Ayah 30:46وَمِنْ اٰیٰـتِہٖٓ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِیُذِیْقَـکُمْ مِّنْ رَّحْمَتِہٖ وَلِتَجْرِیَ الْفُلْکُ بِاَمْرِہٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (الروم : 46)
(اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ بھیجتا ہے ہَوائوں کو بشارت دینے والی بنا کر تاکہ وہ تم کو اپنی رحمت سے بہرہ مند کرے، اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔ )
اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی
گزشتہ آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔ اس میں جو نفرت و کراہت چھپی ہوئی ہے اسے صرف محسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس نفرت کا تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کفار پر زمینی زندگی تنگ کردے۔ انھیں بیشک تباہ و برباد نہ کرے لیکن جینا ان کے لیے مشکل بنا دے تاکہ وہ اپنے کفروشرک کا انجام دنیا میں بھی دیکھیں۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ وہ کافروں پر بھی رزق کے دروازے بند نہیں کرتا۔ ان کے رزق کا دارومدار چونکہ بہت حد تک نزول باراں پر ہے، اس لیے جب وہ بارش کی طرف سے ناامید ہونے لگتے ہیں اور قحط سالی ان کی اجتماعی زندگی کو ہلا کے رکھ دیتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر ایسی ہَوائیں بھیجتا ہے جو ابررحمت کی بشارت بن کر آتی ہیں۔ پھر بارش نازل فرما کر انھیں اپنی رحمت سے بہرہ مند کرتا ہے۔ مردہ زمین ازسرنو زندہ ہوجاتی ہے، ہر طرف زندگی کے آثار دکھائی دینے لگتے ہیں، ٹنڈمنڈ درخت ہرے ہوجاتے ہیں، زمین مخمل کا لباس پہن لیتی ہے، نئے نئے شگوفے پھوٹنے لگتے ہیں، پانی کے اجڑے ہوئے ذخیرے پھر سے بھر جاتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت اسی پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ ایک اور طرح کی ہَوائوں کو بھی بھیجا جاتا ہے جو جہاز رانی میں مددگار ہوتی ہیں۔ بادبانی کشتیاں اسی بادموافق کے ذریعے چلتی ہیں اور یہی کشتیاں اور بحری جہاز دور دراز ملکوں میں تجارتی سامان لے جانے کا ذریعہ بنتے ہیں اور اس سے جزیرہ عرب جیسے زندگی کے وسائل سے محروم قطعہ زمین پر رہنے والوں کی دولت و ثروت کا باعث بنتے ہیں۔ اسی ذریعے سے اہل عرب ملکوں ملکوں گھومتے اور تجارت کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ کیا وہ لوگ جن کے کفر کے باعث اللہ تعالیٰ انھیں پسند نہیں کرتا لیکن اس کے باوجود اس قدر نعمتوں کے دروازے ان پر کھول رکھے ہیں تاکہ وہ ان نعمتوں پر شکرگزاری کا حق ادا کرکے جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنا چاہیں تو یہ دروازہ ہر وقت ان کے لیے کھلا ہے۔
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس آیت کریمہ کو دوسرے پہلو سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت اور اس کے بعد کی آیات میں نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے۔ کیونکہ جب یہ آیات نازل ہورہی تھیں، کفار کی طرف سے مخالفت اور ایذارسانی کا عمل پوری قوت سے جاری تھا۔ صورتحال یہ ہوگئی تھی کہ کسی طرف سے بھی آنحضرت ﷺ کی دعوت کی قبولیت کے آثار نمایاں ہوتے دکھائی نہ دیتے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ اسلامی دعوت ایک ایسی بند گلی میں پہنچ گئی ہے جس سے نکلنے کا کوئی امکان نہیں۔ اور اہل مکہ اور گردوپیش کے علاقوں کے رہنے والوں نے پوری طرح اپنے دل اس دعوت کے لیے بند کرلیے تھے۔ چناچہ اس ماحول میں پروردگار تسلی دیتے ہوئے یہ فرما رہے ہیں کہ جس طرح بارش کے نزول سے پہلے حبس کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے، ہَوائیں رک جاتی ہیں اور فضا اس طرح گھٹ کر رہ جاتی ہے کہ سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے۔ اور عرب میں یہ کیفیت بعض دفعہ بہت طویل ہوجاتی تھی۔ اس کیفیت کو دیکھتے ہوئے کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب آسمان کے دروازے بارانِ رحمت کے لیے کبھی نہیں کھلیں گے۔ لیکن ایسی ناامیدی کے زمانے میں اچانک ٹھنڈی ہَوائیں ابرِرحمت کے لیے خوشخبری دیتی ہوئی آتی ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے جل تھل ایک ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر جلتی بلتی زمین کو اللہ تعالیٰ بارانِ رحمت سے مایوس نہیں ہونے دیتا تو کیسے ممکن ہے کہ جن ناموافق حالات میں اسلامی دعوت گھر کر رہ گئی ہے اور ہر طرف کفار کی مخالفت نے ایک حبس کی کیفیت پیدا کردی ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلنے کے لیے اسباب پیدا نہ فرمائے۔ یقینا تائید ونصرت کی ایسی ہَوائیں چلیں گی جن سے اسلامی دعوت کی کھیتی پھر سے ہری بھری ہوجائے گی۔ اور انھیں بند دروازوں سے حق کو قبول کرنے والے نکلیں گے۔ چناچہ دیکھتے ہی دیکھتے مدینے کی طرف سے قبولیت کی ہَوائیں آنے لگیں اور ہجرت کے چند ہی سال بعد عرب کا مرکزاعصاب یعنی مکہ سرنگوں ہوگیا۔ اور پھر نہایت مختصر وقت میں پورا جزیرہ اسلام کی آغوش میں آگیا۔
Ayah 30:47وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلاً اِلٰی قَوْمِہِمْ فَجَآئُ وْھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا ط وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الروم : 47)
(اور ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا، پس وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے، تو ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جنھوں نے جرم کیا، اور اہل ایمان کی نصرت ہم پر لازم تھی۔ )
گزشتہ آیت کی وضاحت تاریخ کے آئینہ میں
