28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsروح القرآن

Ayah 28:17

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

حضرت موسیٰ نے کہا اے میرے رب اس احسان کے بعد جو تو نے مجھ پر کیا ہے میں کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا

قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَکُوْنَ ظَہِیْرًالِّـلْمُجْرِمِیْنَ ۔ (القصص : 17) (حضرت موسیٰ نے کہا اے میرے رب اس احسان کے بعد جو تو نے مجھ پر کیا ہے میں کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔ ) آئندہ کے لیے احتیاط کا عہد سیاقِ کلام کو دیکھتے ہوئے اس کا جو سادہ سا مفہوم سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں ایک قبطی کے مارے جانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ غیرارادی طور پر مجھ سے جو فعل سرزد ہوا ہے اس میں اگرچہ میری نیت شامل نہ تھی لیکن ہوسکتا ہے کہ ایسے واقعہ پر جیسا ردعمل میری طرف سے ہوا اس میں توازن نہ رہا ہو۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے فوری طور پر معافی مانگی اور یہ بھی استدعا کی کہ اس عمل پر پردہ ڈال دیا جائے تاکہ کسی فوری اشتعال کا سبب نہ بنے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس درخواست کو قبول فرمایا، آپ کی مغفرت فرما دی اور اس واقعہ پر پردہ ڈال دیا، کیونکہ کوئی دیکھنے والا شخص ادھر سے نہیں گزرا اور آپ کو وہاں سے نکلنے کا موقع مل گیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ ایک غیرارادی فعل سے پروردگار کا مجھے بری الذمہ نہ ٹھہرانا، لیکن معافی کا قبول کرلینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مجھ سے اس معاملے میں غلطی ہوئی ہے۔ اور وہ غلطی یہ ہے کہ میں نے اس معاملے میں قبطی کو ذمہ دار سمجھا اور اسرائیلی کو بےگناہ جانا۔ اور اسی وجہ سے میں نے قبطی سے اسرائیلی کو بچانا چاہا جبکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ اس طرح سے غیرشعوری طور پر میں بےگناہ کو ظالم سمجھ کر اور قصوروار کو بےگناہ قرار دے کر غلطی کا ارتکاب کر بیٹھا۔ مجھے چاہیے تھا کہ میں ٹھنڈے دل سے دونوں کے معاملے پر غور کرتا اور غور و فکر کے بعد مناسب ردعمل پر اقدام کرتا۔ لیکن پروردگار نے میری غلطی کی طرف اشارہ تو فرمایا لیکن ساتھ ہی اپنے غفورالرحیم ہونے کا حوالہ دے کر میرے ساتھ مغفرت کا معاملہ فرمایا۔ اس پر میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ اور آئندہ عہد کرتا ہوں کہ میں تحقیق کیے بغیر کسی کی مدد کرنے کا فیصلہ نہیں کروں گا۔ بعض اہل علم نے اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں قبطی کا مارا جانا بہرحال ایک قصور تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں غیرارادی طور پر سرزد ہوگیا تھا۔ پروردگار نے اس پر نہ صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) معاف کردیا بلکہ اس پر اس طرح پردہ ڈال دیا کہ قبطی قوم کے کسی فرد اور قبطی حکومت کے کسی آدمی کا اس وقت اس کے آس پاس کہیں گزر نہ ہوا کہ وہ قتل کے اس واقعہ کو دیکھ لیتا۔ اس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خاموشی کے ساتھ موقع واردات سے نکل جانے کا موقع مل گیا۔ اس احسان پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک ایسا عہد کیا جو بہت وسیع معنی رکھتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ میں آئندہ زندگی میں کبھی ان لوگوں کا ساتھی نہیں بنوں گا جن کا شعار ظلم و ستم کرنا ہے۔ میری امداد و اعانت ہمیشہ حق اور اہل حق کے لیے ہوگی۔ ابن جریر اور متعدد دوسرے مفسرین نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ اس روز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی حکومت سے قطع تعلق کرلینے کا عہد کرلیا، کیونکہ وہ ایک ظالم حکومت تھی اور اس نے اللہ تعالیٰ کی زمین پر ایک مجرمانہ نظام قائم کر رکھا تھا۔ اسی سے علماء نے استدال کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ایک مومن کو ظالم کی اعانت سے کامل اجتناب کرنا چاہیے۔ خواہ وہ ظالم فرد ہو یا گروہ، یا حکومت و سلطنت۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے مَنْ مَشٰی مَعَ الظَّالِمِ وَھُوَیَعْلَمُ اَنَّـہٗ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْاِسْلَاَمِ ” جو شخص ظالم کا ساتھ دیتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے نکل گیا۔ “ اسی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ ہمارے اسلاف نے ہمیشہ ظالم حکومت کی ملازمت کو ناپسند کیا بلکہ بعض نے تو اپنی جان پر کھیل کر ظالم کا ساتھ دینے سے اجتناب کیا۔ امام ابوحنیفہ ( رح) کے واقعات اس سلسلے میں تمام مستند سوانح نگاروں نے سپردقلم کیے ہیں۔
Ayahs 28:18–19

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

پس دوسرے روز حضرت موسیٰ شہر میں داخل ہوئے ڈرتے ہوئے اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتے ہوئے تو اچانک آپ نے دیکھا کہ وہی شخص جس نے کل آپ کو مدد کے لیے پکارا تھا، آج پھر آپ کو پکار رہا ہے، حضرت موسیٰ نے اس سے کہا کہ تو، تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

پھر جب حضرت موسیٰ نے ارادہ کیا کہ پکڑیں اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا۔ تو وہ بول اٹھا کہ اے موسیٰ ! کیا تم آج مجھے قتل کرنا چاہتے ہو، جس طرح تم نے کل ایک شخص کو قتل کیا، تم اس ملک میں ایک جبار بننے کا ارادہ کررہے ہو، تم اصلاح کرنے والوں میں سے نہیں بننا چاہتے

