Ayah 31:22وَمَنْ یُّسْلِمْ وَجْھَہٗٓ اِلَی اللّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِاسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ط وَاِلَی اللّٰہِ عَاقِـبَۃُ الْاُمُوْرِ ۔ (لقمان : 22)
(جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردے اور وہ خوب کار بھی ہو تو بیشک اس نے مضبوط رسی تھام لی، اور انجام کار تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ )
قیامت میں تفویض و احسان کام آئیں گے
تقلیدِآباء کو اپنے عقیدے کی بنیاد سمجھنے والوں اور دلائل میں اسے سب سے بڑی دلیل قرار دینے والوں کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن باپ دادا کے طریقہ کی اندھی تقلید کام آنے والی چیز نہیں اور نہ کوئی اور سہارا کام آئے گا۔ وہاں تو صرف دو چیزیں کام آئیں گی۔ ایک تو یہ کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کامیاب و کامران ہوگا اور زندگی کے ہر معاملے میں اس شخص کے ساتھ ایک مضبوط سہارا ہوگا جس نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا۔ یعنی اس نے یہ عہد کیا کہ میرا جسم و جان، میری صلاحیتیں، میری تسلیم و رضا کی قوت، میری عملی توانائیاں، میرا مال و دولت، میرا عہدہ و منصب اور میرا اثرواقتدار سب اللہ تعالیٰ کی ذات پر قربان۔ میرا ہر ارادہ اس کے ارادے کے تابع اور میرا ہر فیصلہ اس کی شریعت کے اقتضاء کے مطابق ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ دین میرا رہنما، میرا راستہ اور میری منزل ہوگا۔ اور دوسری یہ چیز کہ میں جس بات کا قول وقرار کررہا ہوں میرا ہر عمل اس کی تائید کرے گا اور میں اپنی عملی توانائیوں کو اس طرح بروئے کار لائوں گا کہ میرا ہر عمل اخلاص کی تصویر اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی انتہائی کوشش ہوگا۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کو کمال درجہ خوبی و اخلاص کے ساتھ بروئے کار لانے کی کوشش کروں گا۔ یہ وہ دو چیزیں ہیں جنھیں تفویض اور احسان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان دونوں چیزوں کے مل جانے سے اسلام کا مفہوم مکمل ہوجاتا ہے اور یہی دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کامیابی و کامرانی کی ضمانت ہیں۔ اور یہی وہ مضبوط سہارا ہے جسے یہاں عروۃ الوثقیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اور یہ ایسی مضبوط رسی ہے جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں۔ اس لیے بعض لوگوں نے انھیں مضبوط زنجیر سے تعبیر کیا ہے۔
آخر میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ اس رسی کے سوا دوسری رسیاں بھی جو لوگوں نے تھام رکھی ہیں وہ بھی ان کے لیے کچھ کام آنے والی بن سکیں گی۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمام امور بالآخر اللہ تعالیٰ ہی کے حضور پیش ہوں گے۔ وہی مولیٰ و مرجع ہے۔ اس کے سوا کوئی اور سہارا کام آنے والا نہیں۔
Ayah 31:23وَمَنْ کَفَرَفَلاَ یَحْزُنْکَ کُفْرُہٗ ط اِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ فَنُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا ط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (لقمان : 23)
(اور جو شخص کفر کرتا ہے اس کا کفر آپ کو غم میں مبتلا نہ کرے، انھیں پلٹ کر آنا تو ہماری ہی طرف ہے، پھر ہم انھیں بتادیں گے کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں، یقینا اللہ سینوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ کافر جو کچھ کررہے ہیں اور جس طرح اپنے کفر میں دلیر ہوتے جارہے ہیں اور جس طرح اسلامی دعوت کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن تدبیر عمل میں لا رہے ہیں۔ یقینا ان میں سے ہر بات آپ کے لیے رنج اور تکلیف کا باعث ہوتی ہے۔ کیونکہ آپ جب اپنی کاوشوں کو ناکام ہوتا دیکھتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انھیں ان کے برے انجام کی طرف بڑھتا ہوا دیکھتے ہیں تو آپ دل گرفتہ ہوجاتے ہیں۔ اس لیے آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ کو اس سے غمزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کا کام ابلاغ اور لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے انذار ہے۔ آپ نے اس معاملہ میں کوئی کوتاہی نہیں کی بلکہ اپنا سب کچھ اس راستے میں نچوڑ ڈالا ہے۔ اس پر بھی اگر یہ لوگ آپ پر ایمان نہیں لاتے تو خود اپنی قسمت بگاڑ رہے ہیں، آپ اس پر دل گرفتہ کیوں ہوں۔ اور ساتھ ہی ساتھ کفار و مشرکین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم شاید یہ سمجھتے ہو کہ ہمارے پیغمبر اور مسلمانوں کو تکلیف دے کر تم خوشیاں مناتے رہو گے اور تم سے کبھی کوئی بازپرس نہیں ہوگی۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہیں آخر ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ پھر ہم تمہیں بتائیں گے کہ تم کیا کرتے رہے ہو اور آج تمہیں اس کے بدلے میں کس انجام سے دوچار ہونا ہے۔ اور یہ بھی مت بھولو کہ ہم صرف تمہاری ظاہری کارروائیوں سے ہی واقف نہیں بلکہ تمہارے سینے جن خباثتوں سے اٹے ہوئے ہیں ہم ان سے بھی واقف ہیں۔ کسی سینے کا کوئی راز ہم سے مخفی نہیں۔ اس لیے ہر لحاظ سے ہم تمہاری گرفت کریں گے۔ اس لیے آج جو کچھ کررہے ہو اس پر اچھی طرح غور و فکر کرلو۔
Ayah 31:24نُمَتِّعُہُمْ قَلِیْلاً ثُمَّ نَضْطَرُّھُمْ اِلٰی عَذَابٍ غَلِیْظٍ ۔ (لقمان : 24)
(ہم تھوڑی مدت انھیں دنیا میں مزے کرنے کا موقع دے رہے ہیں پھر ان کو ایک سخت عذاب کی طرف کھینچ لے جائیں گے۔ )
ایک تأثر کی اصلاح
