Ayah 34:1اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَلَـہُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَۃِ ط وَھُوَالْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ ۔ (السباء : 1) (حمد صرف اس اللہ کے لیے ہے جس کا وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور آخرت میں بھی اسی کے لیے حمد ہے، وہ دانا اور باخبر ہے۔ )
حمد کا مفہوم
حمد کا لفظ عربی زبان میں تعریف اور شکر دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور مآل کار حمد کے مفہوم میں دونوں معنی جمع ہوجاتے ہیں۔ قدرت نے انسانی فطرت کے جو مقتضیات مقرر فرمائے ہیں ان میں یہ بات شامل ہے کہ انسان جب کسی کی عنایات سے متمتع ہوتا ہے اور ہر طرح کے حالات میں جس کے احسانات سے فیض یاب ہوتا ہے تو اسی کی تعریف اس کے لبوں سے ادا ہوتی ہے اور دل میں اسی کے شکر کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اور یہ دونوں جذبے جب جمع ہوجاتے ہیں تو اسے حمد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان ایسا لزوم ہے کہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لحاظ سے جب ہم انسان کے معاملات پر غور کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ زمین کی سطح پر اور آسمان کی چھت کے نیچے رہتے ہوئے انسان بیشمار نعمتوں سے متمتع ہوتا ہے، تو اگر وہ بالکل بلید واقع نہیں ہوا تو اس کی فطرت یہ سوال ضرور اٹھاتی ہے کہ ان نعمتوں کو پیدا کرنے والا اور عطا کرنے والا کون ہے۔ سورج کی روشنی، چاند کی حلاوت، ابر سے برسنے والی بارش، جسم کو راحت دینے والی ہَوا، نگاہوں سے آنکھ مچولی کھیلنے والے ستارے اور غذا بہم پہنچانے والی لہلہاتی فصلیں، پیاس کو بجھانے اور آبیاری کی ضرورت پوری کرنے والے پانی کے ذخیرے آخر یہ کس کی ملکیت ہیں، کس نے انھیں پیدا کیا ہے اور کس کی اجازت سے ہمیں فیض پہنچا رہے ہیں ؟ کسی کافر سے بھی پوچھا جائے تو وہ اس کا انکار نہیں کرسکتا کہ انسان کے جسم و جان کا خالق، انسانی صلاحیت کا عطا کرنے والا اور انسانی ضروریات کو پورا کرنے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور نہیں۔ اسی نے تمام نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ کسی کو وہ بلاواسطہ عطا فرما رہا ہے اور کہیں بالواسطہ۔ لیکن منعم حقیقی اور محسن حقیقی اس کے سوا کوئی نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ فصلیں زمین سے اگتی ہیں، بارش بادلوں سے اترتی ہے، بخارات سمندر سے اٹھتے ہیں، آگ سے چولہے جلتے ہیں، سورج سے کرنیں برستی ہیں۔ ایسے ہی اور بیشمار واسطے ہیں جن سے انسان کو نوازا جارہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان واسطوں کا پیدا کرنے والا کون ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے وجود سے لے کر اپنی بقا تک اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے حصار میں ہے۔ اس کی ربوبیت اگر اپنا رخ بدل لے تو یہ ایک لمحہ کے لیے بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ جو شخص بھی دیانت داری سے اس پوری صورتحال پر غور کرے گا اس کے سامنے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو محسن حقیقی سمجھے اور بےساختہ اس کے لبوں پر اس کی تعریف، مدح و ثنا کے ترانے گونجنے لگیں اور اس کا دل اس کے لیے جذبہ شکر سے معمور ہوجائے جس نے اسے یہ سب کچھ عطا کیا ہے۔ اور پھر اس کی رحمتوں اور برکتوں اور فیض رسانیوں کا اختتام موت کی دیواروں پر نہیں ہوجاتا، نہ دنیا کے خاتمے پر ہوگا، بلکہ آخرت میں بھی انسان کو جو کچھ ملنے والا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا اور اس کی دین ہے۔ اس لیے آخرت میں بھی تعریف اور شکر کا سزاوار اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں۔
حکیم وخبیر سے مراد کیا ہے ؟
آخر میں حکیم اور خبیر دو صفات کا ذکر فرما کر اشارہ فرمایا گیا ہے کہ وہ حکیم ہے کہ اس کا ہر کام کمال درجہ حکمت و دانائی پر مبنی ہے۔ اس کی حکمت کا یہ ادنیٰ تقاضا ہے کہ وہ کوئی کام عبث نہیں کرتا۔ اس کے ہر کام کے آگے اور پیچھے کوئی مقصد کارفرما ہوتا ہے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس نے انسانوں کو اپنے بیشمار اور بےپناہ احسانات سے گراں بار کیا ہو لیکن اس کی زندگی کا کوئی مقصد نہ رکھا ہو۔ اور اس سے بھی زیادہ ناقابلِ قبول بات یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو اس بات کی اجازت دی ہو کہ وہ شتر بےمہار بن کر زندگی گزاریں اور خودرو پودوں کی طرح بےمقصد زندگی گزار کر ختم ہوجائیں۔ اس کی حکمت کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ انسانی زندگی کے مقصد کے حوالے سے ایک ایسا دن لائے جس میں وہ انسان سے بازپرس کرے کہ تم نے مقصد کے مطابق زندگی گزاری یا مقصد کے خلاف، پھر اپنے وفادار بندوں کو انعامات سے نوازے اور نافرمانوں کو سزا دے۔ فرمانبرداروں، وفاشعاروں اور قربانیاں دینے والوں کو صلہ دینا اور ایسے انعامات سے نوازنا اور ایسی ابدی زندگی سے ہمکنار کرنا جس کا کبھی انسان تصور بھی نہ کرسکے، یہ بجائے خود ایسا احسان ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ کی حمد لازم ہے۔ اس لیے فرمایا کہ وہ خبیر بھی ہے۔ یعنی کسی کو یہ خیال نہ ہو کہ وہ اگر جزا و سزا کا دن لائے گا تو اسے کیا خبر کہ انسانوں نے کیسی زندگی گزاری اور مرنے کے بعد انسانی جسم کہاں ہے۔ تمام انسانوں کو زندہ کرکے محشر میں جمع کرنا اور ان کے تمام اعمال کے بارے میں پرسش کرنا، یہ اس دن کا لازمی تقاضا ہے اور یہ وہی کرسکتا ہے جو کامل آگاہی سے متصف ہو اور جو ایک ایک ذرہ اور ایک ایک حرکت سے باخبر ہو۔
