34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsروح القرآن

Ayah 34:26

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

کہہ دیجیے، ہمارا رب ہم سب کو جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے گا، اور وہی فیصلہ فرمانے والا اور علم والا ہے

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ ط وَھُوَالْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ ۔ (السباء : 26) (کہہ دیجیے، ہمارا رب ہم سب کو جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے گا، اور وہی فیصلہ فرمانے والا اور علم والا ہے۔ ) بات کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اگر تم ہماری بات ماننے کو تیار نہیں ہو تو نہ مانو، لیکن یہ بات کبھی نہ بھولو کہ ہمارے اور تمہارے درمیان حق و باطل کا اختلاف ہے، کوئی معمولی اختلاف نہیں۔ اور یہ بات طے ہے کہ ہم میں سے ایک حق پر ہے اور دوسرا باطل پر۔ آج اگر اس کا فیصلہ ہوتا نظر نہیں آتا تو اللہ تعالیٰ ایک ایسا دن لائے گا جس میں وہ ہم سب کو حاضر کرے گا۔ اس دن وہ فیصلہ کرے گا کہ ہم میں سے کون حق پر تھا اور کون باطل پر۔ اور ہمارے رب کی شان یہ ہے کہ وہ ہر چیز کا پورا پورا علم رکھنے والا ہے، کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے۔ وہ ہمارے طرزعمل کا فیصلہ بھی کرے گا اور ہماری نیتوں کے پیچ بھی کھولے گا۔
Ayah 34:27

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

کہئے، ذرا مجھے دکھائو تو سہی ان ہستیوں کو جنھیں تم نے شریک بنا کر اس کے ساتھ جوڑ رکھا ہے، ہرگز نہیں ! بلکہ وہ اللہ عزیزوحکیم ہے

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِہٖ شُرَکَآئَ کَلاَّ ط بَلْ ھُوَاللّٰہُ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (السباء : 27) (کہئے، ذرا مجھے دکھائو تو سہی ان ہستیوں کو جنھیں تم نے شریک بنا کر اس کے ساتھ جوڑ رکھا ہے، ہرگز نہیں ! بلکہ وہ اللہ عزیزوحکیم ہے۔ ) سابقہ سوال نئے اسلوب میں اس رکوع کے آغاز میں جو بات فرمائی گئی تھی اسی کا دوسرے اسلوب میں اعادہ کیا گیا ہے۔ البتہ اس کا انداز طنزوتحقیر اور تہدیدو وعید کا ہے۔ یعنی تم نے گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی شانیں دیکھی ہیں، اس کی کبریائی اور عظمتوں کے حوالے پڑھے ہیں اور اس کے بیشمار احسانات کا تذکرہ سنا ہے۔ ایسی باتوں کے بعد اس بات کا کوئی امکان باقی نہیں رہ جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔ لیکن تم ہو کہ تم نے بعض قوتوں کو شریک کے طور پر اس کے ساتھ چپکا رکھا ہے۔ ہمیں دکھائو تو سہی کہ ایسی کون سی عظیم ہستیاں ہیں جنھیں دیکھ کر اور محسوس کرکے ان پر خدا ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ ہرگز نہیں ! اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی دوسرے کا تصور بھی ناممکن ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی صفات کا صحیح ادراک نصیب نہیں ہوسکا۔ اور کچھ نہیں تو ان دو صفات پر مراقبہ کرو کہ وہ عزیز ہے اور حکیم ہے۔ وہ سب کی رسائی سے بالاتر اور ہر چیز پر غالب و مقتدر ہے۔ اسی طرح اس کا ہر فعل اپنے اندر غایت و حکمت کا خزانہ رکھتا ہے۔ اور کائنات کا گوشہ گوشہ اس کی ان صفات پر گواہ ہے، اس کی ہر مخلوق اس کی صفت تخلیق کی بےپناہی پر دلالت کرتی ہے۔ کائنات میں ہونے والے تغیرات اس کے بےلاگ عدل اور بےپناہ قدرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کائنات کے حسن و قبح اور بقاء و فنا کے فیصلے اس کی حکمت کی گہرائیوں کی گواہی دیتے ہیں۔ اگر انھیں ان دو صفات کی حقیقتوں کا بھی ادراک ہوتا تو یہ کبھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک بنانے کی حماقت نہ کرتے۔
Ayah 34:28

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ! ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (السباء : 28) (اور اے پیغمبر ! ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ ) اس آیت کریمہ میں متعدد حقائق کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ چند حقائق کی طرف توجہ 1 آنحضرت ﷺ کو صرف اہل مکہ کی ہدایت کے لیے مبعوث نہیں فرمایا گیا بلکہ آپ کی بعثت و رسالت تمام نوع انسانی کی طرف ہے۔ اس لحاظ سے اہل مکہ کو آپ کی ذات اور آپ کے پیغام کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے سو دفعہ سوچنا چاہیے کہ ان کا واسطہ کس عظیم شخصیت سے ہے۔ اگر انھوں نے آپ کی رسالت کا ہر اول دستہ بننے کی عزت سے اپنے آپ کو محروم رکھا تو یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ان کی ناقدری کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کا مشن نامکمل رہ جائے۔ کیونکہ : وہ چنگاری خس و خاشاک سے کیونکر دب جائے جسے حق نے کیا ہو نیستاں کے واسطے پیدا اللہ تعالیٰ اس عظیم منصب کے تحمل کے لیے کسی اور گروہ اور قوم کو توفیق دے دے گا اور وہ حق کی اس مشعل کو لے کر وہاں تک پہنچیں گے جہاں اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا۔ اس لیے قریش کو سو دفعہ سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے رویّے سے اپنے آپ کو اس افتخار سے محروم نہ رکھیں۔ 2 قرآن کریم میں یہ بات ایک سے زیادہ مرتبہ دہرائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رسول دنیا میں حق کی حجت بن کر آتا ہے۔ اس کی تکذیب اور پھر اس کے پیغام اور اس کی ذات کو روکنے اور ختم کرنے کی سازشیں اور کوششیں دیر تک جاری نہیں رہ سکتیں۔ آخر پروردگار اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد یا تو اپنے رسول کے مشن کو کامیاب کردیتا ہے اور یا تکذیب کرنے والی قوم عذاب کا شکار ہوجاتی ہے۔ آنحضرت ﷺ تو صرف رسول ہی نہیں، آخری رسول ہیں۔ آپ انسانوں کی ہدایت و فلاح کے لیے مبعوث کیے گئے ہیں۔ اس کام کی تکمیل کے لیے کوئی اور نبی نہیں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے اس کام کو مکمل فرمائے گا۔ قریش نے اگر اس میں تعاون نہ کیا تو وہ تحلیل کردیے جائیں گے۔ اور اس کام کی تکمیل میں دوسرے لوگوں کو عزت و افتخار ملے گا۔ 3 اہل کتاب اپنے اس حسد کی آگ میں جل رہے ہیں کہ آخری رسول بنی اسرائیل میں آنے کی بجائے بنی اسماعیل میں کیوں آیا۔ انھیں تنبیہ کی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا آخری رسول کسی ایک نسل یا کسی ایک قوم کی طرف مبعوث نہیں ہوا بلکہ وہ ایسا منارہ نور ہے جس کی روشنی چاردانگِ عالم میں پھیلے گی اور نوع انسانی مقدور بھر اس سے فائدہ اٹھائے گی۔ اہل کتاب نے اگر صحیح فیصلہ نہ کیا تو وہ ہمیشہ کے لیے محرومی کی ذلت میں دفن کردیے جائیں گے۔ چناچہ تاریخ نے مذکورہ بالا تینوں باتوں کی حرف بہ حرف تصدیق کی۔ اس آیت کریمہ میں کَآفَّۃً کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ علامہ قرطبی اس کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہکآفَّۃًً کا معنی ہے عَامَّۃ یعنی ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کے بھیجا ہے۔ زجاج نے کہا الکافۃ کا معنی ہے الجامع یعنی ہم نے آپ کو انذار وتبشیر میں تمام لوگوں کو جمع کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا معنی ہے منع کرنے والا۔ یعنی ہم نے آپ کو اس لیے بھیجا ہے کہ آپ تمام لوگوں کو کفر سے منع کریں اور اسلام کی دعوت دیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو قیامت تک نوع بشری کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا اور قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس کا ذکر بھی فرمایا۔ مثلاً : وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْ م بَلَغَ ۔ (الانعام : 19) (اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے میں تم کو متنبہ کروں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے) ۔ قُلْ یٰٓـاَیُّھَاالنَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا۔ (الاعراف، 158) (اے نبی کہہ دو کہ اے انسانو، میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں) وَمَا اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ رَحْمَۃَ لِلْعَلٰمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 107) (اور اے نبی، ہم نے نہیں بھیجا تم کو مگر تمام جہان والوں کے لیے رحمت کے طور پر) تَبٰـرَ کَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰالَمِیْنَ نَذِیْراً ۔ (الفرقان، 1) (بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ تمام جہان والوں کے لیے متنبہ کرنے والا ہو) یہی مضمون نبی کریم ﷺ نے خود بھی بہت سی احادیث میں مختلف طریقوں سے بیان فرمایا ہے۔ مثلاً : بُعِثْتُ اِلَی الْاَحْمَرِ وَالْاَسْوَدِ (مسند احمد، مرویات ابوموسیٰ اشعری ؓ (میں کالے اور گورے سب کی طرف بھیجا گیا ہوں) امّا انا فارسلتُ الی الناس کلھم عامۃ و کان من قبل انما یُرْسَلُ الٰی قومہِ (مسنداحمد، مرویات عبداللہ بن عمروبن عاص) (میں عمومیت کے ساتھ تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ حالانکہ مجھ سے پہلے جو نبی بھی گزرا ہے وہ اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا) وکان النبی یبعث الیٰ قومہ خاصۃ وبعثت الی الناس عامۃ (بخاری و مسلم، من حدیث جابر بن عبداللہ) (پہلے ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں تمام انسانوں کے لیے مبعوث ہوا ہوں) بعثت انا والساعۃ کھاتین یعنی اصبعین (بخاری و مسلم) (میری بعثت اور قیامت اس طرح ہیں، یہ فرماتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے اپنی دو انگلیاں اٹھائیں) حضرت جابر بن عبداللہ ( رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے نبیوں میں کسی کو نہیں دی گئیں۔ 1 ایک ماہ کی مسافت سے میرا رعب طاری کردیا گیا ہے، 2 میرے لیے تمام روئے زمین کو مسجد اور آلہ تیمم بنادیا گیا ہے۔ میری امت میں سے جس شخص پر جہاں بھی نماز کا وقت آجائے، وہ وہیں نماز پڑھ لے، 3 میرے لیے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے، 4 پہلے ہر نبی کو ایک مخصوص قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں، 5 مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے۔
Ayah 34:29

