Ayahs 30:1–5الٓـمّٓ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ ۔ فِیْٓ اَدْنَی الْاَرْضِ وَھُمْ مِّنْ م بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوْنَ ۔ فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ 5 ط لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ م بَعْدُ ط وَیَوْمَئِذٍیَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ بِنَصْرِاللّٰہِ ط یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآئُ ط وَھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (الروم : 1 تا 5)
(ال م۔ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے۔ اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد عنقریب وہ غالب آجائیں گے۔ چند سالوں میں، اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس وقت اہل ایمان مسرور ہوں گے۔ اللہ کی مدد سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے۔ )
گزشتہ سورة سے ربط
سُوْرَۃُ الْعَنْکَبُوْتِ کا مرکزی مضمون جس پر اس سورة کو ختم کیا گیا ہے وہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ اپنے راستے پر چلنے والوں کو مصائب میں ڈال کر امتحان تو ضرور لیتا ہے لیکن جب وہ اس امتحان میں کامیاب اترتے ہیں تو پھر ان کو نوازتا بھی خوب ہے۔ اور جہاں تک مخالفین کا تعلق ہے وہ اہل ایمان کی بےکسی اور بےبسی کو دیکھ کر مذاق اڑاتے ہیں۔ انھیں بار بار تنبیہ کی گئی ہے کہ یہی لوگ مستقبل کے امین ہیں۔ اللہ تعالیٰ زمین پر انھیں سرفرازی عطا فرمانے والا ہے۔ تم ان کی بےسروسامانی کو دیکھ کر حد سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو ورنہ وہ وقت دور نہیں جب تم ہزیمت سے دوچار کردیے جاؤ گے۔ لیکن عجیب بات یہ ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان حقائق کا نزول ہورہا تھا تو جزیرہ عرب کے ہمسائے میں رومیوں اور ایرانیوں کے درمیان جنگ جاری تھی۔ ایرانی جو آتش پرست ہونے کی وجہ سے مشرکینِ عرب کے قریب تھے وہ مسلسل فتوحات حاصل کرتے جارہے تھے۔ حتیٰ کہ عرب کی قریبی سرزمین یعنی شرق اردن، شام اور فلسطین پر انھوں نے قبضہ کرلیا۔ تو مشرکینِ عرب خصوصاً اہل مکہ نے بغلیں بجانا شروع کردیں اور مسلمانوں سے کہنے لگے کہ تم جو ہمیشہ یہ کہتے رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے ماننے والوں کو سرفراز کرتا ہے اور شرک کرنے والوں کو ناکام کرتا ہے۔ آج ایران و روم کی جنگ میں تمہارے سامنے جو منظر واضح ہوتا جارہا ہے وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ آتش پرست فتح یاب ہورہے ہیں۔ اور جو لوگ تمہاری طرح آسمانی مذہب کے داعی، وحیِ الٰہی کے نام لیوا، نبوت اور کتاب پر ایمان رکھنے والے اور آخرت پر یقین رکھنے والے ہیں وہ مسلسل شکست پر شکست کھاتے چلے جارہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں جو کچھ بتایا جاتا رہا ہے وہ سراسر بہلاوا ہے، حقیقت وہ ہے جو ہمیں ایران اور روم کی آویزش میں نظر آرہی ہے۔ مسلمان جو پہلے ہی اذیت رسانیوں کے باعث حددرجہ آزردہ تھے رومیوں کی شکست سے اور زیادہ آزردہ ہوگئے۔ ایک تو وہ اپنی طرح انھیں توحید، نبوت اور آخرت پر ایمان رکھنے کے باعث اپنے قریب سمجھتے تھے۔ اور دوسرا اس لیے بھی کہ ابھی تک اسلام کی دعوت ان تک نہیں پہنچی تھی، لیکن وہ پہلی آسمانی کتابوں کے ماننے والے تھے اس لحاظ سے وہ کافر نہیں کہے جاسکتے تھے۔ البتہ یہود کو کافر کہا جاسکتا تھا کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کرنے کی وجہ سے کفر کا ارتکاب کرچکے تھے۔ اس لحاظ سے مسلمانوں کے لیے رومیوں کی شکست اپنی شکست محسوس ہوتی تھی۔ اور اہل مکہ ایرانیوں کی فتح کو اپنی فتح قرار دے رہے تھے۔ پیش نظر آیات کے نزول نے مسلمانوں کے لیے حوصلے کا سامان کیا۔ اور کفار کے لیے ایک ایسی صورتحال پیدا کردی جو ان کے لیے لمحہ فکریہ بھی تھی اور اگر قرآن کریم کی پیشگوئی پوری ہوجاتی ہے تو ایک طرح سے ان کے لیے موت کا درجہ رکھتی تھی۔ صاف صاف ارشاد فرمایا کہ تمہاری قریبی سرزمین یعنی شرق اردن، شام اور فلسطین میں رومی مغلوب ہوگئے ہیں۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے چھپایا نہیں جاسکتا۔ لیکن تمہیں آگاہ رہنا چاہیے کہ یہ مغلوبیت زیادہ دنوں تک نہیں چلے گی، وہ عنقریب اپنی شکست سے زخمی شیر کی طرح اٹھیں گے اور چند ہی سالوں میں نہ صرف اپنے مقبوضات واپس لے لیں گے بلکہ ایران کی کمر توڑ کر رکھ دیں گے۔
بِضْعِ سِنِیْنَ کا مفہوم
قرآن کریم کا عمومی اسلوب یہ ہے کہ پروردگار اپنی پیشین گوئی کو کبھی متعین انداز میں پیش نہیں فرماتے۔ لیکن اس آیت کریمہ میں فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ فرما کر پیشین گوئی کے وقت کو متعین فرما دیا ہے۔ کیونکہ بِضْعِ کے لفظ کا اطلاق دس سے کم کم پر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مفتوح قومیں اپنی شکست کو فتح میں بدلنے کے لیے پر عزم بھی ہوں جب بھی اس کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔ لیکن رومی دس سال سے کم عرصہ میں نہ صرف اپنی شکست کا داغ دھو ڈالیں گے بلکہ ایران کے سب سے بڑے آتش کدہ اور دارالسلطنت کو تباہ و برباد کردیں گے۔
مسلمانوں کو چونکہ قرآن کریم کے ایک ایک حرف پر یقین تھا اس لیے حضرت صدیق اکبر ( رض) نے ابی ابن خلف کی طرف سے اس شرط کو قبول کرلیا کہ اگر قرآن کریم کی دی ہوئی خبر دس سال سے کم عرصہ میں پوری نہ ہوئی تو حضرت صدیق اکبر ( رض) اسے ایک سو اونٹ ادا کریں گے۔ اور اگر یہ خبر صحیح ثابت ہوئی تو ابی کو سو اونٹ ادا کرنے ہوں گے۔ ہم تعارف میں یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ اس خبر کے وقوع پذیر ہونے پر حضرت صدیق اکبر ( رض) نے ابی کے وارثوں سے سو اونٹ وصول کیے اور آنحضرت ﷺ کی ہدایت کے مطابق انھیں صدقہ کردیا گیا کیونکہ اس وقت قمار کی حرمت نازل ہوچکی تھی۔ حربی کافروں سے مال تو لیا جاسکتا ہے لیکن استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
اس پیشگوئی کے وقت کے تعین کے ساتھ اس کی اہمیت بہت بڑھ گئی۔ مسلمانوں کے لیے یہ بات کہنا آسان ہوگیا کہ تم ایرانیوں کی فتح پر بغلیں بجا رہے ہو، بس چند سالوں کی بات ہے حقیقت تمہارے سامنے کھل کر آجائے گی۔ اور ایک طرح سے مسلمانوں کی تبلیغ و دعوت کے لیے ایک بہت بڑی دلیل بھی ہاتھ آگئی کہ تم ہمیشہ نشانیاں طلب کرتے ہو قوموں میں انقلاب سے بڑھ کر کون سی نشانی ہوسکتی ہے۔ دس سال کا عرصہ قوموں کی زندگی میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ تم دیکھو گے اگلی دہائی شروع ہونے سے پہلے تمہارے ہم مذہب شکست کھاچکے ہوں گے۔ اور آنحضرت ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب اپنی صداقت منوا چکی ہوگی۔ اس طرح سے آنحضرت ﷺ کی نبوت پر ایک ایسی قطعی دلیل قائم ہوجائے گی جس سے انکار کرنا کسی عقل دشمن کے سوا کسی اور کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔
ایک حقیقت کا انکشاف
اس کے بعد مزید ایک حقیقت منکشف فرمائی گئی ہے۔ وہ یہ کہ اس زمین پر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم اس کے مصالح اور حکمتوں سے آگاہ نہیں ہوسکتے۔ لیکن روم و ایران کی جنگ نے اس حقیقت کو واضح کردیا ہے کہ قوموں کی زندگی میں اتنے بڑے بڑے انقلابات محض اتفاقاتِ زمانہ اور گردش روزگار سے پیش نہیں آتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے پیش آتے ہیں۔
اس کے بعد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ رومیوں کو فتح عطا فرمائے گا تو مسلمان اللہ تعالیٰ کی اس نصرت پر خوشیاں منائیں گے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ مسلمانوں کو چونکہ کسی حد تک رومیوں سے اپنائت کا تعلق ہے اس لیے جب آتش پرستوں پر انھیں فتح نصیب ہوگی تو قرآن کریم کی پیشین گوئی کے پورا ہونے اور رومیوں کے فتح یاب ہونے پر مسلمان خوشی منائیں گے۔ اور دوسرا مطلب ایک اور ہے جس کی طرف دھیان شاید اس وقت نہ جاسکا ہو جب یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں۔ لیکن جب رومیوں کو فتح ہوئی ہے تب معلوم ہوا کہ اس فتح میں ایک اور فتح بھی شامل تھی۔ کیونکہ ابن عباس، ابوسعید خدری، سفیانِ ثوری ( رض) وغیرہ کا بیان ہے کہ ایرانیوں پر رومیوں کی فتح اور جنگ بدر میں مشرکین پر مسلمانوں کی فتح کا زمانہ ایک ہی تھا۔ اس لیے مسلمانوں کو دہری خوشی ہوئی۔ یہ بات ایران اور روم کی تاریخوں سے بھی ثابت ہے۔ کیونکہ 624 ء وہ سال ہے جس میں جنگ بدر ہوئی ہے اور یہی وہ سال ہے جس میں قیصرروم نے زرتشت کا مولد تباہ کیا ہے۔ اور ایران کے سب سے بڑے آتش کدہ کو مسمار کردیا ہے۔
بِنَصْرِاللّٰہِ کا مفہوم
بِنَصْرِاللّٰہِ … اس کا تعلق سَیَغْلِبُوْنَ سے بھی ہوسکتا ہے اور یَفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ سے بھی۔ مطلب یہ ہے کہ رومیوں کے مغلوب ہونے کے بعد اب عنقریب جو غلبہ ملنے والا ہے اس کا حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید ہوگا۔ اس نے رومیوں کو ایرانیوں سے پٹوا کر انھیں بیدار ہونے کا موقع دیا ہے۔ اور اب ان کی نصرت فرما کر انھیں سنبھلنے کا موقع بھی دے گا اور مزید امتحان میں بھی ڈالے گا۔ اسی طرح مسلمان آج جبکہ ادھیڑے کھدیڑے جارہے ہیں رومیوں کے غلبے کے دن خوش ہوں گے۔ لیکن یہ خوشی صرف رومیوں کے غلبے کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ اس کا حقیقی سبب بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد ہوگی، جس کے نتیجے میں جنگ بدر کی صورت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو قریش کی خونخوار قوت پر غیرمتوقع طور پر واضح غلبہ عطا فرمائے گا۔ ایک طرف رومیوں کا غالب آنا مسلمانوں کے لیے اس وجہ سے خوشی کا باعث ہوگا کہ قریش ایرانیوں کے غلبے کو اپنے برسرحق ہونے کی دلیل سمجھتے تھے اور اس دلیل کے شکست ہوجانے سے مسلمانوں کو نظریاتی طور پر سپورٹ ملے گی۔ اب قریش کے ساتھ حق و باطل کے پہلے معرکے میں مسلمانوں کی واضح فتح ان کے لیے رومیوں کے غلبے سے بڑھ کر خوشی کا باعث ہوگی۔ کیونکہ اس سے یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ حقیقی قوت اللہ تعالیٰ ہی کی قوت ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے فتح عطا فرماتا ہے۔ لیکن اس کی مشیت چونکہ حق و عدل پر مبنی ہے اس لیے وہ ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس کے عدل و حکمت کی رو سے اس کی مدد کے سزاوار ہوتے ہیں۔ عزیزورحیم کا حوالہ شاید اسی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔
Ayah 30:6وَعْدَاللّٰہِ ط لاَ یُخْلِفُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الروم : 6)
(یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اور اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے۔ )
وَعْدَاللّٰہِ …یہ مفعول مطلق ہے، اس کا عامل محذوف ہے۔ تقدیرِکلام یوں ہے وَعَدَاللّٰہُ وَعْدًا اس کا مقصد وعدے کو مؤکد کرنا ہے۔ ایرانیوں کے غیرمعمولی غلبے اور رومیوں کی ذلت ناک پسپائی کو دیکھتے ہوئے کوئی شخص تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ اب رومی دوبارہ اٹھ سکیں گے۔ بلکہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اب رومی سلطنت چند دنوں کی مہمان ہے۔ لیکن توقع اور حالات کے بالکل برعکس قرآن کریم کی پیشگوئی ظاہر بین دماغوں کے لیے ایک انہونی بات تھی۔ اسی وجہ سے کفار کو مزید مذاق اڑانے کا موقع مل گیا۔ پروردگار نے اس پیشگوئی کو مؤکد کرنے کے لیے اسے وعدے سے تعبیر فرمایا۔ اور ساتھ ہی یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ وعدے کی خلاف ورزی کبھی نہیں کیا کرتا۔ لیکن اکثر لوگ چونکہ اس حقیقت سے آگاہ نہیں اس لیے وہ اسے معمولی بات سمجھتے ہیں۔ اور ساتھ ہی اشارہ اس بات کی طرف بھی فرمایا کہ ہر فیصلے کے پیچھے اللہ تعالیٰ کا مخفی ہاتھ کام کرتا ہے۔ جو لوگ اس مخفی ہاتھ پر یقین نہیں رکھتے ان کے لیے ایسے حقائق کو تسلیم کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن اب یہ سب کچھ کھل کر ان کی نگاہوں کے سامنے آجائے گا۔
Ayah 30:7یَعْلَمُوْنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا صلے ج وَھُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ھُمْ غٰفِلُوْنَ ۔ (الروم : 7)
(وہ لوگ دنیا کی زندگی کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ بالکل غافل ہیں۔ )
انسان کی کو تاہی فکر
اوپر کی آیات سے ہر غور کرنے والے پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ انسان ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے اندازے بھی لگاتا ہے اور نتائج بھی اخذ کرتا ہے۔ اور بعض دفعہ اسی بنیاد پر اصول بھی وضع کرتا ہے۔ لیکن اسے کبھی اس بات کا خیال نہیں آتا کہ میں جن ظاہری اسباب پر اپنے خیالات کی بنیاد رکھ رہا ہوں، کہیں ایسا تو نہیں کہ ان ظاہری حالات کے پیچھے کوئی اور قوت بھی کارفرما ہو جسے میری نگاہیں دیکھ نہیں پاتیں۔ اوپر کی آیات نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اگر ظاہری حالات ہی حقیقی اسباب کا درجہ رکھتے اور وہی انقلاب کا باعث ہوتے ہیں تو پھر ایرانیوں کے مقابلے میں رومیوں کے دوبارہ اٹھنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ ان کے ظاہری حالات میں اس بات کی کوئی گنجائش نہ تھی کہ ایرانی اپنی تمام تر فتوحات کے باوجود دوبارہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور رومی ہولناک تباہی اور ذلت کی راکھ سے پھر زندہ ہو کر اٹھیں گے۔ اس لیے جب قرآن کریم نے ان کے دوبارہ غالب آنے کی خبر دی تو ظاہر بین نگاہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ لیکن حالات نے ثابت کردیا کہ ظاہر کے پردے میں کوئی اور قوت بھی کارفرما ہے جو درحقیقت ہر طرح کی تبدیلی پر قادر ہے۔