Ayah 34:2یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْھَا وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْھَاط وَھُوَالرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ ۔ (السباء : 2)
(وہ جانتا ہے ہر اس چیز کو جو زمین میں داخل ہوتی ہے، اور ہر اس چیز کو جو اس سے نکلتی ہے، اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے، اور وہ رحم فرمانے والا اور بخشنے والا ہے۔ )
صفتِ خبیر کی وضاحت
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت خبیر بیان فرمائی ہے۔ پیش نظر آیت میں اسی کی مزید وضاحت ہے۔ اور اس وضاحت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی وسعتوں اور اس کے محیط کلی ہونے کو بیان فرمایا ہے۔ کیونکہ جہاں تک علم کا تعلق ہے مخلوقات میں بھی انسانوں کو باقی تمام مخلوقات کی نسبت متنوع علوم سے بہرہ ور فرمایا گیا ہے، لیکن انسان کا علم اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود محدود اور نارسا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا علم صرف وسیع ہی نہیں بلکہ کائنات کے ایک ایک ذرے اور ایک ایک حرکت و سکون کو محیط ہے۔ یوں تو اللہ تعالیٰ کی کائنات کے اور چھور کا اندازہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ اور آسمانی کتابوں کا اسلوب یہ ہے کہ وہ اس زبان میں نازل ہوئی ہیں جو انسان کے فہم و ادراک میں آسکتی ہے۔ اور ان میں بیشتر چیزیں انسانی دسترس اور فہم و ادراک سے ماورا نہیں۔ بنا بریں ارض و سماء انسانی معلومات کی حدود ہیں۔ اور اس سے باہر جو کچھ ہے وہ انسان کے لیے غیب ہے۔ بلکہ ان دونوں کے اندر بھی بہت سے ایسے حقائق اور بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو انسانی دسترس سے باہر ہیں۔ لیکن ارض و سماء کو فی الجملہ انسان اپنے علم کا حوالہ سمجھتا ہے اس لیے تقریبِ فہم کے لیے فرمایا کہ جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے یعنی جو دانہ زمین میں ڈالا جاتا ہے وہ اس سے بھی باخبر ہے اور جو پودا اس سے برآمد ہوتا ہے وہ اسے بھی جانتا ہے۔ اسی طرح آسمان سے ہر اترنے والی چیز سے وہ آگاہ ہے۔ اور جو چیزیں اس کی طرف صعود کرتی ہیں وہ اس سے بھی بیخبر نہیں۔ غرضیکہ وہ کائنات کے تمام کلیات و جزئیات سے باخبر اور ہر چیز کی نگرانی کررہا ہے۔ جو پتہ زمین پر گرتا ہے وہ اس کے علم میں ہے۔ ہر رطب و یابس اس کی نگاہوں میں ہے۔ کائنات میں کوئی واقعہ اس کے اذن کے بغیر نہیں ہوتا۔ اور کسی قسم کی نقل و حرکت یا دراندازی اس کے علم سے باہر نہیں ہوتی۔ سوال یہ ہے کہ جس ذات عظیم کا علم ایسا غیرمحدود اور بےپناہ ہے اس کے بارے میں مشرکین کا یہ خیال کہ وہ کائنات کے گوشے گوشے اور انسان کے ہر قول و عمل سے کیسے باخبر ہوسکتا ہے۔ وہ انسانی ضروریات سے کیسے واقف ہوسکتا ہے۔ انسانی دکھوں اور محرومیوں کا اندازہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ انسان اپنی ضروریات، اپنی احتیاجات اور اپنے دکھوں کے حوالے سے اسے پکارنا چاہتا ہے۔ اسی غلط تصور سے ان کے یہاں دیویوں اور دیوتائوں کے تصورات پیدا ہوئے۔ غلط عقیدہ شفاعت نے اپنی راہ بنائی۔ بندے اور خدا کے درمیان وسائط ایجاد کیے گئے۔ جنوں اور فرشتوں کے بارے میں اہل عرب نے اپنے عقیدے گھڑے اور ان پر اپنے مذہب کی بنیاد رکھی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے تمام توہمات اور مزعومات پر ضرب لگاتے ہوئے اپنے بےپناہ اور غیرمحدود علم کو واضح فرمایا۔ اور یہ بات انسانی عقل پر چھوڑ دی کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ لامحدود علم کی حامل ذات کی موجودگی میں محدود علم رکھنے والی مخلوقات کو وسیلہ اور واسطہ بنایا جاسکتا ہے اور یا اس کی کہیں ضرورت محسوس ہوتی ہے ؟
ایک غلط فہمی کا ازالہ
آیت کے آخر میں پروردگار نے اپنی دو صفات کا ذکر فرمایا۔ اس سے بھی انسان کی ایک بہت بڑی غلط فہمی کا ازالہ مقصود ہے۔ وہ یہ ہے کہ جس طرح انسان نے اللہ تعالیٰ کے علم و معرفت کے بارے میں غلط تصور قائم کرکے غلط عقیدے پیدا کیے اور شرک کی دلدل میں جا اترا۔ اسی طرح اس نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ تصور قائم کرلیا کہ وہ نہایت قہروغضب رکھنے والی ذات ہے۔ جب اس کا غضب بھڑکتا ہے تو آندھیاں آتیں، زلزلے آتے اور وبائیں پھوٹتی ہیں۔ تو اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے لوگوں نے قربانی کے عجیب و غریب تصورات پیدا کیے۔ اور بعض لوگوں نے اس سے آگے قدم بڑھاتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا کہ ایسی غیظ و غضب رکھنے والی ذات اگر ہمہ مقتدر ہوتی اور کائنات کا ہر گوشہ اس کی دسترس میں ہوتا تو کیسے ممکن تھا کہ اس کے باغی و طاغی اس کے غضب سے محفوظ رہتے، اور کبھی ان کی گرفت نہ ہوتی۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دنیا اندھیر نگری اور اللہ تعالیٰ اس کا چوپٹ راجہ ہے۔ ان دونوں باتوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ رحیم ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے اس کا پہلا تعارف ہی سورة الفاتحہ میں اس کی صفت ربوبیت کے بعد رحمن اور رحیم سے کروایا ہے۔ انسان اس کے غیظ و غضب کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اپنی بداعمالیوں کے انجام سے دوچار ہوتا ہے۔ اور مزید یہ کہ وہ غفور بھی ہے۔ ہر گناہ اور ہر خطا پر پکڑنا اس کا کام نہیں، بلکہ وہ مہلت پر مہلت دے کر سنبھلنے کا موقع دیتا ہے۔ اور جب اس کی راہ پر کوئی آجائے تو عفو و درگزر سے کام لیتا ہے۔ وہ قادر مطلق ہونے کے باوجود نافرمانیوں پر بھی کسی کی روزی بند نہیں کرتا۔ البتہ وہ عادل ہے۔ یہاں بھی عدل کرتا ہے اور آخرت میں بھی کرے گا۔
