29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsروح القرآن

Ayahs 29:1–2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہیں جائیں گے

الٓـمّٓ۔ (العنکبوت : 1) (ال م … یہ حروفِ مقطعات میں سے ہے اور اس کی بحث اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ ) اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوُلُوْٓا اٰمَنَّا وَھُمْ لاَ یُفْتَنُوْنَ ۔ (العنکبوت : 2) (کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہیں جائیں گے۔ ) آیات کا پس منظر یہ آیات اس زمانے میں نازل ہوئی ہیں جب مکہ کی سرزمین مسلمانوں کے لیے آزمائشوں کی بھٹی بنی ہوئی تھی۔ جو شخص اسلام قبول کرتا، اہل مکہ کا غیظ و غضب بری طرح اس پر حملہ آور ہوتا۔ اگر اس کا تعلق کسی غریب گھرانے سے ہوتا یا وہ غلام ہوتا تو مکہ کی ریت تپ اٹھتی، چٹانیں گرم ہوجاتیں، مکہ کے اشرار ایسے لوگوں کو گرم ریت پر گھسیٹتے، دہکتی چٹانوں پر لٹاتے اور سینے پر سل رکھ دیتے اور کہتے کہ جب تک تم اسلام چھوڑنے کا اعلان نہیں کرو گے یا اللہ اور رسول کے بارے میں کوئی نازیبا بات منہ سے نہیں نکالو گے اس وقت تک تمہاری جان نہیں چھوٹے گی۔ اگر کوئی شخص ہنرمند اور پیشہ ور ہوتا تو اس کی روزی کے دروازے بند کردیے جاتے۔ اور اگر کوئی تاجر ہوتا تو اس کا بائیکاٹ کردیا جاتا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ یہ لوگ بھوکوں مرنے پر مجبور ہوجاتے۔ اور اگر ایمان لانے والوں میں کوئی شخص کسی بااثر خاندان کا آدمی ہوتا تو اس کے اپنے خاندان کے لوگ اس کے لیے زندگی دشوار کردیتے۔ نبی کریم ﷺ جو مکہ کے سابق سردار کے پوتے اور مکہ کی سب سے ہر دلعزیز شخصیت تھے ان شرپسندوں کی اذیتوں سے محفوظ نہیں تھے۔ ان حالات نے عجیب صورتحال پیدا کردی تھی کہ جو لوگ دلوں میں آنحضرت ﷺ کی صداقت کے قائل ہوچکے تھے وہ ان مصائب کو دیکھ کر آگے بڑھنے کی ہمت نہیں پا رہے تھے۔ اور وہ صادق الایمان لوگ جو زندگی کی ہر ضرورت اور نعمت پر ایمان کو ترجیح دے رہے تھے انھیں مصائب کے ایسے شکنجوں میں کسا جارہا تھا کہ ان کی قوت برداشت شکست و ریخت کا شکار ہونے لگی تھی۔ حضرت خَبّاب بن اَرَت ( رض) نہایت راسخ الایمان صحابہ میں سے تھے۔ کافروں نے ان کی اذیت کو یہاں تک پہنچا دیا تھا کہ دہکتے انگاروں پر انھیں لٹایا جاتا، ان کی چربی پگھل کر انگاروں کو سرد کرتی تو تب ان کی خلاصی ہوتی۔ وہ فرماتے ہیں کہ جس زمانے میں مشرکین کی سختیوں سے ہم بری طرح تنگ آئے ہوئے تھے، ایک روز میں نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ کعبہ کی دیوار کے سائے میں تشریف رکھتے ہیں، میں نے حاضر ہو کر عرض کیا یارسول اللہ آپ ﷺ ہمارے لیے دعا نہیں فرماتے۔ یہ سن کر آپ ﷺ کا چہرہ جوش اور جذبے سے سرخ ہوگیا اور آپ ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے جو اہل ایمان گزر چکے ہیں ان پر اس سے زیادہ سختیاں توڑی گئی ہیں۔ ان میں سے کسی کو زمین میں گڑھا کھود کر بٹھایا جاتا اور اس کے سر پر آرہ چلا کر اس کے دو ٹکڑے کردیے جاتے، کسی کے جوڑوں پر لوہے کے کنگھے گھسے جاتے تاکہ وہ ایمان سے باز آجائے۔ خدا کی قسم یہ کام پورا ہو کے رہے گا یہاں تک کہ ایک شخص صنعاء سے حضرموت تک بےکھٹکے سفر کرے گا اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہ ہوگا جس کا وہ خوف کرے۔ ان آیات میں انھیں احساسات اور انفعالات کا جواب دیا گیا ہے۔ اور یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ دنیا میں ایمان ایک ایسی وابستگی کا نام ہے جس سے زیادہ مؤثر، وسیع اور گہرے اثرات رکھنے والی اور کوئی وابستگی نہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی تمام صفات کے ساتھ ہمہ قسم کی دلبستگی کا اقرار، آنحضرت ﷺ پر اعتماد، آپ ﷺ کی اطاعت اور آپ ﷺ سے محبت کا دعویٰ اور قیامت کے دن ازسرنو جی اٹھنے، اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہونے اور اپنے ہر عمل کے بارے میں جواب دہی کرنے اور جزاء و سزا کے ابدی قانون پر یقین جیسے عوامل شامل ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ عہد بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول پر جو کچھ دین کے حوالے سے نازل ہوا ہے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ بھی کرنا ہے۔ ایسی جامع و مانع قسم کی وابستگی کا اقرار و اعلان کیسے ممکن ہے کہ بغیر آزمائش اور بغیر امتحان کے قبول کرلیا جائے۔ یہ تو ایک ایسی محبت کا دعویٰ ہے جو ہمیشہ آزمائی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی خودسپردگی اور خودفروشی ہے جسے قدم قدم پر اپنی سچائی کا امتحان دینا پڑتا ہے۔ ٹھیک کہا کسی نے : محبت کے مقدر میں ہے کہاں آرام اے ہمدم کہیں شعلہ، کہیں بجلی، کہیں سیماب ہوتی ہے راہِ حق میں آزمائشیں ضرور پیش آتی ہیں یہی وہ بات ہے جو پروردگار اہل ایمان کو پیش نظر آیت میں سمجھا رہا ہے کہ ہم نے اہل ایمان کے ساتھ دنیا و آخرت میں کامیابیوں کے جو وعدے کر رکھے ہیں ان کا ایفاء مجرددعویٰ ایمان پر تو نہیں ہوسکتا کیونکہ جب تک کوئی شخص آزمائشوں کی بھٹی سے گزر کر اپنا استحقاق ثابت نہیں کرتا اس وقت تک اسے اللہ تعالیٰ کے وعدے نہیں پہنچ سکتے۔ اللہ تعالیٰ کی جنت اس قدر سستی نہیں۔ اور نہ دنیا میں اہل ایمان پر ہونے والی عنایات اس قدر ارزاں ہیں کہ صرف دعویٰ ایمان اس کے لیے کافی ہوجائے۔ اس کے لیے تو امتحان شرط ہے۔ ایسا امتحان جس میں جان و مال کی قربانی بھی ہے اور مصائب و مشکلات کی برداشت بھی۔ جس میں خوف کے مراحل بھی ہیں اور ہوسنا کی کی کھائیاں بھی۔ جب تک آزمائشوں کے ان مراحل سے کوئی شخص کامیابی کے ساتھ نہیں گزر جاتا اس وقت تک ایمان کے صادق یا کاذب ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 29:3

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

حالانکہ ہم ان لوگوں کی بھی آزمائش کرچکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں، سو اللہ ان لوگوں کو ممیز کرے گا جو سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی ممیز کرکے رہے گا

وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَلَیَعَلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْـکٰذِبِیْنَ ۔ (العنکبوت : 3) (حالانکہ ہم ان لوگوں کی بھی آزمائش کرچکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں، سو اللہ ان لوگوں کو ممیز کرے گا جو سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی ممیز کرکے رہے گا۔ ) سابقہ آیت کے مضمون کی تاکید و تائید اس آیت کریمہ میں سابقہ آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے نہایت مؤکد انداز میں اس کی تائید و تاکید فرمائی گئی ہے یعنی یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے جو صرف آپ لوگوں کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ تاریخِ مذہب اٹھا کے دیکھ لیجیے آپ کو نظر آئے گا کہ تاریخ میں ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے کہ جب بھی کچھ لوگ ایمان و اسلام کا دعویٰ لے کر اٹھے ہیں ہمیشہ ان کو آزمائشوں میں ڈال کر آزمایا گیا ہے۔ چناچہ ہر دور میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون رہا ہے کہ وہ آزمائشوں میں ڈال کر سچے اور کھرے ثابت ہونے والے لوگوں کو جھوٹے اور کمزور لوگوں سے ممیز کردیں۔ اور دیکھنے والے خود جان لیں کہ ان میں راست باز کون ہے اور جھوٹا مدعی کون ہے۔ کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو علم محیط کا مالک ہے اسے آزمائشوں میں ڈال کر جاننے کی کیا ضرورت ہے وہ تو خود جانتا ہے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ لیکن ایسی بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جو کو تاہی فکر کا شکار ہو، ورنہ یہ بات سب پر آشکارا ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ جزاء و سزا کا معاملہ مجرد اپنے علم کی بنیاد پر نہیں کرتا بلکہ لوگوں کے عمل کی بنیاد پر کرتا ہے۔ اس وجہ سے وہ ہر ایک کو امتحان میں ڈال کر پرکھتا ہے اور اسی امتحان سے ہر ایک کے مدارج معین کرتا ہے۔ ویسے بھی جب تک کسی شخص سے عمل کی صورت میں اس کے اندر کی صلاحیتوں کا اظہار نہیں ہوتا اس وقت تک عدل و انصاف کے نقطہ نگاہ سے نہ اسے کسی انعام کا مستحق سمجھا جاسکتا ہے اور نہ کسی سزا کا سزاوار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آزمائشوں کا یہ سلسلہ جس طرح کسی بھی دعویٰ کی صداقت کی دلیل ہے اسی طرح شخصیت کی تعمیر کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ جیسے جیسے آدمی آزمائش سے گزرتا ہے اس کے اندر صلابتِ فکر کے ساتھ ساتھ عمل کی پختگی بھی وجود میں آتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑے سے بڑے امتحان اور نازک سے نازک مرحلے میں کسی کمزوری کا شکار نہیں ہوتا۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت پیش نظر رہے کہ کسی نظریئے کی صداقت کے لیے جب اس نظریئے کا داعی اور مدعی تکلیفیں اور اذیتیں برداشت کرتا ہے تو دیکھنے والی نگاہیں اور محسوس کرنے والے دل اس نظریئے کی صداقت پر یقین لائے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ان کے اندر سے یہ آواز آتی ہے کہ اگر اس نظریئے میں کوئی کمزوری ہوتی تو اس کے لیے مصائب برداشت کرنا ممکن نہ ہوتا۔ اور اس کے لیے جان دینے کا عزم تو افسانے سے زیادہ کوئی حقیقت نہ رکھتا۔ لیکن جب ہم اسے عملی صورت میں ڈھلتا دیکھتے ہیں تو یہ کہے بغیر چارہ نہیں رہتا کہ یہ صداقت کی ایک ایسی دلیل ہے جس سے بڑی کوئی دلیل نہیں ہوسکتی۔
Ayah 29:4

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

اور کیا وہ لوگ جو بری حرکتیں کررہے ہیں وہ گمان رکھتے ہیں کہ ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں گے، بڑا غلط فیصلہ ہے جو وہ کررہے ہیں

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا ط سَآئَ مَا یَحْکُمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 4) (اور کیا وہ لوگ جو بری حرکتیں کررہے ہیں وہ گمان رکھتے ہیں کہ ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں گے، بڑا غلط فیصلہ ہے جو وہ کررہے ہیں۔ ) مخالفین کو تنبیہ آیت کے الفاظ میں اگرچہ عموم پایا جاتا ہے لیکن سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ روئے سخن قریش کے ان ظالم سرداروں کی طرف ہے جو اسلام کی مخالفت میں اور مسلمانوں کو تکلیفیں پہنچانے میں پیش پیش تھے۔ مسلمانوں کو ان ظالم سرداروں کی طرف سے پہنچائی جانے والی اذیتوں پر صبروثبات کی تلقین کرنے کے بعد ان ظالموں کو بھی تنبیہ کی جارہی ہے کہ ان لوگوں نے شاید یہ گمان کر رکھا ہے کہ یہ اسی طرح مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑتے رہیں گے اور کوئی ہاتھ انھیں پکڑنے والا نہیں ہوگا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو لاوارث سمجھتے ہیں۔ اس لیے نہ تو انھیں مسلمانوں کی طرف سے کسی سخت ردعمل کا اندیشہ ہے اور نہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کبھی کوئی غیبی ہاتھ ان کی گرفت بھی کرسکتا ہے۔ اس لیے وہ روزبروز اذیت رسانی میں دلیر ہوتے جارہے ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی آزمائش کے لیے انھیں جو ڈھیل دے رکھی ہے وہ ہمیشہ کے لیے نہیں۔ جیسے ہر فصل کے بارآور ہونے، ہر پھل کے پکنے اور ہر وجود کے بالغ ہونے کا ایک وقت ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے دین کی فصل بھی اپنے وقت پر بارآور ہو کے رہے گی۔ آج کے کمزور کل کو طاقتور ہوجائیں گے۔ مزید اس طرف بھی اشارہ فرمایا کہ کفارِقریش کو اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ہم سے سبقت لے جائیں گے کیونکہ ہم نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر اس لیے بھیجا ہے کہ وہ اسے تمام ادیانِ باطلہ پر غالب کردے اور قریش ہمارے رسول اور اس کی تبلیغی کاوشوں کو ناکام کردینے پر تلے ہوئے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نوزائیدہ دین اور اس کی بنیاد پر اٹھنے والی ایک قوت بہت جلد ناکامی سے ہمکنار ہوگی اور ہم اس کا راستہ روکنے میں کامیاب ہوجائیں گے، یہ ان کی خام خیالی ہے اور ان کا بہت برا فیصلہ ہے جو وہ حالات کے تناظر میں کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا دین غالب آکر رہے گا اور جب اللہ تعالیٰ ان پر ہاتھ ڈالے گا تو کوئی انھیں بچا نہ سکے گا۔
Ayah 29:5

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو کوئی اللہ سے ملنے کی توقع رکھتا ہے وہ اطمینان رکھے کہ اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آکے رہے گا، وہ سننے والا جاننے والا ہے

مَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآئَ اللّٰہِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ لَاٰتٍ ط وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (العنکبوت : 5) (جو کوئی اللہ سے ملنے کی توقع رکھتا ہے وہ اطمینان رکھے کہ اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آکے رہے گا، وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ ) مسلمانوں کو تسلی اس آیت میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ مکہ میں اسلام کے نفوذ کی رفتار اگرچہ بہت سست ہے اور دوسری طرف دشمنانِ اسلام کی اذیت رسانیاں ناقابلِ برداشت ہوتی جارہی ہیں۔ جو شخص بھی منطقی انداز میں اس صغریٰ اور کبریٰ کا نتیجہ نکالے گا اس کی پریشانی میں یقینا اضافہ ہوگا۔ لیکن جو اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور فیصلوں پر یقین رکھتا اور اللہ تعالیٰ کے قانونِ فطرت کو جانتا ہے اس کے لیے پریشانی کا کوئی موقع نہیں۔ اسے معلوم ہے کہ ہر ابتداء کی ایک انتہاء اور ہر عمل کے نتیجہ خیز ہونے کا ایک وقت مقرر ہے۔ چولہے پر چڑھی ہوئی ہنڈیا کو جب مطلوب حرارت پہنچ جاتی ہے تو وہ ضرور ابلتی ہے اور پانی کو جمنے کے لیے جب مطلوب برودت مل جاتی ہے تو وہ ضرور جم جاتا ہے۔ حق و باطل کی کشمکش میں مسلمانوں کے اخلاص کو کبھی بےنتیجہ نہیں چھوڑا جاتا۔ ان کی تبلیغی کاوشیں، ان کی سرفروشیاں اور ان کا اخلاص اس وقت ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے جو اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اسی حوالے سے اس آیت میں پروردگار تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے جو وقت طے کر رکھا ہے وہ آنے ہی والا ہے۔ کیونکہ جو کچھ آپ کے ساتھ گزر رہی ہے اور آپ جس کے لیے شب و روز اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ رہے ہیں اور جس طرح دین کی سربلندی کے لیے آپ قربانیاں دے رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب باتوں کو سنتا بھی ہے اور جانتا بھی ہے۔ آیت کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ مسلمان اسلام کی تبلیغ و دعوت اور اس کی سربلندی کے سلسلے میں جو قربانیاں دے رہے ہیں ان کے پیش نظر آخرت کی کامیابی ہے۔ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں۔ انھیں یقین ہے کہ یہاں کی ایک ایک تکلیف قیامت کے دن اجروثواب کا نخلستان بن جائے گی۔ کسی کو کانٹا بھی چبھا ہے تو اسے پھولوں میں تولا جائے گا۔ ان مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جو مدت ٹھہرا رکھی ہے وہ لازماً پوری ہو کے رہے گی۔ ایک دن مسلمان اپنے رب سے ملیں گے اور ایک ایک محنت اور قربانی کا صلہ پائیں گے اور اس وقت آرزو کریں گے کاش ہمیں اس راستے میں اس سے بھی بڑھ کر ستایا گیا ہوتا تو ہم اس سے بھی بڑھ کر اجروثواب کی دولت سے بہرہ ور ہوتے۔ بعض اہل علم نے اس کا ایک اور مطلب لیا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص حیات اخروی کا قائل ہی نہ ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ کوئی ذات ایسی نہیں جس کے سامنے ہمیں اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہو اور کوئی وقت ایسا نہیں جب ہم سے ہمارے کارنامہ زندگی کا محاسبہ کیا جائے، اس کا تو معاملہ ہی دوسرا ہے۔ لیکن جو لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ ایک وقت ہمیں اپنے خدا کے حضور حاضر ہونا ہے انھیں اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ موت کا وقت کچھ بہت دور ہے۔ ان کو تو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ بس قریب ہی آلگا ہے اور عمل کی مہلت ختم ہوا ہی چاہتی ہے۔
Ayah 29:6

