Ayah 29:35وَلَقَدْ تَّرَکْنَا مِنْھَآ اٰیَۃً م بَیِّنَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۔ (العنکبوت : 35)
(اور ہم نے اس بستی کی ایک کھلی نشانی چھوڑ دی ان لوگوں کے لیے جو سوچنا سمجھنا چاہیں۔ )
قوم لوط کی بستی عقل والوں کے لیے نشانی ہے
قومِ لوط کی یہ بستی جس جگہ آباد تھی وہ علاقہ قریش کے تجارتی قافلوں کا راستہ تھا۔ اس لحاظ سے ان بستیوں کا تباہ ہونا اور عذاب الٰہی کا شکار ہونا ایک ایسا واضح نشان تھا جسے ہر گزرنے والا قافلہ دیکھ سکتا تھا۔ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس کھلی نشانی سے مراد بحیرہ مراد ہے جسے بحرلوط بھی کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے کئی جگہ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تم شام کی طرف اپنے تجارتی سفروں میں جس شاہراہِ عام سے گزرتے ہو وہ ایک ایسی کھلی نشانی ہے جو تمہارے سامنے قوم لوط کی تاریخ کھول کر رکھ سکتی ہے اور تم اس میں اپنا انجام دیکھ سکتے ہو۔ موجودہ زمانے میں یہ بات قریب قریب یقین کے ساتھ تسلیم کی جارہی ہے کہ بحیرہ مردار کا جنوبی حصہ ایک ہولناک زلزلہ کی وجہ سے زمین میں دھنس جانے کی بدولت وجود میں آیا اور اسی دھنسے ہوئے حصے میں قوم لوط کا مرکزی شہر سدوم واقع تھا۔ اس حصے میں پانی کے نیچے کچھ ڈوبی ہوئی بستیوں کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔
قوموں پر کس طرح عذاب آتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قانون کب حرکت میں آتا ہے، قوم لوط کی یہ بستی ہر طرح سے اس کا ایک واضح نشان ہے لیکن ایسے آثار سے فائدہ اٹھانے کے لیے عقل درکار ہے۔ جو لوگ عقل نہیں رکھتے یا عقل سے کام نہیں لیتے وہ دیکھتے سب کچھ ہیں لیکن ان کو نظر کچھ بھی نہیں آتا۔ کتنے ماہرینِ اثریات ہیں جو تمام کھنڈروں کے ایک ایک نقش کو پڑھ لینے میں بڑے ہوشیار ہیں۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ ان سے کوئی اخلاقی سبق حاصل کریں وہ صرف کلچر تلاش کرتے ہیں۔ نتیجہ سب کو معلوم ہے :
عبرت کی اک چھٹانک برآمد نہ ہو سکی
کلچر نکل پڑا ہے منوں کے حساب سے
Ayah 29:36وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًال فَقَالَ یٰـقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَلاَ تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ۔ (العنکبوت : 36)
(اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، تو اس نے کہا، اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو اور یوم آخرت کے امیدوار رہو اور زمین میں مفسد بن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو۔ )
مزید چند تاریخی حوالے اختصار کے ساتھ
اس سورة کے آغاز میں تمہیدی طور پر چند بنیادی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں اور پھر ان کی تائید اور وضاحت کے لیے چند انبیائے کرام کی سرگزشتیں کسی قدر تفصیل کے ساتھ ذکر کی گئی ہیں۔ اب انھیں باتوں کو مزید اجاگر کرنے کے لیے نہایت اختصار کے ساتھ چند تاریخی حوالے دیے جارہے ہیں جن سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کے کسی رسول نے انسانوں کی ہدایت کے لیے تبلیغ و دعوت کا آغاز کیا ہے اور کچھ لوگوں نے اس دعوت سے متأثر ہو کر ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انھیں آزمایا نہ گیا ہو۔ ایمان ایک ایسی گہری وابستگی کا نام ہے جس کا دعویٰ ضرور آزمایا گیا ہے۔ چناچہ یہی بات ان حوالوں سے بھی پوری طرح واضح فرمائی گئی ہے۔ اسی طرح مخالفین کو تنبیہ کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کو ضرور امتحان میں ڈالتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ ہم انھیں لاوارث چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کو اذیتیں پہنچانے والوں اور ان کی دعوت کا راستہ روکنے والوں کو ایک خاص حد تک ڈھیل دی جاتی ہے لیکن جب پیمانہ بھر جاتا ہے اور ان کی سرکشی انتہائوں کو چھونے لگتی ہے تو پھر ہم انھیں پکڑ لیتے ہیں۔ چناچہ چند معذب قوموں اور معذب افراد کے حوالے سے اس حقیقت کو بھی مبرہن کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سب سے پہلے اہل مدین یعنی قوم شعیب کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہم اس کی تفصیل گزشتہ سورتوں میں پڑھ چکے ہیں۔ یہ قوم بھی قریش کی طرح تجارت پیشہ قوم تھی۔ اور انھوں نے اس میدان میں اس قدر ترقی کی تھی کہ قریش شاید اس کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ لیکن اس کی اصلاح کے لیے جب حضرت شعیب (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا گیا اور انھوں نے انھیں ایک خدا کی بندگی کی دعوت دی اور آخرت کا خوف دلا کر متنبہ کیا کہ تم نے جس طرح کاروباری زندگی کو خیانت اور دھوکے کے کاروبار میں تبدیل کردیا ہے اور اپنے اس دھوکے کے کاروبار سے جو دولت تم نے کمائی ہے اس کے بل بوتے پر تم نے زمین کو فساد سے بھر دیا ہے، اس سے باز آجاؤ۔ بجائے مفسد بننے کے مصلح بن کر زندگی گزارو اور ظلم اور سرکشی کی بجائے حق و عدل کے علمبردار بنو۔ لیکن قوم شعیب نے آپ ( علیہ السلام) کی ایک بات نہ سنی اور اپنی ناعاقبت اندیشی میں تباہی کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ اور انھوں نے آج کی طرح یہ سمجھا کہ تجارت کبھی جھوٹ اور فریب کے سوا نہیں ہوسکتی۔ اور دولت اپنے ساتھ خیال اور عمل کی جس بےراہ روی کو لے کر آتی ہے اگر اسے اختیار نہ کیا گیا تو دولت حاصل کرنے کا کیا فائدہ۔
Ayah 29:37فَـکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ۔ (العنکبوت : 37)
(تو انھوں نے اس کو جھٹلا دیا، آخر کار ایک سخت زلزلے نے انھیں آپکڑا، پس وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ )
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب پر اہل مدین پر عذاب
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی تمام تر تبلیغی کاوشوں کے جواب میں قوم شعیب نے کسی بات پر کان دھرنے کی بجائے ان کی تکذیب کردی اور صاف کہا کہ ہم تجھے اللہ تعالیٰ کا نبی ماننے سے انکار کرتے ہیں اور تمہیں ایک جھوٹا آدمی سمجھتے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی تبلیغی مساعی کی وجہ سے چونکہ ان پر اتمامِ حجت ہوچکا تھا اور انھیں سمجھانے بجھانے کی حد تک کوئی کمی باقی نہیں رہی تھی تو پھر اللہ تعالیٰ کے عذاب نے انھیں آپکڑا۔ وہ اپنے تجارتی کاروبار کی انتہائی کامیابیوں کو دیکھ کر یہ سمجھتے تھے کہ ہمیں اور ہماری کامیابیوں پر کبھی زوال نہیں آئے گا۔ دولت ہمیشہ ہمارے گھر کی کنیز بنی رہے گی اور دنیا کی آسائشیں ہمیشہ ہمارا مقدر رہیں گی۔ لیکن انھیں ایک زلزلے نے تہ وبالا کردیا کہ وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔ ان میں سے ایک ایک آدمی زندگی کی تلاش میں اپنے گھروں کے آنگن میں ڈھیر ہوگیا۔ اوندھے منہ لاشیں پڑی تھیں اور کوئی ان کا پرسانِ حال نہ تھا۔ اور یہ ان لوگوں کی لاشیں تھیں جو اپنی موت کے تصور کو بھی اپنے لیے ناممکن سمجھتے تھے۔
Ayah 29:38وَعَادًا وَّ ثَمُوْدَاْ وَقَدْ تَّبَیَّنَ لَـکُمْ مِّنْ مَّسٰکِنِھِمْ قف وَزَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ فَصَدَّھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَکَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَ ۔ (العنکبوت : 38)
(اور عاد اور ثمود کو بھی ہم نے ہلاک کردیا اور واضح ہیں تم پر ان کے رہنے کی جگہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے خوشنما بنادیا اور اس طرح ان کو صحیح راہ سے برگشتہ کردیا تھا حالانکہ وہ بڑے ہی ہوشیار لوگ تھے۔ )
آیت کے آغاز میں فعل اَخَذْنَا محذوف ہے۔ عاد اور ثمود دو مشہور قومیں ہیں، ان کا ذکر اس سے پہلے گزر چکا ہے۔ قوم عاد جنوبی عرب کے اس علاقے میں آباد تھی جو اب احقاف، یمن اور حضرموت کے نام سے معروف ہے۔ اہل عرب اس قوم سے خوف واقف تھے۔ ان کے واقعات سینہ بہ سینہ پورے عرب میں پھیل چکے تھے۔
عاد وثمود کا حوالہ
قومِ ثمود حجاز کے شمالی حصہ میں آباد تھی۔ رابغ سے عقبہ تک اور مدینہ و خیبر سے تیما اور تبوک تک کا سارا علاقہ ان کے زیرتصرف تھا آج بھی یہ علاقہ ان کے آثار سے معمور ہے۔ وَقَدْ تَّبَیَّنَ لَـکُمْ مِّنْ مَّسٰکِنِھِمْ سے ان کے ان محلات کی طرف اشارہ ہے جو انھوں نے پہاڑوں کو کھود کر بنائے تھے اور یہ ان کی رہائش گاہیں تھیں۔ اور ان میں سے بہت سے محلات کے کھنڈرات آج بھی وہاں موجود ہیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تمدن و تعمیر کا فن اس قوم میں کس حد تک عروج پر تھا اور ان کے بعض کارناموں سے ان کی سائنسی مہارت سے بھی آدمی مبہوت ہوجاتا ہے۔ سائنسی علوم میں اپنی تمام تر مہارت اور تمدن و تعمیر میں تمام تر ترقی کے باوجود ان کا حال یہ تھا کہ شیطان نے انھیں ہَوائے نفس اور سفلی خواہشات کا ایسا خوگر بنادیا تھا کہ وہ انھیں باتوں کو اپنی تہذیب اور ثقافت کا معیار سمجھتے تھے۔ اور صراط مستقیم ان کی نگاہوں سے ایسے اوجھل ہوئی تھی کہ اس کا تصور بھی ان کے لیے اجنبی بن کر رہ گیا تھا حالانکہ وہ لوگ دنیوی اعتبار سے بڑے ہی ہوشیار لوگ تھے۔ مُسْتَبْصِرِیْن سے ان کی دنیوی مہارت اور ان کے تمدنی فنون میں بصیرت کی طرف اشارہ ہے جن چیزوں کا تعلق جسمانی ضرورتوں سے ہے اور جن چیزوں سے دنیا کی ہمہ ہمی ہے۔ اور نفسانی خواہشیں جن کے حصول میں دلچسپی رکھتی ہیں اور ہر غلط سلط طریقے سے جس طرح سے دولت کو سمیٹا جاسکتا ہے ان میں سے ہر بات میں وہ پوری طرح اتارو تھے۔ لیکن آخرت کی دنیا ان کے لیے ایک افسانہ تھی۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا تصور محض ایک واہمہ تھا۔ اخلاقی مسلمات محض ڈھکوسلے تھے۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ ایسے لوگوں کی تصویر کشی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے یَعْلَمُوْنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ھُمْ غَافِلُوْنَ ” وہ دنیا کے ظاہر کو جانتے ہیں لیکن وہ آخرت سے غافل ہیں۔ “ شیطان نے ان ہی کے اعمال کی خوشنمائی سے ان کے گرد ایک ایسا حصار کھینچ رکھا تھا کہ وہ اس حصار سے باہر نکل سکتے تھے اور نہ دیکھ سکتے تھے۔ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے باوجود اور وقت کے علوم و فنون میں مہارت کے باوصف وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر تھے کہ آخرت کیا چیز ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی بھی ہوسکتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئے۔
Ayah 29:39وَقَارُوْنَ وَفِرْعَوْنَ وَھَامٰنَ قف وَلَقَدْ جَآئَ ھُمْ مُّوْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَـکْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَمَا کَانُوْا سٰبِقِِیْنَ ۔ (العنکبوت : 39)
(اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی ہم نے ہلاک کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو انھوں نے زمین میں گھمنڈ کیا حالانکہ وہ ہمارے قابو سے باہر نکل جانے والے نہ تھے۔ )
تاریخ کے چند نمایاں متکبرین
یہاں بھی آیت سے پہلے فعل اَخَذْنَا محذوف ہے۔ تاریخ کی بعض اقوام سے استدلال کرنے کے بعد اب تاریخ کے بعض نمایاں افراد سے استشہاد کیا جارہا ہے جو اسی فکر اور اسی طرززندگی کے نمائندہ تھے جس کی وجہ سے متذکرہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں۔ ان میں سب سے پہلے قارون کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اشرافِ قریش کو زیادہ تر مماثلت قارون کے کارناموں سے تھی اس نے بھی جلبِ زر اور دولت کی فراوانی کو اپنا مقصدزندگی بنا رکھا تھا اور اسی کے حصول کے لیے اس نے اپنی قوم سے رشتہ توڑا، اللہ تعالیٰ کے نبی کی قرابت داری بھی اس کے کام نہ آسکی۔ اور انیباء کی اولاد ہوتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کے دین کی مخالفت کو اس نے اپنا وطیرہ بنا لیا۔ قریش میں یوں تو ہر بڑا آدمی اسی راستے کا مسافر تھا لیکن ابولہب خاص طور پر قریش کا قارون کہلانے کا مستحق تھا۔ چناچہ اس کے انجام سے اشرافِ قریش کو توجہ دلائی گئی ہے کہ تم جو طرزعمل اختیار کرچکے ہو اور دولت ہی کو سب کچھ سمجھ کر غریب مسلمانوں کا مذاق اڑاتے اور نبی کریم ﷺ کو غربت کا طعنہ دیتے ہو۔ کاش تمہیں احساس ہوتا کہ یہ دولت اپنے اندر کیسا زہر رکھتی ہے۔
