28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsروح القرآن

Ayahs 28:1–2

طٰسٓمّٓ Open ayah 28:1 in the Quran reader

طا۔ سین۔ میم

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ کتاب مبین کی آیات ہیں

طٰسٓمّٓ۔ تِلْکَ اٰیٰتُ الْـکِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۔ (القصص : 1، 2) ( طا۔ سین۔ میم۔ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں۔ ) کتاب مبین کا مفہوم حروفِ مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں یعنی یہ کتاب خود بھی روشن ہے اور ان احکام و قصص کو بھی نہایت تفصیل سے بیان کرتی ہے جو اس کتاب میں مذکور ہیں۔ کتاب مبین کے اندر ایک پہلو تو احسان و امتنان کا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے انسانی ہدایت کے لیے جو آخری کتاب اتاری ہے وہ نہایت روشن اور واضح کتاب ہے، اس کے سمجھنے میں نہ کسی قسم کی الجھن ہے اور نہ دشواری ہے۔ اس کا ہر بیان نہایت سلجھا ہوا اور ہر دور میں فہم اور عمل کے لیے آسان ہے۔ اور زمانے کا کوئی علمی تغیر اس کی کسی بات پر کہنگی یا اذکاررفتہ ہونے کی تہمت نہیں لگا سکتا۔ اور دوسرا پہلو اتمامِ حجت کا ہے۔ یعنی اس کتاب کے نازل ہوجانے کے بعد انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے سامنے عذر کرنے کا کوئی موقعہ باقی نہیں رہا۔ چونکہ اس میں ہر دور کی ضروریات اور ذہنی اپروچ کا لحاظ کیا گیا ہے اس لیے کسی دور کا انسان بھی بہانہ تلاش نہیں کرسکتا۔
Ayah 28:3

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

ہم آپ کو حضرت موسیٰ اور فرعون کا کچھ حال ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں ان لوگوں کی ہدایت کے لیے جو ایمان لانا چاہیں

نَتْلُوْا عَلَیْکَ مِنْ نَّـبَاِ مُوْسٰی وَفِرْعُوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّـؤْمِنُوْنَ ۔ (القصص : 3) (ہم آپ کو حضرت موسیٰ اور فرعون کا کچھ حال ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں۔ ان لوگوں کی ہدایت کے لیے جو ایمان لانا چاہیں۔ ) سرگزشت کے سنانے کا اصل مقصد اس آیت کریمہ میں خطاب اگرچہ نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن آیت کے آخری الفاظ خود بول رہے ہیں کہ اس واقعہ کو سنانے کا مقصد داستان سرائی نہیں بلکہ وہ لوگ جو ایمان لانا چاہتے ہیں لیکن حق و باطل کی کشمکش اور اس میں پیش آنے والا زیروبم ان کے ارادوں کو متزلزل کردیتا ہے۔ وہ جب مشرکین کے مظالم کو دیکھتے ہیں تو ان کے آگے بڑھتے ہوئے قدم رک جاتے ہیں اور مسلمانوں کی مظلومیت ان کے حوصلوں میں اضمحلال پیدا کردیتی ہے۔ ان کے سامنے یہ واقعہ سنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ مکہ کے فراعنہ فرعونِ مصر سے زیادہ طاقتور نہیں اور نہ مکہ کے مسلمان بنی اسرائیل سے زیادہ کمزور ہیں۔ باایں ہمہ حق و باطل کی کشمکش کا نتیجہ حق کی سربلندی اور باطل کی تباہی کی شکل میں ظاہر ہوا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حق شروع میں بظاہر کمزور دکھائی دیتا ہے اور مخالفین کا ظلم ایسا لگتا ہے کہ حق کو نگل جائے گا۔ لیکن رفتہ رفتہ حق سورج کی طرح سربلند ہوتا اور اندھیرے سمٹنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور آخرکار وہ وقت آجاتا ہے جب تاریکی کے مسافروں کو کہیں پناہ نہیں ملتی۔ وہ اسلام کی آغوش میں آجاتے ہیں یا حالات کی نذر ہوجاتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات تورات میں بھی بیان ہوئے ہیں لیکن ان واقعات میں وہ عبرت و موعظت نظر نہیں آتی جو سرگزشتِ موسیٰ سے مقصود ہے۔ قرآن کریم نے ” بالحق “ کے لفظ سے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ تورات اور تلمود میں اس سرگزشت کے بیان کرنے میں افراط وتفریط سے کام لیا گیا ہے جبکہ قرآن کریم اس سرگزشت کو اس طرح بیان کرتا ہے جس میں روایت میں دیانت کے تمام پہلوئوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور سرگزشت کی اصل روح کو نمایاں کیا گیا ہے جو واقعہ کا حاصل ہے۔
Ayah 28:4

