Ayahs 30:31–32مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ وَاتَّقُوْہُ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلاَ تَـکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَـھُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا ط کُلُّ حِزْبٍ م بِمَالَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ ۔ (الروم : 31، 32)
(اسی کی طرف متوجہ ہو کر اور اسی سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور نہ ہوجاؤ مشرکین میں سے۔ ان مشرکین میں سے جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور گروہوں میں بٹ گئے، ہر گروہ اسی پر مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔ )
دینِ فطرت کے تقاضے
مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ … یہ فَاَقِمْ وَجْھَکَکی ضمیر خطاب سے حال پڑا ہوا ہے۔ فرّاء نے تقدیرِکلام یوں ذکر کی ہے فَاَقِمْ وَجْھَکَ وَمَنْ مَّعَکَ مُنِیْبِیْنَ یعنی آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ توبہ اور اخلاص سے دین فطرت کی طرف متوجہ ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ آیت کے آغاز میں آنحضرت ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے جو فرمایا گیا تھا وہ صرف آپ ﷺ کی ذات کے لیے نہ تھا بلکہ وہ خطاب آپ ﷺ کو امت کے وکیل کی حیثیت سے تھا۔ اور اب مُنِیْبِیْنَ سے اس خطاب کی وسعت کو واضح کردیا گیا ہے۔ یعنی وہ حکم صرف آنحضرت ﷺ کے لیے نہیں تھا بلکہ درحقیقت امت کو بھی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے۔ یعنی جس نے بھی آزادی و خودمختاری کا رویہ اختیار کرکے اپنے مالک حقیقی سے انحراف کیا ہے یا جس نے بھی بندگیِ غیر کا طریقہ اختیار کرکے اپنے اصلی اور حقیقی رب سے بےوفائی کی ہے اسے اپنی روش سے باز آجانا چاہیے۔ کیونکہ اسے فطرتِ اسلام پر پیدا کیا گیا ہے۔ اور فطرتِ اسلام صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی، عبادت اور اطاعت کا نام ہے۔ گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کے لیے حنیفیت کی قید لگائی تھی۔ اور اب اس میں انابت اور تقویٰ کا اضافہ فرمایا گیا ہے۔ یعنی صرف یہ کافی نہیں کہ آدمی دماغ اور عقل کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے میں یکسوئی پیدا کرے۔ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا دل بھی پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ چکا ہو۔ اس کے دل کے احساسات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوچکے ہوں۔ اس کے اندر خشیت الٰہی اپنی جگہ بنا چکی ہو۔ اسی طرح وہ حدودالٰہی کی پاسداری کو اپنی زندگی کا طریقہ بنا چکا ہو۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ تمام اوصاف سراسر قلب کے افعال ہیں۔ اور انسان کی کمزوری یہ ہے کہ قلبی کیفیتیں جب تک کسی جسمانی عمل کی شکل اختیار نہیں کرتیں اس وقت تک ان میں استحکام پیدا نہیں ہوتا۔ اور نہ اس بات کا اطمینان ہوتا ہے کہ یہ کیفیتیں برقرار رہیں گی۔ اس لیے پروردگار نے ان کیفیتوں میں استحکام اور استواری پیدا کرنے کے لیے اقامتِ صلوٰۃ کا حکم دیا۔ کیونکہ نماز ایک ایسا عمل ہے جس میں آدمی اگر ایک طرف حنیفیت کا پیکر بن جاتا ہے تو دوسری طرف انابت الی اللہ اور تقویٰ کی دولت سے بھی بہر ور ہوجاتا ہے۔ کیونکہ نماز کی نیت باندھتے ہی آدمی ہاتھ اٹھا کر ہر تعلق سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ اور پھر ہاتھ باندھ کر غلاموں کی طرح جب اللہ تعالیٰ کی تسبیحات میں مصروف ہوجاتا ہے تو صرف اسی کی غلامی کا اقرار کرتا اور اسی کی بڑائی کے گن گاتا ہے۔ پھر اللہ ہی سے ہدایت کی دعا مانگتا اور ہر حالت میں اسی سے استعانت کرتا ہے۔ پھر اللہ کی کتاب کی تلاوت سے اس کے قانون کی بالادستی کا اعلان کرتا ہے۔ پھر بندگی اور فروتنی کے جتنے امکانات ہیں رکوع، سجود اور قعود کے ذریعے بجالاتا اور اللہ تعالیٰ سے گہری وابستگی کا اظہار کرتا ہے۔ اور ہر روز پانچ وقت پابندی کے ساتھ بغیر کسی جبر کے اس تعلق کو بار بار دہراتا ہے۔ اس طرح سے پوری اسلامی زندگی اس کے دل و دماغ میں اتر جاتی ہے۔ اور پھر پانچ وقت کی یہ مشق وہ تنہائی میں انجام نہیں دیتا بلکہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ مل کر جماعت کی صورت میں اسے ادا کرتا ہے۔ اس سے اگر ایک طرف اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کی بندگی کو فروغ ملتا، اس سے وابستگی گہری ہوتی اور ماحول پاکیزگی اختیار کرلیتا ہے تو ساتھ ہی مخالف قوتیں بھی یہ دیکھ کر مرعوب ہوجاتی ہیں کہ ان لوگوں میں الف سے لے کر ” ی “ تک ہر فرد ایک ہی سوچ کا مالک، ایک ہی ذات کا چاکر، ایک ہی نظریئے کا پرستار، ایک ہی چوکھٹ پر سر جھکانے والا، ایک ہی آستانے پر دست سوال دراز کرنے والا اور ایک ہی کی رضا کا طالب اور سائل ہے۔ اس سے دیکھنے والوں پر جو اثر پڑتا ہے اس پر مسلمانوں کے قرون اولیٰ کی تاریخ شاہد ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ مشرک نہ بن جاؤ۔ یعنی ان سے دور رہو۔ کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انھیں وہی تعلیم دی تھی جو آج تمہیں دی جارہی ہے۔ لیکن انھوں نے شرک کا رویہ اختیار کرکے اس دین کو جو انھیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دے کر گئے تھے پارہ پارہ کر ڈالا۔ انھوں نے انھیں ایک خدا کی تعلیم دی تھی، انھوں نے سینکڑوں خدا بنا کر اللہ تعالیٰ کے اس گھر میں جسے توحید کا مرکز بنایا گیا تھا لا رکھے۔ اور ہر قبیلے کا الگ الگ معبود اس گھر میں جمع کرکے توحید کے اس مرکز کو شرک کا تیرتھ بنادیا۔ اب یہ لوگ توحید کو بھول کر شرک ہی کو اپنا دین بنا چکے ہیں۔ اور چونکہ ہر قبیلے کا معبود جدا ہے اس لیے ہر قبیلہ اپنے معبود کی پرستش کرتا اور اپنے رسم و رواج کی پابندیوں کو دین سمجھتا اور اس پر فخر کرتا ہے۔ اور اپنے مزعومات کے خلاف کوئی بات سننے کا روادار نہیں۔ اہل کتاب بھی اسی طرح فرقوں میں بٹ کر تباہ ہوئے۔ اور ہر فرقہ اپنی ہی ہدایت پر اصرار کرتا رہا۔ مسلمانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی رسی کو چھوڑ کر مختلف وابستگیاں اختیار کی جاتی ہیں تو اس کا نتیجہ ہمیشہ تفرقوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ دیکھنا تم کبھی یہ روش اختیار نہ کرنا۔
Ayahs 30:33–34وَاَذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّدَعَوْا رَبَّھُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ ثُمَّ اِذَآ اَذَاقَھُمْ مِّنْہُ رَحْمَۃً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ بِرَبِّھِمْ یُشْرِکُوْنَ ۔ لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰ تَیْنٰـھُمْ ط فَتَمَتَّعُوْا وقفۃ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔
(الروم : 33، 34)
(جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں، اسی کی طرف رجوع کرکے، پھر جب وہ کچھ اپنی رحمت کا ذائقہ انھیں چکھا دیتا ہے تو یکایک ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔ تاکہ ناشکری کریں اس کی جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہے، اچھا مزے کرلو، عنقریب تم کو پتہ چل جائے گا۔ )
توحید کے اثبات اور شرک کا رد، انسانی رویے سے
توحید کے اثبات اور شرک کے رد میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے طرزعمل سے استدلال فرمایا ہے۔ اور روئے سخن قریش اور ان کے ساتھ دیگر مشرکین کی طرف بھی ہے۔ قریش کا طرزعمل یہ تھا اور یہ ان کے ساتھ مخصوص نہیں مشرکین کا ہمیشہ یہی معمول رہا ہے کہ جب وہ کہیں پانی میں سفر کرتے اور کشتی کہیں گرداب میں پھنس جاتی تو شروع شروع میں وہ اپنے بتوں کا نام لے لے کر مدد طلب کرتے۔ لیکن پھر ان کے اندر سے ہی یہ آواز اٹھتی کہ کیوں وقت ضائع کررہے ہو، تمہیں خوب معلوم ہے کہ جنھیں تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے وہ تمہارے کسی کام نہیں آسکتے تو پھر یہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے لگتے، نہایت توجہ اور عاجزی کے ساتھ رو رو کر اپنی غلطیوں کا اقرار کرتے، اپنے مشرکانہ رویے پر ندامت کا اظہار کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کی کشتی کو گرداب سے نکال دیتا۔ اور یا کسی اور مصیبت میں گرفتار ہوتے تو اللہ تعالیٰ کو نہایت خشوع سے پکارنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ دستگیری فرماتا۔ لیکن جیسے ہی انھیں مصیبت سے نکلنے کا موقع ملتا اور وہ یہ سمجھتے کہ اب ہم عافیت کی جگہ پہنچ گئے ہیں تو پھر وہ اپنے شریکوں کو پکارنے لگتے۔ اور ان میں سے ایک گروہ باقاعدہ ان کے شریک ہونے کا اعلان کرتا۔ اور اپنے مشرکانہ مزعومات پر فخر کا اظہار بھی کرتا۔ جو شخص بھی اس صورتحال پر غور کرے گا وہ فوراً اس نتیجے پر پہنچے گا کہ اگر شرک واقعی ایک حقیقت ہے اور ان کے دلوں کی آواز ہے تو پھر مصیبت میں گرفتار ہونے کے بعد یہ ان قوتوں کو کیوں نہیں پکارتے اور ان بتوں کا نام کیوں نہیں لیتے جنھیں یہ اللہ تعالیٰ کا شریک بنا چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دل گواہی دیتے ہیں کہ اِلٰہ اور معبود اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور نہیں۔ اور مصیبتوں میں کام آنے والا صرف وہی ہے باقی سب وہم ہے۔ حضرت عکرمہ ( رض) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک کشتی میں یمن کو جارہے تھے کہ وہ کشتی بھنور میں پھنس گئی۔ لوگوں نے پہلے اپنے بتوں کو مدد کے لیے پکارا، پھر مایوس ہو کر سب نے کہا کہ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ چناچہ اسی لمحے حضرت عکرمہ ( رض) کے دل میں یہ خیال آیا کہ اگر واقعی یہی حقیقت ہے تو پھر ہم نے نبی کریم ﷺ سے لڑائی کیوں باندھ رکھی ہے۔ وہ یہی بات کئی سالوں سے ہمیں سمجھا رہے ہیں اور ہم ان کی بات سننے کے بھی روادار نہیں۔ چناچہ وہیں سے واپس پلٹے اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچ کر اسلام قبول کرلیا۔
دوسری آیت میں لام امر کا ہے جو تہدید اور دھمکی کا معنی دیتا ہے۔ بعض اہل علم نے اس لام کو لام عاقبت قرار دیا ہے۔ لیکن پس منظر میں تعجب کا اظہار بھی ہے کہ ان لوگوں کا عجیب حال ہے کہ ان کے پاس جو کچھ ہے یہ مانتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔ انھیں رزق اللہ تعالیٰ کے خزانے سے مل رہا ہے۔ ان کی آسائشیں اللہ تعالیٰ ہی کی رحمت کا نتیجہ ہیں۔ لیکن ان کا حال یہ ہے کہ یہ کھاتے اس کا ہیں لیکن گن دوسروں کے گاتے ہیں۔ اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ انھیں تہدیدآمیز انداز میں فرمایا گیا ہے کہ وہ ہماری نعمتوں کی جتنی چاہیں ناشکری کرلیں ہمارے خزانوں میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ وہ دنیا کی نعمتوں کے خوب مزے لوٹیں ہم انھیں پکڑنے میں جلدی نہیں کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اگر دنیا کی نعمتوں کی قدر ایک مچھر کے پَر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کافر کو کبھی پانی کا گھونٹ نہ دیتا۔ جتنا کوئی اس کی ناشکری کرتا ہے وہ اتنی زیادہ نعمتوں کی بارش برساتا ہے تاکہ اس کا جرم اچھی طرح کھل کر سامنے آجائے۔ عنقریب تم جان لو گے کہ اس ناشکری کا انجام کیا ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ جاننا قیامت کے روز ہوگا۔ کیونکہ دنیا دارالعمل ہے دارالجزاء نہیں۔ انسان کے محدود علم کے حوالے سے عنقریب کا تصور اس کی اپنی زندگی تک محدود ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں چونکہ زمانے میں تقسیم نہیں۔ نیز اس کے یہاں ایک دن پچاس ہزار سال کا ہوتا ہے۔ اس لیے جب وہ کسی چیز کو قریب کہتا ہے تو وہ اس کے اپنے علم کے مطابق ہوتی ہے۔ اور خود ہمارا حال بھی یہ ہے کہ موت کے بعد ہمارے اندازے بھی بدل جائیں گے۔ جب قیامت کے دن ہمیں اٹھایا جائے گا تو نہ جانے کتنے اٹھنے والے کہیں گے کہ ہمیں ہماری نیند سے کس نے اٹھا دیا، ہم ابھی تو سوئے تھے۔ اور قرآن کریم نے اصحابِ کہف کا واقعہ لوگوں کو دکھایا اور بعد کی آنے والی نسلوں کو سنایا، تاکہ لوگوں کو اندازہ ہوسکے کہ دوروقریب کا فریب یہ ہماری کو تاہی فکر کا نتیجہ ہے۔ جب ہم دوسری دنیا میں داخل ہوں گے تو خود ہم پر ہماری کو تاہی فکر کی حقیقت کھل جائے گی۔
Ayah 30:35اَمْ اَنْزَلْـنَا عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا فَھُوَا یَتَـکَلَّمُ بِمَا کَانُوْا بِہٖ یُشْرِکُوْنَ ۔ (الروم : 35)
(کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل اتاری ہے جو ان چیزوں کی شہادت دے رہی ہو جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ )
مشرکین سے ایک سوال
