Ayahs 33:28–29یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّـاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْـتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَھَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلاً ۔ وَاِنْ کُنْـتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَالدَّارَالْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْـکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۔ (الاحزاب : 28، 29)
(اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آئو میں تمہیں دے دلا کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دارآخرت کی طالب ہو تو اللہ نے تم میں سے خوبی سے نباہ کرنے والیوں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ )
آیات کا پس منظر
انسان اپنے علم و فضل، حُسنِ اخلاق، پختگی کردار اور زہدوقناعت میں کتنا بھی بلند کیوں نہ ہو کبھی نہ کبھی دل میں یہ خیال آئے بغیر نہیں رہتا کہ اگر حلال طریقے سے اللہ تعالیٰ سہولت کے وسائل عطا کردے اور زندگی میں آسانی کے امکانات پیدا ہوں تو اس سے فائدہ اٹھانے میں کیا حرج ہے۔ دو وقت پیٹ بھر کے کھانا اور کھانے میں کسی حد تک لطف و لذت کو ملحوظ رکھنا اور پہننے اوڑھنے میں مناسب کپڑوں کی خواہش، یہ ایسے داعیات ہیں جو انسان کی فطرت کا تقاضا ہیں۔ لیکن نبی کریم ﷺ کے گھر میں جس طرح زندگی بسر ہورہی تھی اس کا معمول احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دو وقت کا کھانا پابندی کے ساتھ ازواجِ مطہرات کو نہیں ملتا تھا۔ ایک وقت اگر کھانے کو ملتا تو دوسرے وقت فاقہ ہوتا۔ سہولت اور آرام کی کوئی چیز میسر نہ تھی۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ فرائضِ نبوت کی ادائیگی کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ اور نبوت کی ذمہ داری ایسی تھی کہ جس نے آپ ﷺ کے اوقات اور آپ ﷺ کے وسائل کو پوری طرح نچوڑ لیا تھا۔ اس حال میں نہایت زاہدانہ زندگی آپ ﷺ بھی گزار رہے تھے اور یہی آپ کو مرغوب بھی تھی۔ اور آپ کی بیویاں بھی ایسے ہی حالات میں گزر بسر کررہی تھیں۔ لیکن فطرت کے اپنے تقاضے ہیں جنھیں بلند عزائم کے تحت دبایا تو جاسکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جاسکتا۔
غزوہ احزاب اور غزوہ بنی قریظہ کے ختم ہونے کے بعد جیسے ہی مسلمانوں کو بنونضیر کے بعد بنی قریظہ کی زمینیں، ان کے باغات اور ان کے مکانات سے حصہ ملا اور اس سے ان میں کسی حد تک آسودگی پیدا ہوئی تو آنحضرت ﷺ کے گھر میں بھی ایک احساس سا ابھرنے لگا۔ اس وقت آپ ﷺ کی چار بیویاں تھیں۔ حضرت عائشہ، حضرت حفصہ، حضرت سودہ اور حضرت ام سلمہ ( رض) ۔ ان کی فطرت نے تقاضا کیا کہ اس آسودگی سے ہمیں بھی کچھ حصہ ملنا چاہیے۔ ممکن ہے ان چاروں نے باہمی مشورے سے آنحضرت ﷺ سے اپنی گزربسر میں آسانی کے لیے درخواست کی ہو۔ چناچہ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ ( رض) سے یہ روایت مروی ہے کہ ایک روز حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ( رض) آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دیکھا کہ آپ ﷺ کی ازواج آپ ﷺ کے گرد بیٹھی ہیں اور آپ خاموش ہیں۔ آپ نے حضرت عمر ( رض) کو خطاب کرکے فرمایا ھُنَّ کَمَاتَرٰی یَسْئَلُنِیْ النَفْقَۃَ ” یہ میری بیویاں مجھ سے خرچ کے لیے روپیہ مانگ رہی ہیں، جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ “ اس پر دونوں صاحبوں نے اپنی بیٹیوں کو ڈانٹا اور ان سے کہا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو کیوں تنگ کرتی ہو، اور آپ سے وہ چیز مانگتی ہو جو آپ کے پاس نہیں ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت نبی کریم ﷺ کیسی مالی مشکلات میں مبتلا تھے۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ
بعض لوگوں نے اس شان نزول کو قبول کرنے میں تردد کا اظہار کیا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آسودگی کا زمانہ خیبر کی فتح سے شروع ہوتا ہے جبکہ ان آیات کا نزول ذیقعد یا ذی الحج پانچ ہجری میں ہوا ہے جبکہ حضرت زینب ( رض) سے ابھی نکاح نہیں ہوا تھا۔ اور خیبر اس وقت تک مسلمانوں کے زیرنگیں نہیں آیا تھا تو پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ دوسروں کی آسودگی کو دیکھ کر ازواجِ مطہرات کے دل میں بھی خیال پیدا ہوا۔ لیکن ہم نے پہلے عرض کیا ہے کہ ان آیات کا نزول یقینا پانچ ہجری میں ہوا ہے اور اس وقت خیبر ابھی فتح نہیں ہوا تھا۔ لیکن غلط فہمی کی بنیاد یہ ہے کہ آسودگی کا زمانہ فتح خیبر کے ساتھ منسلک کردیا گیا۔ حالانکہ بنوقریظہ کے قتل ہوجانے کے بعد ان کی تمام املاک کا مسلمانوں میں تقسیم ہوجانا کسی نہ کسی حد تک آسودگی اور خوشحالی کا سبب بنا تھا۔ اور اسی زمانے میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔
دوسرا خیال انھیں یہ ہے کہ ازواجِ مطہرات کے بارے میں یہ بدگمانی کرنا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے دنیا کی زینت کے بارے میں سوال کریں گی، یہ ان کی شان کے لائق نہیں۔ بات یہ ہے کہ ازواجِ مطہرات کا جو مقام و مرتبہ ہے اس میں کوئی شبہ نہیں، لیکن فطرت کے بنیادی تقاضوں سے انھیں بےبہرہ سمجھنا یہ بھی زیادتی کی بات ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور بندیوں کو اس بات کا حق نہیں کہ وہ پیٹ بھرنے کے لیے روٹی کا مطالبہ کریں اور تن پوشی کے لیے مناسب لباس کا۔ جس بات پر گرفت ہوئی ہے وہ یہ مطالبہ نہیں بلکہ گرفت اس بات پر ہے کہ آنحضرت ﷺ کی معیت ورفاقت کے تقاضے کچھ اور ہیں۔ بنیادی ضرورتوں کا تقاضا یقینا برحق ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے عظیم رسول ہونے کی وجہ سے جس بارگراں کو اٹھائے ہوئے تھے، اور پھر جس طرح آپ کا ایک ایک لمحہ اسی کے لیے وقف ہو کے رہ گیا تھا اس میں فطری مطالبات کی بھی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اور اگر آج اس کی اجازت دے دی جاتی تو یہی فطری مطالبات تکلفات میں بھی داخل ہوسکتے تھے۔ پیغمبر کا گھر دنیا میں بعض حوالوں سے منفرد ہوتا ہے۔ اس کے تقاضے بھی احساس و خیال سے بہت بالا ہوتے ہیں۔ ازواجِ مطہرات کو ان احساسات کا خوگر بنانے کی ہدایت کی جارہی ہے۔ لیکن معاملہ چونکہ بہت نازک تھا اس لیے ترغیب و ہدایت کے تیور ذرا تیکھے ہیں۔ اس میں صرف ترغیب سے ہی کام نہیں لیا گیا بلکہ اسے فیصلہ کن حیثیت دے کر ایک سوال ازواجِ مطہرات کے سامنے رکھ دیا گیا ہے کہ ایک طرف حیات دنیا اور اس کی زینت ہے یعنی اس کی سہولتیں اور آرام و راحت۔ اور دوسری طرف آنحضرت ﷺ کی رفاقت، تم دونوں میں سے کسے اختیار کرتی ہو ؟ اگر تمہیں دنیا کی راحتیں مطلوب ہیں تو میں تمہیں کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رخصت کردیتا ہوں۔ مراد یہ ہے کہ میں تمہیں طلاق دے دیتا ہوں۔ لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو اور دارآخرت کو ترجیح دیتی ہو تو ایسی نیکوکار، خوبکار اور نباہ کرنے والی خوش اطوار بیویوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ تم خود فیصلہ کرو کہ تم دونوں میں سے کیا چاہتی ہو۔ اصطلاح میں اسے تخییر کہا گیا ہے۔ یعنی شوہر بیوی کو اختیار دے دیتا ہے، ساتھ رہنے یا علیحدہ ہونے کا۔ اس کی تفصیلات فقہ کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ ﷺ نے سب سے پہلے حضرت عائشہ ( رض) سے گفتگو کی۔ اور فرمایا ! میں تم سے ایک بات کہتا ہوں، جواب دینے میں جلدی نہ کرنا۔ اپنے والدین کی رائے لینے کے بعد جواب دینا۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھ کر انھیں سنائی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) نے بغیر کسی توقف کے جواب دیا کہ مجھے اس معاملے میں کسی سے مشورے کی ضرورت نہیں۔ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ باقی ازواجِ مطہرات میں ایک ایک کے پاس گئے اور ہر ایک سے یہی بات فرمائی۔ اور سب نے وہی جواب دیا جو حضرت عائشہ ( رض) نے دیا تھا۔ ازواجِ مطہرات کے اس جواب نے یہ بات ثابت کردی کہ انھیں دنیا طلبی سے کوئی غرض نہیں، وہ فطری داعیات کو بھی اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور آخرت کے اجروثواب پر قربان کرنے کو تیار ہیں۔ ہمیں اس کے لیے فاقے برداشت کرنا پڑیں یا زندگی کا ہر آرام قربان کرنا پڑے تو یہ کوئی بڑی قیمت نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی صحبت اور رفاقت ایک ایسی گراں قدر نعمت ہے کہ کوئی چیز اس کا بدل نہیں ہوسکتی۔
Ayah 33:30یٰـنِسَآئَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْـکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفْ لَھَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا۔ (الاحزاب : 30)
(اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو کسی صریح بےحیائی کا ارتکاب کرے گی تو اسے دہرا عذاب دیا جائے گا، اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ )
خطاب میں وسعت اور تبدیلی کا سبب
پہلی دونوں آیتوں میں جو کچھ ارشاد فرمایا گیا ہے اس کے پہنچانے کی ذمہ داری آنحضرت ﷺ پر عائد کی گئی ہے۔ کیونکہ اسے حضور ﷺ ہی کی زبان سے ادا کرانا زیادہ مناسب تھا۔ لیکن اس آیت کریمہ میں براہ راست پروردگار ازواجِ مطہرات سے مخاطب ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پہلی دو آیتوں کے نزول کے وقت جو بیویاں موجود تھیں وہ باتیں انھیں سے فرمائی گئی ہیں۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں جو اصولی بات فرمائی جارہی ہے اس کا تعلق ان بیویوں سے بھی ہے جو آگے چل کر حضور ﷺ کے نکاح میں آنے والی تھیں۔ سب کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے کہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ نکاح کی وجہ سے تمہارا مقام و مرتبہ دوسری عورتوں سے بہت بلند ہوگیا ہے۔ تمہاری ہر نیکی باقی عورتوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔ اسی طرح خدانخواستہ تمہاری کوئی برائی بھی دوسروں پر اثر کیے بغیر نہیں رہے گی۔ اس لحاظ سے تمہارا ہر عمل دو حیثیتوں کا مالک ہے۔ اور اسی نسبت سے تمہیں قیامت کے دن اجروثواب ملے گا۔ تمہاری ہر نیکی دوسروں سے دہرا اجر پائے گی۔ اور تمہاری ہر برائی پر دوسروں سے دگنا عذاب دیا جائے گا۔ مقصود صرف یہ ہے کہ آپ اپنے مقام و مرتبہ کو سمجھ کر اپنے ہر ہر عمل کا جائزہ لیں۔ اور اس کے مطابق زندگی کے اعمال بروئے کار لائیں۔ اور اپنے اخلاقی رویے کو پاکیزگی کے انتہائی مقام پر استوار رکھیں۔
ایک وضاحت
یہ بات ذہن میں رہے کہ ازواجِ مطہرات کو جس طرح برائی پر دہرے عذاب کی تنبیہ کی جارہی ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ العیاذ باللہ ازواجِ مطہرات سے کسی سنگین نوعیت کے جرم کا اندیشہ تھا۔ بلکہ اس کا مطلب ایسا ہی ہے جیسے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ ” اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کا سب کیا کرایا برباد ہوجائے گا۔ “ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذاللہ آنحضرت ﷺ سے شرک کا کوئی اندیشہ تھا۔ بلکہ اس سے مقصود آپ کو اور آپ کے واسطہ سے عام انسانوں کو یہ احساس دلانا تھا کہ شرک کتنا خطرناک جرم ہے جس سے سخت احتراز لازم ہے۔
Ayah 33:31وَمَنْ یَّـقْنُتْ مِنْـکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِھَـآ اَجْرَھَا مَرَّتَیْنِ لا وَاَعْتَدْنَالَھَا رِزْقًا کَرِیْمًا۔ (الاحزاب : 31)
(اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کریں گی اور نیک عمل کریں گی ہم ان کو دہرا اجر دیں گے اور ہم نے ان کے لیے رزق کریم مہیا کر رکھا ہے۔ )
جزا و سزا مقام و مرتبہ کے مطابق
یہ آیت گزشتہ آیت کے مضمون کی تکمیل ہے۔ یعنی جس طرح تمہارے کسی جرم کی سزا دگنی ہے اسی طرح تمہاری نیکیوں کی جزا بھی دگنی ہے۔ کیونکہ جو لوگ انسانی معاشرے میں ایسے بلند مرتبے پر فائز ہوجاتے ہیں کہ لوگ ان کے قول و فعل کی نقل کرتے اور اس کو اپنے لیے اسوہ بنا لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ہر عمل کا اثر ان کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات بہت دوررس ہوتے ہیں۔ ان کی برائی بہت سے لوگوں کے بگاڑ کا سبب بنتی ہے اور ان کی بھلائی بہت سے لوگوں کی فلاح کا باعث ٹھہرتی ہے۔ اس لیے فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی صدق دل سے فرماں برداری اور عمل صالح کرتی رہو تو اس کے اثرات چونکہ امت کی تمام عورتوں تک پہنچنے والے ہیں اس لیے اس کا اجر بھی دہرا ہوگا۔ مزید فرمایا کہ ہم نے تمہارے لیے رزق کریم تیار کر رکھا ہے۔ رزق دراصل اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی تعبیر ہے۔ اور جب اس کی صفت کریم آتی ہے تو پھر اس انعام کی وسعت، اس کی خوبصورتی اور اس کی قدر و قیمت بےپایاں ہوجاتی ہے۔
ازواجِ مطہرات چونکہ آنحضرت ﷺ کی رفاقت کی وجہ سے امت کی نگاہوں میں بہت عظیم مقام کی حامل ہیں۔ ان کا ہر عمل امت کی خواتین کے لیے حجت کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ انھیں کے ذریعے سے امت کی عورتوں تک اللہ تعالیٰ کے دین کے احکام پہنچے ہیں۔ ان کے اس عظیم مقام کی طرف جزاء و سزا کے حوالے سے نہایت صراحت کے ساتھ توجہ دلائی گئی ہے۔
Ayah 33:32یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍمِّنَ النِّسَآئِ اِنِ اتَّـقَیْتُنَّ فَلاَ تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوْفًا۔ (الاحزاب : 32)
(اے نبی کی بیویو ! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو، اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو دبی زبان میں بات نہ کرو، کہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ کسی طمع خام میں مبتلا ہوجائے بلکہ صاف سیدھی بات کرو۔ )
پردے کے ابتدائی احکام اور ایک غلط فہمی کا ازالہ
