35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsروح القرآن

Ayahs 35:12–13

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور دونوں دریا یکساں نہیں ہیں، ایک میٹھا اور پیاس بجھانے والا، پینے میں خوشگوار، اور دوسرا کھاری اور کڑوا، اور تم دونوں سے تازہ گوشت حاصل کرتے ہو، اور تم زینت کی چیز نکالتے ہو تاکہ اسے پہنو، اور تم دیکھتے ہو کشتیوں کو اس میں پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں تاکہ تم اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکرگزار بنو

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں، اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں، سورج اور چاند کو اس نے مسخر کر رکھا ہے، ہر ایک گردش کرتا ہے ایک معین وقت کے لیے، وہی اللہ تمہارا رب ہے، اسی کی بادشاہی ہے، اسے چھوڑ کر جنھیں تم پکارتے ہو وہ تو ذرہ برابر بھی کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں رکھتے

وَمَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ صلے ق ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُہٗ وَھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ط وَمِنْ کُلٍّ تَاْکُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّاوَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَۃً تَلْبَسُوْنَھَا ج وَتَرَی الْفُلْکَ فِیْہِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ لا وَسَخَّرَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ صلے ز کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ط ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّـکُمْ لَـہُ الْمُلْکُ ط وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَایَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ ۔ (فاطر : 12، 13) (اور دونوں دریا یکساں نہیں ہیں، ایک میٹھا اور پیاس بجھانے والا، پینے میں خوشگوار، اور دوسرا کھاری اور کڑوا، اور تم دونوں سے تازہ گوشت حاصل کرتے ہو، اور تم زینت کی چیز نکالتے ہو تاکہ اسے پہنو، اور تم دیکھتے ہو کشتیوں کو اس میں پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں تاکہ تم اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکرگزار بنو۔ وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں، اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں، سورج اور چاند کو اس نے مسخر کر رکھا ہے، ہر ایک گردش کرتا ہے ایک معین وقت کے لیے، وہی اللہ تمہارا رب ہے، اسی کی بادشاہی ہے، اسے چھوڑ کر جنھیں تم پکارتے ہو وہ تو ذرہ برابر بھی کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ ) صاحبِ تدبرِ قرآن نے بڑی خوبصورتی سے اس آیت کی توضیح فرمائی ہے، ہم اسے یہاں نقل کررہے ہیں۔ شرک اور شرکاء کی تردید اضداد میں سازگاری کے پہلو سے یہ ایک دوسرے پہلو سے شرک اور شرکاء کی تردید فرمائی گئی ہے۔ اس کائنات میں اضداد کا جو تصادم ہے یہ بھی شرک کے نہایت اہم عوامل میں سے ہے۔ قرآن نے مختلف پہلوئوں سے اس کی تردید فرمائی ہے اور ہم اس کی وضاحت کرتے آرہے ہیں۔ یہاں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں اضداد کا وجود اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس کے اندر مختلف ارادے کارفرما ہیں اس لیے کہ اس کے اضداد میں ظاہری تضاد کے ساتھ ساتھ نہایت گہری سازگاری بھی پائی جاتی ہے جس سے اس بات کی شہادت ملتی ہے کہ کوئی بالاتر اور ہمہ گیر و ہمہ جہت قوت قاہرہ ان تمام اضداد پر حاوی ہے جو ان کو اپنی حکمت کے تحت اس کائنات کی مجموعی بہبود کے لیے استعمال کررہی ہے۔ وَمَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ ا لایۃ، یعنی دیکھو، دو سمندر ہیں اور دونوں اپنی ظاہری خصوصیات وصفات میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ایک کا پانی شیریں، پیاس بجھانے والا اور خوشگوار ہے۔ دوسرے کا کھاری، کڑوا ہے۔ یہ دونوں آپس میں ٹکراتے ہیں لیکن یہ نہیں ہوتا کہ کھاری سمندر میٹھے سمندر پر غالب ہو کر اس کو کھاری بنا دے یا شیریں سمندر کھاری کے مزاج کو بدل دے بلکہ ایک بالاتر قوت نے ان دونوں کو ٹکرانے کے باوجود ان کے حدود کا پابند کر رکھا ہے۔ سورة رحمن میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ ۔ بَیْنَھُمَا بَرْزَخٌ لاَّیَبْغِیَانِ (الرحمن : 19۔ 20) (اس نے چھوڑے دو دریا، دونوں باہم دگر ٹکراتے ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان ایک اوٹ ہوتی ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے) ۔ پھر یہ دیکھو کہ کس طرح یہ اپنے تضاد و اختلاف کے باوجود اپنے سے بالاتر مقصد کی خدمت بجالاتے ہیں کہ تم دونوں ہی سے اپنے لمبے لمبے بری سفروں میں جہاں تازہ گوشت حاصل کرنا ناممکن ہوتا ہے، ان سے تازہ گوشت حاصل کرلیتے ہو اور غذا کے ساتھ اپنی زینت کے لیے ان سے قیمتی موتی بھی نکالتے ہو۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ یہ تمہارے لیے اس طرح مسخر ہیں کہ تمہارے جہازات ان کے سینے پر سے موجوں کو پھاڑتے ہوئے چلتے ہیں تاکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کرکے تم اللہ تعالیٰ کے رزق و فضل کے طالب بنو اور اس کے شکرگزار رہو… مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کے ظاہری تضاد میں گم ہو کے نہ رہ جاؤ بلکہ ان اضداد کے باہمی توافق پر بھی نگاہ ڈالو تو یہ حقیقت روشن ہوجائے گی کہ ایک ہی خدائے قادر وقیوم نے اس دنیا کو وجود بخشا ہے اور اسی نے اپنی قدرت و حکمت سے اس کے تمام اجزائے مختلفہ کو انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے تاکہ انسان اپنے پروردگار کا شکر گزار رہے۔ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ الایۃ۔ یہ اسی حقیقت کی طرف ایک دوسری مثال سے توجہ دلائی ہے کہ یہی حال تمہارے سامنے روز آنے والی رات اور روز ظاہر ہونے والے دن کا بھی ہے۔ وہ بھی بظاہر ضدّین کی نسبت رکھتے ہیں لیکن ان کے درمیان بالکل زوجَین کا توافق پایا جاتا ہے۔ دونوں ہی اس دنیا کی بقاء اور تمہاری راحت و معیشت کے لیے ضروری ہیں۔ یہی حال سورج اور چاند کا بھی ہے۔ نادانوں نے ان کو معبود بنا کر پوجا حالانکہ وہ اپنے وجود سے شہادت دیتے ہیں کہ خدا نے ان کو اپنی خلق کی خدمت کے لیے مسخر کر رکھا ہے۔ چناچہ دونوں اپنے معین نظام اوقات کے ساتھ برابر تمہاری خدمت میں سرگرم رہتے ہیں۔ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَـہُ الْمُلْک یہ خلاصہ ہے اوپر کی ساری بحث کا کہ یہی اللہ جس کی یہ شانیں، قدرتیں اور حکمتیں دیکھتے ہو، تمہارا رب ہے اور اسی کے قبضہ قدرت میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے۔ وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَایَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ ۔ قِطْمِیْر، اس باریک غلاف کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کے اوپر ہوتا ہے۔ یہ وہی بات منفی اسلوب سے فرمائی کہ رہے وہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے اور پوجتے ہو تو وہ اس دنیا کے خلق و تدبیر میں ذرہ برابر بھی دخل نہیں رکھتے۔
Ayah 35:14

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم ان کو پکارو گے تو وہ تمہاری پکار نہیں سنیں گے، اور اگر سنیں گے تو تمہاری فریاد رسی نہیں کریں گے اور قیامت کے دن تمہارے شرک کا انکار کردیں گے، اور تمہیں یہاں کوئی آگاہ نہیں کرسکتا، ایک باخبر کی طرح

