Ayahs 29:49–50بَلْ ھُوَ اٰیٰتٌ م بلیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ط وَمَایَجْحَدُ بِاٰ یٰـتِـنَـآ اِلاَّ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 49)
(بلکہ یہ روشن نشانیاں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جن کو علم عطا ہوا ہے، اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں۔ )
آیت کے دو مفہوم
اس آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ ھُوَ کا مرجع قرآن کریم کو قرار دیا جائے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اہل کتاب میں سے جن لوگوں کو صحیح علم نصیب ہوا ہے جو علم کے قدرآشنا اور علم کی حدود سے آگاہ ہیں انھیں قرآن کریم کو تسلیم کرنے میں کوئی تأمل نہیں۔ کیونکہ ان کی کتابوں میں قرآن پاک کی تعلیمات کے بارے میں جو کچھ خبریں دی گئی ہیں جب قرآن کریم میں وہ سب کچھ موجود پاتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں کہ یہ تو وہی کتاب ہے جس کا ہمیں انتظار تھا۔ وہ اپنے نبیوں کی پیشگوئی کے مطابق پہلے سے اس کے منتظر تھے۔ چناچہ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے بعض جگہ سچے اہل کتاب کے جذبات قرآن اور آخری رسول سے متعلق نہایت واضح الفاظ میں ذکر فرمائے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن کریم پڑھا گیا تو وہ والہانہ جذبے کے ساتھ اس کی طرف بڑھے اور بہتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ اس کا خیرمقدم کیا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ ھُوَ کا مرجع نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ اس صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ نبی کریم ﷺ ایک امی ہیں۔ آپ کا کتابی علم سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ نہ آپ پڑھ سکتے ہیں اور نہ لکھ سکتے ہیں۔ باایں ہمہ آپ کی زبان سے ایک ایسی کتاب کا جاری ہونا جس کی فصاحت و بلاغت، علم و دانش، حیرت انگیز علمی کمالات، تاریخ کے سربستہ رازوں کا انکشاف، اہل کتاب کی خیانتوں پر گرفت اور انسانی زندگی کی بھلائی کے لیے ایک نہایت مرتب نظام زندگی ایسے علمی بینات ہیں جن کی توجیہ اس کے سوا ممکن ہی نہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ اور قرآن کریم کی یہ خصوصیات اور خود آپ کے ذاتی کمالات یہ وہ روشن نشانیاں ہیں جو آپ کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں۔ اور پھر عرب کے بگڑے ہوئے ماحول میں مکہ حرم ہونے کے باوجود جس طرح تمام تر برائیوں کا مرکز تھا آپ کا ایک ایسی پاکیزہ زندگی گزارنا جس میں کسی کو انگلی رکھنے کی کبھی گنجائش نہ ملے اور ایک ایسا بےعیب کردار پیش کرنا کہ ہر جاننے والا جس کی تعریف میں رطب اللسان ہو۔ آپ کے اندر کردار کی یہ پاکیزگی، کمالات کی بلندی اور قرآن کریم جیسی کتاب کی تلاوت وتعلیم کے سررشتہ کی اگر کوئی تلاش شروع کردے اور یہ سراغ لگانے کی کوشش کرے کہ وہ کون سے اسباب تھے جس نے آپ جیسی حیرت انگیز شخصیت کو بنانے اور سنوارنے میں کام کیا ہے تو وہ مکہ کے ماحول کو دیکھتے ہوئے کبھی اس میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ چونکہ آپ کی شخصیت اور اس وقت کے معاشرے کے حالات میں کوئی مناسبت دکھائی نہیں دیتی تھی۔ آپ کے علمی کمالات کے پیچھے کہیں کوئی علمی سرچشمہ نظر نہیں پڑتا۔ اور انسانوں کی بھلائی کے لیے آپ کی بےچینی اور بےکلی کے پس منظر میں ہمیں کوئی دوسری شخصیت دکھائی نہیں دیتی۔ بنابریں یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ آپ کی ذات درحقیقت بہت سی روشن نشانیوں کا مجموعہ ہے۔ اور جو لوگ علم رکھنے والے ہیں وہ ان نشانیوں کو دیکھ کر اپنے دلوں میں تعریف و تائید کے جذبات پیدا کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ البتہ اس سے انکار صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کی ناقدری کرکے اپنے سینوں اور دلوں کو تاریک کرلیا ہے اور اس طرح اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے ہیں۔
وَقَالُوْا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ط قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَاللّٰہِ ط وَاِنَّمَآ اَنَا نَذِیْرٌمُّبِیْنٌ۔ (العنکبوت : 50)
(اور وہ کہتے ہیں اس پر اس کے رب کی جانب سے نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں، کہہ دیجیے، نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور میں تو بس ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ )
اعتراض اور اس کا جواب
آنحضرت ﷺ کی نبوت پر جو اعتراضات کیے جاتے تھے ان میں سے ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ سورة چونکہ مکی ہے اس لیے موقع کلام کے تقاضے سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ اعتراض قریش کی جانب سے ہوا ہوگا۔ لیکن قریش چونکہ تاریخِ نبوت سے بہت حد تک ناآشنا تھے وہ بہت کم جانتے تھے کہ نبوت کیا ہوتی ہے اور معجزات کسے کہتے ہیں۔ اس لیے ان کی طرف سے یہ اعتراض کہ آپ پر ویسی نشانیاں کیوں نہیں نازل کی گئیں جیسے پہلے انبیاء پر نازل ہوئیں، ایک خلاف حقیقت بات ہے۔ اس لیے معمولی تدبر سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ یہ اعتراض یہود کی طرف سے انھیں سکھایا گیا ہوگا۔ اور وہ مفیدِ مطلب جان کر اسے شہرت دیتے ہوں گے۔ پروردگار نے اعتراض نقل کرنے کے بعد نہایت بےپروائی سے اس کا جواب دیا۔ یہاں تک کہ اعتراض کرنے والوں کو مخاطب کرنا بھی پسند نہیں فرمایا۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کے واسطے سے ان کو جواب دے دیا گیا ہے کہ تمہارا یہ اعتراض کہ مجھ پر معجزات نازل کیوں نہیں کیے گئے اور نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں نہایت نامعقول بات ہے۔ اس لیے کہ میرا دعویٰ صرف یہ ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری اصلاح کے لیے رسول بنا کے بھیجا ہے۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام تم تک پہنچائوں، اس کے دیے ہوئے علم کے مطابق اس کی وضاحت کروں اور تبلیغ و دعوت کی جو ذمہ داری مجھ پر ڈالی گئی ہے اسے باحسن طریق انجام دینے کی کوشش کروں، سو میں وہ کررہا ہوں۔ معجزے دکھانا، میرے اختیار میں نہیں، اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہ جب چاہے گا تو میرے ہاتھ سے کسی معجزے کا اظہار کردے گا۔ رسول ہونے کی حیثیت سے دو حقیقتیں قابل غور ہیں ایک پیغمبر کی ذات اور دوسرا اس پر اترنے والا کلام اور پیغام۔ تمہیں اگر میری ذات پر کوئی اعتراض ہے تو وہ پیش کرو۔ اور جو میں پیغام پیش کررہا ہوں اس میں کوئی کمزوری ہے تو نشان دہی کرو۔ رہی معجزے کی بات تو یہ میرے فرائض میں سے نہیں۔ میرا فرض تو صرف یہ ہے :