گزشتہ آیت میں نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو جو تسلی دی گئی ہے، اسے تاریخ کی روشنی میں واضح فرمایا ہے اور ساتھ ہی ساتھ کفار کو تنبیہ بھی کی گئی ہے، یعنی یہ بات واضح کی گئی ہے کہ آپ ﷺ دنیا میں پہلے رسول نہیں، آپ ﷺ سے پہلے بھی ہم نے رسول بھیجے ہیں۔ کئی رسولوں کے حالات آپ ﷺ پر نازل کیے جا چکے ہیں۔ وہ بھی آپ ﷺ کی طرح اپنی قوموں کی طرف کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ انھوں نے ان نشانیوں سے بھی استدلال کیا جو کائناتِ فطرت میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں جن سے انسان کو اپنی زندگی میں ہر آن سابقہ پیش آتا ہے۔ چناچہ اسی کی ایک مثال گزشتہ آیت میں بھی ہم پڑھ چکے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ ایسے معجزات بھی لے کر آئے جو یہ بات واضح کرنے کے لیے کافی تھے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول اور فرستادہ ہیں۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کے رسول کے ہاتھ پر کسی ایسے خرق عادت کام کا ظہور ہوتا ہے جس کے کرنے سے ساری دنیا عاجز ہوتی ہے، تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس کی پشت پر اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی قدرت ہے۔ جیسے عصائے موسیٰ اور یدبیضا۔ یا حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے ہاتھ سے کوڑھیوں کا ٹھیک ہونا، اندھوں کا بینا ہوجانا، بعض مردوں کا زندہ ہوجانا، مٹی کی بنی ہوئی مورتیوں کا پرندوں کی طرح اڑنے لگنا وغیرہ۔ اور آنحضرت ﷺ کی انگلی کے اشارے سے چاند کا دو ٹکڑے ہونا، کنکریوں کا کلمہ پڑھنا، چند آدمیوں کا کھانا سینکڑوں لوگوں کے لیے کافی ہوجانا، پانی کے چند قطروں کا ذخیرہ آب کی شکل اختیار کرلینا۔ اس کے علاوہ انبیاء کی غیرمعمولی پاکیزہ سیرت اور انسانی معاشرے پر ان کے حیات بخش اثرات، ایسی نشانیاں لے کر آئے لیکن قوموں نے ان نشانیوں اور حجتوں کی قدر کرنے کی بجائے مجرمانہ روش اختیار کی۔ نہ صرف انکار و تکذیب سے کام لیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی زندگی کے پیچھے پڑگئے۔ اور ان کے بارے میں ہر غلط سے غلط حرکت کو انھوں نے اپنا حق سمجھ لیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان سے ان جرائم کا انتقام لیا۔ رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کو وہاں سے نکال لیا اور ان پر ایسا عذاب نازل ہوا جس سے ان کی جڑ کٹ کر رہ گئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تاریخ کی یہ شہادت یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ہم نے اپنے رسولوں اور صاحب ایمان لوگوں کو کبھی بےبسی کی حالت میں نہیں چھوڑا۔ جب مخالفین کی طرف سے حق کو ختم کرنے کی کوششیں ہوتی ہیں تو پھر ہم اہل حق کی مدد کرتے ہیں۔ یہ ہماری سنت ہے۔ اب اگر اہل مکہ یا اہل عرب نے آپ اور آپ کی دعوت کے ساتھ یہی کچھ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو ہم بھی آپ کی مدد کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا دین غالب آئے گا اور یہ لوگ اپنے بدترین انجام کو پہنچیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے واقعی ایسی ہی مدد فرمائی۔ پورے جزیرہ عرب میں اسلام کا جھنڈا لہرانے لگا اور مخالفین کی بڑی تعداد اسلام کی آغوش میں آگئی یا تحلیل ہوگئی۔
Ayahs 30:48–49اَللّٰہُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَـتُـثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُہٗ فِی السَّمَآئِ کَیْفَ یَشَآئُ وَیَجْعَلُـہٗ کِسَفًا فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰـلِہٖ ج فَاِذَٓا اَصَابَ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖٓ اِذَاھُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ ۔ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْہِمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمُبْلِسِیْنَ ۔
(الروم : 48، 49)
(اللہ ہی ہے جو ہَوائوں کو بھیجتا ہے، پس وہ بادلوں کو ابھارتی ہیں، پھر وہ ان باد لوں کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے جس طرح چاہتا ہے اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ بارش بادلوں میں سے نکلتی چلی آتی ہے، پس جب وہ اس بارش کو اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے پہنچا دیتا ہے تو وہ یکایک خوش ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ وہ اس کے نازل کیے جانے سے قبل، اس خوشی سے پہلے، بالکل مایوس تھے۔ )
فَـتُـثِیْرُ سَحَابًا، تُحَرِّکُـہٗ ، تُنْشِرُہٗ ، کِسَفًا، یہ کِسْفَۃٌ کی جمع ہے، اس کا معنی ہے ٹکڑا۔ اَلْوَدْقُ ، بارش۔
اپنی قدرت قاہرہ کی وضاحت ایک مثال سے
گزشتہ آیت میں رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کو جو بشارت دی گئی ہے اس میں قطعیت پائی جاتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر رسول کی مخالفت کرنے والی قوم کو انتقام کا نشانہ بنایا ہے، جب ان کی مخالفت جرم کی حد تک پہنچ گئی ہے۔ اور اس طرح سے اہل ایمان کی مدد فرمائی۔ اور یہ بھی فرمایا کہ اہل ایمان کی مدد ہم نے اپنے اوپر لازم کرلی ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس سنت کے مطابق آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کی بھی مدد کی جائے گی۔ لیکن مسلمان جب حالات کے بگڑے ہوئے تیور دیکھتے تھے اور مسلمانوں کی قلت تعداد اور مخالفت کے بڑھتے ہوئے سیلاب پر نظر جاتی تھی تو اللہ تعالیٰ کے اس وعدے پر اعتماد کے باوجود مسلمانوں کے دل کانپنے لگتے اور دماغوں میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہونے لگتے تو اللہ تعالیٰ نے پیش نظر آیت کریمہ میں ایک مثال کے ذریعے اپنی قدرت قاہرہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ حالات کے تابع ہمیشہ انسانوں کی تدبیریں ہوتی ہیں۔ اور وہ حالات کے نشیب و فراز کو دیکھتے ہوئے کسی بات کی امید پیدا کرتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ کوئی بڑی سے بڑی تدبیر بھی اس کی تدبیر اور قدرت کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اس لیے خشک سالی اور قحط کے زمانے میں چاہے حالات کچھ بھی ہوں لیکن اللہ تعالیٰ جب زمین کی حالت بدلنے کا فیصلہ کرلیتا ہے پھر اس کا پورا پراسیس حرکت میں آتا ہے اور اس کا تجربہ و مشاہدہ ہر شخص بارش کے نزول سے پہلے کرتا ہے۔ وہ پہلے ہَوائوں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی اور ابھارتی ہیں، پھر ان بادلوں کو اپنی حکمت کے مطابق جس طرح چاہتا ہے فضا میں پھیلاتا اور ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے۔ اور یہ بھی امکان ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہو کہ انھیں تہ بہ تہ کردیتا ہے۔ اب جبکہ آسمان کے منہ پر اور زمین کے سر پر بادلوں کا سائبان تن جاتا ہے اور ایک سناٹے کی کیفیت ہوجاتی ہے جس میں کچھ پتہ نہیں چلتا کہ اب کیا ہونے والا ہے کہ اچانک ان بادلوں کے درمیان سے بارش پھوٹ پڑتی ہے اور قطروں پہ قطرے لپکتے چلے آتے ہیں۔ اور پھر ایسا بھی نہیں کہ اس بارش پر کسی کا کنٹرول نہ ہو اور یہ جہاں چاہے برس جائے، ایسا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا جہاں حکم ہوتا ہے یا اس کی مشیت ہوتی ہے وہیں بادل پہنچ کر برستا ہے۔ تو بارش کے برسنے کے بعد وہ لوگ جو کل تک ہر طرح کی مایوسیوں کا شکار تھے خوش و خرم ہوجاتے اور خوشیاں منانے لگتے ہیں۔ بالکل اسی طرح مسلمان آج حالات کے دبائو کے باعث تائید و نصرت کے حوالے سے مایوسی کا شکار ہورہے ہیں۔ یا انھیں اللہ تعالیٰ کی نصرت بہت بعید دکھائی دیتی ہے۔ لیکن وہ وقت دور نہیں جب اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت بارانِ رحمت کی طرح برسے گی تو مسلمان اس دن شاداں وفرحاں ہوجائیں گے۔
Ayah 30:50فَانْظُرْ اِلٰٓی اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰہِ کَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا ط اِنَّ ذٰلِکَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰی ج وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (الروم : 50)
(پس اللہ کی رحمت کے آثار کو دیکھو کہ وہ مردہ پڑی ہوئی زمین کو کس طرح جِلا اٹھاتا ہے، بیشک وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ )
بارش سے بعث بعدالموت پر استدلال
گزشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت اور بارش کا ذکر یکے بعد دیگرے کیا ہے۔ اس میں شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح بارش کے نزول سے مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے، کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور ہر طرف زندگی کے آثار دکھائی دینے لگتے ہیں اور انسان کی مادی زندگی کے لیے بارش کا نزول رحمت ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح آسمانی وحی کا نزول اور پیغمبروں کی تشریف آوری، اخلاق و روحانیت کی اجڑی ہوئی دنیا کے لیے زندگی کا پیغام بن کر آتی ہے۔ انسان میں انسانیت ازسرنو پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے، اقدارِ انسانیت پھلنے پھولنے لگتی ہے، فضائل و محامد کے پھول کھلنے لگتے ہیں، جو سرزمین جہنم کا نمونہ بنی ہوئی ہوتی ہے وہیں رحمت و مؤدت اور ہمدردی و غمگساری کی پھوار برسنے لگتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے جہنم جنت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
جو پروردگار بارش کے نزول سے مردہ زمین کو زندہ کرسکتا ہے اور موت کو زندگی میں تبدیل کرسکتا ہے اور آسمانی وحی کے نزول سے انسانیت کو نئی زندگی عطا فرما سکتا ہے۔ اور دو ٹانگوں والے نام نہاد انسان پھر سے شرفِ انسانی کے پیکر بن جاتے ہیں۔ اس کی قدرت سے یہ کیا بعید ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کردے۔ ہم بارش سے ظاہری زندگی کو پیدا ہوتے دیکھتے ہیں اور نزول وحی سے روحانی اور معنوی زندگی کی نمود دکھائی دینے لگتی ہے۔ اب غور طلب بات یہ ہے کہ جس پروردگار کی قدرت کی یہ شان ہے اور جو ہر لحاظ سے اپنے بندوں کے لیے رحیم و کریم ہے تو اس کی قدرت سے کیا یہ بعید ہے کہ وہ اپنی رحمت کے مقتضیٰ پر التفات فرماتے ہوئے انسانوں کو نئے سرے سے پیدا کرے اور جزاء و سزا کا دن لائے تاکہ اہل ایمان اپنی قربانیوں کا صلہ پائیں۔ اور جن جرائم پیشہ لوگوں نے حق کو پامال کیا اور انسانوں پہ ظلم ڈھائے ان کو سزا دے کر انصاف اور عدل کے تقاضوں کو پورا کرے۔
Ayah 30:51وَلَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْہُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْ م بَعْدِہٖ یَکْفُرُوْنَ ۔ (الروم : 51)
(اور اگر ہم ایک ایسی ہوا بھیج دیں جس کے اثر سے وہ اپنی کھیتی کو زرد پائیں تو اس کے بعد وہ کفر کرتے رہ جائیں گے۔ )
ایک استدراک
گزشتہ آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو حکمت کی جان اور عقیدے کی اصلاح کی کلید ہے۔ کیونکہ انسان مذہب کے غیرمرئی حقائق اور غیب کی باتوں کو صرف اس لیے ماننے سے انکار کردیتا ہے کہ وہ ان کے وقوع کو مستبعد سمجھتا ہے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین کامل ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی کسی بات کے انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح اخلاقی زندگی میں بہت سی اخلاقی قدریں ایسی ہیں جن کا تعلق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل اور بھروسے سے ہے۔ اور اس میں کمزوری صرف اس وقت آتی ہے جب اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین کمزور ہوتا ہے۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ جو اللہ مردہ زمین کو زندہ کرنے پر قادر ہے اور آسمانی وحی کے ذریعے انسانی اخلاق و کردار کو جلا بخشنے کی قدرت رکھتا ہے اس کے لیے یہ کیا مشکل ہے کہ وہ ایسی ہوا بھیجے جس سے سرسبز اور لہلہاتی ہوئی کھیتیاں زرد ہو کر ویران ہوجائیں۔ لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب کھیتیاں لہلہاتی ہیں اور بارش سے زندگی عود کر آتی ہے تو وہ خوش ہوتے اور خوشیاں مناتے ہیں۔ لیکن جب اس کی قدرت کا ظہور ایسی ہوا کی صورت میں ہوتا ہے جو ہر طرح کی سرسبزی کو جلا دیتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے لگتے ہیں۔ اگر انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین ہوتا تو بارش کے نزول پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور ایسی ناموافق ہوا چلنے پر اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے اور اسی سے بھلائی کی دعا کرتے۔