انسان کی یہ کمزوری صرف یہیں تک محدود نہیں کہ وہ ظاہری حالات سے نتائج اخذ کرتا ہے بلکہ اس کی بےبصیرتی اور بیخبر ی کا عالم یہ ہے کہ جو حقائق اس کی نظروں سے اوجھل ہیں وہ اسے ماننے سے انکار کردیتا ہے۔ وہ ہر بات کو یا تو حواس سے جانچ کر مانتا ہے اور یا عقل کے ترازو میں تول کر تسلیم کرتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ایسے لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ کیونکہ نہ ان کے حواس قیامت کو محسوس کرتے ہیں اور نہ ان کی عقل قیامت کا ادراک کرسکتی ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ وہ قیامت اور آخرت کا انکار کردیتے ہیں۔ حالانکہ گزشتہ آیات میں ایرانیوں اور رومیوں کی جنگ کا جو نتیجہ ہم دیکھ چکے ہیں اگر اسی میں تدبر سے کام لیا جائے تو یہ باور کیے بغیر چارہ نہیں کہ اگر ہمارے ہوش و خرد کے پیمانے ہی حقائق کے معاملے میں فیصلہ کن ہوتے تو ہم وہ صورتحال نہ دیکھتے جو دیکھ چکے ہیں۔ اسی سے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ زندگی صرف یہی نہیں جو ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ اور موت کا بھی صرف وہی تصور نہیں جو ہم سمجھتے ہیں۔ بلکہ اس میں ہمیں ان تصورات کو قبول کرنا پڑے گا جو اللہ تعالیٰ کے رسول لے کر آئے۔ کیونکہ انھیں مانے بغیر ان حقائق کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں جن کی طرف گزشتہ آیات نے اشارے کیے ہیں۔
آیت کا ایک اور پہلو سے مفہوم
اس آیت کو ایک اور پہلو سے دیکھیں تو ایک اور حقیقت کی طرف بھی رہنمائی ملتی ہے، وہ یہ کہ اہل دنیا عموماً حیاتِ دنیا کے ظاہر پر نظریں جمائے رکھتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اچھی غذا، اچھا لباس، اچھی رہائش، اچھی سواری انسان کا مطلوب ٹھہرتی ہیں۔ پھر ان ہی چیزوں میں قدم آگے بڑھتا ہے تو تکلفات کی دنیا شروع ہوجاتی ہے اور بنیادی ضرورتوں کو آدمی بہتر سے بہتر طریقے سے حاصل کرنے اور استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور جب اس میں غلو کا شکار ہوتا ہے تو یہی ضروریات تکلفات سے آگے بڑھ کر تعیشات کا درجہ حاصل کرلیتی ہیں اور پھر مقاصدِ زندگی میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ اس حالت کو پہنچ کر انسان ان ضروریات کا حصول زندہ رہنے کے لیے نہیں کرتا بلکہ زندگی کو اس کا خادم بنا دیتا ہے۔ اس کی ساری زندگی اور اس کی بہترین صلاحیتیں ان ہی چیزوں کو بہتر سے بہتر شکل دینے میں صرف ہوجاتی ہیں۔ علم جس کا مقصد معرفتِ حق اور معرفتِ حقائق سمجھا جاتا تھا اسے بھی انسان اس لیے حاصل کرتا ہے تاکہ بہتر سے بہتر ملازمت حاصل کرسکے یا کاروبار کو زیادہ سے زیادہ ترقی دے سکے۔ اور پھر یہ دھن اس پر اس طرح سوار ہوتی ہے کہ اس کی زندگی کا جغرافیہ مطبخ اور بیت الخلاء میں گھر کر رہ جاتا ہے۔ اور اس کی زندگی کا طواف صرف ایک مطاف کے گرد جاری رہتا ہے جسے معدہ کہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ انسان ہوتے ہوئے بھی ساری زندگی حیوانیت کی نمود و پرداخت اور زیبائش و آرائش میں صرف کردیتا ہے۔ قرآن کریم نے ایسے ہی لوگوں کی تصویرکشی کرتے ہوئے فرمایا وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَیَاکُلُوْنَ کَمَاتَاْکُلُ الْاَنْعَامُ ” اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ زندگی کا لطف اٹھانے میں لگے رہتے ہیں اور اس طرح کھانے میں مصروف رہتے ہیں جیسے چارپائے کھاتے ہوں۔ “ دوسری جگہ ارشاد فرمایا ذَرْھُمْ یَاکُلُوْا وَیَتَمَتَّعُوْا وَیُلْھِھُمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ” چھوڑ دو انھیں کہ کھاتے رہیں اور زندگی سے لطف اٹھاتے رہیں اور آرزوئیں انھیں بہلاتی رہیں، عنقریب جان لیں گے۔ “ ایسے لوگ چونکہ حیوانی زندگی کے رسیا ہو کر انسانی احساسات اور اخلاقی تصورات سے بےبہرہ ہوجاتے ہیں اور ان کا ہدف زیادہ سے زیادہ انسانی ضروریات کو حاصل کرنے تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ تو وہ کبھی اس بات پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے اور موت کس چیز کا نام ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے زندگی کی جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور ہوش و خرد سے نوازا ہے اور عمل کی فی الجملہ آزادی بخشی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اخلاقی حسیات سے بھی نوازا ہے اور ہم اپنی زندگی کے تجربے میں عمل اور ردعمل کو قدم قدم پر بروئے کار آتے ہوئے دیکھتے ہیں اور اچھائی اور برائی کا بھی ایک تصور ہمارے ذہنوں میں موجود ہے اور یہ احساس بھی تقریباً ہر انسان میں پایا جاتا ہے کہ نیکی کی جزاء اور برائی کی سزا ملنی چاہیے۔ تو کیا ان تصورات کا خودبخود یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ انسانی زندگی کے خاتمے کے بعد ایک ایسا دن آنا چاہیے جس دن انسانی زندگی کے اعمال کا جائزہ لیا جائے، اس کے اچھے اعمال کی جزاء دی جائے اور برے اعمال کی سزا دی جائے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان تمام تصورات کے ہوتے ہوئے بھی انسان کی غفلت اور ہَوائے نفس کا دبائو اتنا شدید ہے کہ انسان ہمیشہ آخرت سے غافل رہتا ہے۔ یہی حال قریش اور دیگر مشرکینِ مکہ کا ہے۔ وہ دنیا کے عیش کے لیے ہر بات کو سمجھتے اور ہر محنت کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اس کے لیے کیسی بھی مشقت اٹھانی پڑے انھیں کبھی اس سے انکار نہیں۔ لیکن آخرت میں جواب دہی کا تصور چونکہ ان کے دل و دماغ کی آواز نہیں اس لیے غفلت ان پر غالب رہتی ہے۔ اور یہی ان کی زندگی کا حادثہ ہے جس نے انھیں تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔
Ayah 30:8اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ قف مَاخَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَـھُمَآ اِلاَّ بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسْمًّیط وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَـآیِٔ رَبِّہِمْ لَـکٰفِرُوْنَ ۔ (الروم : 8)
(کیا انھوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا، اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے صرف حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ایک مدت مقرر کے ساتھ، اور بیشک لوگوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔ )
انسان کو تفکر کی دعوت