میں ان کے مطلب کی کہہ رہا ہوں، زبان میری ہے بات ان کی
میں ان کی محفل سجا رہا ہوں، چراغ میرا ہے رات ان کی
Ayah 29:51اَوَلَمْ یَکْفِھِمْ اَنَّـآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْـکِتٰبَ یُتْلٰی عَلَیْھِمْ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَرَحْمَۃً وَّ ذِکْرٰی لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ۔ (العنکبوت : 51)
(کیا ان کے لیے کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب اتاری جو ان کو پڑھ کر سنائی جارہی ہے، بیشک اس کے اندر رحمت اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ )
اعتراض کا دوسرا جواب
گزشتہ آیت میں جو اعتراض کیا گیا ہے یہ اس کا دوسرا جواب ہے کہ تم نے میری نبوت کی تائید میں نشانیوں کا مطالبہ کیا ہے تو کیا تمہارے لیے یہ بات کافی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایک ایسی کتاب اتاری ہے جو اپنے دعوے پر خود حجت ہے۔ جس کی نظیر نہ پہلے موجود ہے اور نہ آئندہ ہوسکتی ہے۔ اگر اس کی بجائے کوئی حسی معجزہ نازل کیا جاتا تو وہ یقینا ایک وقتی چیز ہوتی۔ اور اگر کوئی عذاب کی نشانی دکھائی جاتی تو نہ جانے وہ کیسی آفت ہوتی اور کس شکل میں نمودار ہوتی۔ قرآن کریم ایک ایسا معجزہ ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔ اور اہل دنیا اس کی مثال لانے سے عاجز رہیں گے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا انتہائی فضل و کرم ہے کہ اس نے ایک ایسی کتاب اتاری جو انسانوں کے لیے دائمی رحمت اور نصیحت ہے بشرطیکہ وہ اس کی قدر کریں اور ایمان لائیں۔ ان کے لیے اس کتاب کی موجودگی میں کتاب اور صاحب کتاب کی صداقت ثابت کرنے کے لیے کسی خارجی نشانی یا معجزے کی ضرورت نہیں ہے۔
Ayah 29:52قُلْ کَفٰی بِاللّٰہِ بَیْنِیْ وَبَیْنَـکُمْ شَہِیْدًا ج یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَکَفَرُوْا بِاللّٰہِ لا اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (العنکبوت : 52)
(کہہ دیجیے ! میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہی کے لیے کافی ہے، وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، جو لوگ باطل پر ایمان لائے اور جنھوں نے اللہ کا انکار کیا وہی خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مخالفین کو تنبیہ
قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی نبوت پر ایسے واضح دلائل کے بعد جیسے کہ قریبی آیات میں پیش کیے گئے ہیں مشرکینِ مکہ اگر ایمان لانے کی بجائے نشانیوں کا مطالبہ کرتے اور قسم قسم کے اعتراضات اٹھاتے ہیں تو آپ ان باتوں کی بالکل پرواہ نہ کریں، حقیقت یہ ہے کہ ان کے دل تسلیم کرچکے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اور قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی کتاب ہے۔ رہے اعتراضات تو وہ تو محض ایک ڈوبنے والی کشتی کا آخری سہارا ہیں۔ گروہی عصبیت اپنی مصنوعی شریعت اور جاہلانہ رسم و رواج پر جمود کو بچانے کے لیے محض ایک شور مچایا جارہا ہے۔ ایسے لوگوں سے بحث مباحثہ کرنا بیکار ہے، ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کیجیے۔ یہ اپنی سچائی کے ہزار دعوے کریں وہ ان کی نیتوں اور ان کے عزائم کو خوب جانتا ہے۔ قیامت کے دن ان کی نیتوں اور عزائم کے حوالے سے وہ فیصلہ کرے گا۔ البتہ ایک بات ان مخالفین کو یاد رکھنی چاہیے کہ اگر انھوں نے اپنی زندگی تباہ کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو یہ جانیں اور ان کا خدا جانے۔ لیکن ان کی ہمدردی کے لیے یہ کہنا بہت ضروری ہے کہ جو لوگ باطل پر جان بوجھ کر ایمان لائیں گے اور پیغمبر کی دلآویز دعوت اور دلائل سے بھرپور گفتگو کے بعد بھی وہ اللہ تعالیٰ کا انکار کریں گے تو انھیں اس بارے میں یکسو رہنا چاہیے کہ یہی لوگ آخرت میں نقصان اٹھانے والے نامراد ہیں۔
Ayah 29:53وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِط وَلَوْلَآ اَجَلٌ مُّسَمًّی لَّجَآئَ ھُمُ الْعَذَابُ ط وَلَیَاْتِیَنَّھُمْ بَغْتَۃً وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ (العنکبوت : 53)
(اور یہ لوگ آپ سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اگر اس کے لیے ایک مدت مقرر نہ کردی گئی ہوتی تو ان پر عذاب آچکا ہوتا، وہ یقینا ان کے اوپر اچانک آئے گا اور ان کو اس کی خبر بھی نہ ہوگی۔ )
کافروں کی طرف سے استعجال بالعذاب کا مطالبہ اور اللہ تعالیٰ کا قانونِ عذاب
آنحضرت ﷺ جب قریش کے سامنے اللہ تعالیٰ کا دین پیش کرتے اور انھیں ایمان لانے کی دعوت دیتے تو وہ پہلے سے بھی بڑھ چڑھ کر آپ ﷺ کی تکذیب کرتے اور آپ کی بات سننے سے بھی انکار کردیتے تو اس پر آنحضرت ﷺ انھیں بعض دفعہ عذاب کی دھمکی دیتے۔ اور نہایت ہمدردانہ لہجے میں وارننگ دیتے ہوئے فرماتے کہ اگر تم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کا عذاب تم پر آسکتا ہے۔ لیکن وہ بجائے اس سے اثر لینے کے نہایت ہٹ دھرمی سے آپ ﷺ کو زچ کرنے کے لیے یہ کہتے کہ ہم نے تو آپ کی تکذیب کردی اور آپ کی دعوت کو ماننے سے انکار کردیا ہے، تو اگر اس پر عذاب آیا کرتا ہے تو آپ ہم پر عذاب کیوں نہیں لاتے، ہم تو شدت سے اس کے منتظر ہیں۔ اس پر فرمایا جارہا ہے کہ قوموں پر عذاب اچانک نہیں آجاتا اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ایک مدت مقرر کر رکھی ہے۔ جب تک وہ مدت گزر نہیں جاتی اس وقت تک اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں آتا۔ وہ مدت قوموں کے اخلاقی زوال کے پیمانے سے ناپ کر مقرر کی جاتی ہے۔ اور یہ صرف پروردگار ہی جانتا ہے کہ وہ پیمانہ کب لبریز ہوتا ہے اور کب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حرکت میں آتا ہے۔ قریش پر عذاب کا بھی ایک وقت مقرر ہوچکا ہے، جب وہ وقت آجائے گا تو ان پر اس طرح اچانک عذاب آئے گا کہ انھیں اس کے آنے کا سان گمان بھی نہیں ہوگا۔
