36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsروح القرآن

Ayahs 36:1–4

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قسم ہے قرآن حکیم کی

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

کہ آپ یقینا رسولوں میں سے ہیں

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

آپ سیدھے راستے پر ہیں

یٰسٓ۔ وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ ۔ اِنَّـکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْن۔ َ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (یٰسٓ: 1 تا 4) (یٰسٓ۔ قسم ہے قرآن حکیم کی۔ کہ آپ یقینا رسولوں میں سے ہیں۔ آپ سیدھے راستے پر ہیں۔ ) یٰسٓ، حروفِ مقطَّعات میں سے ہے۔ ان پر بحث ہم سورة بقرۃ کے آغاز میں کرچکے ہیں۔ اس لحاظ سے بہتر یہی ہے کہ یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کے معنی اور مفہوم کو جانتا ہے۔ امام مالک اسے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام قرار دیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ( رض) سے ایک روایت اسی کی تائید میں ہے اور دوسری روایت یہ ہے کہ یہ حبشی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں، اے انسان۔ اور مراد اس سے نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ بعض مفسرین نے اسے ” یاسید “ کا مخفف بھی قرار دیا ہے۔ اس تاویل کی رو سے ان الفاظ کے مخاطب نبی کریم ﷺ ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت پر قرآن حکیم سے استدلال دوسری آیت میں قرآن حکیم کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ یقینا اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے ہیں۔ ہم اس سے پہلے ایک سے زیادہ مرتبہ اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ جس لفظ پر وائو قسمیہ داخل ہوتی ہے، اسے قسم کہتے ہیں اور اس کے بعد کا آنے والا جملہ جوابِ قسم یا دعویٰ کہلاتا ہے۔ اور یہ قسم اپنے جوابِ قسم یا دعویٰ کے لیے دلیل ہوتی ہے۔ یہاں قرآن کریم کو نبی کریم ﷺ کے رسول ہونے پر دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اور ساتھ ہی قابل لحاظ بات یہ ہے کہ صرف قرآن کو دلیل یا گواہ کے طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ قرآن حکیم کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے رسول ہونے پر ایک محکم دلیل یہ ہے کہ آپ اُمّیِ محض ہیں۔ آپ کا خاندان، آپ کی قوم اور آپ کا گردوپیش ازاول تا آخر اُمّی ہے۔ یعنی نہ آپ نے کسی تعلیمی ادارے میں تعلیم پائی اور نہ کسی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے۔ اور نہ آپ کی قوم میں تعلیم و تعلّم کا رواج رہا، اور نہ آپ کے ماحول میں سیکھنے سکھانے کا چلن رہا، جس سے یہ شبہ کیا جاسکتا کہ آپ جو علم و دانش اور حکمت کی باتیں قرآن کریم کی صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے اور نظام زندگی پیش کررہے ہیں اس کا ایک فلسفہ ہے، اس میں نظم و ضبط ہے، اس میں انفرادی ضرورتوں کا حل بھی ہے اور اجتماعی ضرورتوں کا بھی۔ اس میں زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں مکمل ہدایات موجود ہیں۔ اور کوئی شعبہ دوسرے شعبے سے متصادم نہیں۔ اور پھر اس نظام میں آئین اور قانون بھی ہے، مکارمِ اخلاق بھی ہیں، معاشرت کے اصول بھی ہیں، معیشت کی بنیادیں بھی ہیں، سیاست کے آداب بھی ہیں، بین الاقوامی روابط بھی ہیں، عدالت کا باقاعدہ ایک ضابطہ ہے۔ غرضیکہ زندگی رواں دواں شکل میں کسی تصادم کے بغیر ہر ضرورت کو پورا کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ایسی حکیمانہ تعلیم کے لیے جس طرح کے الفاظ کا انتخاب کیا گیا ہے، جیسے اس کی ترکیب آرائی کی گئی ہے، اس میں جو فصاحت و بلاغت کارفرما دکھائی دیتی ہے اور پھر اسی پر اکتفا نہیں بلکہ بعد کی آیت میں فرمایا گیا ہے آپ صراط مستقیم پر ہیں۔ یہ اِنَّ کی دوسری خبر ہے اور اس کا بغیر حرف عطف کے آنا اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کریم جس طرح آپ کے رسول ہونے کی دلیل ہے اسی طرح آپ کے صراط مستقیم پر ہونے کی بھی گواہی دے رہا ہے۔ کیونکہ اس راہ پر عقل و فطرت کا سایہ ہے۔ اس میں کہیں ایچ پیچ نہیں۔ اس کا ہر سنگ میل واضح اور اس کی منزل متعین ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسی کتاب جس کی حکمت و دانش اور جس کی فصاحت و بلاغت کا یہ عالم ہے اور وہ ایک اُمّی شخص کی زبان سے ادا ہورہی ہے تو ایسے اُمّی شخص کو اگر اللہ تعالیٰ کا رسول تسلیم نہ کیا جائے تو اس سے بڑھ کر عقل اور فطرت کا کوڑھ اور کیا ہوگا۔ اور کج فکری اور کج روی کی اور دلیل کیا ہوگی۔ یہ بات یاد رہے کہ یہاں نہایت مؤکد انداز میں جس طرح آپ کے رسول ہونے کا ذکر کیا گیا ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کو خود اپنی رسالت سے متعلق کوئی شک تھا۔ بلکہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ سورة مکی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ مکی زندگی میں قدم قدم پر مخالفین آپ کی نبوت اور رسالت کو چیلنج کرتے تھے۔ اور بار بار آپ کو ان کے اعتراضات کا جواب دینا پڑتا تھا۔ چناچہ ایسی صورتحال میں لازمی بات تھی کہ سورة یٰسٓجیسی اہم سورة کے نزول کے وقت جس میں نہایت پرزور انداز میں اسلام کے بنیادی عقائد کا ذکر کیا جارہا ہے آپ کی رسالت کا اثبات کیا جاتا۔ اور وہ بھی خارجی دلائل سے نہیں بلکہ خود قرآن کریم سے، تاکہ بیک وقت ان دو بنیادی صداقتوں کو ثابت کرنے کا ذریعہ بن جاتا۔
Ayahs 36:5–6

