33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsروح القرآن

Ayah 33:12

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے کہنے لگے کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدے کیے وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے

وَاِذْیَـقُوْلُ الْمُنٰـفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ مَّاوَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُـہٗٓ اِلاَّ غُرُوْرًا۔ (الاحزاب : 12) (یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے کہنے لگے کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدے کیے وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے۔ ) منافقین کی ریشہ دوانیاں کفار کی متحدہ طاقت نے مسلمانوں پر یلغار کرکے جو انتہائی نازک صورتحال پیدا کردی تھی جس کا شدید اثر مسلمانوں پر تھا اور مسلمان اس خطرے کا دفاع کرتے ہوئے بری طرح جھنجھوڑ دیے گئے تھے، اسی کیفیت کو مزید واضح کرتے ہوئے پریشانی کے اسباب میں سے ایک اور سبب کا ذکر فرمایا جارہا ہے وہ یہ کہ جن فوجی قوتوں نے مدینے کا محاصرہ کر رکھا تھا وہ تو جیسا کچھ پریشانی کا سبب تھیں ظاہر ہے لیکن مزید ایک سبب یہ تھا کہ خود مسلمانوں کے اندر مدینہ کے لوگوں میں سے ایسے لوگ بھی تھے جن کا تعلق اسلام کے ساتھ مخلصانہ نہ تھا۔ شہر پر چونکہ اسلام کی حکومت قائم ہوچکی تھی اس لیے ان منافقین کے لیے کھلے عام کوئی کارروائی کرنا ممکن نہ تھا۔ اس لیے وہ مارے باندھے مسلمانوں کے ساتھ ہر مہم میں شریک ہوتے رہے۔ اب بھی وہ بظاہر خندق کے مورچوں میں بیٹھے شہر کا دفاع کررہے تھے۔ لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ محاصرہ طول پکڑتا جارہا ہے اور بنوقریظہ نے بھی مسلمانوں سے کیا ہوا دفاعی عہد توڑ ڈالا ہے تو اب ان کی زبانیں کھلنے لگیں اور ان کے اندر کا بغض زبانوں پر آنے لگا۔ ان میں دو گروہ تھے ایک تو وہ گروہ تھا جو دشمنی کے جذبات تو نہیں رکھتا تھا لیکن اس کے اندر ضعف عزم و ارادہ کا مرض پایا جاتا تھا۔ انھوں نے بھی جب حالات میں انقلاب دیکھا تو ان کا کمزور ایمان مزید تزلزل کا شکار ہوا۔ ان کو قرآن کریم نے یہاں منافقین کے نام سے یاد کیا ہے۔ دوسرا گروہ وہ تھا جو دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کینہ و حسد اور بغض وعناد بھی رکھتا تھا۔ ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ان کے دلوں میں مرض ہے۔ مراد اس سے حسد اور بغض ہے۔ انھوں نے دوسرے مسلمانوں میں حوصلے پست کرنے کے لیے کہنا شروع کردیا کہ ہم سے وعدے تو قیصروکسریٰ پر غلبے کے کیے جاتے تھے اور یہاں حال یہ ہے کہ گھر سے قضائے حاجت کے لیے نکلنا بھی مشکل ہورہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم سے جو وعدے کیے جارہے تھے کہ تمہیں ایمان کے نتیجے میں دنیا و آخرت میں فلاں فلاں نعمتوں سے بہرہ ور کیا جائے گا وہ فریب سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ یہ صورتحال مخلص مسلمانوں کے لیے بیرونی دشمنوں سے کم تکلیف دہ نہ تھی۔
Ayah 33:13

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

جبکہ ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے یثرب کے لوگو ! تمہارے لیے اب ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں، پس تم لوٹ جائو، اور ان میں سے ایک گروہ نبی کریم ﷺ سے اجازت کا طلبگار تھا اور وہ کہتا تھا کہ ہمارے گھر غیرمحفوظ ہیں حالانکہ وہ غیرمحفوظ نہ تھے، بس یہ لوگ بھاگنا چاہتے تھے

وَاِذْقَالَتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ یٰٓـاَھْلَ یَثْرِبَ لاَ مُقَامَ لَـکُمْ فَارْجِعُوْا ج وَیَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْـھُمُ النَّبِیَّ یَـقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَۃٌ ط وَمَا ھِیَ بِعَوْرَۃٍ ج اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلاَّفِرَارًا۔ (الاحزاب : 13) (جبکہ ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے یثرب کے لوگو ! تمہارے لیے اب ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں، پس تم لوٹ جاؤ، اور ان میں سے ایک گروہ نبی کریم ﷺ سے اجازت کا طلبگار تھا اور وہ کہتا تھا کہ ہمارے گھر غیرمحفوظ ہیں حالانکہ وہ غیرمحفوظ نہ تھے، بس یہ لوگ بھاگنا چاہتے تھے۔ ) منافقینِ اعراب کا رویہ منافقین کی معاندانہ کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے مزید فرمایا ہے کہ ان ہی میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو دوسرے منافقین سے یہ کہتا تھا کہ بیرونی دشمنوں کے محاصرے اور اندرونی دشمن کی تائید سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ تم دیکھ رہے ہو، اب مدینے کا دفاع تو ایک خواب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اب تو اپنے بچائو کی فکر کرنی چاہیے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ محاذ جنگ سے نکلنے کی کوشش کرو اور واپس اپنے گھروں میں پہنچ جاؤ۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ملفوف انداز میں یہ بات کہہ رہے ہوں کہ تم نے جو اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اسے اتار پھینکو۔ اب اپنے آبائی مذہب کی طرف پلٹ جاؤ۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوجائے گا کہ ہم مدینے پر حملہ آوروں کے انتقام سے بچ جائیں۔ کیونکہ جب انھیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم دل سے ان کے خیرخواہ تھے تو وہ یقینا ہم سے تعرض نہیں کریں گے۔ بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ منافقین کا یہ گروہ مدینے کے رہنے والے لوگوں میں سے نہ تھا، بلکہ ان کا تعلق مدینہ کے قرب و جوار کے دیہات سے تھا اور یہ وہ لوگ ہیں جنھیں عام طور پر اعراب کہا جاتا ہے۔ ان میں ایک اچھی خاصی تعداد کٹڑ منافقین کی تھی جو اسلام کی سیاسی طاقت سے مرعوب ہو کر مسلمانوں ہونے کے مدعی تو بن بیٹھے تھے لیکن انھیں اصل دلچسپی صرف اپنے مفادات سے تھی۔ سورة الحجرات میں قرآن کریم نے ان ہی کا ذکر کیا ہے۔ یہ عموماً غزوات میں شرکت سے حیلے بہانے سے دور رہتے۔ اور اگر کبھی نمائش کے طور پر کسی جنگ میں شریک ہوتے بھی تو انھیں اسلام سے زیادہ اسلام کے دشمنوں سے رسم و راہ رکھنے کی فکر رہتی تھی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے۔ ان کا مدینے والوں کو اہل یثرب کہہ کر پکارنا اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ خود یثرب کے رہنے والے نہ تھے۔ ممکن ہے یہ بات صحیح ہو۔ لیکن جو بات ہم نے پہلے عرض کی ہے کہ یہ لوگ بھی مدینے ہی کے عام منافقین سے تعلق رکھتے تھے وہ بھی غلط نہیں۔ رہا ان کا اہل یثرب کہنا تو یہ درحقیقت ان کے بغض کا اظہار اور ان کی دوربینی کی علامت ہے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ یثرب کو اللہ تعالیٰ کے رسول نے مدینہ بنایا ہے۔ جب یہاں دشمنوں کا غلبہ ہوجائے گا تو یہ مدینہ پھر یثرب ہوجائے گا۔ اس لیے آنے والے دنوں کی تصویر دکھاتے ہوئے انھوں نے اپنے منافق بھائیوں کو اہل یثرب کہہ کر پکارا۔ اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ یہ بات صرف منافقین ہی سے نہیں بلکہ مسلمانوں سے بھی کہتے ہوں کہ حالات کے تیور کو پہچانو، دشمنوں کی اس دَل بادل فوج کے مقابل میں تمہارے لیے ٹھہرنا ممکن نہیں۔ اس لیے اب مزید محاذآرائی اپنے آپ کو تباہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ بہتر ہے کہ اپنے اس ارادے سے واپس آجاؤ۔ اور محاذ جنگ چھوڑ کر اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ، اس طرح سے ہوسکتا ہے دشمن تمہارے ساتھ کچھ نرم معاملہ کرے۔ منافقین کا عذرلنگ ان منافقین نے جب یہ دیکھا کہ بنوقریظہ نے عہدشکنی کی ہے اور ہمارے گھر چونکہ ان کی گڑھیوں کے قریب ہیں اور ہم نے انھیں کے اعتماد پر اپنے بچوں اور عورتوں کو ادھر بھیج رکھا ہے، اب اس نئی صورتحال میں ہمارے گھر بالکل غیرمحفوظ ہوگئے ہیں، تو انھوں نے نبی کریم ﷺ سے گھروں کے غیرمحفوظ ہونے کا حوالہ دے کر اجازت طلب کرنا شروع کردی۔ حالانکہ پورے شہر کا دفاع نبی کریم ﷺ کی ذمہ داری تھی اور اس میں وہ گھر بھی شامل تھے جو یہود کے ہمسائے میں تھے۔ حضور ﷺ نے اس نئی صورتحال کے مطابق ان گھروں کی حفاظت کے لیے فوراً کچھ مخلص مسلمانوں کو مقرر کردیا تھا۔ اس لیے یہ ان کا عذر صحیح عذر نہ تھا بلکہ بھاگ نکلنے کا ایک بہانہ تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے کہا کہ ان کے گھر غیرمحفوظ نہیں ہیں، وہ صرف بھاگنے کی فکر میں ہیں تاکہ اپنے گھروں میں پہنچ کر ایک تو وہ اپنے تئیں خطرے سے محفوظ ہوجائیں گے اور دوسرا انھیں دشمنوں سے سازباز کرنے کا موقع بھی مل جائے گا۔
Ayah 33:14