Ayahs 29:54–55یَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ ط وَاِنَّ جَھَنَّمَ لَمُحِیْطَۃٌ م بِالْـکٰفِرِیْنَ ۔ یَوْمَ یَغْشٰھُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِھِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْ وَیَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔
(العنکبوت : 54، 55)
(یہ آپ سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ جہنم ان کافروں کو گھیرے میں لے چکی ہے۔ جس دن عذاب ان کے اوپر سے اور ان کے پائوں کے نیچے سے ان کو ڈھانپ لے گا اور ارشاد ہوگا کہ اب چکھو، سزا ان کرتوتوں کی جو تم کرتے تھے۔ )
قریش کی بےبصیرتی پر تعجب کا اظہار
یہاں قریش کے مطالبہ عذاب کا ذکر دوبارہ کیا گیا ہے، بظاہر یہ تکرار معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ اعادہ اظہارِتعجب کے لیے ہے۔ تعجب اس بات پر کیا جارہا ہے کہ یہ لوگ نہایت جسارت کے ساتھ بار بار عذاب کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ عذاب ان سے بہت دور ہے۔ حالانکہ جہنم کا عذاب جو ان کے کرتوتوں کے باعث مقدر ہوچکا ہے وہ ان سے دور نہیں بلکہ انھیں گھیرے ہوئے ہے۔ یہ اوپر اور نیچے سے جہنم کے حصار میں ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ جہنم تو عالم آخرت کا معاملہ ہے، دنیا سے اس کا کیا تعلق ؟۔ لیکن کاش انھیں معلوم ہوتا کہ جن اعمال سے ان کی شخصیت کا تاروپود بن رہا ہے وہی اعمال جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ اگر عمل کرنے والا ہر وقت اعمال کے نرغے میں ہے اور وہی اعمال جہنم کی آگ کو دھکانے والے ہیں تو پھر جہنم ان سے دور ہوا یا قریب ہوا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جو عذاب ان کے اس قدر قریب ہے یہ اسے دور سمجھ کر بار بار مطالبہ کررہے ہیں۔ دنیا کی صف لپٹنے کی دیر ہے جہنم کا عذاب ان کو اوپر نیچے سے ڈھانک لے گا۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا، لو ! اب اس عذاب کا مزہ چکھو۔ تب انھیں اندازہ ہوگا کہ ہم جس عذاب کا مطالبہ کرتے تھے اسے تو ہم نے اپنے لیے اوڑھنا بچھونا بنا رکھا تھا۔ اور یہ کیسا فریبِ نظر تھا جس میں ہم مبتلا تھے۔
Ayah 29:56یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَۃٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ ۔ (العنکبوت : 56)
(اے میرے بندو ! جو ایمان لائے ہو بیشک میری زمین بہت کشادہ ہے، پس میری ہی بندگی کرو۔ )
مظلوم مسلمانوں سے خطاب اور ہجرت کی ہدایات
مکہ معظمہ میں ہر ایمان لانے والے کے لیے جس طرح زندگی دشوار کی جارہی تھی وہ تاریخ کی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے ہر پڑھا لکھا آدمی واقف ہے۔ اس سورة کے آغاز میں بھی انھیں لوگوں کو حوصلہ دیا گیا ہے اور بعض اشتباہات کا ازالہ بھی فرمایا گیا ہے۔ اب اس آیت میں نہایت دلنوازی کے انداز میں ان سے خطاب کرکے فرمایا گیا ہے کہ اگر مکہ کی سرزمین تمہارے ایمان کی وجہ سے تمہارے لیے واقعی تنگ کردی جائے اور تمہارے لیے یہاں سانس لینا مشکل ہوجائے تو تمہیں یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے دین پر ایمان اور اللہ تعالیٰ کی بندگی ایک ایسی دولت ہے جسے کسی قیمت پر چھوڑا نہیں جاسکتا۔ ایک مومن کی زندگی بھی اسی سے ہے اور آخرت بھی اسی سے۔ جہاں تک قوم و وطن کا تعلق ہے وہ ہر انسان کی ضرورت ہیں، لیکن انھیں ایمان پر ترجیح نہیں دی جاسکتی۔ دونوں میں تصادم کی صورت میں وطن سے ہجرت کرنا لازم ہوجاتا ہے لیکن ایمان پر آنچ آنے نہیں دی جاتی۔ اگر کبھی ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ وطن تم سے ایمان کی قربانی مانگتا ہو تو پھر تمہیں وطن چھوڑ کر ہجرت کر جانا ہوگا۔ ہجرت یقینا بےحد مشکل عمل ہے۔ گھر سے بےگھر ہونا اور وطن سے بےوطن ہونا یقینا ایک بہت بڑی قربانی ہے۔ لیکن ایمان کے لیے اس آیت میں اس قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ وطن چھوڑتے ہوئے دل شکستہ اور مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی زمین بہت وسیع ہے۔ جب تم اس راستے میں نکلو گے تو کوئی نہ کوئی سرزمین تمہارا خیرمقدم کرے گی۔ بس شرط یہ ہے کہ بندگی صرف میری کرنی ہوگی، کسی اور کی بندگی کا تصور بھی ایک مومن کے لیے جائز نہیں۔ آج کے دور میں قوم اور وطن کو جو حیثیت دے دی گئی ہے اسلام اسے قبول نہیں کرتا۔ وہ ایک مومن کو قوم اور وطن کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس سے محبت کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن جہاں تک پرستش کا تعلق ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، اس کے سوا ہر پرستش حرام ہے۔ اسی لیے اقبال نے کہا :
ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے، تو مصطفوی ہے
نظارہ دیرینہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے
Ayah 29:57کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ قف ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ ۔ (العنکبوت : 57)
(ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، پھر تم سب ہماری طرف ہی پلٹا کر لائے جاؤ گے۔ )
ہجرت کے سفر میں فکر جان بچانے کی نہیں، ایمان بچانے کی ہونی چاہیے۔
یہ جان تو آنی جانی ہے
اس جان کی کوئی بات نہیں
آدمی چند روزہ زندگی کے لیے ایسی کمزوری کیوں دکھائے جو اسے اپنے رب کے سامنے شرمسار کردے۔ آخرت کی ہمیشہ رہنے والی زندگی میں ایمان اور عمل صالحہ کا سکہ چلے گا، اور یہی دولت وہاں کام آئے گی۔ تو آدمی فکر اس دولت کی کرے جو ہمیشہ کی زندگی کی ضامن ہے۔ اس کی کیا فکر، جو آج ہے تو کل نہیں۔
Ayahs 29:58–59وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّھُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ غُرْفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰـرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط نِعْمَ اَجْرُالْعٰمِلِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ۔ (العنکبوت : 58، 59)