اس آیت میں شاید اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیام رحمت لے کر آتے ہیں تو لوگ اس نعمت کی قدر کرنے کی بجائے اس کے دشمن ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب ان کے کفر کی پاداش میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائشیں اترتی ہیں تو اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت پر شکر کیا ہوتا تو وہ اس ابتلاء سے بچے رہتے۔ لیکن جب ان کے اپنے کرتوتوں کے باعث ان پر آزمائشیں آئیں تو بجائے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کے زبان طعن دراز کرنے لگے۔ جن لوگوں کے تلون کا یہ عالم ہو ان سے کسی خیر کی توقع کرنا عبث ہے۔ اس سے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ان لوگوں کے طرزعمل سے دل گرفتہ نہ ہوں۔ آپ ﷺ اپنا کام جاری رکھیں۔ اور وہ وقت دور نہیں جب آپ ﷺ کے کام کے نتائج آپ ﷺ کے سامنے ہوں گے۔
Ayahs 30:52–53فَاِنَّـکَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآئَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ۔ وَمَآ اَنْتَ بِھٰدِالْعُمْیِ عَنْ ضَلٰـلَتِہِمْ ط اِنْ تُسْمِعُ اِلاَّ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰـتِنَا فَھُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔
(الروم : 52، 53)
(اے پیغمبر ! آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے، اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر چلے جارہے ہیں۔ اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر راہ دکھا سکتے ہیں، آپ تو بس ان کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لائیں، پس وہی اطاعت کرنے والے ہیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
انسان کو حیوان پر جو شرف حاصل ہے وہ دو وجہ سے ہے۔ ایک تو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو فی الجملہ آزادیِ عمل اور آزادیِ رائے عطا کی ہے جو حیوان کو میسر نہیں۔ جب یہ اپنی آزادی سے کام لے کر کوئی فیصلہ کرلیتا ہے تو پھر اس فیصلے کی تکمیل کے لیے اپنے حواس سے بھی کام لیتا ہے اور اپنی عقل کو بھی استعمال کرتا ہے لیکن جب فیصلہ کرنے میں غلطی کرتا ہے تو جن حواس سے حیوان اپنے معمولات کو انجام دینے کے لیے کام لیتا ہے یہ انھیں بھی معطل کردیتا ہے اور یا ان سے غلط کام لیتا ہے۔
اس کے شرف فضیلت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حواس اور عقل کے علاوہ قلبی بصیرت بھی عطا کی ہے۔ اسے محبت و خشیت کا مرکز بنایا ہے، اسی میں مکارمِ اخلاق پلتے ہیں، اور اس میں وہ کیفیات جنم لیتی ہیں جن کی وجہ سے اس کے اندر ایک ایسی نورانیت پیدا ہوتی ہے جس کی برکت سے وہ فرشتوں سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے، لیکن اگر اللہ تعالیٰ کے اس عظیم عطیے کو ضائع کردیا جائے تو نہ اس میں ایمان کا نور روشنی دیتا ہے نہ اس میں محبت و خشیت کا چراغ روشن ہوتا ہے، نہ اس میں ہمدردی و غمگساری اور جانفروشی اور جانسپاری اور ایثار و استقامت کے فضائل پیدا ہوتے ہیں اور نہ اس میں وہ کیفیات جنم لیتی ہیں جن کے نتیجے میں انسان کو نوربصیرت عطا ہوتا ہے۔ تو پھر یہ دل ایک مردہ دل ہے جس میں کوئی ہدایت اثرانداز نہیں ہوتی، کوئی نصیحت کام نہیں کرتی، اور کسی اخلاقی خوبی کا شعور پیدا نہیں ہوتا۔
انسان کو اللہ تعالیٰ نے انس سے پیدا کیا ہے۔ انسانوں کی محبت اس کی فطرت میں داخل ہے۔ لیکن کتنے ایسے لوگ ہیں جو انسانوں کا خون بہا کر شرفِ انسانیت کو ذلیل کرکے اور مکارمِ اخلاق کی پامالی کو اپنی زندگی کی کامیابی سمجھتے ہیں۔ انھیں انسان کی تکلیف سے تکلیف نہیں ہوتی بلکہ راحت ملتی ہے۔ اور کسی اخلاقی قدر کی مخالفت کرتے ہوئے انھیں کوئی اچنبھا نہیں ہوتا۔ ایسے ہی ایک بڑے آدمی نے جب اپنے بیٹے کے ولیمے پر رقص کا انتظام کیا تو بعض قریبی عزیزوں نے ٹوکا۔ تو انھوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ رقص کوئی بازاری عورتوں سے نہیں کرایا جائے گا بلکہ اپنی بہو بیٹیاں ناچیں گی، اس میں خرابی کی کیا بات ہے۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ دل کی پاکیزگی جب رخصت ہوجاتی ہے تو کیسی کیسی عجیب باتیں ظہور میں آتی ہیں۔
پیشِ نظر دونوں آیتوں میں انھیں حقائق کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ قریش اور اہل مکہ اگر آپ پر ایمان نہیں لاتے اور آپ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے تو آپ اس پر دل گرفتہ کیوں ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے دل مردہ ہوچکے ہیں۔ دل کی زندگی جن چیزوں سے عبارت ہے یہ اس سے تہی دامن ہوچکے ہیں۔ اس لیے جب آپ ان باتوں کی دعوت دیتے ہیں جن کا تعلق دل کی پاکیزگی اور دل کے شعور سے ہے تو یہ لوگ اس کا ادراک کرنے سے ہی عاجز ہیں، اسے قبول کیسے کریں گے۔ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا :
دل کا نور کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
اور پھر تنبیہ کرتے ہوئے کہا :
دلِ مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ
بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو حواس کے صحیح استعمال سے بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ لیکن غلط فیصلے کے نتیجے میں انسان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ حواس کو استعمال کرنے سے ہی انکار کردیتا ہے۔ چناچہ اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ چونکہ مردہ دل ہیں آپ کی نصیحت ان کے دلوں تک نہیں پہنچ سکتی۔ اور اسی طرح ان کے غلط فیصلوں کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ آپ کی کسی بات کو سننے کے بھی روادار نہیں۔ بلکہ جب آپ ان کو کوئی بات سنانا چاہتے ہیں تو پہ پشت پھیر کر بھاگ نکلتے ہیں، بلکہ آپ کو دیکھتے ہی انھیں اعراض کا دورہ پڑتا ہے۔ تو اگر یہ لوگ سنتے تو شاید اس کا کوئی بہتر نتیجہ نکل سکتا۔ لیکن یہ تو سننے ہی سے انکاری ہیں۔ تو ایسے لوگوں کو آپ بات کیسے سنائیں گے اور کیسے ہدایت دیں گے۔
نگاہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اگر کوئی شخص اس سے صحیح کام لینے کی کوشش کرے تو ہدایت تک پہنچنا مشکل نہیں۔ لیکن ان کفار کا حال یہ ہے کہ یہ ہر صحیح بات کو دیکھنے سے اندھے ہوچکے ہیں۔ ایسے لوگ جو دل کے نور سے بھی محروم ہیں اور سماع کی قوت سے بھی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اعراض کی جسارت بھی رکھتے ہیں اور مزید یہ کہ انھوں نے ہر صحیح بات دیکھنے سے انکار کو اپنی روش بنا لیا ہے۔ ایسے لوگوں کو ہدایت کی نہ تو کوئی بات سنائی جاسکتی ہے اور نہ انھیں گمراہی سے روک کر ہدایت کا راستہ دکھایا جاسکتا ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ یہ لوگ اگر آپ کی بات سننے اور قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں تو اس کی ذمہ داری سراسر ان پر ہے، انھوں نے مسلسل ہٹ دھرمی اور انکار کی وجہ سے اپنی صلاحیتیں کھو دی ہیں۔ تو آپ ان سے کسی قسم کی توقع نہ رکھیں۔ کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت دے رہے ہیں جس میں پوری زندگی کی تبدیلی کی دعوت ہے۔ ایک ایسے انقلاب کی دعوت ہے جو انسان کو نئے سرے سے انسان بناتا اور انسانی معاشرے کو نیا اسلوب عطا کرتا ہے۔ ایسی دعوت کو صرف وہ لوگ سن سکتے ہیں اور آپ بھی انھیں کو سنا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے ہوں۔ جو اللہ تعالیٰ کی قدرت، رحمت اور اس کے عدل کی ان نشانیوں کو مانتے ہوں جو آفاق وانفس میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اور جو ان کو نہ مانتے ہوں انھیں سمجھانے کی کوشش کرنا بھینس کے آگے بین بجانے والی بات ہے۔
سیاقِ کلام کے مطابق جو بات واضح ہوتی ہے ہم نے اختصار سے اسے عرض کرنے کی کوشش کی۔ البتہ بعض مفسرین نے اس موقع پر سماع موتیٰ کی بحث چھیڑی ہے۔ اس سلسلے میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے ایک مختصر سا نوٹ لکھا ہے، ہم اسے نقل کر رہے ہیں۔
سماعِ موتیٰ پر استشہاد
اس مسئلہ میں صحابہ ( رض) کے عہد سے اختلاف چلا آتا ہے۔ اور دونوں جانب سے نصوص قرآن و حدیث پیش کی گئی ہیں۔ یہاں ایک بات سمجھ لو کہ یوں تو دنیا میں کوئی کام اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادہ کے بدون نہیں ہوسکتا مگر آدمی جو کام اسباب عادیہ کے دائرہ میں رہ کر بااختیار خود کرے وہ اس کی طرف منسوب ہوتا ہے اور جو عام عادت کے خلاف غیرمعمولی طریقہ سے ہوجائے اسے براہ راست حق تعالیٰ کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ مثلاً کسی نے گولی مار کر کسی کو ہلاک کردیا یہ اس قاتل کا فعل کہلائے گا اور فرض کیجیے ایک مٹھی کنکریاں پھینکیں جس سے لشکر تباہ ہوگیا، اسے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے تباہ کردیا باوجود یکہ گولی سے ہلاک کرنا بھی اسی کی قدرت کا کام ہے ورنہ اس کی مشیت کے بدون گولی یا گولہ کچھ بھی اثر نہیں کرسکتا۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا فَلَمُ تَقْتُلُوْھُمْ وَلٰـکِنَّ اللّٰہ قَتَلَھُمْ وَمَا رَمَیْتَ اِذْرَمَیْتَ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی (انفال رکوع۔ 2) یہاں خارق عادت ہونے کی وجہ سے پیغمبر اور مسلمانوں سے ” قتل “ و ” رمی “ کی نفی کرکے براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کی گئی۔ ٹھیک اسی طرح اِنَّکَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتٰیکا مطلب سمجھو۔ یعنی تم یہ نہیں کرسکتے کہ کچھ بولو اور اپنی آواز مردے کو سنا دو ۔ کیونکہ یہ چیز ظاہری اور عادی اسباب کے خلاف ہے۔ البتہ حق تعالیٰ کی قدرت سے ظاہری اسباب کے خلاف تمہاری کوئی بات مردہ سن لے اس کا انکار کوئی مومن نہیں کرسکتا۔ اب نصوص سے جن باتوں کا اس غیرمعمولی طریقہ سے سننا ثابت ہوجائے گا اسی حد تک ہم کو سماع موتیٰ کا قائل ہونا چاہیے۔ محض قیاس کرکے دوسری باتوں کو سمع کے تحت میں نہیں لاسکتے۔ بہرحال آیت میں ” اسماع “ کی نفی سے مطلقاً سماع کی نفی نہیں ہوتی۔ واللہ اعلم۔
Ayah 30:54اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ ضُعْفً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ م بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ م بَعْدِقُوَّۃٍ ضُعْفًا وَّشَیْبَۃً ط یَخْلُقُ مُایَشَآئُ ج وَھُوَالْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ ۔ (الروم : 54)
(اللہ ہی ہے جس نے تم کو ناتوانی سے پیدا کیا، پھر ناتوانی کے بعد قوت بخشی، پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا طاری کردیا، وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ سب کچھ جاننے والا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ )
توحید، قدرت قاہرہ اور قیامت پر دلیل
