Ayahs 33:45–46یٰٓـاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّـآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا۔ وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا۔ (الاحزاب : 45، 46)
(اے نبی ! ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔ اور اللہ کی طرف اس کے اذن سے دعوت دینے والا بنا کر، اور ایک روشن چراغ بنا کر۔ )
آنحضرت ﷺ کے منصبی فرائض
پیشِ نظر آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ سے خطاب فرما کر آپ ﷺ کو ان عظیم ذمہ داریوں سے باخبر کیا جارہا ہے جن سے آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں عہدہ برا ہونا ہے۔ اور یہ ذمہ داریاں ایسی ہیں جن کی ادائیگی کے سلسلے میں قدم قدم پر آپ ﷺ کو شدید مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آپ کی نظر ہمیشہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر رہنی چاہیے، مخالفین کیا کہتے اور کرتے ہیں آپ اس کی بالکل پرواہ نہ کریں اور نتائج ہمارے حوالے کردیں۔ اسی طرح بالواسطہ مخالفین کو تنبہ کیا جارہا ہے کہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہارا واسطہ جس عظیم شخصیت سے ہے اسے اللہ تعالیٰ نے جن کٹھن فرائض کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ان کی حیثیت عظیم مناصب کی بھی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں نہایت قدر و منزلت کے حامل ہیں۔ ایسی قدرومنزلت کی حامل شخصیت کو اللہ تعالیٰ نہ کبھی ضائع ہونے دیتا ہے اور نہ اسے تنہاء چھوڑتا ہے۔ وہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں اس لیے یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ اپنے فرائض کی بجاآوری میں ناکام ثابت ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ سے اس عظیم کام کو تکمیل تک پہنچائے گا جس کے لیے انھیں مبعوث کیا گیا ہے چاہے مخالفین اس راستے میں کیسے ہی مخالفتوں کے پہاڑ کھڑے کردیں۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس آیت کریمہ میں جو مناصب بیان فرمائے ہیں اور جن ذمہ داریوں کا ذکر فرمایا ہے ان میں پہلا منصب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شاہد بنایا ہے۔ شاہد کا معنی ہے گواہ۔ یعنی آپ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے گواہ بن کر آئے ہیں۔ یہ لفظ اپنے اندر بڑی معنوی وسعت رکھتا ہے۔ اس میں تین قسم کی گواہیاں اور شہادتیں شامل ہیں۔
1 قولی شہادت : اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو دین نازل فرمایا ہے اس میں کچھ تو بنیادی حقائق اور اصول ہیں جنھیں ضروریاتِ دین اور ایمانیات کہا جاتا ہے۔ اس میں شریعت بھی ہے جو ان احکام کا مجموعہ ہے جن پر عمل کرنا امت مسلمہ کے لیے ضروری ہے۔ ان میں اوامر بھی ہیں اور نواہی بھی۔ اسی طرح ان میں اخلاق کی تعلیم بھی ہے اور فضائلِ اخلاق کی بھی۔ اسی طرح رذائلِ اخلاق کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ اس دین کی ایک تہذیب اور تمدن بھی ہے۔ اس کے اصول و ضوابط بھی بیان کیے گئے ہیں۔ ان تمام ضروریاتِ دین، احکامِ شریعت، نظام اخلاق، اسلامی تہذیب و تمدن کی ہر بات کی صداقت کی گواہی دینا اور اسے دلائل سے ثابت کرنا اور مخالفین کی تمام مخالفتوں کو اس راستے میں بالکل اہمیت نہ دینا اور نہایت انشراحِ صدر کے ساتھ ان میں سے ایک ایک قدر کو بیان کرنا، یہ وہ قولی شہادت ہے جس پر نبی کریم ﷺ فائز کیے گئے ہیں۔
2 عملی شہادت : آپ نے عقیدہ و عمل، نظام اخلاق اور تہذیب و تمدن کے حوالے سے جن اصول و ضوابط کو بیان فرمایا، جن نیکیوں کی ترغیب دی اور جن برائیوں سے روکا ان میں سے ایک ایک چیز پر عمل کرکے بھی دکھایا۔ آپ کی ذات نیکیوں کا حوالہ بن گئی۔ جن کو گناہ قرار دیا سب سے زیادہ اس سے مجتنب رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اجتماعی زندگی کے لیے جسے قانون قرار دیا، اسے نافذ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ اس طرح سے زندگی کے ہر شعبے میں اللہ تعالیٰ کے دین کے نفاذ اور خود اس پر عمل کرکے ایک ایسی عملی گواہی دی جس کے بعد اچھائی اور برائی کی تمیز واضح ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کا دین محسوس حالت میں لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ یہ وہ عملی شہادت ہے جس پر آنحضرت ﷺ کو فائز کیا گیا ہے۔
3 اخروی شہادت : اس کا مفہوم یہ ہے کہ آخرت میں جب اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہو اس وقت آنحضرت ﷺ اس امر کی شہادت دیں کہ جو پیغام ان کے سپرد کیا گیا تھا اسے آپ نے بےکم وکاست لوگوں تک پہنچا دیا۔ اپنے قول و عمل سے اسے پوری طرح واضح کردیا۔ چناچہ اسی کی پیشگی تائید کے لیے آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے پوچھا تھا کہ کیا میں نے اللہ تعالیٰ کا دین تم تک پہنچا دیا ہے اور کیا میں نے امانت کا حق ادا کردیا ہے۔ اور کیا میں نے خیرخواہی کرنے میں کوئی کمی تو نہیں چھوڑی۔ لوگ چیخ چیخ کے کہہ رہے تھے کہ آپ نے ہمت سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا دین ہم تک پہنچایا۔ یہ وہ اخروی شہادت ہے جس کے بعد جزاء و سزا کا فیصلہ ہوگا۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کیسے عظیم اور نازک منصب پر فائز کیے گئے تھے۔ اور اسی سے اس بات کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ امت کی فلاح وبقاء اور آخرت میں نجات کا دارومدار آنحضرت ﷺ کی ادائے شہادت پر ہے۔ اور یہ یہی منصب مجموعی طور پر امت کے سپرد کیا گیا ہے۔ یعنی جس طرح آنحضرت ﷺ نے قولی اور عملی طور پر اللہ تعالیٰ کے دین کی گواہی دی، اسی طرح امت مسلمہ کی ہر نسل دوسری نسل کے سامنے گواہی دینے کی ذمہ دار ٹھہرائی گئی ہے۔ اور جن لوگوں تک اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت نہیں پہنچی ہر دور کے مسلمان قیامت کے دن اس کے حوالے سے مسؤل ہوں گے۔ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا :
وقتِ فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
مُبَشِّرًاوَنَذِیْرًا … یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبشر اور نذیر بنا کے بھیجا ہے کہ جو لوگ آپ کے پیغام کو قبول کرلیں ان کو آپ ابدی فوزوفلاح کی خوشخبری دیں اور جو لوگ اس سے اعراض یا اس کی تکذیب کریں ان کو اس کے نتائج سے آگاہ کردیں۔ اور آپ کی جانب سے اس تبشیر و انذار کی حیثیت یہ ہے کہ اب نوع انسانی کی بھلائی آپ کی دعوت کو قبول کرنے میں ہے اور نوع انسانی کی تباہی آپ کی تکذیب میں ہے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ آپ کا کام صرف تبشیر اور انذار ہے، لوگوں سے اپنی بات منوانا نہیں۔ ردوقبول کے حوالے سے ذمہ داری سراسر ان لوگوں پر ہے جن کی طرف پیغمبر مبعوث ہوتا ہے۔
دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ … آپ لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلانے والے ہیں۔ لیکن آپ کے بلانے یا دوسروں کے بلانے میں فرق یہ ہے کہ آپ کا بلانا اللہ تعالیٰ کے اذن اور حکم سے ہے۔ گویا ایک ضمانت ہے کہ آپ کی دعوت دراصل اللہ تعالیٰ کی دعوت ہے۔ اس لیے جو شخص اسے قبول کرے گا اسے اطمینان ہونا چاہیے کہ اس دعوت میں کوئی کمی نہیں۔ اور جو شخص اس سے انکار کرے گا اسے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ انکار حضور کی دعوت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دعوت سے ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جب وہ کسی اہم کام پر اپنے نبی کو مامور فرماتا ہے تو وہ اس کو تنہاء نہیں چھوڑتا، بلکہ ہر قدم پر اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ چونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اذن سے اٹھے ہیں تو مخالفین کو سوچ لینا چاہیے کہ آپ کی مخالفت کے کیا نتائج ہوسکتے ہیں۔
سِرَاجًا مُّنِیْرًا … روشن چراغ۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایک روشن چراغ بنا کے بھیجا ہے جو خود بھی علم و حکمت کے نور سے منور ہے اور لوگوں کو بھی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی صراط مستقیم کی طرف لانے کے لیے رہنمائی کررہا ہے۔ اگر لوگ اس سراجِ منیر کی قدر نہیں کریں گے تو خود ہی اپنی تباہی کا سامان کریں گے اور آخرت میں تباہی ان کا مقدر ہو کے رہ جائے گی۔
Ayah 33:47وَبَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَہُمْ مِّنَ اللّٰہِ فَضْلاً کَبِیْرًا۔ (الاحزاب : 47)
(اور ایمان لانے والوں کو بشارت دیجیے ان کے لیے اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑا فضل ہے۔ )
اہلِ ایمان کو بشارت
گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی جن منصبی ذمہ داریوں کا ذکر فرمایا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کو مبشر بنا کر بھیجا گیا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو جو آپ ﷺ پر ایمان لاتے اور اس کا حق ادا کرتے ہیں اور ہر طرح کی مخالفتوں اور اذیتوں کے مقابلے میں استقامت کا ثبوت دیتے ہیں بشارت دیجیے کہ وہ مخالفوں کی مخالفت اور حالات کی نامساعدت سے پریشان نہ ہوں۔ عنقریب ان پر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے دروازے کھولنے والا ہے۔ بظاہر حالات کو دیکھتے ہوئے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی دعوت کے راستے میں مخالفت کے پہاڑ حائل ہوگئے ہیں اور مسلمانوں کو کسی طرف سے روشن مستقبل کی روشنی پھوٹتی نظر نہیں آتی۔ لیکن ان کا تعلق اور یقین جس پروردگار پر ہے وہ گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھی روشنی کو دیکھ لیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کا مستقبل کیا ہے۔ اس لیے آئندہ کی کامرانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ آپ ﷺ ان صاحب ایمان لوگوں کو خوشخبری سنا دیجیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہونے والا ہے۔ اس کی صورت کیا ہوگی وہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن مسلمانوں کو اطمینان رکھنا چاہیے۔
Ayah 33:48وَلاَ تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَدَعْ اَذٰھُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلاً ۔ (الاحزاب : 48)
(اور کافروں اور منافقوں کی پرواہ نہ کیجیے اور ان کی اذیت رسانیوں کو نظرانداز کیجیے، اور اللہ پر بھروسہ رکھئے، اور اللہ کارساز کے طور پر کافی ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
آپ ﷺ کی منصبی ذمہ داریوں میں انذار بھی شامل ہے۔ اس لیے آپ ﷺ کو نذیر کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ آپ ﷺ کی اسی ذمہ داری کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ کافر اور منافق جس طرح آپ کی ہر ممکن مخالفت پر تلے ہوئے ہیں آپ ان کی مخالفتوں کو بالکل وزن نہ دیں۔ یہ غوغائے رقیباں ہے جو خود اپنی موت مرجائے گا۔ اسی طرح منافقین آپ کو اذیت پہنچانے کے لیے جو فتنے اٹھا رہے ہیں آپ ان کا کوئی اثر قبول نہ کریں۔ مقابلے میں عاجز لوگ ایسی حرکتیں کیا ہی کرتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ وسائل کے سرچشموں پر ان کا قبضہ ہے اور اسباب کی دنیا کے وہ بادشاہ معلوم ہوتے ہیں۔ آپ ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھیں وہ سب سے بڑا قدرت والا اور سب سے بڑا سہارا ہے۔ جس کا وہ پشت پناہ ہو اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
یاد رہے کہ لفظ اطاعت جس طرح حکم ماننے کے معنی میں مستعمل ہے اسی طرح اس کا استعمال کسی بات کو اہمیت دینے، اس کی طرف دھیان کرنے اور اس کی پرواہ کرنے کے مفہوم میں بھی شائع و ذائع ہے۔ اور پیش نظر آیت کریمہ میں دوسرے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
Ayah 33:49یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَـکَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ فَمَا لَـکُمْ عَلَیْھِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَھَا ج فَمَتِّعُوْھُنَّ وَسَرِّحُوْھُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلاً ۔ (الاحزاب : 49)
(اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انھیں ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کا تمہیں لحاظ کرنا ہو، پس ان کو کچھ دے دلادو اور خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردو۔ )
ایک ضمنی سوال کا جواب
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس زمانے میں سورة الاحزاب نازل ہورہی تھی اس زمانے میں اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آیا کہ کسی شخص نے اپنی بیوی کو اس حال میں طلاق دے دی کہ اس نے اس سے کوئی رشتہ ازدواج قائم نہیں کیا تھا اور نہ خلوت صحیحہ ہوئی تھی۔ تو اس کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایسی صورت میں بیوی کے لیے عدت گزارنا ضروری نہیں۔ البتہ ان کو حسب استطاعت کچھ دے دلا کر باعزت طریقہ سے رخصت کردیا جائے۔ اس لحاظ سے یہ ایک منفرد آیت ہے جس کا تعلق نہ تو پچھلے سلسلہ بیان سے ہے اور نہ بعد کے سلسلہ بیان سے۔
بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ سورة النساء میں مسلمانوں کو تحدیدِازواج کا جو حکم دیا گیا تھا آیت پچاس سے باون تک جو آیات ہیں وہ سورة النساء کی اسی آیت پر استدراک کی حیثیت رکھتی ہیں۔ استداراک کی آیات سے پہلے یہ آیت بطور تمہید ہے جن میں متذکرہ بالا ایک ضمنی سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ فقہاء نے اس سے چند قانونی احکام مستنبط کیے ہیں۔ صاحب تفہیم القرآن نے نہایت خوبصورتی سے اس کا خلاصہ بیان کیا ہے، ہم یہاں اسے نقل کررہے ہیں۔
چند قانونی احکام کا خلاصہ
