Ayah 34:46قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُکُمْ بِوَاحِدَۃٍ ج اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰہِ مَثْنٰی وَفُرَادٰی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوْا قف مَابِصَاحِبِکُمْ مِّنْ جِنَّۃٍ ط اِنْ ھُوَا اِلاَّ نَذِیْرٌلَّـکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ ۔ (السباء : 46)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے میں تمہیں بس ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں وہ یہ کہ تم اللہ کی خاطر دو دو اور ایک ایک کرکے اٹھو، پھر غور کرو، تمہارے صاحب کو کوئی جنون نہیں ہے وہ تو ایک شدید عذاب سے پہلے متنبہ کرنے والا ہے۔ )
ایک نصیحت بھی اور تنبیہ بھی اس کے بعد کی آیات خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں مخالفین کو نہایت دردمندی کے ساتھ نصیحت بھی کی گئی ہے اور تنبیہ بھی۔
مخالفین کے گزشتہ رویّے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم نے اب تک ہمارے پیغمبر کی دعوت کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ وہ تمہیں ایسے حقائق کی طرف توجہ دلاتے ہیں جس کی اصلاح پر تمہاری دنیوی اور اخری فوزوفلاح کا دارومدار ہے۔ لیکن تم نے ہمیشہ استہزاء سے کام لیا یا اندھی عداوت سے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں حقیقت کو قبول کرنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہوجاتا ہے۔ اب نہایت ہمدردی اور غمگساری سے آنحضرت ﷺ کے واسطے سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہم تمہاری گزشتہ حرکتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتے ہیں کہ تم دو دو یا ایک ایک کرکے اٹھو، یعنی تم حقیقت تک پہنچنے اور صحیح راستہ اختیار کرنے کا عزم صمیم کرو اور ایک ایک دو دو سے مراد یہ ہے کہ کسی کام کا فیصلہ اور صحیح نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کبھی انفرادی ہوتی ہے اور کبھی اجتماعی۔ انفرادی کوشش میں آدمی اپنی ذات ہی سے مشورہ کرتا ہے اور اجتماعی کوشش کا آغاز دو سے ہوتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ خود فیصلہ کرو یا دوسروں سے مشورہ کرنے کے بعد نتیجے تک پہنچنے کا تہیہ کرو۔ لیکن شرط یہ ہے کہ پہلے سے جمے ہوئے خیالات کو دل و دماغ سے نکال دو ، مفادات کی زنجیریں توڑ دو ، تعصبات کو حوالہ نسیاں کرو، لِلّٰہِ کہہ کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ تمہارا یہ کام صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔ ان شرائط و آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہمارے رسول مکرم کی دعوت پر غور کرو، اس کی باتوں کو غور سے سنو، اشتباہات کا جواب مانگو، ہمارے رسول کی حیثیتِ عرفی کا ادراک پیدا کرو، اور پھر یہ بھی دیکھو کہ ہمارا رسول ایک اکیلا آدمی ہے جس کے ساتھ نہ کوئی طاقتور جتھہ ہے اور نہ کوئی جماعت۔ نہ مال و دولت کی بہتات اور نہ کسی بڑی قوت کی پشت پناہی۔ اس کے باوجود وہ ایک ایسی دعوت پیش کررہا ہے جو ابنائے زمانہ کے مزاج کے خلاف۔ اور ایسے عقائد کے بالکل برعکس ہے جو صدیوں سے لوگوں میں راسخ ہوچکے ہیں۔ ایسا اعلان صرف دو صورتوں میں ہوسکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ کہنے والا نفع و ضرر کے اندازوں کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔ دماغی اختلال کی وجہ سے جو جی میں آئے کہہ گزرے۔ اور اس طرح سے پوری قوم کو اپنا دشمن بنا لے۔ اور دوسری صورت یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث پیغمبر ہو۔ اس کے سامنے نفع و نقصان کے اندیشوں کی کوئی اہمیت نہ ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہو۔ لیکن جس سچائی کے اعلان کے لیے اسے پروردگار نے بھیجا ہے اس سے سرمو انحراف نہ کرے۔
