33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsروح القرآن

Ayah 33:37

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اے پیغمبر، یاد کرو جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور آپ نے بھی انعام کیا کہ اپنی بیوی کو روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو، اور آپ اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا، آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں، اور جب زید نے اس سے اپنی ضرورت ختم کردی تو ہم نے اس کا تم سے نکاح کردیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں کوئی تنگی باقی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنا تعلق بالکل کاٹ لیں، اور اللہ کا حکم تو بہرحال ہونے والا تھا

وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْٓ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَااللّٰہُ مُبْدِیْہِ وَتَخْشَی النَّاسَ ج وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰہُ ط فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰـکَھَا لِکَیْ لاَ یَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْٓ اَزْوَاجِ اَدْعِیَـآئِہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْھُنَّ وَطَرًا ط وَکَانَ اَمْرُاللّٰہِ مَفْعُوْلاً ۔ (الاحزاب : 37) (اے پیغمبر، یاد کرو جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور آپ نے بھی انعام کیا کہ اپنی بیوی کو روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو، اور آپ اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا، آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس میں زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں، اور جب زید نے اس سے اپنی ضرورت ختم کردی تو ہم نے اس کا تم سے نکاح کردیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں کوئی تنگی باقی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنا تعلق بالکل کاٹ لیں، اور اللہ کا حکم تو بہرحال ہونے والا تھا۔ ) حضرت زینب ( رض) سے نکاح پر اعتراضوں کا جواب یہاں سے آیت 48 تک کا مضمون اس وقت نازل ہوا جب حضرت زینب ( رض) سے نبی کریم ﷺ نکاح کرچکے تھے اور چونکہ اہل عرب میں منہ بولے بیٹے کی مطلقہ کو حقیقی بیٹے کی مطلقہ سمجھا جاتا تھا جس سے کوئی باپ کبھی نکاح کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا تو اس لیے منافقین اور مشرکین نے مخالفت کا ایک طوفانِ عظیم برپا کردیا کہ زید بن حارثہ تو محمد ﷺ کے منہ بولے بیٹے تھے تو آپ ﷺ نے ان کی مطلقہ سے کیسے نکاح کرلیا جبکہ وہ آپ ﷺ کی بہو رہ چکی تھیں۔ چناچہ پیش نظرآیات میں مخالفین کے طعن وتشنیع کا جواب دینا مقصود نہیں، کیونکہ اس کی بنیاد ایک غلط مفروضے پر ہے۔ اور سورة الاحزاب کے آغاز میں اس کا جواب دیا جا چکا ہے۔ یعنی ان کا مفروضہ یہ تھا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹے کی طرح ہوتا ہے۔ تو قرآن کریم نے واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ منہ بولا بیٹا ہونا کوئی رشتہ نہیں۔ بیٹے وہی ہیں جو صلب سے پیدا ہوتے ہیں۔ کسی کو بیٹا کہہ دینے سے وہ بیٹا نہیں بن جاتا اس لیے انھیں ہمیشہ ان کے باپوں کے حوالے سے پکارو، اپنا بیٹا مت کہو۔ چناچہ اس مفروضے کے غلط ہوجانے کے بعد اعتراض کی بنیاد ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن یہ حکم تو اس کے لیے موثر ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لا چکا ہو۔ کافروں کے لیے اس حکم کی کیا اہمیت ہوسکتی ہے۔ اس لیے ان آیات میں بھی مسلمانوں کو پروپیگنڈے کے اثرات سے بچانا مقصود ہے۔ اس لیے جو صحیح صورتحال ہے اس کی وضاحت کی جارہی ہے۔ لوگوں نے پروپیگنڈے کو اس بنیاد پر بھی اٹھایا کہ نبی کریم ﷺ پہلے سے حضرت زینب ( رض) سے نکاح کرنا چاہتے تھے۔ زید سے نکاح محض ایک بہانہ تھا۔ زید نے جب یہ دیکھا کہ آنحضرت ﷺ خود حضرت زینب میں دلچسپی رکھتے ہیں تو انھوں نے طلاق دے دی اور آپ ﷺ نے ان سے نکاح کرلیا۔ چناچہ اس جھوٹ کا پول کھولنے کے لیے قرآن کریم نے مسلمانوں کو صحیح صورتحال سے آگاہ کیا۔ چناچہ اس سلسلہ میں جو سب سے پہلی بات ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے خطاب کرکے فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ اس وقت کو یاد کریں جب آپ ﷺ اس شخص سے جس پر آپ نے بھی انعام کیا تھا اور اللہ نے بھی انعام کیا تھا یہ کہہ رہے تھے کہ اپنی بیوی کو روک کے رکھو، یعنی اسے طلاق نہ دو اور اللہ سے ڈرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے حضرت زید کو جب انھوں نے آپ سے مشورہ کیا کہ میں حضرت زینب کو طلاق دینا چاہتا ہوں تو آپ نے انھیں بار بار اس سے روکا۔ یہ بار بار میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ یہاں فعل مضارع استعمال ہوا ہے جو تکرار پر دلالت کرتا ہے۔ اگر بات ایک دفعہ کی ہوتی تو پھر یہاں فعل ماضی ہوتا۔ اور دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ بلاوجہ طلاق دینا یہ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی بات ہے۔ اور حضرت زید کے پاس ایسی کوئی معقول وجہ نہ تھی جس کی وجہ سے وہ زینب کو طلاق دینے پر مجبور ہوئے تھے۔ کیونکہ انھوں نے نبی کریم ﷺ سے طلاق دینے کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے ان سے سوال فرمایا کہ کیا زینب کی طرف سے کوئی ایسی بات تمہارے سامنے آئی ہے جو شک پیدا کرنے کا موجب ہوئی ہو۔ تو انھوں نے صاف کہا کہ اس طرح کی کوئی بات نہیں۔ ان کو اگر کوئی شکایت تھی تو خود ان کے الفاظ میں بس یہ تھی کہ تتعظم علی شرفھا ” وہ میرے مقابل میں اپنے شرف خاندانی کے باعث تفوق کا احساس رکھتی ہیں۔ “ ظاہر ہے کہ مجرد یہ بات بیوی کو طلاق دینے کے لیے کافی نہیں۔ اب اگر اس اعتراض میں کوئی بھی وزن ہوتا کہ حضور ﷺ خود نکاح کرنا چاہتے تھے تو اولاً تو آپ کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ آپ پیغامِ نکاح دیتے، نکاح ہوجاتا۔ حضرت زید سے نکاح کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اور ثانیاً یہ کہ اگر آپ خود نکاح کے متمنی ہوتے تو آپ حضرت زید کو بار بار طلاق دینے سے نہ روکتے اور اللہ سے نہ ڈراتے۔ انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ کا مفہوم اس آیت کریمہ میں حضرت زید کا نام تو بعد میں آیا ہے لیکن اس آیت کے شروع میں ان کے نام کی بجائے ان کا ذکر انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ سے کیا گیا ہے اس کا کیا مفہوم ہے ؟ اس سے مراد حضرت زید ہیں۔ لیکن وہ احسان کیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ نے ان پر کیا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مختصراً ان کے حالات بیان کردیے جائیں۔ ” حضرت زید دراصل قبیلہ کلب کے ایک شخص حارثہ بن شراحیل کے بیٹے تھے اور ان کی ماں سعدیٰ بنت ثعلبہ قبیلہ طے کی شاخ بنی معن سے تھیں۔ جب یہ آٹھ سال کے بچے تھے اس وقت ان کی ماں انھیں اپنے میکے لے کر گئیں۔ وہاں بنی قین بن جسر کے لوگوں نے ان کے پڑائو پر حملہ کیا اور لوٹ مار کے ساتھ جن آدمیوں کو وہ پکڑ لے گئے ان میں حضرت زید بھی تھے۔ پھر انھوں نے طائف کے قریب عکاظ کے میلے میں لے جا کر ان کو بیچ دیا۔ خریدنے والے حضرت خدیجہ ( رض) کے بھتیجے حکیم بن حزام تھے۔ انھوں نے مکہ لا کر اپنی پھوپھی صاحبہ کی خدمت میں نذر کردیا۔ نبی کریم ﷺ سے حضرت خدیجہ ( رض) کا جب نکاح ہوا تو حضور ﷺ نے ان کے ہاں زید کو دیکھا اور ان کی عادات واطوار آپ ﷺ کو اس قدر پسند آئے کہ آپ نے انھیں حضرت خدیجہ ( رض) سے مانگ لیا۔ اس طرح یہ خوش قسمت لڑکا اس خیرالخلائق ہستی کی خدمت میں پہنچ گیا جسے چند سال بعد اللہ تعالیٰ نبی بنانے والا تھا۔ اس وقت حضرت زید کی عمر 15 سال تھی۔ کچھ مدت بعد ان کے باپ اور چچا کو پتہ چلا کہ ہمارا بچہ مکہ میں ہے۔ وہ انھیں تلاش کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ تک پہنچے اور عرض کیا کہ آپ جو فدیہ چاہیں ہم دینے کے لیے تیار ہیں آپ ہمارا بچہ ہمیں دے دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں لڑکے کو بلاتا ہوں اور اسی کی مرضی پر چھوڑ دتا ہوں کہ وہ تمہارے ساتھ جانا چاہتا ہے یا میرے پاس رہنا پسند کرتا ہے۔ اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہے گا تو میں کوئی فدیہ نہ لوں گا اور اسے یوں ہی چھوڑ دوں گا۔ لیکن اگر وہ میرے پاس رہنا چاہے تو میں ایسا آدمی نہیں ہوں کہ جو شخص میرے پاس رہنا چاہتا ہو اسے خواہ مخواہ نکال دوں۔ انھوں نے کہا یہ تو آپ نے انصاف سے بھی بڑھ کر درست بات فرمائی ہے۔ آپ بچے کو بلا کو پوچھ لیجیے۔ حضور ﷺ نے حضرت زید کو بلایا اور ان سے کہا ان دونوں صاحبوں کو جانتے ہو ؟ انھوں نے عرض کیا جی ہاں، یہ میرے والد ہیں اور یہ میرے چچا۔ آپ نے فرمایا، اچھا تم ان کو بھی جانتے ہو اور مجھے بھی۔ اب تمہیں پوری آزادی ہے کہ چاہو ان کے ساتھ چلے جاؤ اور چاہو میرے ساتھ رہو۔ انھوں نے جواب دیا میں آپ کو چھوڑ کر کسی کے پاس نہیں جانا چاہتا۔ ان کے باپ اور چچا نے کہا زید کیا تو آزادی پر غلامی کو ترجیح دیتا ہے اور اپنے ماں باپ اور خاندان کو چھوڑ کر غیروں کے پاس رہنا چاہتا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں نے اس شخص کے جو اوصاف دیکھے میں ان کا تجربہ کرلینے کے بعد میں اب دنیا میں کسی کو بھی اس پر ترجیح نہیں دے سکتا۔ زید کا یہ جواب سن کر ان کے باپ اور چچا بخوشی راضی ہوگئے۔ حضور ﷺ نے اسی وقت زید کو آزاد کردیا اور حرم میں جا کر قریش کے مجمعِ عام میں اعلان فرمایا کہ آپ سب لوگ گواہ رہیں آج سے زید میرا بیٹا ہے، یہ مجھ سے وراثت پائے گا اور میں اس سے۔ اسی بنا پر لوگ ان کو زید بن محمد کہنے لگے۔ یہ سب واقعات نبوت سے پہلے کے ہیں پھر جب نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب نبوت پر سرفراز ہوئے تو چار ہستیاں ایسی تھیں جنھوں نے ایک لمحہ شک و تردد کے بغیر آپ سے نبوت کا دعویٰ سنتے ہی اسے تسلیم کرلیا۔ ایک حضرت خدیجہ ( رض) ، دوسرے حضرت زید ( رض) ، تیسرے حضرت علی ( رض) اور چوتھے حضرت ابوبکر صدیق ( رض) ۔ اس وقت حضرت زید ( رض) کی عمر 30 سال تھی اور ان کو حضور ﷺ کی خدمت میں رہتے ہوئے 15 سال گزر چکے تھے۔ ہجرت کے بعد 4 ھ میں نبی کریم ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب ( رض) سے ان کا نکاح کردیا۔ اپنی طرف سے ان کا مہر ادا کیا اور گھر بسانے کے لیے ان کو ضروری سامان عنایت فرمایا۔ آنحضرت ﷺ کے حضرت زید ( رض) کو طلاق دینے سے روکنے کے اسباب حضرت زید بن حارثہ ( رض) اور حضرت زینب ( رض) کی طبعی ناموافقت آخر رنگ لائی، اختلافات بڑھنے لگے تو حضرت زید ( رض) نے بار بار آکر نبی کریم ﷺ سے ارادہ طلاق کا اظہار کیا۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ کیا زینب کی طرف سے کوئی ایسی بات تمہارے سامنے آئی ہے جو شک پیدا کرنے کا موجب ہوئی ہے ؟ تو انھوں نے اعتراف کیا کہ اس طرح کی کوئی بات نہیں۔ شکایت صرف یہ ہے کہ تَتَعَظَّمُ عَلَیَّ لِشَرَفِیْھَا ” وہ میرے مقابل میں شرف خاندانی کے باعث تفوق کا احساس رکھتی ہیں۔ “ چناچہ نبی کریم ﷺ نے اسے طلاق کے لیے کافی عذر نہ سمجھتے ہوئے حضرت زید ( رض) کے شدت احساس کو اس ناگواری کا سبب سمجھا اور آپ ( رض) کو مشورہ دیا کہ اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں روکے رکھو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو، کیونکہ یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں جس کی وجہ سے تم علیحدگی اختیار کرلو۔ بہت ممکن ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سازگاری پیدا ہوجائے۔ لیکن جب دونوں میں اختلاف مزید شدت اختیار کرگیا اور حضرت زید ( رض) کے ارادے میں پختگی آنے لگی تو آپ اس کی وجہ سے بہت پریشان ہوگئے۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ آپ محسوس فرما رہے تھے کہ میں نے زور دے کر حضرت زینب اور ان کے خاندان کو اس نکاح پر آمادہ کیا تھا جبکہ وہ اس پر راضی نہ تھے۔ اب اگر یہ طلاق ہوجاتی ہے تو اس کا الزام مجھ پر آئے گا۔ ان کا خاندان یہ کہے گا کہ ہم تو اس رشتے کو پہلے ہی بےجوڑ سمجھتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ اور آپ کے حکم کی وجہ سے ہم نے اس کو قبول کرلیا۔ لیکن اب اس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ اور دوسری آپ کی پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ آپ یہ سوچنے لگے کہ اب تک تو خاندان کی بعض عورتیں اور بعض منافقات حضرت زینب کو ایک آزاد کردہ غلام کی بیوی ہونے کا طعنہ دیتی تھیں۔ اب اگر طلاق ہوجاتی ہے تو طعنوں میں مزید اضافہ ہوجائے گا کہ پہلے تو زینب صرف ایک آزاد کردہ غلام کی بیوی تھیں اب وہ اس کی مطلقہ ہوجائیں گی اور اس سے ان کی حیثیتِ عرفی کو بہت نقصان پہنچے گا۔ لیکن سب سے زیادہ پریشانی کا سبب ایک اور تھا۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اشارہ کرچکا تھا کہ زید جب اپنی بیوی کو طلاق دے دیں تو ان کی مطلقہ خاتون سے آپ کو نکاح کرنا ہوگا۔ حکیم ترمذی اور ابن ابی حاتم وغیرہ محدثین نے حضرت علی بن حسین زین العابدین سے روایت نقل کی ہے جن کے الفاظ یہ ہیں : اَوْحَی اللّٰہُ تَعْالیٰ اِلَیْہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ زَیْنَبَ سَیُطَلِّقُھَا زَیْدٌ وَیَتَزَوَجُھَا بَعْدَہٗ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ ۔ ” یعنی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو اشارۃً کہہ دیا تھا کہ حضرت زینب کو زید طلاق دینے والے ہیں اور اس کے بعد وہ آپ کے نکاح میں آئیں گی۔ “ اور ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کے حوالہ سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ان اللہ اعلم نبیہ انھا ستکون من ازواجہ قبل ان یتزوجھا فلما اتاہ زید لیشکوھا الیہ قال اتق اللہ وامسک علیک زوجک فقال اخبرتک انی سَاُزَوِّجُکَھَا وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ ” یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بتلادیا تھا کہ حضرت زینب بھی ازواجِ مطہرات میں داخل ہوجائیں گی، پھر جب حضرت زید ان کی شکایت لے کر آپ کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو طلاق نہ دو ، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تو آپ کو بتلادیا تھا کہ میں ان سے آپ کا نکاح کرا دوں گا، اور آپ اپنے دل میں اس چیز کو چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا ہے۔ “ نبی کریم ﷺ جانتے تھے کہ عرب کی اس سوسائٹی میں منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کرنا کیا معنی رکھتا ہے اور وہ بھی عین اس حالت میں جبکہ مٹھی بھر مسلمانوں کے سوا باقی سارا عرب آپ کے خلاف پہلے ہی خار کھائے بیٹھا تھا۔ اس لیے آپ اس شدید آزمائش میں پڑنے سے ہچکچا رہے اور اس سے بچنا چاہتے تھے۔ اس لیے بار بار آپ حضرت زید کو طلاق سے روکنے کی کوشش فرما رہے تھے۔ آپ کو اس بات کا شدید احساس تھا کہ اہل عرب کی مخالفت صرف میری ذات کو نقصان نہیں پہنچائے گی بلکہ اسلام بھی ان کی مخالفت کا ہدف ہوگا۔ یہ صحیح ہے کہ تبنیت کی رسم کو ختم ہونا چاہیے، لیکن کیا اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کافی نہیں کہ تم جنھیں اپنا لے پالک بنا چکے ہو انھیں اپنی نسبت سے نہیں بلکہ ان کے اصل باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہ حکم جیسے جیسے عام ہوگا ویسے ویسے یہ رسم ختم ہوتی جائے گی۔ لیکن پروردگار نے آپ کے اس احساس اور خیال کو آپ کے بلند وبالا مرتبے سے فروتر جانا۔ اس لیے اس ترک اولیٰ پر عتاب فرمایا کہ جب ہم آپ کو بتا چکے تھے کہ آپ کو اس رسم کو ختم کرنے کے لیے حضرت زینب سے نکاح کرنا ہے تو پھر آپ کو زید کو بیوی کو طلاق دینے سے روکنا نہیں چاہیے تھا بلکہ انھیں ان کے منشاء پر چھوڑ دیتے اور یا اس پر خاموشی اختیار کرتے۔ مزید فرمایا کہ آپ لوگوں کے پروپیگنڈا اور طعن وتشنیع سے ڈرتے تھے اور آپ کو یہ خوف تھا کہ اس سے اسلامی مفاد کو نقصان پہنچے گا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ کیونکہ اقامتِ دین کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمیشہ لوگوں کا خوف یا مصالح کا لحاظ رہا ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کی پوری تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا کبھی کسی احساس کو قدموں کی زنجیر نہیں بننے دیا۔ انھوں نے اپنے ہاتھوں اس راہ کے ہر پتھر کو توڑا اور اس مقصد کی خاطر بڑے سے بڑے خطرے کا مقابلہ کیا۔ آپ اسی سلسلۃ الذھب کی آخری کڑی ہیں اس لیے آپ کو کسی طرح بھی ان باتوں کو ذہن میں آنے نہیں دینا چاہیے تھا۔ ہماری اس وضاحت سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ آپ اپنے دل میں ایک ایسی بات چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا، وہ یہ بات نہ تھی کہ آپ حضرت زینب سے نکاح کی خواہش رکھتے تھے بلکہ اصل میں یہ بات تھی کہ اس نکاح کے نتیجے میں آپ کی ذات اور اسلامی کاز کو جس نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا اس سے بچنے کے لیے نکاح سے گریز کررہے تھے جبکہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی اطلاع دے چکا تھا۔ اور اس گریز کا امکان صرف ایک ہی صورت میں تھا کہ زید اپنی بیوی کو طلاق نہ دیں تاکہ اس ابتلا میں آپ کو مبتلا نہ ہونا پڑے، اس لیے آپ ان کو طلاق سے روک رہے تھے۔ چناچہ اسی کی تائید اگلی آیت سے بھی ہورہی ہے کہ جب حضرت زید نے اپنی بیوی سے تعلق ختم کردیا یعنی طلاق دے دی اور پھر عدت بھی گزر گئی، یاد رہے کہ وطر کا معنی اگرچہ حاجت اور ضرورت ہے لیکن ضرورت کا تصور وابستگی کے معنی کو بھی متضمن ہے جسے ہم تعلق سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔ اس لیے اگرچہ اس جملے کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ جب زید نے اپنی ضرورت پوری کرلی اور یہ صحیح بھی ہے، لیکن چونکہ یہ کسی حد تک ذوق کو کھٹکتا ہے اس لیے مناسب یہ ہے کہ اس کا ترجمہ یوں کیا جائے کہ جب زید نے اپنی ضرورت یا اپنا تعلق اپنی بیوی سے ختم کردیا یا انتہا کو پہنچا دیا۔ یعنی طلاق دے دی اور پھر عدت بھی گزر گئی کیونکہ طلاق کے بعد عدت کے اختتام سے پہلے چونکہ رجوع کا حق رہتا ہے اس لیے عدت گزر جانے سے پہلے تعلق ختم نہیں ہوتا بلکہ کسی وقت بھی ازسرنو استوار ہوسکتا ہے۔ اور یہ بھی تعلق ہی کی ایک صورت ہے کہ عدت گزرنے تک شوہر کو اس بات کا اطمینان نہیں ہوتا کہ اس کی بیوی اس کی امانت کی امین تو نہیں۔ یہ بھی ایک تعلق ہے جو عدت ختم ہونے کے بعد ختم ہوتا ہے۔ چناچہ جب زید اپنی بیوی سے تعلق ختم کرچکے تو تب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کا نکاح زید کی مطلقہ سے کردیا۔ یہ لفظ بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نکاح سے بچنا چاہتے تھے نہ کہ شوق پورا کرنے کے لیے راستے تلاش کررہے تھے۔ اور آپ اس کے نتائج کی فکر سے پریشان تھے تو اللہ تعالیٰ نے خود آپ کا نکاح کردیا تاکہ اس رسم بد کو ختم کردیا جائے اور آئندہ مسلمانوں پر اپنے لے پالکوں کے بارے میں کوئی تنگی باقی نہ رہے اور وہ ان کی مطلقات یا بیوگان سے نکاح کرنے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہ کریں جبکہ وہ عدت گزار چکیں۔ اور اس رسم بد کا ختم ہونا چونکہ بہت ضروری تھا اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو بہرحال ہو کے رہنا تھا۔ صرف مناسب وقت کا انتظار تھا۔ جب وقت آگیا تو تمام موانع اور مشکلات کے باوجود اس رسم جاہلی کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا۔ یہ جو فرمایا گیا کہ ہم نے آپ کا نکاح حضرت زینب سے کردیا۔ بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب سمجھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نکاح کو یہ امتیاز بخشا کہ خود ہی نکاح کردیا اور عام شرائطِ نکاح سے اس کو مستثنیٰ قرار دے دیا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس نکاح کا حکم دیا کہ اب آپ شرعی شرائط و قواعد کے مطابق زینب سے نکاح کرلیں۔ یہی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عدت گزرنے کے بعد آنحضرت ﷺ نے حضرت زید ہی کے واسطہ سے حضرت زینب کو پیغامِ نکاح دیا۔ انھوں نے استخارہ کے بعد اس کو منظور کیا اور حضرت زینب کے بھائی ابواحمد بن جحش نے حضور ﷺ کے ساتھ ان کا نکاح پڑھایا۔ اور آپ نے چارسو درہم مہر مقرر فرمایا۔ اور نہایت اہتمام کے ساتھ ولیمہ کیا۔ ابن ہشام نے اس تمام تفصیل کو بیان کیا ہے۔
Ayahs 33:38–39

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

نبی کے لیے ایسے کام میں کوئی تنگی نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے فرض کردیا ہے، یہی اللہ کی سنت رہی ہے ان لوگوں کے معاملے میں جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور اللہ حساب کے لیے کافی ہے

مَاکَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَـہٗ ط سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ط وَکَانَ اَمْرُاللّٰہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا نِ ۔ الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ وَیَخْشَوْنَـہٗ وَلاَ یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلاَّاللّٰہَ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا۔ (الاحزاب : 38، 39) (نبی کے لیے ایسے کام میں کوئی تنگی نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے فرض کردیا ہے، یہی اللہ کی سنت رہی ہے ان لوگوں کے معاملے میں جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے۔ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور اللہ حساب کے لیے کافی ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی ان دونوں آیات میں دو حوالوں سے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔ ایک تو یہ کہ تبنیت کی رسم جاہلی کو ختم کرنے کے لیے جو آپ پر عظیم ذمہ داری ڈالی گئی یہ آپ کو کسی تنگی میں ڈالنے کے لیے نہیں تھی۔ یہ آپ کی تربیت اور اللہ تعالیٰ کے دین کی آبرومندی اور اس کے اثرونفوذ کے لیے ایک لازمی سنت ہے جس سے ہمیشہ انبیائے کرام کو گزارا جاتا ہے۔ ایسے مراحل سے گزرنے کے بعد آپ کی ذات اور آپ کی عملی زندگی امت کے لیے مینارہ نور بنے گی۔ اور ہمیشہ ایسے مواقع پر آپ ہی کی ذات سے حجت پکڑی جائے گی۔ اور جیسے جیسے آپ ان مراحل سے گزریں گے ویسے ویسے آپ کے اندر وہ تصلب اور استقامت آئے گی جو آئندہ آنے والے مراحل کے لیے رہنما بنے گی۔ اور تسلی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایسے مراحل سے گزرنا آپ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ سابق انبیاء کو بھی اسی طرح کے مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔ کیونکہ بگڑے ہوئے لوگ اور طاغوت کے پرستار کبھی بھی صحیح بات کو قبول کرنے کے لیے آسانی سے تیار نہیں ہوتے۔ چونکہ حق کی پیروی ان کے مفادات کی قاتل ہوتی ہے اس لیے جب وہ اپنے پائوں تلے سے زمین سرکتی ہوئی محسوس کرتے ہیں تو اہل حق کے لیے مشکلات پیدا کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اور یہ روایت ہر پیغمبر اور رسول کے دور میں دہرائی جاتی رہی ہے۔ اور ایسی ہی صورتحال میں اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ ان امتحانوں سے گزرنے کی وجہ سے ان کے اندر کے اوصاف اجاگر ہوتے ہیں اور ان کی پیروی کرنے والوں میں مخلصین اور منافقین کی الگ الگ شناخت قائم ہوجاتی ہے۔ حضرات انبیاء کے لیے اللہ تعالیٰ کی سنت ان آیات سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر پر کوئی چیز فرض کردیتا ہے تو پیغمبر کے لیے اس کا ادا کرنا حالات کے تابع نہیں رہتا بلکہ وہ انتہائی ناموافق حالات میں بھی بہر صورت اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ وہ اس راستے میں پیش آنے والی مشکلات کو کبھی خاطر میں نہیں لاتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ایک قطعی فیصلہ ہوتا ہے۔ اسے ہرحال میں بروئے کار لانا ہوتا ہے۔ دوسری آیت کریمہ الذین خلوا من قبل کی صفت ہے کہ پہلے انبیاء جو گزرے ہیں آپ ان کی تاریخ پڑھ کر دیکھیں ان میں دو صفات قدم قدم پر نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو پیغام نازل ہوتا ہے وہ ہر صورت میں اس کی تبلیغ کرتے ہیں۔ اور دوسری یہ بات کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے نہیں ڈرتے۔ انھیں نہ کسی مخالفت کی پرواہ ہوتی ہے نہ وہ کسی ملامت کو خاطر میں لاتے ہیں۔ آپ تو سیدالانبیاء ہیں آپ میں یہ صفت ان سے بھی زیادہ نمایاں ہونے کی ضرورت ہے۔ رسمِ جاہلی کی پامالی میں جس صورتحال سے آپ کو دوچار ہونا پڑا ہے اس میں کوئی نئی بات نہیں۔ آپ کو بہرحال اپنے پیشروئوں کی طرح اپنا فرض انجام دینا ہے۔ زمانہ یونہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتا ہے یہ درس صلح دیتے ہیں یہ ان سے جنگ کرتا ہے آخری جملے میں حَسِیْبًاکی تفسیر ابن کثیر اور کشاف نے ناصر اور معین کی ہے۔ یعنی آپ کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ ہر طرح کے خطرات میں اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت کرنے والا اور مددگار ہے۔ لیکن عام طور پر حسیب کا معنی حساب کرنے والا کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ جملہ تنبیہ کے مفہوم میں ہوگا۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے پیغام کی تبلیغ میں دوسروں کے خوف یا ملامت کی وجہ سے کوئی کوتاہی رہ گئی تو اللہ تعالیٰ محاسبہ کرنے کے لیے کافی ہے۔
Ayah 33:40