اِنْ تَدْعُوْھُمْ لاَ یَسْمَعُوْا دُعَآئَ کُمْ ج وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَـکُمْ ط وَیَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ یَکْفُرُوْنَ بِشِرْکِکُمْ ط وَلاَ یُنَبِّئُکَ مِثْلُ خَبِیْرٍ ۔ (فاطر : 14) (اگر تم ان کو پکارو گے تو وہ تمہاری پکار نہیں سنیں گے، اور اگر سنیں گے تو تمہاری فریاد رسی نہیں کریں گے اور قیامت کے دن تمہارے شرک کا انکار کردیں گے، اور تمہیں یہاں کوئی آگاہ نہیں کرسکتا، ایک باخبر کی طرح۔ ) فرضی معبودوں کی بےکسی دنیا اور آخرت دونوں میں مشرکینِ عرب نے جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا تھا اور جنھیں وہ دیوتائوں کی طرح پکارتے اور پوجتے تھے ان کی بےبسی اور بےحقیقتی کو واضح فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر تم انھیں عالم اسباب سے بالا کسی مشکل میں پکارو گے تو وہ تمہاری پکار اور فریاد کو سن بھی نہیں سکیں گے۔ کیونکہ اولاً تو مشرکینِ عرب نے اللہ تعالیٰ کے جو شریک بنا رکھے تھے ان کا سرے سے کوئی مسمیٰ ہی موجود نہ تھا۔ محض مفروضوں پر شرک کا کاروبار چل رہا تھا۔ اور یا وہ بت تھے جنھیں وہ اپنے معاملات میں موثر خیال کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایسے معبود ان کی فریاد کو سننے پر بھی قادر نہیں تھے۔ البتہ انھوں نے انبیاء اور اولیاء کو بھی اپنی پرستش کا مستحق سمجھ رکھا تھا۔ ان کا یقینا ایک وجود تو ہے لیکن اسباب سے بالا کسی مشکل میں یہ بھی کام آنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس لیے اگر وہ ان کی فریاد کو سن بھی لیں تو ان کے کسی کام آنے والے نہیں۔ اور آخرت میں یہ ان کی عبادت اور پرستش سے براءت کا اظہار کریں گے۔ ملائکہ بھی اظہارِ براءت کرتے ہوئے ان پر لعنت بھیجیں گے۔ اور جن جنات کی یہ پوجا کرتے رہے ہیں وہ بھی قیامت کے دن صاف صاف ان سے کہیں گے کہ یہ تمہاری بدبختی تھی کہ تم نے ہماری پوجا پاٹ کی، اب اس کا انجام بھگتو۔ آخر میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ آخرت میں جو کچھ ہونے والا ہے آج کوئی انسان اس سے واقف نہیں۔ اور نہ جنات اور ملائکہ اس سے آگاہ ہیں۔ صرف ایک جاننے والا ہے جو ان سب کا پروردگار ہے۔ وہ تمہیں تنبیہ کررہا ہے کہ اس کے خبر دینے سے فائدہ اٹھائو اور اگر تم نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا تو یہ تمہاری ایسی بدنصیبی ہوگی جسے تم قیامت کے دن یاد کرکے ماتم کرو گے۔
Ayahs 35:15–17

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

اے لوگو ! تم ہی اللہ کے محتاج ہو، اللہ تو غنی اور ستودہ صفات ہے

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

اگر وہ چاہے تو تمہیں ہلاک کردے اور ایک نئی مخلوق تمہاری جگہ لے آئے

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور یہ اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں

یٰٓـاَیُّھَاالنَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللّٰہِ ج وَاللّٰہُ ھُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ اِنْ یَّشَاْبُذْھِبْکُمْ وَیَاتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ ۔ وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ ۔ (فاطر : 15 تا 17) (اے لوگو ! تم ہی اللہ کے محتاج ہو، اللہ تو غنی اور ستودہ صفات ہے۔ اگر وہ چاہے تو تمہیں ہلاک کردے اور ایک نئی مخلوق تمہاری جگہ لے آئے۔ اور یہ اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔ ) اللہ تعالیٰ غنی اور حمید ہے گزشتہ آیات میں مختلف حوالوں سے اللہ تعالیٰ کی بےپایاں قدرت اور جن قوتوں کو اس کا شریک ٹھہرایا گیا ہے ان کی بےبسی کو بیان فرمایا گیا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ انسانوں کی غیرمعمولی ضروریات اور احتیاجات کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتوں اور اس کے خزانوں کا انسانوں کو حد درجہ محتاج دکھا کر انسان کی بےبصیرتی پر تعریض کی گئی ہے کہ ایک طرف اس کی بےبسی اور قدم قدم پر ضرورت اور احتیاج، اور دوسری طرف اس کا تمرد اور استکبار اور فیضانِ ربوبیت اور عطاء و بخشش کے مالک سے بےنیازی کو نمایاں کرتے ہوئے ان کی اصل حیثیت سے پیش نظر آیت میں خطاب فرمایا گیا ہے کہ اے لوگو ! تم سب اللہ تعالیٰ کے محتاج اور فقیر ہو۔ اور اے لوگو ! کے لفظ میں ایک طرح سے تنبیہ اور تہدید بھی ہے کہ تم جس طرح زندگی گزار رہے ہو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم اپنے جسم و جان کے خود خالق ہو۔ اور تم جن نعمتوں سے جس طرح متمتع ہورہے ہو، اس سے شبہ ہوتا ہے کہ ان نعمتوں کے حوالے سے کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہو۔ اور پھر جس طرح اللہ تعالیٰ کا رسول تمہیں تمہارے انجام کے حوالے سے انذار کررہا ہے اور تمہاری تمام بدتمیزیوں کے باوجود اپنی ہمدردی اور خیرخواہی میں کسی طرح کی تخفیف کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس سے شاید تمہیں یہ غلط فہمی ہوگئی ہے کہ تم شاید اللہ تعالیٰ کی کوئی ایسی ضرورت بن گئے ہو جس کی وجہ سے بار بار تمہیں تعلیم اور تذکیر سے کام لیا جارہا ہے۔ کہ اگر تم نے ایمان قبول نہ کیا تو شاید اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور کبریائی میں کسی خرابی کے درآنے کا اندیشہ ہے۔ اور اگر تم نے اس کی بندگی اور عبادت کا رویہ اختیار نہ کیا تو شاید اس کی خدائی نہ چل سکے گی۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم سب اللہ تعالیٰ کے فقیر ہو۔ تم اپنے وجود اور اس کی بقاء کے لیے قدم قدم پر اس کے محتاج ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی اپنی ذات میں غنی اور حمید ہے۔ اس کا کوئی کام لوگوں کے ایمان پر اٹکا ہوا نہیں، اور نہ وہ اپنی کائنات کے انتظام و انصرام میں کسی کا محتاج ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول لوگوں کے جگانے اور جھنجھوڑنے کے لیے اپنے رات اور دن جو ایک کیے ہوئے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی احتیاج مضمر نہیں بلکہ وہ تمہاری ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں غنی ہے، وہ ہر ایک سے مستغنی اور بےنیاز ہے، کسی کی مدد کا محتاج نہیں۔ لیکن مخلوقات ہر مرحلے پر اس کی توجہ اور عنایت کی محتاج ہیں۔ وہ اگر اپنے خزانوں کے دروازے بند کردے تو انسان بےبسی کی موت مرجائے۔ اسی طرح وہ حمید بھی ہے، یعنی آپ سے آپ محمود ہے۔ کوئی اس کی حمد کرے یا نہ کرے مگر ہر مخلوق جو اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتی ہے جو اس کے دیے ہوئے رزق سے پیٹ پالتی ہے۔ جو اس کی عطا و بخشش سے سانس لیتی ہے جس کی بقا کی تمام چابیاں جس کے ہاتھ میں ہیں اسے ان نعمتوں کا ادراک یہ شعور عطا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر طرح کی حمد، تعریف اور شکر کا مستحق ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی اپنی ذات میں اس کا استحقاق نہیں رکھتا۔ مزید فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ زمین پر جس طرح اکڑ اکڑ کے چلتے ہو اور اس کی قوت روئیدگی کے بےپایاں خزانوں سے ہر مرحلے پر سیراب ہوتے ہو، اگر وہ پروردگار چاہے تو اس کی قدرت سے یہ بعید نہیں کہ وہ ایک لمحے میں تمہیں ہلاک کردے اور اس زمین پر کسی اور کو لا کر بسا دے۔ معذب قوموں کی تاریخ پڑھ کر دیکھو کہ انھوں نے اپنے ملکوں کو جس طرح اپنی خواہشات کی بازی گاہ بنا رکھا تھا اور انھیں گمان یہ تھا کہ ہمیں یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو ان کا بیج مار ڈالا گیا۔ اور پھر ایسا بھی نہیں کہ وہ سرزمین آبادی سے خالی ہوگئی ہو، وہ جس طرح ان کے زمانے میں آباد تھی، آج شاید اس سے بڑھ کر آباد ہو۔ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے کسی سرزمین سے کسی قوم کو فنا کردیتا ہے اور کسی دوسری قوم کو لا کر وہاں آباد کردیتا ہے۔ قریش کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ تم نے سرزمینِ حجاز کو جس طرح اپنی ملکیت سمجھ رکھا ہے۔ اگر تم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو اللہ تعالیٰ سے کچھ بعید نہیں کہ وہ سابقہ امتوں کی طرح تمہیں محروم کرکے کسی دوسری قوم کو یہاں لا بسائے۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے یہ تبدیلی کوئی مشکل نہیں۔
Ayah 35:18