حق و باطل کی کشمکش میں جبکہ اہل حق دعوت و تبلیغ کے میدان میں سردھڑ کی بازی لگا چکے ہیں اور کشمکش پورے زوروں پر ہے اور اہل باطل تہیہ کرچکے ہوں کہ ہم حق کے قافلے کو آگے بڑھنے نہیں دیں گے اور اس نئی اٹھنے والی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کردیں گے۔ ایسی صورتحال میں باطل روز بروز اپنے وسائلِ قوت کو بروئے کار لا کر اہل حق کو سراسیمہ کرنے کی کوشش کررہا ہے اور اہل حق تمام تر اخلاص و عمل کے باوجود اس صورتحال سے یہ تأثر لیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ آخر ہماری قربانیاں کب رنگ لائیں گی اور ہمارے برسرحق ہونے کو کب سپھل ہونے کا موقع ملے گا۔ انھیں احساسات کو سامنے رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ اہل باطل کے وسائل کی فراوانی اور ان کے سامانِ راحت کو دیکھ کر متأثر نہ ہوں۔ جس طرح مچھلی کا شکاری مچھلی کو پکڑنے کے لیے کنڈی کے سرے پر گوشت کا ٹکڑا لگاتا ہے تاکہ مچھلی گوشت کا ٹکڑا کھانے کی ہوس میں کنڈی نگل جائے تو میں اسے باہر کھینچ لوں۔ ایسے ہی ہم انھیں عیش و عشرت کے سامان سے ایک محدود وقت کے لیے زیادہ سے زیادہ بہرہ ور کرتے ہیں۔ وہ جتنی حق کی مخالفت کرتے ہیں اتنا ہی ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے متاع دنیا میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ وہ مچھلی کی طرح زیادہ سے زیادہ اس پر لپکتے ہیں۔ حتیٰ کہ وقت آجاتا ہے جب ان پر گرفت کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے گھروں میں عیش کی بانسری بجا رہے ہوتے ہیں کہ عذاب کا کوڑا ان کے سروں پر برسنے لگتا ہے۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ہم انھیں مسلسل رزق کی فراوانی اور دنیوی مال و متاع کی حشرسامانی سے نوازتے چلے جاتے ہیں۔ اور وہ اسی میں مگن ہو کر زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے دین کی مخالفت کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ موت آکر ان کی زندگی کا فانوس گل کردیتی ہے اور پھر وہ دن بہت دور نہیں جسے قیامت کہتے ہیں۔ جب انھیں کھینچتے ہوئے میدانِ حشر میں لے جایا جائے گا پھر انھیں سخت ترین عذاب میں ڈال دیا جائے گا۔
Ayah 31:25وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ط قُلِ الْحَمْدُلِلّٰہِ ط بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (لقمان : 25)
(اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا، تو وہ ضرور کہیں گے، اللہ نے۔ کہئے، الحمدللہ۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ )
مسلمات سے اتمامِ حجت
اس سے پہلے تقلیدِآباء کے حوالے سے مشرکین کی جہالت اور حماقت کو واضح فرمایا گیا ہے، اب اسی طرح کی ایک مثال سے اسی مضمون کو مزید مبرہن کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ لوگوں کی جہالت اور ہٹ دھرمی کا عالم یہ ہے کہ جن حقائق کا یہ خود اعتراف کرتے ہیں اور وہ ان کے عقیدہ کا حصہ بھی ہیں ہے ان مسلمات اور ان کے اعتراف سے جو نتائج منطقی طور پر سامنے آتے ہیں انھیں ماننے کے لیے تیار نہیں۔ حالانکہ معمولی عقل کا آدمی بھی یہ بات سمجھتا ہے کہ جب کسی ایسی چیز کا اعتراف کیا جائے جو اپنا ایک لازمی نتیجہ رکھتی ہو تو پھر اس سے بڑی جہالت اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ اس کے نتیجے کو ماننے سے انکار کردیا جائے۔ مثلاً ایک شخص یہ کہے کہ سورج نکلا ہوا ہے، لیکن اس کی روشنی سے انکار کردے۔ کوئی شخص چاند کے طلوع ہونے کا اقرار تو کرے لیکن اس کی تابانی سے انکار کردے۔ کوئی شخص دریا کو بہتا ہوا دیکھے لیکن اس کی اٹھتی ہوئی موجوں سے انکار کرے تو ہر سننے والا شخص ایسے آدمی کو پاگل سمجھے گا یا ہٹ دھرم قرار دے گا۔ یہی حال ان لوگوں کا بھی ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو خالق کائنات تو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس بات کو نہیں سمجھتے کہ جو ذات خالق کائنات ہے اور اس کی تخلیق میں کوئی اس کا ساجھی نہیں۔ تو کیا اس کا لازمی نتیجہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اِلٰہ اور رب بھی اس کے سوا کوئی نہیں۔ عبادت، اطاعت اور بندگی کا مستحق بھی تنہا وہی ہے۔ تسبیح وتحمید بھی اس کے سوا کسی دوسرے کی نہیں کی جاسکتی۔ کسی اور کے سامنے استمداد کے لیے دست سوال بھی نہیں پھیلایا جاسکتا۔ دعائیں قبول کرنے والا اس کے سوا کوئی اور نہیں۔ انسانوں کے لیے شارع اور حاکم اس کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ تم اسے خالق تو مانتے ہو لیکن ان صفات میں تم نے دوسروں کو شریک کر رکھا ہے۔ معمولی عقل کا آدمی بھی یہ سمجھتا ہے کہ خالق کوئی اور ہو اور معبود کوئی اور، اس سے بڑا تضاد کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ اس لیے فرمایا کہ شکر ہے اللہ تعالیٰ کا کہ تم اسے خالق تو مانتے ہو لیکن اس مسلمہ امر کے جو نتائج اور تقاضے ہیں اکثر لوگ اسے سمجھتے نہیں ہیں۔ اس لیے ان کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔
Ayah 31:26لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط اِنَّ اللّٰہَ ھُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ (لقمان : 26)
(آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، بیشک اللہ بےنیاز اور آپ سے آپ محمود ہے۔ )
سابقہ حقیقت کی مزید وضاحت
اس آیت کریمہ میں سابقہ آیت میں بیان کردہ حقیقت کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ بات صرف اتنی نہیں ہے کہ زمین اور آسمانوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے بلکہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب اسی کی مخلوق و مملوک اور سب اسی کے دروازے کے سائل و محتاج ہیں۔ سب اسی کی طوعاً و کرھاً غلامی اور بندگی کررہے ہیں۔ کوئی جسامت میں پہاڑوں سے بڑا ہو اور کوئی اپنے پھیلائو اور وسعت میں سمندروں پر محیط ہو، لیکن اس کی غلامی میں ہر ایک جکڑا ہوا ہے۔ انسان اپنی عقل کے بل بوتے اور قوت ایجاد کی وجہ سے چاہے کیسی بھی طاقت حاصل کرلے لیکن اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی غلامی سے کبھی آزاد نہیں ہوسکتا۔ بےنیاز اور ستودہ صفات صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ اس لیے شکر کا سزاوار حقیقت میں تنہا وہی ہے۔ مشرکین نے جس جس حوالے سے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک کیا ہے انھوں نے اس بنیادی حقیقت سے ابا کیا ہے جسے حماقت کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
Ayah 31:27وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلاَ مٌ وَّالْبَحْرُیَمُدُّہٗ مِنْ م بَعْدِہٖ سَبْعَۃُ اَبْحُرٍمَّا نَفِدَتْ کَلِمٰتُ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔ (لقمان : 27)
(اور اگر زمین میں جو درخت ہیں قلم بن جائیں اور سمندر سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں اللہ کی باتیں لکھنے سے ختم نہیں ہوں گی، بیشک اللہ غالب اور حکیم ہے۔ )
بیشمار نشانیاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی صفات پر دلالت کرتی ہیں
