33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsروح القرآن

Ayah 33:53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو، مگر یہ کہ تم کو کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے، نہ کہ انتظار کرتے ہوئے کھانے کی تیاری کی، لیکن جب تم کو بلایا جائے تو ضرور آئو، پھر جب تم کھانا کھا چکو تو منتشر ہوجائو، باتیں کرنے میں نہ لگے رہو، تمہاری یہ حرکتیں نبی کریم ﷺ کو تکلیف دیتی تھیں لیکن وہ تمہارا لحاظ کرتے تھے اور اللہ حق کے اظہار میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا، اور جب تم کو نبی کی بیویوں سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے، تمہارے لیے ہرگز جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچائو اور نہ یہ جائز ہے کہ تم اس کی بیویوں سے اس کے بعد نکاح کرو، یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّآ اَنْ یُّؤذَنَ لَـکُمْ اِلٰی طَعَامٍ غَیْرَنٰظِرِیْنَ اِنٰـہُ لا وَلٰـکِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلاَ مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ ط اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْـکُمْ ز وَاللّٰہُ لاَ یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ ط وَاِذَا سَاَلْتُمُوْھُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ ط ذٰلِکُمْ اَطْھَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَقُلُوْبِھِنَّ ط وَمَا کَانَ لَـکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَلَآ اَنْ تَنْـکِحُوْٓا اَزْوَاجَہٗ مِنْ م بَعْدِہٖٓ اَبَدًا ط اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ عِنْدَاللّٰہِ عَظِیْمًا۔ (الاحزاب : 53) (اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو، مگر یہ کہ تم کو کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے، نہ کہ انتظار کرتے ہوئے کھانے کی تیاری کی، لیکن جب تم کو بلایا جائے تو ضرور آئو، پھر جب تم کھانا کھا چکو تو منتشر ہوجاؤ، باتیں کرنے میں نہ لگے رہو، تمہاری یہ حرکتیں نبی کریم ﷺ کو تکلیف دیتی تھیں لیکن وہ تمہارا لحاظ کرتے تھے اور اللہ حق کے اظہار میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا، اور جب تم کو نبی کی بیویوں سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے، تمہارے لیے ہرگز جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچائو اور نہ یہ جائز ہے کہ تم اس کی بیویوں سے اس کے بعد نکاح کرو، یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔ ) اسلامی معاشرت کے چند آداب پیشِ نظر آیت کریمہ میں مسلمانوں کے ایک دوسرے کے گھروں میں آنے جانے اور اسلامی معاشرت سے متعلق چند آداب و احکام بیان کیے گئے ہیں۔ سببِ نزول کے اعتبار سے چونکہ اس کا تعلق آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اور آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات سے ہے اس لیے بیوت النبی کا ذکر فرمایا گیا ہے لیکن ان احکام میں عموم پایا جاتا ہے۔ کیونکہ شریعت کا یہ مسلمہ اصول ہے العبرۃ لعموم اللفظ لالخصوص السبب ” یعنی اعتبار لفظ کے عموم کا ہوتا ہے سبب کے اختصاص کا نہیں۔ “ آداب کی تعلیم میں چار احکام دیے گئے ہیں یا یوں کہہ لیجیے کہ چار ادب سکھائے گئے ہیں۔ پہلا ادب یہ ہے کہ جب تک تمہیں گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے یعنی تمہیں کھانے کی دعوت نہ دی جائے اس وقت تک نبی کریم ﷺ کے گھروں میں تمہیں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ اس میں دو ادب سکھائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ گھروں میں داخل ہونے کے لیے اجازت طلبی ضروری ہے اور اگر اجازت نہ دی جائے تو واپس پلٹ جاؤ۔ اور دوسری یہ بات کہ کسی دعوت میں بن بلائے مت جاؤ۔ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب انھیں معلوم ہوتا ہے کہ فلاں جگہ کھانے کی تقریب ہے تو وہ بن بلائے پہنچ جاتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اس سے روکا گیا۔ اور بعد میں نبی کریم ﷺ نے مختلف مواقع پر اپنے عمل سے اس کی وضاحت فرمائی۔ تیسرا ادب یہ سکھایا گیا ہے کہ اگر کسی دعوت میں بلایا جائے تو اسے بہانہ بنا کر کھانے کی تیاری کے انتظار میں وہیں دھونی رما کر مت بیٹھ رہو۔ جس دین نے اپنے ماننے والوں کو قناعت اور کفایت کی تعلیم دی ہے اور فقیری اور ناداری کی حالت میں بھی خودداری کا ادب سکھایا ہے ان کے لیے یہ ہرگز مناسب نہیں کہ وہ کسی طماعی اور سفلہ پن کا اظہار کریں۔ اور ساتھ ہی یہ بات بھی کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں لوگوں کا رہن سہن نہایت سادہ تھا، زنانہ مکانوں کے ساتھ مردانہ بیٹھکیں نہیں تھیں۔ ایسے میں قبل از وقت لوگوں کا جمع ہوجانا اہل خانہ کے لیے اذیت کا باعث ہوتا تھا۔ اس لیے اس بات سے روکا گیا کہ کھانے کے پکنے کے انتظار میں مت بیٹھو۔ آیت میں ناظرین، منتظرین کے معنی میں ہے اور اِنٰـہُ میں اِنَاکھانا پکنے کو کہتے ہیں۔ اس کے بعد گھروں اور تقریبات میں آنے کے لیے صحیح طریقہ ارشاد فرمایا گیا۔ وہ یہ ہے کہ جب تمہیں بلایا جائے تو کھانے کے وقت پہنچو تاکہ میزبان کو کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ اور جب کھانا کھا چکو تو وہاں سے منتشر ہوجاؤ، طویل باتیں چھیڑ کر وہاں نہ بیٹھے رہو۔ کیونکہ بعض دفعہ مہمانوں کا کھانے کے بعد دیر تک بیٹھے رہنا میزبان کے لیے باعث کلفت ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ میزبان کے لیے اس کے بعد کچھ اور ضروری مصروفیات ہوں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جگہ کی تنگی کے باعث مہمانوں کو باری باری کھلایا جارہا ہو۔ ظاہر ہے کہ پہلے مہمانوں کے جانے کے بعد دوسرے مہمانوں کو کھانے پر بلایا جاسکے گا۔ اور اگر پہلے مہمانوں میں سے کچھ لوگ باتوں میں لگے بیٹھے رہیں تو میزبان کو بھی تکلیف ہوگی اور مہمان بھی اذیت محسوس کریں گے۔ ہاں اگر یہ اندازہ ہوسکے کہ میزبان کی خواہش ہے کہ مہمان دیر تک تشریف رکھیں تاکہ اس کی تقریب کے لیے رونق کا سامان بنیں اور جگہ کی کشادگی کے باعث کسی تنگی کا بھی اندیشہ نہ ہو۔ تو پھر دیر تک بیٹھنے اور باتوں میں لگے رہنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ کی کریم النفسی اور مروت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو بہت بلند وبالا خصلتوں اور عادتوں کا پیکر بنایا ہے۔ اس لیے تمہارا وقت سے پہلے آبیٹھنا اور پھر دیر تک بیٹھ کر باتیں کرتے رہنا اور اجازت لیے بغیر اندر چلے آنا اس سے انھیں جگہ کی تنگی اور مردانہ اور زنانہ حصہ ایک ہونے کی وجہ سے جو اذیت پہنچتی تھی وہ اپنی کریم النفسی کے باعث اس کا اظہار نہیں فرماتے تھے۔ تکلیف برداشت کرلیتے تھے لیکن مہمانوں سے کچھ کہنا لحاظ اور مروت کے خلاف سمجھتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ حق کے اظہار میں کسی کا لحاظ نہیں فرماتا۔ یہ باتیں اسلامی معاشرت کے نقطہ نگاہ سے بہت نقصان دہ ہیں اور ان ہی سے بہت سے مفاسد بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ تمہیں ان باتوں سے آگاہ فرما رہا ہے تاکہ اسلامی معاشرہ انسانی خصائلِ حمیدہ کا صحیح ترجمان ثابت ہو۔ صحابہ کرام ( رض) کا معاشرہ جو ہمہ جہت تربیت کے بعد تمام نوع انسانی کے لیے ایک نمونے کا معاشرہ بنا۔ یہ صرف آنحضرت ﷺ کی تربیت کا اعجاز اور اسلامی اخلاق کا اثر تھا ورنہ اہل عرب اپنے عادات واطوار میں اس وقت کی دنیا میں سب سے زیادہ اجڈ اور غیرشائستہ تھے۔ وہ معاشرے کے بنیادی آداب سے بھی تہی دامن تھے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کی تربیت میں جس طرح نہایت حکیمانہ طریقہ اختیار کیا اسی طرح اپنے مزاج کے خلاف ان کی بہت سی ناشائستہ باتوں کو بھی برداشت کیا۔ اور جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں آپ اپنی کریم النفسی کے باعث لوگوں کی غلط باتوں پر ٹوکنا اور خاص طور پر گھر آئے ہوئے مہمانوں کو کسی بات پر تنبیہ کرنا خلاف مروت سمجھتے تھے اس لیے آپ اذیت برداشت کرتے تھے لیکن کہنا پسند نہ تھا۔ آپ کے خادم خاص حضرت انس ابن مالک ( رض) کی روایت ہے کہ حضرت زینب ( رض) کے ولیمے میں سب لوگ تو کھانے سے فارغ ہو کر رخصت ہوگئے مگر دو تین حضرات بیٹھ کر باتیں کرنے میں لگ گئے۔ تنگ آکر حضور ﷺ اٹھے اور ازواجِ مطہرات کے یہاں ایک چکر لگایا۔ واپس تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ حضرات بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ پھر پلٹ گئے اور حضرت عائشہ ( رض) کے حجرے میں جا بیٹھے۔ اچھی خاص رات گزر جانے کے بعد جب آپ کو معلوم ہوا کہ وہ چلے گئے ہیں تب آپ حضرت زینب ( رض) کے مکان میں تشریف لائے۔ اس کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں اور اصلاحِ معاشرت کے ساتھ ساتھ پردے کے بھی چند احکام دیے گئے۔ اور سورة النور میں ان احکام کی تکمیل کی گئی۔ پردے کے بارے میں چند احکام سب سے پہلے جیسا کہ آیت کے آغاز میں گزرا گھروں میں بلا اجازت داخلے پر پابندی لگائی گئی۔ لیکن سبب نزول چونکہ حضرت زینب ( رض) کا واقعہ ہوا اس لیے نبی کریم ﷺ کے گھروں کا ذکر فرمایا گیا۔ اور مزید یہ بات کہ آپ کا گھر چونکہ تمام امت کے لیے ایک نمونہ تھا اس لیے ہر مسلمان یہ بات سمجھتا تھا کہ جو پابندی آنحضرت ﷺ کے گھرانے پر لگے گی وہی سارے مسلمانوں کی روش بن جائے گی۔ چناچہ اس حکم کے بعد جیسے ہی ازواجِ مطہرات کے گھروں میں دروازوں پر پردے لٹکائے گئے تو اس کی تقلید میں تمام مسلمانوں کے گھروں پر بھی پردے لٹک گئے۔ پردے کے سلسلے میں دوسرا حکم یہ دیا گیا کہ جب غیر مردوں کو عورتوں سے کوئی چیز مانگنے کی ضرورت پڑے تو وہ دندناتے ہوئے ان کے سامنے نہ چلے جائیں بلکہ پردے کی اوٹ سے مانگیں۔ بظاہر یہ بات بہت پابندی کی معلوم ہوتی ہے کہ معمولی معمولی بات کے لیے بھی پردے کا اہتمام کیا جائے۔ لیکن یہ کوئی تکلف نہیں بلکہ دل کو آفات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک نہایت ضروری تدبیر ہے۔ آج کے لوگ انسانی احساسات کے حوالے سے کیسے ہی مفروضوں پر بات کریں لیکن جس نے دلوں کو پیدا کیا ہے وہ ان کی حقیقت کو سب سے زیادہ جانتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس کی ترجمانی کرتے ہوئے ایک بات تو یہ ارشاد فرمائی الا ان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح الجسدکلہ واذا فسدت الجسد کلہ الا وھی القلب ” خبردار انسان کے جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے اگر وہ تندرست ہے تو سارا جسم تندرست ہے، اور جب اس میں فساد پیدا ہوجاتا ہے تو سارا جسم فاسد ہوجاتا ہے، خبردار وہ دل ہے۔ “ یہی احساسات کا مرکز اور یہی انفعالات کا مورد ہے۔ یہیں سے جذبات ابھرتے اور یہیں جذبات بسیرا کرتے ہیں۔ اس لیے اسلام نے دل کی صحت پر بہت زور دیا ہے۔ اور اسی پر تمام اخلاقی صحت کو منحصر ٹھہرایا ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ ہمارے آج کے تہذیب خوردہ لوگ اپنے کپڑوں کی صفائی کا تو بڑا اہتمام رکھتے ہیں۔ کہیں ایک شکن یا دھبہ بھی پڑجائے تو برداشت نہیں ہوتا۔ لیکن ان کے دل بداخلاقی اور سفلی جذبات کی گندگی میں اٹے رہیں تو انھیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ لیکن اسلام چونکہ کردار کی تعمیر اور اخلاق کی تطہیر کے لیے دل کی اصلاح کو بنیاد بناتا ہے۔ اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کن کن راستوں سے دل میں برائی داخل ہوتی ہے اور وہ کون سی برائیاں ہیں جن کا اثر دل قبول کرتا ہے۔ اس لیے اس نے ضروری سمجھا کہ مرد اور عورت کے درمیان پردہ کرایا جائے۔ بےحجاب عورت اور بےباک نگاہیں دل کی بربادی کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ مردوزن کا اختلاط قلبی زندگی کی تمام دیواروں کو گرا دیتا ہے۔ دل انسانی جسم میں جس طرح جسمانی حیات کے لیے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، اسی طرح اخلاقی طہارت کے لیے بھی سب سے زیادہ قدر و قیمت رکھنے والا اور سب سے زیادہ حساس ہے۔ اس لیے اس کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے مردوں کے لیے گھروں میں آنے پر پابندی لگائی اور پھر مرد و عورت کے درمیان ایک اوٹ کھڑی کردی کہ اگر ضروری بات بھی کہنے کا موقع آئے تو اوٹ کے پیچھے کھڑے ہو کر کی جائے۔ اور کوئی چیز مانگنی ہو تو حجاب کے پیچھے سے مانگی جائے۔ پردے کے سلسلہ میں تیسرا حکم یہ دیا گیا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے یہ بات زیبا نہیں کہ جن باتوں سے روکا گیا ہے ان میں سے کسی کے ارتکاب سے آنحضرت ﷺ کو اذیت پہنچائے اور نہ آپ ﷺ کے بارے میں اور آپ کی ازواجِ مطہرات کے بارے میں کوئی ایسی بات دل میں لائے اور یا کوئی ایسی بات دلچسپی سے سنے جس سے آنحضرت ﷺ کی عزت و حرمت میں فرق آتا ہو۔ اور جسے منافقین اور دشمنانِ دین آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کا اخلاقی تفوق ختم کرنے کے لیے خود گھڑتے اور ادھر ادھرپھیلاتے تھے۔ اس سے منافقین کو تنبہ فرمایا گیا اور مسلمانوں کو بھی اور زیادہ محتاط رہنے کی ترغیب دی گئی۔ اس عبارت میں نہایت اہم نکتہ قابل توجہ ہے وہ یہ کہ اس آیت کریمہ میں اس سے پہلے دو دفعہ آنحضرت ﷺ کے لیے نبی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ لیکن جب ایذائے رسول سے رکنے کا حکم دیا تو رسول کا لفظ استعمال فرمایا۔ اس سے شاید یہ تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ رسول اپنی قوم کے لیے خدا کی عدالت ہوتا ہے۔ اس کی تشریف آوری اتمامِ حجت اور نیکوں اور بدوں میں فیصلہ کردینے کے لیے ہوتی ہے۔ اس لیے منافقین کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کو کسی طرح کی ایذا پہنچانا بھی کوئی معمولی بات نہیں۔ اس سے ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ ان کا حدود سے تجاوز ان کے لیے بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ چوتھا حکم یہ دیا گیا کہ ازواجِ مطہرات کا آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد کسی سے نکاح جائز نہیں۔ کیونکہ اس سے پہلے یہ بات واضح کی جا چکی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج کی حیثیت امت کی مائوں کی ہے۔ اور ان کے ساتھ تعلق کی یہی نوعیت فطری بھی ہے اور عقلی بھی۔ فطری اس وجہ سے کہ حضور ﷺ کی ازواج کے لیے ہر امتی کے دل کے اندر احترام و عقیدت کا جذبہ اپنی حقیقی ماں کے مقابلے میں بدرجہا زیادہ ہوتا ہے۔ کوئی گیا گزرا شخص بھی اپنی ماں کے ساتھ نکاح کا تصور نہیں کرسکتا، چہ جائیکہ ازواجِ رسول ﷺ کے ساتھ کوئی سوچنے کی زحمت بھی کرے۔ ازواجِ مطہرات کے ساتھ تعلق کی دوسری نوعیت عقلی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ امت کی ماں ہونے کے ساتھ ساتھ امت کے سب ذکورواناث کی معلمات بھی ہیں۔ اور اس منصب پر انھیں خود اللہ تعالیٰ نے مامور فرمایا ہے۔ اس منصب کا عقلی تقاضا یہ ہے کہ انھیں مائوں ہی کے درجہ میں رکھا جائے۔ اور اسی درجے میں وہ اپنے فریضہ ٔ منصبی کو صحیح طور پر ادا کرسکتی ہیں۔ آخر میں فرمایا کہ جن باتوں سے ان آیات میں روکا گیا ہے ان میں سے ہر بات آنحضرت ﷺ کے حوالے سے نہایت اہمیت کی حامل ہے اور ان میں سے کسی ایک بات کا ارتکاب بھی نہایت خطرناک نتائج کا سبب ہوسکتا ہے۔
Ayah 33:54