مشرکین جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے تھے جب ان سے پوچھا جاتا تو وہ اپنے شرک کی تائید میں اللہ تعالیٰ ہی کو دلیل کے طور پر پیش کرتے کہ ہم نے اپنے آبائواجداد کو چونکہ اسی طرح شرک میں مبتلا دیکھا ہے تو یقینا ان پر کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دلیل نازل کی گئی ہوگی۔ اس لیے وہ اس پر عامل رہے اور ہم بھی اسی لیے اس طرزعمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے رد فرماتے ہوئے یہ سوال کررہے ہیں کہ اگر ہم نے ایسی کوئی دلیل نازل کی تھی تو اس کی کوئی سند، کوئی گواہی ہونی چاہیے جبکہ مشرکین کے پاس ایسی کوئی گواہی موجود نہیں اور ایسی کوئی سند نہیں جسے وہ گواہی کے طور پر پیش کرسکیں کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے ان کے شرک کے حق میں کوئی بات ارشاد فرمائی تھی، جبکہ ان کی ان حماقتوں کی تائید نہ عقل کرتی ہے نہ ان کے اپنے اندرونی احساسات۔ خود ان کا اپنا حال یہ ہے کہ جب وہ بےبسی اور بےکسی کی حالت میں مبتلا ہوتے ہیں اور کوئی طاقت انھیں سہارا دینے والی نہیں ہوتی تو بےساختہ دوسرے تمام خودتراشیدہ معبودوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور پوری انابت کے ساتھ اسے پکارتے ہیں۔ لیکن جب یہ بےبسی کی حالت ان سے ختم ہوتی ہے تو وہ پھر اپنی شرک کی وادیوں میں کھو جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کا اصلی سبب انسان کی غفلت ہے۔ کوئی ایسی دلیل نہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کی ہو۔ جب یہ غفلت کی حالت قدرت کی کسی تنبیہ کی وجہ سے دور ہوجاتی ہے تو یہ اصل حقیقت کو دیکھنے لگتے ہیں۔ اور جب حالات بدل جاتے ہیں تو پھر یہ اپنی پہلی حالت کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔
Ayah 30:36وَاِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَۃً فَرِحُوْابِہَا ط وَاِنْ تُصِبْـہُمْ سَیِّئَۃٌ م بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ اِذَا ھُمْ یَقْنَطُوْنَ ۔ (الروم : 36)
(جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اترانے لگتے ہیں اور اگر ان کے اعمال کے سبب سے ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں۔ )
انسان کی متلون مزاجی سے استدلال
گزشتہ آیت کریمہ میں انسان کی بےاعتدالی اور زندگی کے فیصلوں کے بارے میں ناہمواری پر تنقید کرتے ہوئے انسان کی حالت سے استدلال کیا گیا ہے کہ اس کا کوئی فیصلہ مستحکم بنیادوں پر قائم نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے تمام فکری دعو وں کے باوجود ہمیشہ احوال و ظروف کی گرفت میں رہتا ہے۔ ہر تغیر اس کے فکر پر اثرانداز ہوتا اور اس کے فیصلوں کی تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ اب انسان کی اسی بےاعتدالی کو مزید نمایاں کرتے ہوئے اس کے چھچھورپن اور کم ظرفی پر گرفت کی گئی ہے۔ بظاہر اسے دیکھو تو یوں لگتا ہے کہ اس کی فکری پرواز آسمانوں کی خبر لاتی ہے اور ہر امکان کے اندر جھانک کے دیکھ لیتی ہے۔ لیکن حال اس کا یہ ہے کہ اس نے جن حقائق کو اخلاقی اقدار کے طور پر قبول کر رکھا ہے اور جن صفات کو مکارمِ اخلاق سے تعبیر کرتا ہے ان پر کبھی استقامت نہیں دکھاتا۔ اس کی کم ظرفی کا عالم یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اسے دولت و ثروت سے نوازتا ہے اور اسے عزت و وجاہت نصیب ہوتی ہے تو وہ اسے اپنی خوبیوں کا ثمر اور اپنی کوششوں کا حاصل سمجھتا ہے اور اسے غلط فہمی یہ ہوجاتی ہے کہ میں نہ جانے اپنی ذات میں کس قدر عظیم ہوں کہ یہ سب کچھ مجھے اپنی عظمت کی وجہ سے مل رہا ہے۔ اس غلط فہمی میں اس پر فخروغرور کا ایسا نشہ چڑھتا ہے کہ نہ اسے خدا کی یاد آتی ہے اور نہ کبھی اپنے انجام کی فکر ہوتی ہے۔ مخلوقِ خدا کو وہ اپنے مقابلے میں اتنا چھوٹا سمجھتا ہے کہ کسی کے حق کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ لیکن جب کبھی اس پر زوال کا سایہ پڑتا ہے، دولت کی چھائوں ڈھلنے لگتی ہے اور حکومت و اقتدار کی زمین پائوں تلے سے نکلنے لگتی ہے تو اچانک فخروغرور کا سارا نشہ ہرن ہوجاتا ہے۔ اس پر ایسی دل شکستگی کی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ ہر ذلیل سے ذلیل حرکت کر گزرتا ہے اور بجائے حالات کا سامنا کرنے کے اپنی جان ہار دیتا ہے۔ ایسا انسان جو اچھے دنوں میں اپنی پہچان گم کردے اور برے دنوں میں اپنا مقام بھول جائے تو کیا اسے یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں فیصلے کرنے لگے اور خلق اور خالق کے تعلق کو اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھا دے۔ بہادر شاہ ظفر نے اسی کے قریب بات کہتے ہوئے کہا :
ظفر آدمی نہ اسے جانیے گا ہو وہ کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی ہو جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ … یہاں ایک حقیقت کی طرف رہنمائی کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انسانوں کے ساتھ معاملات میں مختلف اوقات میں دو سنتوں میں سے کسی ایک سنت کا ظہور ہوتا ہے جن میں سے ایک سنت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو ابتلاء میں مبتلا کرتا ہے۔ یعنی نیکوں کی بھی آزمائش ہوتی ہے اور بروں کی بھی۔ اور اکثر حالات میں اللہ تعالیٰ کی حکمت تربیت اس کی مقتضی ہوتی ہے۔ اور دوسری سنت یہ ہے کہ وہ بعض دفعہ دنیا ہی میں برے لوگوں کو ان کے برے کرتوتوں کی سزا دیتا ہے۔ ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جو ان کے اعمال کے مطابق ہوتا ہے۔ اس لیے جو شخص شریعت کا تارک اور بدعمل آدمی ہے اسے جب کوئی تکلیف پہنچے تو اسے اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔ بقول اکبر :
جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ ! میرا حال دیکھ
حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامہ اعمال دیکھ
ابتلاء میں حالات اچھے ہوں تو شکر ادا کرنا چاہیے، اور برے ہوں تو صبر کرنا چاہیے۔ اور بلا اور سزا میں اپنے اعمال کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔
Ayah 30:37اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ۔ (الروم : 37)
(کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے، یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ )
تدبر کی دعوت
گزشتہ آیت کریمہ میں کفار و مشرکین کی کم ظرفی پر تنقید کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ ان کا حال یہ ہے کہ یہ خوشحال ہوتے ہیں تو اکڑنے اور اترانے لگتے ہیں۔ اور حالات بگڑتے ہیں تو مایوس و دل شکستہ ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ وہ ذرا غور کرتے تو انھیں احساس ہوجاتا کہ رزق کے خزانے ان کے قبضے میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ رزق میں وسعت و تنگی، اس کی مشیت اور حکمت سے ہوتی ہے۔ اترانے کا حق تو اسے ہے جس کا رزق اس کے اپنے اختیار میں ہو۔ اور مایوس اسے ہونا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی صفت رزاقی کو ناکام ہوتے دیکھ چکا ہو۔ جب ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات ممکن نہیں، تو پھر نہ اترانا جائز ہے اور نہ مایوس ہونا، بلکہ صحیح رویہ یہ ہے کہ بندہ نعمت پر شکر کرے اور آزمائش پر صبر کرے۔ لیکن یہ لوگ چونکہ ان بنیادی باتوں سے بےبہرہ ہیں اس لیے زندگی میں اعتدال سے محروم ہیں۔