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

بیشک فرعون سرزمینِ مصر میں بہت سرکش ہوگیا تھا اور اس نے اس کے باشندوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کردیا تھا، ان میں سے ایک گروہ کو اس نے دبا رکھا تھا، ان کے لڑکوں کو قتل کرتا اور ان کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا، بیشک وہ فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِی الْاَرْضِ وَجَعَلَ اَھْلَھَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَـآئِفَۃً مِّنْھُمْ یُذَبِّحُ اَبْـنَـآئَ ھُمْ وَیَسْتَحْیِ نِسَآئَ ھُمْ ط اِنَّـہٗ کَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ۔ (القصص : 4) (بیشک فرعون سرزمینِ مصر میں بہت سرکش ہوگیا تھا اور اس نے اس کے باشندوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کردیا تھا، ان میں سے ایک گروہ کو اس نے دبا رکھا تھا، ان کے لڑکوں کو قتل کرتا اور ان کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا، بیشک وہ فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔ ) سرگزشت کے مقصد کے اہم اجزاء اصل سرگزشت شروع کرنے سے پہلے یہ اور اس کے بعد کی دو آیتوں میں اس غایت و مقصد کو سامنے رکھ دیا گیا ہے جو اس سرگزشت سنانے کا اصل مقصود ہے۔ پیش نظر شاید یہ ہے کہ سرگزشت پڑھتے ہوئے یہ مقصد نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔ اس مقصد کو چند نکات کی صورت میں ایک ترتیب سے بیان کیا گیا ہے۔ اندازِ بیان چونکہ ایجاز کا حسن لیے ہوئے ہے جس کی نزاکتوں کو کماحقہ ملحوظ رکھنا ہمارے بس میں نہیں، تاہم قرآن کریم کی بیان کردہ ترتیب کے مطابق ہم کسی حد تک اسے بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ فرعون سرزمینِ مصر میں بہت سرکش ہوگیا تھا۔ عَلاَ کا مصدر علو ہے جس کا معنی ہے سرکشی۔ زمین میں سرکشی یہ ہے کہ زمین کے اصل خالق ومالک کی مرضی اور اس کے احکام کو نظرانداز کرکے کوئی اس میں اپنی من مانی کرنے لگ جائے اور خدا کے بندوں کو خدا کی بندگی اور اطاعت میں داخل کرنے کی بجائے ان سے اپنی بندگی اور غلامی کرانے لگے۔ فرعون نے سرزمینِ مصر میں یہی روش اختیار کی تھی۔ وہ اس بات کو بھول گیا تھا کہ یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے اور مجھے بھی اسی نے پیدا کیا ہے۔ زمین کی طرح میں بھی اس کی مخلوق ہوں، زمین جس کے حکم سے گردش کرتی ہے میں بھی اسی کے حکم سے زندگی گزارنے کا پابند ہوں۔ لیکن اس نے زمین میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کی بجائے باغیانہ روش اختیار کی اور اپنی بندگی کے مقام سے اٹھ کر خودمختاری اور خداوندی کا لبادہ پہن لیا۔ اور زمین کے خزانوں کا مالک ہو کر خدائی کا صور پھونکنے لگا اور جبار اور متکبر بن کر ظلم ڈھانے لگا۔ دوسری بات اس آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ فرعون کی حکومت انسان دوست اور عادلانہ حکومت نہ تھی بلکہ اس نے ملک کو طبقات میں تقسیم کردیا تھا۔ قانون کی نگاہ میں ملک کے سب باشندے یکساں نہ تھے۔ ملک کا طبقہ اشرافیہ جس سے وہ خود بھی تعلق رکھتا تھا ملک کا مقتدر طبقہ تھا۔ غیرمعمولی مراعات نے اس طبقے کو خودسر بنانے کے ساتھ ساتھ حکومت کا آلہ کار بھی بنادیا تھا۔ وہ حکومت کے ہر فیصلے کو اپنا فیصلہ سمجھتے تھے اور ان کی ظالمانہ روش کو حکومت کی روش پر محمول کیا جاتا تھا۔ یہ بالائی طبقہ چونکہ حکومت کے لیے ناگزیر ہوگیا تھا اس لیے ضروری تھا کہ نچلے طقبوں کو مزید کمزور کردیا جائے تاکہ وہ سر اٹھانے کے قابل نہ رہیں۔ یوں تو تمام نچلے طبقات فرعون اور آل فرعون کے مظالم کا شکار تھے لیکن تاریخ ہمارے سامنے ظلم کا ایک اور گوشہ بھی بےنقاب کرتی ہے جس کی وجہ سے بنی اسرائیل خاص طور پر حکومت اور قبطیوں کے مظالم کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ میری مراد اس سے یہ ہے کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دور گزر جانے کے بعد مصر میں ایک قوم پرستانہ انقلاب برپا ہوا تھا غالباً حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ایک صدی کے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔ چونکہ اس انقلاب کے نتیجے میں بنی اسرائیل اقتدار سے محروم ہوئے اور قبطیوں کے ہاتھ میں دوبارہ اقتدار آیا۔ ان کی نئی بننے والی حکومت نے قوم پرستی کو اپنا شعار بنایا اور ان کی قوم کے علاوہ جو قومیں مصر میں آباد تھیں ان کا زور توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس کے لیے وہی طریقہ اختیار کیا گیا جو عام طور پر قوم پرستانہ حکومتیں اختیار کیا کرتی ہیں۔ یعنی مختلف قوموں میں قومیت کی بنیاد پر اختلافات کو تعصبات کی حد تک پہنچا دیا جاتا ہے اور پھر ہر اختلاف کو ان تعصبات میں اضافہ کرنے کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ چناچہ فرعون نے بھی ایسا ہی کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ طبقاتی منافرت ملک میں فزوں تر ہوتی چلی گئی۔ طبقہ اشرافیہ نے قوم پرستانہ جذبات سے کام لیتے ہوئے دوسرے گروہوں کو اپنے مظالم کا نشانہ بنایا اور فرعون اور اس کی حکومت نے ہر ممکن طریقے سے ان کو تحفظ دیا۔ تیسری بات اس آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ فرعون اور آل فرعون نے یہ محسوس کیا کہ بنی اسرائیل توالد و تناسل کے ذریعہ سے اپنی افرادی قوت میں اضافہ کرتے چلے جارہے ہیں اور بعض دوسرے قبائل جو حکومت کے مظالم کا شکار ہیں وہ بھی درپردہ ان کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ اگر ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کو نہ روکا گیا تو اندیشہ ہے کہ یہ اپنی افرادی قوت کے بل بوتے پر کوئی انقلاب برپا نہ کردیں چناچہ بنی اسرائیل کے بارے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کے گھروں میں جاسوسی کا جال پھیلا دیا جائے۔ جب بھی یہ معلوم ہو کہ کسی گھر میں بچہ پیدا ہوا ہے تو دیکھو اگر بیٹی پیدا ہو تو اسے چھوڑ دو اور اگر بیٹا پیدا ہو تو اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا جائے اور پولیس کا کام یہ ہے کہ وہ اسے قتل کردے۔ اس طرح سے ان کی تعداد میں اضافہ رک جائے گا اور ان کی عورتیں ہمارے گھروں میں کام کاج کی ذمہ داریاں بھی ادا کریں گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے ذریعہ سے قبطی نسل میں اضافے کا سامان کیا جاسکے۔ تلمود اس کی مزید تفصیل یہ بتاتی ہے کہ نئی قوم پرست حکومت نے پہلے تو بنی اسرائیل کو ان کی زرخیز زمینوں اور ان کے مکانات اور جائیدادوں سے محروم کیا، پھر انھیں حکومت کے تمام مناصب سے بےدخل کیا۔ اس کے بعد بھی جب قبطی حکمرانوں نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل اور ان کے ہم مذہب مصری کافی طاقتور ہیں تو انھوں نے اسرائیلیوں کو ذلیل و خوار کرنا شروع کردیا اور ان سے سخت محنت کے کام قلیل معاوضوں پر یا بلامعاوضہ لینے لگے۔ اور یہ ظلم بڑھتے بڑھتے بچوں کے قتل عام تک پہنچا۔ مقصود یہ تھا کہ کسی طرح بنی اسرائیل کو دبا کر رکھا جائے اور ان کی تعداد میں اضافے کی بجائے کمی کی جائے۔ مگر یہ بات جو ہمارے یہاں مشہور ہوگئی ہے کہ فرعون سے کسی نجومی نے یہ کہا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں فرعونی اقتدار کا تختہ الٹ جائے گا یا فرعون نے خود کوئی ایسا خواب دیکھا تھا اور اس خطرے کو روکنے کے لیے فرعون نے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ اس کا ذکر نہ تو تورات میں ہے اور نہ قرآن کریم میں۔ یہ افسانہ تلمود اور دوسری اسرائیلی روایات سے ہمارے یہاں نقل ہوا اور مشہور ہوا۔ آخر میں فرمایا گیا ہے کہ فرعون خدا کی زمین میں فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کی بجائے اپنی حاکمیت کا صور پھونکا اور اپنی رعایا میں طبقات پیدا کیے اور عدل و مساوات کی بجائے ظالمانہ حکومت قائم کی اور خدا کی زمین کو ظلم اور فساد سے بھر دیا۔
Ayahs 28:5–6

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم چاہتے تھے ان لوگوں پر احسان کریں جنھیں ملک (مصر) میں کمزور بنادیا گیا تھا اور ان کو پیشوا بنائیں اور انھیں (فرعون کے تاج و تخت کا) وارث بنائیں

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور ان کو زمین میں اقتدار عطا کریں اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو ان کی جانب سے وہ دکھائیں جن کا وہ اندیشہ رکھتے تھے

وَنُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَنَجْعَلَھُمْ اَئِمَّۃً وَّنَجْعَلَھُمُ الْوٰرِثِیْنَ ۔ وَنُمَکِّنَ لَہُمْ فِی الْاَرْضِ وَنُرِیَ فِرْعَوْنَ وَھَا مٰـنَ وَجُنُوْدَھُمَا مِنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَحْذَرُوْنَ ۔ (القصص : 5، 6) (اور ہم چاہتے تھے ان لوگوں پر احسان کریں جنھیں ملک (مصر) میں کمزور بنادیا گیا تھا اور ان کو پیشوا بنائیں اور انھیں (فرعون کے تاج و تخت کا) وارث بنائیں۔ اور ان کو زمین میں اقتدار عطا کریں اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو ان کی جانب سے وہ دکھائیں جن کا وہ اندیشہ رکھتے تھے۔ ) فرعون کے مظالم کے برعکس خدائی فیصلہ گزشتہ آیت میں فرعون کے ظالمانہ عزائم کا ذکر فرما کر یہ دکھایا گیا ہے کہ فرعون تو بنی اسرائیل کو مختلف طریقوں سے بےبس اور کمزور کرکے رکھنا چاہتا تھا۔ اس کی ہر ممکن کوشش یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو کسی طرح ابھرنے کا موقع نہ دیں۔ اس طرح سے آہستہ آہستہ ان کی قومی انفرادیت کو تباہ کردیا جائے اور وہ رفتہ رفتہ قبطی قوم کا ایک حصہ بن جائیں، لیکن پروردگار فرماتا ہے کہ فرعون اور آل فرعون کے مقابلے میں ہم نے یہ ارادہ کرلیا ہے کہ ہم مظلوموں پر احسان کریں۔ ان کو ظلم و ستم کی چکی سے نکال کر پیشوائی کا منصب بخشیں اور ظالموں کو مٹا کر مظلوموں کو وراثت و خلافت عطا کریں۔ نَجْعَلَھُمْ اَئِمَّۃًسے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ حضرت یعقوب اور حضرت یوسف (علیہما السلام) کی دینی پیشوائی جو مصر میں قومی انقلاب کے برپا ہوجانے کے بعد عرصہ دراز سے ختم ہوچکی ہے اور اب فرعون اپنے آپ کو سورج دیوتا کا اوتار قرار دے کر پیشوا بنا بیٹھا ہے۔ اس دینی منصب پر دوبارہ بنی اسرائیل کو بحال کیا جائے۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد بنی اسرائیل کو یہ پیشوائی حاصل ہوئی اور نَجْعَلَھُمُ الْوٰرِثِیْنَ سے مراد خلافت و ملوکیت ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ حکومت بھی عطا کی۔ ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد عرصہ دراز تک بنی اسرائیل کو اقتدار حاصل رہا۔ اب جبکہ وہ ایک طویل عرصہ سے اقتدار سے محروم ہوچکے تھے اور بری طرح سے اذیتوں کے شکنجے میں جکڑے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دوبارہ انھیں خلافت و حکومت دینے کا فیصلہ فرمایا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے اس کا آغاز ہوا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں اس کی حدود یہاں تک وسیع ہوگئیں کہ فلسطین اس حکومت کا مرکز قرار پایا اور مصر جیسی سلطنتیں اس کی باج گزار بن گئیں۔ اور اسی وراثت کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ اب جبکہ فرعون اور ہامان کا اقتدار اپنے عروج پر ہے اور وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ انھیں اچانک نیست و نابود کردیا جائے گا۔ ان لوگوں کو اقتدار اور صولت و دبدبہ بخشا جائے۔ جو غلاموں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں اور مصر میں ایسا انقلاب برپا کردیں جس کے اندیشے میں فرعون اور ہامان گھلتے جارہے ہیں۔ وہ اپنی غیرمعمولی شوکت و حشمت کے باوجود اس بات سے خوفزدہ تھے کہ بنی اسرائیل کی تعداد روزبروز غیرمعمولی طور پر بڑھتی جارہی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ قوت حاصل کرلیں اور ملک پر قبضہ جما لیں یا باہر کے دشمنوں سے مل کر قبطیوں کو بےدخل کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا کہ ان کے اندیشوں کو حقیقت بنادیا جائے۔ چناچہ اس کے بعد کی آیتوں میں ان واقعات کو بیان کیا گیا ہے جن سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت بھی سامنے آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارادے کی عملی صورت بھی پوری شان کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ ہامان کے بارے میں وضاحت اس آیت کریمہ میں پہلی دفعہ فرعون کے ساتھ ہامان کا ذکر آیا ہے۔ اور اس طرح آیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی حیثیت فرعون کے وزیر کی تھی۔ لیکن تورات میں اس کا نام مرقوم نہیں۔ اس بنیاد پر مغربی مستشرقین نے اس پر بہت قیل و قال سے کام لیا ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ قرآن کریم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت میں ایک ایسا اضافہ کررہا ہے جس کے بارے میں آسمانی کتابیں اور تاریخ کا تمام ذخیرہ بالکل خاموش ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ علمی دنیا اس پر شکرگزار ہوتی، لیکن مستشرقین جو اپنے آپ کو علم اور تحقیق سے منسوب کرتے ہیں اس پر شکرگزار ہونے کی بجائے تنقید کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اور تنقید میں جو باتیں کہتے ہیں اگر یہی باتیں ان کی کسی علمی کتاب کے بارے میں کسی اور جانب سے کہی جاتیں تو یہ اس کو اضحوکہ روزگار بنا لیتے۔ لیکن انھیں کچھ اندازہ نہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کی علمی دنیا میں کیا حیثیت ہے۔ اندازہ فرمایئے ان کا کہنا یہ ہے کہ ہامان تو ایران کے بادشاہ اخسویرس کے دربار کا ایک امیر تھا اور اس کا زمانہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سینکڑوں برس بعد ہے۔ قرآن کریم نے اسے مصر لے جا کر فرعون کا وزیر بنادیا۔ جس آدمی کے دماغ میں تھوڑی سی بھی عقل ہے بشرطیکہ وہ تعصب سے بیکار نہ ہوچکی ہو وہ کبھی اس بات کو باور نہیں کرسکتا کہ دنیا میں ہامان نام کا صرف ایک ہی شخص ہوا ہے حالانکہ ہر نام کے لوگ ہر دور میں بیشمار رہے ہیں۔ اگر فرعون کے ہم نشینوں میں بھی کوئی شخص ہامان نام کا رہا ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ کیا یہ حضرات یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ان کو فرعون اور اس کے تمام وزراء و اعیان اور اس عہد کے تمام اکابرِ مصر کے ناموں کی فہرست مل گئی ہے، یا وہ کم از کم یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ فرعون کی کابینہ میں جتنے وزراء تھے ہم تمام سے نام بنام واقف ہیں اور ہمارے پاس ان کا نہایت مصدقہ ریکارڈ موجود ہے۔ ظاہر ہے ایسا دعویٰ کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ وہ تو اس فرعون کے بارے میں بھی متفق اللفظ نہیں ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہمعصر تھا۔ بس قرآن کریم کی مخالفت کا جنون اور اسلام سے حد سے بڑھا ہوا تعصب انھیں بالکل سامنے کی بات کو سمجھنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جن کا علم کی نگاہ میں کوئی وزن نہیں ہوتا۔
Ayah 28:7

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی والدہ کو وحی کی کہ اس کو دودھ پلائو، جب تمہیں اس کے بارے میں اندیشہ ہو تو اس کو دریا میں ڈال دیجیو اور کچھ خوف اور غم نہ کرو، ہم اسے تمہارے پاس واپس لے آئیں گے اور اس کو رسولوں میں شامل کریں گے

وَاَوْحَیْنَـآ اِلٰٓی اُمِّ مُوْسٰٓی اَنْ اَرْضِعِیْہِ ج فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْہِ فَاَلْقِیْہِ فِی الْیَمِّ وَلاَ تَخَافِیْ وَلاَ تَحْزَنِیْ ج اِنَّا رَآدُّوْہُ اِلَیْکِ وَجَاعِلُوْہُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ (القصص : 7) (اور ہم نے موسیٰ کی والدہ کو وحی کی کہ اس کو دودھ پلائو، جب تمہیں اس کے بارے میں اندیشہ ہو تو اس کو دریا میں ڈال دیجیو اور کچھ خوف اور غم نہ کرو، ہم اسے تمہارے پاس واپس لے آئیں گے اور اس کو رسولوں میں شامل کریں گے۔ ) اصل سرگزشت کا آغاز یہاں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اصل سرگزشت شروع ہوتی ہے۔ البتہ اس میں آپ ( علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ کسی بچے کو دودھ پلانے کا حکم اس کی ولادت کے بعد ہی دیا جاتا ہے۔ اس لیے جب دودھ پلانے کا ذکر آئے گا تو ولادت کا ذکر خودبخود ہوجائے گا۔ بہرحال کہنا یہ ہے کہ جب فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے چکا تھا اور ہر اسرائیلی گھر میں ایک ہراس طاری تھا انہی دنوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی۔ بائیبل اور تلمود کے بیان کے مطابق آپ ( علیہ السلام) کا خاندان حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے لاوی کی اولاد میں سے تھا۔ تورات اور تلمود میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد ماجد کا نام عمرام بتایا گیا ہے۔ قرآن کریم نے اسے عمران سے تعبیر کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ محض زبانوں میں اختلاف کا نتیجہ ہو۔ آپ ( علیہ السلام) کے ایک بھائی اور بہن تھی۔ بھائی کا نام ہارون ہے اور بہن کا نام مریم۔ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کی اولاد میں بیٹوں کے قتل کیے جانے کا حکم ان دونوں کی پیدائش کے بعد کا ہے۔ اس لیے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے سلسلے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے وقت چونکہ یہ قانون نافذ ہوچکا تھا اس لیے جیسے ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے ان کے والدین کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ انھیں ہر وقت اندیشہ رہنے لگا کہ اگر گھر میں بچے کی موجودگی کا شبہ بھی ہوگیا تو موسیٰ سلامت نہیں رہیں گے۔ یہ اندیشہ اس خیال سے اور بھی زیادہ تشویشناک ہوگیا تھا کہ تلمود کے بیان کے مطابق فرعون کی حکومت نے گھروں میں جاسوس عورتیں چھوڑ رکھی تھیں۔ وہ اپنے ساتھ چھوٹے بچے لے کر گھروں میں جاتیں اور کسی نہ کسی بہانے بچوں کو رلانے کی کوشش کرتیں تاکہ بچے کے رونے کی آواز سن کر گھر میں اگر کوئی بچہ چھپایا ہوا ہے تو وہ بھی رونے لگے۔ اس نئے طرزِجاسوسی نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی پریشانی میں بہت اضافہ کردیا تھا۔ بائیبل کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ پیدائش کے بعد تین مہینے تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ان کو چھپائے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے انھیں وحی کی کہ جیسے ہی آپ بچے کے لیے کوئی فوری خطرہ محسوس کریں تو آپ اسے دریا کی نذر کردیں اور سورة طٰہٰ میں اس کا طریقہ بھی وحی کیا گیا ہے۔ اِقْذِفِیْہِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْہِ فِی الْیَمِّ ” بچے کو ایک تابوت میں رکھ کر دریا میں ڈال دو ۔ “ بائیبل اور تلمود سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ان کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے سرکنڈوں کا ایک ٹوکرہ بنایا اور اسے چکنی مٹی اور رال سے لیپ کر محفوظ کردیا۔ پھر اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو لٹا کر دریائے نیل میں ڈال دیا۔ البتہ ان کتابوں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ دریا میں اس طریقے سے ڈالنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا تھا۔ قرآن کریم نے اسے واضح فرمایا ہے کہ دریائے نیل میں اس طریقے سے ڈالنے کا حکم پروردگار نے وحی کیا تھا۔ اور اس وحی میں صرف یہ تسلی نہیں دی گئی تھی کہ ہم موسیٰ کی حفاظت کریں گے بلکہ یہ بھی فرمایا گیا تھا کہ ہم اسے واپس تمہارے پاس لائیں گے اور انھیں رسالت عطا کریں گے۔ یہ بات یاد رہے کہ یہاں وحی سے مراد وہ اصطلاحی وحی نہیں ہے جو انبیائے کرام (علیہم السلام) کے ساتھ مخصوص ہے، بلکہ اس سے مراد الہام و القاء یا رؤیا کے ذریعے سے اس طرح دل میں کوئی بات ڈال دینا ہے جس سے دل کو اس بارے میں فی الجملہ اطمینان ہوجائے۔ چناچہ یہی وحی ہے جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو سہارا دیا۔ آپ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والی ایک خاتون تھیں۔ جب ہاتفِ غیبی نے ان کے دل میں یہ بات ڈالی تو وہ ہر طرح کے خطرے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوگئیں۔ چناچہ جب انھوں نے محسوس کیا کہ اب خطرہ سر پر پہنچا چاہتا ہے تو انھوں نے سرکنڈوں کا ایک صندوق سا بنا کر اپنے بیٹے کو اس میں رکھا اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق اسے دریائے نیل کی موجوں کے حوالے کردیا۔
Ayahs 28:8–9