تم جب خالی الذہن ہو کر سنجیدگی کے ساتھ اس معاملے پر غور و فکر کرو گے تو تم پر یہ حقیقت واشگاف ہوجائے گی کہ تمہارے صاحب کو کوئی جنون نہیں۔ کیونکہ اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اس بات پر گواہ ہے کہ مکہ اور اس کے گردوپیش میں کوئی اس سے بڑھ کر عقل و دانش اور متانت کا پیکر نہیں۔ اس کی زندگی کا ایک ایک ورق تمہارے سامنے کھلا ہوا ہے۔ اس نے شب و روز تمہارے سامنے گزارے ہیں، کسی پہلو سے وہ تمہارے لیے اجنبی نہیں۔ تم نے ہر آزمائش میں اس کو صادق اور امین پایا ہے اور قوم نے ہمیشہ اس کی عقل و بصیرت پر اعتماد کیا ہے۔ اب اگر تم اس کی دعوت پر غور کرنے کی بجائے اسے مجنون ٹھہراتے ہو تو یہ تو خود تمہاری اپنی دیوانگی کی دلیل ہے۔
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ ہمارے پیغمبر میں دیوانگی اور جنون کا کوئی اثر نہیں تو پھر اس حقیقت کو ماننے میں تأمل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نذیر بن کر آیا ہے اور جس خطرے کو وہ اپنی نبوت کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے ہمدردی کے تقاضے سے تمہیں اس سے بچانے کے لیے بار بار تمہیں اس سے باخبر کر رہا ہے۔ اس کے دل و دماغ پر ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کے پیغام کی عظمت چھائی ہوئی ہے اور دوسری طرف وہ کسی طرح تمہاری تباہی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس لیے تمہاری تمام تر ناقدریوں، دلآزاریوں اور ستم رانیوں کے باوجود تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے تاکہ تم دنیوی اور اخروی فوزوفلاح کے مستحق بن سکو۔
Ayah 34:47قُلْ مَا سَاَلْـتُـکُمْ مِّنْ اَجْرٍفَھُوَ لَـکُمْ ط اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلَی اللّٰہِ ج وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَہِیْدٌ۔ (السباء : 47)
(کہہ دیجیے میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو تمہارے ہی لیے مانگا ہے، میرا اجر تو بس اللہ پر ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ )
نبی کریم ﷺ کی بےلوثی
انسان کی کج اندیشیوں کے بہت سے حوالے ہیں۔ ان میں سے ایک حوالہ یہ بھی ہے کہ جب کسی کے بارے میں اسے بدگمانی ہوجاتی ہے یا اس سے دشمنی اس کے دل میں اتر جاتی ہے تو پھر اس کی ہر سیدھی بات بھی اسے الٹی دکھائی دیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ جب بھی انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے، آخرت سے ڈراتے، نیکی کی تلقین کرتے، حقوق العباد کی اہمیت واضح کرتے، یتیموں مسکینوں اور غلاموں کا خیال رکھنے کی تلقین فرماتے تو مخالفین یہ کہنا شروع کردیتے کہ دراصل محمد ﷺ اپنا ایک گروہ تیار کررہے ہیں تاکہ اس کی مدد سے لوگوں پر اپنی برتری قائم کریں اور آہستہ آہستہ ایک ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ انھیں درحقیقت اپنی ذات کو بالابلند کرنے کے لیے کوئی سہارا چاہیے اور وہ دین کے نام سے اپنے لیے سہارا تعمیر کرنے کی فکر میں ہیں۔ وہ دعوت و تبلیغ کے راستے میں جو صعوبتیں برداشت کررہے اور مشقتیں جھیل رہے ہیں اس سے ان کے پیش نظر اپنی ذات اور اپنے خاندان کے لیے اقتدار حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ اور یہ جلبِ منفعت کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس پر دین و ایمان اور وحی الٰہی کا غلاف چڑھایا گیا ہے۔ اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ میں جس دین کی دعوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور جس کے ذریعے تمہارے اندر شیرازہ بندی اور مرکزیت پیدا کرنا چاہتا ہوں اور تمہارا اللہ تعالیٰ سے ٹوٹا ہوا رشتہ پھر جوڑنا چاہتا ہوں اور یتیموں اور غلاموں کے حقوق پر زور دیتا ہوں، اس میں میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں، بلکہ ان کا فائدہ انفرادی اور اجتماعی دونوں پہلوئوں سے تمہیں کو حاصل ہوگا۔ تمہاری زندگیوں میں تبدیلی تمہارے بہتر مستقبل کی ضمانت دے گی۔ تم میں باہمی اخوت و محبت تمہارے ہمیشہ کے اختلافات کو ختم کردے گی۔ آج جبکہ تمہیں قوموں میں کوئی مقام حاصل نہیں، ایک وقت آئے گا کہ تمہاری عظمت کو تسلیم کیا جائے گا۔ تمہارے انہی فوائد کے لیے میں شب و روز کوشش کررہا ہوں۔ لیکن یہ ضمنی فوائد ہیں، اصل فائدہ یہ ہے کہ تم آسمانی بادشاہت میں داخل کردیے جاؤ گے۔ رہا میرا اجر وہ میرے اللہ کے ذمہ ہے۔ وہ ہر چیز کو جانتا اور دیکھتا ہے، میری کوئی حقیر سے حقیر خدمت بھی اس سے پوشیدہ نہیں۔ تم جس طرح میرے ساتھ اور میری دعوت کے ساتھ سلوک کررہے ہو وہ بھی اس کی نگاہوں میں ہے اور میں جو کچھ اللہ تعالیٰ کے دین کو پہنچانے کے لیے محنت کررہا ہوں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ میری خدمات کا مجھے بھرپور صلہ دے گا۔
Ayah 34:48قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ ج عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ ۔ (السباء : 48)
(کہہ دیجیے بیشک میرا رب حق کو (باطل پر) پھینک رہا ہے، وہ تمام پوشیدہ باتوں کا خوب جاننے والا ہے۔ )
قذف کا معنی پھینکنا بھی ہوتا ہے اور مارنا بھی۔ پھینکنے میں چونکہ مارنے کا مفہوم بھی مضمر ہوتا ہے اس لیے ہم نے ترجمے میں یہی لفظ اختیار کیا ہے۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ اور ایک تنبیہ
ایک آیت دوسری آیت کی تشریح کرتی ہے۔ چناچہ سورة الانبیاء آیت اٹھارہ میں ارشاد ہے بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی البَاطِلِ فَیَدْمَغُہٗ ” ہم حق کو باطل پر مارتے ہیں، پس وہ اس کا بھیجہ نکال دیتا ہے۔ “
قریش آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت میں شب و روز کی محنت اور اس راستے میں پیش آنے والے مصائب کو دیکھتے تو ایک گونہ تسکین محسوس کرتے کہ یہ صاحب جس چکی میں پس رہے ہیں خودبخود ختم ہوجائیں گے۔ اور ساتھ ہی ساتھ جب وہ دیکھتے کہ آپ کی نرینہ اولاد کوئی نہیں تو آپس میں خوشی کا اظہار کرتے کہ اس شخص کا نام لینے والا بھی دنیا میں کوئی نہیں ہوگا۔ ان کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ان کوتاہ اندیشوں کو اس کا اندازہ نہیں کہ حق کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے ایک خاص مدت کے بعد غالب آجانا لکھا ہے۔ اہل حق جب اپنی سرفروشیوں اور استقامت سے حق کی قیمت ادا کردیتے ہیں تو پھر حق غالب آئے بغیر نہیں رہتا۔ باطل یا تو پسپا ہوجاتا ہے اور یا ناکام و نامراد ہوجاتا ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کی قریش کے ساتھ حق و باطل کی معرکہ آرائی میں ایسا ہی ہوا کہ جنگ بدر میں قریش کی پہلی صف تہہ تیغ ہوگئی اور دوسری صف قیدی بنا لی گئی۔ اور سات سال بعد مکہ سرنگوں ہوگیا۔ اور ایک سال بعد اعلان کردیا گیا کہ کوئی باطل کا پرستار جزیرہ عرب میں باقی نہیں رہ سکتا۔ یہ تو باطل کا وہ انجام ہے جو دنیا میں دیکھا گیا اور جہاں تک آخرت کا تعلق ہے وہاں تو سب کے سامنے حق کو باطل پر مارا جائے گا اور باطل پاش پاش ہو کے رہ جائے گا۔
عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ سے اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اہل باطل کو شاید اندازہ نہیں کہ نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں۔ آپ کی پشت پناہی اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔ کیونکہ آپ جس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے شب و روز کوشاں ہیں اس کے لیے آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں۔ اور اس پروردگارِعالم کا حال یہ ہے کہ وہ تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے، کوئی بات اس سے مخفی نہیں۔ قریش جو کچھ حق کا راستہ روکنے کے لیے کررہے ہیں ایک ایک چیز اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ وہ یہاں بھی اپنے علم کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کرے گا اور آخرت میں بھی اسے کسی چیز کا فیصلہ کرنے میں زحمت پیش نہیں آئے گی۔
Ayah 34:49قُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَمَا یُبْدِیُٔ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُ ۔ (السباء : 49)
(کہہ دیجیے کہ حق آگیا اور باطل نہ ابتداء کرتا ہے اور نہ پھیر کر لاتا ہے۔ )
باطل کی بےثباتی
سورة بنی اسرائیل کی ایک آیت میں جَآئَ الْحَقُّ کے بعد زھق الباطل ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معنوی طور پر یہاں بھی زھق الباطل کے الفاظ حذف ہیں۔ اور بعد کا جملہ اس کی تائید بھی کررہا ہے۔ یعنی جس طرح حق و باطل کی جب کشمکش ہوتی ہے تو حق باطل کی سرکوبی کرتا ہے۔ اسی طرح جب حق آجاتا ہے تو حق و باطل کی کشمکش کے نتیجے میں باطل پسپا ہوجاتا ہے۔ قریش سے دراصل یہ کہا جارہا ہے کہ اب جبکہ حق آگیا ہے یعنی قرآن نازل ہوگیا اور نبی کریم ﷺ حجت بن کر دنیا میں تشریف لے آئے تو اب باطل اس کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتا۔ تو جو لوگ آج باطل کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں وہ درحقیقت ایک گرتے ہوئے گھر کی پاسبانی کررہے ہیں۔ اس کے بعد کے جملے میں باطل کی بےثباتی کی دلیل بیان کی گئی ہے۔ اور وہ دلیل یہ ہے کہ مشرکین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کائنات کی تخلیق کا آغاز اس کے خالق نے حق کے ساتھ فرمایا۔ یعنی اس کی تخلیق میں کسی اور قوت کا کوئی دخل نہیں۔ اس سے خودبخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب اس کائنات کے ابداء و آغاز میں کسی باطل اور کسی اہل باطل کا کوئی دخل نہیں۔ تو جب اس کائنات کا اعادہ ہوگا یعنی قیامت برپا ہوگی اور ازسرنو جن و انس کو اٹھایا جائے گا تو اس وقت کسی باطل کی آمیزش کیسے ہوسکتی ہے۔ سورة یونس میں اسی مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے :
اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا ط وَعْدَاللّٰہِ حَقًّا ط اِنَّـہٗ یَبْدَئُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوالصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ ۔
” اسی کی طرف تم سب کی واپسی ہونی ہے، یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے، بیشک وہی خلق کا آغاز فرماتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ فرمائے گا تاکہ وہ ان لوگوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے۔ “
Ayah 34:50قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَآ اَضِلُّ عَلٰی نَفْسِیْ ج وَاِنِ اھْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْٓ اِلَیَّ رَبِّیْ ط اِنَّـہٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ۔ (السباء : 50)
(کہہ دیجیے اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہے، اور اگر میں سیدھے راستے پر ہوں تو یہ اس سبب سے ہے کہ میرا رب مجھ پر وحی بھیجتا ہے، بیشک وہ سب کچھ سنتا ہے، نزدیک ہے۔ )
وحیِ الٰہی کی تکذیب کا انجام
آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ یہ لوگ جو نہایت جارحانہ انداز میں آپ کی مخالفت کررہے ہیں تو انھیں کہئے کہ اگر میں تمہاری نگاہ میں ایک گمراہ آدمی ہوں تو پھر تم میری مخالفت کیوں کررہے ہو۔ کیونکہ میری گمراہی کا وبال بہرحال مجھ ہی پر پڑے گا۔ لیکن اگر میں ہدایت پر ہوں تو پھر سوچ لو کہ تمہاری مخالفت کیا نتائج پیدا کرے گی۔ کیونکہ میرا ہدایت پر ہونا میرے ذاتی خیالات کا نتیجہ نہیں بلکہ اس وحی کا نتیجہ ہے جو میرے رب کی طرف سے مجھ پر اترتی ہے۔ تم جب میری مخالفت کرتے ہو تو درحقیقت میری مخالفت نہیں کرتے ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحی، اس کی ہدایت اور اس کے احکام کو جھٹلاتے ہو۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ تاریخ میں جن قوموں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر نازل ہونے والے دین کی مخالفت کی، ان کا انجام کیا ہوا۔ آج وہ عبرت کے طور پر تاریخ میں یاد کیے جاتے ہیں۔ تو تم بھی اگر اسی وحی اور اسی ہدایت کی مخالفت کررہے ہو تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اسی انجام سے دوچار کیے جاؤ جس سے سابقہ امتیں ہوچکی ہیں۔
آخر میں فرمایا کہ میں نے ازراہِ ہمدردی تمہیں اس انجام سے باخبر کیا ہے جس کی طرف تم اپنے کرتوتوں کے باعث تیزی سے بڑھ رہے ہو۔ لیکن اگر تم اس پر بھی اپنے رویّے پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہو تو پھر تم سے کچھ کہنا بےسود ہے، میں تمہارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔ اور اسی کے سامنے اپنی معروضات پیش کروں گا۔ کیونکہ وہ سننے والا بھی ہے اور قریب بھی ہے۔ اس بات کا اندیشہ نہیں کہ میری فریاد اس تک نہیں پہنچے گی۔ اور اس بات کا بھی ڈر نہیں کہ وہ شاید سن نہیں سکے گا۔ کیونکہ وہ ہر وقت سنتا ہے اور شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔
Ayah 34:51وَلَوْتَرٰٓی اِذْ فَزِعُوْا فَلاَ فَوْتَ وَاُخِذُوْا مِنْ مَّکَانٍ قَرِیْبٍ ۔ وَقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِہٖ ج وَاَنّٰی لَھُمُ التَّـنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ م بَعْیِدٍ ۔ (السباء : 51، 52)
(کاش آپ دیکھتے جب یہ گھبرائے پھر رہے ہوں گے، پس وہ کہیں بھاگ نہ سکیں گے اور قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے۔ اور وہ کہیں گے ہم اس پر ایمان لے آئے حالانکہ اب کہاں ان کا ہاتھ پہنچ سکتا ہے بعید جگہ سے۔ )
قیامت کے روز متکبرین کی بےبسی
آج جبکہ مخالفین اور معاندین آپ کی بات سننے کے روادار نہیں اور ان کے استکبار کا عالم یہ ہے کہ پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دے رہے لیکن وقت نزع یا قیامت کے دن کاش آپ ان کا حال دیکھتے۔ پھر جوابِ شرط کو محذوف فرما کر اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ دنیا میں اس کی منظرکشی کسی اور منظر کے حوالے سے یا کسی تشبیہ کے ذریعے ممکن نہیں۔ آج جبکہ ان کا استکبار دیکھنے کے لائق ہے لیکن قیامت کے دن ان کی بےبسی اور ان کی ذلت اور رسوائی دیکھنے کے قابل نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو سامنے دیکھ کر گھبرا کر بھاگنے کی کوشش کریں گے کہ کسی طرح اس عذاب سے بچ جائیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نہ اس سے پہلے کوئی بچا ہے اور نہ یہ بچ سکیں گے۔ جیسے ہی بھاگنا چاہیں گے قریب ہی سے ہاتھ آگے بڑھے گا اور ان کو اپنی تحویل میں لے لے گا۔ ایسا معلوم ہوگا کہ پکڑنے والا ہاتھ پہلے ہی سے ان کو اپنے حصار میں لے چکا تھا۔ جب وہ دیکھیں گے کہ ہمارے بچ نکلنے کے تمام راستے بند ہوچکے ہیں اور قدرت کا ہاتھ ہمیں اپنی گرفت میں لے چکا ہے تو ان کی بےبسی ان کی اصل حقیقت اور پیغمبر کی دعوت کی صداقت کو ان پر منکشف کردے گی۔ اور وہ فرعون کی طرح کہ جب قلزم کی موجوں نے اسے پکڑا تو وہ پکار اٹھا کہ وہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے رب پر ایمان لایا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو یہ جواب ملا اَلْئٰـنَ وَقَدْعَصَیْتَ مِنْ قَبْلُ ” اب ایمان لائے، حالانکہ تم نے اس سے پہلے نافرمانی کی۔ “ یہ بھی پکار اٹھیں گے کہ ہم اس پر ایمان لے آئے۔ ضمیر کا مرجع قرآن کریم بھی ہوسکتا ہے اور نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی بھی۔ اور وہ تمام تعلیمات بھی ہوسکتی ہیں جن کی دعوت نبی کریم ﷺ دے رہے تھے۔ اور ان کے ایمان کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا جائے گا کہ ایمان کی جگہ تو دنیا ہے کیونکہ وہی دارالعمل ہے۔ آخرت تو دارالجزاء ہے۔ اور وہ دارالعمل تم اپنے پیچھے بہت دور چھوڑ آئے ہو۔ اب ان کے لیے اس چیز کا پالینا کسی طرح ممکن نہیں جسے وہ بہت دور چھوڑ آئے ہیں۔
تَنَاوُشُکا معنی ہاتھ بڑھا کر کسی چیز کو اٹھا لینے یا پکڑ لینے کے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ہاتھ بڑھا کر وہی چیز اٹھائی جاسکتی ہے جو بہت دور نہ ہو، ہاتھ وہاں تک پہنچ سکے۔
Ayahs 34:52–53وَّقَدْکَفَرُوْا بِہٖ مِنْ قَبْلُ ج وَیَـقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّکَانٍ م بَعِیْدٍ ۔ (السباء : 53)
(اور اس سے پہلے یہ کفر کرچکے تھے اور دور سے اٹکل کے تیرت کے چلاتے رہے۔ )
