35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsروح القرآن

Ayah 35:31

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور جو کتاب ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے وہی حق ہے، تصدیق کرنے والی ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے آئی تھیں، بیشک اللہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا، دیکھنے والا ہے

وَالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ ھُوَالْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ ط اِنَّ اللّٰہَ بِعِبَادِہٖ لَخَبِیْرٌ م بَصِیْرٌ۔ (فاطر : 31) (اور جو کتاب ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے وہی حق ہے، تصدیق کرنے والی ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے آئی تھیں، بیشک اللہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا، دیکھنے والا ہے۔ ) اب حق کی نمائندہ یہ آخری کتاب ہے کتاب اللہ کی تلاوت اور اس پر عمل کا جو صلہ ملنے والا ہے اس کا ذکر کرنے کے بعد یہ ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنی کتابیں بھی نازل ہوئی ہیں ہر کتاب اپنے نزول کے وقت سے لے کر محفوظ رہنے تک یقینا اسی اجروثواب کی حامل رہی ہے جس کا یہاں ذکر کیا گیا۔ اور لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بھی اپنے دور میں اس کے سوا اور کوئی نہ تھا۔ لیکن جب اہل کتاب نے ان کتابوں میں تحریف کی ترمیم سے انھیں بگاڑا اور مختلف خیانتوں کا ارتکاب کیا تو وہ کتابیں حق کی نمائندہ نہ رہیں، کیونکہ ان میں کتمان سے بھی کام لیا گیا اور تجاوز سے بھی۔ اور ان کے بگاڑ کے لیے تمام ذرائع عمل میں لائے گئے۔ اور ان میں اتنا کھوٹ شامل کردیا گیا کہ اب اس میں خالص حق کا پہچاننا ناممکن ہوگیا۔ اس لیے اس وضاحت کی ضرورت محسوس کی گئی تاکہ انسانوں کو اپنی ہدایت کے لیے یکسو ہونے کا موقع ملے کہ وہ پہلے سے منزل کتابوں میں سے ہر ایک کو حق کی کسوٹی نہ سمجھیں بلکہ اب جو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول محمد ﷺ پر کتاب نازل کی ہے یہ حق کی علامت ہے۔ اس میں ازاول تا آخر کسی چیز کی ملاوٹ شامل نہیں۔ اسی لیے جو شخص بھی اپنی ہدایت کے لیے حق کا متلاشی ہو اسے نہایت اطمینان سے اس کتاب کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہی حق ہے اور یہی حق کا سرچشمہ ہے، اور یہی قول فیصل ہے اور یہی کسوٹی ہے جس پر تمام افکار کو جانچا جاسکتا ہے۔ اور مزید یہ کہ یہ کسی نرالی بات کی دعوے دار ہو کر نہیں آئی۔ پچھلے انبیاء نے جو کچھ تعلیمات اپنی امتوں کے سامنے پیش کیں یہ انہی تعلیمات کی جامع اور نمائندہ ہے۔ یہ ان تمام کتابوں کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کتابوں میں نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی جو صفات بیان کی گئی ہیں یہ کتاب ان سب کی مصداق ہے۔ اور اس کا نازل ہونا بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات سے بیخبر نہیں۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ پہلی کتابیں ہدایت دینے کے قابل نہیں رہیں۔ زمانے کی ضروریات بہت کچھ بدل گئیں اور بہت سی نئی پیدا ہوگئیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسانوں کی جسمانی ضروریات کی فراہمی اپنے ذمہ لے رکھی ہے اسی طرح زندگی کی رہنمائی بھی اس نے محض اپنے فضل و کرم سے اپنی ذمہ داری ٹھہرا رکھی ہے۔ اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدٰی وَاِنَّ لَنَا لَـْلاٰخِرَۃُ وَالْاُوْلٰیاللہ کا وعدہ ہے اس نے جب انسانوں کو نئی ضرورت کے حوالے سے ہدایت کا محتاج پایا اور ان کے بڑھتے ہوئے بگاڑ کو دیکھا تو اس نے آنحضرت ﷺ پر اس کتاب کو نازل فرمایا۔ اور اب یہ کتاب ہر طرح کی ترمیم و تحریف سے پاک اور ہر طرح کی نارسائی سے مبرّا ہے۔
Ayah 35:32

