوں میں ان کی گمراہی کھل کر سامنے آجائے۔ چناچہ آپ ایسی کسی بات کے حوالے سے ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ وہ دن آپہنچا جس میں قوم کے چھوٹے بڑے شوق اور رغبت سے ایک میلے میں شریک ہوتے تھے اور رات بھر مختلف دلچسپیوں میں کھوئے رہتے تھے اور میلے کا انعقاد معلوم ہوتا ہے شہر سے باہر ہوتا تھا۔ چناچہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان کے لوگ اس میلے میں شرکت کے لیے جانے لگے تو انھوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ ممکن ہے وہ یہ امید رکھتے ہوں کہ قوم کے اجتماعی عمل اور رویے کو دیکھ کر شاید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے خیالات میں تبدیلی لاسکیں۔ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کسی اور سوچ میں تھے ان کے دعوت دینے پر انھوں نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر ستاروں کو دیکھا اور کہا میری طبیعت کچھ مضمحل ہورہی ہے، میں رات بھر کی کسی مصروفیت میں شریک ہونے کے قابل نہیں۔ ان کا ستاروں کی طرف دیکھنا کوئی غیرمعمولی بات نہ تھی بلکہ ایک ایسا طریقہ تھا کہ گھڑی کی ایجاد سے پہلے وقت کا اندازہ کرنے کے لیے عام طور پر لوگ ایسا ہی کیا کرتے تھے اور انھیں ستاروں کی حرکت سے وقت معلوم کرلینے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی تھی۔ اکثر لوگ اس طریقے سے آگاہ تھے اور اس پر عمل کرتے تھے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ستاروں کی کسی تأثیر کے قائل تھے۔ عربی ادب کے حوالے سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ جب کوئی شخص یہ جملہ بولتا تھا تو اس سے غور کرنا مراد لیا جاتا تھا۔ ویسے بھی اکثر یہ بات مشاہدے میں آتی ہے کہ جب کسی شخص سے فوری فیصلے کی کوئی بات کہی جاتی ہے تو وہ عموماً اوپر سر اٹھا کر فضا میں تکتا ہے یا ستاروں کو دیکھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ غور و فکر کررہا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی جب میلے پر جانے کی دعوت دی گئی تو آپ چونکہ تبلیغ و دعوت کی ذمہ داریوں کے حوالے سے اکثر سوچ میں ڈوبے رہتے تھے تو آپ نے ستاروں کی طرف دیکھا یعنی غور کیا کہ کیا اس موقع کو مشرکین کے سامنے ان کے معبودوں کی بےبسی کو نمایاں کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا تاکہ وہ اپنے سامنے ایک محسوس مثال کو دیکھ کر اپنے مشرکانہ رویے پر نظرثانی کرسکیں۔ اس لیے آپ نے فیصلہ کرلیا کہ میں ان کے ساتھ جانے کی بجائے اس موقع سے فائدہ اٹھائوں۔ اب سوال یہ تھا کہ ان سے آخر جان کیسے چھڑائی جائے۔ تو آپ نے اس کے لیے فرمایا کہ میں سقیم ہوں۔ سقیم کا ایک معنی تو ہوتا ہے، بیمار۔ اس معنی کے لحاظ سے بھی یہ بات غلط معلوم نہیں ہوتی کیونکہ اس بات پر کوئی دلیل ہمارے پاس نہیں کہ اس وقت آپ فی الواقع بالکل صحت مند تھے۔ اور دوسرا معنی ہوتا ہے مضمحل ہونا۔ یعنی نڈھال اور ضعیف و ناتواں ہونا، جسم کا ٹوٹنا۔ اس معنی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ دن بھر کی تبلیغی کاوشوں اور مخالفین کی مخالفت سے نہایت تھکے ہوئے آزردہ اور مضمحل سے تھے۔ اس لیے اسی حوالے سے آپ نے جانے سے انکار کردیا۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ نے اپنی ساری تھکاوٹ اور ماندگی کو بھلا کر لوگوں کی غیرحاضری سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کرلیا۔ اور لوگوں نے آپ کی بجھی ہوئی طبیعت اور ناتوانی کو محسوس کرتے ہوئے اصرار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور آپ کو چھوڑ کر چلے گئے۔
Ayahs 37:91–93

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

پس وہ نظر بچا کر چپکے سے ان کے معبودوں کی طرف گیا بولا تم کھاتے کیوں نہیں ہو

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

کیا بات ہے تم کچھ بولتے بھی نہیں ہو

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

پھر گھسا ان پر مارتا ہوا داہنے ہاتھ سے

فَرَاغَ اِلٰٓی اٰلِھَتِھِمْ فَقَالَ اَلاَ تَاْکُلُوْنَ ۔ مَالَـکُمْ لاَ تَنْطِقُوْنَ ۔ فَرَاغَ عَلَیْھِمْ ضَرْبًا م بِالْیَمِیْنِ ۔ (الصآفات : 91 تا 93) (پس وہ نظر بچا کر چپکے سے ان کے معبودوں کی طرف گیا بولا تم کھاتے کیوں نہیں ہو۔ کیا بات ہے تم کچھ بولتے بھی نہیں ہو۔ پھر گھسا ان پر مارتا ہوا داہنے ہاتھ سے۔ ) بت خانے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ظرافت اور حمیت رات کا ایک حصہ گزر جانے پر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ اب پہریدار سو چکے ہیں اور بیشتر لوگ میلے کی دلچسپیوں میں کھو چکے ہیں تو آپ نظر بچا کر اس جگہ تک پہنچ گئے جہاں چھوٹے بڑے بت رکھے ہوئے تھے آپ نے دیکھا کہ بتوں کے سامنے مختلف قسم کے چڑھاوے رکھے گئے ہیں جن میں ہر طرح کی مٹھائیاں بھی تھیں۔ آپ نے بتوں سے مخاطب ہو کر کچھ طنزیہ فقرے چست کیے کہ تم کیسے معبود ہو، تمہارے عبادت گزاروں نے تمہارے سامنے لذیذ کھانے اور حلوے رکھے ہیں تم انھیں کھاتے کیوں نہیں۔ اور پھر مزید آگے بڑھے اور کہا کہ تم تو بولتے تک نہیں ہو۔ پھر آپ نے ان پر چند ہاتھ رسید کیے اور بہت سے بتوں کو توڑ پھوڑ کے رکھ دیا اور پھر خاموشی سے وہاں سے نکل گئے۔
Ayah 37:94