اس آیت سے آخر پیراگراف تک کی آیات وہ ہیں جن میں پردے کے ابتدائی احکام بیان کیے گئے ہیں۔ اس کی تفصیل آگے چل کر آئے گی اور تکمیل سورة النور میں کی گئی ہے۔ اس میں خطاب اگرچہ ازواجِ مطہرات کو کیا گیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ احکام ازواجِ مطہرات کے ساتھ خاص ہیں۔ کیونکہ اولاً تو دوسرے مواقع پر پردے کے احکام صاف صاف تمام مسلمان عورتوں کو دیے گئے ہیں۔ ان آیات کو دیکھتے ہوئے اس اشتباہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی جسے لوگوں نے عام طور پر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن خود ان احکام کو بھی دیکھا جائے جن کا ان آیات میں ذکر فرمایا گیا ہے تو ان میں کوئی حکم ایسا نہیں جس کی مکلف باقی مسلمان عورتیں نہیں ہیں۔ مثلاً ان آیات میں حسب ذیل احکام دیے گئے ہیں۔
1 بلاضرورت گھر سے نہ نکلنا اور گھروں میں وقار کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہنا۔
2 تبرجِ جاہلیت سے پرہیز کرنا۔
3 غیرمردوں سے دبی زبان سے بات نہ کرنا۔
4 اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کرتے رہنا۔
5 نماز پڑھنا اور زکوٰۃ دینا۔
6 ہر طرح کی آلودگی سے پاک رہنا۔
ان احکام میں سے کون سا حکم ایسا ہے جسے ازواجِ مطہرات کے لیے خاص کہا جاسکتا ہے۔ اور اگر پہلے تین احکام کو ازواجِ مطہرات کی خصوصیت ٹھہرایا جائے اور باقی تین احکام کو عام رکھا جائے تو یہ ترجیح بلامرجح ہے۔ یعنی مجموعی احکام میں سے بعض کو عام اور بعض کو خاص قرار دینے کی کوشش ہے جو کسی طرح بھی جائز نہیں۔ رہی یہ بات کہ اس میں ازواجِ مطہرات سے یہ کہا گیا ہے کہ تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو بلکہ تمہاری خصوصی حیثیت ہے تو اس میں تو صرف ان کے مرتبہ اور مقام کی طرف اشارہ ہے جو نبی کریم ﷺ کے ساتھ نسبت کی بنا پر ان کو دنیا کی تمام عورتوں کے مقابل میں حاصل تھا۔ اور اسی مقام و مرتبہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انھیں امہات المومنین کا بلند مرتبہ عطا فرمایا۔ البتہ اس کے ساتھ تقویٰ کی شرط عائد کردی حالانکہ یہ بات مسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے نکاح میں ایسی کوئی خاتون رہ ہی نہیں سکتی جو تقویٰ کے انتہائی مقام پر فائز نہ ہو۔ کیونکہ قرآن کریم میں سورة النور میں اَلطَّیِّبَاتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبَاتِکے اصول کے تحت اس حقیقت کو واضح فرما دیا ہے۔ دراصل تقویٰ کی شرط اللہ تعالیٰ کے ایک خاص اصول کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے یہاں کوئی مرتبہ و مقام بھی تقویٰ کی پابندی کے بغیر باقی نہیں رہتا۔ بلکہ جیسے پہلے گزر چکا اللہ تعالیٰ جن کو بلند مقام سے نوازتا ہے ان کے لیے جزاء و سزا کے حوالے سے تقویٰ کی اہمیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
خضوع بالقول کا مفہوم
فَلاَ تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ ، اس کا مصدر خضوع ہے۔ اس کا معنی ہوتا ہے تواضع، خاکساری یا دبی زبان میں بات کرنا۔ مردوں کے لیے یہی حُسنِ اخلاق کا تقاضا ہے۔ لیکن عورتوں کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ قدرت نے عورت کی آواز میں بالعموم ملائمت رکھی ہے۔ اور اگر وہ اس میں نرم و نازک لہجے سے مزید اضافہ کردے اور دبی زبان میں بات کرنے کی کوشش کرے تو بدچلن لوگوں کے لیے ایسی آواز میں دلچسپی پیدا ہوجاتی ہے۔ اور وہ لہجے کی نرمی کو جو بعض دفعہ لوچ کی شکل اختیار کرلیتی ہے کسی اور معنی پر محمول کرنے لگتے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ تمہیں جب کسی غیرمرد سے ضرورت کے تحت بات کرنی پڑے تو تمہاری آواز میں ایسی شیرینی گھلی ہوئی نہیں ہونی چاہیے اور باتوں میں ایسی لگاوٹ کا شبہ بھی نہیں ہونا چاہیے جس سے مرد کے جذبات میں انگیخت پیدا ہوسکے۔ بلکہ لہجے کو نسبتاً کھردرا بنا کر بات کرنے کی کوشش کی جائے۔ چناچہ اسی بات کی وضاحت آخری حصے میں قول معروف سے کی گئی ہے۔ یعنی غیرمرد سے پس پردہ حسب ضرورت بات کرنے پر پابندی نہیں۔ البتہ بات ایسے صاف اور سادہ انداز میں کی جائے جس طرح ایک عام آدمی سے کی جاتی ہے۔ جس میں لگاوٹ کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔ تاکہ کسی کمینہ صفت آدمی کو کوئی برا تصور قائم کرنے کی جرأت نہ ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے عورت کی آواز کو بھی ہر طرح کا فتنہ بننے سے محفوظ رکھا ہے۔ بلاضرورت غیرمردوں سے بات کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ اسی لیے عورت کو اذان دینے سے روک دیا گیا۔ حتیٰ کہ اگر نماز باجماعت میں کوئی عورت موجود ہو اور امام غلطی کرے تو مرد کی طرح اسے سبحان اللہ کہنے کی اجازت نہیں، بلکہ اسے صرف ہاتھ کی پشت پر ہاتھ مار کر آواز پیدا کرنی چاہیے تاکہ امام متنبہ ہوجائے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو دین عورت کو غیرمرد سے بات کرتے ہوئے محتاط رہنے کا حکم دیتا ہے اور بلاضرورت آواز نکالنے سے بھی روکتا ہے، کیا وہ کبھی اس کو پسند کرسکتا ہے کہ عورت سٹیج پر آکر گائے، ناچے، تھرکے، بھائو بتائے اور نازونخرے دکھائے۔ کیا وہ اس کی اجازت دے سکتا ہے کہ عورت ریڈیو یا ٹیوی پر عاشقانہ گیت گائے یا ڈراموں میں کبھی کسی کی بیوی اور کبھی کسی کی محبوبہ کا پارٹ ادا کرے یا ایئرہوسٹس بن کر مسافروں کا دل لبھانے کی کوشش کرے یا کلبوں یا اجتماعی تقریبات اور مخلوط مجالس میں رونق محفل بن کر بیٹھے۔ آخر ہم نے اپنا جو کلچر بنا لیا ہے اور ہم اسے اسلامی ثقافت قرار دیتے ہیں اس کا قرآن کریم کے متذکرہ بالا تصورات سے کیا تعلق ہے ؟
Ayah 33:33وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلاَ تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ ط اِنَّمَا یُرِیْدُاللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْـکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا۔ (الاحزاب : 33)
(اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دورجاہلیت کی سج دھج نہ دکھاتی پھرو، اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیتی رہو، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت نبی تم سے آلودگی کو دور کرے اور تمہیں اچھی طرح پاک کردے۔ )
قَرْنَ ، تبرج اور جاہلیت اولیٰ کی وضاحت
قَرْنَ …اہلِ لغت نے اسے قرار سے بھی ماخوذ بتایا ہے اور وقار سے بھی۔ اگر اسے قرار سے ماخوذ سمجھیں تو اس کے معنی ہوں گے کہ تم قرار پکڑو اور ٹک کر رہو۔ اور اگر وقار سے لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سکون سے رہو یا چین سے بیٹھو۔ دونوں صورتوں میں آیت کریمہ کا منشاء یہ ہے کہ عورت کا اصل دائرہ عمل اس کا گھر ہے۔ اسے اسی دائرے میں رہ کر اطمینان کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں۔ اور گھر سے باہر شدید ضرورت کے بغیر نہیں نکلنا چاہیے۔ احادیث سے بھی اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ ہم صرف ایک حدیث نقل کرتے ہیں جو ترمذی نے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے نقل کی ہے۔
اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اِنَّ الْمَرَأۃَ عَوْرَۃٌ فَاِذَا خَرَجَتْ اِسْتَشْرَفَھَا الشَّیْطَانُ وَاَقْرَبُ مَاتَـکُوْنُ بِرَوْحَۃِ رَبِّھَا وَھِیَ فِیْ قَعْرِ بَیْتِھَا ” عورت مستور رہنے کے قابل ہے۔ جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے اور اللہ کی رحمت سے قریب تر وہ اس وقت ہوتی ہے جبکہ وہ اپنے گھر میں ہو۔ “