آخر میں فرمایا جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کی نعمت سے نوازا ہے اس صورتحال میں ان کے لیے سمجھنے کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ جن میں سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ کفر اور شرک انسانی زندگی کی ایک ایسی کمزوری ہے جس کی وجہ سے انسان میں کبھی صحیح اخلاق پیدا نہیں ہوسکتے۔ انسان کی شخصیت کبھی استوار نہیں ہوسکتی اور اس کی زندگی میں کبھی اعتدال نہیں آسکتا۔ اس کے برعکس ایمان باللہ کے نتیجے میں انسان کے اندر یہ سوچ پیدا ہوجاتی ہے کہ جو کچھ بھی میرے پاس ہے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔ کیونکہ رزق کے خزانوں کا وہی مالک ہے۔ اس لیے بہتر سے بہتر حالت اس کے اندر کبھی فخروغرور پیدا نہیں کرتی۔ وہ ہر نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہے۔ اور اگر کبھی اسے رزق کی تنگی یا کسی اور پریشانی سے سابقہ پڑتا ہے تو وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ حالت میرے لیے ایک آزمائش ہے اور اگر میں نے اس پر صبر کا حق ادا کیا تو اللہ تعالیٰ کسی وقت بھی اس حال کو بدل سکتا ہے۔ اس لیے مایوسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ ہرحال میں صراط مستقیم پر چلتا اور اعتدال کو اپنا رویہ بنائے رکھتا ہے۔ رزق کی فراوانی سے اس کے اندر شکر کی فراوانی پیدا ہوتی ہے۔ مخلوقِ خدا کے ساتھ تواضع اور فیاضی سے پیش آتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں صرف کرکے زیادہ سے زیادہ شکر ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور رزق میں تنگی کے باعث اس میں کبھی مایوسی پیدا نہیں ہوتی۔ وہ ایسی حالت میں صبر سے کام لیتا ہے اور خودداری کو اپنا حصار بنائے رکھتا ہے۔ اسی طرح وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ رزق کی کشادگی کسی کی کامیابی کی دلیل نہیں اور نہ رزق کی تنگی کسی کی ناکامی یا بےوقار ہونے کی علامت ہے۔ بلکہ یہ دونوں چیزیں بندے کے امتحان کے لیے ہیں، کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ آخرت میں ہوگا۔
Ayah 30:38فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ ط ذٰلِکَ خَیْرٌلِّـلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ ز وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (الروم : ۃ 38)
(پس قرابت دار اور مسکین و مسافر کو اس کا حق دو ، یہ طریقہ بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہتے ہیں، اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری کا صحیح طریقہ
قرآن کریم نے بار بار یہ بات واضح فرمائی ہے کہ رزق دینے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس لیے رزق کی فراوانی پر کسی کے لیے اس بات کی گنجائش نہیں کہ وہ اس پر اترائے اور فخروغور کا اظہار کرے، وہ اسے اپنے اب و جد کی وراثت سمجھے یا اسے اپنے فضل و کمال کا ثمرہ گمان کرے۔ اس کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی شکرگزاری کرے۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں شکرگزاری کا طریقہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو مال عطا فرمایا ہے تم اس کے مالک نہیں ہو بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ تم نے جن قوتوں اور صلاحیتوں سے کام لے کر یہ مال حاصل کیا ہے وہ قوتیں اور صلاحیتیں بھی اللہ تعالیٰ کی دین ہیں۔ اس لیے اس مال کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھ کر اپنی ضرورت کے مطابق اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو۔ اور اگر تمہارے قرابت داروں میں کچھ لوگ ضرورت مند ہیں یا تمہارے معاشرے میں کچھ مسکین ہیں جنھیں حالات کی گردش نے زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے کردیا ہے یا کوئی مسافر ہیں جنھیں کوئی افتاد احتیاج کا شکار بنا چکی ہے تو یہ سب تمہاری مدد کے مستحق ہیں۔ اس لیے اپنے مال میں سے ان کی مدد کرو۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات واضح فرمائی کہ یہ مدد کوئی خیرات نہیں بلکہ ان کا حق ہے جو تمہیں بہر صورت ادا کرنا ہے۔ اس لیے جب ان کی مدد کرو تو یہ سمجھ کر کرو کہ میں انھیں خیرات نہیں دے رہا بلکہ ان کا حق ادا کررہا ہوں۔ یہ میرا ان پر احسان نہیں۔ نہ میں کوئی ایسی بڑی ہستی ہوں اور وہ کوئی حقیر لوگ ہیں جنھیں میں اپنا ممنون کررہا ہوں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ زائد مال دے کر میری آزمائش کی ہے کہ میں اس مال کے حقداروں تک اسے پہنچاتا ہوں یا نہیں۔ یہی درحقیقت وہ طریقہ ہے جس سے مالی معاملات میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی جاسکتی ہے اور معاشرے اور ملک میں معاشی بہتری کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ جس ملک میں معاشی وسائل کی فراوانی ہو لیکن ہر شخص جو مال کے کسی حصے پر قابض ہوجائے وہ اسے اپنی ملکیت جانے اور بجاطور پر یہ سمجھے کہ میں اس مال میں غیرمحدود اختیارات رکھتا ہوں اور میرے گردوپیش میں بسنے والے مسلمان مجھ پر کسی طرح کا کوئی حق نہیں رکھتے، تو ایسا معاشرہ یا ایسا ملک کبھی بھی معاشی مسائل سے عہدہ برا نہیں ہوسکتا۔ مالی ہوس، ہوائے نفس کی حکمرانی، حبِ زر اور سرمائے کو بڑھانے کے لیے بلا امتیاز ہر طریقے کو بروئے کار لانے کا اختیار یہ انسان کی وہ کمزوریاں ہیں جن کی موجودگی میں غریب، غریب تر ہوتا ہے اور امیر، امیر تر ہوجاتا ہے۔ اور ایک وقت آتا ہے جب ایسے معاشرے پر سوشلزم کا عذاب نازل ہوجاتا ہے۔ اسلام نے اس کے لیے آسان طریقہ یہ اختیار کیا ہے کہ وسائل کی افزائش کے ساتھ ساتھ دل و دماغ میں تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ ہر شخص اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی فکر بھی کرے۔ حلال و حرام کا تصور دلوں میں راسخ کردیا جائے، اپنے مال میں دوسروں کا حق تسلیم کیا جائے، اپنے پاس اگر ایک روٹی بھی ہے تو اسے تقسیم کرکے دوسروں تک بھی پہنچایا جائے۔ اس سے نہ مال کی محبت پیدا ہوتی ہے، نہ ہوس زر بڑھتی ہے، نہ ارتکازِزر کو راستہ ملتا ہے اور نہ لوٹ کھسوٹ کا کلچر پروان چڑھتا ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کی رضا بھی ملتی ہے اور یہی لوگ آخر دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتے ہیں۔
Ayah 30:39وَمَآ اٰ تَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاْ فِیْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلاَ یَرْبُوْا عِنْدَاللّٰہِ ج ومَآ اٰ تَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُضْعِفُوْنَ ۔ (الروم : 39)