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

تم کسی چیز کو ظاہر کرو خواہ چھپائو، اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْتُخْفُوْہُ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمًا۔ (الاحزاب : 54) (تم کسی چیز کو ظاہر کرو خواہ چھپائو، اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ ) یعنی اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺ کے خلاف دل میں کوئی برا خیال رکھے گا یا آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے متعلق کسی کی نیت میں کوئی برائی چھپی ہوگی تو اللہ تعالیٰ سے وہ چھپی نہ رہے گی کیونکہ وہ دلوں کے بھید سے واقف ہے۔ اس وجہ سے کوئی بات اس سے چھپائی نہیں جاسکتی۔ دنیا میں غلط سے غلط بات کے بھی اچھے سے اچھے عذر تراشے جاسکتے ہیں لیکن یہ عذرات اللہ تعالیٰ کے یہاں کام نہیں آئیں گے۔ وہ دلوں کے مخفی کھوٹ بھی سب کے سامنے کھول کر رکھ دے گا۔
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

ازواجِ نبی پر کوئی گناہ نہیں ان کے باپوں کے بارے میں، اور نہ ان کے بیٹوں کے بارے میں، اور نہ ان کے بھائیوں کے بارے میں، اور نہ ان کے بھتیجوں کے بارے میں، اور نہ ان کے بھانجوں کے بارے میں، اور نہ ان کے میل جول کی عورتوں کے بارے میں، اور نہ ان کے مملوکوں کے بارے میں، اور اللہ سے ڈرتی رہو، بیشک اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے

لاَ جُنَاحَ عَلَیْھِنَّ فِیْٓ اٰبَآئِھِنَّ وَلَآ اَبْنَـآئِھِنَّ وَلَآ اِخْوَانِھِنَّ وَلَآ اَبْنَـآئِ اِخْوَانِھِنَّ وَلَآ اَبْنَـآئِ اَخَوٰ تِھِنَّ وَلاَ نِسَائِھِنَّ وَلاَ مَامَلَـکَتْ اَیْمَانُھُنَّ ج وَاتَّقِیْنَ اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدًا۔ (الاحزاب : 55) (ازواجِ نبی پر کوئی گناہ نہیں ان کے باپوں کے بارے میں، اور نہ ان کے بیٹوں کے بارے میں، اور نہ ان کے بھائیوں کے بارے میں، اور نہ ان کے بھتیجوں کے بارے میں، اور نہ ان کے بھانجوں کے بارے میں، اور نہ ان کے میل جول کی عورتوں کے بارے میں، اور نہ ان کے مملوکوں کے بارے میں، اور اللہ سے ڈرتی رہو، بیشک اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے۔ ) ان رشتوں کا ذکر جو ان احکام سے مستثنیٰ ہیں گزشتہ سے پیوستہ آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کے گھروں میں اصلاً اور مسلمانوں کے گھروں میں طبعاً داخل ہونے کے آداب بیان کیے گئے ہیں اور ان آداب میں سب سے پہلا ادب استیذان ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان رشتوں کو بیان کیا گیا ہے جو اس استیذان اور پردے کے دوسرے احکام کے پابند نہیں۔ سورة النور کی آیت 31 میں ان رشتوں کو زیادہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت کو اس آیت کی وضاحت سمجھنا چاہیے۔ اس آیت کریمہ میں خاص اہم رشتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور مقصود یہ ہے کہ جو رشتہ دار ان کے حکم میں داخل ہیں وہ سب اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔ ان کے اوپر صرف وہی پابندیاں ہوں گی جو سورة النور میں مذکور ہوئی ہیں۔ علامہ آلوسی نے اس کی تشریح کرتے ہوئے ٹھیک فرمایا کہ بھائیوں، بھانجوں اور بھتیجوں کے حکم میں وہ سب رشتہ دار آجاتے ہیں جو ایک عورت کے لیے حرام ہیں۔ خواہ وہ نسبی رشتہ دار ہوں یا رضاعی۔ اس فہرست میں چچا اور ماموں کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہ عورت کے لیے بمنزلہ والدین ہیں۔ یا پھر ان کے ذکر کو اس لیے ساقط کردیا گیا کہ بھانجوں اور بھتیجوں کا ذکر آجانے کے بعد ان کے ذکر کی حاجت نہیں۔ کیونکہ بھانجے اور بھتیجے سے پردہ نہ ہونے کی جو وجہ ہے، وہی چچا اور ماموں سے پردہ نہ ہونے کی وجہ بھی ہے۔ (روح المعانی) وَاتَّقِیْنَ اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدًا۔ اس کی تشریح کی ایک صورت یہ ہے کہ خطاب ازواجِ مطہرات سے ہو، اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اس صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ ازواجِ نبی آنحضرت ﷺ کی نسبت کے باعث بہت عظیم مقام و مرتبہ کی حامل ہیں۔ لیکن اپنے اعمال کے بارے میں جواب دہی کے حوالے سے وہ بالکل دوسروں کی طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہیں۔ مسؤلیت میں کسی کے لیے اختصاص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی نسبت سے ان کا معاملہ زیادہ نازک ہے۔ کیونکہ ہر بیوی اپنے شوہر کی اطاعت کی پابند ہے۔ لیکن اس سے اختلافِ رائے کا بھی حق رکھتی ہے۔ اور اسے بھی اپنے شوہر کی طرح بعض حقوق حاصل ہیں جن کے بارے میں شوہر سے پوچھا جائے گا۔ لیکن آنحضرت ﷺ ایسی تمام پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں۔ اور آپ ﷺ سے محبت و اطاعت عام مسلمانوں کی طرح ازواج کے بھی ایمان کا حصہ ہے۔ اس لیے اگر وہ اجروثواب میں دوسروں سے بلند مقام رکھتی ہیں تو جواب دہی میں بھی نازک مقام پر کھڑی ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو۔ جو احکام و ہدایات دیے گئے ہیں ان کی تعمیل پوری خدا ترسی اور تقویٰ کے ساتھ کی جانی چاہیے۔ اور یہ بات دھیان میں رہے کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات مخفی نہیں، وہ ہر بات کو دیکھنے اور جاننے والا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ خطاب عام خواتینِ اسلام سے ہو۔ اس صورت میں ازواجِ مطہرات کے ذکر کے ضمن میں تمام مسلمان عورتوں کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ عورتوں کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے جو احکام دیے ہیں وہ ان کی پوری طرح پابندی کریں اور یہ ذہن میں رکھیں کہ ان احکام کے حوالے سے جواب طلبی ہونے والی ہے۔
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

بیشک اللہ اور اس کے ملائکہ نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درودوسلام بھیجو

اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَـہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ط یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔ (الاحزاب : 56) (بےشک اللہ اور اس کے ملائکہ نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درودوسلام بھیجو۔ ) آیت کا شان ورود سورة الاحزاب غزوہ احزاب کے بعد نازل ہوئی۔ اور ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ غزوہ احزاب درحقیقت جزیرہ عرب کی متحدہ طاقتوں کا ایک فیصلہ کن غزوہ تھا جس میں وہ مسلمانوں کے مکمل استیصال کا عزم صمیم کرکے آئے تھے۔ چناچہ ایک عظیم افرادی قوت اور تمام دشمنوں کے مسلمانوں کے استیصال پر مکمل اتحاد نے مدینہ منورہ کے اندر رہنے والے منافقین کو کھل کھیلنے کا موقع مہیا کردیا تھا۔ حالات پر نظر رکھنے والی ہر نگاہ دیکھ رہی تھی کہ مسلمانوں کی قسمت ترازو میں ہے۔ پلڑا کسی وقت بھی جھک سکتا ہے۔ مسلمان اپنی بقاء کی فیصلہ کن کشمکش میں مصروف تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت اور وعدے کے مطابق مسلمانوں کو اس عظیم ابتلاء میں سرخرو فرمایا۔ اور دشمن اپنا زخم چاٹتا ہوا میدان سے بھاگ نکلا۔ اب مارآسین قسم کے دشمنوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا کہ وہ مدینے کے اندر بیٹھ کر الزامات و اتہامات کے ذریعے مسلمانوں کے شیرازے کو بکھیرنے کی کوشش کریں اور نبی کریم ﷺ شخصیت کو مجروح کرکے دلوں میں بدگمانیوں کی فصل اگانے کی کوشش کریں، تاکہ جس مرکز کے گرد مسلمان پروانوں کی طرح فدا ہورہے ہیں اس مرکز کو کمزور کردیا جائے۔ چناچہ ان فتنوں کے سدباب کے لیے ایک طرف مسلمانوں کی شیرازہ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے اسلامی معاشرت کے وہ آداب سکھائے گئے جن کا گزشتہ آیات میں ذکر کیا گیا۔ اور ساتھ ہی ساتھ آنحضرت ﷺ کی شخصیت سے والہانہ تعلق اور گہری وابستگی پیدا کرنے کے لیے پیش نظر آیت کریمہ میں آپ ﷺ کے مقام و مرتبہ کو واضح فرمایا گیا اور مسلمانوں کو ایک ایسی چیز کی تعلیم دی گئی جس سے دلوں میں نبی کریم ﷺ کی محبت کو بیش از بیش راسخ ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو کم کرنے کے لیے اور لوگوں کے دلوں میں بدگمانیاں پیدا کرنے کے لیے ان کی ذات گرامی اور ان کے اہل خانہ کے بارے میں عجیب و غریب بدگمانیاں پیدا کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کی ذات اس قدر دلآویز اور اس قدر عظیم ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی خود اس پر درودوسلام بھیجتے ہیں۔ اندازہ کیجیے کہ جس ذات پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت برستی ہو اور فرشتے جو کائنات کا نظم و نسق چلاتے ہیں ہمیشہ اس کے لیے دعا گو رہتے ہوں، کوئی ہزار کوشش کرے کبھی اس کی عزت و حرمت کو گہنانے اور کم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ مسلمانوں کے دلوں میں اس تعلق کو مستحکم کرنے اور آنحضرت ﷺ کی ذات کے ساتھ والہانہ تعلق کو پیدا کرنے کے لیے حکم دیا گیا ہے کہ اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو مسلسل اللہ تعالیٰ کے رسول پر درودوسلام بھیجتے رہو۔ کیونکہ انھیں کی ذات سے تمہیں ہدایت کا فیض پہنچا ہے۔ تم جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے کہ آنحضرت ﷺ کے واسطے سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان تاریکیوں سے نکالا۔ تم بداخلاقی کی دلدل میں دھنسے جارہے تھے کہ اس نے تمہیں اٹھایا اور مکارمِ اخلاق کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ اہل عرب کو کوئی شخص عزت کی نگاہ سے دیکھنا پسند نہ کرتا تھا۔ لیکن آپ کی تعلیم و تربیت نے انھیں نہ صرف حکومت و ریاست میں برتری عطا فرمائی بلکہ علم و حکمت، انسانی اقدار، اخلاقِ عالیہ اور انسانی تہذیب و تمدن میں دنیا کا امام بنادیا۔ جس عظیم شخصیت کے تم پر اس قدر احسانات ہیں دنیا اگر اس پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کررہی ہے تو تمہاری احسان شناسی کا تقاضا یہ ہے کہ تم اپنی محبت و عقیدت اور وفاداری و وفاشعاری سے دنیا پر آپ کی عظمت کا سکہ بٹھا دو ۔ اور درودوسلام کے ذریعے ان کی عزت و عظمت کو اس طرح اجالو کہ جتنے بدخواہ اور دشمن ہیں ان کو اندازہ ہوجائے کہ آنحضرت ﷺ کے چاہنے والے کتنی بڑی تعداد میں ہیں جن کی موجودگی میں آپ ﷺ کی عزت کو بٹہ نہیں لگایا جاسکتا۔ اس آیت میں مسلمانوں کو دو چیزوں کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک صلوٰۃ کا اور دوسرا سلام کا۔ صلوٰۃ کا مفہوم صلوٰۃ… عربی زبان میں چند معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ رحمت، دعا اور مدح وثناء۔ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے مراد رحمت نازل کرنا ہوتا ہے۔ اور جب فرشتوں کی طرف ہو تو اس کا معنی آپ کے لیے دعا کرنا ہے۔ اور جب عام مومنین کی طرف ہو تو پھر صلوٰۃ کا مفہوم دعا اور مدح وثناء کا مجموعہ ہے۔ عام مفسرین نے یہی معنی لکھے ہیں۔ لیکن امام بخاری نے ابوالعالیہ سے یہ نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صلوٰۃ سے مراد آپ کی تعظیم اور فرشتوں کے سامنے مدح وثناء ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی تعظیم دنیا میں تو یہ ہے کہ آپ کو بلند مرتبہ عطا فرمایا کہ اذان و اقامت وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ آپ کا ذکر شامل کرلیا گیا۔ اور مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دین کو دنیا بھر میں پھیلایا اور غالب کیا۔ اور آپ کی شریعت پر عمل قیامت تک جاری رکھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ آپ کی شریعت کو محفوظ رکھنے کا ذمہ خود پروردگار نے لے لیا۔ اور آخرت میں آپ کی تعظیم یہ ہے کہ آپ کا مقام تمام خلائق سے بلندوبالا کیا۔ اور آپ کو شفاعتِ کبریٰ کا مقام عطا فرمایا اور اسی کو مقام محمود بھی کہا جاتا ہے۔ صلوٰۃ وسلام کا طریقہ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ سب کتب حدیث میں یہ حدیث آئی ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ ( رض) نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ اس آیت میں ہمیں دو چیزوں کا حکم دیا گیا ہے صلوٰۃ اور سلام۔ صلوٰۃ کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہوچکا۔ جیسے نماز میں السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مگر آپ پر صلوٰۃ بھیجنے کا طریقہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ الفاظ کہا کرو۔ اللھم صل علی محمد وعلی ال محمد کما صلیت علی ابرٰھیم وعلی ال ابرٰھیم انک حمیدمجید اللھم بارک علی محمد و علی ال محمد کما بارکت علی ابرٰھیم وعلی ال ابرٰھیم انک حمید مجید۔ اسی طرح اور بھی متعدد صحابہ کرام ( رض) نے آنحضرت ﷺ سے بہت خفیف فرق کے ساتھ یہی درود روایت کیا ہے۔ ان تمام روایات میں الفاظ کے خفیف فرق کے باوجود معنی میں کوئی فرق نہیں۔ ان میں جو اہم نکات ذکر فرمائے گئے ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔ 1 آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو جو درود پڑھنے کا طریقہ سکھایا ہے ان میں بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ پر براہ راست درود پڑھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے کہ وہ نبی کریم ﷺ پر درود بھیجے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص کیسے بھی اخلاص کے ساتھ آنحضرت ﷺ پر درود بھیجے وہ کبھی بھی اس کا حق ادا نہیں کرسکتا۔ کیونکہ درود بھیجنے کا مطلب آپ کے مراتب کو بلند کرنا ہے۔ آپ نے جو نوع انسانی پر احسانات کیے ہیں ان کا اجر دینا، آپ کے ذکر کو بلند کرنا اور آپ کے دین کو فروغ دینا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم ان میں سے کوئی کام بھی نہیں کرسکتے۔ اور اگر تھوڑا بہت کر بھی سکیں تو اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق چاہیے۔ اسی طرح یہ بات بھی اللہ تعالیٰ ہی سے دعا کرنے کی ہے کہ حضور ﷺ کی محبت و عقیدت ہمارے دل میں پیدا فرما دے اور درود پڑھنے سے یہ بھی مقصود ہے۔ 2 آنحضرت ﷺ نے امت کو جو درود سکھایا ہے اس میں صرف اپنی ذات کو مخصوص نہیں فرمایا بلکہ اپنے ساتھ اپنی آل، ازواج اور ذُرِّیت کو بھی شامل فرمایا۔ آل سے مراد وہ سب لوگ ہیں جو اخلاص کے ساتھ آپ کی پیروی کرتے ہیں اور آپ کے طریقے پر چلتے ہیں۔ وہ چاہے آپ کی اولاد میں سے ہوں اور چاہے رنگ و نسل اور خاندان کے اعتبار سے آپ سے دور کا بھی تعلق نہ ہو۔ ابوجہل اور ابولہب اور کفارِقریش آپ کی آل نہیں، حالانکہ وہ آپ کے رشتہ دار ہیں۔ لیکن حضرت بلال ( رض) ، حضرت صہیب ( رض) اور حضرت حسن ( رض) جو آپ سے رنگ و نسل کا رشتہ بھی نہیں رکھتے وہ اتباع کی وجہ سے آپ کی آل ہیں۔ صلوٰۃ وسلام سے چند احتیاطی ہدایات صلوٰۃ وسلام سے متعلق چند باتیں ذہن نشین رکھنا بہت ضروری ہیں۔ مثلاً جمہور فقہا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جب کوئی آنحضرت ﷺ کا ذکر کرے یا سنے تو اس پر درودشریف واجب ہوجاتا ہے۔ کیونکہ حدیث میں آپ کے ذکرمبارک کے وقت درودشریف نہ پڑھنے پر وعید آئی ہے۔ جامع ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رغم انف رجل ذُکِرتُ عندہ فلم یصل علیَّ ” ذلیل ہو وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر آئے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ اسی طرح اگر ایک مجلس میں آپ کا ذکرمبارک بار بار آئے تو صرف ایک مرتبہ درود پڑھنے سے واجب ادا ہوجاتا ہے، لیکن مستحب یہ ہے کہ جتنی بار ذکر مبارک خود کرے یا کسی سے سنے ہر دفعہ درودشریف پڑھے۔ جس طرح زبان سے ذکرمبارک کے وقت زبانی صلوٰۃ وسلام واجب ہے، اسی طرح قلم سے لکھنے کے وقت صلوٰۃ وسلام کا قلم سے لکھنا بھی واجب ہے۔ اور اس میں جو لوگ حروف کا اختصار کرکے ” صلعم “ لکھ دیتے ہیں یہ کافی نہیں، پورا صلوٰۃ وسلام لکھنا چاہیے۔ یہ بھی یاد رہے کہ لفظ صلوٰۃ انبیاء (علیہم السلام) کے سوا کسی کے لیے استعمال کرنا جمہور علماء کے نزدیک جائز نہیں۔ امام بیہقی نے اپنے سنن میں حضرت ابن عباس ( رض) کا یہ فتویٰ نقل کیا ہے لایصلی علی احد الا علی النبی ﷺ لکن یدعی للمسلمین والمسلمات بالاستغفار۔ امامِ شافعی کے نزدیک غیرنبی کے لیے لفظ صلوٰۃ کا استعمال مستقلاً مکروہ ہے۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا بھی یہی مذہب ہے۔ البتہ تبعاً جائز ہے۔ یعنی آنحضرت ﷺ پر صلوٰۃ وسلام کے ساتھ آل و اصحاب یا تمام مومنین کو شریک کریں اس میں مضائقہ نہیں۔ اور امام جوینی نے فرمایا کہ جو حکم لفظ صلوٰۃ کا ہے وہی لفظ سلام کا ہے۔ یعنی غیرنبی کے لیے اس کا استعمال بھی درست نہیں۔ بجز اس کے کہ کسی کو خطاب کرنے کے وقت بطور تحیہ کے السلام علیکم کہے، یہ جائز و مسنون ہے مگر کسی غائب کے نام کے ساتھ (علیہ السلام) کہنا اور لکھنا غیرنبی کے لیے درست نہیں۔ (خصائص کبریٰ سیوطی۔ ص 263، ج 4)
Ayah 33:57

