Ayah 34:13یَعْمَلُوْنَ لَـہٗ مَایَشَآئُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَتَمَاثِیْلَ وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَقُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ ط اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا ط وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ ۔ (السباء : 13)
(اور وہ اس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا تھا، اونچی عمارتیں، تصویریں، حوضوں کے مانند لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی دیگیں، اے آل دائود عمل کرو شکر کے طریقے پر اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہی ہیں۔ )
جنات کی خدمات
جنات کے مسخر کرنے سے عام طور پر جو تأثر ابھرتا ہے وہ پیشہ ور عاملوں یا کاہنوں کا ہے۔ اور ان خرافات کی طرف ذہن جاتا ہے جنھیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان سے جو کام لیے وہ سب تعمیری اور تمدنی کام تھے۔ ان کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فاسد اغراض کے لیے استعمال نہیں کیا۔ چناچہ جن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے محرابیں بناتے تھے۔ محراب سے مراد بڑی عمارت بھی ہوسکتی ہے اور عمارت کا سب سے نمایاں حصہ جسے عام طور پر محراب سے یاد کیا جاتا ہے وہ بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ آپ نے جنات سے تعمیری آرٹ کا کام بھی لیا۔ اور اس کا اظہار محراب پر ہی ہوسکتا ہے۔ اور آپ نے ہیکل کی طرح بڑی بڑی ایسی عمارتیں بھی بنوائیں جن کی تعمیر بظاہر انسانوں سے بہت مشکل تھی۔ اس لیے میرا ناقص گمان یہ ہے کہ محاریب سے محرابیں بھی مراد لی جاسکتی ہیں اور بڑی بڑی عمارتیں بھی۔ جبکہ لغوی اعتبار سے اس لفظ کا اطلاق دونوں پر ہوتا ہے۔
تماثیل کے مفہوم کی وضاحت
آپ نے جنات سے تماثیل بھی بنوائیں، یہ تمثال کی جمع ہے۔ تمثال کسی چیز کی مصور یا کندہ کی ہوئی چیز کی شبیہہ یا اس کے پیکر یا مجسمہ کو کہتے ہیں۔ یہ صورت بےجان چیزوں کی بھی ہوسکتی ہے اور جاندار چیزوں کی بھی۔ تورات کی کتاب سلاطین سے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان دونوں ہی قسموں کی تماثیل بنوائیں۔ لیکن یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر بنی اسرائیل کے اس گروہ کا اتہام ہے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے عداوت رکھتا تھا۔ اس لیے ان کی روایات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ ویسے بھی یہود نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ایک پیغمبر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک بالکل دنیادار بادشاہ کی حیثیت سے پیش کیا ہے اور ان کی سیرت ہر پہلو سے انھوں نے داغدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ جو شخص بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بطور ایک پیغمبر کے دیکھے گا اس کے لیے یہ بات باور کرنا ناممکن ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کوئی ایسا کام کرسکتے تھے جسے تورات نے حرام قرار دیا ہو جبکہ آپ تورات ہی کے پیروکار تھے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک بنی اسرائیل میں جتنے انبیاء بھی آئے ہیں، وہ سب تورات ہی کے پیرو تھے۔ اور تورات میں صراحت کے ساتھ ہمیں یہ حکم ملتا ہے کہ انسانی اور حیوانی تصویریں اور مجسمے قطعاً حرام ہیں۔ (خروج، 20: 2۔ 5 میں ہے)
” خداوند تیرا خدا جو تجھے زمین مصر سے، غلامی کے گھر سے، نکال لایا، میں ہوں۔ میرے حضور تیرے لیے دوسرا خدا نہ ہو وے، تو اپنے لیے کوئی مورت یا کسی چیز کی صورت یا اوپر آسمان پر یا نیچے زمین پر یا پانی میں، زمین کے نیچے سے مت بنا۔ تو ان کے آگے اپنے تئیں مت جھکا اور نہ ان کی عبادت کر، کیونکہ میں تیرا خدا غیور خدا ہوں۔ “
خروج باب 2 آیت 4 میں ہے ” تو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا، نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔ “
دیکھ لیجیے، اس میں نہایت واضح الفاظ میں صورت یا مورت بنانے کی ممانعت ہے۔ اس وجہ سے یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ پچھلی شریعتوں میں یہ چیزیں جائز تھیں، صرف اسلام میں حرام قرار دی گئی ہیں۔ یہ چیزیں پہلے بھی ناجائز تھیں۔ جن مفسرین نے بنی اسرائیل کی روایات پر اعتماد کرتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ تصویر بنانے کی ممانعت ہماری شریعت میں وارد ہوئی ہے، سابقہ شریعتوں میں اس کی اجازت تھی، انھوں نے تورات سے بیخبر ی کا ثبوت دیا ہے۔ اور دشمنوں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر جو الزام لگایا تھا اور جسے تورات کا حصہ بنادیا گیا ہے، بیخبر ی میں اس کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ تورات نے ہر صورت اور مورت بنانے کی ممانعت کی تھی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) ظاہر ہے کہ تورات کے حکم کی مخالفت نہیں کرسکتے تھے۔ لیکن حیرت ان جدید اور نام نہاد اہل علم پر ہے جو اہل مغرب کی تقلید میں مصوری اور بت تراشی کو حلال کرنا چاہتے ہیں، وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے طرزعمل سے بھی دلیل پکڑتے ہیں اور قرآن کریم کی اس آیت کے لفظ تماثیل کو اپنے لیے دلیل بناتے ہیں۔ جبکہ تماثیل کا لفظ انسانی اور حیوانی تصاویر کے معنی میں صریح نہیں ہے بلکہ اس کا اطلاق غیرجاندار اشیاء کی تصویروں پر بھی ہوتا ہے۔ اس لیے محض اس لفظ کے سہارے اس حکم کو توڑا نہیں جاسکتا جس کا ثبوت نہایت کثیرالتعداد، قوی الاسناد اور متواتر المعنی احادیث میں ملتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ذی روح اشیاء کی تصویریں بنانے اور رکھنے کو قطعی حرام قرار دیا ہے۔ ہم ان بیسیوں روایات میں سے چند ایک کا ذکر کرنا چاہتے ہیں تاکہ صحیح بات کو سمجھنا آسان ہوجائے۔
عن ابی جحیفۃ ان رسول اللہ ﷺ لعن المصور
(بخاری، کتاب البیوع، کتاب الطلاق و کتاب اللباس)
” ابوجحیفہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مصور پر لعنت فرمائی ہے۔ “
عن عبداللہ بن مسعود ؓ قال سمعت النبی ﷺ یقول ان اشدالناس عذاباً عنداللہ یوم القیامۃ المصورون (بخاری، کتاب اللباس، مسلم، کتاب اللباس، نسائی، کتاب الزینۃ، مسند احمد)
” عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے ہاں سخت ترین سزا پانے والے مصور ہوں گے۔ “
عن عائشۃ ؓ قالت دخل علی رسول اللہ ﷺ وانا متسترۃ بقرام فیہ صورۃ فتلوَّن وجہہ ثم تناول السفرنہت کہ ثم قال ان من اشدالناس عذابا یوم القیامۃ الذین یشبھون بخلق اللہ (مسلم، کتاب اللباس، بخاری، کتاب اللباس، نسائی کتاب الزینۃ)
” حضرت عائشہ ( رض) فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک پردہ لٹکا رکھا تھا جس میں تصویر تھی، آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ ﷺ نے اس پردے کو لے کر پھاڑ ڈالا اور فرمایا قیامت کے روز سخت ترین عذاب جن لوگوں کو دیا جائے گا ان میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی مانند، تخلیق کی کوشش کرتے ہیں۔ “
عن جابر قال نہیٰ رسول اللہ ﷺ عن الصورۃ فی البیت ونہیٰ ان یصنع ذلک (ترمذی ابواب اللباس)
” حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ گھر میں تصویر رکھی جائے اور اس سے بھی منع فرمایا کہ کوئی شخص تصویر بنائے۔ “
چناچہ ان ہی احادیث کی وجہ سے ہمارے فقہاء نے اسے قانونِ اسلامی کی ایک دفعہ قرار دیا ہے۔ علامہ بدرالدین عینی توضیح کے حوالہ سے لکھتے ہیں (ہمارے اصحاب یعنی فقہاء احناف اور دوسرے فقہاء کہتے ہیں کہ کسی جاندار چیز کی تصویر بنانا حرام ہی نہیں، سخت حرام اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے خواہ بنانے والے نے اسے کسی ایسے استعمال کے لیے بنایا ہو جس میں اس کی تذلیل ہو یا کسی دوسری غرض کے لیے، ہر حالت میں تصویرکشی حرام ہے کیونکہ اس میں اللہ کی تخلیق سے مشابہت ہے۔ اسی طرح تصویر خواہ کپڑے میں ہو یا فرش میں یا دینار یا درہم یا پیسے میں یا کسی برتن میں یا دیوار میں، بہرحال اس کا بنانا حرام ہے۔ البتہ جاندار کے سوا کسی چیز مثلاً درخت وغیرہ کی تصویر بنانا حرام نہیں ہے۔ ان تمام امور میں تصویر کے سایہ دار ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ )
اس تفصیل سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام میں تصاویر کی حرمت کوئی مختلف فیہ یا مشکوک مسئلہ نہیں ہے بلکہ نبی کریم ﷺ کے صریح ارشادات، صحابہ کرام کے عمل اور فقہاء اسلام کے متفقہ فتاویٰ کی رو سے ایک مسلم قانون ہے جسے آج بیرونی ثقافتوں سے متأثر لوگوں کی موشگافیاں بدل نہیں سکتیں۔
اس سلسلے میں چند اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں جن کی حیثیت غلط فہمیوں سے زیادہ نہیں۔ صاحب تفہیم القرآن اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں :
اعتراضات کا جواب
بعض لوگ فوٹو اور ہاتھ سے بنی ہوئی تصویر میں فرق کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ شریعت بجائے خود تصویر کو حرام کرتی ہے نہ کہ تصویر سازی کے کسی خاص طریقے کو۔ فوٹو اور دستی تصویر میں تصویر ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے۔ ان کے درمیان جو کچھ بھی فرق ہے وہ طریق تصویرسازی کے لحاظ سے ہے اور اس لحاظ سے شریعت نے احکام میں کوئی فرق نہیں کیا ہے۔
بعض لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ اسلام میں تصویر کی حرمت کا حکم محض شرک و بت پرستی کو روکنے کی خاطر دیا گیا تھا، اور اب اس کا کوئی خطرہ نہیں ہے لہٰذا یہ حکم باقی نہ رہنا چاہیے لیکن یہ استدلال بالکل غلط ہے۔ اول تو احادیث میں کہیں یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ تصاویر صرف شرک و بت پرستی کے خطرے سے بچانے کے لیے حرام کی گئی ہیں۔ دوسرے، یہ دعویٰ بھی بالکل بےبنیاد ہے کہ اب دنیا میں شرک و بت پرستی کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ آج خود برعظیم ہند و پاکستان میں کروڑوں بت پرست مشرکین موجود ہیں، دنیا کے مختلف خطوں میں طرح طرح سے شرک ہورہا ہے، عیسائی اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم اور اپنے متعدد اولیاء کی تصاویر اور مجسموں کو پوج رہے ہیں، حتیٰ کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی مخلوق پرستی کی آفتوں سے محفوظ نہیں ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ صرف وہ تصویریں ممنوع ہونی چاہئیں جو مشرکانہ نوعیت کی ہیں، یعنی ایسے اشخاص کی تصاویر اور مجسمے جن کو معبود بنا لیا گیا ہو، باقی دوسری تصویروں اور مجسموں کے حرام ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ لیکن اس طرح کی باتیں کرنے والے دراصل شارع کے احکام و ارشادات سے قانون اخذ کرنے کی بجائے آپ ہی اپنے شارع بن بیٹھتے ہیں۔ ان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ تصویر صرف ایک شرک و بت پرستی ہی کی موجب نہیں بنتی بلکہ دنیا میں دوسرے بہت سے فتنوں کی موجب بھی بنی ہے اور بن رہی ہے۔ تصویر ان بڑے ذرائع میں سے ایک ہے جن سے بادشاہوں، ڈکٹیٹروں اور سیاسی لیڈروں کی عظمت کا سکہ عوام الناس کے دماغوں پر بٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ تصویر کو دنیا میں شہوانیت پھیلانے کے لیے بھی بہت بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے اور آج یہ فتنہ ہر زمانے سے زیادہ عروج پر ہے۔ تصاویر قوموں میں نفرت اور عداوت کے بیج بونے، فساد ڈلوانے اور عام لوگوں کو طرح طرح سے گمراہ کرنے کے لیے بھی بکثرت استعمال کی جاتی رہی ہیں اور آج سب سے زیادہ استعمال کی جارہی ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا کہ شارع نے تصویر کی حرمت کا حکم صرف بت پرستی کے استیصال کی خاطر دیا ہے، اصلاً غلط ہے۔ شارع نے مطلقاً جاندار اشیاء کی تصویر کو روکا ہے۔ ہم اگر خود شارع نہیں بلکہ شارع کے متبع ہیں تو ہمیں علی الاطلاق اس سے رک جانا چاہیے۔ ہمارے لیے یہ کسی طرح جائز نہیں ہے کہ اپنی طرف سے کوئی علت حکم خود تجویز کرکے اس کے لحاظ سے بعض تصویروں کو حرام اور بعض کو حلال قرار دینے لگیں۔
بعض لوگ چند بظاہر بالکل ” بےضرر “ قسم کی تصاویر کی طرف اشارہ کرکے کہتے ہیں کہ آخر ان میں کیا خطرہ ہے، یہ تو شرک اور شہوانیت اور فساد انگیزی اور سیاسی پروپیگنڈے اور ایسے ہی دوسرے مفسدات سے قطعی پاک ہیں، پھر ان کے ممنوع ہونے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟ اس معاملہ میں لوگ پھر وہی غلطی کرتے ہیں کہ پہلے علت حکم خود تجویز کرلیتے ہیں اور اس کے بعد یہ سوال کرتے ہیں کہ جب فلاں چیز میں یہ علت نہیں پائی جاتی تو وہ کیوں ناجائز ہے۔ علاوہ ازیں یہ لوگ اسلامی شریعت کے اس قاعدے کو بھی نہیں سمجھتے کہ وہ حلال اور حرام کے درمیان ایسی دھندلی اور مبہم حد بندیاں قائم نہیں کرتی جن سے آدمی یہ فیصلہ نہ کرسکتا ہو کہ وہ کہاں تک جواز کی حد میں ہے اور کہاں اس حد کو پار کر گیا ہے بلکہ ایسا واضح خطِ امتیاز کھینچتی ہے جسے ہر شخص روز روشن کی طرح دیکھ سکتا ہو۔ تصاویر کے درمیان یہ حدبندی قطعی واضح ہے کہ جانداروں کی تصویریں حرام اور بےجان اشیاء کی تصویریں حلال ہیں۔ اس خطِ امتیاز میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے جسے احکام کی پیروی کرنی ہو وہ صاف صاف جان سکتا ہے کہ اس کے لیے کیا چیز جائز ہے اور کیا ناجائز۔ لیکن اگر جانداروں کی تصاویر میں سے بعض کو جائز اور بعض کو ناجائز ٹھہرایا جاتا تو دونوں قسم کی تصاویر کی کوئی بڑی سے بڑی فہرست بیان کردینے کے بعد بھی جواز و عدم جواز کی سرحد کبھی واضح نہ ہوسکتی اور بیشمار تصویروں کے بارے میں یہ اشتباہ باقی رہ جاتا کہ انھیں حدجواز کے اندر سمجھا جائے یا باہر۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے شراب کے بارے میں اسلام کا یہ حکم کہ اس سے قطعی اجتناب کیا جائے ایک صرف حد قائم کردیتا ہے لیکن اگر یہ کہا جاتا کہ اس کی اتنی مقدار استعمال کرنے سے پرہیز کیا جائے جس سے نشہ پیدا ہو تو حلال اور حرام کے درمیان کسی جگہ بھی حد فاصل قائم نہ کی جاسکتی اور کوئی شخص بھی فیصلہ نہ کرسکتا کہ کس حد تک وہ شراب پی سکتا ہے اور کہاں جا کر اسے رک جانا چاہیے۔
جِفَانٍ وَقُدُوْرٍ کا مفہوم
وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَقُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ … جِفَانٍ ، جَفْنَۃ کی جمع ہے، جس کے معنی لگن کے ہیں۔ اور جواب، جابیۃ کی جمع ہے، اس کے معنی حوض کے ہیں۔ قدور، قِدر کی جمع ہے، بڑی دیگوں کو کہتے ہیں۔ اور ہنڈیوں پر بھی بول دیتے ہیں۔ رٰسِیٰتٍویسے تو یہ لفظ پہاڑوں کی صفت کے لیے آتا ہے اور یہاں یہ بڑی بڑی دیگوں کے لیے استعمال ہوا ہے جو اتنی بھاری بھرکم ہوتیں کہ آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کی جاسکتی تھیں، ایک ہی جگہ چولہوں پر نصب رہتیں، اور بیک وقت منوں کے حساب سے ان میں کھانا پکتا۔
محاریب اور تماثیل سے تو یہ بتانا مقصود ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی ہونے کے ساتھ ساتھ شان و شکوہ اور ہیبت و جبروت کے حامل بادشاہ بھی تھے۔ انھوں نے تمدن کو بلند وبالا عمارتوں اور فنِ تعمیر سے آراستہ کیا تھا۔ لیکن ان میں سے ہر چیز کسی نہ کسی مقصد کو واضح کرنے والی تھی۔ بالخصوص اس بات کو کہ جس سرزمین پر اللہ تعالیٰ کا نام بلند ہوتا اور سر اس کے سامنے جھکتے ہیں وہ صرف جھونپڑوں کی بستی نہیں ہوتی بلکہ اس میں ہیبت کے اظہار کا سامان بھی ہوتا ہے۔
اور پھر بڑے بڑے لگن اور دیگوں کے ذکر سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جہاں اس مملکت میں ہیبت و فرمانروائی کی کارفرمائی دکھائی دیتی تھی وہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا جودوکرم اور دادودہش بھی نمایاں نظر آتا تھا، جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ آپ کا خوان کرم اس قدر وسیع تھا کہ کوئی غریب بھوکا نہیں رہ سکتا اور کسی مہمان کو یہ خیال نہیں ستا سکتا کہ مجھے کھانا کہاں سے ملے گا۔ یہ آپ کی فیاضی اور سخاوت کی ایسی تعبیر تھی جس کی اس دور کی تاریخ قدم قدم پر گواہی دیتی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے دور کو صرف سائنس، آرٹ اور دیگر علوم ہی نہیں دیے تھے بلکہ ملک میں ایسا ماحول پیدا کردیا تھا جس میں غرباء پروری کا نہایت وسیع اور فیاضانہ اہتمام بھی تھا۔
نعمتوں پر شکر لازم ہے
سائنس کی حکمرانی، دولت کی فراوانی اور آرٹ کا ذوق جہاں بےحد تعریف و تحسین کے مستحق ہیں وہیں اس کی حیثیت دودھاری تلوار کی بھی ہے۔ اگر اس کے استعمال میں احتیاط نہ کی جائے اور اسے غلط ہاتھوں میں پہنچنے دیا جائے تو یہی چیزیں تمدن صالح کی دشمن ثابت ہوتی ہیں۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ اے آل دائود شکر کے انداز میں زندگی گزارو اور عمل کرو۔ اللہ تعالیٰ نے جو بیشمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں کہیں بہک نہ جانا بلکہ اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے ہر نعمت کو صحیح محل میں برتنا اور ہر قدم صحیح سمت میں اٹھانا۔ اور آل دائود کے لفظ سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) ، ان کی آل اولاد اور ان کے اتباع کو توجہ دلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری اس طرح کرنا جیسے حضرت دائود (علیہ السلام) کیا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) انھیں کے نقش قدم پر چلے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ ہیبت اور عزت عطا فرمائی کہ جو ایک مثال بن گئی۔ آئندہ بھی اگر تم اس عظمت و حشمت کو باقی رکھنا چاہتے ہو تو حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کی طرح اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری میں کوتاہی نہ کرنا۔ اور آیت کے آخری جملے میں تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ شکر کی راہ کوئی آسان راہ نہیں۔ اس لیے اس راہ کو آسان نہ لینا بلکہ نہایت فکرمندی کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے میں اس کے اثرات کو راسخ کرنے کی کوشش کرنا۔
Ayah 34:14فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْہِ الْمَوْتَ مَا دَلَّھُمْ عَلٰی مَوْتِہٖٓ اِلاَّ دَآبَّۃٌ الْاَرْضِ تَاْکُلُ مِنْسَاَ تَہٗ ج فَلَمَّا خَرَّتَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُھِیْنِ ۔ (السباء : 14)
(پس جب ہم نے اس پر موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جنوں کو اس کی موت پر آگاہ نہیں کیا، مگر زمین کے کیڑے نے، جو سلیمان کے عصا کو کھاتا تھا، پس جب وہ گرپڑا تو جنوں پر یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔ )
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت سے غلط عقائد کی تردید
مشرکینِ مکہ میں عقیدے کی جو خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں ان میں ایک خرابی یہ بھی تھی کہ وہ جنات کو غیب دان سمجھتے تھے اور اسی حوالے سے ان سے استمداد کرتے تھے۔ اسی طرح انبیاء و اولیاء کے بارے میں ان کا تصور یہ تھا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور جب ان کو مدد کے لیے پکارا جاتا ہے تو وہ مدد کو پہنچتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پیش نظر آیت کریمہ میں ان دونوں باتوں کی تردید فرمائی ہے۔ اور اس کے لیے حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسے اللہ تعالیٰ کے نبی اور صاحب جبروت شخصیت کی موت سے استشہاد کیا ہے۔ ایک طرف ان کا یہ مرتبہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہَوائیں ان کے قبضے میں دے رکھی تھیں اور جنات کو ان کا چاکر بنادیا تھا۔ وہ جیسے چاہتے ہوا سے کام لیتے اور جیسے چاہتے جنوں سے خدمت لیتے تھے۔ اور ایسے جنات جنھیں شیاطین کہنا چاہیے اور جو آپ پر ایمان بھی نہیں رکھتے تھے وہ بھی نہایت ذلت کے ساتھ آپ کے ہر فرمان کی اطاعت پر مجبور تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ساتھ اتنے قریبی تعلق اور غیرمعمولی وجاہت و عظمت کے باوجود آپ کو موت کا مزہ چکھنا پڑا۔ اور موت بھی آپ کو اس طرح آئی کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوسکی۔ امیرمینائی نے ٹھیک کہا :
جو زندہ ہے وہ موت کی تکلیف سہے گا
جب احمد ﷺ مرسل نہ رہے، کون رہے گا
اور رہا اہل عرب کا دوسرا عقیدہ کہ جنات غیب کے جاننے والے ہوتے ہیں، اس کے لیے بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت ہی سے استدلال کیا گیا ہے۔ اور موت کا جو واقعہ بیان کیا گیا ہے اس کی صورت یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے کسی اہم عمارت کی تعمیر پر شیاطین کو لگا رکھا تھا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) خود اس کی نگرانی فرما رہے تھے۔ کیونکہ جنات کو اور وہ بھی شیاطین کو کسی دوسرے کی نگرانی میں چھوڑنا شاید مسائل کا باعث بنتا ہو۔ اور جنات چونکہ آپ کے لیے مسخر کردیے گئے تھے اس لیے وہ آپ کی موجودگی میں کسی طرح کی نافرمانی کی جرأت نہیں کرسکتے تھے۔ نگرانی کے دوران آنجناب نے عصا پر ٹیک لگا رکھی تھی اور اس کے سہارے کھڑے تھے۔ اسی اثناء میں موت کا وقت آگیا اور اللہ تعالیٰ کے بلاوے پر آپ نے اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کردی۔ لیکن وہ جس طرح عصا کے سہارے کھڑے تھے، اسی طرح بدستور کھڑے رہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے کھڑے ہونے کا انداز اور عصا کی ساخت میں ایسا تناسب تھا کہ دونوں نے ایک دوسرے کو تھام رکھا تھا۔ جنات نے جب آپ کو کھڑے دیکھا تو وہ بدستور اپنے کام میں لگے رہے۔ حتیٰ کہ ایک عرصہ بیت گیا۔ لیکن یہ کتنا عرصہ ہوگا، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن اس دوران زمین کا کیڑا یعنی دیمک عصا کو کھانے میں لگا رہا۔ واضح رہے کہ جس زمین میں دیمک زیادہ ہوتی ہے وہاں کی کوئی چیز بھی اس کی دست برد سے محفوظ نہیں رہتی اور وہ بہت جلد اسے مٹی میں تبدیل کردیتی ہے۔ چناچہ دیمک نے تیزی سے عصا کو نیچے سے کھالیا۔ عصا کے ٹوٹنے سے آپ کا جسدِمبارک زمین پر آگرا۔ تب جنات کو اندازہ ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) دنیا میں نہیں رہے۔ اور تمام جاننے والے جنوں کو یقین ہوگیا کہ جنات عالم الغیب نہیں ہوتے۔ ممکن ہے اس سے پہلے وہ اپنے اندر کے بعض جنات کو عالم الغیب سمجھتے ہوں۔ جس طرح انسان بعض انسانوں کو ایسی غیرمعمولی صفات سے متصف سمجھتے ہیں۔ اس محیرالعقول واقعہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد اب انھیں عقیدے کی غلطی کا اچھی طرح احساس ہوگیا۔