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

اس قرآن کو نہایت اہتمام سے اتارا ہے زبردست رحم والے نے

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ آپ خبردار کریں ایک ایسی قوم کو جن کے باپ دادا کو خبردار نہیں کیا گیا، پس وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِالرَّحِیْمِ ۔ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّـآ اُنْذِرَ اٰبَـآؤُھُمْ فَھُمْ غٰفِلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 5، 6) (اس قرآن کو) نہایت اہتمام سے اتارا ہے زبردست رحم والے نے۔ تاکہ آپ خبردار کریں ایک ایسی قوم کو جن کے باپ دادا کو خبردار نہیں کیا گیا، پس وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ) قرآن کریم کی عظمت و اہمیت گزشتہ آیتوں میں قرآن کو شاہد بنا کر اور جس کی قسم کھا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ یقینا اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے ہیں اور صراط مستقیم پر ہیں، پیش نظر آیت کریمہ میں اسی قرآن کریم اور اس کے نازل کرنے والے کی اہمیت و عظمت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ تَنْزِیْلَکا لفظ یہاں منصوب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں فعل محذوف ہے۔ اور پھر اس لفظ کا تعلق باب تفعیل سے ہے، جس کا معنی صرف اتارنا نہیں بلکہ نہایت اہتمام کے ساتھ درجہ بدرجہ اتارنا ہے۔ اور یہ ایسا اہتمام ہے جو کسی اور کتاب کے نزول میں ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ اس کو بوقت ضرورت موقع کی مناسبت سے اس طرح نازل فرمایا گیا کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) کی آمد آنحضرت ﷺ کے لیے تقویت کا باعث بھی بنتی رہی اور اس کے مفہوم و معنی کو متعین کرنے، مراد کو واضح کرنے، ابہامات کو کھولنے اور مجملات کو تفصیلات میں بدلنے کا کام بھی ساتھ ساتھ ہوتا رہا ہے۔ اور سوالات کا جواب بھی بروقت آپ پر نازل ہوتا رہا۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا تاکہ ایمان لانے والوں کی ذہنی اور عملی تربیت ساتھ ساتھ ہوتی رہے اور جن لوگوں کو ایمان لانے کی دعوت دی جارہی ہے ان کے تحفظات کو بھی دور کیا جاتا رہے اور ان پر اتمامِ حجت بھی ہوتا رہے۔ اور مزید یہ کہ جس ذات نے اس قرآن عظیم کو اتارا ہے اس کی دو صفتوں کا حوالہ دے کر ایک عظیم حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ ان دو صفات میں سے پہلی صفت عزیز ہے۔ یعنی جس ذات نے اس قرآن کو اتارا ہے وہ غالب ہے، وہ بےپناہ قدرت کی مالک ہے، اس علم کی نارسائی کے ہر عیب سے پاک ہے، وہ اپنی مخلوقات کی کسی ضرورت سے بیخبر نہیں۔ اس نے نوع انسانی کی ضرورتوں کو جانتے ہوئے اس کتاب کو اتارا ہے۔ تو جو لوگ اس کی تکذیب کرنے کی جسارت کریں انہیں ذہن میں یہ بات رکھنی چاہیے کہ یہ کتاب کسی سائل کی درخواست نہیں کہ جس کے ساتھ جو سلوک بھی کیا جائے کوئی پوچھنے والا نہیں، بلکہ یہ ایک عزیز و مقتدر ذات کا فرمان واجب الاذعان ہے جسے بہرصورت غالب اور نافذ ہونا ہے۔ انکار کرنے والے ممکن ہیں یہاں بھی پکڑے جائیں، ورنہ قیامت کے دن تو ان کو کوئی پناہ دینے والا نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ آج ان سرکشوں کو ڈھیل کیوں دی جارہی ہے اور ان پر عذاب کیوں نہیں نازل ہورہا۔ اس کے لیے پروردگار کی دوسری صفت لائی گئی کہ وہ عزیز ہونے کے ساتھ ساتھ رحیم بھی ہے۔ وہ جس طرح اس کتاب پر ایمان لانے والوں کے ساتھ رحمت کا سلوک کرتا ہے اور دنیا میں بھی ان کو سرفرازی دیتا ہے اور آخرت میں بھی بےپایاں رحمتوں سے نوازے گا۔ اسی طرح اس کی تکذیب کرنے والے بھی محض اس لیے آج تک بچے ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ بھی رحمت کا معاملہ کرتے ہوئے ڈھیل پہ ڈھیل دیتا چلا جارہا ہے تاکہ وہ اگر سنبھلنا چاہیں تو سنبھل جائیں ورنہ ان پر اتمام حجت ہوجائے۔ اور قیامت کے دن ان کے چھوٹنے کی کوئی صورت نہ رہے۔ نزول قرآن کا مقصد اور بنی اسماعیل کو تنبیہ اگلی آیت کریمہ میں قرآن کے نازل ہونے کا اصل مقصد بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو اس اہتمام کے ساتھ اس لیے اتارا ہے تاکہ آپ اس قوم کو اس کتاب کے ذریعے انذار کریں جن کی طرف آج تک کوئی خبردار کرنے والا اور کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ یعنی ان کے آباواجداد انذار نہیں کیے گئے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سرزمین پر رہنے والوں کو اس تعلیم و ہدایت سے کبھی بہرہ ور نہیں کیا گیا جو آخرت میں سرخرو ہونے کے لیے ضروری ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے بعد براہ راست ان کی طرف کوئی رسول نہیں آیا۔ جہاں تک ہدایت کا تعلق ہے عرب کے دوسرے علاقوں میں اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول آتے رہے اور ان کی تعلیم اور ہدایت کا اثر ان لوگوں تک بھی پہنچتا رہا۔ اور اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جب تک کہیں ہدایت کے اثرات رہتے ہیں وہاں وہ نئے رسول اور نبی کو مبعوث نہیں کرتا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر قرآن کریم کی گواہی کے مطابق کچھ صحیفے بھی نازل ہوئے۔ اسی طرح حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پر بھی ممکن ہے کہ کچھ صحائف نازل ہوئے ہوں۔ لیکن اہل عرب نے ان صحیفوں کو باقی نہیں رکھا۔ البتہ ان دونوں پیغمبروں کی زبانی ہدایات کا کسی نہ کسی حد تک ان کے اندر چلن رہا۔ اور ان کی ہمسائیگی میں بنی اسرائیل میں جو رسول مبعوث ہوتے رہے ان کے اثرات بھی ان تک پہنچتے رہے۔ اسی طرح حضرت شعیب اور حضرت ہود (علیہما السلام) کی تعلیمات کا کچھ نہ کچھ حصہ ان تک پہنچا۔ اس لیے ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے بالکل محروم تھے۔ البتہ یہ بات ضرور صحیح ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے بعد براہ راست ان کی طرف کوئی رسول نہیں آیا۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں جس رسول کی بعثت کی دعا مانگی تھی اور جس امت مسلمہ کے اٹھائے جانے کی ابتدا کی تھی اس کا ٹھیک وقت یقینا وہی ہوسکتا تھا جب کہ دیگر انبیاء و رسل کی ہدایت اور تعلیمات کا اثر قریب الاختتام ہوتا۔ اور ملت ابراہیمی کے اثرات بھی آخری لمحوں کو چھونے لگتے۔ چناچہ جیسے ہی یہ وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں کی طرف انہیں میں سے اس آخری نبی اور رسول کو بھیجا جو قیامت تک کے لیے پوری نوع انسانی کے لیے ہدایت کا سامان لے کر آیا۔ کیونکہ اب اگر اللہ تعالیٰ کے آخری رسول تشریف نہ لاتے اور قرآن کریم نازل نہ ہوتا تو پھر اہل عرب کے غفلت سے نکلنے کی کوئی صورت ممکن نہ تھی۔
Ayah 36:7

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

البتہ ثابت ہوچکی ہے ان میں سے اکثر پر ہماری بات، سو وہ ایمان نہیں لائیں گے

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓی اَکْثَرِھِمْ فَھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 7) (البتہ ثابت ہوچکی ہے ان میں سے اکثر پر ہماری بات، سو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں اہل مکہ اور دیگر اہل عرب کی طرف براہ راست آپ کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے جس پر قریش اور دیگر مخالفین کو شکرگزار ہونا چاہیے لیکن بعض عوارض کے باعث قریش کا جو کچھ حال ہوچکا ہے اس کے پیش نظر آپ کو یہ توقع نہیں ہونی چاہیے کہ وہ سب لوگ آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ ان میں بہت سے ایسے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی بات ثابت ہوچکی ہے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے قانون کی زد میں آچکے ہیں۔ اس کا قانون یہ ہے کہ جو لوگ داعی الی اللہ کی ہر ممکن کوشش کے باوجود اس کی دعوت پر کان دھرنا بھی گوارا نہیں کرتے اور اتباعِ ہَویٰ میں اس حد تک ڈوب جاتے ہیں کہ نہ اپنی عقل سے کام لیتے ہیں اور نہ پیغمبر کی ہدایت کو دیکھنا گوارا کرتے ہیں، رفتہ رفتہ ان سے قبولیتِ حق کی استعداد چھین لی جاتی ہے اور وہ ہدایت سے محروم کردیے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ آپ کو ایسے لوگوں کے لیے کبھی فکرمند نہیں ہونا چاہیے۔
Ayah 36:8

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک ہیں پس ان کے سر اٹھے ہوئے ہیں

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْٓ اَعْنَاقِہِمْ اَغْلٰـلًا فَھِیَ اِلَی الْاَذْقَانِ فَھُمْ مُّقْمَحُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 8) (ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک ہیں پس ان کے سر اٹھے ہوئے ہیں۔ ) مخالفین کے ایمان نہ لانے کا سبب سابقہ آیت میں جن لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے اس آیت کریمہ میں اس کی وجہ بیان فرمائی گئی ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا سبب ان کا استکبار اور ان کی ہٹ دھرمی ہے۔ یہ ہٹ دھرمی ان کے گلے کا طوق بن گئی ہے، جس طرح طوق اگر گردن سے ٹھوڑی تک لٹک رہا ہو تو وہ گردن کو اوپر اٹھنے نہیں دیتا، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان مشاہدے اور غور و فکر سے محروم ہوجاتا ہے۔ اب وہ اگر صحیح بات تک پہنچنا بھی چاہے تو اس کی استعداد جواب دے جاتی ہے اور مزید یہ کہ ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں۔ مقمحدراصل اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کا سر پیچھے کو کھینچ کر اس طرح باندھ دیا جائے کہ وہ نہ دائیں بائیں دیکھ سکے اور نہ نیچے ہوسکے۔ یہ درحقیقت ان کے استکبار کی تصویر ہے۔ ان کا تکبر اور خودپسندی ان کے سروں کو نیچے نہیں ہونے دیتی۔ اس طرح سے وہ قبولیتِ حق کی استعداد سے محروم ہونے کی وجہ سے قبولیتِ ایمان کی دولت سے محروم ہوگئے ہیں۔
Ayah 36:9