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنایا ان لوگوں کو جنھیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا، پس ان میں سے کوئی تو اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی ان میں سے بیچ کی راس ہے اور کوئی ان میں سے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْـکِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَاج فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّـنَـفْسِہٖ ج وَمِنْھُمْ مُّقْتَصِدٌ ج وَمِنْہُمْ سَابِقٌ م بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ ھُوَالْفَضْلُ الْـکَبِیْرُ ۔ (فاطر : 32) (پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنایا ان لوگوں کو جنھیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا، پس ان میں سے کوئی تو اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی ان میں سے بیچ کی راس ہے اور کوئی ان میں سے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے۔ ) کتاب اللہ کے منتخب وارث ثُمَّحرفِ عطف ہے اور ترتیب پر دلالت کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حرف سے پہلے اور بعد کی دونوں چیزیں اصل وصف میں مشترک ہونے کے باوجود تقدیم و تاخیر رکھتی ہیں۔ اور یہ تقدیم و تاخیر زبانی بھی ہوسکتی ہے اور رتبہ و درجہ کے اعتبار سے بھی۔ سوال یہ ہے کہ اس آیت میں ثُمَّ کس تقدیم و تاخیر کی طرف اشارہ کر رہا ہے ؟ اس سے پہلے ہم پڑھ چکے ہیں کہ تمام سابقہ آسمانی کتابوں کے محرّف اور مبدّل ہوجانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آخری کتاب نازل فرمائی، جس کے بارے میں فرمایا کہ یہ وہ حق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے۔ اس میں غیرحق کی کوئی آمیزش نہیں۔ اس کا ہر حکم قطعی اور اس کی ہر پیش گوئی پتھر پر لکیر ہے۔ اسی سے قوموں کی قسمتیں وابستہ ہیں۔ اس پر عمل کرنے والی قومیں سرفراز ہوں گی اور اس کو چھوڑ کر مسلمان دنیا میں ذلیل اور آخرت میں ناکام ہوں گے۔ اسی کتاب کا دیا ہوا نظام زندگی افراد اور اقوام اور اسلامی ریاستوں کا دستورالعمل ہوگا۔ چناچہ لوگوں تک اسے پہنچانے، اس پر عمل کرکے دکھانے اور اس کی بنیاد پر ایک ریاست کو وجود دینے اور پھر ریاست کے ہر شعبے کو اس نظام کا نمائندہ بنانے اور ریاست کے ہر ادارے میں اس کے احکام کو جاری وساری کرنے کی ذمہ داری آنحضرت ﷺ کے سپرد کی گئی۔ چناچہ آپ نے 23 سال کے عرصہ میں ان تمام ذمہ داریوں کو باحسن طریق پورا فرمایا۔ اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اعوان و انصار اور اپنے جانشینوں کی ایک مضبوط جماعت تیار فرمائی جنھیں اس کام کی تکمیل کی ذمہ داری سونپی اور دنیا سے جاتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ کے جارہا ہوں وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور میری سنت ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کا وہ دین جسے اس نے ادیانِ باطلہ پر غالب کرنے کی ذمہ داری آنحضرت ﷺ کے سپرد فرمائی تھی۔ آنحضرت ﷺ نے وہی ذمہ داری اپنے بعد اس مضبوط جماعت کے سپرد فرمائی جس کے لیے جزیرہ عرب کو بنیاد بنایا گیا تھا اور ہدایت کی گئی تھی کہ باقی نوع انسانی کو اس آب حیات سے جس سے تمہیں زندگی ملی ہے سیراب اور زندہ کرنا ہے۔ چناچہ اسی بات کو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے کہ اصل ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کے دین کو غالب اور جاری وساری کرنے کی جو نبی کریم ﷺ پر عائد کی گئی تھی آپ ﷺ نے اپنے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسے اپنی امت کے یہ کہہ کر سپرد فرمائی : وقتِ فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے جن لوگوں کے یہ کام سپرد کیا گیا اللہ تعالیٰ نے ان کی حیثیت کو بیان فرماتے ہوئے اِصْطَفَیْنَاکا لفظ استعمال فرمایا جس کا معنی ہے کہ ہم نے چن لیا، ہم نے انتخاب کرلیا۔ یعنی دنیا میں قوموں اور امتوں کی کمی نہیں۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل جس کام کے لیے چنے گئے تھے، لیکن رفتہ رفتہ وہ نااہل ثابت ہوئے۔ ان کے علاوہ ایشیا کے مختلف ملکوں اور یورپ میں کسی کو بھی چنا جاسکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ عزت اور سعادت براہ راست بنی اسماعیل اور اہل عرب کو عطا کی۔ کیونکہ بہت سی خصوصیات کے باعث وہی اس قابل تھے کہ اس عظیم ذمہ داری کا بوجھ اٹھا سکیں۔ ملکوکیت کے زیراثر مفلوج قومیں طبقات کے زخموں سے نڈھال بکھری ہوئی اولادِ آدم، شہری اور تمدنی زندگی میں اصلی سادگی کھو دینے والی بیمار اکثریت اور فطری زندگی سے کوسوں دور نام نہاد تہذیب کے زخم خوردہ انسانی گروہ اس قابل نہ تھے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے دین کی بالادستی کا بوجھ ڈالا جاتا۔ جزیرہ عرب میں رہنے والے اپنے اندر ایسی خصوصیات رکھتے تھے کہ اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو وہ اس عظیم ذمہ داری کا بوجھ اٹھا سکتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس ذمہ داری کے لیے ان کو منتخب فرمایا۔ چونکہ اس عظیم کام کے لیے انتخاب اللہ تعالیٰ کے نبیوں کا ہوتا رہا ہے، اس امت کے انتخاب کے لیے بھی وہی لفظ استعمال کیا گیا جو ان کے انتخاب کے لیے کیا جاتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو ایک ایسی عزت سے نوازا جو انھیں انبیائے کرام۔ کے برابر تو نہیں لیکن ان کے قریب کرنے والی تھی۔ منتخب حاملین کے تین طبقات جو امت بھی اس عظیم منصب پر فائز کی جائے گی فطری طور پر اس کے تین ہی طبقات ہوں گے۔ لیکن یہاں ان تین طبقات کے تعین کی ایک صورت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ ( رض) کی صورت میں جو جماعت اپنے پیچھے چھوڑی تھی اس میں یہ تینوں طرح کے لوگ تھے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے تیار کردہ لوگ تو ایک ہی طرح کے تھے جنھیں سَابِقٌ م بِالْخَیْرٰتِ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ لیکن تابعین کے دور میں پہنچ کر ان کے معیار میں کمی آئی اور ان میں وہ طبقہ پیدا ہوگیا جنھیں یہاں مُقْتَصِدٌ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور تبع تابعین کے زمانے میں پہنچ کر وہ تیسرا طبقہ پیدا ہوا جسے ظَالِمٌ لِّـنَـفْسِہٖکہا گیا ہے۔ اس ناچیز کے نزدیک یہ دوسرا امکان زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر پہلی بات کو بھی قبول کرلیا جائے تو جب بھی اس کی سطح یقینا اس سطح سے مختلف ہوگی جو ان الفاظ کے مصداق کے حوالے سے بعد میں ہمیں امت میں دکھائی دیتی ہے۔ جس طرح قرآن کریم انبیائے کرام کی لغزشوں کو بھی گناہ قرار دے دیتا ہے حالانکہ شریعت کی نظر میں وہ گناہ نہیں ہوتا کیونکہ بعض دفعہ ابرار کی نیکیاں بھی مقرب لوگوں کے گناہ شمار ہوتے ہیں۔ کیونکہ دونوں کی سطح میں بےحد تفاوت پایا جاتا ہے۔ اسی طرح صحابہ میں جس کو ظَالِمٌ لِّـنَـفْسِہٖ کہا گیا ہے اس کی سطح یقینا وہ نہیں ہوگی جو امت کے عام گناہ گاروں کی ہے۔ لیکن ہم اپنی رائے پر اصرار کی بجائے امام ابن کثیر کی رائے کو ان الفاظ کی تفسیر میں پیش کررہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ظالم سے مراد وہ آدمی ہے جو بعض واجبات میں کوتاہی کرتا ہے۔ اور بعض محرمات کا بھی ارتکاب کرلیتا ہے اور مقتصد یعنی درمیانی چال چلنے والا وہ شخص ہے جو تمام واجبات شرعیہ کو ادا کرتا ہے اور تمام محرمات سے بچتا ہے۔ مگر بعض اوقات بعض مستحبات کو چھوڑ بھی دیتا ہے اور بعض مکروہات میں بھی مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور سَابِقٌ م بِالْخَیْرٰتِ وہ شخص ہے جو تمام واجبات اور مستحبات کو ادا کرتا ہے اور تمام محرمات اور مکروہات سے بچتا ہے۔ اور بعض مباحات کو اشتغالِ عبادت یا شبہ ِ حرمت کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے۔ جمہور مفسرین بھی اس بات میں امام ابن کثیر کے ہم خیال ہیں۔ لیکن ایک بات واضح رہے کہ یہ تینوں گروہ اعمال کے اعتبار سے تو ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ان میں تفاوت پایا جاتا ہے۔ لیکن ان میں کوئی بھی دانستہ معصیت کرنے والا نہیں۔ اور اگر معصیت ہوجائے تو توبہ کرنے میں تاخیر نہیں کرتے۔ اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کے دین کے فروغ اور نفاذ کی ذمہ داریوں کا تعلق ہے اس میں پہلے طبقے کے لوگوں میں ممکن ہے کوئی تساہل پایا جاتا ہو۔ لیکن لاپروائی یا بےنیازی ان میں سے کسی میں بھی نہیں پائی جاتی۔ درجات میں فرق ہوسکتا ہے، لیکن دین سے وابستگی اور دین کے حوالے سے ذمہ داریوں کے احساس کے حوالے سے ان میں کوئی فرق نہیں۔ اور یہی وہ دولت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے فضلِ کبیر قرار دیا ہے۔ اور اسی کی قدر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ پہلے گروہ کو بھی اسی طرح جنت کا استحقاق بخشے گا جیسے دوسرے دونوں گروہوں کو۔ البتہ جنت میں تینوں گروہوں کے درجات یقینا ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے۔ چناچہ اس کی تائید نبی کریم ﷺ کی اس حدیث سے ہوتی ہے جسے حضرت ابوالدرداء ( رض) نے روایت کیا ہے۔ اور امام احمد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، بیہقی اور دوسرے محدثین نے نقل کیا ہے۔ اس میں حضور ﷺ فرماتے ہیں : فاما الذین سبقوا فاولئک الذین یدخلون الجنۃ بغیرحساب، واما الذین اقتصدوا فاولئک الذین یحاسبون حسابا یسیرا، واما الذین ظلموا انفسہم فاولئک یحبسون طول المحشر ثم ھم الذین تتلقا ھم اللہ برحمتہ فہم الذین یقولون الحمدللہ الذی اذھب عنا الحزن۔ ” جو لوگ نیکیوں میں سبقت لے گئے ہیں وہ جنت میں کسی حساب کے بغیر داخل ہوں گے، اور جو بیچ کی راس رہے ہیں ان سے محاسبہ ہوگا مگر ہلکا محاسبہ، رہے وہ لوگ جنھوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے تو وہ محشر کے طویل عرصے میں روک رکھے جائیں گے۔ پھر انھیں اللہ اپنی رحمت میں لے لے گا اور یہ لوگ ہیں جو کہیں گے کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کردیے۔ “ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اس آیت کی پوری تفسیر بیان کردی اور اہل ایمان کے تینوں طبقوں کا انجام الگ الگ بیان فرما دیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں میں سے جن لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے انھیں مطلق سزا نہیں ہوسکتی۔ قرآن اور حدیث میں متعدد ایسے جرائم ذکر کیے گئے ہیں جن کے مرتکب کو ایمان بھی جہنم میں جانے سے نہیں بچا سکتا۔ مثلاً مومن کا قتل عمد، قانوناً میراث کی پامالی، اور ایسے ہی بعض دیگر قواعد کا ارتکاب جیسے سودخوری، جہنم میں جانے کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن اس کی سزا بھگتنے کے بعد یقینا وہ لوگ اپنے ایمان کی وجہ سے جنت میں جائیں گے۔
Ayah 35:33