اس کے بعد فرعون اور ہامان کا ذکر کیا گیا ہے جن میں ایک وقت کا مطلق العنان حکمران اور دوسرا اس کا وزیراعظم تھا۔ دونوں کو اقتدار کے نشے نے اندھا کر رکھا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بےسروسامانی ان کے لیے قبولیتِ ایمان کے راستے کا پتھر بن گئی تھی۔ اقتدار اور دولت سے محبت نے انھیں بصیرت سے بالکل محروم کردیا تھا۔ اس لیے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عظیم معجزات کو دیکھ کر بھی راہ راست کو پہچاننے سے عاجز رہ گئے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پہچاننے کے باوجود انھوں نے حق کو قبول کرنے سے انکار کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس کے نتیجے میں اقتدار اور سیادت سے محروم ہونا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا راستہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو ملتا ہے۔ تکبر اور تمرد اس راستے کی وہ تاریکیاں ہیں جس میں آدمی سب کچھ گم کر بیٹھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت کو جانتے ہوئے بھی وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت اگر آگئی تو ہم اس سے بچ کر کبھی نہیں نکل سکیں گے۔ چناچہ اسی فریبِ نظر کا شکار ہو کر آخر اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے۔
Ayah 29:40فَکُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْبِہٖ ج فَمِنْھُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِ حَاصِبًا ج وَمِنْھُمْ مَّنْ اَخَذَتْہُ الصَّیْحَۃُ ج وَمِنْھُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِہِ الْاَرْضَ ج وَمِنْھُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا ج وَمَا کَانَ اللّٰـہُ لِیَظْلِمَھُمْ وَلٰـکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 40)
(پس ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کی پاداش میں پکڑا، پس ان میں سے کسی پر ہم نے پتھرائو کرنے والی ہوا بھیجی، اور ان میں سے بعض کو زبردست دھماکے نے آپکڑا، اور ان میں سے کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کسی کو ہم نے غرق کردیا اور اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے بنے۔ )
خلاصہ کلام
اب یہ آخر میں متذکرہ بالا تمام اقوام و افراد کا انجام ایک ساتھ بیان کردیا گیا ہے، لیکن سب سے پہلے اس بات پر توجہ دلائی گئی ہے کہ ہم نے ان میں سے جسے بھی پکڑا ہے اس کے جرم اور گناہ کی پاداش میں پکڑا ہے۔ جاہلیت کے دور میں یہ جو بات مشہور ہوگئی تھی اور آج بھی بعض جہلاء یہ بات کہتے ہیں کہ پتہ نہیں اللہ تعالیٰ کن کاموں میں راضی ہے اور کن کاموں میں ناراض، اور نہ جانے بعض دفعہ کیوں اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکتا ہے اور وہ آفتیں اور مصیبتیں نازل کرنے لگتا ہے۔ یہاں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور گرفت ہمیشہ جرائم اور گناہوں پر آتی ہے۔ تمرد اور سرکشی عذاب کا باعث بنتی ہے۔ چناچہ متذکرہ بالا قومیں اور افراد بھی اپنے جرائم ہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئے۔ کسی کو کنکر پتھر برسا دینے والی طوفانی ہوا سے تباہ کیا گیا۔ جس طرح قوم لوط کو نہایت ہولناک تباہی سے دوچار ہونا پڑا۔ اور قوم عاد، ثمود اور مدین پر صَیْحَہ یعنی زلزلے کا عذاب آیا۔ قارون کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور فرعون اور ہامان غرق کردیے گئے۔ لیکن یہ سب کچھ اس لیے نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔ انھیں بار بار رسولوں کے ذریعے بتلایا گیا کہ اگر تم نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر ایمان لا کر اپنا فرض انجام نہ دیا تو تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آسکتا ہے۔ لیکن انھوں نے اس کی پرواہ نہ کی۔ بلکہ اپنے طرزعمل میں کسی طرح کی تبدیلی لانے کی بھی زحمت نہ کی۔ چناچہ اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد ان پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسا اور انھیں تباہ و برباد کردیا گیا۔
Ayah 29:41مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْلِیَآئَ کَمَثَلِ الْعَنْـکَبُوْتِ صلے ج اِتَّخَذَتْ بَیْتًا ط وَاِنَّ اَوْھَنَ الْـبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْـکَبُوْتِ م لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 41)
(ان لوگوں کی مثال جنھوں نے اللہ کے سوا دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں مکڑی کی مثال کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا اور بیشک سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے، کاش وہ اس حقیقت کو جانتے۔ )
شرک اور اہل شرک کی تمثیل
اوپر جتنی قوموں اور جتنے افراد کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب شرک کے مرض میں مبتلا تھے اور جن قوتوں کو انھوں نے اپنا معبود بنا رکھا تھا اور ان کا گمان یہ تھا کہ وہ ہمارے حامی و مددگار اور سرپرست ہیں ہماری قسمتیں بنانے اور بگاڑنے میں انھیں دخل ہے۔ وہ خوش ہوں تو انسان کی قسمت سنور جاتی ہے، ناراض ہوں تو انسان کی قسمت کے بگاڑ کو کوئی نہیں روک سکتا۔ البتہ ان کی پوجا پاٹ اور نذرونیاز سے ان کی رضا حاصل کی جاسکتی ہے۔ اور اس طریقے سے ان کی مہربانی اور سرپرستی کا اعزاز حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح سے وہ دنیا میں بھی ہماری حفاظت کریں گے اور زندگی کی تمام ضروریات کی کفالت کریں گے اور آخرت میں بھی ہمیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچائیں گے۔ اوپر کے تاریخی واقعات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ جب ان مشرک قوموں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو جن قوتوں کو انھوں نے اپنا اوتار، دیوتا یا کارساز بنا رکھا تھا کوئی بھی ان کے کام نہ آیا۔ اور آج تاریخ میں وہ عبرت کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ درحقیقت انھوں نے جن سہاروں پر بھروسا کیا وہ ایسی سیدھی بات نہ سمجھ سکے کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان سہاروں کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایسے موہوم سہارے، خیالی معبود یا انسانی آستانے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں مکڑی کے جالے کی مانند ہیں۔ مکڑی اپنے جالے سے گھر بناتی ہے اور وہ اپنے زعم میں اسے ایک قلعہ سمجھتی ہے، لیکن حقیقت میں وہ اتنا کمزور اور بےثبات ہوتا ہے کہ ہوا کے ایک جھونکے کو بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ لیکن مکڑی کو اپنے گھر کے بودے پن کا کبھی احساس نہیں ہوتا۔ مشرک افراد اور مشرک قوموں کو بھی یہی حال ہوتا ہے۔ وہ اپنے غلط عقائد پر بھروسا کرتی ہیں اور سائنس پر ایمان لانے والے لوگ اپنی ٹیکنالوجی کو سب سے بڑی قوت سمجھتے ہیں۔ لیکن نہ جانے انھیں یہ خیال کیوں نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قدرتوں کے مقابلے میں ان کی حیثیت مکڑی کے جالے سے زیادہ نہیں۔ اور مکڑی کا جالا نہایت کمزور اور بےوقعت چیز ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس کا فائدہ کسی قوم یا فرد کو اسی صورت میں پہنچ سکتا ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کریں۔
