31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsروح القرآن

Ayahs 31:1–2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں

الٓـمّٓ۔ تِلْکَ اٰیٰتُ الْـکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ۔ (لقمان : 1، 2) (ال م۔ یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں۔ ) پہلی آیت حروفِ مقطعات پر مشتمل ہے اور حروفِ مقطعات کی تفسیر سورة البقرۃ کے آغاز میں ہوچکی ہے۔ دوسری آیت میں قرآن کریم کو کتاب حکیم کہا گیا ہے اور مزید یہ فرمایا ہے کہ یہ سورة کتاب حکیم کی آیات ہیں۔ کتاب حکیم میں حکیم کا لفظ کتاب کی صفت واقع ہوا ہے۔ صاحب لسان العرب نے لکھا ہے کہ جب یہ لفظ قرآن کریم کی صفت ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے الحاکم لکم وعلیکم یعنی قرآن کریم ایک ایسی قوت حاکمہ ہے جس کا فیصلہ دوٹوک اور بےلاگ ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ حق کی حمایت میں بولتی اور باطل کا بطلان واضح کرتی ہے۔ اس میں کسی غلط بات کا گزر نہیں ہوتا۔ راستی پر چلنے والوں کی ہمیشہ حمایت کرتی ہے اور حق سے روگردانی کرنے والوں کی مذمت کرتی اور ان کے انجام کی خرابی کو واضح کرتی ہے۔ یہ صرف کتاب نصیحت نہیں بلکہ کتاب قانون بھی ہے جس کے تحت مسلمانوں کے انفرادی اور اجتماعی معاملات کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اور اس کا فیصلہ مسلمان امت میں اس طرح نافذ ہوتا ہے کہ جس کے ماننے یا انکار کرنے پر اسلام اور کفر کا دارومدار ہے۔
Ayah 31:3

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

سراپا ہدایت اور رحمت ہے محسنین کے لیے

ھُدًی وَّرَحْمَۃً لِّلْمُحْسِنِیْنَ ۔ (لقمان : 3) (سراپا ہدایت اور رحمت ہے محسنین کے لیے۔ ) اس آیت میں قرآن کریم کی دو بنیادی صفات بیان کی گئی ہیں، ہدایت اور رحمت۔ سب سے پہلی ہدایت کی وضاحت پیش خدمت ہے۔ ھدًی کی وضاحت اور تسہیل قرآن کریم کا ایک ایک لفظ اپنے ظاہری حسن اور معنوی وسعت و جامعیت کے اعتبار سے اپنے اندر ایک اعجازی شان رکھتا ہے۔ بظاہر سیدھے سادے الفاظ کھائی دیتے ہیں۔ مگر حقیقت میں ان کے اندر مفہوم ومعنی کی ایک دنیا آباد ہوتی ہے۔ اسی لفظ ہدایت کو دیکھئے لفظ نہایت سادہ اور سہل ہے۔ لیکن معنوی وسعت اور جامعیت کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے ایک سے زیادہ معنی ہیں اور معنی اور مفہوم میں حیرت انگیز وسعت ہے۔ اب ہم اس کی تھوڑی سے تفصیل عرض کرتے ہیں۔ ھدًی اور ہدایت۔ دونوں مصدر ہیں۔ اور دونوں کا معنی رہنمائی ہے۔ ہدایت کا لفظ قرآن کریم نے استعمال نہیں کیا۔ البتہ ھدًییا الہدیٰ تقریباً دو سو جگہ استعمال ہوا ہے۔ اور ہر جگہ اس کی معنوی وسعت کے اعتبار سے قرائن کی مدد سے مفہوم کا تعین کرنا پڑتا ہے۔ ھدًی یا الہدیٰ کا معنی تو رہنمائی ہے۔ لیکن رہنمائی کے مصداق بیسیوں ہیں۔ اس لحاظ سے اس کے مفہوم میں تبدیلی کا پیدا ہونا ناگزیر ہوتا ہے۔ ایک راہ چلنے والاکسی واقف حال سے رستہ پوچھتا ہے یعنی اسے اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اس رہنمائی کی متعدد صورتیں ہوسکتی ہیں۔ رہنمائی کی متعدد صورتیں 1 رہنمائی دینے والا اس مسافر کو وہیں کھڑے کھڑے ہاتھ یا چھڑی کے اشارے سے منزل کی سمت بتادیتا ہے اور راستے کے کچھ نشانات واضح کردیتا ہے۔ اسے اراء الطریق کہتے ہیں۔ 2 بتانے والا محسوس کرتا ہے کہ راستہ بڑا پرپیچ ہے مسافر زبانی رہنمائی سے شاید منزل تک نہ پہنچ سکے اور اس کی فکر مندی دیکھ کر وہ خود بھی فکر مند ہوجاتا ہے۔ اب وہ بجائے اسے ہاتھ کے اشارے سے بتانے کے اسے اپنے ساتھ لیتا ہے اور اسے اس کی منزل تک پہنچا دیتا ہے۔ اسے ایصال الی المطلوب کہتے ہیں۔ 3 کبھی رہنمائی محسوس چیزوں میں نہیں ہوتی بلکہ رہنمائی کی ضرورت معنوی، نظریاتی اور فکری ہوتی ہے۔ یعنی ایک آدمی زندگی سے متعلق تصورات میں الجھا ہوا ہے۔ وہ اس کی حقیقت اس کی ضروریات اور اسکے مسائل کو سمجھنا چاہتا ہے لیکن الجھ کر رہ گیا ہے اب ضرورت ہے کہ اسے ایسی رہنمائی دی جائے جو اس حوالے سے اسے یکسو کردے۔ اس فکری رہنمائی کے لیے اسے زندگی سے متعلق ایسے واضح تصورات اور اس پر کامیابی سے چلنے والے واضح نقوش قدم مہیا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاکہ وہ اپنی فکری الجھنوں سے بھی نجات پالے اور عملی مثالیں اس کی فکر کو عملی توانائی بھی دے دیں۔ 4 اجتماعی زندگی اپنے سفر پر رواں دواں ہے۔ اس کے اجتماعی ادارے وجود میں آچکے ہیں۔ افراد کی شیرازہ بندی ہورہی ہے۔ حکومت و ریاست اور افرادِ ریاست کا باہمی تعلق تشکیل پارہا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ ایک ایسا آئین وجود میں آئے جو تمام اجتماعی اور ادارتی ضرورتوں کو اور فرد سے لے کر حکومت و ریاست تک ہر طرح کی رہنمائی کا حق ادا کرسکے۔ 5 سمتِ سفر اور منزل کے متعین ہوجانے یا ریاست کے ہمہ نوعی اداروں کے وجود پاجانے کے بعد اور قوم کی شیرازہ بندی ہوجانے کے بعد کبھی ایسی صورتحال بھی پیدا ہوتی ہے کہ ذمہ داریوں کی شدت کا احساس کرتے ہوئے اور راہ کی مشکلات کو محسوس کرتے ہوئے حوصلے ٹوٹنے لگتے ہیں۔ اور آمادئہ عمل ہونے سے پہلے ہی ہمتیں جواب دینے لگتی ہیں۔ اس صورت میں بھی رہنمائی کی ضرورت ہے، جو حوصلوں کو باندھ سکے اور ہمتوں کو توانا کرسکے۔ یہ کم سے کم رہنمائی کی ضرورتیں اور صورتیں ہیں اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہر ضرورت دوسرے سے مختلف ہے۔ ایسے تمام مواقع پر راہنمائی کی ایک ہی شکل تو ہو نہیں سکتی۔ ہر نئی ضرورت پیدا ہوجانے کے بعد رہنمائی بھی ایک نئی شکل میں متشکل ہوگی۔ شکل کچھ بھی ہو اور قالب کوئی بھی اختیار کیا جائے اسے بہرحال رہنمائی ہی کہا جائے گا۔ لیکن اس سے یہ تو اندازہ ہورہا ہے کہ رہنمائی یا ہدایت لفظ کی صورت میں تو ایک ہے لیکن معنوی وسعت کے اعتبار سے اس کے کتنے رنگ اور کتنی صورتیں ہیں۔ متذکرہ بالاپانچوں ضرورتوں کو سامنے رکھ کر دیکھئے۔ کہ پہلی صورت میں جب کہ زندگی کا مسافر منزل تک پہنچنے کا راستہ پوچھنا چاہتا ہے اور یہ اس کے سفر کی بالکل ابتداء ہے اور ابھی وہ اس میدان میں بالکل نووارد ہے۔ ہدایت کے احساس نے ابھی اس کے اندر جنم لیا ہے۔ قرآن اس کے لیے بھی ہدایت ہے۔ وہ صرف سمت سفر معلوم کرنا چاہتا ہے تو قرآن انگلی اٹھا کے اسے سمت سفر بتادیتا ہے۔ اور راستے کے کچھ نشانات بھی واضح کردیتا ہے۔ تو اس آیت کریمہ میں قرآن کریم کو اس حوالے سے بھی ہدایت کہا گیا ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جسے ” ھدًی لِلنَّاس “ کہا گیا ہے۔ یعنی یہ قرآن سب لوگوں کے لیے ہدایت ہے کہ وہ سب لوگوں کو راستہ دکھاتا ہے۔ دوسری صورت میں جبکہ اس کی فکر مندی میں اضافہ ہوچکا ہے۔ اب وہ بہرصورت منزل تک پہنچنے کے لیے بےتاب ہے اور زندگی کے نشیب و فراز نے اسے پریشان کردیا ہے۔ اب وہ خود کو رہنماکے حوالے کرکے التجا کرتا ہے کہ مجھے منزل تک پہنچنے کے لیے مدد کی جائے۔ تو قرآن اس کے لیے بھی ہدایت ہے۔ ارشاد فرماتا ہے : وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْافِینَالَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا۔ (جو لوگ ہم تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے بےچین ہوتے ہیں ہم ان کے لیے اپنے راستے کھول دیتے ہیں۔ ) نمبر 3 میں ہم نے جس ضرورت کا ذکر کیا ہے کہ انسان فکری طور پر الجھ کر رہ جاتا ہے وہ چلنا چاہتا ہے لیکن اسے راستہ نہیں ملتا۔ قرآن کریم اس کے لیے بھی ہدایت ہے کہ وہ اسے اس طرح فکری رہنمائی دیتا ہے کہ قرآن کریم کا مطالعہ اس میں قلبی نور و بصیرت پیدا کردیتا ہے۔ اب مشکل سے مشکل مراحل میں بھی اس کی بصیرت اسے رہنمائی دیتی ہے اور دل کا نور راستہ روشن کرتا ہے۔ اسی کے باے میں قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ وَالَّذِیْنَ اھْتَدَوْزَادَھُمْ ھُدًی ” کہ جو لوگ ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہیں اللہ ان کی قلبی بصیرت میں اضافہ فرماتا ہے۔ “ اجتماعی زندگی کی شیرازہ بندی اور اجتماعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے آئینی رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے۔ جس کا ذکر ہم نے نمبر چار پر کیا ہے۔ قرآن کریم اس کے لیے بھی رہنمابن کر آیا ہے۔ یعنی وہ صرف کتاب نصیحت ہی نہیں بلکہ ضابطہ حیات اور اسلامی ریاست و حکومت کا آئین بھی ہے۔ اس لیے فرمایا ” اِنَّ الھُدیٰ ھُدَی اللّٰہ “ (کہ بیشک شریعت اور آئین تو اللہ ہی کا آئین ہے) (یعنی قرآن کریم ) نمبر 5 میں ہم نے جس ضرورت کا ذکر کیا ہے۔ قرآن کریم یہ ضرورت بھی پوری کرتا ہے یعنی حوصلوں کو باندھتا اور توانا کرتا ہے اور اس لحاظ سے اسے ہدایت کہا گیا ہے۔ جس طرح ” اصحاب کہف “ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ چند لڑکے بالے تھے۔ جب وہ ایمان لے آئے تو حالات کی طغیانی ان کے حوصلوں کو توڑنے لگی۔ تو اللہ فرماتا ہے : ” زِدْنَاھُمْ ھُدًی وَرَبَطْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ “ (ہم نے پھر ان کی ہدایت میں اضافہ کیا یعنی ان کے دلوں کو باندھ دیا اور حوصلوں کو توانا کردیا ) ہم نے رہنمائی اور ہدایت کی چند آسان ضرورتیں آپ کے سامنے واضح کیں اور آپ نے دیکھا کہ قرآن کریم ان تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے رہنمائی کا حق ادا کرتا ہے۔ اور اس متنوع رہنمائی کو جس کی وسعتوں کی کوئی انتہاء نہیں صرف ایک لفظ ھدًی سے تعبیر کیا گیا ہے اس سے آپ اس لفظ کی وسعتوں کا اندازہ ر کرسکتے ہیں۔ رحمت کا مفہوم دوسری صفت جو ذکر فرمائی گئی ہے وہ رحمت ہے۔ رحمت ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس سے انسان کو قلبی سکون، دماغی آسودگی، اعضاء وجوارح کی برجستگی اور معاملات میں ہمواری اور اعتدال اور مجموعی طور پر زندگی میں فلاح و کامرانی کا احساس ہوتا ہے۔ اس کا تعلق دنیا سے بھی ہے اور آخرت سے بھی۔ جب کوئی شخص اسلام کا دامن پکڑ لیتا ہے تو اسلام اس کے دل و دماغ اور زندگی کے لیے ایسی ٹھنڈک بن جاتا ہے جو تکلیفوں میں مبتلا ہونے کے بعد بھی اسے بےچین نہیں ہونے دیتا۔ اور اگر مسلمان معاشرہ اسلامی نظام کو اپنا اجتماعی نظم اور مقصد بنا لیتا ہے اور اس کی زندگی کے ہر شعبے میں اسلام کی ہی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے رزق کے دروازے کھول دیتا ہے۔ بارشیں وقت پر ہوتی ہیں، حکمران اللہ تعالیٰ کی نعمت بن جاتے ہیں، باہمی معاملات میں خوش اسلوبی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زندگی کا ہر معاملہ اپنے نہج کے مطابق انجام پذیر ہوتا ہے اور انسان زندگی کو بوجھ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھ کر مقصد زندگی پر قربان کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ رحمت کا تعلق آخرت سے بھی ہے۔ اس لحاظ سے رحمت جنت کا دوسرا نام ہے۔ جو لوگ دنیا میں ایمان اور عمل صالح سے اپنے آپ کو آراستہ کرلیں گے آخرت میں انھیں جنت کی نعمتوں سے نوازا جائے گا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی وہ رحمت ہے جو صرف صاحب ایمان لوگوں کا حصہ ہے۔ لیکن یہ ہدایت و رحمت جو اللہ تعالیٰ کی بیش بہا نعمتیں ہیں یہ ہر ایک کے نصیب میں کہاں۔ یہ تو صرف ان لوگوں کو میسر آئیں گی جو اس کا واقعی حق ادا کریں گے۔ اس کے لیے محسنین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو صرف ضروریاتِ دین کو تسلیم ہی نہیں کرتے بلکہ اپنے دل و دماغ کو اس کے انوار سے ہمیشہ مزین رکھتے ہیں۔ اور جن کے اعضاء وجوارح سے نیکی کا صدور محض اتفاقاً نہیں ہوتا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی سنت کو اپنے لیے زندگی کا نظام بنا لیتے ہیں اور رحمت کی طلب میں ہمیشہ سرگرداں رہتے ہیں۔ بدی کا اول تو ان سے صدور نہیں ہوتا، اور اگر کبھی ہوجائے تو وہ اس کی تلافی کے لیے استغفار اور توبہ کا اس قدر سرمایہ جمع کردیتے ہیں کہ اس کے تصور سے نیکیوں کی بہار آجاتی ہے۔ اور مزید یہ بات کہ وہ نیکی اور بھلائی کی کسی سطح پر رکنے اور سستانے والے لوگ نہیں ہوتے بلکہ وہ بہتر سے بہتر نیکی اور بہتر سے بہتر بھلائی کی طلب میں اپنی صلاحیتوں کا ہر قطرہ نچوڑ دینے کے لیے مستعد رہتے ہیں۔
Ayahs 31:4–5

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

جو نماز کا اہتمام کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں، جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ ہیں، جو کامیاب ہیں

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ۔ اُوْلٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّہِمْ وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (لقمان : 4، 5) ( جو نماز کا اہتمام کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔” یہی لوگ ہیں، جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ ہیں، جو کامیاب ہیں۔ ) محسنین کی تین صفات اس آیت کریمہ میں محسنین کی تین صفات بیان کی گئی ہیں۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان تین صفات کے ذکر سے محسنین کے بنیادی خدوخال واضح کردیے گئے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ وہ بس انھیں تین صفات کے حامل ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ تین صفات ایسی ہیں جن پر باقی تمام نیکیوں کا دارومدار ہے۔ اور ان تینوں اعمال کے بروئے کار لانے سے جو جذبات پیدا ہوتے ہیں اور عادات میں جو تبدیلی آتی ہے اس سے خود بخود وہ نیکیاں وجود پذیر ہوتی ہیں جو محسنین کی پہچان ہیں۔ چناچہ ہم ایک ترتیب سے الگ الگ ان تینوں کا ذکر کرتے ہیں۔ اقامتِ صلوٰۃ کا مفہوم یہاں یہ نہیں فرمایا کہ وہ نماز پڑھتے ہیں بلکہ یہ فرمایا کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ قرآن کریم کی اس اصطلاح کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ اقامت کا معنی ہے کسی چیز کو کھڑا کرنا یا اس طرح سیدھا کرنا کہ اس میں کوئی ٹیڑھ باقی نہ رہے۔ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کے ایک سفر کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ جس میں ایک جگہ بتایا گیا ہے کہ ایک گائوں میں انھوں نے ایک جگہ دیکھا کہ ایک دیوار گرا چاہتی ہے تو انھوں نے اسے سیدھا کردیا۔ اس کے لیے قرآن کریم نے تعبیر اختیار کی ” فاقامہ “ پس اس نے اسے سیدھا کردیا تو یہاں دیکھئے اقامۃ ٹیڑھی دیوار کے سیدھا کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ تو اس لفظ کے معنی پر غور کرتے ہوئے کئی حقیقتیں واضح ہوتی ہیں : 1 نماز قائم کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ نماز صرف اللہ ہی کے لیے پڑھی جائے کسی اور کو اس میں شریک نہ کیا جائے اس میں دکھاوے کی آلائش تک شامل نہ ہو۔ ریاکاری کی پرچھائیں نہ پڑنے پائے۔ نماز چونکہ اللہ کے لیے ہے اس لیے اسی کے گھر کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی جائے اور دل کا رخ صرف اللہ کی طرف رہے اور کوشش یہ کی جائے کہ نماز میں مکمل یکسوئی حاصل ہو، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ وَاَقِیمُواوُجُوْہَکُم عِندَ کُلِّ مَسجِدٍ وَّادْعُوْہُ مُخلِصِیْنَ لَہُ الدِّین ” اور اسی کی طرف اپنا رخ کرو ہر نماز کے وقت اور اسی کو پکارو اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے “۔ 2 نماز اس طرح پڑھی جائے جس سے محسوس ہو کہ واقعی اللہ کو یاد کیا جارہا ہے۔ یعنی آدمی نماز کا ہر رکن ادا کرتے ہوئے، خشوع و خضوع میں ڈوبا ہوا ہو۔ آدمی پر اللہ کی خشیت بھی طاری ہو اور اس کی محبت سے دل لبریز بھی ہو۔ اور یہی وہ نماز ہے جو مسلمانوں کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اسی لیے قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے۔ قَدْ اَفْلَحَ الْمُوْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلٰوتِھِمْ خَاشِعُوْنَ ’ ’ ان مومنوں نے فلاح پائی جو اپنی نمازیں خشوع و خضوع سے ادا کرتے ہیں “۔ 3 نماز کو وقت کی پابندی کے ساتھ ادا کرنا، نہ تعجیل سے کام لینا نہ تاخیر سے۔ کیونکہ نہ وقت سے پہلے نماز ادا ہوتی ہے، نہ وقت کے بعد۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُوْمِنِیْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًا ” بیشک نماز مسلمانون پر وقت کی پابندی سے فرض کی گئی ہے “ 4 نماز کا اس طرح ادا کرنا جس میں فرائض واجبات، سنن، اور آداب تک کا لحاظ رکھا جائے۔ اگر فرض یا واجب کی پابندی نہ کی گئی تو نماز نہیں ہوگی اور اگر سنت سے لاپرواہی کی گئی تو نماز مکروہ ہوگی اور اگر آداب کا خیال نہ رکھا گیا تو نماز بےبرکت ہوجائے گی۔ اس لیے حقیقی نماز وہی ہے جو ان تمام پابندیوں کے ساتھ ادا کی جائے۔ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ جلدی جلدی نماز پڑھ رہا ہے۔ نہ قیام درست ہے نہ قعود، نہ رکوع میں سلامتی ہے نہ سجدے میں، بس جلدی جلدی نماز نمٹانے کی کوشش کررہا ہے۔ جس طرح عموماً ہم نماز پڑھتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے اسے بلا کر فرمایا نماز دوبارہ پڑھو، تم نے جو کچھ نماز کے طور پر کیا ہے یہ نماز نہیں ہے، کیونکہ نماز میں تعدیلِ ارکان بھی ضروری ہے۔ 5 پانچ نمازیں فرض ہیں، کوئی پڑھنا اور کوئی چھوڑدینا، اسے نماز قائم کرنا نہیں کہتے۔ یہ تو اپنے نفس کی نماز ہوئی کہ جب جی چاہا پڑھ لی اور جب جی چاہا چھوڑ دی۔ اس لیے فرمایا حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ نمازوں کی محافظت کرو۔ اور نمازیوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ھُمْ عَلٰی صَلَاتِھِمْ دَائِمُوْنَ ” وہ اپنی نمازوں پر برابر قائم رہتے ہیں “۔ 6 جماعت کی پابندی کرنا : قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ نے اس کی بےحد تاکید فرمائی ہے۔ قرآن ِکریم میں ارشاد ہے وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ” اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ “ ، یعنی جماعت کی پابندی کرو اور آنحضرت ﷺ نے رحمت للعالمین ہونے کے باوجود ارشاد فرمایا کہ ” جو لوگ اذان سننے کے بعد گھروں میں بیٹھ رہتے ہیں اور جماعت میں شریک نہیں ہوتے، میرا جی چاہتا ہے کہ میں کسی سے نماز پڑھانے کے لیے کہوں اور خود ان کے گھروں کو آگ لگادوں۔ اگر مجھے بچوں، بوڑھوں اور بیماروں کا خیال نہ ہوتا تو میں ایسا ضرور کر گزرتا “۔ 7 جماعت کی پابندی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی شیرازہ بندی جس کا اہم ذریعہ جماعت کے اندر نمازیوں کی صفوں کا سیدھا رکھنا ہے یہ بھی اقامتِ صلوٰۃ میں شامل ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا : تَسْوِیَۃُ الصُّفُوفِ مِن اِقَامَۃِ الصَّلٰوۃ ” صفوں کا برابر کرنا بھی اقامت صلوٰۃ کا ایک جز ہے “۔ اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ نے یہاں تک ارشاد فرمایا کہ ” جس قوم کی صفیں ٹیڑھی ہوتی ہیں اندیشہ ہے کہ ان کے دل نہ ٹیڑھے کردیے جائیں “۔ اقامتِ صلوٰۃ مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری 8 جہاں قرآن کریم نے اقامت صلوٰۃ کی نسبت پوری امت یا ان کے امام کی طرف کی ہے تو وہاں اس سے مراد ایک تو اجتماعی نمازوں کا قیام ہے جس میں جمعہ، جماعت اور عیدین کی نمازیں شامل ہیں اور دوسرے اس میں حکومت اسلامی کی سب سے پہلی ذمہ داری سے آگاہ کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی خطہ زمین میں مسلمانوں کو حکومت دے دے تو ان کی سب سے پہلی ذمہ داری نماز کا قائم کرنا ہے۔ ارشاد فرمایا اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنَّاھُمْ فِیْ الْاَرْضِ اَقَامُوْالصَّلٰوْۃَوَاٰتَوُالزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْابِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْعَنِ الْمُنْکَرِ ” اگر ہم ان کو زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں معروف کا حکم دیں اور برائی سے روکیں “۔ اس آیت کو پھر پڑھئے اور اندازہ فرمائیے کہ جس طرح قرآن کریم اپنے استفادہ کرنے والوں میں سب سے پہلی عملی صفت اقامتِ صلوٰۃ قرار دیتا ہے۔ اسی طرح یہاں مسلمان حکومت کی پہلی ذمہ داری اقامت صلوٰۃ ٹھہرا رہا ہے۔ اگر تدبر سے کام لیں تو اس کی دو وجہیں معلوم ہوتی ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اسلام ایک عظیم عمارت ہے، جو پانچ بنیادوں پر اٹھائی گئی ہے اور یہی پانچوں اس کے ستون ہیں۔ جن پر یہ عمارت ایستادہ ہے۔ ان میں پہلا اور اہم ترستون نماز ہے یہ ارکان اسلام میں سے ایسا رکن ہے جو سب سے پہلے امت مسلمہ پر فرض کیا گیا اور قیامت کے روز سب سے پہلے اسی سے متعلق سوال کیا جائے گا۔ اسی کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا الصَّلٰوۃُ فَارِقٌ بَینَ الحَقَّ وَالبَاطِلِ ” نماز حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہے “۔ مزید فرمایا : الصَّلٰوۃُ عِمَادُ الدِّیْنِ مَن اَقَامَھَا فَقَدْ اَقَامَ الدِّین وَمَنْ ھَدَمَھَافَقَد ھَدَمَ الدِّینَ ” نماز دین کا ستون ہے جس نے اسے قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا اور جس نے اسے گرادیا اس نے دین کو گرادیا “۔ کسی آدمی کے اسلام کی شناخت اور علامت یہی نماز ہے کیونکہ اسلام قبول کرنے کے بعد نماز کا وقت داخل ہوتے ہی یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ شخص دعوائے ایمان میں سچا ہے یا جھوٹا۔ قرآن پاک میں فرمایا : فَاِنْ تَابُوْاوَاَقَامُوْالصَّلٰوۃَ وَاَتٰوُالزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْاسَبِیْلَھُمْ اگر یہ توبہ کریں اور نماز ادا کریں اور زکوٰۃ دیں تو ان کا راستہ چھوڑدو یعنی ان کے ایمان کو معتبر جانو۔ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ مسلمانوں کا لشکر اگر کسی آبادی پر گذرے اور معلوم نہ ہو کہ اہل بستی مسلمان ہیں یا غیر مسلم تو اذان کہو اگر بستی سے اذان کا جواب ملے تو اس بستی کو مسلمان جانو اور ان سے مسلمانوں جیسا سلوک کرو۔ کیونکہ نماز ہی اہل اسلام کی پہچان ہے۔ ارکان اسلام میں سے کوئی رکن بجز زکوٰۃ کے ایسا نہیں جس کی قرآن وسنت میں اس تکرار کے ساتھ تاکید آئی ہوجیسی تاکید نماز کے لیے آئی ہے۔ قرآن کریم میں بار بار اَقِیْمُوالصَّلٰوۃَ (نماز قائم کرو) فرمایا گیا ہے۔ نمازوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا۔ حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ (نمازوں کی حفاظت کرو) ترک نماز پر شرک کے اندیشہ کا اظہار کیا گیا کہ نماز قائم کرو ورنہ اندیشہ ہے کہ کہیں مشرک نہ ہوجاؤ۔ اَقِیْمُوْالصَّلٰوۃَ وَلَاتَکُوْنُوْامِنَ الْمُشْرِکِیْنَاور شرک ایسی برائی ہے جس کا تصور بھی ایک مسلمان کے لیے ناقابل قبول ہے۔ مسلمانوں کو صرف اقامتِ صلوٰۃ پر عمل کرنے کا ہی حکم نہیں دیا گیا بلکہ اسے ہر مسلمان اور مسلمان معاشرے کی پہچان اور روح قرار دیا گیا اور اسے مسلمانوں کی ایسی صفت قائمہ و مستمرہ ٹھہرایا گیا جو مسلمانوں سے کبھی منفک نہیں ہوسکتی یعنی جس طرح برف سے ٹھنڈک، آگ سے تپش، چاند سے چاندنی، سورج سے روشنی اور موتی سے آب الگ نہیں ہوسکتی اسی طرح ایک مسلمان بلکہ مسلمان معاشرہ سے نماز کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ارشاد فرمایا گیا : وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلٰواتِھِمْ یُحَافِظُوْنَ ” وہ مسلمان ہمیشہ اور ہر حالت میں نمازوں کی محافظت کرتے ہیں “۔ جس طرح ان کے جسموں سے ان کی روحوں کو جدا نہیں کیا جاسکتا اسی طرح ان کی دینی زندگی نمازوں کے اہتمام اور اس کے اثرات سے بےنیاز نہیں رہ سکتی۔ نماز کی پابندی نہ کرنا نفاق کی علامت ہے یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام جس کسی مسلمان کو مسجد سے چند نمازوں میں غائب دیکھتے، تو اس کی مزاج پرسی اور تیمار داری کے لیے اس کے گھر کا رخ کرتے، انھیں یقین ہوجاتا کہ وہ یقینا بیمار ہے یا اسے کوئی عذر لاحق ہے۔ ان کے لیے یہ بات ناقابل تصور تھی کہ کوئی مسلمان بدوں عذر بھی کبھی نماز باجماعت یا مسجد سے بیگانہ رہ سکتا ہے اور اگر انھیں یہ معلوم ہو تاکہ غیر حاضر شخص کوئی معقول عذر نہیں رکھتا تو انھیں اس کے منافق ہونے کا یقین ہوجاتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے ترک نماز نہیں بلکہ اہتمامِ نماز میں سستی کو بھی منافقین کی علامت قرار دیا۔ ارشاد فرمایا : وَاِذْقَامُوْااِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی ” جب وہ نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو ڈھیلے ڈھالے اور کسمسائے ہوئے “۔ پروردگار کی نگاہ میں یہ مسلمان کا شیوہ نہیں پھر یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ عہد نبوی اور عہد صحابہ میں آخر منافقین نہ چاہتے ہوئے بھی نماز کیوں پڑھتے تھے ؟ اس کی دو وجوہ تھیں۔ 1 وہ جانتے تھے کہ مسلمان معاشرہ میں رہنے اور خود کو انھیں میں سے ظاہر کرنے کے لیے نماز میں شرکت ضروری ہے ورنہ مسلمان انھیں کبھی مسلمانوں میں شمار نہیں کرسکتے تھے کیونکہ انھیں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد خوب معلوم تھا مَنْ تَرَکَ الصَّلٰوۃَ مُتَعَمِّدًافَقَدْکَفَرَ ” جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا “۔ 2 دوسری وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کو جس سانچے میں ڈھالا گیا تھا اس میں نماز کا اہتمام نہ کرنے والوں کے لیے کوئی گنجائش نہ تھی۔ جس طرح ایک صحت مند معدہ مکھی یا کسی ایسی ہی کسی چیز کو قبول نہیں کرتا بلکہ اگل دیتا ہے۔ اسی طرح صحت مند مسلمان معاشرہ کبھی بےنماز کو برداشت نہیں کرتا بلکہ بےنماز آدمی اکل کھرے معاشرے میں کھوٹ کی طرح الگ ہوجاتا ہے کیونکہ پروردگار نے اس مسلمان معاشرے کے معماروں یعنی انبیاء کرام کی یہ ذمہ داری ٹھہرائی تھی کہ وہ خود بھی نماز کی پابندی کریں اور اپنے ماننے والون کو بھی اس کا حکم دیں اور اس کا آغاز اپنے گھر سے کریں آں حضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے وَأْمُرْاَھْلَکَ بِاالصَّلٰوۃِوَاصْطَبِرْعَلَیْہَا ” اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیجیے اور خود بھی اس کی پابندی کیجیے۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قرآن ِ کریم میں قیامت تک کے لیے محفوظ فرمادی گئی۔ رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ ” اے رب مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا “۔ ایسے معاشرے میں ترک نماز کی کہاں گنجائش رہ سکتی ہے۔ جس میں یہ بات دل و دماغ میں اتار دی گئی ہو کہ نماز زندگی میں بجز جنون اور بےہوشی کے کسی حالت میں بھی ساقط نہیں ہوسکتی۔ اگر گھر کا سکون میسر نہیں حالت سفر درپیش ہے، تو سفر کی روا روی میں بھی نماز چھوڑی نہیں جاسکتی۔ البتہ قصر پڑھو یعنی دو رکعت نماز کافی ہے اور اگر بیماری کا عذر ہے تو عذر کے مطابق نماز پڑھو۔ یعنی قیام پر قادر نہیں ہو توبیٹھ کر پڑھو بیٹھ بھی نہیں سکتے تو لیٹ کر سر کے اشارے سے پڑھو اور اگر اتنی بھی ہمت نہیں تو آنکھوں کے اشارے سے پڑھ لو، اور اگر وضو نہیں کرسکتے تو تیمم کرلو۔ خود نہیں کرسکتے تو دوسرا کرادے اور اگر جنگ کی حالت درپیش ہو تو صلوٰۃ الخوف یعنی ” خوف کی نماز “ پڑھو۔ اندازہ فرمائیے ! جنگ کی ہولناکیوں میں غذا میسر نہیں آرام کا موقعہ نہیں جان کے لالے پڑے ہیں مگر نماز بہرحال پڑھنی ہے اگر مسلسل فائرنگ اور گولہ باری کی وجہ سے کسی طرح بھی نماز نہیں پڑھی جاسکتی، تو پھر جب موقع ملے جو نمازیں قضا ہوگئی ہیں انھیں پڑھ لو۔ جیسا کہ غزوئہ خندق میں آنحضرت ﷺ کی دو نمازیں کفار کے مسلسل حملے کی وجہ سے قضاء ہوگئی تھیں تو آپ ﷺ نے انھیں قضا پڑھا لیکن نمازوں کے قضا ہوجانے کا رنج اتنا شدید تھا کہ آپ ﷺ کی زبان سے ان کفار کے لیے بددعا نکلی۔ حالانکہ آپ ﷺ سراپا رحمت تھے اور کبھی اپنی ذات کے لیے کسی کو کبھی حرف ناملائم بھی نہیں فرمایا اور طائف کے پتھر کھاکر بھی بددعا نہیں فرمائی۔ لیکن نماز کے معاملہ میں آپ بہت حساس واقع ہوئے تھے کیونکہ نماز فی الحقیقت اللہ تعالیٰ سے وفاداری کا اقرار واعلان ہے اور اس کی مداومت اور پابندی اس عہد وفا کی پاسداری ہے اس لیے جب آپ اس عہد وفاکو شکست ہوتادیکھتے تو اس دھرتی پر سایہ رحمت ہونے کے باوجود غضبناک ہوجاتے۔ آنحضرت ﷺ کے نماز کے بارے میں شدید حساس ہونے اور نماز کی اہمیت و عظمت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ مرض الوفات میں جبکہ نقاہت کے باعث آپ کی آواز جواب دے رہی تھی اور چند لمحوں بعد آپ واصل بحق ہونے والے تھے۔ حضرت عباس ( رض) فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کے لب مبارک جنبش کرتے ہوئے دیکھے تو میں نے لبوں سے کان لگادئیے۔ آپ فرما رہے تھے : اَلصَّلٰوۃُ وَمَامَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ” لوگو ! نماز کی پابندی کرنا اور زیر دستوں سے حسن سلوک سے پیش آنا “۔ جس تحفہ کو عالم لامکاں سے شب معراج آپ اپنے رب سے لے کر آئے تھے، دنیا سے دم واپسیں اسی کی یاد دہانی فرما رہے تھے۔ مسلمان معاشرے میں اسی تاکید واہتمام کا اثر تھا کہ عالم اسلام پر غیر ملکی استعمار کے مکروہ سایہ پڑنے تک مسلمانوں میں ہر طرح کا عیب تلاش کیا جاسکتا ہے مگر بےنماز ہونا یعنی ترک نماز، یہ برائی مسلمانوں میں کبھی نہ تھی کیونکہ مسلمان خوب جانتے تھے کہ اسلام اور پروردگار سے ہمارے تعلق کا یہ آخری ٹانکا ہے اگر یہ بھی ٹوٹ گیا تو پھر رسمی تعلق تو شاید باقی رہ جائے حقیقی تعلق باقی رہنے کا سوال ہی پید انھیں ہوتا۔ آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کی اجتماعیت کے تحفظ کے لیے غلط کار اور بدعمل حکمرانوں کو بھی آخر حد تک زیادہ سے زیادہ برداشت کرنے کا حکم دیا مگر اس برداشت کی آخری حد یہ بیان فرمائی کہ جب تک وہ تمہیں اقامتِ صلوٰۃ کا حکم دیتے رہیں یعنی اس کے بعد انھیں برداشت کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ قرآن حکیم نے گزشتہ قوموں کے حوالے سے ان کی جس آخری برائی اور گمراہی کو بیان فرمایا ہے جس کے بعد وہ ہلاکت سے نہ بچ سکے۔ وہ یہی نماز کو ضائع کردینے کی حالت ہے ارشاد پاک ہے۔ فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِھِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوْاالصَّلٰوۃَ وَاتَّبِعُوْاالشَّھَوٰاتِ ” پھر ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنھوں نے نماز کو ضائع کردیا اور شہوات کے پیروکار ہوگئے “۔ پھر اللہ کا قانون حرکت میں آیا اور نامرادی و خسران اور تباہی و بربادی ان کا مقدربن گئی۔ وا حسرتا ! آج امت مسلمہ اپنی اس متاع بےبہا کو گم کرچکی بالخصوص اس کا طبقہ خواص اس کی اہمیت، افادیت اور عظمت کو بالکل بھلا چکا ہے۔ متذکرہ بالا تفصیل سے آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اسلام میں نماز کا کیا مقام اور کیا اہمیت ہے۔ سامنے کی بات ہے کہ جس فریضہ الہٰی کی دین میں یہ اہمیت ہو اسے قائم کرنا اگر اسلامی حکومت کی پہلی ذمہ داری نہ ٹھہرائی جائے پھر اور کس کی ٹھہرائی جائے۔ نماز کا اہتمام بحالی امن کا پیش خیمہ ہے اقامتِ صلوٰۃ کو اسلامی حکومت کی ذمہ داری ٹھہرانے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ دنیا میں ہر متمدن اور مہذب حکومت کی ذمہ داریوں میں سب سے پہلی ذمہ داری یہ سمجھی جاتی ہے کہ وہ ملک کے نظم ونسق کو بہتر بنائے۔ لوگوں کی جان مال اور عزت محفوظ ہو۔ راستے خطرات سے پاک ہوں، لوگ رات کو آرام کی نیند سو سکیں، ملک کا ہر شہری اپنے آپ کو ہرحال میں محفوظ تصور کرے۔ اسلامی حکومت کی بھی سب سے پہلی یہی ذمہ داری ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ پروردگار نے اسلامی حکومت پر اس ذمہ داری کو عائد کرنے سے پہلے ایک اور ذ مہ داری عائد کی ہے اور یہ ضمانت دی ہے کہ اگر حکومت اس ذمہ داری کی ادائیگی میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ دوسری ذمہ داری خود بخود ادا ہوجاتی ہے کہ پہلی ذمہ داری سے مراد میری یہ ہے کہ اسلامی حکومت کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کا اپنے اللہ سے تعلق درست کردے۔ ہر مسلمان ہر وقت اس بات کا یقین رکھے کہ جس خالق ومالک نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس نے میری زندگی کے اسباب پیدا کیے ہیں اور جس نے مجھے قوت احساس اور قوت ادراک سے نوازا ہے، وہی پروردگار ہر وقت مجھے دیکھتا ہے، میں ہر وقت اس کی نگرانی میں ہوں اس کے متعین کردہ نگران میرے ایک ایک عمل کو محفوظ کررہے ہیں۔ مرنے کے بعد ایک دن ایسا آئے گا جب میں دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا اور پھر مجھے اپنے ایک ایک عمل کا اپنے پروردگار کو حساب دینا ہوگا۔ اسی طرح اسلامی حکومت کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر مسلمان کے دل میں یہ بات راسخ کردے کہ تم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں از اول تا آخر اللہ ہی کے بندے ہو۔ اسی کی بندگی اور اسی کی اطاعت تم پر لازم ہے۔ وہی ایک ذات ہے جو تمہاری زندگی کی حقیقی راہنما تمہاری کمزوریوں میں وہی تمہارا سہارا ہے اور تمہاری سرافرازیاں بھی اسی کی دین اور اسی کی امانت ہیں۔ تم ہرحال میں اللہ کے بندے ہو بندگی کا حق ادا کرنا اور اس کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنا تمہاری معراج ہے۔ کسی بھی ملک کے رہنے والوں میں اگر یہ تصورات پختہ کردیے جائیں تو اندازہ فرمایئے ! کیا اس ملک میں جرم پرورش پاسکتا ہے ؟ جو شخص ہر وقت اللہ کی ذات کو اپنے دماغ میں مستحضر رکھتا ہے وہ کسی بھی ذمہ داری کی ادائیگی میں خیانت کیسے کرسکتا ہے ؟ وہ کسی شخص پر ظلم کیسے کرسکتا ہے ؟ وہ کسی کے مال میں دست درازی کیسے کرسکتا ہے ؟ اس کے سامنے سر جھکانے والا سرکشی کا رویہ کیسے اختیار کرسکتا ہے ؟ اندازہ فرمائیے ! اگر اس تبدیلی کے بعد واقعی انسان ہر طرح کے گناہ اور جرم سے بچ جاتا ہے اور اگر معاشرہ اس قالب میں ڈھل جائے تو پورا معاشرہ گناہوں اور جرائم سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ تو اس کے بعد نظم ونسق کی بحالی اور لاء اینڈ آرڈر کی بہتری کے لیے اور کچھ کرنے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ اس لیے پروردگار نے سب سے پہلے مسلمانوں کو اس بنیادی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے اقامت صلوٰۃ کا حکم دیا۔ کیونکہ نماز ہی ہے جس کے ذریعے اسلامی معاشرے میں متذکرہ بالا تبدیلی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ایک آدمی جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو سب سے پہلے اللہ اکبر کہتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی ذات، اپنی ضروریات، اپنی خواہشات، دنیا کے تقاضوں، اور دنیا کی تمام نام نہاد عظمتوں کا انکار کرتے ہوئے صرف اللہ کی بڑائی کا اعتراف کرتا ہے اور ہاتھ اٹھاتے ہوئے ہر چیز کو پس پشت پھینکتا ہے اور اللہ کی بندگی کا اقرار کرتے ہوئے ہاتھ باندھ لیتا ہے۔ اس کے بعد اسی کی ثناء کرتا ہے، اسی کی حمد بیان کرتا ہے، اسی کی بندگی کا اعتراف کرتا ہے اور صرف اسی سے مدد طلب کرتا ہے اور پھر اسی کے ضابطہء حیات کی تلاوت کرتا ہے، پھرا سی کے سامنے رکوع، سجود اور قعود سے بندگی کی تکمیل کرتا ہے۔ یہ سب کچھ امت اسلامیہ کا ایک فرد بھی کرتا ہے اور پوری امت بھی کرتی ہے، اسی کا نام نماز ہے۔ اگر یہ نماز شعوری طور پر پڑھی جائے اور اس کے تمام تقاضوں کو بروئے کار لایا جائے اور اس کے مقاصد میں سے کم از کم اس بات کو ذہن نشین کرلیا جائے اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ کہ میری یاد کے لیے نماز کو قائم کرو۔ اور اس کے منفی پہلو کو بھی مضبوط ہاتھوں سے تھام لیا جائے اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ ’ ’ بیشک نماز بےحیائی کے کاموں سے اور گناہ سے روکتی ہے “۔ تو تصور کیجیے ! اللہ کی یاد کے ساتھ گناہوں کا وجود کیسے باقی رہ سکتا ہے اور بےحیائی اور گناہوں کو روکنے کے عزم کے ساتھ جرم کیسے جنم لے سکتا ہے ؟ یہ اللہ کا دیا ہوا حیرت انگیز نظام ہے کہ اس نے ایک عبادت کے ذریعے پوری اجتماعی زندگی کو ہر طرح کی دراڑوں سے محفوظ کردیا اور اسے ایک ایسے اہم کام کا ذریعہ بنادیا جو حکومتوں کی پہلی ذمہ داری ہے اور جس کی ادائیگی آج بھی دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے مشکل ہورہی ہے میری ان گزارشات سے یہ بات سمجھنا آسان ہوگیا ہوگا کہ قرآن کریم نے اسلامی یا مسلمان حکومت کے لیے سب سے پہلے نماز قائم کرنا ضروری کیوں قرار دیا۔ لیکن اپنی کو تاہی فکر اور بدنصیبی پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے کہ جب بھی کہیں جزوی طور پر بھی مسلمانوں نے اقتدار پاکر اقامتِ صلوٰۃ کے فریضہ کو انجام دینے کی کوشش کی ہے تو ہمارے دانشوروں کا گروہ ہاتھ جھاڑ کر ان کے پیچھے پڑگیا ہے کہ آپ کو سب سے پہلے لاء اینڈآرڈر کا مسئلہ حل کرنا چاہیے لوگوں کی محرومیوں کا علاج کرنا چاہیے اور لوگوں کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ لیکن وہ نہیں جانتے کہ نماز صرف اولین فریضہ ہی نہیں بلکہ مسلمان معاشرے کی تبدیلی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جس کے نتیجے میں خود بخود ایک صالح انقلاب آتا ہے جو مسلمان معاشرے کے لیے خوشگوار ہوا کا جھونکا ثابت ہوتا ہے۔ اللہ سے تعلق کی درستی کے ساتھ ساتھ دوسری چیز جو اسلام اپنے ماننے والوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہر مسلمان کا تعلق دوسرے انسانوں اور دوسرے مسلمانوں سے درست ہوجائے۔ یوں تو وہ ہر مخلوق سے مسلمانوں کے تعلق کی درستی کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن انسانوں اور بطور خاص مسلمانوں سے صحیح تعلق کی استواری کا نماز ہی کی طرح تاکید کرتا ہے کیونکہ جب ایک نمازی نماز کے لیے مسجد جاتا ہے اور نماز کے دوران اور نماز کے ماحول میں جس طرح اللہ سے قرب نصیب ہوتا ہے اسی طرح مسلمانوں سے بھی قربت کا موقع ملتا ہے اپنے دینی بھایئوں کے حالات سے آگاہی ہوتی ہے۔ قرنِ اول کے مسلمان ہماری طرح بےگانوں کی طرح نماز نہیں پڑھتے تھے بلکہ وہ باہمی ایک دوسرے سے قربت اور حالات سے آگاہی کو بھی ضروری سمجھتے تھے اور پھر مسلمانوں کا امام نمازوں اور جمعہ کی جماعت کے وقت مسلمانوں کو ملک کے اندرونی اور بیرونی حالات اور ضرورتوں سے بھی آگاہ رکھتا تھا اور بعض دفعہ مسلمانوں کی ضرورتوں کی طرف متوجہ بھی کرتا تھا۔ اگر نمازوں کے اوقات کے علاوہ کبھی کوئی ایسی مالی ضروت پیش آجاتی یا کوئی حالات کے ہاتھوں ستایا ہوا مسلمانوں کا قافلہ مسجد میں پہنچ جاتا تو الصلوۃ جامعۃ کی صدا گونجنے لگتی اور مسلمان کشاں کشاں مسجد میں پہنچ جاتے اور آنے والے بےنوائوں اور بےکسوں کے دکھوں کا مداویٰ کیا جاتا۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو چیتھڑے پہنے ہوئے دیکھا تو باوجود اس کے کہ آپ ﷺ خطبے کے لیے منبر پر رونق افروز ہوچکے تھے آپ ﷺ نے اسے کھڑے ہو کر سنتیں پڑھنے کی تاکید فرمائی۔ تاکہ لوگ اس کی زبوں حالی اور بےکسی کو دیکھ لیں اور خود بخود اس کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز جس طرح اللہ سے تعلق کو استوار کرتی ہے اسی طرح مسلمانوں کے باہمی تعلق کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔ اسی وجہ سے اس کے فوراً بعد ارشاد فرمایا گیا : وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ ” اور وہ زکوٰۃ دیتے ہیں۔ “ زکوٰۃ دوسرا ستون ہے محسنین کی دوسری صفت زکوٰۃ کی صورت میں بیان کی جارہی ہے۔ قرآن کریم میں ہم دیکھتے ہیں کہ پروردگار نے مسلمانوں کی تعمیرِ کردار، شیرازہ بندی، اللہ تعالیٰ اور دین سے گہری وابستگی اور انتہا درجے کا نظم وضبط، پیدا کرنے کے لیے نماز کا جابجا حکم دیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں بیشتر مواقع پر نما ز کے ساتھ زکوٰۃ کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دین کا دوسرا ستون ہے۔ انبیائے کرام کی دعوتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم نے بالعموم یہ بات ضرور کہی ہے کہ وہ نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے یعنی نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر ضرور کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ انسانی کمزوریوں میں ہوائے نفس نے جو مظاہر پیدا کیے ہیں اس کی اکثر صورتوں کا علاج تو نماز سے ہوجاتا ہے۔ لیکن جہاں تک حبِّ مال اور اس کے نتیجے میں انسانی حقوق سے لاپرواہی بلکہ بےرحمی اور شقاوت کا تعلق ہے اسے دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا حکم دیا ہے کیونکہ جو شخص زکوٰۃ کی حقیقت کو سمجھ کر اس پر عمل کرتا ہے وہ مال کی محبت میں غیر متوازن نہیں ہوتا۔ اسی طرح مالی طور پر محتاج لوگوں کی جو ضرورتیں امراء کی دولت سے متعلق ہیں ان سے صرف نظر نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ جس طرح اپنے دل و دماغ اور اعضاء وجوارح کی ترجیحات کا جواب اللہ کے سامنے دینا ہے اسی طرح بندوں کے حقوق اور ان کے تعلق کے حوالے سے بھی سخت باز پرس کا اندیشہ ہے اور اسلام کا اصل حسن ہی یہ ہے کہ وہ جس طرح اپنے ماننے والوں کو اللہ کے آستانے پر جھکا کر اللہ کے دامن سے وابستہ کردیتا ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ کے ذریعے مالداروں کو غریبوں کے ساتھ مربوط بھی کرتا ہے۔ اس طرح ایک مسلمان خلق اور خالق دونوں سے صحیح بنیادوں پر اپنے تعلق کو استوار کرلیتا ہے۔ زکوٰۃ سے مراد انفاق فی سبیل اللہ ہے یہ سورة چونکہ مکی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ زکوٰۃ قانونی اور اصطلاحی حیثیت سے مدینہ منورہ میں فرض ہوئی۔ اس لیے اس سورة میں زکوٰۃ کا لفظ اصطلاحی معنوں میں مراد نہیں لیا جاسکتا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قرآن کریم نے مکی سورتوں میں بھی بیشتر مواقع پر زکوٰۃ کا ذکر فرمایا اور اس کی ترغیب بھی دی تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد اصطلاحی زکوٰۃ نہیں بلکہ انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ جس طرح نماز باجماعت اجتماعیت کی روح اور اللہ سے مضبوط تعلق کو پیدا کرتی ہے اسی طرح انفاق فی سبیل اللہ غریبوں اور امیروں کو اجتماعیت کا درس دیتا اور باہمی روابط کو مضبوط کرتا ہے۔ اگر چند آدمی اکٹھے بیٹھ کر اللہ کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن ان میں سے صاحب استطاعت غریب اور محتاج کو اپنے کھانے میں شریک نہیں کرتے تو ان کے اندر حقیقی وحدت پیدا نہیں ہوسکتی اور وہ کبھی اس خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتے کہ ہم ایک امت کے افراد ہیں اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے اعضاء کی مانند ٹھہرا یا ہے۔ اس لیے یہاں انفاق فی سبیل اللہ کو محسنین کی صفت کے طور پر بیان فرماکر ان کی حقیقی قوت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ وَبِالآْخِرَۃِ ھُمْ یُؤْقِنُوْنَ ۔ (البقرۃ : 4) ” اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ “ آخرت کا مفہوم آخرت کا معنی تو ہے دوسری زندگی۔ جو قیامت کے بعد جن وانس کو ملے گی، لیکن اس کا اطلاق چند عقائد و حقائق پر ہوتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک پر یقین آخرت کے یقین کو مکمل کرتا ہے۔ 1 ان میں سے سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں میں یہ تصور پیدا کرتا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے غیر ذمہ دار نہیں بنایا۔ وہ کوئی خود کاشتہ پودا نہیں، جو یونہی مَل دَل کے ختم ہوجائے اور نہ وہ شتر بےمہار ہے جو جدھر منہ اٹھائے چلتا پھرے۔ بلکہ اس کی زندگی کا ایک مقصد ہے اور اس مقصد کے مطابق زندگی گزارنے کا اسے پابند بنایا گیا ہے۔ قیامت کے دن جسے آخرت کہا گیا ہے، اس سے اس مقصد کے حوالے سے باز پرس ہوگی۔ مختصر یہ کہ بازپرس کا یقین رکھنا اور اس کے لیے ایک دن کے آنے کا یقین رکھنا یہ آخرت کا پہلا تصور ہے۔ 2 دوسری بات یہ کہ دنیا کا موجودہ نظام اور دنیا کی یہ زندگی دائمی اور ابدی نہیں۔ ایک وقت ایسا آئیگا جب یہ پورا کارخانہ تباہ ہوجائے گا۔ زمین پھٹ جائے گی آسمان ٹوٹ پھوٹ جائیں گے پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ ہر طرف تباہی اور موت کی حکومت ہوگی۔ 3 تیسری بات یہ کہ جس طرح دنیاکو موت کا شکار ہونا ہے اور اس زندگی کو ہمیشہ باقی نہیں رہنا، اسی طرح یہ تباہی اور بربادی بھی ہمیشہ نہیں رہے گی اس دنیا کے خاتمے کے ایک عرصہ بعد اللہ تعالیٰ ایک دوسرا عالم بنائے گا اور اس میں تمام نوع انسانی کو جو ابتدائِ آفرینش سے لے کر قیامت تک زمین پر پید اہوئی تھی، بیک وقت دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا اور پھر انھیں میدانِ حشر میں جمع کیا جائے گا۔ جہاں سب کے اعمال کا حساب ہوگا اور ہر ایک کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ 4 چوتھی بات یہ کہ جو لوگ اللہ کے فیصلے کے نتیجے میں نیک قرار پائیں گے، وہ جنت میں جائیں گے اور ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور جو لوگ اپنی بد اعمالیوں کے باعث بد ثابت ہوں گے، وہ جہنم کی نذر کردیے جائیں گے۔ 5 پانچویں یہ بات کہ قیامت کے دن کامیابی اور ناکامی کا دارومدار ایمان وعمل پر ہوگا۔ جس نے زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزاری ہوگی، وہ کامیاب ٹھہرے گا۔ اس لیے کامیابی اور ناکامی کا دارومدار موجودہ زندگی کی خوشحالی یا بدحالی پر نہیں، بلکہ حقیقی کامیاب وہ ہے، جو آخرت میں جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا۔ دنیا میں اگر کسی نے کبھی خوشی نہیں دیکھی اور ساری زندگی دکھوں میں گزاری۔ لیکن اس کی پوری زندگی پر ایمان وعمل کی حکمرانی رہی اور اس نے ہمیشہ اپنے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کی، تو اس کی دنیا کی محرومیاں آخرت میں اس کے لیے توشہ ثابت ہوں گی۔ لیکن جس نے دنیا میں عیش و عشرت میں زندگی گزاری، اس کا یہ عیش و عشرت قیامت میں اس کے لیے حسرت کا سامان بن جائے گا۔ یہ چند عقائد اور حقائق ہیں جن پر یقین رکھنے کو ایمان بالآخرت کہتے ہیں۔ یہاں غور فرمایئے کہ آخرت کے ساتھ ” ایمان “ کے لفظ کی بجائے ” ایقان “ کا لفظ آیا ہے یہ نہیں کہا یُؤْمِنُوْنَ بِالْآخِرَۃِ ” وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں “ بلکہ فرمایا وَبِالآْخِرَۃِ ھُمْ یُؤْقِنُوْنَ وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ ایمان اور ایقان میں فرق ” ایمان “ کے معنی تصدیق کرنے اور مان لینے کے ہیں۔ اس کی ضد کفروانکار اور تکذیب ہے۔ ” ایقان “ کا معنی یقین کرنے کے ہیں۔ اس کی ضد گمان اور شک ہے۔ جس طرح کسی شے پر یقین رکھنے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی اس پر ایمان بھی رکھتاہو، اسی طرح کسی چیز پر ایمان رکھنے کے لیے اس پر یقین کرنا شرط نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آدمی کا ایمان محض گمان غالب پر مبنی ہو اور وہ آہستہ آہستہ گمان کی منزل سے نکل کر یقین کی منزل تک پہنچ جائے اور اس طرح اس کے ایمان کی تکمیل ہوجائے۔ دونوں کی مثالیں قرآن کریم اور تاریخ میں موجود ہیں۔ فرعون اور آل فرعون کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں بتایا کہ ان لوگوں نے مسلسل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھ کر دل سے یقین کرلیا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے رسول ہیں۔ لیکن وہ اپنی سرکشی اور ظلم کے باعث ایمان لانے سے محروم رہے۔ ابوجہل کی یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ میں محمد (e) کو جھوٹا نہیں کہتا، میں جانتا ہوں اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، لیکن میں اس پر ایمان اس لیے نہیں لاسکتا کہ ایمان لانے کے بعد بنی ہاشم کا قبیلہ ہمیشہ کے لیے ہم سے بڑھ جائے گا اور مزید یہ کہ ہمیں جو عزت حاصل ہے، وہ ایمان لانے کے بعد باقی نہیں رہے گی، کیونکہ اسلام تو ہر طرح کے تفاوت کو ختم کردیتا ہے۔ وہاں تو صرف تقویٰ سے عزت ملتی ہے، خاندانی انتساب سے کچھ نہیں ملتا۔ دور نہ جایئے، برطانیہ کا مشہور ادیب برناڈ شا، اسلام کو سچا مذہب سمجھتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ آج کے دور میں اگر کوئی مذہب چل سکتا ہے، تو وہ صرف اسلام ہے اور اگر کوئی شخصیت آج کے دور کی رہنما ہوسکتی ہے، تو وہ صرف محمد ﷺ ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ مسلمان نہ ہوا اور ایسا تو بارہا ہوتا ہے کہ آدمی غالب گمان پر کسی چیز کو تسلیم کرلیتا ہے، لیکن پھر تجربے سے اس کا غالب گمان یقین میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یقیناً ایسے لوگ قرن اول میں بھی ہوں گے کہ جو جب ایمان لائے تو یقین کی معراج پر نہ تھے۔ بالخصوص فتح مکہ کے موقع پر ایمان لانے والوں میں ایسے لوگوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔ لیکن رفتہ رفتہ ان کا ایمان یقین کی صورت اختیار کرگیا۔ یقین بہرحال انسانی شعور اور انسانی احساسات کی سب سے اعلیٰ منزل ہے۔ اس کے بعد عمل، ایثار اور شہادت کے راستے میں کوئی چیز حائل نہیں ہوتی، تو آخرت پر ایمان لانے کو اسی یقین کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ کیونکہ آخرت کا عقیدہ ہی فرد اور قوم دونوں کی زندگیوں میں انقلاب کا سبب بنتا ہے۔ جس آدمی کو یقین آجائے کہ مجھے اپنے ایک ایک عمل اور زندگی کے ایک ایک لمحے کا اللہ کو حساب دینا ہے اور کچھ پتہ نہیں کہ کب اللہ کی طرف سے بلاوا آجائے، ایسا شخص کبھی گناہ کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔ اُولٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ ق وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ ” یہی لوگ ہیں، جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ ہیں، جو کامیاب ہیں۔ “ ہدایت کا تکمیلی مفہوم جن لوگوں نے پورے احساس اور شعور کے ساتھ قرآن پاک سے استفادہ کیا اور جس کے نتیجے میں ان کے اندر متذکرہ بالا صفات پیدا ہوگئیں یہی وہ لوگ ہیں، جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں۔ یہاں ہدایت اپنے تکمیلی مفہوم میں ہے۔ یعنی یہی وہ لوگ ہیں، جن کے لیے قرآن پاک کے دیے ہوئے نظام زندگی پر چلنا آسان ہوجاتا ہے۔ جنھیں قلبی نور اور بصیرت عطا ہوتی ہے، ان کے فکر و عمل میں کوئی کجی نہیں ہوتی ہے۔ کمزوری : اللہ کے ہر حکم اور قرآن کریم کی ہر آیت سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن کی ہر بات انھیں اپنے دل کی آواز محسوس ہوتی ہے وہ اسلامی زندگی کے تقاضوں کی طرف لپکتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اللہ ان کو دنیا میں بھی فلاح کی دولت سے نوازتا ہے اور آخرت میں بھی فلاح ان کا نصیب ہوگی۔ اہل لغت کہتے ہیں کہ فلاح کا لفظ دنیا اور آخرت کی ہر طرح کی بھلائیوں کو محیط ہے۔ دنیا میں جب کسی شخص یا کسی معاشرے کے افراد کو یہ فلاح کی دولت ملتی ہے، تو وہ ہر طرح سے آسودہ ہوجاتے ہیں اور قیامت کے دن اللہ کے فضل و عنایت سے وہ اس طرح نہال ہوں گے کہ ان کے تصور کے پیمانے ان نعمتوں اور خوشیوں کو ناپنے سے قاصر رہ جائیں گے۔
Ayah 31:6