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

پھر وہ لوگ آگے حضرت ابراہیم کے پاس بھاگے ہوئے

فَاَقْـبَلُوْٓا اِلَیْہِ یَزِفُّوْنَ ۔ (الصآفات : 94) (پھر وہ لوگ آئے حضرت ابراہیم کے پاس بھاگے ہوئے۔ ) بت کدے کے ذمہ داروں کا تجسس میلے کی مصروفیت سے فارغ ہو کر معبد کے ذمہ دار جب واپس لوٹے اور انھوں نے بت کدے میں بتوں کی تباہی دیکھی تو سر جوڑ کر بیٹھے، تلاش شروع ہوئی کہ آخر یہ کس کی کارستانی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ یہاں شہر میں ایک نوجوان رہتا ہے وہ اکثر بت پرستی کی مذمت کرتے دیکھا گیا ہے یقینا یہ اسی کی کارروائی معلوم ہوتی ہے۔ چناچہ لوگ بھاگے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو آپ نے سب سے پہلے ان لوگوں کا مذاق اڑایا اور بڑے بت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان سب میں بڑا ہے یقینا اس نے یہ حرکت کی ہوگی اور ان کی حماقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مجھ سے کیوں پوچھتے ہو اپنے ان معبودوں ہی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے جن پر یہ مصیبت گزری ہے۔ اگر یہ اپنے سر پر آئی ہوئی مصیبت کو نہ خود دفع کرسکتے ہیں اور نہ اس کو بیان ہی کرسکتے ہیں تو آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں۔
Ayahs 37:95–96

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

حضرت ابراہیم نے کہا کہ تم اپنی ہی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

حالانکہ اللہ ہی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور ان چیزوں کو بھی جنھیں تم بناتے ہو

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ ۔ وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (الصآفات : 95 تا 96) (حضرت ابراہیم نے کہا کہ تم اپنی ہی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو۔ حالانکہ اللہ ہی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور ان چیزوں کو بھی جنھیں تم بناتے ہو۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعریض بتوں کے پجاریوں کو ملامت کرتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ شامت زدو ! تم جن کو اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو اور جنھیں اپنے ہاتھوں سے بناتے ہو انھیں کی پرستش کرتے ہو۔ اتنی موٹی سے بات تمہیں سمجھ نہیں آتی کہ انسان اپنے خالق کو تو اس لیے پوجتا ہے کہ اس نے اسے تخلیق کیا، لیکن تم ان کی پوجا کررہے ہوں جنھیں تم نے بنایا یا تراشا ہے۔ اس سے بڑھ کر خلاف عقل بات اور کیا ہوگی کہ مخلوق خالق کو پوجتی ہے اور تم اپنی مخلوق کو پوجتے ہو۔ یعنی جنھیں تم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔ اسی طرح جنات و ملائکہ میں سے جن کی تم پوجا کرتے ہو وہ نہ تمہارے خالق ہیں اور نہ مخلوق، بلکہ ان کا خالق بھی پروردگار ہی ہے اور وہ تمہاری طرح اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں، تو آخر مخلوق کا مخلوق کو پوجنا کہاں کی عقلمندی ہے۔
Ayahs 37:97–98

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

انھوں نے کہا اس کے لیے ایک مکان بنائو، پس اس کو آگ میں جھونک دو

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی تو ہم نے انھیں کو نیچا دکھادیا

قَالُوا ابْنُوْا لَـہٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْہُ فِی الْجَحِیْمِ ۔ فَاَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنٰـھُمُ الْاَسْفَلِیْنَ ۔ (الصآفات : 97، 98) (انھوں نے کہا اس کے لیے ایک مکان بنائو، پس اس کو آگ میں جھونک دو ۔ انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی تو ہم نے انھیں کو نیچا دکھادیا۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کی سازش اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دلائل کا جب ان سے جواب نہ بن پڑا اور وہ آپ کی گفتگو کے سامنے بےبس ہو کے رہ گئے تو تب انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس کے لیے ایک عمارت بنائی جائے اور اسے آگ سے بھر دیا جائے۔ یعنی ایک بڑا آتش کدہ تعمیر کیا جائے اور پھر کسی طرح سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں پھینک کر ختم کردیا جائے۔ البتہ آیت میں کید کے لفظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے کسی خفیہ چال کے ذریعے اس تدبیر کو بروئے کار لانا چاہا۔ ممکن ہے انھیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان کی طرف سے کسی مزاحمت کا اندیشہ ہو۔ کیونکہ بدویانہ دورزندگی میں خاندانی عصبیت بڑی اہمیت رکھنے والی چیز ہوتی ہے۔ اس خفیہ تدبیر کو انھوں نے کیا عملی شکل دی اس کا متعین جواب دینا تو مشکل ہے۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ بت خانے کے پروہتوں نے حکومت کی مدد سے کوئی ایسی تدبیر کرنا چاہی جس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی کا خاتمہ بھی ہوجائے اور لوگوں کو اس کی خبر بھی نہ ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسی کسی تدبیر میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آپ کو آگ میں نہ ڈال سکے کیونکہ سورة الانبیاء آیت 69 میں قرآن پاک کے الفاظ یہ ہیں قُلْنَا یَانَارُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلاَمًا عَلٰی اِبْرٰہِیْمَ ” ہم نے کہا اے آگ ! ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم کے لیے۔ “ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینک دیا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں بسلامت نکال دیا۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی حقانیت کو لوگوں کے سامنے اتنا نمایاں کردیا کہ اب خاموشی سے آپ کو نقصان پہنچانا ممکن نہ رہا۔ اب مخالفین اور حکومتِ وقت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ آپ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کردیں۔
Ayah 37:99

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

حضرت ابراہیم نے کہا میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں وہ میری رہنمائی فرمائے گا