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں وہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو

وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْـتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (السباء : 29) (اور یہ لوگ کہتے ہیں وہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔ ) مخالفین کی ضد اور استہزاء تعجب ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو یہ بتایا جارہا ہے کہ ہم نے آنحضرت ﷺ کو پوری نوع انسانی کی طرف بشیر اور نذیر بنا کے بھیجا ہے تو وہ بجائے اس کے کہ آپ کے انذار سے متنبہ ہو کر اپنے آپ کو بچانے کی فکر کریں آنحضرت ﷺ پر طعن توڑتے اور استہزاء کرتے ہوئے یہ سوال کرتے ہیں کہ تم بار بار ہمیں قیامت کے آنے سے ڈراتے رہتے ہو اور یہ کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور اسی رکوع میں پیچھے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایک دن ضرور جمع کرے گا اور ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرے گا تو آخر وہ وقت کب آئے گا۔ ہم تو تمہیں بار بار جھٹلا چکے ہیں اور ہم نے تمہاری مخالفت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ تو اگر تم واقعی اپنے دعوے میں سچے ہو تو پھر یہ فیصلے کا وقت کیوں نہیں آجاتا۔
Ayah 34:30

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ تمہارے لیے ایک ایسے دن کی میعاد مقرر ہے جس سے نہ تم ایک گھڑی پیچھے ہٹو گے اور نہ آگے بڑھو گے

قُلْ لَّـکُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لاَّتَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْہُ سَاعَۃً وَّلاَ تَسْتَقْدِمُوْنَ ۔ (السباء : 30) (اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ تمہارے لیے ایک ایسے دن کی میعاد مقرر ہے جس سے نہ تم ایک گھڑی پیچھے ہٹو گے اور نہ آگے بڑھو گے۔ ) قیامت کی آمد تمہاری خواہشات کے تابع نہیں اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت کا آنا تو یقینی ہے اس کے لیے ایک دن یعنی ایک وقت بھی مقرر کردیا گیا ہے لیکن اس کا آنا تمہاری خواہشات کے تابع نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر کام اس کی مشیت اور اس کی حکمت کے تابع ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق اپنے امور سرانجام دیتا ہے۔ اس نے انسانوں کو قیامت کی تیاری کے لیے مہلت دے رکھی ہے۔ یہ مہلت کب ختم ہوگی اور اس میں کتنے اشخاص اور کتنی قومیں آزمائی جائیں گی اور وہ وقت کب آئے گا جب اس دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی، اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہ ہر قوم کو اتنی مہلت ضرور دیتا ہے کہ جس کی وجہ سے وہ قیامت میں عذر پیش نہ کرسکے۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کا کام لوگوں کو قیامت سے ڈرانا اور آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ اس کی تیاری کرلیں۔ ان کا کام اس کا وقت بتانا نہیں۔ جس طرح وہ ہر شخص کو موت سے ڈراتے ہیں تاکہ آخرت کی تیاری کرے لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ اسے موت کب آئے گی۔ موت کے وقت کا علم نہ ہونے کے باوجود انسان اس کا یقین رکھتا ہے۔ اسی طرح پیغمبر جو معصوم ہوتے ہیں اور جن کی کسی بات پر کذب کا دھوکہ نہیں ہوتا اور وہ ہر طرح کی غلط بیانی سے مبرا ہوتے ہیں، قیامت کے بارے میں ان کی دی ہوئی خبر پر بھی یقین افراد اور اقوام کی نجات اور فلاح کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جو وقت مقرر کر رکھا ہے اس میں پس و پیش کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس میں نہ تقدیم ہوگی نہ تاخیر۔
Ayah 34:31

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا کہ ہم ہرگز اس قرآن کو نہیں مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب پر ایمان لائیں گے، کاش آپ دیکھتے ان کا حال اس وقت جبکہ یہ ظالم اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے اس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے، جو لوگ دبا کر رکھے گئے وہ ان لوگوں سے کہیں گے جنھوں نے تکبر کیا، اگر تم لوگ نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے

وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلاَ بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ ط وَلَوْتَرٰٓی اِذِا الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ ج صلے یَرْجِعُ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضِ نِ الْقَوْلَ ج یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَـکْبَرُوْا لَوْلَآ اَنْـتُمْ لَـکُنَّا مُؤْمِنِیْنَ ۔ (السباء : 31) (ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا کہ ہم ہرگز اس قرآن کو نہیں مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب پر ایمان لائیں گے، کاش آپ دیکھتے ان کا حال اس وقت جبکہ یہ ظالم اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے اس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے، جو لوگ دبا کر رکھے گئے وہ ان لوگوں سے کہیں گے جنھوں نے تکبر کیا، اگر تم لوگ نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔ ) مخالفین کا عناد اور قیامت کے روز ان کا حال آنحضرت ﷺ کو دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں مخالفین اور معاندین کی طرف سے جو صورتحال پیش آتی تھی اس کے ہزار رنگ تھے۔ طبیعتوں اور مزاجوں کے اختلاف نے کہیں اسے اعتراضات کی شکل دے رکھی تھی اور کہیں تمسخر اور استہزاء کی صورت پیدا کردی تھی۔ اور کبھی برہنہ انکار کی شکل میں ان کا بغض اپنی نمود دکھاتا تھا۔ چناچہ اسی کا عکس دکھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ان کی معاندت اور مخالفت اب اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ وہ صاف صاف یہ کہنے لگے ہیں کہ قرآن کریم کو اپنی فصاحت و بلاغت، معنوی ربط و ارتباط اور انسانی زندگی کے مسائل کے حل کے لیے ایک مکمل نظام کے باوجود ہم نہ ماننے کے لیے تیار ہیں اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کرتے ہیں۔ آپ دلائل کی قوت سے ہزار کام لیجیے اور آپ کا حُسنِ سلوک چاہے کتنا بھی موثر ہو اور اس سے پہلے جو آسمانی کتابیں آچکی ہیں وہ اپنے اندر صداقت کے کیسے بھی پہلو رکھتی ہوں یہ ہمارا اٹل فیصلہ ہے کہ ہم کسی کو بھی ماننے کے لیے تیار نہیں۔ اور بعض لوگوں نے اسے عذاب اور قیامت کی طرف اشارہ قرار دیا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نہ ہم قرآن کریم کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ اس عذاب اور قیامت ہی کو مانتے ہیں جن کی آپ بھی اور قرآن بھی بار بار خبر دیتے ہیں۔ جب تک آپ ہمارے مطالبات کے مطابق معجزات نہ دکھائیں جو ہمارے انکار اور تمرد کے ہر پہلو کو توڑ کر رکھ دیں۔ قرآن کریم اظہارِافسوس کرتے ہوئے ان کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ آج تو یہ لوگ بڑھ چڑھ کر نہایت سرکشی کے ساتھ آپ کی دعوت کا مذاق اڑاتے ہیں اور انکار بھی کرتے ہیں۔ لیکن قیامت کے روز جس کی آمد پر انھیں یقین نہیں، جب یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے کیے جائیں گے تو اس وقت ان کی ساری ہیکڑی نکل جائے گی۔ کسی بات کا جواب دینے کی بجائے جب اپنی آنکھوں سے اصل حقیقت کو دیکھ لیں گے تو آج جن لوگوں کے پیچھے آنکھیں بند کرکے بھاگے چلے جارہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی بات سننے کے لیے تیار نہیں اس وقت انھیں رہنمائوں پر پلٹ پڑیں گے اور چیخ چیخ کر کہیں گے کہ کم بختو تم نے ہمیں گمراہ کیا۔ اگر تم ہمیں گمراہ نہ کرتے تو ہم آج اپنے اس ہولناک انجام سے دو چار نہ ہوتے۔ ہم تمہارے دست نگر اور جاہل لوگ تھے، تم نے اپنے علم اور آگہی کے بل بوتے پر اور اپنے مال و دولت کے اثرات سے اس بری طرح ہمیں بہکایا کہ ہم تمہارے چنگل سے کبھی نہ نکل سکے۔ اگر تمہارے فریب کا یہ جال اتنا مضبوط نہ ہوتا تو ہم یقینا ایمان لانے والے ہوتے۔
Ayah 34:32

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

وہ لوگ جو بڑے بنے رہے ان لوگوں کو جو دبا کے رکھے گئے، جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں اس ہدایت سے روکا تھا جبکہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی، بلکہ تم خود ہی مجرم تھے

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَـکْبَرُوا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْٓا اَنَحْنُ صَدَدْنٰـکُمْ عَنِ الْھُدٰی بَعْدَ اِذْجَآئَ کُمْ بَلْ کُنْـتُمْ مُّجْرِمِیْنَ ۔ (السباء : 32) (وہ لوگ جو بڑے بنے رہے ان لوگوں کو جو دبا کے رکھے گئے، جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں اس ہدایت سے روکا تھا جبکہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی، بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔ ) گزشتہ بات کی وضاحت ہر معاشرے میں کچھ لوگ رہنمائی کرتے اور قیادت و سیادت کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ اور کچھ لوگ پیچھے چلنے والے ہوتے ہیں۔ رہنمائی کرنے والے بالعموم طبقہ امراء کے لوگ، سیاستدان، قبیلوں اور برادریوں کے سردار، علماء و پیشوا ہوتے ہیں۔ اور پیچھے چلنے والے غریب لوگ، امراء کے دست نگر، برادریوں میں پسے ہوئے علماء اور پیشوائوں کے متوسلین اور مسترشدین ہوتے ہیں۔ یہ رہنمائی کرنے والے تمام طبقوں کے لوگ اپنے پیچھے چلنے والوں کو جواب دیں گے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے آخری رسول کی معرفت ہدایت تمہارے پاس آچکی تھی اور اس سے زندگی کا ہر گوشہ منور ہورہا تھا اللہ تعالیٰ کے رسول نے دلائل اور اپنے بلند کردار سے اپنی دعوت کو دماغوں کے لیے قابل قبول بنادیا تھا، تو تم نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ اس لیے نہیں کہ ہم نے تمہیں روکا تھا بلکہ اس لیے کہ تمہاری اپنی خواہشاتِ نفس زندگی کے اس تصور میں اپنے لیے کھل کھیلنے کا موقع نہیں پاتی تھیں جو اللہ تعالیٰ کے رسول لے کے آئے تھے۔ افرادی قوت تمہارے پاس تھی۔ ہر سیادت و قیادت کی سرگرمی اور قوت کا سرچشمہ تم لوگ تھے۔ تمہاری تائید و نصرت سے اقتدار کے تیور بدلتے اور اقتدار کے دروازے کھلتے تھے۔ تمہاری فتوحات اور تمہارے نذرانے علماء اور پیشواء کی اصل طاقت تھے۔ اگر تم ان میں سے ہر چیز کو صحیح محمل میں خرچ کرتے اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی بجائے زندگی کی صحیح ڈگر پر چلنے کی کوشش کرتے اور تمہارے پیش نظرصرف حق کی پیروی اور صحیح نظام کو بروئے کار لانا ہوتا تو تم حق سے کبھی ابا نہ کرتے۔ تم نے اپنی آخرت کا سودا نام نہاد پیروں کی دامن گرفتگی سے کیا۔ تمہیں خواہشاتِ نفس کی تسکین دنیا دار لیڈروں کی پیروی میں نظر آئی تو تم نے ان کے ہاتھ مضبوط کیے۔ ہمارے پیش نظر اگر اپنی ذات، اپنا مفاد اور اپنا اقتدار تھا، تو تمہارے سامنے بھی اپنی ذات اور اپنے مفاد کے سوا کچھ نہ تھا۔ حقیقت میں ہم نے صرف دنیا طلبی کے لیے ایک دوسرے سے سودا کیا۔ نہ ہم نے تمہیں بہکایا اور نہ تم ہمارے بہکاوے میں آئے۔ تمہارے سامنے اپنی زندگی کا مفاد رہا اور ہمارے سامنے اپنا۔ اس لیے آج ہم جس انجام کو ہم پہنچ رہے ہیں ہم نے خود اس کا بیج بویا تھا اور اس کے اسباب پیدا کیے تھے اس لیے بہتر ہے اس کی ذمہ داری کو قبول کریں، ایک دوسرے کو الزام دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔
Ayah 34:33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور دبے ہوئے لوگ ان لوگوں سے کہیں گے جنھوں نے تکبر کیا بلکہ تمہاری رات دن کی مکاری تھی (جو مقبولِ حق میں مانع ہوئی) جبکہ تم ہمیں سمجھاتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرائیں اور دلوں میں نادم ہوں گے جب عذاب کو دیکھیں گے، ہم ان کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے، وہ بدلہ نہیں دیے جائیں گے مگر جو وہ کرتے تھے

وَقَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَـکْبَرُوْا بَلْ مَکْرُ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ اِذْتَاْمُرُوْنَنَـآ اَنْ نَّـکْفُرَبِاللّٰہِ وَنَجْعَلَ لَـہٗٓ اَنْدَادًا ط وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ ط وَجَعَلْنَا الْاَغْلٰـلَ فِیْٓ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط ھَلْ یُجْزَوْنَ اِلاَّ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (السباء : 33) (اور دبے ہوئے لوگ ان لوگوں سے کہیں گے جنھوں نے تکبر کیا بلکہ تمہاری رات دن کی مکاری تھی (جوقبولِ حق میں مانع ہوئی) جبکہ تم ہمیں سمجھاتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرائیں اور دلوں میں نادم ہوں گے جب عذاب کو دیکھیں گے، ہم ان کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے، وہ بدلہ نہیں دیے جائیں گے مگر جو وہ کرتے تھے۔ ) پیروکاروں کا اپنے لیڈروں کو جواب اس آیت کریمہ میں کمزور، دبے ہوئے اور پیچھے چلنے والوں کا جواب نقل کیا گیا ہے جو وہ اپنے لیڈروں کو دیں گے۔ جب لیڈر ان کا الزام رد کردیں گے کہ تم نے ہمیں گمراہ کیا ہے تو پیچھے چلنے والے کہیں گے کہ تم نے جس طرح ہمیں ہمارے طرزعمل کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور ہمیں ہمارے مفادات کا اسیر قرار دیا ہے جن کے حصول کے لیے ہم نے تمہاری پیروی کی، معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ تم یہ بات اچھی طرح جانتے ہو کہ تم نے عوام کو اپنے چنگل میں پھنسائے رکھنے کے لیے پر اپیگنڈے کا ایک جال بچھا رکھا تھا۔ اپنی شخصیات کا طلسم طاری رکھنے کے لیے تم نے عجیب و غریب طریقے اختیار کر رکھے تھے۔ تم نے مختلف ذرائع اور وسائل سے اپنے غیرمعمولی ہونے کا ایسا سحر طاری کر رکھا تھا جس سے نکلنا ہمارے لیے ممکن نہ تھا۔ ہماری روزی کے تم مالک بن گئے تھے۔ آخرت میں نجات کے لیے مذہبی شعبدہ بازوں کو ہماری قسمتوں کا مالک بنادیا تھا اور دلائل کے زور سے ہمارے دلوں میں یہ بات اتار دی تھی کہ جب تک ہم ان کے دامن گرفتہ نہیں ہوں گے ہماری آخرت نہیں بنے گی۔ ہر ادارے میں اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے تمہاری سفارشیں ہمارے لیے ناگزیر ہو کر رہ گئی تھیں۔ یہ وہ مکر اور فریب کا کاروبار تھا جس نے ہمیں تمہارا اسیر بنا رکھا تھا۔ اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات کا تعلق ہے اس کے بارے میں صحیح تصورات اور صحیح اعتقادات اس کا خوف، اس کے علم کی بےپناہی، اس پر مضبوط توکل جیسے حقائق کو تمہارے اثرات نے ہمارے لیے رجعت پسندی قرار دے دیا تھا۔ ہم بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے گن گاتے اور اسی سے استمداد کرتے ہمیں تم نے اس سے کفر اور انکار کے راستے پر ڈال کر اپنا مستقل دست نگر بنا لیا تھا۔ آخرت میں جب اصل حقیقت سامنے آئے گی اور انھیں احساس ہوگا کہ ہمیں محض مکر و فریب سے ایک ایسے راستے پر ڈالا گیا جو ہمارے ضمیر کے تقاضوں کے خلاف تھا، تو وہ دل ہی دل میں سخت نادم ہوں گے۔ اور جب وہ دیکھیں گے کہ ان لیڈروں کے خلاف ہمارے عذر مسموع نہیں ہوئے بلکہ عذاب ہمارے سامنے انتظار میں کھڑا ہے تو وہ اپنی بدبختی پر نہایت پشیمان ہو کر چیخنا چاہیں گے لیکن چیخیں بھی سینوں میں گھٹ کر رہ جائیں گی۔ سامنے عذاب کی ہولناکی اور سینے کے اندر سے ضمیر کا احتجاج ان کی پشیمانی میں بیش از بیش اضافہ کردے گا۔ اس کے بعد فرمایا گیا کہ ہم ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے تاکہ عمل اور جزاء میں مطابقت ہوجائے۔ کیونکہ جو لوگ اپنے ضمیر، اپنی عقل اور اپنے شعور کے خلاف اپنی باگ دوسروں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں تو ان کی سزا یہی ہونی چاہیے کہ ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے جائیں تاکہ جہنم کے داروغے ان طوقوں سے پکڑ کر انھیں دوزخ میں گھسیٹتے پھریں۔
Ayah 34:34

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

ہم نے کسی بستی میں کوئی خبردار کرنے والا نہیں بھیجا، مگر اس بستی کے اغنیاء نے یہی کہا کہ ہم تو اس پیغام کے منکر ہیں جو دے کر تم بھیجے گئے ہو

وَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلاَّ قَالَ مُتْرَفُوْھَآ لا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلْـتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ ۔ (السباء : 34) (ہم نے کسی بستی میں کوئی خبردار کرنے والا نہیں بھیجا، مگر اس بستی کے اغنیاء نے یہی کہا کہ ہم تو اس پیغام کے منکر ہیں جو دے کر تم بھیجے گئے ہو۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اس رکوع کے آغاز ہی میں کفار کی اس سرکشی کا ذکر فرمایا گیا تھا کہ ہم ہرگز اس قرآن کو نہیں مانیں گے اور نہ کسی اور آسمانی کتاب کو تسلیم کریں گے۔ اسی سلسلہ بیان کو سمیٹتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کی دعوت کے معاندین اور مخالفین کا یہ کہنا کوئی نئی بات نہیں۔ ہم نے جب بھی کسی رسول کو بھیجا ہے تو اس کے مخاطب طبقہ ٔ امراء کے لوگوں نے ہمیشہ یہ کہا کہ تم جو پیغام دے کر بھیجے گئے ہو، ہم اس کے منکر ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دولت کا نشہ انسانی عقل کو بھی برباد کرتا ہے اور انسانی اخلاق کو بھی۔ یہ بات مسلم ہے کہ ہر دور کا رسول اپنی قوم میں سیرت و کردار اور شخصی وجاہت کے اعتبار سے منفرد شخصیت کا مالک ہوتا ہے۔ لوگ اس کے بلند اخلاق کی وجہ سے اس کے احترام پر مجبور ہوتے ہیں اور اس کی شخصیت کی دلآویزی جارحیت کے لیے رکاوٹ بن جاتی ہے۔ باایں ہمہ جب کسی قوم کے مالدار لوگ اس زبان میں اللہ تعالیٰ کے رسول سے بات کرنے لگتے ہیں کہ نہ ہم تمہارے پیغام کو مانتے ہیں اور نہ تمہاری شخصیت کو قبول کرتے ہیں۔ تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ مخالفت میں بالکل اندھے ہوچکے ہیں اور انسانیت کا جامہ ان پر تنگ ہوگیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو اطمینان دلایا جارہا ہے کہ آپ کے دور کے مالدار لوگ اگر ایسی حرکتیں کرتے ہیں تو ایک تو یہ ان کی گراوٹ کی دلیل ہے اور دوسری یہ بات کہ اس میں نئی کوئی بات نہیں۔ زمانہ یونہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتا ہے وہ درس صلح دیتے ہیں یہ ان سے جنگ کرتا ہے
Ayah 34:35

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور انھوں نے کہا کہ ہم تم سے زیادہ مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم ہرگز سزا پانے والے نہیں

