Ayahs 32:1–2الٓـمّٓ۔ تَنْزِیْلُ الْـکِتٰبِ لاَ رَیْبَ فِیْہِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (السجدۃ : 1، 2)
(ا۔ ل۔ م۔ اس کتاب کی تنزیل بلاشبہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔ )
چند اہم باتوں کی طرف اشارہ
اس آیت کریمہ میں چند اہم باتوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ 1 قرآن پاک کے نزول کے لیے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں، انزال اور تنزیل۔ انزال کا معنی ہے یکبارگی اتارنا۔ اور تنزیل کا معنی ہے تھوڑا تھوڑا اور نہایت اہتمام سے اتارنا۔ ان دونوں باتوں سے قرآن پاک کی عظمت، اہمیت اور حفاظت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ قرآن پاک وہ ہے جسے دو دفعہ اتارا گیا۔ ایک لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا پر۔ یہ یکبارگی ہوا۔ اور دوسرا آسمانِ دنیا سے نبی کریم ﷺ کے قلب مبارک پر۔ یہ تھوڑا تھوڑا نجما ًنجماً ہوا تاکہ اچھی طرح آپ ﷺ کے دل و دماغ میں پیوست ہوجائے اور لوگوں کے عمل کا حصہ بن جائے۔ اور نہایت اہتمام کے ساتھ نازل کیا گیا۔ یعنی اس کا نزول فرشتوں کی حفاظت میں حضرت جبریل امین (علیہ السلام) کی قیادت میں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ساتھ ہوا۔ جس کتاب کا اترنا اس شان کے ساتھ ہو اس کی عظمت اور اہمیت کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے۔ 2 لاَرَیْبَ فِیْہِ اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ کفار مکہ کو اصل انکار اسی بات سے تھا کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے نہیں بلکہ محمد ﷺ نے اپنے پاس سے گھڑ لی ہے۔ اس لیے خاص طور پر زور دے کر فرمایا گیا کہ اس کتاب کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کی دو وجہیں ہیں : ایک یہ کہ اس کتاب کے اندر ایسی شہادتیں موجود ہیں جو اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ کیونکہ یہ کتاب ایسی زبان میں نازل ہورہی ہے جو عربی زبان ہونے کے باوجود اہل عرب کے تصور سے بھی بہت بلند ہے۔ ان کے ادباء اور خطباء اپنی تمام تر فصاحت و بلاغت کے باوجود اس کلام کی نقل اتارنے سے قاصر ہیں۔ جس عظیم ذات پر یہ کتاب نازل ہورہی ہے وہ خود عرب کی سب سے زیادہ فصیح شخصیت ہیں۔ باایں ہمہ وہ خود جو زبان بولتے ہیں اسے قرآن کریم کی زبان سے کوئی نسبت نہیں۔ مزید یہ بات کہ اس کتاب میں جو نظام زندگی پیش کیا گیا اس کے مرتب و منظم ہونے، انسانی مسائل کے حل کرنے اور زندگی کے تمام شعبوں میں باہمی ربط و ضبط پیدا کرنے اور قانون اور اخلاق کو باہم پیوست کرنے اور دنیا اور آخرت کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے میں ایسا جامع واقع ہوا ہے اور اس کی ہر بات ایسی حتمی ثابت ہوئی ہے کہ آج تک اس کی کوئی دفعہ دوسری دفعہ سے متصادم نہیں ہوئی، اس میں کبھی کسی ترمیم کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، اسے کبھی ازکاررفتہ اور زمانے کی رفتار سے پیچھے رہ جانے والا قرار نہیں دیا گیا۔ اس کی تازگی، شادابی اور شگفتگی اسی طرح ہے جیسے اس کے نزول کے وقت تھی۔ مزید یہ کہ اس کے علمی مسلمات کو آج تک چیلنج نہیں کیا جاسکا، اس کے تاریخی محاکمے آج تک اپنی جگہ اٹل ہیں، اس کی پیش گوئیاں ثابت ہوچکیں یا آئندہ ثابت ہوجائیں گی، اس کی کسی بات کو آج تک غلط ثابت نہیں کیا جاسکا۔ یہ کم سے کم وہ شواہد ہیں جو قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہوئے ہر اہل علم محسوس کرسکتا ہے۔
دوسری وجہ اس ذات عزیز کی شخصیت ہے جس پر قرآن کریم نازل ہوا ہے اور اس کے لیے باہر سے سند لانے کی ضرورت نہیں۔ مکہ معظمہ کے رہنے والوں میں بیشتر لوگ خود اس کے چشم دید گواہ ہیں۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اپنا بچپن، لڑکپن، جوانی اور قبل از نبوت تمام عرصہ انھیں میں گزارا۔ آپ ﷺ کا خاندان وہیں آباد تھا، آپ ﷺ کے تمام عزیز وہاں تھے، آپ نے انھیں میں شادی کی، وہیں آپ کی اولاد پروان چڑھی، انھیں کے ساتھ آپ نے تجارت کی اور بیرون ملک سفر بھی کیے، وہ لوگ آپ کی زندگی کے ہر پہلو سے شناسا اور گواہ اور اس پر متفق تھے کہ انھوں نے آپ سے زیادہ راست باز، سنجیدہ اور پاکباز انسان کوئی نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ کا دشمن بھی کبھی یہ کہنے کی جرأت نہ کرسکا کہ آپ نے کبھی جھوٹ بولا تھا یا آپ کے سیرت و کردار میں کوئی عیب تھا۔ اور مزید یہ کہ آپ نے دعویِٰ نبوت سے اپنی ذات اور اپنے خاندان کے لیے کچھ حاصل تو کیا کرنا تھا البتہ جو کچھ اپنے پاس ہے وہ بھی کھو دیا اور فاقوں تک نوبت آگئی۔ کسی بدترین دشمن نے بھی کبھی آپ میں خودغرضی کا شائبہ تک محسوس نہیں کیا۔ غرضیکہ آپ کی زندگی کے شب و روز، آپ کا حُسنِ کردار، آپ کی بےلوثی، آپ کی استقامت اور آپ کی سچائی کی ایسی دلیلیں ہیں جن کا انکار کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اس لیے فرمایا کہ قرآن کریم کو خود پڑھ کے دیکھو اس کے ایک ایک لفظ سے صداقت پھوٹ رہی ہے۔ اور صاحب قرآن سے مل کر دیکھو اس کی زندگی کی سچائی گواہی دے رہی ہے کہ جب وہ یہ کہتا ہے کہ یہ کتاب مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے تو اس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں ہوسکتا۔
اس آیت کریمہ میں تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ ہمارا پیغمبر جس کتاب کو پیش کررہا ہے وہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔ یعنی ووہ رب العالمین کا نمائندہ، اس کا رسول، اس کی طرف سے اس کے احکام و فرامین کے مجموعے کو تمہارے پاس لے کے آیا ہے تاکہ تمہیں زندگی گزارنے کا طریقہ سکھائے۔ اس لیے تم اس کی کسی بات کو اس کی بات مت سمجھو بلکہ وہ رب العالمین کی بات ہے۔ اگر وہ بات اس کی ہوتی تو شاید اس کا انکار کسی حد تک گوارا ہوتا۔ لیکن رب العالمین کی کسی بات کا انکار، اندازہ کرسکتے ہو، کس قدر ہولناک نتائج کا حامل ہوسکتا ہے۔ وہ فرماں روائے کائنات ہے اور اس کا رسول اس کا ایلچی اور سفیر ہے اور اس کی کتاب اس کے فرامین کا مجموعہ ہے۔ اس لیے اس آیت میں یہ فرمانا کہ یہ کتاب رب العالمین کی جانب سے ہے تو یہ محض مصدر کلام کا اظہار نہیں بلکہ اس میں ایک بہت بڑا انذار پایا جاتا ہے کہ اگر تم اس کا انکار کروگے تو دنیا میں بھی عذاب آسکتا ہے ورنہ اس کی پاداش میں قیامت کے دن تمہیں بڑے برے انجام سے واسطہ پڑے گا۔ گویا اب اس کتاب اور منذر کے آجانے کے بعد تمہاری قسمت میزان میں ہے۔ اقرار کرو گے تو بچ جاؤ گے، انکار کرو گے تو مہلت ختم ہونے کے بعد لازماً تباہ کردیے جاؤ گے۔
Ayah 32:3اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ ج بَلْ ھُوَالْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّـآ اَتٰـہُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ لَعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَ ۔ (السجدۃ : 3)
(کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اسے خود گھڑ لیا ہے بلکہ یہی آپ کے رب کی جانب سے حق ہے تاکہ آپ ایک ایسی قوم کو انذار کریں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی انذار کرنے والا نہیں آیا، شاید وہ ہدایت پاجائیں۔ )
اظہارِتعجب
اس آیت کے پہلے جملے میں سوال نہیں بلکہ تعجب کا اظہار ہے۔ کہ یہ لوگ قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کو دیکھ کر بھی اتنی بڑی بات کہنے کی جسارت کررہے ہیں کہ اسے آنحضرت ﷺ نے اپنے جی سے گھڑ لیا ہے اور اسے افترا قرار دے رہے ہیں۔ اگر ان لوگوں کے اندر ذرا بھی انصاف سے تعلق یا انسانیت کی کوئی رمق ہوتی تو وہ کبھی یہ بات کہنے کی جرأت نہ کرتے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ قرآن کریم کی کسی بات کا ان کا پاس جواب نہیں۔ اور آنحضرت ﷺ کی زندگی پر وہ کسی طرح کا الزام لگانے سے بھی قاصر ہیں۔ تو پھر آخر ان کے پاس اسے افترا قرار دینے کی کیا وجہ ہے ؟
قرآن حق ہے
اس کے بعد فرمایا کہ یہ قرآن کریم افترا نہیں بلکہ یہی حق ہے تیرے رب کی جانب سے۔ اس پر مزید کسی دلیل دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ کیونکہ جس چیز کی صداقت دلیل سے زیادہ روشن ہو اس پر دلیل دینا اسے کمزور کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ چمکتے ہوئے سورج کو دیکھ کر کوئی شخص دن کا انکار کرے تو اسے دلیل سے قائل کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا بلکہ صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ تم چمکتے ہوئے سورج کو دیکھ کر بھی دن کے وجود سے انکار کرتے ہو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دن کے اقرار کے لیے تو کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ البتہ تمہیں اپنی صحت دماغ کو ثابت کرنا ہوگا کیونکہ خرابی وہاں ہے یہاں نہیں۔
قرآن کریم کے اتارنے کا مقصد
مزید فرمایا کہ اس کتاب کو اہتمام کے ساتھ اتارنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ اس کتاب کے ذریعے ان لوگوں کو زندگی کے انجام سے ہوشیار کردیں جن کے اندر آپ سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا۔ کیونکہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے اس شہر مکہ کی آبادی کی بنیاد رکھی۔ پہلا خیمہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ نے لگایا۔ وہیں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پلے بڑھے۔ انھیں دیکھ کر بنو جرہم کے ایک گزرتے ہوئے قافلے نے اپنے کچھ خیمے لگا لیے۔ آئندہ چل کر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے انھیں میں شادی کی۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو انھیں کی ہدایت کے لیے نبوت دی گئی۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے وہ خاندان وجود میں آیا جسے قریش کہتے ہیں۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اس خاندان سے پہلے موجود تھے وہ گویا اس کے مؤسس ہیں۔ ان کے اٹھ جانے کے بعد پھر اس قوم کو انذار اور تنبیہ کرنے اور ان کی ہدایت کے لیے کوئی نبی اور رسول نہیں آیا۔ اڑھائی ہزار سال کے بعد نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری ہوئی۔ اس لحاظ سے آپ کے وجود کو ایک رحمت کے طور پر پیش کیا جارہا ہے کہ تمہیں ضرورت تھی کہ تمہاری دنیا و عقبیٰ کی بھلائی کے لیے کوئی انذار کرنے والا آتا۔ چناچہ اتنے طویل عرصے کے بعد اللہ تعالیٰ نے قریش پر رحم فرمایا اور آپ کی بعثت فرمائی۔ تو قریش کو اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کا سامان فرمایا۔
قرآن کریم کا یہ کہنا کہ آپ سے پہلے ان میں کوئی انذار کرنے والا نہیں آیا۔ تو میں عرض کرچکا ہوں کہ آبادی کے پھیلنے اور قوم کے وجود میں آنے میں ایک وقت لگتا ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے اٹھ جانے کے بعد یقینا یہ ضرورتیں پوری ہوئیں اور پھر اس کے بعد کوئی نبی اور رسول نہ آیا تو اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہے کہ آج تک ان کے پاس کوئی انذار کرنے والا نہیں آیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ اہل مکہ اور دیگر اہل عرب ضروریاتِ دین سے بالکل بےبہرہ تھے۔ اس لیے کہ اگرچہ باقاعدہ طور پر ان کے انذار کے لیے ان کے اندر کوئی رسول مبعوث نہیں ہوا لیکن اس ضرورت کو کسی نہ کسی حد تک ضرور پورا کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کی لائی ہوئی روشنی کسی نہ کسی طرح ان کے اندر کسی نہ کسی صورت میں موجود رہی۔ مزید یہ کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) بھی سرزمینِ عرب میں تشریف لائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اگرچہ بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے لیکن ان کے لائے ہوئے دین کی روشنی عربوں تک بھی پہنچتی رہی جس کی بدولت ضروریاتِ دین سے یہ لوگ بالکل تہی دامن نہیں ہوسکے۔ ویسے بھی اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ کسی سرزمین کو ہدایت دینے والے سے خالی نہیں چھوڑتا۔ لیکن یہ ہدایت ضروری نہیں کہ نبی اور رسول ہی کے واسطے سے ہو۔ اگر اس کے مبلغین بھی کہیں پہنچ جاتے ہیں تو وہ اس ضرورت کو پورا کردیتے ہیں۔ اور جہاں کہیں بتمام و کمال اس ضرورت کو پورا نہیں کیا جاتا تو وہاں کے رہنے والوں سے اللہ تعالیٰ اعمال کے حوالے سے بازپرس نہیں کرے گا بلکہ ضروریاتِ دین کے حوالے سے پوچھے گا جس میں صرف توحید و آخرت شامل ہیں۔ چناچہ عرب کی تاریخ کو جب گہری نظر سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ہمیشہ ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو توحید کے پرستار اور بتوں سے نفرت کرنے والے تھے۔ ان کی ایک بڑی تعداد ہمیں اہل عرب میں ملتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے قریبی زمانے میں قس بن ساعدہ الایادی، امیہ بن ابی الصلت، سوید بن عمرو، ورقہ بن نوفل اور زید بن عمرو بن نفیل ایسے بیسیوں نام ہیں تاریخ نے جن کے حالات محفوظ رکھے ہیں ان کو حنفاء کہا جاتا تھا۔ یہ سب لوگ علی الاعلان توحید کو اصل دین کہتے تھے اور مشرکین کے مذہب سے اپنی بےتعلقی کا صاف صاف اظہار کرتے تھے۔ اسی طرح یمن میں چوتھی صدی عیسوی کے جو کتبات برآمد ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں وہاں ایک توحیدی مذہب موجود تھا۔ حضرت سعید بن زید جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں ان کے والد زید بن عمرو بن نفیل کے بارے میں حضرت موسیٰ بن عقبیٰ نے روایت کیا ہے کہ وہ قریش کو بت پرستی سے روکتے تھے اور بتوں کے نام پر قربانی دینے کو بہت برا کہتے تھے۔ اور مشرکین کے ذبائح کا گوشت نہ کھاتے تھے۔ ابودائود طیالسی نے حضرت سعید بن زید ( رض) کے حوالے سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ میرے والد کا جو کچھ حال تھا وہ آپ کو معلوم ہے کہ توحید پر قائم اور بت پرستی کے منکر تھے۔ تو کیا میں ان کے لیے دعائے مغفرت کرسکتا ہوں ؟ فرمایا کہ ہاں، ان کے لیے دعائے مغفرت جائز ہے۔ وہ قیامت کے روز ایک مستقل امت ہو کر اٹھیں گے۔ ان باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی انبیائے سابقین کی تعلیمات کے آثار کچھ نہ کچھ باقی تھے جس سے کم از کم اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کا تصور بہت حد تک زندہ تھا۔ اور یہ توحید چونکہ پورے دین کی اساس ہے ممکن ہے ان لوگوں سے توحید ہی کے بارے میں سوال کیا جائے۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ اہل عرب نے توحید کا علم رکھتے ہوئے بھی شرک کو اپنی شناخت بنا لیا تھا اور انھیں اپنے آپ کو مشرک کہتے ہوئے کوئی حجاب محسوس نہیں ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو خالق ومالک مانتے تھے لیکن بہت ساری قوتوں کو اس کا شریک بھی بنا رکھا تھا۔