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کردی اور ایک دیوار ان کے پیچھے، اس طرح ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے، پس ان کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے

وَجَعَلْنَا مِنْ م بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ سَدًّاوَّمِنْ خَلْفِھِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰـھُمْ فَھُمْ لاَ یُبْصِرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 9) (ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کردی اور ایک دیوار ان کے پیچھے، اس طرح ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے، پس ان کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے۔ ) گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت یہ گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت ہے کہ جن لوگوں کی ہٹ دھرمی اور استکبار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی محرومی کا فیصلہ کردیا ہے اور اس کی صورت یہ ہوئی ہے کہ وہ زمین و آسمان کی نشانیاں دیکھنے سے محروم کردیے گئے ہیں۔ اب اگر کوئی روشن سے روشن حقیقت بھی ان کے سامنے آجائے تو وہ اپنی بےبصیرتی اور صلاحیتوں کے کھو جانے کے باعث اس قابل نہیں رہے کہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ایسے لوگ بعض دفعہ کسی بڑے حادثے سے متنبہ ہو کر کبھی حالات سے سبق سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ ہٹ دھرمی اور استکبار کی روش ترک نہیں کرتے انہیں حالات سے بھی سبق سیکھنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ ان کی محرومی کو فیصلہ کن بنانے کے لیے ان کے آگے اور پیچھے دیواریں کھڑی کردیتے ہیں تاکہ نہ وہ اپنے ماضی سے سبق سیکھ سکیں اور نہ مستقبل کے اندیشے انہیں راہ راست پر لاسکیں۔ ان کے وقتی مفادات اور ان کے تعصبات اس طرح ان کے گرد احاطہ کیے رہتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے۔ بڑے سے بڑے حادثے میں بھی جب تک ان کے اپنے مفادات پر چوٹ نہ پڑے وہ کبھی سر اٹھا کر دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے۔ قومی روایات اور عزم و ہمت کے تقاضے ان کے سامنے دم توڑتے رہیں، انہیں ذات کے گنبد سے باہر جھانکنے کی کبھی ہمت نہیں ہوتی۔ کتابی علم تو ان کے لیے پہلے ہی بیکار ہوچکا ہوتا ہے، اب اپنے تاریخی صفحات کو بھی اس طرح گم کردیتے ہیں کہ جو حوادث دیواروں پر لکھے جا چکے ہیں انہیں ان کی بھی خبر نہیں ہوتی۔ تشنہ نے ایسی ہی صورتحال کے حوالے سے کہا تھا : کتابوں کا لکھا تو عمر بھر پڑھتے رہے تشنہ کبھی وہ بھی پڑھا ہوتا جو دیواروں پہ لکھا ہے ہم عالم اسلام بالخصوص پاکستان کے رہنے والے ایسے ہی عذاب کی گرفت میں معلوم ہوتے ہیں۔ ہمیں مشرقی پاکستان کے حادثے نے بری طرح جھنجھوڑا بلکہ ادھ موا کردیا، لیکن کسی دردمند نے بالکل صحیح کہا : حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر اب ہمیں اپنا مقدر دیواروں پہ لکھا ہوا نظر آتا ہے لیکن جن کے ہاتھوں میں زمام کار ہے ان کے سامنے ایسے دیواریں چنی جا چکی ہیں اور وہ اپنی ذات کے گنبد میں ایسے اسیر ہوچکے ہیں کہ نہ وہ پیچھے پلٹ کر دیکھتے ہیں نہ انہیں مستقبل کے اندیشے نظر آتے ہیں۔ والی اللہ المشتکیٰ وھوالمستعان۔
Ayah 36:10

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور ان کے لیے یکساں ہے آپ انہیں خبردار کریں یا نہ کریں، وہ ایمان نہیں لائیں گے

وَسَوَآئٌ عَلَیْہِمْ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 10) (اور ان کے لیے یکساں ہے آپ انہیں خبردار کریں یا نہ کریں، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ ) گزشتہ دو آیتوں میں جن ہٹ دھرم اور متکبرین کی تصویرکشی کی گئی ہے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ آپ ان لوگوں کو انذار کریں یا نہ کریں انہیں جونک لگنے والی نہیں، یہ کبھی آپ کی بات سن کر نہیں دیں گے۔ ہٹ دھرمی اور استکبار نے ان کی عقلوں اور اخلاق کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، اس لیے اب ایمان قبول کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ البتہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ تبلیغ و دعوت کا کام ترک کردیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں لوگوں کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے آپ کو ایسے لوگ ملیں گے جن کے اندر حقیقت کو قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہیں تلاش کرنا اور ان تک حق کی دعوت پہنچانا یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ آپ تبلیغ و دعوت کے کام کو جاری رکھیں۔ جس طرح اچھی زمین اپنے اندر کے پھول پتے پیدا کرکے اور اپنے اندر بارش کو جذب کرکے اپنے وجود کا احساس دلا دیتی ہے، اسی طرح تبلیغ و دعوت کی بارانِ رحمت سے ایسے لوگوں کا وجود آپ سے آپ ظاہر ہو کے رہتا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ قبولیتِ حق سے محروم لوگ ایسے لوگوں تک جلدی دعوت کو پہنچنے نہیں دیتے۔ اس لیے داعی الی اللہ کو چاہیے کہ جیسے جیسے دعوت کے امکانات مشکل ہوتے جائیں ویسے ویسے وہ اپنے کام میں تیزی پیدا کرتا جائے۔ حدی را تیز تر می خواں چوں محمل را گراں بینی نوا را تیز تر می کن چوں اثر نغمہ کمیابی
Ayah 36:11

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

آپ تو اس شخص کو خبردار کرسکتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرے اور بےدیکھے خدائے رحمن سے ڈرے، سو ایسے لوگوں کو مغفرت اور باعزت صلہ کی بشارت دیجیے

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ وَخَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ ج فَبَشِّرْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَّاَجْرٍکَرِیْمٍ ۔ (یٰسٓ: 11) (آپ تو اس شخص کو خبردار کرسکتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرے اور بےدیکھے خدائے رحمن سے ڈرے، سو ایسے لوگوں کو مغفرت اور باعزت صلہ کی بشارت دیجیے۔ ) اِنذار کے موثر ہونے کی شرائط جن لوگوں نے خواہشاتِ نفس کے اتباع اور خانہ ساز قسم کے نظریات اور تعصبات کو زندگی کا سرمایہ بنا رکھا ہے اور وہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی کرنے کے لیے تیار نہیں آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ ایسے لوگوں کے دلوں میں حق نہیں اتار سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سماع قبول اور قبولیتِ حق سے محروم کردیا ہے۔ ان کے ساتھ سر مارنا دیواروں سے سر ٹکرانے کے مترادف ہے۔ آپ کی دعوت و تبلیغ اور آپ کا انذار صرف اس شخص کے لیے موثر اور مفید ہوسکتا ہے جو ذکر کی پیروی کرتا ہے۔ ذکر سے مراد نصیحت بھی ہے اور یاد دہانی بھی اور ذکر قرآن کریم کے ذاتی اسماء میں سے ایک نام بھی ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جو شخص قرآن کریم کو سنتا ہے اور آپ کی نصیحت پر کان دھرتا ہے اور آپ کی یاد دہانی پر دلوں کے دروازے وا کرتا ہے اور غور و فکر کرنے کی صلاحیتوں کو اتباعِ حق کا ذریعہ بناتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ وہ خدائے رحمن سے ڈرتا ہے۔ اس کی خشیت سے اس کا دل دھڑکتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا خالق ومالک ہے۔ اور یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے میرے لیے بیشمار نعمتوں کا ایک خوان بچھا رکھا ہے اور اس کی رحمت ہمیشہ میرے شامل حال رہتی ہے۔ وہ میری آنکھوں سے غائب ضرور ہے لیکن میں اس کی رحمتوں سے کبھی دور نہیں ہوتا۔ اس کی ناراضگی کا اندیشہ اور اس کے عتاب کا خدشہ یہ میری زندگی کا اصل سرمایہ ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس کے لیے آپ کا انذار موثر اور مفید ہوسکتا ہے۔ ایسے شخص کو آپ مغفرت کی خوشخبری سنا دیجیے۔ اور یہ بشارت بھی دیجیے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اجر کریم سے نوازے گا۔ یوں تو اس کا اجر ہی انسانی اندازوں سے ماورا ہے لیکن جسے وہ خود کریم قرار دے اس کے بارے میں تو انسانی عقل و خرد کے پیمانے کچھ بھی اندازہ کرنے سے قاصر ہیں۔
Ayah 36:12