وَقَالُوْا نَحْنُ اَکْثَرُ اَمْوَالاً وَّاَوْلاَ دًا لا وَّمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ۔ (السباء : 35) (اور انھوں نے کہا کہ ہم تم سے زیادہ مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم ہرگز سزا پانے والے نہیں۔ ) دولت مند لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب پر دلیل یہ دیتے تھے کہ تم ہمیں گمراہ سمجھ کر عذاب کے قابل سمجھتے ہو۔ اور اس لیے ہمیں اصلاح کی دعوت بھی دیتے ہو اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے انذار بھی کرتے ہو۔ حالانکہ نہایت سادہ سی بات ہے کہ اگر ہمارا عقیدہ و عمل باطل ہوتا اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہوتا تو وہ یقینا ہمیں مال سے بھی محروم کردیتا اور اولاد سے بھی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تم اور تم پر ایمان لانے والے سب ناداروں کا گروہ ہے۔ کوئی نان شبینہ کا محتاج ہے اور کسی کو گھر کی چھت میسر نہیں۔ چیتھڑوں میں ملبوس اور معاشرے کے دھتکارے ہوئے لوگ اپنے آپ کو جنت کا وارث سمجھتے ہیں اور ہمیں عذاب سے ڈراتے ہیں۔ اگر پروردگار مسلمانوں سے راضی ہوتا تو یہ ہم سے بڑھ کر دولت مند ہوتے اور اولاد کے دست وبازو ان کی قوت کا سامان ہوتے۔ لیکن معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ بنابریں سوچنا تو مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کا طرزعمل کہیں غلط نہ ہو۔ چہ جائیکہ وہ ہمیں سمجھانے کے لیے اٹھیں۔ ہم یہاں اگر نعمتوں سے نوازے جارہے ہیں تو یقینا اگر آخرت ہوئی تو وہاں بھی نعمتوں سے ہم ہی نوازے جائیں گے۔ اگر ہم عذاب کے سزاوار ہوتے تو ہماری حالت یہاں بھی بری ہوتی اور آخرت میں بھی بری ہوتی۔
Ayah 34:36

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دیجیے ! بیشک میرا رب جسے چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُوَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (السباء : 36) (اے پیغمبر کہہ دیجیے ! بیشک میرا رب جسے چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔ ) غلط فہمی کا ازالہ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے کہ رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضگی کی دلیل ہے۔ آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ انھیں سمجھائیں کہ رزق کا کشادہ ہونا اللہ تعالیٰ کے محبوب ہونے کی دلیل نہیں۔ اور رزق کا تنگ ہونا اللہ تعالیٰ کے غضب کی علامت نہیں۔ دنیا میں آنکھیں کھول کر دیکھو کتنے بدقماش اور بدترین لوگ ہیں جو خوشحالی کے مزے لوٹ رہے ہیں اور کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے علم اور کردار کا حوالہ دیا جاتا ہے اور جو اپنی شخصی خوبیوں کے باعث نہایت نیک نام ہیں۔ لیکن وہ نہایت تنگدستی سے زندگی گزار رہے ہیں۔ رزق کا تعلق انسان کے اچھا یا برا ہونے سے نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا فیصلہ ہے۔ جب وہ کسی کو رزق دیتا ہے تو وہ اس کے شکر کا امتحان کرتا ہے۔ اور جب کسی کا رزق تنگ کرتا ہے تو اس کے صبر کو جانچتا ہے۔ تو اصل کامیابی کا انحصار اس امتحان کے نتیجہ پر ہے جو دنیا میں نہیں آخرت میں سامنے آئے گا۔ لیکن اکثر لوگ چونکہ اس حقیقت سے ناآشنا ہیں تو وہ اس حماقت میں مبتلا ہوجاتے ہیں جس میں قریش مبتلا ہیں اور جس میں ہر امت کے مالدار لوگ مبتلا ہوتے رہے ہیں۔
Ayah 34:37

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد وہ چیز نہیں ہے جو تمہیں ہم سے قریب کردے، مگر جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے، پس یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال کا مضاعف صلہ ہوگا اور وہ بالاخانوں میں اطمینان سے رہیں گے

وَمَآ اَمْوَالُکُمْ وَلَآ اَوْلاَ دُکُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُکُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓی اِلاَّ مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ز فَاُوْلٰٓئِکَ لَھُمْ جَزَآئُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَھُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ ۔ (السباء : 37) (اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد وہ چیز نہیں ہے جو تمہیں ہم سے قریب کردے، مگر جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے، پس یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال کا مضاعف صلہ ہوگا اور وہ بالاخانوں میں اطمینان سے رہیں گے۔ ) زُلْـفٰٓی مصدر ہے جس سے مقصود فعل کی تاکید ہے۔ یعنی تُقَرِّبُکُمْ قُرْبَۃً ۔ ایک غلط تصور کی تردید گزشتہ سے پیوستہ آیت میں ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ قریش اموال اور اولاد کو خوشحالی اور فارغ البالی کا ذریعہ سمجھتے تھے اور انھیں یہ بھی خیال تھا کہ ایسی فارغ البالی اس شخص کو ملتی ہے جسے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں پسندیدہ آدمی ہو۔ گویا یہ ایک معیار ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کی پہچان ہوتی ہے۔ اور جس شخص کو یہ دولت نصیب نہیں وہ ہزار اللہ تعالیٰ کے تقرب کا دعویٰ کرے حقیقت میں اس کے اندر کوئی سچائی نہیں۔ ان کے اس غلط تصور کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب یقینا ایک انسان کا اصل ہدف ہونا چاہیے۔ لیکن یہ قرب کثرت مال و دولت سے نصیب نہیں ہوتا۔ کیونکہ مال و دولت قرب کا ذریعہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کا امتحان ہے کہ وہ یہ نعمتیں پا کر شکر کرتا ہے یا ناشکری کرتا ہے۔ اور شکر کی صورت اس کے سوا اور کوئی نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لائے اور ان کی ہدایت کے مطابق اعمالِ صالحہ کرے۔ لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے رسول پر اس لیے ایمان نہیں لاتا کہ وہ ان کے مطلوب معیار پر پورا نہیں اترتا یعنی اس کے یہاں دنیوی مال و دولت کا فقدان ہے، وہ ایک درویش کی زندگی گزارتا ہے، خوشحال دنیادار کی نہیں۔ تو اسے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ایسے مال و دولت سے اسے اللہ تعالیٰ کا قرب میسر نہیں آئے گا بلکہ ایسا مال و دولت اللہ تعالیٰ سے دوری کا ذریعہ بنے گا۔ اور جس امتحان کے لیے یہ مال و دولت دیا گیا ہے اس میں وہ ناکام ہوجائے گا۔ نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوگا کہ دنیا بھی غارت ہوئی اور آخرت بھی تباہ ہوگئی۔ لیکن اس کے برعکس جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق گزارا اور زندگی کا ہر فیصلہ کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری سمجھا کہ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کیا کہتی ہے۔ جن کا ہر قدم اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور خشیت سے گراں بار رہا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے ہر عمل کا بدلہ اصل جزاء سے کہیں بڑھ چڑھ کر ملے گا۔ کیونکہ ضعف عربی زبان میں کسی شے کی مثل کے لیے بھی آتا ہے اور اس کے امثال کے لیے بھی۔ خواہ وہ امثال کتنے ہی غیرمحدود ہوں۔ اس لحاظ سے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح کا طریقہ اختیار کریں گے اور ہزار مشکلات کے باوجود نہ ان کا ایمان کمزور ہوگا اور نہ عمل میں کسی طرح کے تحفظات کا دخل ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا صلہ دگنا یا چوگنا نہیں دے گا بلکہ ہمارے پیمانے اس کے سامنے نگوں ہو کر رہ جائیں گے۔ آخر میں فرمایا کہ دنیا میں اموال اور اولاد یقینا کروفر کا ذریعہ ہیں لیکن ان دونوں میں سے کوئی چیز بھی خوف و خطر سے ماورا نہیں۔ مال کے چھن جانے کا خوف اور اولاد کے بگڑ جانے یا ان کے کسی بھی حادثے کی نذر ہوجانے کا خوف ان سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ نادار آدمی رات کو بےخوف ہو کر سوتا ہے اور مالدار آدمی کو وسوسے اور حوادث چین نہیں لینے دیتے۔ اولاد سے محروم شخص صرف محرومی کا غم رکھتا ہے لیکن صاحب اولاد نہ جانے کس قدر واہموں اور کیسے کیسے غیرمتوقع حالات سے دوچار ہوتا ہے۔ لیکن جو لوگ مال و اولاد کو آخرت میں فلاح کا ذریعہ بناتے ہیں انھیں آخرت میں ایسا اجر اور صلہ ملے گا جس میں نہ کبھی کوئی واہمہ سر اٹھائے گا نہ کوئی غیرمتوقع صورتحال پیدا ہوگی اور نہ کسی چیز کے چھن جانے کا اندیشہ ہوگا۔ ایک ایسا ابدی سکون میسر آئے گا جس کا دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 34:38