اللہ تعالیٰ کی ذات حواس کے ادراک سے ماورا ذات ہے نہ اسے دیکھا جاسکتا ہے نہ اسے سنا جاسکتا ہے اور نہ عقل اس کا کماحقہ ادراک کرسکتی ہے۔ اس لیے بعض لوگوں کو اس کی ذات میں التباس پیش آیا اور انھوں نے کبھی کسی دیوتا اور کبھی کسی مظہرقدرت میں الوہیت کی نمود دیکھی اور اسے طاقت کا سرچشمہ گمان کرکے اس کے سامنے جھک گئے۔ اور بعض ایسے ذہنی طور پر بلید ثابت ہوئے کہ انھوں نے اینٹ پتھر کے خدا بنا لیے۔ یہ صحیح ہے کہ اسے دیکھا نہیں جاسکتا اور نہ اسے محسوس کیا جاسکتا ہے لیکن کسی حقیقت کو جاننے کے لیے محسوس کرنا تو ضروری نہیں ہوتا بلکہ اس کا ادراک اس کی ذات سے نہیں اس کی صفات سے بھی ہوسکتا ہے۔ جس طرح معمار اپنی تعمیر، شاعر اپنے شعر، خطیب اپنے خطبے اور ایک نثرنگار اپنی نثر سے پہچانا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی پہچان کے لیے اس قدر نشانیاں ہیں اور اس قدر اس کے تخلیقی کارنامے ہیں جو اس کی قدرت و حکمت پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔ اگر زمین کے سارے درخت قلم بن جائیں اور سات سمندروں کے اضافے سے سارے سمندر سیاہی بن جائیں تو قلم گھس جائیں گے اور سیاہی ختم ہوجائے گی لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات پر دلالت کرنے والی نشانیاں اور اس کے کارنامے ختم نہیں ہوں گے۔ ان نشانیوں پر کلمات کا اطلاق اس لیے کیا گیا ہے کہ جس طرح کلمہ بولتا ہے اسی طرح ہر نشانی اللہ تعالیٰ کے وجود پر دلالت کرتی ہے۔ ممکن ہے کسی کو یہ خیال آئے کہ اس آیت میں جو تعبیر اختیار کی گئی ہے وہ محض خیال آرائی معلوم ہوتی ہے یا مبالغے کا اسلوب ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ امرواقع کا بیان ہے۔ قلموں کا گھس جانا اور سمندروں کا ختم ہوجانا کوئی مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ کیونکہ ساری کائنات میں اللہ تعالیٰ کی جو بیشمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں آج تک سائنس اپنی تمام تر تحقیق و ایجاد کے باوجود جو کچھ جان سکی ہے وہ اس قابل نہیں ہے کہ اسے کائنات کا علم قرار دیا جاسکے۔ ایک سائنسدان نے ٹھیک کہا ہم سمندر کے کنارے سپیوں سے کھیل رہے ہیں ہمیں کچھ خبر نہیں سمندر کی تہ میں کیسے موتی اچھل رہے ہیں۔ سمندر کے پانی کو واقعی اگر سیاہی بنادیا جائے تو وہ شاید سمندر کے عجائب وغرائب کو بھی شمار نہ کرسکے۔ اور جن موجوداتِ عالم سے آج تک انسان واقف ہوسکا ہے شاید اس کی مکمل فہرست بھی تیار نہ کرسکے۔ چہ جائیکہ اس اتھاہ کائنات کی ساری موجودات ضبط تحریر میں لائی جاسکیں۔
اس آیت میں جو تعبیر اختیار کی گئی ہے اس سے بتلانا مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اتنی عظیم ہے کہ انسان اس کی ذات کے بارے میں کچھ کہنے کی جسارت کیا کرے اس نے جو کائنات پیدا فرمائی ہے اس کی وسعت کا عالم یہ ہے کہ انسان کبھی اس کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہیں کرسکتا اور سمندروں کی سیاہی بھی اور زمین کے درختوں کے قلم بھی اس کو لکھنے سے عاجز ہیں۔ تو جو ذات اتنی عظیم ہو، کیا اس سے بڑھ کر اور کوئی بےہودگی ہوسکتی ہے کہ اس کے ساتھ کسی مخلوق کو شریک کردیا جائے۔ اور انھیں معبود بنا لیا جائے جو اپنی زندگی اور بقا کے لیے اللہ تعالیٰ سے بھیک مانگتے ہیں اور ہر وقت اس سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔
یاد رہے کہ سورة کہف میں اسی مضمون کو آیت 109 میں بیان فرمایا گیا ہے۔ وہاں البحر کے ساتھ مداد کا اضافہ بھی ہے۔ ہم اسی سے استفادہ کرتے ہوئے البحر کے بعد مداد کا اضافہ کرسکتے ہیں۔ اس لیے ہم نے اس کو ترجمے میں نمایاں کردیا ہے۔
آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی عزیز و حکیم ہے یعنی اس کائنات کی ہر چیز گواہی دے رہی ہے کہ اس کا خالق عزیز بھی ہے اور حکیم بھی ہے۔ عزیز کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے۔ اس کے سامنے ہر چیز مغلوب ہے چاہے انسانوں کی نگاہ میں وہ کیسی ہی ناممکن الوجود ہو۔ اسی طرح اس کی تخلیقات کو دیکھ کر یہ ماننا پڑتا ہے کہ اس کی ذات حکیم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اور بغیر حکمت کے اس نے نہ کوئی چیز پیدا کی ہے اور نہ کوئی حکم دیا ہے۔ ان دونوں باتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ چونکہ وہ عزیز ہے اس لیے اس کے لیے قیامت کا برپا کردینا اور ازسرنو انسانوں کو زندہ کردینا کوئی مشکل نہیں۔ کیونکہ وہ سب کچھ کرنے پر قادر ہے۔ اور چونکہ وہ حکیم ہے اس لیے اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ انسانوں کو جزاء و سزا کے لیے ازسرنو زندہ کرے۔ کیونکہ ایک معمولی آدمی بھی جسے اللہ تعالیٰ نے تھوڑی بہت عقل دے رکھی ہے کبھی کوئی بےمقصد کام نہیں کرتا، کیونکہ وہ اسے حکمت و دانش کے خلاف سمجھتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ سے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اتنی عظیم کائنات اور پھر اس میں انسان جیسی اشرف المخلوقات کو جو اس کائنات کا گل سرسبد ہے بےمقصد پیدا کرے اور پھر اس پر کبھی اس سے بازپرس نہ کرے کہ اس نے اس مقصد کے مطابق زندگی گزاری ہے یا نہیں۔ اگر وہ ایسا کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ حکیم نہیں۔ اور اگر انسان کو مقصد کے حوالے سے بازپرس کا پابند نہ کرے تو یہ دنیا ایک بازیچہ اطفال بن کر رہ جائے۔
Ayah 31:28مَاخَلْقُکُمْ وَلاَ بَعْثُکُمْ اِلاَّ کَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ط اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ م بَصِیْرٌ۔ (لقمان : 28)
(اور تم کو پیدا کردینا اور پھر دوبارہ جِلا اٹھانا بس ایسا ہی ہے جسے ایک متنفس کو پیدا کردینا اور جِلا اٹھانا، بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ )
اس سے پہلے جو دلائل دیے گئے ہیں اور جس دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے شواہد پیش کیے گئے ہیں یہ مختصر آیت کریمہ ان تمام دلائل اور اس کے مقدمات کا خلاصہ بلکہ اس کا منطقی نتیجہ ہے۔ اس نتیجے کو سمیٹتے ہوئے فرمایا کہ تمہاری ذہنی خرابی کا اصل سبب یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی قدرت کی وسعتوں سے ناآشنا ہو۔ اس لیے قیامت کا وقوع تمہیں مستبعداز عقل محسوس ہوتا ہے حالانکہ اس کی قدرت ایسی وسیع اور بےپناہ ہے کہ اس کے لیے کسی ایک چیز کو پیدا کرنا اور بیشمار چیزوں کو پیدا کرنا بالکل یکساں ہے۔ اس کے لیے جو تعبیر اختیار کی گئی ہے اس کی ہلکی سے وضاحت ضروری ہے۔ ” اِلاَّ کَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ “ اس میں مضاف محذوف ہے یعنی کَخَلْقِ نَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ یا کَبْعَثِ نَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے ایک نفس کو پیدا کردینا اور تمام جہاں کو پیدا کردینا اور اس کو اٹھا کھڑا کرنا یکساں ہے۔ کیونکہ وہ ہر چیز کو وجود دینے کے لیے کلمہ کن کہتا ہے اور وہ وجود میں آجاتی ہے۔ چاہے وہ ایک چیز ہو چاہے ان کی تعداد اربوں تک ہو۔ یہ کلمہ کن بھی شاید ہماری تفہیم کے لیے ہے ورنہ اللہ تعالیٰ اس کا محتاج نہیں۔
” اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ م بَصِیْر “ اس میں بھی ایک غلط فہمی کا ازالہ ہے۔ مشرکین کو جو وقوع قیامت پر اعتراضات تھے ان میں ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ قیامت کے آنے کا اصل مقصد تو لوگوں کے اعمال کا حساب کتاب ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اتنی وسیع مخلوق کے احوال و معاملات کا علم اللہ تعالیٰ کے لیے ممکن ہے۔ ٹھیک ہے کہ وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ لیکن جب ایک کی آواز سنائی دیتی ہے تو دوسرے کی آواز سنائی دینے کے باوجود سمجھ نہیں آتی۔ اور جب آدمی ایک چیز کا مشاہدہ کرتا ہے تو دوسری چیزیں اس کی نگاہ سے اوجھل ہوجاتی ہیں۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سماعت میں ایک ہی وقت میں کروڑوں لوگوں کی آوازیں آئیں اور وہ انھیں سمجھے اور محفوظ کرلے۔ اور وہ کروڑوں لوگوں کے احوال دیکھے اور ان کو گرفت میں لے آئے۔ چناچہ اس شبے کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی سماعت اور اس کی بصارت دوسری مخلوقات کی طرح نہیں۔ وہ بیک وقت ساری کائنات کو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے۔ کوئی چیز اس کی بینائی کو مشغول نہیں رکھ سکتی اور کوئی آواز اس کی سماعت کو محدود نہیں کرسکتی۔ جس طرح اس کی قوت تخلیق کروڑوں انسانوں کو بیک وقت پیدا کرسکتی ہے، اسی طرح اس کی سماعت و بصارت بھی بیک وقت سب کچھ سنتی اور دیکھتی ہے۔
Ayah 31:29اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ وَسَخَّرَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ز کُلٌّ یَّجْرِیْٓ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّاَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ (لقمان : 29)
(کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ ہی ہے جو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے، ہر ایک گردش کرتا ہے ایک مقررہ وقت تک، اور یہ کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ )
چند مزید نشانیوں کی طرف اشارہ
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی مزید چند نشانیوں کو ذکر فرمایا گیا ہے اور اس کے لیے استفہامیہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ نشانیاں ایسی ہیں جو عام انسانوں کی نگاہوں سے مخفی نہیں۔ لیکن اس میں جمع کے صیغہ کی بجائے واحد کے صیغہ سے خطاب فرمایا گیا ہے۔ اگرچہ یہ خطاب جمع پر بھی صادق آتا ہے کیونکہ معنی کے لحاظ سے اس میں واحد اور جمع میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ البتہ واحد کی صورت میں مخاطب گروہ کے ایک ایک شخص کو فرداً فرداً توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے اور اس میں جمع کے مقابل میں زیادہ زور ہوتا ہے۔
ارشاد فرمایا کہ ذرا غور کرو کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت و حکمت ہے کہ وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ یعنی دونوں ایک دوسرے کے تعاقب میں یکے بعد دیگرے پوری سرگرمی اور پابندیِ اوقات کے ساتھ آتے جاتے ہیں اور دونوں میں سے کبھی کوئی تخلف کرتا اور نہ پیش قدمی کرتا ہے۔ ان کے لیے جو نظام اوقات مقرر کردیا گیا ہے کیا مجال ہے جو اس سے سرمو انحراف ہونے پائے۔ اس وقت بتانا مقصود یہ ہے کہ جس پروردگارِ عالم کی قدرت کا عالم یہ ہے کہ وہ رات اور دن اور سورج اور چاند کو اس طرح گردش دے رہا ہے کہ جس میں کبھی کسی غلطی کا امکان نہیں ہوتا کہ کیا اس ذات کے بارے میں یہ تصور کرنا کہ اس کی مخلوقات میں سے کوئی اس کا شریک ہوسکتا ہے اس سے بڑی حماقت اور کیا ہوسکتی ہے۔
مزید فرمایا کہ اس نے سورج اور چاند کو اپنی مخلوق کی خدمت گزاری کے لیے مسخر کر رکھا ہے اور یہ دونوں ہر طرح کی پابندی کے ساتھ اپنی خدمت بجا لانے میں کبھی کوتاہی نہیں کرتے۔ جب سے زمین پر آبادی ہوئی اور انسانوں کو بسایا گیا ہے تاریخ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ کبھی سورج اور چاند کی خدمت گزاری میں انسانوں کو کوئی شکایت پیدا ہوئی ہو۔ ان میں سے ہر ایک اپنے مدار میں گردش کر رہا ہے اور یہ گردش اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ وقت تک جاری رہے گی۔ جب وہ وقت مقرر آجائے گا تو ان کا وجود ختم ہوجائے گا۔ گویا جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کام پر لگایا نہیں تھا تو ان کا کوئی وجود نہ تھا۔ اور جب تک وہ اپنا فرض انجام دے رہے ہیں تو ان کا وجود باقی رہے گا اور اس کے بعد وہ بےنور ہو کر گرجائیں گے۔ اس سے شاید یہ بتانا مقصود ہے کہ ان میں سے کوئی نہ ازلی ہے اور نہ ابدی۔ دونوں حادث ہیں اور اپنے وجود میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ تو یہ کس قدر جہالت کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات جو ازلی اور ابدی ہے جس کا نہ کوئی آغاز ہے اور نہ اختتام۔ اس کے مقابلے میں حادث، فانی اور محتاج چیزوں کو معبود تسلیم کیا جائے۔
آخر میں فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔ جس طرح اس کی قدرت ہر طرف اپنی نمود رکھتی ہے اور ہم جابجا اس کے مظاہر دیکھتے ہیں، اسی طرح اس کا علم محیط بھی تمام مخلوقات کو اپنی آغوش میں لیے ہوئے ہے۔ اگر اس کی قدرت اور علم میں یہ وسعت نہ ہوتی تو اس کی ربوبیت کا فیضان ہر کسی تک نہ پہنچ سکتا۔ اور چونکہ وہ ہر ایک سے باخبر اور اس کے اعمال کی خبر رکھتا ہے تو یہ ممکن نہیں کہ وہ لوگوں کے اعمال سے متعلق پوچھ گچھ نہ کرے۔ اور یہی وہ اصل مقصد ہے جس کا یقین نشانیاں دکھا کر دلوں میں اتارا جارہا ہے۔
Ayah 31:30ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ھُوَالْحَقُّ وَاَنَّ مَایَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الْبَاطِلُ لا وَاَنَّ اللّٰہَ ھُوَالْعَلِیُّ الْـکَبِیْرُ ۔ (لقمان : 30)
(یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور اسے چھوڑ کر جن دوسری چیزوں کو جو لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں، اور بیشک اللہ ہی برتر اور عظیم ہے۔ )
کائنات میں نظم و ترتیب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہے
کائنات کے نظام میں جو نظم و ترتیب باقاعدگی، پابندی، افادیت اور رفاہیت پائی جاتی ہے اس کا سبب صرف یہ ہے کہ معبودِحقیقی صرف ایک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور ہر چیز کا سررشتہ اس کے ہاتھ میں ہے۔ پوری کائنات پر اس کی مرضی اور اس کا حکم نافذ ہے۔ تکوینی معاملات میں اس کے حکم کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا۔ اس کا نتیجہ ہے کہ بےحد و بےکنار کائنات کا کوئی گوشہ ابتری کا شکار نہیں۔ ہر مخلوق، ہر کُرَّہ، ہر ستارہ اور سیارہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں سرمو کوتاہی نہیں کرتا۔ اور اگر کہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی اِلٰہ ہوتا جو اس کے خلق و تدبیر میں دخیل ہوتا تو زمین و آسمان درہم برہم ہوجاتے۔ اور زمین و آسمان کا درہم برہم نہ ہونا اور کائنات کے نظام کا ٹھیک ٹھیک چلنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مشرکین نے جن قوتوں کو معبود بنا رکھا ہے وہ سراسر باطل ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات حق ہے اسی کی عبادت و اطاعت سبیل حق ہے۔ اور وہی ہے جو علی بھی ہے اور کبیر بھی ہے۔ یعنی سب سے بلندو برتر اور سب سے عظیم۔ اس سے زیادہ گری ہوئی بات اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ برتر کے مقابلے میں کہتر کے سامنے سر جھکایا جائے۔ اور عظیم کے مقابلے میں حقیر اور بےحقیقت چیزوں کو بندگی کا مستحق سمجھا جائے۔ انسان کی نہایت حیران کن گمراہی یہ ہے کہ وہ جب اکڑنے پہ آتا ہے تو خدائے بزرگ و برتر کے سامنے اکڑ جاتا ہے۔ اور جب جھکنے پہ آتا ہے تو دیویوں، دیوتائوں، مظاہرِقدرت، فرشتوں اور بتوں کے سامنے جھک جاتا ہے۔
Ayah 31:31اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْکَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰہِ لِیُرِیَکُمْ مِّنْ اٰیٰـتِہٖ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّـکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ۔ (لقمان : 31)
(کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کرائے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لیے۔ )
گزشتہ مضمون پر ایک تمثیل
اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا ذکر ہورہا ہے اسی مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے چند اور نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اندازِخطاب وہی اختیار کیا گیا ہے جو سابقہ آیت میں تھا۔ جس میں زور بھی ہے اور تاکید بھی۔ فرمایا تم کشتی یعنی بحری جہاز میں سفر کرتے ہو، کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ سمندر میں اس کا چلنا اور کسی حادثے کا شکار نہ ہونا سراسر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور عنایت کا رہین منت ہوتا ہے۔ بحری جہاز کتنا بھی مضبوط اور بحری سفر کے لیے کتنا بھی موزوں کیوں نہ ہو اور اس کے ملاح جہاز رانی کے فن سے کیسے ہی آشنا کیوں نہ ہوں بحری جہاز اسی وقت تک بےخطر آگے بڑھتا ہے جب تک سمندر میں ہولناک طوفان نہیں اٹھتے اور مخالفانہ زوردار ہَوائوں سے اسے سابقہ پیش نہیں آتا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو تو طوفان بھی اپنا راستہ بدل لیتے ہیں۔ اور اگر اس کی نظرکرم پھرجائے تو سمندر میں طوفان اٹھتے دیر نہیں لگتی۔ پھر بحری جہاز کی مضبوطی اور ملاحوں کے تمام تر وسائل دھرے رہ جاتے ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھ کر بڑے سے بڑا دہریہ بھی یہ ماننے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ناموافق حالات میں کشتی اور اس کے مسافروں کو بچانے والا ایک اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہوتا۔ لیکن کشتی کی اس صورتحال سے فائدہ صرف وہ اٹھاتے ہیں جن کے اندر دو صفات ہوتی ہیں۔ پہلی صفت یہ کہ وہ صبار ہوں یعنی بہت صبر کرنے والے، کہ چاہے کیسے ہی حالات سے سابقہ پڑے ان کی اسقامت میں کبھی فرق نہ آئے۔ جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کو ہرحال میں موثر اور حقیقی سہارا مانا ہے تو اچھے اور برے حالات میں وہ کبھی اس تصور میں دراڑیں نہ پڑنے دیں۔ اور دوسری صفت یہ کہ وہ شکور ہوں۔ یعنی بہت شکر ادا کرنے والے، کہ جیسے ہی اللہ تعالیٰ کسی نعمت سے نوازے وہ اس کا شکر ادا کریں۔ یا کسی مصیبت سے نکالے تو تب بھی اس کا شکر ادا کریں۔ وہ نمک حرام اور احسان فراموش نہ ہوں بلکہ نعمت کی قدر پہچاننے والے ہوں۔ جن لوگوں میں یہ دو خوبیاں جڑ پکڑ لیتی ہیں وہ زندگی کے سفر میں کبھی صراط مستقیم سے بھٹکنے نہیں پاتے۔ کشتی کے سفر میں غیریقینی صورتحال کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ اگر کشتی رواں دواں ہے اور دور دور تک کسی خطرے کا گمان نہیں تو تب بھی اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کی جائے۔ اور اگر ناموافق ہوا کے چلنے یا طوفان کے حملہ آور ہونے سے جان کے لالے پڑجائیں تو تب بھی نہایت استقامت کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہی سے فریاد کی جائے اور اسی سے امید باندھی جائے۔
Ayah 31:32وَاِذَا غَشِیَھُمْ مَّوْجٌ کَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَـہُ الدِّیْنَ 5 ج فَلَمَّا نَجّٰھُمْ اِلٰی الْـبَرِّ فَمِنْھُمْ مُّقْتَصِدٌ ط وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰـتِنَـآ اِلاَّ کُلُّ خَتَّارٍ کَفُوْرٍ ۔ (لقمان : 32)
(اور جب موجیں سائبانوں کی طرح ان کو ڈھانپ لیتی ہیں تو وہ اللہ کو پکارتے ہیں، اطاعت کو بالکل اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے، پس جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی راہ راست پر رہتا ہے، اور ہماری نشانیوں کا انکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو غدار اور ناشکرا ہے۔ )
مُقْتَصِدٌ … اقتصاد سے اسم فاعل ہے۔ اقتصاد راست روی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور توسط و اعتدال کے معنی میں بھی۔ یہاں اگر راست روی کے معنی میں لیا جائے تو بات زیادہ واضح ہوجاتی ہے اور آیت کا آخری حصہ راست روی ہی کے معنی کو کھول رہا ہے اور یہ بھی اشارہ کر رہا ہے کہ مقتصد کے بعد وَاَکْثَرُھُمْ کٰفِرُوْن یا اس کے ہم معنی الفاظ محذوف ہیں۔
