33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsروح القرآن

Ayahs 33:66–68

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹے پلٹے جائیں گے وہ کہیں گے اے کاش ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور ہم نے رسول کی اطاعت کی ہوتی

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے اے ہمارے رب، ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی تو انھوں نے ہمیں راستے سے گمراہ کردیا

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اور اے ہمارے رب، انھیں دونا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت فرما

یَوْمَ ثُقَلَّبُ وُجُوْھُھُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰـلَیْتَنَـآ اَطَعْنَا اللّٰہ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلاَ ۔ وَقَالُوْا رَبَّنَـآ اِنَّـآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَکُبَرَآ ئَ نَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلاَ ۔ رَبَّنَـآ اٰتِھِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْھُمْ لَعْنًا کَبِیْرًا۔ (الاحزاب : 66 تا 68) (جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹے پلٹے جائیں گے وہ کہیں گے اے کاش ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور ہم نے رسول کی اطاعت کی ہوتی۔ اور وہ کہیں گے اے ہمارے رب، ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی تو انھوں نے ہمیں راستے سے گمراہ کردیا۔ اور اے ہمارے رب، انھیں دونا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت فرما۔ ) کفار کا اظہارِحسرت ایسے لوگ جنھوں نے نبی کریم ﷺ کی دعوت کے بنیادی حقائق کو مذاق اور استہزاء بنا رکھا ہے جس کے نتیجے میں یہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مورد بنتے ہیں قیامت کے دن انھیں جس عذاب سے دوچار ہونا ہے اس کی ایک جھلک دکھاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ان کے چہرے آگ پر الٹے پلٹے جائیں گے۔ یعنی جس طرح گوشت کو آگ پر بھونتے ہیں تو اسے کبھی ایک جانب سے بھونتے ہیں کبھی دوسری جانب سے۔ یہی گت ان کی بھی بننے والی ہے۔ یہ دوزخ میں چہروں کے بل پھینکے جائیں گے اور انھیں گھسیٹتے ہوئے کبھی ایک پہلو پر آگ میں ڈالا جائے گا اور کبھی دوسرے پہلو پر۔ جس سے عذاب کی شدت بھی نمایاں ہوگی اور جس میں تذلیل کا سامان بھی ہوگا۔ لیکن چہروں کے ذکر سے یہ مقصود نہیں کہ صرف ان کے چہرے داغے جائیں گے بلکہ اس سے مقصود یہ ہے کہ چہرہ عذاب کی گرفت میں سب سے پہلے اس لیے آئے گا کہ جب کوئی شخص حق سے اعراض کرتا ہوا رعونت کا اظہار کرتا ہے تو اس کا اثر سب سے زیادہ چہرے ہی سے نمایاں ہوتا ہے۔ تو سزا چونکہ حق سے اعراض ہی کی ملے گی اس لیے جسم کا وہ حصہ سب سے پہلے ماخوذ ہوگا جس میں اعراض کی زیادہ علامات موجود ہوں گی۔ اور مزید یہ بات بھی کہ چہرہ انسانی اعضاء میں سب سے زیاد شرف کا حامل ہے۔ اور بعض دفعہ اس سے پوری شخصیت مراد ہوتی ہے۔ تو جب چہرے سے قیامت کے دن یہ سلوک ہوگا تو باقی اعضاء ظاہر ہے کہ اس عذاب سے کیونکر بچ سکیں گے۔ گویا کہ ہر مجرم کی پوری شخصیت آگ میں اس طرح الٹی پلٹی جائے گی جیسے تکے کباب بھونے جاتے ہیں۔ اس سخت ترین عذاب کا سامنا کرتے ہوئے وہ نہایت حسرت سے پکاریں گے کہ اے کاش ہم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی۔ اور زندگی کو ان کے احکام کے مطابق گزارا ہوتا تو آج ہمیں اس ہولناک انجام سے دوچار نہ ہونا پڑتا۔ اور مزید وہ اس بات کی دہائی دیں گے کہ پروردگار ہم اپنی گمراہی کے خود تنہا ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ ہماری گمراہی کا اصل سبب ہمارے وہ سردار ہیں جنھیں ہم نے اپنا رہنما بنایا تھا اور ان پر اعتماد کرتے ہوئے ان کی ہر بات کو اپنے لیے واجب العمل سمجھا۔ اسی طرح ہمارے وہ بڑے لوگ ہیں جو ہماری برادریوں کے سردار اور ہمارے مذہبی پیشوا کہے جاتے تھے۔ ہم نے اپنی برادریوں کے سرداروں کو اپنا ہمدرد و غمگسار سمجھ کر ان کی ہر بات کو آویزہ گوش بنایا اور اپنے مذہبی پیشوائوں کو آخرت میں اپنا شفیع سمجھتے ہوئے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دیا۔ اور انھوں نے آخرت کی کامیابی کے لیے جو نصیحتیں کیں ہم نے انھیں پلے باندھ لیا۔ لیکن یہ آج پتہ چلا کہ انھوں نے ہمیں راستے سے بھٹکایا اور گمراہ کیا۔ الٰہی ! تو ان ظالموں کو ہم سے دونا عذاب دے۔ کیونکہ وہ اپنی گمراہی کے ساتھ ساتھ ہماری گمراہی کے بھی ذمہ دار ہیں۔ اور ان پر بہت بڑی لعنت کا کوڑا برسا۔ کیونکہ ان کی وجہ سے ہم لعنت کے سزاوار ٹھہرے۔ پروردگار نے ان کے جواب میں اس آیت کریمہ میں کچھ نہیں فرمایا۔ لیکن سورة الاعراف آیت 38 میں ارشاد فرمایا ہے کہ تابع اور متبوع، خادم اور مخدوم، رہنما اور پیچھے چلنے والے سب کو دونا عذاب دیا جائے گا۔ کیونکہ حق و باطل میں امتیاز کے لیے ہم نے عقل دونوں کو عطا کی تھی۔ اور خیر و شر کا شعور دونوں کو دیا کیا گیا تھا۔ اگر گمراہ کرنے والوں نے اپنی عقل کو غلط مقصد کے لیے استعمال کیا تو پیچھے چلنے والوں نے بھی اپنے عقل و شعور کو بالائے طاق رکھ کر ان کی پیروی کی۔ تو جو شخص بھی آنکھیں بند کرکے اپنی باگ ڈور دوسروں کے ہاتھ میں پکڑا دے گا اس کا حشر بھی وہی ہوگا جو گمراہ کرنے والوں کا ہوگا۔
Ayah 33:69

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ بن جائو جنھوں نے موسیٰ کو ایذا پہنچائی، تو اللہ نے انھیں ان باتوں سے بری کردیا جو وہ لوگ کہتے تھے اور وہ اللہ کے نزدیک باوقار تھا

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَـکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا ط وَکَانَ عِنْدَاللّٰہِ وَجِیْھًا۔ (الاحزاب : 69) (اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جنھوں نے موسیٰ کو ایذا پہنچائی، تو اللہ نے انھیں ان باتوں سے بری کردیا جو وہ لوگ کہتے تھے اور وہ اللہ کے نزدیک باوقار تھا۔ ) مسلمانوں کی تین قسمیں مسلمان کہلانے والوں میں تین طرح کے لوگ شامل تھے۔ 1 نہایت مخلص مسلمان، 2 ضعیف الایمان لوگ 3 منافقین۔ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاسے ہر طرح کے مسلمانوں کو خطاب کیا جاتا ہے۔ البتہ سیاق وسباق سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں مسلمانوں کی کون سی قسم مراد ہے۔ ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ ان تینوں قسم کے مسلمانوں کے لیے الگ الگ الفاظ استعمال کیوں نہیں کیے گئے جس سے آسانی سے اندازہ ہوجاتا کہ یہاں فلاں قسم کے مسلمان مراد ہیں۔ لیکن جو شخص بھی تدبر کرے گا اسے یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ تربیت کے نقطہ نگاہ سے کمزوریوں کی طرف اشارے کرنا تو مفید ہوتا ہے لیکن کمزوریوں کو نمایاں کرنا یا کمزوریوں کے حامل لوگوں کو متعارف کرانا ہمیشہ نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ ایک ہی جیسے الفاظ سے سب کو خطاب سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ مخلص مسلمان دوسروں کی کمزوریوں پر توجہ دینے لگتے ہیں۔ اور ضعیف الایمان لوگوں کو اپنی کمزوری کو دور کرنے کی فکر لاحق ہوجاتی ہے۔ اور منافقین یہ جان کر محتاط ہوجاتے ہیں کہ ہم سے چشم پوشی کی جارہی ہے لیکن معاملہ کسی وقت بھی دگرگوں ہوسکتا ہے۔ پیشِ نظر آیت کریمہ میں معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو توجہ دلانا مقصود ہے کہ جن کے اندر نفاق کے جراثیم تو نہیں لیکن ابھی تک ایمان میں وہ پختگی نہیں آئی جس سے نفاق اور کفر مایوس ہوجاتا ہے۔ اور ابھی تک وہ منافقین کی باتیں توجہ سے سنتے ہیں اور بعض دفعہ ان کا اثر بھی قبول کرتے ہیں۔ چناچہ ان سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین میں جس طرح اللہ تعالیٰ سے ایسی وابستگی ضروری ہے جو شرک کی ہر آلائش سے پاک ہو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے رسول سے ایسی محبت اور عقیدت لازم ہے جس پر بدگمانیوں کا سایہ نہ پڑ سکے۔ کیونکہ قافلہ حق کے آگے بڑھنے کے لیے یہ بات ازبس ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رسول ان کے لیے اسوہ بھی ہو اور اس کی حیثیت قلب و دماغ کی ہر پرواز سے بلند بھی ہو، ورنہ اس کی مرجعیت اور محبت و عقیدت کو ہمیشہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ چناچہ ہر دور کے منافقین اور دشمنانِ دین نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے معاملے میں ایمان لانے والوں کی یکسوئی کو پراگندہ کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ یہود نے ایسی ہی حرکتوں سے ہمیشہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پریشان کرنے کی کوشش کی۔ اور جو لوگ تعلیم و تربیت کے لیے آپ کے زیادہ قریب ہوتے تھے انھیں یکسو ہونے سے روکنے کے لیے عجیب و غریب بدگمانیوں اور اتہامات سے کام لیا جاتا تھا۔ حالانکہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری بنی اسرائیل کی قسمت بدلنے کا باعث ہوئی ہے اور یہ بھی آپ کے احسانات کی برکت تھی کہ وہ ایک نئی قومی زندگی سے آشنا ہوئے۔ ورنہ ان کا انجام بھی مصر میں وہی ہوتا جو ہندوستان میں شودروں کا انجام ہوا۔ باایں ہمہ ان کے اندر ہمیشہ مفسدوں کا ایک گروہ موجود رہا جس نے ہمیشہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کے لیے مسائل پیدا کیے۔ مسلمانوں کو ان کی مثال دے کر یہ سمجھایا گیا ہے کہ تمہیں بنی اسرائیل سے کہیں زیادہ ذمہ داریوں سے گراں بار کیا گیا ہے۔ تمہارے اندر ابھی تک منافقین کا ایک گروہ موجود ہے جو وقتاً فوقتاً کمزور مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لیے مختلف قسم کی باتیں اڑاتا رہتا ہے۔ تمہیں بہرصورت بنی اسرائیل کے طرز عمل سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور آنحضرت ﷺ کے معاملے میں اس طرزعمل کو کبھی قریب نہ آنے دینا چاہیے جس نے بنی اسرائیل کو اجتماعی طور پر نقصان پہنچایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پہنچائی جانے والی بعض اذیتوں کا تذکرہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو اذیتیں پہنچائی ہیں، قرآن کریم نے ایک سے زیادہ دفعہ ان کا ذکر فرمایا ہے۔ اور تورات نے بعض ایسے واقعات کا ذکر بھی کیا ہے جس سے بنی اسرائیل کے اس مجموعی طرزعمل کا اندازہ ہوتا ہے جو وہ مختلف وقتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختیار کرتے رہے۔ کسی بھی غلام قوم کو غلامی کی زنجیریں توڑنے کے لیے جس قدر محنت کرنا پڑتی اور قربانیاں دینا پڑتی ہیں تاریخ کے مختلف ادوار اس پر شاہد ہیں۔ بالخصوص ایسی قوم جو آزادی کی خواہش اور اولولعزمی کی امنگ سے محروم ہوچکی ہو اس میں ازسرنو آزادی کی خوبو پیدا کرنا صوراسرافیل پھونکنے سے کم نہیں ہوتا۔ اور جو لوگ اقتدار پہ قابض ہوتے ہیں وہ کبھی کسی ایسے رہنما کو پنپنے نہیں دیتے جس کے اندر انھیں ایک آزادی پسند رہنما کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب انھیں قومی شعور سے بہرہ ور کرنے کی کوشش کی اور دشمن نے اسے سونگھتے ہوئے ان راستوں پر پہرہ بٹھایا جو راستے عرفانِ ذات اور حفظ خودی کی طرف لے جاتے ہیں تو بنی اسرائیل نے بجائے کسی جذبے کے اظہار کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوسنا شروع کردیا کہ اس شخص کی بدولت ہم اس کی پیدائش سے پہلے بھی مصیبتوں میں مبتلا رہے اور اس کی پیدائش کے بعد بھی ہدف مصائب بنے ہوئے ہیں۔ اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اپنی قوم کو ملک مصر سے لے کر نکلے اور مصریوں نے ان کا تعاقب کیا تو قوم نے بڑبڑانا شروع کردیا کہ دیکھو اس شخص نے کہاں لا کر ہمیں مروانے کا سامان کیا ہے۔ حتیٰ کہ بحرقلزم کے کنارے پہنچ کر جب سامنے سمندر کی اٹھتی ہوئی موجیں دکھائی دیں اور خبر ملی کہ فرعون کی فوجیں چڑھی چلی آرہی ہیں تو بجائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور قومی توانائی کا ثبوت دیتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کا ساتھ دیتے، انھوں نے چیخنا شروع کردیا کہ ہم تو پکڑ لیے گئے۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو الزام دیا کہ تم ہمیں چوہوں کی طرح مروانے کے لیے یہاں لے آئے ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) صحرائے سینا میں کوہ طور پر تورات لینے کے لیے گئے، تو ان کے سرداروں نے کہنا شروع کردیا کہ یہ شخص ہمیں چھوڑ کر نہ جانے کہاں چلا گیا ہے، وہ اب آنے والا نہیں۔ چناچہ انھوں نے سامری سے ایک بچھڑا بنوایا اور اس کی پرستش شروع کردی۔ قارون نے باقاعدہ آپ کے خلاف محاذ قائم کرلیا۔ ایک پیشہ ور فاحشہ کو آپ پر الزام لگانے کے لیے خریدا اور اجتماعِ عام میں لے آیا۔ اور ایک ہنگامہ کھڑا کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اسے سزا دی اور زندہ حالت میں زمین میں دھنسا دیا۔ مختصر یہ کہ بنی اسرائیل نے ہر ایسے موقع پر جہاں ان سے کسی قربانی کا مطالبہ کیا گیا ہمیشہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مطعون کیا۔ چاہے وہ غذائی قلت کا معاملہ ہو یا پانی کی کمیابی کا، کسی شہر پر حملہ کرنے کا حکم ہو یا راہ حق میں سرفروشی کا، انھوں نے ہر موقع پر نہایت کمزوری دکھائی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی کمزوریوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ چناچہ مسلمانوں کو اس قوم کی تاریخ سے سبق سیکھنے کا حکم دیا جارہا ہے کیونکہ اس وقت بنی اسرائیل ہی ایک ایسی قوم تھے جو صدیوں تک حامل دعوت امت کی حیثیت سے نشیب و فراز کے مختلف مراحل سے گزرتی ر ہی ہے۔ لیکن انھوں نے چونکہ اپنی کمزوریوں پر قابو نہ پایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول پر وہ اعتماد پیدا نہ کرسکے جو کسی بھی حامل دعوت امت کو اپنا فرض انجام دینے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ بلاشبہ قربانی و ایثار اور آنحضرت ﷺ سے محبت و عقیدت کے حوالے سے مسلمانوں کی تاریخ نہایت قابل فخر ہے لیکن ان کو جس عظیم ذمہ داری سے گراں بار کیا گیا ہے اس کے پیش نظر کوئی معمولی کوتاہی بھی امت کو ایک بڑے صدمے سے دوچار کرسکتی تھی۔ اس لیے جب کبھی کوئی ایسا واقعہ پیش آیا تو نبی کریم ﷺ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد فرمایا، اور ان کے حوالے سے امت کو متنبہ کیا کہ یہ کمزوریاں ہمیشہ قوموں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ چناچہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ مسلمانوں میں کچھ مال تقسیم فرما رہے تھے۔ اس مجلس سے جب لوگ باہر نکلے تو ایک شخص نے کہا محمد ﷺ نے اس تقسیم میں خدا اور آخرت کا کچھ بھی لحاظ نہ رکھا۔ یہ بات حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) نے سن لی، اور جا کر آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ آج اس طرح کی باتیں کہی گئی ہیں۔ آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا رحمۃ اللّٰہ علی موسیٰ فانہ اوذی باکثرمن ھذا فصبر ” اللہ کی رحمت ہو موسیٰ پر انھیں اس سے زیادہ اذیتیں دی گئیں، انھوں نے صبر کیا۔ “ (مسند، احمد، ترمذی، ابودائو) فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا ط وَکَانَ عِنْدَاللّٰہِ وَجِیْھًا ” پس اللہ نے موسیٰ کو ان باتوں سے بری کردیا جو لوگ ان کے بارے میں کہتے تھے۔ ، وہ اللہ کے نزدیک بڑا با وقار تھا۔ “ یعنی تبلیغ و دعوت اور تعلیم و تربیت کے دوران منافقین اور دشمنانِ دین مسلمانوں کی ذہنی یکسوئی کو ختم کرنے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی مرکزیت کو نقصان پہنچانے کی ہمیشہ کوشش کرتے ہیں۔ اور ایسی ہی کوششیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی ہوتی رہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ اپنے پیغمبروں کو ہمیشہ بےگناہ ثابت کرتا ہے اور ہر تہمت کے مقابلے میں ان کی سچائی، نیک نیتی اور راست بازی کو آشکار کردیتا ہے۔ اور دشمن ہمیشہ ان کے مقابلے میں ذلیل اور رسوا ہوتے ہیں۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی طرح ہر الزام سے پاک ثابت کیا۔ اور یا وہ گوئی کرنے والی زبانیں آخرکار بند ہوگئیں۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جس طرح اللہ تعالیٰ کے نزدیک باوقار اور عزت دار تھے، اسی طرح اپنی قوم میں سرخرو ٹھہرے اور تاریخ انھیں نہایت احترام سے یاد کرتی ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے بارے میں بھی اگر کچھ بدباطن ایسی ویسی باتیں اڑا کر منزل کھوٹی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو آخر وہ بھی ناکام ہوں گے اور اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اور آپ ﷺ کے پیغامِ حق کو باوقار ٹھہرائے گا اور سرفراز فرمائے گا۔ چناچہ اب صدیوں سے تاریخ اس حقیقت کی گواہی دے رہی ہے۔
Ayahs 33:70–71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا، اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تو اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی

یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُواللّٰہَ وَقُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْدًا۔ یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَـکُمْ وَیَغْفِرْلَـکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ط وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ فَقَدْ فَازَفَوْزًا عَظِیْمًا۔ (الاحزاب : 70، 71) (اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا، اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تو اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی۔ ) قومِ موسیٰ کے طرزعمل سے بچنے کے لیے دو ہدایات یہود کی یہ روش کہ وہ اپنے جلیل القدر پیغمبرکو کبھی اپنی باتوں سے ایذا پہنچاتے اور کبھی آپ کے احکام کی نافرمانی سے آپ کو دکھ دیتے۔ مسلمانوں کو اس طرزعمل سے بچنے کا حکم دیا گیا۔ اور پیش نظر آیت کریمہ میں وہ طریقہ بھی بتادیا گیا جس پر عمل کرنے سے اس مکروہ اور تباہ کن طرزعمل سے بچا جاسکتا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے دل پر احتساب کا پہرہ بٹھائیں۔ آپ کے دل میں ایمان کا نور کبھی مدہم نہ ہونے پائے۔ نیکی کی طرف میلان اور برائی سے نفرت روز بروز بڑھتی جائے۔ ہر کام کرنے سے پہلے نفع و ضرر کے حوالے سے کم، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے حوالے سے زیادہ غور و فکر کریں۔ اور دوسرا کام یہ کریں کہ اپنی زبان کو غلط استعمال سے بچائیں۔ جب بھی کسی بات کے کہنے کا موقع آئے تو اس پر صحیح، مناسب اور سچی بات کہیں۔ کوئی لالچ اور کوئی دبائو آپ کی زبان میں ٹیڑھ پیدا نہ کرسکے۔ معاملہ اپنے سے ہو یا بیگانے سے، حوالہ محبت کا ہو یا نفرت کا، زبان کی پاکیزگی پر خراش نہ آنے پائے۔ ان دو باتوں پر التزام کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری زندگی کے اعمال کو درست کردے گا۔ تمہارا کوئی عمل شریعت کے خلاف اور حکمت سے متصادم نہیں ہوگا۔ اور اگر کبھی کسی کمزوری کے باعث کوئی کمی بیشی ہو بھی گئی تو اللہ تعالیٰ معاف کردے گا۔ کیونکہ سہو ونسیان پر وہ کبھی نہیں پکڑتا۔ اور انسانی کمزوری کے تحت کیے ہوئے عمل پر بھی عموماً گرفت نہیں کرتا۔ مزیدبراں اس طرزعمل کا یہ نتیجہ بھی نکلے گا کہ تمہاری تقویٰ کی روش اور زبان کا صدق اللہ اور رسول کی اطاعت میں ڈھل جائے گا۔ اب تمہاری زندگی کا طرزعمل سمعنا وعصینا نہیں بلکہ سمعنا واطعنا بن کر رہ جائے گا۔ اور یہ وہ طرزعمل ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے فوزوفلاح کی ضمانت دی ہے جس کے نتیجے میں دنیا میں بھی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں بھی سرخروئی ملتی ہے۔
Ayahs 33:72–73

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

اور ہم نے اپنی امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی، تو انھوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈرے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا، بیشک وہ ظلم کرنے والا اور جذبات سے مغلوب ہوجانے والا ہے

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

تاکہ اللہ منافقین و منافقات اور مشرکین و مشرکات کو سزا دے، اور مومنین و مومنات کو اپنی رحمت سے نوازے، اور اللہ غفور رَّحیم ہے

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَھَا وَاَشْفَقْنَ مِنْھَا وَحَمَلَھَا الْاِنْسَانُ ط اِنَّـہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَھُوْلاً ۔ لِّیُعَذِّبَ اللّٰہُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْمُنٰـفِقٰتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکٰتِ وَیَتُوْبَ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ (الاحزاب : 72، 73) ( اور ہم نے اپنی امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی، تو انھوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈرے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا، بیشک وہ ظلم کرنے والا اور جذبات سے مغلوب ہوجانے والا ہے۔ تاکہ اللہ منافقین و منافقات اور مشرکین و مشرکات کو سزا دے، اور مومنین و مومنات کو اپنی رحمت سے نوازے، اور اللہ غفوررَّحیم ہے۔ ) اس آیت کریمہ کے مفاہیم کو صاحب تدبر قرآن نے نہایت خوبصورتی سے بیان کیا اور سلجھایا ہے۔ اور شکریئے کے ساتھ ان کی تحریر یہاں نقل کرتے ہیں : انسان کا اصل شرف اب یہ انسان کا اصل شرف واضح فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عہداطاعت کا امین ہے۔ یہ عہد، اختیا رو ارادہ کی آزادی پر مبنی ہے اس وجہ سے وہی اس کا سزاوار ٹھہرا۔ اس لیے کہ عہد کا اہل وہی ہوتا ہے جس کو اختیار و ارادہ کی آزادی حاصل ہو۔ جو مخلوقات مجبور و مقہور ہیں ان سے کسی عہدومیثاق کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے تمام ذُرِّیتِ آدم سے لیا ہے اور یہی عہد اس خلافت کی بنیاد ہے جو اس زمین میں آدم اور ذُرِّیتِ آدم کو حاصل ہوئی اور اسی خلافت کے مقتضیات کو بروئے کار لانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) سے اپنی ہدایت اور کتاب و شریعت نازل کرنے کا وعدہ فرمایا اور ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی فرمائی کہ جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے وہ جنت کے وارث ٹھہریں گے اور جو اس کی خلاف ورزی کریں گے وہ سب جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اسی وعدے کو پورا کرنے کے لیے اپنے نبی و رسول بھیجے جنھوں نے اپنی اپنی امتوں سے اس عہد اطاعت و بندگی کی تجدید کرائی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اس کے نتائج سے آگاہ کیا۔ اس عہد کی بنیاد چونکہ انسان کے ارادہ کی آزادی پر ہے اس وجہ سے اس کی حیثیت شمشیر دودم کی ہے۔ اگر انسان پنے ارادہ کی آزادی کے ساتھ اپنے رب کی بندگی کے عہد کو پورا کرے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے کوئی اونچا نہیں، اور اگر وہ اس عہد کو پورا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے خدا کی بخشی ہوئی سب سے بڑی عزت کو اپنے لیے سب سے بڑی ذلت بنا لیا۔ ہر عہد ایک امانت ہے اور ہر امانت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ اس کی بابت امانت رکھنے والا ایک دن پرسش کرے کہ اس کی امانت کا حق ادا کیا گیا ہے یا اس میں خیانت کی گئی ہے۔ یہ چیز ایک روزجزاء و سزا کو مستلزم ہوئی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ایک دن سب کو اکٹھا کرے گا اور ان کے اعمال کے ریکارڈ ان کے سامنے رکھ کر فیصلہ فرمائے گا کہ کون کافرو منافق ہیں جو دوزخ کے سزاوار ہیں اور کون مومن و مخلص ہیں جو جنت کے حقدار ہیں۔ اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَھَا وَاَشْفَقْنَ مِنْھَا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اطاعت بالاختیار کی یہ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے بھی پیش کی تھی لیکن وہ اس عظیم ذمہ داری کے اٹھانے سے ڈرے اور اپنی معذرت پیش کردی کہ ان کو اس بارگراں سے معاف رکھا جائے۔ آسمانوں و زمین اور پہاڑوں کی یہ معذرت زبان حال سے بھی ہوسکتی ہے اور زبان قال سے بھی۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی زبان حال و قال دونوں سمجھتا ہے۔ قرآن میں اس بات کی تصریح ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے لیکن ان کی تسبیح کو صرف اللہ تعالیٰ ہی سمجھتا ہے، دوسرے اس کو نہیں سمجھتے۔ اسی طرح ہر ذمہ داری کے تحمل کے لیے ایک خاص صلاحیت درکارہوتی ہے۔ اگر وہ صلاحیت موجود نہ ہو تو اس کا تحمل ممکن نہیں ہے۔ آپ ہر زمین میں ہر چیز کی کاشت نہیں کرسکتے۔ زمین کا ایک معمولی ٹکڑا آپ کے ایک تخم کا امین بن جاتا ہے اور وہ آپ کی امانت کو نہ صرف محفوظ رکھتا ہے بلکہ اس کو نشو و نما اور فروغ دیتا ہے۔ لیکن وہی تخم اگر آپ ایک وسیع سمندر، ایک عظیم پہاڑ یا ایک لق و دق صحرا میں ڈال دیں تو وہ اس کو نشو و نما نہیں دے سکتے بلکہ وہ تخم ضائع جائے گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر کسی چیز کے اندر ایک چیز کے قبول کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو وہ اس سے لازماً اِباء کرے گی۔ مثلاً ہماری آنکھ ایک خاص درجے کی روشنی کا تحمل کرسکتی ہے، اگر روشنی کی مقدار اس سے بڑھ جائے تو نگاہ خیرہ ہوجائے گی۔ اسی طرح ہمارا جسم ایک خاص درجے کی حرارت یا برودت برداشت کرسکتا ہے، اگر حرارت یا برودت اس سے زیادہ ہوجائے تو ہمارا جسم اس کو قبول کرنے سے اباء بھی کرے گا اور اس سے ڈرے گا بھی۔ ہمارے معدے میں خاص طرح کی چیزوں کے قبول کرنے کی صلاحیت ہے، اگر ہم ان کے سوا کوئی دوسری چیز اس میں ڈالنے کی کوشش کریں تو، خواہ بجائے خود وہ کتنی ہی قیمتی چیز ہو، معدہ اس کا متحمل نہیں ہوسکے گا۔ یہی حال آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کا، اس امانت کے معاملے میں ہوا۔ ان کے اندر اس کے اٹھانے کا ظرف نہیں تھا اس وجہ سے انھوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا۔ وَحَمَلَھَا الْاِنْسَانُ ۔ یہ انسان کا شرف بیان ہوا ہے کہ جس بارامانت کو آسمان و زمین، دریا اور پہاڑ نہ اٹھا سکے اس کو انسان نے اٹھا لیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان اگرچہ اپنے وجود مادی کے اعتبار سے اس کائنات کی ایک نہایت حقیر ہستی ہے لیکن اپنی معنوی صلاحیتوں کے اعتبار سے آسمانوں سے اونچا، زمین سے وسیع اور پہاڑوں سے زیادہ مضبوط و سربلند ہے۔ چناچہ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز اس کے لیے مسخر کی گئی لیکن وہ کسی کے لیے بھی مسخر نہیں کیا گیا بلکہ رب کائنات کے سوا کسی کے آگے اس کا جھکنا اس کے لیے باعث ننگ قرار پایا۔ اِنَّـہٗ کَانَ خَلُلْوْمًا جَھُوْلاً ۔ یہ انسان کی اس صلاحیت کی طرف اشارہ ہے جس کی بنا پر وہ اس امانت کا اہل قرار پایا۔ وہ یہ ہے کہ یہ امانت مقتضی تھی کہ انسان کے اندر متضاد داعئے موجود ہوں تاکہ اس کی آزمائش ہوسکے کہ وہ اس متضاد داعیوں کی کشاکش کے اندر اپنے رب کی اطاعت بالاختیار کے عہد کو کس طرح نباہتا اور اس کی ذمہ داریوں سے کس طرح عہدہ برآ ہوتا ہے۔ چناچہ وہ ظلوم و جہول بنایا گیا۔ ظلم، عدل و حق کا ضد ہے اور جہل، علم اور حلم کا ضد ہے۔ ظلوم، اس کو کہیں گے جو عدل و حق کا شعور رکھتے ہوئے ظلم کا مرتکب ہونے والا ہو۔ اسی طرح جہول، اس کو کہیں گے جو علم و حلم کی صلاحیت کے باوصف جہل اور جذبات سے مغلوب ہوجانے ولا ہو۔ یہی کشاکش انسان کی آزمائش ہے اور یہی اس کے تمام شرف کی بنیاد ہے۔ اگر وہ ظلم کی راہ اختیار کرنے کی آزادی رکھنے کے باوجود محض اپنے رب کی رضا کی خاطر عدل کی راہ پر استوار رہتا ہے اور اپنے سفلی جذبات کے اتباع کی آزادی کے باوجود، محض اپنے رب کے خوف سے، اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہے تو لاریب اس کا مرتبہ فرشتوں سے بھی اونچا ہوا۔ اس لیے کہ ان کو خدا کی بندگی کی راہ میں کسی کشمکش سے دوچار ہونا نہیں پڑتا۔ ان کا راستہ بالکل ہموار اور ان کا مزاج ظلم و جہل کے دواعی سے بالکل ناآشنا ہے لیکن انسان اگر بندگی کرتا ہے تو ہر قدم پر وہ اپنے نفس و شیطان سے لڑ کر کرتا ہے۔ اس وجہ سے اس کی بندگی فرشتوں کی بندگی سے اونچی ہے۔ علیٰ ہذا القیاس انسان اپنے اس اختیار کے سبب سے جس طرح سب سے زیادہ اونچا ہے اسی طرح وہ سب سے زیادہ نیچا بھی ہوجائے گا اگر وہ اپنے اس اختیار کی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا نہ کرسکے۔ یہی حقیقت سورة تین میں اس طرح واضح فرمائی گئی ہے۔ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمِ 5 ز ثُمَّ رَدَدْنَـہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ 5 لا اِلاَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (4۔ 6) (اور ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا، پھر اس کو اسفل سافلین میں گرا دیا، البتہ وہ لوگ اس سے محفوظ رہے جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے) حاملِ امانت ہونے کا لازمی نتیجہ لِیُعَذِّبَ اللّٰہُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکٰتِ وَیَتُوْبَ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًرَّحِیْمًا۔ یہ نتیجہ بیان ہوا ہے اس امانت کا کہ اس کا لازمی اقتضاء یہ ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں انسان اس امانت سے متعلق مسٔول ہو کہ اس نے اس کا حق ادا کیا یا نہیں۔ تاکہ وہ لوگ جنھوں نے اس کے معاملے میں منافقت کی روش اختیار کی ہو یا شرک کے مرتکب ہوئے ہوں وہ اپنی اس خیانت و بدعہدی کی سزا بھگتیں، خواہ مرد ہوں یا عورتیں اور وہ لوگ جنھوں نے رسوخ ایمان کے ساتھ اس کا حق ادا کیا ہو وہ اپنے رب کی رحمت کے سزاوار ٹھہریں، عام اس سے کہ وہ مردوں میں سے ہوں یا عورتوں میں سے۔ ہم دوسرے مقام میں یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ ” توبہ “ کا صلہ جب ” علیٰ “ کے ساتھ ا آتا ہے تو ” رحم “ کے مفہوم پر بھی متضمن ہوجاتا ہے۔ اس وجہ سے یہ اہل ایمان کے لیے بشارت ہے کہ ہرچند یہ ذمہ داری ہے تو بہت بھاری لیکن اللہ تعالیٰ غفوررحیم ہے۔ اس نے اپنے باایمان بندوں اور بندیوں کے لیے توبہ کی راہ بھی کھلی رکھی ہے۔ اگر وہ اپنی کسی کمزوری کے سبب سے کسی ظلم یا جہل کے مرتکب ہوں گے اور پھر توبہ کرلیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرکے ان پر رحم فرمائے گا۔