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت دونوں میں لعنت کی ہے اور ان کے لیے اس نے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاَعَدَّلَہُمْ عَذَابًا مُّھِیْنًا۔ (الاحزاب : 57) (بےشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت دونوں میں لعنت کی ہے اور ان کے لیے اس نے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کو ایذا پہنچانے کا مفہوم اس آیت میں ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچاتے یا اس کا سبب بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات سے بہت بلند ہے کہ اسے ایذا پہنچائی جائے۔ کوئی شخص اپنے اندر یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی تکلیف پہنچا سکے۔ اور خود اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی ہر تأثروانفعال سے بالاتر ہے۔ اس لیے کسی کی ہر زہ سرائی یا نافرمانی سے اس کا اس طرح اثر قبول کرنا کہ اسے اس سے ایذا محسوس ہو، یہ اس کی شان کے خلاف ہے۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایذا پہنچانے سے مراد وہ افعال و اقوال ہیں جو عادتاً ایذا کا سبب بنا کرتے ہیں۔ بعض آئمہ تفسیر نے ان افعال و اقوال کو اس کا مصداق ٹھہرایا ہے جنھیں نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ایذا کا سبب قرار دیا ہے۔ مثلاً حوادث و مصائب کے وقت زمانہ کو برا کہنا حالانکہ فاعلِ حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، تو جب لوگ زمانہ کو فاعل سمجھ کر گالیاں دیتے ہیں تو درحقیقت وہ فاعلِ حقیقی تک پہنچتی ہیں۔ اور بعض روایات میں ہیں کہ جاندار چیزوں کی تصویریں بنانا بھی اللہ تعالیٰ کی ایذا کا سبب ہے۔ بعض آئمہ تفسیر کا خیال ہے کہ یہاں ایذائے رسول کو اللہ تعالیٰ کی ایذا سے تعبیر کردیا گیا ہے۔ کیونکہ جس چیز سے اللہ تعالیٰ کے رسول کو تکلیف پہنچتی ہے اسی سے اللہ تعالیٰ بھی ناراض ہوتا اور اس سے اس کو ایذا پہنچتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دین کا کوئی ٹان کہ ٹوٹتا ہے، اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی مخالفت ہوتی ہے، آنحضرت ﷺ کی سنت توڑی جاتی ہے، دین کی نشرواشاعت اور اس کی تنفیذ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، شعائرِاسلام کی توہین کی جاتی ہے اور یا آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق صحابہ کرام ( رض) سے بغض رکھا جاتا ہے اور ان پر ناروا تنقید کی جاتی ہے تو اس سے آنحضرت ﷺ کو ایذا پہنچتی ہے اور اسی سے اللہ تعالیٰ بھی ناراض ہوتے ہیں۔ اس کی سزا اللہ تعالیٰ نے یہ مقرر فرمائی ہے کہ ایسے لوگ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں بھی ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار ہے۔ آج جس طرح اس ملک خداداد میں کلمہ گو مسلمانوں کا خون پانی سے ارزاں کردیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو انسانی غلامی میں تبدیل کردیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کی شریعت کے پرزے اڑا دیے گئے ہیں، اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کا دین لاوارث ہو کر رہ گیا ہے۔ ان میں سے ایک ایک چیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے غضب کو دعوت دینے والی ہے۔ اندیشہ ہے کہ کہیں دنیا ہی میں کوئی عذاب نہ ٹوٹ پڑے۔ اگرچہ عذاب کی مختلف صورتیں پہلے ہی نگاہوں کے سامنے ہیں۔ ملک میں شدید بدامنی اور خانہ جنگی کی کیفیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہ وہ عذاب ہے جس کی قرآن کریم بار بار دھمکی دیتا ہے۔ یہ مملکتِ خداداد بری طرح اس کا شکار ہورہی ہے۔ (والی اللّٰہ المشتکی وھوالمستعان)
Ayah 33:58

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان چیزوں کے بارے میں ایذا دیتے ہیں جن کا انھوں نے ارتکاب نہیں کیا، انھوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے

وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِمَا اکْتَسَبُوْا فَقَدِاحْتَمَلُوْا بُھْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا۔ (الاحزاب : 58) (اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان چیزوں کے بارے میں ایذا دیتے ہیں جن کا انھوں نے ارتکاب نہیں کیا، انھوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے۔ ) مدینہ میں منافقین اور چھپے دشمن جس طرح آنحضرت ﷺ اور آپ کے اہل خانہ کو مختلف اذیتیں پہنچاتے تھے تاکہ آپ مسلمانوں کی مناسب تعلیم و تربیت کا اہتمام نہ کرسکیں اور یکسو ہو کر اسلامی مقاصد کو آگے نہ بڑھا سکیں۔ اسی طرح وہ مسلمان معاشرے میں ابتری پیدا کرنے کے لیے مسلمانوں کی نہایت پاکیزہ شخصیات پر الزامات لگا کر مسائل پیدا کرنے کی کوششیں بھی کرتے تھے۔ انھیں اس بات کا خوب ادراک تھا کہ مسلمانوں کی اصل طاقت غیرمعمولی اخلاقی برتری ہے اس کا مقابلہ نہ افرادی قوت سے کیا جاسکتا ہے اور نہ کثرت اسلحہ سے۔ اس کا توڑ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بےسروپا الزامات اور نازیبا بدگمانیوں کی ایسی فصل تیار کی جائے جس سے مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ مجروح ہو کر رہ جائے۔ چناچہ اسی مقصد کے لیے وہ قسم قسم کے الزامات تراشتے رہتے تھے۔ ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ مسلمان مردوں اور عورتوں کو جھوٹے الزامات میں ملوث کررہے ہیں وہ صریح بہتان اور کھلے گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اور وہ وقت دور نہیں جب قانون انھیں اپنی گرفت میں لینے کے لیے آگے بڑھے گا۔ چناچہ ایک ہی سال بعد سورة النور نازل ہوئی اور ایسے ہی لوگوں کے لیے حدقذف عائد کی گئی۔ ضمناً اس آیت میں بہتان کی تعریف بھی متعین کردی گئی ہے۔ یعنی جو عیب آدمی میں نہ ہو اور یا جو قصور آدمی نے نہ کیا ہو وہ اس کی طرف منسوب کرنا بہتان ہے۔ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اس کو وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ ابودائود اور ترمذی کی روایت ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا کہ غیبت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا، ذکرک اخاک بما یکرہ۔ تیرا اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرنا جو اسے ناگوار ہو۔ عرض کیا گیا، اور اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو، فرمایا، ان کان فیہ ماتقول فقد اغتبتہ وان لم یکن فیہ ماتقول فقد بھتّہ ” اگر اس میں وہ عیب موجود ہے جو تو نے بیان کیا تو، تو نے اس کی غیبت کی، اور اگر اس میں نہیں ہے تو، تو نے اس پر بہتان لگایا۔ “
Ayah 33:59

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے نبی ! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی بڑی چادروں کے گھونگٹ لٹکالیا کریں، یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں، پس ان کو کوئی ایذا نہ پہنچائی جائے اور اللہ تعالیٰ غفورورحیم ہے

یٰٓـاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنٰـتِکَ وَنِسَآئِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلاَ بِیْبِھِنَّط ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلاَ یُؤْذَیْنَ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ (الاحزاب : 59) (اے نبی ! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی بڑی چادروں کے گھونگٹ لٹکالیا کریں، یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں، پس ان کو کوئی ایذا نہ پہنچائی جائے اور اللہ تعالیٰ غفورورحیم ہے۔ ) خواتین کے لیے گھروں سے باہر جانے کے احکام اس سے پہلے کی چند آیات میں مسلمانوں کو معاشرت کے چند آداب سکھائے گئے تھے۔ اور جن کا آغاز گھروں میں آنے جانے کے آداب سے کیا گیا۔ اور سورة النور میں گھروں میں داخلے کے آداب ہی کے حوالے سے یہ ادب سکھایا گیا کہ جب صاحب خانہ کے اعزہ و اقرباء اور اعتماد کے لوگ گھروں میں آئیں تو گھروں کی خواتین کو ہدایت کی گئی کہ وہ نہایت احتیاط سے سمٹ سمٹا کر گھروں میں رہیں اور اپنی زینت کا اظہار نہ کریں۔ اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کی بکل مار لیا کریں۔ یعنی سر پر دوپٹہ اس طرح لیں کہ سر ڈھک جائے اور سینہ دوپٹہ میں چھپ جائے۔ لیکن ان تمام ہدایات کا تعلق گھروں کی زندگی سے تھا۔ اب سوال یہ تھا کہ اگر گھروں کی بیبیوں کو کسی ضرورت کے تحت باہر جانا پڑے تو باہر نکلنے کے آداب کیا ہیں ؟ پیش نظر آیت کریمہ میں باہر نکلنے کا ادب سکھایا گیا ہے، کہ گھروں میں پردے کے لیے عورتوں کا سمٹ کر رہنا اور آزادانہ مہمانوں کے سامنے نہ آنا اور دوپٹے کی بکل مار لینا، یہی کافی ہے۔ لیکن جب باہر جانے کی ضرورت پیش آئے تو پھر بڑی چادریں اوڑھ کر اس کے ایک حصے سے گھونگٹ نکال لیا جائے۔ اور یہ چادر وہ ہے جو اہل لغت کے نزدیک خمار یعنی دوپٹے کے اوپر اوڑھی جاتی ہے۔ اہل لغت کے الفاظ یہ ہیں ھوالرداء فوق الخمار یہ وہ چادر ہے جو شرفائِ عرب کی خواتین گھروں سے باہر نکلنے کے وقت اپنے جسم پر لیتی تھیں اور اسے دوپٹے کے اوپر اوڑھا جاتا تھا۔ اور شعرائِ جاہلیت کے کلام میں جابجا اس کا ذکر ملتا ہے۔ اسلام نے اس میں اضافہ یہ کیا ہے کہ وہ صرف چادر اوڑھتی تھیں۔ اسلام نے گھونگٹ نکالنے کا حکم دیا۔ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلاَ بِیْبِھِنَّ کا یہی مفہوم ہے۔ جلبات کی تحقیق جلباب، جو جلابیب کا واحد ہے، بڑی چادر کو کہتے ہیں جو دوپٹے کے اوپر اوڑھی جاتی ہے۔ اِدْنَائجو یُدْنِیْنَ کا مصدر ہے۔ اس کا اصل معنی قریب کرنے اور لپیٹ لینے کے ہیں۔ مگر جب اس کے ساتھ عَلٰی کا صلہ آئے تو اس میں ارخاء یعنی اوپر سے لٹکانے کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ اور مِنْ جَلاَ بِیْبِھِنَّ میں مِنْ کے استعمال نے جو تبعیض کے لیے ہے اس معنی کو اور واضح کردیا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) کے قول سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ اور حضرت ابن عباس ( رض) نے اسے مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا امر اللہ نساء المومنین اذا خرجن من بیوتھن فی حاجۃ ان یغطین وجوھھن من فوق رؤسھن بالجلابیب ویبدین عینا واحدۃ (ابنِ کثیر) ” اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عورتوں کو حکم دیا کہ جب وہ کسی ضرورت سے اپنے گھروں سے نکلیں تو اپنے سروں کے اوپر سے یہ چادر لٹکا کر چہروں کو چھپا لیں، اور صرف ایک آنکھ راستہ دیکھنے کے لیے کھلی رکھیں۔ “ اسی طرح ابن جریر اور ابن المنذر جو عہدرسالت کے قریب ترین زمانے کے اکابر مفسرین میں سے ہیں وہ روایت کرتے ہیں کہ محمد بن سیرین ( رض) نے حضرت عبیدۃ السلمانی سے اس آیت کا مطلب اور جلباب کی کیفیت دریافت کی۔ انھوں نے سر کے اوپر سے چادر چہرے پر لٹکا کر چہرہ چھپالیا اور صرف بائیں آنکھ کھلی رکھی۔ اور اس طرح اپنے عمل سے ادناء جلباب کا مفہوم واضح کیا ہے۔ عہدِ صحابہ اور تابعین کے بعد جتنے بڑے بڑے مفسرین تاریخِ اسلام میں گزرے ہیں انھوں نے بالاتفاق اس آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔ ابن جریر طبری سے لے کر امام رازی تک اور بعد کے بھی بڑے بڑے مفسرین میں سے کسی نے اس مفہوم سے اختلاف نہیں کیا۔ تین عناصر سورة الاحزاب اور سورة النور میں جب پردے کے احکام بیان کیے گئے اور اسلامی معاشرت کی حدود واضح کی گئیں، اس وقت مسلمان معاشرے میں تین طرح کے عناصر موجود تھے۔ اور یہ وہ عناصر ہیں جو آج بھی پوری دنیا میں موجود ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت اس قانون کی پشت پر ایک نوزائیدہ ریاست تھی جو تمام تر مشکلات کے باوجود کسی ذہنی تحفظ کا شکار نہ تھی۔ اور وہ قرآن کریم کے ایک ایک لفظ پر اور نبی کریم ﷺ کی ایک ایک ہدایت پر تنفیذ وعمل کے اعتبار سے بالکل یکسو تھی۔ ان میں سے پہلا عنصر مخلص مسلمانوں کا تھا جو تعلیم و تربیت میں تو یقینا یکساں نہیں تھے لیکن کسی کے اخلاص میں کمی نہ تھی۔ اور دوسرا عنصر غیرمسلموں کا تھا جو کسی نہ کسی صورت میں ابھی تک مسلمانوں کی آبادی میں موجود تھا۔ اور تیسرا عنصر منافقین کا تھا جن میں بعض بیرونی قوتوں کے لیے کام کررہے تھے لیکن انھوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا اور ان کے دلوں میں اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت سے متعلق شدید بغض پایا جاتا تھا۔ اور کچھ وہ تھے جو ایمان و یقین اور ایثار و قربانی کے حوالے سے اسلام کے بارے میں شک و تردد میں مبتلا تھے۔ ایسی صورتحال میں یہ بہت ضروری تھا جس طرح اجتماعی عبادات اور مسلمانوں کے طرزعمل نے مسلمانوں کی ایک شناخت پیدا کردی تھی۔ اسی طرح خواتینِ اسلام کی بھی ایسی علامات ہونی چاہیے تھیں کہ جب وہ گھروں سے نکلیں تو اپنے لباس اور اپنے طوراطوار سے دور ہی سے پہچانی جاتیں کہ یہ مسلمان شریف زادیاں ہیں جنھیں بےباگ نگاہوں سے دیکھنا بھی اپنے لیے خطرے کو دعوت دینا ہے، چہ جائیکہ ان کے بارے میں کسی بری نیت کا اظہار کیا جائے۔ چناچہ اس علامتِ امتیاز کو قائم کرنے کے لیے یہ ارشاد فرمایا گیا کہ غیرمسلم اور بد چلن عورتیں تو یقینا کھلے منہ، برہنہ سر اور بنائو سنگھار کرکے نکلیں گی۔ لیکن مسلمان عورتوں کو ایک سادہ چادر میں اپنی ساری آرائش و زیبائش کو چھپا کر اور چہرے پر گھونگٹ ڈال کر نکلنا ہوگا تاکہ ہر دیکھنے والی نگاہ کو اندازہ ہوسکے کہ یہ عفت مآب مسلمان خواتین ہیں جو اپنی شرم و حیاء اور پاکدامنی میں دوسروں سے بالکل ممتاز ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کوئی شخص کسی بہانے سے بھی انھیں میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ اور دل میں کوئی گندہ خیال لانے کا تصور بھی نہیں کرسکے گا۔ جس طرح گھروں میں خیالات کی پاکیزگی اور کردار کی بلندی نے مسلمان عورتوں کو دوسری عورتوں سے ممتاز کردیا، اسی طرح گھروں سے باہر ان کی لمبی چادروں اور لٹکے ہوئے گھونگٹوں نے ان کی پہچان واضح کردی۔ اور یہی وہ علامت اور شناخت ہے جس نے ہمیشہ مسلمان خواتین کو محفوظ رکھا اور بدکردار لوگ ہمیشہ ان کا احترام کرنے پر مجبور ہوئے۔ کل بھی یہی علامت تھی اور آج بھی یہی علامت ہے۔ اور اسی نے آج برقعے کی شکل اختیار کرلی ہے۔ جدید دور میں مصروفیات بدل گئی ہیں تو جہاں لباس میں اور تبدیلیاں آئی ہیں اس میں اگر برقعے کو بھی قبول کرلیا گیا ہے تو یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی سادگی کو باقی رکھا جائے اور اسے عفت مآبی کی ضمانت بنادیا جائے۔ رہے وہ لوگ جو اسے رجعت پسندی قرار دیتے ہیں اور بےحجاب اور بےنقاب ہونے کو ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہیں، یہ درحقیقت سفلی جذبات کے مریض، نفسانیت کے اسیر اور غیروں کی تہذیب سے مرعوب لوگ ہیں، انھیں معذور سمجھنا چاہیے۔
Ayahs 33:60–61

