Ayahs 33:1–3یٰٓـاَیُّـھَاالنَّبِیُّ اَتَّقِ اللّٰہَ وَلاَ تُطِعِ الْـکٰفِرِیْنَ وَالْمُنٰـفِـقِیْنَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا۔ وَّاتَّبِعْ مَایُوْحٰٓی اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا۔ وَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلاً ۔ (الاحزاب : 1 تا 3)
(اے نبی ! اللہ سے ڈریں اور کفار اور منافقین کی باتوں پر کان نہ دھریں، بیشک اللہ علیم اور حکیم ہے۔ اور پیروی کیجیے اس چیز کی جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے وحی کی جارہی ہے، اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔ اور اللہ پر توکل کیجیے اور اللہ وکیل ہونے کے لیے کافی ہے۔ )
خطاب کا پس منظر اور اس کا مفہوم
ان آیات کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ یہ اس وقت نازل ہوئی ہیں جب حضرت زید ( رض) حضرت زینب ( رض) کو طلاق دے چکے تھے۔ یہ نکاح چونکہ آنحضرت ﷺ کی خصوصی توجہ اور اصرار کی وجہ سے ہوا تھا جبکہ حضرت زینب ( رض) بھی اس سے ناخوش تھیں اور ان کا خاندان بھی اس پر راضی نہ تھا۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے حکم کی وجہ سے وہ سب لوگ اس پر راضی ہوگئے۔ طلاق سے حضرت زینب کی شخصیتِ عرفی کو بہت دھچکا لگا اور ان کے خاندان کو بھی شدید صدمہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی اس سے نہایت رنج پہنچا۔ کیونکہ آپ ﷺ یہ محسوس فرما رہے تھے کہ میرے اصرار اور حکم کی وجہ سے یہ نکاح ہوا تھا، اس لحاظ سے اس تمام صورتحال کا میں ذمہ دار ہوں۔ آپ ﷺ چاہتے تھے کہ کسی طرح اس کا تدارک کیا جائے۔ اس کی ایک ہی صورت تھی کہ آپ ﷺ خود حضرت زینب ( رض) سے نکاح کرلیں۔ اس طرح سے ان کی دلجوئی بھی ہوجائے گی، خاندان کی عزت میں بھی اضافہ ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ ایک بہت بڑی دینی ضرورت بھی پوری ہوجائے گی۔ وہ یہ کہ تبنیت یعنی منہ بولے بیٹے کا رشتہ عرب میں جو اہمیت اختیار کرچکا تھا اور جس کی وجہ سے بہت سے مفاسد پیدا ہورہے تھے جن کا تعلق نظام میراث کی شکست سے بھی تھا اور نظام اخلاق میں درآنے والی خرابیوں سے بھی، اس کا سدباب ہوجائے گا۔ چونکہ صدیوں سے اہل عرب میں یہ رسم رائج تھی، اس لیے نصیحت یا حکم کے ذریعے اس کا ختم ہونا ممکن نہ تھا۔ حتمی طور پر اس کے خاتمے کی ایک ہی صورت تھی کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم سے خود اس رسم کو توڑیں۔ حضرت زینب ( رض) کو طلاق ہوجانے کے بعد قدرت نے یہ موقع پیدا کردیا تھا کہ حضرت زید ( رض) چونکہ آپ کے متبنیٰ رہ چکے ہیں اور ان کی بیوی عرب روایت کے مطابق آپ کی بہو کا درجہ رکھتی ہے۔ اب جبکہ زید اسے طلاق دے چکے ہیں تو آپ کے نکاح کرنے سے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہوتا۔ اور اس کی بیوی حقیقی بہو کا درجہ نہیں رکھتی۔ اس لیے اس سے نکاح کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ اس طرح سے امید کی جاسکتی ہے کہ اس رسم کو بیخ و بن سے اکھاڑا جاسکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے لیے اشارے بھی کیے جارہے تھے۔ لیکن آنحضرت ﷺ یہ محسوس کرتے تھے کہ جنگ احد کے بعد مسلسل دو سالوں میں قدم قدم پر جس طرح کفار اور منافقین نے مسلمانوں کے مقابلے میں زک اٹھائی ہے اس کی وجہ سے وہ حسد اور بغض میں جل رہے ہیں۔ نکاح کرنے سے انھیں پر اپیگنڈا کرنے اور دل کے پھپھولے پھوڑنے کا ایک موقع مل جائے گا۔ اس سے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ جو اسلام کی طرف میلان رکھتے ہیں وہ پیچھے ہٹ جائیں گے۔ اور جن نومسلموں میں ابھی تک صلابتِ فکر اور عمل میں پختگی پیدا نہیں ہوئی۔ وہ شکوک و شہبات کا شکار ہوجائیں گے۔ اس سے اسلام کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ چناچہ اس پس منظر میں آنحضرت ﷺ کو نبی کے لفظ سے خطاب فرما کر آپ کے فریضہ منصبی کی یاد دہانی کرائی جارہی ہے۔ یعنی آپ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں۔ آپ کا کام اندیشہ ہائے دوردراز کا لحاظ کرنا نہیں بلکہ اس منصب کی ادائیگی کی فکر کرنا ہے جس کے لیے آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریں، کسی اور سے ڈرنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔ یہ بالکل وہی بات ہے اور ویسا ہی خطاب ہے جیسا سورة المائدہ میں ایسے ہی پس منظر میں کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے : یٰٓـاَیُّھَاالرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ” اے رسول آپ اچھی طرح لوگوں کو وہ چیز پہنچا دیں جو آپ کے رب کی جانب سے آپ پر اتاری گئی ہے۔ “
آپ ﷺ کے اقدام سے چونکہ دور جاہلیت کی صدیوں پرانی رسم اپنی موت سے دوچار ہوگی تو اس کے نام لیوا یقینا مدافعت کے لیے ہر ممکن تدبیر بروئے کار لائیں گے۔ آپ کی ذات کو ہدف طعن بنایا جائے گا اور آپ جس دین کے پیغمبر ہیں اس پر بھی طعن کیا جائے گا۔ آپ ان کفار اور منافقین کی کسی بات پر کان نہ دھریں، اگرچہ بظاہر مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ اس وقت اس رسم کو نہ چھیڑا جائے، آئندہ چل کر کسی مناسب وقت پر اس سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کی جائے۔ لیکن یہ بات ہمیشہ آپ کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ علم اور حکمت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ فتنہ انگیزی کرنے والے کیا کچھ کریں گے اور آپ کی مخلصانہ کاوشیں جس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی وحی کام کررہی ہے کیسے برگ و بار پیدا کریں گی۔
نبی کے لفظ سے خطاب جس طرح فریضہ منصبی کی یاددہانی ہے، اسی طرح بلاشبہ آنحضرت ﷺ کے مقام و مرتبہ کا اظہار بھی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جو خصوصی تعلق آپ سے رکھتے ہیں اس کی طرف اشارہ بھی ہے۔ گزشتہ انبیائے کرام کو جابجا نام لے کر خطاب فرمایا گیا ہے، لیکن آنحضرت ﷺ کو ہمیشہ کسی خصوصی صفت یا خصوصی لقب سے یاد فرمایا گیا ہے، جس سے بتانا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں آپ کے لیے سب سے زیادہ تقرب کے مراتب ہیں۔ اور آپ ﷺ کے لیے تعظیم و تکریم کا ایک خصوصی مقام ہے۔
اس آیت کریمہ میں کفار اور منافقین کا ذکر ایک ساتھ فرمایا گیا ہے۔ اس سے شاید یہ اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ دونوں درحقیقت ایک ہی راستے کے مسافر اور ایک ہی منزل کے شن اور ہیں۔ اسلام دشمنی میں دونوں ایک دوسرے کے معاون اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک سامنے آکر وار کرتا ہے، دوسرا گھات لگا کر پس پشت حملہ کرتا ہے۔ کافر انکار بھی کرتا ہے اور دشمنی بھی۔ منافق بظاہر اقرار کرتا ہے، لیکن دشمنی میں کافر سے کم نہیں۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کی سزا کو سب سے زیادہ شدید بتایا ہے۔
گزشتہ مضمون کا تسلسل مثبت انداز میں