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیات کے ابطال میں سرگرم رہتے ہیں وہ عذاب میں داخل کیے جائیں گے

وَالَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْٓ اٰیٰـتـِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُوْلٰٓئِکَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ ۔ (السباء : 38) (اور جو لوگ ہماری آیات کے ابطال میں سرگرم رہتے ہیں وہ عذاب میں داخل کیے جائیں گے۔ ) اس آیت کے تیور دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ گزشتہ آیت میں جن خوش نصیب ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کا ذکر ہے اس میں اسلام کی بنیادی صداقتوں پر یقین اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل ہی شامل نہیں بلکہ اس کشمکش میں بڑھ چڑھ کر ایثار و استقامت بھی مراد ہے جو اس راستے کا لازمی حصہ ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس کے برعکس کردار کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ حق و باطل کی کشمکش میں حق کو نیچا دکھانے کے لیے شب و روز سرگرمِ عمل ہیں اور ان کی کوشش یہ ہے کہ اسلامی دعوت کو آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ جس طرح اس راستے میں اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والے غیرمعمولی طور پر نوازے جائیں گے، اسی طرح مخالفت میں کام کرنے والے بدترین سزا سے دوچار ہوں گے۔ مُحْضَرُوْنَ کے لفظ میں ان کی ذلت اور بےبسی کی تصویر کھینچی گئی ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب میں اس طرح پکڑے ہوئے آئیں گے کہ ان کی ذلت اور رسوائی دیکھنے کی چیز ہوگی اور ان کی سزا سے سب پناہ مانگیں گے۔
Ayah 34:39

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

کہہ دیجیے کہ میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق تنگ کردیتا ہے اور جو چیز بھی تم خرچ کرو گے تو وہ اس کا بدلہ دے گا، وہ بہترین رزق دینے والا ہے

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُلَـہٗ ط وَمَـآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْ ئٍ فَھُوَ یُخْلِفُہٗ ج وَھُوَ خَیْرُالرّٰزِقِیْنَ ۔ (السباء : 39) (کہہ دیجیے کہ میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق تنگ کردیتا ہے اور جو چیز بھی تم خرچ کرو گے تو وہ اس کا بدلہ دے گا، وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔ ) رزق و فضل کا صحیح مصرف اس سے پہلے آیت 36 کے پہلے حصے میں وہی بات فرمائی گئی ہے جو اس آیت کے پہلے حصے میں کہی گئی ہے۔ البتہ آیت کے دوسرے حصے میں جو کچھ ارشاد فرمایا گیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دوبارہ ایک ہی مضمون کو لانے کا مقصد کیا ہے۔ رزق کی تنگی اور کشادگی چونکہ انسانوں میں ہمیشہ غلط فہمیوں اور فسادِعقائد کا ذریعہ رہی ہے۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ اصرار اور تکرار کے ساتھ اس کا ازالہ کیا جائے۔ اس لیے مکرر ارشاد فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمام تر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہ کبھی وسعت دے کر آزماتا ہے کہ رزق کی وسعت کیا شکر کا باعث بنتی ہے یا اتراہٹ اور ناشکری کا۔ اور کبھی تنگی دے کر آزماتا ہے کہ رزق کی تنگی کیا بےصبری پیدا کرتی ہے یا اللہ تعالیٰ پر توکل اور اعتماد میں اضافہ کرتی ہے۔ یہ وہ امتحان ہے جس پر انسانیت کے پھلنے پھولنے کا دارومدار ہے۔ البتہ یہ بات کہ وسعت کب آتی ہے اور تنگی کب، اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی حکمت سے ہے۔ جو شخص اس حکمت پر یقین نہیں رکھتا وہ ہمیشہ گمراہی کا شکار ہوتا ہے۔ اور ساتھ ہی دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ ارشاد فرمائی ہے کہ مالداروں کو یہ یقین ہونا چاہیے اور اسی سے شکر کی توفیق بھی ہوتی ہے کہ وہ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کی خوشنودی کے حصول کے لیے خرچ کرتے ہیں وہ ضائع نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ اسے ضرور واپس کرتا ہے۔ یعنی اس کی وجہ سے رزق میں برکت بھی ہوتی ہے اور آخرت میں اس کا بیش از بیش صلہ بھی ملے گا۔ وَھُوَ خَیْرُالرّٰزِقِیْنَ وہ بہترین رزق دینے والا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں بھی اس کی رزق رسانی کے ذرائع اس قدر رنگا رنگ اور لامحدود ہیں جن کا استقصاء ممکن نہیں، لیکن اس صفت کا اصل اظہار آخرت میں ہوگا کہ دنیا میں خرچ کیے ہوئے خزف ریزوں کے عوض میں وہ جو کچھ عطا کرے گا، آج اس کا اندازہ بھی ممکن نہیں۔ اس لیے یہ بات زیادہ قرین قیاس ہے کہ یہاں ” خیر “ ترجیح و تفضیل کے مفہوم میں نہیں بلکہ مطلق بیان صفت کے لیے ہے۔
Ayah 34:40

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور اس دن کو یاد کرو جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا، پھر فرشتوں سے پوچھے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کیا کرتے تھے

وَیَوْمَ یُحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اَھٰٓـؤُلَآئِ اِیَّاکُمْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ ۔ (السباء : 40) (اور اس دن کو یاد کرو جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا، پھر فرشتوں سے پوچھے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کیا کرتے تھے۔ ) قیامت کے دن فرشتوں کی گواہی انسانی عقائد کی جو تاریخ دستیاب ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور کے مشرکین فرشتوں کو دیوی اور دیوتا قرار دے کر ان کی پرستش کرتے رہے ہیں۔ کسی کو وہ بارش کا دیوتا سمجھتے تھے اور کسی کو ہوا کا، کوئی ان کے یہاں دولت کی دیوی تھی اور کوئی علم اور موت و ہلاکت کی، ہر رسول نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی، لیکن یہ شرک کبھی انسانوں میں ختم نہ ہوسکا۔ اہل عرب میں بھی یہ بیماری بہت حد تک موجود تھی۔ اس لیے قریش اور دیگر اہل عرب کو سمجھانے کے لیے فرمایا جارہا ہے کہ یاد کرو وہ دن کیسا ہوگا کہ جب اللہ تعالیٰ کافر اور مومن سب کو جمع کرے گا اور ان پر اتمامِ حجت کے لیے فرشتوں اور دیگر ان قوتوں کو بھی جمع کرے گا جن کی عبادت دنیا میں ہوتی رہی ہے۔ ان کے سامنے ان سب سے پوچھے گا کہ ان اہل عرب کا دعویٰ ہے کہ ہم فرشتوں کی عبادت کرتے رہے ہیں۔ تو کیا ان کا یہ دعویٰ صحیح ہے۔ اس سے اہل عرب کو یہ بتانا مقصود ہوگا کہ جنھیں تم شریک و شفیع سمجھ کر پوجتے رہے ہو انھیں تو معلوم ہی نہیں ہوگا کہ تم ان کی پوجا کرتے رہے ہو۔ اور نہ وہ کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی اس بات کو گوارا کرنے کے لیے تیار ہیں کہ کوئی پروردگارِعالم کی طرح ان کی عبادت کرے۔ اگلی آیت میں ان کا جواب نقل کیا گیا ہے۔
Ayah 34:41