Ayah 32:4اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَـھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ط مَا لَـکُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلاَ شَفِیْعٍ ط اَفَلاَ تَتَذَکَّرُوْنَ ۔ (السجدۃ : 4)
(وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر متمکن ہوا، اس کے سوا نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی سفارش کرنے والا، تو کیا تم لوگ نصیحت حاصل نہیں کروگے۔ )
توحید پر اعتراض کا جواب
نبی کریم ﷺ کی نبوت اور قرآن کریم پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیے جانے کے بعد اب مشرکینِ مکہ کے اس اعتراض کا جواب دیا جارہا ہے جو وہ آنحضرت ﷺ کی دعوت توحید پر کرتے تھے۔ انھیں اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے، مالک ہونے، رازق ہونے اور مدبر ہونے پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ وہ ان تمام حوالوں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت کو تسلیم کرتے تھے۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے کچھ دیویوں اور دیوتائوں کو اور کچھ بزرگوں کو بھی معبود مان رکھا تھا۔ انھیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ آخر ایک اللہ کی ذات تمام کائنات کا نظام چلائے اور وہی سب انسانوں کی تنہا معبود اور کارساز ہو اور اس کے سوا نہ کوئی کسی کی حاجت پوری کرسکے، نہ دعائیں سن سکے، نہ کسی اور طرح کے اختیار کا مالک ہوسکے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے اعتراف کے باوجود انھیں اس بات پر اصرار تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اور بھی بہت سی قوتوں کو اپنے اختیارات میں شریک کر رکھا ہے۔ چناچہ ان کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تمہارا خدا تو وہ ہے جو زمین و آسمان کا خالق ہے۔ اس کائنات میں جو کچھ ہے وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس کی ذات کے علاوہ ہر چیز جو یہاں پائی جاتی ہے وہ اس کی مخلوق ہے۔ وہ اپنی ہر مخلوق کے بارے میں ہر چیز سے واقف ہے۔ ان کی ضرورتوں کو بھی جانتا ہے، ان کی کمزوریوں سے بھی آگاہ ہے۔ ظاہر ہے ان صفات میں کوئی دوسرا اس کا شریک وسہیم نہیں ہوسکتا۔ تو تم نے دوسروں کو کارساز اور معبود کیسے سمجھ رکھا ہے۔ تمہارا گمان شاید یہ ہے کہ اس کائنات کا خالق تو یقینا وہی ہے لیکن زمین اس کائنات کا چونکہ بہت دور کا گوشہ ہے جس کے حالات سے خالق ارض و سما کو خبر نہیں ہوسکتی ہے، اس نے ان کو پیدا ضرور کیا ہے لیکن پھر ان کا انتظام و انصرام دوسروں کے حوالے کرکے خود آرام کررہا ہے۔ فرمایا، ایسا نہیں۔ اس نے اس کائنات کو نہایت اہتمام و انصرام سے چھ دنوں یعنی چھ ادوار میں پیدا کیا۔ وہ ایک ہی وقت میں تمام کائنات کو پیدا کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ لیکن کائنات کی ضرورتوں کے پیش نظر اس نے ان کو چھ ادوار میں پیدا کیا ہے جس کا ہر دور ایک ہزار سال پر محیط ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ وہ کائنات کو پیدا کرنے کے بعد کہیں آرام نہیں کررہا بلکہ کائنات کے عرش حکومت پر جلوہ فرما ہے اور اس کے آخری کونے تک اس کی نگرانی کررہا ہے۔ اور اس نگرانی میں نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ اس کی آنکھ جھپکتی ہے اور اس کائنات کے انتظام و انصرام کی مشغولیت اسے تھکاتی بھی نہیں کیونکہ وہ ان سب چیزوں سے پاک ہے۔
ارض و سما اور دیگر تمام مخلوقات کا خالق چونکہ پروردگار ہے اور وہی اس کائنات کا انتظام و انصرام بھی چلا رہا ہے، اسی کی قدرت کاملہ سے سلطنت کا ایک ایک گوشہ اپنے فرائض انجام دے رہا اور اپنے دائرہ کار میں پابند ہے۔ تم اسی سلطنت کے ایک کُرّہ کے باسی ہونے کی وجہ سے اس کے تکوینی نظام کے پابند ہو۔ اور ایک مکلف اور بااختیار مخلوق ہونے کی وجہ سے اس کے تشریعی نظام کی ذمہ داری بھی تم پر ہے۔ اس لحاظ سے تم ایک ایسے حصار میں ہو جس میں اگر ایک طرف تکوینی نظام کی پابندیاں ہیں تو دوسری طرف تشریعی نظام کی نزاکتیں ہیں جس کی قدرت اور جس کے نظام میں انسان گھرا ہوا ہے کیسی عجیب بات ہے کہ دوسروں کو شریک کرنے لگے ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ کوئی دوسری طاقت اتنی احتیاجات اور پابندیوں کے باوجود بھی مصیبت میں تمہارے کام آسکتی ہے۔ اسی غلط فہمی کے ازالے کے لیے فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی کارساز اور مددگار نہیں اور اگر اللہ تعالیٰ تمہیں پکڑ لے تو کوئی اس کے سامنے سفارش کرنے کی اس کی اجازت کے بغیر جرأت نہیں کرسکتا۔ کسی کے بس میں نہیں کہ تمہیں اس کے غضب سے بچا سکے۔ تو اتنی واضح باتوں کے باوجود تم نصیحت حاصل کیوں نہیں کرتے۔
Ayah 32:5یُدَبِّرُالْاَمْرَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗٓ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ۔ (السجدۃ : 5)
(وہی آسمان سے زمین تک ساری دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے، پھر یہ تمام امور اسی کی طرف لوٹتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے۔ )
کائنات کے انتظام پر اللہ تعالیٰ کی گرفت