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

تو فرعون کے گھر والوں نے اس کو اٹھا لیاتا کہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سبب رنج بنے، بیشک فرعون و ہامان اور ان کے لشکر بڑے غلط کار تھے

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، کیا عجب کہ یہ ہم کو نفع پہنچائے یا ہم اسے بیٹا ہی بنالیں اور وہ انجام سے بیخبر تھے

فَالْتَقَطَہٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُوْنَ لَہُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا ط اِنَّ فِرْعَوْنَ وَھَامٰـنَ وَجُنُوْدَھُمَا کَانُوْا خٰطِئِیْنَ ۔ وَقَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَلَکَ ط لاَ تَقْتُلُوْہُ صلے ق عَسٰٓی اَنْ یَّنْفَعَنَـآ اَوْنَتَّخِذَہٗ وَلَدًا وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ (القصص : 8، 9) (تو فرعون کے گھر والوں نے اس کو اٹھا لیاتا کہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سبب رنج بنے، بیشک فرعون و ہامان اور ان کے لشکر بڑے غلط کار تھے۔ اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، کیا عجب کہ یہ ہم کو نفع پہنچائے یا ہم اسے بیٹا ہی بنالیں اور وہ انجام سے بیخبر تھے۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پانی میں ڈال دیئے جانے کے بعد کی صورتحال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تابوت کو پانی میں ڈال دیئے جانے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی وہ اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ دریائے نیل اسرائیلیوں کی بستیوں سے گزرتا ہوا فرعون کے محل کی طرف جاتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے یقینا گھر کے قریب سے تابوت کو پانی میں ڈالا۔ وہ پانی کے بہائو کے ساتھ ساتھ فرعون کے محل کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ وہاں دریا کی موجوں نے صندوق کو کنارے پر ڈال دیا اور دریا چونکہ فرعون کے محلات سے چھو کے گزرتا تھا تو جیسے ہی فرعون کے خدام کی نظر اس پر پڑی تو انھوں نے اسے نکال لیا۔ ممکن ہے بادشاہ اور ملکہ اس وقت دریا کے کنارے پر سیر کررہے ہوں۔ نوکروں نے انھیں خبر دی اور صندوق ان کی خدمت میں پیش کردیا گیا۔ صندوق کو کھولا گیا تو یہ دیکھ کر انھیں کوئی حیرت نہ ہوئی کہ صندوق میں ایک موہنا بچہ لیٹا ہوا ہے۔ وہ سمجھ گئے کہ کسی اسرائیلی نے اپنے بچے کو قتل سے بچانے کے لیے یہ حرکت کی ہے۔ اس موقع پر فرعون نے خود یا کسی نوکر کے توجہ دلانے پر ارادہ کیا کہ اس بچے کو قتل کردیا جائے۔ لیکن فرعون کی بیوی جیسا کہ سورة تحریم سے معلوم ہوتا ہے نہایت نیک دل خاتون تھی۔ اس نے اپنی طبعی شرافت اور ایک عورت کی ذکاوتِ حس سے کام لیتے ہوئے اپنے شوہر سے کہا کہ ذرا اس بچے کو دیکھیے، ایسا لگتا ہے جیسے چاند نکل آیا۔ کیا یہ بچہ اس قابل ہے کہ اسے قتل کردیا جائے۔ پیغمبر تو ویسے بھی خوبصورت ہوتے ہیں۔ کبھی کسی بدصورت کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا نہیں کی۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں تو خاص طور پر سورة طٰہٰ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مَّنِیْ ” میں نے اپنی طرف سے تیرے اوپر محبت ڈال دی تھی۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسی موہنی صورت دی تھی کہ دیکھنے والا بےاختیار پیار کرنے لگتا تھا۔ اس لیے ملکہ نے اپنے شوہر سے سفارش کرتے ہوئے کہا آپ قتل کرنے کی بات کرتے ہیں، یہ تو میری اور تمہاری دونوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ میری آنکھیں تو اسے دیکھ کر ٹھنڈی ہورہی ہیں۔ اسے قتل کرنے کا ارادہ مت کرو۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا ہی بنالیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت تک فرعون کے یہاں کوئی نرینہ اولاد نہ تھی۔ شاید اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ملکہ نے کہا کہ جب یہ بچہ ہمارے یہاں پلے گا، اسے کیا خبر یہ کس کا بیٹا ہے۔ اگر یہ بنی اسرائیل میں سے بھی ہے تو محل میں رہ کر شہزادوں جیسے طوراطوار سیکھ جائے گا۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہ صاحب صلاحیت نکلے تو ہم اس کی ذات سے فائدہ اٹھائیں۔ اور اگر ہمیں واقعی نرینہ اولاد سے محرومی رہی تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اسے اپنا بیٹا بنالیں۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ جب وہ امیدوں کے جھولے میں بہل رہے تھے تو پیش آنے والے واقعات کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ فرعون اپنے آپ کو رب کہتا تھا، لیکن رب صاحب کو یہ معلوم نہ تھا کہ میرے گھر میں آنے والا بچہ ایک نئی صبح کا پیغام بن کر آیا ہے۔ اور گزشتہ آیت میں اس پوری صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن کریم نے کہا کہ فرعون، ہامان اور اس کے لشکر اپنی حماقت سے یہ سمجھتے تھے کہ سرزمینِ مصر پر کوئی پتہ ان کی مرضی کے بغیر حرکت نہیں کرسکتا۔ اور تمام اختیار و اقتدار کے بلاشرکتِ غیرے وہ مالک ہیں۔ لیکن انھیں کیا خبر تھی کہ یہ بچہ جو بظاہر لاوارث معلوم ہوتا ہے انہی کے ہاتھوں اور انہی کے محل میں پروان چڑھ کر انہی کی حکومت کا تخت الٹ دے گا۔
Ayah 28:10

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور موسیٰ کی ماں کا دل اڑا جارہا تھا، قریب تھا کہ وہ اس کے راز کو ظاہر کردیتی، اگر ہم اس کے دل کو نہ سنبھالتے کہ وہ بنی رہے اللہ کے وعدہ پر یقین کرنے والی