1 آیت میں اگرچہ ” مومن عورتوں “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس سے بظاہر یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ کتابی عورتوں کے معاملہ میں قانون وہ نہیں ہے جو یہاں بیان ہوا ہے لیکن تمام علمائِ امت کا اس پر اتفاق ہے کہ معنی ًیہ حکم کتابیات کے بارے میں بھی ہے۔ یعنی کتابی عورت سے بھی کسی مسلمان نے نکاح کیا ہو تو اس کی طلاق، اس کے مہر، اس کی عدت اور اس کو متعہ ٔ طلاق دینے کے جملہ احکام وہی ہیں جو مومن عورت سے نکاح کی صورت میں ہیں۔ علماء کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں مخصوص طور پر صرف مومن عورتوں کا ذکر جو کیا ہے اس سے مقصود دراصل اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ مسلمانوں کے لیے مومن عورتیں ہی موزوں ہیں۔ یہودی اور عیسائی عورتوں سے نکاح جائز ضرور ہے مگر مناسب اور پسندیدہ نہیں ہے۔ بالفاظِ دیگر قرآن کے اس اندازِ بیان سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اہل ایمان سے متوقع یہی ہے کہ وہ مومن عورتوں سے نکاح کریں گے۔
2 ” ہاتھ لگانے “ یا ” مس “ کرنے سے مراد لغت کے اعتبار سے تو محض چھونا ہے لیکن یہاں یہ لفظ کنایۃً مباشرت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس لحاظ سے ظاہر آیت کا تقاضا یہ ہے کہ اگر شوہر نے مباشرت نہ کی ہو تو خواہ وہ عورت کے پاس تنہائی میں رہا ہو بلکہ اسے ہاتھ بھی لگاچکا ہو تب بھی طلاق دینے کی صورت میں عدت لازم نہ آئے، لیکن فقہائے نے برسبیلِ احتیاط یہ حکم لگایا ہے کہ اگر خلوت صحیحہ ہوجائے (یعنی جس میں مباشرت ممکن ہو) تو اس کے بعد طلاق دینے کی صورت میں عدت لازم آئے گی اور سقوط عدت صرف اس حالت میں ہوگا جبکہ خلوت سے پہلے طلاق دے دی گئی ہو۔
3 طلاق قبل خلوت کی صورت میں عدت ساقط ہوجانے کے معنی یہ ہیں کہ اس صورت میں مرد کا حق رجوع باقی نہیں رہتا اور عورت کو یہ حق حاصل ہوجاتا ہے کہ طلاق کے فوراً بعد جس سے چاہے نکاح کرلے۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ یہ حکم صرف طلاق قبل خلوت کا ہے۔ اگر خلوت سے پہلے عورت کا شوہر مرجائے تو اس صورت میں عدت وفات ساقط نہیں ہوتی بلکہ عورت کو وہی چار مہینے دس دن کی عدت گزارنی ہوتی ہے جو منکوحہ مدخولہ کے لیے واجب ہے۔ (عدت سے مراد وہ مدت ہے جس کے گزرنے سے پہلے عورت کے لیے دوسرا نکاح جائز نہ ہو) ۔
4 مَالَـکُمْ عَلَیْھِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ (تمھارے لیے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے) کے الفاظ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ عدت عورت پر مرد کا حق ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ صرف مرد ہی کا حق ہے۔ دراصل اس میں دو حق اور بھی شامل ہیں۔ ایک حقِ اولاد، دوسرے حق اللہ یا حق الشرع۔ مرد کا حق وہ اس بنا پر ہے کہ اس دوران میں اس کو رجوع کرلینے کا حق ہے نیز اس بنا پر کہ اس کی اولاد کے نسب کا ثبوت اس بات پر منحصر ہے کہ عدت کے زمانہ میں عورت کا حاملہ ہونا یا نہ ہونا ظاہر ہوجائے۔ اولاد کا حق اس میں شامل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اپنے باپ سے بچے کے نسب کا ثابت ہونا اس کے قانونی حقوق قائم ہونے کے لیے ضروری ہے اور اس کے اخلاقی مرتبے کا انحصار بھی اس امر پر ہے کہ اس کا نسب مشتبہ نہ ہو۔ پھر اس میں حق اللہ (یا حق الشرع) اس لیے شامل ہوجاتا ہے کہ اگر لوگوں کو اپنے اور اپنی اولاد کے حقوق کی پرواہ نہ بھی ہو تو خدا کی شریعت ان حقوق کی حفاظت ضروری سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی مرد کسی عورت کو یہ پروانہ بھی لکھ کر دے دے کہ میرے مرنے کے بعد یا مجھ سے طلاق لے لینے کے بعد تیرے اوپر میری طرف سے کوئی عدت واجب نہ ہوگی تو تب بھی شریعت کسی حال میں اس کو ساقط نہ کرے گی۔
5 فَمَتِّعُوْھُنَّ وَسَرِّحُوْھُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلاً (ان کو کچھ مال دو اور بھلے طریقے سے رخصت کردو) اس حکم کا منشا دو طریقوں میں سے کسی ایک طریقے پر پورا کرنا ہوگا۔ اگر نکاح کے وقت مہر مقرر کیا گیا تھا اور پھر خلوت سے پہلے طلاق دے دی گئی تو اس صورت میں نصف مہر دینا واجب ہوگا جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت 237 میں ارشاد ہوا ہے۔ اس واجب سے زائد کچھ دینا لازم نہیں ہے مگر مستحب ہے۔ مثلاً یہ بات پسندیدہ ہے کہ نصف مہر دینے کے ساتھ مرد وہ جوڑا بھی عورت کے پاس ہی رہنے دے جو دلہن بننے کے لیے اسے بھیجا گیا تھا یا اور کچھ سامان اگر شادی کے موقع پر اسے دیا گیا تھا تو وہ واپس نہ لے لیکن اگر نکاح کے وقت مہر مقرر نہ کیا گیا ہو تو اس صورت میں عورت کو کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرنا واجب ہے اور یہ ” کچھ نہ کچھ “ آدمی کی حیثیت اور مقدرت کے مطابق ہونا چاہیے جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت 236 میں فرمایا گیا ہے۔ علماء کا ایک گروہ اس بات کا بھی قائل ہے کہ متعہ ٔ طلاق اس مال کو کہتے ہیں جو طلاق دے کر رخصت کرتے وقت عورت کو دیا جاتا ہے) ۔
6 بھلے طریقے سے رخصت کرنے کا مطلب صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ عورت کو کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے بلکہ اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کسی تُھکّا فضیحتی کے بغیر شریفانہ طریقے سے علیحدگی اختیار کرلی جائے۔ ایک آدمی کو اگر عورت پسند نہیں آئی ہے یا کوئی اور وجہ شکایت پیدا ہوئی ہے جس کی بنا پر وہ اس عورت کو نہیں رکھنا چاہتا تو بھلے آدمیوں کی طرح اسے طلاق دے اور رخصت کردے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اس کے عیوب لوگوں کے سامنے بیان کرے اور اپنی شکایتوں کے دفتر کھولے تاکہ کوئی دوسرا بھی اس عورت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ قرآن کے اس ارشاد سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ طلاق کے نفاذ کو کسی پنچایت یا عدالت کی اجازت کے ساتھ معلق کرنا خدائی تشریع کی حکمت و مصلحت کے بالکل خلاف ہے کیونکہ اس صورت میں ” بھلے طریقے سے رخصت کرنے “ کا کوئی امکان نہیں رہتا بلکہ مرد نہ بھی چاہے تو تُھکّافضیحتی اور بدنامی و رسوائی ہو کر رہتی ہے۔ علاوہ بریں آیت کے الفاظ میں اس امر کی کوئی گنجائش بھی نہیں ہے کہ مرد کا اختیارِ طلاق کسی پنچایت یا عدالت کی اجازت کے ساتھ مشروط ہو۔ آیت بالکل صراحت کے ساتھ ناکح کو طلاق کا اختیار دے رہی ہے اور اسی پر یہ ذمہ داری ڈال رہی ہے کہ اگر وہ ہاتھ لگانے سے پہلے عورت کو چھوڑنا چاہے تو لازماً نصف مہر دے کر یا اپنی حیثیت کے مطابق کچھ مال دے کر چھوڑے۔ اس سے آیت کا مقصد صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ طلاق کو کھیل بننے سے روکنے کے لیے مرد پر مالی ذمہ داری کا ایک بوجھ ڈال دیا جائے تاکہ وہ خود ہی اپنے اختیارِطلاق کو سوچ سمجھ کر استعمال کرے اور دو خاندانوں کے اندرونی معاملے میں کسی بیرونی مداخلت کی نوبت نہ آنے پائے بلکہ شوہر سرے سے کسی کو یہ بتانے پر مجبور ہی نہ ہو کہ وہ بیوی کو کیوں چھوڑ رہا ہے۔