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے، ان میں ان کو سونے کے کنگن اور موتی کے پہنائے جائیں گے، اور اس جنت میں ان کا لباس ریشم ہوگا

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَھَا یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَھَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ج وَلِبَاسُہُمْ فِیْھَا حَرِیْرٌ۔ (فاطر : 33) (ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے، ان میں ان کو سونے کے کنگن اور موتی کے پہنائے جائیں گے، اور اس جنت میں ان کا لباس ریشم ہوگا۔ ) ان منتخب لوگوں کا انجام اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی اور فروغ کے راستے میں سب کچھ قربان کردینے والوں اور اسی کو زندگی کی سب سے بڑی ترجیح قرار دینے والوں سے آخرت میں جو سلوک کیا جائے گا اور وہ جن انعامات سے نوازے جائیں گے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ان کی اقامت کے لیے ایسے باغات ہوں گے جن پر کبھی خزاں نہیں آئے گی۔ جس کی سرسبزی اور شادابی اور مسرت و شادمانی کو کبھی فنا نہیں ہوگی۔ وہاں کی ہر چیز دوام آشنا ہوگی اور ان میں جب یہ لوگ داخل ہوں گے تو کبھی وہاں سے نکالے نہیں جائیں گے۔ ان باغات میں داخل ہونا محض وقتی سیر و تفریح کے لیے نہیں ہوگا بلکہ ہمیشہ کے لیے ہوگا۔ وہاں انھیں لباس ریشم کا پہنایا جائے گا۔ مراد یہ ہے کہ زیب وزینت اور آرام و راحت کے اعتبار سے سب سے بہتر لباس انھیں دیا جائے گا۔ چونکہ نزول قرآن کے وقت ریشم ہی سب سے قیمتی لباس تھا اس لیے تقریبِ فہم کے لیے اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور انھیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے جو موتیوں سے آراستہ ہوں گے۔ اصل حقیقت ان کی کیا ہوگی وہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن یہاں بتانا صرف یہ ہے کہ انھیں وہ نعمتیں عطا کی جائیں گی جو دنیا میں انسانوں کی سب سے بڑی متاع سمجھی جاتی ہیں اور انسان کبھی فرطِ مسرت میں ان کا خواب دیکھتا ہے۔ یہ سونا چاندی اور ریشم کا ذکر شاید اس لیے بھی کیا گیا ہے کہ پہلے زمانے میں بڑے بڑے شہنشاہ سونے کے کنگن اور موتی پہنا کرتے تھے۔ اور ان کا لباس ریشم کا ہوتا تھا۔ تو یہ گویا دنیا میں جسم کی آسودگی کی معراج تھی، اس لیے اس کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 35:34–35

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کردیا، یقینا ہمارا رب بخشنے والا اور قدر فرمانے والا ہے

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

جس نے ہمیں اپنے فضل سے اس اقامت کے گھر میں اتارا جس میں نہ ہمیں کوئی مشقت پیش آئے گی اور نہ اس میں ہمیں کوئی تکان لاحق ہوگی

وَقَالُوالْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَذْھَبَ عَنَّاالْحَزَنَ ط اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَکُوْرُ نِ ۔ الَّذِیْٓ اَحَلَّـنَا دَارَالْمُقَامَۃِ مِنْ فَضْلِہٖ ج لاَ یَمَسُّنَا فِیْھَا نَصَبٌ وَلاَ یَمَسُّنَا فِیْھَا لُغُوْبٌ۔ (فاطر : 34، 35) (اور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کردیا، یقینا ہمارا رب بخشنے والا اور قدر فرمانے والا ہے۔ جس نے ہمیں اپنے فضل سے اس اقامت کے گھر میں اتارا جس میں نہ ہمیں کوئی مشقت پیش آئے گی اور نہ اس میں ہمیں کوئی تکان لاحق ہوگی۔ ) اہلِ جنت کا کلمہ تشکر جب یہ لوگ جنت کے باغوں میں داخل ہوں گے اور وہاں وہ ان نعمتوں سے بڑھ کر نعمتیں پائیں گے جن کا دنیا میں ان سے وعدہ کیا گیا تھا، تو بےاختیار ان کی زبان پر کلمہ شکر اور اظہارِتشکر کے الفاظ جاری ہوجائیں گے کہ تعریف ہے اس اللہ کی جس نے ہم سے ہر قسم کا غم اور اندیشہ دور کردیا۔ اب نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا باقی رہا اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ ہم اس سے پہلے دنیا کے جس فانی گھر میں مقیم تھے وہاں کا ہر لمحہ اندیشوں سے گراں بار تھا۔ صحت تھی، تو بیماری اس کے تعاقب میں تھی۔ بیماری تھی، تو موت انتظار میں رہتی تھی۔ کوئی خوشی ایسی نہیں تھی جس کے مبدل بہ غم ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ کوئی کاروبار نہ تھا جس میں نقصان کا ڈر نہ ہو، کوئی تعلق نہ تھا جس میں بےوفائی کے کانٹے نہ سجے ہوں۔ اور سب سے مستزاد آخرت میں نا کامی اور عذاب کا غم۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ایسے ہر غم سے ہمیں نجات دی۔ یقینا ہمارا رب غفوروشکور ہے، اس نے ہماری کوتاہیوں سے بھی درگزر فرمایا اور ایک ایک نیکی کو شرف قبول بخشا۔ ہمارے پاس ایسے اعمال کہاں تھے کہ جو اس کی بارگاہ میں پیش کرنے کے قابل ہوتے۔ یہ محض اس کی عنایت ہے کہ اس نے ہمارے اعمال کو قبول فرمایا۔ اور ہمیں ایک ایسے گھر میں اتارا جسے کبھی زوال نہیں۔ ہم سرائے فانی سے نکلے اور ہمیں ابدی جنت عطا کردی گئی، جس میں ہمارے لیے نہ کوئی محنت و مشقت ہے اور نہ کوئی تکان اور افسردگی۔ دنیا میں کسی ایسی زندگی یا ایسی اقامت گاہ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا جس میں آدمی اکتاہٹ اور تکان محسوس نہ کرے۔ بےکاری سے بڑھ کر تھکا دینے والی چیز اور کیا ہے۔ اور بہتر سے بہتر خواہش بھی ایک دن جدت چاہتی ہے۔ حالات کی یکسانی تنوع اور تجدد کے لیے بےقرار ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے کرم کے کیا کہنے کہ ہمیں ایسی جنت دی ہے کہ جس کی رہائش اور قیام میں ایسا عیش اور ایسی متنوع زندگی ہوگی جس میں کسی اکتاہٹ اور کسی پریشانی کا دخل نہیں ہوگا۔
Ayah 35:36

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے، نہ ان کی قضا ہی آئے گی جو مرجائیں اور نہ ان کے لیے جہنم کے عذاب میں کمی کی جائے گی، اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ہر اس شخص کو جو کفر کرنے والا ہے

وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ نَارُجَھَنَّمَ ج لاَ یُقْضٰی عَلَیْہِمْ فَیَمُوْتُوْا وَلاَ یُخَفَّفُ عَنْھُمْ مِّنْ عَذَابِھَا ط کَذٰلِکَ نَجْزِیْ کُلَّ کَفُوْرٍ ۔ وَھُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْھَا ج رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَالَّذِیْ کُنَّا نَعْمَلُ ط اَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَّایَتَذَکَّرُفِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ وَجَآئَ کُمُ النَّذِیْرُ ط فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ ۔ (فاطر : 36، 37) (اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے، نہ ان کی قضا ہی آئے گی جو مرجائیں اور نہ ان کے لیے جہنم کے عذاب میں کمی کی جائے گی، اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ہر اس شخص کو جو کفر کرنے والا ہے۔ اور وہ اس میں واویلا کریں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں یہاں سے نکال دے، اب ہم نیک عمل کریں گے، ان اعمال سے مختلف جو پہلے کرتے رہے تھے، کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی جس میں کوئی سبق لینا چاہتا تو سبق لے سکتا تھا، اور تمہارے پاس ایک ڈرانے والا بھی آیا، پس اب مزہ چکھو، اور ظالموں کا کوئی مدد کرنے والا نہیں۔ ) کفار کا انجام اصحابِ ایمان بالخصوص اللہ تعالیٰ کے دین کے حاملین کا قابل فخر انجام بیان کرنے کے بعد کفار کا انجام بیان کیا جارہا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے راہ راست اختیار کرنے کے تمام امکانات عطا فرمائے۔ غور و فکر اور صحیح فیصلہ کرنے کے اسباب فراہم کیے۔ باایں ہمہ انھوں نے حقیقت کا اتباع کرنے کی بجائے ہَوائے نفس اور شیطان کا اتباع کیا۔ اور وہ حقائق جن پر دلائلِ آفاق اور دلائلِ انفس اور خود انسان کی فطرت گواہی دے رہی ہے انھیں تسلیم کرنے کی بجائے انکار کی روش اختیار کی۔ اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں سے صحیح سبق حاصل کرنے کی بجائے کفر اور ناشکری کا راستہ اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ انھیں اس کی پاداش میں جہنم کی آگ کی سزا دے گا۔ اور یہ سزا بھی چند روزہ نہیں بلکہ تا ابد ہوگی جس سے نہ نکلنے کی کوئی صورت ہوگی اور نہ عذاب کی شدت میں تخفیف کی جائے گی۔ عذاب سے نکلنے کی ایک صورت تو یہ ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے، لیکن قرآن کریم میں اس کا صاف اعلان ہے کہ وہ کافر اور مشرک کو کبھی معاف نہیں کرے گا، کیونکہ انھوں نے زندگی بھر اللہ تعالیٰ کی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا۔ کبھی اس کو ماننے سے انکار کیا اور کبھی اس کی صفات میں دوسروں کو شریک کیا۔ یہ دونوں جرم ایسے ہیں جو ناقابلِ معافی ہیں۔ البتہ عذاب سے نکلنے کی ایک اور صورت جو ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ عذاب میں مبتلا شخص کو موت آجائے۔ لیکن جہنم میں گرفتار بدنصیب اس سے بھی محروم رہیں گے۔ وہ چیخ چیخ کر موت مانگیں گے لیکن انھیں موت نہیں دی جائے گی، ان کی کھالیں جل کر جھڑ جائیں گی تو انھیں نئی کھالیں پہنا دی جائیں گی۔ آگ کی جلن انتہائی ہولناک ہونے کے باوجود موت تو دور کی بات ہے بےہوشی کا سبب بھی نہیں بن سکے گی۔ آدمی جب کسی انتہائی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ موت کی تمنا کرتا ہے جبکہ زندگی انسان کے لیے سب سے قیمتی انعام ہے۔ جو شخص اس سے جان چھڑانے کے درپے ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا عذاب موت سے بھی بڑھ کر تکلیف دہ ہے۔ اندازہ نہیں کیا جاسکتا کہ اس عذاب کی شدت کیا ہوگی۔ ٹھیک کہا غالب نے : منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید نا امیدی اس کی دیکھا چاہیے اللہ تعالیٰ کے عدل میں مساوات آیت کے آخر میں فرمایا کہ یہ ہولناک سزا کافروں کے کسی مخصوص گروہ کے لیے نہیں، اور نہ صرف ان کا حصہ ہے جو قومیں عذاب کا شکار ہوچکی ہیں بلکہ ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کو ماننے سے انکار کرتا اور اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ اسی سزا کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا عدل سب کے ساتھ یکساں سلوک کرے گا۔ قریش اس کو گزشتہ لوگوں کی کہانی یا کوئی قصہ ٔ پارینہ نہ سمجھیں بلکہ انھیں یقین رکھنا چاہیے کہ اگر انھوں نے اپنا رویہ نہ بدلا تو انھیں بھی ایسے ہی عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ جہنم میں کفار کی درخواست دوسری آیت میں بتایا گیا ہے کہ کفار جہنم کے عذاب سے بےبس ہو کر چیخیں گے اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے کہ ہم سے بہت بڑی خطا ہوئی، ہم دنیا میں صحیح فیصلہ نہ کرپائے۔ ہمیں ایک اور موقع عطا فرمایا جائے۔ دوبارہ دنیا میں بھیج کر مہلت عمل دی جائے۔ ہم اس نئی زندگی میں پہلی زندگی سے بالکل مختلف اعمال کریں گے۔ پہلے ہم نے ہَوائے نفس کا اتباع کیا اور شیطان کے پیچھے چلے۔ اب ہم وہی زندگی اختیار کریں گے جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول بلاتے رہے۔ ہم زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور رسول کی اطاعت میں گزاریں گے۔ ان کی اس فریاد کے جواب میں پروردگار جھڑک کر فرمائے گا کہ کیا ہم نے تمہیں اس سے پہلے ایسی طویل زندگی نہیں دی تھی جس میں اگر تم چاہتے تو صحیح زندگی گزار سکتے تھے۔ تمہیں اتنا طویل موقع سوچنے سمجھنے کے لیے دیا جس میں ایک صحیح فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ اور پھر اسی پر بس نہیں بلکہ ایک خبردار کرنے والا رسول بھی بھیجا جس نے زندگی کا ہر دکھ اٹھا کر تمہاری خیرخواہی کا حق ادا کیا اور قدم قدم پر تمہیں راہ راست پر لانے کی کوشش کی۔ لیکن تم نے نہ مہلت عمر سے فائدہ اٹھایا اور نہ رسول کے انذار سے کوئی سبق سیکھا۔ ہم نے تمہیں مہلت عمل دے کر بندگی کا موقع بھی دیا اور رسول بھیج کر اتمامِ حجت بھی کیا۔ اس کے بعد تو کوئی امکان باقی نہیں رہ جاتا۔ تم ہر امکان کو مسترد کرچکے ہو۔ اب اس کی سزا یہی ہے کہ تم اس عذاب کا مزہ چکھو۔ اس آیت سے اشارتاً یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو لوگ شعور یا پختگی کی عمر کو پہنچنے سے پہلے موت کا شکار ہوگئے ان کے ساتھ معاملہ یقینا نرمی کا کیا جائے گا۔ لیکن جنھوں نے شعور کی عمر پائی جسے بلوغ کی عمر کہا جاسکتا ہے ان کے ساتھ معاملہ انصاف کے مطابق ہوگا۔ اور جس شخص نے طویل عمر گزاری اور اسے راہ راست پر آنے کے لیے متعدد مواقع ملے اس کی بازپرس یقینا دوسروں سے شدید تر ہوگی۔ اسی لیے احادیث میں بڑھاپے کی عمر کو پہنچنے کے بعد بھی جو شخص فسق و فجور کا ارتکاب کرتا ہے اس کے لیے سخت وعید آئی ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔
Ayahs 35:37–38

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

اور وہ اس میں واویلا کریں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں یہاں سے نکال دے، اب ہم نیک عمل کریں گے، ان اعمال سے مختلف جو پہلے کرتے رہے تھے، کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی جس میں کوئی سبق لینا چاہتا تو سبق لے سکتا تھا، اور تمہارے پاس ایک ڈرانے والا بھی آیا، پس اب مزہ چکھو، اور ظالموں کا کوئی مدد کرنے والا نہیں

