Ayah 30:20وَمِنْ اٰیٰـتِہٖٓ اَنْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْـتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ ۔ (الروم : 20)
(اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر دیکھتے دیکھتے تم بشر بن کر روئے زمین پر پھیلتے چلے جارہے ہو۔ )
انسان کا وجود، قدرت الٰہی کا مشاہدہ
عقیدہ سے متعلق بیشتر گمراہیوں کا سبب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت اور حکمت و دانش کے بارے میں صحیح تصور قائم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ وہ جب زمین پر انسانی حکومتوں کے انتظام و انصرام کو دیکھتا ہے تو اسے یقین ہوجاتا ہے کہ ایک بڑا بادشاہ اپنی تمام تر قوت وہیبت کے باوجود تنہا کسی ملک کا نظام نہیں چلا سکتا، اس لیے اس نے نیچے سے اوپر تک انتظامی یونٹ بنا رکھے ہیں اور انھیں اختیارات میں شریک کر رکھا ہے۔ وہ ان کے واسطے سے پوری مملکت کا نظام چلاتا ہے۔ اسی پر قیاس کرتے ہوئے وہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یقینا خالق ومالک ہے لیکن وہ اس عظیم کائنات کا نظام تنہا نہیں بلکہ ان تمام قوتوں کے واسطے سے چلاتا ہے جنھیں اس نے اپنے اختیارات میں شریک کر رکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام جو توحید پیش کررہا ہے جس میں غیر اللہ کی شرکت کا شائبہ تک ممنوع ہے وہ سراسر ناقابلِ فہم ہے۔ شرک کائنات کے نظام کو چلانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی اختیار کردہ ایک ضرورت ہے۔ اس لیے ہم اسی ضرورت کے تحت ان قوتوں کو پکارتے اور بوجتے ہیں جنھیں خود پروردگار نے اختیارات دے رکھے ہیں۔ اسی طرح جب وہ دیکھتے ہیں کہ ایک چیز فنا ہوجانے کے بعد دوبارہ وجود میں نہیں آتی تو ان کے لیے اس بات کا قبول کرنا تقریباً ناممکن ہوجاتا ہے کہ اربوں کھربوں مخلوق جو گزشتہ طویل زمانے میں فنا ہوتی رہی ہے وہ ایک دن ازسرنو زندگی کا لباس پہن لے گی اور اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر اپنی زندگی کے ہر عمل کا حساب دے گی۔ یہ وہ تصور ہے جو اسے قیامت کو ماننے سے انکار پر مجبور کرتا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و حکمت کو ایک ایسی مثال سے واضح فرمایا ہے جو خود انسان سے متعلق ہے۔ گویا انسان کو اپنے حوالے سے غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ اسے اندازہ ہوسکے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے بارے میں جس فکری کوتاہی کا شکار ہے اس کی خود اپنی ذات اس کے خلاف حجت ہے۔ ارشاد فرمایا گیا کہ غور کرو کہ تم اپنے آپ کو اشرف المخلوقات سمجھتے ہو، لیکن کبھی تم نے سوچا ہے کہ تمہارا مادہ تخلیق کیا ہے ؟ چند بےجان مادے ہیں جو زمین میں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً کچھ کاربن، کچھ کیلشیم، کچھ سوڈیم، اور ایسے ہی چند مزید عناصر۔ انھیں کو ترکیب دے کر تم جیسی حیرت انگیز ہستی کو پیدا کیا گیا ہے، اور اس کا نام انسان رکھا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جن عناصر سے اسے ترکیب دیا گیا ہے ان میں سے کسی میں بھی نہ زندگی ہے نہ احساسات اور نہ ہی ایسی کوئی اور غیرمعمولی قوت۔ لیکن انسان کے اندر احساسات بھی ہیں اور جذبات بھی۔ شعور بھی ہے اور فکری گہرائی بھی۔ تعقل بھی ہے اور تخیل بھی۔ اور پھر اسی پر بس نہیں، ہر انسان کے اندر ایک مادہ تولید رکھ دیا گیا ہے جس کی بدولت کروڑوں اور اربوں انسان وہی ساخت اور وہی صلاحیتیں لیے ہوئے بیشمار موروثی اور بےحد و حساب انفرادی خصوصیات کے حامل نکلتے چلے آرہے ہیں۔ اور اب حال یہ ہے کہ زمین کی وسعتیں انسانی تخلیق و ایجاد کے سامنے سمٹتی چلی جارہی ہیں۔ اس صورتحال پر تدبر کی نظر ڈالو کہ یہ سب کچھ ان عناصر کی اپنی خصوصیات میں سے ہے جن پر انسان کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ یا خود انسان اس قابل تھا کہ وہ اپنے اندر ایسی حیرت انگیز صلاحیتوں کو پیدا کرلیتا۔ غور و فکر کے بعد اس کے سوا اور کوئی بات نہیں کہی جاسکتی کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ بےپناہ قدرتوں کی مالک اور بےانتہا حکمتوں کی حامل ذات ہے کہ جس کی ادنیٰ قدرت سے انسان کو وجود ملا۔ اور پھر اس کی قدرت ہی سے انسان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا، اور اسی کی حکمت عدل کے نتیجے میں آخرت برپا ہوگی اور انسان جزاء و سزا سے گزرے گا۔
Ayah 30:21وَمِنْ اٰیٰـتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَـکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَـکُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمِ یَّتَفَکَّرُوْنَ ۔ (الروم : 21)
(اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی پیدا کی، یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔ )
انسان کے وجود سے خارج کی چند نشانیاں
اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کا کمال یہ ہے کہ اس نے صرف انسان کو پیدا نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ وہ چیزیں بھی پیدا فرمائیں جو اس کی مقصد تخلیق کی بجاآوری میں معاون ہوسکتی تھیں اور جن سے اس کی شخصیت کی تکمیل ہوتی تھی۔ اور پھر اس تخلیقی عمل میں ایسے احساسات کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رأفت و رحمت کا بھی ظہور ہوتا ہے۔ ان میں سے سب سے پہلے جس احسان کا ذکر فرمایا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی صرف ایک صنف پیدا نہیں فرمائی بلکہ اسے دو صنفوں میں تقسیم فرمایا جسے ہم مرد اور عورت کے نام سے جانتے ہیں۔ اور کمال تخلیق یہ ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کا جوڑا بنایا۔ اور مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ مرد و عورت دونوں کی بناوٹ کا بنیادی فارمولا ایک ہے۔ دونوں انسان ہونے میں یکساں ہیں مگر دونوں ایک دوسرے سے مختلف جسمانی ساخت، مختلف ذہنی اور نفسی اوصاف اور مختلف جذبات اور داعیات رکھتے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان تمام اختلافات کے باوجود ان دونوں میں حیرت انگیز مناسبت رکھی گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مرد کی شخصیت عورت کے بغیر اور عورت کی شخصیت مرد کے بغیر نامکمل رہتی ہے۔ دونوں کو اس طرح ایک دوسرے کا جوڑا بنایا گیا ہے کہ دونوں میں ایک دوسرے کے لیے طلب اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کے لیے خلاء موجود ہے۔ اور اس خلاء کو بھرنے کے لیے دونوں کے اندر ایک کشش رکھی گئی ہے تاکہ دونوں کی شخصیتوں کی تکمیل میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ اور اس حیرت پر حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ہم اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت دیکھتے ہیں کہ ساری دنیا میں نوع انسانی پھیلی ہوئی ہے اور آغاز آفرینش سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے، لیکن کسی ملک یا کسی علاقے اور کسی دور میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کہیں صرف لڑکے ہی پیدا ہوئے ہوں اور کسی قوم میں صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوتی چلی گئی ہوں، بلکہ ایک تناسب کے ساتھ دونوں کی تخلیق ہر دور میں اور ہر خطہ زمین پر جاری رہی ہے۔ اور اس معاملے میں انسان کو اثرانداز ہونے کا کبھی موقع نہیں ملا۔ اور اسی سلسلے میں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ پروردگار ان دونوں صنفوں کے افراد کو اس طرح پیدا فرما رہا ہے کہ لڑکے ہر جگہ مردانہ خصوصیات لیے ہوئے پیدا ہوتے ہیں اور لڑکیاں نسوانی خصوصیات لے کر آتی ہیں۔ اور دونوں الگ الگ خصوصیات کے باوجود ایک دوسرے کے لیے شدید طلب رکھتے ہیں۔ چناچہ یہی وہ چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی میں اضافے اور بقاء کے لیے موثر ذریعہ بنایا ہے۔ کسی دور میں بھی یہ خطرہ پیدا نہیں ہوا کہ نسل انسانی کا سلسلہ رکتا دکھائی دیتا ہے۔ جس طرح بعض جانوروں کے بارے میں ان کی نسل کے مٹ جانے کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے، ایسا اندیشہ یہاں کبھی پیدا نہیں ہوا۔ اور کبھی اس کے لیے نہ تعلیم کو اپنا رول ادا کرنا پڑا اور نہ ذریعہ ابلاغ کو۔ یہ چیز فطرتِ انسانی میں اس قدر گہری اتار دی گئی ہے کہ مردو عورت انسانی مسائل سے دوچار ہوتے ہیں لیکن انسانوں میں اضافے سے کبھی جی نہیں چراتے۔ کہیں کہیں کبھی کمی بیشی کا سوال تو پیدا ہوتا ہے لیکن یکسر انقطاع کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے بھی بڑھ کر ایک اور حیران کردینے والی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت میں جس طرح ایک دوسرے کے لیے ایک اضطراب رکھا اور کشش پیدا فرمائی ہے جس سے قافلہ انسانی آج تک رواں دواں دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح اس کو انسانی تہذیب و تمدن کو وجود میں لانے کا ذریعہ بھی بنایا ہے۔ جس طرح دونوں اصناف میں ایک دوسرے سے اتصال کے لیے طلب موجود ہے، اسی طرح ہر وقت ایک دوسرے کے قریب رہنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ اسی سے گھر بنانے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے۔ پھر اسی ضرورت کے تحت گھروں کے ساتھ دوسرے گھر بنتے ہیں اور افراد میں اضافے کے ساتھ خاندان اور قبیلہ وجود میں آتا ہے۔ اور اس کے عوامل کو بروئے کار لاتے ہوئے تمدن کو نشو و نما ملتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو اس آیت کریمہ میں مؤدت یعنی محبت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آغاز میں یہ محبت جنسی محبت کی شکل اختیار کرتی ہے اور اس سے انسان کی نشو و نما ہوتی ہے۔ پھر اس میں گہرائی پیدا ہوتی ہے تو یہ محبت ذمہ داری کی شکل اختیار کرکے بچوں کی پرورش کا باعث بنتی ہے۔ پھر اس کا مزید دائرہ پھیلتا ہے تو خاندان اور معاشرے کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے عمر آگے بڑھتی ہے ویسے ویسے جنسی طلب میں کمی آتی جاتی ہے اور ایک وقت آتا ہے جب بچوں کی افزائش رک جاتی ہے۔ لیکن میاں بیوی میں اگرچہ اضطراب کی کیفیت نہیں رہتی لیکن جذب و کشش میں کوئی کمی نہیں آتی۔ اب وہی محبت رحمت کی شکل اختیار کرلیتی ہے جس کی وجہ سے میاں بیوی بڑھاپے میں ایک دوسرے کے خیرخواہ، ہمدرد و غمگسار اور شریک رنج و راحت بن جاتے ہیں۔ ہر ایک اپنے جیون ساتھی کے لیے جوانی سے بڑھ کر رحیم و شفیق ثابت ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے سکون پاتے اور سکون دیتے ہیں۔ ایک دوسرے کی تنہائی میں شریک اور ایک دوسرے کا حوصلہ باندھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ یہ ہمدردی و غمگساری کا جذبہ جو بڑھاپے کو آسان کردیتا ہے اسی کو یہاں رحمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسان کا بےجان مادے سے پیدا ہو کر حیران کن صلاحیتوں کا مالک بن جانا، پھر اس کی دوسری صنف کا وجود میں آنا اور دونوں میں جنسی محبت اور اضطراب کا پیدا ہونا، پھر اس اضطراب کا سکون کا باعث بننا اور اسی سے تہذیب و تمدن کا وجود میں آنا اور پھر بڑھاپے میں ایک دوسرے کے لیے رحمت بن جانا، کیا یہ سب کچھ کسی اندھی طاقت کا کیا دھرا ہے یا یہ سب کچھ آپ سے آپ وجود میں آگیا ہے یا یہ ممکن ہے کہ ایسا کرنے والے خدا ایک سے زیادہ ہوں۔ جو شخص بھی غیرجانبداری سے ان حقائق پر غور کرے گا اسے یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی رحمت کا ظہور ہے۔ جس سے اس نے اہل زمین کو نوازا ہے۔ غور کیجیے ! اس سے بڑھ کر اور نشانی کیا ہوسکتی ہے۔
تھوڑے سے تدبر کے بعد ایک اور واضح نشانی دکھائی دیتی ہے۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں ہر چیز جوڑا جوڑا پیدا کی ہے۔ اور ہر چیز اپنے مقصدوجود کی تکمیل اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر کرتی ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس دنیا کا بھی ایک جوڑا ہے جس کو آخرت کہتے ہیں۔ اور اسی آخرت سے اس دنیا کی غایت کی تکمیل ہوتی ہے۔
Ayah 30:22وَمِنْ اٰیٰـتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفُ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ ۔ (الروم : 22)
(اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے۔ بیشک اس کے ندر بہت سی نشانیاں ہیں، اصحابِ علم کے لیے۔ )
اہلِ علم کو تخلیقِ ارض و سما، زبانوں اور رنگوں کی نشانیوں کی طرف ہدایت
اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے۔ ان کا عدم سے وجود میں آنا اور بیشمار قوتوں کا ان کے اندر انتہائی تناسب اور توازن کے ساتھ کام کرنا، اور کہیں کسی خرابی کا ظہور میں نہ آنا اور کسی کُرّے کا دوسرے کُرّے کے ساتھ تصادم نہ ہونا، اور ایک حیرت انگیز نظم و ترتیب کے ساتھ ہر ایک کا اپنے اپنے فرائض کو انجام دینا اور کبھی کسی فیصلے میں تخلف نہ ہونا، ان میں سے ہر بات اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہے۔ اور اگر اس بات پر غور کیا جائے کہ وہ ابتدائی قوت (Energy) کہاں سے آئی جس نے مادے کی شکل اختیار کی، پھر مادے کے بہت سے عناصر کیسے بنے۔ پھر ان عناصر کی اس قدر حکیمانہ ترکیب سے اتنی حیرت انگیز مناسبتوں کے ساتھ یہ حیرت انگیز نظام عالم کیسے بن گیا اور اب یہ نظام کروڑہا صدیوں سے کس طرح ایک زبردست قانونِ فطرت کی بندش میں کسا ہوا چل رہا ہے تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے۔ اسی طرح اگر ایک دوسرے پہلو سے دیکھیں کہ ایک طرف آسمانوں کی ایک وسیع اور ناپیدا کنار کائنات ہے۔ اور دوسری طرف یہ کُّرہ زمین ہے۔ بظاہر دونوں میں کتنی دوری ہے۔ لیکن اس دوری کے باوجود دونوں میں اتنا گہرا اتصال ہے کہ کوئی عقلمند آدمی یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ دونوں الگ الگ خالقوں کی قدرت سے وجود میں آئے اور الگ الگ ارادوں کے تحت گردش کررہے ہیں، بلکہ ان کی باہمی سازگاری پکار پکار کر شہادت دے رہی ہے کہ ایک ہی قدیروحکیم ذات دونوں پر حکمران ہے اور دونوں کو ایک مشترک مقصد کے لیے مسخر کیے ہوئے ہے۔
اور آیت کریمہ میں دوسری نشانی جس کا ذکر فرمایا گیا ہے، وہ زبانوں اور رنگوں کا اختلاف ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سب انسانوں میں قوائے نطقیہ یکساں ہیں۔ نہ منہ اور زبان کی ساخت میں کوئی فرق ہے اور نہ دماغوں کی ساخت میں۔ مگر زمین کے مختلف خطوں میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اور ہر شخص کا لہجہ اور تلفظ اور طرزگفتگو دوسرے سے مختلف ہے۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ انسانوں کا مادہ تخلیق اور ان کی بناوٹ کا انداز ایک ہے۔ مگر رنگ اس قدر مختلف ہیں کہ کسی قوم کا رنگ اور ہے اور کسی کا اور۔ حتیٰ کہ ایک ماں باپ کے گھر پیدا ہونے والے بچے رنگوں میں ایک دوسرے سے نہ صرف مختلف بلکہ متفاوت ہیں۔ اور یہ تفاوت مخلوقات میں ہر طرف نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ یہاں صرف سمجھانے کے لیے صرف دو ہی چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے ورنہ مختلف مخلوقات میں بنیادی یکسانی کے باوجود بیشمار اختلافات موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کا یہ کارخانہ چند خودکار مشینوں سے وجود میں آیا ہے اور نہ چل رہا ہے۔ قدرت کی کوئی ایسی ٹکسال نہیں ہے جس میں ڈھل ڈھل کر ایک ہی طرح کی چیزیں نکلتی چلی آرہی ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی وسیع قدرت ہے جہاں سے ڈیزائن، نقش و نگار، نئے نئے تناسب اور نئے نئے اوصاف کے ساتھ بن بن کر نکلتے چلے آرہے ہیں۔ اس کی بنائی ہوئی ہر چیز اپنی ایک انفرادیت رکھتی ہے۔ اور ہر تخلیقی شاہکار اپنے یہاں عجیب و غریب تضادات کے باوجود حیرت انگیز تناسب رکھتا ہے۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ کارتخلیق ایک خالق کی قدرت کا شاہکار ہے، ورنہ اس تنوع اور اختلاف میں جو یکسانی نظر آتی ہے اور اس تخالف میں جو تناسب نظر آتا ہے وہ کبھی دکھائی نہ دیتا۔ بلکہ ہر تضاد اور ہر تخالف اپنے الگ الگ اظہار کی صورت میں ہر چیز کی تباہی کا باعث بن جاتا، جس سے بجائے تخلیق کی وحدت کے تباہی کی مختلف صورتیں وجود میں آتیں اور یہ نظام تباہ ہو کر رہ جاتا۔ ان میں سے ہر مخلوق اور ہر منظر کے اندر اصحابِ علم و دانش کے لیے نشانیاں مضمر ہیں اور ہر کثرت کے اندر ایک وحدت پوشیدہ ہے جو غور و فکر کی دعوت دے رہی ہے۔
Ayah 30:23وَمِنْ اٰیٰـتِہٖ مَنَامُکُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَابْتِغَـآؤُکُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ۔ (الروم : 23)
(اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن میں تمہارا سونا اور اس کے فضل کو تمہارا تلاش کرنا ہے، یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور سے سنتے ہیں۔ )
آیت کے ترجمے کی وضاحت
اس آیت کی توجیہ کی ایک صورت یہ ہے وَابْتِغَـآؤُکُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ کا عطف مَنَامُکُمْ پر کیا جائے۔ ایسی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات بنائی جس میں تم سوتے ہو۔ اور دن بنایا جس میں تم اس کے فضل یعنی رزق کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے ہو۔ رزق کے حصول کے لیے چونکہ دن کی روشنی کی ضرورت تھی اس لیے اس نے تمہیں دن کی روشنی مہیا کی۔ اور آرام کے لیے تاریکی کی ضرورت تھی، اس لیے رات کی تاریکی پیدا فرمائی، تاکہ دونوں ضرورتیں باحسن طریق پوری ہوسکیں۔ لیکن اس آیت میں دونوں یعنی رات اور دن کو ایک ساتھ بیان فرمایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو خوب علم تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب انسان بعض خطوں میں یا بعض انسان دن کی بجائے راتوں کو رزق کے حصول میں لگے رہیں گے۔ اور آرام انھیں دن کے اوقات میں کرنا پڑے گا۔ یہ اگرچہ فطری طریقے سے کسی حد تک انحراف ہوگا لیکن حالات کا جبر انھیں ایسا کرنے پر مجبور کردے گا۔ اس لیے یہاں دونوں کو ذکر فرمایا، کہ تم جو صورت بھی اختیار کرو، اللہ تعالیٰ تمہیں ویسے ہی ڈھال دے گا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
نیند اور حصول رزق کی جدوجہد سے استدلال
ایک اور بات کی طرف بھی شاید اشارہ کرنا مقصود ہو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات جس طرح خالق ہے، اسی طرح وہ حکیم بھی ہے۔ اس کی حکمت نے جس طرح اس کی صفت تخلیق کو حرکت دی اور باقی کائنات کے ساتھ انسان کو وجود ملا۔ اسی طرح اس کی حکمت کا تقاضا ہوا کہ وہ اپنی دوسری مخلوق کے ساتھ ساتھ انسانوں پر رحمت و شفقت کا معاملہ فرمائے۔ چناچہ اس نے ایک طرف اگر رات اور دن کو پیدا فرمایا تو ساتھ ہی اس نے انسانوں کو نیند کی دولت بھی عطا فرمائی، کیونکہ اس سے بڑھ کر کون واقف ہوسکتا ہے کہ انسان مسلسل محنت نہیں کرسکتا۔ اسے ہرچند گھنٹوں کی محنت کے بعد چند گھنٹے آرام کی بھی ضرورت ہے تاکہ اس کی قوت کارکردگی بحال ہوسکے اور اس کے اعصاب شکست و ریخت سے محفوظ رہیں۔ اور پھر نیند کو اس طرح انسان پر مسلط فرمایا کہ انسان بعض دفعہ کثرت کار کے ہجوم میں زیادہ سے زیادہ کام کرنا چاہتا ہے۔ لیکن نیند اس کے رستے میں حائل ہوجاتی ہے۔ وہ ہزار کوشش کرے بالآخر نیند کے آگے سپرانداز ہونا پڑتا ہے۔ اور اس طرح سے وہ صحت کی تباہی سے بچ جاتا ہے۔ ویسے بھی نیند اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہے کہ اس کا صحیح اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص نیند سے محروم ہوجائے۔ آرام کے وقت نیند کا نہ آنا ایک ایسی اذیت ہے جسے وہی آدمی محسوس کرسکتا ہے جو اس اذیت سے گزرا ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کا ایک ایسے انسان کو نیند جیسی نعمت عطا کرنا جو حواس، عقل اور ہوش مندی جیسے اوصاف رکھتا ہے۔ بظاہر ایک کمزوری دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں وہ اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