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو شخص بھی جدوجہد کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے جدوجہد کرے گا، بیشک اللہ دنیا جہان والوں سے بےنیاز ہے

وَمَنْ جَاھَدَ فَاِنَّمَا یُجَاھِدُ لِنَفْسِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (العنکبوت : 6) (اور جو شخص بھی جدوجہد کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے جدوجہد کرے گا، بیشک اللہ دنیا جہان والوں سے بےنیاز ہے۔ ) ایک غلط فہمی کا ازالہ اس آیت کریمہ میں ایک بہت بڑی غلط فہمی پر توجہ دلائی جارہی ہے۔ راسخ الایمان صحابہ کرام ( رض) کے بارے میں تو یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، لیکن وہ لوگ جو نئے نئے دائرہ ایمان میں آتے یا اسلامی تعلیمات سے متأثر ہوتے، لیکن کفار کی بےپناہ مخالفت کو دیکھ کر یہ سمجھ کر پیچھے ہٹ جاتے کہ یہ بہت کٹھن راستہ ہے جس پر ہم نہیں چل سکتے۔ ایسے لوگوں کو تنبہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی نشرواشاعت، تبلیغ و دعوت، لوگوں میں اس کے نفوذ اور غلبے کے لیے جو جدوجہد کی جاتی ہے وہ محض ایک نظریاتی آویزش میں حصہ لینے کے مترادف نہیں۔ اور نہ ایسا ہے کہ دینیات یا الٰہیات کی ایک بحث ہے جسے بہر صورت غالب کرنے کی ایک کوشش ہے بلکہ امرواقعہ یہ ہے کہ جس طرح زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے لیے تگ و دو کرنے والا ایک شخص جدوجہد میں کبھی ہراساں نہیں ہوتا، کبھی اسے کافی نہیں سمجھتا اور کبھی اپنے لیے اسے بوجھ خیال نہیں کرتا بلکہ اگر کوئی شخص اسے روکنا بھی چاہے تو وہ اسے اپنے ساتھ دشمنی سمجھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ زندگی ضروریات کی فراہمی کا نام ہے جس میں اگر کھانے پینے کی ضروریات پوری ہوجاتی ہیں تو مکان کے لیے تگ و دو شروع ہوجاتی ہے، مکان بن جاتا ہے تو بچوں کا مستقبل سنوارنے کی خلش دل میں اتر جاتی ہے۔ اور پھر خوب سے خوب تر کے حصول میں زندگی کا ہر لمحہ نچڑ کر رہ جاتا ہے تاآنکہ بڑھاپا آدمی کو مفلوج کردیتا ہے اور یا موت کام تمام کردیتی ہے۔ بالکل اسی طرح دین بھی انسانی زندگی کی سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر کوئی شخص نہ معرفتِ حق سے بہرہ ور ہوتا ہے اور نہ کائنات کے بارے میں اسے اپنی الجھنوں کا جواب ملتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کی تعمیر کے لیے فکرمند ہوتا ہے تو دین ہی اسے بنیادی تصورات فراہم کرتا ہے، طریقہ کار تجویز کرتا ہے اور اہداف کا تعین کرتا ہے۔ وہ معاشرے کا کارآمد حصہ بننے کے لیے شادی کرنا چاہتا ہے تو دین ہی اسے رہنمائی دیتا ہے۔ اولاد ہوتی ہے اور وہ ان کی تربیت کے لیے سرگرداں ہے تو دین اس کی اس سرگرانی کا علاج تجویز کرتا ہے۔ وہ اپنے گھر کو آسودگی کا مرکز بنانا چاہتا ہے تو دین ہی اس کے گھر میں ماں باپ کی شفقت اور اولاد کی اطاعت کے پھولوں کی تخم ریزی کرتا ہے۔ علیٰ ہٰذالقیاس زندگی اپنے انفرادی اور اجتماعی اداروں میں جہاں تہاں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے وہیں ہمیں دین کا نور اس کے دل میں جگمگاتا اور اس کا راستہ روشن کرتا نظر آتا ہے۔ ایسی بنیادی ضرورت جس کے بغیر زندگی گھٹنوں چلنے پر بھی قادر نہیں۔ اگر اس جدوجہد میں کوئی تکلیف ہوتی یا کوئی محنت کرنی پڑتی ہے یا مخالفتوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے تو اس کی شکایت کرنے کی بجائے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ تو اس راہ کی وہ سنتیں ہیں جس کے بغیر اس راستے میں کوئی شخص کامیابی سے چلنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ یہ دین بظاہر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور اس کا جلیل القدر رسول ہر طرح کا دکھ اٹھا کر لوگوں تک اسے پہنچاتا ہے لیکن کاش اس بات کو ذہن نشین کرلیا جائے کہ یہ تو میری اپنی ضرورت اور میرا اپنا بنیادی فریضہ ہے جسے دوسری ضرورتوں کی طرح مجھے بہر صورت انجام دینا ہے۔ اس کے لیے کی جانے والی محنت اور اس راستے میں اٹھائے جانے والے مصائب اللہ تعالیٰ پر احسان نہیں، بلکہ دوسری ضرورتوں کی طرح اس راستے کی ایک لازمی سنت اور ایک لازمی تقاضا ہے جسے بہر صورت انجام دینا ہے۔ اور اگر اس کے انجام دینے کی فکر نہیں کی جائے گی تو نقصان اپنا ہوگا، اللہ تعالیٰ تو دنیا جہان والوں سے غنی ہے اس کی ولایت اور حکومت میں کسی قسم کے فرق آجانے کا اندیشہ نہیں۔
Ayah 29:7

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو ہم ان کی برائیاں ان پر سے جھاڑ دیں گے اور ان کو ان کے عمل کا بہترین بدلہ دینگے