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور جو مدینہ میں افواہیں پھیلانے والے ہیں باز نہ آئے تو ہم تمہیں ان پر اکسا دیں گے، پھر وہ اس شہر میں تمہارے ساتھ رہنے کا بہت ہی کم موقع پائیں گے

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

ان پر لعنت کی جائے گی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بےدریغ قتل کیے جائیں گے

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰـفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّـکَ بِہِمْ ثُمَّ لاَ یُجَاوِرُوْنَـکَ فِیْھَآ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔ مَّلْعُوْنِیْنَ ج اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلاً ۔ (الاحزاب : 61) (اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور جو مدینہ میں افواہیں پھیلانے والے ہیں باز نہ آئے تو ہم تمہیں ان پر اکسا دیں گے، پھر وہ اس شہر میں تمہارے ساتھ رہنے کا بہت ہی کم موقع پائیں گے۔ ان پر لعنت کی جائے گی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بےدریغ قتل کیے جائیں گے۔ ) منافقین کو تنبیہ خواتینِ اسلام کو پردے سے متعلق مناسب ہدایات دینے کے بعد منافقین کو دھمکی دی گئی ہے اور ان لوگوں کو بھی جن کے دلوں میں اسلام کے خلاف بغض وعناد پل رہا ہے وہ مسلمانوں کے سامنے آنے کی جرأت تو نہیں رکھتے، لیکن مسلمانوں کے اندر گھس کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو بھی دھمکی دی گئی ہے جو مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے سنسنی خیز افواہیں پھیلاتے رہتے تھے۔ اور کبھی مختلف قسم کے اتہامات ادھر ادھر پھیلا کر بدگمانیوں کی فضاء پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ منافقین بھی اور یہ پانچویں کلام کے لوگ بھی اپنی حرکتوں سے باز آجائیں، تو ان کے لیے بہتر ہے۔ ہم نے آج تک ان کے بارے میں اپنے پیغمبر کو عفو و درگزر کی تلقین کی اور انھوں نے ہمیشہ کریم النفسی کا ثبوت دیتے ہوئے ان کی بہت سے حرکتوں سے چشم پوشی کی۔ لیکن اب معاملہ بہت آگے بڑھ چکا ہے، اگر یہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم اپنے پیغمبر کو ان کے خلاف بھڑکا دیں گے۔ یعنی انھیں حکم دیں گے کے اب وہ عفو و درگزر کی بجائے ان پر گرفت کریں اور ان کی حرکتوں پر مناسب سزا دیں۔ لیکن یہ چونکہ اپنی حرکتوں سے باز آنے والے نہیں، اس لیے جب داروگیر شروع ہوگی تو پھر مدینے کی سرزمین ان کے لیے تنگ ہوجائے گی۔ بہت تھوڑے دنوں یہ آپ کے ساتھ رہ سکیں گے۔ اور جب تک رہیں گے اپنے کرتوتوں کے باعث لعنت و ملامت کا شکار ہوں گے، ہر طرف سے پھٹکار ان پر پڑے گی۔ اور پھر جہاں پکڑے جائیں گے بری طرح قتل کردیے جائیں گے۔ کیونکہ اسلامی نقطہ نگاہ سے عفت و پاکدامنی کی حفاظت اسلام کی ترجیحات میں سے ہے۔ وہ مسلمانوں میں وسائل کی کمی کو بڑا مسئلہ نہیں سمجھتا، لیکن بداخلاقی، آوارگی اور عفت و حرمت کی شکست و ریخت کو بالکل برداشت نہیں کرتا۔ جو لوگ اس قماش کے ہوتے ہیں انھیں وہ سنبھلنے اور اپنی اصلاح کا موقع دیتا ہے، لیکن اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے تو پھر ایسے طاعون کے چوہوں کو وہ دیر تک برداشت نہیں کرتا۔
Ayah 33:62

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

یہ اللہ کی سنت ہے ان لوگوں کے بارے میں جو پہلے ہو گزرے ہیں، اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائو گے

سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ج وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً ۔ (الاحزاب : 62) (یہ اللہ کی سنت ہے ان لوگوں کے بارے میں جو پہلے ہو گزرے ہیں، اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائو گے۔ ) سنت اللہ اشارہ شاید دو باتوں کی طرف ہے، ایک تو یہ کہ جو لوگ اسلامی ریاست میں اسلام کے نظام اخلاق کو نقصان پہنچاتے ہیں تو اسلامی ریاست کبھی انھیں کھل کھیلنے کا موقع نہیں دیتی۔ اور انھیں بدترین سزائیں دیتی ہے۔ اور دوسرا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو نبی کریم ﷺ کی دعوت و تبلیغ کو نقصان پہنچاتے ہیں اور آپ ﷺ جس نظام زندگی کو نافذ کرنے کے لیے اور انسانی اصلاح کے لیے جس نسخہ کیمیا کو آزمانے کی کوشش کررہے ہیں یہ اسے ناکام کرنے کی فکر میں ہیں۔ ایسے لوگ پہلے بھی گزرے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو کبھی بھی اپنے ارادوں کو بروئے کار لانے کی اجازت نہیں دی۔ اور آپ چونکہ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں اس لیے آپ کی ناکامی تو پوری نوع انسانی کی ہلاکت کا باعث ہوگی۔ اس لیے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کبھی زندہ نہیں چھوڑے گا۔ ان کا یقینا استیصال کیا جائے گا۔ یہ وہ سنت ہے جو ہر دور میں رائج رہی ہے اور آج بھی آپ اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں پائیں گے۔
Ayah 33:63