Ayahs 34:3–4وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لاَ تَاْتِیْنَا السَّاعَۃُ ط قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّـکُمْ لا عٰلِمِ الْغَیْبِ ج لاَ یَعْزُبُ عَنْہُ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلاَ فِی الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْبَرُ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ۔ لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ط اُوْلٰٓئِکَ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ۔ (السباء : 3، 4)
(اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی، کہہ دیجیے، ہاں قسم ہے میرے عالم الغیب پروردگار کی، وہ تم پر ضرور آکے رہے گی، اس سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں ہے، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، نہ اس ذرے سے کوئی چھوٹی چیز اور نہ کوئی بڑی، مگر وہ ایک واضح کتاب میں ہے۔ تاکہ وہ ان لوگوں کو صلہ دے جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے، وہی لوگ ہیں جن کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم۔ )
قیامت صفاتِ خداوندی کا لازمی تقاضا ہے
گزشتہ آیات میں یہ بات واضح ہوچکی کہ اللہ تعالیٰ علیم وخبیر ہے۔ اور اس کا علم غیرمحدود، ہمارے حدِادراک سے ماورا اور ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہ انسانوں کے ایک ایک عمل سے واقف ہے۔ اور ان کے جسم کے ایک ایک جزو اور ان کی آرام گاہوں تک کو جانتا ہے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ اور جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے بیکراں علم کا مراقبہ کرے اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ وہ اس کا اعتراف کرے۔ باایں ہمہ ان برخودغلط لوگوں اور قریش کے متکبروں کا حال یہ ہے کہ وہ نہایت سرکشی اور تمرد سے یہ کہتے ہیں کہ قیامت ہم پر کبھی نہیں آئے گی۔ کیونکہ ہم پیغمبر کی تکذیب کرچکے، ایذا رسانی میں ہم نے کوئی کمی نہیں چھوڑی، پیغمبر کی ہر بات کا تمسخر اڑایا۔ لیکن قیامت کو نہ آنا تھا اور نہ آئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت محض ایک ڈراوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں نہایت وقار اور زور کے ساتھ آنحضرت ﷺ سے بقید قسم جواب دلوایا گیا کہ ان ظالموں کو انہی کی زبان میں جواب دو کہ میرے رب کی قسم جو غیب کا جاننے والا ہے اور جو بےپناہ قدرتوں کا مالک ہے اور جس کے علم سے زمین و آسمان کا کوئی ذرہ مخفی نہیں اور جس کی کتاب مبین میں ہر چیز مرقوم ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ تمہیں یہ خیال ہے کہ مر کر فنا ہوجانے والے لوگ ازسرنو کیسے زندہ ہوں گے۔ ان کے اعمال کا ذخیرہ کہاں سے دستیاب ہوگا۔ لیکن تمہیں اطمینان رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کے سامنے یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر کام کے کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس لیے نہ قیامت کا وقوع اس کے لیے مشکل ہے اور نہ تمہارے اعمال کی جواب طلبی کوئی لاینحل سوال ہے۔
قیامت کی ضرورت
دوسری آیت کریمہ میں قیامت کی ضرورت واضح فرمائی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا میں عقل و شعور، قوت ارادی اور وحی الٰہی کی روشنی کی وجہ سے دو طرح کے انسان پائے جاتے ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارتے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرتے اور ہمیشہ اس کی بندگی کو طرزعمل بناتے ہیں۔ اور دوسری قسم ان انسانوں کی ہے کہ جو نفسانیت کے پرستار، خواہشِ نفس کے اسیر اور سفلی جذبات پر جان دینے والے ہیں۔ یہ خیر و شر کے امتیاز سے ماورا اور اخلاقِ حسنہ اور اخلاقِ سیئہ کے تصور سے بےنیاز اور بندگی کے تصور سے نابلد زندگی گزارتے ہیں۔ اب اگر کوئی ایسا دن نہ آئے جس میں اچھے لوگوں کو صلہ دیا جائے اور برے لوگوں کو سزا ملے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نیک و بد دونوں یکساں ہیں۔ حالانکہ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر یہ بات ازبس ضروری ہے کہ ایک روزجزا آئے جس میں اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کا ظہور ہو اور انسانوں کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے جس کے وہ مستحق ہوں۔
اہلِ ایمان کو دو چیزوں کی بشارت
اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو دو چیزوں کی بشارت دی گئی ہے۔ ایک تو یہ کہ ان کی مغفرت کردی جائے گی اور دوسرا یہ کہ انھیں رزق کریم عطا کیا جائے گا۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ صاحب ایمان و عمل اپنے مقام اور معیار کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ بھی ان کے مقام و مرتبے کے مطابق ان سے سلوک کرے گا۔ جو لوگ نے ایمان اور عمل صالح کی زندگی بسر کرتے ہوئے کبھی کوتاہیوں اور غلطیوں سے بھی دوچار ہوئے، انھیں اللہ تعالیٰ مغفرت سے نوازے گا اور غلطیوں سے درگزر فرمائے گا۔ لیکن جن لوگوں نے اپنے آپ کو ان غلطیوں سے محفوظ رکھا اور اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے بڑھ چڑھ کر خدمات انجام دیں، انھیں اللہ تعالیٰ رزقِ کریم سے نوازے گا۔
Ayah 34:5وَالَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْٓ اٰیٰـتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُوْلٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۔ (السباء : 5)
(اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کی کوشش کی یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب کا خاص حصہ ہوگا۔ )