کائنات کے انتظام و انصرام کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی گرفت ایسی منضبط اور شدید ہے کہ کائنات کا کوئی معاملہ اور انسانی زندگی کا کوئی حوالہ اس کے اختیار سے باہر نہیں۔ زمین کائنات کا دور دراز گوشہ سہی اور آسمان کائنات کا بہت بلند وبالا حصہ سہی، لیکن آسمان سے لے کر زمین تک کوئی کام ایسا نہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارادے کے بغیر وجود میں آتا ہو۔ ہر کام کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور سے حکم صادر ہوتا ہے۔ اور پھر اس کی رپورٹ اور روداد اللہ تعالیٰ ہی کے حضور پیش ہوتی ہے۔ وہ احکام صادر کرکے بےتعلق ہو کر نہیں بیٹھ جاتا۔ کارکنانِ قضا و قدر جانتے ہیں کہ اختیارات کا سرچشمہ کہاں ہے اور ہر چیز کا سررشتہ کس کے ہاتھ میں ہے۔ اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہر کام کے نتیجے کی روداد کس کے حضور پیش کرنی ہے۔ البتہ اس کی جناب سے فیصلے جو صادر ہوتے ہیں اور پھر اس کے جو نتائج اس کے حضور پیش ہوتے ہیں اس کی مدت ہمارے حساب سے ایک دن کی نہیں ہوتی بلکہ ایک ہزار سال کی ہوتی ہے۔ یعنی ہم ہر کام کا نتیجہ ایک دن یا چند دنوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں کا ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ یعنی وہ جو کائنات کی بھلائی اور اہل دنیا کی قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کے فیصلے کرتا ہے وہ ہمارے دنوں کے اعتبار سے روز روز کی بات نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کے اپنے ایام کے اعتبار سے وہ فیصلے ظہور میں آتے ہیں۔ بعض اہل علم نے اس سے مراد قیامت کا دن لیا ہے۔ اور دوسری جگہ ایک دن کو پچاس ہزار سال کے برابر قرار دیا گیا ہے، اس سے بھی ان کے یہاں قیامت ہی کا دن مراد ہے۔ البتہ فرق اس لیے ہے کہ قیامت کے دن کی ہولناکی کے اعتبار سے ہر شخص کا احساس دوسرے سے الگ ہوگا۔ جتنا بڑا مجرم ہوگا اتنے ہی زیادہ خوف کا شکار ہوگا۔ اور خوف کی وجہ سے اس کے لیے دن کی درازی دوسروں سے کہیں بڑھ کر ہوگی۔ کیونکہ شدید مصیبت کا ایک ایک لمحہ بعض دفعہ ایک سال پر بھاری ہوتا ہے۔ اور جو ایمان و عمل میں خوش نصیب واقع ہوئے ہوں گے ان کے یہاں دن کی درازی کہیں ایک ہزار سال اور بعضوں کو اس سے بھی کم معلوم ہوگی۔ لیکن ان میں سے کوئی بات بھی نبی کریم ﷺ سے منقول نہیں۔ اس لیے حضرت ابن عباس ( رض) نے اس سے متعلق فرمایا ھمایومان ذکرھما اللہ تعالیٰ فی کتابہ، اللہ تعالیٰ اعلم بہما واکرہ ان اقول فی کتاب اللہ مالا اعلم یعنی ” وہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا اور اللہ ہی ان کی حقیقت کو جانتا ہے اور میں اس کو برا سمجھتا ہوں کہ قرآن میں وہ بات کہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ “ لیکن قرآن کریم میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق قیامت سے نہیں۔ کیونکہ سورة حج میں ارشاد فرمایا گیا ہے : وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ وَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعَدَہٗ وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَرَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ” یہ لوگ عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں، اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے گا، مگر تیرے رب کے ہاں کا ایک دن تم لوگوں کے شمار سے ہزار برس ہوا کرتا ہے۔ “ وہاں یہ آیت عذاب کے لیے لوگوں کی جلدبازی کے جواب میں وارد ہوئی ہے کہ جب ان کو عذاب سے ڈرایا جاتا تو وہ کہتے کہ اس عذاب کی دھمکی ہم ایک مدت سے سن رہے ہیں، لیکن وہ آیا نہیں۔ اگر اس کو آنا ہے تو آ کیوں نہیں جاتا۔ ان کے جواب میں فرمایا کہ انسانی تاریخ میں خدا کے فیصلے دنیا کی گھڑیوں اور جنتریوں کے لحاظ سے نہیں ہوتے۔ کسی قوم سے اگر یہ کہا جائے کہ فلاں روش اختیار کرو گے تو اس کا انجام تمہیں یہ کچھ دیکھنا ہوگا تو وہ قوم احمق ہوگی۔ اگر اس کا مطلب یہ سمجھیں کہ آج وہ روش اختیار کی جائے اور کل اس کے برے نتائج سامنے آجائیں۔ اس لیے خدا کے کاموں کو اپنے محدود پیمانوں سے نہ ناپو۔ تمہارے دن چوبیس گھنٹوں کے ہوتے ہیں اس وجہ سے تمہیں چند سالوں کی مدت بھی طویل معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار سے ایک ہزار سال کے برابر کا ہوتا ہے۔ اور اسی کے حساب سے اس کے سارے پروگرام اور منصوبے بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کسی قوم کی بھلائی کے لیے یا اس کو سزا دینے کے لیے قوموں کے معاملات کے نتائج کب اس عمر کو پہنچتے ہیں جس سے صحیح اور حتمی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 32:6ذٰلِکَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ الْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (السجدۃ : 6)
(وہ غائب و حاضر کا جاننے والا عزیز و رحیم ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کے انتظام اور تدبیر کی جامعیت
اس کا انتظام و انصرامِ سلطنت اور تدبیرامور اس قدر مکمل اور جامع ہے کہ نہ تو سلطنت کا کوئی گوشہ اس سے باہر ہے اور نہ اس کے کسی حکم کے نتیجہ خیز ہونے میں کوئی چیز مانع ہے۔ انسان بعض دفعہ اس کے فیصلوں میں تاخیر کی شکایت کرنے لگتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنی قلت فکر اور نارسائیِ عقل سے چونکہ اپنے پیمانوں سے ناپتا اور تولتا ہے تو اسے شکایت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے منصوبے اللہ تعالیٰ کے دنوں کے حساب سے بنتے اور نتیجہ خیز ہوتے ہیں اور اس کا ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ اور دوسری چیز یہ ہے کہ جس طرح اس کی انتظامی گرفت میں کوئی جھول نہیں اسی طرح اس کے علم کی وسعتیں بھی بےحد و بےکنار ہیں۔ انسان صرف ان باتوں کو جانتا ہے جن کا تعلق عالم شہادت سے ہے۔ یعنی جو محسوسات اور معقولات کے دائرے میں آتے ہیں۔ لیکن جن کا تعلق عالم غیب سے ہے ان کا جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ جس طرح عالم شہادت کو جانتا ہے اسی طرح عالم غیب کو بھی جانتا ہے۔ اور پھر اپنے علم کے مطابق جب کسی چیز کا ارادہ کرلیتا ہے تو اس کے ارادے کو بروئے کار آنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی کیونکہ وہ عزیز ہے۔ البتہ اس کے ہر کام ہر فیصلے میں رحمت کا غلبہ ہوتا ہے۔ وہ مخلوقات کی بھلائی کو ہمیشہ پیش نظر رکھتا ہے۔ وہ سزا بھی دیتا ہے تو مہلت عمل کے خاتمے کے بعد، وہ حکم کی تعمیل چاہتا ہے لیکن انسانی کمزوریوں کے لحاظ کے ساتھ، وہ انسان کو تکلیفِ شرعی میں مبتلا کرتا ہے لیکن اس کی وسعت اور استطاعت کے مطابق، کیونکہ وہ رحیم و کریم ہے۔ اور اگر وہ کہیں اپنی قدرت کے مطابق انسانوں کی کوتاہیوں اور نافرمانیوں پر گرفت کرنے لگتا تو زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا باقی نہ رہتا۔
Ayahs 32:7–8الَّذِیْٓ اَحْسَنَ کُلَّ شَیْ ئٍ خَلَقَہٗ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ ۔ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہٗ مِنْ سُلٰـلَۃٍ مِّنْ مَّـآئٍ مَّھِیْنٍ ۔ (السجدۃ : 7، 8)
(اس نے جو چیز بھی بنائی خوب ہی بنائی ہے، اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدائی مٹی سے کی۔ پھر اس کی نسل حقیر پانی کے خلاصہ سے چلائی۔ )
اللہ تعالیٰ کا حُسنِ تخلیق