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر شہر کے اطراف سے ان پر حملہ ہوجاتا ہے اور اس وقت انھیں فتنے کی طرف دعوت دی جاتی تو یہ اس میں جا پڑتے، اور اس میں بہت ہی کم توقف کرتے

وَلَوْدُخِلَتْ عَلَیْہِمْ مِّنْ اَقْطَارِھَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَۃَ لَاٰ تَوْھَا وَمَا تَلَبَّثُوْا بِھَآ اِلاَّ یَسِیْرًا۔ (الاحزاب : 14) (اور اگر شہر کے اطراف سے ان پر حملہ ہوجاتا اور اس وقت انھیں فتنے کی طرف دعوت دی جاتی تو یہ اس میں جا پڑتے، اور اس میں بہت ہی کم توقف کرتے۔ ) منافقین کے اندر کے روگ کو ظاہر کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام سے ان کا رشتہ زبانی حد تک ہے یا محض ایک فریب ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر دشمن کہیں شہر کے اطراف میں سے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتا تو وہ ان لوگوں کی آمادگی اور ان کا استقبال دیکھ کر اندازہ کرلیتا کہ یہ مسلمانوں میں سے نہیں بلکہ ہمارے اپنے ہیں۔ اور پھر وہ ان سے کہتا کہ آئو مدینے کی تباہی اور مسلمانوں کی سرکوبی کے لیے تم ہمارے ساتھ تعاون کرو، لیکن تمہیں اس کے لیے ارتداد کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، کیونکہ تم اب تک اسلام کے مدعی رہ چکے ہو۔ تو انھیں نیا لبادہ اوڑھنے میں کوئی تأمل نہ ہوتا۔ یہی وہ چیز ہے جسے یہاں فتنہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ فتنہ ہر اس کوشش کا نام ہے جس سے اسلام یا مسلمانوں کو نقصان پہنچے۔ اور اسلامی نظام کو تلپٹ کرنے کا موقع پیدا ہوجائے۔ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شرکت بھی اس میں داخل ہے اور ارتداد بھی اسی کا حصہ ہے۔ تو جن لوگوں کا رویہ یہ ہو اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ انھیں اسلام سے کتنا لگائو ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے دین کی کیا قیمت سمجھتے ہیں۔
Ayah 33:15

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

ان لوگوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہیں دکھائیں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی پرسش ہونی ہے

وَلَقَدْکَانُوْا عَاھَدُواللّٰہَ مِنْ قَبْلُ لاَ یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ ط وَکَانَ عَھْدُاللّٰہِ مَسْئُوْلاً ۔ (الاحزاب : 15) (ان لوگوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہیں دکھائیں گے اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی پرسش ہونی ہے۔ ) منافقین کی بد عہدی جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے تو وہ کلمہ پڑھ کر اسلام کے دائرہ میں داخل ہوتے ہوئے دراصل یہ عہد کرتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کروں گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی سربلندی کو ہر چیز سے عزیز سمجھوں گا۔ اور مجھے اس دین کی حفاظت کے لیے اگر میدانِ جہاد میں بھی جانا پڑا تو میں اس میں کوتاہی نہیں کروں گا۔ لیکن ان منافقین کا حال تو یہ ہے کہ انھوں نے اس عہد کے ساتھ ساتھ نبی کریم ﷺ کے سامنے بار بار یہ عہد بھی کیا تھا کہ ہم سے جنگ احد میں جو کمزوری سرزد ہوئی ہم اس کی تلافی کے لیے آئندہ بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ ہم نے مختلف غزوات میں مختلف حیلوں سے جس طرح شرکت سے گریز کیا ہم اس کا اعادہ اب کبھی نہیں کریں گے۔ اور ہم میدانِ جنگ سے کبھی پشت نہیں پھیریں گے۔ چناچہ ان کے اسی عہد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان کا عہد تو میدانِ جنگ میں ہرحال میں ثابت قدم رہنے کا تھا، لیکن اب ان کا حال یہ ہے کہ مختلف بہانوں سے محاذ جنگ سے فرار کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ کبھی گھروں کو غیرمحفوظ ہونے کے بہانے سے اور کبھی کسی اور حوالے سے آنحضرت ﷺ کے سامنے عرضیاں پیش کررہے ہیں کہ ہمیں جانے کی اجازت دی جائے۔ حالانکہ یہ پہلا موقع ہے جس میں یہ سرفروشی دکھا کر اپنے عہد کو سچا ثابت کرسکتے ہیں۔ لیکن انھوں نے بہانوں سے اجازت طلبی کے ذریعے ثابت کردیا کہ وہ اپنے عہد میں سچے نہیں تھے۔ آخر میں انھیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے ہر عہد کی پرسش ہوگی۔ یوں تو پرسش ہر عمل کی ہوگی اور ہر جرم کے بارے میں بازپرس ہوگی لیکن اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کے بارے میں خاص طور پر پوچھ گچھ ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
Ayah 33:16

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دیجیے، اگر تم موت یا قتل سے بھاگو گے تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ بھی نفع بخش نہ ہوگا، اس وقت زندگی کے مزے لوٹنے کا تھوڑا ہی موقع تمہیں ملے گا

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَکُمُ الْفِرَارُاِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِلْقَتْلِ وَاِذًالاَّ تُمَتَّعُوْنَ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔ (الاحزاب : 16) (اے پیغمبر کہہ دیجیے، اگر تم موت یا قتل سے بھاگو گے تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ بھی نفع بخش نہ ہوگا، اس وقت زندگی کے مزے لوٹنے کا تھوڑا ہی موقع تمہیں ملے گا۔ ) ادائے فرض سے پہلے فرار کبھی مفید نہیں ہوتا اگر کوئی شخص دین کی طرف سے عائد ہونے والے فرض کی ادائیگی میں قتل یا کسی اور نقصان کا اندیشہ محسوس کرتا ہے اور وہ اس فرض کی ادائیگی سے بھاگ جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ سے بھاگ رہا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے بھاگ کر کہیں جاسکتا ہے۔ کیونکہ موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ خطرات میں گھرے ہوئے آدمی کو بھی مقررہ وقت پر ہی موت آتی ہے، وقت سے پہلے نہیں آتی۔ اور جو شخص اپنی صحت اور حفاظت کے اعتبار سے بالکل محفوظ حالت میں ہے اس کی زندگی میں اضافہ نہیں ہوجاتا، اس کی بھی موت کا جب وقت آئے گا تو ہزاروں حفاظتوں کے باوجود بھی موت کا شکار ہوجائے گا۔ اور جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ میدانِ جنگ بہرحال موت کی جگہ ہے اس میں دشمن کا کوئی حملہ بھی موت کا سبب بن سکتا ہے۔ اور میرے لیے محفوظ راستہ ایک ہی ہے کہ میں یہاں سے بھاگ جاؤں۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ اولاً تو اس طرح زندگی میں اضافہ نہیں ہوسکتا اور اگر نظربظاہر یہ سمجھ لیا جائے کہ اس کی زندگی میں اضافہ ہوگیا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ ایسی زندگی سے وہ زیادہ فائدہ نہیں اٹھا پائے گا۔ کیونکہ اس طرح کے لوگوں کی زندگی برکت سے محروم ہوجاتی ہے۔ وہ اس چند روزہ زندگی میں جتنے دن گزارتے ہیں بےبرکت زندگی گزارتے ہیں۔ مقصد سے لاتعلقی اور ادائے فرض سے پہلوتہی بجائے خود ضمیر کا کانٹا بن جاتی ہے۔ ایسا شخص زندہ بھی رہتا ہے تو اسے زندگی کا احساس نہیں ہوتا۔ یہ ایسی سزا ہے جس سے کبھی رستگاری نہیں ہوتی۔
Ayah 33:17

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دیجیے ! کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے، اور کون اس کی رحمت کو روک سکتا ہے اگر وہ تم پر رحمت کرنا چاہے، اور یہ لوگ اپنے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی کارساز پائیں گے نہ کوئی مددگار

قُلْ مَنْ ذَالَّذِیْ یَعْصِمُکُمْ مِّنَ اللّٰہِ اِنْ اَرَادَبِکُمْ سُوْٓئً اَوْاَرَادَبِکُمْ رَحْمَۃً ط وَلاَ یَجِدُوْنَ لَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیـًّا وَّلاَ نَصِیْرًا۔ (الاحزاب : 17) (اے پیغمبر کہہ دیجیے ! کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے، اور کون اس کی رحمت کو روک سکتا ہے اگر وہ تم پر رحمت کرنا چاہے، اور یہ لوگ اپنے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی کارساز پائیں گے نہ کوئی مددگار۔ ) اللہ تعالیٰ کا اختیارِ کامل انسان کی بھول یہ ہے کہ وہ نفع اور نقصان اور زندگی اور موت اپنی تدبیر کے تابع سمجھتا ہے۔ وہ زبان سے چاہے نہ کہے لیکن حقیقت میں اپنی تدبیر ہی کو حقیقی موثر جانتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ جہاد اور ادائے فرض میں پیدا ہونے والے خطرے کو موت کا سبب سمجھتا ہے۔ اور اس سے گریز اور فرار کو زندگی کی ضمانت قرار دیتا ہے۔ اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائو کہ اگر تمہیں پروردگار کوئی گزند پہنچانا چاہے تو کون ہے جو تمہیں اس کی پکڑ سے بچا سکے گا۔ اسی طرح دشمن تمہیں نقصان پہنچانا چاہے لیکن اللہ تعالیٰ تم پر اپنے رحمت نازل کرنا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ وہ اس کی رحمت کو روک سکے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نفع و نقصان، خیروشر، رحمت و نقمت سب اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں۔ تو پھر جب اللہ تعالیٰ کسی خطرے کو انگیخت کرنے کا حکم دے تو اس سے جی چرانا اور بچ نکلنے کی کوشش کرنا خدا سے بھاگنے کی حماقت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ آخر میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جب خدا کی گرفت آتی ہے تو اس گرفت سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ کیونکہ اس کے مقابلے میں نہ کوئی کارساز ہے اور نہ کوئی مددگار۔ کوئی اس کا ہاتھ روکنے پر قادر نہیں۔ اور کوئی سعی و سفارش سے اس کے ارادوں کو بدلنے والا نہیں۔ اس آیت میں کلام کا ایک اسلوب ایسا استعمال ہوا ہے جو عربی ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ پہلے یہ ارشاد فرمایا کہ تمہیں اللہ تعالیٰ سے کون بچا سکتا ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے۔ اور اس کے بعد فرمایا کہ یا وہ تم پر رحمت کرنا چاہے لیکن یہاں اس کا ایک حصہ محذوف ہے۔ تو پوری عبارت اس طرح ہوگی اَوْیُمْسِکُ رَحْمَتَہُ اِنْ اَرَادَبِکُمْ رَحْمَۃً ” یعنی اس کی رحمت کو کون روک سکتا ہے اگر وہ تم پر رحمت کرنا چاہے۔ “ پہلے جملے نے واضح کردیا کہ دوسرے جملے کا ایک حصہ محذوف ہے۔ حذف کے اس اسلوب کی مثالیں عربی میں بہت ہیں، لیکن اردو میں یہ اسلوب موجود نہیں۔
Ayah 33:18

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

اللہ تم میں سے روکنے والوں کو بھی جانتا ہے اور اپنے بھائیوں سے کہنے والوں کو بھی کہ آئو ہماری طرف، وہ جنگ میں بہت کم حصہ لیتے ہیں

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْـکُمْ وَالْقَـآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِہِمْ ھَلُمَّ اِلَیْنَا وَلاَ یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔ (الاحزاب : 18) (اللہ تم میں سے روکنے والوں کو بھی جانتا ہے اور اپنے بھائیوں سے کہنے والوں کو بھی کہ آئو ہماری طرف، وہ جنگ میں بہت کم حصہ لیتے ہیں۔ ) منافقین کا ایک اور سازشی گروہ منافقین میں جو سازشی عنصر تھا انھیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ انھوں نے محاصرے کے دوران اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے جس طرح نفاق کا ثبوت دیا اس کی مثالیں تو گزشتہ آیات میں گزر چکی ہیں لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ یہ لوگ صرف فرائض میں کوتاہی کرنے والے ہی نہ تھے بلکہ انھوں نے حتی الامکان دوسرے لوگوں کو بھی جنگ سے روکنے کی کوشش کی۔ اور جن لوگوں کی ڈیوٹیاں دوسرے مورچوں پر تھیں انھیں اپنے مورچوں پر آنے کی دعوت دیتے رہے تاکہ وہاں بیٹھ کر کھل کھیلیں اور مخلص مسلمانوں کو اس کی خبر نہ ہونے پائے۔ چونکہ دفاعی لائن بہت طویل تھی اس لیے منافقین کے گریز و فرار کی وارداتوں پر عموماً پردہ پڑا رہتا تھا اور یہ لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ ان کا طریق واردات ایک تو یہ تھا کہ یہ دوستی اور تعلقات کے حوالے سے لوگوں کو روکتے تھے اور ایک یہ تھا کہ سادہ دل مسلمانوں کو حالات کے نشیب و فراز بتا کر بددل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ بظاہر مورچوں پر پہرہ بھی دیتے تھے لیکن یہ پہرہ محض دکھاوے کا تھا۔ حقیقت میں وہ دفاع میں بہت کم حصہ لیتے تھے۔ باتوں میں وقت گزارتے یا ادھراُدھر گھومتے رہتے۔
Ayah 33:19