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے

مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَـآ اَحَدٍمِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ط وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمًا۔ (الاحزاب : 40) (محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ ) مخالفین کے اعتراضات کا جواب اور آنحضرت ﷺ کے منصبی تقاضے نبی کریم ﷺ کے حضرت زینب سے نکاح کے سلسلے میں جن لوگوں نے مخالفت کا طوفان اٹھایا اس کی سب سے بڑی بنیاد یہ تھی کہ زید نبی کریم ﷺ کے منہ بولا بیٹا ہونے کی وجہ سے حقیقی بیٹے کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی بیوی حضور ﷺ کی بہو ہے تو طلاق کی صورت میں وہ ان سے نکاح کیسے کرسکتے تھے ؟ اسے بنیاد بنا کر انھوں نے عجیب و غریب الزامات لگائے اور کہانیاں تراشیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اسی بنیادی بات کا جواب دیا کہ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ یعنی صرف یہی نہیں کہ وہ حضرت زید کے باپ نہیں بلکہ وہ کسی مرد کے باپ نہیں۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی چار بیٹیاں تھیں، آپ کی کوئی نرینہ اولاد زندہ نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو چار بیٹے دیے اور چاروں ہی بچپن ہی میں فوت ہوگئے۔ اس آیت کے نزول کے وقت تین بیٹے فوت ہوچکے تھے اور چوتھے حضرت ابراہیم بعد میں پیدا ہوئے ہیں اور وہ بھی بچپن ہی میں فوت ہوگئے۔ اور رجال رجل کی جمع ہے، بالغ مردوں کو کہتے ہیں۔ اس طرح سے کلام میں زیادہ زور پیدا کرکے اس الزام کی تردید کی گئی کہ جب آپ ﷺ کسی مرد کے باپ نہیں ہیں تو کسی مطلقہ بہو سے شادی کرنے کا کیا سوال ہے۔ رہی یہ بات کہ چلیے یہ مان بھی لیا جائے کہ زید آپ کے بیٹے نہیں ہیں لیکن اہل عرب چونکہ منہ بولے بیٹے کو بیٹا ہی سمجھتے ہیں تو کیا ضروری تھا کہ آپ ﷺ ان کی مطلقہ سے نکاح کرتے اور بلاوجہ مخالفین کی مخالفت کو دعوت دیتے۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ رسول دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ہر قدم اٹھاتا اور ہر فیصلہ کرتا ہے۔ وہ ہر بگڑی ہوئی چیز کو درست کرتا اور ہر صحیح چیز کو تقویت دیتا ہے۔ چونکہ یہ رسم جاہلی بہت سے مفاسد کا باعث تھی اس لیے رسول ہونے کی حیثیت سے آپ کی یہ ذمہ داری تھی کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس رسم کا استیصال کرتے۔ قطع نظر اس سے کہ آپ کو اس کی کیا قیمت ادا کرنا پڑتی۔ تو اس پر کہنے والوں نے کہا کہ رسول تو پہلے بھی آئے ہیں اور آئندہ بھی آئیں گے، کیا ضروری تھا کہ آپ ہی اس رسم کے خاتمے کا ذریعہ بنیں۔ کوئی آنے والا رسول اس ذمہ داری کو ادا کرسکتا تھا جبکہ آپ کی تبلیغی مساعی کے نتیجے میں حالات بہت حد تک سازگار ہوچکے ہوتے۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ آپ صرف رسول ہی نہیں ہیں بلکہ خاتم النبیین بھی ہیں۔ یعنی آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ آپ کے ہاتھوں اس سلسلۃ الذہب کی تکمیل ہوگئی ہے۔ اس لیے بہت ضروری ہے کہ ہر ایسی رسم جس سے اسلامی تہذیب کو نقصان پہنچتا ہو اسے آپ کے ہاتھوں ختم کرایا جائے۔ یاد رہے کہ بعض لوگوں نے یہ بات بھی کہی ہے کہ آپ خاتم النبیین تو ہیں لیکن خاتم الرسل نہیں ہیں۔ اس لیے یہ بات جان لینا بہت ضروری ہے کہ نبی اور رسول کے درمیان عام اور خاص کی نسبت ہے۔ یعنی ہر رسول یقینا نبی ہوتا ہے۔ لیکن ہر نبی کا رسول ہونا لازمی نہیں۔ تو جب آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں تو خاتم الرسل ہونا تو اور بھی ضروری ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ خاتم اور خاتم دونوں لفظ اہل لغت کے نزدیک بالکل ہم معنی ہیں۔ جن لوگوں نے اس میں ابہام پیدا کیا ہے انھوں نے لغوی خیانت سے کام لیا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ اس وقت نبی کریم ﷺ کے ہاتھوں اس رسم جاہلی کو ختم کرا دینا کیوں ضروری تھا اور ایسا نہ کرنے میں کیا قباحت تھی۔ رہا مخالفین کا شوروغوغا اللہ تعالیٰ اس کی حقیقت سے بھی باخبر ہے۔ وہ زید کو بھی جانتا ہے اور زینب کو بھی جانتا ہے۔ اپنے پیغمبر سے بھی واقف ہے۔ اور زید و زینب کے ساتھ ان کے رشتہ کی نوعیت سے بھی باخبر ہے۔ اس لیے اصلاح کا جو عمل بروئے کار آیا ہے اور جس طرح اس رسم کو ختم کیا گیا ہے وہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوا ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں انھیں اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا محیط کل علم ہی ہر چیز کی باریکیوں اور حکمتوں کو سمجھ سکتا ہے دوسرے اس کی ساری حکمتوں کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ ہمارے ملک میں ختم نبوت کے خلاف ایک بہت بڑا فتنہ اٹھایا گیا۔ پارلیمنٹ نے اگرچہ اسے اقلیت قرار دے دیا لیکن ابھی تک وہ فتنہ اپنی پوری توانائی کے ساتھ مسلمانوں کے ذہنوں کو مسموم کرنے کے لیے اپنی مساعی میں لگا ہوا ہے۔ اور ہماری حکومت اسے کھلی چھٹی دے چکی ہے۔ علماء نے اس پر نہایت وقیع کام کیا ہے اور اس کے کسی گوشہ کو تشنہ نہیں چھوڑا۔ سیدابوالاعلیٰ مودودی مرحوم نے ان کی پھیلائی ہوئی گمراہیوں کے تاروپود کو تفہیم القرآن میں پوری طرح بکھیر کر رکھ دیا ہے اور آخر میں اسے ایک ضمیمہ کے طور پر شامل کردیا ہے۔ اسی طرح مفتی محمد شفیع صاحب مرحوم نے بھی اس پر قابل قدر کام کیا ہے اور ختم نبوت پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ معارف القرآن میں اسی کتاب سے چند عنوانات کے تحت چند احادیث جمع کی ہیں، ہم ان کی اہمیت کے پیش نظر انھیں یہاں نقل کررہے ہیں۔ آپ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کے منافی نہیں چونکہ قرآن کریم کی معتدد آیات اور احادیث متواترہ سے یہ ثابت ہے کہ قیامت سے پہلے آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پھر دنیا میں تشریف لائیں گے اور دجالِ اعظم کو قتل کریں گے اور اس وقت ہر گمراہی کو ختم کریں گے جس کی تفصیل احقر کے رسالہ ” التصریح بما تواتر فی نزول المسیح “ میں مذکور ہے۔ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا زندہ آسمان میں اٹھایا جانا اور پھر آخر زمانے میں تشریف لانا جو قرآن و سنت کی بیشمار نصوص سے ثابت ہے ان کا انکار کرکے خود مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور استدلال میں یہ پیش کیا کہ اگر حضرت عیسیٰ بن مریم نبی بنی اسرائیل کا پھر دنیا میں آنا تسلیم کیا جائے تو یہ آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے منافی ہوگا۔ جواب بالکل واضح ہے کہ خاتم النبیین اور آخرالنبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص عہدہ نبوت پر فائز نہ ہوگا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ سے پہلے جس کو نبوت عطا ہوچکی ہے ان کی نبوت سلب ہوجائے گی یا ان میں سے کوئی اس عالم میں پھر نہیں آسکتا۔ البتہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو بھی آپ کی امت میں اصلاح و تبلیغ کے لیے آئے گا وہ اپنے منصب نبوت پر قائم ہوتے ہوئے اس امت میں اصلاح کی خدمت آنحضرت ﷺ کی تعلیمات ہی کے تابع انجام دے گا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں تصریح ہے۔ والمراد بکونہ (علیہ السلام) خاتمھم انقطاع حدوث وصف النبوۃ فی احدمّن الثقلین بعد تخلیتہ (علیہ السلام) بھافی ھٰذا النشأۃ ولایقدح فی ذلک ما اجمعت علیہ الامۃ واشتھرت فیہ الاخبار ولعلھا بلغت مبلغ اتواتر المعنوی و نطق بہ الکتٰب علیٰ قول و وجب الایمان بہ واکفر منکرہ کالفلاسفۃ من نزول عیسیٰ (علیہ السلام) اٰخرالزمان لانَّہ کان بنیًّا قبل ان یحلی نبینا ﷺ بالنبوۃ فی ھذہ النشاء ۃ ” یعنی رسول اللہ ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے سے یہ مراد ہے کہ وصف نبوت آپ ﷺ کے بعد منقطع ہوگیا، اب کسی کو یہ وصف اور منصب نہیں ملے گا، اس سے اس مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا جس پر امت کا اجماع ہے اور قرآن اس پر ناطق ہے اور احادیث رسول جو تقریباً درجہ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں اس پر شاہد ہیں وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آخر زمانے میں نازل ہوں گے کیونکہ ان کو نبوت اس دنیا میں ہمارے نبی ﷺ سے پہلے مل چکی تھی۔ “ نبوت کے مفہوم کی تحریف ظِلّی اور بروزی نبوت کی ایجاد اس مدعی نبوت نے دعویٔ نبوت کا راستہ ہموار کرنے کے لیے ایک نئی چال یہ چلی کہ نبوت کی ایک نئی قسم ایجاد کی جس کا قرآن و سنت میں کوئی وجود و ثبوت نہیں اور پھر کہا کہ یہ قسم نبوت کی حکم قرآنی ختم نبوت کے منافی نہیں۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ اس نے نبوت کے مفہوم میں وہ راستہ اختیار کیا جو ہندوئوں اور دوسری قوموں میں معروف ہے کہ ایک شخص دوسرے جنم میں کسی دوسرے کے روپ میں آسکتا ہے اور پھر یہ کہا کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کے مکمل اتباع کی وجہ سے آپ ﷺ کا ہم رنگ ہوگیا ہو اس کا آنا گویا خود آپ ﷺ ہی کا آنا ہے وہ درحقیقت آپ ہی کا ظل اور بروز ہوتا ہے اس لیے اس کے دعوے سے عقیدہ ختم نبوت متأثر نہیں ہوتا۔ مگر اول تو خود یہ نوایجاد نبوت اسلام میں کہاں سے آئی، اس کے علاوہ مسئلہ ختم نبوت چونکہ عقائد اسلامیہ کا ایک بنیادی عقیدہ ہے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کو مختلف عنوانات سے مختلف اوقات میں ایسا واضح کردیا ہے کہ کسی تخریف کرنے والے کی تحریف چل نہیں سکتی، اس جواب کی پوری تفصیل تو احقر کی کتاب ختم نبوت ہی میں دیکھی جاسکتی ہے یہاں چند چیزیں بقدر ضرورت پیش کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم وغیرو میں تمام کتب حدیث میں حضرت ابوہریرہ ( رض) کی یہ روایت اسناد صحیح کے ساتھ آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان مثلی و مثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتًا فاحسنہ واجمل الاموضع لبنۃ من زوایۃ فجعل الناس یطوفون بہ ویعجبون لہ ویقولون ھَلاَّ وضعت ھذہ اللبنۃ وانا خاتم النبیین، رواہ احمد والنسائی والترمذی وفی بعض الفاظہ فکنت انا سددت موضع اللبنۃ و ختم بی البنیان۔ ” میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے ایک مکان بنایا ہو اور اس کو خوب مضبوط اور مزین کیا ہو مگر اس کے ایک گوشہ میں دیوار کی ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی ہو تو لوگ اس کو دیکھنے کے لیے اس میں چلیں پھریں اور تعمیر کو پسند کریں مگر سب یہ کہیں کہ اس مکان بنانے والے نے یہ اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی جس سے تعمیر بالکل مکمل ہوجاتی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (قصرنبوت کی) وہ آخری اینٹ میں ہوں اور بعض الفاظ حدیث میں ہے کہ میں نے اس خالی جگہ کو پر کرکے قصرنبوت کو مکمل کردیا۔ “ اس تمثیل بلیغ کا حاصل یہ ہے کہ نبوت ایک عالی شان محل کی طرح ہے جس کے ارکان انبیاء (علیہم السلام) ہیں۔ آنحضرت ﷺ سے پہلے یہ محل بالکل تیار ہوچکا تھا اور اس میں صرف ایک اینٹ کے سوا کسی اور قسم کی گنجائش تعمیر میں باقی نہیں تھی۔ آنحضرت ﷺ نے اس جگہ کو پر کرکے قصرنبوت کی تکمیل فرما دی اب اس میں نہ کسی نبوت کی گنجائش ہے نہ رسالت کی۔ اگر نبوت یا رسالت کی کچھ اقسام مان لی جائیں تو اب ان میں سے کسی قسم کی گنجائش قصر نبوت میں نہیں ہے۔ صحیح بخاری و مسلم اور مسنداحمد وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ( رض) کی ایک دوسری حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کانت بنواسرائیل تسوسھم الانبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی وانہ لانبی بعدی و سیکون خلفاء فیکثرون الحدیث۔ ” بنی اسرائیل کی سیاست اور انتظام خود انبیاء کے ہاتھ میں تھا جب ایک نبی کی وفات ہوجاتی تو دوسرا نبی اس کے قائم مقام ہوجاتا تھا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ میرے خلیفہ ہوں گے جو بہت ہوں گے۔ “ اس حدیث نے یہ بھی واضح کردیا کہ آنحضرت ﷺ چونکہ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا تو امت کی ہدایت کا انتظام کیسے ہوگا ؟ اس کے متعلق فرمایا کہ آپ کے بعد امت کی تعلیم و ہدایت کا انتظام آپ کے خلفاء کے ذریعہ سے ہوگا جو رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ہونے کی حیثیت سے مقاصد نبوت کو پورا کریں گے اگر ظلی بروزی کوئی نبوت کی قسم ہوتی یا غیرتشریعی نبوت باقی ہوتی تو ضرور تھا کہ یہاں اس کا ذکر کیا جاتا کہ اگرچہ عام نبوت ختم ہوچکی مگر فلاں قسم کی نبوت باقی ہے جس سے اس عالم کا انتظام ہوگا۔ اس حدیث میں صاف واضح الفاظ میں بتلادیا کہ نبوت کی کوئی قسم آپ کے بعد باقی نہیں اور ہدایت خلق کا کام جو پچھلی امتوں میں انبیاء بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا وہ اس امت میں آپ کے خلفاء سے لیا جائے گا۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ ( رض) کی حدیث مرفوع ہے۔ لَمْ یَبْق مِنَ النُّبُوَّۃِ اِلاَّ الْمُبَشِّرَاتِ ۔ ” یعنی نبوت میں سے کچھ باقی نہیں رہا بجز مبشرات کے۔ “ مسنداحمد وغیرہ میں حضرت صدیقہ عائشہ ( رض) اور ام کرز کعبیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لایبقی بعدی من النبوۃ شیء الا المبشرات قالوا یارسول اللہ وما المبشرات قال الرٔویا الصّالحۃ یراھا المسلم اوتری لہ۔ (طبرانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے کذا فی الکنز) ” میرے بعد نبوت میں سے کچھ باقی نہیں رہا بجز مبشرات کے، صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ مشرات کیا چیز ہے ؟ فرمایا سچے خواب جو مسلمان خود دیکھے یا اس کے متعلق کوئی دوسرا دیکھے۔ “ اس حدیث نے کسی قدر وضاحت سے بتلا دیا کہ نبوت کی کوئی قسم تشریعی یا غیرتشریعی اور بقول مرزا قادیانی ظلی یا بروزی آنحضرت ﷺ کے بعد باقی نہیں، صرف مبشرات یعنی سچے خواب لوگوں کو آئیں گے جن سے کچھ معلومات ہوجائیں گی۔ اور مسنداحمد اور ترمذی میں حضرت انس بن مالک ( رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان الرسالۃ والنبوۃ قدانقطعت فلارسول بعدی ولا نبی، رواہ الترمذی و وقال ھذا حدیث صحیح۔ ” بیشک رسالت اور نبوت میرے بعد منقطع ہوچکی ہے، میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی۔ “ اس حدیث نے واضح کردیا کہ غیرتشریعی نبوت بھی آپ کے بعد باقی نہیں اور ظلی بروزی تو نبوت کی کوئی قسم ہی نہیں نہ اسلام میں اس طرح کی کوئی چیز معروف ہے۔ اس جگہ مسئلہ ختم نبوت کی احادیث جمع کرنا مقصود نہیں وہ تو دو سو سے زیادہ رسالہ ختم نبوت میں جمع کردی گئی ہیں صرف چند احادیث سے یہ بتلانا مقصود تھا کہ مرزائی قادیانی نے جو بقائِ نبوت کے لیے ظلی اور بروزی کا عنوان ایجاد کیا ہے اول تو اسلام میں اس کی کوئی اصل و بنیاد نہیں اور بالفرض ہوتی بھی تو ان احادیث مذکورہ نے واضح طور پر یہ بتلا دیا کہ آپ کے بعد نبوت کی کوئی قسم کسی طرح کی باقی نہیں ہے۔ اسی لیے صحابہ کرام سے لے کر آج تک امت مسلمہ کے سب طبقات کا اجماع اس عقیدہ پر رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی کسی قسم کا نبی یا رسول نہیں ہوسکتا جو دعویٰ کرے کہ وہ کاذب منکر قرآن اور کافر ہے اور صحابہ کرام کا سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر ہوا جس کی رو سے مسیلمہ کذاب مدعی نبوت سے خلیفہ اول حضرت صدیق اکبر ( رض) کے عہد میں جہاد کرکے اس کو اور اس کے ماننے والوں کو قتل کیا گیا۔ ائمہ سلف اور علماء امت کے اقوال و تصریحات بھی اس معاملہ میں رسالہ ” ختم نبوت “ کے تیسرے حصہ میں بڑی تفصیل سے لکھ دیے گئے ہیں اس جگہ چند کلمات نقل کیے جاتے ہیں۔ ابنِ کثیر نے اپنی تفسیر میں اسی آیت کے تحت لکھا ہے، اخبر اللہ تعالیٰ فی کتابہ و رسول اللہ ﷺ فی السنۃ المتواترۃ عنہ انہ لانبی بعدہ لیعلموا ان کل من ادعی ھذا المقام بعدہ فھوکذاب افاک دجال ضال مضل ولوحرّق وشعبذواتی بانواع السحر والطلاسم والنیر نجیات فکلھا محال وضلال عند اولی الالباب کما اجری اللہ سبحانہ علی یدالاسود العنسی بالیمن ومسیلمۃ الکذاب بالیمامۃ من الاحوال الفاسدۃ والاقوال الباردۃ ماعلم کل ذی لب و فھم وحجی انھما کاذبان ضالان لعنھما اللہ تعالیٰ وکذلک کلّ مُدع لذٰلک الی یوم القیمۃ حتی یختموا بالمسیح الدجال، (ابنِ کثیر) ” اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور رسول اللہ ﷺ نے احادیث متواترہ میں خبر دی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ آپ کے بعد جو شخص اس مقام نبوت کا دعویٰ کرے وہ کذاب، مفتری، دجال، گمراہ، گمراہ کرنے والا ہے۔ اگرچہ وہ کتنی ہی شعبدہ بازی کرے اور قسم قسم کے جادو اور طلسم اور نیرنگیاں دکھلائے کہ سب کے سب محال اور گمراہی ہیں عقل والوں کے نزدیک جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسود عنسی (مدعی نبوت) کے ہاتھ پر یمن میں اور مسیلمہ کذاب (مدعی نبوت) کے ہاتھ پر یمامہ میں اس طرح کے حالاتِ فاسدہ اور بےہودہ اقوال ظاہر کرائے جن کو دیکھ کر سنکر ہر عقل و فہم والے نے سمجھ لیا کہ یہ دونوں کاذب اور گمراہ ہیں اللہ ان پر لعنت فرمائے۔ اسی طرح جو شخص بھی قیامت تک نبوت کا دعویٰ کرے وہ کاذب و کافر ہے یہاں تک کہ مدعیانِ نبوت کا یہ سلسلہ مسیح دجال پر ختم ہوگا۔ “ امام غزائی ( رض) نے اپنی کتاب ” الاقتصاد فی الاعتقاد “ میں آیت مذکورہ کی تفسیر اور عقیدہ ختم نبوت کے متعلق یہ الفاظ لکھے ہیں۔ ولیس فیہ تاویل ولا تخصیص ومن اَوَّلَـہٗ بتخصیص فکلامہ من الھذیان لایمنع الحکم بتکفیرہ لانّہ مکذّبٌ لھذا النص الذی اجمعت الامۃ علیٰ انہ غیرمأوّل ولامخصوص ” اس آیت میں کسی تاویل یا تخصیص کی گنجائش نہیں اور جو شخص تاویل کرکے اس میں کوئی تخصیص نکالے اس کا کلام ہذیان کی قسم ہے اور یہ تاویل اس کو کافر کہنے سے نہیں روک سکتی کیونکہ وہ اس آیت کی تکذیب کر رہا ہے جس کے متعلق امت کا اجماع ہے کہ وہ ماول یا مخصوص بالکل نہیں۔ “ اور قاضی عیاض ( رض) نے اپنی کتاب شفا میں نبی کریم ﷺ کے بعد دعوی نبوت کرنے والے کو کافر اور کذاب اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والا اور آیت مذکورہ کا منکر کہہ کہ یہ الفاظ لکھے ہیں۔ واجمعت الامۃ علی حمل ھذا الکلام علیٰ ظاہرہ وان مفھومہ المرادبہ دون تاویل ولا تخصیص فلاشک فی کفر ھؤلاء الطوائف کلھا قطعاً اجماعاً وَّسمعاً ” امت نے اجماع کیا ہے کہ اس کلام کو اپنے ظاہر پر محمول کیا جائے اور اس پر کہ اس آیت کا نفس مفہوم ہی مراد ہے بغیر کسی تاویل یا تخصیص کے اس لیے ان تمام فرقوں کے کفر میں کوئی شک نہیں، (جو کسی مدعی نبوت کی پیروی کریں) بلکہ ان کا فکر قطعی طور پر اجماع امت اور نقل یعنی کتاب و سنت سے ثابت ہے۔ “ رسالہ ختم نبوت کے تیسرے حصے میں ائمہ دین اور ہر طبقے کے اکابر علماء کے بہت سے اقوال جمع کردیے گئے ہیں اور جو یہاں نقل کیے گئے ہیں ایک مسلمان کے لیے وہ بھی کافی ہیں۔ وللہ اعلم۔
Ayahs 33:41–42