اسی طرح رزق کا حصول انسان کی زندگی کی بقاء کے لیے ازبس ضروری ہے۔ کیونکہ غذا کے بغیر کوئی شخص بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے احسانات کا کیا کہنا کہ اس نے اگر ایک طرف وسائلِ رزق کی فراوانی سے انسان کو مالامال کیا ہے تو دوسری طرف غذا کے حصول کے لیے طبیعت میں ایک طلب بلکہ تڑپ بھی رکھی ہے جس کی وجہ سے انسان مسلسل محنت کرتا، دماغ سوزی کرتا ہے اور دوڑدھوپ کرتا ہے۔ ایسے لوگ بہت کم ہوں گے اور جو ہیں کبھی انھیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، جو حصول رزق کے لیے سرگرمی نہ دکھاتے ہوں۔ یہ سرگرمی دکھانے کا شوق اور اس میں تکلیف کی پرواہ نہ کرنا، یہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ایک نعمت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل اور دماغ میں رکھ دیا ہے۔ مزید اس کا فضل یہ ہے کہ وہ رزق کی تلاش کے نئے نئے ذرائع انسان کو الہام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ ایسے ایسے غیرمعمولی طریقوں سے رزق حاصل کرتے ہیں جن کا عام طور پر سان گمان بھی نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس شخص کے دل میں جسے وہ رزق دینا چاہتا ہے ایسے طریقوں کا القاء کرتا ہے۔ اور انسان اگر اس کے مطابق محنت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کسی کی محنت رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو بات کو سنیں۔ اس سے پہلے فرمایا گیا تھا کہ یہ ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ان آیات میں تفکر کریں، اور صاحب علم ہوں۔ ہم جانتے ہیں کہ تفکر اور علم دونوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ علم تفکر کے بغیر آگے نہیں بڑھتا، اور علم کے بغیر تفکر نہیں ہوتا۔ اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ یہ نشانیاں ان لوگوں کے لیے ہیں جو غور سے سنیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حصول علم کا ایک ذریعہ سماع بھی ہے۔ کیونکہ جو شخص سننے کی زحمت نہیں کرتا اور علم و دانش رکھنے والے لوگوں کی باتوں پر توجہ نہیں دیتا، اس کے اندر نہ علم آتا ہے اور نہ تفکر پیدا ہوتا ہے۔
Ayah 30:24وَمِنْ اٰیٰـتِہٖ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًاوَّطَمَعًاوَّیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَیـُحْیٖ بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۔ (الروم : 24)
(اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تم کو دکھاتا ہے بجلی، جس میں خوف بھی ہے اور امید بھی، اور اتارتا ہے آسمان سے پانی، پس زندہ کردیتا ہے اس کے ذریعے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد، یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر امید و بیم سے استدلال
اللہ تعالیٰ کی وہ نشانیاں جو اللہ تعالیٰ کی بعض صفات اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ انسانوں کو بجلی کی چمک دکھاتا ہے۔ بجلی کڑکتی ہے اور کبھی کو ندے کی طرح چمکتی ہے، اسے دیکھ کر دل امید اور خوشی سے بھر جاتے ہیں، پانی کو ترسی ہوئی زمین بارش کی امید میں کھل اٹھتی ہے، کسان کے چہرے پر رونق آجاتی ہے، وہ مرجھائی ہوئی فصلوں کو تصور ہی میں سرسبز ہوتے ہوئے دیکھتا ہے۔ اور اسے امید پیدا ہوجاتی ہے کہ اب بارش ہوگی جس سے غلے کی فصل لہلہائے گی اور وہ وقت دور نہیں جب میرا گھر غلے سے بھر جائے گا اور سوکھے ہوئے جوہڑ جس سے جانوروں کو پانی ملتا اور بعض دفعہ انسانوں کے بھی پینے کے کام آتا ہے وہ بھی پانی سے سیراب ہوں گے، صاف ستھرا اور نیا پانی ہماری ضرورتوں کی کفایت کرے گا۔ اس طرح سے ہر طرف امید کے چراغ روشن ہوجاتے ہیں۔ اور کبھی اسی بجلی سے خوف کی کیفیت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کی کڑک سے ڈر کر لوگ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں۔ اور اس سے جس بارش کی امید پیدا ہوتی ہے اس کے بارے میں دل میں وسوسہ پیدا ہونے لگتا ہے کہ اللہ خیر کرے، کہیں ایسی طوفانی بارش نہ ہو جو سب کچھ بہا لے جائے، اور کہیں بارش کی بجائے ژالہ باری نہ شروع ہوجائے جس سے ہر طرح کی فصل تباہ ہو کر رہ جائے۔ کہیں بجلیاں نہ برسنے لگیں اور ہر چیز کو بھسم کرکے رکھ دیں۔ اور کبھی ہوش مند لوگوں میں یہ خوف بھی پیدا ہونے لگتا ہے کہ جس بجلی کو ہم ابررحمت کی بشارت سمجھ رہے ہیں، اللہ نہ کرے وہ قوم پر عذاب کا پیغام نہ ہو۔ جس طرح عاد وثمود نے بادل کو ابررحمت سمجھا اور اس سے بارش کی امید میں خوشیاں مناتے ہوئے باہر نکل آئے۔ لیکن انھیں اندازہ نہ تھا کہ یہ بادل ان کے لیے تباہی کا سامان بن کے آئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کس قدر بےپناہ ہے کہ وہ بادل بھیج کر انسانوں کے تاریک گھروں میں امید کے چراغ روشن کرسکتا ہے۔ اور اگر چاہے تو اسی بادل کے ذریعے انھیں نیست و نابود بھی کرسکتا ہے۔ نعمت اور نقمت دونوں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ انسان کا سرمایہ امیدوبیم ہے جس سے اس کی زندگی کو صحیح رخ ملتا اور صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق ہوتی ہے اور اس کا تمام سررشتہ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ مشرکین کا یہ خیال کہ وہ کسی کو رحمت لانے والا اور کسی کو عذاب نازل کرنے والا سمجھتے ہیں، سراسر ایک حماقت ہے۔ بجلی کی چمک، اگر غور کیا جائے تو اس حماقت میں ہدایت کا چراغ روشن کرسکتی ہے۔
دوسری نشانی اس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں اور دوسری مخلوقات کو پیدا کرنے کے بعد اس کائنات کے معاملات سے بالکل بےتعلق ہو کر کسی گوشے میں جا کر نہیں بیٹھ گیا بلکہ وہ اس کائنات کے تمام امور کی براہ راست نگرانی اور تدبیر کرتا ہے۔ وہ زمین پر بسنے والوں کو رزق دینے کے لیے وہ تمام اسباب مہیا کرتا ہے جن سے اہل زمین کو رزق مہیا ہوسکتا ہے۔ اس نے زمین میں روئیدگی کے بیشمار خزانے رکھے ہیں۔ اس کی سیرابی کے لیے بارش نازل فرماتا ہے، پھر زمین کے نیچے اس نے پانی کے ذخیرے جمع کر رکھے ہیں۔ ان ذخیروں سے چشموں اور کنوئوں کی شکل میں انسان کو پانی مہیا ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر سردیوں میں برف جمتی اور گرمیوں میں اسی کو پگھلا کر میدانی علاقوں میں دریائوں اور ندیوں کی شکل میں پھیلا دیتا ہے اور پہاڑوں میں چشمے ابلتے اور آبشاریں گرتی ہیں۔ رزق رسانی کے لیے جن اسباب کی ضرورت ہے پروردگار کے حکم سے وہ برابر اپنا فرض انجام دیتے ہیں۔ اسی سے اس کے باقی کارخانہ قدرت کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔ کیا اس سے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ پروردگار کا انسانوں کو پیدا کرنا، پھر ان کی زندگی کے تمام امکانات اور ضروریات کو نہایت تدبیر اور تدریج کے ساتھ بروئے کار لانا، اور تمام اسباب کے درمیان گہری ہم آہنگی رکھنا، کیا ایک اِلٰہ کی الوہیت کے علاوہ کسی اور بات پر بھی دلالت کرتا ہے۔ کیا اس تدبیر و انتظام میں کوئی ایسا رخنہ نظر آتا ہے جس میں کسی اور کی دخل اندازی کا امکان ہوسکے۔ لیکن یہ باتیں انھیں لوگوں کو سمجھ میں آسکتی ہیں جو صحیح طریقے سے عقل کو کام میں لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