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَۃِ خَآئِفًایَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَـنْصَرَہٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُہٗ ط قَالَ لَـہٗ مُوْسٰٓی اِنَّـکَ لَغَوٍیٌّ مُّبِیْنٌ۔ فَلَمَّـآ اَنْ اَرَادَاَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ ھُوَعَدُوٌّلَّہُمَالا قَالَ یٰمُوْسٰٓی اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ کَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا م بِالْاَمْسِصلے ق اِنْ تُرِیْدُ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَمَا تُرِیْدُ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ ۔ (القصص : 18، 19) (پس دوسرے روز حضرت موسیٰ شہر میں داخل ہوئے ڈرتے ہوئے اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتے ہوئے تو اچانک آپ نے دیکھا کہ وہی شخص جس نے کل آپ کو مدد کے لیے پکارا تھا، آج پھر آپ کو پکار رہا ہے، حضرت موسیٰ نے اس سے کہا کہ تو، تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے۔ پھر جب حضرت موسیٰ نے ارادہ کیا کہ پکڑیں اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا۔ تو وہ بول اٹھا کہ اے موسیٰ ! کیا تم آج مجھے قتل کرنا چاہتے ہو، جس طرح تم نے کل ایک شخص کو قتل کیا، تم اس ملک میں ایک جبار بننے کا ارادہ کررہے ہو، تم اصلاح کرنے والوں میں سے نہیں بننا چاہتے۔ ) عہد کے پاس کے لیے مزید احتیاط حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے معمول کے مطابق دوسرے روز اس حال میں شہر میں داخل ہوئے کہ آپ ( علیہ السلام) خوفزدہ بھی تھے اور حالات کو سونگھتے ہوئے پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے نہایت احتیاط سے آگے بڑھ رہے تھے۔ یوں تو احتیاط آپ پہلے بھی کرتے تھے کیونکہ آپ جانتے تھے کہ جس طرح میں طریقے طریقے سے اسرائیلیوں کی حمایت کر رہا ہوں اور ان کے معاملات کی درستگی کے لیے کوشاں ہوں اس سے قوم کے بعض بڑے لوگ مجھے شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ آخر اسرائیلیوں سے آپ ( علیہ السلام) کی ہمدردی کا سبب کیا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کا نسبی تعلق بنی اسرائیل سے ہو اور بنی اسرائیل نے بڑی ہوشیاری سے آپ کو فرعون کے محل میں پہنچا دیا ہو۔ لیکن ابھی تک ان باتوں کی حیثیت صرف واہموں کی تھی کیونکہ فرعون اور اس کے اہل خانہ کی طرف سے ابھی تک کوئی ایسی بات ظہورپذیر نہیں ہوئی تھی جس سے محل چھوڑنے کی نوبت آتی اور ریاست کا قانون آپ کیخلاف حرکت میں آتا۔ لیکن آپ کے ہاتھوں ایک قبطی کے مارے جانے کی وجہ سے آپ زیادہ محتاط ہوگئے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس موت کا راز کھل جائے تو قبطی میرے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ اس لیے آپ حالات کی ٹوہ لیتے ہوئے شہر میں داخل ہوئے، لیکن آپ کیا دیکھتے ہیں کہ وہی شخص جو کل ایک قبطی سے لڑ رہا تھا وہی آج بھی ایک قبطی سے الجھا ہوا ہے اور آپ کو مدد کے لیے پکار رہا ہے۔ آپ اس کی یہ حالت دیکھ کر فوراً سمجھ گئے کہ میں نے کل اس کو مظلوم سمجھ کر اس کی مدد کی اور اس کے نتیجے میں ایک انسانی جان ضائع ہوگئی۔ لیکن یہ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خود بہکا ہوا، بگڑا ہوا اور شریر آدمی ہے۔ چناچہ آپ نے اس کو ڈانٹا کہ تم تو ایک کھلے ہوئے شریر آدمی ہو۔ پھر آپ اس خیال سے آگے بڑھے کہ بجائے اس شخص کی مدد کرنے کے میں دونوں کو سمجھا بجھا کر معاملہ رفع دفع کردیتا ہوں، لیکن قبطی اپنے نسبی غرور اور حکومت سے تعلق کے زعم میں آپ کی مصالحانہ کوششوں کی قدر کرنے کی بجائے آپ سے الجھنے لگا۔ چناچہ اب آپ کے لیے ضروری ہوگیا کہ اس کو طاقت سے اسرائیلی سے الگ کردیں۔ چناچہ جیسے ہی آپ اس کی طرف بڑھے تو اسرائیلی نے یہ سمجھا کہ چونکہ مجھے اس سے پہلے ڈانٹ پلا چکے ہیں اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ وہ گھونسا جو کل جو قبطی پر پڑا تھا، آج مجھ پر پڑے گا۔ اس لیے اس نے شور مچا دیا کہ اے موسیٰ ! تم نے جس طرح کل ایک آدمی کو مار ڈالا تھا، معلوم ہوتا ہے آج مجھے مار ڈالو گے۔ ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ تم ایک مصلح بن کر اٹھے ہو، لیکن تمہارے رویئے سے محسوس ہوتا ہے کہ تم ایک مطلق العنان اور بےقابو آدمی بن کر زندگی بسر کرنا چاہتے ہو۔ تمہیں جو شاہی مراعات کا تحفظ حاصل ہے اس سے اصلاح کا کام لینے کی بجائے اپنی طاقت میں اضافے اور اپنی ہیبت بٹھانے کے لیے کام لینا چاہتے ہیں۔ اس طرح سے اس نے نہایت کمینگی کا ثبوت دیتے ہوئے قبطی کے قتل کا راز فاش کردیا۔ اور اس طرح سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے مہیب خطرات پیدا کردیئے۔
Ayah 28:20

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور شہر کے پرلے سرے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا، اے موسیٰ ! عیانِ حکومت تمہارے قتل کے مشورے کررہے ہیں یہاں سے نکل جائو، میں تمہارے خیرخواہوں میں سے ہوں

وَجَآئَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَاالْمَدِیْنَۃِ یَسْعٰیز قَالَ یٰـمُوْسٰٓی اِنَّ الْمَلَاَیَاْ تَمِرُوْنَ بِکَ لِیَقْتُلُوْکَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَـکَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ ۔ (القصص : 20) (اور شہر کے پرلے سرے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا، اے موسیٰ ! عیانِ حکومت تمہارے قتل کے مشورے کررہے ہیں یہاں سے نکل جاؤ، میں تمہارے خیرخواہوں میں سے ہوں۔ ) ایک صالح آدمی کی خیر خواہی معلوم ہوتا ہے کہ قبطی کے قتل کی خبرشہر میں تیزی سے پھیل گئی اور قوم کے وہ اشراف جو پہلے سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بدگمان تھے اور آپ ( علیہ السلام) کے خلاف ادھار کھائے بیٹھے تھے انھیں دیگر عمائدینِ حکومت کو آپ کیخلاف اکٹھا کرنے کا موقع مل گیا۔ ممکن ہے اس وقت آپ اسرائیلیوں کی بستی میں ہوں اور یہ بستی چونکہ شہر سے فاصلے پر تھی اس لیے یہاں فرمایا گیا کہ ” شہر کے پرلے سرے سے ایک شخص آپ کے پاس بھاگتا ہوا پہنچا۔ “ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ اس وقت فرعون کے محل میں ہوں اور ابھی تک محل میں اس بری خبر نے اثرات پیدا نہ کیے ہوں۔ تو شہر کے ایک کنارے سے محل میں اطلاع دینے کے لیے ایک شخص بھاگتا ہوا آیا اور یہ بات سمجھ میں آنے والی ہے کہ شاہی محلات شہر سے باہر واقع ہوں گے، کیونکہ حکمران عام طور پر شہر میں رہا نہیں کرتے۔ آیت کریمہ میں یَسْعٰی کا لفظ یہ ظاہر کررہا ہے کہ اطلاع دینے والا یقینا کوئی مخلص شخص تھا اور وہ آپ کی سلامتی کے بارے میں نہایت متفکر تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی تھی کہ آپ کے قتل کی منصوبہ بندی تیزی سے تکمیل کو پہنچ رہی تھی اور وہ شخص اس سے واقف تھا۔ اس لیے اس نے آکر کہا کہ اے موسیٰ ! تمہارے قتل کی سازش ہورہی ہے اور عمائدینِ سلطنت اس سازش میں شریک ہیں۔ اس لیے اب بچائو کی ایک ہی صورت ہے کہ تم فوراً یہاں سے نکل جاؤ۔ سوال یہ ہے کہ یہ شخص کون تھا ؟ تاریخ ہمیں کوئی مصدقہ اطلاع فراہم نہیں کرتی۔ البتہ قرآن کریم نے سورة مومن میں آل فرعون کے ایک مومن کا ذکر کیا ہے جو آپ کی نبوت کے اعلان کے بعد آپ پر ایمان لایا لیکن اس نے اپنے ایمان کو مخفی رکھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص شروع ہی سے آپ کے خیرخواہوں میں سے تھا۔ اور چونکہ اس کا تعلق شاہی خاندان میں سے تھا اس لیے وہ بروقت سازشوں سے باخبر بھی ہوجاتا اور موقع پا کر موثر طریقے سے آپ کا دفاع بھی کرتا۔
Ayah 28:21

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

یہ خبر سنتے ہی) حضرت موسیٰ وہاں سے ڈرتے اور ٹوہ لیتے نکل کھڑے ہوئے اور آپ نے دعا کی کہ اے میرے رب ! مجھے ظالموں کی قوم سے بچا

فَخَرَجَ مِنْھَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (القصص : 21) (یہ خبر سنتے ہی) حضرت موسیٰ وہاں سے ڈرتے اور ٹوہ لیتے نکل کھڑے ہوئے اور آپ نے دعا کی کہ اے میرے رب ! مجھے ظالموں کی قوم سے بچا۔ ) خطرے سے نکلتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ خطرہ سر پر آپہنچا ہے اور اس ریاست کے ظالمانہ نظام میں انصاف حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ عافیت کا ایک ہی راستہ ہے کہ اس سرزمین سے نکلنے کی کوشش کی جائے۔ چناچہ آپ اس طرح مصر سے نکلے کہ دل اندیشوں سے معمور تھا اور نہایت پھونک پھونک کے قدم رکھ رہے تھے۔ کیونکہ یہ سرزمین اور اس کے رہنے والے اقتدار کے مقابلے میں کسی مظلوم کی دادرسی کرنا جانتے ہی نہ تھے۔ اور پھر یہ بھی اندیشہ تھا کہ فرعونیوں کی طرف سے آپ کا تعاقب کیا جائے گا۔ اس لیے آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے میرے رب ! مجھے ان ظالموں سے نجات عطا فرما، ان کی دست برد سے بچا اور میرے لیے محض اپنی رحمت سے کوئی پناہ کی جگہ مہیا فرما۔
Ayah 28:22

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے مدین کا رخ کیا تو آپ نے دعا کی امید ہے کہ میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری رہنمائی فرمائے گا