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے، اور ہم لکھ رہے ہیں جو کچھ انھوں نے آگے بھیجا ہے اور جو کچھ پیچھے چھوڑا ہے، اور ہم نے ہر چیز ایک واضح کتاب میں محفوظ کرلی ہے

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰی وَنَـکْتُبُ مَاقَدَّمُوْا وَاٰثَارَھُمْ ط وَکُلَّ شَیْ ئٍ اَحْصَیْنٰـہُ فِیْٓ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ ۔ (یٰسٓ: 12) (بےشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے، اور ہم لکھ رہے ہیں جو کچھ انھوں نے آگے بھیجا ہے اور جو کچھ پیچھے چھوڑا ہے، اور ہم نے ہر چیز ایک واضح کتاب میں محفوظ کرلی ہے۔ ) آخرت کی یاد دہانی حق و باطل کی یہ کشمکش یونہی بےنتیجہ جاری نہیں رہے گی بلکہ وہ دن بہت دور نہیں جب اس کشمکش کے مختلف کرداروں کو ان کے اعمال کے مطابق جزا و سزا سے گزرنا ہوگا۔ ایک دن ایسا آئے گا جب ہر چیز تباہ کردی جائے گی۔ ہر زندہ چیز موت سے ہمکنار ہوجائے گی۔ پھر ایک وقت آئے گا جب زندگی کی کارفرمائی ہوگی۔ مُردوں کو ازسرنو زندہ کیا جائے گا۔ اور یہ اس لیے ہوگا کہ خدائے رحمن کی رحمت کا یہ لازمی تقاضا ہے۔ کیونکہ اس کائنات کا خالق ومالک اگر رحیم و کریم ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی رضا کے حصول میں لوگ جان و تن سے گزر جائیں، مال و دولت قربان کر ڈالیں، بچوں کو اس راستے میں نثار کردیں۔ اور ان میں سے کسی کو نہ صلہ ملے اور نہ کسی انعام سے نوازا جائے۔ اور اسی طرح جو لوگ شب و روز اللہ تعالیٰ کی معصیت کا ارتکاب کرتے رہیں، اس کی ذات کو بھی چیلنج کریں اور اس کی صفات کو بھی پامال کریں اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہ ہو اور ان کے اعمالِ کفر اور اعمالِ شرک پر کوئی سزا نہ دی جائے۔ یہ بات اس رحیم و کریم ذات کی صفات سے سراسر متصادم ہے کہ اس کے نزدیک نیکی اور بدی، اپنے اور پرائے اور اطاعت و معصیت برابر ہو کر رہ جائے۔ اس رحمانیت کا یقینا یہ لازمی تقاضا ہے کہ آخرت برپا ہو اور اچھے اور برے اپنے انجام کو پہنچیں۔ اور پھر یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ وہاں کسی شخص کو معصیت اور گناہ کے اثبات کے بغیر سزا نہ دی جائے اور کسی کارنامے کے ثبوت کے بغیر انعام سے نہ نوازا جائے۔ چناچہ یہ بات ازبس ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ جب مردوں کو زندہ کرے تو جو کچھ لوگوں نے اپنے اپنے عقیدے کے مطابق اعمال آگے بھیجے ہیں انہیں محفوظ حالت میں سامنے لایا جائے اور جو اعمال انھوں نے پیچھے چھوڑے ہیں اور جن کے آثار تادیر زندہ رہے ہیں اور جنھوں نے حالات اور انسانی فکر پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں اور جس نے کہیں انسانی تربیت کا کام کیا ہے اور کہیں انسانی بگاڑ کو آگے بڑھایا ہے یہ سب کچھ محفوظ حالت میں نامہ عمل کی صورت میں ان کرنے والوں کے ہاتھوں میں دیا جائے گا۔ اور کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے گا کہ مجھے جن اعمال کے بدلے میں سزا دی گئی ہے میرے سامنے ان کا ثبوت ظاہر نہیں کیا گیا۔ اور جن باتوں پر مجھے نوازا گیا ہے میرے نامہ عمل میں ان کا کوئی وجود نہیں۔ اور پھر اسی پر بس نہیں کہ ان تمام اعمال ناموں میں اعمال کو محفوظ کیا جائے گا بلکہ ان کی تائید میں یہ ساری تفصیلات ایک واضح دفتر میں بھی درج کی گئی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے بڑا دفتر اور اعمال نامہ ہے۔ اس کی ایک ایک چیز شمار کرلی گئی ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور اسی کے مطابق انسانوں کو جزا اور سزا سے گزارا جائے گا۔ اس آیت کے آخر میں ” امام مبین “ کا لفظ آیا ہے۔ امام کے اصلی معنی رہنما، ہادی، لیڈر اور مرجع کے ہیں۔ پھر اس کا استعمال اس کتاب کے لیے ہونے لگا جو سب کے لیے رہنما اور مرکز و مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس آیت میں یہ لفظ اس مرکزی کتاب، رجسٹر اور اعمال نامے کے لیے استعمال ہوا ہے جس میں ہر شخص کے اعمال درج ہوں گے اور جس کے مطابق ہر شخص جزا یا سزا پائے گا۔
Ayah 36:13

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور انھیں بستی والوں کی مثال سنائیے جبکہ اس بستی میں رسول آئے