(اور جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ہم ان کو جنت کی بلند وبالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، کیا ہی خوب صلہ ہے کارگزاروں کا۔ جنھوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر ہرحال میں بھروسا رکھا۔ )
ہجرت میں پیش آنے والے مصائب کا صلہ
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرتے، صعوبتیں اٹھاتے اور بعض دفعہ جان کا نذرانہ پیش کردیتے ہیں ان کے بارے میں یہ گمان نہ کیا جائے کہ ان کی یہ ساری قربانیاں رائیگاں جائیں گی۔ ہماری نگاہوں میں چونکہ دنیا بسی ہوئی ہے، اس لیے ہماری نظر اسی کے حوالے سے نفع و نقصان کے پیمانوں پر جمی رہتی ہے۔ لیکن اگر ہم آخرت کو اپنی منزل بنالیں تو پھر ہمیں یہ جاننے میں دشواری نہیں ہوسکتی کہ یہاں کے ہر عمل کا معاوضہ حقیقت میں یہاں نہیں ملتا بلکہ آخرت میں ملے گا۔ جو لوگ یہاں اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایمان و عمل کے چراغ جلائیں گے اور ایثار و قربانی کے پھول کھلائیں گے ان کی محنت ضائع نہیں جائے گی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انھیں ایسی بلند وبالا عمارتوں میں رکھے گا جس کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور یہ جو کچھ انھیں ملے گا یہ ان کی کارگزاری کا صلہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنے کارگزاروں کو کبھی محرومی کا شکار نہیں ہونے دیتا۔ البتہ وہ کارگزاری اللہ تعالیٰ کے یہاں انعام کی مستحق ٹھہرتی ہے جو ہر طرح کے حالات میں اللہ تعالیٰ کی بندگی پر ثابت قدم رہے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسے میں کبھی کمی نہ آنے پائے۔
Ayah 29:60وَکَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّۃٍ لاَّ تَحْمِلُ رِزْقَھَا صلے ق اَللّٰہُ یَرْزُقُھَا وَاِیَّاکُمْ صلے ز وَھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (العنکبوت : 60)
(اور کتنے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے، اللہ ان کو بھی رزق دیتا ہے اور تم کو بھی، اور وہ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کی زمین کی طرح اس کا خوان کرم بھی وسیع ہے
ہجرت کرنے والے کے لیے دو پریشانیاں مستقل تشویش کا باعث ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اپنا وطن، گھر بار اور اپنی قوم چھوڑنے کے بعد نجانے کہیں کوئی مستقر مل سکے گا یا نہیں۔ کوئی ٹھکانہ ہاتھ آئے گا تو کیسا ہوگا، کیسے لوگوں سے واسطہ پڑے گا۔ گزشتہ آیت کریمہ میں اس کا اطمینان دلاتے ہوئے فرمایا کہ میری راہ میں ہجرت کرنے والے میرے بندے ہیں، انھیں اطمینان ہونا چاہیے کہ میری زمین ان کے لیے بڑی وسیع ہے۔ جب وہ مجھ پر بھروسا کرتے ہوئے نکل کھڑے ہوں گے تو میری زمین ان کے لیے اپنی آغوش کھول دے گی۔ انھیں ایسے ٹھکانے میسر آئیں گے جن کا انھیں سان گمان بھی نہیں ہوگا۔ اور ایسے مسافر نواز ملیں گے جو کافر قوم سے ہزار درجہ بہتر ہوں گے۔
پیشِ نظر آیت کریمہ میں دوسری پریشانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اطمینان دلایا ہے کہ تم روزگار کی فکر کرتے ہو اور تمہیں اندیشہ ہے کہ نئے شہر اور نئے وطن میں کھائیں پئیں گے کہاں سے۔ یہاں سے تو ہم خالی ہاتھ نکلیں گے تو وہاں ہماری معاش کی فکر کون کرے گا۔ اس فکر کے علاج کے لیے فرمایا کہ تم دیکھتے ہو کہ بیشمار چرند و پرند، آبی حیوانات اور مختلف قسم کے جانور تمہارے سامنے ہَوا، خشکی اور پانی میں پھر رہے ہیں۔ ان کے معاش کا انتظام کون کرتا ہے۔ ان میں سے کون ایسا ہے جس کی کمر پر اس کا رزق لدا ہوا ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر اپنے گھونسلوں، اپنی کچھاروں اور اپنے بھٹوں سے نکلتے ہیں اور کسی کو اس میں شبہ نہیں ہوتا کہ ہم خالی پیٹ واپس آئیں گے۔ شام کو جب یہ لوٹتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک کا پیٹ بھرا ہوا ہوتا ہے۔ آخر انھیں کون رزق دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشادہ ہے، اسی طرح اس کا خوان کرم بھی بہت کشادہ ہے۔ کتنے بڑے تن و توش کے جانور ہیں جن کی غذا کئی انسانوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اور سمندر میں کتنی ایسی مخلوقات ہیں جن کی غذا سینکڑے لوگوں سے زیادہ ہوگی۔ لیکن ان میں سے کسی کو کبھی بھوکا نہیں دیکھا گیا۔ اور نہ یہ نظر آتا ہے کہ ان کے لیے رزق کے گودام الگ بھر کے رکھے گئے ہوں اور انھیں اطمینان ہو کہ ہم یہاں سے اپنا رزق حاصل کرلیں گے۔ بس انھیں صرف ایک اطمینان ہے کہ جس پروردگار نے پیدا کیا ہے وہ ہمیں روزی بھی دے گا۔ اسی اطمینان سے وہ اچھلتے کودتے، خوشیاں مناتے زندگی گزار دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی ہدایت کے لیے جانے کا حکم دیا گیا تو انھوں نے عرض کیا کہ الٰہی ! تعمیلِ ارشاد سے انکار نہیں، لیکن میں پیچھے پہاڑوں میں اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ آیا ہوں۔ یہاں میں آگ کی تلاش میں آیا تھا تاکہ سردی سے بچائو کا ان کے لیے کوئی انتظام کردوں۔ مجھے اجازت دی جائے کہ میں کوئی ٹھکانہ تلاش کرکے ان کو وہاں ٹھہرا دوں اور پھر اطمینان سے فرعون کے پاس جاؤں۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم جس چٹان پر کھڑے ہو اس پر عصا مارو۔ چٹان پھٹی تو نیچے ایک چھوٹی چٹان نظر آئی۔ حکم ہوا اس پر بھی عصا مارو۔ وہ بھی پھٹی۔ اس کے نیچے ایک پتھر دکھائی دیا۔ حکم ہوا کہ اس پر بھی ضرب لگائو۔ پتھر ٹوٹا تو اس کے نیچے سے ایک جانور نکلا جو تازہ گھاس کھا رہا تھا۔ پروردگار نے فرمایا کہ میں اگر تین پتھروں کے نیچے ایک جانور کو غذا دے سکتا ہوں تو کیا تمہارے بیوی بچوں کو غذا نہیں دوں گا۔ یہی وہ سہارا ہے جو بےسہارا انسان کی سب سے بڑی قوت ہے۔ بشرطیکہ انسان اس بات پر یقین پیدا کرلے کہ میں جس اللہ کے بھروسے پر نکلا ہوں وہ جس طرح حیوانوں کو رزق دیتا ہے اسی طرح مجھے بھی دے گا۔ میں جب بھی اسے پکاروں گا، وہ میری پکار سنے گا۔ اور میری حالت جو بھی ہوگی وہ کبھی اس سے بیخبر نہیں ہوگا۔
Ayah 29:61وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَسَخَّرَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ج فَاَنّٰی یُؤْفَـکُوْنَ ۔ (العنکبوت : 61)
(اور آپ ان سے پوچھیں کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کر رکھا ہے تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، تو وہ کہاں اوندھے ہوئے جاتے ہیں۔ )