مُعٰجِزِیْنَ ، مُعَاجَزَۃٌ اس کا مصد رہے۔ اس کا معنی ہے ایک دوسرے کو شکست دینے کے لیے باہم مسابقت کرنا۔
رِجْزٌ، عذاب کو بھی کہتے ہیں اور دردناک عذاب کو بھی۔
بدترین مخالفین کا انجام
جس طرح ایمان و عمل کے ساتھ ساتھ غلبہ دین کا کام کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں تکلیفیں اٹھانے والوں کو مغفرت کے ساتھ ساتھ رزق کریم سے بھی نوازا جائے گا، اسی طرح جن لوگوں نے صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے کفر ہی نہیں کیا بلکہ ان کی تگ و دو ، شب و روز اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی باتوں کو شکست دینے کے لیے وقف رہی ہے، انھیں اللہ تعالیٰ عذاب ہی نہیں بلکہ دردناک عذاب دے گا۔
Ayah 34:6وَیَرَی الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ھُوَالْحَقَّ لا وَیَھْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِالْحَمِیْدِ ۔ (السباء : 6)
(اور جانتے ہیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا، وہ چیز جو آپ کے رب کی طرف سے آپ کی طرف اتاری گئی ہے وہ حق ہے، اور خدائے عزیزوحمید کے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ معاندین اور متمردین آپ کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے جو کچھ کررہے ہیں وہ یقینا آپ کے لیے پریشان کن ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کبھی آپ کی مساعیِ جمیلہ کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مخالفین کا غوغا اپنی جگہ، لیکن جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے علم حقیقی کی روشنی عطا فرمائی ہے وہ ان اہل کتاب میں سے ہوں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ترمیم و تحریف سے نہ صرف گریز کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔ یا ایسے لوگوں میں سے ہوں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے فطرتِ سلیمہ سے بڑا حصہ پایا تھا۔ ایسے تمام لوگ نہ صرف آپ کی دعوت کو سچ اور حق سمجھتے ہیں بلکہ جس راستے کی طرف آپ بلاتے ہیں اسے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رسائی کا حقیقی راستہ سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے تمام لوگ کہیں غلط عقیدہ شفاعت میں مبتلا ہو کر اور کہیں عقل و خرد کے پیمانوں میں الجھ کر شرک اور باطل کی مختلف صورتوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ اور ان کے اسی رویّے اور طرزعمل نے ان کو فطرتِ سلیمہ اور ذوق سلیم سے محروم کردیا ہے جو انسان کے اندر خیر و شر کے امتیاز کو باقی رکھتا ہے۔ ایسے برخود غلط قسم کے لوگ اگر آپ کی مخالفت کررہے ہیں تو آپ کو ان کی ہرگز پروا نہیں ہونی چاہیے۔ آپ کے اطمینان کے لیے بس یہ بات کافی ہے کہ ہر سلیم الفطرت اور ذوق سلیم رکھنے والا شخص آپ کی دعوت اور آپ کے لائے ہوئے پیغام کو برحق سمجھتا ہے۔
Ayahs 34:7–8وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ھَلْ نَدُلُّـکُمْ عَلٰی رَجُلٍ یُّنَبِّئُکُمْ اِذَا مُزِّقْـتُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ لا اِنَّـکُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ۔ اَفْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَمْ بِہٖ جِنَّـۃٌ ط بَلِ الَّذِیْنَ
لاَ یُؤمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ فِی الْعَذَابِ وَالضَّلٰـلِ الْبَعِیْدِ ۔ (السباء : 7، 8)
(اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے کہ کیا ہم تم کو ایک ایسا آدمی دکھائیں جو تمہیں خبر دیتا ہے کہ جب تم ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کیے جاؤ گے۔ کیا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا اسے کسی قسم کا جنون لاحق ہے بلکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، عذاب میں اور دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ )
آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں کفار کا غیرشریفانہ رویہ
مخالفین ہدایت اور علم سے تو محروم ہی ہیں، شرافت سے بھی کورے ہیں۔ انھوں نے نبی کریم ﷺ پر افترائے باطل کا الزام لگایا، تو کسی نے سن کر نہ دیا۔ کذب بیانی کی بات کی، تو لوگوں نے اظہارِ تعجب کیا کہ جس شخص کو تم خود الصادق اور الامین کہہ کر پکارتے رہے ہو، اور جس نے کبھی کسی بات میں جھوٹ نہ بولا، کیا اب وہ جھوٹا ہوگیا۔ تو شرافت سے سر جھکانے کی بجائے انھوں نے ایک اور راستہ نکالا کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس پر جنون کا اثر ہے یا کسی آسیب نے اسے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ لیکن لوگوں نے اس الزام کو بھی قبول کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ محمد ﷺ اپنی معاملہ فہمی، تدبر اور عقل و خرد کے اعتبار سے بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اب وہ آخر کیسے فاترالعقل ہوسکتے ہیں۔ اس پر مخالفین نے پینترہ بدلتے ہوئے کہا کہ یقینا یہ باتیں محمد ﷺ میں دعویٰ نبوت سے پہلے نہ تھیں۔ لیکن اب اس کا حال یہ ہے کہ وہ عجیب طرح کے دعوے کرتا ہے۔ وہ علیٰ رؤوس الاشہاد یہ بات کہتا ہے کہ لوگ جب مر کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو وہ زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ تم ہی بتائو کہ کیا یہ بات قابل تسلیم ہے۔ لیکن وہ چونکہ تسلسل کے ساتھ یہ بات کہہ رہا ہے، تو یہ دو حال سے خالی نہیں کہ یا تو وہ جھوٹ بولتا ہے اور ایک غلط بات کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کررہا ہے۔ اور یا پھر اسے کسی قسم کا جنون لاحق ہوگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مفتری بھی ہے مجنون بھی۔ پروردگار نے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ خرابی درحقیقت نہ داعی میں ہے اور نہ اس کی دعوت میں، بلکہ خرابی ان لوگوں میں ہے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سزا اور عذاب میں پکڑے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے ایک ایسی بات کو قبول کرنے سے محروم ہوگئے ہیں جس پر دلائلِ آفاق، دلائلِ انفس اور اخلاقی مقتضیات صاف صاف دلالت کررہے ہیں۔ اور کوئی سلیم الفطرت شخص اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ ایسی دور کی گمراہی میں جا پڑے ہیں جس سے پلٹنے کا کوئی امکان نہیں۔ یعنی بعض گمراہیاں ایسی ہوتی ہیں جس میں پلٹ کر آنے اور اصلاح کا امکان باقی رہتا ہے۔ لیکن جو شخص آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوجاتا ہے اس کی واپسی کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ سرپٹ جہنم کی طرف بھاگے چلے جارہے ہیں۔
Ayah 34:9اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ ط اِنْ نَّشَاْنَخْسِفْ بِھِمُ الْاَرْضَ اَوْنُسْقِطْ عَلَیْہِمْ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآئِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّـکُلِّ عَبْدٍمُّنِیْبٍ ۔ (السباء : 9)
(کیا انھوں نے اپنے آگے اور پیچھے آسمان اور زمین کو نہیں دیکھا، اگر ہم چاہیں تو ان کے سمیت زمین کو دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں، بیشک اس میں ایک بہت بڑی نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ )
مخالفین کی مخالفت کا اصل سبب
اسلام کے مخالفین اور معاندین کی تمام ترمخالفت اور عناد کے اصل سبب کو اس آیت کریمہ میں منکشف فرمایا گیا ہے۔ وہ سبب یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قدرت اور اس کے علم محیط پر یقین نہیں رکھتے۔ اگر انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے، کوئی چھوٹا بڑا کام اس کے لیے ناممکن نہیں تو یہ کبھی قیامت کے برپا ہونے اور انسانوں کے ازسرنو زندہ ہونے کو بعید ازعقل نہ سمجھتے۔ اسی طرح اگر انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز، ہر عمل اور ہر حرکت کا علم رکھتا ہے۔ کائنات کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق اور ہر رطب و یابس اس کے علم میں ہے، تو انھیں کبھی یہ بات بعیدازعقل معلوم نہ ہوتی کہ نہ جانے کتنی بڑی تعداد میں انسان مرکھپ چکے اور ان کے جسم فنا ہو کر معدوم ہوچکے ہیں۔ یہ کیسے جانا جاسکتا ہے کہ جن کی مٹی کو بھی ہوا اڑا کے لے گئی ان کے جسم کے ذرات کہاں ہیں۔ اسی طرح ان کے بیشمار اعمال کو کون جان سکتا ہے جن کے محاسبے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ چناچہ انھیں دونوں باتوں کے اثبات کے لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کیا یہ لوگ اس آسمان کو نہیں دیکھتے جو ان کے سروں پر شامیانے کی طرح تنا ہوا ہے اور اس زمین پر غور نہیں کرتے جو ان کے قدموں کے نیچے فرش کی طرح بچھی ہوئی ہے۔ کیا انھوں نے کبھی غور کیا ہے کہ زمین و آسمان کو کس نے تھام رکھا ہے۔ اور زمین کو قوت روئیدگی اور بیشمار خزانوں سے کس نے مالا مال کر رکھا ہے۔ اور انسان جو ان کی بیشمار نعمتوں اور فوائد و برکات سے متمتع ہورہا ہے یہ آخر کس کی عطا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کو انسانوں کی بھلائی پیش نظر نہ ہوتی یا زمین پر ان کا قرار منظور نہ ہوتا تو وہ کسی وقت بھی زمین کی مخلوقات کو زمین سمیت دھنسا سکتا تھا اور آسمان سے ابررحمت برسانے کی بجائے ان پر پتھر برسا سکتا تھا۔ لیکن اس کے برعکس اس کے حکم سے زمین و آسمان انسان کی نفع رسانی اور خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ کیا اس سے اللہ تعالیٰ کی بےکراں قدرت اور اللہ تعالیٰ کے بےپایاں علم کا اندازہ نہیں ہوتا۔ یہ حقیقت اس بات کو لازم کرتی ہے کہ انسان اپنے رب کی شکرگزاری کرے اور اس کی نعمتوں کی ناشکری اور اس کے احکام کی نافرمانی کی بجائے اس کی خوشنودی اور فرماں برداری میں شب و روز لگا رہے۔
اگر یہ مخالفین ارض و سماء کے اس پہلو پر غور کرتے تو وہ یقینا اس حقیقت کو پالیتے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ انسان کے اندر حقیقت کی طلب، عبرت پذیری کی صلاحیت اور متوجہ ہونے والا دل موجود ہو۔ اسی لیے اقبال نے کہا :
دل کا نور کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور، دل کا نور نہیں
Ayahs 34:10–11وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَمِنَّا فَضْلاً ط یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ ج وَاَلَـنَّا لَـہُ الْحَدِیْد۔ َ اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّقَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ط اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (السباء : 10، 11)
(ہم نے دائود کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا، (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو ! تم بھی اس کے ساتھ تسبیح میں شرکت کرو، اور یہی حکم ہم نے پرندوں کو بھی دیا، اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کردیا۔ اس ہدایت کے ساتھ کہ ڈھیلی ڈھالی زرہیں بنائو اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے پر رکھو، اور (اے آل دائود ! ) نیک عمل کرو، بیشک تم جو کچھ کرتے ہو میں اس کو دیکھ رہا ہوں۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح : تاویب کے اصل معنی ترجیع کے ہیں۔ یعنی کسی کے سُر میں اپنا سُر ملانا، اس کی آواز کو دہرانا، اس کی ہم آہنگی اور ہمنوائی کرنا۔