Ayah 30:25وَمِنْ اٰیٰـتِہٖٓ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآئُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِہٖ ط ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمْ دَعْوَۃً صلے ق مِّنَ الْاَرْضِ صلے ق اِذَآ اَنْـتُمْ تَحْزُجُوْنَ ۔ (الروم : 25)
(اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب وہ تم کو زمین سے پکارے گا تو تم دفعۃً نکل پڑو گے۔ )
ایک اور نشانی کا ذکر
اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک مزید نشانی یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ تمہیں اس بات کا تو یقین ہے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمائے لیکن تم یہ بات بھول جاتے ہو کہ اس نے جس طرح ان کو پیدا فرمایا ہے اسی طرح ان کا مسلسل قائم رہنا اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے ہے۔ اور اس عظیم الشان کارگاہِ ہستی کا پیہم چلتے رہنا بھی اسی کے حکم کی بدولت ہے۔ اگر ان کے قیام وقرار سے وہ ایک لمحہ کے لیے بھی بےنیاز ہوجائے تو یہ تمام کارخانہ ہستی ایک لمحہ کے لیے بھی برقرار نہ رہ سکے۔ جس طرح اس کی مرضی کے بغیر کوئی مخلوق وجود میں نہیں آسکتی، اسی طرح اس کے حکم کے بغیر کوئی چیز باقی بھی نہیں رہ سکتی۔
قیامت کے انکار کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا کہ اہل عرب یہ سمجھتے تھے کہ پہاڑوں جیسی مضبوط چیز کو ان کی جگہ سے کوئی نہیں ہلا سکتا۔ اور وہ چونکہ زمین پر ایستادہ ہیں اس لیے زمین کا تباہ ہونا بھی ممکن نہیں۔ ان کی سوچ کو سامنے رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ پہاڑ تو ایک معمولی مخلوق ہیں، آسمان اور زمین اور ان کے درمیان اور ان کے اندر پھیلی ہوئی تمام کائنات صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم ہے۔ اور یہ اس وقت تک قائم ہے جب تک اللہ تعالیٰ ان کو قائم رکھنا چاہے۔ اور جب اس کو منظور ہوا کہ اس نظام کو درہم برہم کرکے ایک دوسرا نظام قائم کردیا جائے تو اسے اس کے لیے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ وہ زمین کی طرف سے تمہیں بلانے کے لیے ایک ہی پکار پکارے گا، اور تم سب دفعۃً زمین سے نکل پڑو گے۔ اسے دوسری دفعہ حکم دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس کے ایک حکم سے زمین کے ہر گوشے سے انسان نکل کر میدانِ حشر میں پہنچ جائیں گے۔
Ayah 30:26وَلَـہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط کُلٌّ لَّـہٗ قٰـنِـتُوْنَ ۔ (الروم : 26)
(آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اس کے بندے ہیں، سب اسی کے فرمانبردار ہیں۔ )
سابقہ آیت پر دلیل
اس سے پہلے کی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک پکار پر زمین کے ہر گوشے سے انسان نکل آئیں گے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی کی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ایک پکار پر سب انسانوں کا اپنی اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہونا اس لیے ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے سب اسی کی مخلوق، اسی کے مملوک اور اسی کے فرمانبردار ہیں۔ کسی کی کیا مجال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی کرسکے اور اس کی پکار سن کر تعمیل سے پہلوتہی کرے۔
Ayah 30:27وَھُوَالَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَھُوَ اَھْوَنُ عَلَیْہِ ط وَلَہُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی فِی السَّمٰوٰتِ وْالْاَرْضِ ج وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الروم : 27)
(اور وہی ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے، اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے سب سے برتر صفت ہے، اور وہ زبردست اور حکیم ہے۔ )
سابقہ دلیل کی مزید تسہیل
تبلیغ و دعوت کا اصول یہ ہے کہ بعض دفعہ بات کو بار بار کہا جاتا ہے۔ البتہ اس بات کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ کہنے کا انداز ایسا پر شکوہ اور دلآویز ہو کہ سننے والا اس پر توجہ دیے بغیر نہ رہ سکے۔ اور ساتھ ہی یہ بات بھی کہ اگر پہلی دلیل کا اعادہ کیا جائے تو اس میں مزید اضافہ بھی ہونا چاہیے۔ اہل عرب کا قیامت کے بارے میں جو تصور تھا وہ ایک ایسے مرض کی شکل میں ڈھل چکا تھا کہ جس کی اصلاح بےحد مشکل دکھائی دیتی تھی۔ اسی لیے قرآن کریم کا معجزانہ اسلوب اور آنحضرت ﷺ کا نہایت حکیمانہ انداز ان کے دلوں پر اثرانداز نہیں ہورہا تھا۔ چناچہ اسی سورة میں اس سے ایک رکوع پہلے یہی بات ارشاد فرمائی گئی کہ تم اس بات کو مانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی جملہ کائنات اور تمہارا خالق ہے، اور تم ایک مخلوق کے طور پر اس کے سامنے ہو۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ تمہیں یہ کہا جاتا ہے کہ تمام مخلوقات کی ہلاکت کے بعد اللہ تعالیٰ تمہیں ازسر نو زندہ کرے گا اور قانونِ جزاء و سزا کے مطابق تمہیں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنا ہوگی، تو تمہیں فوراً حیرانی آپکڑتی ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے، حالانکہ ہر عقلمند آدمی یہ بات سمجھتا ہے کہ جو کام ایک دفعہ کیا جاسکتا ہے اس کا اعادہ بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن نہ جانے تمہیں اس میں کیا استعجاب معلوم ہوتا ہے۔ اب اسی دلیل کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ کسی بنائی ہوئی چیز کو دوبارہ بنانا پہلی دفعہ کی نسبت زیادہ آسان ہوتا ہے۔ اور اس بات کو ایک عام عقل کا آدمی بھی سمجھتا ہے، تو پھر تم قیامت کے وقوع سے انکار کیوں کرتے ہو۔
وَلَہُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی فِی السَّمٰوٰتِ وْالْاَرْضِ ، مَثَلْ یہاں صفت کے مفہوم میں آیا ہے، لیکن اس کے ساتھ الْاَعْلٰیکی صفت لگا کر ایک غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے۔ غلط فہمی یہ ہے کہ ہم جب قرآن کریم پڑھتے ہیں یا ویسے اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر کرتے ہیں تو عام طور پر انھیں الفاظ میں صفات ذکر کی جاتی ہیں جو ہماری اپنی زبان میں مستعمل ہیں۔ اس سے یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ کی صفات بھی ہماری صفات کی طرح ہیں۔ اس لیے ایک تو اس بات پر توجہ دلائی گئی ہے کہ ہماری زبان کے الفاظ میں اس کی صفات کا ذکر کرنا دراصل تقریبِ فہم کے لیے ہے۔ اور اسی مقصد کے لیے تمثیلی صورت بھی اختیار کی گئی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہماری صفات اور اس کی صفات ایک جیسی ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ایسی اعلیٰ صفات ہیں جن کا انسان اپنے لیے تصور بھی نہیں کرسکتا۔ وہ تمام اعلیٰ صفتوں کا حقدار ہے۔ کوئی دوسرا ان صفات میں اس کا شریک نہیں ہوسکتا۔ پھر ان صفات میں سے خاص طور پر دو صفتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے، یعنی عزیزوحکیم۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر چیز پر غالب ہے، ہر ایک سے بالاتر اور سب سے عظیم ہے۔ اور دوسرا یہ کہ وہ غالب ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم بھی ہے۔ اس کے ہر کام میں حکمت ہے، اس کے لیے کوئی کام بھی مشکل نہیں، اس کے ارادے میں اس کی حکمت کے سوا اور کوئی چیز بھی دخیل نہیں۔
Ayah 30:28ضَرَبَ لَکُمْ مَّثَلاً مِّنْ اَنْفُسِکُمْ ط ھَلْ لَّکُمْ مِّنْ مَّا مَلَـکَتْ اَیْمَانُـکُمْ مِّنْ شُرَکَآئَ فِیْ مَارَزَقْنٰـکُمْ فَاَنْـتُمْ فِیْہِ سَوَآئٌ تَخَافُوْنَھُمْ کَخِیْفَتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ ط کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۔ (الروم : 28)
(وہ تمہیں خود تمہارے اندر سے ایک مثال دیتا ہے، کیا تمہارے ان غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں تمہارے حصہ دار ہیں اس مال میں جو ہم نے تم کو عطا فرمایا ہے، یوں کہ تم (اور وہ) برابر کے حصہ دار بن گئے ہو، حتیٰ کہ تم ڈرنے لگو ان سے جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو، اس طرح ہم کھول کر بیان کرتے ہیں اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ )
توحید پر نفسیاتی دلیل
گزشتہ آیات میں توحید اور آخرت کا ذکر ساتھ ساتھ چلتا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ایسی نشانیاں بیان کی گئی ہیں جن میں توحید کے دلائل بھی ہیں اور انھیں سے آخرت کے وقوع پر بھی استدلال کیا گیا ہے۔ اب پیش نظر آیات میں خالص توحید پر کلام شروع ہورہا ہے۔ اس میں توحید کے مختلف گوشوں پر دلائل دیے جارہے ہیں، ان دلائل میں سے بعض ایسے ہیں جن کا تعلق انسانی نفسیات سے ہے۔ چناچہ سب سے پہلی دلیل ایک مثال کی صورت میں پیش کی جارہی ہے، جو عام فہم بھی ہے اور دلنشیں بھی۔ دلیل کو سوال کی شکل دیتے ہوئے پوچھا گیا ہے کہ تمہارے زیرتصرف کچھ ایسے انسان ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہی طرح پیدا فرمایا ہے لیکن وہ حالات کی کسی افتاد سے تمہارے قبضے میں آگئے ہیں اور اب وہ تمہارے غلام اور تمہارے مملوک ہیں۔ وہ تمہارے احکام کے مطابق شب و روز تمہاری خدمت بھی کرتے ہیں اور ان میں بہت سے ایسے بھی ہیں جو تمہاری کمائی کا ذریعہ ہیں۔ یعنی تمہیں ہر طرح سے ان کے فوائد پہنچ رہے ہیں جبکہ ان کا وجود تمہاری تخلیق کا رہین منت نہیں، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ کیا تم اپنے زیرتصرف چیزوں اور اس مال و دولت میں جو تمہیں اللہ تعالیٰ ہی نے عطا کر رکھی ہیں انھیں برابری کا حق دے چکے ہو۔ اور تم ہر طرح سے ان کا یہ حق تسلیم کرتے ہو کہ وہ جو تصرف چاہیں اس مال و دولت میں کریں جس میں تم نے انھیں اپنا شریک بنا لیا ہے۔ اور تم اگر اپنے طور سے کوئی فیصلہ کرنا چاہو تو محض اس خیال سے نہ کرسکو کہ وہ شاید تم سے جھگڑا کریں یا اس فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کردیں۔ اس کا جواب واضح ہے کہ تم اپنے غلاموں کو یہ آزادی دینا کبھی گوارا نہیں کرو گے، اور ان کا یہ حق تم کبھی تسلیم نہیں کروگے حالانکہ نہ جانے کتنے کاموں میں تم ان کے محتاج ہو۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو کائنات کی ہر چیز کا خالق بھی ہے اور مالک بھی، اور اسے تمام مخلوقات پر ہر طرح کے تصرف کا حق بھی ہے۔ اور مخلوق میں سے کسی کو اس بات کا حق نہیں کہ وہ اس کے کسی کام پر معترض ہوسکے یا دخل دے سکے۔ لیکن اس کے باوجود تم اس کے ساتھ بےجان مورتیوں اور فنا ہوجانے والے انسانوں کو شریک بناتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کے کتنے اختیارات ہیں جو تم نے انھیں سونپ رکھے ہیں۔ تم خود ہی سوچو کہ یہ کیسی بےانصافی اور حماقت کی بات ہے کہ تم اپنی مال و دولت اور اپنے معاملات میں تو کسی کو شریک ہونے کی اجازت نہیں دیتے ہو، لیکن اللہ تعالیٰ کے بےتکلف شریک بناتے ہو۔ حالانکہ تمام اعلیٰ صفات اور برتر حقوق کا اصلی حقدار زمین و آسمان میں صرف وہی ہے۔ یہ شرک کی ایسی نفسیاتی دلیل ہے کہ جو شخص ذرا بھی انسانی معاملات میں جھانک کر دیکھے گا وہ کبھی اس کی کاٹ کا انکار نہیں کرسکتا۔
علامہ قرطبی نے اس آیت کی شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کفار عرب جب حج کے لیے احرام باندھتے تھے تو ان الفاظ سے تلبیہ کہتے۔ لبیک اللھم لبیک لاشریک لک لبیک الاشریکاً ھولک تملکہ وما ملک ” اے اللہ ! ہم حاضر ہیں، تیرا کوئی شریک نہیں، ہم حاضر ہیں۔ سوائے اس کے جس کو تو نے خود اپنا شریک بنایا ہے، تو اس کا بھی مالک ہے اور اس چیز کا بھی تو مالک ہے جس کا وہ مالک ہے۔ “ یہی وہ شرک ہے جس کی تردید اس آیت کریمہ میں کی گئی ہے۔
آیت کے آخر میں فرمایا کہ ہم اپنی آیات کو کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ اس سے ایک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس دلیل سے پروردگار کے پیش نظر اپنی وحدانیت کو جس طرح کھول کر بیان کرنا تھا اس کی تکمیل ہوگئی۔ اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس دلیل کو سمجھنے کے لیے بہت زیادہ علوم و فنون کو جاننے کی ضرورت نہیں، ایسی سادہ عقل جو تحفظات سے آلودہ نہ ہو وہ بھی اسے سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ ہماری یہ دلیل ان لوگوں کے لیے ہے جو عقل سے کام لینا چاہیں۔ لیکن جن لوگوں کو عقل سے زیادہ کچھ اور چیزیں عزیز ہیں وہ ایسی واضح دلیلوں کے بعد بھی ہدایت سے محروم رہتے ہیں۔
