31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsروح القرآن

Ayah 31:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اس طرح رخ پھیر لیتے ہیں گویا ان کو سنا ہی نہیں، گویا ان کے کانوں میں بہرہ پن ہے، آپ انھیں ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیں

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰـتُـنَا وَلّٰی مُسْتَـکْبِرًا کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْھَا کَاَنَّ فِیْٓ اُذُنَیْہِ وَقْرًا ج فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ (لقمان : 7) (اور جب ان کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اس طرح رخ پھیر لیتے ہیں گویا ان کو سنا ہی نہیں، گویا ان کے کانوں میں بہرہ پن ہے، آپ انھیں ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیں۔ ) قریش کا اصل مرض قریش کے اصل مرض کی نشان دہی فرمائی گئی ہے کہ ان میں نضر بن حارث جیسے لوگ اس لیے پائے جاتے ہیں کہ یہ لوگ حق کے مقابلے میں اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ ان کا اصل مرض استکبار ہے۔ چناچہ جب انھیں ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو نہایت تکبر کے ساتھ اس طرح پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں گویا انھوں نے ان کو سرے سے سنا ہی نہیں، گویا ان کے دونوں کان بند ہیں، اس لیے کوئی چیز ان کو سنائی ہی نہیں دیتی۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ ان کا پندار اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ ہماری باتیں ان کے لیے لائقِ توجہ ہی نہیں ہیں۔ ایسے لوگ اگر ہماری آیات کے مقابلے میں رستم اور اسفندیار کے قصے سننا پسند کریں اور آنحضرت ﷺ کی دلآویز شخصیت کی تلاوت کے مقابلے میں گانے کو ترجیح دیں تو ان سے ہدایت کی کہاں توقع ہوسکتی ہے۔ ان کا تو ایک ہی علاج ہے کہ آپ ﷺ انھیں عذاب الیم کی خوشخبری سنا دیں۔ انھیں چونکہ ہر معاملے میں خوشیاں درکار ہیں، تو یہ اس قابل ہیں کہ انھیں دردناک عذاب کی خوشی کی خبر دی جائے۔
Ayahs 31:8–9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے نعمت بھری جنتیں ہیں

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ اللہ کا پختہ وعدہ ہے اور وہ غالب و حکیم ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِ ۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَعْدَاللّٰہِ حَقًّا وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (لقمان : 8، 9) (البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے نعمت بھری جنتیں ہیں۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ اللہ کا پختہ وعدہ ہے اور وہ غالب و حکیم ہے۔ ) ایمان و عمل کا صلہ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ جب وہ جرائم پیشہ لوگوں متکبرین اور کافروں کی سزائوں کا ذکر کرتا ہے تو اس کے ساتھ اہل جنت پر اپنے انعامات کا ذکر بھی فرماتا ہے۔ یعنی ترغیب اور ترہیب پہلو بہ پہلو چلتی ہیں۔ اچھائی اور برائی اور ہر ایک کا انجام ساتھ ساتھ دکھائی دیتا ہے تاکہ کوئی شخص اگر صحیح راستے پر چلنا چاہے تو اس کے سامنے تصویر کے دونوں رخ کھلے ہوں۔ اسی اسلوب کے مطابق یہاں بھی پہلے ان لوگوں پر عذاب کا ذکر کیا گیا ہے جو دعوت حق کو ناکام کرنے کے لیے ہر گھٹیا سے گھٹیا طریقہ استعمال کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین کے مقابلے میں نہایت تکبر کا اظہار کرتے ہیں۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں ان کے بالمقابل ان لوگوں کا صلہ بیان ہورہا ہے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لائے، ان کی دعوت کو قبول کیا اور اپنی زندگیوں کو ان اعمال سے سجایا جس کی تعلیم اللہ تعالیٰ کے رسول نے انھیں دی۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے آنحضرت ﷺ کے ساتھ شب و روز کوشاں رہے۔ ان کی ان کاوشوں کا صلہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ انھیں ایسی جنتیں عطا فرمائے گا جو ہر قسم کی نعمتوں سے بھرپور ہوں گی۔ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ انھیں جنت کی نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کی اجازت ہوگی۔ اور وہ جس نعمت سے بھی متمتع ہونا چاہیں گے تو ان کے لیے کوئی مانع نہ ہوگا۔ بلکہ یہ فرمایا کہ جنت کی نعمتیں ان کے لیے نہیں ہوں گے بلکہ خود جنتوں کا انھیں مالک بنادیا جائے گا۔ کسی شخص کو کسی عظیم نعمت سے فائدہ اٹھانے کا موقع دینا اور کسی کو اس کا مالک بنادینا دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ یہ لوگ صرف جنت کی نعمتوں کے سزاوار نہیں سمجھے جائیں گے بلکہ جنتیں ان کی تحویل میں دے دی جائیں گی۔ وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی عطاء ہوں گی لیکن ان پر ان کا ذاتی استحقاق تسلیم کرکے انھیں مزید عزت دی جائے گی۔ مزید فرمایا کہ بڑی سے بڑی نعمت بھی اگر کسی شخص کو چند روز کے لیے دی جائے تو جیسے جیسے اس نعمت کے چھوٹ جانے کا وقت قریب آتا جاتا ہے، نعمت کا مزہ مکدر ہوتا جاتا ہے۔ بلکہ یہ سوچ کر ہی دل غم سے بھر جاتا ہے کہ یہ شب و روز کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ اس لیے اہل جنت کے بارے میں فرمایا کہ جنت پر ان کا استحقاق چند روزہ نہیں بلکہ ابدی ہوگا اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے، کبھی وہاں سے انھیں نکلنا نہیں ہوگا۔ مسلمانوں کو جب آخرت کی ابدی پادشاہی کی خوشخبری سنائی جاتی تھی اور جنت کی نعمتوں پر ان کے استحقاق کا ذکر ہوتا تھا تو کافر اس کا مذاق اڑاتے تھے کہ یہ آج کے بھوکے ننگے جنھیں زندگی کی کوئی راحت میسر نہیں یہ مستقبل کی پادشاہی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اور اس فریب میں مبتلا ہیں کہ آخرت کی نعمتیں انھیں کے لیے ہیں۔ چناچہ کافروں کی ان باتوں کا منہ توڑ جواب دینے اور مسلمانوں کے دکھے ہوئے دلوں پر خوشیوں کا مرہم رکھنے کے لیے نہایت تاکید سے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صاحب ایمان لوگوں کو جنتیں دینے کا جو ذکر فرمایا ہے یہ محض ایک خوش کن خبر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کبھی ٹلا نہیں کرتے۔ اور مزید یہ بات بھی کہ اسے اپنے وعدے پورا کرنے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں ہوتا۔ نہ اس کے لیے جنت عطاء کرنا مشکل ہے اور نہ ان ظالموں کو سزا دینا اس کے لیے کوئی مسئلہ ہے۔ وہ عزیز ہے، ہر چیز پر غالب۔ وہ جو کرنا چاہے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ اور اس کے ارادوں کو عملی جامہ پہننے میں کوئی دشواری حائل نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح جب وہ کافروں اور ظالموں کو سزا دے گا تو یہ بھی اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔ کیونکہ اس نے یہ کائنات بےغائت اور بےحکمت نہیں بنائی۔ وہ حکیم ہے اور اس کے ہر کام کے پیچھے کوئی نہ کوئی حکمت کارفرما ہوتی ہے۔ جن لوگوں نے اپنی زندگی یہ سمجھ کے گزاری کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے محض کھیل تماشے کے لیے پیدا کی ہے اور یہ کسی حکیم کی تخلیق نہیں بلکہ کسی کھلنڈرے کا کھیل ہے تو اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو سزا دے۔
Ayah 31:10

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اس نے آسمانوں کو پیدا کیا بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں، اس نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ تمہیں لے کر لڑھک نہ جائے اور اس میں ہر قسم کے جاندار پھیلا دیے اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا، اور اس میں قسم قسم کی عمدہ چیزیں اگا دیں