سابغات : ڈھیلے ڈھالے لباس کو بھی کہتے ہیں اور کشادہ کو بھی۔
سَرد حلقے کو بھی کہتے ہیں اور بناوٹ کو بھی۔
تقدیر، اندازہ اور بناوٹ میں تناسب کو ملحوظ رکھنا۔
اشرافِ قریش کے سامنے حضرت دائود (علیہ السلام) کی مثال
یہاں سے قریش کے مترفین و متکبرین کے سامنے دو مثالیں پیش کی جارہی ہیں جن میں پہلی مثال حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کی ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی عنایات سے نوازا تھا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بیت اللحم میں قبیلہ یہوداہ کے ایک معمولی نوجوان تھے۔ حضرت طالوت اور جالوت کے درمیان جنگ میں شریک اپنے بھائی کو کھانا پہنچانے کے لیے آئے تو دیکھا کہ جالوت مسلمانوں کو مقابلے کے لیے پکار رہا ہے لیکن اس کے ڈیل ڈول اور بہادری کی شہرت کی وجہ سے کوئی اس کے مقابلے میں جانے کے لیے آمادہ نہیں۔ انھیں یہ منظر دیکھ کر بڑا طیش آیا اور حضرت طالوت سے کہنے لگے کہ میں فلستیوں کے اس جرنیل کے مقابلے میں نکلنے کے لیے تیار ہوں۔ طالوت نے پہلے انھیں صرف ایک نوجوان گڈریے کی صورت میں دیکھ کر اجازت دینے میں تأمل کیا۔ لیکن ان کے اصرار پر اجازت دے دی۔ تو انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں اپنے گوپئے سے اس پر ایسا پتھر پھینکا کہ جو اس کی پیشانی پر لگا اور وہ ڈھیر ہوگیا اور آپ نے آگے بڑھ کر اس کا سر قلم کردیا۔ اس غیرمعمولی شجاعت کی وجہ سے وہ بنی اسرائیل کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔ اسی واقعہ سے ان کا عروج شروع ہوا۔ یہاں تک کہ حضرت طالوت نے ان کو اپنی دامادی میں لے لیا اور ان کی وفات کے بعد پہلے وہ حبرون (موجودہ الخلیل) میں یہودیہ کے فرماں روا بنائے گئے۔ پھر چند سال بعد تمام قبائل بنی اسرائیل نے مل کر ان کو اپنا بادشاہ منتخب کرلیا۔ اور انھوں نے یروشلم کو فتح کرکے اسے دولت اسرائیل کا پایہ تخت بنایا۔ یہ انہی کی قیادت تھی جس کی بدولت تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسی خدا پرست سلطنت وجود میں آئی جس کی حدود خلیجِ عقبہ سے دریائے فرات کے مغربی کناروں تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس سے بھی بڑی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم بادشاہی کے ساتھ ساتھ عظیم علم و حکمت، نبوت و ررسالت اور آسمان و زمین کی بیشمار نعمتوں سے نوازا۔ لیکن وہ ان نعمتوں کو پا کر طغیان و فساد میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ اپنے رب کے شکرگزار اور فرماں بردار رہے۔ اسی شکرگزاری اور فرماں برداری کی برکت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں بےپایاں اضافہ ہوتا رہا۔ انھیں میں سے ایک نعمت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ سوز و گداز عطا فرمایا کہ جب وہ پہاڑوں کے دامن میں بیٹھ کر اپنے خاص لاہوتی لحن میں اپنے رب کی حمد کا ترانہ چھیڑتے اور اپنی منظوم مناجاتیں پڑھتے تو شجروحجر اور چرند پرند سب جھوم اٹھتے اور ان کی ہمنوائی کرتے۔
جبال و طیور کی ہم نوائی کا مفہوم
بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) چونکہ نہایت خوش الحان تھے۔ آپ کی نہایت سریلی اور بلند آواز میں بلا کی تأثیر تھی۔ اس لیے جیسے ہی آپ زبور کی تلاوت کرتے جو منظوم تھی تو پہاڑ آپ کے ساتھ گونجنے لگتے۔ اور پرندے بھی مسحور ہو کر آپ کے گرد اترنے لگتے۔ پیش نظر آیت میں پرندوں اور پہاڑوں کو آپ کی ہم آہنگی اور تسبیح میں شرکت کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اور سورة انبیاء میں پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کرنے کی جو بات کہی گئی ہے اس کا یہی مفہوم ہے۔ اس مفہوم کے مراد لینے میں حرج تو کوئی نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس میں پھر حضرت دائود (علیہ السلام) کی کیا خصوصیت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانات اور آپ کے فضائل کا ذکر کرتے ہوئے بطورِخاص جس عمل کو تسخیر کا نام دیا ہے اور پھر مزید مؤکد اور مبرہن کرنے کے لیے اس کا انتساب اپنی طرف فرمایا ہے۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ جو تأثر اور کیفیت کسی دوسرے خوش آواز آدمی سے پیدا ہوسکتی ہے اور جو صرف اس کی خوبصورت آواز کی تأثیر کا نتیجہ ہوتی ہے وہی تأثیر لحن دائودی کی تھی۔ ہرگز ! نہیں یہ یقینا اس سے زائد منفرد اور ممتاز چیز تھی ورنہ پروردگار اس اہتمام سے اس کا ذکر نہ فرماتے۔
اور دوسری بات یہ کہ اگر تسبیح سے مراد صرف پہاڑوں کا گونجنا اور پرندوں کا اتر آنا ہے تو یہ بھی آپ کی کوئی خصوصیت نہیں۔ اس لیے کہ قرآن پاک ہی میں فرمایا گیا ہے : وَاِنْ مِّنْ شَیْ ئٍ اِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلَـکِنْ لَّا تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ ” ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس تسبیح سے وہی ناقابلِ فہم تسبیح مراد لی جائے جو اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق کرتی ہے تو پھر اس آیت کریمہ میں جس تسبیح کا ذکر کیا گیا ہے اس کی کیا خصوصیت باقی رہے گی۔ ان تمام باتوں سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) جب اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید میں مصروف ہوتے تو بالکل اسی آواز میں پہاڑ اور پرندے بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے تھے جن الفاظ میں حضرت دائود (علیہ السلام) کرتے تھے اور اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ انبیائے کرام کے معجزات اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے، کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