یہ سورة کا آخری رکوع ہے۔ اس لیے اب تک قرآن کریم نے جن مباحث پر دلائل پیش کیے ہیں انھیں نہایت احسن طریق سے سمیٹتے ہوئے یکجا صورت میں پیش کیا جارہا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل بھی ہے، اس کی بےپناہ قدرت کا اثبات بھی ہے، اس کے وسیع علم کا حوالہ بھی ہے اور انسان کی بےبسی اور بےبصیرتی کا ذکر بھی ہے اور اسی سے قیامت اور آخرت کے آنے کی طرف اشارہ بھی ہے۔ فرمایا یہ جارہا ہے کہ تم اپنے اللہ کے بارے میں کیسی حماقتوں کا ارتکاب کرتے ہو۔ کبھی کسی کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو، کبھی اس کی قدرت کی ناتمامی کے وہم میں پڑجاتے ہو اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی صفات بہت سی قوتوں کو تفویض کردیتے ہو، کبھی اس کی قدرتوں کا صحیح ادراک نہ کرنے کے باعث بعث بعدالموت کو مستبعد ازعقل سمجھتے ہو۔ اور کبھی اپنے بارے میں غلط اندازے لگاتے ہوئے عجیب و غریب دعوے کرنے لگتے ہو۔ حالانکہ تمہاری بےبسی اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا حال یہ ہے کہ اس نے تمہیں ناتوانی سے پیدا کیا۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تمہاری تخلیق ایک حقیر پانی کے قطرے سے کی۔ اور پھر کس طرح رحم مادر میں تم عرصہ دراز تک مختلف حالتوں میں رہے ہو، اور پھر تم زمین پر اس حال میں آئے کہ تم بےبسی کی منہ بولتی تصویر تھے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے اس حال میں پیدا کیا کہ جب تمہیں اس نے ماں کے پیٹ سے نکالا تو تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ تمہارے حواس تک معطل تھے اور تم اس حد تک بےبس تھے کہ مرغی کا بچہ بھی تم سے زیادہ احساس رکھتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھئے کہ اس نے رحم مادر میں بھی تمہیں خوبصورت شکل دی۔ خون کی غذا دے کر تمہاری افزائش کی۔ اور پھر زمین پر لا کر تمہاری زندگی کے تمام امکانات پیدا فرمائے اور افزائش کے اسباب پیدا کیے۔ اور تمہاری ناتوانی کو رفتہ رفتہ توانائی میں تبدیل کیا۔ چند ہی سالوں میں تم دوڑنے بھاگنے، کھیلنے کودنے اور لکھنے پڑنے کے قابل ہوگئے۔ پھر اس قوت میں مزید اضافہ کیا اور تمہیں جوانی کی توانائیاں اور صلاحیتیں بخشیں، تمہاری شریانوں میں خون کی جگہ پارہ دوڑنے لگا، تمہاری دماغی رعنائیاں ایجاد و اختراع کی نئی دنیا بسانے لگیں، تمہاری قوت نے جغرافیے بدلے، نئی تاریخ بنائی اور دنیا کو علم و ہنر سے بھر دیا۔ لیکن پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت نے تمہاری یہ ساری قوتیں زوال کے راستے پر ڈال دیں۔ تم سب کچھ پا کر اس کو باقی رکھنے پر قادر نہ رہے۔ اور بڑھاپے میں اسی ناتوانی کی حالت میں پہنچ گئے جہاں سے چلے تھے۔ کیا اس میں ہر قدم پر تمہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کا علم نظر نہیں آتا۔ اور ساتھ ہی ساتھ تمہیں اپنی ذات کا تلون، فکری ناتوانی اور اکثر غلط فیصلوں کو صحیح سمجھنے کی حماقت کا احساس نہیں ہوتا۔ اور تمہیں اس بات کا یقین نہیں پیدا ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق میں کسی کی معاونت کا محتاج نہیں، وہ جو چاہتا ہے اور جسے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اس کے علم کی وسعتوں کو کوئی نہیں نہیں پہنچ سکتا۔ اور اس کی قدرتوں کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔
Ayah 30:55وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ 5 لا مَالَبِثُوْا غَیْرَسَاعَۃٍط کَذٰلِکَ کَانُوْا یُؤْفَکُوْنَ ۔ (الروم : 55)
(اور جس دن قیامت برپا ہوگی تو مجرم قسم کھا کر کہیں گے کہ وہ ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے ہیں۔ اسی طرح ان کی عقلیں اوندھی ہوجاتی رہی ہیں۔ )
قیامت میں مجرمین کی کیفیت
قریش کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ جب انھیں نبی کریم ﷺ قیامت کے دن سے ڈراتے ہیں کہ یہ دنیا ہمیشہ نہیں رہے گی ایک دن اس دنیا کی صف لپیٹی جانے والی ہے۔ قیامت برپا ہوگی اور سب لوگ اپنی اپنی قبروں سے نکل کر زندگی بھر کے اعمال کی جواب دہی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے۔ وہاں نہ دولت کام آئے گی نہ کوئی انسانی جتھا کام آئے گا۔ ایمان و عمل کی بنیاد پر جزاء و سزا کا فیصلہ ہوگا۔ تم نے آج اگر اس کے لیے تیاری نہ کی تو سوچ لو اس دن کیا کرو گے۔ تو وہ جواب میں کہتے کہ اولاً تو قیامت آئے گی ہی نہیں اور اگر آئی بھی تو ابھی اس کے آنے میں لامحدود زمانہ حائل ہے۔ تو جو واقعہ ایک طویل زمانے کے بعد ہونے والا ہے ہم آج ہی اس کے لیے فکرمند ہو کر اپنی زندگی کو بدرنگ کیسے کرلیں۔ اور اپنا عیش مکدر کیسے کرلیں۔ ان سے فرمایا جارہا ہے کہ یہ سراسر تمہاری کم عقلی اور علمی کم مائیگی ہے جس کی وجہ سے تمہیں قیامت کے بارے میں فکرمندی پیدا نہیں ہورہی۔ تم ہر روز اپنی آنکھوں کے سامنے لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھتے ہو، ان کے جنازے اٹھتے ہیں، انھیں لحد میں اتارا جاتا ہے۔ تو جو شخص لحد میں اتر گیا اس کی زندگی اور زندگی کے اعمال ختم ہوگئے۔ گویا اس کی قیامت آگئی۔ اب وہ اپنے اعمال کی نہ اصلاح کرسکتا ہے اور نہ اس میں اضافہ کرسکتا ہے۔ اسے جب بھی قیامت کے لیے اٹھایا جائے گا اسے اس سے کیا فرق پڑے گا کہ وہ جلدی اٹھایا گیا ہے یا دیر سے۔ لیکن مشرکین اور گمراہ لوگوں کی سوچ ہمیشہ یہی رہی کہ ہم اتنا عرصہ پیشتر ایک موہوم واقعہ کے لیے فکرمند نہیں ہوسکتے۔ ابھی تو ایک زمانہ پڑا ہے، جب حشر کا دن آئے گا اس وقت دیکھا جائے گا۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کی حماقت پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ آج تو تم قیامت کے ظہور کو بہت دور سمجھتے ہو، تمہارے خیال میں زندگی، موت، برزخ اور حشرونشر کے بہت طویل مراحل راستے میں حائل ہیں۔ لیکن قیامت کے دن جب تمہیں اٹھایا جائے گا تو اس وقت تمہارا حال یہ ہوگا کہ تم قسمیں کھا کھا کر آپس میں کہو گے کہ ہمارا یہ سارا زمانہ جو گزرا ہے ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ہے۔ ہم تو ابھی سوئے تھے، نہ جانے ہمیں کیوں اٹھا دیا گیا۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ یہ سب کچھ تمہاری عقلوں کے اوندھے ہوجانے کا نتیجہ ہے۔ تم دنیا کی زندگی میں بھی دھوکہ کھاتے رہے ہو اور اب بھی تم فریب کا شکار ہو۔ نہ دنیا کی زندگی بہت طویل تھی اور نہ اب تم بہت جلدی اٹھائے گئے ہو۔ اصل حقائق کا اندازہ کرنے کی توفیق سے جس طرح تم دنیا میں محروم تھے، آج بھی محروم ہو۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ اپنی فکری بےبسی اور کم مائیگی کا احساس کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لائو تاکہ تمہیں وہ ان حقائق سے بہرہ ور کرے جن کے سمجھنے سے تم قاصر ہو۔