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَیِّاٰ تِہِمْ وَلَنَجْزِیَنَّھُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (العنکبوت : 7) (جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو ہم ان کی برائیاں ان پر سے جھاڑ دیں گے اور ان کو ان کے عمل کا بہترین بدلہ دینگے۔ ) اہلِ ایمان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ایمان و عمل کی راہ میں اٹھائی جانے والی تکلیفیں اور اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے کی جانے والی جدوجہد اگرچہ انسان کی اپنی ضرورت ہے اسی سے اسے آسودہ زندگی میسر آسکتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کا کیا کہنا، پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ جو بھی ایمان لائیں گے یعنی ان تمام بنیادی صداقتوں کو سچے دل سے تسلیم کریں گے جنھیں تسلیم کرنے کی دعوت اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کی کتاب نے دی ہے اور عمل صالحہ کریں گے یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ہدایت کے مطابق زندگی میں ہر کام کو سرانجام دیں گے۔ ان کے دل و دماغ کی صلاحیتیں، ان کے دل کی دھڑکنیں، ان کے خیالات اور ارادے سب اللہ تعالیٰ کی شریعت کے پابند ہوں گے۔ ان کی زبان ہر برائی سے محفوظ اور ہر نیکی کی پر چارک ہوگی۔ ان کی توانائیاں حق و انصاف اور راستی کے قیام میں صرف ہوں گی۔ اور ان کے تمام اعضاء وجوارح اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی میں اور اس کے احکام و قوانین کی پابندی میں کام کریں گے۔ ایسے صاحب ایمان اور صاحب عمل لوگوں کی جزاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان سے پہلے کیے ہوئے تمام چھوٹے بڑے گناہوں کو معاف کردیں گے اور جھاڑ دیں گے۔ اور ان کی نیکیوں کا بدلہ اس طرح عطا فرمائیں گے جیسے بہترین اعمال کا بدلہ دیا جاتا ہے۔ جو شخص ایک نیکی کرے گا اسے دس گنا ثواب دیا جائے گا اور جیسے جیسے اخلاص میں ترقی ہوتی جائے گی ویسے ویسے اجروثواب بھی بڑھتا چلا جائے گا۔ یہ وہ رحمت کا معاملہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ محض اپنے فضل و کرم سے فرمائیں گے۔
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کر اور اگر وہ تجھ پر دبائو ڈالیں کہ تو کسی کو میرا شریک ٹھہرا جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر، میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے پھر میں تم کو بتادوں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو

وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہٖ حُسْنًّا ط وَاِنْ جَاھَدٰ کَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَـکَ بِہٖ عِلمٌ فَلاَ تُطِعْھُمَا ط اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُـکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (العنکبوت : 8) (اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کی ہدایت کی ہے اور اگر وہ تجھ پر دبائو ڈالیں کہ تو کسی کو میرا شریک ٹھہرا جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر، میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے پھر میں تم کو بتادوں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔ ) اللہ تعالیٰ اور والدین کے حقوق میں کلمۃ الفصل گزشتہ آیات میں مسلمانوں کی جن آزمائشوں کا ذکر ہوا ہے اور جس میں ثبات و استقلال کی مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے ان آزمائشوں میں ایک بڑا حصہ اس آزمائش کا بھی تھا جو اسلام لانے والے نوجوانوں کو اپنے کافر باپوں اور سرپرستوں کے ہاتھوں پیش آرہی تھی۔ اسلام نے دیگر مذاہب کی طرح بلکہ ان سے بھی بڑھ کر ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنے کی ترغیب دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے بعد ان کے حق کا ذکر فرمایا ہے۔ ماں باپ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے اسی حق کے حوالے سے اپنی اولاد کو اسلام لانے سے روکتے تھے۔ اور چونکہ اسلام نے ان کی اطاعت کا حکم دیا تھا اس لیے ایمان لانے والے نوجوانوں کو بڑی الجھن پیش آرہی تھی کہ ایک طرف اسلام کی حقانیت ہمیں اپنی طرف بلا رہی ہے اور دوسری طرف والدین کا حقِ اطاعت راستے میں حائل ہورہا ہے۔ چناچہ اس الجھن کو دور کرنے کے لیے پروردگار نے پیش نظر آیت کریمہ میں اس بات کی وضاحت فرمائی۔ یوں تو یہ آیت نہ جانے کس کس نوجوان مسلمان کی الجھنوں کا جواب ثابت ہوئی ہوگی لیکن مسلم، ترمذی، ابودائود اور نسائی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت سعد بن ابی وقاص ( رض) کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ اٹھارہ انیس سال کے تھے جب انھوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کی ماں حمنہ بنت سفیان بن امیہ ابوسفیان کی بھتیجی تھی۔ جب اسے معلوم ہوا کہ بیٹا مسلمان ہوگیا ہے تو اس نے کہا کہ جب تک تو محمد ﷺ کا انکار نہ کرے گا میں نہ کھائوں گی نہ پیوں گی اور نہ سائے میں بیٹھوں گی۔ ماں کا حق ادا کرنا تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ تو میری بات کو نہ مانے گا تو اللہ کی بھی نافرمانی کرے گا۔ حضرت سعد ( رض) اس پر سخت پریشان ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ماجرا عرض کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس میں ماں باپ کے حوالے سے مسلمانوں کو جو اصولی ہدایات دی گئیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ سب سے پہلی یہ بات ارشاد فرمائی کہ ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک کی تلقین اللہ تعالیٰ نے ہر مذہب میں کی ہے۔ اور اپنے حق کے بعد تمام حقوق میں ماں باپ کے حقِ اطاعت کو سب سے مقدم کیا ہے، لیکن یہ حق غیرمشروط اور علی الاطلاق نہیں۔ والدین غیرمسلم بھی ہوں جب بھی ان کا احترام اور ان کی ضروریات کی بہم رسانی اسلام کی تعلیمات میں شامل ہے۔ لیکن اگر وہ کوئی ایسا حکم دیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو اور اس سے پروردگار کی معصیت لازم آتی ہو تو پھر ان کی اطلاعت کرنے کی اجازت نہیں کیونکہ ان کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ مشروط ہے۔ اسلام کا قانون یہ ہے کہ لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق ” خالق کے حکم کے خلاف کسی مخلوق کی اطاعت بھی جائز نہیں۔ “ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ اگر ماں باپ اپنی اطاعت کے لیے اولاد پر زور ڈالیں اور ہر ممکن اصرار سے کام لیں تو اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف نہ صرف والدین کا حکم ماننا جائز نہیں بلکہ ان کے اصرار کو رد کردینا بھی واجب ہے۔ کیونکہ انھیں جو بھی حق ملا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حق کے تابع ہے۔ ان کی اطاعت دنیوی معاملات تک ہے وہ دین کے کسی معاملے میں دخل دینے کے مجاز نہیں۔ اور اس معاملے میں ان کا اصرار اور ان کا زور دینا بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے والدین کے حقِ اطاعت کو محض ایک نصیحت قرار نہیں دیا بلکہ اسے مامور ٹھہرایا ہے۔ توصیۃ یہاں ہدایت دینے کے مفہوم میں ہے۔ اس میں ایک تاکید اور قطعیت پائی جاتی ہے۔ اس قدر اہمیت کے ساتھ والدین کے حقِ اطاعت کو بیان کرنے کے بعد اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ مشروط کردیا۔ بلکہ یہ تک فرمایا کہ اگر وہ کسی بات پر مجبور بھی کریں اور دبائو بھی ڈالیں تو جب بھی ان کا حکم اللہ تعالیٰ کے تابع رہے گا۔ ان کی کسی بات کو اس لیے تسلیم نہیں کیا جائے گا کہ یہ ان کا حکم ہے۔ اطاعت کے لیے علم شرط ہے۔ جب تک اس بات کا علم نہ ہوجائے کہ والدین جو کچھ کہہ رہے ہیں اسے علم وحی کی تائید بھی حاصل ہے، اس وقت تک ان کے حکم کی کوئی قیمت نہیں۔ کسی بیٹے یا بیٹی کے لیے اس بات کی ہرگز اجازت نہیں کہ وہ صرف اس بنا پر ماں باپ کے مذہب کی پیروی کریں کہ یہ اس کے ماں باپ کا مذہب ہے۔ اگر اولاد کو یہ علم حاصل ہوجائے کہ والدین کا مذہب غلط ہے تو اسے اس مذہب کو چھوڑ کر صحیح مذہب اختیار کرنا چاہیے اور ان کے دبائو ڈالنے پر بھی اس طریقے کی پیروی نہ کرنا چاہیے جس کی گمراہی اس پر کھل چکی ہے۔ مَا لَیْسَ لَـکَ بِہٖ عِلمٌ کا یہی مفہوم ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک یہ شرک کی نفی کی دلیل ہے۔ کیونکہ جہاں تک ایک خدا کا تعلق ہے وہ تو ایک بدیہی حقیقت ہے جس کو ایک مشرک بھی بہرحال مانتا ہے۔ رہے دوسرے اس کے شریک تو ان کی دلیل پیش کرنا ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جو ان کو شریک خدا ٹھہراتے ہیں۔ اور جب تک ان کے حق میں کوئی دلیل نہ ہو کسی عاقل کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ ان کو خدائی میں شریک کرکے ان کی غلامی کا قلادہ بھی اپنی گردن میں ڈال لے۔ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُـکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ اس میں تسلی بھی ہے اور تنبیہ بھی۔ اولاد کو تسلی دی جارہی ہے کہ کوئی ہزار انکار کرے لیکن یہ حقیقت ہے کہ سب کو اپنے اپنے وقت پر مرنا ہے اور پھر ایک متعین دن جسے قیامت کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لیے پیش ہونا ہے۔ آج جو ماں باپ اپنی اولاد کو اللہ تعالیٰ کا دین اختیار کرنے پر سزائیں دیتے اور ان کا جینا مشکل کردیتے ہیں انھیں بہرصورت اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے عمل کا جواب دینا ہوگا۔ کیونکہ وہاں تو سب کو اپنے اپنے عمل کی جواب دہی کرنی ہے۔ وہاں نہ سخن سازی سے کام چلے گا نہ اپنے کرتوت چھپائے جاسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ سب کے اعمال نامے ان کے سامنے کھول کر رکھ دے گا۔ تو جن والدین نے اپنی اولاد کو دین حق کی قبولیت کے جرم میں ستایا ہوگا وہ پکڑے جائیں گے اور اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے۔ اور اولاد نے اپنے والدین کے ہاتھوں جو دکھ سہے ہوں گے وہ بہتر سے بہتر اجروثواب کی صورت میں اولاد کے لیے زادآخرت بنیں گے۔ اور وہ انھیں دیکھ کر تمنا کریں گے کاش ہم اس سے بھی زیادہ ستائے گئے ہوتے۔ اور والدین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ آج تم حالات کو موافق پا کر اپنے نوجوان بچوں کو زبردستی دین حق کو قبول کرنے سے روکتے ہو لیکن قیامت کے دن جب تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے لیے پیش ہونا پڑے گا تو اپنے ان مظالم کا کیا جواب دو گے کہ تم نہ صرف خود دین حق کی قبولیت سے محروم رہے اور ہر ممکن طریقے سے اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو آگے بڑھنے سے روکا بلکہ ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی بھی گمراہی اور محرومی کا سبب بننے کی کوشش کرتے رہے اور اگر اولاد نے تمہارے اصرار اور دبائو کو قبول نہیں کیا تو تم ان کے لیے مصیبت بنے رہے۔ بتائو آج تمہارے پاس اس کا کیا جواب ہے۔
Ayah 29:9