7 ابن عباس، سعید بن المسیب، حسن بصری، علی بن الحسین (زین العابدین) ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نے آیت کے الفاظ ” جب تم نکاح کرو پھر طلاق دے دو “ سے یہ استدلال کیا ہے کہ طلاق اسی صورت میں واقع ہوتی ہے جبکہ اس سے پہلے نکاح ہوچکا ہو۔ نکاح سے پہلے طلاق بےاثر ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص یوں کہے کہ ” اگر میں فلاں عورت سے، یا فلاں قبیلے یا قوم کی عورت سے یا کسی عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے “ تو یہ قول لغو و بےمعنی ہے، اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوسکتی۔ اس خیال کی تائید میں یہ احادیث پیش کی جاتی ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا لاطلاق لا بن ادم فی مالایملک ” ابن آدم جس چیز کا مالک نہیں ہے اس کے بارے میں طلاق کا اختیار استعمال کرنے کا بھی وہ حق نہیں رکھتا۔ “ (احمد، ابودائود، ترمذی، ابن ماجہ) اور لاطلاق قبل النکاح ” نکاح سے پہلے کوئی طلاق نہیں۔ “ (ابن ماجہ) مگر فقہاء کی ایک بڑی جماعت یہ کہتی ہے کہ اس آیت اور ان احادیث کا اطلاق صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ کوئی شخص ایک غیر عورت کو جو اس کے نکاح میں نہ ہو یوں کہے کہ ” تجھ پر طلاق ہے “ یا ” میں نے تجھے طلاق دی۔ “ یہ قول بلاشبہ لغو ہے جس پر کوئی قانونی نتیجہ مرتب نہیں ہوتا لیکن اگر وہ یوں کہے کہ ” اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھ پر طلاق ہے “ تو یہ نکاح سے پہلے طلاق دینا نہیں ہے بلکہ دراصل وہ شخص اس امر کا فیصلہ اور اعلان کرتا ہے کہ جب وہ عورت اس کے نکاح میں آئے گی تو اس پر طلاق وارد ہوگی۔ یہ قول لغو و بےاثر نہیں ہوسکتا بلکہ جب بھی وہ عورت اس کے نکاح میں آئے گی اسی وقت اس پر طلاق پڑجائے گی۔ یہ مسلک جن فقہاء کا ہے ان کے درمیان پھر اس امر میں اختلاف ہوا ہے کہ اس نوعیت کے ایقاعِ طلاق کی وسعت کس حد تک ہے۔
امام ابوحنیفہ، امام محمد اور امام زفر کہتے ہیں کہ خواہ کوئی شخص عورت یا قوم یا قبیلے کی تخصیص کرے یا مثال کے طور پر عام بات اس طرح کہے کہ ” جس عورت سے بھی میں نکاح کروں اس پر طلاق ہے “ دونوں صورت میں طلاق واقع ہوجائے گی۔ ابوبکر جصاص نے یہی رائے حضرت عمر ( رض) ، عبداللہ بن مسعود ( رض) ابراہیم النخعی، مجاہد اور عمر بن عبدالعزیز رحمہم اللہ سے بھی نقل کی ہے۔
سفیان ثوری اور عثمان البتی کہتے ہیں کہ طلاق صرف اسی صورت میں پڑے گی جب کہنے والا یوں کہے کہ ” اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق۔ “
حسن بن صالح، لیث بن سعد اور عامر الشعبی کہتے ہیں کہ اس طرح کی طلاق عمومیت کے ساتھ بھی پڑ سکتی ہے بشرطیکہ اس میں کسی نوعیت کی تخصیص ہو۔ مثلاً آدمی نے یوں کہا ہو کہ ” اگر میں فلاں خاندان یا فلاں قبیلے یا فلاں شہر یا ملک یا قوم کی عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے۔ “
ابن ابی لیلیٰ اور امام مالک اوپر کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے مزید شرط لگاتے ہیں کہ اس میں مدت کا بھی تعین ہونا چاہیے۔ مثلاً اگر آدمی نے یوں کہا ہو کہ ” اگر میں اس سال یا آئندہ دس سال کے اندر فلاح عورت یا فلاں گروہ کی عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے “ تب یہ طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں۔ بلکہ امام مالک اس پر اتنا اضافہ اور کرتے ہیں کہ اگر یہ مدت اتنی طویل ہو جس میں اس شخص کا زندہ رہنا متوقع نہ ہو تو اس کا قول بےاثر رہے گا۔
Ayah 33:50یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّـآ اَحْلَلْنَا لَـکَ اَزْوَاجَکَ الَّتِیْٓ اٰ تَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ وَمَا مَلَـکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَـآئَ اللّٰہُ عَلَیْکَ وَبَنٰتِ عَمِّکَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَبَنٰتِ خَالِکَ وَبَنٰتِ خٰلٰـتِکَ الّٰتِیْ ھَاجَرْنَ مَعَکَ ز وَامْرَاۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّھَبَتْ نَفْسَھَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَالنَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْکِحَھَا ق خَالِصَۃً لَّـکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط قَدْعَلِمْنَا مَافَرَضْنَا عَلَیْھِمْ فِیْٓ اَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ لِکَیْلاَ یَکُوْنَ عَلَیْکَ حَرَجٌ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ (الاحزاب : 50)
(اے نبی ہم نے حلال کی ہیں آپ کے لیے آپ کی وہ بیویاں جنھیں آپ نے ان کے مہر ادا کیے اور وہ عورتیں جو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے آپ کی ملکیت میں آئیں، اور آپ کی چچا کی بیٹیوں اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیوں اور آپ کے ماموں کی بیٹیوں اور آپ کی خالائوں کی بیٹیوں میں سے بھی ان کو حلال ٹھہرایا جنھوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور اس مومن عورت کو بھی جو اپنی ذات نبی کو ہبہ کردے بشرطیکہ پیغمبر اس کو اپنے نکاح میں لانا چاہیں یہ رعایت خالصتاً آپ کے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں، ہمیں خوب معلوم ہے ہم نے جو کچھ ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں فرض کیا ہے تاکہ آپ پر کوئی تنگی نہ رہے اور اللہ غفورورحیم ہے۔ )
منافقین کے آنحضرت ﷺ پر اعتراضات کا جواب اور آپ ﷺ کے بعض امتیازات
پروردگار نے سورة النساء میں جب مسلمانوں کو تحدیدِ ازواج کا حکم دیا کہ ایک مسلمان چار سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتا اس وقت آنحضرت ﷺ کے نکاح میں بھی چار ہی بیویاں تھیں۔ حضرت سودہ، حضرت عائشہ، حضرت حفصہ اور حضرت ام سلمہ ( رض) ۔ لیکن جب پانچ ہجری میں آنحضرت ﷺ نے حضرت زینب بنت جحش ( رض) سے نکاح فرمایا تو منافقین نے مخالفت کا طوفان کھڑا کردیا کہ مسلمانوں کے لیے چار بیویوں سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت نہیں تو آپ ﷺ نے پانچویں بیوی کیسے کرلی ؟ کیا مسلمانوں کے لیے شریعت اور ہے اور آپ ﷺ کے لیے اور۔ اور دوسری یہ بات کہ آپ ﷺ نے اپنے متبنیٰ کی منکوحہ سے کیسے نکاح کرلیا جبکہ اہل عرب کی روایات اس کی اجازت نہیں دیتیں۔ اس دوسرے اعتراض کا جواب تو پہلے گزر چکا ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ نکاح آنحضرت ﷺ نے اپنی خواہش سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا ہے۔ لیکن دوسرے اعتراض کا جواب پوری تفصیل کے ساتھ پیش نظر آیت کریمہ میں دیا گیا ہے۔ اور اس میں یہ بھی بتایا ہے کہ نبی کریم ﷺ چونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں اس لیے آپ ﷺ کا کوئی کام اپنی خواہش اور اپنی مرضی سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔ آپ ﷺ اہل عرب کی روایات کے پابند نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور منشاء کے پابند ہیں۔ اور دوسری بات یہ فرمائی کہ حلال و حرام کی اصل اتھارٹی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اس کے سوا کسی اور کو تحلیل و تحریم کا حق نہیں پہنچتا۔ مسلمانوں پر چار کی قید لگانے والا اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ اسی کو یہ حق زیب دیتا ہے۔ اسی نے اپنے پیغمبر کے لیے بعض خصوصی احکام دیے ہیں جن میں پیغمبر پر بعض ایسی پابندیاں لگائی ہیں جو عام مسلمانوں پر نہیں۔ اور بعض ایسے احکام سے انھیں مستثنیٰ قرار دیا ہے جو عام مسلمانوں پر لازم ہیں۔ اور ایسا کرنا اس کا حق ہے کیونکہ وہی مطاع مطلق، وہی کبریائی کا مالک اور وہی جن و انس کو مطلقاً آئین و قانون دینے کا حق رکھتا ہے۔ چناچہ مسلمانوں پر اس نے اگر چار بیویوں کی قید لگائی ہے تو یہ اس کا حق ہے۔ اور اسی نے اگر اپنے نبی کو چار سے زیادہ بیویاں کرنے کی اجازت دی ہے تو یہ بھی اس کا حق ہے۔ کوئی شخص اگر اس کے پہلے حق کو تسلیم کرتا ہے اور دوسرے حق کو تسلیم نہیں کرتا تو اسے اپنی عقل پر ماتم کرنا چاہیے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں اس بنیادی بات پر زور دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جن بیویوں کے آپ ﷺ نے حق مہر ادا کیے ہیں اور وہ اس وقت پانچ تھیں وہ ہم نے حلال کی ہیں، کسی کو اگر اعتراض ہے تو اسے ہمارے اختیار پر ہونا چاہیے، آپ ﷺ تو اس کے اختیار کا اتباع کرنے والے ہیں اور اس کے حکم کی تعمیل کرنے والے ہیں آپ پر اعتراض کا کیا جواز ہے۔
اس میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ آپ کے لیے وہ بیویاں ہم نے جائز کردی ہیں جنھیں آپ نے حق مہر ادا کردیے ہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس کے بعد ان مملوکات کا ذکر آرہا ہے جو غنیمت کے طور پر آپ کو ملنے والی تھیں، جنھیں لونڈیاں کہا جاتا ہے، ان کا چونکہ حق مہر نہیں ہوتا۔ تو پہلی بیویوں کو ان سے ممتاز کرنے کے لیے مہر کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اس آیت کریمہ میں ان عورتوں کو بھی جائز کیا ہے جو عورتیں جہاد میں قید ہو کر آئیں۔ عام لونڈیاں مراد نہیں جنھیں خریدا اور بیچا جاتا تھا۔ جنگی اسیروں میں مرد بھی ہوتے تھے اور عورتیں بھی۔ مردوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا اور عورتوں کو لونڈیاں۔ اسلام کا منشاء یہ ہے کہ اگر دشمن اپنے قیدیوں کا تبادلہ کرنے پر راضی ہو تو اپنے قیدیوں کے بدلے میں ان کے قیدی چھوڑ دیے جائیں۔ اس طرح غلامی تک نوبت نہیں پہنچتی۔ اور اگر دشمن فدیہ دے کر چھڑانا چاہے تو اسلام نے اس کی بھی اجازت دی ہے۔ اور اگر مسلمان دشمن قیدیوں کو بےضرر سمجھ کر یا دشمن پر احسان کرتے ہوئے چھوڑنا چاہیں تو اسلام اس کی بھی اجازت دیتا ہے۔ لیکن اگر ایسی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو پھر اس زمانہ کے جنگی رواج کے مطابق قیدیوں کو غلام اور لونڈیاں بنا لیا جاتا تھا۔ اور اس میں کوشش یہ ہوتی تھی کہ غلاموں کو گھروں میں رکھ کر مسلمانوں کے معاملات کو دیکھنے کا موقع دیا جائے تاکہ وہ اسلام کی طرف راغب ہوں اور اسلام کی آغوش میں آجائیں۔ چناچہ اسی کا نتیجہ ہے کہ بیشتر قیدی غلام بننے کے بعد مسلمان ہوگئے۔ اور مسلمانوں نے انھیں اسلامی خدمات کے لیے وقف کردیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں بڑے بڑے مفسر اور محدث پیدا ہوئے۔ جہاں تک اسیر عورتوں کا تعلق ہے ان کا معاملہ زیادہ احتیاط کا تقاضا کرتا تھا۔ دشمن بالعموم اپنی ان عورتوں کو واپس نہیں لیتا جو قید میں پکڑی جاتی ہیں۔ اب اگر مسلمان انھیں یونہی چھوڑ دیتے تو جنگ عظیم کے قیدیوں کی طرح بداخلاقی کا ایک طوفان اٹھتا جس سے نسب تباہ ہو کر رہ جاتے۔ اور اگر انھیں لونڈیاں بنا کر گھروں میں رکھا جاتا لیکن مالک کو تمتع کی اجازت نہ دی جاتی تو یہ ایک ایسی غیرانسانی حرکت ہوتی جس کا نتیجہ حرام کاری کے سوا اور کچھ نہ ہوتا۔ اور اگر مسلمانوں کو پابند کردیا جاتا کہ وہ ان سے ضرور نکاح کریں تو اس سے دو مسئلے پیدا ہوجاتے۔ ایک تو یہ کہ ہر گھر میں پہلی بیویاں اپنے حقوق کا مطالبہ لے کر کھڑی ہوجاتیں۔ اور دوسرا یہ کہ آئے دن کی جنگوں میں غلاموں اور لونڈیوں کی تعداد تو مقرر نہیں کی جاسکتی تھی اس لیے چار بیویوں کا قانون متأثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوجاتا۔ اس لیے اسلام نے آنحضرت ﷺ کو بھی اور دوسرے مسلمانوں کو بھی یہ اجازت دی کہ آپ اسیر عورتوں کو جو ایک ضابطے کے تحت آپ کے حصے میں آئیں انھیں لونڈیاں بھی بنا سکتے ہو اور ان سے نکاح بھی کرسکتے ہو۔ اور آنحضرت ﷺ کا معاملہ تو اور زیادہ اہم تھا۔ کیونکہ جنگ و جہاد میں بسا اوقات شریف خاندانوں اور سرداروں کی بہوئیں اور بیٹیاں بھی اسیر بن کر آتی تھیں۔ قبائلی نقطہ نگاہ سے اور حکمت دین کے حوالے سے ضروری تھا کہ ان کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا جائے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے ایسی خاندانی عورتوں کے ساتھ عموماً نکاح فرمایا۔ حضرت جویریہ ( رض) غزوہ بنی المصطلق میں اور حضرت صفیہ ( رض) غزوہ خیبر کے موقع پر گرفتار ہوئیں اور دونوں سرداروں کی بیٹیاں تھیں۔ تو آپ نے ان کی خاندانی وجاہت کا لحاظ فرماتے ہوئے انھیں لونڈیوں کی حیثیت سے رکھنے کی بجائے اپنے حرم میں شامل فرما لیا۔ اور اگر آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس نکاح کی اجازت نہ دی ہوتی تو پھر آپ انھیں لونڈیاں بنا کر رکھنے کے پابند ہوتے اور ان سے نکاح نہ کرسکتے۔ کیونکہ اس صورت میں ازواج کی تعداد اسلام کے عام ضابطہ سے متجاوز ہوجاتی۔ اور اس طرح سے مسلمان ان فوائد کو حاصل نہ کر پاتے جو ان سیدات کو عزت دینے سے حاصل کیے جاسکتے تھے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ایک اور قسم کی عورتوں کو بھی اپنے نکاح میں لانے کی آپ کو اجازت دی۔ یہ وہ عورتیں ہیں جو آپ کی نہایت قریبی رشتہ دار ہیں۔ یعنی آپ کے چچا، پھوپھیوں، ماموئوں اور خالائوں کی بیٹیوں میں سے اگر کسی نے دین کی خاطر اپنے خویش و اقارب اور خاندان و قبیلہ کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہجرت کی ہے تو ان کی دلجوئی، دلدہی، قدردانی اور حوصلہ افزائی کے لیے آپ کو اجازت دی گئی کہ آپ ان میں سے کسی کو اپنے عقدنکاح میں لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں۔ چناچہ اسی اجازت کے تحت آپ نے حضرت ام حبیبہ ( رض) سے نکاح فرمایا۔ حضرت ام حبیبہ ( رض) ابوسفیان کی صاحبزادی تھیں جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ انھوں نے حبشہ کی طرف اپنے شوہر کے ساتھ ہجرت کی۔ ان کا شوہر وہاں پہنچ کر عیسائی ہوگیا اور پھر مرگیا۔ آپ نے حالت غربت اور تنہائی میں جس بےکسی اور بےبسی کے ساتھ اپنے ایمان کی حفاظت کی اور وقت گزارا، یہ ایک ایسی خدمت تھی جس کی قدردانی بہت ضروری تھی۔ چناچہ آپ نے حضرت نجاشی کے واسطے سے انھیں پیغامِ نکاح بھیجا اور انھیں کو اپنا وکیل بنا کر حضرت ام حبیبہ ( رض) سے نکاح کیا۔ ننھیالی رشتوں میں اگرچہ حضور ﷺ کا کوئی نکاح ثابت نہیں، لیکن ان میں بھی اگر کوئی ضرورت پیش آتی تو اس آیت کے تحت آپ ان سے بھی نکاح کرسکتے تھے۔