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور لوگوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو مقصدحیات سے غافل کردینے والی باتوں کو خرید کر لاتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے بغیر کسی علم کے گمراہ کریں اور ان آیات کا مذاق اڑائیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَالْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ صلے ق وَّیَتَّخِذَھَا ھُزُوًا ط اُوْلٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ۔ (لقمان : 6) (اور لوگوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو مقصدحیات سے غافل کردینے والی باتوں کو خرید کر لاتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے بغیر کسی علم کے گمراہ کریں اور ان آیات کا مذاق اڑائیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ ) لَھْوَالْحَدِیْثِ کا مفہوم علامہ آلوسی نے حضرت حسن بصری ( رح) سے لَھْوَالْحَدِیْثِکی یہ تفسیر نقل کی ہے کل ماشغلک عن عبادۃ اللہ وذکرہ من السمر والاضاحیک والخرافاۃ والغناء ونحوھا (روح المعانی) ” یعنی ہر وہ بات لہوالحدیث ہے جو تجھے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے ذکر سے غافل کردے۔ رات گئے تک قصہ گوئیاں، ہنسانے والے چٹکلے، ہر طرح کی خرافات، گانا بجانا وغیرہ اس میں شامل ہیں۔ “ مقصود یہ ہے کہ جو چیز بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے ذکر سے غافل کرتی ہے اور جن چیزوں سے اسلامی اقدار، اسلامی تہذیب و ثقافت، اسلام کی سربلندی اور اسلامی خدمات سے توجہ ہٹ کر اس سے متضاد طرززندگی کی طرف راغب ہوتی ہے وہ لہوالحدیث ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ شانِ نزول اس آیت کا شان نزول علامہ ابن ہشام نے سیرت ابن ہشام میں تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ پھر اسی روایت کو اسباب النزول میں واحدی نے کلبی اور مقاتل سے نقل کیا ہے۔ علامہ آلوسی نے اس کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ کفار مکہ کی شدید مخالفت کے باوجود جب دین اسلام روزبروز پھیلتا چلا گیا اور قرآن کا حُسنِ اعجاز لوگوں کے دلوں میں اترنے لگا اور روز بروز اسلام کی مقبولیت میں اضافہ ہونے لگا تو قریش کے سربرآوردہ لوگوں میں فکرمندی کی لہر دوڑ گئی۔ باہم مشورے ہونے لگے۔ نضر بن حارث نے کہا کہ تم جس طرح اس شخص کا مقابلہ کررہے ہو، اس میں تم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ نہ وہ شاعر ہے نہ مجنوں، نہ وہ ساحر ہے نہ کاہن۔ تو آخر ان الزامات کا اس کی دعوت پر کیا اثر ہوسکتا ہے۔ چناچہ اس نے ایک چال چلی۔ تجارت پیشہ آدمی تھا، اپنے کاروبار کے سلسلے میں مختلف ممالک ایران، عراق، شام وغیرہ میں اس کی بکثرت آمدورفت رہتی تھی۔ وہاں سے وہ رستم و اسفندیار کے قصے، بادشاہوں کی جنگوں کی کہانیاں خرید کرلے آیا۔ اور جب نبی اکرم ﷺ لوگوں کو کلام الٰہی پڑھ کر سنانے لگتے تو وہ بالمقابل اپنی مجلس جماتا۔ اور لوگوں کو دلچسپ افسانے اور بےسروپا کہانیاں سناتا، جو عام لوگوں کی تفریح طبع کا باعث ہوتیں۔ چناچہ کئی لوگ قرآن کریم سننے کی بجائے اس کی مجلس میں شرکت کو ترجیح دیتے۔ اس ظالم نے فقط اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اس نے کئی پری پیکر لونڈیاں بھی خرید رکھی تھیں جو رقص و سرود کے فن میں بھی ماہر تھیں۔ جب اسے پتہ چلتا کہ فلاں شخص اسلام کی طرف مائل ہورہا ہے تو وہ ان مہوشوں کو اس کے اوپر مسلط کردیتا جو گاتیں، ناچتیں اور ہر ذلیل حرکت سے اس کے دل کو لبھاتیں۔ حتیٰ کہ وہ حق کے حُسنِ دلکش سے بیخبر ہوجاتا۔ اس شان نزول سے قریش کے ایک ذمہ دار آدمی نے قریش کے مشورے سے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو بےاثر کرنے کے لیے جو منصوبہ تیار کیا یہ کوئی نیا منصوبہ نہیں اور نہ صرف نضر بن حارث کے دماغ کی ایجاد ہے بلکہ ہر دور میں جب بھی اللہ تعالیٰ کے نبی انسانوں کی اصلاح کے لیے تشریف لائے ہیں اور انھوں نے انسان کے سامنے یہ راز واشگاف فرمایا ہے کہ تمہاری زندگی ایک قیمتی سرمایہ ہے، اس کو صحیح راستے پر چلا کر تم آخرت کی وہ نعمتیں حاصل کرسکتے ہو جن کی خوبصورتی اور قدروقیمت کا آج تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ زندگی کا یہ دور جو تم گزار رہے ہو یہ اسی آخرت کی تیاری کے لیے ایک مہلت عمل ہے۔ اگر تم نے اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کے احکام کی بجاآوری، اس کے رسول کی اطاعت، اور اس کے بندوں کی خدمت اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے استعمال کیا اور اس راہ میں آنے والی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا تو یہ زندگی تمہارے لیے اخروی نعمتوں کے حصول کا بہت بڑا ذریعہ بن جائے گی۔ لیکن اگر تم نے اسے ہَوائے نفس کی پیروی، دولت و ثروت کے حصول اور انسانوں کے سروں پر مسلط رہنے کے لیے استعمال کیا تو یہی زندگی آخرت میں ناکامی اور سزا کا باعث ثابت ہوگی۔ تو وہ لوگ جنھوں نے مادی زندگی، ہَوائے نفس، دولت و ثروت، حکومت و ریاست، اور من مرضی کی زندگی کو اپنا معبود بنا رکھا تھا انھوں نے اس دعوت اور اس تعلیم کو بےاثر کرنے کے لیے شروع شروع میں تو طاقت استعمال کی۔ اور جب دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور ان پر ایمان لانے والے اس طاقت سے مرعوب نہیں ہوتے، تو پھر انھوں نے وہ طریقہ اختیار کیا جس سے لوگوں کے سفلی جذبات کو بھڑکانے اور نفسانی خواہشات کو غذا بہم پہنچانے، اور اسی زندگی کو منزل ٹھہرا کر اسی کے شب و روز میں ڈوب جانے، اور اسی کے عیش و تنعم میں کھو جانے کو منزل قرار دینے کی تلقین کی جاسکتی تھی۔ چناچہ اسی طریقہ سے ہر دور میں گمراہ انسانوں نے دوسرے انسانوں کو راہ راست سے دور کیا۔ اور آج بھی ہم اسلام دشمن قوتوں کو اسی راستے پر چلتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ وہ نوجوانوں کے شہوانی جذبات کو مشتعل کرنے اور زندگی کی تلخ حقیقتوں اور سنگین ذمہ داریوں سے غافل کرکے انھیں عیش و نشاط کا خوگر بنانے میں شب و روز لگے ہوئے ہیں۔ ہماری فلم انڈسٹری، شبینہ کلبیں، ثقافتی تقریبیں اور مینا بازار قیامت برپا کررہے ہیں۔ خود تعلیم کا ہدف بدل چکا۔ جنسی تعلیم کو باقاعدہ نصاب میں شامل کرلیا گیا ہے، مخلوط تعلیم سے جوانیوں کو بدراہ کرنے کا کام لیا جارہا ہے۔ کیونکہ یہی وہ ذریعہ ہے جس سے انسان کو مقصد حیات سے غافل کیا جاسکتا ہے۔ چناچہ یہی طریقہ نضربن حارث نے اختیار کیا۔ جیسے ہی نبی کریم ﷺ لوگوں کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت شروع کرتے، وہ مقابلے میں اپنی منڈلی جما کر کبھی قصے کہانیاں سنانا شروع کردیتا اور کبھی گانے والی لونڈیوں کے گانے سے لوگوں کو مسحور کرنے کی کوشش کرتا۔ مقصود صرف یہ تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کے راستے سے ہٹایا جائے۔ اور ساتھ ہی ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت اور دینی احکام کو طعن وتشنیع کا موضوع بناتا۔ مسلمانوں کی خستہ حالی اور تنگدستی کا مذاق اڑاتا۔ اور لوگوں کو یہ باور کراتا کہ یہ لوگ مذہب اور دین کے نام پر تمہاری زندگی کی خوش اسلوبی اور تمہاری تفریحات اور تمہاری خوش عیشی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے تمہارے شیرازے کو بکھیر کے رکھ دیا ہے۔ زندگی کا حسن روز بروز غارت ہوتا جارہا ہے۔ تم جس خوش عیشی میں آج تک شب و روز گزارتے جارہے ہو، ان کی باتیں قبول کرنے کے بعد تم کبھی اس زندگی کی شکل تک نہ دیکھ پائو گے۔ یہ بھوکے ننگے لوگ تمہاری دولت کے دشمن ہیں۔ یہ خود تو تباہ ہوئے ہیں تمہیں بھی تباہ کردینا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ درحقیقت ضمیر کا سودا کرچکے ہیں۔ شرافت، نیکی اور انسانی قدریں ان کے اندر سے رخصت ہوچکی ہیں۔ انھیں صرف اپنی عیش کوشی سے غرض ہے، ان کی نوخیز نسلیں تباہ ہوتی ہیں تو ہوتی رہیں۔ لیکن انھیں یاد رکھنا چاہتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ آج انھوں نے جس طرح اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے دین کو تمسخر بنایا ہے کل کو اسی کی سزا کے طور پر سب کے سامنے ان کی رسوائی کا سامان کیا جائے گا۔ عذاب تو دوسروں کو بھی ہوگا لیکن ان کا عذاب رسوا کردینے والا عذاب ہوگا۔