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے تو ہم ان کو ضرور صالحین میں داخل کریں گے

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّہُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ ۔ (العنکبوت : 9) (اور جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے تو ہم ان کو ضرور صالحین میں داخل کریں گے۔ ) اہلِ ایمان کو تسلی کی وضاحت گزشتہ آیت کے آخر میں والدین کو تنبیہ کے ساتھ ساتھ ایمان لانے والی اولاد کو تسلی دی گئی تھی کہ تمہیں اطمینان رکھنا چاہیے۔ آج تمہارا ہر عمل اور تمہارا ایمان تمہارے لیے مشکلات کا باعث بن رہا ہے لیکن تمہیں بہرصورت اپنے اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے وہاں تمہاری یہی مشکلات تمہاری کامرانیوں اور جنت کی نعمتوں کا سبب بنیں گی۔ پیش نظر آیت میں تسلی کے اسی پہلو کو کھول دیا گیا ہے اور صریح الفاظ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ حالات کی انتہائی ناموافقت کے باوجود ایمان لائے اور پھر عمل کے چراغ روشن کیے۔ ہم انھیں ضرور صالحین میں شامل کریں گے۔ صالحین سے یہاں اللہ تعالیٰ کے وہ خالص اور مخلص بندوں کا گروہ مراد ہے جنھوں نے دنیا کی ہر صعوبت اٹھا کر اور ہر آزمائش کا سامنا کرکے ثابت کیا کہ ان کا سب کچھ ان کے خدا کے لیے ہے زندگی کے ہر مرحلے میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی اور کفر نے اگر اس راستے میں مصیبتوں اور تکلیفوں کے پہاڑ کھڑے گئے تو وہ نہایت خندہ پیشانی سے ان سے ٹکرا گئے۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے جیسی بھی قربانی کی ضرورت پڑی انھوں نے آگے بڑھ کر خوشی سے پیش کی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ اپنے زمرہ صالحین میں شامل کرے گا اور اس زمرے میں جہاں اللہ تعالیٰ کے عام مخلص بندے شامل ہیں وہیں ان میں انبیائے کرام بھی موجود ہیں کیونکہ ان کی علامت بقدر مراتب اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کے حصول کے لیے سب کچھ لٹا دینا ہے۔
Ayah 29:10

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر، لیکن جب انھیں اللہ کی راہ میں ستایا گیا تو انھوں نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا۔ اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آگئی تو کہیں گے ہم تو تمہارے ساتھ تھے، کیا لوگوں کے دلوں میں جو کچھ ہے اللہ اس سے اچھی طرح باخبر نہیں ہے

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّـقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ فَاِذَآ اُوْذِیَ فِی اللّٰہِ جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللّٰہِ ط وَلَئِنْ جَآئَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّکَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا کُنَّا مَعَکُمْ ط اَوَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِالْعٰلَمِیْنَ ۔ (العنکبوت : 10) (اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر، لیکن جب انھیں اللہ کی راہ میں ستایا گیا تو انھوں نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا۔ اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آگئی تو کہیں گے ہم تو تمہارے ساتھ تھے، کیا لوگوں کے دلوں میں جو کچھ ہے اللہ اس سے اچھی طرح باخبر نہیں ہے۔ ) ایمان کے دعویداروں کو تنبیہ حق و باطل کی کشمکش میں جس طرح سرفروشوں کے مدارج ہیں اسی طرح تکلیفوں اور مصیبتوں پر ثابت قدم نہ رہنے والوں اور کمزوری دکھانے والوں کے بھی مراتب ہیں۔ نہ راہ حق میں قربانیاں دینے والے یکساں ہوتے ہیں اور نہ اس راستے میں کمزوریاں دکھانے والے ایک سطح کے لوگ ہوتے ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ راہ حق میں بقدرہمت ثابت قدمی اللہ تعالیٰ کے یہاں اجروثواب کی مستحق ٹھہرتی ہے۔ اسی طرح جو بھی اس راستے میں کمزوری دکھاتا اور کم ہمتی کا ثبوت دیتا ہے وہ اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہتا ہے۔ لیکن آیت کریمہ میں خاص طور پر ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو دعوت حق سے متأثر ہو کر ایمان لانے کا دعویٰ تو کر بیٹھے، لیکن جیسے ہی انھوں نے اس راستے کی مشکلات کو دیکھا اور قدم قدم پر آزمائشیں سر اٹھاتی ہوئی نظر آئیں تو وہ حوصلہ ہار بیٹھے۔ وہ بجائے اس کے کہ لوگوں کی طرف سے پہنچائی جانے والی تکلیفوں کو ایک آزمائش سمجھتے اور اخلاص اور توانائی سے اس میں سے گزرنے کی کوشش کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کی امید رکھتے، انھوں نے اسے بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح سمجھا۔ انھوں نے گمان کیا کہ آج ہم جن اذیتوں سے گزر رہے ہیں آخرت میں جہنم کی سزائیں اس سے کیا مختلف ہوں گی۔ اس لیے کیا یہ بہتر نہیں کہ قیامت کے دن جہنم کے عذاب سے بچنے کے لیے آج کے عذاب میں مبتلا ہونے کی بجائے آخرت ہی کے عذاب کو اختیار کرلیا جائے اس سے کم از کم یہ تو ہوگا کہ اس نقد عذاب سے ہماری جان چھوٹ جائے گی اور دنیا کی زندگی آسانی سے گزر جائے گی۔ لیکن وہ یہ بات بھول گئے کہ راہ حق میں پہنچنے والی مصیبتیں اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں، آزمائش ہے۔ اس کی مدت محدود اور چند روزہ ہے اور اس کی شدت بھی انسانی برداشت سے بہت بڑھ کر کبھی نہیں ہوتی۔ اور اگر ایسا ہونے لگے تو ظالموں کو اللہ تعالیٰ اپنے عذاب سے تباہ کردیا کرتا ہے۔ لیکن آخرت کا عذاب کبھی نہ ختم ہونے والی سزا ہے۔ وَلَئِنْ جَآئَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّکَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا کُنَّا مَعَکُمْ یعنی آج تو ان کم ظرفوں کا حال یہ ہے کہ وہ آزمائشوں سے ڈر کر دشمنانِ دین کے گروہ میں جا شامل ہوئے ہیں لیکن کل جب خدا کی مدد و نصرت کے آثار ظاہر ہوں گے اور قافلہ حق کامرانیوں کے سفر پر نکلے گا تو یہ لوگ فتح کے ثمرات میں حصہ بٹانے کے لیے آموجود ہوں گے۔ اور مسلمانوں کو یقین دلائیں گے کہ ہم تو تمہارے ساتھ تھے ہم نے درپردہ تمہارے لیے دعائیں مانگیں۔ ہم نے بھی اپنی ہمت کے مطابق حق کی سربلندی کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ اس لیے ہمیں بھی ان ثمرات سے حصہ ملنا چاہیے۔ اس کے جواب میں آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ اس طرح کی باتیں اس ذات کے سامنے تو چل سکتی ہیں جو دلوں کے بھیدوں سے بیخبر ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ جو سینوں کے اسرار سے واقف ہے اور ظاہر و باطن اس کے سامنے آشکارا ہے اسے تو یہ فریب نہیں دیا جاسکتا۔ وہ تو ہر بات کو بھی جانتا ہے اور اس کے پس منظر سے بھی آگاہ ہے۔
Ayah 29:11