اس آیت میں مزید آپ کو یہ اجازت دی گئی کہ اگر کوئی مومن عورت آپ کو اپنی ذات ہبہ کردے، یعنی وہ بلا مہر اپنے آپ کو حضور ﷺ کے نکاح میں دینے کی پیشکش کرے اور اپنے حقوق میں سے بھی کسی حق پر اصرار نہ کرے، یعنی اپنے ہر حق سے دستبردار ہو کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں رہنے کی خواہش رکھتی ہو تو آپ کو اس کی اجازت دی گئی کہ اگر آپ اس کو پسند فرمائیں تو ایسی عورت کو اپنی زوجیت میں لے سکتے ہیں۔ چناچہ اسی اجازت کے تحت آپ نے شوال 7 ہجری میں حضرت میمونہ ( رض) کو اپنی زوجیت میں لیا۔ لیکن آپ نے یہ پسند نہیں فرمایا کہ مہر کے بغیر ان کے ہبہ سے فائدہ اٹھائیں۔ اس لیے آپ نے ان کی خواہش اور مطالبہ کے بغیر ان کو مہر عطا فرمایا۔ اور ان کے علاوہ کوئی اور موہوبہ بیوی آپ کے نکاح میں نہ تھیں حالانکہ صحابیات میں نہ جانے کتنی خواتین ایسی ہوں گی جو محض شرف نسبت حاصل کرنے کے لیے اس کی خواہش رکھتی ہوں، جبکہ انھیں بھی معلوم تھا کہ آپ کی گھریلو زندگی فقر و فاقہ کی زندگی ہے۔
اس کے بعد فرمایا کہ یہ چار سے زیادہ بیویوں کی اجازت اور ایسی عورت سے بلامہر نکاح جو اپنے آپ کو اس کے لیے ہبہ کردے یہ صرف آنحضرت ﷺ کی خصوصیت ہے، دوسرے کسی کے لیے اس کی اجازت نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ احکام میں نبی کریم ﷺ کی کچھ خصوصیات بھی ہیں۔ یعنی ان میں آپ امت کے ساتھ شریک نہیں ہیں۔ بعض احکام میں آپ کو استثناء دیا گیا ہے اور بعض میں آپ پر کچھ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ مثلاً آنحضرت ﷺ پر نمازتہجد فرض کی گئی۔ آپ کے لیے اور آپ کے خاندان والوں کے لیے صدقہ لینا حرام قرار دیا گیا، آپ کی میراث تقسیم نہیں ہوتی کیونکہ آپ نے اپنے پیچھے کوئی میراث نہیں چھوڑی۔ آپ کے لیے چار سے زائد بیویاں حلال کی گئیں، بیویوں کے درمیان عدل آپ پر واجب نہیں کیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ سے بڑھ کر بیویوں کے درمیان کسی نے عدل نہیں کیا۔ اپنے نفس کو ہبہ کرنے والی عورت سے بلامہر آپ کو نکاح کرنے کی اجازت دی گئی اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی تمام بیویاں امت پر حرام کردی گئیں۔ کیونکہ وہ ساری امت کی مائیں قرار دی گئیں۔ آپ کے لیے کتابیہ عورت سے نکاح کرنے پر پابندی عائد کی گئی جبکہ باقی امت کے لیے اسے حلال ٹھہرایا گیا۔
اس کے بعد فرمایا کہ ہم کو خوب معلوم ہے جو کچھ ہم نے مسلمانوں کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں فرض کیا ہے۔ اس میں دراصل سورة النساء کی آیت 3 کی طرف اشارہ ہے جس میں مسلمانوں پر چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کی پابندی لگائی گئی ہے۔ یعنی ہم مسلمانوں کو تحدیدِ ازواج اور لونڈیوں کے بارے میں جو احکام دے چکے ہیں وہ ہمارے پیش نظر ہیں۔ لیکن ہم نے اس آیت کریمہ میں جس طرح آپ کو چار سے زیادہ بیویاں کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ آپ مہر انھیں ادا کردیں۔ اسی طرح اپنے قریبی رشتہ کی ایسی خاتون سے جس نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو، اور ایسی خاتون سے جو جہاد کے نتیجہ میں بطور غنیمت حاصل ہو اور ایسی کسی خاتون سے جو اپنی ذات کو آپ ﷺ کو ہبہ کردے اور آپ ﷺ اس سے نکاح کرنا پسند فرمائیں۔ آپ کو یہ سہولتیں اس لیے دی گئی ہیں تاکہ اس باب میں آپ پر کوئی تنگی نہ رہے۔ سوال یہ ہے کہ اس تنگی نہ رہنے کا مفہوم کیا ہے۔ جو لوگ آنحضرت ﷺ کے بلند مقام سے آگاہ نہیں یا انھوں نے آپ کے سیرت و کردار کا مطالعہ نہیں کیا وہ بعض دفعہ اس سے غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور اس سے یہ مطلب نکالتے ہیں کہ آپ کو شاید خواہشاتِ نفسانی پورا کرنے کی کھلی اجازت دی گئی تھی۔ لیکن جن لوگوں نے آپ کے سیرت و کردار کا کچھ بھی مطالعہ کیا وہ کبھی بھی اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ اب وہ جانتے ہیں کہ آپ جوانی میں ایسی حسین و جمیل شکل و صورت کے مالک تھے کہ کسی نگاہ نے آپ جیسا کوئی دوسرا جوان نہ دیکھا تھا اور مکہ بھر میں آپ سے زیادہ کوئی نیک نام نہ تھا۔ خاندانی شرافت کے اعتبار سے آپ کسی سے کم نہ تھے۔ اور پچیس سال کی عمر میں آپ ایک کامیاب تاجر کی شہرت حاصل کرچکے تھے۔ ان تمام صفات کی موجودگی میں آپ کے لیے کسی نوجوان دوشیزہ سے شادی کرنا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ باایں ہمہ آپ نے ایک ایسی خاتون سے شادی کی جو آپ سے پندرہ سال عمر میں بڑی تھیں۔ لیکن اپنی عفت مآبی اور حُسنِ کردار میں اپنا ثانی نہ رکھتی تھیں۔ اور ان کی وفات تک جبکہ آپ کی عمر باون سال ہوچکی تھی نہایت خوشدلی سے ان کے ساتھ زندگی گزاری۔ ان کے انتقال کے بعد حضرت سودہ ( رض) سے شادی فرمائی جو ایک عمر رسیدہ خاتون تھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) آپ کے گھر میں اس وقت آئیں جب آپ کی عمر تقریباً پچپن سال کی ہوچکی تھی اور ستاون سال کی عمر تک آپ کے گھر میں چار بیویاں تھیں۔ اس تفصیل کو دیکھتے ہوئے کیا کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہوسکتا ہے کہ پروردگار آپ کی جس تنگی کو دور کرنے کا ذکر فرما رہا ہے اس کا تعلق نفسانیت سے تھا۔
آپ کے لیے حرج اور تنگی کو دور کرنے کے دو حوالے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ ایک ایسی قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے جس سے زیادہ ناتراشیدہ قوم کوئی نہ تھی۔ ایسی قوم کو من حیث المجموع بدل دینا آپ کے پیش نظر تھا۔ آپ نے ان کی معاشرت کو بدلا، معیشت کو سنوارا، اخلاق و عادات درست کیے، ان کی زندگی کی ترجیحات بدلیں، قبائلی تعصب سے نکال کر امت کا شعور ان میں پیدا کیا، نفسانی عوارض کو ملی اور نظریاتی عواطف و میلانات میں بدلا۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ مردوں ہی میں پیدا نہیں کیا، عورتوں میں بھی پیدا فرمایا۔ کیونکہ جس طرح مردوں کی تعلیم و تربیت آپ کی ذمہ داری تھی، اسی طرح عورتوں کی تعلیم و تربیت بھی آپ کے فرائض میں شامل تھی۔ اب مشکل یہ تھی کہ آپ نے مردوں میں انفرادی اور اجتماعی اصلاح و تربیت کے لیے تو اپنے اصحاب کو اپنی معاونت کے لیے ہمراہ رکھا۔ لیکن عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لیے آپ کا کوئی معاون نہ تھا۔ اور آپ خود بھی آزادانہ ان کے اندر آجا نہیں سکتے تھے۔ کیونکہ اسلام نے مردوں اور عورتوں کا آزادانہ اختلاط ممنوع قرار دے رکھا ہے۔ اگر آپ اس قاعدے کو توڑتے تو بعد کے آنے والے امت کے رہنما اور پیشوا اس سے نہ جانے کیسے فائدہ اٹھاتے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ انتظام فرمایا۔ اور اس کے سوا اور کوئی صورت ممکن بھی نہ تھی کہ مختلف عمروں اور ذہنی صلاحیتوں کی متعدد خواتین سے آپ کا نکاح فرمایا۔ اور آپ نے انھیں براہ راست تعلیم و تربیت دے کر اپنی مدد کے لیے تیار کیا۔ چناچہ آپ کی ازواجِ مطہرات نے اللہ تعالیٰ کا دین پہنچانے، سکھانے اور اس کے مطابق تربیت دینے کے جو کارنامے انجام دیے ہیں وہ اگر جلیل القدر صحابہ سے بڑھ کر نہیں تو ان سے کسی طرح کم بھی نہیں۔