(اور جو روپیہ تم سود پر دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مالوں میں بڑھتا رہے، تو وہ اللہ کے یہاں نہیں بڑھتا، اور جو زکوٰۃ تم دیتے ہو اللہ کی رضا جوئی کے لیے، تو یہی لوگ ہیں جو اللہ کے یہاں اپنے مال کو بڑھانے والے ہیں۔ )
انسانی سوچ کی اصلاح اور ربا کا مفہوم
عام انسانوں کی سوچ اس دائرے سے باہر نہیں نکلتی کہ اپنے مال میں سے کسی کو اگر مدد کے طور پر کچھ دے دیا جائے یا کسی بھلائی کے کام پر خرچ کردیا جائے یا کسی رفاہی کام پر صرف کردیا جائے تو اس سے یقینا مال میں کمی آتی ہے، بڑھنے کا کوئی سوال نہیں۔ مال کے بڑھنے کا ایک طریقہ تو تجارت ہے جس کی اسلام نے ترغیب بھی دی ہے، لیکن اس میں امکانات دونوں طرح کے ہوتے ہیں کہ مال بڑھ بھی سکتا ہے اور کبھی نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن مال کے یقینی طور پر بڑھنے اور کبھی نقصان کا اندیشہ تک نہ ہونے کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے کہ کسی کو سودی قرض کے طور پر مال دیا جائے۔ گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر یہ ارشاد فرمایا کہ تم اگر اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہو اور زندگی میں فلاح و کامرانی کے متلاشی ہو اور یہ بھی چاہتے ہو کہ تمہاری دولت معاشرے میں تیزی سے گردش میں آئے اور زیادہ ہاتھوں میں پہنچ کر زیادہ بڑھوتری کا سبب بنے تو اس کی صورت یہ ہے کہ کہ قرابت داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے مال میں رکھا ہے۔ لیکن تم یہ سمجھتے ہو کہ لوگوں کو سود پر پیسہ دے کر تم اپنے مال میں یقینی طور پر اضافہ کرسکتے ہو تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایسا مال اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑھتا نہیں بلکہ کم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں جو مال بڑھتا ہے وہ مال وہ ہے جو تم زکوٰۃ کے طور پر دیتے ہو۔ زکوٰۃ سے یہاں فریضہ زکوٰۃ مراد نہیں بلکہ ہر وہ خیرات اور سخاوت ہے جس کا ذکر گزشتہ آیت میں کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں تو اس کی افزائش کا حال یہ ہوگا کہ جس آدمی نے ایک دانہ بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں دیا ہوگا وہ قیامت کے دن پہاڑ سے بڑھ کر اس کی افزائش دیکھے گا۔ لیکن دنیا میں بھی جس طرح سودی مال کم ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں دیا ہوا مال بڑھتا ہے اس کا ذکر یہاں نہیں کیا گیا۔ کیونکہ یہ وہ پہلی آیت ہے جس میں سود کے نقصان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ جس چیز کو آئندہ چل کر حرام قرار دینے والا ہوتا ہے اس کی شناعت اور خرابی کو بہت پہلے سے آہستہ آہستہ دماغوں میں اتارنا شروع کردیتا ہے اور پھر وہ وقت آجاتا ہے جب اسے حرام کردیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں یہ تصور ضرور دے دیا گیا ہے کہ انسان بڑا کوتاہ نظر واقع ہوا ہے۔ وہ بظاہر دور تک دیکھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس کی نظر اسی زندگی تک محدود رہ جاتی ہے۔ وہ اپنے اصل مستقبل یعنی آخرت میں نہیں دیکھ سکتا۔ لیکن ایک مومن کی سوچ عام انسان سے بالکل مختلف ہے۔ وہ دنیا سے آگے بڑھ کر آخرت کو بھی دیکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ دنیا میں روپیہ پیسہ دنیا کے بینکوں میں محفوظ رکھا جاتا ہے۔ لیکن اس کا فائدہ ممکن ہے کبھی دنیا میں پہنچ جائے، لیکن حقیقی فائدہ جب ہے جب وہ پیسہ خدا کے بینک میں جمع ہو، تاکہ وہ اس کی ابدی زندگی میں کام آئے۔ تو سود میں چونکہ مال اللہ تعالیٰ کے یہاں یعنی آخرت میں نہیں بڑھتا۔ وہ اس صورت میں بڑھتا ہے جب لوگوں کا حق اس میں سے ادا کردیا جائے۔ اس لیے ایک مومن کی اصل سوچ یہ ہونی چاہیے کہ وہ دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی فکر کرے۔
بعض اہل علم نے آیت میں ربا سے سود نہیں بلکہ تحفے اور عطیے مراد لیے ہیں جو اس نیت سے دیے جائیں کہ تحفہ لینے والا اس سے کئی گنا زیادہ اس کے بدلے میں تحفہ دے۔ یا اس کے نتیجے میں کوئی اور فائدہ اٹھایا جائے۔ لیکن سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے یہ مفہوم محل نظر ٹھہرتا ہے۔ اگر اس کو مراد لے بھی لیا جائے تو تب بھی اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس نیت سے بھی تحفہ یا عطیہ دیا جائے تو وہ اگرچہ حرام نہیں لیکن معیوب ضرور ہے۔ اور یہ بات تو آیت نے واضح کردی کہ ایسے تحفے دینے سے مال میں برکت نہیں ہوتی۔
Ayah 30:40اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَـکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُـکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ط ھَلْ مِنْ شُرَکَآئِکُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِکُمْ مِّنْ شَیْ ئٍ ط سُبْحٰنَـہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (الروم : 40)
(اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تمہیں رزق دیا، پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے، پھر تم کو زندہ کرے گا، کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان میں سے کوئی کام بھی کرتا ہو، وہ پاک ہے اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ )
شرک کی مذمت میں ایک جامع دلیل
گزشتہ آیات میں شرک کے مختلف مظاہر اور مصادیق پر ہمہ پہلو تنقید اور شرک سے پیدا ہونے والے مفاسد اور فکری اور عملی الجھنوں پر تبصرہ کرنے کے بعد ایک جامع بات ارشاد فرمائی ہے جس سے شرک کے مہمل ہونے اور جن قوتوں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے ان کے بےفائدہ ہونے پر استدلال کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور پھر زندگی کی بقاء کے لیے تمہاری روزی کا سامان کیا۔ پھر زندگی کے سفر کے اختتام پر تمہیں وہ موت دیتا ہے اور زندگی میں جیسے کچھ تم نے اعمال کیے ہیں ان کی جزاء و سزا کے لیے تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ یہی انسان کی چار بنیادی ضرورتیں ہیں اور زندگی کے چار اہم عنوان ہیں۔ تو کیا ان میں سے کسی ایک تبدیلی میں بھی ان شریکوں نے کوئی سی خدمت انجام دی ہے یا کسی کام میں ہاتھ بٹایا ہے۔ اور اگر ایسا ہے تو اس کا ثبوت دو ۔ اور اگر ان ذمہ داریوں میں کسی ذمہ داری کے ادا کرنے میں وہ شریک نہیں رہے اور تم نے انھیں اللہ کا شریک بنا رکھا ہے تو پھر بتائو وہ کس مرض کی دوا ہیں۔ نہ وہ دنیا میں تمہارے کام آئے اور نہ وہ آخرت میں تمہارے کام آئیں گے۔ تو تم نے آخر انھیں خدا کے ساتھ شریک کیوں ٹھہرا رکھا ہے۔