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور اللہ ایمان والوں کو بھی ممیز کرکے رہے گا اور منافقوں کو بھی ممیز کرکے رہے گا

وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ ۔ (العنکبوت : 11) (اور اللہ ایمان والوں کو بھی ممیز کرکے رہے گا اور منافقوں کو بھی ممیز کرکے رہے گا۔ ) استقامت اہل ایمان کی قوت اور نفاق ہلاکت ہے حق و باطل کی آویزش میں حق کا اصل سرمایہ مخلصین کا وہ گروہ ہوتا ہے جو ایمان و عمل کی ہر آزمائش میں پورا اترتا ہے۔ اس لیے حق کے راستے پر چلنے والوں کے لیے سب سے زیادہ فکرمندی اس بات کی ہوتی ہے کہ ہماری صفوں میں کوئی کمزور عنصر شامل نہ ہونے پائے تاکہ اس قافلے کی منزل کھوٹی نہ ہونے پائے۔ اسلام چونکہ قافلہ حق کا وہ عنوان ہے جسے قیامت تک کے لیے روشنی دینا ہے۔ اس لیے پروردگار نے اسلام کو قبول کرنے والوں کو مسلسل ایسی آزمائشوں سے گزارا تاکہ وہ کندن بن کر نکلیں اور جو کٹھن ذمہ داری ان پر ڈالی جانے والی ہے اس میں سرمو فرق نہ آنے پائے۔ اس لیے پروردگار نے قدم قدم پر اس کا اہتمام فرمایا تاکہ مخلص مومنوں میں کہیں بھی نفاق کی پرچھائیں نہ پڑنے پائیں۔ پروردگار کبھی کسی کو نام لے کر منافق قرار نہیں دیتا، لیکن راہ حق میں پیش آنے والی مشکلات مومن اور منافق کو پوری طرح نمایاں کردیتی ہیں۔ اسلام چونکہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ سے انتساب کا سب سے بڑا ذریعہ بھی۔ بنا بریں یہ بات ازبس ضروری تھی کہ اس فرق و امتیاز میں کبھی فرق نہ آنے دیا جاتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی صفات کا لازمی تقاضا بنایا اور ہمیشہ اس پر عمل کیا گیا تاکہ کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرنا مشکل نہ ہو۔ سورة آل عمران میں اس بات کو پوری طرح کھول کر بیان فرمایا گیا : مَاکَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَالْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَا اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَالْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ ” اللہ مومنوں کو ہرگز اس حالت میں رہنے دینے والا نہیں ہے جس میں تم اس وقت ہو کہ صادق الایمان اور منافق سب ملے جلے ہیں، وہ پاک لوگوں کو ناپاک لوگوں سے الگ نمایاں کرکے رہے گا۔ “
Ayahs 29:12–13

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے راستے کی پیروی کرو اور ہم تمہاری خطائوں کو اپنے اوپر لے لیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں، بیشک وہ جھوٹے ہیں

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

وہ ضرور اٹھائیں گے اپنے بوجھ اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت سے بوجھ بھی اور یقینا قیامت کے روز ان سے پوچھا جائے گا ان کی بابت جو وہ افترا کرتے رہے ہیں

وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطٰیٰـکُمْ ط وَمَا ھُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰـھُمْ مِّنْ شَیْ ئٍ ط اِنَّھُمْ لَـکٰذِبُوْنَ ۔ وَلَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَھُمْ وَاَثْقَالاً مَّعَ اَثْقَالِہِمْ ز وَلَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَمَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ (العنکبوت : 12، 13) (اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے راستے کی پیروی کرو اور ہم تمہاری خطائوں کو اپنے اوپر لے لیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں، بیشک وہ جھوٹے ہیں۔ وہ ضرور اٹھائیں گے اپنے بوجھ اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت سے بوجھ بھی اور یقینا قیامت کے روز ان سے پوچھا جائے گا ان کی بابت جو وہ افترا کرتے رہے ہیں۔ ) وڈیروں اور بزرگوں کی جھوٹی منطق اس آیت کریمہ کے الفاظ اپنے اندر معنوی عموم رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں پر عام کافروں کا ذکر ہورہا ہے لیکن سیاق کلام دلالت کررہا ہے کہ اس سے مراد وہ کفار ہیں جن کی اولاد یا جن کے زیردست افراد مسلمان ہوچکے تھے۔ اور وہ معاشرتی یا قبائلی روایت کے مطابق ان پر اخلاقی دبائو ڈالتے ہوئے کہتے تھے کہ ہم تمہارے بزرگ ہیں ہم نے دنیا کا نشیب و فراز تم سے زیادہ دیکھا ہے ہم کسی کے دعوے کی سچائی اور کسی کی بات کی گہرائی کو تم سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ اور ہم اچھائی اور برائی کے تصورات کو بھی تم سے زیادہ پہنچانتے ہیں۔ اس لیے ہمیں یہ حق پہنچتا ہے کہ تمہیں سمجھائیں کہ تم نے محمد ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے یہ صحیح نہیں۔ تم ہمارے فہم و فراست پر اعتماد کرو اور ہمارے طریقے پر چلتے رہو۔ جب تک ہم اس دعوت کے بارے میں یکسو نہیں ہوتے تمہیں اسے قبول کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ اور اگر تم یہ سمجھو کہ یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی طرح کا تساہل یا غلط فہمی بہت نقصان کا باعث ہوسکتی ہے اور قیامت کے دن اگر ہمیں واقعی اس کا جواب دینا پڑا تو ہم کیا جواب دیں گے تو پھر ہم تم سے کہتے ہیں کہ اولاً تو قیامت آنے والی نہیں، یہ محض ایک افسانہ ہے۔ لیکن اگر واقعی یہ حقیقت ثابت ہوگئی تو ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ تمہارے گناہوں کا بوجھ ہم اپنے سر لے لیں گے اور ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے اقرار کریں گے کہ انھوں نے جو کچھ کیا ہمارے کہنے سے کیا۔ اس کے جواب میں اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ اپنے زیردستوں کو یہ اطمینان دلا رہے ہیں کہ وہ ان کے بوجھ اٹھا لیں گے وہ بہت غلط بات کہہ رہے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ ہر شخص اپنی ذاتی ذمہ داری رکھتا ہے اور اسی حوالے سے اس سے بازپرس ہوگی، کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گا۔ وَلاَ تَزِرُوَازِرَۃٌ وِّزْرَاُخْرٰی ” کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ “ اگر بالفرض اس بات کی اجازت بھی ہوتی کہ کوئی شخص دوسرے کا بوجھ اٹھا لے تو یہ لوگ کفر اور شرک کا انجام ایک دھکتی ہوئی جہنم کی صورت میں جب سامنے دیکھیں گے اس وقت کس میں یہ ہمت ہوگی کہ وہ کسی دوسرے کا بوجھ اٹھانے کا نام بھی لے۔ وہاں تو خونی رشتے ایک دوسرے کو بھول جائیں گے، ماں اپنے بچوں تک کو نہیں پہچانے گی۔ ایسے حال میں اس طرح کے دلا سے کہاں یاد رہیں گے اور یاد بھی ہوں تو کون ان کی پاسداری کرے گا۔ اس لیے یہ سردارانِ قوم اپنے زیردستوں سے اس طرح کی جو باتیں کرتے ہیں وہ درحقیقت جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان باتوں کا کوئی امکان نہیں۔ جھوٹی تسلی دینے والوں کو تنبیہ البتہ ایک بات ضرور ہے اور قیامت کے دن جس پر عمل بھی ہوگا وہ یہ ہے کہ کوئی کسی دوسرے کا بوجھ اس معنی میں تو نہیں اٹھا سکے گا جس سے دوسرا اپنی ذمہ داری سے بچ جائے۔ البتہ وہ لوگ جنھوں نے دوسروں کو گمراہ کیا اور خود بھی گمراہ ہوئے وہ اپنی گمراہی کے بوجھ کے ساتھ ساتھ دوسروں کو گمراہ کرنے کا بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ یعنی ایک تو سزا انھیں خود اپنے گمراہ ہونے کی ہوگی اور دوسرا عذاب انھیں ان لوگوں کے حوالے سے بھی دیا جائے گا جن کی گمراہی کا یہ سبب بنے۔ مثلاً ایک آدمی نے کہیں نقب لگائی اور ساتھ ہی ایک دوسرے آدمی کو بہکا کر اپنی اس چوری میں شریک کرلیا۔ اب قیامت کے دن جب اسے چوری کی سزا ملے گی تو ساتھ ہی اس بات کی بھی سزا ملے گی کہ تم نے دوسرے کو گمراہ کرکے بھی چوری کا جرم کرایا۔ یعنی وہ خود اپنے جرم میں بھی پکڑا جائے گا اور دوسرے کو جرم پر آمادہ کرنے کی سزا بھی اسے ملے گی۔ اس لحاظ سے یہ لوگ دہری سزا کے مستحق ٹھہریں گے۔ آیت کے آخر میں ایک ایسی بات ارشاد فرمائی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو گمراہ لوگ دوسروں کی گمراہی کا بھی سبب بنتے رہے ہیں ان کی بدنصیبی اور شقاوت کسی ایک سزا پر رکنے والی نہیں بلکہ انھیں اس بات کا بھی جواب دینا ہوگا کہ تم نے اپنے دلوں میں جو اس طرح کی باتیں پال رکھی تھیں کہ دوسروں کے گناہوں کا بوجھ اٹھایا جاسکتا ہے اور دوسروں کو اس طرح سے مطمئن کرکے ان کی گمراہی کی عمر کو دراز کیا جاسکتا ہے، یہ جھوٹی باتیں تم نے کہاں سے سیکھی تھیں ؟ اسی طرح تم نے اپنی گمراہی کی چند بنیادیں بنا رکھی تھیں اور انھیں حوالوں سے تم دوسروں کو بھی گمراہ کررہے تھے۔ مثلاً تم توحید کے مقابلے میں مذہب شرک کو برحق سمجھتے تھے۔ اسی طرح قیامت کو تم نے محض ایک مفروضہ تصور کر رکھا تھا۔ اسی طرح یہ بات کہ جو شخص کسی کے کہنے پر کوئی جرم کرتا ہے اس پر اپنے جرم کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی اور دوسرا کہنے والا شخص اس کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ اسی طرح اور بہت سی بدعتیں جو تم نے ایجاد کر رکھی تھیں اور انھیں منسوب تم اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے تھے ان میں سے ایک ایک بات کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ یہ ایک بوجھ کی بات کرتے ہیں نہ جانے گمراہیوں کے کتنے بوجھ یہ اپنے سر پر اٹھائے جواب دہی کے لیے کھڑے کیے جائیں گے۔
Ayah 29:14