قذف کے معنی کوئی چیز پھینک کر مارنے کے آتے ہیں۔ قَذَفَ بِالْحِجَارَۃ کے معنی ہیں اس نے پتھر پھینکا۔ قذف بالقول بےسوچے سمجھے بات پھینک ماری۔ یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جو شخص بلادلیل محض اپنے خیال سے باتیں کرتا ہے اس کو رجم بالغیب اور قذف بالغیب کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب دیکھنے کے بعد وہ ایمان کا اقرار کریں گے۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ اس کا انکار کرچکے اور دور سے بےسروپا باتیں کہتے رہے اور اٹکل کے تیر تکے چلاتے رہے۔ طرح طرح کے اعتراض کرتے، الزامات لگاتے، آوازے کستے اور فقرے چست کرتے تھے، کبھی اللہ تعالیٰ کی کتاب کو من گھڑت قرار دیتے، کبھی اللہ تعالیٰ کے رسول کو مجنون اور کبھی ساحر کہتے۔ آخرت کے حوالے سے عجیب و غریب باتیں چھانٹتے۔ اور اب جبکہ عذاب سامنے آگیا ہے تو انھیں ایمان کا دعویٰ سوجھا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اقرار بعداز وقت اور محض دفع الوقتی ہے۔
Ayah 34:54وَحِیْلَ بَیْنَھُمْ وَبَیْنَ مَایَشْتَھُوْنَ کَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِہِمْ مِّنْ قَبْلُ ط اِنَّھُمْ کَانُوْا فِیْ شَکٍّ مُّرِیْبٍ ۔ (السباء : 54)
(اور ان کے اور ان کی چاہتوں کے درمیان دیوار حائل کردی جائے گی، جس طرح اس سے پہلے ان کے ہم مشربوں کے ساتھ کیا گیا، بیشک وہ بھی گمراہ کن شک میں پڑے رہے۔ )
امیدوں کا اختتام
گزشتہ آیت کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ لوگ عذاب کو سامنے دیکھ کر ایمان لانے کا اعلان کریں گے، لیکن اس کو بری طرح رد کردیا جائے گا۔ وہ مہلت کی درخواست کریں گے کہ ہمیں ایک دفعہ پھر دنیا میں جانے کی اجازت دی جائے وہاں ہم وہی زندگی اختیار کریں گے جس کی دعوت اللہ تعالیٰ کے رسول دیتے رہے ہیں اور ہم کسی مرحلے پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کریں گے۔ لیکن ان کی اس درخواست کو بھی شرف قبول نہیں بخشا جائے گا۔ دنیا میں جن قوتوں کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا تھا اور جن کی شفاعت کے بھروسے پر انھوں نے زندگی گزاری تھی، وہ آرزو کریں گے کہ شاید وہ ان کے کام آئیں۔ لیکن کہیں بھی کوئی فریاد رسی نہیں ہوگی۔ اس طرح سے ان کے اور ان کی تمام چاہتوں کے درمیان دیوار حائل کردی جائے گی۔ اور امید کے تمام دروازے ان پر بند کردیے جائیں گے۔ ایک ایسی مایوسی کا بادل ان پر چھا جائے گا جس سے کبھی نکلنا نہیں ہوگا۔ اور یہ اسی صورتحال سے دوچار ہوں گے جس طرح کی صورتحال سے ان سے پہلے کی معذب قومیں دوچار ہوچکی ہیں۔ اَشْیَاع شیعہ کی جمع ہے۔ کسی شخص کے تابع اور ہم خیال کو اس کا شیعہ کہا جاتا ہے۔ اس سے اشارہ ان قوموں کی طرف ہے جو اس سے پہلے اپنے رسولوں کی تکذیب کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوچکی ہیں۔ انھوں نے بھی اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کی دعوت کے مقابلے میں نہایت سرکشی اور تکبر کا اظہار کیا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کے عذاب نے آپکڑا تو ساری ہیکڑی بھول گئی اور لگے اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگنے اور اپنی نیکی کا یقین دلانے۔ لیکن ان میں سے کسی کی درخواست کی شنوائی نہ ہوسکی۔ آخر وہ عذاب کی نذر کردیے گئے۔ قرآن کریم کے مخاطب اگر انھیں کی طرح اپنی حالت پر غور نہیں کرتے اور اپنے طرزعمل میں تبدیلی پیدا نہیں کرتے تو یقینا اسی انجام سے دوچار ہوں گے جس انجام سے وہ قومیں دوچار ہوئیں۔