اللہ تعالیٰ چونکہ عالم الغیب والشہادہ ہے اس لیے اس کے علم کی رسائی ہر حسن و قُبح اور ہر اچھائی اور برائی کی تہہ تک ہے۔ اور اس کی رحمت، حُسنِ تخلیق اور جمال آرائی کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لیے اپنی ان صفات کی وجہ سے اس نے جس چیز کو بھی پیدا فرمایا اور جو چیز بھی بنائی خوب بنائی۔ کائنات میں اس کی مخلوقات کا کوئی شمار نہیں۔ مخلوقات کی مختلف انواع ہیں جس کے افراد کو شمار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ان میں سے کوئی ایسی چیز نہیں جو بےڈھنگی اور بےتکی ہو۔ ہر چیز اپنا ایک الگ حسن رکھتی ہے۔ بعض چیزیں بظاہر بےڈھب سی معلوم ہوتی ہیں لیکن جب ان کے ماحول، دائرہ کار اور فرائض کی نوعیت کے اعتبار سے دیکھا جاتا ہے تو تب معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس سے بہتر بنایا نہیں جاسکتا تھا۔ اونٹ کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔ لیکن اونٹ سفینہ صحرا ہونے کی نسبت سے جن بنیادی خصائص کا مالک ہے انھیں دیکھ کر اور اس کے تناسب کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے حُسنِ تخلیق کا وہ شاہکار معلوم ہوتا ہے۔ مصر میں صرف اس کے جبڑے کی تحقیق کے سلسلے میں ایک ضخیم کتاب مرتب ہوئی جسے پڑھ کر آدمی حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ ہر ماحول کی مخلوق کو جیسی صفات کی ضرورت تھی ویسی صفات دی گئی ہیں۔ اور ہر مخلوق کی صفات کے اعتبار سے جیسا ماحول چاہیے تھا وہ ماحول دیا گیا ہے۔ اور پھر ہر چیز کو اس کی موزوں ترین شکل عطا کی گئی ہے۔ دیکھنے کے لیے آنکھ اور سننے کے لیے کان کی ساخت سے زیادہ موزوں کسی ساخت کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ ہوا اور پانی جن مقاصد کے لیے بنائے گئے ہیں ان کے اوصاف اور ان کے مقاصد میں جیسی مناسبت اور یک رنگی نظر آتی ہے اسے محسوس کرکے آدمی ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ اس کی ہر مخلوق صرف اپنے حُسنِ صورت ہی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے صفات و خصائص کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور اس کے بےنہایت علم کی شاہد ہے۔ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی لے کر انسان اس پر غور کرے تو بےاختیار پکار اٹھتا ہے تبارک اللہ احسن الخالقین۔
حُسنِ تخلیق کی مثال
پھر اپنے حُسنِ تخلیق کی مثال کہیں خارج سے لانے کی بجائے خود انسان ہی کی خلقت کو بطور مثال پیش کیا ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کے حُسنِ تخلیق کا شاہکار ہے اور اس کو قدرت نے جس طرح جوہرِعقل، قوت ایجاد اور ذوق تسخیر سے مزین کیا ہے اسے دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے کسی بڑے قیمتی جوہر سے پیدا کیا ہوگا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے حُسنِ تخلیق کے کیا کہنے کہ ایسی عظیم مخلوق کی ابتداء مٹی سے فرمائی۔ اس سے اس کا قالب بنا اور اسی مٹی کے اندر سے اس کی زندگی کی حرکت نمودار ہوئی۔ یہ نظریہ جو قرآن نے پیش کیا ہے یہ بظاہر بہت سادہ ہے لیکن اس سے بڑھ کر حقیقت کوئی نہیں ہوسکتی۔ ڈارون اور اس کے پیروکار اگرچہ اسے ایک غیرسائنٹیفک نظریہ قرار دیتے ہیں لیکن حیرت ہے کہ ان کے سائنٹیفک نظریات چند مفروضوں کے سوا کچھ نہیں جبکہ اس کے پیچھے وحی الٰہی کی قوت ہے۔ ان کی غیرسنجیدگی ملاحظہ ہو کہ آغاز حیات کو ایک حادثہ قرار دیتے ہیں۔ اہل علم جانتے ہیں کہ ایک خلیے والے حیوان میں زندگی کی سادہ ترین صورت بھی اتنی پیچیدہ اور نازک حکمتوں سے لبریز ہے۔ اسے بھی کوئی احمق آدمی ہی حادثہ قرار دے سکتا ہے، کوئی عقلمند آدمی ایسا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اگر جرثومہ بھی پیدا ہوا ہے تو وہ بھی براہ راست اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہی سے وجود میں آیا ہے۔ تو اگر انسانی عقل اس کو ماننے پر مجبور ہے تو پھر یہ ماننے میں کیا قباحت ہے کہ ہر نوع حیوانی کا پہلا فرد خالق کے تخلیقی عمل سے وجود میں آیا تھا۔ اور اس میں مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اس پہلے مرحلے کے بعد انسانی خلقت کا دوسرا مرحلہ جس سے انسان ہمیشہ پیدا ہوتے چلے آرہے ہیں وہ کتنا حیران کن ہے کہ پانی کی ایک حقیر بوند غیرمعمولی خصائص و اوصاف رکھنے والے انسان کی تخلیق کا سبب ہے۔
Ayah 32:9ثُمَّ سَوّٰہُ وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ وَجَعَلَ لَـکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ ط قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ ۔ (السجدۃ : 9)
(پھر اس کو نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونکی، اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے، تم بہت ہی کم شکرگزار ہوتے ہو۔ )
پہلے انسان کو تو اللہ تعالیٰ نے دست قدرت سے بنایا اور اس کا قالب مختلف دھاتوں اور مٹی سے تیار ہوا اور پھر اس میں روح پھونکی گئی۔ لیکن پھر اس پہلے انسان سے جو سلسلہ توالد و تناسل چلا اس کے لیے حیران کن طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ پانی کی ایک بوند جسے مادہ منویہ کہا جاتا ہے وہ شوہر سے بیوی کے رحم میں منتقل ہونے کے بعد انسانی تخلیق کا آغاز ہوتا ہے۔ پھر درجہ بدرجہ وہ تکمیل کی طرف بڑھتا ہے۔ پہلے یہ پانی کا قطرہ خون بنتا ہے، پھر گاڑھا ہوتا ہے، گوشت کے لوتھڑے کی شکل اختیار کرتا ہے، پھر اس میں ہڈیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ اس مرحلے پر پہنچ کر اللہ تعالیٰ اس کا تسویہ فرماتا ہے۔ یعنی اس کی صورت آرائی کرتا ہے، اس کا نک سک درست کرتا ہے، اس کی نوک پلک سنوارتا ہے، اس کے جسم کے سارے اعضاء وجوارح کو تکمیلی شکل عطا فرماتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ پھر اس کے بعد آخری مرحلے میں اس کے اندر روح پھونکتا ہے۔ اور یہی وہ روح ہے جو خالصتاً اللہ تعالیٰ کی ملک اور اس کی صفات کا پرتو ہے۔ یقینا یہ روح یا تو اس حیوانی روح سے مختلف ہے جس کی وجہ سے ایک ذی حیات جسم کی مشین متحرک ہوتی ہے۔ اور ہر حیوان اسی روح کے نفخ ہونے کے بعد زندگی سے آشنا ہوتا ہے۔ اور یا یہ اسی روح کی نفیس ترین شکل ہے جسے انسان کے لیے مخصوص کردیا گیا ہے اور اسی کے نتیجے میں انسان کو فکروشعور، عقل وتمیز اور فیصلہ و اختیار جیسی صفات عطا ہوتی ہیں۔ اور جن اہل علم کے نزدیک یہ روح، روحِ حیوانی سے الگ ہے وہ اسے روح ملکوتی سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ حیوانی روح کے ساتھ ایک نوریزدانی ہے جو انسان کو عطا ہوتا ہے اور اسی کے فیض سے انسان کے سمع و صبر اور فواد میں وہ روشنی پیدا ہوتی ہے جس سے اس کو اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل ہوا ہے۔ دونوں صورتوں کا مآل ایک ہی ہے جس سے انسان کی خصوصیات پر روشنی پڑتی ہے اور باقی مخلوقات پر اس کی برتری ثابت ہوتی ہے۔
مِنْ رُّوْحِہٖ … اس میں اللہ تعالیٰ نے روح کی اضافت اپنی طرف فرمائی ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس سے فی الجملہ اس روح کے اختصاص کا اظہار ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص فیوض و برکات میں سے ہے۔ لیکن عیسائیوں اور بعض دیگر گمراہ فرقوں نے روح کو ایک مستقل وجود قرار دے کر الوہیت میں ثنویت پیدا کی ہے۔ اور انھوں نے اسے اللہ تعالیٰ کا حصہ قرار دیا ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ عیسائیوں نے اس اضافت سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور انھیں ایک دوسرا خدا یا خدا کا بیٹا قرار دیا۔ لیکن حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں بالکل یہی ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ لیکن کسی مذہب میں بھی حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرف ایسی کسی صفت کو منسوب نہیں کیا گیا۔ حالانکہ قرآن کریم میں کہا گیا ہے کہ فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْالَـہٗ سَاجِدِیْنَ ” جب میں اس کی نوک پلک درست کردوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے سامنے سجدے میں گر جانا۔ “ اس سے کسی نے یہ مفہوم اخذ نہیں کیا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں۔