Ayah 30:29بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْآ اَھْوَآئَ ھُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍج فَمَنْ یَّھْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰہُ ط وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔ (الروم : 29)
(مگر یہ ظالم بےدلیل اپنی ہَوائے نفس کے پیچھے چل رہے ہیں تو کون اس شخص کو راستہ دکھاسکتا ہے جسے اللہ نے گمراہ کردیا ہو، ایسے لوگوں کا تو کوئی مددگار نہیں ہوسکتا۔ )
ہَوائے نفس کی پیروی کرنے والوں کا انجام
بعض دفعہ انسان کسی صحیح بات کو بھی قبول کرنے میں اس لیے تأمل کرتا ہے کہ وہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔ ایسی صورت میں بات کہنے والے کا فرض یہ ہے کہ وہ آسان سے آسان دلیل کے ذریعے اپنے مخاطب کو سمجھانے کی کوشش کرے۔ چناچہ مخاطب اگر واقعی حُسنِ نیت سے تہی دامن نہیں تو وہ دلیل کی قوت سے بات کو سمجھ جاتا ہے۔ کیونکہ دلیل کا وظیفہ ہی یہ ہے کہ وہ مشکل بات کو آسان کرکے سننے والے کے ذہن میں اتار دے۔ لیکن اگر حادثہ یہ ہوجائے کہ مخاطب عقل رکھتے ہوئے بھی عقل کی قوت کھو بیٹھے یعنی وہ ایسے تحفظات کا شکار ہوجائے جن کی موجودگی میں وہ صحیح سے صحیح بات کو قبول کرنے کی جرأت نہ کرسکے یا اس کے نفس کی خواہشات اس قدر اس کی عقل پر غالب آجائیں کہ عقل اپنا کام کرنے سے معذور ہوجائے تو ایسے شخص پر دلیل بھی کارآمد نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ عقل یقینا اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا عطیہ ہے۔ زندگی کے مسائل میں وہ صحیح ترین رہنما ہے۔ لیکن جب اسے اس کے دائرہ کار سے باہر استعمال کیا جائے یا اس پر ایسے حقائق کو سمجھنے کا بوجھ ڈالا جائے جو اس کی رسائی سے باہر ہیں۔ مثلاً اس کی حدود، محسوسات اور معقولات تک ہیں۔ اب اگر کوئی شخص اسے مابعد الطبعیات، الٰہیات، عالم غیب، عالم ملکوت، عالم برزخ، عالم آخرت اور ایسی ہی دوسری چیزوں میں جو عقل کی حدود سے ماورا ہیں، استعمال کرے اور پھر عقل صحیح نتائج دینے سے معذور رہے تو اس میں غلطی عقل کی نہیں، اسے غلط جگہ استعمال کرنے والے کی ہے۔ اقبال نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا :
خرد سے راہ رو روشن بصر ہے
خرد کیا ہے چراغ رہ گزر ہے
درونِ خانہ ہنگامے ہیں کیا کیا
چراغِ رہ گزر کو کیا خبر ہے
اور دوسری شرط یہ ہے کہ عقل، عقلِ سلیم ہو۔ اس پر نہ تحفظات کا غلبہ ہو اور نہ ہوائے نفس کا۔ کیونکہ ان دونوں کی موجودگی میں عقل اپنی قوت کارکردگی سے محروم ہوجاتی ہے۔ خواہشات جنسی ہوں یا مفاداتی، ہوس درہم و دینار کی ہو یا عہدہ و منصب کی۔ یہ اپنے اندر اس قدر کشش اور اپیل رکھتی ہے کہ عقل عموماً اس کے سامنے بےبس ہو کر رہ جاتی ہے۔ اور یہ ایسی کمزوری ہے جس میں جاہل بھی مبتلا ہے اور عالم بھی، نوجوان بھی اس کا اسیر ہے اور بزرگ بھی۔ حتیٰ کہ جن لوگوں کو ہماری تاریخ بڑے لوگوں کی صف میں شمار کرتی ہے ان میں بھی ایسے لوگ گزرے ہیں جن میں سے ایک مشہور نام ڈاکٹر فرائیڈمین کا ہے جس کی مشہور کتاب ” دی لیگل تھیوری “ ہے۔ اس میں اس نے نہایت زور دے کر یہ بات کہی ہے کہ دنیا میں اخلاق نام کی کوئی چیز نہیں۔ یہ صحیح ہے یا غلط ہے، یہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے، یہ سراسر جذباتی باتیں ہیں۔ انسان کو ہر وہ کام کرنا چاہیے جو اس کی خواہشِ نفس چاہتی ہو۔ عقل کا کام یہ نہیں کہ وہ نفس کی خواہش پر پہرے بٹھائے بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ نفس جو چاہے اس کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور اس کے صحیح ہونے پر دلائل مہیا کرے۔ گویا عقل ہوائے نفس کی ایجنٹ اور وکیل ہے۔ اور یہ وہ بات ہے جو صدیوں پہلے فرقہ باطنیہ کے رہنما کہہ چکے ہیں۔ اور ” الفرق بین الفرق “ کے مصنف نے فرقہ باطنیہ کے مشہور لیڈر عبیداللہ القیروانی کا ایک خط بھی نقل کیا ہے جس سے ان خیالات کی تائید ہوتی ہے۔ اور آج یورپ کا بیشتر حصہ اور امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک کے دانشور خواہشِ نفس کی نمائندگی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ زنا کا جواز تو اب پرانی بات ہوگئی۔ چند سال پہلے ہم جنس پرستی جیسی لعنت کو باقاعدہ قانون کی شکل دے کر سندجواز دے دی گئی ہے۔ اور ان چند سالوں میں عقل نے ایسی بےحیائی جس پر قوم لوط پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا کے حق میں ایک پورا فلسفہ تیار کردیا جسے Gay Styleof Life کے نام سے ہر بڑی لائبریری میں ایک مستقل پورشن کی حیثیت سے رکھا گیا ہے۔ ایسے لوگوں کو اخلاق سے متعلق کوئی بات سمجھانا اور ان میں بےحیائی کی شناعت پیدا کرنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ جب کوئی قوم اپنی عقل کو ہوائے نفس کے تابع کردیتی ہے اور ان کی زندگی کے ہر فیصلے پر اس کی پرچھائیں پڑجاتی ہیں تو ایسی قوم سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ عقل کی کسی بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ کیونکہ اس سطح پر پہنچ کر اللہ تعالیٰ کا قانون حرکت میں آتا ہے۔ اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے قانون کی زد میں آکر صحیح عقل کی قوت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے گمراہ کرنے سے تعبیر کیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ کوئی حق پسند آدمی جب اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی توفیق طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طلب صادق کے مطابق اس کے لیے زیادہ سے زیادہ اسبابِ ہدایت پیدا فرما دیتا ہے۔ اور کوئی ایسا شخص جو گمراہی ہی کو ہدایت قرار دے چکا ہے اور خواہشِ نفس کا اسیر ہو کر عقل کو مسموم کرچکا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے گمراہی ہی کے راستوں پر چلنا آسان کردیتا ہے۔
آخر میں فرمایا کہ یہ مشرک لوگ شفاعت کے غلط عقیدہ کو اپنے لیے ایک بہت بڑا سہارا سمجھتے ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئیں گے تو کوئی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کی شفاعت نہیں کرتے۔
Ayah 30:30فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا ط فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَیْھَا ط لاَ تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ق لا وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الروم : 30)