انسان کا یہ طرزفکر کہ وہ دنیا ہی کو انسانی تگ و تاز کا اصل میدان اور اسی میں زیادہ سے زیادہ ترقی کو مقصدزندگی سمجھتا ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے دل و دماغ میں آخرت کا تصور جگہ نہیں بنا پاتا۔ انسان کو اس فکری گمراہی اور عملی کوتاہی سے نکالنے کے لیے پیش نظر آیت کریمہ میں انسانوں کو تفکر و تدبر کی دعوت دی گئی ہے کہ اگر انسان باہر کی دنیا میں غور و فکر سے پہلے اپنے من کی دنیا میں اتر کر دیکھتا تو اس پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان میں سے کسی چیز کو بھی بےغایت و مقصد محض کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں فرمایا بلکہ ہر چیز ایک غایت و مقصد رکھتی ہے اور اسے ایک مقررہ مدت کے لیے پیدا فرمایا گیا ہے۔ انسان جیسے جیسے کائنات کی ایک ایک چیز پر غور و فکر کرتا ہے تو اس پر یہ حقیقت پوری طرح کھلتی چلی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب اس کائنات کی ہر چیز اپنے اندر ایک غایت و حکمت رکھتی ہے اور اس کے لیے ایک مدت بھی مقرر ہے تو یہ کس طرح تصور کیا جاسکتا ہے کہ انسان جس کی حیثیت ایک برترین مخلوق کی ہے اور جسے بعض غیرمعمولی صفات دے کر پیدا کیا گیا ہے اسے بےمقصد اور عبث پیدا کیا گیا ہو یعنی نہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد ہو اور نہ اس کے لیے کوئی وقت مقرر کیا گیا ہو۔ وہ خودرو پودوں کی طرح پیدا ہو اور مل دل کے ختم ہوجائے یا اسے شتر بےمہار بنا کر یہاں بھیجا گیا ہو کہ وہ جہاں چاہے چرتا پھرے اور آخر موت کا شکار ہوجائے۔ جب کائنات کی ہر چیز ایک مقصد رکھتی ہے تو انسان ہی کو آخر مقصد سے آزاد کس طرح چھوڑا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی اسی حقیقت کو مزید نمایاں کرتے ہوئے صاحب ایمان لوگوں کی صفت کے طور پر بیان فرمایا ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں تو پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے یہ کارخانہ عبث پیدا نہیں کیا۔ تیری ذات اس سے پاک ہے کہ تو ایسے عبث کام کرے۔ یقینا تو نے ہماری بھی زندگی کا ایک مقصد رکھا ہے اور اس مقصد کے حصول ہی میں ہماری نجات ہے۔ اس لیے اے ہمارے رب ہمیں عذاب نار سے بچائیو۔ یہ تو وہ حقیقت ہے جو تفکروتدبر کے بعد خودبخود نمایاں ہوتی ہے، لیکن انسان کا حادثہ یہ ہے کہ وہ کبھی اس پہلو سے غور کرنے کی زحمت نہیں کرتا۔ ہمیشہ اس پر ہَوائے نفس کا غلبہ رہتا ہے۔ زندگی کی لذتیں فلسفہ بن کر اسے گھیرے رہتی ہیں۔ عزت و شہرت کا بھوت ہمیشہ سر پر سوار رہتا ہے جو کسی اور طرف متوجہ ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ ایسے لوگ ظاہر ہے اصل حقیقت سے کبھی بہرہ ور نہیں ہوتے۔ اس لیے ان میں سے اکثر لوگ اپنے رب کی ملاقات سے انکار کرتے ہیں چونکہ اس کے اقرار سے زندگی کے تصورات تبدیل کرنے پڑتے ہیں۔ عیش و عشرت سے کنارہ کش ہو کر ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ حیوانیت سے نکل کر انسانیت کے دائرے میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ یہ ایسا مشکل کام ہے جو ہوس اور خواہش کے مارے ہوئے لوگوں کے لیے آسان نہیں۔ اس لیے وہ اس راستے پر آنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے۔
اس آیت کی مزید تشریح میں صاحب تفہیم القرآن نے ایک نوٹ لکھا ہے جو استفادہ کے قابل ہے۔ وہ فرماتے ہیں : اس فقرے میں آخرت کی دو مزید دلیلیں دی گئی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر انسان اپنے وجود سے باہر کے نظام کائنات کو بنظرغور دیکھے تو اسے دو حقیقتیں نمایاں نظر آئیں گی :
ایک یہ کہ یہ کائنات برحق بنائی گئی ہے۔ یہ کسی بچے کا کھیل نہیں ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے اس نے ایک بےڈھنگا سا گھروندا بنا لیا ہو جس کی تعمیر اور تخریب دونوں ہی بےمعنی ہوں۔ بلکہ یہ ایک سنجیدہ نظام ہے، جس کا ایک ایک ذرہ اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ اسے کمال درجہ حکمت کے ساتھ بنایا گیا ہے، جس کی ہر چیز میں ایک قانون کارفرما ہے، جس کی ہر شے بامقصد ہے۔ انسان کا سارا تمدن اور اس کی پوری معیشت اور اس کے تمام علوم و فنون خود اس بات پر گواہ ہیں کہ دنیا کی ہر چیز کے پیچھے کام کرنے والے قوانین کو دریافت کرکے اور ہر شے جس مقصد کے لیے بنائی گئی ہے اسے تلاش کرکے ہی انسان یہاں یہ سب کچھ تعمیر کرسکا ہے۔ ورنہ ایک بےضابطہ اور بےمقصد کھلونے میں اگر ایک پتلے کی حیثیت سے اس کو رکھ دیا گیا ہوتا تو کسی سائنس اور کسی تہذیب و تمدن کا تصور تک نہ کیا جاسکتا تھا۔ اب آخر یہ بات تمہاری عقل میں کیسے سماتی ہے کہ جس حکیم نے اس حکمت اور مقصدیت کے ساتھ یہ دنیا بنائی ہے اور اس کے اندر تم جیسی ایک مخلوق کو اعلیٰ درجہ کی ذہنی و جسمانی طاقتیں دے کر، اختیارات دے کر، آزادیٔ انتخاب دے کر، اخلاق کی حس دے کر اپنی دنیا کا بیشمار سروسامان تمہارے حوالہ کیا ہے، اس نے تمہیں بےمقصد ہی پیدا کردیا ہوگا ؟ تم دنیا میں تعمیر و تخریب، اور نیکی و بدی، اور ظلم و عدل، اور راستی و ناراستی کے سارے ہنگامے برپا کرنے کے بعد بس یونہی مر کر مٹی میں مل جاؤ گے اور تمہارے کسی اچھے یا برے کام کا کوئی نتیجہ نہ ہوگا ؟ تم اپنے ایک ایک عمل سے اپنی اور اپنے جیسے ہزاروں انسانوں کی زندگی پر اور دنیا کی بیشمار اشیاء پر بہت سے مفید یا مضر اثرات ڈال کر چلے جاؤ گے اور تمہارے مرتے ہی یہ سارا دفترِ عمل بس یونہی لپیٹ کر دریا برد کردیا جائے گا ؟
دوسری حقیقت جو اس کائنات کے نظام کا مطالعہ کرنے سے صاف نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں کسی چیز کے لیے بھی ہمیشگی نہیں ہے۔ ہر چیز کے لیے ایک عمر مقرر ہے جسے پہنچنے کے بعد وہ ختم ہوجاتی ہے۔ اور یہی معاملہ بحیثیت مجموعی پوری کائنات کا بھی ہے۔ یہاں جتنی طاقتیں کام کررہی ہیں وہ سب محدود ہیں۔ ایک وقت تک ہی وہ کام کررہی ہیں، اور کسی وقت پر انھیں لامحالہ خرچ ہوجانا اور اس نظام کو ختم ہوجانا ہے۔ قدیم زمانے میں تو علم کی کمی کے باعث ان فلسفیوں اور سائنسدانوں کی بات کچھ چل بھی جاتی تھی جو دنیا کو ازلی و ابدی قرار دیتے تھے۔ مگر موجودہ سائنس نے عالم کے حدوث و قِدَم کی اس بحث میں، جو ایک مدت دراز سے دہریوں اور خدا پرستوں کے درمیان چلی آرہی تھی، قریب قریب حتمی طور پر اپنا ووٹ خدا پرستوں کے حق میں ڈال دیا ہے۔ اب دہریوں کے لیے عقل اور حکمت کا نام لے کر یہ دعویٰ کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے کہ دنیا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی اور قیامت کبھی نہ آئے گی۔ پرانی مادہ پرستی کا سارا انحصار اس تخیل پر تھا کہ مادہ فنا نہیں ہوسکتا، صرف صورت بدلی جاسکتی ہے، مگر ہر تغیر کے بعد مادہ مادہ ہی رہتا ہے اور اس کی مقدار میں کوئی کمی و بیشی نہیں ہوتی۔ اس بنا پر یہ نتیجہ نکالا جاتا تھا کہ اس عالم مادی کی نہ کوئی ابتدا ہے نہ انتہا۔ لیکن اب جوہری توانائی (Atomic Energy) کے انکشاف نے اس پورے تخیل کی بساط الٹ کر رکھی دی ہے۔ اب یہ بات کھل گئی ہے کہ قوت مادے میں تبدیل ہوتی ہے اور مادہ پھر قوت میں تبدیل ہوجاتا ہے حتیٰ کہ نہ صورت باقی رہتی ہے نہ ہیولی۔ اب حرکیاتِ حرارت کے دوسرے قانون (Second Law of Thermo Dynamics) نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ عالم مادی نہ ازلی ہوسکتا ہے نہ ابدی۔ اس کو لازماً ایک وقت شروع اور ایک وقت ختم ہونا ہی چاہیے۔ اس لیے سائنس کی بنیاد پر اب قیامت کا انکار ممکن نہیں رہا ہے۔ اور ظاہر بات ہے کہ جب سائنس ہتھیار ڈال دے تو فلسفہ کن ٹانگوں پر اٹھ کر قیامت کا انکار کرے گا ؟
