35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsروح القرآن

Ayah 35:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

ہر طرح کی خوبصورت تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اور فرشتوں کو دو دو تین تین اور چار چار پروں والے پیغام رساں بنانے والا ہے، وہ مخلوق میں جو چاہے اضافہ کردیتا ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ فَاطِرِالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلاً اُوْلِیْٓ اَجْنِحَۃٍ مَّثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ط یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَایَشَآئُ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (فاطر : 1) (ہر طرح کی خوبصورت تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اور فرشتوں کو دو دو تین تین اور چار چار پروں والے پیغام رساں بنانے والا ہے، وہ مخلوق میں جو چاہے اضافہ کردیتا ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ) اعمال کی اصلاح کا انحصار عقائد کی اصلاح پر ہے مکی سورتوں میں بنیادی طور پر زور اصلاحِ عقائد و اخلاق پر ہے۔ اور عقائد کی بنیاد چونکہ تصور توحید پر ہے اس لیے بیشتر گفتگو اسی عقیدے پر ہوتی ہے۔ کیونکہ رسالت اسی عقیدے کا ایک جزو ہے۔ اور آخرت اسی عقیدے کا نتیجہ ہے۔ اگر عقیدہ توحید میں کوئی خرابی پیدا ہوجائے تو رسالت اور آخرت کے عقیدے میں بیش از بیش خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اور مزید یہ کہ انسانی اعمال کی اصلاح کا دارومدار انسانی خیالات و تصورات کی اصلاح پر ہے۔ اگر دل و دماغ میں غلط خیالات اور موہوم تصورات جگہ بنا لیتے ہیں تو انسانی اعمال کی خیروخوبی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ جس انسان کے دل میں سیم و زر کی محبت اور درہم و دینار کی قوت جگہ بنا چکی ہے اس شخص سے سخاوت اور فیاضی کا ظہور خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔ اور جس شخص میں زندگی سے پیار اور موت کا خوف اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے اس سے اولوالعزمی، ایثار و قربانی اور کسی مقصد کے لیے جان پر کھیل جانے کی امید حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ جو شخص دوسروں کے حقوق پر دست درازی مباح سمجھتا ہے اس سے یہ امید رکھنا کہ وہ چوری، غبن اور خیانت کا ارتکاب نہیں کرے گا سوئِ فہم کے سوا کچھ نہیں۔ اگر پیش نظر یہ ہو کہ اعمال کی ان خرابیوں کو دور کیا جائے تو لازم ہے کہ جن خیالات کے نتیجے میں یہ خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان خیالات کی اصلاح کی جائے۔ اور خیالات اور تصورات کی اساس چونکہ تصورتوحید ہے اس لیے انسانی اصلاح کے لیے سب سے زیادہ زور توحید ہی پر دیا جانا چاہیے۔ کیونکہ جب دلوں میں اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کا بےپایاں علم، اس کا شہود، اس کی بےپایاں قدرت کا استحضار پختہ ہوجائے گا تو انسان ہر عمل سے پہلے سو دفعہ سوچنے پر مجبور ہوگا۔ مکی زندگی میں چونکہ انسانی اصلاح کا آغاز ہوا اور اس جماعت کے افراد کی تیاری کا کام شروع ہوا جس نے آگے چل کر اس دھرتی کی قسمت سنوارنا تھی تو ان کے اعمال و اخلاق کی اصلاح کے لیے ان کے خیالات پاکیزہ بنائے گئے اور ان کے دلوں میں اس طرح تصورتوحید کو اتارا گیا کہ یہ عقیدہ غیب و حضور میں کبھی ان سے منفک نہیں ہوا۔ وہ ہر وقت اپنے سامنے اللہ تعالیٰ کی ذات کو دیکھتے تھے۔ اس راستے میں انھوں نے اذیتیں برداشت کیں، زندگی کا ہر دکھ جھیلا لیکن ہراساں ہونے کی بجائے اعمال و اخلاق کے اعتبار سے بیش از بیش پاکیزہ اور پختہ ہوتے گئے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آئندہ چل کر جب ان پر بڑی سے بڑی ذمہ داریاں ڈالی گئیں تو ان کے ارادہ و عمل اور امانت و دیانت میں کہیں جھول پیدا نہیں ہوا۔ کیونکہ ان کے سیرت و کردار کی بنیاد نہایت صالح خیالات اور افکار پر اٹھائی گئی تھی۔ اکبر نے اسی سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے ٹھیک کہا : تو خاک میں مل اور آگ میں جل جب خشت بنے تب کام چلے ان خام دلوں کے عنصر پر بنیاد نہ رکھ تعمیر نہ کر عقیدہ توحید اور حمد میں ربط یہ وہ بنیادی سبب ہے جس کی وجہ سے تمام مکی سورتوں کا آغاز بالعموم عقیدہ توحید یا دوسرے عقائد سے ہوتا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں عقیدہ توحید ہی سے بات کا آغاز ہورہا ہے۔ لیکن اس کی ابتدا حمد سے کی جارہی ہے۔ حمد تعریف کو بھی کہتے ہیں اور شکر کو بھی۔ ان کا منشا ایک ہے اور نتیجہ بھی ایک ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی ذات سے محبت کسی کے دل میں گھر کر جاتی ہے اور اس کے بیشمار احسانات کا احساس دل میں اتر جاتا ہے اور اس کی بندگی اور پرستش دل میں مچلنے لگتی ہے تو بےاختیار اس کی زبان سے حمد کے ترانے پھوٹتے اور شکر کا اظہار ہونے لگتا ہے۔ اس آیت کا آغاز بھی ایسے ہی احساسات سے ہورہا ہے۔ لیکن قرآن کریم چونکہ کتاب دعوت بھی ہے اس لیے اس نے الحمدللہ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس پر دلیل بھی پیش کی۔ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا، اس کی تعریف و تحسین اور اس کے تشکر و امتنان کا اظہار کیوں نہ کریں جبکہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا وہی ہے۔ جس زمین پر انسان چلتا ہے اور جس سے اس کی بیشمار نعمتیں متعلق ہیں اور جس آسمان کی چھت کے نیچے رہتا ہے اور وہاں سے ہر وقت اس پر نعمتیں برستی ہیں اور قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی بےپایاں قدرت کا احساس ہوتا ہے کیونکہ وہ صرف پیدا کرنے والا ہی نہیں بلکہ وہ فاطر ہے یعنی اس نے پہلی دفعہ بغیر سامنے کسی نمونے اور بغیر اسباب کے صرف اپنے طور پر ایک کائنات کو خلق کیا اور انسان اس کائنات کا ایک حصہ ہے جس کے اور چھور کا اسے کوئی اندازہ نہیں۔ تو خودبخود اس کی زبان سے اس کی تعریف اور تشکر کے کلمات پھوٹنے لگتے ہیں۔ عقیدہ توحید پر دلیل اور شرک کا رد اس کے ساتھ ہی پروردگار نے اس دلیل کو آگے بھی بڑھایا ہے اور دفع دخل مقدر کی علمی ضرورت کو پورا بھی فرمایا ہے۔ دلیل کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا پروردگار اتنا عظیم ہے کہ اس نے فرشتوں جیسی پاکیزہ اور طاقتور مخلوق کو بھی اس طرح پیدا فرمایا ہے کہ وہ اس کے عاجز غلاموں کی طرح اس کے قاصد بن کر جابجا اس کے پیغام اور احکام پہنچاتے ہیں۔ جہاں تہاں بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی رسول مبعوث کیا گیا ہے یہ وہاں اللہ تعالیٰ کے پیغامات لے کر پہنچتے ہیں۔ اور کائنات کے ایک ایک گوشے میں مخلوقات کی ضروریات کو بہم پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے قاصد کا فرض انجام دیتے ہیں۔ کیونکہ رسول جس کی جمع رسل ہے جس طرح پیغام بری کرنے والے کو کہتے ہیں اسی طرح ضروریات پوری کرنے والے اور احکام پہنچانے والے کو بھی کہتے ہیں۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سب فرشتے ایک جیسے نہیں۔ ان میں سے کسی کے دو پَر ہیں، کسی کے تین اور کسی کے چار۔ اَجْنِحَۃٍ جناح کی جمع ہے۔ بازو کو بھی کہتے ہیں اور پَر کو بھی۔ حقیقت تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ لیکن جس بےتکلفی سے اس لفظ کو استعمال کیا گیا اس سے اس بات کا امکان معلوم ہوتا ہے کہ یہ پَر ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہو۔ رہی یہ بات کہ ان کے پَر یکساں نہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پروں والی مخلوق ہیں اور قوت پرواز رکھتے ہیں۔ لیکن اپنے فرائض کے اعتبار سے یکساں قوت پرواز کے مالک نہیں بلکہ ان میں تفاوت پایا جاتا ہے۔ جسے جتنی زیادہ تیزرفتاری بخشی گئی ہے اسے اتنے ہی پَر دیے گئے ہیں۔ یہاں اگرچہ چار تک کے پروں کا ذکر ہے لیکن چار پروں پر حصر نہیں۔ آیت کا اگلہ جملہ اشارہ دیتا ہے کہ اس سے زیادہ پروں والے فرشتے بھی پیدا کیے گئے ہیں اور وہ اپنی قوت پرواز میں دوسروں پر بدرجہا فائق ہیں۔ اس کی تائید حضرت عبداللہ ابن مسعود کی روایت سے ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت جبریل (علیہ السلام) کو اس شکل میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پَر تھے۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) نے بیان فرمایا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبریل (علیہ السلام) کو دو مرتبہ ان کی اصلی شکل میں دیکھا ہے، ان کے چھ سو بازو تھے اور وہ پورے افق پر چھائے ہوئے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا پروردگار کیسی بےپایاں قدرتوں کا مالک ہے۔ اس کی بیشمار مخلوقات میں سے فرشتے بھی اس کی ایک مخلوق ہیں اور اس نے ان کو کتنی قدرتیں اور کیسا وسیع جسم دے کر پیدا کیا ہے۔ لیکن اپنی تمام جسامت اور وجاہت کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار قاصد ہیں جو نہایت عاجزی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ مشرکین ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی چہیتی بیٹیاں ہیں۔ اگر یہ خوش ہیں تو پروردگار بھی خوش ہے۔ اور اگر یہ ناراض ہوجائیں تو پروردگار کے عذاب سے ہمیں کوئی نہیں بچا سکتا۔ اس لحاظ سے انھوں نے ان کو دیویوں اور دیوتائوں کا درجہ دے کر ان کی بندگی اپنے اوپر فرض کر رکھی تھی۔ انھیں سے استمداد کرتے، انھیں کے مجسمے تراشتے اور انھیں کی پوجا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کو ماننے کے باوجود عضومعطل بنا رکھا تھا۔ چناچہ اسی تصور کے ازالے کے لیے یہاں خاص طور پر فرشتوں کا ذکر کیا گیا کہ ان کی حیثیت اللہ تعالیٰ کے فرماں بردارقا صدوں کی ہے۔ ان کا اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں کوئی حصہ نہیں، وہ اس کے پیغام رساں ہیں اور اس کے احکام کو نافذ کرنے والے ہیں۔ یہ کس قدر حماقت ہے کہ مشرکین نے ان قاصدوں کو مقصود بنا رکھا ہے اور ان نامہ بروں کو محبوب کا درجہ دے رکھا ہے۔ اس طرح سے وہ عامل جو توحید کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ تھا اس کی تردید فرما کر تصورتوحید کو اجاگر فرمایا گیا ہے۔ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَایَشَآئُ … اللہ تعالیٰ کو سب اختیار ہے کہ وہ اپنی مخلوقات کی تخلیق میں جتنی چاہے اور جس قسم کی چاہے زیادتی کرے۔ اس نے فرشتوں کو اگر اپنی پیغام بری کے لیے پیدا کیا تو یہ بھی اس کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے۔ اور اگر ان کے درجات میں تفاوت رکھا تو یہ بھی اسی کی قدرت کی ایک شان ہے۔ اور اگر وہ ان کی صلاحیتوں اور قوتوں میں اضافہ کرنا چاہے تو اس پر بھی وہ قادر ہے۔ یعنی ان کے پَر دوچار میں محصور نہیں، وہ اگر چاہے تو ان میں بےپناہ اضافہ کرسکتا ہے۔ بعض مفسرین نے یہ فرمایا ہے کہ اس زیادتِ خلق سے عام معنی مراد ہیں۔ ان میں فرشتوں کے پروں کی زیادتی بھی شامل ہے اور دیگر مخلوقات اور بالخصوص انسانوں کی خاص خاص صفات کی زیادتی بھی مراد لی جاسکتی ہے جس میں حُسنِ صورت، حُسنِ سیرت، حُسنِ صوت اور کمال علم و عقل سب داخل ہیں۔ لیکن ان سب میں اصل حسن اسی ذات والا صفات کا جھلکتا ہے اور وہی مراد بھی ہے جسے ہم پروردگارِعالم کہتے ہیں۔ وہی ہر طرح کی تعریف کے لائق اور ہر طرح کے شکر کا مستحق ہے۔
Ayah 35:2