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

(اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہے

یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُواللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا۔ وَّسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً ۔ (الاحزاب : 41، 42) (اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔ اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہے۔ ) مسلمانوں کو الزامات کے مقابلے میں ثابت قدمی کی تاکید یہ آیات کریمہ اس وقت نازل ہوئی ہیں جب حضرت زینب ( رض) سے نکاح کے باعث مشرکین اور منافقین نے آنحضرت ﷺ کے خلاف محاذآرائی شروع کر رکھی تھی اور ہر طرح کی شرافت سے تہی دامن ہو کر آپ ﷺ پر الزامات کی بوچھاڑ کی جارہی تھی۔ وہ وقت مسلمانوں کے لیے جذبات کے شدید امتحان کا وقت تھا۔ مخلص مسلمان ان بےہودگیوں اور یا وہ گوئیوں کو دیکھ کر کچھ کر گزرنا چاہتے تھے۔ ان کے دلوں میں مقابلے کا ایک طوفان برپا تھا۔ لیکن کچھ مسلمان ایسے بھی تھے جو مخالفین کے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات سے اثر قبول کررہے تھے۔ چناچہ دونوں طرح کے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اس طوفانِ بدتمیزی پر نہ تو مشتعل ہونے کی ضرورت ہے اور نہ کمزور طبیعت والوں کے لیے ان اشتباہات سے اثر قبول کرنے کا کوئی موقع ہے اور نہ مخالفین کو ان کی زبان میں جواب دینے کی ضرورت ہے بلکہ ان کا کام یہ ہے کہ ان اشرار کے غوغا سے بےپرواہ ہو کر اللہ تعالیٰ کا زیادہ سے زیادہ ذکر کریں اور صبح و شام اس کی تسبیح کریں۔ کیونکہ مومن کی اصل صفت اللہ تعالیٰ کی یاد ہے۔ یہ ایک ایسی پناہ اور سپر ہے جو انسان کی ہر طرح کے حالات میں حفاظت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یاد کا سب سے بڑا ذریعہ نماز ہے۔ اور قرآن کریم نے انتہائی ناموافق حالات میں جہاں صبر کا حکم دیا ہے وہیں نماز سے مدد لینے کی ہدایت بھی فرمائی ہے۔ ذکر کا مفہوم زبان سے اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرنا ہے اور صبح و شام تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات کا استحضار اور اس کی بلند وبالا ذات اور اس کی عظمت میں اپنے آپ کو گم کردینا ہے۔ اور زندگی کے معاملات کو انجام دیتے ہوئے قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کے احکام کو دل و دماغ میں مستحضر کرکے ان پر عمل کرنا ہے۔ اور جن مواقع پر تسبیحات یا دعائوں کی ہدایت کی گئی ہے ان تسبیحات اور دعائوں کو وردزبان بنانا ہے۔
Ayah 33:43

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی ہے جو تم پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ تم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے، اور وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے

ھُوَالَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَمَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا۔ (الاحزاب : 43) (وہی ہے جو تم پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ تم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے، اور وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے۔ ) صلوٰۃ کا مفہوم یُصَلِّیْ … صلوٰۃ سے ہے۔ یہ ایسا لفظ ہے جس کی نسبت بدل جانے سے معنی بدل جاتا ہے۔ یہ لفظ جب عَلٰی کے صلہ کے ساتھ آتا ہے جیسا کہ اس آیت میں آیا ہے۔ اگر اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے رحمت نازل کرنا، اور مہربانی اور شفقت فرمانا۔ اور جب اس کی نسبت ملائکہ کی طرف ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے دعائے رحمت و مغفرت کا۔ اور جب اس کی نسبت انسانوں کی طرف ہو، تو اس کا معنی ہوتا ہے درود بھیجنا۔ قرآن کریم نے تینوں معنوں میں اس لفظ کو استعمال کیا۔ پہلے دو نوں معنوں کی مثال تو پیش نظر آیت میں موجود ہے۔ اور تیسرا معنی کی مثال اس مشہور آیت میں ہے جسے عام طور پر پڑھا جاتا ہے۔ یعنی اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلٰی النَّبِیِ یٰٓـااَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیَمًا ” بیشک اللہ اپنے نبی پر رحمت بھیجتا ہے، اور اس کے فرشتے بھی اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں، تو اے اہل ایمان تم بھی اس پر درودوسلام بھیجو۔ “ قرآن کریم میں اس طرح کی مثالیں اور بھی موجود ہیں۔ ذِکرِالٰہی سے رحمت نازل ہوگی مسلمانوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ اسلام کی اعلیٰ تعلیمات اور نبی کریم ﷺ کی بےمثال تربیت نے تمہارے اندر سیرت و کردار کا جو اعلیٰ معیار قائم کیا ہے اور جو اسلام کی صداقت و حقانیت کی ایک نمایاں مثال بھی ہے، معاندین اسی سے چڑتے ہیں۔ بجائے اپنے چہرے کی چھائیاں دھونے کے دوسروں کے اجلے چہروں کو داغدار کرنا چاہتے ہیں۔ اور بجائے مسلمانوں کی عظمت کا اعتراف کرنے کے آنحضرت ﷺ پر طعن وتشنیع اور اتہامات کی بوچھاڑ سے اپنے اندر سلگتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کرنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے اور توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ تم بجائے اس کے کہ ان کے زبان میں ان کو جواب دو ، تم زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرو اور اس کی یاد کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم پر رحمت نازل فرمائے گا اور فرشتے تمہارے لیے رحمت اور مغفرت کی دعائیں مانگیں گے۔ جہاں پروردگار کی رحمت متوجہ ہو اور فرشتے اپنی دعائوں سے اس میں اضافہ کررہے ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ عقائد و اعمال کی کوئی تاریکی باقی رہ جائے۔ یقینا اس رحمت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں فکری اور عملی تاریکیوں کو یکسر ختم کرکے انھیں ہدایت اور شریعت کی روشنی سے بہرہ ور فرمائے گا۔ نہ کوئی فکری الجھن باقی رہے گی، نہ معاملات میں کوئی اڑچن پیش آئے گی اور نہ اعمال کا قبلہ ٹیڑھا ہوسکے گا۔ بلکہ مسلمان دیکھتے ہی دیکھتے اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بہار بن کر چھا جائیں گے۔ اور آیت کے آخری جملے میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تو ہمیشہ اہل ایمان پر مہربان رہتی ہے۔ کیونکہ کفر کے مقابلے میں ایمان اللہ تعالیٰ سے وفاداری کا ایسا عنوان ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کی ضمانت بھی ہے۔
Ayah 33:44

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

ان کا خیرمقدم جس دن وہ اس سے ملیں گے سلام سے ہوگا، اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے باعزت صلہ تیار کر رکھا ہے

تَحِیَّـتُـھُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَـہٗ سَلٰـمٌ صلے ج وَاَعَدَّلَھُمْ اَجْرًا کَرِیْمًا۔ (الاحزاب : 44) (ان کا خیرمقدم جس دن وہ اس سے ملیں گے سلام سے ہوگا، اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے باعزت صلہ تیار کر رکھا ہے۔ ) آخرت میں اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کا سلام و پیغام دنیا میں تو اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور فرشتے ان کے لیے رحمت و مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ کے اہل ایمان بندے جب وہاں پہنچیں گے تو ان کا خیرمقدم اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی طرف سے سلام سے ہوگا۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں سلام پہنچے گا۔ اور یہ ایک ایسا اعزاز ہوگا جس کے لطف و لذت کا آج تصور نہیں کیا جاسکتا۔ سورة فرقان میں ہے وَیُلَقَّوْنَ فِیْھَا تَحِّیَۃً وَّسَلاَ مًا ” اور اس میں ان کا استقبال تحیت اور سلام کے ساتھ ہوگا۔ “ اور سورة یٰسین میں ہے سَلاَ مٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبِّ رَّحِیْمٍ ” اور ان کے لیے سلام ہوگا جو رب رحیم کی طرف سے ان کو کہلایا جائے گا۔ “ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ملائکہ ان کو سلام کریں گے۔ جیسے سورة نحل میں ہے کہ جن لوگوں کی روحیں ملائکہ اس حالت میں قبض کریں گے کہ وہ پاکیزہ لوگ تھے، ان سے وہ کہیں گے کہ سلامتی ہو تم پر، داخل ہوجاؤ جنت میں اپنے ان اعمال کی بدولت جو تم دنیا میں کرتے تھے۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ وہ خود آپس میں ایک دوسرے کو سلام کہیں گے۔ جیسے سورة یونس میں فرمایا گیا ” ہاں ان کی صدا یہ ہوگی کہ خدایا پاک ہے تیری ذات، ان کا تحیہ ہوگا سلام، اور ان کی آخری دعا یہ ہوگی کہ ساری تعریف اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ “