29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsروح القرآن

Ayah 29:16

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو رسول بنا کر بھیجا جبکہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو

وَاِبْرٰھِیْمَ اِذْقَالَ لِقَوْمِہِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاتَّقُوْہُ ط ذٰلِکُمْ خَیْرٌلَّـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 16) (اور ہم نے ابراہیم کو رسول بنا کر بھیجا جبکہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت لفظ اِبْرٰھِیْمَسے پہلے ارسلنا محذوف ہے۔ یعنی جس طرح ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی ہدایت کے لیے اپنا رسول بنا کر بھیجا تھا اسی طرح ہم نے ابراہیم کو بھی ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ انھوں نے اپنی قوم کو اسی بنیادی حقیقت کی دعوت دی جس کی دعوت حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دی تھی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب بھی کوئی رسول آیا ہے اس نے وہی دعوت پیش کی ہے جو ہر رسول کی دعوت رہی ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی صداقت کی بہت بڑی دلیل ہے کہ ان کا زمانہ ایک دوسرے سے بہت دور، ان کی قومیں ایک دوسرے سے بہت مختلف، ان کے جغرافیائی حالات بعض دفعہ ایک دوسرے سے بالکل متضاد اور ان کے قبائل اور قومی مزاج بھی ایک دوسرے سے متفاوت۔ بایں ہمہ ان کی دعوت میں تضاد تو دور کی بات ہے کوئی جوہری اختلاف بھی نہیں۔ سورة نوح میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ایک اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے کی دعوت دی تھی۔ اور یہی دعوت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی اور ساتھ ہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور عبادت میں دوسروں کو شریک کرنا سب سے بڑا جرم ہے اس لیے اس جرم پر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکتا ہے۔ تم اس جرم کا ارتکاب کرکے اللہ تعالیٰ کے غضب کا شکار نہ ہونا۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ اسی کی بندگی کرو تاکہ تم اس کے غضب سے بچ سکو۔ اور آخر میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ اگر کوئی خیرخواہی کرسکتا ہوں اور کوئی بہتر سے بہتر نصیحت کرسکتا ہوں تو وہ یہی ہے اگر تم اسے سمجھ سکو۔ یہ کہنے کی وجہ شاید یہ ہے کہ انسان کا اللہ تعالیٰ سے جو تعلق ہے وہ بنیادی طور پر اس کے سوا کچھ نہیں کہ انسان بندہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا معبود ہے۔ اسی کو عربی زبان میں عبد کہا گیا ہے، یہی انسان کا بنیادی تعارف ہے اور یہی اس کے مدارج کی معراج ہے۔ انسان جب اپنی سطح سے گرتا ہے تو یا وہ عبد ہونے سے انکار کرتا ہے اور یا دوسروں کی بندگی کے فریب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اسی کو کفر اور شرک کہا گیا ہے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ عبدیت اور بندگی ایک وسیع اصطلاح ہے جب تک اسے ذہن نشین نہ کرلیا جائے اس وقت تک اس لفظ کی معنوی ہمہ گیری کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔ عبد کا معنی ہے غلام۔ اور عبدیت غلامی کو کہتے ہیں۔ غلامی کی پہچان چار چیزیں ہیں۔ 1 غلام وہ ہوتا ہے جسے حق ملکیت حاصل نہ ہو، اس کے پاس جو کچھ ہو وہ امانت ہو اس کی ملکیت اس کے آقا کو حاصل ہو۔ 2 اس کے زیرتصرف اور زیراستعمال چیزوں میں اسے آزادانہ تصرف کا حق نہ ہو۔ وہ ہر بات میں اپنے مالک کے حکم یا اجازت کا محتاج ہو۔ 3 وہ اپنی زندگی کے اہداف اور نصب العین کے تعین کا مجاز نہ ہو۔ 4 اس کا آقا اسے جس حال میں بھی رکھے اسے شکایت کا کوئی موقع نہ ہو۔ انھیں چاروں معنوں میں ہر شخص اپنے اللہ کا غلام ہے۔ اس کے پاس جو کچھ ہے چاہے وہ جسم و جان ہو، صلاحیتیں ہوں، مال و دولت ہو یا عہدہ و منصب، سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور اس کے پاس امانت ہیں۔ یہ اپنے ہر تصرف میں اللہ تعالیٰ کی اجازت کا پابند ہے۔ آزادیِ مطلق اسے حاصل نہیں۔ اسے زندگی کس طرح گزارنی ہے، زندگی کے اہداف کیا ہونے چاہئیں اور اس کا نصب العین کیا ہو، اس کے تعین کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور ہر مومن اللہ تعالیٰ کے اس حق کی پیروی میں زندگی گزارنے کا پابند ہے۔ اسے اپنے اللہ سے دعا کرنے اور مانگنے کی اجازت تو ہے اور اپنی آرزوئوں کے حصول کے لیے کوشش کرنے کی بھی، لیکن اپنے اللہ سے شکایت کرنے کا حق نہیں۔ یہی چاروں باتیں زندگی کا حصار، زندگی کا میدان اور زندگی کا اعزاز ہیں۔ ان کے بارے میں نصیحت کرنا اور توجہ دلانا، اس سے بہتر کوئی اور بات نہیں ہوسکتی۔
Ayah 29:17

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

بلاشبہ تم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی بندگی کررہے ہو اور جھوٹ گھڑ رہے ہو۔ بیشک تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی پرستش کرتے ہو وہ تمہیں رزق دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے تو اللہ ہی سے رزق مانگو اور اسی کی بندگی کرو اور اسی کا شکر ادا کرو، اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْثَانًا وَّتَخْلُقُوْنَ اِفْکًا ط اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لاَ یَمْلِکُوْنَ لَـکُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَاللّٰہِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوْہُ وَاشْکُرُوْا لَـہٗ ط اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (العنکبوت :) 17) (بلاشبہ تم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی بندگی کررہے ہو اور جھوٹ گھڑ رہے ہو۔ بیشک تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی پرستش کرتے ہو وہ تمہیں رزق دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے تو اللہ ہی سے رزق مانگو اور اسی کی بندگی کرو اور اسی کا شکر ادا کرو، اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ ) دعوت کی تفصیل دلائل کے ساتھ مشرکین کی ذہنی پستی کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ تم خود اپنی حالت پر غور کرو تو تمہیں اندازہ ہوگا کہ تم جنھیں اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھ کر پوجا کر رہے ہو ان کی حیثیت بتوں کے سوا اور کیا ہے۔ تم نے کسی شخصیت کا مجسمہ بنا رکھا ہے یا کسی تھان اور استھان کے تقدس کے وہم میں مبتلا ہوگئے ہو۔ یا تم نے اپنے تصور میں کوئی دیوتا یا اوتار قرار دے رکھا ہے۔ یہ سب کچھ بت پرستی کے سوا اور کیا ہے۔ ذرا سوچو بت بھی کبھی معبود ہوتے ہیں۔ اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ تم نے ان بتوں کے بارے میں عجیب و غریب تصورات بنا رکھے ہیں اور ان کی طرف اللہ تعالیٰ کے بیشتر اختیارات کا انتساب کر رکھا ہے۔ کسی کو شفا دینے والا، کسی کو اولاد بخشنے والا، کسی کو روزگار دلوانے والا اور کسی کو خدا کا مقرب سمجھ کر اور بھی بڑے بڑے اختیارات کا حامل بنا رکھا ہے، یہ سب جھوٹی باتیں ہیں جو تم نے اپنے وہم و گمان سے گھڑ رکھی ہیں۔ بعض کے بارے میں تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ تمہارے رزق رساں ہیں حالانکہ وہ کسی قسم کا رزق پہنچانے پر قادر نہیں ہیں۔ اگر تمہیں رزق ہی کے لیے بندگی کرنی ہے تو تب بھی تمہیں اللہ تعالیٰ سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ اس کے سوا کوئی رزق دینے پر قادر نہیں۔ یہ سب تمہاری ذہنی پستی کی علامتیں ہیں کہ حقیقی آستانہ چھوڑ کر نہ جانے کہاں کہاں جبہ سائی کرتے پھر رہے ہو۔ تمہارے لیے بہتر یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو، اسی کے شکرگزار رہو۔ کیونکہ عبادت اور شکرگزاری کا وہی مستحق ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تم ہزار انکار کرو مرنے کے بعد ایک دن ضرور اٹھائے جاؤ گے اور تمہاری پیشی اسی ایک پروردگار کے سامنے ہونے والی ہے۔ اس دن یہ اصنام و اوثان تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔
Ayah 29:18

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلی بہت سی قومیں جھٹلا چکی ہیں اور رسول پر واضح طور پر پہنچا دینے کے سوا اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے

وَاِنْ تُـکَذِّبُوْا فَقَدْ کَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِکُمْ ط وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلاَّ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ۔ (العنکبوت : 18) (اور اگر تم جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلی بہت سی قومیں جھٹلا چکی ہیں اور رسول پر واضح طور پر پہنچا دینے کے سوا اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ ) طویل کشمکش کے بعد قوم کو تنبیہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت اور اس آیت کے نزول میں ایک طویل فاصلہ ہے۔ کیونکہ پیغمبر اپنی قوم کی تبلیغ و دعوت کے نتائج سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ وہ دکھ اٹھاتا ہے لیکن قوم کے ساتھ ہمدردی اور خیرخواہی کا حق ادا کرنے سے نہیں رکتا۔ آپ نے یہ بات یقینا اس وقت کہی ہوگی جب کئی سالوں کی جانگسل کوششوں کے باوجود قوم نے آپ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور دھمکیاں دینے پر اتر آئی۔ اور ہوسکتا ہے بعض لوگوں نے اسی عدم قبولیت کو آپ کی نبوت کے باطل ہونے پر دلیل بنایا ہو۔ اس لیے آپ نے فرمایا کہ اگر تم میری دعوت کو جھٹلاتے ہو اور مجھ پر ایمان لانے سے انکار کرتے ہو اور میری بات کو قبول کرکے نہیں دیتے ہو تو اس میں نئی بات کیا ہے۔ قوموں کی تاریخ اٹھا کے دیکھو کتنی قومیں ایسی گزری ہیں جنھوں نے اپنے پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کے بعد ان کا انجام کیا ہوا۔ آج وہ تاریخ میں عبرت کے طور پر یاد کی جاتی ہیں۔ میں تمہیں اس اندوہناک انجام سے بچانا چاہتا ہوں۔ لیکن تم اسی کھائی میں گر کر مرنا چاہتے ہو۔ تو یاد رکھو میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں میں نے فریضہ رسالت کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ ہر طرح کے حالات اور ہر طرح کے ماحول میں، میں نے اللہ تعالیٰ کا دین تمہیں پہنچایا۔ اس طرح میں اپنی ذمہ داری سے فارغ ہوچکا ہوں۔ مجھے صرف اللہ تعالیٰ کا پیغام واضح طور پر تمہیں پہنچانا تھا وہ پوری طرح پہنچا چکا ہوں اب تم جانو اور تمہارا انجام جانے۔ لیکن اب جو کچھ ہوگا اس کی پرسش مجھ سے نہیں ہوگی کیونکہ میں اپنی ذمہ داری ادا کرچکا، البتہ تم اپنی ذمہ داری ادا نہ کرنے پر پکڑے جاؤ گے۔
Ayah 29:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح خلق کی ابتداء کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرتا ہے، بیشک یہ اللہ تعالیٰ پر بہت آسان ہے

اَوَلَمْ یَرَوْا کَیْفَ یُبْدِیُٔ اللّٰہُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ط اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔ (العنکبوت : 19) (کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح خلق کی ابتداء کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرتا ہے، بیشک یہ اللہ تعالیٰ پر بہت آسان ہے۔ ) آیت 23 تک جملہ معترضہ ہے یہاں سے لے کر آیت 23 تک پانچ آیتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تضمین کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ ایک جملہ معترضہ ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سرگزشت کو روک کر کفار مکہ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کفار مکہ کی کافرانہ زندگی کی بنیاد دو گمراہیاں ہیں۔ ایک شرک و بت پرستی اور دوسری انکارِآخرت۔ شرک اور بت پرستی کی تردید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نہایت پرزور انداز میں لیکن اختصار کے ساتھ اپنی قوم سے خطاب فرمایا اور آخرت کے صرف ذکر اور انتباہ پر اکتفاء کرتے ہوئے خطاب مکمل فرما دیا۔ یہ واقعات چونکہ کفار مکہ کو ان کی اصلاح کے لیے سنائے جارہے ہیں اس لیے پروردگار نے اپنی طرف سے اس بحث کو مکمل کرنے کے لیے آخرت کے حوالے سے چند باتوں کا اضافہ فرمایا ہے۔ اور اس میں دلیل کی بنیاد عام انسانی مشاہدہ پر رکھی ہے جن میں کفار مکہ بھی شامل ہیں۔ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ عجیب لوگ ہیں کہ انھیں اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے سے انکار نہیں۔ یہ اپنے آپ کو اسی کی مخلوق سمجھتے ہیں۔ لیکن جو چیز ان کے عقیدے اور مشاہدہ کے نتیجے سے خودبخود ثابت ہوتی ہے اسے ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ یہ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ بیشمار اشیاء عدم سے وجود میں آرہی ہیں جن میں افرادِانسانی بھی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ان میں سے ہر نوع کے کتنے افراد ہیں جو موت کا شکار ہوجاتے ہیں لیکن ان کی جگہ خالی نہیں رہتی بلکہ ویسے ہی اور افراد وجود میں آجاتے ہیں۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تخلیقی عمل سے یہ لوگ اس کے خالق ہونے کا اقرار کرتے ہیں لیکن مٹ جانے والی اشیاء کی جگہ اللہ تعالیٰ ویسی ہی اشیاء پے در پے وجود میں لارہا ہے۔ اعادہ کے اس عمل کے نتیجے کو ماننے سے انکار ہے۔ اگر وہ صرف خالق ہوتا تو ایک دفعہ تمام انواع اور ان کے افراد کو پیدا کرکے چھوڑ دیتا۔ مرجانے والوں اور مٹ جانے والوں کی جگہ دوسرے افراد کبھی نہ لیتے تو دنیا کی آبادی بہت جلد ختم ہوجاتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جس طرح اس کائنات کا خالق ہے اسی طرح اپنی مخلوقات جیسی مزید مخلوقات کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ اور قیامت اور آخرت اللہ تعالیٰ کی اسی قدرت کے ظہور کا نام ہے۔ قیامت میں جن و انس کے وہ افراد جو اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق سے وجود میں آئے اور پھر اپنی زندگی گزار کے مرگئے انھیں ازسرنو زندہ کرکے جواب دہی کے لیے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ اس کے کامل عدل کا ظہور ہوسکے۔ یہ جس طرح اخلاق کا تقاضا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جو ہمارے مشاہدے میں آتی رہتی ہیں ان کا اتمام بھی ہے۔ لیکن یہ بات اعجوبے سے کم نہیں کہ آخرت کا انکار کرنے والے اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کا تو اقرار کریں اور اسے خالق مانیں اور اسی قوت تخلیق سے پیدا کی ہوئی مخلوق کو دوبارہ زندہ کرنے کے عمل کو ماننے سے انکار کردیں۔ حالانکہ جو کام پہلے ہوچکا اسے دوبارہ کرنا یقینا پہلے کی نسبت آسان ہوتا ہے۔
Ayah 29:20

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

اے پیغمبر ! کہہ دیجیے کہ تم زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی ہے پھر اللہ باردگر زندگی بخشے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ بَدَاَالْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنْشِیُٔ النَّشْاَۃَ الْاٰخِرَۃَ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (العنکبوت : 20) (اے پیغمبر ! کہہ دیجیے کہ تم زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی ہے پھر اللہ باردگر زندگی بخشے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ ) قیامت کا انکار کرنے والوں کو مشاہدے اور غور کی دعوت اب قیامت کا انکار کرنے والوں کو وسیع مطالعے اور مشاہدے کی دعوت دی جارہی ہے کہ تم اپنے تجارتی اسفار میں مختلف ممالک سے گزرتے ہو، وہاں کے حالات کا گہری نظر سے جائزہ لو تمہیں قسم قسم کی مخلوق نظر آئے گی جو اپنی شکل و صورت، اپنی خصوصیات اور اپنے اثرات وغیرہ سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ اور پھر یہ بھی دیکھو کہ کتنی قومیں ہیں جن کے تمرد اور سرکشی کے باعث ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور وہ تباہ کردی گئیں۔ تو کیا وہ سرزمین ابھی تک خالی پڑی ہے۔ یقینا وہاں نئے لوگ بسے جو سب ان کی تباہی کے بعد پیدا ہوئے۔ تو جو پروردگار اس وقت زمین پر یہ تخلیق کے مختلف رنگ دکھا رہا ہے اس کے بارے میں یہ تصور کہ وہ دوبارہ انسانوں کو زندہ نہیں کرسکتا کس قدر مہمل تصور ہے۔
Ayah 29:21

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور جس پر چاہے رحم فرماتا ہے، اسی کی طرف تم پھیرے جائو گے

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ وَیَرْحَمْ مَنْ یَّشَآئُ ج وَاِلَیْہِ تُقْلَبُوْنَ ۔ (العنکبوت : 21) (وہ جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور جس پر چاہے رحم فرماتا ہے، اسی کی طرف تم پھیرے جاؤ گے۔ ) ضابطہ ٔ خداوندی زمین پر بسنے والوں کا عام مشاہدہ اور ان کی تاریخ کے ورق الٹنے سے تمہیں اچھی طرح اندازہ ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ بڑے سے بڑے کافر کو ڈھیل تو دیتا ہے لیکن جب اس کی مشیت اور حکمت کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے اور وہ ایسے لوگوں کو سزا دینے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو پھر اس کی بےپناہ قدرت کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔ وہ جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے۔ البتہ اس کا چاہنا حکمت اور عدل کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے رحم و کرم سے نوازتا ہے۔ اس میں بھی اس کا عدل بھی کارفرما ہوتا ہے اور اس کا فضل بھی شامل حال ہوتا ہے۔ اور انسانوں پر اس کی یہ گرفت اور قوموں پر اس کا نزول عذاب یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ تم سب ایک دن اللہ تعالیٰ کی طرف پھیرے جاؤ گے۔ جن لوگوں نے اس بنیادی بات کو سمجھنے سے انکار کیا ہے ان کے کھنڈرات تمہارے سامنے عبرت کے طور پر موجود ہیں اور وہ زبان حال سے گواہی دے رہے ہیں کہ وہ ذات جس کے عتاب کا ہم شکار ہوئے ہیں وہ دوبارہ زندہ کرنے اور قیامت لانے پر بھی قادر ہے۔
Ayah 29:22

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

نہ تم زمین میں عاجز کرنے والے ہو اور نہ آسمان میں، اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوست اور کوئی مددگار نہیں

وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَلاَ فِی السَّمَآئِ ز وَمَا لَـکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلاَ نَصِیْرٍ ۔ (العنکبوت : 22) (نہ تم زمین میں عاجز کرنے والے ہو اور نہ آسمان میں، اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوست اور کوئی مددگار نہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مقابلہ نہیں ہوسکتا اللہ تعالیٰ کی قدرت ایسی بےپایاں اور بےپناہ ہے کہ تم زمین میں کہیں بھی بھاگ جاؤ اور آسمان پر کہیں بھی چڑھ جاؤ تم اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ تمام اہل زمین کی طاقت مجتمع بھی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کو عاجز نہیں کرسکتی۔ جب اس کی گرفت آتی ہے تو اس کی پکڑ سے کہیں پناہ نہیں ہوتی۔ زمین کا کوئی گوشہ اس کی حکمرانی سے باہر نہیں۔ اور آسمان کی کوئی بلندی اس کے علم سے خارج نہیں۔ لوگوں نے شریکوں کے بارے میں کیسے کیسے تصورات بنا رکھے ہیں اور نام نہاد سفارش کرنے والوں کو نہ جانے کیسا سہارا سمجھ رکھا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی کارساز نہیں جو انھیں بچا سکے۔ اور کوئی مددگار نہیں جو ان کی مدد کو پہنچ سکے اور انھیں پناہ دے سکے۔
Ayah 29:23

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہوچکے ہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَلِقَـآئِہٖٓ اُوْلٰٓئِکَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَاُوْلٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (العنکبوت : 23) (اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہوچکے ہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ ) امید اور محرومی میں قول فیصل یہ عجیب بات ہے کہ دنیا میں ہر امید کے بہت سے اسباب ہیں اور ہر مصیبت سے بچ نکلنے کے بہت سے وسائل ہیں۔ اس لیے آدمی دونوں طرح کے احساسات کے تحت مختلف آستانوں کی دریوزہ گری کرتا اور مختلف سہاروں کی تلاش کرتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی اطاعت اور فرماں برداری کے حوالے سے امید کا بھی ایک ہی راستہ ہے اور عذاب سے بچ نکلنے کا بھی ایک ہی ذریعہ ہے۔ جو شخص ایمان کے بعد اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرتا اور اس کے رسول کی سنت پر عمل کرتا ہے وہ اپنے ایمان و عمل پر بھروسے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت پر بھروسا کرتا ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کرتا ہے اور قیامت کی جواب دہی سے انکار کرتا ہے اس کی محرومی کا بھی ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہوجاتا ہے۔ ایک تو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان و عمل کے ساتھ اپنی رحمت کی امید دلائی ہے اور اپنے فضل و احسان کے وعدے فرمائے ہیں۔ تو جو شخص نہ ایمان رکھتا ہے اور نہ عمل وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے اور اس طرح سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے لاتعلق قرار دے دیتا ہے۔ اور دوسرا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں جزاء و سزا کا فیصلہ تو قیامت کے دن ہوگا اور جو شخص قیامت سے انکار کرتا ہے وہ درحقیقت جزاء و سزا کے نظام ہی کو ماننے سے انکار کردیتا ہے۔ اس طرح سے اس کی محرومی اس حد تک تکمیل کو پہنچ جاتی ہے کہ جس میں رحمت کے نفوذ کی کوئی امید باقی نہیں رہتی۔ ایسا شخص اگر کسی چیز کا سزاوار ہے تو وہ وہی ہے جسے یہاں عذاب الیم قرار دیا گیا ہے۔
Ayah 29:24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

پھر حضرت ابراہیم کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا اسے قتل کردو یا اسے جلا ڈالو۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو آگ سے بچا لیا۔ یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لانے والے ہیں

فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلاَّ ٓ اَنْ قَالُوا اقْـتُـلُوْہُ اَوْحَرِّقُوْہُ فَاَنْجٰہُ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّوْمِنُوْنَ ۔ (العنکبوت : 24) (پھر حضرت ابراہیم کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا اسے قتل کردو یا اسے جلا ڈالو۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو آگ سے بچا لیا۔ یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لانے والے ہیں۔ ) سرگزشت کا بقیہ حصہ، بگڑی ہوئی قوم کا جواب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایسی زوردار تقریر کے بعد بجائے اس کے کہ اس قوم میں قبولیتِ دعوت کے کوئی آثار پیدا ہوتے انھوں نے بیک زبان کہا کہ اس سرپھرے نوجوان کی زبان کاٹ دو ، اسے قتل کردو یا اسے جلا دو ۔ یہ شخص اس قابل نہیں کہ اسے زندہ چھوڑا جائے۔ یہ ہمارے دیوتائوں کی توہین کرتا اور ہمارے متفقہ عقائد کا انکار کرتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس بات پر تو پوری قوم متفق تھی کہ ابراہیم کو زندہ نہ چھوڑا جائے۔ البتہ ہلاکت کے طریقے میں اختلاف تھا۔ کوئی قتل کرنے کی بات کررہا تھا اور کوئی جلا ڈالنے کی۔ آخر اس بات پر اتفاق ہوگیا کہ جلا دیا جائے۔ یہاں اگرچہ جلا دینے کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن سورة انبیاء اور بعض دوسری سورتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کو جلانے کے لیے بہت بڑا الائو روشن کیا گیا۔ جب آگ کے شعلے خوب بھڑک اٹھے اور انگارے خوب چٹکنے لگے تو آپ ( علیہ السلام) کو ایک منجنیق پر باندھ کر الائو میں پھینکا گیا۔ اس وقت آگ پر اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہوا جس کو سورة انبیاء میں ذکر کیا گیا ہے۔ قُلْنَا یَانَارُکُوْنِیْ بَرْدَاوَّسَلاَ مًا عَلٰی اِبْرٰھِیْمَ ” ہم نے کہا ! اے آگ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا۔ “ خبردار ابراہیم جلنے نہ پائے، اس لیے اپنی تپش کو روک لے اور اتنی ٹھنڈی بھی نہ ہونا کہ ٹھنڈک نقصان دہ ثابت ہو بلکہ سلامتی بن جا۔ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکا نہیں گیا، یہ اقتدار کی طرف سے صرف ایک دھمکی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اگر پھینکا نہیں گیا تو پھر آگ کو ٹھنڈی ہونے اور سلامتی بن جانے کا حکم کیوں دیا گیا ؟ بعض لوگ اس بات کو سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ اگر آپ ( علیہ السلام) کو واقعی آگ میں پھینکا گیا تو آپ ( علیہ السلام) جلنے سے محفوظ کیسے رہے ؟ حالانکہ اس میں سمجھ میں نہ آنے والی بات کوئی بھی نہیں۔ اس لیے کہ آگ میں جلانے کی صلاحیت ذاتی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اس کی یہ صلاحیت واپس لے لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ جلا نہیں سکتی۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ پروردگار اشیاء کو خواص دے کر ان خواص کا پابند ہوگیا ہے اور اب ان خواص کے اظہار کو روکنے کی کوئی صورت نہیں تو ایسے شخص کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں بڑا غلط تصور رکھتا ہے۔ آگ ہمیشہ جلاتی ہے، لیکن جب اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے تو وہ جلانے سے انکار کردیتی ہے۔ جس طرح آگ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے سے انکار کردیا اور اس امت میں اسودعنسی نے جب ایک صحابیِ رسول کو آگ کے الائو میں پھینکا کیونکہ انھوں نے اس کی جھوٹی نبوت کو ماننے سے انکار کردیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آگ کو ان پر گلزار بنادیا۔ مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے بچا لیا۔ آیتِ کریمہ کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس واقعہ میں ایمان لانے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ ان میں سے جو نشانیاں ہم جیسے کوتاہ فہموں کو بھی سمجھ میں آتی ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔ ایمان لانے والوں کے لیے اس سرگزشت میں نشانیاں 1 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک مشرک قوم میں پلے بڑھے، مشرک باپ کے فرزند تھے، آپ ( علیہ السلام) کا گھر بت گری کا مرکز تھا، لیکن جیسے ہی توحید کی حقیقت ان پر کھلی اور شرک کی کمزوری کو سمجھا تو آپ ( علیہ السلام) نے اپنے گھر اور اپنی قوم کے خیالات کو رد کرکے اپنے آپ کو توحید کا علمبردار بنا لیا۔ گھر کی شاہانہ زندگی کو لات مار دی۔ آرام و راحت چھوڑ کر پر صعوبت زندگی کا راستہ اختیار کرلیا۔ 2 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ابوالانبیاء اور تمام مذاہب کے بزرگ سمجھے جاتے ہیں۔ اور آپ ( علیہ السلام) کی جلالتِ قدر میں کسی کو شبہ نہیں۔ باایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کو بھی آزمائشوں میں ڈالا۔ اور جب تک آپ ( علیہ السلام) آزمائشوں سے کندن بن کر نہیں نکلے اس وقت تک آپ ( علیہ السلام) کو امامت کے منصب پر فائز نہیں کیا گیا۔ 3 اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ و دعوت کے راستے میں آپ ( علیہ السلام) نے نہایت کٹھن مصائب کا سامنا کیا۔ حتیٰ کہ آگ کے الائو میں بھی کودنا پڑا۔ لیکن کسی وقت بھی آپ ( علیہ السلام) کے ثبات قدم اور استقلال میں کوئی فرق نہ آیا۔ آپ کے عمل نے یہ بات ثابت کردی کہ اللہ تعالیٰ جنھیں اپنی معرفت سے نوازتا ہے اور یقین و ایقان کی قوت عطا کرتا ہے وہ تکلیفوں کے بڑے سے بڑے طوفان کے سامنے بھی جھکنا نہیں جانتے۔ وہ ہر مصیبت کا سامنا کرتے ہیں تاآنکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید و نصرت کا پیغام آجاتا ہے۔ 4 حق ابتداء میں ایک نکلتی ہوئی کونپل کی طرح نازک دکھائی دیتا ہے، یوں لگتا ہے تیز ہوا کا کوئی جھونکا اسے جلا دے گا۔ اہل حق بھی ابتداء میں بہت تھوڑے اور بہت کمزور ہوتے ہیں۔ اور مخالفین اس قدر طاقتور ہوتے ہیں کہ انھیں اپنی خدائی کا یقین ہوتا ہے۔ لیکن حق و باطل کی اس کشمکش میں کامیابی ہمیشہ حق اور اہل حق کو ملتی ہے، باطل ہمیشہ ناکام و نامراد رہتا ہے۔ ایک وہ وقت تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ کے الائو میں جھونکا جارہا تھا اور کوئی ایک زبان بھی ان کے حق میں بولنے کو تیار نہ تھی۔ اور پھر وہ وقت آیا جب ان کے نوائوں کی صدائے بازگشت ملکوں ملکوں سنی گئی اور وہ لوگوں کے امام بنائے گئے۔
Ayah 29:25

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور حضرت ابراہیم نے کہا تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کو اپنے درمیان محبت کا ذریعہ بنا لیا ہے مگر قیامت کے دن تم میں سے ہر ایک دوسرے کا انکار کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گا اور تمہارا ٹھکانہ آگ ہوگا اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہوگا

وَقَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْثَانًا لا مَّوَدَّۃَ بَیْنِکُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ یَکْفُرُبَعْضُکُمْ بِبَعْضٍ وَّیَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا ز وَّمَا وٰ کُمُ النَّارُوَمَا لَـکُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔ (العنکبوت : 25) (اور حضرت ابراہیم نے کہا تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کو اپنے درمیان محبت کا ذریعہ بنا لیا ہے مگر قیامت کے دن تم میں سے ہر ایک دوسرے کا انکار کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گا اور تمہارا ٹھکانہ آگ ہوگا اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ ) تمہاری دوستی کی بنیاد صرف دنیا تک ہے اِنَّمَاحصر کے مفہوم میں ہے۔ یعنی تم نے انفرادی زندگی کو بگاڑنے کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی کی تعمیر بت پرستی کی بنیاد پر کی ہے۔ جس پروردگار کو تم خالق کائنات تسلیم کرتے ہو اسے نہ اپنی انفرادی زندگی میں دخیل مانتے ہو اور نہ اپنی اجتماعی زندگی میں، بلکہ اس کے ساتھ تم نے جن قوتوں کو شریک کر رکھا ہے اور ان کے بت بنا کر بیت اللہ میں سجا رکھے ہیں وہ تمہاری اجتماعیت کے دروبست پر اس حد تک قابض ہوگئے ہیں کہ تم نے انھیں سے عقیدت اور محبت کی بنیاد پر اپنی قومی زندگی کا شیرازہ باندھا ہے۔ تم بیت اللہ کو اللہ تعالیٰ کا گھر مانتے ہو اور اس کے ساتھ عقیدت بھی رکھتے ہو، لیکن تمہاری قومی زندگی کا تشخص اس کے حوالے سے نہیں بلکہ بت پرستی کے حوالے سے ہے۔ تم اس قبیلے سے دوستی رکھتے ہو جس کا بت بیت اللہ کے صحن میں موجود ہے۔ اور ان لوگوں سے قومی رشتہ باندھتے ہو جو بت پرستی کے تصورات میں تمہارے ہمنوا ہیں۔ تمہاری آپس کی دوستیاں، رشتہ داریاں اور تمام مذہبی، معاشرتی، تمدنی، معاشی اور سیاسی تعلقات کا قیام اسی رشتے کا مرہونِ منت ہے۔ چناچہ جب بھی کہیں توحید کی آواز اٹھتی ہے اور ایک خدا کی بندگی کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم اسے اپنی قومی زندگی کے لیے موت تصور کرتے ہو۔ اس لیے پوری قوت سے اس کا راستہ روکنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہو۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ قیامت کے دن تمہاری اجتماعیت کی یہ بنیادیں باقی نہیں رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی سے ہٹ کر تمام رشتے اس روز اپنی قدر و قیمت کھو دیں گے، صرف ایک ہی رشتہ باقی رہے گا جس کی بنیاد خدائے واحد کی بندگی اور نیکی اور تقویٰ پر قائم ہوگی۔ کفر اور شرک اور گمراہی اور آزاد روی پر قائم تمام رشتے وہاں کٹ جائیں گے۔ تمام مصنوعی محبتیں دشمنی میں تبدیل ہوجائیں گی، جھوٹی عقیدتیں نفرت میں بدل جائیں گی، خونی رشتے بھی اپنی حرارت کھو دیں گے اور دنیا میں جو لوگ گمراہی کے امام بن کر لوگوں کی عقیدتوں کا مرکز رہ چکے ہوں گے قیامت کے دن جیسے ہی ان کے پیروکار انھیں دیکھیں گے تو وہ ان پر لعنت بھیجیں گے۔ اور ہر ایک اپنی گمراہی کی ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر اللہ تعالیٰ سے درخواست کرے گا کہ اس ظالم نے مجھے گمراہ کیا، اسے دہرا عذاب دیا جائے۔ قرآن کریم نے اس باہمی توتکار کا جو عقیدت مندوں اور ان کے لیڈروں میں ہوگی کئی مقامات پر ذکر فرمایا ہے۔ مقصود اس کے ذکر سے یہ ہے کہ جو لوگ دعوت کے اس دور میں اپنے زیردستوں کو اطمینان دلا رہے تھے کہ وہ ان کے طریقے پر چلتے رہیں قیامت کے دن وہ ان کی طرف سے جواب دہی کرلیں گے۔ ان کو یہ آگاہی دی جارہی ہے کہ قیامت کے دن اس قسم کے لیڈر اور اس قسم کے پیرو سب ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ ان سب کا ٹھکانہ آخر جہنم ہوگا اور یہ ایسا برا ٹھکانہ ہے جس میں کوئی کسی کا مددگار نہیں ہوگا۔
Ayah 29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پس لوط، ابراہیم پر ایمان لائے اور ابراہیم نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں، بیشک وہی زبردست ہے حکمت والا ہے

فَاٰ مَنَ لَـہٗ لُوْطٌ م وَقَالَ اِنِّیْ مُھَا جِرٌاِلٰی رَبِّیْ ط اِنَّـہٗ ھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (العنکبوت : 26) (پس لوط، ابراہیم پر ایمان لائے اور ابراہیم نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں، بیشک وہی زبردست ہے حکمت والا ہے۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) کا قبولیتِ ایمان اور جرأتِ حق سیاقِ کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آگ کے الائو سے بخیریت تمام نکل آئے تو آپ ( علیہ السلام) نے اس وقت وہاں موجود لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ باتیں ارشاد فرمائیں۔ ممکن ہے یہ خیال رہا ہو کہ اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر طبیعتوں میں یقینا ایک انقلاب آیا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ میری باتوں سے ان کے ذہن کے بند دریچے کھل جائیں اور انھیں ایمان کی دولت نصیب ہوجائے، لیکن اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ اتنے بڑے مجمع میں سوائے حضرت لوط (علیہ السلام) کے کسی کو ایمان کی دولت نصیب نہیں ہوئی۔ وہ نوجوان تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے بھی۔ انھوں نے آگے بڑھ کر آپ ( علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اعلان کیا۔ ممکن ہے کچھ اور لوگ بھی اپنے اندر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی صداقت کا اعتراف رکھتے ہوں۔ لیکن حکومت کی غضب ناکی کو دیکھتے ہوئے کسی کو زبان کھولنے کی جرأت نہ ہوئی۔ ہر شخص جانتا تھا کہ ابراہیم ابھی جس عظیم آزمائش سے بچ کے نکلے ہیں وہ کسی ذاتی دشمنی کا نتیجہ تو نہ تھی بلکہ انھیں ان خیالات کی سزا دی جارہی تھی جن کی طرف وہ سب کو دعوت دے رہے تھے۔ اب اگر کوئی ان خیالات کو قبول کرنے کا اعلان کرتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ بھی ابراہیم کی طرح ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کو تیار ہے۔ ایسا حوصلہ بڑی مشکل سے نصیب ہوتا ہے۔ صرف ایک حضرت لوط (علیہ السلام) تھے جنھوں نے ایک مومن کی جرأت کا اظہار کیا۔ کیونکہ ان کی فطرت نہایت سلیم، ان کے جذبات نہایت صالح اور قبولیتِ حق ان کے دل کی آواز تھی۔ وہ آئندہ چل کر نبی بننے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا نبی نبوت کے منصب پر ایک خاص عمر کو پہنچ کر اللہ تعالیٰ کے حکم سے فائز ہوتا ہے لیکن اس کی طبیعت میں وہ تمام جوہر پوشیدہ ہوتے ہیں جس کا اظہار آگے چل کر ہونے والا ہوتا ہے۔ وہ اگرچہ بت پرستوں کے دیس میں رہتا ہے لیکن بت پرستی سے نفرت کرتا ہے۔ اسے نبوت سے پہلے یہ خبر تو نہیں ہوتی کہ ایمان کی تفصیلات کیا ہیں اور خدا پرستی کی تعریف کیا ہے۔ لیکن وہ کفر و شرک کی ہر آلودگی سے پاک ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی پس پردہ تربیت کے باعث بلند سیرت و کردار کی حامل زندگی گزارتا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو انہی بنیادی خصوصیات کے باعث اظہارِ ایمان میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ اس پوری قوم میں قبولیتِ ایمان کی کوئی رمق باقی نہیں۔ اس شہر کا مزاج اور اس قوم کے جذبات صرف کفروشرک کے لیے سازگار ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ کے کسی پیغمبر کے لیے یہ سر زمین اب سازگار نہیں۔ یہ قوم پہلے ہی میرے خون کی پیاسی ہے اور میرے قتل کے لیے بہانہ ڈھونڈتی ہے۔ میرا یہاں مزید قیام تبلیغ و دعوت کے نقطہ نگاہ سے کسی طرح مناسب نہیں۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے اعلان کیا کہ اب میرا بظاہر کوئی ٹھکانہ نہیں، لیکن ساری زمین اللہ تعالیٰ کی ہے۔ میں اپنے اللہ ہی کی طرف ہجرت کی نیت سے جارہا ہوں۔ وہ ضرور مجھے کوئی ٹھکانہ دے گا۔ وہ سب پر غالب ہے، اس کے فیصلے کو کوئی نہیں روک سکتا۔ وہ حکمت والا ہے، وہی جانتا ہے کہ یہ شہر مجھ سے کوئی فائدہ کیوں نہیں اٹھا سکا۔
Ayah 29:27

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور اس کی ذُرِّیت میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری کیا، اور ہم نے اس کا اجر اس کو دنیا میں بھی دیا اور آخرت میں بھی وہ نیکوکاروں کے ذمرے میں سے ہوگا

وَوَھَبْنَالَـہٗٓ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وِالْـکِتٰبَ وَاٰ تَیْنٰـہُ اَجْرَہٗ فِی الدُّنْیَا ج وَ اِنَّـہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ (العنکبوت : 27) (اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور اس کی ذُرِّیت میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری کیا، اور ہم نے اس کا اجر اس کو دنیا میں بھی دیا اور آخرت میں بھی وہ نیکوکاروں کے ذمرے میں سے ہوگا۔ ) ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ کا انعام اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے راستے پر نکلنے والوں کو بےیارومددگار نہیں چھوڑتا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہجرت کی تو آپ ( علیہ السلام) کی ہمرکابی میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے سوا اور کوئی نہ تھا۔ لیکن زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہلے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور پھر حضرت اسحاق (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا۔ اور آگے چل کر حضرت یعقوب (علیہ السلام) جیسا پوتا عنایت فرمایا۔ اور پھر ان کو ایسی برکت عطا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اس خاندان کو نبوت کے لیے چن لیا۔ ان میں مسلسل انبیائے اکرام اٹھائے اور اس طرح سے اس خاندان کو اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی اور لوگوں کی اصلاح کا مرکز بنادیا۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا ہی میں ان کی خدمات کا صلہ عطا فرمایا اور آخرت میں بھی وہ صالحین کے گروہ میں شمار ہوں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اور بھی بیٹے عطا فرمائے، لیکن ان کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد ہی میں نبوت اور کتاب کی نعمت نازل ہوتی رہی۔ آپ ( علیہ السلام) کے بیٹے مدیان، مدین جن کا مرکز رہا ان کی شاخ میں صرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے۔ اور آپ ( علیہ السلام) کے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے سرکارِ رسالت مآب ﷺ تک اڑھائی ہزار سال کی مدت میں کوئی نبی نہیں آیا۔ لیکن اتنی طویل مدت کے بعد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے قیامت تک کے لیے ہدایت و رہنمائی کا مرکز تبدیل ہوگیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک یروشلم ہی ان کا مرکز رہا اور حضرت اسحاق کی اولاد ہی میں نبوت و کتاب کا نزول ہوتا رہا۔ لیکن آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بعد اسماعیلی شاخ کو ایسا اعزاز نصیب ہوا کہ اب قیامت تک آنحضرت ﷺ ہی دنیا کے امام اور پیشوا ٹھہرے۔ لیکن یہ تینوں شاخیں چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے شجرطوبیٰ کا ثمر ہیں اس لیے آپ ( علیہ السلام) پر یہ اللہ تعالیٰ کا وہ انعام ہے جس میں کوئی ان کا ہمسر نہیں۔ بابل کے حکمرانوں اور مذہبی پروہتوں نے تو آپ کا نام مٹا دینا چاہا، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام ایسا روشن کیا کہ مخالفین تو دنیا سے ایسے مٹے کہ آج دنیا میں ان کا کہیں نام و نشان نہیں، مگر وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند کرنے کے جرم میں لوگوں نے جلا کر خاک کردینا چاہا تھا اور پھر جسے بےسروسامانی کی حالت میں وطن سے نکلنے پر مجبور کیا اس کو اللہ تعالیٰ نے ایسی سرفرازی عطا فرمائی کہ چار ہزار برس سے دنیا میں اس کا نام روشن ہے اور دنیا کے تمام بڑے مذاہب انھیں بالاتفاق اپنا پیشوا مانتے ہیں۔
Ayah 29:28

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ ایک کھلی ہوئی بدکاری کا ارتکاب کرتے ہو جس کا ارتکاب تم سے پہلے کسی قوم نے بھی نہیں کیا

وَلُوْطًا اِذْقَالَ لِقَوْمِہٖٓ اِنَّـکُمْ لَتَا تُوْنَ الْفَاحِشَۃَ ز مَاسَبَقَکُمْ بِھَا مِنْ اَحَدٍمِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (العنکبوت : 28) (اور ہم نے لوط کو بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ ایک کھلی ہوئی بدکاری کا ارتکاب کرتے ہو جس کا ارتکاب تم سے پہلے کسی قوم نے بھی نہیں کیا۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعوت اوپر گزر چکا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ وہ آپ کے ساتھ ہی ہجرت کرکے اپنے وطن سے نکلے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی معیت میں وہ کہاں کہاں گئے اور کیسی کیسی صعوبتیں اٹھائیں۔ لیکن پھر ایک وقت مقرر پر اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت سے نوازا۔ اور بحیرہ مردار کے پاس سدوم اور دوسری بستیوں میں ایک نہایت پاجی قوم میں آپ کی بعثت ہوئی۔ اس قوم میں اور بھی برائیاں تھیں جو مشرک قوموں میں بالعموم ہوتی ہیں۔ لیکن ایک برائی ایسی تھی کہ جو کسی دوسری قوم میں ایسی اجتماعی شکل میں کبھی نہیں پائی گئی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انفرادی طور پر بھی کسی قوم کا کوئی فرد اس میں ملوث نہیں رہا بلکہ اس قوم کی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے اس برائی کو اپنی قوم کی پہچان بنادیا تھا۔ اور یہ برائی ان کے ہاں فیشن کی حیثیت اختیار کرگئی تھی۔ قرآن کریم نے اسے یہاں فاحشہ کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ فاحشہ ایسی کھلی ہوئی بدکاری اور بےحیائی کو کہتے ہیں جس کے بدکاری اور بےحیائی ہونے میں کسی اختلاف کی گنجائش نہ ہو۔ مراد اس سے امردپرستی ہے جسے عمومی زبان میں لواطت کہتے ہیں۔ یہ قوم بری طرح اس مرض کا شکار تھی۔ اور شرم و حیاء کا ہر ٹانکا ان کی اجتماعی زندگی سے کٹ چکا تھا۔ قرآن کریم نے ان کی اخلاقی حس کو بیدار کرنے کے لیے طنز کے انداز میں کچو کہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ تم جس بےحیائی کا ارتکاب کررہے ہو اس روئے زمین پر کسی قوم نے آج تک اسے وہ حیثیت نہیں دی جو تم دے چکے ہو۔ اور کسی قوم نے بھی اس لعنت کو قومی تہذیب کی علامت نہیں بنایا۔
Ayah 29:29

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم مردوں کے پاس جاتے ہو اور رہزنی کرتے ہو، اور اپنی مجلسوں میں بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو تو اس کی قوم کے پاس کوئی جواب اس کے سوا نہ تھا کہ انھوں نے کہا کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے اوپر اللہ کا عذاب لائو

اَئِنَّـکُمْ لَتَاْ تُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ 5 لا وَتَاْ تُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْـکَرَ ط فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ (العنکبوت : 29) (کیا تم مردوں کے پاس جاتے ہو اور رہزنی کرتے ہو، اور اپنی مجلسوں میں بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو تو اس کی قوم کے پاس کوئی جواب اس کے سوا نہ تھا کہ انھوں نے کہا کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے اوپر اللہ کا عذاب لائو۔ ) فاحشہ کی وضاحت اور تباہ ہونے والی قوم کا جواب گزشتہ آیت کریمہ میں جس برائی کو فاحشہ سے تعبیر کیا گیا ہے اس آیت میں اس کی وضاحت ہے کہ تم اس قدر پاجی واقع ہوئے ہو کہ تم مردوں کے پاس جاتے ہو۔ اس کی مزید وضاحت سورة الاعراف میں ان الفاظ میں کی گئی ہے اِنَّـکُمْ لِتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَہْوَۃً مِنْ دُوْنِ النِّسَائِ ” تم خواہشِ نفس پوری کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو۔ “ یعنی قدرت نے شہوت کا مرکز عورت کو بنایا تھا اور دونوں کے اتصال سے دونوں کی جنسی ضرورت پوری ہوتی تھی اور اس کے نتیجے میں توالد و تناسل کا سلسلہ جاری رہتا تھا، لیکن تم ایسے بدبخت ہو کہ تم نے اصل جگہ کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ وہ تعلق پیدا کرلیا ہے، بعض اہل علم کے نزدیک اگلے جملے میں اسی تعلق کے نتیجے کو بیان کیا گیا ہے کہ اس طرح سے تم فطرت کی راہ مارتے ہو۔ سبیل سے مراد یہاں فطرت کی راہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر مرد، مردوں سے شہوت رانی کرنے لگیں اور آہستہ آہستہ عورتوں کی طرف مردوں کی رغبت بالکل ہی ختم ہوجائے تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا کہ قدرت نے مردو عورت کو نسل انسانی کی بقاء اور افزائش کا ذریعہ بنایا تھا، لیکن اس بگڑی ہوئی صورتحال میں وہ اہلاکِ انسانی کا ذریعہ بن جائیں گے جو ظاہر ہے کہ فاطرِفطرت کے منشاء کے بالکل خلاف ہے۔ لیکن بعض دیگر اہل علم نے تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ تم رہزنی کرتے ہو، یعنی تمہاری اخلاقی گراوٹ کا حال یہ ہے کہ تم نے جنسی تعلق مردوں کے ساتھ جوڑ رکھا ہے اور انسان ہوتے ہوئے انسانوں کے ساتھ دشمنی کا عالم یہ ہے کہ تم قافلے لوٹتے ہو اور تمہاری وجہ سے راستے پرخطر ہوگئے ہیں اس کے بعد فرمایا کہ شرم و حیاء کا لبادہ تم نے اس حد تک اتار دیا ہے کہ تم اپنی مجلسوں میں علانیہ ایک دوسرے کے سامنے بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب شرم و حیاء کا آخری ٹانکا بھی ٹوٹ کر رہ جائے اور معاشرہ اور سوسائٹی تہذیب اور فیشن کے نام سے بےحیائیوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے۔ ان کی زبانیں بےحیائی کے ذکر سے غلیظ سے غلیظ تر ہوجائیں اور ان کا لٹریچر بےحیائی کے فخریہ اظہار کا نمونہ بن کر رہ جائے۔ قومِ لوط پر ان الزامات کو دیکھتے ہوئے حیرت ہونے لگتی ہے کہ کیا کوئی قوم اخلاقی طور پر اس قدر آوارہ اور بےحس بھی ہوسکتی ہے، لیکن جس کی نظر آج کے مغرب امریکہ اور کینیڈا وغیرہ پر ہے اس کے لیے اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔ برطانیہ کا باوقار ہائوس باہم جنس پرستی کے بل کو قانونی شکل دے چکا ہے۔ ایسے کلب وجود میں آچکے ہیں جہاں آزادانہ اس قماش کے لوگ دادعیش دیتے نظر آتے ہیں۔ اور Gay style of life کے نام سے باقاعدہ لٹریچر تیار ہوچکا اور فلسفہ وجود میں آگیا ہے۔ لائبریریوں میں اسی نام سے مستقل پورشن قائم کردیے گئے ہیں۔ یہ سب کچھ اس دور میں ہورہا ہے جس دور کو علم و دانش کا دور کہا جاتا ہے۔ ٹھیک کا کسی نے : یہ روشنی کا زمانہ، یہ ظلمتوں کا ورود اس انجمن کے خدائو بڑا اندھیرا ہے حضرت لوط (علیہ السلام) کی اس ملامت آمیز تبلیغ و دعوت کے جواب میں آپ کی قوم نے یہ کہا کہ اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہو اور تمہاری تکذیب سے اللہ تعالیٰ کا عذاب ہم پر آنے والا ہے تو تم وہ عذاب ہم پر لے آئو، ہم اس عذاب کے لیے تیار ہیں۔ اور قرآن کریم میں دوسرے جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ حضرت لوط کی تبلیغی کاوشوں کے جواب میں آپ ( علیہ السلام) کی قوم نے ایک دوسرے سے کہا کہ لوط اور اس کے گھر والوں کو اس بستی سے نکال باہر کرو، یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں، یہ ہمارے ساتھ رہنے کے قابل نہیں، ہم لطیف جذبات کے مالک ایسے کثیف لوگوں کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
Ayah 29:30

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

حضرت لوط نے کہا اے میرے رب اس مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَی الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ ۔ (العنکبوت : 30) (حضرت لوط نے کہا اے میرے رب اس مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) کی فریاد بارگاہِ ایزدی میں یعنی جب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ ان کے لیے حضرت لوط (علیہ السلام) کی تبلیغ و دعوت اور برائیوں پر تنقید ناقابلِ برداشت ہوگئی۔ وہ ان سے عذاب کا مطالبہ کرنے لگے یا انھیں اپنے شہر سے نکالنے کا عزم کرنے لگے، تب حضرت لوط (علیہ السلام) نے یہ محسوس کرلیا کہ اب فیصلے کا وقت آگیا ہے۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے سامنے دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیے کہ الٰہی ! میں نے اپنی قوم کی اصلاح میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا، لیکن ان کی ضد اور ان کا بگاڑ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ میری تمام تمام کوششیں بےسود ثابت ہوئی ہیں۔ اور اب یہ قوم مجھے ہی مٹا دینے یا نکالنے پر تل گئی ہے، اب تو میری مدد فرما اور اس مفسد قوم کو تباہ کردے۔
Ayah 29:31

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

جب ہمارے فرستادے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے، انھوں نے کہا ہم اس بستی والوں کو ہلاک کردینے والے ہیں، اس بستی کے رہنے والے سخت ظالم ہوچکے ہیں

وَلَمَّا جَآئَ تْ رُسُلُنَآ اِبْرٰھِیْمَ بِالْـبُشْرٰی لا قَالُوْٓا اِنَّا مُھْلِکُوْٓا اَھْلِ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ ج اِنَّ اَھْلَھَا کَانُوْا ظٰلِمِیْنَ ۔ (العنکبوت : 31) (جب ہمارے فرستادے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے، انھوں نے کہا ہم اس بستی والوں کو ہلاک کردینے والے ہیں، اس بستی کے رہنے والے سخت ظالم ہوچکے ہیں۔ ) فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے بشارت اور قوم لوط کے لیے عذاب لے کر آئے حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ان کی قوم پر عذاب لانے کے لیے بھیج دیا، لیکن وہ آپ ( علیہ السلام) کے پاس جانے سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت لے کر آئے۔ یہ بشارت وہ ہے جس کا ذکر اوپر آیت 27 میں گزر چکا ہے۔ یعنی وہ یہ بشارت لے کر آئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمائے گا۔ وہ لمبی عمر پائیں گے، شادی کی عمر کو پہنچیں گے پھر اللہ تعالیٰ انھیں حضرت یعقوب (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا کرے گا۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے اور پوتے دونوں کی ایک ساتھ بشارت دی گئی تاکہ آپ کی خوشیوں میں اضافہ ہو کہ اللہ تعالیٰ صرف آپ کو بیٹا ہی نہیں دے گا بلکہ صاحب اولاد بیٹا دے گا اور آپ کا پوتا بھی صاحب اولاد ہوگا اور پھر اس گھر کو اللہ تعالیٰ نبوت اور کتاب کا مرکز و مہبط بنائے گا۔ اس بشارت کے ساتھ ساتھ فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کی بھی خبر دی کہ اب ہم اس بستی کو ہلاک کرنے والے ہیں۔ اشارہ قوم لوط کے علاقے کی طرف تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس وقت فلسطین کے شہر حبرون (موجودہ الخلیل) میں رہتے تھے۔ اس شہر کے جنوب مشرق میں چند میل کے فاصلے پر بحیرہ مردار کا وہ حصہ واقع ہے جہاں پہلے قوم لوط آباد تھی اور اب جس پر بحیرہ کا پانی پھیلا ہوا ہے۔ آیت کے آخر میں قوم لوط پر عذاب کی علت بیان فرمائی گئی ہے کہ ان کے ہلاک کیے جانے کا فیصلہ اس لیے ہوا ہے کہ انھوں نے فطرت کی راہ سے انحراف کرکے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کرکے اپنے اوپر جو ظلم اوڑھ رکھا ہے اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دھرتی کو ایسے لوگوں سے پاک کردیا جائے۔ جو درخت پھل دینے کی بجائے تعفن پھیلانے کا ذریعہ بنتا ہے اور جو زمین فصل اگانے کی بجائے سیم اور تھور کو پیدا کرتی ہے اور جو عمارت سایہ دینے کی بجائے سانپوں کو بھٹ بن جاتی ہے اسے کبھی باقی نہیں رکھا جاتا۔ اس کی تباہی میں خلق خدا کا بھلا ہوتا ہے۔
Ayah 29:32

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

حضرت ابراہیم نے کہا اس بستی میں تو لوط بھی ہے، فرشتوں نے جواب دیا ہم خوب جانتے ہیں جو اس میں ہے، ہم اس کو اور اس کے اہل کو بچا لیں گے، مگر اس کی بیوی کو، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگی

قَالَ اِنَّ فِیْھَا لُوْطًا ط قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْھَا وقفۃ ز لَنُنَجِّیَنَّـہٗ وَاَھْلَــٓـہٗ اِلاَّ اْمَرَاتَہٗ ق ز کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ۔ (العنکبوت : 32) (حضرت ابراہیم نے کہا اس بستی میں تو لوط بھی ہے، فرشتوں نے جواب دیا ہم خوب جانتے ہیں جو اس میں ہے، ہم اس کو اور اس کے اہل کو بچا لیں گے، مگر اس کی بیوی کو، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگی۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) سے متعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تشویش اور اس کا جواب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ یہ فرشتے قوم لوط پر عذاب لے کر جارہے ہیں تو آپ ( علیہ السلام) نے پریشان ہو کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے بارے میں پوچھا کہ وہ بھی تو اس بستی میں ہیں، ان کا کیا بنے گا۔ فرشتوں نے بتایا کہ ہم اس کے اہل خانہ اور اس پر ایمان لانے والوں کو اس عذاب سے محفوظ رکھیں گے۔ لیکن ان کی بیوی وہ عذاب کی نذر ہوجائے گی کیونکہ وہ اپنے عظیم شوہر کے ساتھ مخلص نہیں اس کا تعلق عقیدے کے اعتبار سے اپنی قوم کے ساتھ ہے۔ اندازہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیغمبر کے ساتھ برسوں کا تعلق بھی ایمان کے بغیر کام نہیں آتا۔ اس کے ساتھ وہی عادلانہ سلوک ہوتا ہے جو باقی کافروں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
Ayah 29:33

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور دل تنگ ہوئے، اور ( انھیں پریشان دیکھ کر) فرشتوں نے کہا، نہ ڈرو اور نہ رنج کرو، ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو سوائے تمہاری بیوی کے نجات دینے والے ہیں، اور وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے

وَلَمَّآ اَنْ جَآئَ تْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓ ئَ بِھِمْ وَضَاقَ بِہِمْ ذَرْعًا وَّقَالُوْا لاَ تَخَفْ وَلاَ تَخْزَنْ قف اِنَّا مُنَجُّوْکَ وَاَھْلَکَ اِلاَّ اْمَرَ اَتَکَ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ۔ (العنکبوت : 33) (جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور دل تنگ ہوئے، اور (انھیں پریشان دیکھ کر) فرشتوں نے کہا، نہ ڈرو اور نہ رنج کرو، ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو سوائے تمہاری بیوی کے نجات دینے والے ہیں، اور وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) کی آزردگی اور فرشتوں کی تسلی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے رخصت ہو کر فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے۔ وہ انھیں دیکھتے ہی سخت آزردہ اور تنگ دل ہوئے۔ وجہ یہ تھی کہ فرشتے خوبصورت نوخیز لڑکوں کی شکل میں تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو اس کا علم نہیں تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ وہ انھیں نوعمر لڑکے سمجھ کر اپنی قوم کی بداخلاقی کا تصور کرکے کانپ اٹھے۔ وہ جانتے تھے کہ جیسے ہی میری قوم کے لوگوں کو ان خوبرو نوجوانوں کے آنے کی خبر ہوگی وہ دیوانہ وار میرے گھر کا رخ کریں گے اور وہ ان لڑکوں کو حوالے کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ ادھر میرا یہ حال ہے کہ میں اپنے ان عزیز مہمانوں کو نہ تو ان بدکردار لوگوں سے بچا سکتا ہوں اور نہ ان بدکرداروں کا مقابلہ کرسکتا ہوں۔ اگر میں ان سے معذرت کردوں کہ آپ یہاں سے فوراً نکل جائیں تو اس سے بڑی بےمروتی کیا ہوگی، میری شرافت اسے گوارا نہیں کرسکتی۔ سورة ہود اور دوسری سورتوں میں یہ تفصیل بیان کی گئی ہے کہ ان لڑکوں کی آمد کی خبر سن کر شہر کے بہت سے اوباش حضرت لوط (علیہ السلام) کے مکان پر ہجوم کرکے آئے اور اصرار کرنے لگے کہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری کے لیے ہمارے حوالے کردو۔ حضرت لوط و نے لاکھ منت سماجت کی، لیکن ان بدمعاشوں نے ایک نہیں سنی۔ فرشتوں نے جب دیکھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) بےبسی کی تصویر بنے ان بدبختوں کی منت سماجت کررہے ہیں تو انھوں نے اپنا پردہ اٹھا دیا اور حضرت لوط (علیہ السلام) کو اطمینان دلایا کہ ہم چھوکرے نہیں، فرشتے ہیں۔ یہ لوگ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے اور نہ آپ تک پہنچ پائیں گے، ہم ان کے لیے فیصلہ کن عذاب لے کر آئے ہیں اور مزید یہ کہہ کر حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ آپ ( علیہ السلام) اپنی اور اپنے متعلقین کے باب میں کوئی اندیشہ نہ کریں ہم آپ کو اور آپ کے تمام ساتھیوں کو اس عذاب سے بچا لیں گے۔ البتہ آپ کی بیوی آپ کے ساتھ نہیں جائے گی وہ اپنی قوم کے ساتھ مبتلائے عذاب ہوگی۔
Ayah 29:34

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم اس بستی کے لوگوں پر ان کی نافرمانیوں کی پاداش میں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰٓی اَھْلِ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآئِ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ۔ (العنکبوت : 34) (ہم اس بستی کے لوگوں پر ان کی نافرمانیوں کی پاداش میں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں۔ ) قوم لوط پر عذاب الٰہی فرشتوں کے توسط سے حضرت لوط (علیہ السلام) کو یہ اطمینان دلا کر کہ آپ اور آپ کے اہل خانہ اس عذاب سے محفوظ رہیں گے تو پھر انھیں اس فیصلہ الٰہی کی خبر دی کہ ہم اس بستی والوں پر قہرآسمانی نازل کرنے والے ہیں۔ ” رجز “ سے مراد اس طرح کا عذاب ہے جو سننے اور دیکھنے والوں کے دلوں میں کپکپی پیدا کردے اور من السماء کے لفظ نے اس کی شدت اور ہولناکی میں اور اضافہ کردیا ہے۔ اگرچہ عذاب کا لفظ ہی دہلا دینے کے لیے کافی ہے لیکن جب عذاب آسمانی یا قہرالٰہی کہا جاتا ہے تو اس کی شدت اور تباہی میں بےپناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ چناچہ ان الفاظ سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ان بدبختوں نے اخلاق اور شرافت کے پرخچے اڑائے ہیں اسی طرح اب ان کے چیتھڑے اڑیں گے۔ اور آخر میں فرمایا کہ ان پر یہ عذاب اس وقت نازل کیا جارہا ہے جب ان کی سرکشی اور نافرمانی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم پر شدید ترین عذاب اس وقت بھیجتا ہے جب وہ قوم شدید ترین نافرمانی کی خوگر ہوجاتی ہے۔