Ayah 29:42اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْ ئٍ ط وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔
(العنکبوت : 42)
(بےشک اللہ خوب جانتا ہے ان چیزوں کو جن کو وہ اس کے سوا پکارتے ہیں اور وہی زبردست اور حکمت والا ہے۔ )
اللہ تعالیٰ ہر چیز کی حقیقت سے آگاہ ہے
اوپر کی تمثیل سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ مشرکین نے جن دیویوں اور دیوتائوں یا دیگر قوتوں کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے ان کی تحقیر میں مبالغے سے کام لیا گیا ہے اور دلوں میں نفرت پیدا کرنے کے لیے ابلاغ کو ایک حربے کے طور پر کام میں لایا گیا ہے، ایسی کوئی بات نہیں۔ اس تمثیل میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ بالکل حقیقت ہے۔ تمام جھوٹے معبودوں کی قوت اللہ تعالیٰ کی قوت کے مقابلے میں اتنی بھی نہیں جیسے مکڑی کا جالا ہوتا ہے۔ یہ تمثیل بھی تقریبِ فہم کے لیے ہے، حقیقت نہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی بڑی سے بڑی قوت کی بھی کوئی حقیقت نہیں جسے مثال میں بیان کیا جاسکے جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی عظمت اور ہیبت کا عالم یہ ہے کہ وہ عزیز ہے یعنی سب پر غالب اور سب کی رسائی سے بالاتر۔ غلبے اور بلندی کا کوئی تصور بھی ہمیں اس کے قریب نہیں لے جاسکتا۔ اس کی شان میں اس کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْ ئٌ۔ کوئی اس کے غلبے کو چیلنج نہیں کرسکتا۔ اور جب وہ پکڑنا چاہے تو کوئی اس کی گرفت سے بچ کر نکل نہیں سکتا۔ اسی طرح وہ حکیم بھی ہے۔ حکیم کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ ہر کام کا کوئی نہ کوئی مقصد اور کوئی نہ کوئی غایت ہوتی ہے۔ انسانوں کو نہ صرف پیدا کیا بلکہ حواس اور عقل عطا کرنے کے ساتھ ساتھ وحی الٰہی کی رہنمائی سے بھی بہرہ ور کیا اور زمین کی خلافت کا تاج پہنایا اور بہت کچھ اختیارات دے کر زمینی معاملات میں فی الجملہ آزادی عطا فرمائی۔ اس صورتحال کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ ایسی مؤثر، آزاد اور فعال مخلوق سے کبھی بازپرس نہیں کی جائے گی۔ اور پھر اس بازپرس میں عدل کو بروئے کار نہیں لایا جائے گا۔ اور یہ بات بالکل سامنے کی ہے کہ عدل کو بروئے کار لانے کے لیے قانونِ مجازات کی ضرورت ہے۔ تو جو ذات عزیز بھی ہو اور عادل بھی اس کی یہاں یہ تصور بھی گناہ ہے کہ کوئی قوت اس کے غلبے اور عدل کو متأثر کرسکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مشرکین کے تصوراتی معبود نہ اللہ تعالیٰ کے غلبے کو چیلنج کرسکتے ہیں اور نہ اس کے عدل پر سرمو اثرانداز ہوسکتے ہیں، تو آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں۔ جو احمق لوگ ان کی پوجا کرتے ہیں آخر وہ کیا سمجھ کر کرتے ہیں۔ لیکن دنیا میں حماقتیں ہمیشہ رہی ہیں نہ پہلے ان کا علاج ہوا ہے اور نہ آج ہوسکتا ہے۔
Ayah 29:43وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ ج وَمَا یَعْقِلُھَآ اِلاَّ الْعٰلِمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 43)
(یہ مثالیں لوگوں کی فہمائش کے لیے بیان کرتے ہیں مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں)
مثال کے فہم کے لیے علم شرط ہے
اس آیت کریمہ میں اَمْثَالُسے اشارہ ان تمام امثال و واقعات کی طرف ہے جو اوپر مذکور ہوئے۔ انسانی کمزوری یہ ہے کہ وہ واقعات یا مثالوں کو ہمیشہ واقعات یا مثال سمجھ کر محظوظ تو ہوتا ہے لیکن اثر قبول نہیں کرتا۔ وہ زیادہ سے زیادہ اسے دفع الوقتی کا ذریعہ سمجھتا ہے جبکہ قرآن کریم ان مثالوں کو اس لیے بیان کرتا ہے کہ لوگ ان سے سبق حاصل کریں ان میں کوئی نصیحت ہے تو اپنی زندگی کے لیے نصیحت کو نور بنائیں۔ اور اگر کوئی عبرت ہے تو اس سے سبق حاصل کریں۔ جس طرح دیے سے دیا جلتا ہے، اسی طرح شخصیت سے شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔ شخصیات کے واقعات شخصیت کے حسن و قبح پر اثرانداز ہونے چاہئیں۔ لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب شخصیات کا مطالعہ کرنے والا اور مثالیں پڑھنے والا اپنے اندر علم کی روشنی رکھتا ہو۔ اس کی فطری صلاحیت زندہ اور عقل زنگ آلود نہ ہوئی ہو۔ ایسا شخص ہر شخصیت کو اپنے لیے آئینہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور ہر واقعہ کو غور و فکر کا موضوع بناتا ہے۔ اس سے اس کے علم میں اضافہ ہوتا جاتا ہے جو اس کی شخصیت کی تعمیر میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ علم کتابی علم کا فیضان ہو بلکہ بسا اوقات آفاق وانفس کا مطالعہ اور انسانوں کو جاننے کی صلاحیت اس راستے کی روشنی کا سامان کرتی ہے۔
Ayah 29:44خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۔
(العنکبوت : 44)
(اللہ نے آسمانوں اور زمین کو مقصد حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، بیشک اس میں اہل ایمان کے لیے ایک نشانی ہے۔ )
آسمان و زمین کی گواہی
حقیقت یہ ہے کہ جو شخص بھی آسمان و زمین کی تخلیق اور اس کے نظام پر غور کرے گا اس کے لیے اس بات کو مانے بغیر چارہ نہیں کہ یہ دنیا نہ تو کسی خالق کے بغیر وجود میں آگئی ہے اور نہ یہ مختلف دیوتائوں کی کوئی بازی گاہ یا رزم گاہ ہے۔ اس کے تخلیق کے عمل میں ایسا تناسب، ایسی حُسنِ ترتیب، ایسی گرفت، ایسی علم کی ہمہ گیری اور ایسی پر ازحکمت کارفرمائی ہے جس میں کسی دوسرے کی دخل اندازی کا تصور بھی محال ہے۔ اسی طرح اس کے نظام میں ایسی یکسانی، ایسی ہم آہنگی، متخالف عناصر میں ایسی مناسبت و موافقت اور تعمیل و اطاعت میں ایسی پابندی ہے کہ جسے دیکھ کر اس کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ ایک علیم و حکیم اور عزیزومقتدر ذات نے اس کی تخلیق ایک مقصد حق کے ساتھ کی ہے اور اس کا نظام ایک مقصد حق کو بروئے کار لانے کے لیے کام کررہا ہے۔ یہاں کی ہر تخلیق مقصد حق کی ترجمان معلوم ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کامل عدل کا یہ تقاضا ہے کہ ایک دن اس مقصد حق کو سامنے لایا جائے اور اس کے مطابق قانونِ مجازات کو کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ اس طرح سے حق و باطل کھل کر سامنے آجائیں گے اور ذمہ داری سے زندگی کو گزارنے والے اور بےفکری سے دادعیش دینے والے منطقی انجام سے دوچار ہوں گے۔
آخر میں فرمایا کہ اس میں اہل ایمان کے لیے ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ یعنی زمین و آسمان کی تخلیق میں توحید کی صداقت اور شرک و دہریت کے بطلان پر ایک صاف شہادت موجود ہے مگر اس شہادت کو صرف وہی لوگ پاتے ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) کی پیش کی ہوئی تعلیمات کو مانتے ہیں۔ اور جو لوگ ان کی دعوت کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں انھیں سب کچھ دیکھنے پر بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
Ayah 29:45اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْـکِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ ط اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْـکَرِ ط وَلَذِکْرُاللّٰہِ اَکْبَرُ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَاتَصْنَعُوْنَ ۔ (العنکبوت : 45)
(اے پیغمبر ! اس کتاب کی تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی جارہی ہے اور نماز قائم کیجیے، یقینا نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ )
مخالفین کی پرواہ نہ کریں اور تلاوت اور نماز کا اہتمام رکھیں
نبی کریم ﷺ اور مسلمان جن نامساعد حالات میں تبلیغ و دعوت کا فریضہ انجام دے رہے تھے گزشتہ چار رکوعوں میں ان پر صبروثبات اور توکل علی اللہ کی تلقین کی گئی ہے کیونکہ ایسے حالات کا سامنا صبر و استقامت کے ساتھ ہی کیا جاسکتا ہے۔ سلسلہ بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے اس آیت کریمہ کے پہلے جملے میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ نہایت ثابت قدمی سے حالات کا مقابلہ کریں، لیکن مخالفین کے آئے دن بڑھتے ہوئے مطالبات اور مسلمانوں کی ایذرسانی میں تیزی اور نئی سے نئی دھمکیوں پر آپ کبھی پریشان نہ ہوں اور ان کی مخالفت سے متأثر ہو کر کبھی بھی تبلیغ و دعوت کا کام ہلکا نہ ہونے دیں۔ آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھیں، یہ لوگ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، آپ نہایت اطمینان سے جو قرآن کریم آپ پر وحی کیا جارہا ہے انھیں پڑھ کر سنائیں۔ یعنی جو نئے نئے احکام آرہے ہیں وہ ان لوگوں تک پہنچائیں، ان کے اعتراضات کا جو جواب نازل کیا جارہا ہے وہ انھیں پڑھ کر سنائیں۔ دین کے اساسی موضوعات پر نہایت زوردار دلائل دیے جارہے ہیں ان سے انھیں باخبر کریں۔ غرضیکہ فریضہ رسالت کی ادائیگی میں قرآن کریم ہی آپ کی دعوت کی بنیاد، آپ کی آواز، آپ کے لیے تائید و نصرت کی ضمانت اور مخالفین کے بڑھتے ہوئے اعتراضات کا جواب ہے اس لیے ہر آنے والی وحی آپ لوگوں کو پڑھ کر سنائیں۔ اس طرح سے آپ کی تبلیغ و دعوت کا کام روز بروز تیز ہوتا جائے گا۔ رہی یہ بات کہ مخالفین آپ کی مخالفت میں اور تیز ہوجائیں گے تو اس کے لیے دوسرا حکم دیا کہ آپ نماز قائم کریں یعنی نماز کا اہتمام کریں کیونکہ نماز اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید و نصرت اور اس کی مدد کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔
دوسرا مفہوم اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ مخالفین کی ایذائوں اور تکلیفوں کے مقابلے میں پامردی سے کھڑے رہنا آسان نہیں، روزبروز آپ کی اور صاحب ایمان لوگوں کی آزمائشوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ہم اگرچہ اس بات پر قادر ہیں کہ مخالفین کو طاقت کے ذریعے تباہ کردیں یا ان کے دلوں کو آپ کی دعوت کے لیے کھول دیں۔ لیکن یہ وہ فطری طریقہ نہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ انسانوں کی دعوت اور پیغمبروں کی تائیدونصرت کے لیے اختیار فرمایا ہے۔ اس سورة کا تو موضوع ہی یہ ہے کہ ایمان کے راستے میں ہمیشہ آزمائشیں آتی ہیں اس راستے پر چلنے والوں کے لیے کوئی لمحہ آرام کا نہیں ہوتا۔ ہم بجائے اسباب کی فراہمی کے آپ کو ایسی دو تدبیریں بتا رہے ہیں جن سے مسلمانوں میں ایک ایسی مضبوط سیرت اور زبردست صلاحیت پیدا ہوگی جس سے آپ مخالفتوں اور طغیانیوں کے طوفانوں کے مقابلے میں کھڑے رہ سکتے ہیں۔ ان میں پہلی چیز تلاوتِ قرآن اور دوسری چیز اقامتِ صلوٰۃ ہے۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام، اللہ تعالیٰ کا نور اور اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ اس میں جہاں تعلیم و تبیین کے حوالے سے افادیت رکھی گئی ہے وہیں اس سے وابستگی اور اس سے قلبی تعلق کے نتیجے میں قوت بھی فراہم کی گئی ہے۔ جیسے جیسے ایک انسان اللہ تعالیٰ کے کلام سے اپنا رشتہ استوار کرتا چلا جاتا ہے، ویسے ویسے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اسے اپنے حصار میں لیتی چلی جاتی ہیں۔ اس سے وابستگی کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ اس کی بیان کردہ ایک ایک بات پر ایسا بےپناہ یقین و ایمان ہو کہ جسے بڑی سے بڑی مخالفت بھی اپنی جگہ سے ہلا نہ سکے۔ اور دوسری شرط اس کے احکام کی ایسی بندگی اور اطاعت ہو کہ حالات کا کوئی دبائو اور مخالفتوں کا کوئی جبر اس میں کمزوری اور تساہل نہ پیدا کرسکے۔ اور تیسری شرط یہ ہے کہ قرآن کریم کے اللہ تعالیٰ کی صفت اور کلام ہونے پر ایسا یقین اور ایسی وارفتگی ہو کہ قرآن کریم کا ہر بول دل میں ٹھنڈک بن کر اتر جائے۔ دل کی ہر دھڑکن اس کی تائید میں حرکت میں آئے اور اس سے دوری، بےچینی اور بےقراری بن جائے، اس کے اوامرونواہی پر دل پگھلتا جائے اور اس کے اشاروں پر دماغ کی گرہیں کھلتی جائیں۔ روح کی آسودگی، قلب کا اطمینان اور دماغ کی رعنائی اس کے ایک ایک شوشے کی رہین منت ہو کر رہ جائے۔ اس طرح سے قرآن پاک کی تلاوت نہ صرف پڑھنے والے کے لیے قوت کا باعث بنتی ہے بلکہ سننے والے کے اندر بھی ایک انقلاب برپا کردیتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بیشمار ارشادات اس پر شاہد و ناطق ہیں اور بیسیوں صحابہ کرام ( رض) کی تلاوت کی کیفیت اس کی گواہ ہے۔
نماز کی تاثیر دو گونہ ہے