وَاَضْرِبْ لَھُمْ مَّثَلاً اَصْحٰبَ الْقَرْیَۃِ م اِذْجَـآئَ ھَاالْمُرْسَلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 13) (اور انہیں بستی والوں کی مثال سنائیے، جبکہ اس بستی میں رسول آئے۔ ) اس سے پہلے کے رکوع میں سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کی رسالت کو حتمی انداز میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ قرآن کریم جیسی مسکت دلیل اس کے لیے پیش کی گئی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی کی بعثت کے بعد سب سے اہم نکتہ جس پر اللہ تعالیٰ کے رسول اور مخالفین کے درمیان بحث ہوتی اور مخالفت کا طوفان اٹھتا ہے وہ رسالت ہی کا نکتہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا رسول لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو رسول کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن مخالفین ہر ممکن طریقے سے اس کا رد کرتے ہیں۔ اور جب دلائل سے کام نہیں چلتا تو پھر وہ طاقت استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اور پیغمبر کی شخصیت اور اس کے دعوے کی حقانیت کو سامنے رکھتے ہوئے جو اعتراضات ان کے ذہن میں آتے ہیں انہیں بار بار اچھالتے ہیں تاکہ عوام کو اللہ تعالیٰ کے رسول کی رسالت پر یکسو نہ ہونے دیا جائے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کی رسالت پر بھی مختلف وقتوں میں مختلف دلائل دیے گئے اور گزشتہ رکوع میں بھی مختلف حوالوں سے اس کا اثبات فرمایا گیا۔ پیش نظر رکوع میں تاریخی دلائل سے آنحضرت ﷺ کی نبوت کا اثبات فرمایا گیا ہے اور قریش مکہ آپ کی نبوت اور رسالت پر جس قسم کے اعتراضات کیا کرتے تھے تاریخ کی روشنی میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ اور یہ بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ تم نے اگر اپنا رویہ نہ بدلا اور اپنے طرزعمل کی اصلاح نہ کی تو تمہارا انجام ان لوگوں سے مختلف نہیں ہوگا جن کا ذکر پیش نظر رکوع میں کیا گیا ہے۔ قریش کی عبرت کے لیے اہل قریہ کی مثال اور قریہ کا تعین اس رکوع میں ایک قریہ والوں کا قصہ سنایا گیا ہے۔ قریہ جس طرح ایک بستی یا گائوں پر بولا جاتا ہے اسی طرح اس کا اطلاق ایک شہر پر بھی ہوتا ہے۔ یہاں جس قریہ کا ذکر ہے ممکن ہے وہ کوئی بڑا شہر رہ چکا ہو۔ لیکن قرآن کریم نے اس کا نام نہیں لیا۔ اور حدیث میں بھی اس کی وضاحت نہیں فرمائی گئی۔ اس وجہ سے مفسرین میں اس قریہ کے تعین میں اختلاف ہوا ہے۔ مفسرین کی اکثریت اس طرف گئی ہے کہ اس سے مراد شام کا مشہور شہر انطاکیہ ہے۔ اور یہاں جن رسولوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے سفیر تھے جنھیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے انطاکیہ والوں کے انذار کے لیے بھیجا تھا۔ لیکن مفسرین کی یہ رائے بوجوہ صحیح معلوم نہیں ہوتی۔ اور علامہ ابن کثیر نے بھی ایسی ہی وجوہ کے باعث اس رائے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور تنقید فرمائی ہے۔ ہمارے نزدیک اس رائے کے محل نظر ہونے کے مندرجہ ذیل اسباب ہیں : 1 تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری سے پہلے دو خاندان انطاکیہ پر حکمران رہے۔ ایک سلوقی خاندان، جس کے دور حکومت میں تیرہ بادشاہ اینتیوکس کے نام سے گزرے ہیں۔ یعنی جس طرح مصر کا ہر حکمران فرعون اور حبشہ کا ہر حکمران نجاشی کہلاتا تھا، اسی طرح سلوقی خاندان کا ہر حکمران اینتیوکس کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اس خاندان کی حکومت پینسٹھ قبل مسیح میں ختم ہوگئی۔ اس کے بعد رومیوں کی حکومت آئی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کے وقت رومی ہی اس علاقے کے حکمران تھے۔ اور انطاکیہ بھی ان کی حکومت میں شامل تھا۔ سلوقیوں کی حکومت میں تو ایسے کسی واقعہ کا پیش آنا اس لیے غلط ہے کہ ان رسولوں کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سفیر کہا گیا ہے۔ بنا بریں ظاہر ہے کہ ان کا وجود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کئی سال پہلے کسی طرح عقل کے لیے قابل قبول نہیں۔ اور رومیوں کی تاریخ ایسے کسی واقعہ کو پیش نہیں کرتی جس میں انطاکیہ پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا ہو۔ 2 انطاکیہ پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نزول اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں ہوا ہوتا تو یہ اتنا بڑا واقعہ تھا کہ انجیلوں اور بائیبل ہسٹری میں اس کا ذکر ضرور ہوتا۔ لیکن نہ تو انجیلوں میں اس کا کوئی ذکر ہے اور نہ بائیبل ہسٹری میں، بلکہ اس کے برعکس بائیبل کی کتاب اعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ صلیب کے چند سال بعد عیسائی مبلغین پہلی مرتبہ وہاں پہنچے تھے۔ اور بائیبل کے بیان کے مطابق وہاں کثرت سے غیر اسرائیلیوں نے دین مسیحی کو قبول کیا اور مسیحی کلیسا کو غیرمعمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ 3 یہ جو بات کہی گئی ہے کہ یہاں رسولوں سے مراد اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد اور سفیر ہیں۔ یہ بات بھی صحیح معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ ان آیات میں رسولوں نے جس حیثیت سے اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے اور پھر جس طرح اللہ تعالیٰ نے دو رسولوں کی تکذیب کے بعد تیسرا رسول ان کے تقویت کے لیے بھیجا اور لوگوں کی تکذیب کے بعد ان رسولوں کا یہ کہنا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم اس کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ یہ باتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول تھے نہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سفیر۔ اور مزید یہ کہ لوگوں کا اس بنیاد پر انہیں نبی ماننے سے انکار کرنا کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو اور بشر رسول نہیں ہوسکتا۔ اس اعتراض میں اس لحاظ سے تو وزن ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے رسول کہتے ہوں کیونکہ ہمیشہ منکرینِ رسالت نے بشریت اور رسالت میں تضاد محسوس کیا ہے۔ لیکن کسی عظیم شخصیت کے سفیروں پر تو کبھی ایسا اعتراض نہیں کیا گیا کیونکہ سفیر ہمیشہ انسان اور بشر ہی ہوتے ہیں کسی دوسری مخلوق میں سے ہونے کا کوئی سوال نہیں۔ 4 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور انھوں نے اپنی نبوت اور دعوت کو بنی اسرائیل ہی کے لیے مخصوص کیا تھا۔ اس لیے نہ تو انھوں نے کبھی خود کسی غیراسرائیلی کو دعوت دی اور نہ اپنے شاگردوں کو اس کی اجازت دی۔ بلکہ ان کا ارشاد یہ تھا کہ میں صرف اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں ہی کی تلاش کے لیے آیا ہوں۔ اور یہ بھی ان کا ارشاد ہے کہ میرے پاس جو روٹی ہے وہ صرف بچوں ہی کے لیے ہے، کتوں کے آگے اس کو ڈالنا ٹھیک نہیں ہے۔ بچوں سے مراد ان کی اسرائیلی تھے اور کتوں سے مراد غیراسرائیلی۔ ان حقائق کی بنیاد پر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ انھوں نے اپنے شاگردوں کو انطاکیہ میں بھیجا ہو۔ کیونکہ انطاکیہ میں رہنے والے اسرائیلی نہیں تھے۔ 5 اسی رکوع سے معلوم ہوتا ہے کہ جس بستی میں یہ رسول تشریف لائے تھے اس بستی والوں کی تکذیب کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور وہ بالکل پامال کرکے رکھ دیے گئے۔ قرآن کریم میں عذاب کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی جس سنت کو ذکر کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا عذاب تکذیبِ رسل کے نتیجے میں آتا ہے کسی اللہ تعالیٰ کے رسول کے بھیجے ہوئے مبلغین کی دعوت قبول نہ کرنے کے نتیجے میں نہیں آتا۔ کیونکہ مبلغین کی دعوت سے وہ اتمامِ حجت نہیں ہوتا جو اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب سے ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر وہ بستی انطاکیہ نہیں اور ان کی ہدایت کے لیے جانے والے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ سفیر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسول تھے، تو پھر آخر وہ بستی کون سی تھی ؟ قرآن اور حدیث میں کسی مستند ذریعے سے ہمیں اس کا جواب نہیں ملتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم نے اس بستی کا نام مبہم رکھا ہے۔ اور سلف صالحین کا کہنا یہ ہے کہ جس بات کو قرآن و سنت میں مبہم رکھا گیا ہو اسے مبہم رکھنے میں ہی عافیت ہے۔ اور ویسے بھی قرآن کریم میں جس غرض کے لیے یہ قصہ بیان کیا گیا ہے اسے سمجھنے کے لیے بستی کا نام اور رسولوں کے نام معلوم ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ اس قصے کے بیان کرنے کی غرض قریش کے لوگوں کو یہ تنبیہ کرنا ہے کہ تم بالکل اسی روش پر چل رہے ہو جس روش پر وہ بستی والے چلے تھے۔ اور جس روش نے ان بستی والوں کو برے انجام سے دوچار کیا تم بھی اس سے بچ نہیں سکو گے۔
Ayah 36:14

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

جبکہ ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے تو انھوں نے دونوں کو جھٹلا دیا، پھر ہم نے تیسرے سے ان کو تقویت دی تو انھوں نے لوگوں سے کہا کہ ہم تمہاری طرف رسول کی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں

اِذْ اَرْسَلْنَـآ اِلَیْہِمُ اثْنَیْنِ فَکَذَّبُوْھُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْٓا اِنَّـآ اِلَیْکُمْ مُّرْسَلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 14) (جبکہ ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے تو انھوں نے دونوں کو جھٹلا دیا، پھر ہم نے تیسرے سے ان کو تقویت دی تو انھوں نے لوگوں سے کہا کہ ہم تمہاری طرف رسول کی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں۔ ) تین رسولوں سے مراد ؟ انبیائے کرام کی تاریخ سے کسی قوم کی ہدایت کے لیے ایک سے زیادہ نبیوں کی بعثت غیرمعمولی واقعہ ہے۔ جس کی معروف مثال حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ہیں۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں پہلے دو رسولوں کا کسی بستی میں جانا اور پھر تیسرے رسول کا ان کی تقویت اور تائید کے لیے بھیجا جانا اس سے بھی زیادہ توجہ طلب معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون جیسے خطرناک اور طاقتور دشمن کی طبیعت کی بےاعتدالی اور ظالمانہ خُو کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے تائید و نصرت کے لیے اپنے بھائی کو مانگ کرلیا تھا، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے پیش آنے کی صورت میں باہمی مشاورت کرسکیں اور حالات کا سامنا کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کرسکیں۔ بلاشبہ ہر پیغمبر کو اللہ تعالیٰ کی نصرت حاصل ہوتی ہے۔ اور روح القدس ان کی تائید کے لیے موجود رہتے ہیں۔ باایں ہمہ انسانی فطرت بھی اپنے کوئی تقاضے رکھتی ہے۔ ایسی ہی صورتحال اس بستی کی بھی معلوم ہوتی ہے جس کی طرف محولہ بالا دو رسول بھیجے گئے تھے۔ جب ان بستی والوں نے ان کی دعوت قبول کرنے کی بجائے خطرناک اقدام کرنے کا فیصلہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اتمامِ حجت کے لیے تیسرے رسول کو بھی بھیج دیا، تاکہ تینوں ایک دوسرے کے لیے تقویت کا باعث ہوں اور بستی والے بھی ان کی ہیبت محسوس کیے بغیر نہ رہ سکیں۔ لیکن جب اہل قریہ نے تینوں رسولوں کی تکذیب کردی تو انھوں نے تنبیہ کرتے ہوئے ان لوگوں سے کہا کہ ہماری تکذیب کرنے میں جلدی نہ کرو، اس بات پر غور کرلو کہ ہم خود سے تمہارے پاس نہیں آئے، ہم خالق کائنات کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ ہماری تکذیب کے نتائج پر تمہاری نظر رہنی چاہیے۔ اور یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے ساتھ تمہارا ظالمانہ سلوک اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے سکتا ہے اور کوئی بڑی بات نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوجاؤ۔ کیونکہ جب بھی قوموں کی طرف عذاب آیا ہے تو اس کا بنیادی سبب رسولوں کی تکذیب ہی رہا ہے۔
Ayah 36:15