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کے بھیجا اور وہ ان کے اندر پچاس برس کم ایک ہزار سال رہے، پس انھیں طوفان نے آپکڑا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ فَلَبِثَ فِیْھِمْ اَلْفَ سَنَۃٍ اِلاَّ خَمْسِیْنَ عَامًا ط فَاَخَذَھُمُ الطُّوْفَانُ وَھُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 14) (اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کے بھیجا اور وہ ان کے اندر پچاس برس کم ایک ہزار سال رہے، پس انھیں طوفان نے آپکڑا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے۔ ) سابقہ رکوع کا خلاصہ گزشتہ رکوع میں تین باتیں واضح فرمائی گئیں۔ ایک یہ کہ حق و باطل کی کشمکش میں راہ حق کا مسافر بننا ایک بہت بڑی ذمہ داری کو قبول کرنا ہے۔ چناچہ جو لوگ بھی اس راہ پر چلتے ہیں انھیں بہت سے امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان آزمائشوں سے گزرے بغیر وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں صادق اور مخلص ہونے کا مقام حاصل نہیں کرسکتے۔ دوسری یہ بات کہ دین کے معاملے میں ہر شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے خود مسئول اور ذمہ دار ہے۔ اسے اپنے ایمان و عمل کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کرنی ہے۔ کوئی دوسرا اس کا بوجھ اٹھانے والا نہیں ہے۔ بہکانے والے کتنے بھی ہوں بہکنے کی سزا خود اسے ملے گی، کسی دوسرے پر اپنے جرم کو ڈالا نہیں جاسکتا۔ تیسری یہ بات کہ جو لوگ راہ حق پر چلنے والے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر یا بہکا کر راہ حق سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں ایک خاص حد تک ڈھیل دیتا ہے۔ اگر وہ اس ڈھیل سے فائدہ اٹھانے کی بجائے طغیان اور تمرد میں بڑھتے چلے جاتے ہیں تو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے قانون کی گرفت میں آکر رہتے ہیں۔ اور جب اس کی گرفت آجاتی ہے تو پھر بچ نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ پیشِ نظر رکوع میں انھیں حقائق کو چند انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے مخالفین اور مکذبین کے احوال سے نمایاں کیا گیا ہے تاکہ ان حقائق کے سمجھنے میں کسی طرح کا ابہام باقی نہ رہے۔ سابقہ حقائق پر حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرگزشت سے استشہاد پیشِ نظر آیت کریمہ میں سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کی زندگی سے استشہاد کیا گیا ہے۔ ان کی دعوتی زندگی کی تفصیلات مختلف سورتوں میں بیان کی گئی ہیں۔ یہاں صرف ایک بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف فریضہ رسالت کی ادائیگی کے لیے بھیجا اور آپ ( علیہ السلام) نے ان میں اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے ساڑھے نوسو سال گزارے۔ یعنی اتنا طویل عرصہ اپنی قوم کی تمام تر گمراہیوں اور اذیت رسانیوں کے باوجود مسلسل کام کیا۔ اس سلسلے میں آپ ( علیہ السلام) کو کیسی کچھ صعوبتوں سے واسطہ پڑا ہوگا اور آپ ( علیہ السلام) نے کیسے کیسے اندوہناک حالات کا سامنا کیا ہوگا لیکن آپ نے اتنے طویل عرصے تک کبھی حالات کی شکایت کی نہ کبھی قوم کے بارے میں کوئی حرف شکایت زبان پر لائے۔ بجز آخری دنوں کے جب آپ نے پیغمبرانہ ذکاوت سے محسوس کیا کہ اب اس قوم پر اتمامِ حجت ہوچکا اور ان میں سے جس کسی میں قبولیتِ ایمان کی کوئی رمق باقی تھی وہ اسلام قبول کرچکا اور باقی کسی میں اس کی صلاحیت نہیں۔ اور پھر آپ نے اللہ تعالیٰ سے عذاب بھیجنے کی استدعا کی۔ اس میں مسلمانوں پر یہ بات واضح کرنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ و دعوت کوئی چند روز کا کام نہیں اور پھر یہ کوئی ایسا سفر نہیں جس میں کوئی شخص ٹھنڈی سڑک سے چلتا ہوا منزل مقصود تک پہنچ جائے۔ یہ تو صعوبتوں سے اٹا ہوا راستہ ہے۔ یہاں تو قدم قدم پر آزمائشیں ہیں اور یہ اتنا طویل راستہ ہے کہ ساڑھے نوسو سال بھی اس میں صرف کیے جاسکتے ہیں۔ تمہیں ابھی چند سال اس سفر میں گزرے ہیں اور تم ابھی سے شکایت کرنے لگے ہو اور اللہ تعالیٰ کے رسول سے دعا کی درخواستیں کرنے لگے ہو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر آیت کے پہلے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو آپ کی قوم میں رسول بنا کر بھیجا تھا اور آپ نے رسول ہونے کی حیثیت سے ساڑھے نوسو سال اپنی قوم میں قیام فرمایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں ساڑھے نوسو سال کی مدت آپ کی رسالت کی مدت کے طور پر بیان کی گئی ہے۔ آپ کی عمر کی طوالت کے طور پر نہیں۔ تورات کا بیان اس لحاظ سے قرآن کریم سے مختلف ہے۔ تورات میں ہے ” اور طوفان کے بعد نوح ساڑھے تین سو برس اور جیتا رہا اور نوح کی کل عمر ساڑھے نوسو برس کی ہوئی تب اس نے وفات پائی۔ “ (پیدائش باب 9۔ 28۔ 29) بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت نوح (علیہ السلام) چھ سو برس کے تھے جب طوفان آیا اور اس کے بعد ساڑھے تین سو برس اور زندہ رہے۔ اس لحاظ سے بائیبل آپ کی مجموعی عمر ساڑھے نو سو سال قرار دیتی ہے۔ لیکن قرآن کریم ساڑھے نوسو سال کو ان کی نبوت کی عمر قرار دیتا ہے۔ اور یہ بات واضح ہے کہ آپ نے نبوت سے پہلے بھی کچھ عمر گزاری ہوگی اور پھر طوفانِ نوح کے بعد بھی آپ کچھ عرصہ تک زندہ رہے ہوں گے۔ اس لحاظ سے آپ کی عمر ایک ہزار سال سے متجاوز ہونی چاہیے۔ بعض لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طویل عمر کو دیکھتے ہوئے شک و شبہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں حالانکہ اس میں دو باتیں بالکل واضح ہیں ایک تو یہ بات کہ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں عمروں کا اوسط آج کی نسبت بہت زیادہ تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے والد کی عمر سات سو تہتر برس بیان کی جاتی ہے اور ان کے دادا کی عمر نوسو انہتر برس ذکر کی گئی ہے۔ اسی طرح ان کے دوسرے اجداد میں سے کسی کی عمر نوسو باسٹھ برس مذکور ہے اور کسی کی آٹھ سو پچانوے برس۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی یہ عمر اس زمانے کی اوسط عمر کے بالکل مطابق ہے۔ اور یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں زمین پر آبادی بہت کم تھی۔ اور تمدن و معیشت کے وہ مفاسد ابھی ظہور میں نہیں آئے تھے جو اب زندگی کے ہر شعبے پر چھا گئے ہیں۔ کھلی فضا، خالص غذا، حوادث اور تصادم سے محفوظ زندگی، فطری حالت اور سادگی کی وجہ سے جسم میں غیرمعمولی قوت مدافعت جیسے اسباب کی وجہ سے زندگی کے دراز ہونے سے کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ممکن ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طوالتِ عمر ایک استثنائی اور غیرمعمولی واقعہ ہو۔ کیونکہ ہم ہر دور میں یہ دیکھتے ہیں کہ انسانوں کے بنائے ہوئے مفروضات کو توڑنے کے لیے کائنات کے ہر گوشے میں اور مخلوقات کی ہر صنف میں خلاف معمول حالات و واقعات کی ایک فہرست ملتی ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی قادرِ مطلق ذات ہے جو کائنات کے نظام کو چلا رہی ہے اور وہ کبھی کبھی کسی غیرمعمولی بات کے اظہار سے اپنی ذات کے ہونے اور اپنے متصرفِ حقیقی ہونے کا یقین دلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں ہمیں طویل عمروں کے لوگ ملتے ہیں جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ نظام ایک لگے بندھے قانون کے تحت نہیں چل رہا بلکہ کوئی چلانے والا اسے چلا رہا ہے۔ جب وہ چاہتا ہے اس میں کوئی نہ کوئی تبدیلی بھی پیدا کردیتا ہے۔ فَاَخَذَھُمُ الطُّوْفَانُ وَھُمْ ظٰلِمُوْنَ ” پس ان کو طوفان نے آپکڑا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے۔ “ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی اکثریت نے جب آپ کی صدیوں کی محنت کے باوجود آپ کی تکذیب کردی اور پھر اس تکذیب میں بڑھتے ہی چلے گئے تو آخر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان پر پانی کا طوفان آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی قوم کو بہت طویل مہلت ملی، لیکن جب انھوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے تکذیب و انکار ہی کو اپنا شیوہ بنائے رکھا تو آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا عذاب آگیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح صاحب ایمان لوگ ایمان لانے کے بعد آزمائے جاتے ہیں اسی طرح مخالفین کو بھی ایک خاص حد تک مہلت دی جاتی ہے جب وہ اپنے ظلم و انکار سے باز نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ کی گرفت آتی ہے اور وہ تباہ و برباد کردیے جاتے ہیں۔ اور یہ تباہی اور بربادی اس وقت ان کا مقدر بنتی ہے جب اللہ تعالیٰ کے نبی کی طرف سے تبلیغ و دعوت کی تمام کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں اور سمجھانے بجھانے کے جتنے طریقے ممکن ہوسکتے ہیں، سب آزما لیے جاتے۔ اور اس طرح سے ان پر اتمامِ حجت ہوجاتا ہے۔ اب وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں سنبھلنے کا موقع نہ دیا گیا۔ یہی بات یہاں بھی فرمائی گئی ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اس وقت آیا جب وہ پوری طرح اپنے آپ کو ظالم ثابت کرچکے تھے۔
Ayah 29:15