پھر ان مشرکین کی طرف سے رخ پھیر کر خود ہی اس بات کا جواب ارشاد فرمایا ہے اور ان سے منہ اس لیے پھیرلیا ہے کہ وہ اپنے عقیدے کی خرابی اور اعمال کے فساد کے باعث اس قابل نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے مخاطب ہو۔ نیز اس سے اللہ تعالیٰ کے غضب کی طرف بھی رہنمائی ملتی ہے اور مشرکین کی بےوقعتی کی طرف بھی اشارہ ہے۔ جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے اور بہت بلندو برتر ہے ان چیزوں سے جنھیں اس کا شریک ٹھہرایا جاتا ہے۔ چاہے وہ انسان ہوں یا جن، فرشتے ہوں یا دیوی دیوتا، اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں کسی کا شریک ہونا انسانی دماغ کی خرابی کی علامت کے سوا اور کچھ نہیں۔ نہ اسے عقل سلیم تسلیم کرتی ہے اور نہ کبھی کسی صحیح مذہب نے اس کی اجازت دی ہے۔
بعض اہل علم نے اس آیت کے مفہوم کی وضاحت میں یہ بات کہی ہے کہ مشرکینِ قریش کو براہ راست یہ ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ تم نے اور تم جیسے دوسرے مشرکین نے جس طرح زمین کو فساد سے بھر دیا ہے اور تمہاری بداعمالیوں نے جس طرح انسانی زندگی دشوار کردی ہے اور زمین میں ہر طرف قتل اور خونریزی، بدامنی اور بےچینی، جان مال اور آبرو کی رسوائی اور زندگی کے ہر شعبے میں تباہ کن بگاڑ پھیل گیا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ ان خرابیوں کا خمیازہ انسان کو بھگتنا پڑے۔ اور ان نتائج سے دوچار ہونا پڑے جو ایسی صورتحال کا لازمی نتیجہ ہے۔ تو کیا ان تباہ کن حالات میں جن قوتوں کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے کیا وہ تمہاری کوئی مدد کریں گی، جبکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا، وہی روزی دیتا ہے، موت بھی اس کے اختیار میں ہے اور دوبارہ زندہ بھی وہی کرے گا۔ تم اپنے ان شریکوں کے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ انھوں نے ان کاموں میں سے کوئی کام بھی سرانجام دیا ہو۔ تو پھر سوچ لو اگر تم نے اسلام کی دعوت قبول نہ کی تو اس صورتحال سے تم کس طرح عہدہ برآ ہوسکو گے۔
Ayah 30:41ظَہَرَالْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (الروم : 41)
(خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے لوگوں کی اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ اللہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید کہ وہ باز آئیں۔ )
بروبحر میں فساد انسانی اعمال کا نتیجہ ہے
بروبحر کے الفاظ معنوی احاطہ پر دلیل ہوتے ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، اعتقادی ہو یا عملی، فساد برپا ہوگیا ہے۔ یعنی زندگی کا کوئی شعبہ بھی فکری اور عملی ابتری سے بچا ہوا نہیں ہے۔ اس میں ممکن ہے روم و ایران کے درمیان ہونے والی لڑائی کی طرف اشارہ ہو۔ کیونکہ اس لڑائی کی آگ نے پورے شرق اوسط کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اور اس وقت کی متمدن دنیا کا یہی علاقہ مرکز تھا۔ اس زمانے کی دو بڑی سلطنتیں اسی علاقے میں تھیں۔ بظاہر تو یہ ابتری اس علاقے میں جنگ کا نتیجہ معلوم ہوتی تھی لیکن حقیقت میں جنگ بجائے خود فکروعمل کی خرابی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے اگر جنگ کی طرف بھی اشارہ سمجھا جائے تو مقصود یہ نہیں ہے کہ جنگ نے حالات خراب کیے ہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ انسانوں کے اپنے اعمال نے حالات کو تباہ کیا ہے، اسی سے جنگ کو وجود ملا اور اس نے اس تباہی میں مزید اضافہ کیا۔ اس لیے اصل توجہ کے لائق انسان کی فکر و نظر کا بگاڑ اور اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والے اعمال ہیں جنھوں نے بروبحر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اور زندگی کا کوئی شعبہ بھی اس کی دسترس سے باہر نہیں رہا۔ وہ فکر و نظر کی خرابی کیا ہے۔ وہ وہی ہے جس کی طرف قرآن کریم بار بار اشارہ کررہا ہے کہ انسان جب تک اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات میں وحدہ لاشریک، اس کی صفات میں یکتا، اس کے حقوق میں بےبدل اور اس کے احکام میں مطاع مطلق اور اس کے وجود میں حاضر و ناظر اور اس کی قدرت میں بےپناہ اور اس کے علم میں بےپایاں تسلیم نہیں کرتا اور اس کے ساتھ ساتھ جواب دہی کے لیے آخرت کا یقین دل میں نہیں اتارتا اس وقت تک اس کے اعمال میں سلامتی کی کوئی ضمانت نہیں۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان سے بےنیاز ہو کر اگر وہ طاقتور ہے تو فرعون بن بیٹھے گا اور انسانوں سے اپنی بندگی کرائے گا۔ اور اگر وہ کمزور ہے تو یا شتر بےمہار بن کر زندگی گزارے گا یا انسانوں میں سے کسی کی غلامی میں شب و روز بسر کرے گا۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا فرمانبردار نہیں تو اس کی زندگی کے اعمال کی نہ کوئی جہت ہوگی نہ منزل۔ وہ ہر لحاظ سے اپنے آپ کو آزاد سمجھے گا اور جو جی میں آئے گا کرے گا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ نہ کوئی گھر سلامت رہے گا نہ کوئی ہمسایہ ظلم وتعدی سے بچے کا نہ معاشرہ حُسنِ معاشرت سے آگاہ ہوسکے گا اور نہ انسانی زندگی اپنے اندر کوئی سا حسن پیدا کرسکے گی۔ اور اگر وہ اپنے آپ کو آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتا تو تب اس کی حیوانیت کو بگٹٹ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اور اس کی تنہائیوں میں پاکیزگی آنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وہ اعمال ہیں جنھوں نے انسانی زندگی کو پہلے بھی زخم دیے ہیں اور آج بھی دے رہے ہیں۔
آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے کے زمانے کو عہدجاہلیت کہتے ہیں، جس میں انسانی بگاڑ اس قدر ہمہ گیر اور اس قدر شدید تھا کہ زندگی کا کوئی شعبہ اس سے محفوظ نہیں تھا۔ خانگی زندگی اجڑ چکی تھی، ہر قبیلہ دوسرے قبیلے کا دشمن تھا، ہر قبیلے نے اپنا الگ خدا بنا رکھا تھا جس سے ضرورت کے وقت مرادیں مانگتا اور بندگی بجا لاتا تھا، لیکن ویسے پوری زندگی ہَوائے نفس کے زیراثر گزر رہی تھی۔ انسانی جان، مال اور آبرو بےقدر و قیمت ہوچکے تھے۔ خود انسان، انسان کا دشمن تھا۔ اخلاق اس حد تک تباہ ہوچکے تھے کہ شرم و حیاء، لحاظ اور مروت، رحم دلی اور ہمدردی، دیانت و امانت، غرضیکہ تمام اقدارِانسانیت اپنی معنویت اور عملی تعبیر کھو چکے تھے۔ اور اس تباہی کی ہمہ گیری کا عالم یہ تھا کہ اس کا شکار صرف عالم عرب نہیں بلکہ اس دور کی پوری دنیا تھی۔ رومیوں اور ایرانیوں کے ظلم نے دنیا کو جہنم بنا رکھا تھا۔ آج بظاہر ہم علم و ہنر کے دور میں جی رہے ہیں، لیکن درحقیقت عہدجاہلیت پوری طرح زندہ ہوچکا ہے۔ انسان کی خدا فراموشی، نوامیسِ فطرت سے سرتابی اور اسلام کے پیش کیے ہوئے نظام حیات سے روگردانی بالکل اسی سطح تک پہنچ گئی ہے جیسی ہم عہدجاہلیتِ اولیٰ میں دیکھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ خشکی میں کہیں امن ہے، نہ سمندر کی بےکراں وسعتوں میں کوئی گوشہ عافیت نظر آتا ہے۔ زمین پر جگہ جگہ میزائل کے اڈے قائم ہیں جہاں سے ایک برِاعظم سے دوسرے برِاعظم پر ایٹم بم برسا کر ہر چیزکو خاک سیاہ بنایا جاسکتا ہے۔ سمندر کی سطح بلکہ سمندروں کو ابلتے ہوئے جہنم میں تبدیل کرسکتا ہے۔ کُرّہ ہَوائی میں بڑی بلندیوں پر امریکہ کا ہَوائی بیڑہ جو ہزاروں طیاروں پر مشتمل ہے ہر وقت مصروفِ پرواز رہتا ہے۔ اس میں مہلک قسم کے ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم فٹ کردیے گئے ہیں۔ ایک سگنل سے وہ قیامت برپا کرسکتے ہیں۔ بڑی قوتیں مہلک سے مہلک اسلحہ بنانے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لیے ملکی ثروت کو پانی کی طرح بہا رہی ہیں۔ یہ تباہی کے اسباب جو بڑے سے بڑے فساد کو جنم دے سکتے ہیں اور بہت حد تک دے بھی چکے ہیں پرانے عہد جاہلیت سے کہیں بڑا حادثہ ہے جس سے آج انسانیت دوچار ہے۔ اور اس کا سبب صرف انسانی کرتوت ہیں جو انسان کے بگڑ جانے کے باعث مسلسل ظہور میں آرہے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکمل عذاب نہیں بلکہ ایک تنبیہ ہے تاکہ انسانوں کی کرتوتوں کا کچھ مزہ ان کو چکھایا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور اس کے بھیجے ہوئے دین سے انکار کے نتیجے میں دو قسم کے عذاب آیا کرتے ہیں۔ ایک ہے تنبیہی اور دوسرا ہے فیصلہ کن۔ قریش سے کہا جارہا ہے کہ تم نے اپنے اعمال سے اپنے آپ کو ایک تنبیہی عذاب کا مستحق بنا لیا ہے۔ اور اس عذاب کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ مخاطب قوم کو مختلف تکالیف اور حوادث کا شکار بناتا ہے۔ لیکن ان کی بیخ کنی نہیں کرتا، اور موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی روش بدلنا چاہیں تو بدل لیں۔ لیکن اگر وہ اپنی روش نہیں بدلتے تو پھر ان پر وہ فیصلہ کن عذاب آتا ہے جو ان کی کمر توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ آج ہم بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ہمارے ملک کا بہت بڑا حصہ اس سے پہلے زلزلے کی نذر ہوچکا ہے اور آج ایک بڑے حصے کے رہنے والے اپنے گھروں سے بےگھر ہوچکے ہیں۔ وہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں اذیتوں کا شکار ہیں۔ ان کی آبادیاں مسمار کردی گئی ہیں۔ وہ موسم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ بہت محدود سطح پر ان کی دیکھ بھالی کا انتظام ہورہا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس لیے ہورہا ہے تاکہ وہ بھی اور ملک کے دوسرے حصوں کے رہنے والے بھی سبق سیکھیں اور اپنی اصلاح کریں۔ لیکن اگر ہم نے اپنی اصلاح کرنے کی کوشش نہ کی اور حالات کو بدلنے کے لیے اپنا اپنا فرض انجام نہ دیا تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ عذاب بھی آسکتا ہے جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔
Ayah 30:42قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ ط کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّشْرِکِیْنَ ۔ (الروم : 42)
(اے پیغمبر ! ان سے کہئے کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو پہلے گزر چکے ہیں، ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے۔ )
تاریخ سے استدلال
قریشِ مکہ چونکہ آنحضرت ﷺ کی تنبیہات اور عذاب کی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتے تھے بلکہ یہ سمجھتے تھے کہ خالی خولی دھمکیاں ہیں جس کا کبھی کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ محض ہمیں ڈرایا جارہا ہے تاکہ ہم آپ ﷺ کی دعوت قبول کرلیں۔ اور باقی اہل دنیا کا بھی حال اس سے مختلف نہیں تھا۔ ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت ایک بےمعنی سے بات ہو کر رہ گئی تھی۔ اور وہ جیسے جیسے زندگی گزار رہے تھے اسی پر مطمئن تھے اور اپنی سوچ اور اپنے اعمال کو بالکل برحق سمجھتے تھے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے کہیں کہ میں تمہیں جن حقائق کی طرف بلا رہا ہوں اور جن کے انکار کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرا رہا ہوں یہ محض زبانی باتیں نہیں بلکہ اس کے پیچھے تاریخ کی شہادت موجود ہے۔ تم سرزمینِ عرب کے مختلف علاقوں سے گزرتے ہو اور تمہارے تجارتی قافلے ایسے راستوں سے گزرتے ہیں جہاں بہت سی معذب قوموں کی تاریخ بکھری ہوئی ہے اور تم ان کی تاریخ سے واقف ہو۔ تم اگرچہ امی قوم ہو لیکن ان قوموں کے حالات سینہ بہ سینہ تم تک پہنچ چکے ہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ ان قوموں کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول آئے۔ انھوں نے انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا، اس پر ایمان لانے کی دعوت دی، ان کے اعمال کی درستگی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے شریعت پیش کی، انھیں مکارمِ اخلاق سے آگاہ کیا اور اس بات سے بھی باخبر کیا کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو یاد رکھو تمہاری بداعمالیوں اور بےایمانیوں کی وجہ سے دنیا میں بھی تم پر عذاب آئے گا اور آخرت میں بھی تم پکڑے جاؤ گے۔ چناچہ جب انھوں نے پیغمبروں کی کسی بات پر کان نہیں دھرے تو بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا اور وہ تباہ و برباد ہوگئے۔ آج بھی ان کے کھنڈرات اور ان کے آثار ان کی کہانی سنانے کے لیے موجود ہیں۔ تم غور کرو کہ آخر ان قوموں پر عذاب کیوں آیا اور پھر خود ہی فرمایا کہ ان میں سے بیشتر لوگ شرک کے مرض میں مبتلا تھے اور یہ ایسا مرض ہے کہ جو قوم بھی اس کا شکار ہوتی ہے وہ بالآخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا نشانہ بنتی ہے۔
یہ بات یاد رہے کہ شرک سے مراد صرف شرک فی العبادت نہیں بلکہ یہ ایک وسیع اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور اِلٰہ نہیں۔ اسی طرح کوئی شخص چاہے وہ کیسے ہی بڑے مرتبے کا مالک ہو اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک نہیں۔ اس کے سوا نہ کسی کے سامنے سر جھکایا جاسکتا ہے، نہ کسی کی غیرمشروط اطاعت ہوسکتی ہے نہ کسی کو حاکمیتِ مطلقہ زیب دیتی ہے، صرف اسی کی بےہمتا ذات ہے جو سروری کے لائق ہے اور اس کی کبریائی کو کسی کی عظمت چیلنج نہیں کرسکتی۔ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لیے یہ نسبتیں تسلیم کرے گا وہ شرک کا ارتکاب کرے گا، اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی معافی کا کوئی امکان نہیں۔ پہلی قومیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اسی شرک کی وجہ سے تباہ ہوئیں۔ اور اے عرب کے لوگو ! تم بھی اسی شرک کی وجہ سے تباہی کے کنارے پہنچ چکے ہو۔