وَلَمَّا تَوَجَّہَ تِلْقَـآئَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰی رَبِّیْٓ اَنْ یَّھْدِیَـنِیْ سَوَآئَ السَّبِیْلِ ۔ (القصص : 22) (اور جب موسیٰ نے مدین کا رخ کیا تو آپ نے دعا کی امید ہے کہ میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری رہنمائی فرمائے گا۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین کو قصد جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر کے اعیانِ حکومت کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ آپ کے قتل کی سازش تیار کررہے ہیں اور اب مصر کی سرزمین آپ کے لیے تنگ ہوتی جارہی ہے تو آپ نے فوری طور پر مصر چھوڑ دینے کا ارادہ کیا۔ بائیبل بھی قرآن کریم کے اس بیان سے متفق ہے کہ آپ ( علیہ السلام) نے مصر سے نکل کر مدین کا رخ کیا تھا۔ لیکن تلمود کا بیان اس سے یکسر مختلف ہے۔ وہ ایک بےسروپا قصے کی شکل میں آپ ( علیہ السلام) کا پہلے افریقہ جانے، وہاں کئی سال تک حکومت کرنے اور پھر مدین پہنچنے کا ذکر کرتا ہے۔ لیکن یہ قصہ قابل توجہ نہیں۔ نہ تو تاریخ اس کی تائید کرتی ہے اور نہ افریقہ، شمالی عراق، مصر اور فلسطین و شام کا جغرافیہ اس کی تائید کرسکتا ہے۔ البتہ یہ بات کہی جاسکتی ہے اور قرائن بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ مدین جانے کا آپ ( علیہ السلام) کا ارادہ اچانک وجود میں آیا، اس سے پہلے آپ ( علیہ السلام) کو اس کا گمان تک نہ تھا۔ اور یہ بات بھی آپ کے علم میں نہ تھی کہ مدین پہنچ کر میرا مستقر کیا ہوگا۔ مدین چونکہ آپ کے قریب پڑتا تھا اس لیے آپ نے جلدی میں ادھر کا رخ کیا۔ اور چونکہ اس کے لیے تیاری نہ تھی اس لیے پروردگار سے بطورخاص التجا کی کہ وہ مجھے سیدھی راہ کی ہدایت عطا فرمائے اور کوئی اچھا مستقر نصیب فرمائے۔ مدین اس زمانے میں سلطنتِ مصر کا حصہ نہ تھا۔ کیونکہ مصر کی حکومت پورے جزیرہ نمائے سینا پر محیط نہ تھی بلکہ صرف اس کے مغربی اور جنوبی علاقے تک محدود تھی۔ خلیجِ عقبہ کے مشرقی اور مغربی سواحل جن پر بنی مدیان آباد تھے مصری اثر و اقتدار سے بالکل آزاد تھے۔ اسی بنا پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر سے نکلتے ہی مدین کا رخ کیا تھا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ وہاں جانے کے لیے انھیں مصر کے مقبوضہ علاقوں ہی سے گزر کر جانا تھا۔ اور اندیشہ تھا کہ مصر کی پولیس اور فوجی چوکیاں آپ کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنیں۔ اس لیے آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے ایسے راستے پر ڈال دے جس سے میں صحیح سلامت مدین پہنچ جاؤں۔
Ayah 28:23

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب حضرت موسیٰ مدین کے کنویں پر پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان سے ورے دو عورتوں کو دیکھا جو اپنی بکریوں کو روکے کھڑی تھیں تو موسیٰ نے ان سے پوچھا، تمہارا کیا ماجرا ہے، انھوں نے کہا ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتے جب تک چرواہے اپنی بکریاں ہٹا نہ لیں، اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں

وَلَمَّا وَرَدَمَـآئَ مَدْیَنَ وَجَدَعَلَیْہِ اُمَّۃً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ 5 ز وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِھِمُ امْرَاَ تَیْنِ تَذُوْدٰنِ ج قَالَ مَاخَطْبُکُمَا ط قَالَتَا لاَ نَسْقِیْ حَتّٰی یُصْدِرَالرِّعَآ ئُ سکتۃ وَاَبُوْنَا شَیْخٌ کَبِیْرٌ۔ (القصص : 23) (اور جب حضرت موسیٰ مدین کے کنویں پر پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان سے ورے دو عورتوں کو دیکھا جو اپنی بکریوں کو روکے کھڑی تھیں تو موسیٰ نے ان سے پوچھا، تمہارا کیا ماجرا ہے، انھوں نے کہا ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتے جب تک چرواہے اپنی بکریاں ہٹا نہ لیں، اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں۔ ) مَـآئَ سے مراد چشمہ بھی ہوسکتا ہے اور کنواں بھی۔ تورات میں کنویں ہی کا ذکر آیا ہے۔ ویسے پہاڑی چشمے بھی کنوئوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوتے۔ آیت کی تشریح سے پہلے اس مقام کی وضاحت ضروری ہے جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پہنچے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی منزل عربی روایات کے مطابق خلیجِ عقبہ کے غربی ساحل پر مقنا سے چند میل بجانب شمال وہ مقام واقع تھا۔ آج کل اسے البدع کہتے ہیں اور وہاں ایک چھوٹا سا قصبہ آباد ہے۔ میں نے دسمبر 1959 ء میں تبوک سے عقبہ جاتے ہوئے اس جگہ کو دیکھا ہے۔ مقامی باشندوں نے مجھے بتایا کہ ہم باپ دادا سے یہی سنتے چلے آئے ہیں کہ مدین اسی جگہ واقع تھا۔ یوسیفوس سے لے کر برٹن تک قدیم و جدید سیاحوں اور جغرافیہ نویسوں نے بھی بالعموم مدین کی جائے وقوع یہی بتائی ہے۔ اس کے قریب تھوڑے فاصلے پر وہ جگہ ہے جسے اب مغائر شعیب یا مغارات شعیب کہا جاتا ہے۔ اسی جگہ ثمودی طرز کی کچھ عمارات موجود ہیں۔ اور اس سے تقریباً میل ڈیڑھ میل کے فاصلے پر کچھ قدیم کھنڈر ہیں جن میں دو اندھے کنویں ہم نے دیکھے۔ مقامی باشندوں نے ہمیں بتایا کہ یقین کے ساتھ ہم نہیں کہہ سکتے لیکن ہمارے ہاں روایات یہی ہیں کہ ان دونوں میں سے ایک کنواں وہ تھا جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بکریوں کو پانی پلایا ہے۔ یہی بات ابوالفداء (متوفی 732 ھ) نے تقویم البلدان میں اور یاقوت نے معجم البلدان میں ابوزید انصاری (متوفی 216 ھ) کے حوالے سے لکھی ہے کہ اس علاقے کے باشندے اسی مقام پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس کنویں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت صدیوں سے وہاں کے لوگوں میں متوارث چلی آرہی ہے اور اس بنا پر اعتماد کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید میں جس مقام کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہی ہے۔ (تفہیم القرآن) مدین میں پہلا پڑائو اور سبق آموز واقعات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب مدین پہنچے تو آپ ( علیہ السلام) مدین کے کنویں یا چشمہ کے پاس جا بیٹھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس بستی میں یہ کنواں یا چشمہ ایک نمایاں اور معروف جگہ ہوگی جہاں قریب قریب سایہ دار درخت ہوں گے وہاں آپ ( علیہ السلام) نے دیکھا کہ چرواہوں کی ایک بھیڑ اپنے اپنے گلوں کو پانی پلا رہی تھی اور دو عورتیں اپنے گلوں کو روکے ہوئے ان سے کچھ فاصلے پر کھڑی تھی۔ اور آیت میں تَذُوْدٰن کا لفظ اشارہ کررہا ہے کہ گلے کے جانور گھاٹ پر پہنچ کر پانی پینے کے لیے بیتاب ہورہے تھے اور وہ دونوں لڑکیاں کوشش سے ان کو روکے کھڑی تھیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ دیکھ کر تعجب ہوا تو آپ ( علیہ السلام) نے آگے بڑھ کر پوچھا کہ آپ دونوں کا کیا ماجرا ہے ؟ یعنی آپ آگے بڑھ کر ان بھیڑبکریوں کو پانی کیوں نہیں پینے دیتیں۔ اس سوال کے انداز اور اس کے الفاظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شریف لوگوں کے یہاں عام طور پر نوجوان لڑکیاں گلہ بانی کا فرض انجام نہیں دیتیں، یہ کام تو مردوں کے ہیں۔ تو آپ اس کے لیے کیوں کھڑی ہیں ؟ تو لڑکیوں نے جواب میں کہا کہ ہمارے لیے یہ بات ممکن نہیں ہے کہ ہم اس بھیڑ کے اندر گھس کر اپنے گلے کو پانی پلا سکیں۔ کیونکہ ہم شریف زادیاں ہیں، ہمیں اندازہ ہے کہ مردوں کے اندر گھس کر اور طاقت استعمال کرتے ہوئے انھیں کی طرح کام کرنا ہمارے شایانِ شان نہیں۔ رہی یہ بات کہ پھر ہم اس کام کے لیے کیوں نکلی ہیں تو یہ ہماری مجبوری ہے کیونکہ ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ یہ کام کر نہیں سکتے، اور ہمارا کوئی بھائی نہیں، جان و تن کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے ہم یہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں عورتوں اور مردوں کے دائرہ کار الگ الگ سمجھے جاتے تھے۔ اور اگر عورتوں کو کسی مجبوری کی وجہ سے کوئی اس طرح کی خدمت انجام دینی ہی پڑتی تھی جو مردوں کے دائرہ کار سے تعلق رکھنے والی ہو تو وہ نہایت احتیاط، وقار اور رکھ رکھائو کے ساتھ حتی الامکان مردوں سے الگ رہتے ہوئے انجام دی جاتی تھی۔ مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کا کوئی تصور نہ تھا۔
Ayah 28:24