گزشتہ ہدایات پر دلائل
گزشتہ آیات میں اس سرزمین سے ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی بندگی مشکل کردی جائے اور طاغوت کی بندگی پر مجبور کیا جائے۔ اور راستے کی مشکلات کے حوالے سے اللہ ہی پر بھروسا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب انہی باتوں پر دلائل دیے جارہے ہیں۔ سب سے پہلی یہ بات کہ اگر کسی سرزمین میں اللہ تعالیٰ کی بندگی ممکن نہ رہے تو ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ بندگی چھوڑنے کی بجائے اس سرزمین کو چھوڑ دے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اور یہ ایسی بات ہے جو اہل عرب کے یہاں بھی ایک مُسلّم حقیقت تھی۔ انھیں اس بات سے انکار نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ہی کائنات کا خالق ومالک ہے۔ تو ان سے کہا جارہا ہے کہ جب زمین کا خالق اور مالک وہ ہے تو پھر اس کی زمین پر اس کی بندگی کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے کا کیا جواز ہے۔ اور اس کی بندگی سے روکنے کی کیا تُک ہے۔ یہ تو بالکل ایسے ہے کہ گھر کے مالک سے گھر پر تصرف کا اختیار چھین لیا جائے۔ اور ان لوگوں کے حوالے کردیا جائے جن کا اس گھر سے کوئی تعلق نہ ہو۔ جس طرح اس بات کو دنیا کا کوئی شخص جائز تسلیم نہیں کرسکتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی سرزمین پر غیر اللہ کی بندگی اور ان کی حکومت کا کوئی جواز نہیں۔ مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صرف زمین اور آسمان کا خالق ہی نہیں بلکہ اس نے سورج اور چاند کو بھی مسخر کر رکھا ہے۔ اور اہل عرب اس کو بھی تسلیم کرتے ہیں جبکہ سورج اور چاند کے باعث زمین پر حیوانی اور انسانی زندگی کا امکان پیدا ہوا ہے اور انھیں کی وجہ سے یہ زندگی جاری وساری ہے۔ تو جس کی مخلوق اور جس کی قدرت سے مسخر کُرّوں کی وجہ سے انسان زمین پر آباد ہے۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ اس کی بندگی کو زمین پر ناممکن بنادیا جائے اور جن قوتوں کو نہ تو تخلیقِ کائنات میں کوئی دخل حاصل ہے اور نہ وہ کسی طرح بھی ان کُرّوں کے تصرفات میں دخیل ہیں۔ تو انھیں اللہ تعالیٰ کی بندگی میں شریک کرکے ان کی بندگی کا جواز پیدا کردیا جائے۔ یہ ایک ایسا تضاد فکر ہے جس پر تعجب کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے۔ آیت کے آخری الفاظ سے ان کے اسی تضادفکر پر اظہارِتعجب فرمایا گیا۔ اور جو لوگ اس تضادفکروعمل کو رد کرکے فکری اور عملی یکسوئی کے راستے پر چلنے کے لیے ہجرت کا سفر اختیار کرتے ہیں۔ وہ بجا طور پر اس کے مستحق ہیں کہ ان کی تحسین بھی کی جائے اور ہر طرح سے ان کی مدد بھی کی جائے۔
Ayah 29:62اَللّٰہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُ لَـہٗ ط اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ۔
(العنکبوت : 62)
(اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بیشک اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ )
رزق کے خزانے اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں
یہ آیت کریمہ پہلی آیت کا منطقی نتیجہ ہے۔ پہلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کا خالق پروردگار ہے اور سورج اور چاند کو اسی نے اہل زمین کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ اس سے خودبخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب زمین اس کی مخلوق ہے اور زمین پر اثرانداز ہونے والے اجرامِ فلکی اسی کی قوت سے مسخر ہیں تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ رزق کے خزانوں کا مالک کوئی اور بن بیٹھے۔ زمین کی قوت روئیدگی اسی کے حکم سے ہر چیز کو اگاتی ہے۔ اور سورج اسی کے حکم سے پانی کے ذخیروں سے بھاپ اٹھا کر بادل بناتا اور زمین کی سیرابی کا کام کرتا ہے۔ اور پھر سورج ہی کی گرمی ہے جو پیداوار کو پکاتی ہے اور چاند کی شعاعیں اور اس کی روشنی پھلوں میں مٹھاس پیدا کرتی اور دانے میں گداز پیدا کرتی ہے۔ اور جب اس طرح سے غلہ تیار ہو کر کھلیانوں کی صورت میں تبدیل ہوجاتا ہے تو یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ رزق دینے میں کوئی دوسری قوتیں بھی شریک ہیں۔ اور رزق کے کشادہ کرنے یا تنگ کرنے میں کسی اور کا بھی ہاتھ ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کسی کے پاس یہ استحقاق ہے اور نہ قدرت۔ اور نہ کوئی ایسے علم و حکمت کا مالک ہے جس سے وہ جان سکے کہ کس کو رزق پہنچا ہے اور کس کو نہیں پہنچا۔ اور نہ وہ بندوں کے احوال و مصالح سے باخبر ہے۔ اس لیے عقل و دانش کی بات یہ ہے کہ اس بات کا یقین پیدا کیا جائے کہ رزق کے خزانے بھی اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ وہ جس کا چاہتا ہے رزق وسیع کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ اور اس کے علم کی بےپناہی کا حال یہ ہے کہ وہ رزق کی تفصیل سے بھی واقف ہے اور جو رزق کے محتاج ہیں ان کے احوال و مصالح سے بھی پوری طرح باخبر ہیں۔
Ayah 29:63وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَحْیَابِہِ الْاَرْضَ مِنْ م بَعْدِ مَوْتِھَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ط قُلِ الْحَمْدُلِلّٰہِ ط بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْقِلُوْنَ ۔ (العنکبوت : 63)
(اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان سے کس نے پانی اتارا، پھر اس کے ذریعے سے زمین کو زندہ کیا اس کے مردہ ہوچکنے کے بعد، تو وہ ضرور کہیں گے، اللہ نے۔ کہہ دیجیے ! الحمدللہ، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔ )
مشرکین کے فکری تضاد کی ایک مثال