حالات کے مقابلے کے لیے جو دوسری چیز بتلائی گئی ہے وہ اقامتِ صلوٰۃ ہے۔ نماز میں اللہ تعالیٰ نے جو حیرت انگیز اثر رکھا ہے اس کی حیثیت دو گونہ ہے۔ ایک طرف تو وہ اللہ تعالیٰ سے وابستگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ آدمی سر سے پائوں تک اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتا چلا جاتا ہے اور دل و دماغ کی تمام رعنائیاں اس کے سامنے ڈھیر کردیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قطرہ ہو کر سمندر میں ڈوب جاتا ہے اور اس کے اندر قوت و طاقت کا وہ احساس ابھرنے لگتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی صفات جھلکتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ اور دوسری طرف نماز سیرت و کردار کی تعمیر اور پختگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ مکہ بلکہ عرب کا سارا ماحول بےحیائیوں اور بدکرداریوں سے اٹا پڑا تھا۔ انسانی سیرت و کردار کی کوئی چول سیدھی نہ تھی۔ نیت اور احساس سے لے کر انفرادی اور اجتماعی معاملات تک کہیں بھی راستی دکھائی نہ دیتی تھی۔ انسان، انسان کہلاتے ہوئے بھی درندوں سے بڑھ کر درندہ بن چکا تھا۔ لیکن اس کے باوجود معاشرے میں ایسے لوگ ضرور موجود تھے جو برے ہونے کے باوجود اچھائیوں کے قدردان تھے۔ اہل عرب کے معروفات میں بہت حد تک خیر غالب تھا۔ وہ اپنی ذاتی زندگی میں انتہائی برے ہو کر بھی اچھائی کے طلبگار تھے۔ قرآن کریم کی تلاوت اور نماز کے اہتمام نے جب مسلمانوں میں حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا کیں، ہر فرد میں ایک نیا فرد جنم لینے لگا، برسوں کے بگڑے ہوئے دنوں میں نیکی کی تصویر بننے لگے، زندگی کی ہر سطح پر مسلمانوں کے معاملات اور اعمال دوسروں کے لیے خوشگوار تبدیلی کا احساس دلانے لگے تو طبیعتوں میں یہ سوال خودبخود اٹھنے لگا کہ آخر ان میں یہ انقلاب کس سبب سے پیدا ہورہا ہے۔ یہ اسی شہر کے پروردہ اور اسی ماحول میں پروان چڑھنے والے آخر دوسروں سے مختلف کیوں ہیں۔ یہی سوال مخالفین کے لیے تشویش کا باعث بننے لگا اور مسلمانوں کے لیے قوت کا سامان بن گیا۔ جو طبیعتیں نہ دلیل کے زور کو مانتی تھیں نہ تلوار کی کاٹ کو، وہ عمل کی اس تبدیلی سے سوچنے پر مجبور ہوگئیں۔ اور اسی سے قبولیتِ ایمان کا راستہ کھلا۔
سوال یہ ہے کہ نماز سے آخر یہ تبدیلی کیوں آئی ؟ جو شخص بھی نماز کی حقیقت اور اس کی حالت پر غور کرے گا اس کے لیے اس کا ادراک کوئی مشکل نہیں۔ ایک شخص اللہ تعالیٰ کے وجود کے یقین کے ساتھ اس کی بندگی کا اعتراف کرتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر اس کی غلامی کا قلادہ گلے میں ڈالتا ہے اور غلام بن کر ہاتھ باندھ کے کھڑا ہوجاتا ہے۔ پھر اس کی بڑائی کی تسبیح کرتا ہے پھر اسی کی نازل کردہ کتاب کی تلاوت کرتا ہے پھر جوشِ بندگی میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر جھک جاتا ہے اور بار بار اپنے رب کی عظمت کے گن گاتا ہے۔ پھر اس کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے اور اسے پکارتا ہے۔ بےقراری بڑھتی ہے تو سر زمین پر رکھ دیتا ہے۔ اور یہ وہ سب کچھ اس احساس کے ساتھ کرتا ہے کہ میرا خدا مجھے دیکھ رہا ہے، وہ میری باتیں سن رہا ہے۔ میں بےوضو اس کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ بےحد پاک ذات ہے۔ میں قیام و قعود اور سجود میں اس کے ذکر کے سوا کوئی دوسری بات نہیں کرسکتا کیونکہ وہ مجھے دیکھتا بھی ہے اور میری ان کہی باتوں کو سنتا بھی ہے۔ ایسے احساسات کے ساتھ وہ دن میں پانچ مرتبہ اپنے مالک کے حضور حاضر ہوتا ہے اور پھر راتوں کو اٹھ اٹھ کر بےقراری سے اپنے اللہ کو یاد کرتا ہے۔ اس سے اس کے ضمیر میں جو زندگی پیدا ہوتی ہے اور اس کے رگ و پے میں جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کا احساس اتر جاتا ہے کیا اس احساس کی موجودگی میں یہ تصور بھی کیا جاسکتا ہے کہ وہ کبھی اپنے رب کی نافرمانی کرے گا۔ کیونکہ اس کے تمام احساسات کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اس کی یاد سب سے بڑی ہے، اس کی یاد کی موجودگی میں کسی دوسرے کی یاد کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اس کے حضور میں کسی گناہ کا تصور پنپ نہیں سکتا۔ کیونکہ نماز کی اس مشق نے اس کے دل و دماغ میں یہ بات بسا دی ہے کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔ چوکیدار جاگ رہا ہو تو کوئی نقب نہیں لگا سکتا۔ افسر دیکھ رہا ہو تو ماتحت خیانت نہیں کرسکتا۔ جسے اللہ تعالیٰ کے دیکھنے اور سننے کا یقین ہوجائے اور اس کا دل و دماغ پوری طرح اس قالب میں ڈھل جائے کہ میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کے حصار میں ہوں، اس کے سیرت و کردار میں کوئی خرابی کیونکر پیدا ہوسکتی ہے اور یہ بےعیب اور محفوظ کردار کسی بھی جماعت کی وہ قوت ہے جو سب سے بڑی تبلیغ و دعوت اور سب سے بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔
Ayah 29:46وَلاَ تُجَادِلُوْٓا اَھْلَ الْکِتٰبِ اِلاَّ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ صلے ق اِلاَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ وَقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِالَّذِیْٓ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَاُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَاِلٰـھُنَا وَاِلٰـھُکُمْ وَاحِدٌ وَّنَحْنُ لَـہٗ مُسْلِمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 46)
(اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر اس طریقہ سے جو بہتر ہو، سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں اور ان سے کہو کہ ہم ایمان لائے ہیں اس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اس چیز پر بھی جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔ )
یہود کے ذکر کی وجہ اور ان سے متعلق ہدایات