Ayah 30:43فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لاَّمَرَدَّلَـہٗ مِنَ اللّٰہِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ ۔ (الروم : 43)
(پس اپنا رخ دین قیم کی طرف سیدھا رکھئے، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس کے ٹل جانے کی کوئی صورت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے، اس دن یہ لوگ جدا جدا ہوجائیں گے۔ )
آنحضرت ﷺ کی طرف التفات
قریشِ مکہ اور دیگر اہل دنیا کو تاریخ کا آئینہ دکھانے کے بعد آنحضرت ﷺ سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جہاں تک تبلیغ و دعوت اور افہام و تفہیم کا تعلق ہے آپ ﷺ نے اس میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ تنبیہ اور تہدید بھی بہت کچھ ہوچکی۔ اگر یہ ہٹ دھرم اور شامت زدہ لوگ آپ ﷺ کی بات نہیں مانتے تو آپ ﷺ ان کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے جو دین اتارا ہے اس کا راست تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے۔ اور مزید یہ کہ اسے اختیار کرلینے اور اپنا لینے کے بعد زندگی میں کوئی کجی باقی نہیں رہتی۔ آپ ﷺ کا اور آپ ﷺ کی پیروی میں مسلمانوں کا کام یہ ہے کہ آپ ﷺ اسی کے ساتھ یکسو ہو کر دلجمعی کے ساتھ اپنا تعلق جمائے رکھیں۔ آپ ﷺ کی تبلیغ و دعوت کا ہدف اس کے سوا کوئی اور چیز نہ ہو۔ اور مسلمانوں کا کوئی عمل کبھی بھی اس فطری دین سے ہٹا ہوا نہ ہو۔ اسی دین کے حوالے سے قیامت کے دن مسؤلیت ہوگی۔ اس مسؤلیت سے بچنے کی ہر وقت فکر کیجیے۔ اس دن کا آنا ایسا اٹل ہے کہ اس کی آمد میں کوئی شبہ نہیں۔ اور جب وہ دن آجائے گا تو کسی کی مجال نہیں کہ اس کو ٹال سکے۔ اور نہ خود اللہ تعالیٰ اسے ٹالنے والا ہے۔ آج ان مشرکین کو گمان یہ ہے کہ اگر وہ دن آہی گیا تو ہمارے شرکاء و شفعاء ہمیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا لیں گے اور ہم ان کی شفاعت سے اس دن سرخرو ہو کر نکلیں گے، لیکن یہ ان کی خام خیالیاں ہیں۔ اس دن سب متفرق ہوجائیں گے۔ جنھیں اپنی شفاعت کا ذریعہ سمجھتے ہیں وہ ان کے کام نہ آسکیں گے۔ وہاں سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی، کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو شفاعت کا اعزاز بخشے اور کسی کے حق میں اجازت دے دے۔
Ayahs 30:44–45مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ ج وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِہِمْ یَمْھَدُوَنَ ۔ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِہٖ ط اِنَّـہٗ لاَ یُحِبُّ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (الروم : 44 45)
(جس نے کفر کیا اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے، اور جنھوں نے نیک اعمال کیے وہ بیشک اپنے لیے زمین ہموار کررہے ہیں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزاء دے، یقینا وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔ )
قیامت میں کفر کا نتیجہ
قیامت کی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آج کافر لوگ اپنے کفر پر نازاں ہیں اور ایمان لانے والوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اور یہ کفر دنیا میں ان کے لیے ترقی اور کامیابی کا ذریعہ بن گیا ہے۔ لیکن قیامت کے دن یہی کفر ان کے لیے وبال جان ثابت ہوگا۔ اس دن ہر شخص کو اس کے عمل کے مطابق جزاء یا سزا ملے گی۔ کافر لوگ چاہے کچھ بھی گمان کریں لیکن اس روز کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا اور کوئی کسی کا بوجھ اٹھانے والا نہیں ہوگا۔ اسی طرح جو لوگ عمل صالح کررہے ہیں۔ وہ درحقیقت اپنے ہی مستقبل کو سنوار رہے ہیں اور یہی عمل صالح قیامت کے دن ان کے لیے ایسا سرمایہ ثابت ہوگا کہ جس سے ان کے لیے فوزوفلاح کا راستہ کھلے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن انسان کے اعمال ہی کام آئیں گے، کوئی دوسرا اس کے کام نہیں آئے گا۔ اور انسان کی بداعمالیاں اس کے لیے وبال جان ثابت ہوں گی اور کوئی اسے چھڑانے والا نہیں ہوگا۔
قیامت کے آنے کا مقصد
اگلی آیت کا تعلق درحقیقت گزشتہ سے پیوستہ آیت میں قیامت کے ذکر سے ہے۔ یعنی قیامت کے آنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان و عمل صالح والوں کو اپنے فضل سے صلہ دے۔ اس لیے کہ جب دنیا میں اہل کفر کی غیرمعمولی اکثریت ہو اور ایمان لانے والے کے لیے اذیت رسانی کی بھٹیاں کھلی ہوئی ہوں اور ایک ایسی زندگی کو اختیار کرنا ہو جس میں ہر طرف آزمائشیں ہی آزمائشیں ہوں تو ایسے حالات میں ایمان کا راستہ اختیار کرنا اور عمل صالح سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا یقینا ایک ایسا مجاہدہ ہے جس کی قدروقیمت کی کوئی انتہا نہیں۔ تو یہ کیسے ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایسے جانثاروں اور سرفروشوں کو نظرانداز فرما دیتا۔ اس لیے صاف صاف فرمایا کہ ہم قیامت کو اس لیے لائیں گے تاکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انھوں نے نیک اعمال کیے ہیں انھیں ہم ان کے ایمان و عمل کا صلہ دیں۔ اور دنیا میں انھوں نے اس کی خاطر جو دکھ اٹھائے ہیں اس پر انعام دیں۔ لیکن ساتھ ہی ایک عجیب بات فرمائی کہ ہم ان کو ایمان و عمل کا صلہ دیتے ہوئے صرف ان کے ایمان و عمل کی قدروقیمت کو نہیں جانچیں گے تاکہ اس کے مطابق صلہ دیں بلکہ اپنے فضل و کرم کو پیش نظر رکھیں گے۔ انھوں نے اپنی ہمت اور توانائی کے مطابق ایمان اور اخلاص کی شمع روشن کی اور تمام تر موانع کے باوجود عمل کے چراغ جلائے۔ ہم بھی اس کا صلہ دیتے ہوئے اپنے فضل و کرم کی بارش برسائیں گے۔ رہی یہ بات کہ فضل و کرم کی انتہا کیا ہوگی اور اس کی وسعت کا عالم کیا ہوگا یہ ایسی بات ہے جس کے لیے تخلیق نہیں کیا گیا کوئی پیمانہ۔
آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کافروں کو پسند نہیں فرماتا۔ بظاہر یہ سادہ سا جملہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی یکتا و بےمثال ذات کا کسی کو اپنی پسند سے نکال دینا اتنی بڑی محرومی ہے اور اس میں ایسی نفرت و کراہت چھپی ہوئی ہے کہ جس کی تعبیر سے قلم قاصر ہے۔ اہل ایمان کے مرتبہ و مقام کا کیا کہنا کہ قیامت برپا ہی اس لیے کی جائے گی تاکہ انھیں انعام و تحسین سے نوازا جائے اور اہل کفر کی بدنصیبی کا کیا ٹھکانہ کہ یہ بات کہہ کر ان کا ذکر ختم کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ انھیں پسند نہیں کرتا۔ اب وہ کسی بھی جہنم میں گریں اور کیسی بھی خواری کا شکار ہوں، اللہ تعالیٰ کو اس کی کیا پرواہ۔