وَقَالَ اِنِّیْ ذَاھِبٌ اِلٰی رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ ۔ (الصآفات : 99) (حضرت ابراہیم نے کہا میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں وہ میری رہنمائی فرمائے گا۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی محض اللہ تعالیٰ کے سہارے ہجرت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کے رویے کو دیکھتے ہوئے محسوس کیا کہ ان لوگوں سے ایمان قبول کرنے کی امید کارعبث ہے۔ اور حکومت اپنے انتہائی اقدام میں ناکام ہو کر یقینا کسی نئی تدبیر کی فکر میں ہے۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ میں اس شہر سے ہجرت کر جاؤں۔ لیکن جاؤں کہاں، اس کی کچھ خبر نہیں۔ جب اپنوں نے برداشت نہ کیا تو باہر اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت اور دعوت دینے والے کو کون برداشت کرے گا۔ دنیا میں میرا کوئی ایسا ٹھکانہ نہیں جس کی طرف رخ کروں۔ جہاں بھی جاؤں گا لوگ شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ اس لیے میں کسی ٹھکانے کے تصور سے یہاں سے ہجرت نہیں کررہا بلکہ میری ہجرت اپنے رب کی طرف ہے۔ اسی سے وفاداری کی پاداش میں یہاں سے نکالا جارہا ہوں اور اسی کی وفاداری کا حق ادا کرتے ہوئے ہر جگہ جانے کی کوشش کروں گا۔ رہی یہ بات کہ میں راستوں سے بیخبر ، منزلوں سے ناآشنا اور لوگوں کے لیے بیگانہ ہوں تو اس کی مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ جس اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر اتنا بڑا اقدام کررہا ہوں یقینا وہ مجھے راستہ دکھائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ اس کے اعتماد پر اس کے راستے پر چلنے والوں کو کبھی مایوس نہیں کیا کرتا۔ اس کا وعدہ ہے جسے قرآن کریم میں بھی دہرایا گیا ہے وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْ فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا ” اور جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کرتے ہیں ہم ان کے لیے اپنے راستے کھول دیتے ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ میرے لیے بھی راستے کھولے گا۔
Ayahs 37:100–101

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

اے میرے رب ! مجھے ایک بیٹا عطا فرما جو صالحوں میں سے ہو

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

تو ہم نے اس کو ایک بردبار لڑکے کی بشارت دی

رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ فَبَشَّرْنٰـہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ ۔ (الصآفات : 100، 101) (اے میرے رب ! مجھے ایک بیٹا عطا فرما جو صالحوں میں سے ہو۔ تو ہم نے اس کو ایک بردبار لڑکے کی بشارت دی۔ ) بیٹے کی دعا اور قبولیت قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ نے ہجرت کی ہے تو آپ کے ساتھ صرف آپ کی ایک بیوی اور ایک بھتیجے تھے جو حضرت لوط (علیہ السلام) کے نام سے معروف ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت عطا فرمائی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک آپ کی کوئی اولاد نہ تھی۔ تکالیف اور غربت میں یقینا بیوی انسان کا ایک بڑا سہارا ہوتی ہے لیکن بیٹا ایک ایسی ضرورت ہے جو اپنی ایک انفرادی حیثیت رکھتا ہے، جس سے دل کی دنیا بھی آباد ہوتی ہے اور امیدیں بھی جوان ہوجاتی ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور آپ کو ایک ایسے بیٹے کی بشارت دی گئی جو نہایت حلیم اور بردبار ہوگا۔ لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ آپ کی دعا کے نتیجے میں جلدی ہی آپ کو بیٹا عطا کردیا گیا۔ بلکہ دعا اور بشارت میں سالہاسال کا فصل حائل ہے۔ کیونکہ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قول نقل کیا گیا ہے اَلْحَمُدِللّٰہِ الَّذِیْ وَھَبَ لِیْ عَلٰی الْـکِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ ” شکر ہے اس اللہ کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے۔ “ بائیبل کا بیان ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر 86 برس کی تھی اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت 100 برس تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں بھائیوں کی عمر میں 14 سال کا فاصلہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس بیٹے کی دعا مانگی گئی تھی وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تھے، حضرت اسحاق (علیہ السلام) نہیں اور وہی آپ کی اکلوتی اولاد تھے۔
Ayah 37:102