جو شخص بھی اس واقعہ کو تدبر کی نگاہ سے دیکھے گا، اسے یہ سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی کہ جنات کے بارے میں یہ تصور پایا جاتا تھا کہ وہ غیب جانتے ہیں۔ اور یہ غلط فہمی انسانوں کو بھی جنات کے بارے میں تھی اور خود جنات میں بھی بعض جنات کے حوالے سے ایسا ہی تصورپایا جاتا تھا۔ چناچہ اس کی تردید کے لیے اس واقعہ کو بیان کیا گیا ہے۔ لیکن کس قدر عجیب بات ہے کہ بعض لوگ جنوں سے وہ سرحدی قبائل مراد لیتے ہیں جنھیں طاقت کے زور سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنا مطیع بنا رکھا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا مشرکین ان قبائل کو عالم الغیب سمجھتے تھے یا خود ان قبائل میں سے کسی نے غیب دان ہونے کا دعویٰ کر رکھا تھا۔ جب ایسی کوئی بات نہ تھی تو پھر قرآن کریم کے الفاظ سے اپنے مطلب کی بات نکالنے کے سوا اور اس کا کیا مفہوم ہوسکتا ہے۔
Ayah 34:15لَقَدْ کَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْکَنِھِمْ اٰیَۃٌ ج جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّشِمَالٍ 5 ط کُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوْا لَـہٗ ط بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ۔ (السباء : 15)
(اہلِ سبا کے لیے ان کے اپنے ہی مسکن میں ایک بہت بڑی نشانی موجود تھی، دو باغ دائیں اور بائیں، کھائو اپنے رب کا دیا ہوا رزق اور اس کا شکر بجا لائو، ملک عمدہ اور شاداب اور پروردگار بخشنے والا۔ )
کفرانِ نعمت کا انجام تاریخِ سبا کے حوالے سے
اس سورة میں اصل زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ شکر وہ صفت ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف لے جاتی ہے اور وہ اپنے مقصد زندگی سے منحرف نہیں ہوتا۔ اور کفر دل و دماغ کا وہ فساد ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی بندگی سے دور اور مقصدانسانیت سے بےنیاز کردیتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتا ہے اور آخرت سے انکار کردیتا ہے۔ چناچہ شکر کے حوالے سے حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کی تاریخ سے استدلال کیا گیا ہے۔ اور ناشکری اور کفرانِ نعمت کے حوالے سے قوم سبا کی تاریخ بیان کی جارہی ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب کوئی قوم کفرانِ نعمت کا رویہ اپنا لیتی ہے تو اس کے عقیدہ و عمل میں ایسی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں جو آخرکار اسے تباہی تک پہنچا دیتی ہیں۔ قوم سبا کی مثال اسی حوالے سے پیش کی گئی ہے۔ سبا ایک شہر کا نام بھی ہے اور اس میں بسنے والی قوم بھی اسی نام سے معروف تھی۔ یہ قوم جنوبی عرب کی مشہور تجارت پیشہ قوم تھی جس کا دارالحکومت مآرب موجودہ یمن کے دارالسلطنت صنعا سے پچپن میل بجانب شمال واقع تھا۔ ایک ہزار سال تک یہ قوم عرب میں اپنی عظمت کے ڈنکے بجاتی رہی۔ عرب میں یمن اور حضرموت اور افریقہ میں حبش کے علاقے پر اس کا قبضہ تھا۔ یونانی مؤرخین اسے دنیا کی سب سے زیادہ مالدار قوم کہتے ہیں۔ تجارت کے علاوہ ان کی خوشحالی کا بڑا سبب یہ تھا کہ انھوں نے اپنے ملک میں جگہ جگہ بند باندھ کر ایک بہترین نظام آبپاشی قائم کر رکھا تھا۔ اس کی اصل شاہراہ کے دونوں جانب نہایت شاداب باغوں کا سلسلہ تھا جو پورے علاقے پر پھیلا ہوا تھا۔ اسی کو اس آیت کریمہ میں دائیں بائیں دو باغوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی شاہراہ کے دائیں بائیں باغوں کے سلسلے تھے۔
علامہ قزوینی نے آثارالبلاد میں سبا کو ایک شہر قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ شہر سبا بن یشحب بن قحطان نے آباد کیا تھا۔ یہ شہر دفاعی لحاظ سے بہت مستحکم اور گنجان آباد تھا۔ اس کی ہوا بڑی پاکیزہ اور پانی بڑا میٹھا تھا۔ اردگرد پہاڑوں کا سلسلہ تھا۔ بارش ہوتی تو پانی بہہ کر ریگستان میں ضائع ہوجاتا۔ ملکہ بلقیس کے عہد حکومت میں دو پہاڑوں کے درمیان ایک زبردست بند تعمیر کیا گیا اور پانی کے اس طرح کے ذخائر اس ملک کی زرعی ترقی کا بہت بڑا سبب تھے۔ اس کی سرسبزی و شادابی اور خوشحالی اور فارغ البالی وہ چیز ہے جسے یہاں آیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان تھا۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کا حق جس طرح ادا ہونا چاہیے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے رب کا رزق کھائو اور اس کا شکر ادا کرو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ عظیم خوان کرم جو تمہارے لیے بچھایا گیا ہے اور جس سے تم بہرہ مند ہوتے ہو، وہ تقاضا کرتا ہے کہ ہمیشہ اس خوان کریم کے بچھانے والے کے شکرگزار رہو۔ مزید فرمایا کہ اس خوان کرم کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے نہایت سرسبز و شاداب ملک عطا فرمایا ہے۔ تم اس کی سرسبزی و شادابی اور خوشحالی سے خوب متمتع ہورہے ہو، یقینا اس میں قدم قدم پر کو تاہیاں ہوتی ہیں۔ لیکن وہ کتنا ستار اور غفار ہے کہ بغیر کسی استحقاق کے وہ تم پر مسلسل انعامات کی بارش کرتا چلا جارہا ہے۔ ایک طرف اس کی عطا و بخشش اور دوسری طرف اس کا فضل و احسان اور ستاری و غفاری نہایت ہوشمندی اور فکرمندی کے ساتھ ادائے شکر کا تقاضا کررہی ہیں۔
Ayahs 34:16–17فَاَعْرضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنٰـہُمْ بِجَنَّـتَیْھِمْ جَنَّـتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُکُلٍ خَمْطٍ وَّاَثْلٍ وَّشَیْ ئٍ مِّن سِدْرٍ قَلِیْلٍ ۔ ذٰلِکَ جَزَیْنٰـھُمْ بِمَا کَفَرُوْا ط وَھَلْ نُجٰزِیْٓ اِلاَّ الْـکَفُوْرَ ۔ (السباء : 16، 17)