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ نَزَوْنَھَا وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ وَبَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ ط وَاَنْزَلْـنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَنْبَتْنَا فِیْھَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ کَرِیْمٍ ۔ (لقمان : 10) (اس نے آسمانوں کو پیدا کیا بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں، اس نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ تمہیں لے کر لڑھک نہ جائے اور اس میں ہر قسم کے جاندار پھیلا دیے اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا، اور اس میں قسم قسم کی عمدہ چیزیں اگا دیں۔ ) عزیزوحکیم کی شواہد سے وضاحت گزشتہ آیت کریمہ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس کے عزیزوحکیم ہونے پر دلائل و شواہد کی طرف توجہ دلائی۔ جو شخص بھی ان دلائل و شواہد پر ایک نظر ڈالے گا اگر اس کی عقل بالکل جواب نہیں دے گئی تو وہ اس بات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوگا کہ اس کائنات کا خالق واقعی عزیز یعنی ہر چیز پر غالب و مقتدر ہے۔ اس کی قدرت بےپناہ ہے۔ کائنات کی وسعتوں کو دیکھتے ہوئے تو انسانی عقل متحیر ہوجاتی ہے۔ وہ جب آسمان کی وسعتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھتا ہے کہ ایک ایسی سقف نیلگوں کو ہمارے سروں پر تان دیا گیا ہے جس کی نہ ابتداء دکھائی دیتی ہے اور نہ انتہا۔ اور مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اس کے نیچے کوئی ستون بھی دکھائی نہیں دیتا۔ آخر یہ بےکراں گنبد کس کے سہارے کھڑا ہے۔ اس عالم افلاک میں بیشمار عظیم الشان ستارے اور سیارے اپنے اپنے مقام پر قائم اور گردش میں ہیں۔ اس کا ایک ایک کُرّہ غیرمعمولی وسعت اور طاقت کا مالک ہے۔ لیکن انھیں کس چیز نے تھام رکھا ہے کہ یہ نہ اپنے مدار سے نکلتے ہیں اور نہ ان کی گردش میں کبھی تبدیلی آتی ہے۔ اور نہ کبھی آج تک کوئی کُرّہ غیرمتوازن ہو کر گرا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ نے ان کو ایسے ستونوں پر اٹھا رکھا ہے جو تمہیں دکھائی نہیں دیتے۔ آج کی علمی زبان میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک قانونِ جذب و کشش ہے جس نے اس نظام کو تھام رکھا ہے۔ ممکن ہے یہی حقیقت ہو، لیکن کوئی خبر نہیں انسان کا قدم تحقیق میں آگے بڑھے تو کبھی اسے یہ معلوم ہو کہ اس سے بڑھ کر بھی یہاں کوئی حقیقت کارفرما ہے۔ انسان زمین جیسے چھوٹے کُرّے پر آباد ہے اور یہ زمین بھی ایک نہیں، سات ہیں۔ اور اس میں انسان کی بودوباش اور غذاء کی فراہمی کے لیے جو انتظامات کیے گئے ہیں وہ بجائے خود انسانی دسترس سے ماورا حیران کن حقائق ہیں جو اللہ تعالیٰ کے غالب اور مقتدر ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ انھیں اسباب میں سے پانی کا اترنا بھی ہے جو بجائے خود حیران کردینے والا عمل ہے۔ اور پھر زمین کی ساخت اور ہیئت کے بارے میں انسان جو کچھ جان سکا ہے اس سے بہت سے اندیشے پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے زمین پر پہاڑوں کو جما کر ان تمام اندیشوں کا سدباب کردیا ہے۔ اب زمین کی دونوں حرکتیں اپنی اپنی جگہ ایسی متوازن ہیں کہ زمین انھیں کسی ایک طرف لے کر لڑھک نہیں سکتی۔ بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ اسے حکم دے دے۔ اور پھر اسی زمین پر بسنے والے انسانوں اور دیگر مخلوقات کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا عالم یہ ہے کہ اس نے زمین میں قسم قسم کی عمدہ چیزیں اگا دیں۔ زمین کی پیداوار کو دیکھیں تو اس قدر متنوع ہے کہ اس کا شمار مشکل ہے۔ اور اگر درختوں پر لٹکتے ہوئے قسم قسم کے پھلوں کو دیکھیں تو اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت انسان کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔
Ayah 31:11

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ تو ہے اللہ کی تخلیق تو اب مجھے دکھائو ان دوسروں نے کیا پیدا کیا ہے بلکہ یہ ظالم لوگ ایک صریح گمراہی میں مبتلا ہیں

ھٰذَا خَلْقُ اللّٰہِ فَاَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ط بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (لقمان : 11) (یہ تو ہے اللہ کی تخلیق تو اب مجھے دکھائو ان دوسروں نے کیا پیدا کیا ہے بلکہ یہ ظالم لوگ ایک صریح گمراہی میں مبتلا ہیں۔ ) شرک کے ابطال میں نہایت واضح دلیل گزشتہ آیت کریمہ میں چند تخلیقات کا ذکر فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے سوال کیا ہے کہ اے اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے لوگو ! یہ ساری چیزیں تو اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں، اس کے علاوہ بھی کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ نے پیدا فرمایا ہے اور تمہیں بھی اس بات کا اعتراف ہے، تو اب بتائو کہ تم اس کے سوا دوسری چیزوں کو جو پوجتے ہو، ان کے سامنے سرنیاز جھکاتے ہو، ان سے دعائیں مانگتے اور حاجتیں طلب کرتے ہو، انھوں نے کیا پیدا کیا ہے۔ ان کا کوئی تخلیقی عمل ان کی کسی قدرت کا اظہار، اس سے کسی حکمت کا صدور اگر کہیں ہوا ہے تو بتائو۔ زمین و آسمان تو ایک طرف رہے انھوں نے کہیں کوئی چڑیا بھی پیدا کی ہو تو دکھائو۔ اور اگر ان کا کائنات کی کسی چیز کے بنانے میں بھی کوئی دخل نہیں تو پھر تم نے انھیں اپنا معبود کیوں بنا رکھا ہے، کیوں ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہو، کیوں ان کی آستانہ بوسی کرتے ہو، اپنی حاجتوں کے لیے ان کے سامنے کیوں دست سوال پھیلاتے ہو۔ جب تم خود اعتراف کرتے ہو کہ ان کے پاس فریاد رسی اور حاجت روائی کی کوئی طاقت نہیں اور وہ کسی چیز کے بنانے کا اختیار نہیں رکھتے تو آخر تم کس مقصد کے لیے انھیں پکارتے ہو۔ بگڑی بنانے کے لیے کسی کو پکارنا جبکہ وہ کچھ بھی نہ بنا سکتا ہو تو اس سے زیادہ بےعقلی کی بات اور کیا ہوگی۔ آخر میں فرمایا کہ یہ ظالم لوگ جو اپنے اختیار کا غلط استعمال کررہے ہیں ان کے پاس اس شرک کے جواز کے لیے کوئی دلیل نہیں۔ بس ایک کھلی ہوئی گمراہی ہے جس میں وہ اپنے آبائواجداد کی تقلید میں پڑے ہوئے ہیں اور کسی طرح بھی اس سے نکلنے کے لیے تیار نہیں۔
Ayah 31:12

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی کہ اللہ کا شکرگزار ہو، اور جو شکرگزار ہوگا تو اپنے لیے ہی ہوگا، اور جو ناشکری کرے گا تو حقیقت میں اللہ بےنیاز اور آپ سے آپ محمود ہے