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

پس جب وہ اس کے ساتھ دوڑدھوپ کرنے کی عمر کو پہنچا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا، اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں تو تو بتا تیری کیا رائے ہے ؟ بیٹے نے کہا، ابا جان ! آپ کو جو حکم دیا جارہا ہے اس کی تعمیل کیجیے، آپ انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ قَالَ یٰـبُـنَیَّ اِنِّیْٓ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْٓ اَذْبَحُکَ فَانْظُرْمَاذَا تَرٰی ط قَالَ یٰٓـاَبَتِ افْعَلْ مَاتُؤْمَرُ ز سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ ۔ (الصآفات : 102) (پس جب وہ اس کے ساتھ دوڑدھوپ کرنے کی عمر کو پہنچا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا، اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں تو تو بتا تیری کیا رائے ہے ؟ بیٹے نے کہا، ابا جان ! آپ کو جو حکم دیا جارہا ہے اس کی تعمیل کیجیے، آپ انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ ) آیت کی تشریح کے ضمن میں ایک ترتیب سے چند باتوں کی وضاحت آیتِ کریمہ میں پہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ بیٹا ذبح کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس وقت دیا تھا جب بیٹا ” سعی “ کی عمر کو پہنچ گیا تھا۔ سعی کا معنی ہوتا ہے دوڑنا پھرنا، دوڑدھوپ کرنا اور مختلف کاموں میں باپ کا ہاتھ بٹانا۔ یوں تو بیٹا ماں باپ کو ہمیشہ ہی پیارا ہوتا ہے۔ لیکن اکلوتا بیٹا تو پیارا ہی نہیں دلوں کا واحد سہارا ہوتا ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اس وقت تک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک ہی بیٹے تھے۔ سال ڈیڑھ سال بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی ہے۔ لیکن سعی کی عمر کو پہنچنے تک آپ کی اور کوئی اولاد نہ تھی۔ اور مزید یہ کہ آپ پیدا بھی اس وقت ہوئے ہیں جب آپ کی عمر 86 سال تھی۔ اکلوتا اور پھر بڑھاپے کی اولاد تو باپ کی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور تیسری بات یہ کہ اب آپ کا بچپنا ختم ہوچکا، لڑکپن بھی ختم ہونے کے قریب ہے، جوانی کے دن بہت دور نہیں، اس عمر میں کون ماں باپ ہیں جن کی امیدوں اور آرزوئوں کا مرکز صرف بیٹا ہو کر ہی نہ رہ جائے۔ بڑھاپے میں جوانی کے قریب پہنچنے والے بیٹے کی قربانی، کون اندازہ کرسکتا ہے کہ کتنا بڑا امتحان ہے۔ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چونکہ اللہ تعالیٰ کے خلیل تھے ان کے لیے ایسے امتحانات ناگزیر تھے تاکہ وہ محبت اور خلت میں اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرتے ہوئے دنیا کے لیے ایک مثال بن جائیں۔ چوتھی بات اس آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کو ذبح کرنے کا خواب ایک دفعہ نہیں دیکھا بلکہ ایک سے زیادہ مرتبہ آپ کو یہ خواب دکھایا گیا تھا۔ کیونکہ اگر آپ نے یہ خواب ایک ہی دفعہ دیکھا ہوتا اس کے لیے اِنِّیْٓ اَرٰی فِی الْمَنَامِ کی بجائے اِنِّیْٓ رَأَیْتُ فِی الْمَنَامِ زیادہ موزوں تھا۔ یہی بات صراحت کے ساتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے صاحبزادے سے فرمائی کہ بیٹے میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں، اب بتائو تمہاری رائے کیا ہے ؟ تاکہ کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے غور کرسکو کیونکہ یہ معاملہ بیداری کا نہیں، خواب کا ہے اور خواب کے الفاظ بعض دفعہ تعبیر میں صریح نہیں ہوتے۔ اور ویسے بھی خواب میں دیکھی ہوئی چیز اور فرشتے کا لایا ہوا حکم دونوں برابر کیسے ہوسکتے ہیں لیکن حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کم عمر ہونے کے باوجود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تربیت سے یہ بات جان چکے تھے کہ انبیاء کا خواب محض خواب نہیں ہوتا بلکہ وہ بھی وحی کی اقسام میں سے ایک قسم ہوتا ہے۔ اس لیے آپ نے فوراً جواب دیا کہ ابا جان جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے آپ اسے کر گزریئے۔ کیونکہ حکم خداوندی کے بعد غور و فکر اور لیت و لعل کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اقبال نے اسی کو فیضانِ نظر قرار دیتے ہوئے اظہارِتحسین کیا ہے : یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے مزید یہ عرض کی کہ آپ میری طرف سے مطمئن رہئے، آپ مجھے انشاء اللہ صابرین میں سے پائیں گے۔ اتنا بڑا دعویٰ امتثالِ امر کی اتنی بڑی مثال قربانی کا غیرمعمولی جذبہ لیکن اس کے لیے ادعا کی زبان اختیار نہیں کی گئی بلکہ انتہائی انکساری سے عرض کی کہ آپ انشاء اللہ تعالیٰ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔ یعنی مجھ سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں صبر و استقامت کے پیکر گزر چکے ہیں۔ مجھے کسی بڑی بات کا دعویٰ نہیں، میری تو صرف یہ آرزو ہے کہ اس راستے پر جن لوگوں نے صبر و استقامت کے چراغ جلائے ہیں میں بھی ان عظیم لوگوں میں شامل ہوجاؤں۔
Ayah 37:103

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

پس جب دونوں نے سرتسلیم خم کردیا اور ابراہیم نے بیٹے کو پیشانی کے بل پچھاڑ دیا

فَلَمَّـآ اَسْلَمَا وَتَلَّـہٗ لِلْجَبِیْنِ ۔ (الصآفات : 103) (پس جب دونوں نے سرتسلیم خم کردیا اور ابراہیم نے بیٹے کو پیشانی کے بل پچھاڑ دیا۔ ) تسلیم و اطاعت کا اصل مرحلہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے جواب کے بعد تسلیم و اطاعت کا وہ مرحلہ آیا جس کا تصور بھی پِتُّوں کو پانی کردینے کے لیے کافی ہے۔ دونوں باپ بیٹا منیٰ میں اس جگہ پہنچے جہاں آج کل ایام حج میں رمی جمرات کی جاتی ہے۔ باپ نے چھری نکال کر پتھر پر رگڑی اور بیٹے نے اطاعتِ امر کے لیے سر جھکا دیا۔ فرشتے یقینا سناٹے میں ہوں گے اور فضاء سہمی ہوئی ہوگی یا اللہ ! یہ کیا ماجرا ہے۔ باپ جو سرتاپا محبت و شفقت تھا اور بیٹا جو اطاعت و عقیدت کی تصویر تھا، آج یہ زندگی کا انوکھا باب کھولنے کے لیے کیوں تیار ہوگئے۔ فرشتوں نے بھی آج تک بےمثال عقیدت و اطاعت کی مثالیں قائم کی ہیں لیکن یہ ایک انوکھا تجربہ تھا جس سے انسانیت امتثالِ امر کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہی تھی۔ جب باپ بیٹا دونوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سپرد کردیا یعنی باپ نے فیصلہ کرلیا کہ میں زندگی بھر کے ارمانوں کو آج اللہ تعالیٰ کے حضور قربان کردوں گا۔ اور بیٹے نے عہد کرلیا کہ میں امرالٰہی کے سامنے سر ہلانے کی جرأت بھی نہیں کروں گا۔ تب باپ نے بیٹے کو اٹھایا اور منہ کے بل زمین پر پچھاڑ دیا، تاکہ جب پوری قوت سے گلے پر چھری چلانے کا وقت آئے تو بیٹے کی آنکھوں میں آئے ہوئے آنسو باپ کی قربانی کے جذبے میں کمزوری پیدا نہ کرسکیں۔ لیکن بعض اہل علم کا خیال ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی جس طرح مسلسل قربانی و ایثار کی مجسم تصویر تھی، اس میں اس بات کا بہت کم امکان تھا کہ بیٹے کی آنکھ میں آنسو ان کے پائے ثبات میں لرزش پیدا کرسکتے۔ آپ نے بیٹے کو منہ کے بل اس لیے پچھاڑا تھا تاکہ وہ بیٹے کو سجدے کی حالت میں قربان کریں۔ کیونکہ اسلام میں سجدے کی ہیئت اللہ تعالیٰ کے قرب کی سب سے بڑی علامت ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ ” سجدہ کر اور اپنے رب سے قریب تر ہوجا۔ “
Ayahs 37:104–105

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو آواز دی کہ اے ابراہیم

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

پس تم نے خواب سچ کر دکھایا، بیشک ہم بہترین نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