پہلی آیت میں جو بات منفی انداز میں فرمائی گئی ہے پیش نظر آیت میں اسے مثبت پہلو سے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کا کام پر اپیگنڈے سے متاثر ہونا اور لوگوں کی باتوں پر کان دھرنا نہیں بلکہ آپ کے ہاتھ میں وحی الٰہی کی مشعل ہے۔ آپ کو صرف اس کی روشنی میں چلنا اور دوسروں کو چلانا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ اطمینان بھی دلایا کہ آپ کے ہر اقدام و عمل سے اللہ تعالیٰ پوری طرح باخبر ہے۔ حتی کہ آپ اس راستے میں جن خطرات سے دوچار ہوں گے یا فتنہ انگیزوں کی جس فتنہ انگیزی سے آپ کو واسطہ پڑے گا اور یا پر اپیگنڈا کرنے والوں کی اڑائی ہوئی دھول آپ کے لیے پریشانی کا باعث بنے گی تو اس راستے میں آپ جیسی استقامت دکھائیں گے اور آپ کے ساتھ چلنے والے جس طرح کی ہمت کا مظاہرہ کریں گے ان میں سے کوئی بات بھی اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں۔ اس سے مزید برآں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ سے واحد کا خطاب درحقیقت امت کے وکیل کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔ اور جمع کا خطاب آپ کے معزز سرفروش ساتھیوں کو ان انعامات میں شریک کرنے کے لیے کیا جاتا ہے جو آنحضرت ﷺ کے طفیل ان خوش نصیبوں کو بھی نصیب ہوں گے۔
آیت میں توکل کا مفہوم
تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے شاید اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ چونکہ علم و حکمت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کی طرف سے اترنے والی وحی اسی سرچشمہ سے اترنے والی کرنیں ہیں جو مسلسل آپ کے دل پر اتاری جارہی ہیں۔ تو آپ کو کسی اور طرف دھیان دینے کی بجائے نہایت دلجمعی کے ساتھ وحی الٰہی کی روشنی میں سفر جاری رکھنا چاہیے۔ اور دوسرا شاید اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ تبلیغ و دعوت کا راستہ جان جوکھوں میں ڈالنا ہے۔ اس راستے پر چلنے والا ہمیشہ مشکلات کا شکار ہوتا ہے۔ قدم قدم پر مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مخالفتوں سے مرعوب ہونے کی بجائے آپ کو صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرنا چاہیے۔ وہ آپ کے ہر عمل کو بھی دیکھ رہا ہے اور پیش آنے والی مشکلات کو بھی جانتا ہے اور وہ اس سے بھی باخبر ہے کہ آپ اسی کے عائد کردہ فریضے کو سرانجام دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس لیے ممکن نہیں کہ وہ آپ کو بےسہارا چھوڑے۔ اس لیے آپ کا بھروسا اسی پر ہونا چاہیے۔ وہی ذات ہے جو وکیل بننے کے لیے کافی ہے۔ وکیل اسے کہتے ہیں جس پر پورا اعتماد کرکے اپنے معاملات اس کے سپرد کردیے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا مطالبہ اپنے بندوں سے یہی ہے کہ وہ اس کے دیے ہوئے احکام کی ہرحال میں تعمیل کریں۔ اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں۔ اس راہ میں جو مشکلیں پیش آئیں گی ان سے عہدہ برآ ہونے کی وہی توفیق بخشے گا۔
Ayah 33:4مَاجَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ ج وَمَا جَعَلَ اَزْوَاجَکُمُ الّٰـِٔیْ تُظٰھِرُوْنَ مِنْھُنَّ اُمَّھٰـتِکُمْ ج وَمَا جَعَلَ اَدْعِیَآئَ کُمْ اَبْنَـآئَ کُمْ ط ذٰلِکُمْ قَوْلُـکُمْ بِاَفْوَاھِکُمْ ط وَاللّٰہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَھُوَیَھْدِی السَّبِیْلَ ۔ (الاحزاب : 4)
(اللہ نے کسی شخص کے پہلو میں دو دل نہیں رکھے، اور نہ تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کر بیٹھتے ہو، تمہاری مائیں بنایا، اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے حقیقی بیٹے بنایا، یہ سب تمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں، اور اللہ حق کہتا ہے اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ )
فکروارادہ کے تضاد پر تنبیہ
اوپر کی آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف الفاظ اور مختلف پیرایہ بیان میں ایک ہی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے، وہ یہ ہے کہ ایک مومن کا حقیقی رشتہ صرف اللہ تعالیٰ سے ہے۔ اس کی حقیقی وابستگی صرف اس کی ذات سے ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ ہی کا تقویٰ اختیار کرنا چاہیے۔ بجائے کفار اور منافقین کی باتوں پر کان دھرنے کے اللہ تعالیٰ ہی کے احکام کو حرزجان بنانا چاہیے۔ جو وحی بھی اللہ تعالیٰ کے رسول کی طرف کی جارہی ہے اسی کا اتباع ہونا چاہیے اور اس بات پر یقین رکھنا چاہیے کہ انسانوں کے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں پیش آنے والی مشکلات میں بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ ہی پر ہونا چاہیے۔ اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس پر اعتماد کرتے ہوئے تمام معاملات کو اس کے حوالہ کردیا جائے۔ یہ فکروعمل کی وہ یکسانی اور ہم آہنگی ہے جس کا سرچشمہ بھی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور جس کا مرجع بھی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اسی کی ذات پر بھروسہ اور توکل اور ہر وقت اسی کا استحضار ایک مومن کے دل کا اصل سرمایہ ہے اور اسی سے اس کے دل کی آبادی ہے۔ اور اسی طرز فکر اور طرز عمل نے اس شخصیت کو وحدت عطا کی ہے اور یہی اس کی قوت کا اصل راز ہے۔ لیکن کفار اللہ تعالیٰ کو خالق ومالک ماننے کے باوجود بندگی میں نہ جانے کس کس کو شریک کرتے ہیں۔ نہ جانے ان کا سر کہاں کہاں جھکتا ہے۔ کتنی محبتیں اور عقیدتیں ہیں جو ان کے دلوں میں آباد ہیں۔ کتنے خوف ہیں جو ان کے دلوں میں جگہ بنائے ہوئے ہیں۔ اور منافقین کا طرز عمل تو بالکل واضح ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ہر ممکن طریقے سے اس سے دشمنی بھی کرتے ہیں۔ یہ وہ تضاد فکر و عمل ہے جس نے ہمیشہ انسان کو شرک کے راستے پر ڈالا اور توحید کے نور سے محروم رکھا اور یہی وہ بیماری ہے جس نے انسان کی شخصیت کو شکست و ریخت سے دوچار کیا جبکہ اس کے پہلو میں دل ایک ہے، دو نہیں۔ اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دل کی آبادی وحدت فکر اور وحدت عمل سے ہے۔ جو شخص شرک کا راستہ اختیار کرتا ہے اور بیک وقت اپنے دل میں مختلف قسم کے احساسات پالتا ہے تو وہ درحقیقت ایک دل نہیں، دو دل رکھتا ہے۔ کیونکہ ایک دل میں متضاد خیالات پنپ نہیں سکتے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ دل میں اخلاص بھی ہو اور شرک بھی۔ اللہ تعالیٰ کا خوف بھی ہو اور اس سے بےخوفی بھی۔ کوئی شخص ایک ہی وقت میں مومن بھی ہو اور کافر یا منافق بھی۔ کیونکہ ایک دل تو متضاد خیالات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اور جو متضاد خیالات رکھتا ہے اس نے ایک دل کو دو دلوں میں تقسیم کر رکھا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے پہلو میں دو دل پیدا نہیں فرمائے۔
تضادِ فکر و ارادہ کی ایک مثال