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

بستی والوں نے کہا کہ تم کچھ نہیں ہو، مگر ہم جیسے انسان، اور خدائے رحمن نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے، تم محض جھوٹ بولتے ہو

قَالُوْا مَـآ اَنْتُمْ اِلاَّبَشَرٌ مِّثْلُنَا لا وَمَـآ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْ ئٍ لا اِنْ اَنْتُمْ اِلاَّ تَـکْذِبُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 15) (بستی والوں نے کہا کہ تم کچھ نہیں ہو، مگر ہم جیسے انسان، اور خدائے رحمن نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے، تم محض جھوٹ بولتے ہو۔ ) اہلِ قریہ کا اعتراض ان رسولوں کے دعویِٰ رسالت کی تردید میں اہل قریہ نے وہی بات کہی جو اس سے پہلے ہر رسول کے مخالفین کہتے رہے ہیں، وہ یہ کہ رسالت ایک عظیم منصب ہے جس میں اللہ تعالیٰ سے براہ راست ہدایت حاصل کرکے بندوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا نازک اور عظیم کام انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ انسان نہ تو اپنے پروردگار کو دیکھ سکتا ہے، نہ اس سے باتیں کرسکتا ہے اور نہ اس کی بات کو سن سکتا ہے۔ تو پھر ایک انسان نبوت و رسالت کے منصب پر فائز کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اس میں براہ راست اللہ تعالیٰ سے متعلق ہونا پڑتا ہے۔ اسی تصور کے پیش نظر ہر دور کے انسانوں نے بشریت اور رسالت میں تضاد محسوس کیا ہے کہ جو رسول ہے وہ بشر نہیں ہوسکتا اور بشر رسول نہیں ہوسکتا۔ سورة بنی اسرائیل کی آیت 94 میں ارشاد ہے : وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّوْمِنُوْا اِذْجَآئَ ھُمُ الْھُدٰی اِلاَّاَنْ قَالُوْا اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوْلاً ” لوگوں کو ایمان لانے سے صرف اس بات نے روکا جب ان کے پاس ہدایت آئی کہ کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیج دیا ہے۔ “ قرآن کریم کہتا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ کیونکہ انسان ہی انسان کی ہدایت کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجا جاتا تو وہ نظر ہی نہ آتا۔ اور اگر وہ انسانی شکل میں آتا تو پھر یہی اعتراض پیدا ہوتا۔ اور دوسری یہ بات کہ فرشتہ انسانی ہدایت کے لیے کافی نہیں ہوسکتا کیونکہ نہ اس کی ضروریات انسانوں جیسی ہیں اور نہ اس کی احتیاجات، نہ اس کی کمزوریاں انسانوں کی کمزوریاں ہیں کہ وہ انسانوں کو صبر اور استقامت کی مثال بن کر دکھا سکے۔ اور نہ وہ اپنے اندر خواہشات رکھتا ہے کہ خواہشات پر قابو پا کر زہد، استقلال اور صبر کی عملی تصویر پیش کرسکے۔ اور نہ وہ انسانی کیفیت کا حامل ہے کہ انسان کو خشوع خضوع اور خشیت الٰہی کی تعلیم دے سکے۔ تو پھر اسے نبوت اور رسالت دینے کا کیا فائدہ ہوگا۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انسانوں نے ہمیشہ نبوت و رسالت کے لیے انسانوں کو نااہل قرار دیا اور ان کی نبوت اور رسالت کو ہمیشہ موردالزام ٹھہرایا۔ جبکہ قرآن کریم صراحت کے ساتھ یہ بات کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی رسول ہوسکتا ہے۔ سورة انبیاء میں ارشاد فرمایا گیا : وَمَااَرْسَلْنَا قَبْلَـکَ اِلاَّرِجَالاً نُّوْحِیْ اِلَیْھِمْ فَسْئَلُوْا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ وَمَا جَعَلْنَا ھُمْ جَسَدًا لاَّ یَاکُلُوْنَ الطَّعاَمَ وَمَا کَانُوْا خَالِدِیْنَ ۔ ” ہم نے تم سے پہلے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے جن پر ہم وحی کرتے تھے، اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھ لو، اور ہم نے ان کو ایسے جسم نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ جینے والے تھے۔ “ حقیقت یہ ہے کہ انسانوں نے ہمیشہ انسان کی پہچان میں ٹھوکر کھائی ہے۔ انسان جب عقیدے کی عظمت سے محروم ہوتا ہے اور کردار کی پاکیزگی سے تہی دامن ہوجاتا ہے تو وہ بگڑے ہوئے انسانوں کو جو دولت و ثروت اور حکومت و اقتدار کے ایوانوں میں داد عیش دیتے ہیں کو حقیقی انسان سمجھ بیٹھتا ہے۔ اس کی نگاہ انسان کے رنگ و روپ، اس کے لباس، اس کے مساکن، اس کی سواریوں، اس کی زمینوں، اس کی دولت اور اس کے مناصب پر رہتی ہے اور انہی چیزوں کے حوالے سے وہ چھوٹے بڑے انسانوں میں تمیز کرتا ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ سیرت و کردار کے افلاس کے ساتھ ساتھ انسانی صفات بھی کسمپرسی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اس لحاظ سے ہر دو ٹانگوں پر چلنے والا انسان کہلاتا ہے چاہے وہ اپنی صفات کے اعتبار سے حیوانات سے بھی گیا گزرا ہو۔ اور عہدہ و منصب پر فائز یا دولت و ثروت کا مالک انسانیت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوجاتا ہے چاہے اس کے اندر درندگی بھری ہوئی ہو۔ اس کوتاہ نظری، کو رچشمی اور بےبصیرتی نے انسان کی حقیقی پہچان کے سامنے پردے حائل کردیے ہیں۔ اور انسان اپنی حقیقی عظمت کی پہچان میں ناکام ہوگیا ہے۔ اس کی ذات کو بھی یقینا اس سے نقصان پہنچا لیکن بڑا نقصان یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول جو انسانیت کا نمونہ بلکہ فخر ہوتے ہیں خطرناک حد تک ان کی معرفت انسانوں کے لیے مشکل ہوگئی۔ حالانکہ یہ انسان اور بشر ہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات اور کائنات کا گل سرسبد بنایا ہے۔ اور اس کے سر پر نبوت اور خلافت کا تاج رکھا۔ اور اسے وہ عظمت عطا کی جس کے بارے میں ذوق کہتا ہے : بشر جو اس تیرہ خاکداں میں پڑا یہ اس کی اپنی فروتنی ہے وگرنہ قندیلِ عرش میں بھی اسی کے جلوے کی روشنی ہے حاصل کلام یہ کہ آپ لوگ چونکہ ہماری طرح انسان ہیں اور انسان نبی یا رسول نہیں ہوسکتا۔ تو اس سے خودبخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں۔ اور انسانوں کے لیے ہدایت چونکہ رسولوں پر ہی اترتی ہے تو آپ رسول نہ ہونے کی وجہ سے اس دعوے میں قطعاً غلط ہیں کہ آپ پر اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز اتاری ہے۔ اولاً تو انسان ہونے کی وجہ سے آپ کا دعویِٰ رسالت ہی سراسر جھوٹ پر مبنی ہے اور اس پر مزید جھوٹ یہ ہے کہ آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کی وحی اترتی ہے ہمیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے۔ یہ جھوٹ پر جھوٹ ہے۔ تو ایسے لوگوں پر ہم ایمان کیسے لے آئیں۔ بعض اہل علم نے وَمَـآ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْ ئٍ کو سیاق کلام کا حصہ بنانے کی بجائے ایک مستقل بات قرار دے کر اسے مخالفین کی جہالت اور عقل کا جھوٹا پندار قرار دیا ہے یعنی وہ لوگ اس پندار میں مبتلا تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ انسانی ہدایت کے لیے انسانی دانش کافی ہے۔ جوہرِعقل کا فانوس اسی لیے عطا فرمایا گیا ہے تاکہ لوگ اپنی زندگی کے معاملات اسی کے ذریعے حل کریں۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کو کسی وحی بھیجنے کی ضرورت نہیں، بلکہ انسان اپنی معنوی ضرورتوں کے لیے خودکفیل بنایا گیا ہے جبکہ عقل سلیم رکھنے والا یہ بات جانتا ہے کہ انسانی عقل کا دائرہ کار محسوسات اور معقولات تک ہے۔ لیکن جن چیزوں کا تعلق مابعد الطبعیات سے ہے اور جن احساسات کا تعلق عالم برزخ اور عالم آخرت سے ہے اور وہ بنیادی تصورات جو تخلیقِ آدم سے لے کر آج تک مذہب نے انسان کو عطا کیے ہیں اور جس سے انسان کی مذہبی اور روحانی تربیت ہوتی ہے یہ تمام چیزیں انسانی عقل کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ ان باتوں کا نہ کوئی حل بتاتی ہے اور نہ ان سے متعلق کسی سوال کا جواب دیتی ہے۔ آج کا عقلیت پسند انسان بھی اسی غلطی کا شکار ہو کر وحی اور رسالت کے انکار میں مبتلا ہوگیا ہے۔ اور یہی جہالت ان لوگوں میں بھی پائی جاتی تھی جو محولہ بالا رسولوں کی رسالت سے انکار کررہے تھے۔ یہ بات یقینا اپنی حقیقت کے اعتبار سے تو بالکل صحیح ہے لیکن سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے آیت کے اس ٹکڑے کا یہ مفہوم لینا مشکل معلوم ہوتا ہے۔
Ayahs 36:16–17