(پس انھوں نے اعراض کیا اور سرتابی کی، تو ہم نے ان پر بند کا سیلاب بھیج دیا اور ان کے باغوں کو دو ایسے باغوں سے بدل دیا جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھائو کے درخت اور بیری کی کچھ جھاڑیاں رہ گئیں۔ یہ ہم نے ان کو ان کی ناشکری کا بدلہ دیا، اور ناشکرے انسان کے سوا ہم ایسا بدلہ کسی اور کو نہیں دیتے۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح : عَرِم کے معنی اہل لغت نے زوردار بارش کے بھی لکھے ہیں اور تہ بہ تہ اکٹھے کیے ہوئے پتھروں کے بھی۔ لیکن بند کے معنی میں اس کا استعمال عام ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک یہ جنوبی عرب کی زبان کے لفظ عرمن سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی بند کے ہیں۔ یمن کے حبشی گورنر ابرہہ نے ایک کتبہ سدمآرب کی مرمت کرانے کے بعد نصب کرایا، اس میں وہ اس لفظ کو بار بار بند کے معنی میں استعمال کرتا ہے۔ اس لحاظ سے سیل العرم سے مراد وہ سیلاب ہے جو کسی بند کے ٹوٹنے سے آئے۔
خَمْطِ بدمزہ اور کڑوے کسیلے پھلوں کو کہتے ہیں۔
اَثْلٍ جھائو۔ سِدْرٍجھاڑیوں کو کہتے ہیں۔
ناشکری کا انجام
اہلِ سبا اللہ تعالیٰ کی بےپایاں نعمتوں کی قدر کرنے کی بجائے جب کفرانِ نعمت کرنے لگے اور طغیان و فساد میں بھی مبتلا ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب بھیج دیا۔ ایسا عظیم سیلاب آیا کہ اس نے سدمآرب کو توڑ دیا۔ بند سے جو نہریں نکالی گئی تھیں، بند کے ٹوٹنے سے وہ سب ختم ہوگئیں اور آبپاشی کا پورا نظام درہم برہم ہوگیا۔ اور اس کے نتیجے میں وہی ملک جو کبھی جنت نظیر بنا ہوا تھا تاراج ہو کر رہ گیا۔ باغات تباہ ہوگئے اور سارا علاقہ خودرو جنگلی درختوں سے بھر گیا۔ شاداب باغوں کی جگہ کڑوے کسیلے پھلوں کے کچھ درخت اور کچھ جھائو اور بیری کی جھاڑیاں رہ گئیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سیلاب نے پورے علاقے کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔ زرخیز مٹی تباہ ہوگئی اور اس پر ایسی مٹی یا ریت کی تہ جم گئی جس نے بچے کھچے درختوں کے مزاج بھی بدل دیے۔ اور آخر میں فرمایا کہ یہ سب کچھ ہم نے ان کے ساتھ اس لیے کیا کہ یہ ان کے کفرانِ نعمت اور ناشکری کا بدلہ تھا۔ ایسی تباہ کن سزا ہم صرف ناشکروں ہی کو دیا کرتے ہیں۔
Ayah 34:18وَجَعَلْنَا بَیْنَھُمْ وَبَیْنَ الْقُرَی الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا قُرًی ظَاہِرَۃً وَّ قَدَّرْنَا فِیْھَا السَّیْرَ ط سِیْرُوْا فِیْھَا لَیَالِیَ وَاَیَّامًا اٰمِنِیْنَ ۔ (السباء : 18)
(اور ہم نے ان کے درمیان اور ان بستیوں کے درمیان جن کو ہم نے برکت دی تھی نمایاں بستیاں آباد کی تھیں اور ان بستیوں کے درمیان سفر کی منزلیں ٹھہرا دی تھیں، چلو پھرو ان بستیوں میں رات دن بےخوف و خطر۔ )
اہلِ سبا پر انعاماتِ الٰہی کی مزید تفصیل
جس طرح اللہ تعالیٰ نے ملک سبا کو اندرونی طور پر زرخیز اور شاداب بنایا تھا اور جس کی وجہ سے اہل ملک دولت و ثروت میں کھیلتے تھے اور ان کی شاہراہِ عام کے دونوں طرف باغات کا ایسا سلسلہ تھا کہ کہیں ختم ہونے میں نہیں آتا تھا۔ اسی طرح ان کے پڑوسی ممالک کے ساتھ ایسے قریبی تعلقات تھے کہ باہمی اتصال اور پیوستگی کی وجہ سے کہیں اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ اور ان کے پڑوسی ملک شام و فلسطین وغیرہ تھے جو ان ہی کی طرح نہایت زرخیز ملک تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے بطورخاص ان کو زرخیزی اور شادابی کی برکتوں سے مالامال کر رکھا تھا۔ اور قرآن کریم انھیں عموماً ” برکت والی بستیوں “ کے نام سے یاد کرتا ہے۔
جو شاہراہ سبا سے ملک شام اور فلسطین کی طرف جاتی تھی اس شاہراہ پر موزوں فاصلوں پر بڑی بڑی بستیاں آباد تھیں اور ان کے درمیان فاصلہ اتنی موزوں مسافت کے ساتھ تھا کہ جیسے ناپ کر ٹھہرنے کے لیے پڑائو بنائے گئے ہوں۔ اور یہی بستیاں مسافروں کے لیے منزلوں کا کام دیتی تھیں۔ ایک بستی کے آثار ختم ہونے کے بعد دوسری بستی کے آثار نظر آنے لگتے تھے۔ چونکہ یہ بستیاں شاہراہِ عام پر تھیں اس لیے انھیں نمایاں بستیاں کہا گیا ہے۔ اور یا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی وسعت اور آنے جانے والوں کی ہر طرح کی ضروریات پوری کرنے کی وجہ سے ایسی شہرت رکھتی تھیں کہ ہر گزرنے والا ان بستیوں سے آگاہ تھا۔ اور مزید یہ کہ بستیوں کے باہم ایک دوسرے سے پیوست ہونے کی وجہ سے اور یا ان کی رفاہیت و ثروت کی وجہ سے راستے پرامن تھے۔ آنے جانے والوں کو راستے میں لٹ جانے یا کسی اور نقصان سے دوچار ہونے کا اندیشہ نہیں ہوتا تھا۔ اور لوگ بےخوف و خطر ان بستیوں کے درمیان سفر کرتے تھے۔ اس صورتحال کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے جس نے انھیں زرخیز و شاداب ملک دیے، دولت و ثروت سے نوازا، امن و آشتی کی دولت عطا فرمائی اور ان ملکوں کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم ہوئے جنھیں قدرت نے بہت برکتیں دے رکھی تھیں۔ لیکن انھوں نے ناشکری کا راستہ اختیار کیا، کفرانِ نعمت کو اپنا طرزعمل بنا لیا، انھیں آسائشیں اور رفاہیتیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی تھیں۔ لیکن انھوں نے اسے اپنے دست وبازو اور ذہنی کاوشوں کا نتیجہ سمجھا۔ اور ایسی سرکشی اور تمرد کا شکار ہوئے کہ ان کا ایک ایک کام اور ایک ایک حرکت زبان حال سے بولنے لگی کہ وہ ان نعمتوں کے فی الواقع سزاوار نہیں۔
Ayah 34:19فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْبَیْنَ اَسْفَارِنَا وَظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَجَعَلْنٰـھُمْ اَحَادِیْثَ وَمَزَّقْنٰـھُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّـکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ۔ (السباء : 19)
(مگر انھوں نے کہا، اے ہمارے رب ! ہمارے سفروں میں دوری پیدا کردے، اور انھوں نے اپنے اوپر ظلم کیا، تو ہم نے ان کو افسانہ بنادیا، اور انھیں بالکل تتربتر کر ڈالا، یقینا اس کے اندر نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے، شکر کرنے والے کے لیے۔ )
اہلِ سبا کا اپنے آپ پر ظلم اور اس کا انجام
ان کے طوراطوار سے ظاہر ہونے لگا کہ جیسے وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کررہے ہیں کہ وہ ان نعمتوں کے سزاوار نہیں ہیں، بلکہ وہ تو اس قابل ہیں کہ ان کی بستیاں ویران ہوجائیں، ان کی منزلیں کٹھن ہوجائیں اور ان کی یہ ساری رفاہیتیں چھین لی جائیں۔ انھوں نے جو طرزعمل اختیار کیا، دولت و ثروت اور آسائش و رفاہیت کا عام طور پر یہی نتیجہ ہوتا ہے کہ لوگ جامہ انسانیت کو تار تار کردیتے ہیں۔ حیوانوں کی طرح ہر بندھن سے آزاد اور اخلاق کی ہر قدر کو پامال کرتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں۔ اور یہی وہ طرزعمل ہے جس کو قرآن کریم اپنے اوپر ظلم قرار دیتا ہے۔ اہل سبا نے بھی اپنے اوپر ایسا ہی ظلم کیا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا ان پر عذاب آیا اور وہ قوم جو صدیوں سے دولت و ثروت اور عزت و افتخار کے حوالے سے جانی جاتی تھی، قصہ پارینہ بن کے رہ گئی۔ ان کے کارنامے کہانیوں میں تبدیل ہوگئے، ان کے حقائق افسانوں میں بدل گئے۔ سدِمآرب کے ٹوٹنے سے ان کی زرخیزی ویرانی میں تبدیل ہوئی اور ان کی دولت و ثروت فقروفاقہ میں ڈھل گئی۔ اس طرح سے زندگی کے امکانات کم ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے شہروں سے نکلنے پر مجبور ہوگئے۔ اور جہاں کسی کا سینگ سمایا وہاں چلا گیا۔ مختلف قبیلے عرب کے مختلف علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ غسانیوں نے اردن اور شام کا رخ کیا۔ اوس و خرج کے قبیلے یثرب میں جا بسے۔ خزاعہ نے جدہ کے تہامہ کے علاقے میں سکونت اختیار کی۔ حتیٰ کہ سبا نام کی کوئی قوم دنیا میں باقی نہ رہی، صرف اس کا ذکر افسانوں میں رہ گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس طرح انھیں تتر بتر کر ڈالا اور وہ بالکل پراگندہ ہو کر رہ گئے۔