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پس ہم نے اس کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور اسے دنیا والوں کے لیے ایک نشان عبرت بنادیا

فَاَنْجَیْنٰـہُ وَاَصْحٰبَ السَّفِیْنَۃِ وَجَعَلْنٰـھَآ اٰیَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ (العنکبوت : 15) (پس ہم نے اس کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور اسے دنیا والوں کے لیے ایک نشان عبرت بنادیا۔ 1) حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی کامیابی سورة ہود میں وضاحت گزر چکی ہے کہ کس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کو سفینہ بنانے کا حکم دیا گیا اور کس طرح سیلاب کا آغاز ہوا، سفینہ میں کن کن جانوروں اور انسانوں کو سوار کرنے کا حکم دیا گیا اور پھر کس طرح کشتی پانی پر تیرتی ہوئی ایک پہاڑ پر جا ٹھہری اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور جو آپ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو نجات دی۔ آخر میں فرمایا کہ ہم نے اسے جہاں والوں کے لیے سامانِ عبرت بنادیا۔ سوال یہ ہے کہ سامانِ عبرت کس کو بنایا گیا اور ضمیر کا مرجع کیا ہے ؟ بعض اہل علم نے اس پورے واقعہ کو ضمیر کا مرجع ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ اسی میں بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے سامانِ عبرت ہے۔ لیکن بعض اہل علم کے نزدیک ضمیر کا مرجع وہ کشتی ہے۔ وہ سورة القمر کی آیات 13 تا 15 سے استدلال کرتے ہیں۔ اس کے سامانِ عبرت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اولاً تو ایک کشتی کا زمین سے اٹھ کر کسی بلند پہاڑ پر جا ٹکنا بجائے خود ایک نشانی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ طوفان کس بلا کا تھا۔ اور دوسری یہ بات کہ پھر وہ کشتی پہاڑ کی چوٹی پر صدیوں موجود رہی ہے اور ممکن ہے آج بھی موجود ہو۔ ابن جریر نے قتادہ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ عہد صحابہ میں جب مسلمان الجزیرہ کے علاقہ میں گئے ہیں تو انھوں نے کوہ جودی پر اور ایک روایت کی رو سے باقرویٰ نامی بستی کے قریب اس کشتی کو دیکھا۔ موجودہ زمانہ میں بھی مختلف وقتوں میں یہ اطلاعات اخبارات میں چھپتی رہی ہیں کہ کشتی نوح کو تلاش کرنے کے لیے مہمات بھیجی جارہی ہیں اور اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بسا اوقات ہوائی جہاز جب کوہستان اراراط پر سے گزرے ہیں تو ایک چوٹی پر انھوں نے ایک ایسی چیز دیکھی ہے جو ایک کشتی سے مشابہ ہے۔ چونکہ وہ برف سے اٹی ہوئی ہے اس لیے پوری طرح اس کی شکل ہوائی جہاز سے دکھائی نہیں دیتی اور شاید پہاڑ پر برف کے بڑے بڑے تودوں کی وجہ سے آج تک کوئی جانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ واللہ اعلم۔