خَتَّارٍ کَفُوْرٍ … یہ الفاظ گزشتہ آیت کے الفاظ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ کے مقابل میں استعمال ہوئے ہیں۔ خَتَّارْ ، خَتَرَ سے مبالغہ ہے۔ اس کے معنی ہیں بےوفائی اور عہدشکنی کرنے والا۔
سابقہ آیت کے اجمال کی تفصیل
یہ آیت دراصل سابقہ آیت کے اجمال کی تفصیل ہے۔ کشتی کے مسافر جب تک کشتی بےخوف و خطر بغیر کسی حادثے کے رواں دواں رہتی ہے تو ان کو کبھی خیال بھی نہیں ہوتا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نہایت محفوظ حالت میں سفر کررہے ہیں۔ اور ہماری کشتی کا چلنا اللہ تعالیٰ کی چلائی ہوئی سازگار ہوا کا کرشمہ ہے۔ بلکہ وہ اسے اپنی ذہانت و فطانت اور اپنے کمال علم کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ لیکن جب دفعتاً کسی گوشے سے طوفانی ہَوائیں نمودار ہوتی ہیں اور سائبانوں کی طرح اس طرح ان پر چھا جاتی ہیں کہ پوری طرح ان کو ڈھانپ لیتی ہیں۔ تب ان کو خدا یاد آتا ہے اور پھر وہ نہایت عاجزی اور لجاجت سے اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہیں، سابقہ گناہوں پر معافی مانگتے ہیں اور آئندہ اطاعت و وفاداری کا عہد کرتے ہیں۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ ان کی دعائوں کو قبول فرما کر کشتی کو بخیریت تمام ساحل پر پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جو اپنے عہدوپیمان پر قائم رہتے ہیں اور راست روی ان کا شیوہ بن جاتا ہے۔ لیکن دوسرے ان کے ہمراہی ان کی اکثریت پھر اپنے کفر اور شرک کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ حالانکہ انھوں نے قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی نشانیاں دیکھی ہیں اور ان کو بچشم سر دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے کہ طوفانوں میں گھرے ہوئے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے بغیر کبھی ساحل مراد تک نہیں پہنچتے۔ لیکن یہ خود ساحل پر پہنچنے کے بعد صاف بغاوت پر اتر آتے ہیں۔ نہ انھیں اپنا عہدوپیمان یاد آتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی کوئی نشانی یاد آتی ہے۔ یہی لوگ ہیں جو بدترین غدار ہیں، نقضِ عہد کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ناشکرے ہیں۔
Ayah 31:33یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّّقُوْا رَبَّـکُمْ وَاخْشَوْا یَوْمًا لاَّ یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِہٖ ز وَلاَ مَوْلُوْدٌ ھُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِہٖ شَیْئًا ط اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ فَلاَ تَغُرَّنَّـکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وقفۃ وَلاَ یَغُرَّنَّـکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ ۔ (لقمان : 33)
(اے لوگو ! اپنے رب کے غضب سے بچو، اور ڈرو اس دن سے جس دن نہ کوئی باپ اپنی اولاد کے کام آئے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کے کام آنے والا بن سکے گا، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے، یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے، اور نہ دھوکہ باز تم کو اللہ کے معاملے میں دھوکہ دینے پائے۔ )
آخری تنبیہ
گزشتہ کئی آیات میں انسان کو اس کے انجام سے باخبر کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس پر ہر طرح کے دلائل قائم کیے گئے ہیں۔ بعض تمثیلات سے بھی کام لیا گیا ہے۔ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے اور آخرت کا بار بار ذکر کرکے اس کا تصور دلوں میں اتارنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پیش نظر آیت میں آخری تنبیہ ہے کہ لوگو ! اپنے رب کی پکڑ سے بچو۔ اور اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا۔ مراد، قیامت اور آخرت کا دن ہے۔ انسان اکثر معاملات میں جب اپنے آپ کو بےبس پاتا ہے تو دوست احباب یا مال و دولت کے ذریعے سے کام نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا۔ سب سے قریبی رشتہ والدین اور اولاد کے درمیان ہے۔ بدتر سے بدتر حالات میں بھی عموماً یہ رشتہ شکست ہونے میں نہیں آتا۔ بڑی سے بڑی مصیبت میں بھی اس رشتے کی حرارت رنگ لائے بغیر نہیں رہتی۔ لیکن قیامت کا دن ایسا ہولناک دن ہے جس میں نہ کوئی باپ اپنی اولاد کے کام آئے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کے کام آسکے گا بلکہ ہر ایک کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔ کتنا قریبی رشتہ بھی اس روز اپنی حیثیت کھو دے گا۔ ظاہر ہے کہ جب اس قدر قریبی تعلق بھی اس دن کام نہ آسکے تو اس کے علاوہ کسی اور کے بارے میں کیا توقع کی جاسکتی ہے۔
اسلوب میں تبدیلی
اس آیت کے اسلوبِ بیان کے حوالے سے ایک بات قابل توجہ ہے وہ یہ کہ باپ کے بیٹے کے کام نہ آسکنے کو تو عام معمول کے مطابق بیان فرمایا، لیکن بیٹے کا باپ کے کام نہ آسکنے کو اس طرح کے اسلوب سے بیان فرمایا ہے جس میں زیادہ تاکید پائی جاتی ہے۔ اس میں مبتداء کا اعادہ کیا گیا ہے اور فعل کی جگہ اسم لایا گیا ہے۔ ان دونوں نے اس جملے میں زور پیدا کردیا ہے۔ یعنی باپ کا بیٹے کے کام نہ آنا بجائے خود حیران کن بات ہے، لیکن بیٹے کا باپ کے کام نہ آنا تو بہت ہی زیادہ حیران کردینے والا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر باپ اپنے بیٹے کے بارے میں یہ تصور رکھتا ہے کہ وہ بڑھاپے میں میری لاٹھی ثابت ہوگا۔ اور دوسری یہ بات کہ بیٹا اپنی عمر اور صلاحیت کے اعتبار سے باپ کے مقابل میں زیادہ اس بات کا اہل ہوتا ہے کہ اپنے کمزور باپ کی مدد کرسکے۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی کہ بیٹے کے اندر جوانی کی وجہ سے فتوت و حمیت کا جذبہ بھی زیادہ قوی ہوتا ہے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود قیامت کا دن ایسا ہولناک دن ہوگا کہ بیٹا بھی اپنے باپ کے کام نہ آسکے گا۔
ایک نکتہ
ایک اور بات پر بھی توجہ رہے کہ سورة عنکبوت اور اس سورة کی آیت 15 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی دعوت کے ابتدائی زمانے میں جب کوئی نوجوان اسلام قبول کرتا تھا تو اس کے بزرگوں کی طرف سے اس پر دبائو ڈالا جاتا تھا اور اپنے باپ ہونے اور اپنی بزرگی کے حوالے سے یہ اصرار کیا جاتا تھا کہ ہر مذہب نے والدین کے حقوق کو تسلیم کیا ہے اور بزرگوں کے احترام پر زور دیا ہے۔ اس لیے تم ہماری بات کو ماننے کے پابند ٹھہرائے گئے ہو، نیز قیامت کے دن ہم تمہارے نیک و بد کی ذمہ داری قبول کریں گے۔ اس آیت کریمہ میں اس کی بھی تردید کی جارہی ہے کہ وہاں کوئی کسی کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا، ہر شخص کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔
تنبیہ پر زور
اپنی تنبیہ میں مزید زور پیدا کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت برپا کرنے اور روزجزاء کے لانے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ بالکل یقینی اور حتمی ہے، اس میں کسی قسم کے تردد کی کوئی گنجائش نہیں۔ تمہیں دنیا کی زندگی سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔ یہ صحیح ہے کہ یہاں اس کے نافرمان اور اس کے ساتھ شرک کرنے والے خوشحال اور طاقتور ہیں اور اصحابِ ایمان نہایت ابتر زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں باطل کو مہلت ملی ہوئی ہے، اہل باطل سربلند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلنے والے نہایت دگرگوں حالات کا سامنا کررہے ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھ کر بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر جزاء و سزا کا قانون حتمی ہے تو پھر یہاں صورتحال برعکس کیوں ہے ؟ اس لیے فرمایا جارہا ہے کہ اس دنیا کا نظام مجازات کے اصول پر قائم نہیں۔ اس لیے تمہیں اس سے غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ دنیا دارالامتحان ہے اور اس متحان کے نتائج کے ظہور کا دن آگے آنے والا ہے۔
اسی طرح تمہیں کوئی دھوکے باز اللہ تعالیٰ کے بارے میں دھوکہ نہ دے سکے اور وہ تمہیں یہ باور کرانے میں کامیاب نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا بےمقصد بنا ڈالی ہے اور وہ اس کے خیر و شر سے بالکل بےتعلق ہو کر الگ بیٹھا ہوا ہے۔ وہ ضرور قیامت کا دن لائے گا۔ اس روز نیک اعمال کا بدلہ نعمتوں کی صورت میں ملے گا اور برے اعمال کا بدلہ عذاب کی صورت میں ملے گا۔ غرور سے یہاں فریبِ نظر بھی مراد لیا جاسکتا ہے اور شیطان بھی۔ بیشتر اہل علم نے اس سے شیطان ہی مراد لیا ہے اور قرائن کے اعتبار سے یہ زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اور شیطان انسان کو کیسے کیسے فریب میں مبتلا کرتا ہے، اس کی سو نوعیتیں اور سو رنگ ہیں۔ کسی کو ہوس زر میں مبتلا کرکے محرومیوں کا ہوا دکھا کر عجیب و غریب خیالات میں الجھا دیتا ہے۔ کسی کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے بارے میں ایسے ایسے شبہات کی نذر کردیتا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ کسی کے ذہن میں تقدیر کا غلط تصور بٹھا کر کبھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی پیدا کرتا ہے اور کبھی آخرت کو فریب قرار دیتا ہے۔ ان تمام باتوں سے روکتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ حیات دنیا بھی تمہیں بہکانے نہ پائے اور کوئی دھوکے باز چاہے وہ شیطان ہو یا تمہارا اپنا نفس یا انسانوں کا کوئی گروہ تمہیں بدراہ نہ کرنے پائے۔ اسی میں تمہارے لیے عافیت ہے۔
Ayah 31:34اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ ج وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ ج وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ ط وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَـکْسِبُ غَدًا ط وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ م بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۔ (لقمان : 34)
(بےشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، اور وہی بارش اتارتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ رحموں میں پلتا ہے اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ وہ کس زمین میں
مرے گا، بیشک اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔ )
یہ آیت درحقیقت ایک سوال کا جواب ہے۔ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ کبھی جواب سے پہلے سوال کا بھی ذکر کردیتا ہے اور کبھی سوال کا ذکر کیے بغیر جواب دیتا ہے۔ اور سننے والوں کے ذہن میں چونکہ سوال موجود ہوتا ہے اس لیے وہ سمجھ جاتے ہیں کہ کس سوال کا جواب دیا جارہا ہے۔
ایک سوال کا جواب
مخالفین کو جب قیامت سے ڈرایا جاتا تو وہ فوراً یہ سوال کرتے کہ جس قیامت سے ہمیں ڈرایا جارہا ہے آخر وہ کب آئے گی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف ڈراوا ہے اس کی حقیقت کوئی نہیں۔ اور اگر واقعی اسے آنا ہے تو پھر ہمیں بتادیا جائے کہ اس کے آنے کا وقت کون سا ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ قیامت کے آنے کا ٹھیک وقت صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔ اس گھڑی کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی اور کو نہیں دیا۔ قرآن کریم نے متعدد مواقع پر سوال کرنے والوں کو یہی جواب دیا ہے۔ حدیثِ جبرائیل میں حضرت جبرائیل کے پوچھنے پر کہ قیامت کب آئے گی آپ کا جو جواب منقول ہے اس کا حاصل بھی یہی ہے۔ آپ نے فرمایا تھا کہ جس سے سوال کیا جارہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ یعنی نہ میں اس کا وقت جانتا ہوں نہ اے جبرائیل آپ اس کا وقت جانتے ہیں۔ البتہ اس کی علامات بتائی گئی ہیں اور آنحضرت ﷺ نے مختلف مواقع پر ان علامات کا ذکر فرمایا ہے تاکہ امت اپنے اندر ان علامات کو پیدا نہ ہونے دے تاکہ وہ قیامت کی ہولناکی سے محفوظ رہے۔ اور اگر وہ دیکھے کہ گردوپیش میں وہ علامتیں ظاہر ہونے لگی ہیں تو اپنے اعمال کا جائزہ لے کر قیامت کی تیاری کرے۔ اس کے بعد مزید چار چیزوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ وہ چار چیزیں درحقیقت پہلی بات کی دلیل ہیں۔ یعنی اگر قیامت کے وقوع کا ٹھیک علم انسانوں کو نہیں دیا گیا تو یہ کوئی ایسی غیرمعمولی بات نہیں۔ اور اس سے قیامت کی حقیقت کی نفی نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ زندگی میں کتنی ایسی حقیقتیں ہیں جن کے وقت اور ان کی نوعیت کا کسی کو علم نہیں ہوتا۔ لیکن کوئی عقلمند آدمی ان حقائق کا انکار نہیں کرتا۔ پھر اس کے ثبوت میں چار ایسی باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جن کے ساتھ انسان کی ہمیشہ سے دلچسپیاں رہی ہیں۔ اب اگر ان دلچسپیوں والی چیزوں کا بھی حتمی علم انسان کو نہیں ہوتا تو پھر یہ کیونکر ضروری ہے کہ ساری دنیا کے انجام کے وقت کا علم انسانوں کو ضرور دیا جائے۔