آخر میں فرمایا کہ اس سرگزشت میں نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لیے۔ صبار، صابر سے اسم مبالغہ ہے، بہت صبر کرنے والا۔ اور شکور اسم صفت ہے، مسلسل شکر ادا کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں نعمتوں کا شکر وہی شخص ادا کرسکتا ہے جو اپنے اوپر بہت قابو رکھنے والا اور خواہشاتِ نفسانی کے مقابلے میں انتہا درجے کا ثابت قدم ہو۔ اور یہ کیفیت اس شخص میں پیدا ہوتی ہے جسے شدت سے اس بات کا احساس ہو کہ میرے پاس جو کچھ ہے یہ میرا اپنا نہیں، اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ یہ مال و دولت، جسمانی توانائیاں اور دل و دماغ کی رعنائیاں سب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں، وہی ان کا مالک ہے، میرے پاس اس کی امانت ہے۔ جو اس تصور کو کبھی گدلا نہ ہونے دے اور کبھی اس کی پاکیزگی میں تکدر پیدا نہ ہونے دے اور بڑی سے بڑی خواہش اور دبائو کبھی اس میں شکست و ریخت کا سبب نہ بن سکیں، وہی حقیقت میں صبر کی قوت سے بہرہ ور ہوسکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر اور شکر دونوں توأم ہیں۔ یہ دونوں بیک وقت مطلوب ہیں۔ جس کے اندر صبر نہ ہو وہ شکر کا حق ادا نہیں کرسکتا۔ اور جس کے اندر شکر نہ ہو وہ صبر نہیں کرسکتا۔ زندگی میں قدم قدم پر بندے کا ان ہی دونوں صفات کے حوالے سے امتحان جاری رہتا ہے اور اس امتحان میں سرخروئی کے نتیجے میں دنیوی آسودگی ملتی ہے اور آخرت میں کامیابی کی دولت عطا ہوتی ہے۔ تو جو شخص صبر اور شکر کی دولت سے اپنے آپ کو ہمکنار کرنا چاہتا ہے اس کے نزدیک اہل سبا کی داستان میں بہت سی نشانیاں ہیں جن سے وہ سبق سیکھ سکتا ہے۔
Ayah 34:20وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْھِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہٗ فَاتَّبَعُوْہُ اِلاَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (السباء : 20)
(اور ابلیس نے ان کے اوپر اپنا گمان سچ کر دکھایا، پس انھوں نے اس کی پیروی کی، بجز ایک تھوڑے سے گروہ کے جو مومن تھا۔ )
ناشکری شیطان کی امیدوں کو پورا کرنا ہے
یہ دنیا انسان کے لیے دارالامتحان ہے۔ کبھی وہ خوشحالیاں دے کر آزماتا ہے کہ انسان شکر کرتا ہے یا نہیں۔ اور کبھی مصیبتوں میں مبتلا کرکے امتحان لیتا ہے کہ وہ صبر کرتا ہے یا بےصبر ہوجاتا ہے۔ ابلیس نے اس امتحان کے شروع ہونے سے پہلے ہی اندازہ کرلیا تھا کہ یہی وہ راستہ ہے جس میں انسانوں کو راہ راست سے ہٹانے کی کوشش کرسکتا ہوں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے مہلت لینے کے بعد اس نے بڑی خوداعتمادی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کہنے کی جرأت کی تھی کہثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمْ مِّنْ بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَمِنْ خَلْفِھِمْ وَعَنْ اَیْمَانِھِمْ وَعَنْ شَمَائِلِھِمْ وَلاَ تَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شَاکِرْیَنَ ” پھر میں اولادِ آدم کے سامنے سے آئوں گا اور ان کے پیچھے سے آئوں گا اور ان کے دائیں سے آئوں گا اور ان کے بائیں سے آئوں گا اور تو ان میں سے اکثر لوگوں کو شکر ادا کرنے والا نہیں پائے گا۔ “ ابلیس نے اپنی وسوسہ اندازی کے نتیجے میں جس کامیابی کی امید باندھی تھی اہل سبا نے اس کی امید کو پورا کردیا۔ اس لیے اس کے بہکاوے کے نتیجے میں وہ بجائے شکر کے کفرانِ نعمت کے راستے پر چل نکلے اور صبر و شکر کا سہارا ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ لیکن وہ یہ بات بھول گئے کہ جب شیطان نے پروردگار سے یہ بات کہی تھی تو پروردگار نے جواب میں ارشاد فرمایا تھا کہ جو تیری پیروی کریں گے خواہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے، میں ان سب کو جہنم میں بھردوں گا۔ جہنم سے بچنے والے صرف وہ ہوں گے جو ابلیس کے بہکاو وں کے باوجود صبر و شکر کی تصویر بنے رہیں گے۔ اور جو اس کی پیروی کریں گے وہ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوں گے اور آخرت میں بھی۔ چناچہ اہل سبا کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اجتماعی زندگی کو دنیا ہی میں انتشار کی سزا دی۔ اور اپنی ایک ایک نعمت ان سے چھین لی۔ اور آخرت میں ان میں سے ایک ایک فرد جہنم میں ڈالا جائے گا۔ البتہ ان میں صرف ایک مختصر سا گروہ دنیا کے عذاب سے بھی بچا رہا اور آخرت میں بھی سرخرو ہوگا۔ یہ وہ گروہ ہے جو ایمان کی دولت سے بہرہ ور رہا۔ کہا جاتا ہے کہ اہل سبا کی طرف بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک رسول بھیجا تھا، اس آیت میں اس کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ اکثریت نے اس رسول کی تکذیب کی۔ البتہ ایک مختصر تعداد اس رسول پر ایمان لائی اور وہی اپنی قوم پر آنے والے عذاب سے محفوظ رہی۔
Ayah 34:21وَمَا کَانَ لَـہٗ عَلَیْھِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَۃِ مِمَّنْ ھُوَمِنْھَا فِیْ شَکٍّ ط وَرَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ حَفِیْظٌ۔ (السباء : 21)
(اور ابلیس کو ان پر کوئی اقتدار حاصل نہ تھا مگر یہ کہ ہم ممیز کردیں ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، ان لوگوں سے جو اس کی بابت شک میں ہیں، اور آپ کا رب ہر چیز پر نگران ہے۔ )
ایک شبہ کا ازالہ
اس آیت کریمہ میں برسرموقع ایک شبہ کا ازالہ فرمایا گیا ہے۔ شبہ یہ ہوسکتا تھا کہ شیطان نے جس اعتماد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے اولادِآدم کو گمراہ کرنے کی بات کی اور کامیابی کی امید کا اظہار بھی کیا، اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ شاید اسے اس بات کا اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ جب چاہے انسانوں کو گمراہ کرسکتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر گمراہ ہونے والے کو سزا کیوں ملتی ہے ؟ اس کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ہم نے شیطان کو ایسا اختیار یا اقتدار ہرگز نہیں دیا کہ وہ کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف زبردستی کسی غلط راستے پر ڈال دے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف اسے وسوسہ اندازی کرنے اور بہکانے کی مہلت دی ہے۔ اور یہ مہلت اس کو اس لیے دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کا امتحان کرنا چاہتا ہے کہ کون شخص ہے جو آخرت پر ایسا مضبوط ایمان رکھتا ہے کہ شیطان کی تمام ترغیبات اور تزویرات کے باوجود اس کے عقیدہ آخرت میں اضمحلال پیدا نہیں ہوتا اور وہ کبھی جادہ حق سے منحرف نہیں ہوتا۔ اور وہ کون شخص ہے جو اس کے بہکانے سے اس کی راہ پر لگ جاتا ہے۔