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

پس (یہ سن کر) موسیٰ نے ان دونوں کی خاطر جانوروں کو پانی پلا یا، پھر سائے کی طرف ہٹ گئے اور دعا کی اے میرے رب ! جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کردے، میں اس کا محتاج ہوں

فَسَقٰی لَھُمَا ثُمَّ تَوَلّٰیٓ اِلَی الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍفَـقِیْرٌ۔ (القصص : 24) (پس (یہ سن کر) موسیٰ نے ان دونوں کی خاطر جانوروں کو پانی پلا یا، پھر سائے کی طرف ہٹ گئے اور دعا کی اے میرے رب ! جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کردے، میں اس کا محتاج ہوں۔ ) ایک واقعہ کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اثر ان شریف زادیوں کی یہ بات سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جذبہ حمایتِ ضعیف میں تحریک پیدا ہوئی۔ وہ اٹھے اور تنہا کنویں سے پوری قوت سے ڈول کھینچ کر جانوروں کو پانی پلایا اور پھر پہلے جس درخت کے سائے میں بیٹھے تھے، وہیں جا کر بیٹھ گئے۔ نہ ان شریف زادیوں کی طرف دیکھنے کی زحمت کی اور نہ ان سے مزید کوئی بات کرنا مناسب سمجھا۔ کیونکہ ان کی طرف متوجہ ہونا کمزوروں کی مدد کا تقاضا تھا۔ اس سے زائد توجہ کرنا، پھر بات کرنے کی کوشش کرنا یہ ایسی دلچسپی کا اظہار تھا جو شرفاء کے لیے کبھی مناسب نہیں ہوتا۔ اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیئے۔ دعا کے الفاظ اس قدر مختصر اور اس قدر حُسنِ ایجاز سے مرصع ہیں کہ قلم اس کی تعریف کرنے سے عاجز ہے۔ آپ ( علیہ السلام) چونکہ نہایت بےسروسامان ہر طرح کی ضرورت سے تہی دامن اور گزشتہ 8 دنوں سے مسلسل فاقوں کی زد میں تھے۔ بےساختہ التجا کی کہ یا اللہ جو بھی خیر کی کوئی بات اس وقت تو نازل فرمائے، میں سب سے زیادہ اس کا محتاج ہوں۔ خیر کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے کہ جس طرح یہ لفظ بڑی سے بڑی سچائی اور حقیقت پر بولا جاتا ہے اسی طرح مال و دولت اور انسانی ضرورتوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ آپ ( علیہ السلام) چونکہ برسرراہ ایک ایسے مسافر کی حیثیت سے ایک درخت کے سائے میں بیٹھے تھے جس کے پاس نہ کھانے کو کچھ تھا اور نہ کوئی سر چھپانے کی جگہ تھی۔ اور آئندہ کیا صورت پیش آنے والی ہے اس کا کوئی سروسامان نہ تھا۔ اس لیے آپ نے صرف ایک لفظ میں ان تمام ضرورتوں کو سمیٹ لیا۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جو دعا ٹھیک وقت میں ٹھیک طریقے سے اخلاص کی قوت کے ساتھ مانگی جائے وہ کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ ادھر دعا کے الفاظ منہ سے نکلے، ادھر درِ اجابت کھل گیا۔ اور مظلوموں کے لیے تو اللہ تعالیٰ کا قانون اور بھی نازک واقع ہوا ہے۔ سچ کہا کسی نے : بترس از آہ مظلوماں کہ ہنگامِ دعا کردن اجابت از درحق بہر استقبال می آید ان صاحبزادیوں کے والد کون تھے ؟ ان خواتین کے والد کے متعلق ہمارے ہاں کی روایات میں یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے۔ لیکن قرآن مجید میں اشارۃً و کنایۃً بھی کوئی بات ایسی نہیں کہی گئی ہے جس سے یہ سمجھا جاسکے کہ وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) ہی تھے۔ حالانکہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی شخصیت قرآن میں ایک معروف شخصیت ہے۔ اگر ان خواتین کے والد وہی ہوتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ یہاں اس کی تصریح نہ کردی جاتی۔ بلاشبہ بعض احادیث میں ان کے نام کی تصریح ملتی ہے لیکن علامہ ابن جریر اور ابن کثیر دونوں اس پر متفق ہیں کہ ان میں سے کسی کی سند بھی صحیح نہیں ہے۔ اسی لیے ابن عباس، حسن بصری، ابوعبیدہ اور سعید بن جبیر جیسے اکابر مفسرین نے بنی اسرائیل کی روایات پر اعتماد کرکے ان بزرگ کے وہی نام بتائے ہیں جو تلمود وغیرہ میں آئے ہیں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اگر نبی کریم ﷺ سے اسم شعیب کی تصریح منقول ہوتی تو یہ حضرات کوئی دوسرا نام نہ لے سکتے تھے۔ بائیبل میں ایک جگہ ان بزرگ کا نام رعوایل اور دوسری جگہ یترو بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ مدین کے کاہن تھے۔ (خروج باب 2: 12۔ 18۔ باب 3: 1۔ باب 18: 5) ۔ تلمود لٹریچر میں رعوایل، یتھرو اور حوباب تین مختلف نام بتائے گئے ہیں۔ موجودہ زمانے کے علمائے یہود کا خیال ہے کہ یتھرو ہز اکسی لنسی کا ہم معنی لقب تھا اور اصل نام رعوایل یا حوباب تھا۔ اسی طرح لفظ کاہن (Kohen Midian) کی تشریح میں بھی علماء یہود کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض اس کو پروہت (Priest) کا ہم معنی بتاتے ہیں اور بعض رئیس یا امیر (Price) کا۔ تلمود میں ان کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے فرعون کے ہاں ان کی آمدورفت تھی اور وہ ان کے علم اور اصابت رائے پر اعتماد رکھتا تھا۔ مگر جب بنی اسرائیل کا استیصال کرنے کے لیے مصر کی شاہی کونسل میں مشورے ہونے لگے اور ان کے لڑکوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کردینے کا فیصلہ کیا گیا تو انھوں نے فرعون کو اس غلط کام سے روکنے کی کوشش کی، اسے اس ظلم کے برے نتائج سے ڈرایا اور رائے دی کہ اگر ان لوگوں کا وجود آپ کے لیے ناقابلِ برداشت ہے تو انھیں ان کے باپ دادا کے ملک کنعان کی طرف نکال دیجیے۔ اس پر فرعون ان سے ناراض ہوگیا اور اس نے انھیں ذلت کے ساتھ اپنے دربار سے نکلوا دیا۔ اس وقت سے وہ اپنے ملک مدین ہی میں اقامت گزیں ہوگئے تھے۔ ان کے مذہب کے متعلق قیاس یہی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح وہ بھی دین ابراہیمی کے پیرو تھے۔ کیونکہ جس طرح حضرت موسیٰ اسحاق بن ابراہیم (علیہما السلام) کی اولاد تھے اسی طرح وہ مدیان بن ابراہیم کی اولاد میں سے تھے۔ یہی تعلق غالباً اس کا موجب ہوا ہوگا کہ انھوں نے فرعون کو بنی اسرائیل پر ظلم کرنے سے روکا اور اس کی ناراضی مول لی۔ مفسر نیسابوری نے حضرت حسن بصری کے حوالہ سے لکھا ہے کہ انہ کان رجلا مسلما قَبِل الدین مِن شعیب (وہ ایک مسلمان آدمی تھے۔ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کا دین انھوں نے قبول کرلیا تھا) ۔ تلمود میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ مدیانیوں کی بت پرستی کو علانیہ حماقت قرار دیتے تھے، اس وجہ سے اہل مدین ان کے مخالف ہوگئے تھے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 28:25

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

کچھ دیر نہ گزری تھی) کہ ان دونوں میں سے ایک شرماتی ہوئی موسیٰ کے پاس آئی اور کہنے لگی، میرے باپ آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے لیے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں۔ تو جب موسیٰ ان کے پاس پہنچے اور انھیں اپنا سارا قصہ سنایا تو انھوں نے کہا کچھ خوف نہ کرو، تم نے ظالموں سے نجات پائی