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَنِ اشْکُرْالِلّٰہِ وَمَنْ یَّشْکُرْ فَاِنَّمَا یَشْکُرُلِنَفْسِہٖ وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔ (لقمان : 12) ( اور ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی کہ اللہ کا شکرگزار ہو، اور جو شکرگزار ہوگا تو اپنے لیے ہی ہوگا، اور جو ناشکری کرے گا تو حقیقت میں اللہ بےنیاز اور آپ سے آپ محمود ہے۔ ) حکمتِ لقمان سے استدلال شرک کی تردید میں ایک نہایت موثر اور راست دلیل دینے کے بعد اب ایک اور پہلو سے شرک کی تردید کی جارہی ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ اہل عرب کا خیال یہ تھا کہ محمد ﷺ جس توحید کو پیش کررہے ہیں اور جس طرح پرزور طریقے سے شرک کی تردید کررہے ہیں، یہ سراسر ان کا اپنا نقطہ نگاہ ہے۔ اگر شرک ایسی ہی قابل مذمت چیز ہوتی تو ہمارے آبائواجداد شرک کا رویہ کیوں اختیار کرتے جبکہ ان میں بڑے بڑے دانشور گزرے ہیں کبھی کسی نے شرک کی مذمت میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ چناچہ ان کے اس غلط تصور کے ابطال کے لیے یہاں قرآن کریم حضرت لقمان کے پندونصائح اور ان کی زندگی سے یہ بات ثابت کررہا ہے کہ شرک کی مذمت صرف رسول کریم ﷺ نے نہیں فرمائی بلکہ جن لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت و معرفت سے کچھ حصہ ملا ہے انھوں نے ہمیشہ اپنے زیراثر لوگوں کو انھیں باتوں کی تعلیم دی ہے جن کی تعلیم آج نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم دے رہا ہے۔ چناچہ اسی سلسلے میں حضرت لقمان کا ذکر کیا جارہا ہے اور ان کے ذکر کا سبب یہ ہے کہ اہل عرب ایک حکیم اور دانا شخص کے طور پر انھیں جانتے پہچانتے تھے۔ ان کی حکمت کا عرب بھر میں شہرہ تھا۔ ان کے بعض پڑھے لکھے لوگوں کے پاس صحیفہ لقمان کے نام سے ان کے حکیمانہ اقوال کا ایک مجموعہ بھی موجود تھا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت سے تین سال پہلے مدینے کا سب سے پہلا شخص جو نبی کریم ﷺ کو ملا اور آپ ﷺ کی دعوت سے متأثر ہوا وہ سوید بن صامت تھا۔ وہ مدینہ میں اپنی لیاقت، بہادری، شعروسخن اور شرف کی بنا پر کامل کے لفظ سے پکارا جاتا تھا۔ اس نے جب آنحضرت ﷺ کی تقریر سنی تو آپ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ﷺ جو باتیں پیش کررہے ہیں، ایسی ہی ایک چیز میرے پاس بھی ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا مجلہ لقمان۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت تک اہل عرب میں لقمان کی حکمت زندہ تھی۔ اور پڑھے لکھے لوگ ان کا مجلہ بھی اپنے پاس رکھتے تھے۔ لقمان کی شخصیت تاریخی اعتبار سے لقمان کی شخصیت کے بارے میں بڑے اختلافات ہیں۔ ابن عباس ( رض) کے نزدیک وہ ایک حبشی غلام تھے۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ( رض) کا بیان ہے کہ وہ نوبہ کے رہنے والے تھے۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ وہ مصر کے سیاہ رنگ لوگوں میں سے تھے۔ یہ تینوں اقوال اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے قریب قریب ہیں۔ لیکن عرب کی مشہور روایات کی رو سے لقمان قوم عاد کے ایک فرد اور یمن کے بادشاہوں میں سے تھے۔ جب قوم عاد پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو جو لوگ اس عذاب سے محفوظ رہے وہ حضرت ہود (علیہ السلام) کے ساتھ دوسرے علاقوں میں چلے گئے۔ اس قوم کا جو حصہ یمن میں آباد ہوا، لقمان اس کی نسل میں سے تھے۔ قرآن کریم نے ان کے حسب و نسب کی بحث نہیں چھیڑی، صرف یہ کہا ہے کہ تم انھیں بطور ایک حکیم اور دانا کے صرف جانتے نہیں مانتے بھی ہو۔ ان کی حکمت و دانش پر مشتمل بہت سے اقوال آج بھی تمہاری زبانوں پر ہیں۔ اور جو مجلہ ان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے ان میں کتنی باتیں شرک کے خلاف کہیں گئی ہیں۔ قرآن کریم نے ان کی جن نصیحتوں کو ذکر فرمایا ہے اس کے حتمی انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ باتیں اہل عرب میں ان کے حوالے سے معروف تھیں۔ اور اس بات سے تو کسی کو انکار نہ تھا کہ لقمان ایک حکیم تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے علم و دانش اور حکمت سے نوازا تھا۔ چناچہ قرآن کریم نے اسی بات کو بنیاد بنا کے فرمایا کہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہو۔ کیونکہ حکمت کا اولین ثمر اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری ہے۔ حکمت کا اولین ثمر اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری ہے اللہ تعالیٰ جس بندے کو اس دولت سے بہرہ مند فرماتا ہے اس کا اولین اثر جو اس پر مترتب ہوتا ہے، وہ یہی ہے کہ وہ اپنے رب کا شکرگزار بندہ بن جاتا ہے۔ کیونکہ وہ جب اس بات پر غور کرتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔ اس کے جسمانی اعضاء وجوارح، اس کی جسمانی توانائی، اس کے حواس، اس کا جوہرِعقل، اس کی دماغی رعنائیاں، اس کے اندر خیر و شر کے امتیاز کا شعور، پھر اس کی بقاء کے لیے غذاء کے مختلف وسائل اور اس کی زندگی کی رہنمائی کے لیے عقل اور شعور کے ساتھ ساتھ وحی الٰہی کا سلسلہ، ان میں سے کوئی سی چیز بھی میری اپنی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔ تو جس پروردگار نے مجھ پر اس قدر احسانات کیے ہیں کیا میری زبان کو ان کا اعتراف نہیں کرنا چاہیے۔ کیا میرے جسم و جان کو اس کی اطاعت میں کوشاں نہیں ہونا چاہیے، کیا میرے دل و دماغ کی قوتوں کو اس کی رضا کی طلب میں پگھلنا نہیں چاہیے اور وہ جن کاموں میں راضی ہے اور مجھ سے جس طرح کی قربانیاں چاہتا ہے کیا مجھے ان سے کبھی بھی پس و پیش کرنا چاہیے۔ ہرگز نہیں، بلکہ اس کی نعمتوں کی شکرگزاری یہ ہے کہ میری زبان، میرا ذہن، میرا دل اور میرے اعضاء وجوارح اسی کے احکام کی اطاعت اور اسی کے دین کی سربلندی میں مرتے اور کھپتے رہیں۔ اور مجھ پر دوسری مخلوقات کے حوالے سے جو ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں اس میں کبھی مجھ سے کوتاہی سرزد نہ ہونے پائے۔ یہ وہ شکرگزاری کا جذبہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے حکمت کے طور پر حضرت لقمان کو عطا کیا تھا، اور اسی کی تعلیم ہر پیغمبر نے دی ہے۔ دفع دخل مقدر مزید فرمایا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں سے اپنی شکرگزاری کا جو مطالبہ کیا ہے تو اس میں اس کا کوئی اپنا نفع ہے۔ اس کا اپنا کوئی نفع نہیں، بلکہ اسے اس نے اپنے بندوں ہی کے نفع کے لیے پسند فرمایا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کا شکرگزار رہتا ہے اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اس مقصد کے سائے میں گزرتا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ اس کی زندگی کا ہر فیصلہ ہمیشہ اپنی حدود میں محدود رہ کر ہوتا ہے اور وہ کبھی اپنے حدود سے تجاوز کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔ شکرگزاری کے جذبے سے ایک طرف آدمی میں استغناء پیدا ہوتا ہے تو دوسری طرف وہ سرتاپا ایثار بن جاتا ہے۔ لیکن جو شخص اس جذبے سے محروم رہتا ہے اور وہ شکرگزاری کی بجائے ناشکری اور کفرانِ نعمت کرتا ہے وہ اپنی دنیا کو بھی دکھوں سے بھر دیتا ہے اور اپنے آپ کو آخرت کی خوشیوں سے بھی محروم کردیتا ہے۔ رہا اللہ تعالیٰ کا معاملہ تو وہ ہر چیز سے بےنیاز ہے۔ نہ کسی کی شکرگزاری اسے فائدہ پہنچاتی ہے اور نہ کسی کی ناشکری سے اسے کوئی نقصان پہنچتا ہے۔ اس کی بےنیازی کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ تمام اعلیٰ صفات سے متصف ہے۔ اور یہ تمام صفات اس کی ذاتی ہیں۔ کسی شخص کا رویہ نہ اس میں اضافہ کرسکتا ہے نہ کمی کا باعث ہوسکتا ہے۔ اسی بےنیازی کا نتیجہ ہے کہ کوئی شخص چاہے اس کا کیسا ہی ناشکرا اور اس کے احسانات کی کیسی ہی ناقدری کرنے والا ہو، لیکن اس دنیا میں وہ کسی کو اپنے رزق و فضل سے محروم نہیں کرتا۔
Ayah 31:13

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور یاد کرو جبکہ لقمان نے اپنے بیٹے سے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے بیٹے ! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک ایک بہت بڑا ظلم ہے