آیت کے آخر میں فرمایا کہ بلاشبہ انسان عرصہ امتحان میں ہے اور ابلیسی قوتیں ہر قدم پر انسان کو بہکانے میں لگی ہوئی ہیں اور اس امتحان میں کامیابی پر دنیوی اور اخروی کامیابی کا انحصار ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان اور شیطان کو اس رزم گاہ میں اتار کر انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دیا ہے اور خود الگ ہو کر بیٹھ گیا ہے بلکہ امرواقعہ یہ ہے کہ پروردگار مسلسل دونوں کی نگرانی کررہا ہے۔ شیطان ہر کوشش کو بروئے کار لانا چاہتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت اسے حدود سے متجاوز نہیں ہونے دیتی۔ اور انسان جب بھی اس کی تزویراتی کوششوں کے مقابلے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت بھی اس کا ساتھ دینے کے لیے آپہنچتی ہے۔ وہ اخلاص سے اس راستے میں جو بھی قدم اٹھاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے۔ اور آخرت میں اس کی انھیں مساعی کا بھرپور صلہ عطا فرمائے گا۔ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے مہلت ضرور دی ہے لیکن اسے اس قدر طاقت عطا نہیں فرمائی کہ وہ جو چاہے کرتا پھرے۔ اللہ تعالیٰ کی نگاہ ہر چیز کا جائزہ لیتی ہے اور اس کی بنائی ہوئی دنیا میں رحمت و عدل ہمیشہ اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو اپنے عمل سے اپنی طرف متوجہ کرلیں تو سایہ عدل خودبخود ان کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔
Ayah 34:22قُلِ ادْعُوالَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ج لاَ یَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلاَ فِی الْاَرْضِ وَمَا لَھُمْ فِیْہِمَا مِنْ شِرْکٍ وَّمَا لَـہٗ مِنْھُمْ مِّنْ ظَہِیْرٍ ۔ (السباء : 22)
(اے پیغمبر آپ کہئے تم ان کو پکارو جن کو تم اللہ کے سوا اپنے معبود گمان کرتے ہو، وہ نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں کسی ذرہ برابر چیز کے مالک ہیں، اور نہ ان دونوں میں ان کا کوئی ساجھا ہے اور نہ ان میں سے کوئی اس کا مددگار ہے۔ )
شرک پر کاری ضرب
گزشتہ آیات میں آخرت سے متعلق مشرکین کے غلط تصورات پر تنقید کی گئی ہے۔ آخرت کے انکار کا دارومدار جن تصورات پر تھا ان میں سے بنیادی تصور یہ تھا کہ اولاً تو قیامت کے آنے کا کوئی امکان نہیں، اور اگر وہ آہی گئی تو ہم نے جن قوتوں کو اس کا شریک بنا رکھا ہے اور جن کی ہم بندگی اور پرستش بجا لاتے ہیں وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے چھڑا لیں گی۔ چناچہ اس تصور کے ابطال کے لیے آنحضرت ﷺ سے کہا گیا کہ آپ ان سے کہئے کہ تم نے جنھیں اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتنی صفات تم نے ان کی طرف منسوب کر رکھی ہیں، ذرا انھیں بلائو ہم بھی ان کی صورت دیکھیں اور ان کی حیثیت کو جانیں۔ کیونکہ تم نے گزشتہ رکوعوں میں پڑھا ہے کہ ایک خدا تو وہ ہے جو اقوام اور حکمرانوں کی قسمتیں بناتا اور بگاڑتا ہے۔ جیسا کہ تم نے دیکھا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) غربت اور گمنامی سے نکلے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسا عروج بخشا۔ اور ان کے صاحبزادے کو وہ حکومت اور طاقت عطا فرمائی جو کسی اور کو نہ مل سکی۔ لیکن تم اس خدا کے مقابلے میں جنھیں اپنا معبود سمجھتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی ذات میں تم اسے شریک کرتے ہو، ذرا ہم بھی تو دیکھیں کہ ان کی طاقت اور عظمت کا حال کیا ہے۔ کیونکہ تم یہ جانتے ہو کہ اس کائنات میں ایک ذرہ برابر جگہ بھی ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی ملکیت ہو، جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور نے خلق کیا ہو اور جس کا ثبات وقرار اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے ہاتھ میں ہو۔ اسی طرح تم یہ بھی جانتے ہو کہ اس کائنات کی تخلیق میں کسی کا کوئی حصہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی تنہا اس کا خالق ومالک ہے اور یہ بات بھی تم سے مخفی نہیں کہ زمین و آسمان کے انتظام و انصرام میں اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی کو اپنا معین و مددگار نہیں بنایا۔ پھر کیسی عجیب بات ہے کہ ان تمام اعترافات کے باوجود تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو معبود بناتے ہو۔ تمہارا یہ وہم کہ زمین چونکہ اللہ تعالیٰ کی مملکت کا ایک دور دراز گوشہ ہے اس وجہ سے اس کا انتظام اس نے اپنے شریکوں کے سپرد کر رکھا ہے، اس کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔ کیونکہ زمین پر جو بھی تبدیلی آتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے آتی ہے۔ زندگی اور موت اس کے قبضے میں ہے، ہر مخلوق کا روزی رساں اس کے سوا کوئی نہیں۔
Ayah 34:23وَلاَ تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلاَّ لِمَنْ اَذِنَ لَـہٗ ط حَتّٰـٓی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا لا قَالَ رَبُّـکُمْ ط قَالُوا الْحَقَّ ج وَھُوَالْعَلِیُّ الْـکَبِیْرُ ۔ (السباء : 23)
(اور اس کے ہاں شفاعت کسی کے لیے نافع نہیں ہوسکتی بجز اس شخص کے جس کے لیے اللہ اجازت دے دے یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوجائے گی تو وہ پوچھیں گے کہ تمہارے رب نے کیا حکم فرمایا، وہ جواب دیں گے کہ بالکل حق ارشاد ہوا اور وہ بزرگ و برتر ہے۔ )
غلط تصورشفاعت کی نفی
سلسلہ ٔ بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ کائنات میں کسی چیز کا مالک ہونا اور کسی اختیار میں شریک ہونا اور کائنات کے انتظام و انصرام میں معین اور مددگار ہونا یہ تو بہت دور کی بات ہے۔ کائنات میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو اتنا سا اختیار بھی رکھتی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کرسکے۔ تم جن مزعومہ معبودوں کے بل بوتے پر نچنت بیٹھے ہو کہ ان کی شفاعت تمہیں ہر صورت میں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا لے گی۔ اللہ تعالیٰ کی ذات تو اتنی عظیم ہے کہ کوئی اس کی اجازت کے بغیر سفارش کی جرأت بھی نہیں کرسکتا۔ چہ جائیکہ کوئی یہ تصور کرے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ وہ اگر کسی بات پر اڑ جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کی بات ماننے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ چناچہ اسی بات کو سمجھانے کے لیے یہاں قیامت کی منظرکشی کی گئی ہے کہ جب لوگ گھبرا کر انبیائے کرام اور دیگر مقربینِ بارگاہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری سفارش کریں تو وہ نہایت ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اذن شفاعت طلب کریں گے۔ اور جواب آنے تک نہایت لرزاں اور ترساں حالت میں جواب کے منتظر کھڑے رہیں گے۔ دھڑکا اس بات کا ہوگا کہ کہیں اس اذن طلبی پر عتاب نازل نہ ہوجائے۔ حتیٰ کہ اوپر سے جب اذن شفاعت ملے گا تو ان کے چہروں پر اطمینان کی ایک لہر دوڑ جائے گی۔ مشفوع شافع کے چہرے کے اطمینان کو دیکھ کر پوچھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا جواب ملا۔ تو وہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ٹھیک بات ارشاد فرمائی ہے۔ یعنی ادھر سے جو بھی جواب ملتا ہے وہ ٹھیک ہی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے شفاعت کی اجازت دے دی ہے۔ اور وہ ذات اتنی عظیم اور بزرگ و برتر ہے کہ نہ اس کے حضور زبان کھولی جاسکتی ہے اور نہ کوئی ایسی بات کہی جاسکتی ہے جو امرواقعہ کے خلاف یا خلاف حق ہو۔ لیکن مشرکین عجیب خیال خام میں مبتلاء ہیں کہ نہ انھیں اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اندازہ ہے نہ اس کے دربار کی عظمت کا احساس ہے۔ وہ غلط عقیدہ شفاعت پر بھروسہ کرکے اپنی آخرت کو تباہ کررہے ہیں۔