Ayahs 30:9–10اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط کَانُوْٓا اَشَدَّمِنْھُمْ قُوَّۃً وَّاَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْھَآ اَکْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْھَا وَجَآئَ ْتھُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبـَـیِّـنٰـتِ ط فَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ وَلٰـکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیْنَ اَسَآئُ وا السُّوْٓ آٰی اَنْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَکَانُوْا بِھَا یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔
(الروم : 9، 10)
(اور کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے، وہ ان سے قوت میں زیادہ تھے اور انھوں نے زمین کو زرخیز بنایا تھا اور اسے آباد کیا تھا اس سے زیادہ جتنا انھوں نے آباد کیا اور ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے، پس اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کررہے تھے۔ پھر ان لوگوں کا انجام جن لوگوں نے برائیاں کی تھیں، برا ہوا، اس لیے کہ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ )
تاریخ سے استدلال
آخرت کے وجود پر دلائلِ آفاق اور دلائلِ انفس دینے کے بعد اب تاریخ سے استدلال کیا جارہا ہے۔ اس لیے کہ انسان بسا اوقات دلائل سے وہ اثر قبول نہیں کرتا جو مشاہدات سے کرتا ہے۔ جبکہ مشاہدات بھی انسانوں کی زندگی اور ان کے اعمال سے متعلق ہوں۔ کیونکہ انسانوں میں ہزاروں اختلافات کے باوجود مشترک قدریں اتنی زیادہ ہیں کہ ایک انسان کا دوسرے انسان کے حالات سے متاثر ہونا اور ایک قوم کا دوسری قوموں کے انجام سے عبرت پکڑنا ایک فطری بات معلوم ہوتی ہے۔ چناچہ اسی حقیقت کے پیش نظر قریش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ کیا یہ لوگ زمین میں سفر نہیں کرتے۔ ظاہر ہے کہ قریش تجارت پیشہ لوگ تھے اور ان کے تجارتی قافلوں کا مختلف ممالک میں جانا ایک حقیقت تھا۔ اس لیے ان کے سفر کے ذکر سے صرف اگلی بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ یہ لوگ یقینا سفر کرتے ہیں تو کیا یہ اپنے سفر کے دوران ان قوموں کے کھنڈرات اور آثار کا مشاہدہ نہیں کرتے جو ایک زمانے میں نہایت کروفر سے زندگی گزار رہی تھیں لیکن پھر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوگئیں۔ آخر وہ اپنے اس اندوہناک انجام تک کیسے پہنچیں۔ کھنڈرات سے تو جانور بھی گزرتے ہیں لیکن انھیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ وہ ان کھنڈرات کے آئینہ میں تاریخی حقائق کو پڑھنے کی کوشش کریں۔ لیکن انسان جب گزرتا ہے تو وہ ہر اثر اور ہر اینٹ کے پیچھے تاریخ تلاش کرتا ہے۔ تو یہ لوگ بھی جب ان قوموں کے آثار سے گزرتے ہیں تو کیا اس بات پر غور نہیں کرتے کہ آخر یہ قومیں اپنے اس انجام سے کیسے دوچار ہوئیں۔ ان کا گمان یہ ہے کہ جب کوئی قوم مادی ترقی کے عروج پر پہنچتی ہے اور وہ زمین کے ذرائع کو نہایت کامیابی سے استعمال کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے اور ایک شاندار تمدن کو جنم دیتی ہے تو یہی اصل میں اس کی زندگی کے مقاصد ہیں جنھیں کامیابی سے انجام دینے کے بعد ان کی تباہی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ اس دنیا میں بھی نہایت ٹھاٹ اور کامیابی کی زندگی گزارتی ہیں، اور آخرت میں بھی انھیں نہایت کامرانیوں سے نوازا جائے گا۔ اگر یہ بات واقعی حقیقت ہوتی تو پھر ان تباہ ہونے والی قوموں کو آج تک زمین پر کامیاب قوموں کی مثال بن کر زندہ رہنا چاہیے تھا۔ کیونکہ ان کی زمینی ترقی میں کوئی شبہ نہیں۔ وہ نہایت طاقتور لوگ تھے، انھوں نے زمین کے خزانے نکالنے میں کوئی کمی نہیں کی تھی اور زمین کو اپنے کارناموں سے اس طرح آباد اور سیراب کیا تھا کہ آج تک ان کے تاریخی آثار ان کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔ لیکن ان کے تمام کارنامے ان کی تعمیری کاوشیں اور ان کی تمدنی کامیابیاں ان کو تباہی سے نہ بچا سکیں۔ اگر یہ چیزیں کسی قوم کی بقا کی ضمانت ہوتیں تو ان قوموں کو کبھی نہیں مٹنا چاہیے تھا۔ اس لیے قریش کو سوچنا چاہیے کہ جس دنیوی ترقی اور مال و دولت کی بہتات نے انھیں فریب دے رکھا ہے۔ انھیں چیزوں نے پہلی قوموں کو تباہ کیا اور یہی چیزیں انھیں بھی تباہی کی طرف لے جارہی ہیں۔ یہی فریبِ نظر ہے جس نے ہمیشہ قوموں کو تباہ کیا ہے اور اسی فریب کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ رسول بھیجے اور وہ ان کے پاس ایسے واضح دلائل اور کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے جس سے حقیقت کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آسکتی تھی۔ لیکن ان کی قوموں نے اس طرح آنکھیں بند رکھیں کہ کوئی نشانی بھی ان کی آنکھیں کھولنے پر قادر نہ ہوسکی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا۔ لیکن یہ عذاب میں پکڑا جانا ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں تھا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تھے۔ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے انذار کی کچھ پرواہ نہ کی، بلکہ انھوں نے نہایت جسارت کے ساتھ ان آیات کو جھٹلایا اور ان کا تمسخر اڑایا جسے اللہ تعالیٰ کے نبی لے کر آئے تھے۔ حاصل کلام یہ کہ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان ہمیشہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہا ہے کہ دنیوی ترقی، ضروریاتِ زندگی کی بہتات، وسائلِ رزق کی فراوانی، تہذیبی اور تمدنی ضرورتوں کی تعمیر، راحت و آرام اور بقا و دوام کا سروسامان یہ وہ اسباب ہیں جس سے انسانی زندگی میں کامیابی و کامرانی اور آسودگی و شائستگی کی ضمانت ملتی ہے۔ جو قومیں ان چیزوں میں ترقی کر جاتی ہیں اور زمین پر طاقت کی علامت بن جاتی ہیں انھیں کوئی ناکام نہیں کہہ سکتا۔ لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ان قوموں کے پاس اللہ تعالیٰ کے نبی آئے انھوں نے نہایت واضح دلائل کے ساتھ اپنی حقانیت ان پر واضح کی۔ اور انھیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ تمہارے ان تصورات نے تمہیں صرف دنیا کے خول میں بند کردیا ہے۔ تم اس زندگی کے بعد کسی دوسری زندگی کے تصور سے آشنا ہی نہیں ہو۔ تمہیں کبھی اس کا خیال نہیں آتا کہ تمہاری اس زندگی کا کوئی مقصد بھی ہے۔ اور تمہیں جو عمر کی صورت میں مہلت عمل ملی ہوئی ہے اس کے بارے میں کبھی جواب طلبی بھی ہوگی۔ اور کبھی وہ دن آئے گا جب تمہیں اپنے خالق ومالک کی بارگاہ میں حاضر ہو کر ایک ایک عمل کا جواب دنا پڑے گا۔ لیکن چونکہ تمہیں ان تصورات سے کوئی سروکار نہیں، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تمہارے اخلاق تباہ ہوگئے ہیں، تمہارے معاملات سے دیانت و امانت نکل گئی ہے، تم جواب دہی سے آزاد ہو کر شتر بےمہار بن گئے ہو۔ اللہ تعالیٰ کے نبی تمہیں اس سے روکتے ہیں لیکن تم ان کی بات سننے کے روادار نہیں ہو۔ وہ بار بار تمہیں انذار کررہے ہیں۔ لیکن تم اس کا مذاق اڑاتے ہو۔ اس طرح سے تم نے اپنے اوپر ظلم کا جو رویہ اختیار کر رکھا ہے یہ تمہیں ایک دن تباہی کی طرف لے جائے گا۔ چناچہ آخر یہی ہوا کہ جب وہ اپنی روش بدلنے کے لیے تیار نہ ہوئے، یعنی اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی تکذیب کروائی، اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا اور اپنی سرمستیوں میں بڑھتے چلے گئے تو آخر یہی ان کے اعمال اور ان کے کرتوت ان کی تباہی اور ہلاکت کا سبب بنے۔ اور آج قریش بھی انھیں کی طرح بےمحابا اس انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ ہے۔ اس لیے انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے۔ جب وہ پکڑنے پہ آئے گا تو کوئی انھیں بچا نہیں سکے گا۔
Ayah 30:11اَللّٰہُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (الروم : 11)
(اللہ ہی خلق کی ابتداء کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ )
قانونِ مجازات کے دن کا ذکر دلائل کے ساتھ
اس سے پہلے مختلف دلائل اور تاریخی استشہاد سے قانونِ مجازات کو زندگی کے تقاضے کے طور پر پیش فرمایا۔ اب قانونِ مجازات کے اس دن کو واضح طور پر پیش کیا جارہا ہے جس سے ہر ایک کو سابقہ پیش آنے والا ہے۔ اور اس دن کے وقوع پذیر ہونے کو منطقی انداز میں اس طرح بیان فرمایا ہے جس سے انکار کرنا مشکل ہے۔ بظاہر انداز دعوے کا ہے، لیکن اس کے اندر دعویٰ کی دلیل بھی موجود ہے۔ ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ نوع انسانی کا ہر فرد اس بات کو تسلیم کرتا ہے اور ویسے بھی یہ ایک قطعی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق ہے۔ اسی نے خلق کی ابتداء کی اور وہ خلق سب کے سامنے ہے۔ جو لوگ اس کا انکار کرتے ہیں یا اس کے ساتھ کسی کو شریک کرتے ہیں وہ بھی اسی کی خلق میں شامل ہیں۔ اگر اس کا خالق ہونا اور خلق کی ابتداء کرنا ایک مُسلّمہ امر ہے تو پھر اس سے خودبخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ اس کے اعادہ پر بھی قادر ہے، کیونکہ جو کسی چیز کا آغاز کرتا ہے اس کے بارے میں یہ خیال کیا جائے کہ اب وہ اس کا اعادہ نہیں کرسکتا یعنی اسے دوبارہ نہیں بنا سکتا یہ سراسر ایک نامعقول بات ہے۔ کیونکہ ابتداء میں کسی چیز کو بنانا اعادہ سے ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے لیے خلق کی ابتداء میں کوئی مشکل نہیں تو اس کے اعادہ میں کیا مشکل ہوسکتی ہے جبکہ وہ اس سے آسان ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو اس بات سے انکار ہو کہ اللہ تعالیٰ انسان کا اعادہ نہیں کرسکتا اسے اس بات سے بھی انکار کردینا چاہیے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے خلق کو پیدا کرنے میں ابتداء فرمائی تھی۔
آیت کے دوسرے حصے میں منکرین کے مغالطے کو رفع فرمایا ہے۔ منکرینِ آخرت اول تو قیامت کے وقوع ہی کو نہایت مستبعد خیال کرتے تھے۔ اور اگر مفروضہ کے درجے میں مانتے بھی تھے تو ان کا گمان یہ تھا کہ ہمارا لوٹنا اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں بلکہ ان معبودوں کی طرف ہوگا جنھیں ہم ہمیشہ پوجتے رہے ہیں اور ان کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کے یہاں اتنا قرب حاصل ہے کہ ان کی شفاعت کے بعد ہم نہ صرف اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے محفوظ ہوجائیں گے بلکہ ہمیں اس کی عنایات کا استحقاق مل جائے گا۔ ان کا یہ غلط خیال یہ کہہ کر رد فرما دیا کہ قیامت کے دن یہ لوگ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے اور وہاں کسی کی سفارش نہیں چلے گی۔ سب کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہوگا اور وہ اپنے عدل کے مطابق ہر ایک کے ساتھ معاملہ کرے گا۔
Ayah 30:12وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ (الروم : 12)
(اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن مجرم مایوس ہوجائیں گے۔ )
روزِ آخرت مجرموں کی حالت
یُبْلِسُ … ابلاس سے ہے جس کے معنی ہیں سخت مایوسی اور صدمے کی بنا پر کسی شخص کا گم سم ہوجانا۔ قیامت کے دن جب قیامت کے مخالفین کو اچانک اس سے واسطہ پڑے گا تو وہ انتہائی مایوس، حیران اور ششدر رہ جائیں گے۔ انھیں اس طرح اچانک قیامت کے برپا ہونے کا تصور تک نہ تھا۔ وہ زندگی بھر اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اور اگر کبھی اقرار کیا بھی تو نہایت بےنیازی اور بےدلی کے ساتھ۔ اب جبکہ اچانک انھیں ایک ایسی حقیقت دکھائی دے گی جسے وہ محض ایک واہمہ سمجھتے تھے تو ان کی حالت اس مجرم جیسی ہوگی جو حالت جرم میں رنگے ہاتھوں پکڑا جائے اور جس سے بچ نکلنے کی کوئی امید نہ ہو۔ زبان بند ہو کر رہ جائے گی اور جسم حرکت کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔
بظاہر تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں شاید ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو دنیا میں انکارِآخرت کا جرم کرتے رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کسی حد تک قیامت کو ایک حقیقت سمجھتے تھے لیکن وہاں کی جواب دہی کو انھوں نے کبھی کوئی اہمیت نہ دی۔ وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کی بجائے ہمیشہ اپنے نفس کی بندگی کرتے رہے۔ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ کر اسی کی تعمیر میں لگے رہے۔ یہیں کی کامیابیاں اور ناکامیاں ان کے دماغ پر چھائی رہیں۔ اب جبکہ اچانک انھیں قیامت سے واسطہ پڑے گا تو وہ حواس باختہ ہوجائیں گے۔ اور انھیں مایوسی میں کچھ سجھائی نہیں دے گا کہ وہ کیا کریں۔
Ayah 30:13وَلَمْ یَکُنْ لَّھُمْ مِّنْ شُرَکَآئِ ہِمْ شُفَعٰٓـؤُا وَکَانُوْا بِشُرَکَآئِ ہِمْ کٰفِرِیْنَ ۔ (الروم : 13)
(اور ان کے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا، اور وہ اپنے شریکوں کا انکار کریں گے۔ )
مشرکین کی مایوسی کا سبب