گھروں میں ٹک کر بیٹھنے اور سکون سے رہنے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ بےضرورت گھر سے نہ نکلا جائے۔ دوسرے لفظوں میں ازواجِ مطہرات سے بلاواسطہ اور امت کی عورتوں سے بالواسطہ یہ فرمایا جارہا ہے کہ آپ کا اصل مقام گھر ہے۔ شدید ضرورت کے بغیر گھر سے نکلنا شیطان کو وسوسہ اندازی کا موقع دینا ہے اور منافقین اور بدچلن لوگوں کو کھل کھیلنے کی ہمت دلانا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے۔ لیکن اگر باہر جانے کی شدید ضرورت پیش آجائے تو پھر باہر نکلنے کے لیے جو اسلامی حدود وضع کی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے جسے یہاں تبرجِ جاہلیت سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
تبرج کے معنی عربی زبان میں نمایاں ہونے، ابھرنے اور کھل کر سامنے آنے کے ہیں۔ بُرج کو اس لیے بُرج کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ارتفاء کے باعث دور سے نظر آتا ہے۔ بادبانی کشتی کو بارجہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ اس کے بادبان دور سے نمایاں ہوتے ہیں۔ عورت میں جب تبرج کی خواہش پیدا ہوتی ہے تو اس کا اظہار عموماً تین صورتوں میں ہوتا ہے۔ 1 وہ اپنے چہرے اور جسم کے کھلے حصوں کو دیدہ زیب بناتی اور ان کا اظہار کرتی ہے۔ 2 بھڑکیلا لباس پہنتی اور اپنے زیور کی نمائش کرتی ہے۔ 3 تنگ لباس پہن کر اور چال ڈھال میں طرح داری کی شان پیدا کرکے نگاہوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ چناچہ اہل لغت اور قدیم مفسرین نے اس لفظ کے مفہوم میں انھیں تینوں کیفیتوں کی ترجمانی کی ہے۔ ظاہر ہے کہ گھر سے نکلنے والی جو عفیفہ اپنے آپ کو متذکرہ بالا کیفیتوں سے محفوظ رکھے گی اس کا باہر نکلنا نہ اپنے لیے فتنہ ہوگا اور نہ دوسروں کے لیے۔ بلکہ پاکیزہ نگاہیں اسے دیکھ کر اندازہ کرسکیں گی کہ قانتات اور حافظات کیسی صاحب ایمان عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ چناچہ اسی کا حکم امت کے نمونہ کے لیے ازواجِ مطہرات کو دیا گیا۔
تبرج کی جاہلیتِ اولیٰ کی طرف اضافت کی گئی ہے۔ اس سے تبرج کے مفہوم کے سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ یعنی جس تبرج سے روکا گیا ہے یہ وہ تبرج ہے جو جاہلیتِ اولیٰ میں عرب کی جاہل عورتوں کا طریقہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ یہ جاہلیتِ اولیٰ کیا ہے۔ قرآن کریم نے سورة آل عمران، سورة مائدہ اور سورة فتح میں جاہلیت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات میں بھی اس کا استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ایک موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین کام جاہلیت کے ہیں۔ دوسروں کے نسب پر طعن کرنا، ستاروں کی گردش سے فال لینا اور مردوں پر نوحہ کرنا۔ حضرت ابوالدردا کا کسی شخص سے جھگڑا ہوگیا اور آپ نے اسے گالی دے دی۔ آنحضرت ﷺ نے سنا تو فرمایا کہ تم میں ابھی تک جاہلیت موجود ہے۔ قرآن اور حدیث کے ان استعمالات کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جاہلیت اسلام کی اصطلاح میں ہر وہ طرزعمل ہے جو اسلامی تہذیب و ثقافت اور اسلامی اخلاق و آداب اور اسلامی ذہنیت کے خلاف ہو۔ اور جاہلیتِ اولیٰ سے مراد وہ برائیاں ہیں جن میں اسلام سے پہلے عرب کے لوگ اور دنیا بھر کے دوسرے لوگ مبتلا تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دورجاہلیت میں عورتیں جس طرح بن سنور کر جسم کی، زیور کی، چست اور عریاں لباسوں کی نمائش کرتی ہوئی نکلتی تھیں، مسلمان عورتوں کو جس شرم و حیاء کی تعلیم دی گئی اور جس طرح کی ثقافت سے انھیں آراستہ کیا گیا اس کا اس روش سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ ازواجِ مطہرات کو خاص طور پر اس سے بچنے کی ترغیب دی گئی تاکہ مسلمان عورتیں یہ دیکھ کر کہ جب پیغمبر جیسے پاکیزہ گھر کی خواتین ان باتوں سے دور رکھی گئی ہیں تو ہمارے لیے ان باتوں کا کیا جواز ہوسکتا ہے۔
جاہلیتِ اولیٰ کی تعبیر سے شاید اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ بن سنور کر اور سج دھج کے نکلنا یہ ثقافت دورجاہلیت کی ثقافت ہے جس کو اب قصہ ماضی سمجھنا چاہیے۔ اس کا دور اب ختم ہوچکا ہے۔ اگر مسلمان عورتوں میں کہیں بھی اس کا کوئی اثر باقی ہے تو اسلامی تہذیب کے اثر سے وہ بھی ختم ہوجائے گا۔ تو جس چیز کو اسلامی تعلیمات نے پامال کردیا ہے دلوں میں اس کی خواہش کبھی پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن کس قدر دکھ کی بات ہے کہ جس روش کو اسلام نے جاہلیت کی روش قرار دیا اور اسے قصہ ماضی ٹھہرایا، آہستہ آہستہ وہی روش جدید تہذیب اور ثقافت کے نام سے مسلمانوں میں بہت حد تک رائج کی جا چکی ہے اور مزید کوششیں جاری ہیں۔ اور مزید ستم کی بات یہ ہے کہ بعض نام نہاد اہل علم اسے قرآن و سنت سے کشید کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور اسے اسلامی ثقافت کا نام دیا جارہا ہے۔
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے
مزید حکم یہ دیا گیا کہ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تو ایک وسیع اصطلاح ہے جس سے مراد اسلام کے انفرادی اور اجتماعی نظام کی پابندی اور اسلامی آداب و اخلاق سے اپنے آپ کو مزین کرنا ہے۔ اور جہاں تک نماز اور زکوٰۃ کا تعلق ہے یہ درحقیقت تعمیرسیرت کا ایک جامع عنوان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس سے وفاداری کی صحیح تربیت صحیح نماز سے ہوتی ہے۔ اس کی پابندی سے غیر اللہ سے ہر تعلق ختم ہو کے رہ جاتا ہے۔ کسی اور کی بندگی کا کوئی شائبہ بھی دل و دماغ میں باقی نہیں رہتا۔ آدمی کا سر ہر آستانے سے اٹھ جاتا ہے اور اس کا دل ہر خوف اور ہر تمنا سے بےنیاز ہوجاتا ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ بھی مال و دولت کے حوالے سے انسانی احساسات کو پاکیزہ کرتی ہے۔ نماز جس طرح غیر اللہ کی ہر طرح کی بندگی سے بےنیاز کرتی ہے، اسی طرح زکوٰۃ حُبِ زر، حُبِ جاہ اور حُبِ ذات کی ہر آلودگی سے پاک کردیتی ہے۔
اہلِ بیت کے خطاب اور مصداق کی وضاحت
آیت کے آخر میں ازواجِ مطہرات کو اہل بیت کے دلنواز نام سے موسوم فرما کر نہایت شفقت و محبت کے انداز میں تسلی دی گئی ہے کہ یہ ہدایات جو تمہیں دی گئی ہیں ان سے تمہیں پابندیوں میں جکڑنا مقصود نہیں اور نہ تمہاری فطری آزادیوں کو ختم کرنا ہے، بلکہ اس سے مقصود تمہاری سیرت و کردار کو انتہائی بلندیوں تک پہنچانا ہے، کیونکہ تم امت کی خواتین کے لیے روشنی کا سامان اور ہدایت کا ذریعہ ہو۔ اور سیم و زر اور آرائش و زیبائش کی ہوس چونکہ بلند سیرت و کردار کے راستے میں بعض دفعہ حائل ہوجاتی ہے اس لیے ایسی ہر خواہش کو ” رجس “ قرار دے کر جہاں اس کے خواہشمندوں پر تعریض کی گئی ہے وہیں ازواجِ مطہرات کو اس سے نفرت دلا کر اس سے پاکیزہ رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