چار چیزوں سے استشہاد
ان چار چیزوں میں سے پہلی چیز بارش ہے، جس پر انسان کی خوشحالی اور بدحالی کا انحصار ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انسان اس کے متعلق صرف اندازے لگا سکتا ہے اس کا حقیقی علم اس کے پاس نہیں۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی اس بات کو جانتا ہے کہ کب اور کہاں اور کتنی مقدار میں بارش ہوگی۔ اور کون سی زمین اس سے فائدہ اٹھائے گی اور کون سی محروم رہے گی۔ محکمہ موسمیات نے اس معاملے میں بہت ترقی کی ہے، لیکن اس کی پیشگوئیاں ظن وتخمین سے کبھی آگے نہیں بڑھ سکیں۔ اور اس کا علم تو کبھی کسی کو نہیں ہوتا کہ بارش رحمت ثابت ہوگی یا زحمت بنے گی، بارش کی مقدار کتنی ہوگی اور اس کے بارے میں کتنی تفصیلات ہیں جس سے انسان آج بھی ناواقف ہے۔
دوسری چیز مَا فِی الْاَرْحَامِہے۔ اس کا تعلق تو انسان کی بقائے نسل سے ہے، لیکن اس کے بارے میں بھی انسان بہت کم جان سکا ہے۔ انسان نہیں جانتا کہ عورت کے پیٹ میں پلنے والی چیز کیا ہے، وہ کس شکل میں ظاہر ہوگی، وہ اپنے ساتھ سعادت لے کے آئے گی یا شقاوت، زندہ پیدا ہوگی یا مردہ، زندگی دراز ہوگی یا محدود، وہ نیکیوں کی حامل ہوگی یا برائیوں کی، یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
تیسری چیز… کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کو کیا کمائی کرے گا، کیا فرائض انجام دے گا اور کن حالات و مشاغل میں اس کی زندگی گزرے گی۔ انسان کیسی کیسی منصوبہ بندیاں کرتا ہے، کیسے کیسے پروگرام بناتا ہے۔ لیکن اسے کچھ خبر نہیں ہوتی کہ کون سی افتاد اس کے تعاقب میں ہے۔ اچانک ایک حادثہ اس کی تقدیر بدل دیتا ہے اور اس کے وقوع سے ایک منٹ پہلے تک کسی کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ افراد بھی اس صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں اور قومیں اور حکومتیں بھی۔ اچانک زلزلہ آتا ہے سب ترقیاتی کام دھرے رہ جاتے ہیں۔ اشیائے خوردنی کی مقدار کے پہلے سے تخمینے تیار ہوتے ہیں لیکن کسی بھی بلائے ناگہانی کا نزول سب تخمینے ختم کرکے رکھ دیتا ہے۔
انسان کی زندگی کے لیے موت کا معاملہ سب سے اہم حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن آج تک انسان اتنی اہم حقیقت کے بارے میں بالکل بیخبر ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کی موت کب آئے گی اور کس سرزمین میں وہ مرے گا اور کہاں دفن ہوگا۔ جنگوں سے لوگ خیریت سے واپس آجاتے ہیں اور گھروں میں بیٹھے لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ ایک جوانِ رعنا راہ چلتے ہوئے موت کا شکار ہوجاتا ہے۔ بڑے بڑے حکمران حفاظت کے حصار میں چلتے ہیں لیکن موت کا ایک وار انھیں ہمیشہ کے لیے سلا دیتا ہے۔ کینیڈی، انور سادات، اندراگاندھی، شاہ فیصل، صدر ضیاء الحق اور ایسے ہی کتنے بڑے لوگ ہیں جو سرکاری دورے پر نکلے یا فوجوں کی سلامی لیتے ہوئے یا گھر بیٹھے موت کا شکار ہوگئے۔ حالانکہ ان کی حفاظت کے اسباب اور ان کی زندگیوں کے زائچے بنانے والے اہل علم اور قدم قدم پر ان کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹر کبھی نہیں بتاسکے کہ موت آپ کے سر پر پہنچ چکی ہے۔ اور فلاں سرزمین پر آپ کو موت آئے گی۔ یہ چار چیزیں جن سے انسان کا سب سے قریبی تعلق ہے اور یہ سب سے زیادہ واضح حقیقتیں ہیں اور یہ زندگی کے وہ حقائق ہیں جن کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اگر آج تک انسان ان کے بارے میں مکمل طور پر باخبر نہیں ہوسکا تو قیامت کے وقت سے باخبر ہونا اس کے لیے کیوں ضروری ہے۔
امورِغیب یہی پانچ ہی نہیں اور بھی ہیں
اس آیت کی تشریح کے ضمن میں یہ بات ذہن میں رہے کہ اس آیت میں پانچ باتوں کا ذکر کیا گیا ہے، امورِغیب ان ہی میں منحصر نہیں۔ یہ تو وہ پانچ باتیں ہیں جن کا انسان سے نہایت گہرا اور قریبی تعلق ہے اس لیے ان کا ذکر کردیا گیا ہے۔ ورنہ امورغیب تو بیشمار ہیں جن کے بارے میں سورة نمل میں ارشاد فرمایا گیا قُل لَّایَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلاَّاللّٰہُ ” کہہ دیجیے زمین و آسمان میں جتنے بھی غیبی معاملات ہیں انھیں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ “ اس آیت کریمہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مطلق علم غیب اللہ تعالیٰ کی خصوصیت ہے اور اس کا استقصاء ممکن نہیں۔ البتہ متذکرہ بالا آیت کریمہ میں جن پانچ چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے ساتھ ایسا مخصوص فرمایا ہے کہ بطور انبائِ غیب کے بھی کسی کو ان کا علم نہیں دیا گیا۔ اس کے علاوہ دوسری مغیبات کا علم بہت کچھ انبیائے (علیہم السلام) کو بذریعہ وحی دے دیا جاتا ہے۔ لیکن اس پر بعض لوگوں نے اشکال کیا ہے کہ امت کے بہت سے اولیاء اللہ سے ایسے بیشمار واقعات منقول ہیں کہ انھوں نے کہیں بارش کی خبر دے دی یا کسی حمل کے متعلق بتلا دیا، بعض دفعہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی اطلاع دے دی، کبھی ایسا بھی ہوا کہ کسی کے مرنے کی جگہ متعین کرکے بتلادی اور پھر یہ پیشگوئیاں مشاہدے سے صحیح بھی ثابت ہوگئیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ علم غیب دراصل اس علم کو کہا جاتا ہے جو سبب طبعی کے واسطہ سے نہ ہو، بلاواسطہ خودبخود ہو۔ یہ چیزیں انبیائے (علیہم السلام) کو بذریعہ وحی اور اولیاء کو بذریعہ الہام یا بعض اہل علم کو حسابات اور اسبابِ طبعیہ کے ذریعے حاصل ہوجائیں تو وہ علم غیب نہیں بلکہ انبائِ الغیب ہیں جو کسی جزوی یا شخصی معاملہ میں کسی مخلوق کو حاصل ہوجانا آیت مذکورہ کے منافی نہیں۔ کیونکہ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ ان پانچ چیزوں کا کلی علم جو تمام مخلوقات اور تمام حالات پر حاوی ہو، وہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو بذریعہ وحی یا الہام نہیں دیا۔ کوئی ایک آدھ واقعہ میں کوئی جزوی علم بذریعہ الہام حاصل ہوجانا اس کے منافی نہیں ہے۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی ہے کہ اس علم سے مراد علم قطعی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔ الہام کے ذریعے علم جو کسی ولی کو حاصل ہوتا ہے وہ قطعی نہیں ہوتا، اس میں مغالطوں کے بہت احتمالات رہتے ہیں۔ اور نجومیوں وغیرہ کی خبروں میں تو روز مرہ مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ دس جھوٹ میں ایک صحیح کا بھی تناسب نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم۔