یہ سورة اگرچہ مکی ہے اور مکہ معظمہ میں یہود سے کوئی سروکار نہ تھا کیونکہ ان کے تینوں قبیلے مدینہ منورہ میں آباد تھے اور ہجرت کے بعد ان سے واسطہ پڑنے والا تھا۔ اس لیے اس آیت میں اہل کتاب کا ذکر اور ان سے بحث وجدال کی صورت میں ہدایات عجیب سی بات معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن امرواقعہ یہ ہے کہ اہل کتاب اگرچہ مکہ معظمہ میں اپنا وجود نہ رکھتے تھے لیکن جس زمانے میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں اس زمانے میں اہل کتاب کھل کر حق و باطل کے اس معرکے میں قریش کی معاونت کررہے تھے۔ بعض دفعہ ان کو سوالات لکھ کردیتے کہ وہ حضور سے پوچھیں۔ اور بعض دفعہ کسی اور طرح سے مسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے۔ اس سے اس بات کا امکان پیدا ہورہا تھا کہ مسلمانوں کو براہ راست اہل کتاب سے مکالمہ کرنا پڑے۔ اس لیے گزشتہ آیات میں جس طرح قریش اور دیگر اہل عرب سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ہدایات دی گئیں، اسی طرح اہل کتاب کے بارے میں ضروری ہدایت دی گئی جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل کتاب چونکہ پڑھے لکھے لوگ ہیں، اپنا ایک دعوتی پس منظر رکھتے ہیں، ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتابیں موجود ہیں، وہ بنی اسماعیل کی طرح دینی معاملات میں بالکل بیخبر لوگ نہیں۔ اس لیے جب ان سے بات کرنے کا موقع پیدا ہو تو اس طرح سے بات کی جائے جو ان کے حالات کے پیش نظر بہتر ہو۔ کیونکہ ایک داعی اور مبلغ کے سامنے صرف یہ مقصد نہیں ہوتا کہ وہ اپنے مخاطب اور مخالف کو بحث میں خاموش کردے یا اس کو بےبس کردے۔ بلکہ اس کے سامنے اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی دعوت کو مخاطب کے دل و دماغ میں اتار دے تاکہ وہ اسے قبول کرلے یا کم از کم سوچنے کے لیے تیار ہوجائے۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے کہ جب بحث میں دلآزاری تک نوبت نہ پہنچے اور گفتگو میں احساسِ ذات کا موقع پیدا نہ ہو۔ اپنے نقطہ نگاہ میں کسی تبدیلی اور کمی بیشی کیے بغیر دوسرے کے احساسات کا لحاظ کرنا ایک داعی کے لیے سب سے پہلی ضرورت ہے۔ اور یہ وہ طریقہ ہے جسے یہاں احسن قرار دیا گیا ہے۔ ہاں اگر ایسے لوگوں سے واسطہ پڑے جو بات کو سمجھنے کی بجائے الجھانے کی فکر میں ہوں۔ وہ اپنی ذات کی تعمیر کی بجائے اپنی ذات کی تشہیر کا رادہ رکھتے ہوں۔ انھیں اس بات سے غرض نہ ہو کہ ان کا نقطہ نگاہ صحیح ہے یا غلط۔ وہ صرف دوسروں کو ہدف بنانے کی فکر میں ہوں۔ ایسے لوگوں سے بحث ضیاع وقت کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ ایسے موقع پر قرآن کریم نے مختلف مواقع پر مسلمانوں کو ہدایت دی ہے کہ ایسے لوگوں کو سلام کہہ کے رخصت ہوجانا چاہیے۔ یعنی ان سے الجھنے کی بجائے کنارہ کش ہوجانا بہتر ہے۔ لیکن اگر اہل کتاب میں سے بہتر اور سمجھدار لوگوں سے واسطہ پڑے جو بات کو سمجھنا چاہتے ہوں تو ان کے لیے بنیادی ہدایت یہ دی گئی کہ گفتگو کے ایسے مقدمات ترتیب دیے جائیں جو جانبین میں مسلمات کا درجہ رکھتے ہوں۔ پھر ان کو بنیاد بنا کر بات کو آگے بڑھایا جائے۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ ان سے تم یہ کہو کہ ہم اس کتاب پر ایمان لائے ہیں جو کتاب ہماری طرف نازل کی گئی ہے۔ اور اسی طرح ہم اس کتاب کو بھی مانتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے۔ یعنی ہم جس کتاب پر ایمان لائے ہیں وہ تمہاری کتابوں کی مکذب نہیں بلکہ ان کی مصدق ہے۔ تمہاری کتابوں میں آخری نبی اور آخری کتاب سے متعلق جو پیشیگوئیاں تھیں وہ اب تک اپنے ظہور کے مصداق کی منتظر تھیں۔ نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری اور قرآن کریم کے نزول سے وہ مصداق ظہور میں آگیا۔ تو اگر تم واقعی صحیح روش رکھنے والے لوگ ہو اور صحیح بات کو پسند کرتے ہو تو تمہیں اس رسول اور اس کتاب سے چڑنے کی بجائے ان کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔ کیونکہ تمہاری کتابوں نے جس رسول اور جس کتاب کی خبر دی تھی آج تک وہ تمہارے لیے ایک سوالیہ نشان تھا۔ اب جبکہ وہ تشریف لے آئے ہیں اور لوگوں نے دیکھ لیا کہ تمہاری کتابوں کی خبر سچی تھی تو اس سے تمہارا ہی سر اونچا ہوا ہے۔ تمہیں تو آگے بڑھ کر اسے سب سے پہلے قبول کرنا چاہیے۔ اب اگر تم نے ضد میں آکر ان کو جھٹلا دیا تو تم دوسرے لفظوں میں خود اپنے آپ کو اور اپنے صحیفوں کو جھٹلائو گے۔
اسی طرح ان سے یہ بھی کہو کہ ہم بھی ایک معبود کو مانتے ہیں اور تم بھی ایک معبود کو مانتے ہو۔ کیونکہ تورات اور انجیل اور دوسرے تمام صحائف توحید کی ہی تعلیم دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے ہم میں اور تم میں کوئی فرق نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ جو باتیں توحید کے خلاف ہیں ہم نے ان کو چھوڑ کر خالصتاً توحید کا راستہ اختیار کیا ہے اور اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے کردیا ہے۔ اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم توحید کے بھی مدعی ہو اور ساتھ ہی تم نے اپنے اندر ایسی باتیں بھی جمع کر رکھی ہیں جو اس عقیدے سے صریحاً ٹکراتی ہیں۔ بس ہماری دعوت تمہارے لیے صرف یہ ہے کہ جس طرح ہم نے خالصتاً توحید کو اختیار کیا ہے اور اس سے متناقض ہر چیز چھوڑ دی ہے، اسی طرح تم بھی اپنا یہ تناقض ختم کرکے مسلم بن جاؤ۔
Ayah 29:47وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنَـآ اِلَیْکَ الْـکِتٰبَ ط فَالَّذِیْنَ اٰ تَیْنٰـھُمُ الْـکِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ ج وَمِنْ ھٰٓـؤُلَآئِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِہٖ ط وَمَا یَجْحَدُ بِاٰ یٰـتِنَـآ اِلاَّلْـکٰفِرُوْنَ ۔ (العنکبوت : 47)
(اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف بھی کتاب اتاری، پس وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دے رکھی ہے وہ اس پر ایمان لائیں گے اور ان میں سے بعض اس پر ایمان لا بھی رہے ہیں اور ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں۔ )
قرآن کی دعوت کا انداز