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا، اور اگر کوئی بوجھل نفس اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے کسی کو پکارے گا تو اس کے بوجھ کا ادنیٰ حصہ بھی کوئی اٹھانے کے لیے نہیں آئے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہو۔ اے پیغمبر ! تم صرف انھیں لوگوں کو ڈرا سکتے ہو جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو شخص پاکیزگی اختیار کرتا ہے وہ اپنے لیے حاصل کرتا ہے، اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے

وَلاَ تَزِرُوَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ط وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَۃٌ اِلٰی حِمْلِھَا لاَ یُحْمَلْ مِنْہُ شَیْ ئٌ وَّلَوْکَانَ ذَا قُرْبٰیط اِنَّمَا تُنْذِرُالَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَیْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوَۃ ط وَمَنْ تَزَکّٰی فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفْسِہٖ ط وَاِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ ۔ (فاطر : 18) (اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا، اور اگر کوئی بوجھل نفس اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے کسی کو پکارے گا تو اس کے بوجھ کا ادنیٰ حصہ بھی کوئی اٹھانے کے لیے نہیں آئے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہو۔ اے پیغمبر ! تم صرف انھیں لوگوں کو ڈرا سکتے ہو جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو شخص پاکیزگی اختیار کرتا ہے وہ اپنے لیے حاصل کرتا ہے، اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ ) ہر شخص خود اپنا مسٔول ہے مشرکین کے عقائد میں جو خرابیاں پیدا ہوئی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جب کوئی شخص اسلام قبول کرنے کی جسارت کرتا تو قبیلے کے سربرآوردہ لوگ اسے گھیر لیتے اور مختلف طریقوں سے اسے بہکانے کی کوشش کرتے۔ جب وہ ان کے بہکاو وں میں نہ آتا تو آخر اس سے یہ کہتے کہ ہر قبیلے کے بزرگ ہمیشہ علم و دانش اور خیرخواہی کا سرچشمہ رہے ہیں اس لحاظ سے ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ اسلام میں کوئی بھلائی نہیں، تم محض جوانی کے جوش میں بہک گئے ہو۔ ہم نشیب و فراز سے گزرے ہیں، ہمیں ہر چیز کی حقیقت تم سے زیادہ معلوم ہے۔ ہم تمہیں اطمینان دلاتے ہیں کہ اگر واقعی قیامت کا کوئی وجود ہوا اور وہاں تم سے اسلام سے برگشتگی سے متعلق سوال کیا گیا تو اس کی ذمہ داری ہم قبول کریں گے، اور جوابدہی کے لیے ہم اپنے آپ کو پیش کردیں گے۔ اور اسی خرابی کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ جن قوتوں کو ہم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے اور ہم ہمیشہ ان کے نام پر چڑھاوے چڑھاتے اور قربانیاں دیتے ہیں وہ یقینا آخرت میں ہمارا بوجھ اٹھائیں گی۔ اور جو افتاد بھی ہم پر پڑے گی وہ اس کے لیے سہارا بنیں گی۔ ان مزعومہ تصورات کی تردید کے لیے فرمایا گیا ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ جس طرح دنیا میں کوئی کسی کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھاتا ہے اور نہ کوئی کسی کی جگہ ماخوذ ہوتا ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی کوئی کسی کی ذمہ داری کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کا خود جوابدہ ہوگا۔ اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ قیامت کے دن اگر کوئی شخص اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ محسوس کرتے ہوئے کسی دوسرے کو اپنی مدد کے لیے پکارے گا کہ تم کسی طرح اس گراں باری میں میری مدد کرو تو کوئی کسی کی بات نہیں سنے گا۔ قریبی رشتہ دار بھی جو دنیا میں حق قرابت پر جان دیتے تھے بات سننے کے روادار نہیں ہوں گے، ہر شخص کو اپنی پڑی ہوگی۔ تمام رشتے جواب دے جائیں گے۔ ہر شخص اپنے اعمال کے حوالے سے مسؤلیت کا بوجھ تنہا اٹھائے گا۔ تو آج جو لوگ کسی حوالے سے بھی دوسروں کے بوجھ اٹھانے کا وعدہ کررہے ہیں وہ ایک ایسا جھوٹا بھروسا دلا رہے ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ آپ ﷺ کی دعوت خشیت الٰہی کے حامل اور نماز پر عامل قبول کریں گے اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ اپنے مخالفین کو ان حقائق سے آگاہ کردیں جن سے انھیں قیامت کے دن دوچار ہونا پڑے گا۔ اور جو اس آیت میں بیان کردیے گئے ہیں۔ لیکن اگر وہ انھیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں، اللہ تعالیٰ کا قانونِ عدل کسی کی خواہش پر قربان نہیں ہوتا، بلکہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے خواہشات قربان کی جاتی ہیں۔ یہ لوگ خواہشوں کے اسیر ہو کے رہ گئے ہیں۔ اس لیے یہ آپ کی دعوت کو قبول کرکے نہیں دیں گے۔ آپ ان لوگوں کو اپنی تبلیغ و دعوت کا ہدف بنائیے اور وہی لوگ آپ کی دعوت قبول کرنے کے اہل بھی ہیں جو بےدیکھے اپنے اللہ سے ڈرتے ہیں، جنھیں کائنات میں پھیلی ہوئی بیشمار نشانیوں کا ادراک ہے، جو اپنی سمع و بصر اور عقل و قلب کی صلاحیتوں کو محسوسات اور معقولات کی آلودگیوں میں زنگ آلود کرنے کی بجائے وحیِ الٰہی کے نور سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرچکے ہیں۔ وہ ہر آستانے کی حقیقت سے بہرہ ور ہونے کے بعد محض اللہ ہی کی محبت کو دل میں اتار چکے ہیں۔ مخلوق کے ہر طرح کے خوف سے بےنیاز ہو کر صرف اللہ سے ڈرتے اور اسی کے سامنے جھکتے ہیں۔ نماز چونکہ ایمان کا اولین ثمرہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی خشیت کی علامت ہے۔ کیونکہ جو شخص ایمان لاتا ہے نماز کا فرض ہی سب سے پہلے اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اور حقیقی ایمان جس کا مستقر دل ہے وہ یقینا سب سے پہلے اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے جھکنے کے لیے بیتاب ہوتا ہے۔ لیکن جو شخص ایمان کا دعویٰ رکھتا ہے لیکن نماز سے بےپروا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ایمان کا دعویٰ محض فریب ہے۔ حقیقی ایمان نماز سے الگ نہیں رہ سکتا۔ اور حقیقی خشیت اللہ تعالیٰ سے بےنیاز نہیں ہوسکتی۔ جس شخص کو بھی یہ دو نعمتیں میسر آجائیں گی وہ یقینا آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول کرے گا۔ اس لیے آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کی دعوت کا ہدف بننے کے لائق ہیں، اور یہی لوگ آپ کی دعوت کو قبول کریں گے۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی خشیت اور اقامتِ صلوٰۃ ایسے دو زریں اصول ہیں جن کا فائدہ یہ ہے کہ جو شخص انھیں اختیار کرلیتا ہے وہ اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کرلیتا ہے۔ اس کی شخصی زندگی ان تمام آلودگیوں سے محفوظ ہوجاتی ہے جو غیراسلامی زندگی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اور وہ اس تصور سے بھی دور نہیں رہ سکتا کہ میری شخصی پاکیزگی میری اپنی بھلائی کے لیے ہے۔ یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ میری اپنی ضرورت ہے کیونکہ مجھے ایک نہ ایک روز اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنا ہے۔ وہاں مجھے اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے۔ یہ پاکیزگی اور طہارت جو گناہوں سے بچنے کے نتیجے میں نصیب ہوئی ہیں۔ یہی میری سرخروئی کا سبب بنیں گی اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کا استحقاق پیدا کریں گی۔
Ayahs 35:19–21