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز کو جاننے والا ہے، بیشک وہ سینوں کے بھیدوں کو بھی جاننے والا ہے

اِنَّ اللّٰہَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط اِنَّـہٗ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (فاطر : 38) (بےشک اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز کو جاننے والا ہے، بیشک وہ سینوں کے بھیدوں کو بھی جاننے والا ہے۔ ) ایک تنبیہ قیامت کے دن کافروں کا جو انجام ہوگا اس کی تفصیل بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے غیب کو بھی جاننے والا ہے یعنی یہ مت سمجھنا کہ تم سے قیامت سے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے اور تمہارے انجام کے بارے میں جو خبر دی گئی ہے وہ محض خیال آرائی ہے اور یہ گمان نہ کرنا کہ ایک ایسی بات جو انسان کے علم کی بساط سے باہر ہے اور جس کی نہ تردید کی جاسکتی ہے اور نہ تائید میں کچھ کہا جاسکتا ہے، یہ کیسے سمجھ لیا جائے کہ اس کے بارے میں جو کچھ قرآن کریم کہہ رہا ہے وہ بالکل صحیح ہے۔ چناچہ اسی خیال کو رد کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ غیب اور حضور اور ماضی و مستقبل یہ تقسیم انسانوں کے لیے ہے، اللہ تعالیٰ کا علم ان سب پر حاوی ہے۔ وہ جس طرح لمحہ موجود کو جانتا ہے اسی طرح غیب کا تمام علم اس کے سامنے ہے۔ تو جو کچھ تمہیں قیامت کے بارے میں بتایا گیا ہے اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ اپنے کفر اور طغیان کے باعث بات سننے کے روادار نہیں وہ قیامت کے دن چیخ چیخ کر مہلت عمل کی درخواست کریں گے لیکن ان کی درخواست کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات سے کماحقہ آگاہ ہے کہ مہلت عمل مانگنے والے مہلت مل جانے کے بعد بھی وہی کریں گے جو کچھ دنیا میں اس سے پہلے کرچکے ہیں۔ اس سے یہ بات مخفی نہیں کہ یہ لوگ محض جان چھڑانے کے لیے جھوٹ کو ذریعہ بنا رہے ہیں اس لیے وہ حقارت سے ان کی درخواست کو رد کردے گا۔
Ayah 35:39

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا، تو جو کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے رب کے نزدیک زیادہ نہیں کرتا، مگر اس کی ناراضگی میں، اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے خسارے ہی میں اضافہ کرے گا

ھُوَالَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ ط فَمَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ ط وَلاَ یَزِیْدُالْـکٰفِرِیْنَ کُفْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ اِلاَّ مَقْتًا ج وَلاَ یَزِیْدُالْـکٰفِرِیْنَ کُفْرُھُمْ اِلاَّ خَسَارًا۔ (فاطر : 39) (وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا، تو جو کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے رب کے نزدیک زیادہ نہیں کرتا، مگر اس کی ناراضگی میں، اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے خسارے ہی میں اضافہ کرے گا۔ ) اللہ تعالیٰ کا عدل بےلاگ ہے اس آیت کے پہلے جملے میں ” خلائف “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو خلیفہ کی جمع ہے۔ اس کا معنی جانشین بھی ہوسکتا ہے اور اصطلاحی خلافت کا حامل بھی۔ اگر اس کا معنی جانشین کیا جائے تو مفہوم یہ ہوگا کہ اے قریش اور دیگر اہل مکہ ! تم اس سرزمین پر آباد ہونے والے پہلے لوگ نہیں ہو بلکہ اس سے پہلے دیگر قومیں یہاں آباد رہ چکی ہیں، لیکن آج ان کا نشان باقی نہیں ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی پاداش میں دنیا سے مٹا دی گئیں اور تم ان کے جانشین کے طور پر یہاں آباد کیے گئے ہو۔ یہاں تمہارا اقتدار، تمہارا پہلا اقتدار نہیں اور نہ تمہارا پیدا کردہ ہے بلکہ تم سے پہلے بھی لوگ ایسے ہی کروفر اور ٹھاٹھ باٹ کے حامل رہ چکے ہیں۔ وہ اگر اپنے کفر و استکبار کے باعث ہلاکت کی نذر ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کا قانونِ عدل تو ایسا بےلاگ ہے کہ کسی سے امتیازی سلوک نہیں کرتا۔ یقینا تم بھی اسی انجام سے ہمکنار کیے جاؤ گے جس انجام سے وہ دوچار ہوئے تھے۔ اور اگر اس کا ترجمہ اصطلاحی خلافت کا حامل کیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا کر کچھ اختیارات سے نوازا تھا اور تمہارے سپرد یہ فرض کیا گیا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی حاکمیت کو نافذ کرو گے۔ لیکن تم نے اپنے خلیفہ ہونے کی حیثیت سے تجاوز کیا اور اپنی اپنی جگہ خودمختار بن کر بیٹھ گئے۔ بجائے اللہ تعالیٰ کی بندگی کرانے کے تم نے غیر اللہ کی بندگی اختیار کی۔ اور یا اپنے نفس کے تابع ہو کر اللہ تعالیٰ سے بغاوت کردی۔ یہ وہ کفر ہے جس کا نتیجہ پہلے کفر کرنے والے دیکھ چکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ تم بھی اسی سے دوچار کیے جاؤ گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا انصاف بےلاگ ہے۔ وہ کسی قوم سے امتیازی سلوک نہیں کرتا۔ جب تم پہلی گزری ہوئی قوموں کے نقوش قدم پر چلو گے تو تمہارے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو ان کے ساتھ ہوچکا ہے۔ کیونکہ جو شخص بھی کفر کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو دعوت دیتا ہے اور جیسے جیسے وہ کفر میں بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکتا جاتا ہے۔ اور اس کا نتیجہ کفر کرنے والے کے لیے تباہی کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔
Ayah 35:40

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دیجیے، کیا تم نے دیکھا ہے اپنے ان شریکوں کو جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، مجھے دکھائو، انھوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے یا ان کی آسمانوں میں کوئی حصہ داری ہے یا ہم نے انھیں کوئی کتاب دی ہے تو وہ اس کی کسی واضح دلیل پر ہیں بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے کو محض فریب کے جھانسے دے رہے ہیں