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

اللہ جس رحمت کا دروازہ لوگوں کے لیے کھول دے تو کوئی اسے روکنے والا نہیں اور جسے وہ روک دے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں اور وہ زبردست اور حکمت والا ہے

مَایَفْتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَۃٍ فَلاَ مُمْسِکَ لَھَا ج وَمَا یُمْسِکَ لا فَلاَ مُرْسِلَ لَـہٗ مِنْ م بَعْدِہٖ ط وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (فاطر : 2) (اللہ جس رحمت کا دروازہ لوگوں کے لیے کھول دے تو کوئی اسے روکنے والا نہیں اور جسے وہ روک دے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں اور وہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔ ) توحید پر ایک اور دلیل مشرکین جس طرح فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی قدرت میں دخیل سمجھتے تھے، اسی طرح جنات اور بعض دوسری قوتوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے شریک کے طور پر پکارتے اور ان کی بندگی بجالاتے تھے۔ اور انھیں گمان یہ تھا کہ ان قوتوں کے خوش رہنے سے انھیں زندگی کی ہر چیز اور ہر راحت میسر آسکتی ہے۔ اور اگر قیامت آئی تو یہی قوتیں ان کے لیے شفیع ثابت ہوں گی۔ چناچہ عقیدہ توحید کے ضمن میں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان سے فرمایا گیا ہے کہ عطا و بخشش اور دادودہش اور محرومی اور نامرادی میں کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں۔ وہ جس پر رحمت کا دروازہ کھولتا ہے، کوئی طاقت ایسی نہیں جو اس کو بند کرسکے۔ اور جس کے لیے رحمت کا دروازہ بند کردیتا ہے، کوئی ایسی ذات نہیں جو اسے کھول سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ زبردست، سب پر غالب اور کامل اقتدارِاعلیٰ کا مالک ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ وہ زبردست ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم بھی ہے۔ یہ کھولنا اور باندھنا تمام تر اس کی حکمت کے تقاضوں کے تحت ہوتا ہے۔ وہ جو فیصلہ بھی کرتا ہے سراسر حکمت کی بناء پر کرتا ہے۔ جب وہ کسی کو دیتا ہے تو حکمت اس کی مقتضی ہوتی ہے۔ اگر وہ کسی سے روکتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اسے دینا حکمت کے خلاف ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ آیت کریمہ میں رحمت کا جو لفظ آیا ہے وہ عام ہے، اس میں دینی و اخروی سب نعمتیں شامل ہیں۔ مثلاً ایمان، علم، عمل صالح اور نبوت و ولایت جیسی نعمتیں بھی اس سے مراد ہیں۔ اور دنیوی نعمتیں بھی جیسے رزق، اسبابِ رزق، آرام و راحت، صحت و تندرستی اور رفاہیت و عزت وغیرہ پر بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ ایک حدیث سے اس مفہوم کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ( رض) نے حضرت معاویہ ( رض) کو ایک حدیث لکھ کے بھیجی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جب آپ نماز سے فارغ ہوئے یہ کلمات پڑھتے ہوئے سنا : اَللّٰھُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَاالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدّ ” یا اللہ ! جو چیز آپ کسی کو عطا فرما دیں اس کو کوئی روکنے والا نہیں، اور جس کو آپ روک دیں اس کو کوئی دینے والا نہیں، آپ کے ارادے کے خلاف کسی کوشش کرنے والے کی کوشش نہیں چلتی۔ “ مقصود اس طرح کی آیات سے چونکہ دلوں میں عقیدہ توحید کو پختہ کرنا اور اللہ تعالیٰ پر توکل و اعتماد کو راسخ کرنا ہے تو ہم صحابہ ( رض) کو دیکھتے ہیں کہ وہ ان آیات سے یہی سبق سیکھتے تھے اور اسی سے ان کی زندگیاں عبارت تھیں۔ حضرت عامر بن قیس ( رض) فرماتے ہیں کہ میں صبح کو اگر یہ چار آیتیں تلاوت کرلوں تو پھر مجھے یہ فکر نہیں رہتی کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔ وہ آیتیں یہ ہیں : مَایَفْتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَۃٍ فَلاَ مُمْسِکَ لَھَا وَمَایُمْسِکُ فَلاَ مُرْسِلَ لَـہٗ مِنْ م بَعْدِہٖ دوسری آیت اسی کے ہم معنی یہ ہے : اِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَـہٗ اِلاَّھُوَ ، وَاِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرِ فَلاَ رَٓادَّلِفَضْلِہٖ ، تیسری آیت : سَیَجْعَلُ اللّٰہُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا، چوتھی : وَمَا مِنْ دَٓابَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلاَّعَلَی اللّٰہِ رِزْقُھَا (اخرجہ ابن المنذر، روح المعانی)
Ayah 35:3