وَاِذْا قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِہٖ وَھُوَیَعِظُہٗ یٰـبُـنَیَّ لاَ تُشْرِکْ بِاللّٰہِ ط اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ۔ (لقمان : 13) (اور یاد کرو جبکہ لقمان نے اپنے بیٹے سے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے بیٹے ! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک ایک بہت بڑا ظلم ہے۔ ) لقمان کی پہلی نصیحت اللہ تعالیٰ جس شخص کو حکمت سے بہرہ ور فرماتا ہے اسے یہ بات جاننے میں دیر نہیں لگتی کہ اصل حکمت اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری ہے۔ اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے شکر کے راستے پر چل نکلتا ہے تو اس پر خودبخود یہ بات کھل جاتی ہے کہ جب تمام نعمتوں کا عطا کرنے والا پروردگار ہے اور ہر نعمت پر اس کا شکر واجب ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جائے۔ ہر نعمت اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کا نتیجہ ہے۔ اور اس کی ہر نعمت جو مخلوقات کو پہنچ رہی ہے وہ اس کی عطا و بخشش کی رہین منت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیدا بھی وہی کرتا ہے اور عطا بھی وہی کرتا ہے۔ تو پھر کسی اور کی شرکت کا اس میں سوال کہاں پیدا ہوسکتا ہے۔ چناچہ یہی وہ بات ہے جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو ازراہِ نصیحت فرمائی کہ اے میرے بیٹے ! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ کیونکہ یہ ایک ایسی نامعقول، خلاف واقعہ اور خلاف حق بات ہے جس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ کسی چیز کو اس کے غیرمحل میں رکھنا ظلم کہلاتا ہے۔ جوتے کو سر پر رکھ لینا اور ٹوپی کو پائوں میں پھنسا لینا یہ دونوں کے ساتھ ظلم ہے۔ کیونکہ دونوں کو اپنے اپنے محل سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی کبریائی کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ ہر عظمت اس کے سامنے جھکے۔ اس کی رزق رسانی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ زبان و دل پر اسی کی حمدوثناء ہو۔ زندگی کے ہر معاملے میں اس کی رہنمائی اور نفع رسانی اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ ہر لحاظ سے اس کا شکر ادا کیا جائے۔ لیکن جب کسی دوسری قوت کو جو ان تمام صفات سے تہی دامن ہے ان حقوق میں شریک کیا جائے گا تو یہ ظلم عظیم ہے، جس سے بڑی زیادتی اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ حضرت لقمان نے یہ نصیحتیں اس وقت فرمائی ہیں جب وہ اپنے بیٹے سے مخاطب تھے۔ گیا گزرا باپ بھی اپنے بیٹے کو کبھی غلط بات کہنا پسند نہیں کرتا۔ اس کا اپنے بیٹے کے ساتھ اخلاص کا ایک ایسا رشتہ ہے جس کی ہمسری کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ تو حضرت لقمان کا اپنے بیٹے کو بڑی دلسوزی کے ساتھ یہ نصیحت کرنا اور شرک کو ظلم عظیم قرار دینا یہ بات بتانے کے لیے کافی ہے کہ وہ شرک کو بدترین فعل سمجھتے تھے۔ اور ان کے نزدیک شرک نہایت ہولناک گمراہی کا نام تھا۔ دوسری وجہ ان کی نصیحت کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کو حکمت و دانش کی دولت عطا فرماتا ہے وہ اپنی اولاد کو شرک کے راستے پر چلنے سے روکتا ہے۔ وہ شرک سے اپنی اولاد کو اس طرح بچاتا ہے جیسے آگ اور طاعون سے بچایا جاتا ہے۔ اس سے قریش کو یہ بتانا مقصود ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی ان کا طرزعمل تو یہ تھا کہ وہ اپنی اولاد کو شرک سے بچاتے تھے۔ اور تمہارا طرزعمل یہ ہے کہ تم اپنی اولاد کو دین شرک پر قائم رہنے اور نبی کریم ﷺ کی دعوت توحید سے منہ موڑ لینے پر مجبور کررہے ہو۔ اس سے اندازہ کرلو کہ تم اپنی اولاد سے خیرخواہی کررہے ہو یا بدخواہی۔
Ayahs 31:14–15

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے معاملے میں تاکید کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا ہوا (اسی لیے ہم نے اس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجالا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ تجھ پر دبائو ڈالیں کہ تو کسی چیز کو میرا شریک ٹھہرا جس کے باب میں تیرے پاس کوئی دلیل نہیں، تو، تو ان کی بات ہرگز نہ مان، دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتائو کرتا رہ، مگر پیروی اس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے، پھر میری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہے، اس وقت میں تمہیں بتادوں گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو

وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ ج حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَھْنًا عَلٰی وَھْنٍ وَّفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْکُرْلِیْ وَلِوَالِدَیْکَ ط اِلَیَّ الْمَصِیْرُ ۔ وَاِنْ جَاھَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ لا فَلاَ تُطِعْہُمَا وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا ز وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (لقمان : 14، 15) (اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے معاملے میں تاکید کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا ہوا (اسی لیے ہم نے اس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجالا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے۔ اور اگر وہ تجھ پر دبائو ڈالیں کہ تو کسی چیز کو میرا شریک ٹھہرا جس کے باب میں تیرے پاس کوئی دلیل نہیں، تو، تو ان کی بات ہرگز نہ مان، دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتائو کرتا رہ، مگر پیروی اس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے، پھر میری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہے، اس وقت میں تمہیں بتادوں گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔ ) نصائح کے ضمن میں جملہ معترضہ یہ دو آیتیں حضرت لقمان کی نصیحت کے ضمن میں جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری کا حق ادا کرنے کی نصیحت کی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے حق کے پہلو بہ پہلو اپنے حق کا ذکر انھوں نے خلاف ادب سمجھا۔ اس لیے آگے بڑھ کر انھوں نے قیامت کا ذکر شروع کردیا۔ ان کی حکمت و دانش سے یہی امید کی جاسکتی تھی۔ لیکن حقوق کے ضمن میں پروردگار نے جو ایک فطری ترتیب رکھی ہے اس کا تقاضا یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حق کے بعد والدین کے حق کا ذکر کیا جاتا۔ چناچہ پروردگار نے اس خلاء کو اپنی طرف سے بھر دیا اور ان دو آیتوں سے انسان پر جو اس کے والدین کا حق ہے اس کی وضاحت فرما دی۔ اور اس بات کی طرف اشارہ فرما دیا کہ شکر دراصل ایفائے حقوق کا نام ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کے بعد والدین کے حقوق سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سب سے پہلا حق اس کی عبادت ہے۔ لیکن والدین کا تمام تر حق خدمت سے تعلق رکھتا ہے، عبادت سے اس کا کوئی رشتہ نہیں۔ اور یہ بھی اشارہ فرما دیا کہ خدمت باپ اور ماں دونوں کی اولاد پر لازم ہے۔ لیکن ماں حق خدمت میں باپ سے زیادہ توجہ کی مستحق ہے۔ بچے کے لیے باپ کی قربانیاں یقینا بےمثال ہیں۔ لیکن ماں نے جس طرح دکھ پر دکھ اور مشقت پر مشقت اٹھا کر بچے کو اپنے پیٹ میں رکھا اس کی مثال ممکن نہیں۔ اور پھر دو سال تک اپنا خون جگر بچے کے منہ میں نچوڑا۔ یہ بجائے خود ایثار کی لاجواب مثال ہے۔ اس لیے ہر انسان پر جس طرح اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر لازم ہے اسی طرح والدین کا بھی شکر لازم ہے۔ لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور غیرمشروط اطاعت کی جائے گی۔ لیکن والدین کی خدمت اور مشروط اطاعت ہوگی۔ اور یہ سب کچھ اس احساس کے تحت ہوگا کہ ایک روز میری طرف ہی پلٹ کر آنا ہے۔ وہاں جس طرح ہر عمل کا حساب ہوگا، اسی طرح نیتوں کا بھی احتساب ہوگا۔ ماں باپ کا حق چونکہ اللہ تعالیٰ کے حق کے تابع ہے اس لیے اگر کبھی ماں باپ اپنے حق کے حوالے اللہ تعالیٰ کے حق میں مداخلت کی کوشش کریں اور اس کی ذات اور صفات یا حقوق میں کسی اور کو شریک کرنے کا حکم دیں اور اولاد کو اگر اس کی تعمیل سے انکار ہو تو وہ بار بار اپنے حق کا حوالہ دیں تو واضح طور پر ہدایت فرمائی گئی کہ اس میں کبھی ان کی بات نہ ماننا۔ کیونکہ کسی بھی مخلوق کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں نہیں کی جاسکتی۔ اور شرک صرف نافرمانی ہی نہیں بلکہ سب سے بڑا جرم ہے۔ البتہ مشرک اور غیرمسلم والدین کے بارے میں یہ اجازت مرحمت فرمائی کہ دنیا کے معاملات میں ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آیا جائے، ان کی ضروریات حتی الامکان پوری کرنے کی کوشش کی جائے۔ ان کی ہدایت کے لیے برابر دعا بھی کی جائے۔ حضرت اسماء ( رض) کی والدہ مکہ معظمہ سے آئیں اور اپنی بیٹی سے مالی مدد کی طالب ہوئیں۔ حضرت اسماء ( رض) نے آنحضرت ﷺ سے عرض کی کہ میری والدہ ابھی تک ایمان نہیں لائیں، وہ مجھ سے مالی تعاون چاہتی ہیں تو کیا میں ان کی مدد کرسکتی ہوں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا ضرور کرو۔ شرک کے معاملے میں والدین کی اطاعت نہ کرنے کی ہدایت کے ساتھ ساتھ مزید تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ معاملہ صرف شرک کا ہی نہیں بلکہ زندگی کے تمام معاملات میں صرف اس شخص کے راستے پر چلا جاسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار اور اس کے راستے پر چلنے والا ہے۔ اور جو پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ چکا ہے۔ کیونکہ صرف یہی وہ شخص ہے جس کی پیروی اللہ تعالیٰ کے ساتھ جوڑنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اور دلوں میں اس بات کو پوری طرح پیوست کرسکتی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ اس وقت ہر ایک کا عمل کھول کر اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ ہر شخص کے ساتھ معاملہ اس کے اپنے اعمال کے مطابق ہوگا۔ اگر والدین نے حدود سے تجاوز کیا ہوگا تو وہ اس کی سزا بھگتیں گے۔ اور اگر اولاد نے فرقِ مراتب کا پورا لحاظ رکھا ہوگا تو وہ اس کا صلہ پائیں گے۔
Ayah 31:16