Ayah 30:56وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَالْاِیْمَانَ لَقَدْلَبِثْـتُمْ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ اِلٰی یَوْمِ الْبَعْثِ ز فَھٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَلٰـکِنَّـکُمْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (الروم : 56)
(جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا ہے وہ کہیں گے کہ خدا کے نوشتے میں تو تم قیامت تک رہے ہو، سو یہ حشر کا دن ہے لیکن تم جانتے نہیں تھے۔ )
صاحبِ ایمان و علم کی ہوشمندی
مجرم لوگ جب قسمیں کھا کھا کر یہ کہیں گے کہ ہم تو دنیا یا برزخ میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تو آخر آج ہم سے یہ لمبا چوڑا حساب کیوں لیا جارہا ہے۔ تو وہ لوگ جنھیں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ایمان نصیب ہوا، یعنی وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ موت کی حقیقت کیا ہے اور مرنے کے بعد کیا ہوگا اور کیا قیامت برپا ہوگی یا نہیں اور آخرت کی حقیقت کیا ہے۔ ان حقائق کا جواب عقل کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کا صحیح جواب وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں پر نازل کیا ہے اور آج نبی کریم ﷺ اسی علم کے حوالے سے آخری رسول بن کر آئے ہیں۔ ہمیں اسی علم سے اپنے آپ کو بہرہ ور کرنا ہے اور اسی کے مطابق زندگی کو سنوارنا ہے۔ یہ ایمان اور علم جن لوگوں کو نصیب ہوگیا دنیا میں ان کی عقلیں بھی سلامت رہیں اور ان کی زندگی کے تمام معاملات بھی ٹھیک نہج پر چلتے رہے۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جنھیں قیامت کے دن کسی گھبراہٹ اور پریشانی سے واسطہ نہیں پڑے گا۔ وہ ان لوگوں کو جواب دیتے ہوئے کہیں گے کہ تم نے دنیا میں بھی غلط اندازے لگائے کہ یہ دنیا بہت طویل ہے اور قیامت کبھی نہیں آئے گی۔ اور آج بھی تم اسی خواب پریشاں میں گھوم رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ کا وہ نوشتہ جو لوح محفوظ کہلاتا ہے اس کی رو سے آج کا دن قیامت کا دن ہے اور تم اس قیامت تک عالم برزخ میں رہے ہو۔ لیکن تم چونکہ عالم غیب کے اس علم سے بےبہرہ رہے اور پیغمبر کی بات کبھی تم نے سن کر نہ دی۔ اور اگر کبھی سنی تو اس پر یقین نہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تم دنیا میں بھی ہر فیصلہ غلط کرتے رہے ہو اور آج بھی تم غلط اندازے لگا رہے ہو۔
Ayah 30:57فَیَوْمَئِذٍ لاَّ یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُھُمْ وَلاَ ھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ ۔ (الروم : 57)
(پس اس دن ان لوگوں کو ان کی عذرخواہی کچھ نفع نہ دے گی جنھوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہوگا اور نہ ان سے یہ کہا جائے گا کہ وہ اللہ کو راضی کریں۔ )
قیامت یوم الجزاء ہے کسی عمل کا موقع نہیں
جن لوگوں نے دنیا کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے حقوق سے انکار کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور اپنے مقصدزندگی کے حوالے سے قدم قدم پر غلطیاں کیں۔ انھیں جب قیامت کا یقین ہوجائے گا کہ واقعی آج کا دن وہی دن ہے جس میں ہمیں اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے اور ہم سے ہماری ہر زیادتی اور ہر کوتاہی کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی تو تب ان کی انتہائی خواہش ہوگی کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور معذرت کرنے کا موقع ملے۔ اور کسی طرح معافی مانگ کر رو دھو کر اپنے اللہ کو راضی کرلیں۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ وہ ہزار معذرت کی کوشش کریں اللہ تعالیٰ ان کی معذرت اور عذرخواہی کو قبول نہیں کرے گا اور ان کی پشیمانی انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی۔ اور نہ ان سے یہ چاہا جائے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کریں کیونکہ ان باتوں کا موقع انھیں دنیا میں دیا جا چکا ہے۔ آج تو بدلے کا دن ہے، کام کا وقت تو گزر چکا اور غلطیوں پر معافی کا موقع بھی جاتا رہا۔
Ayah 30:58وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ ط وَلَئِنْ جِئْتَـھُمْ بِاٰ یَۃٍ لَّـیَـقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِنْ اَنْتُمْ اِلاَّ مُبْطِلُوْنَ ۔ (الروم : 58)
(ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثال بیان کی ہے، اور اگر آپ ان کے پاس کوئی نشانی بھی لے آئیں تو جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو۔ )
ہدایت کی ہر بات قرآن نے بیان کردی ہے، منکرین نشانی دیکھ کر بھی ہدایت قبول نہیں کرتے
معاندین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کے رسول انھیں ایمان کی دعوت دیتے اور زندگی کے وہ حقائق بیان کرتے جنھیں تسلیم کرنے سے ان کی دنیا اور عاقبت سنور سکتی ہے تو وہ بجائے اس پر غور کرنے کے کسی نہ کسی نشانی اور معجزے کی طلب شروع کردیتے۔ یہی طریقہ قریش کا بھی تھا۔ وہ آنحضرت ﷺ سے عجیب و غریب اور نئے سے نئے معجزے کا تقاضا کرتے تھے۔ سورة کے آخر میں نہایت قطعی اور محکم انداز میں فرمایا گیا ہے کہ غلط زندگی سے نکل کر صحیح زندگی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے غور و فکر سے کام لینا پڑتا ہے، دلائل کو پرکھنے کی زحمت کرنا پڑتی ہے، پیغمبر کی دعوت کو سمجھنے اور اس پر اطمینان پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جس کے لیے افہام و تفہیم اور دلیل و شواہد کی دنیا میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ معجزات دیکھ کر یا حیران کن اور چونکا دینے وای نشانیوں سے زندگی میں تبدیلی نہیں آتی۔ چناچہ اس ضرورت کو اللہ تعالیٰ نے تسلیم فرمایا اور اس کے لیے جیسی تعلیمات جیسے دلائل جیسی ترغیب و نصیحت کی ضرورت تھی قرآن نے ان میں سے ہر چیز کو مثالوں کے ذریعے سے واضح فرمایا اور ہر بات کو مختلف پیرایوں مختلف طریقوں سے دماغوں میں اتارنے کی کوشش فرمائی۔ لیکن قریش اور دیگر اہل مکہ بجائے اس سے مستفید ہونے کے اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے اور آپ کی مسلسل دعوت کے جواب میں نئے نئے معجزات طلب کرتے رہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے اور مخالفین پر اتمامِ حجت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ افہام و تفہیم کی ضرورت تو پوری ہوچکی، رہی کسی نئی نشانی کی بات تو اگر آپ ان کے سامنے کوئی ایسی نشانی بھی لے آئیں گے جو بہت چونکا دینے والی ہو، تو جن لوگوں نے نہ ماننے کی قسم کھا رکھی ہے وہ اسے باطل قرار دیں گے، یعنی اسے جادو کہیں گے، شعبدہ بازی قرار دیں گے یا کوئی اور ایسی بات جس سے وہ سننے والوں کو مطمئن کرسکیں۔