آنحضرت ﷺ کے سپرد ایک اور خدمت بھی کی گئی تھی کہ آپ نے صرف اللہ تعالیٰ کے دین کو بندوں تک پہنچانا ہی نہیں تھا بلکہ پرانے جاہلی نظام زندگی کو ختم کرکے اس کی جگہ اسلامی نظام زندگی کو عملاً قائم کرنا تھا۔ اور اسلامی قوتوں کے لیے ایک ایسا بیس اور مرکز فراہم کرنا تھا جو انقلاب کا سرچشمہ بنے اور وہاں سے دنیا کے ان علاقوں میں اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لیے جماعتیں نکلتی رہیں جہاں اللہ تعالیٰ کا دین نہیں پہنچا تھا۔ اس خدمت کی انجام دہی میں جاہلی نظام کے علمبرداروں سے جنگ ناگزیر تھی۔ اور یہ کشمکش ایک ایسے ملک میں پیش آرہی تھی جہاں قبائلی روایات پوری طرح زندہ تھیں اور ہر قبیلہ اپنے اعتقادات کی حفاظت میں دوسرے قبیلوں کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ تھا۔ چناچہ ان تمام قوتوں کو توڑنے اور ان کے مقابلے میں حزب اللہ کو قائم اور مضبوط کرنے کے لیے ضروری تھا کہ آپ مختلف خاندانوں میں نکاح کرکے بہت سی دوستیوں کو پختہ اور بہت سے عداوتوں کو ختم یا کمزور کردیں۔ چناچہ اگر گہری نظر سے دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ جن خواتین سے آپ نے شادیاں فرمائیں ان کے ذاتی اوصاف کے علاوہ ان کے انتخاب میں یہ مصلحت بھی کم و بیش شامل تھی۔ حضرت عائشہ ( رض) اور حضرت حفصہ ( رض) کے ساتھ نکاح کرکے آپ نے حضرت ابوبکر صدیق ( رض) اور حضرت عمر ( رض) کے ساتھ اپنے تعلقات کو اور زیادہ گہرا اور مستحکم کردیا۔ حضرت ام سلمہ ( رض) اس خاندان کی بیٹی تھیں جس سے ابوجہل اور حضرت خالد بن ولید ( رض) جیسے لوگوں کا تعلق تھا۔ اور حضرت ام حبیبہ ( رض) حضرت ابوسفیان کی بیٹی تھیں۔ ان شادیوں نے بڑی حد تک ان خاندانوں کی دشمنی کے اشتعال کو مدھم کردیا۔ حضرت ام حبیبہ ( رض) سے نکاح کے بعد ابوسفیان پھر کبھی حضور ﷺ کے مقابلے میں نہ آئے۔ حضرت صفیہ، جویریہ اور ریحانہ یہودی خاندانوں سے تھیں۔ ان سے نکاح کے نتیجے میں یہودیوں کی سرگرمیاں ٹھنڈی پڑگئیں۔ کیونکہ اس زمانے کی عربی روایات کے مطابق داماد سے لڑنا بڑے عار کی بات سمجھی جاتی تھی۔ غور فرمایئے کہ اگر پروردگار آپ کو چار سے زیادہ بیویاں کرنے کی اجازت نہ دیتا اور آپ کے لیے مزید کچھ آسانیاں پیدا نہ فرماتا، تو جو عظیم کام آپ کے سپرد کیا گیا تھا اس کی بجاآوری میں کس قدر دشواریاں پیش آتیں۔
Ayah 33:51تُرْجِیْ مَنْ تَشَآئُ مِنْھُنَّ وَتُؤِْیْٓ اِلَیْکَ مَنْ تَشَآئُ ط وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ غَزَلْتَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکَ ط ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُھُنَّ وَلاَ یَحْزَنَّ وَیَرْضَیْنَ بِمَآ اٰ تَیْتَھُنَّ کُلُّھُنَّ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِکُمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا۔ (الاحزاب : 51)
(آپ ان بیویوں میں سے جس کو چاہیں اپنے سے الگ رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے ساتھ رکھیں، اگر آپ ان میں سے کسی کے طالب بنیں جن کو آپ نے دور کردیا تھا اس میں بھی کوئی حرج نہیں، یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں، اور وہ اس پر راضی رہیں جو کچھ بھی آپ ان سب کو دیں، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اور اللہ علم رکھنے والا اور بردبار ہے۔ )
خانگی زندگی کے سکون کے لیے بعض حقوق میں آپ ﷺ کو رعایت
نبی کریم ﷺ کو جس کارعظیم کے لیے مبعوث کیا گیا اس کی اہمیت اور وسعت کے پیش نظر جہاں یہ ضروری ٹھہرا کہ بیویوں کے معاملے میں آپ پر وہ پابندیاں نہ لگائی جائیں جو عام مسلمانوں پر عائد کی گئی ہیں، وہیں یہ بات بھی ضروری ٹھہری کہ آپ کو خانگی زندگی کا سکون مہیا کیا جائے۔ اگر عورتوں کی اسلامی تعلیم و تربیت کے لیے گھر میں بیویوں کی تعداد 9 تک پہنچے گی اور مملوکات اس کے علاوہ ہوں گی تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کے آپس کے تعلقات میں روزانہ کیسی الجھنیں پیدا ہوں گی۔ اور نبی کریم ﷺ پر ان کے جو حقوق ہیں ان کی ادائیگی میں جو آپ کی مصروفیت کے باعث کبھی کمی بیشی ہوگی تو انھیں کیسی شکایات پیدا ہوں گی۔ اور مزید یہ بات بھی کہ ازواجِ مطہرات چونکہ اپنے دلوں میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ بےپناہ عقیدت و محبت رکھتی تھیں، اس حوالے سے یقینا ہر ایک آپ کے قرب کی خواہش کریں گی تو اس طرح سے ان کے اندر رقابت کے جذبات پیدا ہونا ایک سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ اس طرح کی کئی الجھنیں اور اڑچنیں تھیں جو آنحضرت ﷺ کی خانگی زندگی میں پیدا ہوسکتی تھیں اور جس کے نتیجے میں وہ عظیم کام متأثر ہوسکتا تھا جس پر انسانیت کی فلاح وبقاء کا دارومدار تھا۔ چناچہ پروردگار نے ایسی تمام الجھنوں اور اڑچنوں کو دور کرنے کے لیے پیش نظر آیت کریمہ میں ہدایات جاری فرمائیں۔
سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی کہ آپ جن عورتوں کو اپنے عقدازدواج میں لائیں ان کا بنیادی حق بطور بیوی کے آپ کی قربت ہے۔ اور اس میں ہر بیوی دوسری کے ساتھ برابر کا حق رکھتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار دے دیا کہ آپ حقوق زوجیت میں کسی کے پابند نہیں، جس بیوی کو چاہیں اپنی قربت کا موقع دیں اور جسے چاہیں اس سے محروم رکھیں۔ ان بیویوں کے ساتھ عقد نکاح کا بنیادی مقصد دینی مصلحت ہے۔ آپ انھیں تعلیم و تربیت کے ذریعے خواتینِ اسلام کی تعلیم و تربیت کے کام میں لگانا چاہتے ہیں، اس لیے آپ کی بیویوں کا اصل ہدف آپ سے دین سیکھنا اور دوسروں کو سکھانا ہونا چاہیے۔ رہی آپ سے ازدواجی نسبت یہ ان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ حقِ زوجیت کی ادائیگی یہ ان کا حق نہیں آپ کا اختیار ہے جسے چاہیں قرب بخشیں اور جسے چاہیں دور رکھیں۔
اور دوسری بات یہ فرمائی کہ جس بیوی کو آپ نے حق زوجیت سے معزول کردیا ہو آپ اگر دوبارہ اسے اپنے پاس بلانا چاہیں تو کوئی مضائقہ نہیں آپ کو اس کا بھی پورا اختیار ہے۔ اس طرح سے آپ بیویوں کے درمیان نہ باریاں مقرر کرنے کے پابند ہیں اور نہ تعلقات میں عدل و مساوات آپ کی ذمہ داری ہے۔ آپ کے نکاح میں آنے والی خواتین جب اس حقیقت کو سمجھ لیں گی تو آپ کی ایک جھلک ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کافی ہوگی۔ آپ جو کچھ انھیں دیں گے اور جن حقوق سے گراں بار کریں گے وہ ان پر راضی ہوں گی۔ چناچہ آنحضرت کو اس اختیار کے مل جانے کے بعد بیویوں میں مسابقت اور رقابت کے امکانات ختم ہوگئے اور ان کے حقوق کا بار آپ کے سر سے اتر گیا۔ باایں ہما احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس اختیار کو کبھی استعمال نہ فرمایا۔ آپ نے اپنی ازواج کے درمیان ہمیشہ عدل کیا، کسی کو کسی پر ترجیح نہ دی، باقاعدہ باری مقرر کرکے آپ سب کے یہاں تشریف لے جاتے رہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) کا قول بخاری، مسلم، نسائی اور ابودائود وغیرہم نے نقل کیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد حضور ﷺ کا طریقہ یہی رہا کہ آپ ہم میں سے کسی بیوی کی باری کے دن دوسری بیوی کے یہاں جاتے تو اس سے اجازت لے کر جاتے تھے۔ حضرت عروہ بن زبیر ( رض) حضرت عائشہ ( رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ باریوں کی تقسیم میں کسی پر کسی کو ترجیح نہ دیتے تھے۔ اگرچہ کم ہی ایسا ہوتا تھا کہ آپ کسی روز اپنی سب بیویوں کے پاس نہ جاتے ہوں، مگر جس بیوی کی باری کا دن ہوتا تھا اس کے سوا کسی دوسری بیوی کو چھوتے تک نہ تھے۔ اور یہ روایت بھی حضرت عائشہ ( رض) ہی سے ہے کہ جب حضور ﷺ اپنی آخری بیماری میں مبتلا ہوئے اور نقل و حرکت آپ کے لیے مشکل ہوگئی تو آپ نے سب بیویوں سے اجازت طلب کی کہ مجھے عائشہ کے یہاں رہنے دو ۔ اور جب سب نے اجازت دے دی تب آپ نے آخری زمانہ حضرت عائشہ ( رض) کے یہاں گزارا۔