(پس اے پیغمبر ! آپ یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف کرلیں اور قائم ہوجائیں اس فطرت پر جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی تخلیق میں کوئی ردوبدل نہیں ہوسکتا، یہی سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ )
دینِ فطرت کی پیروی کا حکم
فعل سے پہلے فا تاکید کے لیے ہے۔ مقصود یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کاملہ دلائل و شواہد سے ثابت ہوگئی، وقوعِ قیامت کے بارے میں شکوک و شبہات کا ازالہ ہوگیا۔ اور اس بات میں کوئی شبہ نہ رہا کہ انسان کا خالق ومالک اور خالق ذی اختیار اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں۔ تو اب اس کے بعد عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ہر طرف سے منہ پھیر کر اللہ تعالیٰ کی طرف رخ جما لیا جائے۔
اَقِمْ ، اََقَامَ الْعُوْد سے ماخوذ ہے۔ یعنی لکڑی کو ایسا درست اور سیدھا کرنا کہ اس میں کجی کا نام و نشان تک نہ رہے۔ آیت میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ اپنا رخ دین اسلام کی طرف اس طرح پھیر دو کہ صراط مستقیم پر چلنے اور اسلام کو منزل ٹھہرانے میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ ہر قدم منزل کی طرف اٹھے اور نقوش قدم صراط مستقیم سے بھٹکنے نہ پائیں۔ اسی تاکید میں مزید اضافے کے لیے حَنِیْفًاکی شرط عائد کی گئی۔ یہ اَقِمْ کی ضمیرفاعل سے حال ہے۔ اس کی اصل اَلْحِنَفْ ہے۔ اس کا معنی ہے المیل من الضلال الی الاستقامۃ۔ یعنی گمراہی سے رخ پھیر کر ہدایت اور راستی کی طرف متوجہ ہونا، اور ہر طرف سے کٹ کر یکسو ہوجانا۔
فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَیْھَا۔ فطرۃ کا وزن اور معنی خلقۃ ہے۔ یعنی آفرینش اور اختراع۔ حضرت انس ( رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا، کہ اللہ تعالیٰ کی وہ فطرت جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا دین ہے۔ روح المعانی میں علامہ آلوسی نے اس آیت کا معنی بیان کرتے ہوئے جو کچھ فرمایا ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ” یہ دین عقل سلیم سے کلیۃ ً ہم آہنگ اور فہمِ صحیح کے عین مطابق ہے۔ اسی لیے فطری طور پر انسان نہ اس سے منہ موڑ سکتا ہے، نہ اس کا انکار کرسکتا ہے۔ “ مراد اس سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسان اس فطرت پر پیدا فرمائے ہیں کہ ان کا کوئی خالق اور کوئی رب اور کوئی معبود اور مطاع حقیقی ایک اللہ کے سوا نہیں ہے۔ اسی فطرت پر انسانوں کو قائم رہنا ہے۔ اگر وہ خودمختاری کارویہ اختیار کریں گے تو فطرت کے خلاف چلیں گے۔ اور اگر بندگیِ غیر کا طوق اپنے گلے میں ڈالیں گے، تب بھی اپنی فطرت کے خلاف کام کریں گے۔ اسی مضمون میں متعدد احادیث میں نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا ہے جن میں سے صرف ایک حدیث پیش خدمت ہے۔ صحیحین کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : مامن مولود یولد الاعلی الفطرۃ فابواہ یھودانہ اوینصرانہ اویمجسانہ کماتنتج البھیمۃ بھیمۃ جمعاء، ھل تحسون فیھا من جدعاء ” ہر بچہ جو کسی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے اصل انسانی فطرت پر پیدا ہوتا ہے، یہ ماں باپ ہیں جو اسے بعد میں عیسائی یا یہودی یا مجوسی بنا ڈالتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جسے ہر جانور کے پیٹ سے پورا کا پورا صحیح سالم جانور برآمد ہوتا ہے، کوئی بچہ بھی کٹے ہوئے کان لے کر نہیں آتا۔ بعد میں مشرکین اپنے اوہامِ جاہلیت کی بنا پر اس کے کان کاٹتے ہیں۔ “
ایک خطبہ ٔ جمعہ میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میرا رب فرماتا ہے کہ میں نے اپنے تمام بندوں کو حنیف پیدا کیا تھا، پھر شیاطین نے آکر انھیں ان کے دین سے گمراہ کیا، اور جو کچھ میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا اسے حرام کیا، اور انھیں حکم دیا کہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک ٹھہرائیں جن کے شریک ہونے پر میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔
فطرۃ اللہ کا منصوب ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس سے پہلے فعل محذوف ہے اور یہ اس کا مفعول ہے۔ فعل محذوف وہ ہوگا جو سابق فعل سے مستفاد ہو۔ اس لحاظ سے اَقِیْمُوْا یا اِتَّبِعُوْا یا اِلزِمُوْا یا اس کا ہم معنی کوئی اور فعل یہاں محذوف مانا جاسکتا ہے۔ فعل کو حذف کرنا اور مفعول کو ذکر کرنا اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مخاطب کی ساری توجہ مفعول پر مرتکز ہوجاتی ہے۔ یہاں بھی زور دے کر یہ بات فرمائی جارہی ہے کہ تمہیں ہر طرف سے کٹ کر اللہ تعالیٰ کی فطرت پر قائم ہوجانا چاہیے اور اس کے اتباع کو اپنا طرزعمل بنا لینا چاہیے۔ اور زندگی کے ہر شعبے میں اسے زندگی کا لازمہ ٹھہرا دینا چاہیے۔ کیونکہ یہی دین قیم ہے اور اسی پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا ہے۔ پھر اس پر مزید زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر انسان کو پیدا کیا ہے اس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں۔ انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ اس کا خالق، اس کا مالک، اس کا رب، اس کا معبود اور اس کا مطاع حقیقی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ نہ اس کی بندگی میں کوئی شریک ہے، نہ اس کی عبادت میں اور نہ اس کی غیرمشروط اطاعت میں۔ یہی اللہ تعالیٰ کا سیدھا دین ہے۔ یعنی زندگی کا یہی صحیح طریقہ ہے کہ جس میں عبادت، بندگی اور اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اور اس کی حاکمیت میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ کبریائی اسی کو زیب دیتی ہے۔ انسانوں کو ابدی قانون دینا اسی کا حق ہے کیونکہ تحلیل و تحریم کا حق اس کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جو شخص یا جو قوم اس میں تبدیلی کی کوشش کرتی ہے وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدلتی ہے۔ انسان اپنی ذات میں بندہ ہے وہ خدا نہیں بن سکتا۔ اور نہ کسی اور کو خدا بنانے سے اللہ تعالیٰ کی بندگی کا حق ادا ہوسکتا ہے۔ انسان اپنی جہالت اور نادانی سے کبھی اللہ تعالیٰ کی بندگی سے نکل کر اپنے بندہ ہونے کا انکار کرتا ہے۔ اور کبھی قانون سازی کو اپنا حق سمجھ کر یا اللہ تعالیٰ کے قانون کو رد کرکے خدائی اختیارات کو استعمال کرتا ہے تو تب بھی وہ بندگی کی حدود سے نکل جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اسے جس فطرت پر پیدا کیا تھا اسے پامال کردیتا ہے۔ یہ وہ جہالت اور بےعلمی ہے جس نے ہمیشہ انسانوں کی دنیا و آخرت تباہ کی۔