وَاَصْبَحَ فُؤَا دُاُمِّ مُوْسٰی فٰرِغًا ط اِنْ کَادَتْ لَـتُبْدِیْ بِہٖ لَوْلَآ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰی قَلْبِھَا لِتَـکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (القصص : 10) (اور موسیٰ کی ماں کا دل اڑا جارہا تھا، قریب تھا کہ وہ اس کے راز کو ظاہر کردیتی، اگر ہم اس کے دل کو نہ سنبھالتے کہ وہ بنی رہے اللہ کے وعدہ پر یقین کرنے والی۔ ) ماں کی بےقراری اور اللہ تعالیٰ کی دستگیری حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے خطرات کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے بیٹے کو دریائے نیل کی موجوں کے حوالے تو کردیا اور ایک غیبی وعدے پر اعتماد کرتے ہوئے غیرمعمولی اقدام کر ڈالا۔ لیکن اس کے بعد ماں کی مامتا بےقابو ہونے لگی، دل کا قرار رخصت ہوگیا، سوائے بیٹے کے تصور کے ہر چیز دل سے نکل گئی۔ کوشش کے باوجود اعصابی نظام ٹوٹنے لگا۔ بعض اسرائیلی روایات کے مطابق جب اسے یہ خبر ہوئی کہ دریائے نیل سے بچے کو فرعون کے ملازموں نے اٹھایا ہے اور اسے فرعون کے پاس پہنچا دیا گیا ہے تو یہ خبر اس کے صبر وقرار کے لیے بہت بڑا امتحان بن گئی۔ قریب تھا کہ اس سے کوئی ایسی بات صادر ہوجائے جس سے سارا راز فاش ہوجائے، لیکن اللہ تعالیٰ کی سنت نے دستگیری فرمائی۔ وہی اپنے بندوں کو بڑے سے بڑے امتحان میں ڈالتا ہے۔ اور جب وہ دیکھتا ہے کہ یہ امتحان ان کے لیے ہمت شکن ثابت ہورہا ہے تو پھر وہی ہمت عطا کرتا اور حوصلہ دیتا ہے۔ یہی تو موقع ہوتا ہے جب ایک مومن ٹوٹ پھوٹ کر اس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے ڈھیر ہوجاتا ہے جس طرح بچہ نڈھال ہو کر ماں کی آغوش میں گرتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ : جس نے دیا ہے درد وہی چارہ گر بھی ہے کہنی ہے چارہ گر سے ہی خود چارہ گر کی بات چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو بھی پروردگار نے اپنی سنت کے مطابق سنبھالا دیا، اس کے ایمان و توکل کو مضبوط کیا تاکہ اس سے کوئی ایسی بات سرزد نہ ہونے پائے جو اس کی شان کے منافی ہو۔
Ayah 28:11

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور اس نے اس کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے جا، چناچہ وہ الگ سے اس کو اس طرح دیکھتی رہی کہ لوگوں کو اس کی خبر نہ ہونے پائی

وَقَالَتْ لِاُخْتِہٖ قُصِّیْہِ ز فَبَصُرَتْ بِہٖ عَنْ جُنُبٍ وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ (القصص : 11) (اور اس نے اس کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے جا، چناچہ وہ الگ سے اس کو اس طرح دیکھتی رہی کہ لوگوں کو اس کی خبر نہ ہونے پائی۔ ) تسلی کی ایک تدبیر ایک خطرناک اقدام کے نتائج سے بچنے کے لیے ہر انسان آخر حد تک تدبیر کرتا ہے اور بعض دفعہ وہ خود بھی جانتا ہے کہ اس کا نتیجہ میرے بس میں نہیں۔ اور جو کچھ ہونے والا ہے میں اس پر بھی اختیار نہیں رکھتا۔ لیکن یہ وقتی دلا سے انسان کی فطرت ہیں جس سے وہ رک نہیں سکتا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے آپ ( علیہ السلام) کو دریا میں ڈال دیا۔ آپ جانتی ہیں کہ دریا کا پانی جہاں چاہے گا لے جائے گا، میں اسے روکنے سے عاجز ہوں۔ اس کے باوجود محض دل کو تسلی دینے کے لیے بیٹی سے کہا کہ تم اپنے بھائی کے صندوق کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے چلو۔ حالانکہ جانتی تھیں کہ صندوق بالآخر نظروں سے اوجھل ہوجائے گا، لیکن اس کے سوا چارہ کار بھی کیا تھا۔ اسرائیلی روایات کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کی عمر دس بارہ سال سے زیادہ نہ تھی۔ لیکن وہ اس قدر ذہین لڑکی تھی کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تابوت کو اس طرح کنارے کنارے دیکھتی چلی گئی کہ صندوق اس کی نظروں سے اوجھل بھی نہیں ہوا اور کسی کو اس واقعہ کی طرف توجہ بھی نہ ہوسکی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی بستیوں سے فرعون کا محل زیادہ دور نہ تھا۔ چناچہ بہن یہ اندازہ کرنے میں کامیاب رہی کہ چھوٹے بھائی کا تابوت محل کے کنارے پانی سے نکال لیا گیا ہے اور نہایت احتیاط سے اسے محل کے اندر لے جایا گیا ہے اور پھر ادھر ادھر گھومتے ہوئے نہ جانے کس طرح اس نے یہ راز معلوم کرلیا کہ ملکہ صاحبہ کو دودھ پلانے کے لیے کسی ایسی اَنَّا کی تلاش ہے جس کے دودھ کو بچہ قبول کرلے، کیونکہ اسے معلوم ہوگیا تھا کہ بچہ کسی کا دودھ قبول نہیں کررہا اور ملکہ اس کی وجہ سے پریشان ہے۔
Ayah 28:12

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے بچے پر پہلے ہی دودھ پلانے والوں کی چھاتیاں حرام کر رکھی تھیں، تو اس لڑکی نے کہا کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کا پتہ بتائوں جو آپ لوگوں کی خاطر اس کی پرورش کا ذمہ لیں اور خیرخواہی کے ساتھ دیکھ بھال کریں