مشرکین کی مایوسی کا سبب ایک یہ بھی ہوگا کہ جن شرکاء کی شفاعت کے بھروسے پر انھوں نے کبھی توحید کا راستہ اختیار نہ کیا اور جس نے بھی انھیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایمان اور عمل صالح کے بغیر بخشش کا کوئی ذریعہ نہیں۔ جنھیں تم اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھ بیٹھے ہو اور تمہارا گمان یہ ہے کہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا لیں گے، وہ تو خود قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے غضب سے لرزاں و ترساں ہوں گے۔ تو ان لوگوں نے بجائے ان کی بات سمجھتے کے انھیں اپنا دشمن سمجھا اور ان سے لڑنے مرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ آج جب وہ یہ دیکھیں گے کہ ان شرکاء میں سے کوئی بھی ان کی سفارش کرنے والا نہیں تو ان کی امیدیں مایوسی میں بدل جائیں گی۔ آخر وہ صاف صاف اس بات کا اقرار کریں گے کہ ہم نے جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا کہ یہ ہماری سفارش کریں گے، آج ہمیں معلوم ہوا کہ ہماری یہ سوچ اور یہ عمل سراسر غلط تھا۔ اس لیے وہ انھیں اللہ تعالیٰ کا شریک ماننے سے انکار کردیں گے۔ لیکن اس روز ان کا یہ انکار کسی کام نہیں آئے گا۔
Ayah 30:14وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ ۔ (الروم : 14)
(اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن (سب انسان) الگ الگ ہوجائیں گے۔ )
ایک اہم حقیقت کا انکشاف
اس آیت کریمہ میں ایک بہت بڑی حقیقت کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یوں تو اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی کے ہر فرد کو ایسی صلاحیتوں اور خصوصیات سے نوازا ہے کہ وہ بجائے خود ایک ایسی مکمل اکائی ہے کہ جو اپنے ذاتی نظریات و اعمال کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہے۔ اس کے اندر احساسات کی ایک دنیا آباد ہے، عقل کا فانوس روشن ہے، قوت ارادی موجود ہے جس نے اسے استقامت اور عزیمت کا راستہ دکھایا ہے۔ لیکن ان تمام خوبیوں اور صلاحیتوں کے باوصف دوسرے افراد کے ساتھ اس قدر متعلق اور وابستہ ہے کہ دوسروں کے بغیر نہ آسانی سے اس کی زندگی گزرتی ہے اور نہ وہ زندگی کے اہداف میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ اسی بنیادی ضرورت کے تحت وہ معاشرے میں رہتا، سماج کا ایک جزو بن کر زندگی گزارتا اور کسی نہ کسی اجتماعی قوت سے رشتہ رکھنا ضروری سمجھتا ہے۔ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا :
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس ضرورت نے انسان میں جس طرح اجتماعی زندگی کا شعور پیدا کیا ہے اسی طرح اجتماعی زندگی میں دراڑیں بھی پیدا کی ہیں۔ وہ اگر ایک قبیلے اور برادری کا آدمی ہے تو اسی کے انتساب کو عزیز رکھتا ہے۔ جو وہ زبان بولتا ہے اسی زبان کی بنیاد پر ایک گروہ کا حصہ بنتا ہے۔ وہ جس وطن میں رہتا ہے وہی وطن اسے باقی اوطان سے کاٹ دیتا ہے۔ اسی طرح معاشی اور سیاسی مفادات اسے ایک مخصوص گروہ کا حصہ بننے پر مجبور کردیتے ہیں۔ یہ گویا اس کی وابستگی کی بنیادیں ہیں، اس سے ہٹ کر وہ کسی اور وابستگی کو اہمیت نہیں دیتا۔ قوم، نسل، وطن، زبان، قبیلہ، برادری اور معاشی و سیاسی مفادات یہ اس کی جتھہ بندیوں کے عنوان ہیں۔ لیکن اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ زندگی کا اصل حسن بلکہ اس کی استواری، صحتِ عقیدہ اور اخلاق و کردار کی پاکیزگی سے آتی ہے۔ اگر اس بنیاد پر کوئی جماعت وجود میں آتی ہے تو وہ خیروبھلائی کی قوت بن جاتی ہے جس سے نوع انسانی کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس میں متذکرہ بالا وابستگیاں نقصان کی بجائے فائدے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ لیکن اس بنیاد سے کٹ کر جو چیز بھی وابستگی کی بنیاد بنے گی اور اس سے کوئی گروہ تیار ہوگا وہ ظاہر ہے ایک وحدت ضرور ہوگا، لیکن دوسری اپنی جیسی وحدتوں کے لیے ایک چیلنج بن جائے گا اور یہیں سے تفرقہ، انتشار اور نفرت کو راستہ بنانے کا موقع ملے گا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ زمین پر انسانوں نے ہمیشہ ایسی ہی وابستگیوں کو اپنی گروہ بندی کا ذریعہ بنایا ہے اور اس سے زمین فساد سے بھر گئی ہے جبکہ انسان ایک اکائی ہے۔ اس کے افراد جسدِواحد کے اعضاء کی طرح ہیں۔ ان میں کوئی تقسیم بھی قابل قبول نہیں، بجز ایک تقسیم کے، اور وہ، وہ تقسیم ہے جو عقیدہ و اخلاق سے وجود میں آتی ہے۔ ایمان لانے والے اور خدائی ہدایت پر نظام زندگی کی بنیاد رکھنے والے ایک امت ہیں، خواہ وہ دنیا کے کسی گوشے سے تعلق رکھتے ہوں۔ اور کفروفسق کی راہ اختیار کرنے والے ایک دوسری امت ہیں خواہ ان کا تعلق کسی نسل و وطن سے ہو۔ اسلام نے دنیا میں بھی اسی بنیاد پر ایک امت تشکیل دی۔ اور آخرت میں بھی اسی بنیاد پر لوگ ایک دوسرے سے الگ الگ ہوجائیں گئے۔ چناچہ اہل ایمان الگ ہوجائیں گے اور کافر الگ ہوجائیں گے۔ اور اسی بنیاد پر آخرت میں معاملہ کیا جائے گا۔
Ayahs 30:15–16فَاَمَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَہُمْ فِیْ رَوْضَۃٍ یُّحْبَرُوْنَ ۔ وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰـتِنَا وَلِقَآیِٔ الْاٰخِرَۃِ فَاُوْلٰٓئِکَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ ۔ (الروم : 15)
(پس جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے وہ ایک شاندار باغ میں مسرور ہوں گے۔ اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے۔ )
آخرت میں انسانوں میں تقسیم
قیامت میں انسانوں کی تقسیم کو ان دونوں آیات میں کھول کر بیان فرمایا گیا ہے۔ کہ وہاں جب انسانوں کو الگ الگ ہونے کا حکم دیا جائے گا تو ان کی تقسیم کسی نسب، خون، رنگ یا جغرافیے کی بنیاد پر نہیں ہوگی بلکہ ایمان و کفر کے حوالے سے ہوگی۔ جنھوں نے دنیا میں ایمان و عمل کو بنیاد بنا کر زندگی گزاری ہوگی وہ ساری دنیا اور ساری امتوں سے چھانٹ کر الگ ایک گروہ کے طور پر کھڑے کردیے جائیں گے۔ اور یہی لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی عنایات کا مورد بنیں گے۔ آیت میں فرمایا گیا ہے کہ انھیں ایک نہایت بلند مرتبہ اور پرفضاء باغ میں رکھا جائے گا جس میں ان کے اندر باہر اور ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ناچ رہی ہوں گی۔
رَوْضَۃٍ … کی تنکیر تفخیمِ شان کے لیے ہے، یعنی جنت کے باغوں میں سے وہ ایک نہایت شاندار باغ ہوگا۔ اس کے واحد ہونے سے یہ مراد نہیں کہ وہ ایک ہی باغ ہوگا۔ بلکہ اس سے مراد ایسے باغات ہیں جن میں سے ایک ایک باغ بھی اپنے اندر نہایت عظمت و شان رکھتا ہے۔ اس کی اپنی ذاتی سرسبزی اور حُسنِ منظر کے ساتھ ساتھ راحت و آرام اور عیش و تنعم کے جتنے اسباب ہوسکتے ہیں وہ سب اس کے اندر موجود ہوں گے۔
دوسری آیت میں دوسرے گروہ کا ذکر فرمایا گیا ہے جن میں ہر طرح کا کافر چاہے اس کا تعلق کسی غلط مذہب سے ہو یا الحادو زندقہ سے، شرک کی کسی قسم سے ہو یا نافرمانی و بغاوت سے۔ ان سب کو ایک گروہ میں شمار کیا جائے گا اور الگ کردیا جائے گا۔