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 34:41 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے تو پاک ہے، تو ہمارا کارساز ہے ان کے مقابلے میں، بلکہ وہ جنوں کی پرستش کرتے تھے، ان میں سے اکثر انھیں پر ایمان رکھنے والے تھے

قَالُوْا سُبْحٰنَـکَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِہِمْ ج بَلْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ ج اَکْثَرُھُمْ بِہِمْ مُّؤْمِنُوْنَ ۔ (السباء : 41) (وہ جواب دیں گے تو پاک ہے، تو ہمارا کارساز ہے ان کے مقابلے میں، بلکہ وہ جنوں کی پرستش کرتے تھے، ان میں سے اکثر انھیں پر ایمان رکھنے والے تھے۔ ) فرشتوں کا جواب اللہ تعالیٰ جب فرشتوں سے مشرکین کے حوالے سے یہ سوال کرے گا کہ کیا یہ مشرک لوگ تمہاری عبادت کرتے رہے ہیں، یعنی تم نے انھیں عبادت کا حکم دیا تھا یا تم ان کی عبادت پر راضی تھے۔ تو فرشتے فوراً کہیں گے، سُبْحٰنَـکَ ، یہ کلمہ ٔ تنزیہہ ہے، کہ تو اس سے پاک ہے کہ کوئی تیرا شریک وسہیم ہو۔ یعنی یہ بات فطرت، عقل اور ہدایت تینوں کے خلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہو۔ یہ تو ایسا مکروہ الزام ہے جس کا سننا بھی ہمیں گوارا نہیں۔ رہا مشرکین کا اتہام، ہم تو اس سے بالکل بری الذمہ ہیں۔ ایسی کسی بات پر خوشی کا اظہار یا ایسی کسی بات کا حکم دینا اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ ہمارا ولی تو ہے، یہ لوگ نہیں۔ ہمارا تعلق تجھ سے ہے، ان سے نہیں۔ اور اب جبکہ انھوں نے ایسی تہمت لگا ہی دی ہے تو ہم ان کے مقابلے میں تجھ ہی سے فریاد کرتے ہیں۔ اور تو ہی ان کے مقابلے میں ہمارا کارساز ہے۔ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِہِمْ مذکورہ دونوں مفہوموں پر مشتمل ہے۔ کیونکہ ولی دوست کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے اور کارساز کے معنی میں بھی۔ اور دُوْنَ کا لفظ مقابل اور خلاف کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہمارے پرستار نہیں بلکہ شیاطینِ جن کے پرستار ہیں۔ یہ بظاہر شیاطین پر لعنت بھیجتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ جس راہ پر انھیں چلاتے ہیں اسی پر چلتے ہیں۔ جہاں انھیں جھکاتے ہیں، یہ جھکتے ہیں اور جن کے احکام کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں ان کی اطاعت کرتے ہیں۔ انھوں نے بظاہر اپنے تخیلات کے مطابق ہمارے مجسمے بنائے، ہمارے بت گھڑے، ہماری صورتیں تراشیں۔ لیکن حقیقت میں یہ ہماری نہیں بلکہ شیاطین کی ہدایت کے مطابق ان کی بندگی کرتے رہے۔ یہ شرک اور بت پرستی کا راستہ شیاطین نے ہی انھیں دکھایا تھا اور انھیں کی ہدایت پر یہ اس راستے پر چلتے رہے ہیں۔
Ayah 34:42

فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 34:42 in the Quran reader

پس آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، نہ نقصان، اور ہم ان ظالموں سے کہیں گے کہ اب چکھو اس جہنم کا عذاب جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

فَالْیَوْمَ لاَ یَمْلِکُ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّلاَ ضَرًّا ط وَنَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِالَّتِیْ کُنْتُمْ بِہَا تُکَذِّبُوْنَ ۔ (السباء : 42) (پس آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، نہ نقصان، اور ہم ان ظالموں سے کہیں گے کہ اب چکھو اس جہنم کا عذاب جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ ) فرشتوں کی گواہی کے بعد پروردگار کا حکم مشرکین کی بات سے فرشتوں کی براءت کے بعد پروردگار مشرکین سے فرمائے گا کہ تم زندگی میں جو کچھ کرتے رہے ہو، نجات کے لیے تمہارا سارا اعتماد فرشتوں پر تھا کہ وہ تمہاری شفاعت کریں گے۔ اب جبکہ تم نے ان کا جواب سن لیا اور انھوں نے تمہارے اعمال سے براءت کا اظہار کردیا تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آج کے دن کوئی بھی ایک دوسرے کے کام آنے والا نہیں۔ نہ تمہاری امیدیں کسی طرف سے پوری ہوں گی اور نہ کوئی بڑی سے بڑی قوت بھی تمہیں نفع یا ضرر پہنچا سکتی ہے۔ ہدایت کے اعتبار سے تو دنیا ہی میں تم پر اتمامِ حجت ہوگیا تھا اور شفاعت کے اعتبار سے آج اتمامِ حجت ہوگیا۔ تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانے کی بجائے جس طرح دوسروں کو اس کے شریک ٹھہرا کر اپنے اوپر ظلم ڈھاتے رہے ہو، اور جس طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی رسالت کو تسلیم کرنے کی بجائے اس کی تکذیب کرکے ظلم کا راستہ اختیار کرتے رہے ہو، اب اس کی سزا یہ ہے کہ اس دوزخ کی آگ کا مزہ چکھو جسے تم دنیا میں جھٹلاتے رہے ہو۔
Ayahs 34:43–44

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 34:43 in the Quran reader

جب انھیں ہماری روشن آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ یہ تو محض ایک آدمی ہے جو چاہتا ہے کہ تم کو ان چیزوں سے روک دے جن کو تمہارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں۔ اور وہ (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض ایک من گھڑت جھوٹ ہے، ان کافروں نے حق کے بارے میں کہا جب وہ ان کے پاس آگیا کہ یہ تو صریح جادو ہے

وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ Open ayah 34:44 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو کتابیں نہیں دی تھیں کہ یہ اسے پڑھتے، اور نہ آپ سے پہلے ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا بھیجا تھا