اسی تضاد فکر و ارادہ کی ایک مثال ظہار کا ذکر کرکے دی۔ ظہار دراصل عرب جاہلیت کی ایک اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہہ بیٹھتا کہ اَنْتِ عَلَیَّ کَظَہْرِاُمِّیْ ” اب تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ کی طرح حرام ہے۔ “ تو اس کی بیوی اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی۔ ظَھرکے معنی عربی زبان میں چونکہ پیٹھ کے ہوتے ہیں، اس سے ظہار کی اصطلاح وجود میں آئی۔ عرب جاہلیت میں یہ صورت طلاق مغلظہ کی طرح تھی، جس کے بعد کسی شخص کے لیے اپنی بیوی سے رجوع کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا تھا۔ یعنی وہ عورت اس کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی تھی۔ اسلام نے اس بات کو منکر اور جھوٹ قرار دیا۔ اور یہ بات واضح کی کہ تم اپنی مائوں کو یقینا اپنے دلوں میں ایک احترام کا حق دیتے ہو۔ ان سے تمہارا تعلق جنس کا نہیں، بلکہ ادب اور احترام کا ہے۔ اب اگر کسی وقت تم جہالت سے اپنی بیوی کو اپنی ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دے دیتے ہو تو یہ ایک جہالت، نادانی اور حماقت ہے۔ لیکن اس بےہودگی سے بیوی ماں نہیں بن سکتی۔ البتہ جو تم نے ایک غلط بات کہی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ تم اس کی قیمت ادا کرو۔ وہ یہ کہ اگر تمہارے پاس غلام ہے تو غلام آزاد کرو۔ اور اگر غلام میسر نہ ہو تو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھو۔ اور اگر اس کی قدرت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائو۔ اس سے غصے اور جھنجھلاہٹ میں بےہودہ بات کہنے سے بھی روکا اور اس کی سزا بھی تجویز کی۔ لیکن گھریلو زندگی کو درہم برہم ہونے سے بچا لیا۔ لیکن اسلامی شریعت کے اس حکم کے نازل ہونے کے بعد مخالفین نے اس کو بھی فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنا لیا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بدنام کرنے کے لیے کہا گیا کہ دیکھو اس شخص کا حال کہ اس نے ماں اور بیوی کے درمیان کوئی فرق ہی باقی نہیں رکھا۔ یعنی وہ جس تضاد فکرو ارادہ کا شکار تھے اور اپنے دل کو متضاد چیزوں کا کباڑ خانہ بنا چکے تھے اسلام نے اس کی اصلاح بھی کی اور عائلی زندگی کو بھی درہم برہم ہونے سے بھی بچایا۔ لیکن مخالفین کو اپنے تضاد پر اتنا اصرار ہے کہ وہ اس کو حقیقت سمجھ کر آنحضرت ﷺ پر طعن توڑ رہے ہیں۔
جس طرح یہ لوگ ظہار کے معاملے میں تضاد فکر کا شکار تھے، اسی طرح منہ بولے بیٹوں کے معاملے میں بھی ان کا یہی رویہ تھا۔ وہ انھیں اپنے صلبی بیٹوں کا درجہ دیتے تھے۔ کسی شخص کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ اپنے متبنیٰ کی منکوحہ سے اس کی وفات یا طلاق کے بعد نکاح کرسکے۔ اسلام نے اس خطرناک رسم کی بھی اصلاح فرمائی اور عملی طور پر اس کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ آپ حضرت زید ( رض) کی مطلقہ بیوی حضرت زینب ( رض) سے نکاح کرلیں تاکہ اس غلط رسم کا خاتمہ ہوجائے۔ لیکن کفار و منافقین نے اس کو بھی فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنا لیا کہ دیکھو اس شخص نے اپنے منہ بولے بیٹے کی منکوحہ سے نکاح کرلیا۔
لوگوں کے اپنی رسم پر اصرار کے جواب میں فرمایا، یہ تمہارے منہ کی باتیں ہیں۔ یعنی تم نے خود گھڑ رکھی ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ تمہیں جس بات کا حکم دے رہا ہے وہ صحیح راستہ ہے جس پر تمہیں چلنا چاہیے۔ جس کے نتیجے میں منہ بولابیٹا نہ میراث کے مسائل میں تبدیلی کا سبب بن سکے گا، نہ مصنوعی رشتوں کے تقدس کی آڑ میں مفاسد پیدا ہو سکیں گے، اور نہ صلبی اور صہری رشتوں میں اللہ تعالیٰ کی تحلیل و تحریم کے حق کو چیلنج کیا جاسکے گا۔
Ayah 33:5اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِہِمْ ھُوَاَقْسَطُ عِنْدَاللّٰہِ ج فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَآئَ ھُمْ فَاِخْوَانُـکُمْ فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ ط وَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ فِیْمَآ اَخْطَاْ تُمْ بِہٖ لا وَلٰکِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُکُمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ (الاحزاب : 5)
(منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے، اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے موالی ہیں، اس باب میں تم سے جو غلطی ہوئی اس پر تم سے کوئی مواخذہ نہیں، البتہ تمہارے دلوں نے جس بات کا ارادہ کرلیا (اس پر مواخذہ ہے) بیشک اللہ غفورورحیم ہے۔ )
تضادِ فکر کی ایک اور مثال
گزشتہ آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ تم جنھیں اپنے منہ بولے بیٹے بنا لیتے ہو اور انھیں پھر اپنے حقیقی بیٹوں کی طرح حقوق دیتے ہو، یہ تمہارا ایسا عمل ہے جس کی اخلاق اور انصاف کی دنیا میں کوئی حقیقت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے منہ بولے بیٹوں کو حقیقی بیٹے نہیں بنایا۔ یعنی ان کو وہ حق نہیں دیا جو حقیقی بیٹے کا ہوتا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس حکم کی عملی صورت اور منطقی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے حکم دیا کہ تم اپنے منہ بولے بیٹوں کو اپنی طرف نسبت دینے کی بجائے ان کے حقیقی باپوں کی نسبت سے پکارو۔ چناچہ اس حکم کی تعمیل میں سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کے منہ بولے بیٹے حضرت زید ( رض) کو زید بن محمد کی بجائے زید بن حارثہ کہا جانے لگا۔ اور اس طرح سے ان کی نسبت ان کے حقیقی باپ کی طرف کی گئی۔ پروردگار نے اس حکم کی علت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ حکم ہم نے اس لیے دیا ہے کہ یہی بات اللہ تعالیٰ کے قانون میں حق و باطل کے زیادہ قریب اور زیادہ موافق ہے۔ کیونکہ اس کی خلاف ورزی سے اسلام کا پورا نظام وراثت و قرابت متأثر ہوتا ہے اور اسلام نے جو اصول معاشرت دیے ہیں وہ درہم برہم ہو کر رہ جاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان احکام کی بنیاد رحمی رشتوں اور انسانی فطرت کے جذبات و داعیات پر رکھی ہے۔ تو جو شخص کسی وقتی اشتعال کا شکار ہو کر کسی کو اپنا بیٹا بنا لیتا ہے اور پھر اسے حقیقی بیٹے کے حقوق دے دیتا ہے تو وہ درحقیقت حق و عدل کا خون کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جن احساسات و جذبات پر نظام وراثت و نظام معاشرت کو تشکیل دیا ہے ان کو پامال کرتا ہے۔ اسی حقیقت و اہمیت کے پیش نظر آنحضرت ﷺ نے نہایت شدت سے یہ بات ارشاد فرمائی جسے بخاری و مسلم اور ابودائود نے حضرت سعد بن وقاص کے حوالے سے روایت کیا ہے کہ
من ادعی الی غیرابیہ وھو یعلم انہ غیرابیہ فالجنۃ علیہ حرام۔
” جس نے اپنے آپ کو اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا کہا درآنحالیکہ وہ جانتا ہو کہ وہ شخص اس کا باپ نہیں، اس پر جنت حرام ہے۔ “
باپ کا علم نہ ہو تو پھر ؟
بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جس شخص کو بیٹا بنایا جاتا ہے اس کے حقیقی باپ کا علم نہیں ہوتا، تو پھر متذکرہ بالا حکم کے مطابق اسے کس کی طرف منسوب کیا جائے ؟ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر تم ان کے باپوں کے نام سے واقف نہیں ہو تو پھر بھی انھیں اپنا بیٹا کہہ کر مت پکارو، بلکہ وہ تمہارے بھائی اور تمہارے موالی ہیں۔ یعنی ان کی حیثیت تمہارے دینی بھائیوں جیسی ہے۔ جیسے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ تم اخوت کا رشتہ رکھتے ہو اسی طرح ان کے ساتھ بھی تمہارا رشتہ دینی اخوت کا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ تمہارے موالی بھی ہیں۔ بعض اہل علم نے تو اس کا ترجمہ رفیق کیا ہے۔ یعنی وہ تمہارے دوست ہیں، ان کے ساتھ بھائیوں اور دوستوں جیسا سلوک کرو۔ لیکن اس کا ایک اور مفہوم بھی ہے، وہ یہ ہے کہ جو غلام آزاد ہوجاتا تھا اسے مولیٰ کہا جاتا تھا۔ اور جو شخص یا جو قبیلہ اسے آزاد کرتا تھا اس کے ساتھ اس کا ” وِلا “ کا رشتہ قائم ہوجاتا تھا۔ اور یہ اس خاندان یا اس شخص کو مولیٰ کہلاتا تھا۔ آزادی کے باوجود اس ولا کے رشتے کی وجہ سے اگر اس کی موت کے بعد اس کا کوئی وارث نہ ہوتا تو وہ قبیلہ اس کا وارث ہوتا۔ اور اگر اس پر کوئی افتاد پڑجاتی جس کی وجہ سے کوئی اس پر مالی بوجھ آپڑتا تو وہ قبیلہ اس میں تعاون کرتا۔ اور اسی طرح یہ آزاد ہونے والا شخص بھی اس قبیلے کے ایسے اجتماعی معاملات میں مددگار ہوتا۔ اس آیت کریمہ میں اسی معاشرتی روایت کو باقی رکھتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ وہ تمہارا منہ بولا بیٹا تو نہیں ہوسکتا، البتہ آزاد کردینے کی وجہ سے تمہارا اس سے ولا کا رشتہ باقی رہتا ہے اور وہ تمہارا مولیٰ ہوگا۔ ایسے شخص کو مولی العتاقہ کہا جاتا ہے۔
دورِجاہلیت میں حلف اور ولا کا ایک اور رشتہ معتبر سمجھا جاتا تھا جسے اسلام نے بھی باقی رکھا۔ وہ یہ ہے کہ خاندان یا قبیلہ سے باہر کا کوئی شخص اگر کسی خاندان یا قبیلہ میں شامل ہونا چاہتا اور اس خاندان والے اس کو شامل کرلیتے تو وہ اس خاندان کا مولیٰ سمجھا جاتا تھا۔ اور جملہ حقوق اور ذمہ داریوں میں خاندان اور قبیلے کا شریک بن جاتا۔ اگر وہ قتل ہوجاتا تو وہ خاندان یا قبیلہ اس کے قصاص کا مطالبہ کرسکتا تھا۔ اسی طرح اگر وہ کوئی ایسا اقدام کر بیٹھتا جس کی بنا پر کوئی ذمہ داری عائد ہونے والی ہوتی تو وہ اس ذمہ داری میں بھی پورے خاندان اور قبیلہ کو بھی حصہ لینا پڑتا۔ اسے مولی الموالات کہا جاتا ہے۔ بعض اہل علم نے اسی آیت سے اس حکم کو مستنبط کیا ہے۔
اس آیت کریمہ میں مزید فرمایا گیا کہ آج تک بربنائے جہالت اس سلسلے میں جو غلطیاں ہوتی رہی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ گرفت نہیں فرمائے گا۔ لیکن اب اس حکم کے نازل ہوجانے اور اس کی غلطی پر تنبیہ کیے جانے پر بھی اگر کوئی شخص یہ غلطی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر مواخذہ فرمائے گا۔ کیونکہ بےعلمی اور نادانی سے جو غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ چونکہ غفورورحیم ہے اس لیے ان سے درگزر فرماتا ہے۔ لیکن اگر تنبیہ وتعلیم کے بعد بھی ان غلطیوں پر اصرار کیا جاتا ہے تو پھر وہ انھیں معاف نہیں کرتا بلکہ مواخذہ کرتا ہے۔
Ayah 33:6اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَاَزْوَاجُہٗٓ اُمَّھٰـتُھُمْ ط وَاُوْلُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُھٰجِرِیْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓی اَوْلِیٰٓـئِکُمْ مَّعْرُوْفًا ط کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتٰبِ مَسْطُوْرًا۔ (الاحزاب : 6)
(نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں، اور ان کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں، اور رحمی رشتے رکھنے والے آپس میں دوسرے مومنین و مہاجرین کی بہ نسبت اللہ کی کتاب کی رو سے زیادہ حقدار ہیں، اِلَّا یہ کہ تم اپنے اولیاء و اقرباء کے ساتھ کوئی حُسنِ سلوک کرنا چاہو، یہ حکم کتاب الٰہی میں لکھا ہوا ہے۔ )
اس آیت کریمہ میں فرقِ مراتب کی وضاحت کرتے ہوئے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے اس فرقِ مراتب کو سامنے رکھنا چاہیے۔ کیونکہ ایسا نہ کرنے سے خلط مبحث پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں عقائد میں بھی خرابی پیدا ہوتی ہے اور ترجیحات بھی درہم برہم ہو کر رہ جاتی ہیں۔
آنحضرت ﷺ کا اسلامی معاشرے میں مقام و مرتبہ
پہلی بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ انسانی تعلقات میں ہر تعلق کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ بہت سے تعلقات احترام کے حوالے سے وجود میں آتے ہیں اور بہت سے تعلقات محبت یا نفرت کے حوالے سے اپنا مقام پیدا کرتے ہیں۔ اور بعض ایسے تعلقات بھی ہیں جنھیں عقیدت نے وجود بخشا ہے۔ ان میں سے ہر تعلق اپنی حدود میں اہمیت بھی رکھتا ہے اور انسانی معاشرت میں استحکام کا باعث بھی بنتا ہے۔ لیکن اگر یہ رشتے ایک دوسرے سے خلط ملط ہوجائیں اور ان میں فرقِ مراتب واضح نہ رہے تو یہیں سے انسانی معاشرت میں دراڑیں واقع ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ اس لیے ان بنیادی تعلقات اور رشتوں کی حدود کا جاننا اور ان کا لحاظ کرنا بہت ضروری ہے۔
مسلمان اسلامی حدود میں رہ کر جن تعلقات اور رشتوں کو اہمیت کے قابل سمجھتے ہیں ان میں سب سے اہم تعلق نبی کریم ﷺ سے مسلمانوں کا تعلق ہے۔ اور یہ تعلق ایسا ہے جو دیگر تمام تعلقات پر حاوی ہے بلکہ ان کا حوالہ بھی ہے۔ اس تعلق کو کسی اور تعلق پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ باقی تمام تعلقات اس تعلق پر قربان کیے جاسکتے ہیں۔ اس تعلق کی اہمیت واضح کرنے کے لیے اس آیت میں اَوْلیٰ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا ایک معنی تو ہے سب سے بہتر اور سب سے مقدم۔ اور دوسرا معنی ہے ” احق “ یعنی سب سے زیادہ حق رکھنے والا۔ لیکن انجام کے اعتبار سے دونوں معنوں میں کوئی فرق نہیں۔ جو مقدم ہوگا وہی احق ہوگا اور جو احق ہوگا وہی مقدم ہوگا۔ نبی کریم ﷺ کا حق ہر مسلمان پر دوسرے تمام لوگوں سے زیادہ ہے، بلکہ ہر مسلمان کی جان سے بھی زیادہ ہے۔ یعنی ہر شخص کو اپنی جان کے بارے میں فیصلہ کرنے کا جتنا اختیار ہے کسی اور کو نہیں۔ وہی اپنی ذات کے مَالَـہُ وَمَا عَلَیْہ کو سمجھتا ہے، وہی اس کی ضروریات اور احساسات کا ادراک رکھتا ہے اور وہی اس کے لیے ناگوار چیزوں کی پہچان رکھتا ہے۔ وہ جب چاہتا ہے اپنی ذات اور اپنی جان کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے اور جب اسے منظور ہوتا ہے تو اسے مشکلات میں ڈال دیتا ہے۔ اور اس معاملے میں کوئی دوسرا دخل دینے کا اختیار نہیں رکھتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ اور رسول کا حق ایسا ہے جو ہر لحاظ سے اس پر فائق اور مقدم ہے۔
انسان کو دنیا میں اپنی جان کے ساتھ ساتھ اپنے والدین اور اپنی اولاد اور لوگوں میں سے بہت سے احباب سب سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔ اور وہ ہر چیز کو ان پر قربان کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے :
لاَ یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالَدِہٖ وَوَلَدِہٖ (وَفِیْ رِوَیَۃٍ ) وَمِنْ نَفْسِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۔
” تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کو اس کے باپ اور اولاد اور اس کی جان اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔ “
انسان زندگی میں پسند و ناپسند کا خود فیصلہ کرتا ہے یا دوسروں کے فیصلہ کو قبول کرلیتا ہے۔ اور اس پر اصرار بھی کرتا ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے حق کے حوالے سے فرمایا گیا کہ جب اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کردیں تو کسی مومن اور مومنہ کے لیے اس معاملے میں کوئی اختیار باقی نہیں رہ جاتا۔ اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو وہ کھلی ہوئی گمراہی میں جا پڑا۔ ہر انسان کے پاس اس کی جان اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس لیے خودکشی کو حرام قرار دیا گیا۔ لیکن اگر کبھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کے دین کی حرمت پامال ہورہی ہو اور اس کی حفاظت جان دے کر کی جاسکتی ہو تو جان قربانی کے لیے پیش کردینا فرض ہوجاتا ہے۔ بلکہ جس دل میں ایسا جذبہ نہیں، اس کا ایمان ہزار دعو وں کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل اعتبار نہیں۔ ٹھیک کہا مولانا ظفرعلی خان نے :
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
آنحضرت ﷺ کی بیویاں امت کی مائیں ہیں
آپ کے اسی تعلق کے حوالے سے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ کوئی شخص ان سے نکاح کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اور نہ ان کے بارے میں دل میں ایسا خیال لاسکتا ہے جو ان کی عزت و حرمت کے خلاف ہو۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس طرح بیٹا اپنی ماں کے ساتھ احترام کے دائرے میں رہ کر گھل مل کر بےتکلفی سے باتیں کرتا ہے اور انھیں بےحجاب دیکھ سکتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے ساتھ ان باتوں کا کوئی جواز نہیں۔ اس لیے انھیں تمام انسانوں سے پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ان میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ اور یہاں تک فرمایا گیا ہے کہ اگر ان سے کوئی بات پوچھنی یا کوئی چیز لینی ہو تو پردے کے پیچھے کھڑے ہو کر ان سے بات کرو۔ لیکن عزت و احترام اور عظمت و وجاہت کے اعتبار سے وہ نہ صرف امت کی مائیں ہیں بلکہ مائوں سے بھی بڑھ کر فضیلت رکھتی ہیں۔ اور یہ فضیلت آنحضرت ﷺ کی تمام ازواجِ مطہرات کو یکساں طور پر حاصل ہے ان میں سے کسی کا استثنا جائز نہیں۔ لیکن مسلمانوں میں ایک گروہ کا رویہ اس معاملے میں نہایت عجیب ہی نہیں، تکلیف دہ بھی ہے۔ صاحب تفہیم القرآن اس بارے میں لکھتے ہیں :
مسلمانوں کے ایک گروہ کے رویہ پر تنقید
لیکن ایک گروہ نے جب حضرت علی و فاطمہ ( رض) اور ان کی اولاد کو مرکز دین بنا کر سارا نظام دین انہی کے گرد گھما دیا، اور اس بنا پر دوسرے بہت سے صحابہ ( رض) کے ساتھ حضرت عائشہ ( رض) کو بھی ہدف لعن و طعن بنایا، تو ان کی راہ میں قرآن مجید کی یہ آیت حائل ہوگئی جس کی رو سے ہر اس شخص کو انھیں اپنی ماں تسلیم کرنا پڑتا ہے جو ایمان کا مدعی ہو۔ آخرکار اس مشکل کو رفع کرنے کے لیے یہ عجیب و غریب دعویٰ کیا گیا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ( رض) کو یہ اختیار دے دیا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات میں سے جس کو چاہیں آپ کی زوجیت پر باقی رکھیں اور جسے چاہیں آپ کی طرف سے طلاق دے دیں۔ ابومنصور احمد بن ابوطالب طبرسی نے کتاب الاحتجاج میں یہ بات لکھی ہے اور سلیمان بن عبداللہ البحرانی نے اسے نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت علی ( رض) سے فرمایا یا اباالحسن ان ھذا الشرف باقٍ مادُمنا علیٰ طاعۃ اللہ تعالیٰ فایّتھن عصت اللہ تعالیٰ بعدی بالخروج علیک فطلّقھا من الازواج واسقطھا من شرف امّھات المؤمنین ” اے ابوالحسن ! یہ شرف تو اسی وقت تک باقی ہے جب تک ہم لوگ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم رہیں۔ لہٰذا میری بیویوں سے جو بھی میرے بعد تیرے خلاف خروج کرکے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے اسے تو طلاق دے دیجیو اور اس کو امہات المومنین کے شرف سے ساقط کر دیجیو۔ “
اصولِ روایت کے اعتبار سے تو یہ روایت سراسر بےاصل ہے ہی لیکن اگر آدمی اسی سورة احزاب کی آیات 28۔ 29 اور 51۔ 52 پر غور کرے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ روایت قرآن کے بھی خلاف پڑتی ہے کیونکہ آیت تخییر کے بعد جن ازواجِ مطہرات نے ہرحال میں رسول اللہ ﷺ ہی کی رفاقت کو اپنے لیے پسند کیا تھا انھیں طلاق دینے کا اختیار حضور ﷺ کو باقی نہ رہا تھا۔
علاوہ بریں ایک غیرمتعصب آدمی اگر محض عقل ہی سے کام لے کر اس روایت کے مضمون پر غور کرے تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ انتہائی لغو اور رسول پاک ﷺ کے حق میں سخت توہین آمیز افترا ہے۔ رسول کا مقام تو بہت بالاتر و برتر ہے، ایک معمولی شریف آدمی سے بھی یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنی وفات کے بعد اپنی بیوی کو طلاق دینے کی فکر کرے گا اور دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنے داماد کو یہ اختیار دے جائے گا کہ اگر کبھی تیرا اس کے ساتھ جھگڑا ہو تو میری طرف سے تو اسے طلاق دے دیجیو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اہل البیت کی محبت کے مدعی ہیں ان کے دلوں میں صاحب البیت کی عزت و ناموس کا پاس کتنا کچھ ہے، اور اس سے بھی گزر کر خود اللہ تعالیٰ کے ارشادات کا وہ کتنا احترام کرتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
مسلمانوں کے باہمی حقوق کی بنیاد رحمی رشتوں پر ہے
رسول اللہ ﷺ اور آپ کی ازواجِ مطہرات کو امت میں جو امتیازی مقام حاصل ہے اور جس پہلو سے حاصل ہے اس کو بیان کرنے کے بعد عام مسلمانوں کے درمیان آپس کے تعلقات کے لیے ایک اصول کو بیان فرمایا۔ وہ اصول یہ ہے کہ رشتہ داروں کے حقوق ایک دوسرے پر عام لوگوں کی بہ نسبت مقدم ہیں۔ ان میں ترتیب وہی ہوگی جو قرابت میں ترتیب ہے۔ یعنی ان میں جو قرابت میں اقرب ہے وہ پہلے ہوگا اور جو قرابت میں بعد ہے وہ حقوق میں بھی بعد ہوگا۔ اور اسی فطری اصول کے مطابق تقسیمِ وراثت کا ضابطہ وضع کیا گیا ہے۔ یعنی تقسیمِ وراثت میں یہ نہیں دیکھا گیا کہ بالفعل اس وقت ضرورت مند کون ہے۔ بلکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ رحمی رشتے میں زیادہ قریبی کون ہے۔ کیونکہ مالی حالات تو بدلتے رہتے ہیں اور اسی نسبت سے ضرورتیں کم و بیش ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن خون کے رشتے ہمیشہ ایک حالت پر قائم رہتے ہیں۔ وراثت کے علاوہ تعاون اور بھلائی میں بھی اسی اصول کو پیش نظر رکھا گیا ہے کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ، بال بچوں اور بھائی بہنوں کی ضروریات پورا کرنے کا سب سے پہلے ذمہ دار ہے۔ اس کے بعد باہر خیرات کی نوبت آتی ہے۔ زکوٰۃ دینے کا موقع آئے تو پہلے اپنے غریب رشتہ داروں کو دینا ہوگا۔ اس کے بعد دوسرے مستحقین کی باری آئے گی۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ آدمی قریبی رشتہ داروں کو محروم رکھے اور باہر کے لوگوں میں خیرات بانٹتا پھرے۔