یہاں تک اس آیت کریمہ میں انسان کا سارا ذکر صیغہ غائب میں کیا گیا۔ لیکن روح پھونکنے کے بعد اسلوب میں تبدیلی آئی ہے، اب براہ راست انسان کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے کہ تمہارے لیے اللہ تعالیٰ نے کان، آنکھیں اور دل بنائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روح پھونکنے سے پہلے وہ خطاب کے لائق نہ تھا، روح پھونکنے کے بعد وہ اس قابل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے براہ راست اس سے خطاب کیا۔
کان اور آنکھوں سے مراد وہ ذرائع ہیں جن سے انسان علم حاصل کرتا ہے۔ کان سے مسموعات کا علم حاصل کرتا ہے اور آنکھوں سے مشاہدات کا۔ اگرچہ حصول علم کے ذرائع اور بھی ہیں، لیکن یہ دو بڑے اہم ذرائع ہیں۔ اس لیے قرآن کریم نے جگہ جگہ ان دونوں کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد فواد، یعنی دل کا ذکر فرمایا۔ اس سے مراد وہ ذہن ہے جو حواس کے ذریعہ سے حاصل شدہ معلومات کو مرتب کرکے ان سے نتائج نکالتا ہے جو جزئیات سے کلیات بناتا ہے اور کلیات سے جزئیات کو اخذ کرتا ہے۔ آج کی سائنس اگرچہ دماغ اور دل کو فرائض کے اعتبار سے الگ الگ حیثیت دیتی ہے۔ لیکن قرآن کریم اور پہلی آسمانی کتابیں سوچنے سمجھنے، فیصلہ کرنے اور نتائج و عبر کو قبول کرنے کے حوالے سے دل ہی کی بات کرتی ہیں۔ زندگی میں تبدیلی لانے کے حوالے سے قلب اور فواد ہی کا بار بار ذکر کیا گیا ہے۔ اور ہمارا قومی شاعر جو قرآنی زبان میں بات کرتا ہے وہ بھی سارا زور دل ہی کی اصلاح پر دیتا ہے۔ اب بعض سائنس دان بھی اس بات کا اعتراف کرنے لگے ہیں کہ غم اور خوشی کے اثرات کو محسوس کرنے اور تأثیر اور تأثر کے اعتبار سے دل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اور جہاں تک ذہن اور دماغ کا تعلق ہے علم کے تمام ذرائع اسی کو غذا بہم پہنچاتے اور اسی کی چاکری بھی کرتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے تمام تأثرات اور معلومات کو دل کے حوالے کرتا ہے اور وہاں سے انسانی زندگی میں انقلاب آتا ہے۔ مختصر یہ کہ یہ باتیں اگر قابل قبول نہ بھی ہوں تو یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ دل اور فواد اس جگہ کا نام ہے جہاں خیالات پیدا ہوتے، نکھرتے، ترتیب پاتے، مختلف شکلیں اختیار کرتے اور بالآخر مختلف اعمال اور مختلف رویوں کی صورت گری کرتے ہیں۔ آپ اس کا نام ذہن یا دماغ رکھ لیجیے یا اس کو دل کہہ لیجیے، مفہوم کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
آخر میں فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ اپنے تمام مراحلِ خلقت پر غور کرے کہ کس طرح پروردگار نے اس کی تخلیق کا آغاز کیا اور پھر اسے کمال تک پہنچایا۔ تو اس کا بال بال اپنے رب کی اس عنایت و ربوبیت کا شکرگزار ہوگا۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انسانوں کو اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے پروردگار فرماتا ہے کہ تم ان سارے احسانات کے باوجود بہت کم اپنے مالک کے شکرگزار ہوتے ہو۔
Ayah 32:10وَقَالُوْٓائَ اِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ئَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ 5 ط بَلْ ھُمْ بِلِقَـآیِٔ رَبِّہِمْ کٰفِرُوْنَ ۔ (السجدۃ : 10)
(اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم زمین میں رل مل چکے ہوں گے تو کیا ہم پھر نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے بلکہ یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔ )
آخرت پر اعتراض کا جواب
اس سے پہلے کی آیات میں رسالت اور توحید پر کفار کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے، اب اسلام کے تیسرے بنیادی عقیدے یعنی آخرت پر ان کے متعدد اعتراضات میں سے ایک بنیادی اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ لیکن جواب کا انداز یہ اختیار کیا گیا ہے کہ ان کے اعتراضات کو نظرانداز کرکے اصل بات کو جو ان کے اعتراض کا اصل سبب ہے اس کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اور اصل اعتراض کو نظرانداز کرنے کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے تئیں اس اعتراض کو کتنا بھی موثر اور کاٹ دار سمجھتے ہوں حقیقت میں وہ ان کی جہالت کا آئینہ دار ہے۔ لیکن جو انھیں اصل مرض لاحق ہے جسے وہ ذکر کرنا نہیں چاہتے اس کو نمایاں کرکے انھیں آئینہ دکھایا گیا ہے۔
اعتراض ان کا یہ تھا کہ جب ہم مرنے کے بعد آہستہ آہستہ خاک میں مل کر خاک ہوجائیں گے یعنی زمین ہمارے جسم کے ہر حصے کو کھاجائے گی اور ہماری ہڈیاں اور ہمارا گوشت پوست مٹی میں تبدیل ہوجائے گا اور ہمارے جسم کا کوئی نشان باقی نہیں رہے گا اور ایک مدت گزرنے کے بعد ہماری قبروں کے نشانات بھی مٹ جائیں گے اور جو لوگ ہم سے صدیوں پہلے مرچکے ہیں ان کی تو خاک بھی اڑ چکی ہوگی۔ اس لحاظ سے ہم بالکل گم ہوچکے ہوں گے۔ تو کس قدر تعجب کی بات ہے کہ پھر ہمیں ازسرنو زندہ کیا جائے گا۔ اس اعتراض کا جواب پروردگار نے دینا پسند نہیں فرمایا۔ ایک تو اس لیے کہ متعدد مواقع پر اس کا جواب دیا جا چکا ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اعتراض جن دو اجزاء پر مشتمل ہے وہ دونوں ہی اپنے اندر حماقت اور سفاہت کے سوا کچھ نہیں رکھتے۔ ان کا یہ کہنا کہ ہم جب مٹی میں رل مل چکے ہوں گے تو دوبارہ کیسے زندہ ہوسکیں گے۔ انھیں شاید یہ معلوم نہیں کہ انسان دو چیزوں سے مرکب ہے۔ ایک اس کا جسم ہے جو مٹی، پانی اور چند دوسری دھاتوں سے مل کر بنا ہے۔ اور دوسری روح ہے جو اللہ تعالیٰ کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے۔ موت جسم پر واقع ہوتی ہے، روح پر نہیں۔ قبر میں جسم اتارا جاتا ہے، روح تو اللہ تعالیٰ کے یہاں اپنے اصل مسکن میں پہنچ جاتی ہے۔ اور ” ہم “ سے جو چیز مراد لی جاتی ہے وہ درحقیقت روح ہے جسم تو اس کا ایک آشیانہ ہے جس کے اندر وہ رہتی ہے۔ جسم کے اعضاء کٹ جائیں، روح کا کوئی حصہ کٹنے میں نہیں آتا۔ اس لیے جو چیز مٹی بنے گی بحث اس کی زندگی کی نہیں۔ اسے پہلے بھی مٹی اور چند دھاتوں سے تیار کیا گیا تھا۔ مٹی بننے کے بعد واپس اس کے اجزاء اسی زمین میں رل مل جاتے ہیں۔ روح پر چونکہ موت نہیں آئی اس لیے قیامت کے دن جب اسے اٹھایا جائے گا تو روح کے مکان کو جو زمین میں ادھر ادھر بکھر چکا تھا دوبارہ اس کے اجزاء کو جمع کرکے اس کی اصلی شکل میں میدانِ حشر میں لا کھڑا کیا جائے گا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جسم کو موت آتی ہے تو اس کے اجزاء بکھر کر زمین میں مل جاتے ہیں۔ قیامت کے دن انھیں اجزاء کو دوبارہ جمع ہونے کا حکم دیا جائے گا جو زمین میں موجود ہوں گے۔ اور وہ روح جو اصل انسانیت سے عبارت ہے وہ پھر اپنے اس مسکن میں داخل ہوجائے گی وہ موت کا شکار نہیں ہوئی اور نہ ہوسکتی ہے۔ تو یہ بات اتنی واضح ہے کہ قرآن کریم نے اس حماقت کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اقبال نے ٹھیک کہا :