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

رسولوں نے کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف رسول بنا کے بھیجے گئے ہیں

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہماری ذمہ داری بس واضح طور پر پہنچا دینے کی ہے

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّـآ اِلَیْکُمْ لَمُرْسَلُوْنَ ۔ وَمَا عَلَیَنْـآ اِلاَّالْبَلٰـغُ الْمُبِیْنُ ۔ (یٰسٓ: 16، 17) (رسولوں نے کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف رسول بنا کے بھیجے گئے ہیں۔ اور ہماری ذمہ داری بس واضح طور پر پہنچا دینے کی ہے۔ ) اعتراض کا جواب اور تنبیہ رَبُّنَا یَعْلَمُکا ایک مفہوم یہ ہے کہ اسے قسم قرار دیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ رسولوں نے قسم کھا کر یہ بات فرمائی کہ دوسروں کو اعتبار دلانے کے لیے چونکہ آخری ذریعہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم کھائی جائے۔ تو ہم بھی قسم کھا کر یہ بات کہتے ہیں کہ ہم تمہاری ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ اتنی بڑی بات کے بعد تو تمہیں ہماری بات کا اعتبار کرنا چاہیے اور ہم پر ایمان لانا چاہیے۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ تم ہمارے بارے میں جو چاہو خیال کرو اور بیشک ہماری طرف جھوٹ کی نسبت کرو، ہم تمہیں روک تو نہیں سکتے۔ لیکن یہ بات یاد رکھو کہ اصل حاضری تو اللہ تعالیٰ کے حضور ہوگی، وہاں ہر آدمی سے اس کے ایک ایک قول اور عمل کا حساب لیا جائے گا۔ ہم اس احساس کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف رسول بن کر آئے ہیں۔ اور اس کی گواہی سے بڑھ کر کسی کی گواہی نہیں ہوسکتی اور اس کے علم سے ہٹ کر کسی اور چیز کی کوئی قدروقیمت نہیں۔ رہی یہ بات کہ تم اگر ہماری رسالت کو تسلیم نہیں کرو گے تو ہمارا شاید کوئی نقصان ہوجائے گا اور ہم شاید دنیوی برتری کے لیے کسی جتھا بندی میں مبتلا ہیں اور تمہارے انکار سے ہماری گروہ بندی کو نقصان پہنچے گا۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ ہمارا کام کسی کے دل میں ایمان اتار دینا نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ نے ہم پر جو فرض عائد کیا ہے اس کو ادا کرتے ہوئے لوگوں تک اپنی دعوت پہنچانا ہے، سو ہم نے وہ ذمہ داری ادا کردی ہے۔ قیامت کے دن ہم سے تمہارے ایمان کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ البتہ تمہیں اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ تم نے ہماری رسالت کی تکذیب کیوں کی، اور تمہیں اس کی پاداش میں عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Ayah 36:18

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

بستی والوں نے کہا ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں، اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے، اور تمہیں ہمارے ہاتھوں بڑی دردناک سزا پہنچے

قَالُوْٓا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِکُمْ ج لَئِنْ لَّمْ تَنْتَھُوْا لَنَرْجُمَنَّـکُمْ وَلَیَمَسَّنَّـکُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (یٰسٓ: 18) (بستی والوں نے کہا : ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں، اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے، اور تمہیں ہمارے ہاتھوں بڑی دردناک سزا پہنچے گی۔ ) تَطَیَّرَکا مفہوم اور اس الزام کا سبب تَطَیَّرَاور اِطَّیَّرَ کا معنی ہوتا ہے فالِ بد لینا اور کسی کو منحوس سمجھنا۔ جب بھی کسی قوم کی طرف اللہ تعالیٰ کے کوئی نبی یا رسول تشریف لائے ہیں تو قوم نے حتی الامکان نبی کی دعوت کو قبول نہیں کیا بلکہ ہر ممکن طریقے سے انہیں ناکام کرنے کی اپنی سی کوشش کی۔ اور جب دیکھا کہ ہماری مخالفت سے دعوت کا یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آتا تو پھر انھوں نے اذیت رسانی کے عمل کو تیز سے تیز تر کردیا۔ جب اس سے بھی بات بنتی نظر نہ آئی تو پھر اللہ تعالیٰ کے نبی کو قتل کرنے کے منصوبے باندھنے لگے۔ قوموں کا یہ ایک ایسا رویہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے ہر نبی کو سابقہ پیش آیا ہے۔ حق و باطل کی اس کشمکش میں پروردگار لوگوں کو مخالفت سے روکنے اور دین کی طرف مائل کرنے کے لیے بعض دفعہ مختلف آزمائشوں سے دوچار کرتا ہے تاکہ وہ مصیبت میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف مائل ہونے لگیں۔ اور انہیں یہ خیال پیدا ہو کہ اگر ہم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو ہوسکتا ہے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوجائے۔ لیکن جب قوموں کی قسمت بگڑ جاتی ہے تو وہ بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے ان آفات و مسائل کو آزمائش سمجھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی نحوست سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ آنے والے رسول چونکہ بتوں، دیویوں، دیوتائوں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کی جانے والی مختلف قوتوں کی مذمت کرتے ہیں اور لوگوں کو ان کی پوجا پاٹ سے روکتے ہیں اس لیے ہمارے وہ معبود اور دیوتا ان سے ناراض ہو کر ہمیں آفات میں مبتلا کررہے ہیں۔ تو اس لحاظ سے ہمارے معبودوں کی ناراضگی چونکہ ان کی وجہ سے ہوتی ہے اس لیے جب تک ہم انہیں ختم نہیں کریں گے یا یہاں سے نکلنے پر مجبور نہیں کردیں گے اس وقت تک ہم ان مسائل سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ چناچہ یہ ہے وہ سبب جس کی وجہ سے ان کی مخالفت کم ہونے کی بجائے اور تیز ہونے لگتی ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو دھمکیاں دینے لگتے ہیں کہ اگر تم لوگ اس بدعقیدگی کی اشاعت سے باز نہ آئے تو ہم اپنے دیوتائوں کی حرمت کی حفاظت کے لیے تم کو سنگسار کردیں گے۔ چناچہ قرآن کریم نے تمام معذب قوموں کی تاریخ کے حوالے سے ایک ایک قوم کا نام لے کر اس گمراہی کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ ہم صرف ایک حوالے پر اکتفا کررہے ہیں۔ سورة الاعراف میں اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے : وَلَقَدْ اَخَذْنَا اٰلَ فِرْعُوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ ۔ فَاِذَا جَآئَ تْھُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُوْا لَنَاھٰذِہٖ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَۃٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰی وَمَنْ مَّعَہٗ ۔ ” اور ہم نے قوم فرعون کو قحط اور پھلوں کی کمی میں مبتلا کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں، تو جب ان کے حالات اچھے ہوتے کہتے کہ یہ تو، ، ہمارا حق ہی ہے اور اگر ان کو کوئی آفت پہنچتی تو اس کو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے۔ “
Ayah 36:19