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

اے لوگو ! تم پر جو اللہ کے احسانات ہیں ان کو یاد رکھو، کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق بھی ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق بہم پہنچاتا ہو، کوئی معبود نہیں اس کے سوا، تو تم کہاں اوندھے ہوئے جاتے ہو

یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ ط ھَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُاللّٰہِ یَرْزُقُـکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ ط لَآاِلٰـہَ اِلاَّھُوَ صلے ز فَاَنّٰی تُؤْفَـکُوْنَ ۔ (فاطر : 3) (اے لوگو ! تم پر جو اللہ کے احسانات ہیں ان کو یاد رکھو، کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق بھی ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق بہم پہنچاتا ہو، کوئی معبود نہیں اس کے سوا، تو تم کہاں اوندھے ہوئے جاتے ہو۔ ) الوہیت پر دلیل نعمت کا لفظ یہاں اسم جنس کے طور پر استعمال ہوا ہے اس لیے اس سے مراد کوئی ایک نعمت بھی لی جاسکتی ہے اور بیشمار نعمتیں بھی۔ کہنا یہ ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتیں اور احسانات ہیں جنھیں تم کبھی اپنے دست وبازو کی محنت اور دماغ کی قوت کا نتیجہ سمجھتے ہو اور کبھی انھیں غیر اللہ کی طرف منسوب کرنے لگتے ہو۔ حالانکہ تمہیں خوب معلوم ہے کہ یہ نعمتیں تمہیں کس نے دی ہیں۔ سب سے بڑی نعمت تمہارا اپنا وجود ہے جو جسم اور جان سے مرکب ہے۔ اسے نہ تم نے خود خلق کیا ہے اور نہ اس کے خلق میں کسی دوسرے کا کوئی حصہ ہے۔ اسی طرح تم یہ بھی جانتے ہو کہ اس جسم و جان کے رشتے کو باقی رکھنے اور اس کی ضروریات کو فراہم کرنے میں کس کی بخششیں کارفرما ہیں۔ اس کی غذا زمین سے نکلتی ہے جس میں بیک وقت زمین کی قوت روئیدگی، ہَوائوں کی بخشش، پانی کی سیرابی اور آسمان سے سورج کی گرمی اور چاند کی حلاوت اپنا فرض انجام دیتی ہے۔ اور یہ نعمتوں کی فراہمی جسے رزق رسانی کا عمل کہنا چاہیے آپ سے آپ وجود میں نہیں آتی بلکہ کسی ایک ذات کا حکم ہے جو متضاد اور متخالف عناصر کو باہمی توافق اور انسان کی خدمت پر مجبور کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں تمہیں رزق میسر آتا ہے۔ اس لیے اگر تم سے یہ پوچھا جائے کہ لوگو، یہ بتائو کہ تم جن بیشمار نعمتوں سے متمتع ہورہے ہو اور جس جسم و جان سے تمہاری شخصیت تعمیر ہوئی ہے کیا اس کا خالق اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی ہے۔ تو تم اس کو جواب دو یا نہ دو ، لیکن تم اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ ہمارا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور ہماری ضروریات کا فراہم کرنے والا اور بیشمار انعامات سے نوازنے والا وہ بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور نہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ دنیا میں معمولی عقل والا آدمی بھی یہ بات سمجھتا ہے کہ جو ذات کسی چیز کو خلق کرتی ہے وہ چیز اسی کے حکم کے تابع اور اسی کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ اور اسی طرح جو شخص کسی پر احسانات کرتا اور انعامات سے نوازتا ہے ممنونِ احسان شخص اسی کے احکام کو بجالاتا اور اسی کی تعریف میں رطب اللسان رہتا ہے۔ اور اس کے اعضاء وجوارح اس کی اطاعت کے لیے آمادہ عمل رہتے ہیں۔ اگر تمہارے اعتراف کے مطابق اللہ تعالیٰ ہی تمہارا خالق ہے اور وہی تمہیں نوازنے والا ہے تو پھر بتائو تمہارا اِلٰہ کون ہے ؟ کس کی بندگی تم پر لازم ہے، کس کی پرستش تمہیں زیب دیتی ہے ؟ تم اس کا جواب دو یا نہ دو ، لیکن کوئی شخص اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ اللہ تعالیٰ ہی تمہارا اِلٰہ اور معبود ہے جس نے تمہیں خلق کیا ہے اور جس نے تمہاری رزق رسانی کا سامان مہیا کیا ہے۔ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوالات کو زبان دی تھی۔ پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون کون دریائوں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار خاک یہ کس کی ہے کس کا ہے یہ نور آفتاب کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہ گندم کی جیب موسموں کو کس نے سکھلائی یہ خوئے انقلاب دِہ خدایا ! یہ زمین تیری نہیں تیری نہیں تیرے آباء کی نہیں تیری نہیں میری نہیں
Ayah 35:4

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

اے پیغمبر ! اور اگر یہ تمہیں جھٹلاتے ہیں (تو کوئی تعجب کی بات نہیں) آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے گئے ہیں اور اللہ ہی کی طرف سارے معاملے لوٹائے جاتے ہیں

وَاِنْ یُّـکَذِّبُوْکَ فَقَدْکُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ (فاطر : 4) (اے پیغمبر ! اور اگر یہ تمہیں جھٹلاتے ہیں (تو کوئی تعجب کی بات نہیں) آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے گئے ہیں اور اللہ ہی کی طرف سارے معاملے لوٹائے جاتے ہیں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر قریش اور دوسرے لوگ آپ کی تکذیب کررہے ہیں اور آپ کی نبوت کو ماننے سے انکاری ہیں تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ نہ آپ پہلے رسول ہیں، نہ آپ کی مخالفت پہلا تجربہ ہے۔ اس سے پہلے بہت سے رسول آچکے اور بہت سے رسولوں کی امتوں نے ان کی تکذیب کی۔ ان کے حُسنِ سیرت کے اعتراف کے باوجود ان کی نبوت کو ماننے سے انکار کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب قومیں بگاڑ کا شکار ہوجاتی ہیں تو وہ اس طرح اپنے غلط مقاصد، نفسانی اغراض اور غلط طرزعمل کی گرفت میں آجاتی ہیں کہ انھیں کے اندر کا بہترین فرد جسے وہ سب سے بہتر خیال کرتے ہیں جب وہ ان کی اصلاح کے لیے نبوت و رسالت کا داعی بن کر اٹھتا ہے تو ان کے سارے اعترافات دھرے رہ جاتے ہیں اور وہ محض اس لیے پیغمبر کی بات سننا گوارا نہیں کرتے کہ انھیں اپنے طرزعمل کو بدلنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ یہ ایک ایسی تاریخی صداقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔ آپ کے مخاطب بھی اگر اسی راستے پر چل نکلے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس میں آپ کی کسی کوتاہی کا دخل ہے، بلکہ یہ اسی مخصوص ذہنیت کا اظہار ہے جو ہر رسول کے دور میں اس کی امت کی جانب سے ہوتا رہا ہے۔ اس کے بعد تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ نفسانی اغراض کے مارے ہوئے لوگوں کی جانب سے کسی کی تکذیب کوئی معنی نہیں رکھتی، کیونکہ یہ تو اپنے غلط جذبات کی گرفت میں آئے ہوئے لوگ ہیں۔ اصل فیصلہ تو وہاں سے ہوگا جہاں تمام معاملات کے فیصلے لکھے جاتے ہیں۔ وہ جگہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ ہے جہاں تمام معاملات لوٹائے جاتے ہیں۔ اس کی بارگاہ سے کبھی خلاف عدل فیصلہ نہیں ہوتا۔ آپ اسی کے بھروسے پر اپنا کام جاری رکھئے اور اپنے معاملے کو اس کے سپرد کردیجیے۔ وہ وقت دور نہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا فیصلہ آئے گا جس سے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ سچا کون تھا اور جھوٹا کون ؟ اور جھوٹے آخر اپنے انجام کو پہنچیں گے۔
Ayah 35:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