آیت کے آخر میں ایک تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ علیم بھی ہے اور حلیم بھی۔ کہ اگر ازواج مطہرات میں سے کوئی زوجہ محترمہ اس حکم کے آجانے کے بعد دل میں کبیدہ خاطر ہوں گی اور کسی حق کے نہ ملنے پر شاکی ہوں گی تو گرفت سے نہ بچ سکیں گی اور عام لوگوں کے لیے بھی اس میں تنبیہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ازدواجی زندگی کے متعلق کسی طرح کی بدگمانی بھی اپنے دل کے کسی گوشہ میں رکھی تو اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپی نہیں رہے گی کیونکہ وہ علیم ہے۔ اس لیے وہ اپنے علم کے مطابق اس پر گرفت فرمائے گا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی شان میں کسی طرح کی گستاخی بھی اللہ تعالیٰ کے یہاں سخت سزا کی مستحق ہے۔ لیکن وہ علیم ہونے کے ساتھ ساتھ چونکہ حلیم بھی ہے اس لیے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس کا امکان بھی کھلا رکھتا ہے کہ کوئی شخص اگر اپنی اصلاح کرنا چاہے اور وہ ایسے ہر طرح کے وسوسوں سے اپنے دل و دماغ کو فارغ کردے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے۔
Ayah 33:52لاَ یَحِلُّ لَکَ النِّسَآئُ مِنْ م بَعْدُ وَلَآ اَنْ تَبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکَ حُسْنُھُنَّ اِلاَّ مَامَلَـکَتْ یَمِیْنُکَ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ رَّقِیْبًا۔ (الاحزاب : 25)
(اس کے بعد آپ کے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں اور نہ اس کی اجازت ہے کہ آپ ان کی جگہ دوسری بیویاں لے آئیں چاہے ان کا حسن آپ کو کتنا ہی اچھا لگے، سوائے لونڈیوں کے، اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔ )
نکاح کے معاملے میں آنحضرت ﷺ پر بعض پابندیاں
آیت پچاس میں خواتین کی جن اصناف کا ذکر فرمایا گیا ہے ان کے علاوہ تمام عورتیں نبی کریم ﷺ کے لیے حرام کردی گئیں۔ ہمارے اکثر آئمہ ٔ تفسیر کے ساتھ ساتھ علامہ ابن کثیر نے بھی یہی رائے نقل کی ہے کہ وَمَاسِوٰی ذَلِکَ مِنْ اَصْنَافِ النِّسَائِ فَلاَ یَحِلُّ لَکَ ” یعنی ان کے سوا دوسری اقسام کی جو خواتین ہیں وہ تمہارے لیے جائز نہیں جبکہ دوسرے مسلمانوں کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ چار کی حد کو ملحوظ رکھتے ہوئے محرمات کے دائرے سے باہر جس عورت سے چاہیں نکاح کریں۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کو اس بات کا بھی پابند کیا گیا کہ آپ اپنی ازواج میں سے کسی کو الگ کرکے دوسری بیوی نہیں لاسکتے، اگرچہ وہ آپ کی نظروں میں کتنی ہی پسندیدہ کیوں نہ ہو، جبکہ دوسرے مسلمانوں کو اس کی اجازت تھی کہ وہ اپنی منکوحات میں سے جس کو چاہیں طلاق دے کر اس کی جگہ کوئی دوسری بیوی اپنی پسند کی بیاہ لائیں۔ البتہ آپ کو دیگر مسلمانوں کی طرح ملک یمین کی اجازت دی گئی، یعنی آپ ان لونڈیوں سے تمتع کرسکتے تھے جو آپ کو جنگ و جہاد میں مال غنیمت کے نتیجے میں ہاتھ آئیں۔ ان میں بھی جو عورتیں بڑے گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں ان کو آپ نے آزاد کرکے مہردے کر ان سے نکاح کرلیا۔ صرف ایک حضرت ماریہ ( رض) ہیں جنھیں مقوقسِ مصر نے آپ کی خدمت میں تحفۃً بھیجا تھا، وہ آپ کے قبضہ میں آئیں اور ان سے آپ نے تمتع کیا اور ان کے بطن سے آپ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم ( رض) پیدا ہوئے۔
یہ یاد رہے کہ نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں پر غلاموں اور لونڈیوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آئے دن کی جنگوں میں جو قیدی پکڑے جاتے انھیں غلام بنا لیا جاتا اور جو عورتیں پکڑی جاتیں ان کو لونڈیاں بنا لیا جاتا۔ تو نہ جنگوں کی تعداد مقرر کی جاسکتی تھی اور نہ جنگی اسیروں کی۔ تو غلاموں اور لونڈیوں کی تعداد کیسے مقرر کی جاتی۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح مالدار لوگوں کے لیے عیاشی کا ایک ذریعہ نکالا گیا ہے جس سے نفس پرست لوگوں نے بیجا فائدہ اٹھایا۔ ممکن ہے کسی زمانے میں ایسا ہوا ہو لیکن سوال یہ ہے کہ قانون تو لوگوں کی سہولت کے لیے بنایا جاتا ہے اور اس میں انسانی ضروریات کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص اس سے غلط فائدہ اٹھائے، تو اس میں قانون کا کیا قصور ہے۔ مثلاً شریعت ایک مرد کو چار تک بیویاں کرنے کی اجازت دیتی ہے اور اسے یہ حق بھی دیتی ہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر دوسری بیوی لے آئے۔ اور یہ حق اسے انسانی ضروریات کے تحت دیا گیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص محض عیاشی کی خاطر بیویوں کو بدلتا رہے تو یہ قانون کی گنجائشوں سے ناروا فائدہ اٹھانا ہے جس کی ذمہ داری خود اس شخص پر ہے، قانون پر نہیں۔ اور نبی کریم ﷺ نے ایسی رعایتوں سے کبھی فائدہ نہیں اٹھایا۔ اور آپ نے جتنے نکاح بھی کیے حظ نفس کے لیے نہیں، تالیفِ قلب، دلداری اور مصالح ملت کی خاطر کیے۔ آپ پر اصلاحِ خلق کا جو عظیم بار ڈالا گیا تھا ازواجِ مطہرات نے آپ کے ساتھ شریک ہو کر اس بار میں اپنا حصہ ادا کرنے کی کوشش کی۔ جب کوئی شخص اس پہلو سے آنحضرت ﷺ کی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور ازواجِ مطہرات کے عمل کو دیکھے گا تو اسے آپ کا گھرانہ غیرمعمولی ہی نہیں فرشتوں کا گھر معلوم ہوگا۔
آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگران ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ آیت تذکیر و تنبیہ کے لیے ہے اور اس کے مخاطب آنحضرت ﷺ بھی ہیں اور ازواجِ مطہرات بھی۔ اور درجہ بدرجہ باقی لوگ بھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر شخص مسٔول ٹھہرایا گیا ہے اور جو جتنا بڑا ہے اتنا ہی زیادہ مسٔول ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نبی چونکہ ہر معاملے میں امت کے لیے نمونہ ہیں وہ باوجود اس کے کہ معصوم بھی ہیں اور محفوظ بھی۔ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے یہاں مسٔولیت کے حوالے سے ہمیشہ اپنا محاسبہ کرتے رہے ہیں۔ اور ان کا یہ محاسبہ بھی امت کے لیے ایک نمونہ بن گیا ہے۔