حضرت دائود (علیہ السلام) کی جامعیت
حضرت دائود (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے انتہائی عبادت گزار ہونے کے باوجود کسی خانقاہ میں بیٹھنے والے تجرد پسند صوفی نہ تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ریاست و حکومت کی ذمہ داریوں سے بھی گراں بار کیا تھا۔ جس طرح آپ عبادت گزاری میں بےمثال تھے اسی طرح آپ ملکی معاملات کو انجام دینے اور ملک کے دفاع کے لیے بھی ہمہ وقت چوکس رہتے تھے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ پر مزید یہ احسان کیا تھا کہ آپ کے لیے لوہے کو نرم کردیا تھا۔ اور ساتھ ہی یہ حکم دیا کہ آپ اس لوہے سے قمیض کی طرح ڈھیلی ڈھالی زرہ بنائیں۔ لیکن اس کی بناوٹ ایسی خوبصورت ہو کہ اس کی ہر کڑی دوسری کڑی کے ساتھ ایسی پیوست ہو اور ہر کڑی کا سائز دوسری کے ساتھ ایسا ہم آہنگ، ہم رنگ اور ہم وزن ہو کہ کہیں بھی تناسب شکست نہ ہونے پائے۔
لوہے سے ایسی زرہ بنا لینا جو دیکھنے کو ایسی لگے جیسے کپڑے کی بنی ہوئی قمیض ہے اور اس کی کڑیوں میں بھی حیرت انگیز تناسب پایا جائے۔ یہ اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) پر لوہے کے پگھلانے کی کسی اعلیٰ سائنس کا انکشاف فرما دیا ہو۔ اور اس بات کی تائید تاریخ کی اس شہادت سے بھی ہوتی ہے کہ ایسی زر ہوں کی ایجاد جس نے دفاعی اسلحے میں بیش قیمت اضافہ کیا وہ حضرت دائود (علیہ السلام) کا کارنامہ ہے۔ چناچہ اس ایجاد نے حضرت دائود (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کی دفاعی قوت میں بیش قیمت اضافہ کردیا۔ اور ان کے حریفوں کے مقابلے میں ان کی قوت بہت بڑھ گئی۔
قوت کا اخلاقی تقاضا
لوہے کو پگھلانے کی سائنس پر قابو پانے کے بعد چونکہ آپ کی فوجی قوت میں حیرت انگیز اضافہ ہوگیا اور آپ اپنے دور کے حوالے سے ناقابلِ تسخیر قوت بن گئے۔ قوت اور طاقت فطری طور پر اپنا اظہار چاہتی ہیں جس کے نتیجے میں عُجب، خودپسندی، تمرد اور ظلم پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن حضرت دائود (علیہ السلام) چونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے ان کی بعثت ان برائیوں کو ختم کرنے کے لیے تھی نہ کہ ان میں اضافہ کرنے کے لیے۔ اور ان کی قوت خیر اور بھلائی کی قوت تھی، ظلم کا ذریعہ نہ تھی۔ اس لیے آل دائود اور آپ کے ہموطنوں کو یہ ہدایت کی گئی کہ طاقت پا کر بہک نہ جانا اور اس کو زمین میں فساد کا ذریعہ نہ بنانا۔ بلکہ تمہیں خیر اور بھلائی کی قوت بن کے اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا سامان کرنا ہے۔ چناچہ اس مقصد کے لیے ازبس ضروری ہے کہ اس بات کو ذہنوں سے کبھی نہ نکلنے دو کہ تم جو کچھ کررہے ہو، اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہا ہے۔ یہی وہ محکم عقیدہ ہے جس سے دولت اور قوت کو قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔ اور اسی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی زمین امن کا گہوارا بنتی ہے۔ اور زمین پر بسنے والوں کو امن و آشتی کا سایہ نصیب ہوتا ہے۔
Ayah 34:12وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّھَا شَھْرٌوَّ رَوَاحُھَا شَھْرٌ ج وَاَسَلْنَا لَـہٗ عَیْنَ الْقِطْرِ ط وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِاِذْنِ رَبِّہٖ ط وَمَنْ یَّزِعْ مِنْھُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْـہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ ۔ (السباء : 12)
(اور سلیمان کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کردیا، صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک، اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک، اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا، اور جنات میں سے بھی اس کے لیے مسخر کردیے جو اس کے رب کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے، ان میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا، اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے۔ )
حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر انعامات میں سے پہلا انعام
حضرت دائود (علیہ السلام) پر انعامات کے ذکر کے بعد ان انعامات کا ذکر کیا جارہا ہے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر کیے گئے۔ ان پر پہلا انعام یہ ہوا کہ ہوا کو آپ کے تابع فرمان کردیا گیا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ سلیمان کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کردیا، صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک۔ اور سورة صٓمیں اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے حکم سے بسہولت تھی، جدھر وہ جانا چاہتا تھا۔ اور سورة انبیاء میں ارشاد فرمایا گیا اور ہم نے سلیمان کے لیے تندو تیز ہوا کو مسخر کردیا، جو اس کے حکم سے اس سرزمین کی طرف تھی جسے ہم نے برکت دی تھی۔ ان تینوں آیات کو گہری نظر سے پڑھنے سے جو تأثر ابھرتا ہے اس میں اگر ذہنی تحفظات کو دخل اندازی کا موقع نہ دیا جائے تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قابو میں دے دیا تھا۔ اور وہ آپ کے حکم کے مطابق اور خدمت بجا لاتی تھی۔ آپ کا ایک عظیم الشان تخت تھا۔ آپ اپنے وزراء اور امراء کو ساتھ لے کر تخت پر سوار ہوجاتے اور ہوا کو چلنے کا حکم دیتے۔ چناچہ تندوتیز ہوا اس بھاری بھرکم تخت کو زمین سے اٹھاتی اور اوپر جا کر ہوا کی رفتار نرم ہوجاتی۔ جس کی رفتار کا اندازہ یہ تھا کہ آپ جہاں اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے جانا چاہتے ہوا اس تخت کو لے کر چلتی۔ صبح کو آپ کا سفر ایک مہینے کی مسافت کا تھا اور شام کا سفر بھی اسی مسافت کا ہوتا۔ یعنی آپ سینکڑوں میل تک تخت پر سوار رہتے اور اندازاً یہ سفر اتنا ہوتا جتنا اونٹوں پر ایک مہینے میں طے ہوتا تھا۔ اور شام کو پھر اسی رفتار سے واپس اپنے مستقر پر تشریف لے آتے۔ رہی یہ بات کہ یہ ہوا آپ کے تجارتی بیڑوں کو آپ کے حکم سے کھینچے لیے پھرتی تھی، جس کے نتیجہ میں آپ کی بحری تجارت بہت دور تک پھیل گئی تھی کہ ایک طرف عصیون جابر سے ان کے تجارتی جہاز بحراحمر میں یمن اور دوسرے جنوبی اور مشرقی ممالک کی طرف جاتے تھے۔ اور دوسری طرف بحرروم کی بندرگاہوں سے ان کا بیڑہ مغربی ممالک کی طرف جایا کرتا تھا۔ اور آپ کے حکم سے جہازوں کے بادبان ہر طرح کی ہَوائوں میں کھلے رہتے۔ چونکہ ہوا آپ کے حکم کی پابند تھی اس لیے وہ ہمیشہ بادموافق بن کر اپنا فرض انجام دیتی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے انعام کے مظاہر ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے معجزے کو بادموافق کی کارکردگی تک محدود کردیا جائے بلکہ جس طرح ہَوائوں کا وہ فیضان جو آپ کے تجارتی اسفار میں معاون ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ کا انعام تھا۔ اسی طرح ہوا کا آپ کے تخت کو لے کر آپ کے حکم سے اڑنا وہ بھی اللہ تعالیٰ کا انعام اور کرم تھا۔ ان دونوں میں کہیں بھی تضاد نہیں۔
دوسرا انعام
حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے دوسرا انعام یہ کیا کہ آپ کے لیے پگھلے ہوئے تابنے کا چشمہ رواں کردیا۔ ” قطر “ تانبے یا پگھلے ہوئے تانبے کو کہتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ زمین سے ایک چشمہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے پھوٹ نکلا تھا جس میں سے پانی کی بجائے پگھلا ہوا تانبا بہتا تھا۔ لیکن بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اس آیت کی دوسری تعبیر بھی ممکن ہے۔ وہ یہ کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں تانبے کو پگھلانے اور اس سے طرح طرح کی چیزیں بنانے کا کام اتنے بڑے پیمانے پر کیا گیا، گویا وہاں تابنے کے چشمے بہہ رہے تھے۔ جدید تحقیق اور کھدائیوں کے نتیجے میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد کی جو تاریخ سامنے آئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں تانبے کی بڑی مقدار برآمد ہوئی۔ اور اس کو انھوں نے اپنی تمدنی اور تعمیری ترقیوں میں نہایت خوبی کے ساتھ استعمال کیا۔ اگلی آیت میں بڑی بڑی دیگوں اور لگنوں کا ذکر آرہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ چیزیں اسی کی بنتی تھیں۔ ہیکل کی تعمیر میں بھی جیسا کہ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس دھات کا بہت استعمال کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو غیرمعمولی طور پر نوازا گیا تھا۔
تیسرا انعام
تیسرا انعام حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر جو اللہ تعالیٰ نے کیا، وہ یہ تھا کہ جنات آپ کے لیے مسخر کردیے گئے تھے۔ قرآن کریم کی دیگر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات آگ کے بنے ہوئے وہ اجسامِ لطیفہ ہیں جو عقل و شعور رکھتے ہیں۔ اور انسان کی طرح احکامِ شریعت کے مکلف ہیں۔ اس مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تابع فرمان کردیا تھا۔ لیکن ان میں سے جو جنات آپ پر ایمان نہیں لائے انھیں قرآن کریم شیاطین کے نام سے یاد کرتا ہے۔ یعنی جنات کا لفظ تو مومن اور کافر دونوں پر بولا جاتا ہے لیکن غیر مومن اور غیرمسلم جنات کو شیاطین کہا گیا ہے۔ جو جنات مومن تھے وہ تو ایمان کی وجہ سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی اطاعت کو فرض سمجھتے تھے۔ اس لیے انھیں مسخر کرنے کی بات نہیں کی گئی۔ لیکن جو جنات آپ پر ایمان نہیں لائے انھیں بطور خاص آپ کی تسخیر میں دیا گیا۔ اور وہ اپنے تمام تر کفر اور سرکشی کے باوجود حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تابع فرمان بنائے گئے تھے۔ وہ ایمان نہ رکھتے ہوئے بھی آپ کی اطاعت کرنے کے پابند تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ان کی طاقت کے اعتبار سے ان سے ایسے کام لیتے تھے جنھیں انسان تنہا انجام نہیں دے سکتے تھے۔ وہ سمندروں میں غوطے لگاتے اور سمندری دولت مونگے اور موتی وغیرہ آپ کے لیے فراہم کرتے تھے۔ اور اگلی آیت میں محرابیں اور شاندار مکانات اور تصویریں اور پتھر کے بڑے بڑے پیالے جو حوض کی مانند ہوتے تیار کرتے تھے۔ ان کے علاوہ بھی ان سے نہ جانے اور کیا کیا کام لیے جاتے تھے۔ لیکن وہ اپنی ہر طرح کی سرکشی کے باوجود آپ کے حکم سے سرتابی کی مجال نہیں رکھتے تھے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں جکڑے ہوئے تھے۔
بعض لوگ جو مغرب زدگی کی وجہ سے قرآن کریم کی ہر اس بات کی تأویل کی کوشش کرتے ہیں جنھیں مغرب اپنی عقل پرستی کی وجہ سے قابل قبول نہیں سمجھتا۔ چناچہ ان باتوں میں جنات کا مسئلہ بھی ہے۔ قرآن کریم میں جہاں بھی جن کا ذکر آیا ہے وہ اس سے دیوہیکل اور طاقتور آدمی مراد لیتے ہیں بلکہ ہر دہقانی اور کوہستانی شخص ان کے نزدیک جن ہے۔ لیکن جو شخص بھی قرآن کریم کو دوسروں کی نگاہوں کی بجائے اپنی نگاہوں سے پڑھنے کی کوشش کرے گا وہ یقینا اس نتیجے پر پہنچے گا کہ جنات انسانوں کی طرح ایک الگ مخلوق ہیں جو اجسامِ کثیفہ نہیں رکھتے، اس لیے نظر نہیں آتے، لیکن انسانوں ہی کی طرح عقل و شعور رکھتے ہیں۔ سورة النمل میں صاف تصریح ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر جنوں، انسانوں اور پرندوں پر مشتمل تھا۔ اگر جن سے مراد انسان ہی ہوتے تو یہاں جنوں کا الگ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