اے لوگو ! بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے، پس تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ اللہ کے بارے میں وہ بڑا دھوکہ باز تمہیں فریب میں رکھے

یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ فَلاَ تَغُرَّنَّـکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وقفۃ وَلاَ یَغُرَّنَّـکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ ۔ (فاطر : 5) (اے لوگو ! بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے، پس تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ اللہ کے بارے میں وہ بڑا دھوکے باز تمہیں فریب میں رکھے۔ ) ایک تنبیہ اور دھمکی گزشتہ آیت کے آخر میں مخالفین کو جو دھمکی دی گئی تھی اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگ جو دنیا کے معاملات کو ہمیشہ دنیا کے حوالے سے دیکھتے ہو اور دنیا کے فیصلوں کو حرف آخر سمجھتے ہو، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ دنیا آخرت کی تیاری کی جگہ ہے۔ ایک مہلت دی گئی ہے جس میں ہر انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کی تیاری میں لگا ہوا ہے۔ جو لوگ اس آنے والے دن کو حقیقت سمجھ کر اس دنیا کو اس کے لیے تیاری کا موقع سمجھ لیتے ہیں وہ آخرت میں سرخرو ہوں گے۔ اور جو لوگ اسے محض ایک ڈراوا سمجھتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ انھیں یقین ہونا چاہیے کہ اس دن کا آنا برحق ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ عدل کے کامل ظہور کے لیے اس دن کو ضرور لایا جائے گا تاکہ کسی محروم کو محرومی کی شکایت نہ رہے اور کسی نیک عمل کرنے والے وفاشعار اور راہ حق میں تکلیف اٹھانے والے جانثار کو شکایت کا موقع نہ ملے۔ لیکن دنیوی زندگی جس میں برے انسانوں کو عیش و عشرت اور دولت و رفاہیت کے مواقع میسر ہیں وہ ان کے لیے گمراہی اور دھوکے کا باعث بن جاتی ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس دنیا کی عیش و عشرت اور اس کی سہولتیں گویا اس بات کی دلیل ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے منظورِنظر ہیں اور اس کے پسندیدہ بندے ہیں وہ اگر ہم سے ناخوش ہوتا تو ہمیں ان دنیوی نعمتوں سے بہرہ ور نہ فرماتا۔ اور جو لوگ یہاں محرومی کی زندگی گزار رہے ہیں انھیں نہ دنیوی عیش سے کوئی حصہ ملا ہے اور نہ انھیں حکومت و سطوت میسر ہے۔ وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ لوگ ہیں، وہ یہاں بھی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور آخرت میں بھی انھیں تلخیوں سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ دنیوی زندگی کا یہ فریب تمہیں کہیں گمراہ کرنے میں کامیاب نہ ہوجائے۔ بہت سے لوگوں کو یہ فریب لے بیٹھا ہے اور تم آج اس کی زد میں ہو۔ مزید فرمایا کہ جس طرح دنیوی عیش و نشاط انسان کی گمراہی کا سبب بنتا ہے اسی طرح ایک سب سے بڑا دھوکے باز اور فریب کار شیطان بھی ہے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ کبھی وہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے وجود کے بارے میں بہکاتا ہے اور کبھی اس راستے پر ڈالتا ہے کہ خدا کی ذات موجود تو ہے لیکن وہ دنیوی معاملات میں دخیل نہیں۔ وہ دنیا کو ایک دفعہ حرکت دے کر الگ جا بیٹھا ہے اور کبھی لوگوں کے دل میں یہ بات ڈالتا ہے کہ یقینا پروردگار اپنی کائنات کا نظام تو چلا رہا ہے لیکن اس نے انسانوں کو رہنمائی کے لیے حواس، عقل اور تجربے کی دولت دے رکھی ہے جو اس کے لیے کافی ہے۔ اس نے ان کی رہنمائی کے لیے خود کوئی ذمہ داری قبول نہیں کی، یہ وحی و رسالت محض ایک ڈھکوسلا ہے۔ اسی طرح کے اس کے اور بہلاوے ہیں جن سے وہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہمیشہ الجھائے رکھتا ہے، دیکھنا ! اس کے فریب میں نہ آنا۔ جو شخص بھی اس کے فریب میں آیا، وہ مارا گیا۔ وہ ایسا فریب کار ہے جو ہمیشہ گھات میں رہتا ہے۔ جیسے ہی وہ انسان کی کسی کمزوری کو دیکھتا ہے وہ کمزوری فکری ہو یا عملی، وہ اسی کمزوری کو واسطہ بنا کر اس کی تباہی کا سامان کرتا ہے۔
Ayah 35:6

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے، پس تم بھی اس کو اپنا دشمن ہی سمجھو، وہ تو اپنی جماعت کو اس لیے بلاتا ہے کہ وہ اہل جہنم میں شامل ہوجائیں

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَـکُمْ عَدُوٌّفَاتَّخِذُوْہُ عَدُوًّا ط اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَـہٗ لِیَکُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ ۔ (فاطر : 6) (بےشک شیطان تمہارا دشمن ہے، پس تم بھی اس کو اپنا دشمن ہی سمجھو، وہ تو اپنی جماعت کو اس لیے بلاتا ہے کہ وہ اہل جہنم میں شامل ہوجائیں۔ ) شیطان کا انسان سے تعلق گزشتہ آیت میں شیطان کے فریب سے بچنے کی ہدایت فرمائی تھی اب اس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان تمہارا حقیقی دشمن ہے۔ اس نے تمہارے جدِامجد حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے جھکنے سے انکار کرکے پہلے ہی دن اپنی دشمنی کا اعلان کردیا تھا۔ اور پھر پروردگار سے مہلت مانگتے ہوئے بھی صاف صاف کہا کہ میں ہر طرف سے اولادِآدم پر حملہ آور ہوں گا تاکہ میں انھیں گمراہ کرسکوں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اولادِآدم میں بہت کم لوگ اللہ تعالیٰ کے شکرگزار ہوں گے۔ چناچہ اس آیت میں اس کی دشمنی کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ تم اگر اس کے شر سے بچنا چاہتے ہو تو عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو دشمن سمجھو۔ یہ کوئی دانش مندی نہیں کہ اپنے دشمن کو دشمن خیال بھی کرو لیکن زندگی کے معاملات کی باگ اس کے ہاتھ میں دے دو ۔ شریعت کے احکام کو نظرانداز کرکے اس کے بہکاو وں پر عمل کرو۔ وہ انسان کو کبھی نفسانی اغراض کی راہ سے، کبھی نفع و ضرر کے حوالے سے، کبھی قومی عصبیتوں کو توانا کرکے اور کبھی گروہی مفادات کو اکسا کر بظاہر بہت ہمدردی اور اپنائیت کا اظہار کرتا ہے، لیکن مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ انھیں اپنے گروہ میں شامل کرکے انھیں جہنم کی گھاٹ پر لے جا اتارے اور ہمیشہ کے لیے ان کی ہلاکت کا سامان کردے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہ مختلف حربوں سے انسان سے انتقام لینا کبھی نہیں بھولتا۔ لیکن انسان اس کو برا بھلا کہنے کے باوجود ہمیشہ اس کے فریب کے پھندوں کا شکار ہو کر اپنی عاقبت تباہ کرلیتا ہے۔
Ayah 35:7

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے، اور جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے

اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ 5 ط وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌکَبِیْرٌ۔ (فاطر : 7) (جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے، اور جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔ ) ایک غلط تصور کی تردید گزشتہ دو آیتوں میں جو کچھ ذکر کیا گیا ہے اسے سمیٹتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ شیطان کے سارے بہکاو وں اور دھوکوں کا حاصل یہ ہے کہ کسی طرح انسان اس معاملے میں یکسو ہوجائے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کسی خاص مقصد کو بروئے کار لانے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ اسے حواس، شعور اور عقل دے کر اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کی آزادی دی گئی ہے۔ اور کوئی ایسا دن آنے والا نہیں جب انسانوں کو دوبارہ زندہ کرکے حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا پڑے۔ جو شخص اس تصور کو قبول کرلیتا ہے اس کے لیے آخرت بےمعنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ چناچہ اس تصور کی بیخ کنی کے لیے فرمایا کہ دنیا میں سچائی اور برائی، خیر اور شر اور کفر اور ایمان جیسے دو متضاد رویے ہمیشہ موجود رہے ہیں اور موجود رہیں گے، اگر یہ تصور قبول کرلیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو شتر بےمہار کی طرح زندگی گزارنے کی آزادی دے رکھی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے یہاں خیر و شر اور سچائی اور برائی میں کوئی امتیاز نہیں۔ اس کی زمین، اس کی اطاعت کے پھولوں سے مہکنے کی بجائے اس کی نافرمانی اور شیطنت کے کانٹوں سے بھر جائے، اسے اس کی کوئی پروا نہیں۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کیے بغیر ممکن نہیں۔ اور جسے انسانیت بھی کبھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتی۔ اس لیے واضح طور پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کفر اور ایمان یکساں نہیں۔ جن لوگوں نے دنیا میں کفر کیا وہ آخرت میں عذاب شدید سے دوچار ہوں گے۔ اور جنھوں نے ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کیا وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور بہت بڑے اجر سے نوازے جائیں گے۔ کیونکہ کفر اللہ تعالیٰ کو نہ پسند ہے اور نہ منظور۔ اور ایمان اور عمل صالح اللہ تعالیٰ کی رضا کے مظہر اور جنت کی نعمتوں کے استحقاق کی ضمانت ہیں۔
Ayah 35:8

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

کیا وہ شخص کہ مزین کردیا گیا ہے اس کے لیے اس کا برا عمل، پس وہ اسے اچھا سمجھنے لگا ہے (ایمان لانے والا بن سکتا ہے ؟ ) پس اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے، پس (اے پیغمبر) ان پر غم و افسوس میں اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں۔ بیشک اللہ تعالیٰ باخبر ہے ان کاموں سے جو وہ کر رہے ہیں

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَـہٗ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا ط فَاِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآئُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ صلے ز فَلاَ تَذْھَبْ نَفْسُکَ عَلَیْہِمْ حَسَرٰتٍط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ م بِمَا یَصْنَعُوْنَ ۔ (فاطر : 8) (کیا وہ شخص کہ مزین کردیا گیا ہے اس کے لیے اس کا برا عمل، پس وہ اسے اچھا سمجھنے لگا ہے (ایمان لانے والا بن سکتا ہے ؟ ) پس اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے، پس (اے پیغمبر ! ) ان پر غم و افسوس میں اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں۔ بیشک اللہ تعالیٰ باخبر ہے ان کاموں سے جو وہ کر رہے ہیں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اس آیت کریمہ میں مخالفین کے ایمان قبول نہ کرنے اور مخالفت میں مزید تیزی پیدا کردینے کے حوالے سے آپ کو تسلی دی گئی ہے۔ کیونکہ آپ لوگوں کے ایمان قبول نہ کرنے پر دو وجہ سے انتہائی دل گرفتہ ہوجاتے تھے۔ ایک وجہ یہ تھی کہ آپ یہ سمجھتے کہ ان کے ایمان قبول نہ کرنے کا سبب شاید میری تبلیغ و دعوت کی مساعی میں کوئی کمی اور کوتاہی ہے۔ ورنہ جس قدر میں پیار اور محبت اور غمگساری سے انھیں ایمان کی دعوت دیتا ہوں اور پھر جس طرح خون جگر پی پی کر انھیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں اس سے زیادہ کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔ یہ انسانی استطاعت کی آخری حد ہے۔ اس کے باوجود ان کا ایمان قبول نہ کرنا بجز اس کے اور کیا سمجھا جاسکتا ہے کہ شاید میرے اخلاص یا میری جدوجہد میں کوئی تقصیر پائی جاتی ہے۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ قرآن کریم کا کلام اللہ ہونا اور پھر اس کلام کا معجز ہونا اور دشمنوں کے یہاں بھی اس کی تأثیر کا اعتراف کیا جانا اور اس کے داعی کی شخصیت کا بےعیب سیرت و کردار کا مالک ہونا بجائے خود یہ تقاضا کرتا ہے کہ ایسی دعوت کو فوراً قبول کیا جائے اور سننے والے اس پر ایمان لانے میں تاخیر نہ کریں۔ لیکن مخالفین کے طرزعمل کو دیکھتے ہوئے آنحضرت ﷺ دلگرفتہ بھی ہوتے اور سوچ میں بھی مبتلا ہوجاتے کہ آخر ان کے ایمان نہ لانے کا سبب کیا ہے۔ چناچہ آپ کو تسلی دیتے ہوئے ان دونوں باتوں کا جواب دیا گیا ہے۔ پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ کسی بھی صداقت اور حقیقت سے کسی انسان کی دوری کا سبب یہ ہوتا ہے کہ اسے حقیقت اور صداقت کا علم نہیں ہوتا، یا اس کی عادتیں اور خصلتیں اس حد تک بگڑ چکی ہیں کہ اس کے برعکس کسی بات کو تسلیم کرنا اس کے لیے مشکل ہورہا ہے۔ چناچہ مسلسل تبلیغ و دعوت اور فہمائش سے اس بات کی امید ہوتی ہے کہ عادتوں اور خصلتوں میں تبدیلی آئے گی۔ اور یہ شخص جسے برائی کے برائی ہونے سے انکار نہیں اور اچھائی کے اچھائی ہونے کا اعتراف بھی ہے۔ افہام و تفہیم بالآخر اس کی جمی ہوئی برف کو توڑے گا اور اس کا ضمیر کبھی نہ کبھی اسے ملامت کرے گا اور آخر وہ اس ہدایت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ایسے ہی لوگوں کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں اور ایسے ہی لوگ ان کی ہدایت کو قبول کرتے ہیں۔ لیکن اگر صورتحال یہ ہوجائے کہ جن لوگوں کے سامنے وہ صداقت پیش کی جارہی ہے وہ اس صداقت کے مخالف طرزعمل کو سب سے بڑی صداقت سمجھنے لگیں۔ ان کا ذہنی سانچہ اس حد تک بگڑ جائے کہ اس میں گناہ اور برائی کے داخل ہونے کے تو سو راستے ہوں لیکن نیکی کے داخل ہونے کا کوئی راستہ نہ ہو۔ اسے گناہ سے تو گہری دلچسپی ہو، برائی اس کے لیے تسکین کا باعث بن جائے۔ بدی عین تہذیب و ثقافت قرار پائے، فسق و فجور اس کی نگاہوں میں ترقی پسندی کی علامت بن جائے۔ ایسے شخص سے امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی بھی صداقت، نیکی اور بھلائی کی بات کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوگا۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ جن بڑے بڑے لوگوں سے آپ کو واسطہ پڑا ہے اور اشرافِ قریش جو آپ کی مخالفت میں بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ یہ لوگ اسی فتنے میں گرفتار ہیں۔ انھیں اپنی برائیاں بھلائیاں معلوم ہوتی ہیں۔ یہ لوگ اپنے طرزعمل میں خودپسند ہوچکے ہیں۔ یہ اپنی ہر بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں اس لحاظ سے یہ لوگ قانونِ الٰہی کی زد میں آچکے ہیں۔ اس کا قانون یہ ہے کہ جب کوئی شخص بگاڑ کی اس انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس قانون کی زد میں آجاتا ہے جسے قرآن کریم میں ختم قلوب یا رین سے تعبیر فرمایا ہے۔ ایسے لوگوں پر کوئی تذکیر و تنبیہ اثر نہیں کرتی۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ہدایت و ضلالت کے قانون کی طرف اشارہ ہے۔ پھر تسلی کے اسی مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے قانون کی زد میں آچکے اور انھیں سماع قبول سے محروم کردیا گیا ہے۔ وہ اگر آپ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے تو آپ ان کی خاطر اپنے دل کو روگ کیوں لگاتے ہیں اور آپ ان کی خاطر غم و افسوس میں گھلتے کیوں جارہے ہیں۔ آپ کا کام تبشیر و انذار اور ابلاغ ہے، سو یہ آپ کرچکے۔ اس لیے جتنی محنت ہونا چاہیے تھی آپ نے اس سے بڑھ کر کی ہے۔ آپ نے امانت کا حق بھی ادا کیا اور ہمدردی و غمگساری کا بھی۔ ہدایت کے اعتبار سے ایک ایک آدمی کے ساتھ آپ کی ہمدردی و غمگساری اپنی جگہ، یہ یقینا مخلوقِ خدا اور اپنی منصبی ذمہ داریوں کے ساتھ غایت درجہ تعلق کی دلیل ہے۔ لیکن اس کی بھی حدود ہیں۔ اسے اس قیمت پر ادا کرنا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کو ہلکا سمجھنے لگیں اور انھیں یہ خیال پیدا ہوجائے کہ شاید اللہ تعالیٰ کا دین ہمارا محتاج ہے اور مزید یہ کہ اس کی وجہ سے آپ کی صحت گرنے لگے، یہ پروردگار کو گوارا نہیں۔ اس لیے کئی مواقع پر آپ کو اس بات سے روکا گیا کہ آپ کا کام تبشیر و انذار ہے ان کی ہدایت کے لیے اپنے آپ کو روگ لگا لینا نہیں۔ سورة الکہف میں ارشاد فرمایا : فَلَعَلَّـکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٰی اٰثَارِھِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِھٰذَالْحَدِیْثِ اَسَفًا ” شاید آپ اپنی جان کو ہلاک کردیں گے ان لوگوں کے پیچھے افسوس کے باعث اگر وہ لوگ ایمان نہ لائے۔ “ یہاں بھی آپ کو تسلی دیتے ہوئے اس صورتحال پر توجہ دلائی گئی ہے۔ لیکن ساتھ ہی مخالفین کو تنبیہ کرتے ہوئے اور آنحضرت ﷺ کو اطمینان دلاتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کی مخالفت میں جو کچھ کررہے ہیں چاہے وہ آپ کے خلاف کی جانے والی سازشیں ہوں یا منصوبہ بندیاں، اللہ تعالیٰ ان سب باتوں کو جاننے والا ہے۔ اور ان باتوں کی سزا بھی دے گا۔ کیونکہ جب کوئی بڑا حکمران کسی مفسد آدمی سے یہ کہتا ہے کہ میں تمہاری ہر بات سے باخبر ہوں۔ تو اس کا مطلب صرف اپنے باخبر ہونے کی اطلاع دینا نہیں ہوتا بلکہ درحقیقت ایک تنبیہ ہوتی ہے کہ تم اگر اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو اس کے بعد تم سے بدترین سلوک ہوگا اور تمہارے کرتوتوں کی تمہیں سزا ملے گی۔ یہاں بھی یہی بات فرمائی گئی ہے۔
Ayah 35:9