اہلِ عرب کی ضروریاتِ زندگی میں پانی کو بےحد اہمیت حاصل تھی۔ انسانی جسم کے علاوہ زمین کی سیرابی کا یہی ایک ذریعہ تھا جو کبھی آسمان سے اترتا اور کبھی چشموں کی صورت میں زمین سے ابلتا۔ لیکن جب بارش مدتوں تک نازل نہیں ہوتی تھی تو چشمے بھی ویران ہوجاتے تھے۔ اس سے نہ صرف ان کے جانوروں کے ریوڑ مرنے لگتے بلکہ ہمہ نوع قسم کی بربادی اور تباہی عام ہوجاتی۔ تو پانی کی اس اہمیت کے پیش نظر نبی کریم ﷺ سے کہا جارہا ہے کہ اگر آپ ﷺ ان سے سوال کریں کہ پانی کو آسمان سے کون نازل کرتا ہے ؟ اور پانی کے نازل ہوجانے کے بعد تم دیکھتے ہو کہ وہ زمین جو ہر طرف ہلاکت اگلتی ہوئی دکھائی دیتی تھی اس میں زندگی کے آثار جھلکنے لگتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے زمین مخمل کا لباس پہن لیتی ہے۔ تالابوں میں آبی جانور ٹرانے لگتے ہیں اور ہر طرف رنگ و نور کا ایک سیل بہنے لگتا ہے۔ رگِ سنگ میں بھی لہو کی گردش رواں دواں دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ پانی کس نے نازل کیا ؟ تو اہل عرب جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے نازل کیا ہے۔ آپ ان سے کہئے کہ اگر تمہیں واقعی اس بات کا اقرار ہے تو پھر شکر کا سزاوار اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون ہوسکتا ہے۔ تو تم اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کس بنا پر کررہے ہو۔ یہ قدم قدم پر تم جس فکری تضاد کا شکار ہو اس کا تو صاف مطلب یہ ہے کہ تم میں سے اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔ کیونکہ عقل بھی یہ ماننے کی روادار نہیں ہوسکتی کہ زمین کا مالک اللہ تعالیٰ ، تصرفات اس کے قبضے میں، رزق وہ دیتا ہے، پانی کے خزانے اسی کی دسترس میں ہیں۔ لیکن کس قدر حماقت کی بات ہے کہ بندگی میں دوسروں کو شریک کرلیا جائے۔ عقل کبھی بھی اس تضاد فکر کو قبول نہیں کرسکتی۔
Ayah 29:64وَمَا ھٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ لَھْوٌ وَّلَعِبٌ ط وَاِنَّ الدَّارَالْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ م لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 64)
(اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا، اور دارآخرت ہی ہے جو اصل زندگی کی جگہ ہے، کاش یہ لوگ اس کو جانتے۔ )
کفار کی گمراہی کا اصل سبب
اس آیت کریمہ میں کفار کی گمراہی کے اصل سبب کو منکشف فرمایا گیا ہے۔ جس طرح ایک بچہ اپنے ہمجولیوں کے ساتھ کھیل کود کا کوئی ذریعہ تلاش کرلیتا ہے اور پھر اس میں ایسا مگن رہتا ہے کہ اسے کسی چیز کا ہوش نہیں رہتا۔ بچوں میں سے ایک بادشاہ بن جاتا ہے اور باقی درباری بن جاتے ہیں۔ حالانکہ نہ وہ بادشاہ ہے اور نہ دوسرے لڑکے درباری ہیں۔ لیکن وہ اسی کو ایک حقیقت سمجھ کر اس میں کھوئے رہتے ہیں۔ اور جب کھیل کود سے فارغ ہوتے ہیں تو جیسے گھر سے خالی ہاتھ آئے ہوتے ہیں ویسے ہی لوٹ جاتے ہیں۔ انسان بھی دنیائے فانی کی دلفریبیوں میں اس طرح کھو جاتا ہے کہ اسے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ دنیا میں میرا قیام چند دنوں یا چند سالوں سے زیادہ نہیں۔ حالانکہ ان کے سامنے بڑے بڑے حوادث گزرتے ہیں جو یہاں کی ہر چیز کی بےثباتی کو نمایاں کردیتے ہیں۔ لیکن انسان اپنی بےبصیرتی اور کم نگاہی سے کبھی دستبردار نہیں ہوتا۔ ٹھیک کہا شاعر نے :
جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سو نمونے
مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بو نے
انسان جن مفادات کے لیے زندگی بھر دیوانوں کی طرح محنت کرتا اور پسینہ بہاتا ہے اسے خوب معلوم ہے کہ وہ مفادات ہمیشہ رہنے والے نہیں ہیں۔ جس عہدہ و منصب اور مالداری کے لیے وہ بڑی سے بڑی قربانی دیتا اور بعض دفعہ انسانیت کو تماشا بنا دیتا ہے اسے خوب معلوم ہے کہ یہ چار دن کی چاندنی ہے اس کے بعد اندھیری رات ہے۔ جس طرح لہو ولعب وقتی طور پر دل کے بہلاوے کا سامان مہیا کرتے ہیں اسی طرح دنیا کی نیرنگیاں اور دلفربیاں بھی دل کے بہلاوے کے سوا کچھ نہیں۔ یہاں کسی کو پائیداری اور ثبات حاصل نہیں۔ یہ دنیا قدروقیمت والی چیز اس صورت میں بن سکتی ہے جب آخرت کو نصب العین بنا کر گزاری جائے۔ اور ہر کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول، انسانیت کی بھلائی اور اللہ تعالیٰ کے دین کی بالادستی کے لیے کیا جائے۔ اس صورت میں انسان اس چند روزہ زندگی کے بدلے میں ابدی پادشاہی حاصل کرسکتا ہے۔ یہ نصب العین اگر نگاہوں سے اوجھل ہوجائے اور انسان اسی زندگی سے دل لگا کر اسی کی دلفریبیوں کو اپنی منزل بنا لے۔ اور یہیں کا عیش و عشرت اور شوکت و حشمت کا سامان اس کا مقصد ٹھہرے تو نتیجہ اس کا اس کے سوا اور کیا ہوگا کہ جس طرح بچے کھیل کود کر خالی ہاتھ گھروں کو چلے جاتے ہیں، یہ بھی دس بیس یا ساٹھ ستر سال دل بہلا کر موت کے دروازے سے خالی ہاتھ گزر کر اس عالم میں پہنچے گا جہاں جاکر یہ راز کھلے گا کہ ہم نے زندگی کو بچوں کی طرح لہو و لعب سمجھا اور انھیں کی طرح اسی کو ساری زندگی سمجھ کر اپنی زندگی اور اس کی ساری توانائیاں اس میں کھپا کے آخرت میں پہنچے ہیں اور ان بچوں کی طرح ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں۔ نتیجہ معلوم ہے کہ اس خودفریبی کے نتیجے میں انسان کو پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں لے گا۔ اور انجام اللہ تعالیٰ کا عذاب ہوگا۔
آخر میں فرمایا کہ کاش یہ لوگ جانتے کہ دنیا کی موجودہ زندگی صرف ایک مہلت امتحان ہے اور انسان کے لیے اصل زندگی جو ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والی ہے آخرت کی زندگی ہے۔ تو وہ دنیا کی زندگی کا ایک ایک لمحہ لہو ولعب میں ضائع کرنے کی بجائے ان کاموں میں استعمال کرتے جو ابدی زندگی میں کامیابی و کامرانی کی ضمانت بن سکے۔
Ayahs 29:65–66فَاِذَا رَکِبُوْا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَـہُ الدِّیْنَ 5 ج فَلَمَّا نَجّٰہُمْ اِلٰی الْبَرِّ اِذَا ھُمْ یُشْرِکُوْنَ ۔ لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰ تَیْنٰـھُمْ ج لا وَلِیَتَمَتَّعُوْا وقفۃ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ۔
(العنکبوت : 66)
(اور جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اسی سے دعا مانگتے ہیں، پس جب وہ ان کو خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو پھر وہ اس کے شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔ تاکہ اللہ کی دی ہوئی نجات پر اس کی ناشکری کریں اور چند دن اور بہرہ مند ہولیں، پس وہ عنقریب جان لیں گے۔ )
دنیا کے سرمستوں کی ایک مثال