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

سخت بخیل ہیں تم پر، جب کوئی خطرہ پیش آجائے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف ایسے دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گھومتی ہیں جیسے ان پر موت کی غشی طاری ہو، پھر جب خطرہ ٹل جائے تو مال غنیمت کی حرص میں تم سے تیزی اور طراری سے باتیں کریں گے، یہ لوگ ایمان نہیں لائے تھے، سو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیے اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے

اَشِحَّۃً عَلَیْکُمْ صلے ج فَاِذَا جَآئَ الْخَوْفُ رَاَیْتَھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ تَدُوْرُ اَعْیُنُھُمْ کَالَّذِیْ یُغْشٰی عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ ج فَاِذَا ذَھَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْکُمْ بِاَلْسِنَۃٍ حِدَادٍ اَشِحَّۃً عَلَی الْخَیْرِ ط اُوْلٰٓئِکَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰہُ اَعْمَالَہُمْ ط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا۔ (الاحزاب : 19) (سخت بخیل ہیں تم پر، جب کوئی خطرہ پیش آجائے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف ایسے دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گھومتی ہیں جیسے ان پر موت کی غشی طاری ہو، پھر جب خطرہ ٹل جائے تو مال غنیمت کی حرص میں تم سے تیزی اور طراری سے باتیں کریں گے، یہ لوگ ایمان نہیں لائے تھے، سو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیے اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ ) گزشتہ آیت کے آخر میں فرمایا کہ وہ لڑائی یا دفاع میں بہت کم حصہ لیتے ہیں۔ اس آیت کے شروع میں اس کی وجہ بیان فرمائی کہ ان کے برائے نام حصہ لینے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں کسی قسم کی قربانی دینے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ قربانی مال کی ہو یا جان کی ہر طرح کی قربانی کے معاملے میں نہایت بخیل واقع ہوئے ہیں۔ ان کا دفاعی جنگ میں چلے آنا محض ایک دکھاوے کی کارروائی تھی۔ ظاہر ہے کہ جس عمل میں دکھاوا پیش نظر ہو اس میں کسی قربانی کا حوصلہ کہاں سے آسکتا ہے۔ ان کے اخلاص اور حوصلے کا عالم یہ ہے کہ اگر واقعی انھیں خطرے کا سامنا کرنا پڑے اور وہ محسوس کریں کہ اب شاید انھیں جان پر کھیلنا پڑے تو تم انھیں دیکھو گے کہ ان کی آنکھیں اس طرح گردش کرنے لگتی ہیں گویا ان پر موت کی غشی طاری ہونے لگی ہے۔ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا صرف اس آدمی کا شیوہ ہے جو شہادت کے عزم سے گھر سے نکلتا ہے اور جس نے حیات دنیا کو حیات آخرت کے بدلے میں بیچ دیا ہو۔ محض نمائش کے لیے نکلنے والے معمولی خطرے کا سامنا بھی نہیں کرسکتے۔ تو منافقین جنگ کے خطرات کا سامنا کیسے کرسکتے ہیں۔ اور جب خطرہ ٹل جاتا ہے یعنی جنگ رک گئی یا جنگ میں اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی تو اب ان کی زبانوں کی تیزی طراری دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ وہ طلاقتِ لسانی سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس جنگ میں کامیابی صرف ہماری جانفروشی کا نتیجہ ہے۔ یہ ہم ہی تھے جن کی وجہ سے دشمن کو آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہوسکی۔ اور پھر مال غنیمت کی طلب میں ان کی چرب زبانی جوہر دکھانے لگتی ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ مال غنیمت سے حصہ لے سکیں اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ مال کے معاملے میں بہت حریص واقع ہوئے ہیں۔ اور ویسے بھی اسلامی جنگوں میں شرکت منافقین کے لیے صرف مال غنیمت کے حصول کے لیے تھی۔ وہ اسلام کے لیے مخلص نہیں تھے تو جہاد میں شہادت کے لیے کیونکر شریک ہوسکتے تھے۔ یاد رہے کہ اَشِحَّۃً ، شحیح کی جمع ہے۔ اس کے معنی بخیل کے بھی ہیں اور حریص کے بھی۔ پہلی آیت میں بخیل کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور دوسری آیت میں الخیر کے قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حریص کے معنی میں ہے۔ یعنی مسلمانوں کی ہمدردی اور راہ خدا میں تو وہ انتہائی بخیل واقع ہوئے ہیں۔ نہ ایک دمڑی خرچ کرسکتے ہیں اور نہ ایک قطرہ خون بہانے کو تیار ہیں، لیکن مال غنیمت کی محبت میں انتہائی حریض واقع ہوئے ہیں۔ اپنی زبان کی ساری قوت مال غنیمت کے زیادہ سے زیادہ حصول پر صرف کردیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ محض ایمان کا دعویٰ رکھتے ہیں، حقیقت میں ایمان ان کے دلوں میں نہیں اترا۔ ایمان ہی کی قوت سے اخلاص پیدا ہوتا ہے اور اسی سے ہر طرح کی قربانی دینے کا جذبہ ابھرتا ہے۔ لیکن نمائشی ایمان اللہ تعالیٰ کے راستے میں کسی کام نہیں آتا۔ ایسے ایمان کے ساتھ اگر کوئی نیک کام بھی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اسے حبط کردیتے ہیں۔ ان کا کوئی صلہ آخرت میں ملنے والا نہیں۔ عمل وہی معتبر ہے جو حقیقی ایمان کے ساتھ کیا جائے۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا یہ ایک غلط فہمی کا ازالہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے کے منافقین میں اور اس جدید دور کے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ کوئی اچھا عمل کسی ارادے سے بھی سرزد ہوجائے وہ یقینا آخرت میں بہتر سے بہتر جزاء کا سزاوار ٹھہرے گا۔ کیونکہ ان کے نزدیک اصل حیثیت عمل کی ہے کہ وہ اچھا ہے یا برا، مفید ہے یا غیرمفید، اس کا کرنے والا مومن ہے یا کافر، مخلص ہے یا غیرمخلص، اس سے کوئی بحث نہیں۔ لیکن قرآن و سنت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یقینا عمل کی بھی ایک حیثیت ہے کہ وہ شریعت کے مطابق ہے یا نہیں۔ اس کی شکل و صورت نیکی کی ہے یا برائی کی، وہ لوگوں کی بھلائی کا سبب بنے گا یا تکلیف دہی کا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اتنی ہی اہمیت اس بات کی بھی ہے کہ عمل کو کس ارادے اور نیت سے کیا گیا ہے۔ اگر بہتر سے بہتر عمل محض دکھاوے یا حصول شہرت کے لیے کیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول تو کیا، منہ پردے مارا جائے گا۔ اور اگر عمل کرنے والا دل میں ایمان نہیں رکھتا تو اس کا عمل چاہے کتنا عظیم کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کے یہاں نہ صرف قابل قبول نہیں بلکہ اسے حبط کردیا جاتا ہے۔ اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔ کیونکہ اس کی ذات اتنی عظیم ہے کہ وہ کسی بڑے سے بڑے عمل سے ماورا ہے۔ عمل کرنے والے کے اعمال اس کی اپنی ضرورت ہیں، اللہ تعالیٰ کی ضرورت نہیں۔ ہر شخص اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کا محتاج ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی رضا کی ضرورت نہیں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ذات بہت رحیم و کریم ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ غیور و غنی بھی ہے۔ اس کے لیے لوگوں کے ایسے اعمال کو پامال کردینا ذرا بھی گراں نہیں، جس میں ایمان اور اخلاص نہ ہو۔ بلکہ پیش نظر آیات سے تو عجیب صورتحال سامنے آتی ہے وہ یہ کہ جن لوگوں کے ایمان سے یہاں انکار کیا گیا ہے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے۔ ہمیشہ آپ ﷺ کی رسالت کا اعتراف کیا، آپ ﷺ کے ساتھ نمازیں پڑھیں، روزے رکھے، زکوٰتیں دیں اور جہاد تک میں شرکت کی لیکن ان کے یہ تمام اعمال چونکہ غیرت دینی سے محروم رہے اور اسلام پر جب کڑی آزمائش کا وقت آیا تو انھوں نے دوغلے پن کا ثبوت دیا اور دین کے مفاد پر اپنے مفاد کو ترجیح دی۔ فکر اسلام کی نہ رہی بلکہ صرف اپنی ذات، اپنے مال اور اپنے عہدہ و منصب کی رہی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اور جتنے انھوں نے نیک اعمال کیے تھے سب کو مٹا ڈالا۔ امتِ مسلمہ کے لیے یہ آیت ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ہم آج جس صورتحال سے دوچار ہیں اس میں اسلام سے بڑھ کر کوئی مسکین اور لاوارث نہیں۔ ایک عظیم امت کی عظیم اکثریت بالخصوص ان کے حکمران صرف اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسلامی مفادات پر قیامت گزر جائے، انھیں رتی بھر پرواہ نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اطمینان یہ ہے کہ ہم سے بہتر مسلمان اور مومن کون ہے۔ ہم یقینا اللہ تعالیٰ کے یہاں نجات کے مستحق ہیں۔ ہمیں اس آیت کو پڑھتے ہوئے سو دفعہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہمارا یہ طرزعمل اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے رہا ہے یا ہم اپنی نجات کی فکر کررہے ہیں۔
Ayah 33:20