ان آیات کو ایک دفعہ پھر غور سے پڑھئے۔ ان کا آغاز ازواجِ مطہرات کے ذکر سے ہوا اور پھر یانساء النبی کہہ کر سیرت و کردار کی تعمیر کے لیے احکام دیے گئے۔ اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے بعض گوشوں کی بنیادیں استوار کی گئیں۔ اور آخر میں ازواجِ مطہرات کو خطاب فرما کر انھیں اہل بیت سے موسوم کیا گیا اور ان احکام کے مقصد کو واضح کیا گیا۔ اس پورے سیاق وسباق میں کسی اور شخصیت کا کوئی ذکر نہیں۔ تو اس لحاظ سے ازواجِ مطہرات کا اہل بیت ہونا نص قطعی سے ثابت ہے، جس میں کسی اور کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ دوسروں کی شمولیت اس میں تبعاً و ضمناً تو ہوسکتی ہے، اصلاً نہیں۔ اور جہاں تک محاوراتی زبان کا تعلق ہے عربی میں اہل بیت کا لفظ ٹھیک انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جن میں ہم گھر والوں کا لفظ بولتے ہیں۔ اس میں آدمی کے بیوی اور بچے دونوں شامل ہوتے ہیں۔ بیوی کو مستثنیٰ کرکے اہل خانہ کا لفظ کوئی نہیں بولتا۔ اس لحاظ سے جو لوگ ازواجِ مطہرات کو اہل بیت میں شامل نہیں سمجھتے ان کی باتوں میں نہ کوئی معقولیت ہے اور نہ وہ قرآن کریم کے مفہوم کے مطابق ہے بلکہ اس سے نص قطعی کی مخالفت لازم آتی ہے جو بڑے خطرناک نتائج کی حامل ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اہل بیت سے مراد صرف ازواجِ مطہرات ہیں۔ حضرت علی، حضرت فاطمہ اور آپ کے دونوں صاحبزادے نہیں، ہم انھیں بھی اہل بیت میں شامل سمجھتے ہیں۔ لیکن اہل بیت میں ان کی شمولیت قرآن کریم کی نص صریح سے نہیں بلکہ ایک حدیث سے ہے۔ ابن ابی حاتم کی روایت ہے کہ حضرت عائشہ ( رض) سے ایک مرتبہ حضرت علی ( رض) کے متعلق پوچھا گیا، تو انھوں نے فرمایا کہ تم اس شخص کے متعلق مجھ سے پوچھتے ہو جو رسول اللہ ﷺ کے محبوب ترین لوگوں میں سے تھا، اور جس کی بیوی آپ ﷺ کی وہ بیٹی تھی جو آپ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھی۔ اس کے بعد حضرت عائشہ ( رض) نے واقعہ سنایا کہ حضور ﷺ نے حضرت علی ( رض) اور فاطمہ اور حسن اور حسین ( رض) کو بلایا اور ان پر ایک کپڑا ڈال دیا اور دعا فرمائی جس کا ترجمہ یہ ہے ” اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں، ان سے گندگی کو دور کردے اور انھیں پاک کردے۔ “ حضرت عائشہ ( رض) فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ میں بھی تو آپ ﷺ کے اہل بیت میں سے ہوں، تو حضور نے فرمایا کہ تم تو خیر ہو ہی اس لیے تمہیں اس کپڑے کے اندر آنے کی ضرورت نہیں۔ اس سے ملتے جلتے مضمون کی بکثرت احادیث حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اس وجہ سے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ازواجِ مطہرات کے ساتھ ساتھ حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین ( رض) اہل بیت نبی میں شامل ہیں۔
Ayah 33:34وَاذْکُرْنَ مَایُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۔ (الاحزاب : 34)
(یاد رکھو اللہ کی آیات اور حکمت کی ان باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں، بیشک اللہ نہایت ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے۔ )
وَاذْکُرْنَ … یہ جمع مونث حاضر امر کا صیغہ ہے، جس کے دو معنی ہوسکتے ہیں 1 یاد کرو یا یاد رکھو۔ 2 بیان کرو۔
ازواجِ مطہرات کا مقصدزندگی
ناچیز کی رائے میں دونوں ہی معنی مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے رسول، معلم، مربی اور مزکی بنا کے بھیجا تھا۔ آپ ﷺ جس طرح مردوں کی رہنمائی کرتے تھے اسی طرح عورتوں کی بھی رہنمائی فرماتے تھے۔ آپ گھر سے باہر مردوں کو تعلیم دیتے تھے اور گھر کے اندر عورتوں کو تعلیم دیتے تھے۔ وحی باہر بھی آپ پر اترتی تھی اور گھر کے اندر بھی اترتی تھی۔ جس طرح آپ کا ہر قول لوگوں کے لیے تعلیم و ہدایت تھا، اسی طرح آپ کا ہر عمل بھی لوگوں کے لیے اسوہ و نمونہ تھا۔ آپ کی زندگی ایک اکائی تھی جس میں پرائیویٹ اور پبلک کی تقسیم نہ تھی۔ آپ کی حیات مبارکہ کا ہر لمحہ امت کی تعلیم و تربیت کے لیے وقف تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ جس طرح باہر کی زندگی میں آپ کی تعلیم، آپ کے ایک ایک عمل اور آپ کی ایک ایک ادا کو محفوظ رکھنے کا انتظام کیا گیا تھا یعنی صحابہ کرام شب و روز اسی دھن میں لگے رہتے تھے اور اصحابِ صفہ کو تو اس کام کے سوا کوئی کام ہی نہ تھا۔ اسی طرح آپ کے گھر کے اندر کی زندگی کو بھی محفوظ رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام فرمایا کہ آپ کو چار سے زیادہ شادیوں کا حکم دیا گیا اور ازواجِ مطہرات کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ آپ کی تعلیم و تربیت اور آپ کے قول و عمل اور ہر ادا کو یاد بھی کریں اور دوسروں تک پہنچانے کا انتظام بھی کریں۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کا علم و عمل جتنا آپ کی ازواجِ مطہرات کے ذریعے سے محفوظ اور عام ہوا اس کی مقدار صحابہ کے ذریعے پھیلے ہوئے علم سے کسی طرح کم نہیں۔ بلکہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ مردوں کی تعلیم و تربیت کے ضروری مسائل مردوں کے ذریعے لوگوں تک پہنچے اور عورتوں کے مسائل اور ان کی سیرت و کردار کی تعمیر کے لیے ضروری ہدایات ازواجِ مطہرات کے ذریعے امت تک پہنچیں۔ اور پھر اس تعلیم و تربیت میں صرف وہی وحی شامل نہیں جو قرآن کریم کی شکل میں نازل ہوئی بلکہ وہ وحی غیرمتلو بھی شامل ہے جسے حدیث اور سنت اور حکمت کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ آیت کریمہ میں کتاب سے مراد قرآن کریم ہے اور حکمت سے مراد حدیث اور سنت اور آپ کا وہ طرز عمل ہے جس کی کیفیات کو ازواجِ مطہرات نے امت تک پہنچایا۔
بعض لوگوں نے مَایُتْلٰی کے لفظ سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حکمت سے مراد بھی قرآن کریم ہی ہے۔ کیونکہ تلاوت صرف قرآن کریم کی ہوتی ہے اور کسی چیز کی نہیں۔ لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ تلاوت کا لفظ قرآن کریم کے لیے مخصوص کرنا بعد کی اصطلاح ہے جو علمی آسانی کے لیے پیدا کی گئی۔ ورنہ قرآن کریم نے اس کو دوسری چیزوں کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔ مثلاً سورة البقرۃ کی آیت 102 میں ارشاد فرمایا گیا ہے وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیَاطِیْنُ عَلٰی مُلْکِ سُلَیْمَانَ ” انھوں نے پیروی کی اس چیز کی جس کی تلاوت کرتے تھے شیاطین سلیمان کی بادشاہی کی طرف منسوب کرکے۔ “ اس آیت کریمہ میں تلاوت کے لفظ کو قرآن کریم کے لیے نہیں، جادو کے ان منتروں کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو شیاطین حضرت سلیمان کی طرف منسوب کرکے لوگوں کو سناتے تھے۔
آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ لطیف اور خبیر ہے۔ یعنی ازواجِ مطہرات جو عظیم ذمہ داری اپنے گھروں میں بیٹھ کر انجام دیں گی وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہوں سے مخفی نہیں رہے گی، کیونکہ وہ بہت باریک بین اور بہت باخبر ہے۔ وہ ان کے ہر عمل اور ہر ضرورت سے اچھی طرح باخبر ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ قرآن و حکمت کی حفاظت اور اشاعت میں وہ جس طرح ہمت سے بڑھ کر محنت کررہی ہیں تاریخ میں اس کے نتائج کیا نکلیں گے اور امت کی تعلیم و تربیت میں اس کا کتنا بڑا حصہ ہوگا۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ اس کے بھروسے پر اپنا فرض انجام دیتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں انھیں بیش بہا اجروثواب دینے والا ہے۔
Ayah 33:35اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَالْقٰـنِتِیْنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقِیْنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِیْنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّآئِمِیْنَ وَالصِّٰئِمٰتِ وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَھُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَالذّٰکِرٰتِ لا اَعَدَّاللّٰہُ لَھُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا۔ (الاحزاب : 35)
(بےشک اطاعت کرنے والے مرد اور اطاعت کرنے والی عورتیں، ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں، فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرماں برداری کرنے والی عورتیں، راست باز مرد اور راست باز عورتیں، اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، اللہ کے آگے جھکنے والے مرد اور جھکنے والی عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی حفاظت کرنے والی عورتیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور اجرِعظیم تیار کر رکھا ہے۔ )
معاشرے کے اجزائے ترکیبی اور مردو عورت میں عنداللہ مساوات
ازواجِ مطہرات کو دی جانے والی ہدایات کے بعد متصلاً تمام امت کے لیے ان ہدایات کا ذکر شاید اس لیے فرمایا گیا ہے تاکہ اس بات کی طرف اشارہ کیا جاسکے کہ گزشتہ ہدایات ازواجِ مطہرات کے لیے مخصوص نہیں، بلکہ مسلم معاشرہ میں سے خواتین کی اصلاح کے لیے جن ہدایات کی ضرورت ہے ان میں سے ان ہدایات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ البتہ مسلم معاشرے کی بالعموم اصلاح کے لیے جو ہدایات مطلوب ہیں ان کو ایک جامع اسلوب کے تحت پیش نظر آیت کریمہ میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ پیراگراف میں جو ہدایات دی گئی ہیں ان میں بعض کا انداز منفی ہے اور بعض کا مثبت۔ اگر ان کو شمار کیا جائے تو ان کی تعداد تقریباً اتنی ہے جتنی پیش نظر آیت میں متفرق صفات کی ہے۔
گزشتہ پیرا گراف میں چونکہ خطاب ازواجِ مطہرات سے تھا جو تمام مسلمان عورتوں کی نمائندہ اور رہنما ہیں۔ پیش نظر آیت میں اسلامی معاشرہ کے اجزائے ترکیبی جو ذکر فرمائے گئے ہیں، قرآن کریم کے عمومی اسلوب کے مطابق ان کا خطاب مردوں سے ہونا چاہیے تھا لیکن گزشتہ پیراگراف کی رعایت سے عورتوں کا ذکر ضمناً نہیں بلکہ مردوں کے پہلو بہ پہلو مستقلاً فرمایا گیا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوسکے کہ معاشرہ کے بنائو سنوار میں عورتوں کا حصہ مردوں کے برابر ہے۔ اس لیے ان کی ذمہ داریاں مردوں سے کم نہیں البتہ دونوں کا دائرہ عمل جدا جدا ہے۔
اس آیت کریمہ میں مسلمان معاشرہ کے افراد کی جن خصوصیات کا ذکر فرمایا گیا ہے ان کا ذکر فعل کی صورت میں نہیں بلکہ صفت کے صیغوں سے کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صیغہ فعل وقوع فعل پر دلالت کرتا ہے چاہے وہ وقوع ایک دفعہ ہی کیوں نہ ہو۔ البتہ صفت کا صیغہ عادت اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ اس کا وقوع ایک دفعہ نہیں ہوتا بلکہ اس کی حیثیت ایک خصلت کی ہوتی ہے جو اپنے فاعل سے کبھی جدا نہیں ہوتی۔ جس طرح سورج جب طلوع ہوتا ہے تو ضرور کرنیں بکھیرتا ہے، چاند نکلتا ہے تو روشنی بکھیرتا اور حلاوت لٹاتا ہے، دریا کبھی اپنے بہائو سے الگ نہیں رہ سکتا، چشمے سے ابلنے کے تصور کو الگ نہیں کیا جاسکتا اور آبشار کبھی مسلسل گرنے کی صفت سے محروم نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ یہ تمام صفات ہیں جو اپنے موصوف سے کبھی جدا نہیں ہوتیں۔ اسی طرح پیش نظر آیت کریمہ میں جن صفات کا ذکر کیا گیا ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایک کلمہ گو کبھی کبھی ان صفات سے بھی متصف ہوتا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ صفات کبھی اس سے منقطع نہیں ہوتیں۔ جس طرح ایک مور جہاں پَر پھیلاتا ہے وہاں چمن کھل جاتا ہے۔ اسی طرح ایک کلمہ گو جس ماحول میں بھی ہوتا ہے ان صفات کا اس سے مسلسل صدور ہوتا ہے اور ان صفات کا رنگ اس ماحول پر چھایا رہتا ہے۔
یہ صفات تعداد میں دس ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔
1 اسلام، 2 ایمان، 3 قنوت، 4 صدق، 5 صبر،
6 خشوع، 7 صدقہ، 8 روزہ، 9 عفت و حیاء، 0 اذکراللہ۔
اسلام : اس کا معنی ہے مطیع ہوجانا، اپنے آپ کو سپرد کردینا اس اسلام سے متصف شخص کو مسلم کہتے ہیں۔ یعنی ایسا شخص جس نے اپنی زندگی اسلامی ضابطہ حیات کے سپرد کردی ہے اور اس نے یہ طے کرلیا ہے کہ وہ اب اسی کی پیروی میں زندگی گزارے گا۔ یعنی اس کا طریقہ فکر اور طرززندگی اسلام کے دیے ہوئے تصورات اور احکام کے تابع ہے۔ وہ کہیں بھی اس کی اطاعت اور اتباع میں کوتاہی نہیں کرتا۔
ایمان : مان لینے اور دل سے تصدیق کرنے کو کہتے ہیں جس کا حاصل یقین اور ایقان ہے۔ یعنی جو شخص مسلم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہ صرف اسلامی ضابطہ حیات ہی کی پابندی نہیں کرتا بلکہ وہ دل سے بھی اس کے صحیح اور سچا ہونے کا یقین رکھتا ہے اور وہ اسی میں دنیوی اور اخروی فلاح اور کامیابی سمجھتا ہے۔ وہ تمام معیارات سے ہاتھ اٹھا کر صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ارشادات کو معیارِحق سمجھتا ہے۔ اسلام درحقیقت دین کا ظاہر ہے اور ایمان اس کا باطن ہے۔ اور یہ دونوں بیک وقت مطلوب ہیں۔
قنوت : اس کا معنی تو اطاعت اور فرماں برداری ہے۔ لیکن اس سے مراد وہ فرماں برداری ہے جو دل کی پوری یکسوئی، پوری نیازمندی اور اخلاص کے ساتھ زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہے۔ دماغ اور دل کے کسی گوشے میں بھی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے بارے میں شک و شبہ لاحق نہ ہو۔ نہ کسی حکم کی تعمیل بوجھ محسوس ہو اور نہ کسی نہی کی طبیعت میں طلب پیدا ہو۔ اس کا آخری مقام یہ ہے کہ شریعت کے مقتضیات طبعی مقتضیات کی صورت اختیار کرلیں۔
صدق : قول، فعل، ارادہ اور عقیدہ میں کامل ہم آہنگی، مطابقت اور استواری کا نام ہے۔ اس کیفیت کے پیکر نہ تو کبھی جھوٹ بولتے ہیں اور نہ معاملات میں فریب دیتے ہیں۔ نہ کبھی ان کی نیت میں فتور آتا ہے۔ ان کی زبان اور ان کا ضمیر ہمیشہ ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ وہ زندگی کے کسی معاملے میں چاہے وہ انفرادی ہو یا اجتماعی کبھی راستی اور صداقت کے خلاف نہیں چلتے۔ دیانت و امانت ان کا شیوہ ہوتا ہے۔ بدعہدی کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ ایک مومن اعمال کی مختلف خرایبوں میں مبتلا ہوسکتا ہے لیکن وہ جھوٹا کبھی نہیں ہوتا۔