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ آپ سے قیامت کے وقت کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے، اور آپ کیا جانیں شاید قیامت قریب ہی آلگی ہو

یَسْئَـلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ ط قُلْ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَاللّٰہِ ط وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَـکُوْنُ قَرِیْبًا۔ (الاحزاب : 63) (لوگ آپ سے قیامت کے وقت کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے، اور آپ کیا جانیں شاید قیامت قریب ہی آلگی ہو۔ ) وقت کے معلوم نہ ہونے سے قیامت کے حقیقت ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا آنحضرت ﷺ کی دعوت کو بےاثر کرنے کے لیے بعض دفعہ کفار اور منافقین سوالات کی صورت میں بنیادی عقائد کا مذاق اڑاتے تھے۔ وہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے انداز سے یہ بات سمجھ چکے تھے کہ اسلامی زندگی کی استواری کا بیشتر انحصار عقیدہ آخرت پر ہے۔ اگر اس کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کردی جائیں تو اسلامی دعوت کے بےاثر ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی کہ مسلمانوں میں جس تیزی سے بلند سیرت و کردار کی تعمیر ہورہی ہے اس کی بنیاد آخرت کی جواب دہی پر ہے۔ اگر اسے استہزاء کا نشانہ بنادیا جائے تو اس تعمیر میں بھی دراڑیں ڈالی جاسکتی ہیں۔ چناچہ بار بار آپ سے یہ بات پوچھتے کہ آپ جو ہمیں قیامت سے ڈراتے رہتے ہیں اور آخرت میں جواب دہی کا خوف دلا کر ہمیں اپنی زندگی کے طوراطوار بدلنے کی تلقین کرتے رہتے ہیں، آخر وہ قیامت آج تک آکیوں نہیں گئی۔ ہم نے آپ کی مخالفت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ آپ کی دعوت کو بےاثر کرنے میں ہم نے کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ ہم نے آپ کا راستہ روکنے کے لیے ہر ممکن تدبیر اختیار کی۔ اگر قیامت کو آنا ہوتا تو یقینا آج تک آچکی ہوتی۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک دھونس ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ لیکن اگر آپ کو اصرار ہے کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بالکل صحیح ہے تو پھر آپ ہمیں بتایئے کہ اس کے آنے کا وقت کیا ہے، وہ کس تاریخ کو آئے گی اور دن کیا ہوگا ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ جہاں تک اس کے آنے کے وقت کا تعلق ہے اس کا علم تو بس اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، اس کے سوا اس بھید کو کوئی نہیں جانتا۔ حدیث جبرائیل میں جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ سے یہ سوال کیا تھا کہ قیامت کب آئے گی تو آپ نے فرمایا تھا کہ مسئول سائل سے زیادہ نہیں جانتا۔ یعنی اس کے آنے کا وقت نہ میں جانتا ہوں اور نہ آپ جانتے ہیں۔ البتہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کا آنا اس قدر یقینی ہے کہ اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی یقینی بات نہیں ہوسکتی۔ اگر میں اس کا وقت نہیں بتاسکتا تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ دنیا میں کتنی چیزیں ہیں جن کے وقوع اور ظہور کا یقینی وقت انسان کے علم میں نہیں ہوتا، لیکن وہ اس کے وجود سے انکار نہیں کرتا۔ گھٹا اٹھتی ہے تو سب کو معلوم ہوتا ہے کہ بارش ہوگی، لیکن وہ کس وقت ہوگی، کہاں کہاں ہوگی اس کی خبر نہیں ہوتی۔ حاملہ جانور کے بچہ جننے کے یقین کے باوجود یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ بچہ کس وقت جنے گا۔ ہر شخص کو اپنی موت کا یقین ہے لیکن اسے موت کب آئے گی اس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا۔ اس لیے اس سے زیادہ احمقانہ بات اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ آدمی ایک چیز کے وجود کو جانتا ہو لیکن صرف اس لیے اس کا انکار کردے کہ اس کے وقوع کے بارے میں وہ خبر نہ رکھتا ہو۔ اس طرح توہ میں زندگی کے بہت سے حقائق سے انکار کرنا پڑے گا۔ اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آفاق وانفس اور عقل و فطرت کے اندر قیامت کی شہادت موجود ہے۔ اور اخلاقیات میں اس کے بہت سے دلائل موجود ہیں۔ باایں ہمہ اس کا انکار اور اس کا استہزاء صرف اس لیے کہ اس کے وقت کا تعین ناممکن ہے، محض ابلہی اور خودفریبی ہے۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَـکُوْنُ قَرِیْبًا اس فقرے میں آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے اور اسلوبِ کلام سے قیامت کی عظمت، اہمیت اور اس کی ہولناکی کو ظاہر کرنا بھی مقصود ہے۔ یعنی یہ مشرکین و منافقین جس قیامت کا مذاق اڑا رہے ہیں انھیں اندازہ ہی نہیں کہ یہ کتنی بڑی حقیقت کا منہ چڑا رہے ہیں۔ اور نہ انھیں اس بات کا خیال ہے کہ اس انکار کا نتیجہ قیامت کے دن کیا ہوگا۔ اور ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ اب اس کے ظہور میں زیادہ دیر نہیں، کیونکہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول قیامت سے ڈرانے کے لیے نہیں آئے گا۔ آپ کی بعثت دنیا کا آخری فیصلہ کن مرحلہ ہے جس کے بعد قیامت کو بہرحال آنا ہے۔ اسی لیے شاید آنحضرت ﷺ نے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا تھا اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ ” یعنی میں اور قیامت ان دو کی طرح ہیں۔ “ یہ ارشاد فرماتے ہوئے آپ نے انگشت ِشہادت اور ساتھ والی بڑی انگلی سے اشارہ فرمایا، یعنی جیسے ان دو انگلیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں، ایسے ہی میرے اور قیامت کے درمیان کوئی اور بڑا مرحلہ نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بڑی انگلی کی طرح میں تھوڑا سا آگے نکل آیا ہوں اور اس کے بعد قیامت آرہی ہے۔
Ayahs 33:64–65

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کردی ہے اور ان کے لیے اس نے آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور وہ اس میں کوئی کارساز اور مددگار نہیں پائیں گے

اِنَّ اللّٰہَ لَعَنَ الْـکٰفِرِیْنَ وَاَعَدَّلَھُمْ سَعِیْرًا۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا ج لاَ یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّلاَ نَصِیْرًا۔ (الاحزاب : 64، 65) (بےشک اللہ نے کافروں پر لعنت کردی ہے اور ان کے لیے اس نے آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور وہ اس میں کوئی کارساز اور مددگار نہیں پائیں گے۔ ) کافروں کو تنبیہ کفار اور منافقین کو مزید تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت فرما دی ہے۔ اور یہ اسی لعنت کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں رحمت سے دور کردیا ہے اور وہ نصیحت کی ہر بات کو سننے اور سمجھنے سے محروم ہوگئے ہیں۔ کیونکہ لعنت رحمت سے دوری اور ہر اچھی بات سے محرومی کا نام ہے اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دوزخ کا عذاب تیار کر رکھا ہے جس میں ان کو ہمیشہ رہنا ہے۔ انھیں غلط فہمی یہ رہی ہے کہ جن قوتوں کو ہم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے وہ قیامت کے دن ہماری کارسازی اور نصرت کریں گے جبکہ قیامت کے دن کوئی کسی کا نہ کارساز ہوگا اور نہ مددگار۔ وہاں ہر ایک اپنی مغفرت کی فکر میں پریشان ہوگا۔ اور بڑے سے بڑا اللہ تعالیٰ کا مقرب بھی نفسی نفسی کہہ رہا ہوگا۔ اور نہ کسی کا مال و دولت معاوضہ بن سکے گا اور وہاں نہ کسی کی جماعت و جمعیت ان کے کسی کام آسکے گی۔