قُلْ اَرَئَ یْتُمْ شُرَکَآئَ کُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَھُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ ج اَمْ اٰتَیْنٰـھُمْ کِتٰبـًا فَھُمْ عَلٰی بَیِّنَتٍ مِّنْہُ ج بَلْ اِنْ یَّعِدُالظّٰلِمُوْنَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا اِلاَّ غُرُوْرًا۔ (فاطر : 40) (اے پیغمبر کہہ دیجیے، کیا تم نے دیکھا ہے اپنے ان شریکوں کو جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، مجھے دکھائو، انھوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے یا ان کی آسمانوں میں کوئی حصہ داری ہے یا ہم نے انھیں کوئی کتاب دی ہے تو وہ اس کی کسی واضح دلیل پر ہیں بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے کو محض فریب کے جھانسے دے رہے ہیں۔ ) مشرکین کا معقولیت کے خلاف رویہ اہلِ عرب اللہ تعالیٰ کے وجود کے منکر نہ تھے بلکہ ان کے کفر کی بنیاد دراصل شرک تھی۔ مختلف قوتوں کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی بہت ساری صفات ان کی طرف منسوب کر رکھی تھیں۔ اور مختلف قوتوں کو مختلف طاقتیں سونپ دینے کی وجہ سے ان کے سامنے دست سوال دراز کیا جاتا تھا۔ چناچہ ان کے اس رویے پر تنقید کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ تم نے جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے وہ فرشتے ہوں یا جنات یا انسانوں میں نیک لوگوں کے بنائے ہوئے مجسمے اور بت، کیا ان میں سے کسی نے مخلوقات میں سے کسی کی تخلیق کی ہو ؟ یا کسی تخلیق میں ان کا کوئی حصہ رہا ہو ؟ تو مجھے بتائو تاکہ میں بھی ان کی قدرتوں اور عظمتوں کا اندازہ کرسکوں۔ اور اگر ایسا نہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ تم نے آخر انھیں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں کیسے شریک بنا رکھا ہے۔ مزید فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں کوئی شریک نہیں تو کیا ہم نے انھیں کوئی لکھا ہوا پروانہ جاری کیا ہے یا ان پر کوئی کتاب اتاری ہے جس میں ہم نے یہ تحریر کیا ہو کہ فلاں فلاں اشخاص کو ہم نے فلاں فلاں طاقتیں دے رکھی ہیں یا فلاں فلاں اختیارات ان کو تفویض کردیے ہیں۔ آئندہ جب بھی تمہیں کوئی حاجت لاحق ہو تو بجائے ہماری طرف رجوع کرنے کے ان کی طرف رجوع کرو۔ دست دعا ہماری طرف پھیلانے کی بجائے ان کی طرف پھیلائو۔ اب نذرونیاز ان کے حضور چڑھائی جائے کیونکہ قسمتوں کے بنانے اور بگاڑنے کا اختیار اب ہم نے ان کے حوالے کردیا ہے۔ اگر ایسی کوئی کتاب یا تحریر تمہارے پاس ہے تو ثبوت پیش کرو۔ اور اگر ایسا نہیں تو پھر کس سند کی بنیاد پر تم نے انھیں ہمارا شریک بنا رکھا ہے ! آخر آیت میں فرمایا گیا ہے کہ اگر ان کے پاس نہ تو کوئی دلیل ہے اور نہ کوئی کتاب، اور نہ کوئی سند۔ تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے لوگ بس یونہی بےدلیل و بےسند ایک دوسرے کو سبز باغ دکھا رہے ہیں۔ اور مختلف قوتوں کی طرف بغیر کسی دلیل کے اختیارات منسوب کررہے ہیں۔ اور ان کے اختیارات اور ان کی عبادات اور ان کی برکات کے افسانے محض فریب دینے کے لیے سنائے جاتے ہیں، سوچ لیجیے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔
Ayah 35:41

اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا١ۚ۬ وَ لَئِنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 35:41 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے بعد کوئی انھیں تھامنے والا نہیں، بیشک وہ بڑا حلیم اور درگزر فرمانے والا ہے

اِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلاَ 5 ج وَلَئِنْ زَالَـتَـآ اِنْ اَمْسَکَھُمَا مِنْ اَحَدٍمِّنْ م بَعْدِہٖ ط اِنَّـہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا۔ (فاطر : 41) (بےشک اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے بعد کوئی انھیں تھامنے والا نہیں، بیشک وہ بڑا حلیم اور درگزر فرمانے والا ہے۔ ) گزشتہ مضمون کا تسلسل مشرکین نے جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا تھا ان کی بےحقیقتی اور بےبسی کو واضح کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ وہ تمہاری قسمتیں تو کیا بنائیں گے اور تمہارے کام کیا سنواریں گے، ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر زمین و آسمان کا کوئی حصہ یا سارے کے سارے اپنے محور و مدار سے نکل جائیں تو کوئی انھیں اللہ تعالیٰ کے سوا تھامنے والا نہیں۔ آسمانوں کی سقف نیلگوں بےستون کھڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس کا سہارا نہیں۔ بیشمار سیارے فضا میں محو پرواز ہیں، کوئی انھیں پَرِپرواز دینے والا، ان کی جہتیں مقرر کرنے والا، ان کو مدار میں تھامنے والا اللہ تعالیٰ کے سوا نہیں۔ یہ اپنے جن مزعومہ دیویوں اور دیوتائوں کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ انھیں ہر مصیبت سے بچاتے ہیں، وہ ان کو تو کیا بچائیں گے وہ تو اپنے وجود کو سنبھالنے پر قادر نہیں۔ ہر ایک اپنی پیدائش اور اپنی بقاء کے لیے پروردگارِعالم کا محتاج ہے۔ یہ تو اس کی بےپناہ قدرت ہے جس نے آسمان و زمین اور کائنات کے ہر گوشے کو تھام رکھا ہے، اگر وہ ذرا ان کی باگ ڈھیلی چھوڑ دے تو کوئی طاقت انھیں تھامنے والی نہیں۔ اور جشمِ زدن میں سارا نظام درہم برہم ہوجائے۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات کو بیان کرکے توجہ دلائی گئی ہے کہ لوگوں کی سرکشی اور استکبار کے باوجود اللہ تعالیٰ انھیں جو ڈھیل دیتا چلا جارہا ہے تو وہ محض اس لیے ہے کہ وہ حلیم و غفور ہے۔ وہ پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔ وہ تاحدآخر ہر مخلوق کو مہلت دیتا جاتا ہے۔ وہ بردبار بھی ہے اور درگزر کرنے والا بھی۔
Ayahs 35:42–43

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ لَّیَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَاۙ Open ayah 35:42 in the Quran reader

اور انھوں نے اللہ کی کڑی کڑی قسمیں کھائیں کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا آیا تو وہ ہر امت سے زیادہ ہدایت اختیار کرنے والے بنیں گے، پس جب ان کے پاس خبردار کرنے والا آگیا تو اس کی آمد سے ان میں کوئی اضافہ نہ ہوا، مگر بےزاری میں

اِ۟سْتِكْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَكْرَ السَّیِّئِ١ؕ وَ لَا یَحِیْقُ الْمَكْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ١ؕ فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ١ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا١ۚ۬ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحْوِیْلًا Open ayah 35:43 in the Quran reader

زمین میں تکبر میں اور بری چال چلنے میں، حالانکہ بری چال اسی کو گھیرتی ہے جو بری چال چلتا ہے، پس یہ انتظار نہیں کررہے مگر پچھلی قوموں کے ساتھ سنت الٰہی کا، پس سنت الٰہی میں کوئی تبدیلی نہیں پائو گے، اور نہ تم سنت الٰہی کو ٹلتے ہوئے پائو گے

وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِہِمْ لَئِنْ جَآئَ ھُمْ نَذِیْرٌ لَّیَکُوْنُنَّ اَھْدٰی مِنْ اِحْدَی الْاُمَمِ ج فَلَمَّا جَآئَ ھُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَھُمْ اِلاَّ نُفُوْرَانِ ۔ اسْتِکْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَمَکْرَالسَّیِّیِٔ ط وَلاَ یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِیُٔ اِلاَّ بِاَھْلِہٖ ط فَھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلاَّ سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ ج فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً 5 ج وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَحْوِیْلاً ۔ (فاطر : 42، 43) (اور انھوں نے اللہ کی کڑی کڑی قسمیں کھائیں کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا آیا تو وہ ہر امت سے زیادہ ہدایت اختیار کرنے والے بنیں گے، پس جب ان کے پاس خبردار کرنے والا آگیا تو اس کی آمد سے ان میں کوئی اضافہ نہ ہوا، مگر بےزاری میں۔ زمین میں تکبر میں اور بری چال چلنے میں، حالانکہ بری چال اسی کو گھیرتی ہے جو بری چال چلتا ہے، پس یہ انتظار نہیں کررہے، مگر پچھلی قوموں کے ساتھ سنت الٰہی کا، پس سنت الٰہی میں کوئی تبدیلی نہیں پائو گے، اور نہ تم سنت الٰہی کو ٹلتے ہوئے پائو گے۔ ) قریش کا اپنی روایت سے انحراف اور اس کا سبب قریش اور دیگر مخالفین جس طرح آنحضرت ﷺ کی مخالفت اور اذیت رسانی میں اندھے ہوتے جارہے تھے اور ان تمام اقدار کو بھی پامال کرتے جارہے تھے جو اہل مکہ میں عام طور پر مروج تھیں اور سخت مخالفت میں بھی جن کا عموماً لحاظ رکھا جاتا تھا۔ تو قرآن کریم نے انھیں ان کے رویے پر توجہ دلاتے ہوئے ان کی سرگزشت کا ایک ورق الٹ کر انھیں دکھایا ہے کہ بہت دور کی بات نہیں تم جب یہود کو دیکھتے تھے کہ وہ تمہارے بارے میں نہایت توہین آمیز رویہ رکھتے ہیں۔ اور تمہارے ساتھ ہر زیادتی کو وہ اپنے تئیں حلال کرچکے ہیں۔ تو تم آپس میں ہمیشہ بڑی بلند آہنگی سے یہ بات کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے اندر کوئی خبردار کرنے والا یعنی کوئی رسول مبعوث ہوگیا تو ہم ان یہود کی طرح بودے اور بےہمت ثابت نہیں ہوں گے بلکہ ہم آگے بڑھ کر اس کے دامن سے اس طرح وابستہ ہوجائیں گے کہ دنیا دیکھے گی کہ ہم دوسری قوموں سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہیں۔ لیکن کس قدر شرم کی بات ہے کہ اہل عرب تو ہمیشہ قول کے پکے سمجھے جاتے تھے لیکن تم نے تو اپنی تاریخی روایات کو مٹی میں ملا دیا۔ اللہ تعالیٰ کا عظیم رسول نذیر بن کر تمہارے اندر آگیا ہے لیکن بجائے اس کے کہ تم اپنے دعوئوں کے مطابق اس پر ایمان لاتے اور سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ثابت ہوتے۔ تم اس کے آنے کے بعد اس کا راستہ روکنے اور اس کے دین کو مٹانے کے درپے ہوگئے ہو۔ تمہارے اندر اس کے دین سے بےزاری اور اس کی دعوت سے گریز اس حد تک بڑھا کہ تم نے بری سے بری چال بھی اس کے خلاف چلنے سے گریز نہیں کیا۔ اور شب و روز تمہیں اس کے سوا کوئی کام نہ رہا کہ آنحضرت ﷺ ، آپ کے صحابہ اور آپ کے دین کو مٹانے کے لیے جو تم سے بن پڑے اس سے دریغ نہ کیا جائے۔ دوسری آیت میں قریش نے اپنے دعوے کے خلاف جو رویہ آنحضرت ﷺ اور آپ کی دعوت کے متعلق اختیار کیا ہے اس کا حقیقی سبب بیان فرمایا گیا ہے کہ قریش اور دیگر مخالفین اتنے گئے گزرے نہیں کہ وہ آنحضرت ﷺ کے بلند سیرت و کردار کے اعتراف اور قرآن کریم کی معجزانہ شان کے سامنے سپرانداز ہونے کے باوجود آپ کی دعوت کی صداقت کو نہ جانچ سکیں۔ وہ دلوں ہی میں نہیں اپنی نجی مجلسوں میں بھی اقرار کرتے تھے کہ محمد (e) جو کچھ کہہ رہے ہیں، وہ غلط نہیں۔ کیونکہ انھوں نے زندگی بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اور پھر جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کی صداقت اور افادیت میں شبہ کرنا آسان نہیں۔ لیکن ہمارے لیے مشکل یہ ہے کہ ہمیں مکہ معظمہ اور عرب بھر میں بیت اللہ کے متولی ہونے اور قریشی ہونے کی حیثیت سے جو حقوق و مراعات حاصل ہیں اور جس حیثیتِ عرفی کے ہم مالک بن چکے ہیں اس دین کو قبول کرلینے سے یہ سب کچھ چھوڑنا لازم ہوجائے گا۔ ہم امت مسلمہ کے چھوٹے سے چھوٹے آدمی کے برابر تصور کیے جائیں گے۔ ہمارے حسب و نسب کی عظمتیں خاک میں مل جائیں گی صرف ہمارے کردار کی عظمت دیکھی جائے گی۔ ہمارے خاندانی حوالے ختم ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمات کا حوالہ معتبر سمجھا جائے گا۔ اور اسی سے ہماری حیثیت کا تعین ہوگا اور یہ چیز ہمارے لیے کسی طرح قابل قبول نہیں۔ ہم اپنی وجاہت و عظمت اور سیادت و ریاست کو اپنے ہاتھوں کیسے آگ لگا دیں۔ یہ وہ استکبار تھا جس نے انھیں اسلام سے دور رکھا۔ اور اپنی اس نام نہاد حیثیتِ عرفی اور عظمت کو بچانے کے لیے انھوں نے صرف چالیں ہی نہیں چلیں بلکہ بدترین تدبیروں سے کام لیا۔ جس میں وہ عربی روایات کو بھی ملحوظِ خاطر نہ رکھ سکے۔ ” مکر “ چونکہ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے ساتھ سَیِّیُٔ کے لفظ کا اضافہ کرکے ” مکر “ کی نوعیت کو واضح فرما دیا ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ دشمنی کی بھی کچھ حدود ہیں لیکن ان لوگوں نے اسلام کی دشمنی میں کسی حد کو ملحوظ نہیں رکھا۔ لیکن انھیں اس بات کا احساس نہیں کہ یہاں معاملہ افراد کی یا قبیلوں کی دشمنی کا نہیں بلکہ حق و باطل کی کشمکش کا ہے جسے انھوں نے دشمنی کا رنگ دے دیا ہے اور حق کے خلاف جب بھی کبھی کسی نے سازش کی ہے تو وہ خود ہمیشہ اس کا نشانہ بنا ہے۔ کیونکہ جیسے جیسے وہ دشمنی میں آگے بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے وہ حق سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے بنے ہوئے جال میں کوئی دوسرا پھنسے یا نہ پھنسے، لیکن وہ اپنی ہلاکت کا سامان یقینا کرلیتا ہے۔ لیکن بعض لوگوں نے قلت فکر کی بنیاد پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ دنیا میں بہت دفعہ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ بعض دفعہ بری تدبیر کرنے والے کی تدبیر چل جاتی ہے۔ اور جس کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے اس کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔ تو قرآن کریم کا یہ کہنا کہ تدبیر ہمیشہ صاحب تدبیر پر الٹتی اور اس کو نشانہ بناتی ہے، یہ تو مشاہدے کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ عام دشمنیوں کے حوالے سے یہ بات کسی حد تک قابل لحاظ ہوسکتی ہے لیکن حق و باطل کی کشمکش میں ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ جو حق کے لیے نقصان اٹھاتے ہیں اور کبھی اس پر قربان ہوجاتے ہیں وہ بھی نقصان میں نہیں رہتے بلکہ کامیابی ان کے قدم چومتی ہے اور تاریخ انھیں ہمیشہ سلام کرتی ہے۔ اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بےگناہ کے خلاف تدبیر کرنے اور اس پر ظلم کرنے کا وبال ظالم پر اکثر دنیا میں بھی پڑجاتا ہے۔ محمد بن کعب قرظی کا قول ہے کہ تین کام ایسے ہیں جن کا کرنے والا دنیا میں بھی وبال و عذاب سے نہیں بچتا۔ ایک کسی بےگناہ کے حق میں بری تدبیر کرکے اسے ایذا پہنچانا، دوسرے عام ظلم، تیسرے عہد شکنی۔ (ابنِ کثیر) خصوصاً کسی ایسے شخص پر اگر ظلم کیا جائے جو بےکس اور بےبس ہو، انتقام پر قدرت نہ رکھتا ہو یا باوجود قدرت انتقام کے صبر کرے اس پر ظلم کے وبال سے دنیا میں بھی کسی کو بچتے نہیں دیکھا۔ قریش برے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں آخر میں فرمایا گیا ہے کہ قریش اور دیگر اہل مکہ نے اپنی غیرشریفانہ مخالفت کو اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ اب شاید وہ سنت الاولین کا انتظار کررہے ہیں۔ یعنی جس طرح پہلی عذاب کا شکار ہونے والی قومیں اللہ تعالیٰ کے خوف سے بےنیاز ہو کر اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کو نظرانداز کرکے اللہ تعالیٰ کے نبی کے قتل کے منصوبے باندھنے لگی تھیں اور ان پر ایمان لانے والے ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگئے تھے تو پھر اللہ تعالیٰ کا قانون حرکت میں آیا جو ہر ایسی امت کے بارے میں اپنا کام کرتا رہا ہے۔ یہاں سنت الاولین سے مراد درحقیقت سنت اللہ فی الاولین ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ ایسی قومیں تباہ کردی جاتی ہیں۔ یہ لوگ بھی شاید یہی چاہتے ہیں کہ وہ بھی اپنے انجام کو پہنچ جائیں۔ کاش انھیں اس بات کی خبر ہوتی کہ اللہ تعالیٰ کا قانونِ عدل بےلاگ ہے۔ اس میں نہ کبھی تبدیلی آتی ہے اور نہ کبھی اس کے ظہور میں تاخیر ہوتی ہے۔ اگر انھوں نے اپنی روش نہ بدلی تو اے پیغمبر آپ پریشان نہ ہوں آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ سنت بروئے کار آئے گی۔ اس نے جس طرح قوم عاد اور قوم ثمود کے ساتھ معاملہ کیا وہی معاملہ ان کے ساتھ بھی کیا جائے گا۔ کیونکہ اس سنت کو بدلنے والا کوئی نہیں۔ اسی طرح جب اس کے ظہور کا وقت آئے گا تو وہ لازماً ظہور میں آکر رہے گی۔ کیونکہ اس کو ٹالنا کسی کے بس میں نہیں۔
Ayah 35:44