یہ نکتہ میں نے سیکھا بوالحسن سے
کہ جاں جاتی نہیں مرگ بدن سے
چمک سورج میں کیا باقی رہے گی
اگر بیزار ہو اپنی کرن سے
ان کی اس سفاہت کو نمایاں کرنے کے بعد ان کے اصل مرض کی نشان دہی کی گئی ہے کہ یہ لوگ اپنے اصل مرض کو چھپانے کے لیے اس طرح کی سفیہانہ گفتگو کرتے ہیں، ورنہ وہ حقیقت سے ایسے بےبہرہ بھی نہیں ہیں۔ ان کا اصل مرض یہ ہے کہ وہ اپنی بداعمالیوں اور بداطواریوں کو خوب جانتے ہیں۔ انھوں نے اپنا نامہ عمل جس طرح کے مظالم، حق تلفیوں اور اعمالِ بد سے تیار کیا ہے انھیں خوب معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ان کی جواب دہی نہیں ہوسکتی۔ اس لیے وہ مختلف قسم کے اعتراضات میں اپنے اس خوف کو چھپانا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے رب کے سامنے حاضری کیسے دیں اور اس کا سامنا کیسے کریں۔
Ayah 32:11قُلْ یَتَوَفّٰـکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ ۔ (السجدۃ : 11)
(ان سے کہہ دیجیے کہ موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تم کو اپنے قبضے میں لے لے گا، پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ )
آیت میں تین باتوں کی وضاحت
اس آیت کریمہ میں تین باتوں کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔ پہلی بات یہ کہ تمہیں موت خودبخود نہیں آجاتی۔ جس طرح کوک سے چلنے والی گھڑی کوک ختم ہوتے ہی رک جاتی ہے۔ انسان پر موت واقع اس طرح نہیں ہوتی۔ غالب نے اسے فلسفیانہ انداز میں بیان کیا ہے لیکن وہ بھی حقیقت سے بہت دور ہے۔ اس نے کہا :
زندگی کیا ہے ؟ عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے ؟ انہی اجزا کا پریشاں ہونا
زندگی اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک پر اسس مکمل ہونے کے بعد نفخ روح سے آتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس کے پیچھے ایک سسٹم کام کرتا ہے۔ اسی طرح موت بھی اچانک عناصر کے بکھر جانے سے واقع نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ ایک فرشتہ ہے جس کا نام عزائیل ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں میں سے ہیں۔ ان کے ساتھ کارکنوں کی ایک فوج ہے جو ان کے ماتحت کام کرتی ہے اور حضرت عزائیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنا فرض انجام دیتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عزائیل (علیہ السلام) کہتے ہیں کہ میں ہر شخص کو روزانہ پانچ مرتبہ دیکھتا ہوں۔ اس لیے ہر شخص کو اچھی طرح پہچانتا ہوں۔ اور جب حکم ہوتا ہے تو ٹھیک اسی شخص کی جان نکالتا ہوں اس میں کبھی غلطی نہیں کرتا۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مومن ہے کہ کافر۔ اسی حدیث میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک اللہ تعالیٰ حکم نہ دے میں اپنے طور سے کسی مچھر کی بھی جان نہیں نکال سکتا۔ ایک دوسری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سامنے تمام نوع انسانی کے افراد اس طرح مستحضر ہوتے ہیں جس طرح ایک بڑے طباق میں بکھرے ہوئے دانے کہ اٹھانے والا جس دانے کو چاہتا ہے اٹھا لیتا ہے، یہی حال موت کے فرشتے کا بھی ہے۔ یہ فرشتہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب کسی شخص کی جان نکالتا ہے تو اس کی وہ روح جسے بولنے والا ” انا “ کہہ کر یاد کرتا اسے پورے کا پورا وصول کرتا ہے۔ یعنی عقائد اور افکار اور اعمال و آداب سے جیسی کوئی شخصیت وجود میں آچکی ہے فرشتہ اسے جوں کا توں اپنے قبضے میں لے لیتا ہے اور اس کے اوصاف میں کوئی کمی بیشی نہیں ہونے دیتا۔ اور یہی وہ چیز ہے جو اس کے رب کی طرف لوٹائی جاتی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ جسم سے نکالی جانے والی شخصیت کبھی موت کا شکار نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت جسم سے اس کا علیحدہ کیا جانا جسم کی موت ہے اور اسی جسم کو مٹی کھاتی ہے اور وہ دوبارہ مٹی کے اجزاء میں شامل ہوجاتا ہے۔ اور انھیں اجزاء کو دوبارہ اٹھا کر اس کے جسم کی شکل دی جائے گی۔ اور اسی میں روح داخل کرنے کے بعد اسے حساب کے لیے بارگاہِ حق میں پیش کیا جائے گا۔ اگر اس پورے پر اسس پر غور کرلیا جائے تو مشرکین کے اس اعتراض کا جواب مل جاتا ہے کہ ہم مٹی میں مَل دَل جانے کے بعد کیسے ازسرنو زندہ کیے جائیں گے۔
دوسری بات اس میں یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ جسم سے روح کا الگ کیا جانا یہ کوئی حادثاتی عمل نہیں بلکہ ایک منضبط نظم ہے جس کے تحت موت واقع ہوتی ہے۔ اس میں فرشتوں کی ایک بڑی تعداد اور ملک الموت موجود ہوتے ہیں اور یہ تمام کارروائی ان کی نگرانی میں ہوتی ہے۔ اس لیے جب قیامت کا اعلان ہوگا تو ملک الموت اور ان کے معاون دیگر فرشتے چونکہ ایک ایک کو پہچانتے ہوں گے اس لیے ان کے لیے ان کو ازسرنواٹھا کھڑا کرنا اور میدانِ حشر میں پہنچا دینا ایک ایسا عمل ہے جس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں۔ اور جس کے وقوع پذیر ہونے میں بھی کوئی دشواری نہیں۔
تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ مشرکین یہ سمجھتے ہیں کہ اگر واقعی قیامت وقوع پذیر ہوئی تو ہمارے لیے تب بھی فکرمندی کی کوئی بات نہیں ہماری واپسی ان شرکاء و شفعاء کی طرف ہوگی جن کو ہم دنیا میں پکارتے رہے ہیں۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے اعلان کے بعد ہر شخص کی واپسی اللہ تعالیٰ کے حضور میں ہوگی۔ سب اس کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے اور اپنی اپنی باری پر سب کو جواب دہی کرنا ہوگی۔ وہاں کسی شریک اور شفیع کا کوئی وجود نہیں ہوگا۔
Ayah 32:12وَلَوْتَرٰٓی اِذِالْمُجْرِمُوْنَ نَاکِسُوْا رُئُ وْسِہِمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ط رَبَّنَـآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ ۔ (السجدۃ : 12)