گزشتہ آیت کریمہ میں کفار کی گمراہی کا اصل سبب دنیا کے ساتھ ان کی گرویدگی کو بیان کیا گیا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کی اسی خودفریبی، مفادپرستی اور دنیوی محبت کو ایک مثال سے واضح کیا گیا ہے۔ یعنی ان کی مثال ایسی ہے جیسے کشتی کے مسافر۔ وہ بحری سفر میں کشتی کو اپنے لیے عافیت کا ذریعہ جان کر اس میں سوار ہوتے ہیں۔ جب تک ہوا سازگار رہتی ہے تو کشتی نہایت رواں دواں انداز میں محوسفر رہتی ہے۔ اور یہ لوگ کشتی میں بیٹھے ہوئے اس قدر اپنی باتوں، کھانے پینے اور دوسری دلچسپیوں میں کھوئے رہتے ہیں کہ انھیں کبھی بھول کر بھی خیال نہیں ہوتا کہ ہوا کبھی ناموافق بھی ہوسکتی ہے اور یہ کشتی جو ہماری عافیت اور نجات کا ذریعہ ہے خطرے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ لیکن جیسے ہی مخالف طوفانی ہَوائوں کا زور بڑھتا ہے اور کشتی کسی گرداب میں پھنس کر ڈگمگانے لگتی ہے۔ اور کشتی کے سوار یوں محسوس کرتے ہیں کہ اب شاید ہم کبھی کنارے تک نہ پہنچ سکیں۔ اس وقت انھیں خدا یاد آتا ہے۔ اور اس سے دعائیں کرتے ہوئے مخلصانہ عہد کرتے ہیں کہ اگر ہم اس طوفان سے بچ نکلے تو ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی مخلصانہ بندگی کریں گے اور کبھی اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔ لیکن جب کشتی گرداب سے نکل آتی ہے تو یہ پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک بنانے لگتے ہیں اور اپنی پہلی سرمستیوں اور گمراہیوں میں کھو جاتے ہیں اور یہ بالکل بھول جاتے ہیں کہ انھوں نے ابھی اپنے اللہ سے کیا عہد کیا تھا۔ حیرانی کی بات ہے کہ ابھی پروردگار نے انھیں ایسی صورتحال سے نکالا جس میں انھیں موت نظر آرہی تھی۔ بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر ان میں شکرگزاری کے جذبات پیدا ہوتے ان کی پرانی ناشکری کی عادت لوٹ آتی ہے اور وہ پہلے سے زیادہ کفرانِ نعمت کرنے لگتے ہیں۔ لیکن اس پر بھی پروردگار فرماتا ہے کہ ہم انھیں مزید ڈھیل دیتے ہیں تاکہ وہ ہماری نعمتوں سے اور چند دن متمتع ہولیں۔ لیکن عنقریب وہ جان لیں گے کہ ان کی یہ روش انھیں کس برے انجام تک پہنچا کے چھوڑتی ہے۔
Ayah 29:67اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّیُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِہِمْ ط اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَکْفُرُوْنَ ۔ (العنکبوت : 67)
(کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک پرامن حرم بنایا، اور حال یہ ہے کہ لوگ ان کے گردوپیش سے اچک لیے جاتے ہیں، کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں۔ )
کشتی کے غافلوں اور قریش میں وحدت فکر و عمل
روئے سخن قریش کی طرف ہے۔ گزشتہ آیت میں دنیا کے فریب میں مبتلا لوگوں کی مثال کشتی کے مسافروں سے دی گئی تھی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں قریش کی طرف اشارہ کرکے فرمایا گیا ہے کہ ان کا حال بھی کشتی کے مسافروں سے مختلف نہیں ہے۔ جس طرح کشتی کے مسافر جب تک ہوا سازگار رہتی ہے تو وہ بھول کر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے جس نے انھیں سازگار ہَوا، آبِ دریا کی تسخیر اور کشتی کی بےچون و چرا خدمت سے نوازا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ گویا کہ کشتی اور ابروہَوا سب ان کے تابع فرمان ہیں۔ لیکن وہ اپنی سرمستیوں میں کھوئے ہوئے شکر تو دور کی بات ہے اس کا احساس بھی قریب نہیں آنے دیتے۔ یہی حال مکہ میں رہنے والے قریش کا ہے۔ ان کی تاریخ اللہ تعالیٰ کے احسانات سے معمور ہے۔ ایک مستقل احسان حرم کا وجود ہے جس کی وجہ سے انھیں اس طرح کا امن اور سکون میسر ہے کہ مکہ ان کے لیے سفینہ نجات بن گیا ہے جبکہ ان کے گردوپیش کا حال یہ ہے کہ لوگ دن دیہاڑے اچک لیے جاتے ہیں۔ نہ کسی کی جان کے لیے امان ہے اور نہ کسی کا مال محفوظ۔ پورا عرب بدامنی کا جہنم بنا ہوا ہے۔ اشہرِحرم کے سوا پورا سال بدامنی کے شعلے اہل عرب کو جلائے رکھتے ہیں۔ افراد تو خوف کا شکار ہیں ہی، قافلے بھی لوٹ لیے جاتے ہیں۔ لیکن انھیں مکہ معظمہ میں صرف اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے حرم کے باعث ایک ایسا سکون میسر ہے کہ کسی طرح کا کوئی خطرہ انھیں لاحق نہیں ہوتا۔ لیکن ان کی ناشکری کا عالم یہ ہے کہ حرم کے کونے کونے میں انھوں نے بتوں کو لا بٹھایا ہے۔ اور خود بھی ان کی پوجا کررہے ہیں اور لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دیتے ہیں۔ کاش ان سے کوئی پوچھے کہ تمہیں حرم کی وجہ سے امن جیسی جو عظیم نعمت میسر ہے جبکہ سارا عرب اسے ترس رہا ہے تو کیا یہ حرم ان بتوں نے بنایا ہے یا ان قوتوں نے جنھیں تم اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھتے ہو۔ کیا اتنے بڑے احسان کو دیکھ کر بھی تم جس باطل یعنی شرک پر ایمان رکھتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفران کرتے ہو سے توبہ نہیں کرو گے، کیا تمہیں اس سے شرم نہیں آئے گی۔
Ayah 29:68وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْکَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ہٗ ط اَلَیْسَ فِیْ جَھَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ ۔ (العنکبوت : 68)
(اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جبکہ وہ اس کے پاس آچکا ہے، کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہوگا۔ )
عقلِ عام سے ایک سوال
قریش کے خیالات اور طرزعمل کو دلائل سے رد کرنے کے بعد عقل عام کے سامنے سوال رکھ دیا ہے کہ کیا ایسا شخص جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اختیارات کو تسلیم کرلینے کے باوجود غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرائے اور اس پر ستم یہ ڈھائے کہ اپنی اس جسارت کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرے کہ ان باتوں کا حکم ہمیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اسی لیے ہمارے آبائواجداد اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے رہے ہیں جبکہ اس انتساب کی نہ ان کے پاس کوئی دلیل ہے اور نہ سند۔ ایک ایجادِبندہ ہے جس پر اصرار کیا جارہا ہے۔ عقل اس بات کا فیصلہ کرے کہ ایک بےسند بات جو محض اپنے دل سے گھڑ لی گئی ہے اور نہایت ناروا جسارت کرتے ہوئے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جارہا ہو، کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظلم ہوسکتا ہے۔ اور جو شخص یہ حرکت کرتا ہے کیا کوئی شخص اس سے بڑھ کر ظالم ہوسکتا ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور قریش نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اور آپ کی تکذیب کی ہے۔ اب معاملہ دو حال سے خالی نہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر جھوٹا دعویٰ کیا ہے تو آپ سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں۔ اور اگر قریش نے اللہ تعالیٰ کے سچے نبی کی تکذیب کی ہے تو پھر ان سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں۔ اور آپ کی پاکیزہ سیرت اور آپ کا بلند کردار اور آپ کا زندگی بھر کا ریکارڈ گواہی دیتا ہے کہ آپ جھوٹا دعویٰ نہیں کرسکتے۔ آپ کے دشمن بھی اعتراف کرتے ہیں کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ تو اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ قریش آپ کی تکذیب کرکے ظلم کا ارتکاب کررہے تھے۔ تو کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا۔