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں، اگر وہ گروہ پھر آجائیں تو ان کی تمنا یہ ہوگی کہ کاش وہ جنگل میں دیہاتیوں کے پاس ہوتے اور وہاں سے تمہاری خبریں معلوم کرتے رہتے، اور اگر یہ تمہارے درمیان ہوتے بھی تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیتے

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْھَبُوْا ج وَاِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْاَنَّہُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْبَـآئِکُمْ وَلَوْ کَانُوْا فِیْکُمْ مَّاقٰـتَـلُوْٓا اِلاَّ قَلِیْلاً ۔ (الاحزاب : 20) (یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں، اگر وہ گروہ پھر آجائیں تو ان کی تمنا یہ ہوگی کہ کاش وہ جنگل میں دیہاتیوں کے پاس ہوتے اور وہاں سے تمہاری خبریں معلوم کرتے رہتے، اور اگر یہ تمہارے درمیان ہوتے بھی تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیتے۔ ) منافقین کی بزدلی کے ذکر کے سلسلے میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی بزدلی کا عالم تو یہ ہے کہ دشمنوں کے جو گروہ بہت بڑی تعداد میں مدینہ پر حملہ آور ہوئے وہ ایک ماہ کے محاصرے کے بعد اپنے زخم چاٹتے ہوئے پسپا ہوگئے۔ اور اب تک وہ اپنے اپنے ٹھکانوں پر پہنچ چکے ہوں گے۔ لیکن یہ لوگ ابھی تک سمجھ رہے ہیں کہ وہ لوگ گئے نہیں، یہیں کہیں قریب ہی چھپ کے بیٹھے ہیں اور کسی وقت بھی حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ اب ان کی آرزو یہ ہے کہ اگر وہ دوبارہ مدینہ پر حملہ آور ہوں تو ہم مسلمانوں کے ساتھ مل کر مدافعت نہیں کریں گے بلکہ مدینہ سے نکل بھاگیں گے اور صحرا میں بدوئوں کے درمیان جا بسیرا کریں گے۔ البتہ مسلمانوں کے بارے میں وہیں بیٹھ کر معلوم کرتے رہیں گے کہ وہ کس حال میں ہیں۔ اور یہ معلوم کرنا مسلمانوں کی ہمدردی میں نہیں ہوگا بلکہ اس خیال سے ہوگا کہ کب مدینے کی قوت کو زوال آتا ہے اور ہم دوبارہ مدینے میں اپنی پہلی زندگی گزارنے کا موقع پاتے ہیں۔ آخر میں مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اگر یہ لوگ ایسا کر گزریں تو اس میں آپ لوگوں کا کوئی نقصان نہیں، بلکہ اچھا ہوگا کہ آپ کو ایسے لوگوں سے نجات مل جائے گی جو کسی وقت بھی مار آستین ثابت ہوسکتے ہیں۔ اور ان کا چلا جانا آپ کے لیے کسی نقصان کا باعث اس لیے بھی نہیں ہوگا کیونکہ یہ لوگ ایثار پیشہ نہیں بلکہ اگر یہ لوگ آپ میں رہیں گے بھی تو دشمن سے لڑائی میں یہ بہت کم آپ کا ساتھ دیں گے۔ ان کی کوشش یہ ہوگی کہ اس سے بچے رہیں۔ صرف اپنی حیثیتِ عرفی کو بچانے کے لیے آپ کی صفوں میں کھڑے رہیں گے لیکن قربانی و ایثار ان کا شیوہ نہیں۔
Ayah 33:21

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

اور تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کا امیدوار ہو، اور اللہ کو زیادہ سے زیادہ یاد کرے

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوْا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَاللّٰہَ کَثِیْرًا۔ (الاحزاب : 21) (اور تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کا امیدوار ہو، اور اللہ کو زیادہ سے زیادہ یاد کرے۔ ) عزیمت کے لیے نمونہ اور اس راستے پر چلنے والوں کی صفات گزشتہ آیات میں پروردگار نے منافقین اور ایمان میں کمزور مسلمانوں پر تنقید کرتے ہوئے ان کے نفاق، ان کی مفادپرستی، دین پر اپنی ذات، اپنے بچوں اور اپنے مفادات کو ترجیح دینے اور حق و باطل کے معرکے میں بزدلی اور کم ہمتی کا مظاہرہ کرنے کو نمایاں کیا ہے۔ اب انھیں مزید غیرت دلاتے ہوئے اور غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم جب مختلف حوالوں سے جنگ احزاب کے موقع پر مفادپرستی اور عافیت کوشی کا ثبوت دے رہے تھے اور تم سمجھتے تھے کہ اب اپنے بچائو کی فکر کے سوا بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ لیکن تمہیں یہ خیال نہیں آیا کہ جس رسول پر تم ایمان کے مدعی ہو وہ تمہارے اندر موجود ہے۔ تم اس کے اتباع کا دعویٰ بھی رکھتے ہو۔ لیکن تم نے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچا کہ ایسے خطرناک موقع پر اس رسول کا رویہ کیا ہے جبکہ تم اپنے آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ وہ جنگ کے ہولناک موقعوں پر ایک لمحہ کے لیے بھی محاذجنگ سے غائب نہیں ہوا۔ اس نے ہر مشقت اور مشکل میں تمہارا ساتھ دیا۔ بلکہ جب بھی کوئی مشکل وقت آیا تو اس نے دوسروں سے بڑھ کر اس میں حصہ لیا۔ اور کوئی تکلیف ایسی نہ تھی جس کا مطالبہ آپ نے لوگوں سے کیا ہو اور خود اس میں شریک نہ رہے ہوں۔ آپ نے خندق کی کھدائی میں بنفسِ نفیس حصہ لیا۔ دوسروں نے پیٹ پر ایک پتھر باندھا تو آپ نے دو پتھر باندھے۔ دوسروں کے بچے جس خطرناک صورتحال سے دوچار رہے آپ کے اہل و عیال بھی اس کا حصہ بنے رہے۔ غرضیکہ قربانی و ایثار کا کوئی موقع ایسا نہ تھا جس میں وہ دوسروں سے آگے نہ رہے ہوں۔ تم اگر واقعی ان پر ایمان رکھتے تھے اور ان کے اتباع کا حقیقی جذبہ تم میں موجود تھا تو تمہیں نمونہ انھیں بنانا چاہیے تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تم سے جس کمزوری کا صدور ہوا ہے یہ کوئی وقتی کمزوری نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ کے راستے اور معرکہ حق و باطل میں جان کا نذرانہ پیش کرنا اور ثابت قدمی دکھانا ان لوگوں کا کام ہے جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور آخرت کے دن کی حاضری کی امید رکھتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں کے پیش نظر صرف وقتی مفاد اور دنیا ہی کی فلاح وبقاء ہو اور آخرت اور اس میں ملنے والے اجروثواب پر یقین نہ ہو ان کے لیے آنحضرت ﷺ کا اسوہ قابل تقلید نہیں ہوسکتا۔ منافقین نے اگر کمزوری دکھائی ہے تو اس کا سبب کوئی وقتی مصلحت نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان نہیں۔ اور نہ یہ اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے والے لوگ ہیں۔
Ayah 33:22