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اور نہ تاریکیاں اور روشنی

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ سایہ اور دھوپ (یکساں ہیں

وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ ۔ وَلاَ الظُّلُمٰتُ وَلاَالنُّوْرُ ۔ وَلاَالظِّلُّ وَلاَالْحَرُوْرُ ۔ (فاطر : 19 تا 21) (اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں۔ اور نہ تاریکیاں اور روشنی۔ اور نہ سایہ اور دھوپ (یکساں ہیں) ۔ ( اَعْمٰی سے مراد عقل اور دل کے اندھے ہیں اور بصیر سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی عقل کی صلاحیتیں زندہ ہیں اور دل کا نور روشن ہے۔ اور وہ اپنی صلاحیتوں سے صحیح کام لینے کا طریقہ جانتے ہیں اور اس کی فکر بھی رکھتے ہیں۔ اضداد سے استدلال اور آنحضرت ﷺ کو تسلی ظُلُمٰتُ سے مراد وہ تاریکیاں ہیں جو انسان اپنے جاہلانہ اوہام اور قیاسات و مفروضات سے خود اپنے گرد پیدا کرلیتا ہے۔ اور نور سے مراد وہ روشنی ہے جو وحی الٰہی سے انسانیت کو نصیب ہوتی ہے۔ اور اس کا سرچشمہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور وہ پوری نوع انسانی ایک ہی ہے۔ اس لیے نور کو ہمیشہ واحد لایا جاتا ہے حالانکہ عربی زبان میں اس کی جمع فصیح بھی ہے اور متداول بھی۔ ظِلُّسے مراد سایہ اور ٹھنڈی چھائوں ہے۔ اور یہ جنت کے ماحول سے استعارہ ہے۔ اور حَرُوْرُسے مراد دھوپ کی تپش ہے۔ اور اس سے جہنم کی طرف اشارہ ہے۔ گزشتہ آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ کے مخالفین آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو آپ اس پر پریشان نہ ہوں۔ ان کا دعوت کو قبول نہ کرنا آپ کی تبلیغ و دعوت میں کسی کوتاہی کا نتیجہ نہیں، بلکہ وہ اس ذہنی اور قلبی استعداد سے محروم ہوچکے ہیں جو آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے ضروری ہے۔ جب تک ان کے اندر خشیت الٰہی پیدا نہ ہو اور وہ اپنی حقیقی منزل کی طرف جانے کا یقین پیدا نہ کریں اور ان کے اندرہدایت کی طلب پیدا نہ ہو اور وہ اس ہدایت کو دنیا و عقبیٰ کے لیے اپنی ضرورت نہ سمجھیں اس وقت تک آپ کی تبلیغی کاوشیں بارآور نہیں ہوسکتیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی بات کو تمثیلات کے انداز میں آگے بڑھایا گیا ہے۔ چناچہ مثال دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ایک شخص ہے جس کے اندر منزل پر پہنچنے کی کوئی بےتابی نہیں بلکہ وہ سرے سے منزل کا علم ہی نہیں رکھتا۔ جبکہ سفر اور کسی چیز کو جاننے کے لیے بنیادی چیز اس کی آگاہی ہے۔ لیکن آگاہی کی ابتدائی ضرورت آنکھوں سے دیکھنا ہے، اور وہ آنکھیں کھولنے کے لیے تیار نہیں۔ بلکہ آنکھوں کو بند رکھنے کی وجہ سے وہ حقائق سے بیخبر ہی نہیں بلکہ دیکھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوچکا ہے۔ اس کا حال یہ ہے کہ : جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سو نمونے مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بو نے اور دوسرا وہ شخص ہے جو آنکھوں کی بینائی رکھتا ہے۔ وہ بینائی سے کام بھی لیتا ہے اور گردوپیش میں پھیلے ہوئے حقائق کو دیکھ کر نتائج اخذ کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں شخص اپنے شخصیات کی تعمیر، اپنا مستقبل بنانے کی فکر اور نفع و ضرر کے فہم اور زندگی کی حقیقت کے ادراک اور پھر آخرت میں جواب دہی کی فکر میں یکساں نہیں ہوسکتے۔ جو شخص زندگی کے سفر میں اوہام و خیالاتِ فاسدہ کی پیدا کردہ تاریکیوں میں گم ہونے کی وجہ سے ضمیر کی روشنی سے محروم ہو کر وحی الٰہی کے نور سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت سے انکار کردیتا ہے اور وہ زندگی کے بارے میں فیصلے کرتا ہوا اپنی شخصیت کے گنبد سے کبھی باہر جھانکنے کی کوشش نہیں کرتا اور تاریکیوں میں ڈوبنے کی وجہ سے کہیں اسے روشنی کی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔ اور دوسرا شخص وہ ہے جو اپنے ضمیر کی روشنی سے بھی کام لیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبر نے جو وحی الٰہی کی شمع جلائی ہے وہ اس کی روشنی میں چلتا ہے۔ اور اسی کو فلاح کی راہ سمجھتا ہے۔ ظاہر ہے یہ دونوں شخص انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔ ایک کے سامنے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ ہے جو اسے صراط مستقیم پر چلنے میں مدد دیتا ہے۔ اور آخرکار جنت کے سائے میں پہنچا دیتا ہے۔ اور دوسرا شخص اپنی اور ماحول کی پیدا کردہ تاریکیوں میں ڈوب کر اپنے انجام کو بگاڑ لیتا ہے اور آخرکار جہنم کی تپش کا شکار ہوجاتا ہے۔ ان تشبیہات سے ایک مومن اور کافر میں فرق کیا گیا ہے۔ مومن اپنی صلاحیتوں اور دل کی تابندگی سے کام لے کر زندگی کے اس راز کو پا لیتا ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے پیغمبر دعوت دیتے ہیں اور کافر اوہام و خرافات کی تاریکیوں میں ڈوب کر اللہ تعالیٰ کے نبی کی تبلیغ و دعوت سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ مومن اور کافر دونوں اپنی شخصیات اور انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔
Ayah 35:22

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور نہ زندے اور مردے برابر ہیں، اللہ ہی جن کو چاہتا ہے سناتا ہے، اور آپ ان کو سنانے والے نہیں ہیں جو قبروں کے اندر ہیں

وَمَا یَسْتَوِی الْاَحْیَـآئُ وَلاَ الْاَمْوَاتُط اِنَّ اللّٰہَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَـآئُ ج وَمَـآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ ۔ (فاطر : 22) (اور نہ زندے اور مردے برابر ہیں، اللہ ہی جن کو چاہتا ہے سناتا ہے، اور آپ ان کو سنانے والے نہیں ہیں جو قبروں کے اندر ہیں۔ ) ہدایت قبول نہ کرنے والے خود اپنی ضلالت کے ذمہ دار ہیں جن لوگوں نے اپنی صلاحیتوں کو غلط استعمال کی وجہ سے ناکارہ کردیا، اور ضمیر کے نور سے محروم ہوگئے، یہ لوگ درحقیقت زندہ نہیں مردہ ہیں۔ کیونکہ : دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ ظاہر ہے کہ زندہ اور مردہ کسی لحاظ سے برابر نہیں ہوسکتے۔ ایک دھرتی پر بوجھ ہے، اور دوسرا دھرتی کا زیور اور معمار ہے۔ کافر لوگ چونکہ اپنے دلوں کی روشنی بجھا چکے ہیں، اپنی عقلوں کو بگاڑ چکے ہیں، حقیقی احساس اور شعور سے محروم ہوگئے ہیں اور برے بھلے کی تمیز کھو بیٹھے ہیں۔ اب اگر وہ آپ کی دعوت کو قبول نہیں کررہے تو اس میں آپ کو دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ان میں حقیقی زندگی ہوتی تو آپ کی حقائق بخش تعلیم و دعوت یقینا ان کی اپنی ضرورت بن جاتی۔ لیکن زندگی سے محروم ہوجانے کے بعد ان سے اس قسم کی توقع کرنا اور توقع کے پورا نہ ہونے پر غم لگا لینا کسی طرح مناسب نہیں۔ مردے نہ سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں، ان کو سنانا صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ معجزانہ طور پر انھیں بھی کسی پیغمبر کی بات سنا دے یا پتھروں میں بھی سننے کی صلاحیت پیدا کردے تو اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت سے بعید نہیں۔ لیکن اس نے دنیا کے لیے جو قانون بنا رکھا ہے اس لحاظ سے مردے پیغمبر کی بات کو بھی نہ سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں۔ تو یہ آپ کے مخالف جو ہدایت کے اعتبار سے مردہ ہوچکے ہیں اگر آپ کی بات کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں تو اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔
Ayahs 35:23–24

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

آپ تو بس ایک خبردار کرنے والے ہیں

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں گزری جس میں کوئی باخبر کرنے والا نہ آیا ہو