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

اے میرے بیٹے ! کوئی عمل اگر رائی کے دانے کے برابر بھی ہو، خواہ وہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں یا زمین میں ہو اللہ اسے نکال لائے گا، بیشک اللہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے

یٰـبُنَیَّ اِنَّھَآ اِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَکُنْ فِیْ صَخْرَۃٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِھَا اللّٰہُ ط اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ۔ (لقمان : 16) (اے میرے بیٹے ! کوئی عمل اگر رائی کے دانے کے برابر بھی ہو، خواہ وہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں یا زمین میں ہو اللہ اسے نکال لائے گا، بیشک اللہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے۔ ) دوسری نصیحت آخرت سے متعلق گزشتہ آیات حضرت لقمان کی نصیحتوں کے درمیان ایک جملہ معترضہ تھا جسے پروردگار نے حضرت لقمان کی نصیحتوں میں جو خلاء رہ گیا تھا اسے بھرنے کے لیے ارشاد فرمایا تھا۔ اور خلاء کا سبب کوئی سہو نہیں تھا بلکہ حضرت لقمان نے ادب کے تقاضے کے طور پر اس کے ذکر سے احتراز کیا تھا، اب اسی سلسلہ نصیحت کو پھر شروع کیا جارہا ہے۔ نصیحت کے آغاز میں حضرت لقمان نے بیٹے کو شرک سے اجتناب اور توحید کی تعلیم دی ہے۔ توحید اگرچہ تمام عقائد کی اساس اور ان کا خلاصہ ہے، لیکن عملی زندگی میں توحید کے بعد بنیادی عقیدہ آخرت کا عقیدہ ہے۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں حضرت لقمان اپنے بیٹے کو آخرت کی یاد دہانی کرا رہے ہیں۔ آخرت پر یقین لانے کے راستے میں مشرکین کو جو رکاوٹ پیش آئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علم کی بےپناہی اور اس کی قدرت کے لامتناہی ہونے میں ان کی کوتاہی اور نارسائی ہے۔ انھوں نے اپنے مزعومات کے مطابق یہ فرض کرلیا ہے کہ انسان کا مکمل فنا ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے شاید بعید ہے۔ اسی طرح اس کے بیشمار اعمال کا حساب لینا یہ بھی مستبعداز عقل ہے کیونکہ ہر شخص کے زندگی کے اعمال اس قدر لامتناہی ہیں کہ ان کا کسی طرح استقصاء نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی ان دونوں کوتاہیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا کہ بیٹا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کوئی انتہا نہیں اور اس کے علم کا کوئی کنارہ نہیں۔ اگر کسی شخص کا عمل اچھا ہو یا برا، رائی کے دانے کے برابر بھی ہوا، خواہ وہ کسی چٹان یا گھاٹی کے نیچے چھپا ہوا یا آسمان کی بےکنار وسعتوں میں یا زمین کی پہنائیوں میں کہیں مخفی ہو اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں کہ وہ اسے نکال لائے۔ کیونکہ ہر انسان کا ہر عمل اس کے علم میں بھی ہے اور اس کو انسان کے سامنے پیش کردینا اس کی قدرت میں بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لطیف یعنی نہایت باریک بین ہے۔ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں رہ سکتی۔ اور وہ نہایت باخبر بھی ہے، کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں رہ سکتی۔ اِنَّھَآ میں ضمیر وہ ہے جسے ضمیرقصہ یا ضمیرشان کہا جاتا ہے۔ اس میں متکلم ضمیر کو اپنے معہودِذہنی کے مطابق لاتا ہے۔ یہاں معہودِذہنی ” حَبَّۃ خَرْدَلٍ “ کے برابر عمل ہے۔ اس وجہ سے حَبَّۃ کی رعایت سے ضمیر مونث لائی گئی ہے۔
Ayah 31:17

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

اے میرے بیٹے ! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، اور جو مصیبت تمہیں پہنچے اس پر صبر کرو، یہ باتیں عزیمت کے کاموں میں سے ہیں

یٰـبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاصْبِرْعَلٰی مَآ اَصَابَکَ ط اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ۔ (لقمان : 17) (اے میرے بیٹے ! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، اور جو مصیبت تمہیں پہنچے اس پر صبر کرو، یہ باتیں عزیمت کے کاموں میں سے ہیں۔ ) تین نصیحتیں توحید اور آخرت کے بارے میں تاکید کرنے کے بعد حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اقامتِ صلوٰۃ کی نصیحت فرمائی۔ اقامتِ صلوٰۃ سے مراد صرف نماز پڑھنا نہیں بلکہ اس کے لیے ہر طرح کا اہتمام بروئے کار لانا ہے اور ان تمام تعلیمات کو پیش نظر رکھنا ہے جو آنحضرت ﷺ سے نماز کے بارے میں منقول ہیں۔ اور ان مقاصد کو بھی سامنے رکھنا ہے جو نماز کے نتیجے کے طور پر پیدا ہونے چاہئیں۔ اور پھر اس میں اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی بندگی کا جو تصور کارفرما ہے اسے بروئے کار لانا اس کے مفہوم و معنی کا ایک حصہ ہے۔ اور مزید یہ کہ صلوٰۃ ہی ایک ایسا عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی الوہیت، ذات وصفات اور حقوق میں اس کی وحدت، پھر زندگی کے ہر ہر عمل کی جواب دہی کا استحضار اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی، فروتنی اور انتہائی تذلل کا اظہار اس کے اولین فوائد میں سے ہے۔ اس لیے حضرت لقمان نے بطورخاص بیٹے کو اقامتِ صلوٰۃ کی نصیحت کی۔ نصیحت میں دوسری بات یہ فرمائی کہ نیکی کا حکم دو ، اس کے لیے معروف کا لفظ استعمال فرمایا۔ معروف کا اطلاق ہر اچھائی اور بھلائی پر ہوتا ہے جو معاشرے میں اچھائی کے طور پر ہر سلیم الفطرت آدمی قبول کرچکا ہو۔ اور اس کے علاوہ ہر وہ نیکی جس کا قرآن و سنت میں حکم دیا گیا ہے یا نبی کریم ﷺ نے اسے پسند فرمایا ہے۔ اور یہ اظہارِپسندیدگی، قول، عمل اور خاموشی تینوں صورتوں میں معتبر ہے۔ اور مزید یہ بات بھی کہ اس کا اطلاق شریعت کے تمام احکام پر ہوتا ہے، خواہ ان کا تعلق حقوق العباد سے ہو یا حقوق اللہ سے۔ لیکن اس آیت کریمہ میں چونکہ اس کا ذکر صلوٰۃ کے بعد آیا ہے اس لیے قرین قیاس یہ ہے کہ اس میں وہ تمام کام شامل ہیں جو حقوق العباد کی ادائیگی سے تعلق رکھتے ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کی راہ میں انفاق، یتیموں، مسکینوں، پڑوسیوں اور دوسرے مستحقین کی مدد۔ اور ایسے ہی وہ تمام کام جن کا تعلق اجتماعی زندگی کی بھلائی اور رفاہیت سے ہو۔ ان تمام کاموں سے روکنے کی نصیحت فرمائی ہے جو معروف کی ضد ہیں۔ یعنی جن باتوں سے شریعت نے روکا ہے یا معاشرے کا اجتماعی احساسِ خیر ان سے ابا کرتا ہے ایسی سب چیزیں اس میں شامل ہیں۔ حضرت لقمان نے مزید کہا کہ جب تم لوگوں کو نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے تو انسانوں میں بگڑے ہوئے لوگوں کے گروہ تمہیں برداشت نہیں کریں گے۔ اور اگر ان کے بس میں ہوا تو وہ تمہیں مصائب کا نشانہ بنادیں گے۔ ایسے حالات میں مصائب سے گھبرا کر نیکی کا حکم دینے اور برائی کو روکنے سے رک نہ جانا، کیونکہ یہ اس راہ کی لازمی سنت ہے جسے برداشت کیے بغیر نیکی کا فروغ ممکن نہیں اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی بندگی کے غالب آنے کی کوئی امید نہیں۔ اس لیے اس راہ میں نہایت حوصلہ مندی اور احساسِ عزیمت کی ضرورت ہے۔ یہ ایسا کام ہے جس کی سعادت اللہ تعالیٰ کے عظیم بندوں کو حاصل ہوتی ہے۔ اور کتنے ایسے عظیم بندے گزرے ہیں جو اس راہ میں کام آچکے ہیں۔ اس لیے اس کام کو بےدلی سے کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ اور کبھی بھی کم ہمتی کو قریب نہ آنے دینا۔ اس راستے میں نہ کوئی رخصت کا تصور ہے اور نہ کسی طرح کی کوتاہی کا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر بےانتہاء اجروثواب رکھا ہے۔
Ayah 31:18

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا

وَلاَ تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلاَ تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ ۔ (لقمان : 18) (اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔ ) تصعیرخد کا مفہوم اور اس سے ممانعت ” صعر “ عربی زبان میں ایک بیماری کو کہتے ہیں جو اونٹ کی گردن میں پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے اونٹ دونوں طرف گردن نہیں پھیر سکتا بلکہ ایک ہی طرف پھیرے رکھتا ہے۔ اسی سے محاورہ پیدا ہوا۔ فُلاَنٌ صَغَّرَخَدَّہٗ ” فلاں شخص نے اونٹ کی طرح اپنا کلہ پھیرلیا۔ “ یعنی تکبر کے ساتھ پیش آیا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی محاورے کی زبان میں بات کی گئی ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی کہ بیٹا کبھی کسی چھوٹے آدمی سے منہ پھیر کر بات نہ کرنا، یہ تکبر کا انداز ہے اور تکبر اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔ اور یہ انسان کی کمزوری ہے کہ جب اسے اللہ تعالیٰ عہدہ و منصب یا مال و دولت دیتا ہے تو وہ غریبوں اور ماتحتوں سے منہ پھیر کر تکبر سے بات کرتا ہے، تم کبھی ایسا نہ کرنا۔ تکبر کی چال کی ممانعت دوسری نصیحت یہ کی کہ زمین پر اکڑ کر نہ چلنا۔ جس طرح گفتگو اور میل جول میں تکبر کا انداز اختیار کرنے سے روکا، اسی طرح چال اور رفتار میں بھی عاجزی اور وقار کی نصیحت کی اور کبر و غرور کی چال سے منع کیا۔ سورة بنی اسرائیل میں بھی اخلاقی ہدایات کے سلسلہ میں یہ ہدایت گزر چکی ہے۔ البتہ وہاں انسان کی بےبسی، کمزوری اور عاجزی کو نمایاں کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ تم آخر زمین پر اکڑ کر کیوں چلو، جبکہ تمہارا حال یہ ہے کہ نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔ یہ خدا کی قدرت و عظمت کے آثار ہیں جو تمہارے اپنے مسکن یعنی زمین پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اور یہ تمہیں ہر وقت یاد دلاتے ہیں کہ تم بندہ ہو اور بندہ کو عاجزی زیب دیتی ہے۔ اور کبریائی اور عظمت اللہ تعالیٰ کی شان ہے جس کا اظہار اس کی بعض عظیم مخلوقات سے بھی ہوتا ہے۔ تو جو شخص سر اٹھا کر چلتا ہے اور گردن اکڑا کے چلتا ہے اور بار بار زمین پر پائوں پٹختا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے دماغ میں کبر کی ہوا بھری ہوئی ہے۔ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا عاجز بندہ اور دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان نہیں سمجھتا بلکہ بڑی چیز گمان کرتا ہے۔ اور یہ چال انسان کے اندر کی کمزوریوں کو اس طرح نمایاں کردیتی ہے کہ چلتے ہوئے اس کا ہر قدم اور دیکھتے اور بولتے ہوئے اس کے چہرے کے انداز بتا دیتے ہیں کہ یہ شخص خودپسندی کا مریض ہے۔ اور بجائے اپنی عقل اور دین کی گرفت میں آنے کے نفس کی گرفت میں آیا ہوا ہے۔ اس لیے حضرت لقمان نے خاص طور پر اپنے بیٹے کو اس سے روکا۔ اور قرآن کریم نے اور بھی مختلف مواقع پر مسلمانوں کو ہدایت دیتے ہوئے کبروغرور کو بدترین عادت قرار دیا۔ اور اس طرح کی رفتار سے منع فرمایا۔ انھیں ہدایات کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کرام ( رض) اس طرح چلتے تھے جیسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا لیکن زمین پر اللہ تعالیٰ کے دین کے نفاذ کی ذمہ داری کو پورا کرنے والا چلتا ہے۔ اور جب کسی شخص کو ایسی تکبر کی چال یا مسکینی سے چلتا ہوا دیکھتے تھے تو وہ انھیں ناگوار گزرتا تھا۔ ایک شخص کو حضرت عمرفاروق ( رض) نے نہایت مسکینی سے سر جھکائے ہوئے چلتے ہوئے دیکھا، تو ڈانٹتے ہوئے فرمایا، سر اٹھا کر چل، اسلام مریض نہیں۔ ایک دوسرے شخص کو مریل چال چلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ ظالم ہمارے دین کو کیوں مارے ڈالتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو تکبر کے انداز میں چلتے ہوئے دیکھا تو آنحضرت ﷺ نے اسے ٹوکا، اور کبر و غرور کی ہمیشہ مذمت فرمائی۔ اور آیت کے آخر میں اسی سلسلے میں سخت تنبیہ بھی فرمائی۔ فرمایا، اللہ تعالیٰ کسی اکڑنے والے، یعنی کسی خودپسند اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا، اور پسند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے عذاب کا مستحق ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کسی کو پسند نہ کرنا یہ اس کے غیظ و غضب کی علامت ہے اور اس کے نتیجہ میں کیا ہوسکتا ہے ہم اس کا اندازہ ہی نہیں کرسکتے۔
Ayah 31:19

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز کو ذرا پست رکھ، بیشک سب آوازوں سے زیادہ مکروہ آواز گدھے کی آواز ہے

وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ ط اِنَّ اَنْـکَرَالْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ ۔ (لقمان : 19) (اور اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز کو ذرا پست رکھ، بیشک سب آوازوں سے زیادہ مکروہ آواز گدھے کی آواز ہے۔ ) چال میں میانہ روی اور آواز میں فروتنی اور احساسِ ذمہ داری اوپر کی آیت میں دو نصیحتیں حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو کیں۔ ایک یہ کہ لوگوں سے بےرخی سے پیش نہ آنا۔ اور دوسری یہ کہ زمین پر اکڑ کر نہ چلنا۔ ان دونوں نصیحتوں کو نہی کی صورت میں بیان کیا گیا ہے یعنی یہ بری عادتیں ہیں ان سے بچ کے رہنا۔ اب انہی دونوں باتوں کو مثبت انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ اکڑ کر نہ چلنے کا مفہوم یہ ہے کہ چال اور رفتار میں اعتدال، میانہ روی، تواضع اور فروتنی پیدا کرو۔ دیکھنے والا یہ گمان کرے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا عاجز بندہ جارہا ہے جس میں بندگی کی فروتنی بھی ہے اور ذمہ داری کا احساس بھی۔ اور بےرخی سے بات نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دھیمے لہجے میں نہایت عاجزی اور ہمدردی سے دوسروں سے بات کرو۔ ضرورت بلند آواز سے بولنے کی ہے تو بلند آواز سے بولو۔ کیونکہ بعض دفعہ بوڑھے لوگوں کو حوصلہ دینے کے لیے زور سے بولنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اگر سننے والے قریب، پڑھے لکھے اور مہذب لوگ ہوں تو آہستگی سے بات کرو۔ اور آہستگی کی بھی ایک سطح نہیں ہوسکتی اس میں بھی حسب ضرورت تبدیلی ہوسکتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ہی قسم کی آواز پر پیدا نہیں فرمایا بلکہ اس کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ اپنی آواز کو پست بھی کرسکتا ہے اور بلند بھی۔ تو وہ اپنی صلاحیت کو موقع اور محل کے مطابق استعمال کرسکتا ہے۔ البتہ جس آواز سے نفرت سکھائی گئی، حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اس سے بچانا چاہا، وہ آواز وہ ہے جسے گدھے کی آواز کہا گیا ہے۔ گدھے کی آواز میں قدرت نے بلندی کے ساتھ ساتھ کراہت کا پہلو بھی رکھا ہے۔ اور مزید یہ بات بھی کہ اسے یہ صلاحیت نہیں دی گئی کہ وہ اپنی آواز میں کمی بیشی بھی کرسکتا ہو۔ وہ جب بھی بولتا ہے ایک ہی آواز اور ایک ہی رفتار سے ہینگتا ہے جس سے سننے والوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔ انسان کو ایسا لب و لہجہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے حُسنِ بیان اور حُسنِ کلام کی نعمت سے نوازا ہے۔ اسے اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ گدھے کی طرح ہمیشہ اپنا حلق اور لوگوں کے کان پھاڑنے کی کوشش کرے۔ اور لوگوں پر رعب جمانے اور انھیں خوفزدہ کرنے کے لیے کرخت اور سخت لب و لہجہ اختیار کرے۔ ان ہدایات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لقمان کو کسی نہ کسی طرح کی سیادت حاصل تھی۔ اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کررہے تھے تو ان کی عمر کی شام ڈھل رہی تھی اور وہ محسوس کررہے تھے کہ ان کے حالات کے مطابق ان کا بیٹا جانشین ہوگا۔ اس لیے انھوں نے ضروری سمجھا کہ ان کے جانشین میں اچھی سیادت کے لیے جو صفات ہونی چاہئیں وہ اپنے بیٹے پر واضح کردی جائیں۔ اسی لیے حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں فرمائیں ان میں اصلاحِ عقیدہ کے ساتھ ساتھ حُسنِ اخلاق، حُسنِ معاشرت اور حُسنِ حکومت سب کچھ شامل تھا۔
Ayah 31:20

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اس نے تمام کردی ہیں تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں، پھر بھی لوگوں میں ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر کسی علم، ہدایت اور کتاب منیر کے جھگڑا کرتے ہیں

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَلَـکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاَسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّبَاطِنَۃً ط وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّلاَ ھُدًی وَّلاَ کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ ۔ (لقمان : 20) (کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اس نے تمام کردی ہیں تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں، پھر بھی لوگوں میں ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر کسی علم، ہدایت اور کتاب منیر کے جھگڑا کرتے ہیں۔ ) توحید اور شکر پر دلائلِ آفاق سے استدلال گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اسی کے شکر پر زور دیا گیا ہے۔ اور اسی کی تائید میں لقمان کی حکمتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اب اسی پر دلائلِ آفاق سے استدلال کیا جارہا ہے۔ اور انداز یہ اختیار کیا گیا ہے کہ ہر مخاطب کی قوت مشاہدہ کو متوجہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ جو بات دلیل میں کہی جارہی ہے وہ ایسی بات نہیں جس کا تعلق دماغ کے گہرے غور و فکر سے ہو اور اسے سمجھنے کے لیے کسی بڑی عقل کی ضرورت ہو۔ کیونکہ ہر شخص بچشم سر دیکھتا ہے کہ وہ اپنی شب و روز کی زندگی میں جن نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے یہ نعمتیں اس کی اپنی قوت یا تدبیر سے اس کی دسترس میں نہیں آئیں۔ بلکہ وہ سراسر اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہیں۔ مثلاً وہ جس زمین پر چلتا ہے اور آسمان کی جس چھت کے نیچے رہتا ہے اور پھر زمین کی مختلف نعمتوں سے مستفید ہوتا ہے، اس کے ابلتے ہوئے چشموں سے پیاس بجھاتا ہے، آسمان سے برستی بارشوں سے سیرابی کا سامان کرتا ہے اور پھر زمین کی فیض رسانی سے غلہ، نباتات اور قسم قسم کے پھل حاصل کرتا ہے۔ سورج کی روشنی اس کے چولھوں کو دہکاتی اور اس کے غلے کو پکاتی ہے۔ ہوا اس کے لیے مختلف خدمات انجام دیتی ہے۔ غرضیکہ بیشمار نعمتیں ہیں جو اس کے گردوپیش میں پھیلی ہوئی ہیں اور زندگی کی کوئی ضرورت ایسی نہیں جس کا انتظام اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے نہ کردیا ہو۔ ان ظاہری نعمتوں کے ساتھ ساتھ باطنی نعمتیں بھی ہیں جن کا دماغ کی رعنائیوں، عقل کی رسائیوں اور قلب کے سوز و گداز سے تعلق ہے۔ اور کتنے ایسے احساسات ہیں جن کا روح کی بالیدگی سے رشتہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ ظاہری اور باطنی نعمتیں جن کا شمار ممکن نہیں، کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور نے عطا کی ہیں یا یہ سب کچھ انسان کی اپنی صلاحیت اور محنت کا نتیجہ ہے۔ اور اگر ایسا نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور شکر کا سزاوار کیونکر ہوسکتا ہے اور اس کے ساتھ الوہیت میں کس طرح شریک ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ تسخیرکا مفہوم یاد رہے کہ آیت کریمہ میں آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو انسانوں کے لیے مسخر کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ بہتر ہے کہ اس کا مفہوم سمجھ لیا جائے۔ تسخیر میں دو مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ کسی چیز کو کسی کے تابع کردیا جائے اور اسے تصرف کا اختیار دے دیا جائے کہ جیسے چاہے اسے استعمال کرے۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اس چیز کو کسی کے سپرد تو نہ کیا جائے البتہ ایک ضابطے کا پابند کردیا جائے جس کی وجہ سے وہ ہر اس شخص کو نفع پہنچانے کی پابند ہو جو اس سے مفاد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں مفہوموں کے مطابق انسان کے لیے چیزوں کو مسخر کیا ہے۔ مثلاً ہوا، پانی، مٹی، آگ، نباتات، معدنیات اور مویشی وغیرہ بیشمار چیزیں ایسی ہیں جو انسان کے اختیار میں دی گئی ہیں اور ہر طرح کے تصرف کی اس میں آزادی دی گئی ہے۔ لیکن چاند سورج وغیرہ ان کو انسان کی خدمت کا پابند کردیا گیا ہے۔ سورج اس بات کا مکلف کیا گیا ہے کہ وہ انسان کو روشنی بہم پہنچائے، اس کی فصلوں کو پکائے اور اس کی آبیاری کے لیے سمندروں سے بھاپ اٹھائے۔ اسی طرح چاند کو بھی بعض ضوابط کے تحت انسان کو افادہ کا پابند کردیا گیا ہے۔ وہ غلے میں گداز پیدا کرتا ہے، پھلوں میں مٹھاس پیدا کرتا ہے، سمندر میں جوار بھاٹا کا باعث بنتا ہے وغیرہ۔ مشرکین کا بےدلیل مجادلہ حیرانی کی بات ہے کہ اتنی واضح دلیلوں کے باوجود ایسے انسانوں کی کمی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بحث کرتے اور جھگڑا کرتے ہیں۔ انھیں اللہ تعالیٰ کی توحید کے بارے میں بہت سے اشکالات ہیں۔ حالانکہ نہ ان کے پاس کوئی دلیل ہے نہ کوئی رہنمائی اور نہ کسی روشن کتاب کی کوئی سند انھیں حاصل ہے۔ علم سے مراد دلیل بھی ہوسکتی ہے خواہ وہ عقلی ہو یا نقلی۔ اس سے مراد وہ علم بھی ہوسکتا ہے جو ظن و گمان کے مقابلے میں یقین پیدا کرتا ہے ہدیً سے مراد رہنمائی ہے، جس کی عملی صورت اللہ تعالیٰ کے نبی اور ان کے راستے پر چلنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ اسی لیے سبیل المومنین کے اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اس سے کتاب اللہ کی ہدایت بھی مراد ہوسکتی ہے۔ چناچہ کتاب منیر سے پہلے اس کا ذکر خاص سے پہلے عام کے ذکر کے طور پر ہے۔ لیکن زیادہ واضح بات یہ ہے کہ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کی وہ رہنمائی مراد لی جائے جو کتاب کی تشریحات کی صورت میں بھی ہوتی ہے اور اس کی عملی تعبیرات کی صورت میں بھی۔ اور کتاب منیر سے مراد نزول قرآن کے بعد قرآن کریم جیسی روشن کتاب ہے جس نے جہالت اور تعصب کی ہر تاریکی کو روشن کردیا ہے۔
Ayah 31:21