اسی اصول کے تحت ایک اور بات بھی واضح کردی گئی کہ مدینہ منورہ میں مہاجرین کی گزر بسر کے انتظام کے سلسلے میں آنحضرت ﷺ نے انصار کے ساتھ ان کی مواخات کا نظام قائم کیا تھا۔ انصار نے اس سلسلے میں اس قدر ایثار سے کام لیا کہ ہر چیز میں مہاجرین کو شریک کرلیا۔ حتیٰ کہ دونوں ایک دوسرے کے وارث ٹھہرائے جانے لگے۔ اس آیت کریمہ میں واضح کردیا گیا کہ تقسیمِ وراثت میں مواخات کا دخل نہیں بلکہ اولوالارحام ہی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ مسلمانوں کے درمیان اسلامی اخوت کا جو مستقل رشتہ ہے وہ تو قائم رہے گا لیکن حقوق میں تقسیم رحمی رشتوں کے حوالے سے ہوگی۔ البتہ اس میں اتنی گنجائش رکھی گئی کہ بعض دفعہ بعض اعزہ و احباب ضرورت مند ہونے کی وجہ سے مدد کے محتاج ہوتے ہیں لیکن وراثت میں حقدار نہیں ہوتے۔ اگر کوئی شخص ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنا چاہتا ہے تو وہ ان حدود کے اندر کرسکتا ہے جو شریعت نے مقرر کردیے ہیں۔ مثلاً وہ ہبہ یا وقف سے کام لے سکتا ہے۔ یا ایک تہائی وراثت میں وصیت کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی اللہ تعالیٰ کے قانون میں یہ باتیں لکھی ہوئی ہیں۔ مراد اس سے سورة النساء کی وہ آیات ہیں جن میں نظام وراثت کو بیان کیا گیا ہے۔
Ayahs 33:7–8وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَہُمْ وَمِنْـکَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ص وَاَخَذْنَا مِنْھُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا۔ لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِہِمْ ج وَاَعَدَّلِلْـکٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (الاحزاب : 7، 8)
(اور یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے ان کے عہد لیے، اور آپ سے بھی، اور نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی، اور ہم نے ان سے نہایت پختہ عہد لیا۔ تاکہ اللہ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے (اور کافروں اور منافقوں سے ان کے کفر و نفاق کے بارے میں) اور کافروں کے لیے اللہ نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ )
انبیائے کرام میں منصبی وحدت
اس سورة کی پہلی دونوں آیتوں میں آپ کو نبی کے لفظ سے خطاب فرما کر آپ کے فرضِ منصبی کے حوالے سے ارشاد فرمایا گیا تھا کہ آپ پر جو کچھ نازل کیا جارہا ہے آپ کو ہر صورت میں اسی کا اتباع کرنا ہے اور لوگوں کو اسی کی دعوت دینی ہے۔ اور تبلیغ و دعوت کے اس فریضہ کی انجام دہی میں کیسے بھی حالات پیش آئیں آپ کو صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہے اور کسی کافر اور منافق کی بات پر کان نہیں دھرنا۔ اب اسی بات کو تاریخ کے حوالے سے مزید مؤثق کردیا گیا ہے۔ اور اس تاکید کے ساتھ ساتھ ایک طرح سے نبی کریم ﷺ کو تسلی بھی دی گئی ہے کہ جس بات کی ہدایت ہم آپ کو کررہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں، ہم نے انھیں باتوں کا عہد ان تمام نبیوں سے بھی لیا تھا جن کا نام آج دنیا میں جانا پہچانا ہے۔ جن میں حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ ابن مریم ہیں۔ یعنی پہلے مطلقاً تمام نبیوں سے عہدومیثاق کا ذکر کیا اور پھر خاص خاص جلیل القدر انبیاء کا حوالہ دے کر پوری تاریخ سامنے رکھ دی گئی ہے تاکہ اس عہدومیثاق کی اہمیت پوری طرح کھل کر سامنے آجائے۔ اور اس میں سب سے پہلے آنحضرت ﷺ سے عہد لینے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ آخری نبی ہیں، آپ کا دائرہ کار پوری نوع انسانی تک پھیلا ہوا ہے اور مزید یہ بات کہ یہ آیات آپ پر نازل کی جارہی ہیں۔ اور اصل مقصود آپ ہی کو یاددہانی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ عہدومثیاق کیا ہے ؟ سورة الشوریٰ میں کی آیت 13 میں ارشاد فرمایا گیا ہے شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَاوَصَّیٰ بِہِ نُوْحًا وَالَّذِیْ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہِ اِبْرٰھِیْمَ وَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی اَنْ اَقّیْمُوا الدِّیْنَ وَلاَ تَتَفَرَّقُوْا فِیِہِ ” اللہ تعالیٰ نے مقرر کردیا تمہارے لیے وہ دین جس کی ہدایت کی تھی اس نے نوح کو، اور جس کی وحی کی گئی ہے (اے محمد۔ ) آپ کی طرف۔ اور جس کی ہدایت کی گئی ہے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو، اس تاکید کے ساتھ کہ تم قائم کرو اس دین کو اور اس میں تفرقہ نہ پیدا کرو۔
اس آیت میں سب سے پہلے آنحضرت ﷺ اور پھر چند جلیل القدر انبیاء کا حوالہ دے کر واضح کردیا گیا ہے کہ اقامتِ دین کا موجودہ تمام امتوں کے جلیل القدر انبیاء کو حکم دیا گیا تھا۔ اور یہی وہ عہد ہے جو سارے انبیائے کرام سے لیا گیا۔
یہی بات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خطاب کرکے فرمائی گئی۔ فَخُذْھَا بِقُوَّۃٍ وَّامُرْ قَوْمَکَ یَاخُذُوْا بِاَحْسَنِھَا ” تم خود بھی اس کو مضبوطی سے پکڑو اور اپنی قوم کو بھی حکم دو کہ وہ اس بہترین چیز کو پوری مضبوطی سے اختیار کرے۔
میثاق لینے کی اہمیت و حکمت
پھر اس عہد و پیمان کی اہمیت کو مزید اجاگر کرنے کے لیے فرمایا گیا کہ ہم نے ان تمام انبیاء سے مضبوط عہد لیا۔ میثاق بجائے خود مضبوط عہد کو کہتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ غلیظ کی قید اسے مزید محکم کرنے کے لیے لائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمام جلیل القدر انبیاء سے عہد لیا اور اس میں ہم نے بالکل نرمی اور مداہنت نہیں برتی، بلکہ ہر ایک سے مضبوط عہد لیا اور سب کو اس پر قائم اور استوار رہنے کی تاکید در تاکید فرمائی۔ مقصود صرف یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یاددہانی کرانی ہے کہ اس وقت آپ کے سامنے تبنیت کی رسم توڑنے کے لیے حضرت زینب ( رض) سے نکاح کا مسئلہ ہے اور آپ اس سلسلے میں اس لیے تأمل کررہے ہیں کہ اس سے دشمنوں کو مذاق اڑانے اور اسلام کو زک پہنچانے کا موقع ملے گا۔ اور چونکہ معاملہ ایک خاتون سے شادی کرنے کا ہے اس لیے آپ کو یہ خیال بھی ہے کہ لوگ آپ کے اخلاق پر انگلیاں اٹھائیں گے اور آپ کو نفس پرستی کا طعنہ دیں گے۔ لیکن آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آپ ہمارے پیغمبر ہیں اور تمام پیغمبروں سے ہمارا یہ پختہ معاہدہ ہے کہ ہم جو بھی حکم دیں گے وہ ہر صورت اسے بجا لائیں گے۔ اسی طرح آپ سے بھی اسی میثاق کا تقاضا یہ ہے کہ آپ لوگوں کی باتوں کو خاطر میں نہ لائیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو بجالانے کی کوشش کریں۔
دوسری آیت میں انبیائے کرام سے جو میثاق لیا گیا ہے اس کی حکمت اور مصلحت بیان فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول تبلیغ و دعوت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمامِ حجت کرنے کے لیے آتے ہیں۔ چناچہ جب وہ اپنا فرض انجام دے لیتے ہیں تو تب وہ صاحب ایمان اور راست باز لوگ جو ان کی دعوت پر ایمان لاتے اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کی راست بازی کے بارے میں سوال کرے اور وہ اس میں سرخرو ہو کر انعامات کے مستحق ٹھہریں۔ اور کافروں اور منافقوں سے ان کے کفر و نفاق کے حوالے سے سوال کرے اور پھر وہ اپنے کفر و نفاق کے باعث سزا کے مستحق ٹھہریں۔ جب تک یہ اتمامِ حجت نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ کسی کافر یا گمراہ شخص کو سزا نہیں دیتا۔ کیونکہ اس نے محض اپنے عدل و رحمت کے باعث یہ بات اپنے اوپر لازم کر رکھی ہے کہ جب تک وہ کسی قوم پر اتمامِ حجت نہیں کرے گا یعنی کسی پیغمبر کو بھیج کر دعوت و تبلیغ اور انذار کا اہتمام نہیں کرے گا اس وقت تک وہ کسی قوم سے بازپرس نہیں کرے گا۔ اس کا موقع ظاہر ہے کہ اسی وقت آسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہدوپیمان کو پورا کریں اور اس طرح سے لوگوں پر اتمامِ حجت کردیں۔ اور آخر میں کافروں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی نبی کی تبلیغ و دعوت کو رد کردینے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں آجائیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ایسے کافروں کے لیے آخرت میں عذاب الیم تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 33:9یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْجَـآئَ تْـکُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًاوَّجُنُوْدًا لَّّمْ تَرَوْھَا ط وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا۔ (الاحزاب : 9)
(اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو تم اپنے اوپر اللہ کے احسان کو یاد کرو جبکہ تم پر فوجیں چڑھ آئیں تو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی اور ایسے لشکر بھیجے جو تم کو نظر نہیں آئے اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کو دیکھنے والا ہے۔ )
یہاں سے رکوع 3 کے آخر تک وہ آیات ہیں جو غزوہ احزاب اور غزوہ بنی قریظہ کے ختم ہونے کے بعد نازل ہوئی ہیں۔ اس لیے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانات کا ذکر فرمایا ہے اور ان دونوں جنگوں پر تبصرہ بھی فرمایا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ جنگ میں شریک مختلف گروہوں کے احوال و کوائف کا بھی ذکر فرمایا ہے اور ان پر تنقید بھی فرمائی ہے۔
تمہیدی کلمات کے بعد اللہ تعالیٰ کے احسانات کی یاد دہانی
اس سورة کے پہلے رکوع میں تمہید کے طور پر کچھ ہدایات ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ پیش نظر آیات درحقیقت انھیں ہدایات کو مؤکد اور واضح کرنے کے لیے نازل کی گئی ہیں۔ تمہیدی ہدایات میں زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ڈر اور اس کا تقویٰ کردار کی اصل بنیاد ہے۔ اس کو جو تصورات محکم کرتے ہیں ان میں پہلی بات یہ ہے کہ علم و حکمت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس لیے ادھر ادھر کی باتوں کا اثر قبول کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ پیروی صرف ان باتوں کی کی جائے جو وحی الٰہی کے ذریعے نازل کی جارہی ہیں کیونکہ یہی ایک ذریعہ ہے جس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں۔ اس راستے میں یقینا بہت سی دشواریاں پیش آئیں گی اور بہت سے مصائب سے واسطہ پڑے گا۔ ایسے حالات میں بھروسہ اور توکل صرف اللہ تعالیٰ ہی پر کرنا ہے کیونکہ وہی ایسا سہارا ہے جو کبھی شکست نہیں ہوتا۔ اس کے بعد پیش نظر آیات کو ان باتوں کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے کہ تم اندازہ کرو کہ مدینے میں تمہاری مجموعی افرادی قوت تین ہزار سے زیادہ نہیں۔ ان میں بھی منافقین کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ اسلحہ جنگ ضرورت سے کم اور مالی حالات کسی بڑی جنگ کا بوجھ برداشت کرنے سے عاجز، کہ اچانک ایک بہت بڑا لشکر تم پر حملہ آور ہوتا ہے جن کی تعداد محتاط اندازے کے مطابق بارہ ہزار ہے۔ اور اس لشکر کا ایک ایک فرد عرب کی حربی صلاحیت کا نمائندہ ہے۔ ان میں بدویانہ جرأت و بسالت کی فراوانی ہے۔ اور پھر اس کے پس منظر میں یہ شدید جذبہ بھی کارفرما ہے کہ مسلمانوں کی اس نوزائیدہ قوت نے عرب کی تمام قابل ذکر قوتوں کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ یہود کے دو بڑے قبیلے مدینے سے نکال دیے گئے ہیں۔ مکہ جو عرب قوت کا مرکز ہے انھیں اچھی طرح اندازہ ہوگیا ہے کہ مسلمانوں کی قوت ان کے لیے ناقابلِ شکست حصار ہے جو تنہا ان کے بس کا روگ نہیں۔ اور ملک کے دیگر قبائل بھی مختلف مواقع پر اپنی کوششوں میں ناکامی کا سامنا کرچکے ہیں۔ چناچہ اس احساس نے انھیں ایک متحدہ طاقت بننے پر مجبور کردیا ہے۔ اب وہ صرف عام شبخون مارنے کی نیت سے نہیں آئے بلکہ اسلامی قوت کو فنا کرنے کے جذبے سے اٹھے ہیں۔ بنو نضیر کے تین قبائل اسی جذبے کے نمائندہ بن کر سب سے پہلے قریش کے پاس پہنچتے ہیں اور انھیں اونچ نیچ سمجھا کر ہمنوا بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ پھر غطفان اور ہوازن کو بھی ہم خیال بنانے میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں۔ اس طرح سے یہ تین قوتیں مدینے پر حملہ آور ہوتی ہیں۔ مکہ معظمہ سے قریش ابوسفیان کی قیادت میں اپنے حلیفوں کو ساتھ لے کر چار ہزار کا لشکر لے کر نکلتے ہیں۔ غطفان اور ہوازن، عیینہ بن حصین بن بدر اور عامربن طفیل کی زیرسر کردگی روانہ ہوتے ہیں۔ اور مدینہ منورہ پہنچ کر بنونضیر کا سردار حیی بن اخطب بنو قریظہ کو بھی اس متحدہ محاذ میں شامل ہونے پر آمادہ کرلیتا ہے حالانکہ ان کا نبی کریم ﷺ کے ساتھ امن و صلح کا معاہدہ تھا۔
آنحضرت ﷺ کو جب دشمنوں کی ان تیاریوں کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے حضرت سلمانِ فارسی ( رض) کے مشورے سے مسلمانوں کو مدینہ کی ان سمتوں میں خندق کھودنے کا حکم دیا جن سے حملہ کا خطرہ تھا۔ چناچہ شہر کی شمالی اور مغربی سمت میں ساڑھے تین میل لمبی ایک خندق صرف چھ دن میں کھودی گئی۔ اور یہ کام نہایت سرگرمی کے ساتھ ان تین ہزار مجاہدین نے انجام دیا جو حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔ اور خودآ نحضرت ﷺ نے بھی بنفس نفیس اس کام میں حصہ لیا۔ خندق کا کام مکمل ہوجانے کے بعد آپ ﷺ کوہ سلع کو پشت پر رکھ کر تین ہزار مجاہدین کو ساتھ لے کر دفاع کے لیے کمربستہ ہوگئے۔ ان تمام تیاریوں کے باوجود یہ بات ظاہر ہے کہ بظاہر اسباب مسلمانوں کے لیے اتنے بڑے حملے کو روکنا ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ لیکن مسلمانوں کے اخلاص، وفاداری، جانثاری اور اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید سے جس طرح سے مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور دشمن ناکام و نامراد واپس جانے پر مجبور ہوا پیش نظر آیات میں انھیں میں سے بعض باتوں کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔
سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی احسان کا ذکر فرمایا کہ تم اس وقت کو یاد کرو کہ جب تم پر ایسے لشکر حملہ آور ہوئے جو اپنی افرادی اور اسلحی قوت میں تم سے بدرجہا زیادہ تھے اور تم کسی طرح ان کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے۔ لیکن جب تم نے محض اللہ تعالیٰ کی قدرت پر بھروسہ کرتے ہوئے خندق کھود کر دفاع کا فیصلہ کرلیا اور کئی دنوں تک پیٹ پر پتھر باندھ کر اور راتوں کو جاگ کر ان کا مقابلہ کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے توکل کی قدر فرمائی اور ان پر ایسی طوفانی آندھی بھیجی جس نے ان کے خیموں کی چوبیں اور طنابیں اکھاڑ دیں۔ ان کی دیگیں الٹ گئیں، سواری کے جانور تتربتر ہوگئے۔ تاریکی کا یہ عالم کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ اور اس پر مزید کرم یہ فرمایا کہ اس آندھی کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایسی فوجیں بھی بھیجیں جو مسلمانوں کو نظر نہیں آئیں۔ اس سے اشارہ فرشتوں کی فوجوں کی طرف ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کی طرح کافروں نے بھی ان کو نہ دیکھا ہو۔ ممکن ہے انھیں مختلف شکلوں میں وہ دکھائی دیے ہوں اور اس سے کفار نے یہ محسوس کیا ہو کہ مسلمانوں کو کمک پہنچ گئی ہے جس نے ان کی جمعیت میں بہت اضافہ کردیا ہے۔