Ayah 34:24قُلْ مَنْ یَّرْزُقُـکُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط قُلِ اللّٰہُ لا وَاِنَّـآ اَوْاِیَّاکُمْ لَعَلٰی ھُدًی اَوْفِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (السباء : 24)
(اے نبی ان سے پوچھئے تم کو آسمانوں اور زمین میں کون رزق دیتا ہے، کہئے، اللہ ! اور ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہی ہدایت پر ہے، یا کھلی گمراہی میں۔ )
قول و عمل کے تضاد سے استدلال
ہم اس سے پہلے قرآن کریم میں متعدد مواقع پر اس حقیقت سے آگاہ ہوچکے ہیں کہ مشرکین اپنی تمام تر گمراہیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کو کائنات کا خالق مانتے تھے۔ اور رزق چونکہ صفت خلق ہی کا ایک ظہور ہے اس لیے وہ رازق بھی اللہ تعالیٰ ہی کو تسلیم کرتے تھے۔ البتہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ رزق میں اضافے اور برکت کے لیے غیر اللہ سے استمداد کرتے تھے۔ کاروبار میں بہتری کے لیے بتوں پر چڑھاوے چڑھاتے تھے۔ ان کی اس کمزوری کو دور کرنے کے لیے قرآن کریم میں جابجا ایک تو رازق کے بارے میں سوال کے ذریعے ان کے مافی الضمیر کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور جس عقیدے کا وہ زبان سے اظہار کرتے ہیں اس عقیدے کو ان کا عمل بنانے کی ترغیب دی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی تصور دیا ہے کہ تمہارا رزق زمین سے اگتا ہے۔ زمین کی آبیاری جس پانی سے ہوتی ہے وہ آسمان سے اترتا ہے۔ بادل جس بھاپ سے بنتے ہیں وہ بھاپ سورج کی کرنوں سے فضا تک پہنچتی ہے۔ تمہارا غلہ جس گرمی سے پگتا ہے وہ سورج مہیا کرتا ہے۔ تمہارے غلے میں گداز اور پھلوں میں مٹھاس چاند کی حلاوت سے پیدا ہوتی ہے اور یہ تمام اسباب و ذرائع اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیے ہیں اور اسی نے ان میں تخالف کے باوجود توافق اور سازگاری پیدا فرمائی ہے۔ یہ پورا نظام اور اس کی کارفرمائی جس طرح اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے پر دلیل ہے اسی طرح اس کے رزاق ہونے پر بھی حجت ہے۔ اس پس منظر میں ان سے سوال کیا گیا کہ بتائو تمہارا رازق کون ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو رازق قرار دیتے ہیں تو یہ بات ان کے اپنے عقیدے اور اپنے اظہار کے خلاف ہے۔ اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کے رزاق ہونے کا اقرار کرتے ہیں تو پھر ان کا اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور ربوبیت کے بارے میں جو طرزعمل ہے وہ ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ چناچہ اس صورتحال کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے خاموشی کو دیکھ کر آنحضرت و کو حکم دیا کہ آپ کہیں کہ اللہ ہی ہمیں رزق دینے والا ہے۔
اصل حقیقت کا اظہار اور مشرکین کی طرف سے کامل خاموشی نے جانبین کے طرزعمل کا تعین کردیا۔ یعنی آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کا طرزعمل یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہمارا خالق بھی ہے اور رزاق بھی تو اسی کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ اس کی بندگی اور پرستش اور اسی کی غیرمشروط اطاعت کی جائے۔ کیونکہ یہ بات کسی طرح بھی قرین صواب نہیں کہ خالق و رازق تو اللہ تعالیٰ ہو، اور پوجے دوسرے جائیں اور اطاعت دوسروں کی، کی جائے۔ اور مشرکین کا طرزعمل یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو خالق و رازق بھی مانتے ہیں لیکن اس کی پرستش اور اطاعت میں دوسروں کو شریک بھی کرتے ہیں۔ جن میں نہ صفت تخلیق پائی جاتی ہے اور نہ وہ رزق رسانی پر قادر ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں انھیں کسی طرح کی بھی حیثیت حاصل نہیں۔ یہ دو طرزعمل ہیں جن میں سے یقینا ایک صحیح ہے اور ایک غلط ہے۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ متضاد طرزعمل دونوں ہی صحیح ہوں۔ جن میں سے ایک کی بنیاد توحید پر ہے اور دوسرے کی شرک پر۔ اس لیے اس آیت مبارکہ میں بجائے اس کے کہ مشرکین کو غلط اور گمراہ کہہ کر اپنی بات کا اثبات کیا جائے اور اس طرح سے ان کے اندر ایک ضد پیدا کردی جائے اور وہ حقیقتِ اسلام سے اور دور چلے جائیں۔ اس کی بجائے دونوں طرح کے طرزعمل سامنے رکھ کر فیصلہ ان پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ تم خود فیصلہ کرو کہ ان میں سے صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ اور جب غیرجانبدار ہو کے سوچو گے تو تم خود اس نتیجے پر پہنچو گے کہ جو ذات خالق بھی ہے اور رازق بھی، بندگی اور پرستش، محبت اور غیرمشروط اطاعت اسی کو زیب دیتی ہے۔
سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آذری
Ayah 34:25قُلْ لاَّ تُسْئَلُوْنَ عَمَّـآ اَجْرَمْنَا وَلاَ نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ (السباء : 25)
(کہہ دیجیے، جو جرم ہم نے کیے ہیں تم سے ان کی بابت نہیں پوچھا جائے گا، اور جو کچھ تم کررہے ہو اس کی بابت ہم سے سوال نہیں کیا جائے گا۔ )
احساسِ فکرمندی کی انگیخت
گزشتہ آیت میں فکرمندی کے جس پہلو کو ابھارا گیا تھا کہ اپنے طرزعمل کے اعتبار سے ہم اور تم دو گروہ ہیں جن میں سے ایک ہی حق پر ہے۔ اسی احساس کو مزید اجاگر کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ ہم دونوں گروہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ اور ہم میں سے ہر ایک کو جواب اپنے طرزعمل کا دینا ہوگا۔ اس لیے بجائے اس کے کہ ہم دوسروں پر تنقید میں وقت ضائع کریں۔ اپنے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔ کیونکہ آخرت میں ہم سے آپ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ نے دنیا میں کیا کیا۔ اور نہ آپ سے ہمارے بارے میں پوچھا جائے گا کہ ہم دنیا میں کیا کرتے رہے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک سے سوال اس کے اپنے اعمال کے حوالے سے ہوگا۔ اس لیے فکرمندی کے احساس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے اپنے افکار و کردار کی تطہیر اور اس کی جواب دہی کی فکر کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسروں پر تنقید اور اپنے اعمال سے تغافل آخرت میں نقصان کا باعث بنے۔ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول کی بعثت کے باعث ہم پر حق کو پہنچانے کی جو ذمہ داری تھی وہ ہم نے ادا کردی ہے۔ اس کے بعد بحث وجدال ایک فضول مشق ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ اپنی راہ چلتے رہیں، ہم اپنی راہ چلیں گے۔ قیامت کے دن فیصلہ ہوجائے گا کہ حق پر کون ہے۔ یہ ایک طرح سے اظہارِبیزاری ہے، اظہارِرواداری نہیں۔ اس طرح سے مخاطب پر اتمامِ حجت ہوجاتا ہے۔