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جب اہل ایمان نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو وہ پکار اٹھے کہ یہ تو وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے بالکل سچ کہا تھا اور اس چیز نے ان کے ایمان اور ان کی سپردگی میں اور اضافہ کردیا

وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُـہٗ وَصَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُـہٗ ز وَمَا زَادَھُمْ اِلَّآ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًا۔ (الاحزاب : 22) (اور جب اہل ایمان نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو وہ پکار اٹھے کہ یہ تو وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے بالکل سچ کہا تھا اور اس چیز نے ان کے ایمان اور ان کی سپردگی میں اور اضافہ کردیا۔ ) مخلص مومنوں کا رویہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب اللہ تعالیٰ صحابہ کرام ( رض) کے طرز عمل کی طرف توجہ دلا رہا ہے جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صحابہ کرام ( رض) کا طرزعمل ہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کے رسول کے اسوہ کی صحیح تعبیر اور حقیقی ترجمانی ہے۔ اور اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جن دلوں میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی امید اور آخرت کا یقین ہوتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت و اتباع کا سچا جذبہ رکھتے ہیں ان کا طرزعمل وہ ہوتا ہے جس کا اظہار صحابہ کے طرزعمل سے ہورہا ہے۔ اور جو صرف ایمان کو وقتی مصلحت کے تابع اور زبان کا جمع خرچ سمجھتے ہیں ان کا طرز عمل وہ ہوتا ہے جو اس سے پہلے آیت بارہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ منافقین نے جب دشمنوں کے لشکر جرار کو دیکھا اور ان کے محاصرے کی شدت دیکھی اور حالات کے تیور دیکھے تو انھوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول نے تو ہم سے وعدے فتح و نصرت اور غلبہ اسلام کے کیے تھے اور ہمیں قیصر و کسریٰ پر حکومت کے خواب دکھائے تھے، جبکہ ہمیں اپنی جان کے لالے پڑے ہیں اور ہم رفع حاجت کے لیے بھی باہر نہیں نکل سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ وعدے ایک فریب تھے۔ لیکن صحابہ کرام ( رض) نے جب ان فوجوں کو دیکھا تو وہ دیکھتے ہی پکار اٹھے کہ یہ تو وہی چیز ہے جس کی خبر ہمیں اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کے رسول نے دی تھی۔ اس میں اشارہ درحقیقت ان آیات کی طرف ہے جن میں مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں سے تم اس وقت بہرہ ور ہوسکو گے جب نہایت صبر آزما امتحانوں سے کامیابی سے گزر کر اپنا استحقاق ثابت کردو گے۔ اس کا ذکر تو قرآن کریم نے متعدد مواقع پر کیا ہے لیکن ہم صرف ایک ہی حوالے پر اکتفا کرتے ہیں۔ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ ط مَسَّتْھُمُ الْبَاْسَآئُ وَالصَّرَّآئُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُاللّٰہِط اِلَّآ اِنَّ نَصْرَاللّٰہِ قَرِیْبٌ۔ (البقرۃ۔ 214) کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تمہیں اس طرح کے حالات سے سابقہ پیش آیا ہی نہیں جس طرح کے حالات سے ان لوگوں کو سابقہ پیش آیا جو تم سے پہلے گزرے، ان کو فقروبیماری کے مصائب پہنچے۔ اور وہ اس قدر جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب نمودار ہوگی ! آگاہ، کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ منافقین نے آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے جو غلبہ اسلام اور مسلمانوں کی فلاح و کامیابی کے وعدے سنے انھوں نے اس کا مطلب یہ سمجھا کہ ہمیں اب بنی اسرائیل کی طرح کچھ کرنا نہیں پڑے گا بلکہ جو کچھ بھی ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کے ان وعدوں کے تحت معجزانہ طور پر ظہور پذیر ہوتا رہے گا۔ لیکن جب انھوں نے دشمنوں کا لشکر جرار دیکھا کہ اس نے مدینے کا محاصرہ کرلیا ہے تو انھوں نے یہ سمجھا کہ اب تو اسلام اور مسلمانوں کی کشتی ڈوبے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اور جو کچھ ہم سے وعدے کیے گئے تھے وہ سب فریب ثابت ہوئے ہیں۔ لیکن مخلص مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو اس آئینے میں دیکھا جس کا ذکر ابھی سورة البقرۃ کی ایک آیت میں ہم نے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے درحقیقت اس بات کے ساتھ مشروط ہیں کہ مسلمان انتہائی صبر آزما آزمائشوں سے کس صبر اور استقلال کے ساتھ گزرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر کس قدر بھروسہ کرتے ہیں۔ چناچہ انھوں نے جب ان بیشمار دشمنوں کو دیکھا تو وہ سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آزمانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اب ہماری کامیابیوں کا راستہ ان آزمائشوں سے کامیابی سے گزرنے پر منحصر ہے۔ ہماری تھوڑی سی کمزوری ہمارے مستقبل کو مخدوش بنا دے گی۔ اور اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر صبر و استقامت کامیابیوں کا راستہ کھول دے گی۔ چناچہ ان لشکروں کو دیکھ کر پریشان ہونے کی بجائے ان کے ایمان اور تسلیم میں اور اضافہ ہوگیا۔ جس طرح سونا بھٹی میں چڑھ کر کندن بن جاتا ہے اسی طرح مسلمان کا ایمان بھی آزمائشوں کی بھٹی میں اور جلا پاتا اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا سزاوار ٹھہرتا ہے۔
Ayahs 33:23–24

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا، ان میں سے بعض تو اپنا عہد پورا کرچکے اور بعض ان میں سے منتظر ہیں اور انھوں نے ذرا بھی تبدیلی نہیں کی ہے

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کی جزاء دے، اور منافقوں کو اگر چاہے تو سزا دے، اور اگر چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے، بیشک اللہ غفورورحیم ہے