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

رسولوں نے جواب دیا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے، کیا یہ باتیں تم اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی ہے بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو

قَالُوْا طَـآئِرُکُمْ مَّعَکُمْ ط اَئِنْ ذُکِّرْتُمْ ط بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 19) (رسولوں نے جواب دیا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے، کیا یہ باتیں تم اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی ہے بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ ) طَـآئِرُ کا مفہوم طَـآئِرُ فالِ بد کے معنی میں آتا ہے، لیکن یہاں اس سے مراد فالِ بد کا نتیجہ یعنی نحوست ہے۔ کبھی اسے نوشتہ تقدیر کے معنی میں بھی بول دیتے ہیں۔ رسولوں نے جواب دیا کہ تمہارے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اسے تم دوسروں کی نحوست بتانے کی بجائے اپنے اندر تلاش کیوں نہیں کرتے۔ کیونکہ ہر انسان اپنے اعمال کے نتیجے اور اپنی قسمت کے احوال سے گزرتا ہے۔ تمہاری بدبختی کے اسباب خود تمہارے اندرموجود ہیں۔ تم اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتوں سے محظوظ ہوتے ہو۔ لیکن اس کے احسانات کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کے احسانات کا اعتراف کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہو۔ نعمتیں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں اور اسی کی تخلیق کے نتیجے میں تم دنیا میں آئے ہو لیکن تم ان کا انتساب بجائے اپنے خالق ومالک کی طرف کرنے کے ان قوتوں کی طرف کرتے ہو جن کا ان احسانات سے کوئی تعلق نہیں۔ تمہاری نحوست درحقیقت تمہارے ان ہی عقائدِ بد اور اعمالِ سیئۃ کا نتیجہ ہے۔ تم بجائے اس کے کہ اس حقیقت کو سمجھو الٹا ان لوگوں کو مطعون کرتے ہو جو تمہیں اس صورتحال سے نجات دینے کے لیے آئے ہیں۔ تم بجائے اپنے گریبانوں میں منہ ڈالنے کے اپنے محسنوں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈال رہے ہو۔ اور بجائے اپنی گمراہیوں کے سمجھنے کے دوسروں پر اپنی ذمہ داری ڈال رہے ہو۔ اکبر اِلٰہ آبادی نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کیسی خوبصورت بات کہی ہے : جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامہ اعمال دیکھ آیت کے آخری حصے میں فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو اپنی شامت اعمال کا ذمہ دار اس لیے گردانتے ہو کہ انھوں نے تمہیں آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اب تمہارے احوال پر تنقید کرتے ہوئے تمہارے اصل امراض کی نشان دہی کی۔ بجائے اس کے کہ آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھو تم اسے توڑنے کے درپے ہوگئے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ تمہاری اس روش اور طرزعمل نے نہ صرف تمہاری فطرت کو بگاڑا اور اعمال کو تباہ کیا ہے بلکہ تمہاری فکری سلامتی کو بھی خطرناک حد تک متأثر کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جن حدود کو ملحوظ رکھ کر انسانیت کی پرورش کی جاتی ہے تم انہیں حدود کو بار بار پامال کررہے ہو اور تمہیں اس کا بالکل شعور نہیں۔
Ayahs 36:20–21

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اس نے کہا، اے میری قوم کے لوگو ! رسولوں کی پیروی کرو

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

پیروی کرو ان لوگوں کی جو تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتے اور وہ ٹھیک راستے پر ہیں

وَجَـآئَ مِنْ اَقْصَاالْمَدِیْنَۃِ رَجُلٌ یَّسْعٰی قَالَ یٰـقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ ۔ اتَّبِعُوْا مَنْ لاَّیَسْئَلُکُمْ اَجْرًا وَّھُمْ مُّھْتَدُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 20، 21) (اور شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اس نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! رسولوں کی پیروی کرو۔ پیروی کرو ان لوگوں کی جو تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتے اور وہ ٹھیک راستے پر ہیں۔ ) ایک مخلص کی حمیت حق اور قوم کو دعوت محولہ بالا رسولوں کی دعوت اور مخالفین کی مخالفت کوئی ایک دن کی بات نہیں یقینا عرصہ دراز تک یہ سلسلہ چلا ہوگا۔ اور اس کشمکش میں مختلف نشیب و فراز آئے ہوں گے۔ تینوں رسولوں نے کبھی ایک ساتھ اور کبھی الگ الگ شہر کے مختلف مراکز کو اپنی تبلیغ و دعوت کا ہدف بنایا ہوگا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شہر بھر میں اس کشمکش کی بات پھیل گئی۔ کچھ اس کے ہمدرد پیدا ہوئے اور کچھ لوگوں نے مخالفین کا ساتھ دیا۔ حتیٰ کہ بات یہاں تک پہنچی کہ مخالفین نے اللہ تعالیٰ کے ان رسولوں کو قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ جب یہ ہولناک خبر شہر کے مضافات میں پہنچی تو چونکہ شہر کے مختلف گوشوں میں دعوت کے ہمدرد بھی پیدا ہوچکے تھے انہیں میں سے ایک مخلص شخص جو ان رسولوں کی دعوت پر ایمان لا چکا تھا لیکن ابھی تک شہر کے کسی دور دراز گوشے میں اس مخالفت کا ہدف بنے بغیر خاموشی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی میں مصروف تھا۔ اس نے جب محسوس کیا کہ معاملہ خطرناک نقطے تک پہنچ گیا ہے تو وہ دعوت کے ساتھ اخلاص اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی حفاظت کے جوش میں نہایت تیزی سے بھاگتا ہوا وہاں پہنچا جہاں حق و باطل کا میدان گرم تھا۔ لوگ مخالفت میں دیوانہ ہورہے تھے اور مخالفین نے پوری طرح لوگوں کے جذبات میں آگ لگا رکھی تھی۔ اس مخلص شخص نے پہنچتے ہی لوگوں کو اس خطرناک اقدام سے روکنے کے لیے ان سے خطاب کیا اور انہیں رسولوں کے اتباع کی دعوت دی۔ ایک تو مرسلین کا لفظ ہی دعوت کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے کافی تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا رسول دنیا میں اسی لیے آتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اسی کی اطاعت ہی میں لوگوں کے دین و دنیا کی بھلائی ہوتی ہے۔ لیکن یہ لوگ چونکہ مخالفت میں اندھے ہورہے تھے اس لیے صرف دعوت پر اکتفا کرنے کی بجائے اس مخلص شخص نے دو دلائل بھی دیے۔ پہلی دلیل یہ دی کہ تم نے آج تک ان کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور تمہاری اذیت رسانی میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے ان عظیم بندوں کا حال یہ رہا کہ انھوں نے ہمدردی اور خیرخواہی کا کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ خونِ جگر پی پی کر انھوں نے تمہیں راہ راست پر لانے کی کوشش کی۔ اور تمہاری اندھی مخالفت اور بہیمانہ عداوت کے باوجود انھوں نے کبھی اخلاص کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ انتہائی بےغرض لوگ ہیں۔ اگر معاملہ ان کی اپنی ذات یا ان کے مفاد کا ہوتا تو وہ کبھی نہ کبھی اپنی ذات اور اپنے مفاد کو نقصان پہنچنے کے اندیشے سے پسپائی اختیار کرلیتے۔ لیکن انھوں نے کسی موقع پر بھی کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں اور ان کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور اپنے فرائض کی ادائیگی کے سوا کچھ نہیں۔ اور دوسری دلیل یہ دی کہ وہ صرف بےغرض ہی نہیں ہدایت یافتہ بھی ہیں۔ ان کی سیرت بالکل بےداغ ہے۔ کوئی شخص ان کی زندگی کے کسی شعبے پر اعتراض نہیں کرسکتا۔ انھوں نے زندگی کا ایک ایک لمحہ لوگوں کے سامنے گزارا ہے۔ لوگوں نے انہیں ہمیشہ الامین اور الصادق پایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص بےغرض بھی ہو اور نیک نیت بھی اور اس کی زندگی پاکیزگی کی تصویر ہو، آخر اس کی دعوت کو قبول کیوں نہ کیا جائے۔ اور اس کی مخالفت کرکے اپنی بدبختی کو دعوت کیوں دی جائے۔