اِنْ اَنْتَ اِلاَّ نَذِیْرٌ۔ اِنَّـآ اَرْسَلْنٰـکَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًاوَّنَذِیْرًا ط وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلاَّ خَلاَ فِیْھَا نَذِیْرٌ۔ (فاطر : 23، 24) (آپ تو بس ایک خبردار کرنے والے ہیں۔ ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں گزری جس میں کوئی باخبر کرنے والا نہ آیا ہو۔ ) آپ ﷺ کی اصل حیثیت اور اس کی حد نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے تبلیغ و دعوت کے حوالے سے آپ کی ذمہ داری کی حد بھی واضح کردی ہے۔ یعنی آپ کا کام لوگوں کو دعوت دینا اور انھیں آنے والے خطرے سے آگاہ کردینا ہے۔ کیونکہ ہم نے آپ کو نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ اور نذیر کا کام آگاہ کردینا ہوتا ہے منوانا نہیں ہوتا۔ البتہ یہ بات لوگوں پر واضح کردینے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ یعنی آپ جن باتوں کی خبر دے رہے ہیں ان میں سے ہر بات شک و شبہ سے بالاتر ہے اور لوگوں پر یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ان کی آخرت کا دارومدار آپ کی باتوں کو ماننے یا انکار کردینے پر ہے۔ جو لوگ آپ کی دعوت کو قبول کرلیں ان کے لیے ہم نے آپ کو بشیر بنا کر بھیجا ہے یعنی انھیں آپ ان کے مبارک انجام کی خوشخبری سنا دیں۔ اور جو لوگ آپ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیں انھیں ان کے انجامِ بد سے آگاہ کردیں۔ اس سے زیادہ آپ کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ آپ کو جو غایت درجہ لوگوں کی ہدایت سے تعلق ہے اس وجہ سے آپ کا دل گرفتہ ہونا سمجھ میں آنے والی بات ہے لیکن یہ آپ کے فریضہ دعوت کا حصہ نہیں۔ آیت کے دوسرے حصے میں فرمایا کہ آپ دنیا میں پہلے نذیر نہیں بلکہ آپ آخری ہیں۔ گزشتہ قوموں میں بہت سے نبی اور رسول گزر چکے ہیں۔ ان میں سے ہر رسول نذیر بن کر آیا اور انھوں نے اپنی امت کے سامنے انذار کا حق ادا کیا۔ اس لیے آپ کو ان کی سرگزشتوں سے معلوم ہوسکتا ہے کہ انذار کے نتائج کیا ہوتے ہیں اور قومیں کس طرح کا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ اسی طرح آپ کی قوم کو بھی اس سے درس عبرت مل سکتا ہے تاکہ وہ ان کے انجام کو دیکھ کر اپنے انجام کی فکر کرسکیں۔ یہ جو فرمایا گیا کہ ہم نے ہر امت میں کوئی نہ کوئی نذیر بھیجا ہے۔ اس کا ذکر قرآن کریم نے متعدد مقامات پر کیا ہے۔ سورة رعد آیت سات میں فرمایا : لِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ اور سورة نحل میں ارشاد فرمایا گیا : وَلَقَدْبَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَسُوْلاً اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر امت کی ہدایت کے لیے کوئی نہ کوئی ہادی اور رسول آتا رہا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر بستی اور ہر شہر میں ایک رسول آتا رہا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نبی کی تبلیغ و دعوت کا اثر جہاں تک پہنچ گیا ہے یا پہنچ سکتا ہے وہاں کے لیے وہی نبی اور رسول کافی ہے۔ اور جب تک پہلے نبی کی ہدایت و دعوت کے آثار اور اس کے رہنمائی کے نقوش لوگوں میں زندہ رہتے ہیں اس وقت تک کسی نئے نبی کے آنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
Ayah 35:25

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے جو لوگ ہوئے ہیں انھوں نے بھی جھٹلایا، ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے

وَاِنْ یُّکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْج جَآئَ تْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْـبَـیِّـنٰتِ وَبِالزُّبُرِ وَبِالْـکِتٰبِ الْمُنِیْرِ ۔ (فاطر : 25) (اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے جو لوگ ہوئے ہیں انھوں نے بھی جھٹلایا، ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے۔ ) مکذبین کی تکذیب پر تاریخ سے استدلال گزشتہ آیت کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کررہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ان سے پہلے جو قومیں گزری ہیں ان کے پاس جب اللہ تعالیٰ کے رسول ہدایت لے کر آئے تو انھوں نے بھی اسی طرح اپنے رب کے رسولوں کی تکذیب کی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اس راستے کی لازمی سنت اور ایک ایسی مستحکم روایت ہے جس سے کبھی انحراف نہیں ہوا۔ اگر آپ کی قوم کا رویہ یا سلوک آپ کے ساتھ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہوتا تو آپ اسے اپنی کوتاہی پر محمول کرسکتے تھے۔ لیکن جب ہر قوم نے اپنی طرف آنے والے رسول کے ساتھ یہی سلوک کیا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہدایت و ضلالت کی یہی تاریخ ہے جو ہمیشہ جاری رہی ہے۔ ممکن ہے ذہن میں یہ خیال آئے کہ آنے والے رسول شاید اپنے ساتھ دلائل و معجزات کا ایسا سرمایہ لے کر نہ آئے ہوں جس سے قومیں مطمئن ہوتی ہیں۔ چناچہ اس کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ گزشتہ قوموں کی طرف سے جو رسول آئے وہ بھی اپنے ساتھ دلائل و معجزات کا ایک خزانہ لے کر آئے۔ جنھوں نے ہمیشہ اپنی قوموں کے دانشوروں اور اہل علم کو دلائل کے میدان میں شکست دی اور اپنے معجزات سے مخالفت میں کھلنے والی زبانوں کو گنگ کردیا۔ اور ان کے زندگی کے مسائل کے حل کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر صحیفے نازل فرمائے اور روشن کتابیں اتاریں۔ لیکن جن کے دلوں کی قندیلیں بجھ چکی تھیں پیغمبر کی معجزانہ دعوت اور حیرت انگیز معجزات بھی ان کے دلوں کے روشنی کا سامان نہ بن سکے۔ حتیٰ کہ وہ قومیں اپنے انجام کو پہنچ گئیں۔
Ayah 35:26

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر میں نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جنھوں نے ماننے سے انکار کیا تھا، تو دیکھو کہ میری سزا کیسی سخت تھی

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَکَیْفَ کَانَ نَـکِیْرِ ۔ (فاطر : 26) (پھر میں نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جنھوں نے ماننے سے انکار کیا تھا، تو دیکھو کہ میری سزا کیسی سخت تھی۔ ) جب لوگوں نے تکذیب کی روش جاری رکھی اور کسی طرح بھی اللہ تعالیٰ کے نبی کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر میں نے ان کو پکڑ لیا۔ تو پھر دیکھو کہ ہماری پکڑ کتنی شدید تھی اور ہماری سزا کیسی عبرت انگیز تھی۔ کتنی معذب قوموں کے کھنڈرات سے تمہارے تجارتی قافلے گزرتے ہیں۔ ان کی تاریخ سینہ بہ سینہ تم تک پہنچ چکی ہے۔ تم خوب جانتے ہو کہ ان کا انجام کیسا ہولناک تھا۔ مقصود اس ساری داستان سرائی سے صرف یہ ہے کہ قریش اور دیگر اہل مکہ اس سے عبرت حاصل کریں اور اپنے انجام کی فکر کریں۔
Ayah 35:27

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس سے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کردیے اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ مختلف رنگوں کی دھاریاں ہیں اور گہری سیاہ بھی