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ ج فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَـہٗ وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلاً ۔ لِّیَجْزِیَ اللّٰہُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِہِمْ وَیُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآئَ اَوْیَتُوْبَ عَلَیْہِمْ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ (الاحزاب : 23، 24) (ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا، ان میں سے بعض تو اپنا عہد پورا کرچکے اور بعض ان میں سے منتظر ہیں اور انھوں نے ذرا بھی تبدیلی نہیں کی ہے۔ تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کی جزاء دے، اور منافقوں کو اگر چاہے تو سزا دے، اور اگر چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے، بیشک اللہ غفورورحیم ہے۔ ) نَحْبَ ، عہدوپیمان اور نذر کے معنوں میں بولا جاتا ہے۔ امام بخاری کے نزدیک یہاں عہد کے معنی میں آیا ہے۔ اور یہی صحیح معلوم ہوتا ہے۔ مردانِ خاص کا طرزعمل گزشتہ آیت میں ہم نے پڑھا ہے کہ مسلمان راہ حق میں پیش آنے والے بڑے سے بڑے واقعہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش سمجھتے ہیں۔ اور بجائے اس کے کہ اس سے متأثر ہو کر کمزوری دکھائیں وہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کامیابی و کامرانی کا ذریعہ سمجھ کر اس کا زیادہ سے زیادہ حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ چیز ان کے ایمان و تسلیم میں اضافے کا باعث ثابت ہوتی ہے۔ یہ کیفیت یوں تو تمام صاحب ایمان لوگوں کی ہے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسانوں کا بہتر سے بہتر گروہ بھی بلند صفات میں یکساں نہیں ہوتا۔ چناچہ ان مسلمانوں میں بھی اپنی تمام تر اعلیٰ صفات کے باوجود کچھ نمونے کے لوگ ایسے ہیں جنھیں رجال کہہ کر ان کے بلند مرتبہ ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مراد اس سے مردانِ خاص ہیں، کہ ان کی جرأت و بسالت کا عالم یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو سچا ثابت کر دکھایا۔ اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے اس کی صداقت و حقانیت پر مہرتصدیق ثبت کرگئے اور اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد سچا ثابت کردیا۔ اور جن لوگوں کو ابھی تک جان کا نذرانہ پیش کرنے کا موقع نہیں ملا وہ اس کے منتظر ہیں کہ کب ہم اللہ تعالیٰ کے راستے میں سر کٹوا کر اپنے کندھوں کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں۔ لیکن اس انتظار کی کیفیت میں ان کے ایفائے عہد کے جذبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اگلی آیت میں فرمایا کہ لوگ نہ جانے احزاب کے اس حملے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور اسے شاید اہل عرب کی دشمنی کا ایک بہت بڑا اظہار سمجھتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ طوفان اس لیے اٹھایا تاکہ راست بازوں اور منافقوں کے درمیان امتیاز کی ایک کسوٹی بن جائے۔ جو لوگ راست بازی کا ثبوت دیتے ہوئے جان پر کھیل جائیں اور یا جان ہاتھ پر رکھے انتظار میں کھڑے ہوں انھیں ان کی راست بازی کا صلہ دیا جائے۔ اور منافق اگر اپنی غلطیوں کو محسوس کرکے توبہ کی طرف آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے۔
Ayah 33:25

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اللہ نے کافروں کو لوٹا دیا ان کے غصہ کے ساتھ کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر، اور مومنین کی طرف سے اللہ ہی لڑنے کے لیے کافی ہوگیا، اور اللہ قوی اور غالب ہے

وَرَدَّاللّٰہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِغَیْظِھِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا ط وَکَفَی اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ ط وَکَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیْزًا۔ (الاحزاب : 25) (اللہ نے کافروں کو لوٹا دیا ان کے غصہ کے ساتھ کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر، اور مومنین کی طرف سے اللہ ہی لڑنے کے لیے کافی ہوگیا، اور اللہ قوی اور غالب ہے۔ ) مسلمانوں کے ایمان و استقامت کا انعام مسلمانوں کے مستحکم ایمان، اتباعِ رسول، راہ حق میں جانثاری اور فداکاری اور توکل علی اللہ کا صلہ اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ دشمن کا لشکرعظیم جو مختلف احزاب پر مشتمل تھا اور جو نہایت ناپاک ارادوں کے ساتھ غیظ و غضب میں جلتا ہواحملہ آور ہوا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے بےنیل و مرام غصے کی ہی حالت میں پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ وہ اپنے مذموم ارادوں میں سے کسی ارادے کو بھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ وہ لوگ جتنی بڑی تعداد میں آئے تھے اور اسلحہ کی جو قوت ان کے پاس تھی اس کے پیش نظر انھیں ایک فیصد بھی امید نہ تھی کہ وہ ناکام لوٹیں گے۔ اپنی کامیابی کے یقین میں نہ جانے مدینہ اور اہل مدینہ کے ساتھ وہ کس طرح کا سلوک کرنے کا عزم لے کر آئے تھے۔ اور کیسے کیسے انھوں نے منصوبے باندھے ہوں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا اور وہ اپنے زخم چاٹتے ہوئے ذلت کی تصویر بنے واپس جانے پر مجبور ہوگئے۔ اور مزید احسان اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ دشمنوں کے دفاع کے لیے مسلمانوں کو کوئی لڑائی نہیں لڑنی پڑی، بلکہ لڑائی میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لیے کافی ہوگیا۔ اس نے اپنی بادتند اور اپنے ملائکہ کی افواج قاہرہ کے ذریعہ سے دشمنوں کے قدم اکھاڑ دیے۔ ملائکہ نے ان کے دلوں میں خوف اور رعب پیدا کیا۔ اور بادتند نے ان کے خیمے اکھاڑ دیے اور اس طرح ان کو جھنجھوڑا کہ ہر شخص نے اپنے سر پر عذاب کی بجلی کوندتی ہوئی محسوس کی اور وہ پائوں سر پر رکھ کر بھاگا۔ آخر میں فرمایا کہ دشمن کے ساتھ جو کچھ ہوا اور جس طرح سے مسلمانوں کی حفاظت کی گئی، یہ صرف اس لیے ہوا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نہایت قوت والا اور نہایت غالب ہے۔ اس کے لیے بڑی سے بڑی طاقت کو فنا کردینا کوئی مشکل نہیں۔ چھوٹی جماعتوں اور کمزوروں کو غالب کردینا اس کی قدرت کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔ اور اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ جب اللہ والے اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی اور دین کے دشمنوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرکے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں کبھی بےیارومددگار نہیں چھوڑتا۔ وہ عناصرِکائنات اور اپنے ملائکہ کو ان کے ہمرکاب کردیتا ہے۔
Ayah 33:26

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے کافروں کی مدد کی تھی انھیں اللہ تعالیٰ ان کے قلعوں سے اتار لایا اور ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈالا کہ تم ان میں سے ایک گروہ کو قتل کررہے ہو اور ایک گروہ کو قید کررہے ہو

وَاَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاہَرُوْھُمْ مِّنْ اَھْلِ الْـکِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْھِمْ وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَتَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًا۔ (الاحزاب : 26) (اور اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے کافروں کی مدد کی تھی انھیں اللہ تعالیٰ ان کے قلعوں سے اتار لایا اور ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈالا کہ تم ان میں سے ایک گروہ کو قتل کررہے ہو اور ایک گروہ کو قید کررہے ہو۔ ) بنو قریظہ کی عہد شکنی اور اس کا انجام اس آیت کریمہ میں اہل کتاب سے مراد بنو قریظہ ہیں۔ ہم اس سے پہلے اس سورة کے تعارف میں واضح کرچکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ اس قبیلے کا امن و صلاح کا معاہدہ تھا۔ اور اس میں یہ بات شامل تھی کہ اگر باہر سے کوئی حملہ آور مدینے پر حملہ کرے گا تو یہ مسلمانوں کا ساتھ دیں گے۔ چناچہ جب عرب کی متحدہ قوت نے مسلمانوں کو مٹانے کے لیے مدینہ پر حملہ کیا تو معاہدے کی وجہ سے بنوقریظہ پر یہ پابندی تھی کہ وہ مسلمانوں کا ساتھ دیں یا کم از کم دشمن کی مدد نہ کریں اور ان کے سابقہ رویہ کی وجہ سے مسلمانوں کو کسی حد تک اعتماد بھی تھا۔ لیکن جب بنونضیر کا سردار حیی بن اخطب بنوقریظہ کے محلے میں پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تو وہ بنوقریظہ کے سردار کعب بن اسد سے ملا اور اسے حملہ آوروں کا ساتھ دینے کی ترغیب دی۔ شروع میں بنوقریظہ کے سردار نے معاہدہ کا حوالہ دے کر اس کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ لیکن جب اس نے اسے سمجھایا کہ تمہارے لیے یہ نادر موقع ہے اگر تم نے اسے کھو دیا تو ہمیشہ پچھتائو گے۔ میں سارے عرب کو اکٹھا کرکے مدینے پر چڑھا لایا ہوں۔ مختلف قبائل میں سے کسی قبیلے میں یہ طاقت نہیں کہ وہ مسلمانوں کا مقابلہ کرسکے۔ یہ عرب بھر کی اجتماعی قوت روز روز جمع نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک فیصلہ کن قوت ہے جس کے سامنے مسلمانوں کا بس نہیں چلے گا۔ تم اگر آج عرب کی اجتماعی قوت کا ساتھ دو گے تو مسلمانوں کو جڑ پیڑ سے اکھاڑا جاسکتا ہے۔ چناچہ یہودی ذہن نفع نقصان کے مقابلے میں اخلاق کو بھول گیا اور سیاسی مفادات اس پر غالب آئے تو اس نے مسلمانوں کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ توڑ ڈالا۔ اس خبر نے جہاں حملہ آوروں کو نہایت اطمینان کا موقع دیا وہیں مسلمانوں کے لیے پریشانی میں انتہاء درجے کا اضافہ کردیا۔ کیونکہ ان کے قلعے اور گڑھیاں مدینے کے بالکل قریب تھے۔ اور لڑنے والے افراد کی بھی ان کے پاس کافی تعداد تھی۔ مسلمانوں کو پشت سے ان کا حملہ بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتا تھا۔ چناچہ مسلمانوں کے لیے یہ آزمائش بہت ہی صبر آزما بن گئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی بروقت مدد فرمائی اور تائیدِغیبی نے جس طرح تمام حملہ آوروں کے پائوں اکھاڑ دیے، اسی طرح بنوقریظہ کو بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ چناچہ جس روز مسلمان خندق سے اتر کر گھروں میں داخل ہوئے، ظہر سے پہلے آنحضرت ﷺ حضرت ام سلمہ کے مکان میں غسل فرما رہے تھے کہ جب حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے دیکھا کہ ان کا چہرہ غبار سے اٹا ہوا تھا۔ کہنے لگے کہ آپ ﷺ نے جنگ کے ہتھیار اتار دیے ہیں لیکن ہم نے نہیں اتارے۔ میں اللہ تعالیٰ کا حکم لے کر آیا ہوں کہ آپ مسلمانوں کو فوراً بنو قریظہ کا محاصرہ کرنے کا حکم دیں۔ یہ محاصرہ تقریباً پچیس دن تک جاری رہا۔ بالآخر انھوں نے مرعوب ہو کر حضرت سعد بن معاذ کو اپنا حکم مان لیا کہ وہ جو فیصلہ کریں گے ہمیں منظور ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے بھی اس کو تسلیم کرلیا۔ حضرت سعد ( رض) تشریف لائے اور انھوں نے فیصلہ کیا کہ ان کے تمام قابل جنگ افراد کو قتل کردیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو لونڈیاں اور غلام بنا لیا جائے، اور ان کی زمینیں مسلمانوں میں تقسیم کردی جائیں۔ یہ فیصلہ عرب روایات کے بھی مطابق تھا اور تورات کی تعلیمات کے بھی۔ تورات کی کتاب استثناء میں آج بھی اس کا ذکر موجود ہے۔ چناچہ فوراً اس فیصلے پر عمل کیا گیا۔ ان میں سے ہر بالغ شخص کو قتل کردیا گیا اور نابالغ لڑکوں کو غلام بنا لیا گیا، اور عورتیں لونڈیاں بنا لی گئیں۔ اس آیت کریمہ میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ جو کل تک قلعوں اور گڑھیوں کے مالک تھے اور اپنے باغات اور کاروبار پر نازاں تھے اور اپنے مضبوط دفاعی حصارات کی وجہ سے کسی کو پلے نہیں باندھتے تھے، آج محض اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے انھیں اپنے قلعوں سے نکلنا پڑا اور اپنے آپ کو اہل و عیال سمیت مسلمانوں کے حوالے کرنا پڑا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ایسا رعب ان کے دلوں میں ڈالا کہ انھوں نے حضرت سعد ( رض) کے فیصلے پر سرتسلیم خم کردیا اور ان کو چوں کرنے کی بھی ہمت نہ ہوئی۔
Ayah 33:27

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اور اللہ نے ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال کا تمہیں وارث بنادیا، اور اس سرزمین کا بھی تمہیں وارث بنادیا جس پر تمہارے پائوں ابھی نہیں پہنچے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

وَاَوْرَثَـکُمْ اَرْضَھُمْ وَدِیَارَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ وَاَرْضًا لَّمْ تَطَــُٔوْھَا ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرًا۔ (الاحزاب : 27) (اور اللہ نے ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال کا تمہیں وارث بنادیا، اور اس سرزمین کا بھی تمہیں وارث بنادیا جس پر تمہارے پائوں ابھی نہیں پہنچے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ) بنوقریظہ کے نکلنے سے ان کا پورا علاقہ ان کے تمام قلعے اور گڑھیاں، ان کے مکانات اور حصارات، ان کے باغات اور ان کے ہر قسم کے اموال و اثاثات اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے قبضے میں دے دیے۔ مسلمانوں کو شاندار مستقبل کی بشارت وَاَرْضًا لَّمْ تَطَــُٔوْھَا … یہ مسلمانوں کے نہایت شاندار مستقبل کی بشارت ہے کہ بنوقریظہ اور اس سے پہلے بنونضیر اور بنو قینقاع کے علاقے جس طرح تمہارے قبضے میں آئے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہیں ایسی زمینوں پر بھی قبضہ عطا کرنے والا ہے جن زمینوں کو تم نے ابھی تک پامال نہیں کیا یعنی جہاں تمہارے قدم ابھی تک نہیں پہنچے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے وہ علاقے تمہارے لیے مقدر کردیے ہیں۔ اس وقت یہ بات مسلمانوں کے لیے تو ناقابلِ یقین نہ تھی لیکن عام ذہن اس کو سمجھنے سے قاصر تھا کہ تین ہزار پر مشتمل ایک گروہ جو بےسروسامانی کی زندگی گزار رہا ہے وہ اتنا طاقتور کیسے ہوجائے گا کہ چند مہینوں کے بعد خیبر اس کے زیرنگیں ہوگا، پھر مکہ، پھر حنین کی وادیاں اور پھر چند ہی سالوں میں پورے عرب پر اس کا پرچم لہرا رہا گا۔ اور بہت عرصہ نہیں گزرے گا اس کے نام لیوا قیصروکسریٰ پر حکومت کریں گے لیکن اس بشارت میں یہ سب کچھ شامل تھا اور تاریخ نے اس پر مہرتصدیق ثبت کی۔