فَجَآئَ تْہُ اِحْدٰہُمَا تَمْشِیْ عَلَی اسْتِحْیَـآئٍ ز قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْکَ لِیَجْزِیَکَ اَجْرَمَا سَقَیْتَ لَنَا ط فَلَمَّا جَآئَ ہٗ وَقَصَّ عَلَیْہِ الْقَصَصَ لا قَالَ لاَ تَخَفْ قف وقفۃ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْن۔ (القصص : 25) (کچھ دیر نہ گزری تھی) کہ ان دونوں میں سے ایک شرماتی ہوئی موسیٰ کے پاس آئی اور کہنے لگی، میرے باپ آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے لیے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں۔ تو جب موسیٰ ان کے پاس پہنچے اور انھیں اپنا سارا قصہ سنایا تو انھوں نے کہا کچھ خوف نہ کرو، تم نے ظالموں سے نجات پائی۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کی قبولیت اور آپ ( علیہ السلام) کے لیے خیر کی راہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ابھی سائے ہی میں بیٹھے تھے کہ ان میں سے ایک صاحبزادی لجاتی، شرماتی ہوئی آئیں۔ حضرت عمرفاروق ( رض) نے اس فقرے کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا جاءت تمشی علی استحیاء قائلۃ بثوبھا علی وجہھا لیست بسلفع من النساء دلاجۃ ولاجۃ خراجۃ ” وہ شرم و حیاء کے ساتھ چلتی ہوئی اپنا منہ گھونگھٹ سے چھپائے ہوئے آئیں، ان بےباک عورتوں کی طرح درانہ وار نہیں چلی آئیں جو ہر طرف نکل جاتیں اور ہر جگہ جا گھستی ہیں۔ “ حضرت عمرفاروق ( رض) کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ( رض) کے عہد میں حیاء داری کا اسلامی تصور کیا تھا۔ اور وہ کسی عورت کے باہر نکلنے کو کس نگاہ سے دیکھتے تھے اور اگر نکلنا پڑے تو کن احتیاطوں کو ملحوظ رکھنا ضروری سمجھتے تھے۔ وہ صاحبزادی بھی معلوم ہوتا ہے اسی تربیت میں ڈھلی ہوئی تھیں۔ اس لیے پوری احتیاط کے ساتھ اپنے آپ کو سنبھالتے سمیٹتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچ کر کہنے لگیں کہ ہمارے والد ماجد نے آپ کو بلایا ہے تاکہ آپ کو اس نیکی کا صلہ دیں جو آپ نے بکریوں کو پانی پلا کر ہمارے ساتھ کی۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روز صاحبزادیاں چونکہ معمول کیخلاف وقت سے پہلے فارغ ہو کر گھر پہنچ گئیں تو ان کے والد نے ان سے پوچھا کہ آج تم اتنی جلدی کیسے چلی آئیں ؟ اس پر انھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے احسان کا ذکر کیا۔ والد کہنے لگے کہ تم اپنے محسن کو پیچھے کیوں چھوڑ آئیں، ابھی جا کر ان کو بلا لائو تاکہ وہ ہمارے یہاں کھانا کھائیں۔ باپ کے حکم کی تعمیل میں ایک صاحبزادی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچیں تو اس خیال سے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ ہمارے والد آپ کو آپ کی نیکی صلہ دینا چاہتے ہیں تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو نہایت عالی ظرف انسان تھے اس معمولی نیکی کا صلہ حاصل کرنے کے لیے کبھی اس لڑکی کے ساتھ نہ جاتے اگر وہ اس وقت انتہائی اضطرار کی حالت میں نہ ہوتے۔ وہ مصر سے بےسروسامانی کی حالت میں نکلے تھے اور مسلسل آٹھ دن سفر میں رہنے کی وجہ سے بھوک پیاس اور سفر کی تکان انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کوئی سر چھپانے کو جگہ نہ تھی۔ اس لیے جیسے ہی آپ کو اس کی طرف بلایا گیا تو آپ نے اسے اپنی دعا کی قبولیت سمجھا اور اللہ تعالیٰ کی نعمت جان کر صاحبزادی کے ساتھ چلے گئے۔ جب اپنے میزبان کے گھر پہنچے تو انھیں اپنی ساری داستان سنائی۔ میزبان نے ان کا ماجرا سن کر انھیں تسلی دیتے ہوئے کہا آپ دل میں کوئی اندیشہ نہ رکھیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ظالموں سے نجات دے دی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کے لیے کوئی خطرے کی بات نہیں۔
Ayah 28:26

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

ان میں سے ایک نے کہا ابا جان اس شخص کو نوکر رکھ لیجیے، کیونکہ بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہوسکتا ہے جو قوی اور امانتدار ہو

قَالَتْ اِحْدٰ ھُمَا یٰٓـاَبَتِ اسْتَاْجِرْہُ ز اِنَّ خَیْرَمَنِ اسْتَاجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ ۔ (القصص : 26) (ان میں سے ایک نے کہا ابا جان اس شخص کو نوکر رکھ لیجیے، کیونکہ بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہوسکتا ہے جو قوی اور امانتدار ہو۔ ) بیٹی کی تجویز معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس گھر میں چند دن بطور مہمان رہے۔ اہل خانہ کو یوں تو پہلی ہی ملاقات میں اندازہ ہوگیا تھا، لیکن اب چند دنوں کے قیام سے ان کی نیکی، شرافت اور صلاحیتوں کا مزید یقین پیدا ہوا۔ گھر میں باپ کے سوا اور کوئی مرد نہ تھا جو گھر کی ذمہ داریاں ادا کرسکے۔ اور باپ اپنی کبرسنی کے باعث مجبوراً باہر کے کاموں کے لیے اپنی بیٹیوں کو بھیجتا تھا جو کسی طرح بھی اسے پسند نہ تھا۔ اور عفت مآب صاحبزادیاں بھی مجبوری کے تحت باہر کے فرائض انجام دیتی تھیں۔ اب جبکہ ایک شریف اور نیک آدمی گھر میں آگیا تو سب اہل خانہ جانتے تھے کہ وہ دیر تک مہمان بن کر نہیں رہے گا تو ایک دن ایک صاحبزادی نے باپ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ گھر میں کوئی کام کرنے کے قابل ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ نے خود ہمارے گھر میں ایک شریف آدمی کو بھیج دیا ہے جو نہایت مضبوط اور تنو مند بھی ہے اور نہایت امانتدار بھی۔ یعنی جو جسمانی وجاہت بھی رکھتا ہے اور جس کی آنکھوں میں حیاء بھی ہے۔ آپ اسے ملازم رکھ لیں۔ اور ملازمت کے لیے اس سے بہتر آدمی اور کہاں مل سکے گا جو ایسی بنیادی صفات کا حامل ہو۔
Ayahs 28:27–28