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

اور اللہ ہی ہے جو ہَوائوں کو بھیجتا ہے، پس وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں، پھر ہم ان کو ہانکتے ہیں کسی مردہ زمین کی طرف، پس ہم اس سے اس زمین کو زندگی بخشتے ہیں اس کے مردہ ہوجانے کے بعد، مرے ہوئے انسانوں کا جی اٹھنا بھی اسی طرح ہوگا

وَاللّٰہُ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَـتُـثِـیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰـہُ اِلٰی بَلَدٍمَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا ط کَذٰلِکَ النُّشُوْرُ ۔ (فاطر : 9) (اور اللہ ہی ہے جو ہَوائوں کو بھیجتا ہے، پس وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں، پھر ہم ان کو ہانکتے ہیں کسی مردہ زمین کی طرف، پس ہم اس سے اس زمین کو زندگی بخشتے ہیں اس کے مردہ ہوجانے کے بعد، مرے ہوئے انسانوں کا جی اٹھنا بھی اسی طرح ہوگا۔ ) قیامت کے وقوع پر ایک واقعاتی دلیل گزشتہ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ جو کچھ کررہے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔ اپنے اسی علم و خبر کے مطابق مختلف شہادات کے ساتھ قیامت کے دن ان سے بازپرس کرے گا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس قیامت پر عقلی اور واقعاتی دلیل پیش کی گئی ہے۔ کیونکہ مشرکین وقوع قیامت کو بعید از امکان سمجھتے تھے۔ اس لیے وہ اپنی زندگی اپنی نفسانی خواہشوں اور اپنے مفادات کے تابع گزارنے پر مصر تھے کیونکہ انھیں کسی ایسے دن کے آنے کا کوئی خطرہ نہ تھا جہاں انھیں اپنے اعمال کا جواب دینا پڑے۔ چناچہ ان سے کہا جارہا ہے کہ تم بچشم سر دیکھتے ہو کہ بعض دفعہ مہینوں یا برسوں تک بارش نہیں ہوتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آباد زمینیں بھی ویرانوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ ہر طرف دھول اڑتی دکھائی دیتی ہے، سبزہ اور روئیدگی کا کہیں نام و نشان نہیں ہوتا، پانی کے جوہڑ خشک ہوجاتے ہیں، کسی طرف سے کسی مینڈک کے ٹرانے کی آواز نہیں آتی، ہر طرف موت کا سماں طاری ہوجاتا ہے۔ اچانک ہَوائیں اڑتی ہیں وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے بادلوں کو ابھارتی اور جمع کرتی ہیں۔ پھر پروردگار ان بادلوں کو اس مردہ زمین کی طرف ہانک کرلے جاتا ہے اور بارش برسنے لگتی ہے۔ بارش برستے ہی ہر چیز میں تبدیلی آنے لگتی ہے، جوہڑ پانی سے بھر جاتے ہیں، حیرت انگیز طور پر نہ جانے کہاں سے مینڈک نکل آتے ہیں اور ہر طرف سے ٹرانے کی آوازیں آنے لگتی ہیں، زمین سبزے کا مخملی لباس پہن لیتی ہے، درختوں پر نئی نئی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں، درختوں کی جڑوں میں زندگی عود کر آتی ہے، چند دنوں پہلے جہاں مردنی چھائی ہوئی تھی وہاں ہر گوشے میں زندگی نمودار ہوجاتی ہے۔ یہ وہ منظر ہے جس کو دیکھنے والے ہمیشہ دیکھتے ہیں۔ اور ہر جگہ موت کے دامن سے زندگی کا پھوٹ نکلنا ان کا آنکھوں دیکھا معاملہ ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر مردہ زمین بارش کے چند چھینٹوں سے زندہ ہوسکتی ہے اور ہر طرف زندگی کے آثار نظر آنے لگتے ہیں تو آخر اس میں کیا استبعاد ہے کہ انسانوں کو ازسرنو زندہ کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کا حکم دیا جائے اور ہر شخص اپنی زندگی بھر کے اعمال کا حساب دے۔ اگر دیدہ بینا میسر ہو اور آدمی بصیرت سے محروم نہ ہو تو اس کے لیے آخرت اور قیامت کا وقوع اور انسانوں کا ازسرنو زندہ ہونا ایسی بات نہیں جو عقل میں نہ آسکے۔
Ayah 35:10

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جو عزت چاہتا ہو تو یاد رکھے کہ عزت ساری کی ساری اللہ ہی کے لیے ہے، اس کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلمہ، اور عمل صالح اس کو اٹھاتا ہے اور وہ لوگ جو بری چالیں چل رہے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کی چال ہلاک ہو کر رہے گی

مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًا ط اِلَیْہِ یَصْعَدُالْـکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ ط وَالَّذِیْنَ یَمْکُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ط وَمَکْرُ اُوْلٰٓئِکَ ھُوَ یَبُوْرُ ۔ (فاطر : 10) (جو عزت چاہتا ہو تو یاد رکھے کہ عزت ساری کی ساری اللہ ہی کے لیے ہے، اس کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلمہ، اور عمل صالح اس کو اٹھاتا ہے اور وہ لوگ جو بری چالیں چل رہے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کی چال ہلاک ہو کر رہے گی۔ ) ایمان کے راستے کی رکاوٹ قریش اور دیگر مشرکین کو جن اسباب نے قبولیتِ اسلام سے دور رکھا ان میں سے ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ آج ہمیں دنیا میں جو عزت و وجاہت حاصل ہے یہ اسلام قبول کرنے کے بعد ختم ہوجائے گی۔ ہم چونکہ بیت اللہ کے متولی اور مجاور ہیں اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں، اس لیے ہمیں باقی لوگوں پر ایک تفوق حاصل ہے۔ اسی تفوفق کے احساس کے تحت قریش کسی دوسرے قبیلے کو اپنا ہم پلہ نہیں سمجھتے تھے۔ اور پورے عرب کی سیادت کو وہ برتری کے احساس کی وجہ سے اپنا حق خیال کرتے تھے۔ اور بیت اللہ کے متولی ہونے کی وجہ سے انھوں نے بعض دینی معاملات میں اپنے لیے کچھ خصوصیات بنا رکھی تھیں حتیٰ کہ حج میں وہ مزدلفہ سے واپس آجاتے تھے۔ عرفات جانا اس لیے گوارا نہیں کرتے تھے کہ اس طرح ہمارا دوسروں کے برابر ہونا لازم آئے گا۔ اور قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات میں جس طرح انسانوں میں ہر طرح کے تفاوت کو ختم کردیا ہے اور کسی کو کسی دوسرے پر برتری کے تمام دعاوی کو پائوں تلے روند ڈالا ہے، یہ بات قریش کو کسی طرح بھی قبول نہ تھی۔ تو جو دین اس دعوت کو لے کر اٹھا تھا اسے قبول کرنا اس وجہ سے ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ پروردگار نے پیش نظر آیت کریمہ میں ان کی اس گمراہی کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے عزت کے جو اسباب اپنے تئیں بنا رکھے ہیں وہ انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ہیں، اسلام انھیں مٹانے کے لیے آیا ہے۔ اسی طرح آخرت میں عزت حاصل کرنے کے لیے جن قوتوں کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے اور ان کی شفاعت پر بھروسا کرکے بیٹھے ہو ان کی بھی کوئی حقیقت نہیں۔ دنیا و آخرت میں عزت کا سرچشمہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ جسے اس کی بارگاہ اور اس کے دین سے عزت ملتی ہے وہی عزت ابدی اور حقیقی ہے۔ اسلام کی نگاہ میں غریب اور امیر، قریشی اور غیرقریشی، عربی اور عجمی، اور کالے اور گورے میں کوئی امتیاز نہیں۔ وہ بلال کو عزت دیتا ہے اور ابولہب کو راندہ درگاہ قرار دیتا ہے۔ اس کے یہاں عزت کا ایک ہی پیمانہ ہے کہ اس سے تعلق پیدا کیا جائے۔ تم نے جو پیمانے بنا رکھے ہیں وہ سب غلط ہیں۔ نہ وہ دنیا میں کام آئیں گے اور نہ آخرت میں۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ایمان اور عمل ہے اس کے بعد عزت حاصل کرنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے کہ انسان میں تبدیلی اس کے بنیادی خیالات اور تصورات کی اصلاح سے ہوتی ہے۔ اور اسی کے نتیجے میں اعمال کی اصلاح ہوتی ہے۔ چناچہ قلب و نگاہ اور خیالات کی تبدیلی کا نقطہ آغاز اور حقیقی اساس کلمہ ٔ طیبہ ہے جس سے مراد حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) کے نزدیک ایمان ہے۔ یعنی ہر طرح کے آستانوں سے اٹھ کر ہر طرح کی بڑائیوں کا انکار کرکے، ہر طرح کے تخت و تاج کو الٹ کر صرف اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اظہار، اسی کی عظمت کا اعتراف، اسی کے خوف اور محبت کا دل میں بسیرا۔ اور جو کچھ نبی کریم ﷺ لے کر آئے ہیں ان تمام چیزوں کا اخلاص کے ساتھ اتباع کا جذبہ۔ یہ وہ ایمان ہے جو دنیا میں مومن کو کافر سے الگ کردیتا ہے۔ کافر کو وہ ” شرالبر “ یہ قرار دیتا ہے اور مومن کو کائنات کا گل سرسبد ٹھہراتا ہے۔ لیکن ایسا ایمان جو عمل کی صورت میں برگ و بار پیدا نہ کرے، جس سے عبادات نہ پھوٹیں، جس سے مکارمِ اخلاق ظہور میں نہ آئیں، جس سے معاملات کی اصلاح نہ ہو۔ وہ ایمان ایک ایسا پودا ہے جو پھل سے خالی اور شادابی سے بیگانہ ہے۔ اس کی مثال انگور کی ایک ایسی بیل کی مانند ہے جس کی شادابی اور ثمر آوری میں کوئی کلام نہیں۔ لیکن اس کے پھلنے پھولنے کے لیے لکڑیوں کے سہارے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ سہارا میسر نہ آئے تو اس کے مرجھانے میں دیر نہیں لگے گی۔ یہ بیل موجود رہے گی، لیکن صحیح پھل نہ دے سکے گی۔ یہی حال اس ایمان کا ہے جو عمل صالح سے خالی ہے۔ عمل صالح ایمان کی بیل کو اپنے سر پر اٹھاتا ہے، اس کے لیے سہارے کا کام کرتا ہے۔ اس پر یہ بیل پھیلتی اور ثمرآور ہوتی ہے۔ ایمان اور عمل صالح دونوں مل کر دنیا میں بھی سرفرازی کا باعث بنتے ہیں اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے یہاں سرخروئی کا باعث بنیں گے۔ عمل سے خالی ایمان یا عمل سے بیگانہ ایمان ایک طویل سزا کے بعد جنت میں جانے کا سبب تو بن سکتا ہے لیکن طویل سزا سے بچائو کی کوئی صورت نہیں۔ اسی طرح وہ عمل جس کی بنیاد میں ایمان شامل نہیں اور کوئی خالص نظریہ اس کی پشت پر نہیں۔ نہ دنیا میں اس کا اعتبار ہے اور نہ آخرت میں عذاب سے بچائو کا ذریعہ ہوگا۔ ایمان لانے کے بعد آدمی شہادت گاہ میں کھڑا کردیا جاتا ہے اور اس کے اعمال شہادت کا کام دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اقبال نے ٹھیک کہا : یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا آخر میں فرمایا جو لوگ اس کلمہ حق کو نیچا دکھانے کے لیے بری سے بری کاوشیں روبہ عمل لارہے ہیں اور ہر ممکن طریق سے کلمہ حق کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں، قیامت میں ان کے لیے عذاب شدید ہے اور دنیا میں ایسی تمام کاوشیں اور تدبیریں خود اپنی موت مرجائیں گی۔
Ayah 35:11

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے بنا دیے اور کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ بچہ جنتی ہے، مگر اس کے علم سے۔ کسی عمر والے کی عمر نہ زیادہ کی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے، مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوا ہے، یہ سب اللہ کے لیے آسان ہے

وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ جَعَلَکُمْ اَزْوَاجًا ط وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَلاَ تَضَعُ اِلاَّ بِعِلْمِہٖ ط وَمَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍوَّلاَ یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِہٖٓ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ ط اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔ (فاطر : 11) (اور اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے بنا دیے اور کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ بچہ جنتی ہے، مگر اس کے علم سے، کسی عمر والے کی عمر نہ زیادہ کی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے، مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوا ہے، یہ سب اللہ کے لیے آسان ہے۔ ) شرک کے ایک اور عامل کی تردید مشرکینِ عرب میں جن عوامل نے شرک پیدا کیا اور پھر شرک میں توسیع کی اور شاخ در شاخ اس کو پھیلنے کا موقع ملا۔ ان عوامل میں سے ایک عامل اولاد کا بھی رہا ہے۔ یہ انسان کی فطری کمزوری ہے کہ وہ اولاد کا خواہش مند ہوتا ہے۔ اور اولاد میں سے بھی نرینہ اولاد انسان کی زیادہ مطلوب رہی ہے۔ جب کبھی اولاد کے پیدا ہونے میں تاخیر ہوتی ہے یا نرینہ اولاد کی بجائے بیٹیاں پیدا ہونے لگتی ہیں تو میاں بیوی میں پریشانی سر اٹھاتی ہے اور دبی دبی زبان میں ایک دوسرے سے اپنے غم کا اظہار ہونے لگتا ہے۔ یہی موقع ہوتا ہے جب شیطان ان کو شرک کے راستے پر ڈالتا ہے اور ان کے ذہن میں یہ خیال پیوست کردیتا ہے کہ جب تک تم فلاں جن کو نہیں پکارو گے یا فرشتوں سے استمداد نہیں کرو گے یا فلاں مزار یا استھان پر چڑھاوا نہیں چڑھائو گے اور کوئی منت مان کر اولاد کی درخواست نہیں کرو گے، اس وقت تک اولاد نہیں ہوگی یا بیٹا پیدا نہیں ہوگا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ایسے ہی مشرکانہ افعال و اعمال کی تردید کی جارہی ہے۔ لیکن ان کی تمہید کے طور پر ایسی باتوں کا ذکر کیا جارہا ہے جنھیں تسلیم کرنے سے مشرکینِ عرب کو انکار نہیں تھا۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم مانتے ہو کہ تمہارے جدِامجد کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا فرمایا۔ پھر ان کی اولاد میں توالد و تناسل کے سلسلے کے لیے پانی کی بوند یعنی نطفے کو ذریعہ بنایا۔ اور اس مادہ منویہ کو توالد کی بنیاد کے لیے مرد اور عورت کے جوڑے پیدا کیے۔ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دنیا کے ہر طبقے میں جہاں جہاں بھی نوع انسانی آباد ہے کہیں ایسا نہیں ہوا کہ مرد و عورت کی تخلیق میں تناسب قائم نہ رکھا گیا ہو۔ ایسا کہیں نہیں ہوا کہ کسی علاقے میں صرف مرد پیدا ہوں اور کسی دوسرے علاقے میں صرف عورتوں کی تخلیق کی گئی ہو۔ یہ تو ممکن ہے کہ مردوں اور عورتوں کی تعداد میں تھوڑا بہت فرق رکھا گیا ہو۔ لیکن یہ کہیں نہیں ہوا کہ یہ فرق اس حد تک پہنچ جائے کہ دونوں کو ایک دوسرے کا رفیقِ حیات میسر نہ آئے۔ دونوں کی تعداد میں خفیف سا فرق وہ بجائے خود انسانوں کی اپنی ضرورت ہے اور اس کی اپنی حکمتیں ہیں جس کا اس وقت ذکر کرنا ضروری نہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ جس پروردگار کے دست قدرت نے انسانوں کے جدِامجد کو مٹی سے بنایا، پھر مردو عورت کے جوڑے پیدا کیے اور پھر ان کے اتصال سے توالد و تناسل کا سلسلہ قائم کیا۔ کیا اس پروردگار نے یہ سب کچھ اپنے وسیع علم اور بےکراں قدرت کے بغیر پیدا کیا۔ اگر ایسا نہیں تو پھر تم اپنی اولاد کے لیے دوسرے دروازے پر دستک کیوں دیتے ہو۔ دوسروں سے استمداد کیوں کرتے ہو۔ اور پھر بعض آستانوں پر منت مان کر اولاد کو اس کا ذریعہ کیوں سمجھتے ہو۔ جس پروردگار کے وسیع علم اور بےکراں قدرت کا اپنے گردوپیش میں تم ظہور دیکھتے ہو وہ یقینا جانتا ہے کہ کب کوئی عورت حاملہ ہوتی ہے اور کب کوئی عورت بچہ جنتی ہے۔ اس کے حمل کی کیفیات کیا ہوتی ہیں اور پیدا ہونے والا بچہ کن خصوصیات کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ رحمِ مادر میں ابھی نطفے کو خون میں تبدیل ہونے کا موقع نہیں ملتا کہ پروردگار اس وقت بھی جانتا ہے کہ اس عمل میں کیا کیا تبدیلیاں آئیں گی، وہ کس شکل و صورت میں ظہورپذیر ہوگا۔ اور جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے بارے میں وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس کی عمر کیا ہوگی۔ اس کی عمر میں اس کے اعمالِ خیر کے باعث کتنا اضافہ ہوگا۔ یا اس کے بعض شرور کے باعث کتنی کمی ہوگی۔ یہ بات بھی اس کے علم میں ہے کہ یہ شخص سعید ہوگا یا شقی ہوگا۔ اس کی قسمت میں مسرتیں اور شادمانیاں ہوں گی یا محرومیاں اور تلخیاں ہوں گی۔ کیونکہ جب بچہ پیٹ میں ہوتا ہے تو اسی وقت اس کی قسمت بھی لکھ دی جاتی ہے اور اس کی سعادت و شقاوت کا فیصلہ بھی ہوجاتا ہے۔ لیکن آگے چل کر اس کے اعمال کے باعث اس میں تبدیلیوں کا امکان بھی رکھا جاتا ہے۔ اس لیے انسان کی تمام تر توجہ اس بات پر رہنی چاہیے کہ بچہ اگر پیدا ہونے سے پہلے اور اس کے بعد بھی ہمیشہ اس کا دامن اپنے رب کے سامنے پھیلا رہے۔ بجائے کسی اور آستانے پر جانے کے اللہ تعالیٰ کے ہی حضور دست دعا دراز ہونا چاہیے۔ اور پیدا ہونے والا بچہ جب بلوغ کی عمر میں پہنچے تو اس کی توجہ ایمان و عمل، مکارمِ اخلاق اور زندگی کے فرائض و آداب پر ہونی چاہیے نہ یہ کہ وہ یہ سوچے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں کیا فیصلہ کر رکھا ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ کی تدبیر انسانی تدبیر پر غالب رہتی ہے لیکن انسان اپنے اعمال کے رہین منت ہے۔ اسے اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے کہ اس کی تقدیر کیا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہے۔ اس سے تو ایمان و عمل کا تقاضا کیا جاتا ہے اور اسی کے مطابق اس کی تقدیر بنتی اور بدلتی رہتی ہے۔ اکبر نے بالکل ٹھیک کہا : جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامہ اعمال دیکھ اور اقبال نے اپنے فلسفیانہ انداز میں اس مضمون کو اور کھول دیا ہے۔ تقدیر کے پابند نباتات و جمادات مومن فقط احکامِ الٰہی کا ہے پابند ایک واہمہ کی تردید آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ بات بہت آسان ہے کہ وہ نوع انسانی کے ایک ایک فرد اور دیگر مخلوقات میں سے ایک ایک مخلوق کی ضروریات اور ان کے حالات پر نظر رکھے۔ اور اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق ان کے بارے میں فیصلے فرمائے۔ یہ بات اس لیے فرمائی گئی ہے کہ مشرکینِ عرب اللہ تعالیٰ کو خالق بھی مانتے تھے اور اپنا رازق بھی سمجھتے تھے۔ لیکن ساتھ ہی اس وہم میں مبتلا بھی تھے کہ پروردگار تنِ تنہا تمام جزئیاتِ امور کا احاطہ کس طرح کرسکتا ہے۔ اسے اپنی وسیع و عریض کائنات میں ایک ایک شخص کی ضروریات اور اس کی محرومیوں کی خبر کیسے ہوسکتی ہے۔ اس وہم کے تحت انھوں نے پروردگار کی مدد کے لیے شرکاء و اعوان ایجاد کیے اور پھر ان کی بندگی اور پرستش میں اس حد تک آگے نکل گئے کہ اللہ تعالیٰ کو ایک وجودِ معطل کی حیثیت دے دی۔ چناچہ اسی کی تردید کے لیے فرمایا گیا کہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنے بادشاہوں اور وڈیروں پر قیاس مت کرو۔ اس کا وسیع علم اور قدرت ہر چیز کو محیط ہے۔ وہ ہر چیز کو جانتا بھی ہے اور سب کچھ کرنے پر قادر بھی ہے۔