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰـتُـنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَاھٰذَآ اِلاَّ رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّکُمْ عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُکُمْ ج وَقَالُوْا مَاھٰذَآ اِلَّآاِفْکٌ مُّفْتَرًی ط وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ھُمْ لا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌمُّبِیْنٌ۔ وَمَآ اٰتَیْنٰـہُمْ مِّنْ کُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَھَآ وَمَآ اَرْسَلْنَـآ اِلَیْہِمْ قَبْلَـکَ مِنْ نَّذِیْرٍ ۔ (السباء : 43، 44) (جب انھیں ہماری روشن آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ یہ تو محض ایک آدمی ہے جو چاہتا ہے کہ تم کو ان چیزوں سے روک دے جن کو تمہارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں۔ اور وہ (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض ایک من گھڑت جھوٹ ہے، ان کافروں نے حق کے بارے میں کہا جب وہ ان کے پاس آگیا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ اور ہم نے ان کو کتابیں نہیں دی تھیں کہ یہ اسے پڑھتے، اور نہ آپ سے پہلے ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا بھیجا تھا۔ ) مخالفین کی ہٹ دھرمی قیامت کے دن ان کے ساتھ جو ہوگا، سو ہوگا، لیکن اب ان کی ہٹ دھرمی کا حال یہ ہے کہ جب ان پر ہماری نہایت روشن، محکم، عقل کو منور کرنے والی اور دل کو نور بخشنے والی آیات انھیں پڑھ کے سنائی جاتی ہیں تو بجائے اس کا اثر قبول کرنے کے انھیں گروہی عصبیت کو بچانے کی فکر لگ جاتی ہے۔ وہ لوگوں کو یہ باور کرانے میں لگ جاتے ہیں کہ یہ آدمی جو تمہیں ایسی محکم آیات پڑھ کر سناتا ہے اور اس کے بارے میں تمہارے دلوں میں خواہی نخواہی ایک عظمت کا احساس پیدا ہونے لگتا ہے، یہ تمہاری سادگی ہے۔ حقیقت میں وہ محض ایک عام قسم کا آدمی ہے جس نے اپنی حیثیت بنانے کے لیے پیغمبر کا روپ دھار رکھا ہے اور بار بار دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنا کے بھیجا ہے۔ تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ وہ اپنی ذاتی حیثیت کی خاطر تمہارے اندر ایک بہت بڑا فتنہ اٹھا رہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہاری تاریخ سے کاٹ کر تمہارے اسلاف سے توڑ کر تمہیں منقطع الارث کردے۔ وہ تمہیں تمہارے ان معبودوں سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے جنھیں تمہارے اسلاف اور آبائواجداد پوجتے آئے ہیں۔ اور اس طرح سے وہ عوام کو مشتعل کرنے کے لیے ایک ایسا حربہ اختیار کررہے تھے جس نے ہمیشہ عوام میں آگ لگانے کا کام کیا ہے۔ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ حق کے مقابلے میں باطل کے پاس جب کہنے کو کوئی بات باقی نہیں رہتی تو وہ ہمیشہ اسلاف دشمنی کا فتنہ اٹھاتا رہا ہے اور اس طرح سے اکابر پرستی کی بیماری جو ہمیشہ قوموں میں عصبیت کی حد تک پہنچی ہوتی ہے اسے اٹھانے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور پھر لوگ حق کی طرف توجہ دینے سے گریز کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے مخالفین نے بھی یہی حربہ استعمال کیا کہ یہ شخص جو اپنے آپ کو رسول کہتا ہے یہ درحقیقت تمہیں دین آبائی سے منحرف کرنا چاہتا ہے۔ مزید وہ یہ کہتے تھے کہ وہ جن باتوں کو وحی الٰہی کہہ کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیش کرتا ہے ان کی حیثیت اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اس کی اپنی گھڑی ہوئی باتیں ہیں، صرف تمہیں مرعوب کرنے کے لیے انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ کفار کا تمرد اور ان کی سرکشی یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اب جبکہ حق ان کے سامنے کھل کر آچکا ہے اور قرآن کریم اپنی پوری تابانیوں کے ساتھ شب و روز ان کے سامنے پڑھا جارہا ہے اس کی فصاحت و بلاغت نے ان کی طلاقتِ لسانی کو گنگ کرکے رکھ دیا ہے اور اس کی تأثیروتسخیر نے ان کے بڑے بڑے لوگوں کو ورطہ ٔ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اور اس کی تعلیمات نے اس طرح کی روشنی بکھیر دی ہے جیسے سورج نکلنے کے بعد ہر طرف روشنی پھیل جاتی ہے تو بجائے اس ہدایت کو قبول کرنے کے یہ عوام کو اس کے اثرات سے بچانے کے لیے اس طرح کی بےتکی باتیں کرتے ہیں کہ یہ تو ایک کھلا جادو ہے جو لوگوں پر تأثیر و تسخیر کی شکل میں اپنا کام دکھاتا ہے۔ غرضیکہ ان کی گمراہی اور حق سے اعراض ان کی محرومی و بدتختی تک پہنچ چکا ہے۔ دوسری آیت میں فرمایا کہ یہ دیکھ کر مزید ان کی بدبختی اور محرومی پر افسوس ہوتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول پر نازل ہونے والی تعلیمات سے انکار کررہے ہیں حالانکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی کتاب نہیں اتاری جس کی تعلیمات ان میں زندہ ہوتیں اور یہ اپنے لیے اسے کافی سمجھتے اور مزید کسی کتاب کی طرف توجہ دینے سے انکار کردیتے۔ اور نہ اس سے پہلے ان کی طرف کوئی انذار کرنے والا آیا جو انھیں ان کی بدانجامی اور ان کی زندگی میں پنپنے والے خطرات سے باخبر کرتا۔ ان کی صحیح الدماغی کا تقاضا تو یہ تھا کہ بیتابانہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی طرف بڑھتے، اللہ تعالیٰ کی کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لیتے اور اس سے اپنی دنیا و آخرت سنوارتے۔ لیکن انھیں اندازہ ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کتنا بڑا احسان فرمایا ہے اور اپنے آخری رسول اور اپنی آخری کتاب کی شکل میں کیسی عظیم نعمتوں سے انھیں نوازا ہے۔ اور انھیں اس بات کا بھی احساس نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت کی ناقدری کیسے سنگین نتائج پیدا کرسکتی ہے اور اس سے پہلے جن لوگوں نے یہ حرکت کی ہے وہ کیسے اندوہناک نتائج سے دوچار ہوچکے ہیں۔
Ayah 34:45

وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 34:45 in the Quran reader

اور جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے اور یہ تو اس کے عشرعشیر کو بھی نہ پہنچے جو ہم نے ان کو دیا تھا، تو انھوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا، تو دیکھو کیسی ہوئی ان پر میری پھٹکار

وَکَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ لا وَمَا بَلَغُوْا مِعْشَا رَمَآ اٰتَیْنٰـھُمْ فَکَذَّبُوْا رُسُلِیْ قف فَـکَیْفَ کَانَ نَـکِیْرِ ۔ (السباء : 45) (اور جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے اور یہ تو اس کے عشرعشیر کو بھی نہ پہنچے جو ہم نے ان کو دیا تھا، تو انھوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا، تو دیکھو کیسی ہوئی ان پر میری پھٹکار۔ ) امیوں کی ناشکری اور اللہ تعالیٰ کا احسان قریش اور دیگر اہل مکہ چونکہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے اولین مخاطب تھے اس لیے بار بار خطاب ان سے فرمایا جارہا ہے یا ان کے حوالے سے باتیں کہی جارہی ہیں۔ لیکن مقصود پوری نوع انسانی کو سمجھانا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ قریش کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب پہلا واقعہ نہیں، تاریخ میں بارہا ایسا ہوا کہ جب بھی کسی قوم کی طرف کوئی رسول مبعوث کیے گئے تو قوم کا جواب کبھی بھی مناسب نہیں رہا۔ انھوں نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تعلیمات کو اپنی خواہشات کے برعکس پا کر نہ صرف ماننے سے انکار کیا بلکہ ہر ممکن طریقے سے اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت کو ختم کرنے کی کوشش کی تو پھر ان کا یہ رویہ ان کی تباہی کا باعث بن گیا۔ ان میں ایسی قومیں بھی تھیں جنھیں زمین پر بہت عروج حاصل رہا۔ بڑی بڑی حکومتوں کی مالک رہیں، زمین کے بیشتر وسائل ان کے قبضے میں رہے لیکن جب ان کی سرکشی اور تمرد کے باعث اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا ان پر برسا تو نہ ان کی دولت و ثروت کام آئی اور نہ ان کی حکومت انھیں بچا سکی۔ اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قریش سے کہا جارہا ہے کہ انھیں جیسا کچھ دولت و اقتدار حاصل تھا، تم تو اس کے عشرعشیر کو بھی نہیں پہنچے ہو۔ لیکن ان کا تمام تر کروفر ان کے کسی کام نہ آیا۔ تم نہ جانے کس برتے پر اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کرتے ہو بلکہ اس کے قتل کے منصوبے باندھتے ہو اور سمجھتے ہو کہ تم اس طرح سے اللہ تعالیٰ کے دین کے چراغ کو بجھانے میں کامیاب ہوجاؤ گے۔ یاد رکھو پہلے لوگ بھی اپنی کوششوں میں ناکام رہے، تم بھی ناکام رہو گے۔