وَنَادَیْنٰـہُ اَنْ یّٰـاِبْرٰھِیْمُ ۔ قَدْصَدَّقْتَ الرُّئْ یَا ج اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (الصآفات : 104 تا 105) (اور ہم نے اس کو آواز دی کہ اے ابراہیم۔ پس تم نے خواب سچ کر دکھایا، بیشک ہم بہترین نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ ) نحوی تشریح اور امتحان میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فیروزمندی اس سے پہلے کی آیت لَمَّاسے شروع ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک یہ جملہ اس کا جواب ہے۔ لیکن بعض دیگر اہل علم کا گمان یہ ہے کہ یہ جملہ اس کا جواب نہیں بلکہ لَمَّاکا جواب محذوف ہے اور اسے ذکر کرنے کی بجائے قاری اور سامع کے ذہن پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کیونکہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی کیفیت اور جن کی وسعت الفاظ کے جامہ میں سما نہیں سکتی۔ باپ بیٹے کا اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سپرد کردینا اور پھر بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دینا اور چھری لے کر پوری قوت سے آمادہِ عمل ہوجانا اور بیٹے کا سر تک ہلانے سے بھی گریز کرنا، یہ اطاعتِ امر اور قربانی و ایثار کی ایسی مثال ہے جس کی کیفیت اور اثرات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے پروردگار نے اس کے جواب کو ذہن سامع پر چھوڑ دیا کہ وہ تصور کرے کہ یہ صورتحال دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے دریائے رحمت میں کیسا جوش آیا ہوگا اور پروردگار کو اپنے ان دونوں بندوں پر کیسا پیار آیا ہوگا۔ اسے محسوس تو کیا جاسکتا ہے، بیان نہیں کیا جاسکتا۔ بیان کی بہتر سے بہتر تعبیر بھی اس کیفیت کا حق ادا نہیں کرسکتی۔ البتہ اس رحمت کا ظہور اس طرح ہوا کہ پروردگار نے ابراہیم کو پکارا کہ اے ابراہیم ! ہم نے تجھے خواب میں ذبح کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، صرف ذبح کرتے ہوئے دکھایا تھا، وہ خواب تم نے پورا کر دکھایا۔ اگرچہ تم اس کا مفہوم یہی سمجھے کہ بیٹے کو ذبح کرنا ہے۔ اور تمہارے جوش و جذبہ نے قدم قدم پر اس کی تصدیق بھی کی۔ لیکن ہم یہ نہیں چاہتے کہ باپ کے ہاتھوں سے بیٹا ذبح ہو، ہم تو دونوں میں امتثالِ امر کا جذبہ دیکھنا چاہتے تھے۔ اب جبکہ تو نے اس جذبے کو سچا کر دکھایا ہے تو اب اپنا ہاتھ روک لو۔ ہم اپنے محسنین کو ایسی ہی جزاء دیا کرتے ہیں۔ احسان ہر اس نیکی کو کہتے ہیں جو اس طرح سے کی جائے جس طرح اسے کرنے کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ صدق و اخلاص میں کوئی کمی باقی نہ رہے۔ جو نیکی اور قربانی بھی اس جذبے کے ساتھ کی جائے گی ہم اسے تکلیف یا رنج و غم کا باعث نہیں بناتے، بلکہ اس کے ذریعے سے فضیلتوں کو ابھارنے اور مرتبہ و مقام میں ترقی دینے کا کام لیتے ہیں۔ اور آخرت میں ان ہی نیکیوں کو ابدی بادشاہی کی فیروز مندیوں کا ذریعہ بنائیں گے۔
Ayah 37:106

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

بیشک یہ ایک کھلی آزمائش تھی

اِنَّ ھٰذَا لَھُوَالْـبَلٰٓـؤُا الْمُبِیْنُ ۔ (الصآفات : 106) (بےشک یہ ایک کھلی آزمائش تھی۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عظیم قربانی کا صلہ دائمی قربانی یعنی باپ کو خواب میں یہ دکھانا کہ وہ بیٹے کو ذبح کررہے ہیں اور باپ اور بیٹے کا اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کی تعمیل ازبس ضروری ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی آزمائش تھی جس میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) پورا اترے اور اللہ تعالیٰ نے قَدْصَدَّقْتَ الرُّئْ یَافرما کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کامیابی کا اعلان فرمایا۔ اندازہ کیجیے جس آزمائش اور امتحان کو اللہ تعالیٰ مبین قرار دے اور اس میں کامیابی کا خود اعلان فرمائے تو اس کا اس کے سوا کیا مطلب ہے کہ ان باپ اور بیٹے نے ایک ایسی کامیابی حاصل کی ہے کہ اس آسمان کے نیچے نہ کسی کو اتنا بڑا امتحان پیش آیا اور نہ اس سے زیادہ شاندار کامیابی کسی نے حاصل کی۔
Ayah 37:107

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

ہم نے ایک بڑی قربانی فدیہ میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا

وَفَدَیْنٰـہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ ۔ (الصآفات : 107) (ہم نے ایک بڑی قربانی فدیہ میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا۔ ) ذبحِ عظیم قرار دینے کی وجہ اسے بڑی قربانی دو وجہ سے قرار دیا گیا ہے ایک تو اس لئے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قربانی درحقیقت دو قربانیوں کا مجموعہ تھی۔ ایک قربانی یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی ازاول تا آخر قربانی و ایثار کی داستان تھی۔ اور دوسری قربانی یہ کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) صبر و جانثاری کا ایک ایسا پیکر ثابت ہوئے کہ قیامت تک کے لیے وہ قربانی کا استعارہ بن گئے۔ تو وہ قربانی جو ان عظیم بندوں نے پیش کی اور اسے اللہ تعالیٰ نے ایک بینظیر قربانی کی نیت پورا کرنے کا ذریعہ بنایا۔ تو وہ یقینا اس قابل ہے کہ اسے ذبح عظیم قرار دیا جائے۔ اور دوسری وجہ اس کو ذبح عظیم قرار دینے کی یہ ہے کہ بائیبل اور اسلامی روایات دونوں میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب بیٹے کی قربانی کے لیے چھری گلے پر رکھ دی اور اسے پوری قوت سے چلایا تو تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی کہ ابراہیم اپنا ہاتھ روک لو۔ اور ایک مینڈھا آپ کے سامنے پیش کیا گیا کہ اسماعیل کے بدلے میں اس کو ذبح کردو۔ اور اسے ذبح عظیم اس لحاظ سے قرار دیا گیا کہ قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سنت جاری فرما دی کہ اسے مناسکِ حج میں شامل فرما دیا۔ اور جو لوگ حج پر نہ جاسکیں اور وہ قربانی دینے کی وسعت رکھتے ہوں تو انھیں اپنے گھروں میں قربانی دینے کا پابند کردیا۔ اور یہ ایسی قربانی ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے لے کر بلاانقطاع آج تک چلی آرہی ہے اور قیامت تک انشاء اللہ تعالیٰ جاری رہے گی۔
Ayah 37:108