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، کیا اس صورت میں بھی جبکہ شیطان ان کو عذاب دوزخ کی طرف بلا رہا ہو

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاوَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَـآئَ نَا ط اَوَلَوْکَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْھُمْ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیْرِ ۔ (لقمان : 21) (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، کیا اس صورت میں بھی جبکہ شیطان ان کو عذاب دوزخ کی طرف بلا رہا ہو۔ ) بےدلیل مجادلہ کی مثال گزشتہ آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ لوگوں میں ایسے ہٹ دھرم لوگ بھی ہیں جو دلیل کی بات ماننے کی بجائے ایسی باتوں پر اصرار کرتے ہیں جن کا علم یا دلیل سے کوئی رشتہ نہیں۔ گویا ان کا مجادلہ سراسر علم کی تائید کے بغیر ہوتا ہے۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں ان کے ایسے ہی مجادلے کا ذکر کیا جارہا ہے کہ ان کا حال یہ ہے کہ جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کی پیروی کرو اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے نبی پر نازل کیا جارہا ہے اس کا اتباع کرو۔ تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ ہم نے جس طریقے پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گے۔ اس سے ہٹ کر ہم کوئی نئی راہ اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ اندازہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی ذات اور اس کا حُسنِ کردار بجائے خود ایک ایسی مضبوط دلیل ہے کہ جس پر جھوٹ کا الزام نہیں لگایا جاسکتا۔ اور اس پر نازل ہونے والی کتاب اپنے اندر ایسے مضبوط دلائل اور ایسا اعجاز رکھتی ہے کہ اسے جھٹلانا ممکن نہیں۔ لیکن یہ اس کے جواب میں ایک ایسی بات کہتے ہیں جس کا علم اور عقل کی دنیا میں کوئی وزن نہیں۔ آبائواجداد بھی ویسے ہی انسان ہیں جیسے ان کی اولاد۔ اور یہی اولاد اگلی نسلوں کے لیے آبائواجداد کی حیثیت اختیار کرلے گی۔ تو کیا اس وقت کوئی شخص اس بات کو دلیل کے طور پر کہہ سکتا ہے کہ چونکہ ہمارے آبائواجداد یہ کہتے تھے۔ اس لیے ہمارے لیے اس سے بڑی سند کوئی نہیں ہے جبکہ یہ آج اپنی ذات کو نہیں بلکہ اپنے آبائوجداد کو دلیل سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانوں نے غلطیاں ہمیشہ کی ہیں اور آج بھی کررہے ہیں۔ اس لیے کسی کا دنیا سے چلے جانا غلطی کی سند نہیں بن سکتا۔ غلطی اس وقت بھی غلطی تھی اور آج بھی غلطی ہے۔ اس لیے عقل اور دلیل کی بات یہ ہے کہ تم نے آج بےسوچے سمجھے جس طرح اگلوں کی پیروی کی ہے اسی طرح انھوں نے بھی کی ہوگی۔ اب دانشمندی اور حق پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جس کتاب کی تم کو دعوت دی جارہی ہے اس کو سنو، اس پر غور کرو اور اس کے دلائل کی روشنی میں اپنے عقائد و اعمال کا جائزہ لو۔ آیت کا دوسرا حصہ جس میں فرمایا گیا ہے کہ کیا تم اس صورت میں بھی اپنے آبائواجداد کی پیروی کرو گے جبکہ شیطان ان کو عذاب دوزخ کی طرف بلا رہا ہو۔ بعض اہل علم نے ” یدعوہم “ ضمیر مفعول کا مرجع آباء کو قرار دیا ہے۔ اس صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ مشرکین سے کہا جارہا ہے کہ تم اپنے آباء کی اس صورت میں بھی پیروی کروگے جبکہ شیطان انھیں جہنم کے عذاب کی طرف بلا رہا ہو۔ یعنی وہ بجائے حق پرستی اور حق پسندی کے راستے پر چلنے کے دوسرے راستوں پر چلتے رہے۔ اور بجائے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے کے شیطان کی اطاعت کرتے رہے۔ تو کیا تم پھر بھی ان کی پیروی کرنے پر اصرار کرو گے۔ بعض اہل علم نے یدعوھم کی ضمیر کا مرجع آباء کو نہیں بلکہ خود اس کے کہنے والوں کو قرار دیا ہے۔ یعنی یہ لوگ تقلیدِ آباء کے تعصب میں مبتلا ہو کر جس طرح حق کے راستے سے دور نکلتے جارہے ہیں اور شیطان انھیں اسی روش پر زیادہ سے زیادہ راسخ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ شیطان کی یہ کوشش درحقیقت عذاب جہنم کی طرف دعوت دینے کے مترادف ہے۔ کیونکہ اگر تم نے آباء پرستی کے جنون میں حق کو قبول کرنے سے انکار جاری رکھا تو بالآخر اس کا نتیجہ جہنم کے عذاب کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔ لمحہ فکریہ اس آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ ہمارے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کے رسول کی دلآویز شخصیت اور قرآن کریم جیسی معجزانہ کتاب کی طرف دعوت اور دوسری طرف تقلیدِآباء پر جمود۔ جو شخص بھی اس پر غور کرے گا وہ سر پکڑ کر بیٹھ جائے گا کہ ان دونوں کا آخر آپس میں کیا مقابلہ ہے۔ اور لوگوں نے کس دلیل پر تقلیدِ آباء کی روش کو جاری رکھا ہوا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ جب کوئی رویہ قومی رویہ کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور جب کوئی نظریہ قومی دین بن جاتا ہے اور جب کوئی کلچر قومی تہذیب کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور جب کسی قوم کا چلن قومی روایت بن جاتا ہے تو پھر اس میں ایک قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ لوگ اس کے بارے میں بالکل اندھے ہوجاتے ہیں۔ جو لوگ بھی قومی حوالوں سے اس گمراہی کی دعوت دیتے ہیں انھیں قومی تہذیب اور روایات کا محافظ سمجھا جاتا ہے اور عوام ان کے نعروں سے اس طرح مسحور ہوجاتے ہیں کہ اس کے خلاف وہ کوئی بات بھی سننے کے روادار نہیں ہوتے۔ نہ انھیں عقل کی بات اپیل کرتی ہے نہ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اللہ تعالیٰ کے رسول کے ارشادات کی کوئی حیثیت ہوتی ہے۔ وہ نام اللہ تعالیٰ اور رسول کا لیں گے لیکن اپنے قومی تعصبات اور قومی رسم و رواج سے کبھی نکلنا گوارا نہیں کریں گے۔ آج مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد اسی مرض میں مبتلا ہے۔ والی اللہ المشتکیٰ