کافروں کے ساتھ چونکہ حرب و ضرب کا موقع نہیں آیا اس لیے فرشتوں کو بھی اس کی ضرورت پیش نہیں آئی ورنہ ممکن تھا کہ جنگ بدر کی طرح وہ جنگ میں شرکت کرتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے ہمیشہ اپنے بندوں کو ڈھارس بندھاتا اور حوصلے میں اضافہ کرتا ہے۔ اور کفار کے دلوں میں ہراس پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ میدان میں مقابلے سے نکل بھاگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے مختلف طریقے ہیں۔ وہ چونکہ ہمیشہ اپنے بندوں کو بھی اور دشمنوں کو بھی دیکھتا ہے اس لیے حالات کے مطابق مسلمانوں کی مدد کرتا ہے اور کافروں کی ہزیمت کا سامان کرتا ہے۔
Ayah 33:10اِذْجَآئُ وْ کُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْـکُمْ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوْنَا۔ (الاحزاب : 10)
(یاد کرو جب وہ تم پر آچڑھے تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور تمہارے نیچے کی طرف سے بھی، جبکہ آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آنے لگے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ )
مشرقی و مغربی دونوں سمتوں سے حملہ اور اس کی شدت
مسلمان اچانک جس فوجی یلغار سے دوچار ہوئے تھے اس کی مزید وسعت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت کو یاد کرو جب وہ لشکر تم پر اس طرح حملہ آور ہوئے کہ تمہارے اوپر سے بھی آئے اور تمہارے نیچے سے بھی۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ انھوں نے تمہیں ہر طرف سے گھیر لیا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ مدینہ کی مشرقی طرف بلند اور مغربی سمت نشیبی ہے۔ دشمن کا حملہ دونوں طرف سے تھا۔ قبیلہ غطفان اور ان کے حلیفوں کا حملہ مشرق کی طرف سے ہوا تھا۔ اور قریش اور ان کے حلیفوں کی فوجیں مغرب کی طرف سے حملہ آور ہوئی تھیں۔ اور باقی مدینہ کے اطراف پہاڑوں، باغات اور لاوے کی چٹانوں کی وجہ سے کسی فوجی حملے کے لیے سازگار نہ تھے۔ ان دو طرفوں سے حملہ کیا جاسکتا تھا اور دشمن دونوں طرفوں سے حملہ آور ہوا تھا۔ ان کی کثرت تعداد اور اسلحی قوت کو دیکھ کر تم نے محسوس کیا کہ اتنی بڑی قوت کا مقابلہ کرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ اور پسپائی اختیار کرنا ایک مومن کی شان نہیں۔ لیکن قوت اور ہیبت کی وجہ سے پریشانی ایسی تھی کہ جس کو دیکھنے کی ہمت نہ تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ آنکھیں پتھرا گئی ہیں اور خوف اور دہشت کی وجہ سے ایسا لگتا تھا کہ کلیجے اچھل کر منہ کی طرف آنے لگے ہیں۔ یہ انتہائی پریشانی کی تعبیر ہے جو صرف عربی زبان ہی میں نہیں بلکہ دوسری زبانوں میں بھی رائج ہے۔ اور مزید فرمایا کہ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں عجیب و غریب گمان کرنے لگے۔ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اس سے مراد منافقین کے گروہ ہیں۔ مسلمانوں کے دل کی کیفیت کا ذکر تو آگے چل کر آرہا ہے۔ وہ تمام تر پریشانی کے باوجود اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے بارے میں یکسو تھے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد وہ سب لوگ ہیں جو ایمان کے رشتے میں منسلک تھے۔ ظاہر ہے کہ وہ سب ایمان و یقین کے مدارج میں یکساں نہ تھے۔ مخلص مسلمانوں کو تو کسی طرح کی پریشانی نہ تھی لیکن کمزور ایمان رکھنے والے یقینا اندیشہ ہائے دوردراز کا شکار تھے۔ لیکن اس ناچیز کا گمان یہ ہے کہ یہاں جس گمان کا ذکر ہے اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے وعدوں سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت سے ہے۔ بعض لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت آنے میں دیر کیوں ہوگئی ہے۔ دشمن ہمارے سر پر پہنچ گیا ہے، اگر وہ خندق عبور کرنے میں کامیاب ہوگیا تو پھر ایک قیامت برپا ہوجائے گی۔ ایسے میں نصرت کا نہ آنا یا تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی دلیل ہے کہ ہم سے کوئی ایسی کوتاہی ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہوگیا ہے۔ اور یا ہمیں وہ دولت شہادت سے نوازنا چاہتا ہے۔ بہرحال ان کے گمانوں کا تعلق ضعفِ اعتقاد یا برگشتگی سے نہیں تھا بلکہ اس کا مطلب صرف یہ تھا جیسے قرآن کریم نے سابقہ امتوں میں سے کسی مخلص گروہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کے نبی بھی چیخ اٹھے، متیٰ نصر اللہ، اللہ تعالیٰ کی مدد کب آئے گی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا الا ان نصر اللہ قریب۔ یہاں بھی معاملہ ایسا ہی تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ اپنے مخلص بندوں کو آزمائش سے ضرور گزارتا ہے تاکہ وہ کندن بن جائیں۔ ان پر جو عظیم ذمہ داری ڈالی گئی ہے اس کی ادائیگی میں کمی نہ ہونے پائے۔
Ayah 33:11ھُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالاً شَدِیْدً ۔ (الاحزاب : 11)
(اس وقت اہل ایمان امتحان میں ڈالے گئے اور بری طرح ہلا دیے گئے۔ )
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے اسی قانون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب تک وہ اپنے چاہنے والوں کی اچھی طرح آزمائش نہیں کرلیتا اس وقت تک اس کی طرف سے نصرت نہیں اترتی۔ اور یہ آزمائش اس لیے نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید نہیں جانتا بلکہ آزمائش سے مقصود کردار کو پختہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کے توکل کو دلوں میں راسخ کرنا ہوتا ہے۔ اور ویسے بھی جب بھی کوئی شخص یا گروہ اللہ تعالیٰ سے اپنی وابستگی کا دعویٰ کرتا ہے تو یہ ایک ایسی محبت کا دعویٰ ہے جس سے زیادہ بلند مرتبہ اور پاکیزہ محبت اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ اور محبت ہمیشہ آزمائی جاتی ہے۔ ٹھیک کہا کسی نے :
محبت کے مقدر میں کہاں آرام اے ہمدم
کہیں شعلہ، کہیں بجلی، کہیں سیماب ہوتی ہے
مسلمان بھی اس آزمائش میں بری طرح جھنجھوڑ دیے گئے۔ ایک طرف ہر جانب سے دشمنوں کی یورش۔ دوسری طرف اپنی صفوں میں منافقین کا وجود۔ اور تیسری طرف بنو قریظہ کا بدعہدی اور غداری پہ تل جانا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ سامنے ایک ایسا عظیم دشمن ہے جس کی قوت کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔ اور پیچھے ایک دشمن بیٹھا ہے جو کسی وقت بھی پیٹھ میں خنجر گھونپ سکتا ہے۔ اور منافقین کی صورت میں شہر کے اندر ایسے مارآستین موجود ہیں جو کسی وقت بھی فضا کو زہرناک کرسکتے ہیں۔ لیکن مسلمان اس آزمائش میں اس طرح پورے اترے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نصرت کے لیے اپنا استحقاق ثابت کردیا۔