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور اس کا ذکرخیر ہم نے بعد والوں میں چھوڑ دیا

وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ ۔ (الصآفات : 108) (اور اس کا ذکرخیر ہم نے بعد والوں میں چھوڑ دیا۔ ) آپ (علیہ السلام) کی جاں نثاری کی قبولیت یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس جاں نثاری اور فداکاری کو ایسی قبولیت عطا فرمائی کہ اس سنت کو بعد والوں میں بھی باقی رکھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکرخیر اور آپ کی تعریف و توصیف بھی بعد کی آنے والی نسلوں میں زندہ رکھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج کوئی آسمانی مذہب ایسا نہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بزرگوں میں شمار نہ کرتا ہو۔
Ayahs 37:109–110

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

سلامتی ہے ابراہیم پر

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

اسی طرح ہم خوبکاروں کو جزاء دیتے ہیں

سَلٰـمٌ عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ ۔ کَذٰلِکَ نْجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (الصآفات : 109، 100) (سلامتی ہے ابراہیم پر۔ اسی طرح ہم خوبکاروں کو جزاء دیتے ہیں۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صدق و اخلاص کے باعث دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے سلامتی لازم کردی ہے۔ آج بھی جو شخص ان کا ذکر کرتا ہے ان کی سلامتی کے لیے دعا بھی کرتا ہے۔ اور یہ سلامتی اور برکت کسی حسب و نسب کی وجہ سے نہیں بلکہ ان لوگوں کو ملتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ صدق و اخلاص، وفاداری و جانثاری اور اخلاصِ عمل میں ہر طرح کی کمزوریوں سے پاک ہوں۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یقینا ایسے تھے۔
Ayah 37:111

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

اِنَّـہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الصآفات : 111) (یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ ) مومن یہاں اپنے مکمل معنی میں ہے۔ علم الیقین ہو، عین الیقین ہو یا حق الیقین ہو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور آپ کے احکام کے بارے میں ہر طرح کے یقین کی قوت سے مالامال تھے۔ اور یہ یقین کی قوت ہی کے کرشمے ہیں کہ بڑی سے بڑی قربانی کے وقت بھی ان کے پائے استقامت میں کبھی تزلزل نہ آیا۔ ان کی پوری زندگی خودفراموشی اور اللہ تعالیٰ کی ہمہ وقتی یاد سے وابستہ ہے۔ وہ جانثاری اور فداکاری کی تصویر ہیں۔ ان کے ایمان کا کم سے کم درجہ وہ ہے جسے اقبال نے خراج تحسین پیش کیا ہے : یقیں مثل خلیل آتش نشینی یقیں اللہ مستی خود گزینی
Ayahs 37:112–113

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی، ایک نبی کی صالحین میں سے

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور ہم نے اسے اور اسحاق کو برکت دی اور ان کی ذُرِّیت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر کھلا ہوا ظلم کرنے والا ہے

وَبَشَّرْنٰـہُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ وَبٰـرَکْنَا عَلَیْہِ وَعَلٰٓی اِسْحٰقَ ط وَمِنْ ذُرِّیَّتِھِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّـنَفْسِہٖ مُبِیْنٌ۔ (الصآفات : 112، 113) (اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی، ایک نبی کی صالحین میں سے۔ اور ہم نے اسے اور اسحاق کو برکت دی اور ان کی ذُرِّیت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر کھلا ہوا ظلم کرنے والا ہے۔ ) حضرت اسحاق (علیہ السلام) قربانی کا انعام ہیں تورات کی روایت کے مطابق حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اس وقت پیدا ہوئے جبکہ ان کے والد ماجد کی عمر 86 سال تھی۔ اور تورات ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ کی عمر 13 سال کی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خواب میں انھیں ذبح کرتے ہوئے دکھایا۔ اور دونوں باپ بیٹا اس خواب کو اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر اس کی تعمیل کے لیے تیار ہوگئے۔ باپ اپنے بیٹے کے گلے پر امتثالِ امر میں یقینا چھری چلا دیتا اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ان کا ہاتھ نہ روک دیتا۔ یہ بہت بڑا امتحان تھا جس میں باپ بیٹا دونوں اللہ تعالیٰ کے یہاں سرخرو ٹھہرے۔ اس پر پروردگار نے خوش ہو کر اور انعام کے طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دوسرا بیٹا عطا فرمایا جن کا اسم گرامی اسحاق تھا۔ اور اس وقت ان کے والد ماجد کی عمر تورات کی روایت کے مطابق 100 سال ہوچکی تھی۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو صرف بیٹے کی بشارت ہی نہیں دی گئی بلکہ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ وہ نبی ہوں گے اور صالحین میں سے ہوں گے۔ اس سے پیچھے ہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جبکہ آپ کے یہاں کوئی اولاد نہ تھی بیٹے کے لیے دعا مانگی تھی تو یہ درخواست کی تھی کہ الٰہی ! وہ بیٹا صالحین میں سے ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے نزدیک اس بیٹے کی کوئی اہمیت نہیں جس میں صالحیت نہ پائی جاتی ہو۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں اولاد میں اضافہ پیش نظر نہیں ہوتا بلکہ وہ ایسی ذُرِّیت اور اولاد چاہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی اور اصلاحِ خلق کے لیے ان کا دست وبازو بن سکے۔ چناچہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو صالحین میں سے پیدا کیا گیا۔ اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنی قربانی دے کر ثابت کردیا کہ وہ اپنے والد ماجد کی آرزوئوں کا عین مصداق ہیں۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت دی تو انھوں نے فرمایا کہ کاش اسماعیل ہی تیرے حضور جیتا رہے۔ کیونکہ آپ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو پا کر اولاد کی طرف سے بالکل مطمئن ہوچکے تھے۔ ان حقائق کی بنا پر حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت دیتے ہوئے بطورِخاص پروردگار نے فرمایا کہ وہ صالح اور نبی ہوگا۔ اس پوری تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جس ترتیب کے ساتھ قرآن کریم نے قربانی کے واقعہ کو بیان کیا ہے اور پھر آخر میں جا کر حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی بشارت دی ہے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے یکے بعد دیگرے پیدا ہونے والے بیٹوں میں پہلے حضرت اسماعیل تھے اور اس کے بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) ۔ حضرت اسحاق قربانی کے واقعہ کے بعد پیدا ہوئے۔ وہ قربان ہونے والے فرزند نہیں بلکہ قربانی کا انعام ہیں جو اس دنیا میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ملا۔ اس سے یہ بات کھل جاتی ہے کہ یہود نے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے ذبیح ہونے کی جو روایات گھڑی ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ذبیح ہونے پر چند سامنے کی باتیں بعض باتیں بالکل پیش پا افتادہ ہیں۔ ان کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہود حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو کس طرح ذبیح قرار دیتے ہیں۔ مثلاً بائیبل سے یہ بات ثابت ہے کہ قربانی اکلوتے بیٹے کی مانگی گئی تھی اور یہ بات بھی بائیبل ہی سے معلوم ہوتی ہے کہ اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تھے، حضرت اسحاق نہیں۔ کیونکہ آج بھی بائیبل میں یہ بات صراحت سے موجود ہے کہ : ” اور ابراہام کی بیوی ساری کے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ اس کی ایک مصری لونڈی تھی جس کا نام ہاجرہ تھا اور ساری نے ابراہام سے کہا کہ دیکھ خداوند نے مجھے تو اولاد سے محروم رکھا ہے، سو تو میری لونڈی کے پاس جا، شاید اس سے میرا گھر آباد ہو۔ اور ابراہام نے ساری کی بات مانی۔ اور ابراہام کو ملک کنعان میں رہتے دس برس ہوگئے تھے جب اس کی بیوی ساری نے اپنی مصری لونڈی اسے دی کہ اس کی بیوی بنے۔ اور وہ ہاجرہ کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی۔ “ (پیدائش 16۔ 1۔ 3) ” اور جب اس کا بیٹا اضحاق اس سے پیدا ہوا تو ابراہام 100 برس کا تھا۔ بائیبل کے مندرجہ بالا حوالوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ 14 برس تک تنہا حضرت اسماعیل ہی حضرت ابراہیم کے بیٹے تھے۔ کیونکہ جب ابراہیم پیدا ہوئے ہیں تو بائیبل کی شہادت کے مطابق آپ کی عمر 84 برس تھی۔ اور جب حضرت اسحاق پیدا ہوئے تو آپ 100 سال کے ہوچکے تھے۔ اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ قربانی اکلوتے بیٹے کی مانگی گئی تھی۔ تو خود فیصلہ کرلیا جائے کہ اکلوتا کون تھا اور قربانی کس کی مانگی گئی اور ذبیح کون ہے۔ معتبر روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے فدیہ میں جو مینڈھا ذبح کیا گیا تھا اس کے سینگ خانہ کعبہ میں آویزاں کردیے گئے تھے۔ اور وہ حضرت عبداللہ ابن زبیر کے زمانے تک محفوظ رہے۔ ظالم حجاج بن یوسف کے سنگ باری کرنے پر خانہ کعبہ مسمار ہوا تو وہ سینگ بھی ضائع ہوگئے۔ ابن عباس گواہی دیتے ہیں کہ انھوں نے یہ سینگ خانہ کعبہ میں دیکھے تھے۔ بالکل سامنے کی بات ہے کہ مینڈھے کے سینگوں کا خانہ کعبہ میں پایا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ ملک شام میں نہیں بلکہ مکہ معظمہ میں پیش آیا تھا۔ اور حضرت اسماعیل کے ساتھ پیش آیا تھا۔ کیونکہ اللہ کے جس گھر کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے تعمیر کیا اسی میں ان کی یادگار بھی محفوظ رکھی گئی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے آنحضرت ﷺ کی بعثت تک جس طریقے سے حج کیا جاتا رہا اور مناسکِ حج ادا ہوتے رہے ان میں ہمیشہ قربانی شامل رہی۔ اور قربانی کے جانور منیٰ میں اسی جگہ ذبح کیے جاتے رہے جہاں قربانی کا یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ اور پھر آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد آپ نے بھی اس طریقے کو اسی طرح قائم رکھا، بلکہ جب صحابہ نے آپ سے پوچھا مَاھٰذِہٖ الْاَضَاحِیُّ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ” اے اللہ کے رسول، یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ “ آپ نے فرمایا ہٰذِہٖ سُنَّۃٌ اَبِیْکُمْ اِبْرٰہِیْمُ عَلَیْہِ السَّلاَ مُ ” یہ تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر آج تک ساڑھے چار ہزار سال تک متواتر عمل اس بات کا ناقابلِ انکار ثبوت ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس قربانی کے وارث بنی اسماعیل ہوئے ہیں، بنی اسحاق نہیں۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی نسل میں ایسی کوئی رسم کبھی جاری نہیں رہی جس میں ساری قوم بیک وقت قربانی کرتی ہو۔ اور اسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قربانی کی یادگار کہتے ہوں۔ دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے اسے برکت دی اور اسحاق کو برکت دی۔ بعض لوگوں نے ” اسے “ سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لیا ہے، یہ بات بالکل غلط ہے۔ اس لیے کہ یہاں دو شخصیتوں میں تقابل ہے اور وہ دونوں برابر کی ہیں۔ اگر ایک سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لیا جائے اور دوسری حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں تو نہ یہ دونوں برابر ہیں کیونکہ یہ دونوں باپ بیٹا ہیں۔ اور نہ ان میں تقابل صحیح ہے کیونکہ تقابل دو بھائیوں میں ہوتا ہے باپ اور بیٹے میں نہیں، جبکہ حضرت اسحاق حضرت ابراہیم کے بیٹے ہیں اس لیے ” اسے “ سے مراد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں بھائیوں میں تقابل کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان دونوں بھائیوں کو برکت عطا فرمائی۔ حضرت اسحاق کی اولاد میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور ان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ اور اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسی وسعت اور ایسی عزت عطا فرمائی کہ صدیوں تک انھوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کی علمبرداری کی۔ بڑی بڑی حکومتیں ان کی نگرانی میں بنتی اور ترقی کرتی رہیں اور صدیوں تک دینی امامت و قیادت کا علم ان کے ہاتھوں میں رہا۔ اسی طرح حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد بنی اسماعیل کہلائی۔ اور تمام اہل عرب ان کی اولاد ہی کو اپنا مقتداء اور پیشوا مانتے رہے۔ قبیلہ قریس جو براہ راست حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کہلاتا تھا نزول قرآن کے وقت تمام جزیرہ عرب پر ان کی سیاسی قیادت غالب تھی اور ہر جگہ ان کا احترام کیا جاتا تھا۔ سارا سال ان کے قافلہ تجارت پر کوئی ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہیں کرتا تھا جبکہ باقی قبائل اشہرحرم کے سوا سفر نہیں کرسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے گھر کی انھیں تولیت حاصل تھی۔ اللہ تعالیٰ کے گھر کا حج ان کی نگرانی میں انجام پذیر ہوتا تھا۔ یہ دو خاندان مشرق وسطیٰ میں خاص قدرومنزلت کے حامل تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں خاص برکت عطا فرمائی تھی۔ لیکن یہ تمام تر قدرومنزلت اور خیروبرکت اس انتساب کا نتیجہ تھا جو انھیں حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق (علیہما السلام) سے تھی۔ اور ان کی تمام تر دنیوی اور اخروی کامیابیاں اس دین سے متعلق رہنے اور اس کے اوامرونواہی پر عمل کرنے میں مضمر تھیں جو انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا تھا۔ ان کا یہ استحقاق ذاتی نہ تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کے نتیجے میں ان کو عطا ہوا تھا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کا یہ یاد دلایا گیا ہے کہ اب اگر تم صرف اس بات کو اپنے لیے سرمایہ عزت و افتخار بنا لو کہ تم ان بزرگوں کی اولاد ہو تو یہ فخر تمہارے کام نہیں آئے گا۔ اب تو یہ دیکھا جائے گا کہ تم میں محسن کون ہے اور ظالم کون ہے۔ ان میں کون اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا قائل اور اس کی اطاعت و بندگی کو اپنا وظیفہ حیات سمجھتا ہے اور وہ کون ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک بنا رکھے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اطاعت کو ضروری سمجھنے کی بجائے دوسروں کو اس میں دخیل مانتا ہے۔ یہ وہ بنیادی تصور ہے جس پر ان کی آئندہ زندگی کی خیروفلاح کا دارومدار ہے۔
Ayahs 37:114–116