گزشتہ آیت میں بحث و دعوت کے جس بہترین طریقہ کی وضاحت کی گئی ہے اور مسلمانوں کو اہل کتاب سے بحث کرنے کا جو بہترین طریقہ سکھایا گیا ہے ہم نے آپ کی طرف جو کتاب اتاری ہے وہ اسی طریقے کے مطابق اتاری ہے۔ یعنی اس کتاب کا یہ دعویٰ نہیں کہ وہ اہل دنیا کی طرف کسی نئی بات کی دعوت لے کر آئی ہے اور وہ کوئی ایسا دین پیش کررہی ہے جو پہلے انبیاء و رسل کے پیش کردہ دین سے یکسر مختلف ہے بلکہ اس کا دعویٰ تو یہ ہے کہ یہ کتاب پہلی کتابوں کی مصدق بن کر آئی ہے، مکذب نہیں۔ اس کے نزول کا سبب یہ ہے کہ پہلی امتوں نے اپنے اوپر نازل کردہ کتابوں کی تعلیمات میں بہت کچھ تبدیلیاں کردیں، بعض حقائق میں تحریف کی گئی، بعض حقیقتوں کو چھپایا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا دین جس صاف و شفاف شکل میں نازل کیا گیا تھا اس پر اپنی خواہشات کے دھبے ڈال دیے گئے۔ اس لیے ضرورت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کا دین ازسرنو اپنی اصلی شکل میں نازل کیا جائے۔ اور دوسری ضرورت یہ لاحق ہوئی کہ مرورزمانہ سے نئے نئے مسائل پیش آئے۔ انسان کے ذہنی افق میں بہت کچھ تبدیلیاں پیدا ہوئیں، انسانی علم و دانش نے اپنے سفر میں نئی نئی منازل دریافت کیں۔ ان نئی ضرورتوں کے پیش نظر اور انسان کے علمی بلوغ کو دیکھتے ہوئے ایک جامع اور مکمل دین نازل کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ چناچہ قرآن کریم کی شکل میں تکمیلِ دین کا اعلان کیا گیا اور انسان کو ایسا ہدایت نامہ دیا گیا ہے جو قیامت تک اس کی ضروریات کے لیے کافی ہوگا اور وقت کے ساتھ ساتھ نئے تقاضوں کے پیدا ہونے کی صورت میں اجتہاد کی ایسی تعلیم دی گئی جس سے ہر زمانے کے تقاضوں کا جواب دینا ممکن ہوگیا۔ اور انسانی ہدایت کے سفر میں کسی جھول پیدا ہونے کا اندیشہ جاتا رہا۔
اس آیت کے دوسرے جملے میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس سے پہلے جن لوگوں کو کتاب عطا فرمائی ہے ان میں یہود بھی ہیں اور نصاریٰ بھی۔ ان میں بیشتر لوگ تو ایسے ہیں جو اپنے نسبی اور جماعتی تعصب میں بالکل اندھے ہوچکے ہیں۔ ان کے لیے یہ بات بالکل قابل قبول نہیں کہ کوئی پیغمبر بنی اسماعیل میں سے تشریف لائیں۔ لیکن ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے فی الواقع اللہ تعالیٰ کی کتاب سے راست تعلق قائم رکھا ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں کے باوجود حق شناسی سے محروم نہیں ہوئے۔ انھیں خوب معلوم ہے کہ ہمارے آبائواجداد اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں کیسی کچھ قلمکاریاں کرچکے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کو قرآن کریم نے معروف کے صیغے سے یاد کیا ہے۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ اگر آپ نے قرآن کریم کے بتائے ہوئے تبلیغ و دعوت کے اصولوں کی پاسداری کی اور ان لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی اس کتاب کو ٹھیک طرح سے پیش کیا تو یہ بھلے لوگ اس کتاب پر ضرور ایمان لائیں گے۔ چناچہ حبشہ کے نصاریٰ میں سے بہت سے لوگ اور مدینہ کے یہود میں سے بعض اہل علم جن کے دلوں میں حق کی روشنی تھی وہ اسلام کی آغوش میں آئے بغیر نہ رہ سکے۔
مزید فرمایا کہ انہی لوگوں میں سے جو اس وقت قرآن کریم کے ہم عصر ہیں وہ اہل کتاب بھی ہوسکتے ہیں اور اہل عرب بھی۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ان میں سے بہت سے لوگ ایمان بھی لا رہے ہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ قرآن کریم جیسی کتاب کا انکار اہل کتاب ہوں یا اہل عرب، صرف وہی لوگ کریں گے جو انکار پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں، اور کٹے کافر ہیں۔ وہ دعویٰ کچھ بھی کرتے ہوں لیکن حقیقت میں ان کا ایمان کسی چیز پر نہیں۔ وہ دنیا میں کسی بھی وابستگی کے پابند ہو کر زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں ایسے لوگ کسی کتاب پر بھی ایمان لانے والے نہیں۔ اور قرآن کریم جیسی کتاب جو ہر لحاظ سے ایک انقلابی کتاب ہے اسے اس طرح کے لوگ کیسے قبول کرسکتے ہیں۔
Ayah 29:48وَمَا کُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِـہٖ مِنْ کِتٰبٍ وَّلاَ تَخُطُّہٗ بِیَمِیْـنِکَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ۔
(العنکبوت : 48)
(اے پیغمبر ! آپ اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اس کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے، (اگر ایسا ہوتا) تو باطل پرست لوگ شک میں پڑ سکتے تھے۔ )
آنحضرت ﷺ کی رسالت نہایت سادہ اور محکم دلیل
یوں تو یہ بات ساری دنیائے کفر سے کہی گئی ہے لیکن سابقہ آیات میں چونکہ اہل کتاب کا ذکر ہورہا ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اہل کتاب کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ اگر وہ خاندانی تعصب سے نکل سکیں اور انانیت کو راستے میں حائل نہ ہونے دیں تو آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی صداقت کے لیے ایک نہایت سادہ اور واضح دلیل پیش کی جارہی ہے جو ایک غیرجانبدار آدمی کے لیے اپنے اندر بےپناہ تاثیر رکھتی ہے۔ اور یہ دلیل قرآن کریم نے اس سے پہلے متعدد مواقع پر مختلف اسالیب میں پیش فرمائی ہے۔ دلیل کا حاصل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اُمیِ محض تھے۔ مکہ کا ہر فرد گواہ ہے کہ آپ نے عمر بھر نہ کوئی کتاب پڑھی اور نہ کبھی قلم کو ہاتھ میں لیا۔ چونکہ کتاب سے دلچسپی اسی شخص کو ہوتی ہے تو پڑھنا جانتا ہو۔ اور قلم اس کی ضرورت ہے جو لکھنے سے واقف ہو۔ آپ نہ پڑھ سکتے تھے اور نہ لکھ سکتے تھے۔ بچپن سے لے کر کہولت تک آپ کی زندگی کا ایک ایک دن لوگوں کے سامنے گزرا ہے۔ آپ کو دیکھنے اور جاننے والے ایک دو نہیں، ہزاروں تھے۔ کبھی کسی نے آپ کو نہ پڑھتے دیکھا اور نہ لکھتے دیکھا۔ لیکن جیسے ہی چالیس سال کی عمر کے بعد آپ غار حرا سے اترے تو آخر یکلخت کیا تبدیلی آئی کہ آپ کی زبان سے حکمت و معرفت کے پھول جھڑنے لگے۔ آپ نے ایک ایسی کتاب پڑھ کر لوگوں کو سنانا شروع کی جس میں کتب آسمانی کی تعلیمات، انبیائے سابقین کے حالات، مذاہب و ادیان کے عقائد، قدیم قوموں کی تاریخ اور تمدن و اخلاق و معیشت کے اہم مسائل پر ایسی معرکۃ الاراء بحثیں کی گئیں۔ اور سابقہ امتوں نے اپنی کتابوں میں جو تحریفیں اور ترامیم کی تھیں ان میں سے بہت سوں کا پردہ چاک کیا۔ کتنے ایسے احکام تھے جن کی تکمیل کی گئی۔ اور کتنے تاریخ کے ایسے سربستہ راز تھے جن کی عقدہ کشائی کی۔ غرضیکہ اس کتاب کا ایک ایک صفحہ اپنے اندر علم و معرفت اور حقیقت و دانش کا ایسا سامان رکھتا ہے کہ جس کو دیکھنے کے بعد کوئی شخص بقائمی ہوش و حواس یہ نہیں کہہ سکتا کہ کوئی امی شخص کبھی ایسی باتیں لکھ سکتا ہے۔ لازماً اسے یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ یہ سب کچھ علم وحی کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا تھا۔ یہ ایک ایسی واضح دلیل ہے کہ جس کا انکار ممکن نہیں۔
آخر میں فرمایا کہ اگر نبی کریم ﷺ پڑھے لکھے ہوتے اور لوگوں نے آپ کو کبھی مطالعہ اور تحقیق میں مصروف دیکھا ہوتا تو باطل پرستوں کے لیے یہ کہنے کا موقع ہوسکتا تھا کہ قرآن کریم آپ کے اپنے علم و دانش کا شاہکار ہے اور آپ نے یہ سب کچھ اخذواکتساب سے حاصل کیا ہے۔