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعْجِزَهٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا Open ayah 35:44 in the Quran reader

کیا انھوں نے زمین میں سفر نہیں کیا کہ وہ دیکھتے کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے۔ حالانکہ وہ قوت میں ان سے بہت زیادہ تھے اور آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکے۔ بیشک وہ علم والا اور قدرت والا ہے

اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَکَانُوْٓا اَشَدَّمِنْھُمْ قُوَّۃً ط وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعْجِزَہٗ مِنْ شَیْ ئٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلاَ فِی الْاَرْضِ ط اِنَّـہٗ کَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا۔ (فاطر : 44) (کیا انھوں نے زمین میں سفر نہیں کیا کہ وہ دیکھتے کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے۔ حالانکہ وہ قوت میں ان سے بہت زیادہ تھے اور آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکے۔ بیشک وہ علم والا اور قدرت والا ہے۔ ) معذب قوموں کے آثار سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت سابقہ آیت کریمہ میں چونکہ پہلی قوموں کا حوالہ دیا ہے اس لیے اسی بات کو مزید نمایاں کرنے کے لیے یہ فرمایا گیا ہے کہ جو قومیں تکذیبِ رسل کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئیں ان کی تباہ شدہ بستیاں ان راستوں میں ہیں جہاں سے قریش کے تجارتی قافلے گزرتے ہیں اور یہ ایک دفعہ نہیں متعدد دفعہ وہاں سے گزرے ہوں گے لیکن اس آیت کریمہ میں انھیں توجہ دلائی جارہی ہے کہ وہ اس ارادے سے ان بستیوں پر سے گزریں کہ آخر یہ بستیاں تباہ کیوں کی گئیں۔ وہ ان کی تباہی کے اسباب تلاش کریں، ان کی تاریخ میں غور و فکر کریں۔ اور پھر یہ بھی دیکھیں کہ وہ قومیں حالات کی ستم رسیدہ نہ تھیں۔ وہ ہر لحاظ سے قریش کی نسبت نہایت طاقتور اور بہت زیادہ ترقی یافتہ تھیں۔ ان کی آبادیوں کا نظم و نسق ان سے کہیں بہتر تھا۔ وہ ان سے کہیں زیادہ خوشحال تھے۔ باایں ہمہ جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کو قبول کرنے سے انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے انھیں آپکڑا۔ وہ اپنی تمام تر قوت و شوکت کے باوجود اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہ بچ سکے۔ نہ ان کی قوت کام آئی اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کو عذاب دینے سے عاجز کرسکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے اور کوئی چیز اس کی نگاہوں سے اوجھل نہیں۔ اور ساتھ ہی وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ کوئی کام اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ جب اس کا علم بھی کامل ہے اور اس کی قدرت بھی بےپناہ ہے تو کوئی اس سے بچ کر کہاں جاسکتا ہے۔
Ayah 35:45

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِیْرًا۠ Open ayah 35:45 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے کیے کرتوتوں پر فوراً پکڑتا تو زمین کی پشت پر ایک جاندار کو بھی نہ چھوڑتا، مگر وہ انھیں ایک مقررہ وقت تک کے لیے مہلت دے رہا ہے اور جب ان کا وقت آجائے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خود دیکھنے والا ہے

وَلَوْ یُؤَاخِذُاللّٰہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوْا مَاتَرَکَ عَلٰی ظَھْرِھَا مِنْ دَآبَّۃٍ وَّلٰـکِنْ یُّؤَخِّرُھُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ج فَاِذَا جَآئَ اَجَلُہُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِعِبَادِہٖ بَصِیْرًا۔ (فاطر : 45) (اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے کیے کرتوتوں پر فوراً پکڑتا تو زمین کی پشت پر ایک جاندار کو بھی نہ چھوڑتا، مگر وہ انھیں ایک مقررہ وقت تک کے لیے مہلت دے رہا ہے اور جب ان کا وقت آجائے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خود دیکھنے والا ہے۔ ) ایک شبے کا ازالہ عذاب کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی سنت کو دیکھتے ہوئے بعض لوگوں کو یہ اشتباہ ہونے لگتا ہے کہ قومیں اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے مقابلے میں بعض دفعہ حدود سے تجاوز بھی کر جاتی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت پھر بھی جوش میں نہیں آتی۔ وہ انھیں برابر مہلت پر مہلت دیتا چلا جاتا ہے، آخر اس کی وجہ کیا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ عذاب دینے پر قادر نہیں یا عذاب کا فلسفہ محض ایک مفروضہ ہے ؟ چناچہ اس اشتباہ کو دور کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اور اس کے قانون کی کارفرمائی کو ایک خاص پہلو سے نمایاں کیا گیا۔ اور وہ پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کوئی روکنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ اور نہ کوئی بڑی سے بڑی طاقت اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکتی ہے۔ اس کے عذاب میں تاخیر کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہر چھوٹی بڑی غلطی پر پکڑنے لگتا تو کون ہے جو غلطیوں سے مبرا ہے اور جس سے کبھی نہ کبھی کسی گناہ کا صدور نہیں ہوتا۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا نظر نہ آتا۔ اس کے یہاں ہر چیز کے نتیجہ خیز ہونے کی ایک اجل مقرر ہے۔ پانی اس وقت تک نہیں ابلتا جب تک اس کو مطلوب حرارت نہیں پہنچتی۔ اور کلی اس وقت تک نہیں چٹکتی جب تک وہ چٹکنے کی عمر کو نہیں پہنچ جاتی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی بداعمالیوں پر گرفت کے لیے ایک اجل مقرر کر رکھی ہے۔ جب تک وہ اجل آ نہیں جاتی اور وہ معین وقت ظاہر نہیں ہوجاتا اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی گرفت نہیں آتی اور اس کا عذاب زمین پر نہیں اترتا۔ یہ بھی اس کی رحمت کا ظہور ہے جس کا تعلق اس کے قانونِ عذاب سے ہے کہ وہ سزا سے پہلے مہلت پہ مہلت دیتا ہے تاکہ کوئی سنبھلنا چاہے تو سنبھل جائے۔ اور جو اپنی ضد ہی پر مرنا چاہتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت تمام ہوجائے۔ چناچہ جب وہ مدت مہلت پوری ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت تب بھی اپنا کام کرتی ہے۔ وہ اس طرح سے کہ اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ یہ لوگ کس پاداش اور کس سزا کے مستحق ہیں۔ اور پھر اس کے مطابق انھیں سزا دی جاتی ہے۔