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ Open ayah 37:114 in the Quran reader

ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان کیا

وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 37:115 in the Quran reader

اور ان کو اور ان کی قوم کو کرب عظیم سے نجات دی

وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ Open ayah 37:116 in the Quran reader

ہم نے ان کو نصرت بخشی، تو وہی غالب آنے والے بنے

وَلَقَدْ مَنَـنَّا عَلٰی مُوْسٰی وَھٰـرُوْنَ ۔ وَنَجَّیْنٰـھُمَا وَقَوْمَھُمَا مِنَ الْـکَرْبِ الْعَظِیْمِ ۔ وَنَصَرْنٰـہُمْ فَکَانُوْا ھُمُ الْغٰلِبِیْنَ ۔ (الصآفات : 114 تا 116) (ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان کیا۔ اور ان کو اور ان کی قوم کو کرب عظیم سے نجات دی۔ ہم نے ان کو نصرت بخشی، تو وہی غالب آنے والے بنے۔ ) حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں سے دو رسولوں کی سرگزشت کے بعض اہم گوشوں کا تذکرہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں یوں تو بڑے بڑے لوگ پیدا ہوئے اور انھیں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی عظمت سے نوازا۔ لیکن ان میں سب سے زیادہ نمایاں قدوقامت کی حامل دو شخصیتیں ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بنادیا اور جنھوں نے بنی اسرائیل کی تاریخ میں سب سے زیادہ اپنا وزن محسوس کرایا، وہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) تھے۔ یہ دونوں ایک ایسی قوم میں پیدا ہوئے جو غلامی کی طویل رات کی وجہ سے آزادی کی سحر طلوع ہونے کی امید کھو چکے تھے۔ اور حکمرانوں کے بدترین ظلم اور قابل نفرت رویے کی وجہ سے ان کے اندر آزادی کی تڑپ، خاندانی خصوصیات اور اجتماعی علامات اپنا توازن کھو چکی تھیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان دونوں بھائیوں کو شخصیت کا ایسا حُسن، اللہ تعالیٰ کے دین پر ایسی استقامت اور اپنی خصوصی تائید و نصرت سے اس طرح نوازا تھا کہ چند ہی سالوں میں فرعون اور آل فرعون جیسے جبار دشمن کو شکست دے کر بنی اسرائیل کو اس عظیم ابتلاء سے نجات دینے میں کامیاب ہوگئے جس میں وہ صدیوں سے مبتلاء تھے۔ ان کی غلامی کی زنجیریں توڑ ڈالیں اور غلاموں سے بدتر جو ان کے ساتھ سلوک ہورہا تھا اسے ختم کر ڈالا۔ اور بنی اسرائیل اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود ان دو بزرگوں کی نگرانی اور تربیت سے ایک ایسی عظیم امت بن کر اٹھے جس نے صدیوں تک اپنی عظمت کے جھنڈے لہرائے۔ تیسری آیت میں فرمایا کہ ہم نے ان کی مدد کی۔ اس مدد سے مراد وہ تمام آزمائشیں بھی ہوسکتی ہیں جن سے فرعون اور آل فرعون کو ہراساں کیا گیا۔ اور انھیں باور کرایا گیا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے دین کا راستہ روکنے سے باز نہ آئے تو کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوسکتا ہے۔ اس سے وہ نصرت بھی مراد لی جاسکتی ہے جس سے بنی اسرائیل مصر سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اور پھر جب بحرقلزم نے ان کا راستہ روکا اور فرعون کی فوجیں سر پر پہنچ گئیں تو محض اللہ تعالیٰ کی نصرت سے قلزم کا پانی سمٹ گیا اور بنی اسرائیل کو دریا پار کرنے کے لیے راستہ مل گیا۔ اسی طرح اس سے مراد وہ نصرتیں بھی ہوسکتی ہیں جو صحرائے سینا میں مصر سے نکلنے کے بعد من حیث القوم بنی اسرائیل کو وقتاً فوقتاً میسر آتی رہیں۔ حتیٰ کہ وہ اردن اور فلسطین پر قابض ہونے میں کامیاب ہوگئے۔