صبر : اڑ جانے اور ڈٹ جانے کو کہتے ہیں۔ استقامت، استقلال اور پامردی کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ علماء نے اسے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ 1 صبرعلی الطاعات۔ یعنی وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی تعمیل میں نہایت ثابت قدم اور اطاعت کی روش پر قائم رہنے والے ہیں۔ وہ اشتعال یا کسی تحریص کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کبھی نہیں کرتے۔ 2 صبرعن المعصیات، کہ وہ نافرمانی اور گناہوں سے صبر کرتے ہیں۔ خواہشاتِ نفس کا کوئی تقاضا بھی ان کو نافرمانی کے راستے پر نہیں ڈال سکتا۔ اللہ تعالیٰ اور رسول کی نافرمانی انھیں ایسے معلوم ہوتی ہے جیسے دہکتے انگاروں میں ہاتھ ڈالنا۔ 3 صبرعلی المصائب، یعنی کیسی ہی مشکلات پیش آئیں، کوئی خوف اندر سے سر اٹھائے یا باہر سے، خوف جان کا ہو یا مال و دولت کے ضیاع کا، وہ ان مصیبتوں پر صبر کرنے والے ہیں۔ دین کے راستے میں وہ سر کٹوا سکتے ہیں لیکن جھکا نہیں سکتے۔ غیر اللہ کی بڑی سے بڑی طاقت بھی ان سے اپنی بات منوا نہیں سکتی۔ وہ ہر خطرے کا بڑی پامردی سے مقابلہ کرتے ہیں۔
خشوع : کا معنی فروتنی اور انکساری ہے۔ لیکن یہ ایسی فروتنی ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہیبت اور اس کی عظمت و جلال کے صحیح تصور سے پیدا ہوتی ہے۔ اسی سے ان کے اندر اطاعت کا صحیح جذبہ پیدا ہوتا ہے اور یہی چیز انھیں اپنے رب کے آگے جھکاتی بھی ہے اور اس سے جوڑتی بھی ہے۔ عاجزی کا احساس تکبر اور استکبار سے بچاتا ہے۔ اور بندوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کا ذریعہ بنتا ہے۔ ایسے لوگ حق کے مقابلے میں نہایت عاجز، لیکن باطل کے مقابلے میں نہایت سخت ہوتے ہیں۔ تخت و تاج پر فائز لوگ ان کی نگاہوں میں پتلیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کا کوئی مسکین بھی ان کے یہاں عزت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ ان خصوصیات کی ترتیب کو دیکھتے ہوئے یہ گمان گزرتا ہے کہ یہاں خشوع سے مراد شاید نماز ہو۔ کیونکہ نماز کی اصل شناخت خشوع ہے۔ اور نماز کی فرضیت کا اصل مقصد بھی خشوع پیدا کرنا ہے۔ اور اس کے بعد چونکہ صدقے اور روزے کا ذکر آرہا ہے اس سے بھی اس گمان کی تائید ہوتی ہے۔
صدقہ : کا معنی خیرات اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں کچھ دینا ہے۔ اور تصدق کا معنی صدقہ کرنا ہے۔ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں انفاق کرنا ہے جسے قرآن کریم نے متقین کی خصوصی صفات میں ذکر فرمایا ہے۔ اس کا تعلق حقوق العباد سے بھی ہے اور تبرع اور احسان سے بھی۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اس سے مراد زکوٰۃ ادا کرنا بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کی مالی مدد کرنا بھی۔ کوئی یتیم، کوئی بیمار، کوئی مصیبت زدہ، کوئی ضعیف و معذور، کوئی غریب و محتاج ان کی بستیوں میں دستگیری سے محروم نہیں رہتا۔ اور اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے ہمیشہ ان کی تجوریوں کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔ دین کی ضرورتیں بھی ان سے پوری ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کی ضروریات کے بھی وہی کفیل ہوتے ہیں اور وہ کسی حال میں بھی بخل سے کام نہیں لیتے۔
روزہ : صوم کا معنی ہے رکنا۔ اسی کو اردو زبان میں روزہ کہتے ہیں۔ یہ صبر کی تربیت کا خاص ذریعہ ہے۔ اس لیے حضور ﷺ نے رمضان کو شھرالصبر قرار دیا ہے۔ اس میں فرض اور نفل دونوں قسم کے روزے شامل ہیں۔ اس میں حلال اور طیب نعمتوں پر پابندی لگا کر ایک مومن کو اس بات کا خوگر بنایا جاتا ہے کہ ہر چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی اختیارِ کامل رکھتا ہے۔ وہ جس چیز کو چاہے حرام کردے اور جس چیز کو چاہے حلال کردے۔ جس چیز کی چاہے اجازت دے دے اور جس چیز کو چاہیے ممنوع قرار دے دے۔ اختیار اسی کے پاس ہے، تم اس کے بےاختیار بندے ہو۔ تمہارا کام ہر صورت اس کے احکام کی کامل اطاعت اور اس کی ذات کی کامل بندگی ہے۔ روزہ اسی بندگی کی تربیت دیتا ہے۔
عفت و حیاء : معاشرے میں خرابی پیدا کرنے اور قوت ارادی کو کمزور کرنے اور انسان کو شرفِ انسانیت سے محروم کرکے جنسی حیوان بنا دینے کا سب سے بڑا ذریعہ عفت اور حیاء کے احساس کو کم کرنا ہے۔ یہی وہ پاکیزہ جذبہ ہے جو انسان کو بےپناہ قوت دیتا اور اسے بلند اخلاق سے وابستہ رکھتا ہے۔ جیسے ہی یہ پردہ کمزور ہوتا اور حفاظت کا جذبہ ماند پڑتا ہے تو پھر شیطانی قوتیں پر اپیگنڈے کے زور سے سفلی جذبات کو انسانی زندگی کی معراج اور تسکین کا سب سے ہم ذریعہ قرار دینے لگتی ہیں۔ اور بالآخر انسان اپنے بلند منصب سے گر کر بلیوں اور کتوں کی سطح پر آگرتا ہے۔
ذکر اللہ : اس سے مراد صرف اللہ تعالیٰ کے نام کی تکرار نہیں بلکہ زبان کا وظیفہ بننے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی یاد کا دل میں اتر جانا ہے۔ یہ صفت مذکورہ بالا تمام صفت کا منبع اور ان کی محافظ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی یاد انسان کے شعور سے گزر کر اس کے تحت الشعور اور لاشعور تک پہنچ جاتی ہے تو تب اس کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ وہ ہر کام کرنے سے پہلے اور ہر بات بولنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے۔ ہر کام سے فارغ ہو کر اس کی تعریف کرتا اور اس کا شکر بجالاتا ہے۔ وہ سونے سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اور نیند کھلنے پر بھی اللہ تعالیٰ ہی کا نام لیتا ہے۔ بول چال میں بار بار اس کی زبان سے بسم اللہ، الحمدللہ، ان شاء اللہ، ماشاء اللہ اور اس طرح کے دوسرے الفاظ نکلتے رہتے ہیں۔ محتاج ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتا ہے۔ مصیبت آنے پر اللہ تعالیٰ سے رحمت طلب کرتا ہے۔ ہر برائی کے وقت اسی سے ڈرتا ہے، ہر قصور سرزد ہونے پر اسی سے معافی مانگتا ہے۔ غرضیکہ اٹھتے بیٹھتے اور دنیا بھر کے کام کاج کرتے ہوئے اس کا وظیفہ اللہ تعالیٰ ہی کا ذکر ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک مومن اگر اس نے شعور کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی معرفت کا راستہ اختیار کیا ہے تو وہ کبھی اس کی یاد سے غافل نہیں رہ سکتا۔ تمام عبادات اسی کی یاد دلاتی ہیں۔ اور تمام دینی کاموں میں اسی سے قوت پیدا ہوتی ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے بڑی سے بڑی نیکی کی اساس بھی ذکر اللہ کو ٹھہرایا۔ معاذ بن انس الجھنی رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، یارسول اللہ جہاد کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر اجر پانے والا کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو ان میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ یاد کرنے والا ہے۔ اس نے عرض کیا روزہ رکھنے والوں میں سے سب سے زیادہ اجر کون پائے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو ان میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والا ہے۔ پھر اس شخص نے اسی طرح نماز، زکوٰۃ، حج اور صدقہ ادا کرنے والوں کے متعلق پوچھا۔ تو حضور ﷺ نے ہر ایک کا یہی جواب دیا کہ جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ یاد کرنے والا ہو۔ (مسنداحمد)