مُحْضَرُوْنَ … اس سے کافروں کے اس گروہ کی ذلت اور بےبسی کا اظہار مقصود ہے۔ یعنی وہ عذاب میں اس طرح باندھ کر اور گھسیٹ کر لائے جائیں گے جس طرح سزا یافتہ قیدی لائے جاتے ہیں جبکہ دنیا میں ان کا تمرد اور سرکشی ایک مسئلہ بنی رہی۔ لیکن آج ذلت کی تصویر بنے اور زنجیروں میں جکڑے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔
Ayahs 30:17–18فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ ۔ وَلَـہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّحِیْنَ تُظْہِرُوْنَ ۔ (الروم : 17، 18)
(پس اللہ ہی کی تسبیح کرو جس وقت تم شام کرتے ہو اور جس وقت تم صبح کرتے ہو۔ اور اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں اور زمین میں، اور ( تسبیح کرو) عشاء کے وقت بھی، اور جس وقت تم ظہر کرتے ہو۔ )
توحید اور قانونِ مجازات کا تقاضا
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق ومالک اور ہر لحاظ سے یکتا ہے اور اس کے قانونِ مجازات کے تحت ہر انسان کو اس کی عدالت میں پیش ہونا اور جزاء و سزا سے گزرنا ہے۔ تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ ہی کی تسبیح کرے۔ اور اس تسبیح کا کوئی ایک محدود وقت نہیں بلکہ صبح بھی اسی سے روشن ہونی چاہیے اور شام اور عشاء میں بھی اسی کا نور جگمگانا چاہیے۔ اور مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں جو مشرکانہ خیالات پھیلا رکھے ہیں اور بعض نقائص کا اللہ تعالیٰ کی طرف انتساب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کا ہمہ وقت ان سے پاک اور منزہ ہونے کا اعلان و اظہار کرنا چاہیے۔ وَلَـہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْض یہ اوقاتِ تسبیح کے درمیان ایک جملہ معترضہ ہے جو دراصل اس تردد کا ازالہ کررہا ہے کہ صبح و شام اور ظہر اور عشاء میں جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح کا حکم دیا جارہا ہے وہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں بلکہ انسانوں کے لیے ان کی دیگر مصروفیات کو دیکھتے ہوئے کم سے کم اوقات میں اس کا حکم دیا گیا ہے ورنہ آسمان و زمین کے ہر گوشے میں اللہ تعالیٰ ہی کی حمد کا ترانہ گونج رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات انسانوں کی تسبیح وتحمید کی محتاج نہیں بلکہ انسان خود اس کا محتاج ہے، کیونکہ اس کی تسبیح وتحمید تو کائنات کے ہر گوشے میں ہورہی ہے اور کائنات کی ایک ایک چیز اس میں مصروف ہے۔ البتہ جو لوگ اس حمدوتسبیح سے گریز کررہے ہیں انھیں اپنی بدنصیبی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
تسبیح کے لیے جن اوقات کا ذکر فرمایا گیا ہے اگر ان میں غور و فکر سے کام لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ اوقات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی بڑی نشانی کا ظہور ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہ رات دن میں داخل ہوتی ہے یا دن رات میں داخل ہوتا ہے یا سورج سمت راس سے جھکتا ہے یا رات تاریک ہوتی ہے۔ چناچہ یہی چار اوقات انسان کے دل و دماغ اور اس کے معمولات پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوتے ہیں۔ اگر ان اوقات میں کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو یاد کرے اور ساتھ ہی ساتھ غور و فکر بھی کرے تو یقینا اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کی یہ نشانیاں اس پر منکشف ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ وہ ان نشانیوں کے واسطے سے معرفتِ حق سے آشنا ہوسکتا ہے۔
بعض اہل علم نے ان آیات میں تسبیح سے مراد نماز لی ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات کو عیوب و نقائص سے منزہ کرنے کا اعلان ہے تو اس کے لیے صبح و شام اور ظہر و عصر کے اوقات کی پابندی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ یہ عقیدہ تو مسلمان کو ہر وقت رکھنا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوقات کی پابندی کے ساتھ تسبیح کرنے کا حکم سے مراد نماز ہی ہوسکتی ہے۔ البتہ اس آیت کریمہ میں اوقاتِ نماز میں سے فجر اور ظہر کا ذکر تو واضح طور پر موجود ہے اور اگر تُمْسُوْنَ میں عصر اور مغرب دونوں کو شامل کرلیا جائے اور عَشِیًّا سے عشاء کو مراد لے لیا جائے تو تمام اوقاتِ نماز اس آیت میں آجاتے ہیں۔ البتہ قرآن کریم کی دیگر آیات میں اوقاتِ نماز کی طرف اشارے ہیں اور نبی کریم ﷺ نے ان اشاروں کو متعین اوقات میں متعین اعمال کی شکل دے کر پوری تفصیل سمیت نماز کو امت پر لازم کیا ہے۔ البتہ منکرینِ حدیث کی یہ جسارت حیران کن ہے کہ وہ ان تصریحات کے باوجود نظام صلوٰۃ کو نظام ربوبیت کا مفہوم پہناتے ہیں، اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت عطا فرمائے۔
Ayah 30:19یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَیُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا ط وَکَذٰلِکَ تُخرَجُوْنَ ۔ (الروم : 19)
(وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے، اسی طرح تم بھی نکالے جاؤ گے۔ )
منکرینِ قیامت کی غلط فہمی کا ازالہ
اخراج کے معنی جس طرح کسی چیز سے کسی چیز کو نکالنے کے آتے ہیں، اسی طرح پیدا کرنے کے بھی آتے ہیں۔ منکرینِ قیامت ازسرنو زندگی کو بہت مستبعد خیال کرتے تھے۔ ان کے استبعاد کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ تم ہر روز اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ زندہ انسانوں اور حیوانات میں سے فضلات کو خارج کیا جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ جن میں زندگی کا نام تک نہیں۔ اسی طرح بےجان مادے کے اندر زندگی کی روح پھونک کر بیشمار جیتے جاگتے حیوانات، نباتات اور انسان وجود میں لائے جارہے ہیں۔ حالانکہ ان مادوں میں قطعاً کوئی زندگی نہیں ہوتی۔ پھر اس کو مثال کے طور پر سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ تم زمین کو دیکھتے ہو وہ بالکل خشک اور مردہ ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ بارش کے ایک چھینٹے سے اس کے ہر گوشے میں زندگی نمودار کردیتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس میں تم خود شامل ہو۔ کیا اس سے یہ بات سمجھنا بہت مشکل ہے کہ ایک دن مرکھپ جانے کے بعد تم بھی زندہ نکال کھڑے کیے جاؤ گے۔ کیونکہ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ نہ اس کے لیے زندہ کو مردہ کرنا مشکل ہے اور نہ مردہ کو زندہ کرنا۔ بارش کی صورت میں ہم اپنی نگاہوں سے موت سے زندگی برآمد ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت صاف دکھائی دیتی ہے۔ ہر طرف مردنی چھائی ہوتی ہے لیکن اچانک آدمی یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ :
جہاں چھپ گیا پردہ رنگ میں
لہو کی ہے گردش رگ سنگ میں