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَـآ ئً ج فَاَخْرَجْنَا بِہٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُھَا ط وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ م بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُھَا وَغَرَابِیْبُ سُوْدٌ۔ (فاطر : 27) (کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس سے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کردیے اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ مختلف رنگوں کی دھاریاں ہیں اور گہری سیاہ بھی۔ ) گزشتہ مضمون کا تسلسل پیرایہ بیان کے اختلاف کے ساتھ گزشتہ مضمون ہی کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہم نے تنوع، لطف و لذت میں اختلاف اور رنگا رنگی صرف جمادات و نباتات ہی میں نہیں رکھی اور فاصلے زندگی اور موت ہی میں قائم نہیں کیے بلکہ یہ تنوع اور اختلاف ہم نے دیگر مختلف اشیاء میں بھی رکھا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا جس طرح تنہا خالق ہے، اسی طرح وہ بےمثل مصور بھی ہے۔ اس کی صناعی میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ اس سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کے متضاد عناصر کو جوڑ کر اور متخالف طبائع کو ہم آہنگ بنا کر مثبت اور کارآمد اشیاء کی تخلیق اور حکمت تخلیق کے مطابق ایک ذرے سے لے کر بڑی سے بڑی مخلوق کو رواں دواں رکھنا یہ اسی صورت ممکن ہے کہ جب یہ کائنات مختلف دیوتائوں کی رزم گاہ ہونے کی بجائے ایک خالق ومالک کی حاکمیت کے اشارے پر چلتی ہو۔ چناچہ اسی کی تسہیل کے لیے ارشاد فرمایا کہ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا جو ایک طرف انسانوں کی پیاس بجھاتا ہے تو ساتھ ہی زمینوں کو سیراب بھی کرتا ہے۔ پھر اس سیرابی کے نتیجے میں مختلف چیزوں کو پیدا بھی فرماتا ہے۔ ایک زمین، ایک ہی طرح کا پانی، ایک جیسا موسم اور ایک جیسی ہوا کے زیراثر اگنے والی نباتات، ایک قسم، ایک رنگ اور ایک مزے کی حامل ہونے کی بجائے مختلف الالوان، مختلف النوع اور مختلف الاثرات لیے ہوئے اگتی ہیں۔ کہیں خوشنما، خوش رنگ اور خوش ذائقہ پھلوں والی چیزیں اگتی ہیں۔ اور کہیں سنہرے خوشوں والی، سبز پتوں والی، مسکراتے پھولوں والی، اور کہیں اودے اودے، نیلے نیلے اور پیلے پیلے پیراہنوں والی فصلیں لہلہاتی ہیں، جس سے یہ یقین کیے بغیر چارہ نہیں کہ اس کائنات کا خالق جہاں بےپناہ قدرتوں کا مالک ہے وہیں وہ بےمثل صناع، محیرالعقول حکمتوں کا مالک اور انسانی فہم و ادراک سے بالا مصور بھی ہے۔ اور اس کا اظہار بارش برسنے کے بعد زمین کے مختلف علاقوں میں فراوانی سے ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ پہاڑ جو اپنی صلابت، قدو قامت اور نہایت مضبوط ایستادگی میں ایک مثال ہے، ان میں بھی ہمیں انواع و الوان کا اختلاف نظر آتا ہے، ان کی اقسام کا کوئی شمار نہیں۔ اور پھر ہر پہاڑ کے اندر درجہ بدرجہ یہ اختلاف اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کا مظہر بھی ہے اور اس کی صناعی کا منہ بولتا ثبوت بھی۔ ایک عظیم پہاڑ جو اپنی جسامت میں دیکھنے والوں کو حیران کردیتا ہے، لیکن اس کے اندر مختلف رنگوں کی مختلف سلیں باہم اس طرح پیوست دکھائی دیتی ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی صناع اور مصور نے نہایت محنت سے انھیں جوڑ کر ایک خاص صورت عطا کی ہے۔ بعض الفاظ کی تشریح جُدَدٌ، جُدَّۃٌ کی جمع ہے۔ یہ لفظ چھوٹے راستے پر بھی بولا جاتا ہے جسے جادہ کہتے ہیں اور اس کا اطلاق ہر نوں اور خچروں کی پیٹھوں پر مختلف رنگوں کی جو دھاریاں ہوتی ہیں ان پر بھی ہوتا ہے۔ پھر اسی سے ترقی کرکے مختلف الالوان سلوں اور چٹانوں پر بھی ہونے لگا جن کی دھاریاں یا قطاریں پہاڑوں کے اندر پائی جاتی ہیں۔ غَرَابِیْبُ ، غِرْبِیْبکی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے گہرا، تاریک اور کالا بھجنگ۔ یہاں یہ لفظ بدل کے مفہوم میں وضاحت کے طور پر آیا ہے۔ اور بدل جب وضاحت کے لیے آتا ہے تو وہ درحقیقت تاکید ہی کے لیے آتا ہے۔ یہاں اس وضاحت اور تاکید سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ جس طرح پہاڑوں میں سیاہ پتھر ہوتے ہیں اور وہ پہاڑ کے اندر کسی نہ کسی حکمت کی تکمیل کے لیے پیوست کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح لوگوں کے اندر سیاہ قلب افراد بھی ہوتے ہیں۔ اور جس طرح سفید اور سرخ اور سیاہ پتھروں کا الگ الگ مصرف ہے، اسی طرح سیاہ قلب افراد کا بھی ایک محل اور مصرف ہے جن کو قدرت نے اس دنیا میں مہلت دے دی ہے۔
Ayah 35:28

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور مویشیوں کے رنگ بھی مختلف ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں، بیشک اللہ زبردست اور درگزر فرمانے والا ہے

وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُـہٗ کَذٰلِکَ ط اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓـؤُا ط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌغَفُوْرٌ۔ (فاطر : 28) ( اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور مویشیوں کے رنگ بھی مختلف ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں، بیشک اللہ زبردست اور درگزر فرمانے والا ہے۔ ) گزشتہ آیت میں ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُھَاکے اندر مُخْتَلِفًاکے لفظ کو منصوب ذکر فرمایا گیا ہے کیونکہ وہ ترکیب میں حال واقع ہوا ہے۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں انسانوں اور چوپایوں وغیرہ میں یہ اختلاف بصورتِ صفت بیان فرمایا گیا ہے۔ اس لیے مُخْتَلَفٌ مرفوع لایا گیا۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ممکن ہے اس میں یہ اشارہ کیا گیا ہو کہ ثمراتکا اختلافِ الوان تو ایک حال پر نہیں رہتا، وہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے بدلتا رہتا ہے، بخلاف پہاڑوں اور انسان اور جانوروں کے کہ ان کے جو رنگ ہیں وہ عموماً قائم رہنے والے ہیں، بدلتے نہیں۔ انواع و اقسام سے استدلال ایک دوسرے پہلو سے اس آیت کا مضمون گزشتہ آیت کے مضمون سے گہرا اتصال رکھتا ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ جس طرح نباتات و جمادات میں انواع و اقسام کا اختلاف اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیت پر دلیل ہے اسی طرح انسانوں، جانداروں اور چوپایوں میں بھی یہی گوناگونی اور بوقلمونی نمایاں ہے۔ جانوروں اور مویشیوں کو دیکھ لو، ان کے قد و قامت، ان کے عادات واطوار، ان کے میلانات، ان کی خدمات اور انھیں انجام دینے کی صلاحیتوں میں نہایت دوررس اختلاف پایا جاتا ہے۔ کوئی جانور دودھ دیتا ہے، کوئی باربرداری کا فرض انجام دیتا ہے، کوئی ہل اور رہٹ کھینچتا ہے۔ ہر ایک کو جیسی صلاحیت دی گئی ہے ویسا اس کی خدمات کا آہنگ بنادیا گیا ہے۔ اور جیسے فرائض سونپے گئے ہیں ویسا ہی قدوقامت اور مزاج دیا گیا ہے۔ اور انسانوں میں دیکھو تو ہر شخص صورت، سیرت، صفات، مزاج، خصوصیات اور عادات واطوار کے اعتبار سے دوسرے سے مختلف ہے۔ یعنی جس طرح ہر جانور دودھ نہیں دے سکتا، اسی طرح ہر شخص بھی انسانیت کی اعلیٰ اقدار کا حامل نہیں ہوتا۔ یہ حیرت انگیز اختلاف جو بیشمار الوان و اقسام پر مشتمل ہے، کیا اس بات کو سمجھانے کے لیے کافی نہیں کہ اس کائنات کو چلانے والا اس کائنات کا خالق ومالک جس طرح تنہا اور واحد ہے اور جس کی ذات وصفات میں کوئی شریک نہیں، اسی طرح اس کی صناعی اور مصوری بھی بےمثال ہے۔ اور مزید یہ کہ اس نے انسانوں کو بالخصوص جس طرح عادات واطوار، صلاحیتوں اور طبائع اور اذہان میں ایک دوسرے سے مختلف پیدا فرمایا ہے۔ اگر کہیں ان میں اختلاف کی بجائے یکسانی اور ہم آہنگی ہوتی اور یہ اپنی افتادِطبع، اپنی خواہشات، جذبات، میلانات اور طرزفکر کے لحاظ سے ایک جیسے ہوتے تو شاید دنیا میں انسان کی قسم کی ایک مخلوق پیدا کرنا سرے سے لاحاصل ہوجاتی۔ کیونکہ جن بنیادوں پر انسانوں کا امتحان لیا جارہا ہے اور جن خصوصیات کی وجہ سے انسان برائی کی طرف راغب ہونے لگتا ہے اور جن میلانات کے باعث انسانی مفادات ایک دوسرے سے ٹکرانے لگتے ہیں، اسی سے اس کی آزمائش اور امتحان کا تاروپود بنتا اور اس کے مطابق احکام وجود میں آتے اور انھیں سے پیدا ہونے والے نتائج کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ کیوں چلایا اور کیوں وحی الٰہی کے ذریعے نور کا وہ چراغ روشن کیا جس سے انسانیت کو صحیح راستہ دیکھنا ممکن ہوا۔ اسی لیے یہاں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے صرف وہ لوگ ڈرتے ہیں جو علم و معرفت کی دولت سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس کے بغیر نہ معرفتِ خداوندی نصیب ہوتی ہے نہ بہت سی حکمتوں کا سربستہ راز کھلتا ہے، نہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا عرفان پیدا ہوتا ہے اور نہ اس سے صحیح تعلق کی بنیاد پڑتی ہے۔ ایک سائنسدان جب کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھاتا ہے یا خود آگاہ ہوتا ہے تو اگر اس کے اندر معرفتِ خداوندی اور صفاتِ خداوندی کا شعور نہیں تو وہ علم میں اضافے کے ساتھ ساتھ مادہ پرستی یا ذات کے پندار میں مبتلا ہوتا جاتا ہے۔ اور جس مقصد کے لیے انسان کو پیدا کیا گیا ہے اس سے اور دور ہٹ جاتا ہے۔ وہ پھول کی پتی کو دیکھ کر اس کے رنگ و بو میں کھو جاتا ہے جس سے اس کے حقیقی شعور کی آنکھ اور ماند پڑجاتی ہے۔ لیکن جسے اللہ تعالیٰ نے حقیقی علم عطا فرمایا ہے اور وہ علم کی معراج سے کسی حد تک آگاہ ہوگیا ہے وہ پھول کی پتی کو دیکھ کر اس کے رنگ و بو میں الجھنے کی بجائے اس کے خالق کے بارے میں سوچنے لگتا ہے کہ جس نے ایک پتی کو ایسی خوبصورتی دی ہے وہ خود کتنا خوبصورت ہوگا۔ سوچ کی یہی لہر اسے اللہ تعالیٰ کا قرب عطا کردیتی ہے۔ اسی لیے شریعت کی زبان میں علم سے مراد فلسفہ اور سائنس اور تاریخ و ریاضی وغیرہ درسی علوم نہیں ہیں، بلکہ وہ علم ہے جس کا رشتہ اللہ تعالیٰ کی خشیت سے جڑا ہوا ہے۔ اور یہ علم ضروری نہیں کہ کتابوں سے حاصل ہو، بعض دفعہ اللہ والوں کی صحبت سے بغیر لکھے پڑھے بھی اس علم سے وابستگی پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی لیے حضرت عبداللہ بن مسعود ( رض) نے فرمایا : لَیْسَ الْعِلْمُ عَنْ کَثْرَۃِ الْحَدِیْثِ وَلٰـکِنَّ الْعِلَمَ کَثْرَۃُ الْخَشِیَّۃِ ” علم کثرت حدیث کی بنا پر نہیں ہے بلکہ خوف خدا کی کثرت کے لحاظ سے ہے۔ “ حضرت ربیع بن انس ( رض) نے فرمایا : مَنْ لَمْ یَخْشَ فَلَیْسَ بِعَالِمٍ ” جو اللہ سے نہیں ڈرتا وہ عالم نہیں ہے۔ “ حضرت علی ( رض) نے فقیہ کی تعریف اس طرح فرمائی : اِنَّ الْفَقِیْہَ حَقُّ الْفَقِیْۃ مَنْ لَّمْ یَقْنُطْ مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ وَلَمْ یُرَخِّصْ لَھُمْ فِیْ مَعَاصِی اللّٰہِ تَعَالٰی وَلَمْ یُوْمِنْہُمْ مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَلَمْ یَدَعِ الْقُرْاٰنَ رَغْبَۃً عَنْہُ اِلٰی غَیْرِہٖ اَنَّـہٗ لاَ خَیْرَ فِیْ عِبَادَۃٍ لاَعِلْمَ فِیْھَا وَلاَ عِلْمٍ لاَ فِقْہَ فِیْہِ وَلاَ قِرَائَ ۃٍ لاَ تَدَبَّرَفِیْہِ ۔ (قرطبی) ” فقیہ مکمل فقیہ وہ ہے جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس بھی نہ کرے اور ان کو گناہوں کی رخصت بھی نہ دے اور ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے مامون بھی نہ کرے اور قرآن کو چھوڑ کر کسی دوسری چیز کی طرف راغب نہ کرے (اور فرمایا) اس عبادت میں کوئی خیر نہیں جو علم کے بغیر ہو اور اس علم میں کوئی خیر نہیں جو بےفقہ یعنی بےسمجھ بوجھ کے ہو اور اس قراءت میں کوئی خیر نہیں جو بغیر تدبر کے ہو۔ “ آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے علم کا شعور دے کر اپنی اور اپنی صفات کی معرفت آسان کردی ہے۔ اور اسی سے اپنا دین سہل کردیا ہے۔ البتہ جو شخص تمرد اور سرکشی کی وجہ سے اس طرف نہیں آتا اللہ عزیز ہے وہ ایسے نافرمانوں کو جب چاہے پکڑ سکتا ہے اور کوئی اس کی پکڑ سے نکلنے کی طاقت نہیں رکھتا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ غفور بھی ہے، عفو و درگزر اس کی شان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت میں کوتاہی ہوتی ہے تو وہ درگزر سے کام لیتا ہے۔ مزید بہتری کے لیے مہلت دیتا ہے اور سنبھلنے کے لیے بھی موقع عطا فرماتا ہے۔
Ayahs 35:29–30

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، یقینا وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خسارے کا شکار نہیں ہوگی