Ayah 30:59کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الروم : 59)
(اسی طرح اللہ تعالیٰ مہر کردیا کرتا ہے ان لوگوں کے دلوں پر جو جاننا نہیں چاہتے۔ )
ہٹ دھرمی دلوں پر مہر کا باعث بنتی ہے
اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ جب لوگ کسی بات کو سننے اور سمجھنے کی بجائے ہٹ دھرمی کا طریقہ اختیار کرلیتے ہیں اور معقولیت کی بجائے جہالت کا طرز اپنا لیتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں سمع و بصر اور دماغ و دل سے بہرہ ور فرمایا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر کردیتا ہے۔ یعنی قبولیتِ ایمان اور حق کو سمجھنے کی صلاحیت ان سے سلب کرلی جاتی ہے۔ اب اگر کوئی داعی ان سے بات کرے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی دیوار سے مخاطب ہے۔
Ayah 30:60فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ وَّلاَ یَسْتَخِفَّـنَّـکَ الَّذِیْنَ لاَ یُوْقِنُوَنَ ۔ (الروم : 60)
(پس اے پیغمبر ! آپ صبر کریں، یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے اور ہرگز ہلکا نہ پائیں آپ کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے۔ )
دعوت کے راستے کی فیصلہ کن ہدایت
آیتِ کریمہ میں خطاب اگرچہ نبی کریم ﷺ سے ہے لیکن روئے سخن صحابہ کرام ( رض) سے لے کر قیامت تک آپ ﷺ کی امت کی طرف ہے۔ کیونکہ حق و باطل کی جس کشمکش سے آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ پر ایمان لانے والے گزر رہے تھے وہ آپ کے ساتھ مخصوص نہیں۔ ہر دور میں یہ کشمکش جاری رہے گی۔ اہل حق کو ہر طرح کے حالات سے سابقہ پیش آتا رہے گا۔ کیونکہ :
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرار بولہبی
آنحضرت ﷺ تو صبر و استقامت میں بےمثال تھے اور صحابہ کرام ( رض) بھی بہت حد تک آپ ﷺ کی تصویر تھے۔ بعد کے آنے والی امت سے فرمایا جارہا ہے کہ حق و باطل کی کشمکش اور مسلمانوں اور کافروں کی لڑائی اور آئے دن کے فتنوں کے طوفانوں میں دیکھنا کبھی کمزوری نہ دکھانا۔ حالات کیسے بھی ناگفتہ بہ ہوں اور اہل کفر کی قوتیں کیسی ہی منہ زور کیوں نہ ہوں کبھی ان کے سامنے کمزوری کا اظہار نہ ہونے دینا۔ ثابت قدمی اور مستقل مزاجی اہل حق کا شیوہ ہونا چاہیے۔ تمہیں یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے پر چلنے والوں کو کامیابی و کامرانی کی نوید دی ہے اور ہمیشہ غالب رکھنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ اگر تم اللہ تعالیٰ کے وعدے پر اعتماد کرتے ہوئے اور حق کی تصویر بن کر ایمان و عمل کی شمع کی روشنی میں باطل کے مقابلے کے لیے نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں کبھی سرنگوں نہیں ہونے دے گا۔ مزید فرمایا کہ ہر دور کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انسان یقین کی دولت سے محروم ہوجاتا ہے۔ شرک اس کے عقیدے کی قوت کو تلپٹ کرکے رکھ دیتا ہے۔ حُبِ دنیا اور ضروریاتِ زندگی کے مقصد بن جانے کے باعث انسانوں کا باہمی اعتماد اور اللہ تعالیٰ کی صفت رزاقیت پر یقین ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ لیکن اس پر طرفہ تماشا یہ ہے کہ لوگ بجائے اس کے کہ اپنی اس کمزوری کا ادراک کریں وہ ہر اس قوت کو ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو انھیں یقین کی طرف دعوت دیتی ہے۔ اور شیطانی قوتیں یہ سمجھتی ہیں کہ اگر اس شمع کو بجھایا نہ گیا تو ایک دن اس کی روشنی شکوک و شبہات کے تمام اندھیروں کو ختم کرکے رکھ دے گی۔ اس لیے آنحضرت ﷺ سے براہ راست فرمایا جارہا ہے وَلاَ یَسْتَخِفَّـنَّـکَ الَّذِیْنَ لاَ یُوْقِنُوَنَ ۔ مولانا مودودی اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں :
دشمن تم کو ایسا کمزور نہ پائیں کہ ان کے شوروغوغا سے تم دب جاؤ، یا ان کی بہتان و افترا کی مہم سے تم مرعوب ہوجاؤ، یا ان کی پھبتیوں اور طعنوں اور تضحیک و استہزاء سے تم پست ہمت ہوجاؤ، یا ان کی دھمکیوں اور طاقت کے مظاہروں اور ظلم و ستم سے تم ڈر جاؤ، یا ان کے دیے ہوئے لالچوں سے تم پھسل جاؤ، یا قومی مفاد کے نام پر جو اپیلیں وہ تم سے کر رہے ہیں ان کی بنا پر تم ان کے ساتھ مصالحت کرلینے پر اتر ا آئو۔ اس کے بجائے وہ تم کو اپنے مقصد کے شعور میں اتنا ہوشمند، اور اپنے یقین و ایمان میں اتنا پختہ اور اس عزم میں اتنا راسخ اور اپنے کیرکٹر میں اتنا مضبوط پائیں کہ نہ کسی خوف سے تمہیں ڈرایا جاسکے، نہ کسی قیمت پر تمہیں خریدا جاسکے، نہ کسی فریب سے تم کو پھسلایا جاسکے، نہ کوئی خطرہ یا نقصان یا تکلیف تمہیں اپنی راہ سے ہٹا سکے اور نہ دین کے معاملہ میں کسی لین دین کا سودا تم سے چکایا جاسکے۔ یہ سارا مضمون اللہ تعالیٰ کے کلام بلاغت نظام نے اس ذرا سے فقرے میں سمیٹ دیا ہے کہ ” یہ بےیقین لوگ تم کو ہلکا نہ پائیں۔ “ اب اس بات کا ثبوت تاریخ کی بےلاگ شہادت دیتی ہے کہ نبی کریم ﷺ دنیا پر ویسے ہی بھاری ثابت ہوئے جیسا اللہ تعالیٰ اپنے آخری نبی ﷺ کو بھاری بھرکم دیکھنا چاہتا تھا۔ آپ سے جس نے جس میدان میں بھی زور آزمائی کی اس نے اسی میدان میں مات کھائی اور آخر اس شخصیت عظمیٰ نے وہ انقلاب برپا کرکے دکھا دیا جسے روکنے کے لیے عرب کے کفروشرک نے اپنی ساری طاقت صرف کردی اور اپنے سارے حربے استعمال کر ڈالے۔