وَحَرَّمْنَا عَلَیْہِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ ھَلْ اَدُلُّـکُمْ عَلٰٓی اَھْلِ بَیْتٍ یَّـکْـفُلُوْنَـہٗ لَـکُمْ وَھُمْ لَـہٗ نٰصِحُوْنَ ۔ (القصص : 12) (اور ہم نے بچے پر پہلے ہی دودھ پلانے والوں کی چھاتیاں حرام کر رکھی تھیں، تو اس لڑکی نے کہا کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کا پتہ بتائوں جو آپ لوگوں کی خاطر اس کی پرورش کا ذمہ لیں اور خیرخواہی کے ساتھ دیکھ بھال کریں۔ ) اللہ تعالیٰ کی کارسازی بچہ جب شاہی محل میں پہنچ گیا تو محل والوں کو سب سے پہلے اس بات کی فکر ہوئی کہ بچے کو دودھ پلانے کا انتظام کیا جائے اور اس کے لیے کسی دایا یا اَنَّا کو ڈھونڈا جائے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مصر کے بالائی طبقے میں بھی عرب کے بڑے خاندانوں کی طرح یہ رواج تھا کہ بیگمات بچوں کو دودھ پلانے کی بجائے عموماً اَنَّائوں کے دودھ پلانے کے لیے سپرد کرتی تھیں۔ اور یہ دودھ پلانے والیاں عام طور سے شہر کے باہر یا مضافاتی بستیوں میں رہتی تھیں اور وہیں کھلے ماحول میں بچوں کی تربیت کرتی تھیں اور اس خدمت کے لیے دودھ پلانے والیوں کو تلاش نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ وہ اس خدمت کے حصول کے لیے وقتاً فوقتاً بڑے گھرانوں کا چکر لگاتی رہتی تھیں اور جہاں سے انھیں اچھے معاوضے کی امید ہوتی وہاں خود پہنچ جاتیں اور بچوں کو تربیت کے لیے ساتھ لے جاتیں۔ اسی طریقہ سے فرعون کی ملکہ نے ملازموں کو ادھر ادھر بھجوایا کہ کسی اچھی اَنَّا کو تلاش کرکے لایا جائے۔ چناچہ ایک سے زیادہ اَنَّائوں کو لایا گیا لیکن حضرت موسیٰ نے کسی بھی دودھ پلانے والی کی چھاتی کو منہ نہیں لگایا۔ اس سے محل میں عام پریشانی کی فضا پیدا ہوگئی۔ ملکہ چونکہ بچے کی موہنی صورت سے غائت درجہ پیار کرنے لگی تھیں اس لیے وہ اس صورتحال سے سخت آزردہ تھیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن یہ معلوم کرکے کہ میرا ننھا بھائی محل کے اندر پہنچ گیا ہے، واپس اپنے گھر پلٹ نہیں گئیں بلکہ ادھر ادھر حالات کی دریافت کے لیے چکر لگاتی رہیں۔ نوکروں کے ہجوم کے باعث محل کی باتیں عام طور پر چھپی نہیں رہتیں۔ یہ ذہین لڑکی معلوم ہوتا ہے کہ محل کی خادمائوں سے راہ و رسم پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئی اور ان سے جب اس بات کی خبر ہوئی کہ بچہ کسی کا دودھ قبول نہیں کررہا تو وہ جرأت سے کام لیتے ہوئے خود ملکہ کے پاس پہنچ گئی اور کہا کہ میں ایک ایسے گھر کو جانتی ہوں جس کی فضا انتہائی صاف ستھری اور جس کے مکین انتہائی خیرخواہ اور محبت کرنے والے ہیں۔ اور اس گھر کی خاتون مجھے امید ہے کہ شوق سے اس خدمت کو قبول کرلے گی۔ اگر آپ چاہیں تو میں اس گھر کا پتہ آپ کو بتاسکتی ہوں۔ چناچہ اس ترکیب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے گھر اور اپنی والدہ کی آغوش میں جانے کا راستہ کھل گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو بلایا گیا۔ انھوں نے جیسے ہی بچے کو اپنی گود میں ڈالا، بچے نے نہایت شوق سے دودھ پینا شروع کردیا۔ ملکہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اور مقصود چونکہ دودھ پلانا نہ تھا بلکہ تربیت کے لیے کسی اچھے گھر کے حوالے کرنا بھی تھا۔ اس طرح یہ بچہ اپنی ماں کی آغوش اور اپنے گھر میں پہنچ گیا۔ بظاہر یہ بات ناقابلِ فہم معلوم ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کسی دودھ پلانے والی کا دودھ قبول کیوں نہیں کیا۔ اگر قرآن کریم نے اس عقدہ کو نہ کھولا ہوتا تو یہ عقدہ لاینحل رہ جاتا۔ چناچہ قرآن کریم نے اس عقدہ کو کھولتے ہوئے فرمایا کہ ” ہم نے موسیٰ پر مراضع کو حرام کردیا تھا۔ “ یہ مرضع کی جمع ہے۔ مصدر میمی میں بھی ہوسکتا ہے اور اسم ظرف بھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ پابندی لگا دی تھی کہ جہاں سے دودھ پھوٹتا ہے یعنی سینے سے، آپ اپنی ماں کے سوا کسی کے سینے کو منہ نہیں لگائیں گے۔ اور یہی وہ ترکیب تھی جس سے آپ ( علیہ السلام) کو ماں کی آغوش میں پہنچایا گیا۔
Ayah 28:13

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

پس ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو، اور تاکہ وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق اور سچ ہوتا ہے مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے

فَرَدَدْنٰـہُ اِلٰٓی اُمِّہٖ کَیْ تَقَرَّعَیْنُھَا وَلاَ تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ وَّلٰـکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (القصص : 13) (پس ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو، اور تاکہ وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق اور سچ ہوتا ہے مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کی آغوش میں واپسی اور اس کی حکمتیں اس سے پہلے ہم پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ موسیٰ کو دریا میں ڈال دیں اور حوصلہ رکھیں، ہم اسے آپ کی آغوش میں لوٹا کے لائیں گے اور اسے رسالت کے منصب پر فائز کریں گے۔ چناچہ اس وعدے کو پورا کرتے ہوئے اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ” ہم نے موسیٰ کو اس کی ماں کے پاس وعدے کے مطابق لوٹا دیا تاکہ ان کی والدہ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کا غم دور ہوجائے۔ “ اس سے ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بات کا وعدہ فرما لیتا ہے تو اسے ہر صورت پورا کرتا ہے، چاہے بظاہر اس کا ایفاء کتنا ہی مستبعد کیوں نہ نظر آئے۔ دنیا کی کوئی رکاوٹ اس کے فیصلے کو روک نہیں سکتی۔ اس بات کا یقین نامساعد حالات میں بھی جس طرح پیغمبر کو حوصلہ مند رکھتا ہے، اسی طرح ایمان لانے والوں کے لیے بھی اطمینان کا باعث ہوتا ہے۔ حالات چاہیں کتنے ہی برگشتہ کیوں نہ ہوں ایک مومن کو یقین ہوتا ہے کہ انھیں تاریکیوں سے کامیابی کا سورج طلوع ہوگا اور اس کے طلوع ہونے کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ اس یقین و ایمان سے تہی دامن ہوتے ہیں اس لیے حق و باطل کی کشمکش میں وہ ہمیشہ حالات کے تیور پہچانتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو نہیں پہچانتے۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح کمال حکمت سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی ماں کی آغوش میں پہنچایا اسی طرح اس تدبیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ ماں کا دودھ، آغوش کی گرمی، ہاتھوں کے لمس اور محبت کی ہمہ گیری نے محل کے ماحول سے اثر قبول کرنے کی بجائے آپ کو ایک ایسا نوجوان بنایا جس کی شریانوں میں نہ صرف اسرائیلی خون دوڑتا تھا بلکہ اس کے ذہن میں وہ تمام تصورات اور خیالات راسخ ہوگئے جو حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) کی وراثت تھے۔ خاندانی روایات، اپنی قوم اور اپنے مذہب سے محبت ان کے دل و دماغ میں اتر گئی۔ اور آپ ( علیہ السلام) جب تک مصر میں رہے طریقے طریقے سے بنی اسرائیل کی پاسبانی بھی کرتے رہے اور بنی اسرائیل کے نوجوانوں کے شعور کی آبیاری بھی کرتے رہے۔
Ayah 28:14

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنے شباب کو پہنچ گئے اور ان کی نشو و نما مکمل ہوگئی تو ہم نے انھیں حکم اور علم عطا فرمایا اور ہم خوبکاروں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں

وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَاسْتَوٰٓی اٰ تَیْنٰـہُ حُکْمًا وَّ عِلْمًا ط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (القصص : 14) (جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنے شباب کو پہنچ گئے اور ان کی نشو و نما مکمل ہوگئی تو ہم نے انھیں حکم اور علم عطا فرمایا اور ہم خوبکاروں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جوانی دودھ پینے کی عمر اور ابتدائی تربیت کا زمانہ اپنی والدہ کے پاس گزارنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے محل میں منتقل کردیئے گئے۔ وہیں لڑکپن اور عنفوانِ شباب کا زمانہ گزرا۔ دینی احساسات ماں کے دودھ کے ساتھ آپ کے اندر منتقل ہوئے اور ابتدائی تربیت میں یہی احساسات اعتقاداتِ صالحہ کی صورت اختیار کرگئے۔ اس طرح سے اپنی آبائواجداد کی وہ وراثت جو بنی اسرائیل میں خطرے کی حالت میں تھی اس سے وابستگی پیدا ہوگئی۔ فرعون کے محل میں آنے کے بعد جلد ہی آپ ( علیہ السلام) کی تعلیم کا زمانہ شروع ہوگیا کیونکہ یہ ممکن نہیں تھا کہ محل میں رہنے والا کوئی بچہ بھی جو شہزادوں کی طرح تربیت پا رہا ہو وہ اس دور کی مروج اور متداول تعلیم سے بیگانہ رہے۔ اس لیے بائیبل کی کتاب الاعمال میں بیان کردہ تفصیل صحیح معلوم ہوتی ہے کہ ” موسیٰ نے مصریوں کے تمام علوم کی تعلیم پائی اور وہ کام اور کلام میں قوت والا تھا۔ “ (7: 33) تلمود کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے گھر میں ایک خوبصورت جوان بن کر اٹھے، شہزادوں کا سا لباس پہنتے، شہزادوں کی طرح رہتے اور لوگ ان کی نہایت تعظیم و تکریم کرتے تھے۔ وہ اکثر جُشن کے علاقے میں جاتے جہاں اسرائیلیوں کی بستیاں تھیں اور ان تمام سختیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے جو ان کی قوم کے ساتھ قبطی حکومت کے ملازمین کرتے تھے۔ انہی کی کوشش سے فرعون نے اسرائیلیوں کے لیے ہفتہ میں ایک دن کی چھٹی مقرر کی۔ انھوں نے فرعون سے کہا کہ دائماً مسلسل کام کرنے کی وجہ سے یہ لوگ کمزور ہوجائیں گے اور حکومت ہی کے کام کو نقصان ہوگا، ان کی قوت بحال ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انھیں ہفتے میں ایک دن آرام کا دیا جائے۔ اسی طرح اپنی دانائی سے انھوں نے اور بہت سے ایسے کام کیے جن کی وجہ سے تمام ملک مصر میں ان کی شہرت ہوگئی تھی۔ (اقتباساتِ تلمود۔ ص 129) علم اور حکم کا مفہوم مندرجہ بالا اقتباسات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آیت کریمہ میں جس علم کا حوالہ دیا گیا ہے اس سے مراد دینی اور دنیوی علوم دونوں ہیں۔ اور حکم سے مراد حکمت، دانائی، فہم و فراست اور قوت فیصلہ ہے۔ اس حکم اور علم کے مختلف مدارج ہیں۔ اس کا اعلیٰ درجہ وہ ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کو حاصل ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن کریم نے جابجا یہی الفاظ انبیائے کرام کے لیے استعمال کیے ہیں۔ لیکن یہاں ظاہر ہے کہ وہ علم و حکمت مراد نہیں، کیونکہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ابتدائی زندگی کے احوال بیان ہورہے ہیں۔ نبوت تو آپ ( علیہ السلام) کو مدین سے واپسی پر کوہ طور پر عطا کی گئی ہے جبکہ آپ ( علیہ السلام) بھرپور جوانی کو پہنچ چکے اور آپ ( علیہ السلام) کی عقل اور مزاج میں اعتدال و توازن پیدا ہوگیا تھا۔ اسی اعتدال و توازن اور والدین کی تربیت کا شاید نتیجہ تھا کہ آپ ( علیہ السلام) کے اندر ایسے کردار نے جنم لیا جو جسمانی قوتوں، ذہنی صلاحیتوں اور طبیعت کے اعتدال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اور ایسے ہی لوگوں کو قرآن کریم میں محسنین کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے جو سیرت و کردار کے کمال کا آخری مرتبہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو یقینا بڑی ذمہ داریوں سے نوازتا ہے۔ عمر کا تعین قرآن کریم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صرف جسمانی اور ذہنی نشو و نما کی تکمیل کی بات کی ہے اور اس تکمیل کے بعد علم اور حکم کے عطا کرنے کا مژدہ سنایا ہے، لیکن عمر کا تعین نہیں فرمایا۔ یہودی روایات میں اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مختلف عمریں بتائی گئی ہیں۔ کسی نے 18 سال لکھی ہے، کسی نے 20 سال اور کسی نے 40 سال۔ بائیبل کے نئے عہد نامے میں 40 سال عمر بتائی گئی ہے۔ (اعمال 7: 23) لیکن جس ترتیب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے احوال بیان کیے جارہے ہیں اس میں اس بات کا امکان تو ہوسکتا ہے کہ اس وقت آپ ( علیہ السلام) کی عمر 18 یا 20 سال ہو۔ 40 سال کی عمر کسی طرح بھی قرین قیاس نہیں۔ اس لیے کہ 40 سال کی عمر نشو و نما کی عمر نہیں بلکہ یہ وہ عمر ہے جس میں صحت ڈھلنے لگتی ہے اور جذبات کی گرمی مدھم ہونے لگتی ہے۔ اس عمر میں نبوت کا ملنا یقینا سمجھ میں آنے والے بات ہے۔ کیونکہ نبوت جس قسم کی پاکیزگیِ فکر، سیرت و کردار کی بلندی اور قوت فیصلہ میں بلوغت کا تقاضا کرتی ہے اس کے لیے 40 سال کی عمر ہی صحیح عمر ہے۔ لیکن نشو و نما کی تکمیل کے فوراً بعد اپنے لیے خطرات کو انگیخت کرنا اور بنی اسرائیل کی گرتی ہوئی قوم کو سنبھالا دینے کی کوشش کرنا اور چھپتے چھپاتے ان مصیبت زدہ لوگوں کے حالات معلوم کرنے کی جستجو کرنا اور پھر ہاتھ کی ایک ضرب سے ایک شخص کا ڈھیر ہوجانا اور جس گھر میں پرورش پائی ہے ان کے کفر و شرک کو دیکھ کر بغاوت کے راستے پر چل پڑنا اور پھر مدین کی طرف ہجرت یہ سب باتیں بھرپور جوانی کا تقاضا کرتی ہیں، جس کے لیے 18، 20 سال کی عمر ہی موزوں نظر آتی ہے۔ (اللہ اعلم)
Ayahs 28:15–16

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور (ایک روز) وہ شہر میں داخل ہوئے جبکہ اہل شہر غفلت میں تھے تو آپ نے اس میں دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے پایا، ایک ان کے اپنے گروہ میں سے تھا اور دوسرا آپ کے دشمنوں کے گروہ میں سے، تو جو آپ کے گروہ میں سے تھا اس نے آپ سے اس شخص کے مقابل میں مدد کی درخواست کی جو آپ کے مخالفوں میں سے تھا، تو موسیٰ نے اس کے ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا، آپ نے کہا یہ کام شیطان کی انگیخت سے ہوا ہے، بیشک وہ ایک کھلا ہوا گمراہ کرنے والا دشمن ہے

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

حضرت موسیٰ نے دعا کی اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم ڈھایا، تو مجھے بخش دے، تو خدا نے آپ کو بخش دیا، بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا مہر بان ہے

وَدَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ عَلٰی حِیْنِ غَفْلَۃٍ مِّنْ اَھْلِھَا فَوَجَدَفِیْھَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ ق ز ھٰذَا مِنْ شِیْعَتِہٖ وَھٰذَا مِنْ عَدُوِّہٖ ج فَاسْتَغَاثَہُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِہٖ عَلَی الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّہٖ لا فَوَکَزَہٗ مُوْسٰی فَقَضٰی عَلَیْہِ ق ز قَالَ ھٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ ط اِنَّـہٗ عَدُوٌّمُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ۔ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَغَفَرَلَـہٗ ط اِنَّـہٗ ھُوَالْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ ۔ (القصص : 15، 16) (اور (ایک روز) وہ شہر میں داخل ہوئے جبکہ اہل شہر غفلت میں تھے تو آپ نے اس میں دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے پایا، ایک ان کے اپنے گروہ میں سے تھا اور دوسرا آپ کے دشمنوں کے گروہ میں سے، تو جو آپ کے گروہ میں سے تھا اس نے آپ سے اس شخص کے مقابل میں مدد کی درخواست کی جو آپ کے مخالفوں میں سے تھا، تو موسیٰ نے اس کے ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا، آپ نے کہا یہ کام شیطان کی انگیخت سے ہوا ہے، بیشک وہ ایک کھلا ہوا گمراہ کرنے والا دشمن ہے۔ حضرت موسیٰ نے دعا کی اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم ڈھایا، تو مجھے بخش دے، تو خدا نے آپ کو بخش دیا، بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا مہر بان ہے۔ ) مدینہ سے مراد آیتِ کریمہ میں مدینہ سے مراد وہ اصل شہر ہے جو شرفاء و اعیان کا مرکز اور حکومت کا مستقر تھا۔ یہ شہر اگرچہ دارالسلطنت تھا لیکن شاہی محلات معلوم ہوتا ہے عام آبادی سے باہر واقع تھے۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قیام بچپن ہی سے شاہی محلات میں تھا۔ بنی اسرائیل چونکہ ایک عرصے سے غلاموں اور خدمتگاروں کی حیثیت سے زندگی گزار رہے تھے اس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ ان کی بستی اصل شہر سے الگ بسائی گئی ہوگی۔ لیکن ان کا زیادہ تر وقت چونکہ قبطیوں کے گھروں، ان کے باغوں، ان کے کارخانوں اور ان کے بازاروں میں خدمت کرتے ہوئے گزرتا تھا۔ اس لیے ان کی زندگی کی تلخیاں اور محرومیاں اور ان پر ہونے والی زیادتیوں شہر ہی میں دیکھی جاسکتی تھیں۔ اور ان کی مدد کے لیے بھی شہر ہی میں جانے کی ضرورت تھی۔ شہر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آمد اور احتیاط کا سبب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب جوان ہوئے اور ان کے اندر وہ فتوت و مروت اور حمیت و غیرت پیدا ہوئی جو صالح جوانی اور علم و معرفت کا خاصہ ہے اور وہ بچپن میں اپنی والدہ سے یقینا یہ بات جان چکے تھے کہ میرا تعلق بنی اسرائیل سے ہے، قبطیوں یا شاہی خاندان سے نہیں، لیکن یہ ان کے لیے مناسب نہ تھا کہ وہ اس کا اظہار کرتے۔ لیکن فطری طور پر وہ بنی اسرائیل سے خونی تعلق کی بنا پر وقتاً فوقتاً شہر میں جاتے اور وہاں جا کر ان کے حالات معلوم کرتے اور نہایت حکمت و دانش سے جہاں تک ممکن ہوتا ان کی مدد کرنے کی کوشش کرتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حاسدوں کو پہلے سے اس بات کا شبہ تھا کہ یہ نوجوان لڑکا جو شاہی محل میں شہزادوں کی طرح پل رہا ہے کسی اسرائیلی کا بیٹا ہے اور اب آپ ( علیہ السلام) کا بنی اسرائیل کی طرف رجحان دیکھ کر انھیں اس بات کا پختہ یقین ہوتا جارہا تھا۔ اور آپ ( علیہ السلام) کی مظلوموں کے لیے مدد اور ان کے حقوق کی بازیابی کے لیے کوششیں انھیں کھٹکنے لگی تھیں۔ وہ شاہی خاندان سے تعلق کی وجہ سے ان کیخلاف کوئی اقدام کرنے سے تو قاصر تھے لیکن اندر ہی اندر ایک لاوا سا ضرور پک رہا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی اسے محسوس کیے بغیر نہ رہ سکے۔ اب آپ ( علیہ السلام) نے یہ احتیاط شروع کی کہ آزادانہ شہر میں گھومنے پھرنے کی بجائے وہ شہر میں اس وقت جاتے جب شہر کے ہنگاموں میں کمی آچکی ہوتی۔ چناچہ ایسے ہی ایک خاموش وقت میں جب شہر میں ہر طرف سناٹا تھا آپ ( علیہ السلام) شہر میں داخل ہوئے۔ بعض اہل علم کا گمان یہ ہے جن میں بعض متقدمین بھی شامل ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی کافرانہ زندگی دیکھ کر اس کے خلاف بغاوت کردی تھی۔ اس لیے آپ محل چھوڑ کر اسرائیلی بستیوں میں روپوش تھے۔ کبھی کبھی وہاں سے نکل کر حالات معلوم کرنے کے لیے نہایت مخفی انداز میں شہر میں تشریف لاتے تھے۔ لیکن یہ بات قرین قیاس معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ کسی اللہ کے رسول کے بارے میں ہمیں معلوم نہیں کہ اس نے نبوت سے پہلے کبھی وقت کی قوتوں سے تصادم مول لیا ہو۔ نبوت تک وہ ایک پاکیزہ لیکن خاموش زندگی گزارتے ہیں۔ بنا بریں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہ تصور کہ وہ وقت کی جابر قوتوں کے سامنے نبوت سے پہلے ہی اعلائے کلمۃ الحق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہوں ایک اجنبی بات معلوم ہوتی ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ اگر آپ واقعی فرعون اور آل فرعون کیخلاف بغاوت کی روش اختیار کرچکے ہوتے تو ان کا دیر تک روپوش رہنا اور پھر شہر میں آتے جاتے رہنا کسی طرح ممکن نہ تھا۔ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل سے ہمدردی رکھنے اور وقتاً فوقتاً ان کے کام آنے کے سلسلے میں آپ ( علیہ السلام) کے بارے میں ایک بدگمانی پیدا ہورہی تھی اور مقتدر قوتیں آپ ( علیہ السلام) کی روش کو دیکھ کر خوف محسوس کرنے لگی تھیں اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے یہی بہتر سمجھا کہ میں شہر میں ایسے وقت میں جاؤں جب حکومتی اور احتسابی عملہ عام طور پر گھروں کو جا چکا ہوتا ہے۔ چناچہ ایسے ہی وقت میں آپ شہر میں داخل ہوئے۔ آپ نے دیکھا کہ ایک قبطی اور ایک اسرائیلی آپس میں لڑ رہے ہیں۔ قبطی اسرائیلی پر تشدد کررہا تھا۔ اسرائیلی نے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا اور وہ جانتا تھا کہ آپ اسرائیلیوں سے گہری ہمدردی رکھتے ہیں تو اس نے آپ کو مدد کے لیے پکارا۔ آپ نے اس کو مظلوم دیکھ کر حمایتِ حق کے ارادے سے آگے بڑھ کر اس کی مدد کرنا چاہی اور قبطی کو زیادتی کرنے سے روکا۔ لیکن وہ چونکہ اپنے آپ کو حکمران قوم کا ایک فرد سمجھتا تھا اور اسرائیلی اس کی نگاہ میں اس قابل نہ تھا کہ اس کے مقابلے میں کوئی اس کی مدد کرے۔ چناچہ وہ اپنی اس رعونت کے سبب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے الجھ پڑا۔ کوئی تعجب نہیں کہ اس نے آپ پر ہاتھ اٹھایا ہو۔ آپ نے اپنی مدافعت میں اسے گھونسا مارا۔ ظاہر ہے کہ گھونسا کوئی ہتھیار نہیں جو قتل کے لیے استعمال ہوتا ہو۔ یہ تو محض مدافعت کا ایک ذریعہ ہے۔ لیکن وہ گھونسا ایسا بےڈھب پڑا کہ قبطی وہیں ڈھیر ہوگیا جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہ اس کا ارادہ رکھتے تھے اور نہ آپ کو اس کا گمان تھا۔ آپ کے ذہن میں فوراً یہ بات آئی کہ یہ جو کچھ ہوا یقینا اس میں شیطان کے اثرات کا دخل ہے۔ اولاً تو یہ بات کہ میں ایک قبطی کی رعونت سے اس قدر مشتعل ہوگیا کہ پوری قوت سے گھونسا دے مارا جبکہ مجھے ٹھنڈے دل سے اس معاملے کو نمٹانا چاہیے تھا۔ اور ثانیاً یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس واقعہ کے ذریعہ سے شیطان کسی بڑے تصادم کی بنیاد رکھنا چاہتا ہو، تاکہ وہ خطرہ پیش آنے سے پہلے جس سے فرعون اور آل فرعون خوفزدہ تھے اس کا قلع قمع کردیا جائے۔ لیکن آپ نے محض اسے عمل شیطان قرار دے کر اپنے آپ کو غیرمتعلق قرار نہیں دے دیا بلکہ اپنی کو تاہی فکر اور طیبعت کی بےصبری پر محمول کرتے ہوتے فوراً اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔ آپ نے اپنی غیرارادی غلطی کو بھی اپنا جرم سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلا دیئے کہ اے میرے رب مجھ سے بہت بڑی کوتاہی ہوئی ہے، میں اس اشتعال میں توازن باقی نہ رکھ سکا اور غیرارادی طور پر میرے ہاتھ سے ایک بڑا حادثہ پیش آگیا۔ آپ میری اس غیرارادی غلطی کو معاف فرما دیں۔ اور اس سے جو نتیجہ نکل سکتا ہے آپ اس پر پردہ ڈال دیں۔ کیونکہ مغفرت کا معنی جس طرح معافی ہے اسی طرح اس میں ڈھانپنے کا معنی بھی مضمر ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت کا دروازہ کھلا اور آپ کو معافی اور بخشش سے نواز دیا گیا۔ اور یہ بشارت بھی سنا دی گئی کہ اللہ تعالیٰ غفورالرحیم ہے۔ قرآن کریم نے اس واقعہ کو جس طرح بیان کیا ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ قتل آپ سے بلا ارادہ سرزد ہوا۔ لیکن آپ کے امتیوں نے جس طرح بائیبل میں اس واقعہ کو بیان کیا وہ بھی سن لیجیے۔ ” اتنے میں موسیٰ جب بڑا ہوا تو باہر اپنے بھائیوں کے پاس گیا اور ان کی مشقتوں پر اس کی نظر پڑی اور اس نے دیکھا کہ ایک مصری اس کے عبرانی بھائی کو مار رہا ہے، پھر اس نے ادھر ادھر نگاہ کی اور جب دیکھا کہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے تو اس مصری کو جان سے مار کر اسے ریت میں چھپا دیا۔ “ (خروج : 2: 11، 12)