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان کے اجر پورے کے پورے ان کو دے اور ان کے لیے اپنے فضل میں سے زیادہ بھی کرے، بیشک وہ بخشنے والا اور قدردان ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْـنٰـھُمْ سِرًّاوَّعَلاَ نِیَۃً یَّرْجُوْنَ تِجَارَۃً لَّنْ تَـبُوْرَ ۔ لِیُوَفِّیَہُمْ اُجُوْرَھُمْ وَیَزِیْدَھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط اِنَّـہٗ غَفُوْرٌشَکُوْرٌ۔ (فاطر : 29، 30) (بےشک جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، یقینا وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خسارے کا شکار نہیں ہوگی۔ تاکہ اللہ ان کے اجر پورے کے پورے ان کو دے اور ان کے لیے اپنے فضل میں سے زیادہ بھی کرے، بیشک وہ بخشنے والا اور قدردان ہے۔ ) علماء کی تین صفات گزشتہ دو آیتوں میں خصوصاً اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کائنات کی مختلف مخلوقات میں یک رنگی اور یکسانی کی بجائے تنوع اور تفاوت پایا جاتا ہے اور اس تنوع کی وجہ سے مختلف مخلوقات سے مختلف اعمال کا ظہور ہوتا ہے۔ ایک ہی زمین سے نکلنے والی پیداوار اور ایک ہی پانی سے سیراب ہونے والی زمین سے نکلنے والے پودے اپنے اندر لطف و لذت اور رنگ و روپ میں گہرا اختلاف رکھتے ہیں۔ یہی حال انسانوں اور دوسرے جانوروں کا بھی ہے۔ ان میں بھی صورت و سیرت، ہمت و استقامت، خوبی و رعنائی اور حسن و قبح میں گہرا اختلاف پایا جاتا ہے۔ جس طرح ہر مخلوق سے ایک طرح کے ردعمل کی توقع نہیں کی جاسکتی، اسی طرح انسانوں سے بھی ایک ہی طرح کے تأثرات، تحفظات، انفعالات اور اعمال کی امید نہیں رکھی جاسکتی۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا جتنا زیادہ گہرا ادراک بخشا ہے وہ اتنا ہی زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہے۔ اور زندگی کے بارے میں اس کا رویہ اتنا ہی زیادہ حقیقت کے قریب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ علم الاشیاء اور صفاتِ الٰہیہ کا علم، یہ دو بنیادیں ہیں جس سے اللہ تعالیٰ کی حقیقی معرفت کا راستہ کھلتا ہے۔ اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے خوف سے آشنا ہوجاتا ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کو خشیت الٰہی کہا گیا ہے اور ان دونوں علوم کے جاننے والے علماء کہلاتے ہیں جو اس خشیت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان ہی علماء کی مزید تین صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ تلاوتِ کتاب اللہ، اقامتِ صلٰوۃ اور انفاق فی سبیل اللہ۔ کیونکہ جس دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا ہوجاتی ہے وہ بجائے اپنی خواہشات کا اتباع کرنے اور دنیا کے وضعی علوم کی تقلیدِ جامد کی بجائے سب سے پہلے یہ بات جاننے کے لیے بےقرار ہوجاتا ہے کہ جس پروردگار نے مجھے زندگی عطا فرمائی ہے اور پھر اس کی بقا کا سامان کیا ہے، یقینا اس نے زندگی گزارنے کے لیے رہنمائی کا سامان بھی کیا ہوگا۔ چناچہ جیسے ہی اسے اس بات کی خبر ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی بھلائی کے لیے اپنا ایک رسول مبعوث کیا ہے اور اس پر اپنی کتاب اتاری ہے تو وہ دیوانہ وار اس کتاب کی طرف بڑھتا ہے۔ اس کے ایک ایک لفظ میں اسے اپنا محبوب دکھائی دیتا اور اس کی آواز سنائی دیتی ہے۔ چناچہ وہ زندگی کا ایک ایک شعبہ اور ایک ایک معاملہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی روشنی میں طے کرتا اور حل کرتا ہے۔ وہ نہایت محبت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت بھی کرتا ہے اور اس کی رہنمائی میں زندگی کا سفر بھی کرتا ہے۔ اور فرائض میں چونکہ سب سے جامع فریضہ جو بار بار انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور اسلام کی حقیقی روح کو اس کے رگ و پے میں اتار دیتا ہے، وہ نماز ہے۔ تو وہ نہایت اہتمام اور پورے آداب کے ساتھ اسے اس طرح بجا لاتا ہے کہ نماز اس کے دل کی ٹھنڈک اور اللہ تعالیٰ کی یاد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ قرآن کریم یہ بات بار بار واضح کرتا ہے کہ یہود پہ جب زوال آیا تو انھوں نے سب سے پہلے فریضہ صلوٰۃ ہی سے تعلق توڑا، رفتہ رفتہ اس کا ذکر ہی اپنی کتابوں سے محو کردیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ یہ کہا جانے لگا کہ اگر کوئی شخص سال بھر میں ایک دفعہ بھی نماز کی نیت سے کسی کھمبے پر بھی پیشانی رکھ دے تو نماز کا فرض ادا ہوجاتا ہے۔ قرآن کریم صراحت سے کہہ رہا ہے کہ ایسی صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دل خشیت الٰہی سے خالی ہوجاتے ہیں۔ لیکن جنھیں اللہ تعالیٰ نے خشیت سے نوازا ہے اقامتِ صلوٰۃ تو ان کے لیے غذا بن جاتی ہے۔ تیسری چیز جو ان میں پیدا ہوتی ہے وہ انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ کیونکہ جب کوئی قوم زوال کا شکار ہوتی ہے تو اس میں جو بڑے بڑے عیوب پیدا ہوتے ہیں ان میں بخالت اور زرپرستی کی بیماری پیش پیش ہوتی ہے۔ یہود بھی اپنے دورزوال میں اسی کا شکار ہوئے۔ اور پھر یہ بیماری ان کی قومی علامت بن کر رہ گئی۔ لیکن خشیت الٰہی سے بہرہ ور علماء اور ان کے راستے پر چلنے والے لوگ تلاوتِ کتاب، اہتمامِ صلوٰۃ کے ساتھ ساتھ اپنے مال و دولت کو کھلے اور چھپے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں۔ وہ دولت کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھ کر استعمال کرتے ہیں اور اس کے حوالے سے عائد ہونے والے حقوق کو ادا کرتے ہیں۔ وہ دولت کو ایک ضرورت سمجھتے ہیں اور دین کو مقصد زندگی گردانتے ہیں۔ اس لیے اس مقصد کو ضرورت پر قربان کرنے کی بجائے وہ ہمیشہ ضرورت کو مقصد کے فروغ کا ذریعہ بناتے ہیں۔ وہ اسے ایک ایسی تجارت سمجھتے ہیں جس کے نتیجے میں اجروثواب، لوگوں کی بھلائی اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ انھیں اس بات کا گہرا شعور ہے کہ زندگی کی ضروریات کی فراہمی کے لیے لوگ تجارت کرتے ہیں لیکن وہ تجارت اگرچہ فائدے کی نیت سے کی جاتی ہے لیکن کبھی کبھی اس میں نقصان بھی ہوجاتا ہے۔ لیکن جو تجارت ہم کرتے ہیں اس میں کبھی خسارہ نہیں ہوتا۔ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ انفاق کو برکت دیتا ہے اور آخرت میں انھیں اس بات کا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ صرف اس تجارت کا زیادہ سے زیادہ اجر عطا فرمائے گا بلکہ اپنے فضل و کرم سے اس میں اضافہ بھی فرمائے گا۔ اس اضافے کا اس آیت کریمہ میں جس طرح ذکر فرمایا گیا ہے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ ایک وعدہ بھی ہے جسے وہ اپنے معمول کے مطابق پورا کرے گا۔ بشرطیکہ خرچ کرنے والا ریا اور نمائش کے لیے خرچ نہ کرے۔ نہ کسی پر احسان جتلائے نہ معاوضہ چاہے۔ پیش نظر صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا حصول رہے۔ چناچہ خرچ کرنے والے قیامت کے دن دیکھیں گے کہ ان کا خرچ کیا ہوا ایک ایک دانہ کوہ احد کے برابر ہوچکا ہے۔ اور ان کی عزت افزائی کے لیے اللہ تعالیٰ انھیں قیامت کے دن کی ہولناکی میں اس وقت عرش الٰہی کے سائے میں جگہ دے گا جب اس کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ دو صفاتِ الٰہیہ آیت کریمہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات کا ذکر فرمایا ہے کہ وہ غفور بھی ہے اور شکور بھی۔ ان سے شاید اشارہ اس طرف ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان مخلص بندوں سے قیامت میں جو سلوک کرے گا وہ کسی تنگدل آقا جیسا نہیں ہوگا کہ جو بات بات پر پکڑتا ہے اور ذرا سی خطا پر اپنے ملازم کی ساری خدمتوں اور وفاداریوں پر پانی پھیر دیتا ہے، بلکہ وہ ایسا آقا ہے جو اپنے مخلص بندوں کی نیکیاں قبول کرنے کے معاملے میں بڑی چشم پوشی سے کام لے گا اور ان کے چھوٹے چھوٹے عمل کو بھی قدر و منزلت عطا فرمائے گا اور بیش از بیش صلہ سے نوازے گا۔ کہا جاتا ہے کہ نواب عبدالرحیم خان خاناں اپنے مصاحبوں کے ساتھ بیٹھے تھے اور ضرورت مندوں کو بھی باریابی کی اجازت دی گئی تھی۔ ایک شخص نے بغل سے توپ کا گولا نکال کر نواب کی طرف لڑھکایا اور وہ آکر نواب کی ٹانگ کو لگا۔ مصاحب اس گستاخ کو پکڑنے کے لیے اٹھے، نواب نے روک دیا اور حکم دیا کہ اس توپ کے گولے کے برابر اس شخص کو سونا دے دیا جائے۔ لوگ حیران ہوئے کہ گستاخی پر سرزنش کی بجائے اتنا بڑا انعام آپ ہی دے سکتے ہیں۔ نواب نے کہا کہ لوگ اپنے امراء کو پارس سمجھتے ہیں اور پارس وہ پتھر ہوتا ہے جس سے چھو جانے والا لوہا سونا بن جاتا ہے۔ اس شخص نے لوہے کا گولا میری طرف پھینک کر یہ دیکھنا چاہا کہ میں پارس ہوں کہ نہیں۔ تو میں نے اسے سونا اس لیے دیا ہے تاکہ اسے میرے پارس ہونے کا یقین ہوجائے۔ اگر ایک نواب اپنی ذات کی معرفت کے لیے اتنا بڑا انعام دے سکتا ہے تو پروردگار اپنے فضل و کرم کے اظہار کے لیے اپنے مخلص بندوں کو کیسے کیسے انعامات سے نوازے گا، اسے وہی جانتا ہے۔