ممکن ہے اس میں بھی نماز کی طرف اشارہ ہو۔ کیونکہ نماز اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی کا دوسرا نام ہے۔
Ayah 33:36وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلاَ مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُـہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّـکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ ط وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاً مُّبِیْنًا۔ (الاحزاب : 36)
(کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملہ کا فیصلہ کردیں تو ان کے لیے اس معاملہ میں کوئی اختیار باقی رہ جائے اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو وہ کھلی ہوئی گمراہی میں پڑگیا۔ )
آیت کا پس منظر
اس آیت کا ایک خاص پس منظر ہے اور وہی اس کا شان نزول بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ جو انسانوں کے انفرادی اور اجتماعی تعلقات کی تہذیب کے لیے کوشاں تھے اور اس راستے میں جو غلط تصورات اور بری رسوم حائل تھیں انھیں موقع کی مناسبت سے ایک ایک کرکے توڑتے جارہے تھے۔ آپ نے دیکھا کہ اس وقت کی دنیا چاہے وہ عرب ہو یا عجم ایک بہت بڑی خرابی میں مبتلا ہے کہ انسان ایک آدم کی اولاد ہونے کے باوجود اور ایک طرح کے ذہنی و قلبی اور جسمانی اور روحانی مقتضیات کے باوصف طبقات کا شکار ہے۔ ان میں سب سے بڑا تفاوت یہ ہے کہ غلام کبھی آزاد کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اور وہ آزادی حاصل ہونے کے بعد بھی آزاد آدمی کی برابری کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کی اسلامی دعوت نے جس طرح بندوں کا اپنے رب سے ٹوٹا ہوا رشتہ جوڑا، اسی طرح غلامی کے تصور کی بیخ کنی کی اور کل کے غلاموں کو آج کے معزز انسانوں کے برابر لا کھڑا کیا۔ کسی ہندو شاعر نے ٹھیک کہا :
جس کی حکمت نے یتیموں کو کیا دُرِیتیم
اور غلاموں کو زمانے بھر کا مولیٰ کردیا
نبی کریم ﷺ نے اس تصور کو پختہ کرنے کے لیے اپنے گھر سے اس کا آغاز فرمایا۔ حضرت زید بن حارثہ ( رض) جو آپ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے اور آپ ﷺ کو بےحد عزیز تھے ان کی عزت افزائی کے لیے حضرت زینب بنت جحش ( رض) جو آپ ﷺ کی پھوپھی ذات بہن تھیں کو پیغامِ نکاح دیا۔ ان کا تعلق خاندان بنی اسد سے تھا جو قبائل میں ایک نہایت معزز قبیلہ تھا۔ ان کی والدہ امیمہ بنت عبدالمطلب تھیں۔ حضرت ابن عباس ( رض) کی روایت ہے کہ جب حضور ﷺ نے یہ پیغام دیا تو حضرت زینب نے کہا اناخیرمنہ نسبا ” میں اس سے نسب میں بہتر ہوں۔ “ ابن سعد کا بیان ہے کہ انھوں نے جواب میں یہ کہا تھا۔ لا ارضاہ لنفسی وانا ایم قریش ” میں اسے اپنے لیے پسند نہیں کرتی، میں قریش کی شریف زادی ہوں۔ “ ان کے بھائی عبداللہ ابن جحش اور ان کے دیگر عزیزوں نے بھی اس رشتہ پر اعتراض کیا کہ حضرت زید ایک آزاد کردہ غلام اور غیرکفو ہیں، اس لیے ان میں نکاح کیسے ہوسکتا ہے۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ اور اسے سنتے ہی حضرت زینب اور ان کے سب خاندان والوں نے بلاتأمل سرِاطاعت خم کردیا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے ان کا نکاح پڑھایا۔ خود حضرت زید کی طرف سے دس دینار اور ساٹھ درہم مہر ادا کیا، چڑھاوے کے کپڑے دیے اور کچھ سامانِ خوراک گھر کے خرچ کے لیے بھی بھجوا دیا۔
یہاں دو باتوں کا اظہار بہت ضروری ہے۔ ایک یہ کہ ایک شخص جب ایمان لاتا ہے اور دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے تو اس پر یہ حقیقت واضح کردی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کی مخالفت ایمان کے بعد کسی صورت بھی جائز نہیں۔ کیونکہ ایمان کے ساتھ سمع و اطاعت کا رشتہ ایسا بندھا ہوا ہے جسے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت زینب اور ان کے خاندان نے آنحضرت ﷺ کی طرف سے حضرت زید کے لیے پیغامِ نکاح کو ناپسند کیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے احکام کی دو نوعیتیں ہیں۔ ایک نوعیت یہ ہے کہ آپ کے ارشاد کے متعلق یہ بات بالکل واضح ہوجائے کہ نبی کریم ﷺ نے جو بات فرمائی ہے وہ آپ ﷺ کا قطعی فیصلہ ہے یا اس کے بارے میں وحی نازل ہوچکی ہے۔ تو پھر کسی مومن کے لیے یہ اختیار نہیں رہتا کہ وہ اس کے قبول کرنے میں تأمل کرے۔ لیکن دوسری نوعیت یہ ہے کہ یہ معلوم ہوجائے کہ آپ ﷺ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ وحی نہیں ہے بلکہ حضور ﷺ کی رائے یا تجویز ہے جس پر اپنی رائے پیش کی جاسکتی ہے۔ چناچہ ایسے مواقع پر صحابہ ( رض) نے ہمیشہ اپنی آراء پیش کیں اور مشورے دیے۔ جنگ بدر میں لشکر کے پڑائو ڈالنے کے موقع پر اور پھر قیدیوں سے فدیہ لینے کے معاملے میں اور بھی بعض مواقع پر صحابہ نے آپ کی رائے کے خلاف اپنی آراء دیں اور بعض دفعہ آنحضرت ﷺ نے کسی کی رائے کو قبول بھی فرما لیا۔ اس معاملے کی نوعیت بھی ایسی تھی۔ اگر یہ معلوم ہوتا کہ اس بارے میں وحی آچکی ہے یا آنحضرت ﷺ کا یہ قطعی فیصلہ ہے تو حضرت زینب اور آپ ﷺ کے خاندان کے لوگ اسے ماننے میں کبھی تأمل نہ کرتے، جیسا کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد انھوں نے فوراً اسے قبول کرلیا۔
آیت کے حکم میں عموم
دوسری بات یہ ہے کہ یہ آیت اگرچہ حضرت زینب کے نکاح کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس میں جو حکم بیان فرمایا گیا ہے وہ اس واقعہ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اسلامی آئین کا اصل الاصول ہے اور اس کا اطلاق پورے نظام زندگی پر ہوتا ہے۔ کوئی مسلمان انفرادی طور پر، یا مسلمان قوم اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے فیصلے سے اختلاف کا حق نہیں رکھتے۔ کسی ادارے، عدالت، پارلیمنٹ یا ریاست کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ جس معاملے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی حکم ثابت ہو اس میں وہ خود اپنی آزادیِ رائے کا استعمال کرے۔ مومن اور مسلمان ہونے کا مطلب ہی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے آگے اپنے آزادانہ اختیار سے دستبرداری اختیار کرنا ہے۔ جو شخص ایمان کا دعویٰ بھی رکھتا ہے اور جو قوم اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتی ہے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ اور رسول کے مقابلے میں اپنے اختیار کا دعویٰ بھی کرتی ہے، یہ دراصل ایک متضاد چیز کا دعویٰ ہے جس کا کبھی تحقق نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول کے فیصلے کے بعد کسی کا یہ اختیار باقی نہیں رہتا کہ وہ اس کی تعمیل میں سخن سازی سے کام لے یا تعمیل سے پہلوتہی کرے۔ اور جو شخص بھی ایسا کرے گا وہ صریح گمراہی میں جا پڑا۔ اب اس کا اسلامی ہدایت سے کوئی رشتہ نہیں۔