(اور کاش آپ دیکھتے جب یہ مجرم سر جھکائے اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ! ہم نے خوب دیکھ لیا اور سن لیا، اب ہمیں واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں، ہمیں اب یقین آگیا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ﷺ کفار مکہ کے انکار و تکذیب اور ان کی طرف سے دی جانے والی اذیتوں سے دل گرفتہ نہ ہوں۔ اور آپ ﷺ کی دعوت کے جواب میں جس طرح یہ لوگ اکڑفوں دکھاتے ہیں اور پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دیتے، کاش آپ قیامت میں ان کی وہ حالت دیکھیں جب یہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہوں گے۔ ان کے چہروں پر لعنت برس رہی ہوگی، ندامت اور شرمندگی سے سر اٹھانے کی ہمت نہیں کریں گے، ان کا جی چاہے گا کہ کاش زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں دھنس جائیں۔ آخر جب انھیں جواب دینے کی اجازت ملے گی تو دنیا میں باغیانہ رویّے کا دفاع کرنے کی بجائے اعتراف کریں گے کہ اے ہمارے رب ! ہم نے اچھی طرح دیکھ لیا اور کان کھول کے سن لیا کہ ہم جن حقائق کا انکار کرتے رہے ان کے سراسر حق ہونے میں کوئی شبہ نہ تھا۔ ہم نے یقینا بہت کو تاہیاں کیں، حدود سے تجاوز کیا اور حقیقتوں کو پامال کیا لیکن آج ہم پر ہر چیز کھل چکی ہے۔ ہماری درخواست ہے کہ آپ ہمیں ایک موقع دیں اور واپس دنیا میں بھیج دیں۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہم نیک عمل کریں گے۔ یعنی کسی طرح بھی آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے۔ اب ہمیں یقین آگیا ہے کہ جو کچھ ہمیں اللہ تعالیٰ کے رسول نے بتایا تھا وہی حق ہے اور وہی ہمارے لیے کامیابی کا راستہ ہے ہم اس پر چلنے کی انتہائی کوشش کریں گے۔
یہاں اگرچہ لَوْ کا جواب محذوف رکھا گیا ہے کیونکہ انسانی تصور اور احساس میں ابھی وہ وسعت نہیں کہ وہ اس منظر کو سمجھ سکے جس میں اس وقت کافر مبتلا ہوں گے۔ لیکن ہم نے اپنے طور پر بات کو رواں رکھنے کے لیے اسے کھولنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے کہ محذوف کی ایسی تعبیر کرنا جو حسب موقع ہو وہ اہل علم کے نزدیک جائز ہے۔
Ayahs 32:13–14وَلَوْ شِئْنَا لَاٰ تَیْنَا کُلَّ نَفْسٍ ھُدٰھَا وَلٰـکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۔ فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَـآئَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا ج اِنَّا نَسِیْنٰـکُمْ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِبِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (السجدۃ : 13، 14)
(جواب میں ارشاد ہوگا) اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے، لیکن میری طرف سے یہ بات متحقق ہوچکی ہے، میں جنوں اور انسانوں سے جہنم کو بھر دوں گا۔ تو اب چکھو مزہ اس بات کا کہ تم نے اس دن کی پیشی کو بھلائے رکھا، اب ہم نے بھی تم کو نظرانداز کردیا ہے، تو چکھو ہمیشگی کے عذاب کا مزہ اپنے کرتوتوں کی پاداش میں۔ )
کفار کی درخواست کا جواب
گزشتہ آیت کریمہ میں کفار کی درخواست کا ذکر کیا گیا ہے کہ ہمیں دوبارہ دنیا میں جانے کا موقع دیا جائے تو ہم نیک اعمال کریں گے۔ پیش نظر دونوں آیات میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے دنیا میں انسان کو ایک امتحان کے لیے بھیجا۔ اور اس کے لیے ہم نے اسے حواس عطا کیے اور جوہرِعقل سے نوازا۔ اور مزید حق شناسی کے لیے اپنے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں۔ اس طرح مکمل طور پر ان پر یہ بات واضح کردی کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے ایک مکلف مخلوق کے طور پر پیدا کیا ہے۔ تمہاری زندگی کا مقصد عبدیت ہے، تمہیں اس زمین پر عبد بن کر اور اللہ تعالیٰ کو معبود مان کر اس کے احکام کے مطابق زندگی گزارنی ہے۔ تمہاری نفسانی خواہشات، تمہارے مفادات اور شیطانی قوتیں تمہیں اس راہ سے ہٹا کر اپنے راستوں پر چلانے کی کوشش کریں گی، دیکھنا تم ان کی پیروی نہ کرنا۔ اگر تم نے ہماری دی ہوئی ہدایات کے مطابق زندگی گزاری تو دنیا بھی تمہاری ہے اور آخرت بھی تمہاری ہے۔ اور اگر تم نفسانی خواہشات اور شیطانی وساوس کی پیروی میں لگے رہے تو پھر دنیا میں بھی عذاب آسکتا ہے اور آخرت میں بھی یقینی طور پر جہنم میں جلائے جاؤ گے۔ اس طرح سے انسان کو اس کی طبعی عمر کی شکل میں ایک مہلت عمل دی گئی اور اپنی نعمتوں سے گراں بار کردیا گیا۔ اور اسی کے مطابق قیامت کے دن اس کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کو اس امتحان کی بجائے یہ بات منظور ہوتی کہ جو لوگ قیامت کے دن اس جرم میں پکڑے جائیں کہ انھوں نے دنیا کی مہلت عمل سے فائدہ اٹھا کر امتحان کی تیاری کی بجائے عیش و عشرت میں زندگی گزاری اور پھر وہ لوگ دوبارہ دنیا میں جانے کی اجازت مانگیں اس وعدے پر کہ اب ہم تیری فرماں برداری میں نیک اعمال کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے مطالبے پر انھیں واپس دنیا میں بھیج دے جبکہ جن حقائق پر غیب میں رہ کر ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا اور بن دیکھے پروردگار کے احکام کی اطاعت ان پر لازم کی گئی تھی تو قیامت کے دن جبکہ سب حقائق ان کے سامنے کھل جائیں گے تو اب دوبارہ دنیا میں بھیجنے سے تو وہ مقصد ہی فوت ہوجائے گا جس کے لیے انسان کو دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کو ہی ہر صورت میں ہدایت دینا تھی تو پھر دنیا ہی میں بھیجتے وقت اللہ تعالیٰ ہر شخص کو ہدایت دے کے بھیجتا یا براہ راست اس کے دل میں ان تعلیمات کا القاء کردیتا جن پر چلنا اس کے لیے ضروری تھا۔ تو دنیوی زندگی کو امتحان بنانے کی کیا ضرورت تھی۔ اس طرح سے ان کی درخواست کو رد کرنے کے بعد فرمایا کہ عدل اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ تمہیں جو مہلت عمل دی گئی تھی وہ تم نے ضائع کردی۔ آج کا دن دارالعمل نہیں دارالجزاء ہے۔ اب تمہارے لیے سزا یہ تجویز کی گئی ہے کہ جاؤ جہنم میں اپنے اعمال کی پاداش میں اور آج کے دن کے انکار کے جرم میں عذاب کا مزہ چکھو۔ اب تمہیں ہمیشہ اس جہنم میں رہنا ہے اور ہمیشہ کے لیے اس کے عذاب کو چکھنا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کی رحمت کبھی پلٹ کر تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوگی۔ جس طرح تم نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی ہدایات اور اس کے رسول کی دعوت کو نظرانداز کیا آج ہم نے بھی تمہیں نظرانداز کردیا ہے، اب تم کسی نرمی کے مستحق نہیں ہو۔
وَلٰـکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْن … یہ اس فیصلہ کی طرف اشارہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو اس کے چیلنج کے جواب میں آگاہ فرما دیا تھا۔ سورة صٓ میں اس کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ
قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ 5 لا اِلاَّ عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ قَالَ فَالْحَقُّز وَالْحَقَّ اَقُوْلُ 5 ج لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنْـکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔
(ص : 82۔ 85)
” ابلیس نے کہا : تیرے عزت و جلال کی قسم ! میں ان سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ بس ان میں سے تیرے خاص بندے ہی بچ رہیں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ پھر یہ بات بھی حق ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں کہ میں بھی تجھ سے اور تیری ذریت سے اور ان انسانوں میں سے جو تیری پیروی کریں گے، سب سے جہنم کو بھر کے رہوں گا۔ “