لَمَّا جَآئَ ہٗسے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبی کریم ﷺ تو اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں ان کی تشریف آوری سے قریش کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اب ان کے لیے معاملہ پہلے سے زیادہ سنگین ہوگیا ہے۔ پہلے تو ان کے پاس یہ عذر ہوسکتا تھا کہ ہم اگر شرک کا ارتکاب کررہے ہیں تو ہم نے اپنے آبائواجداد کو ایسا ہی پایا ہے تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔ لیکن اب جبکہ آنحضرت ﷺ ہدایت کے ساتھ تشریف لے آئے اور آپ نے حق کو پوری طرح واضح کردیا اور باطل کا باطل ہونا دلائل سے ثابت کردیا تو اب ان کے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ اب شرک کا ارتکاب اور آپ کی تکذیب ایک ایسا جرم ہے جو اس جرم کے کرنے والوں کو جہنم میں پہنچا کے چھوڑے گا۔
Ayah 29:69وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (العنکبوت : 69)
(اور جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کریں گے ہم ان پر اپنی راہیں ضرور کھولیں گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔ )
جہاد اور مجاہدہ کا مفہوم اور اہل ایمان کو بشارت
معمولی سے معمولی محبت کی راہ طویل بھی ہے اور کٹھن بھی۔ قدم قدم پر مشکلات سے واسطہ پڑتا ہے۔ جو ان راستوں سے آشنا ہیں وہ ہر نئے مسافر کو اس راستے کی مشکلات پر شکایت کرتے یا روتے دھوتے دیکھ کر ہمیشہ نصیحت کرتے ہیں کہ یہ راستہ صبر و استقامت کا راستہ ہے، شکایت کا راستہ نہیں۔ اور جو آدمی اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے یہ محبت سب سے پاکیزہ محبت ہے اور اس کا راستہ سب سے کٹھن راستہ ہے۔ اس راستے کی مشکلات سب راہوں سے زیادہ شدید اور سب سے زیادہ جان لیوا ہیں۔ اس میں ذرا سی بھی آمیزش منزل کو کھوٹا کردیتی ہے اور معمولی بےدلی منزل کو دور کردیتی ہے۔
لغتِ عرب میں جہاد کا یہ مفہوم بیان کیا گیا ہے اَلْجِہَادُوَالْمُجَاہِدَۃٌ اِسْتِفْرَاغُ الْوُسْعِ فِیْ مُدَافَعْۃِ الْعُدُوْ ” دشمن سے بچائو کے لیے اپنی امکانی قوت و طاقت کو صرف کردینا جہاد اور مجاہدہ کہلاتا ہے۔ “ دشمن سے مراد دو طرح کے دشمن ہیں، ظاہری بھی اور باطنی بھی۔ ظاہری دشمن کفار و منافقین ہیں جن سے میدانِ جنگ میں دو دو ہاتھ کیے جاتے ہیں۔ اسے بھی جہاد کہتے ہیں۔ اور باطنی دشمن ہَوائے نفس اور شیطان کے وسوسے ہیں۔ ان سے برسرپیکار ہونا بھی جہاد ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے جَاہِدُوْا اَہْوَائَ کُمْ کَمَاتُجَاہِدُوْنَ اَعْدَائَ کُمْ ” اپنی نفسانی خواہشات کے خلاف بھی اسی طرح جہاد کرو جیسے تم ظاہری دشمنوں سے جہاد کرتے ہو۔ “
” فِیْنَا “ کی قید سے اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جہاد اصل میں اس سر توڑ کوشش کو کہتے ہیں جس میں کوئی دنیوی مقصد پیش نظر نہ ہو۔ جس کا مقصد اور منزل صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ اگر اس میں کوئی سا دنیوی مقصد نیت میں یا عمل میں شامل ہوگیا تو اس سے روح جہاد نکل جائے گی۔ گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور دین حق کی سربلندی کے لیے ظاہری اور باطنی دشمنوں سے برسرپیکار رہتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ کرم ہوتا ہے کہ وہ ان پر اپنے راستے کھول دیتا ہے۔ سبل، سبیل کی جمع ہے۔ یعنی وہ راستہ جو منزل تک باآسانی پہنچا دے۔ ایک مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین کی سربلندی کے سوا اور منزل کیا ہوسکتی ہے۔ جب کوئی مومن اس راستے میں اپنا سب کچھ جھونک دیتا ہے تو یہ منزل اس کے لیے آسان کردی جاتی ہے۔ آیت کے آخری جملے میں اسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ لیکن اسے احسان کا نام دے کر اس راستے کی جدوجہد کو بلند ہدف دے دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے لیے جو بشارت دی گئی ہے اس سے بہتر یا بڑی بشارت کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی معیت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معیت کو سمجھنے کے لیے ایک نہایت ناتمام مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ جس طرح پانی کا قطرہ سمندر میں مل کر سمندر کا ایک حصہ بن جاتا ہے اسی طرح ایک فانی انسان اللہ تعالیٰ کی معیت کا تاج پہن کر اس کے ان انعامات کا مستحق بن جاتا ہے جنھیں کبھی فنا نہیں۔ وہ اس جنت میں داخل ہوگا جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اور اس کے ذکر میں کبھی انقطاع نہیں ہوگا۔
” مع “ کے لفظ سے شایدیہ تصور دینا بھی مقصود ہو کہ راہ محبت کے راہ رو اپنے آپ کو تنہا خیال نہ کریں۔ ان کا مالک اور ان کا محبوب پروردگار ان کے ساتھ ہے۔ وہ ہر مشکل مرحلہ پر ان کی دستگیری کرے گا۔ وہ جب بھی کوئی مشکل محسوس کریں گے اس کی توفیق آگے بڑھ کر ان کو سنبھال لے گی۔ انسان اپنے اندر جتنی بیچارگی رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی معیت سے بہرہ ور ہو کر اتنی ہی بےنیازی سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ اسی سے شاید اللہ تعالیٰ کے دین کے دشمنوں کو بھی یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ میرے بندوں کو کبھی بےیارومددگار نہ سمجھیں۔ وہ بظاہر کمزور سہی لیکن پشت پناہی انھیں اس کی حاصل ہے جس سے بڑا کوئی نہیں۔