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

میزبان نے) کہا، میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کردوں، اس شرط پر کہ تم آٹھ سال میری ملازمت کرو، اور اگر تم نے دس سال پورے کردیئے تو تمہاری مرضی ہے، میں تم پر مشقت ڈالنا نہیں چاہتا، تم انشاء اللہ مجھے بھلا آدمی پائو گے

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

موسیٰ نے جواب دیا، یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی، دونوں میں سے جو مدت بھی پوری کروں تو اس معاملے میں مجھ پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی اور اللہ ہمارے قول وقرار پر جو ہم کررہے ہیں گواہ ہے

قَالَ اِنِّیْٓ اُرِیْدُ اَنْ اُنْکِحَکَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ ھٰتَیْنِ عَلٰٓی اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ ج فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِکَ ج وَمَـآ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْکَ ط سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ قَالَ ذٰلِکَ بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ ط اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلاَ عُدْوَانَ عَلَیَّ ط وَاللّٰہُ عَلٰی مَانَقُوْلُ وَکِیْلٌ۔ (القصص : 27، 28) (میزبان نے) کہا، میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کردوں، اس شرط پر کہ تم آٹھ سال میری ملازمت کرو، اور اگر تم نے دس سال پورے کردیئے تو تمہاری مرضی ہے، میں تم پر مشقت ڈالنا نہیں چاہتا، تم انشاء اللہ مجھے بھلا آدمی پائو گے۔ موسیٰ نے جواب دیا، یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی، دونوں میں سے جو مدت بھی پوری کروں تو اس معاملے میں مجھ پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی اور اللہ ہمارے قول وقرار پر جو ہم کررہے ہیں گواہ ہے۔ ) بیٹی کی انگیخت اور باپ کا فیصلہ اور اس کی شرعی حیثیت معلوم ہوتا ہے صاحبزادیوں کے والد پہلے ہی اس بارے میں متفکر تھے کہ گھر کے کام کاج کے لیے کوئی مناسب آدمی ہونا چاہیے، جوان بچیوں کا ریوڑ چرانا اور بغیر کسی مرد کے باہر جانا مناسب نہیں۔ اب جبکہ ایک مناسب آدمی ہاتھ آگیا اور اس کی سیرت و کردار پر بھی طبیعت جمنے لگی اور بیٹی نے بھی اسے ملازم رکھنے کی تجویز دی تو باپ جو پہلے ہی سوچوں میں گم تھا ایک نئے پہلو پر غور کرنے لگا۔ اس نے سوچا کہ بیٹی کی یہ بات کہ بہتر ملازم وہ ہوتا ہے جو قوی اور امین ہو۔ اور یہ دونوں باتیں موسیٰ میں پائی جاتی ہیں، یقینا اپنی جگہ بالکل سچ ہے۔ لیکن انسانی نفس کے بارے میں کوئی فیصلہ کن بات نہیں کہی جاسکتی۔ موسیٰ خاندانی طور پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ وہ پیغمبر ہونے کے باوجود اپنے نفس کے بارے میں یکسو نہیں تھے، کیونکہ نفس ہمیشہ برائی کا حکم دیتا ہے تو کسی اور کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے۔ اس لیے بہتر یہ ہوگا کہ موسیٰ کو نہ صرف میں اپنے یہاں ملازمت کی دعوت دوں بلکہ اسے اپنا داماد بنا لوں۔ وہ چونکہ خوددار آدمی ہے اس لیے مہمان بن کر زیادہ دیر تک اس گھر میں رہنا مناسب نہیں سمجھے گا۔ لیکن جب وہ ملازم کی حیثیت سے گھر میں کھائے پیئے گا تو اسے اطمینان ہوگا کہ میں خدمت کے صلے میں اپنی ضروریات حاصل کرنے کا حق رکھتا ہوں۔ اس طرح اس کی خودداری کو ٹھیس نہیں پہنچے گی۔ اور رہا عفت مآبی اور پاکدامنی کا سوال، داماد بن جانے کے بعد اس پہلو سے بھی اطمینان ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کب تک اس پہلو سے غور کیا اور جب وہ مطمئن ہوگئے تو تب انھوں نے حضرت موسیٰ سے اس طرح بات کی جس کی حیثیت مشورے سے زیادہ نہ تھی۔ مشورے میں ظاہر ہے شرائط کا تعین نہیں ہوتا، اس کی نوبت اس وقت آتی ہے جب باقاعدہ اس عمل کے وجود پذیر ہونے کا وقت آتا ہے۔ اس لیے بچیوں کے باپ کا یہ کہنا کہ میں چاہتا ہوں کہ دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تم سے کردوں، بتائو تمہاری کیا رائے ہے۔ اگر اس کی حیثیت معاملے کی ہوتی تو وہ یقینا دو بیٹیوں میں سے ایک کا تعین کرکے بات کرتے۔ اس مشاورت میں یہ بھی کہا گیا کہ میں یہ نکاح اس شرط پر کروں گا کہ تم آٹھ یا دس سال میرے پاس ملازمت کرو۔ اس کا میں تمہیں معاوضہ دوں گا اور اس سے تم اپنے گھر کا خرچ بھی چلا سکو گے۔ بعض لوگوں نے نہ جانے اس گفتگو کو نکاح کے وقت کی گفتگو کیوں سمجھ لیا ہے اور پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا باپ کی خدمت بیٹی کے نکاح کا مہر قرار پاسکتی ہے یا نہیں ؟ حالانکہ اس گفتگو کو غور سے پڑھنے کے بعد کوئی شخص اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا کہ یہ نکاح کی تقریب کی گفتگو ہے۔ رہی یہ بات کہ نکاح کب اور کیسے ہوا ؟ اس میں کیا حق مہر طے ہوا ؟ اس کا ذکر قرآن کریم نے نہیں کیا۔ بچیوں کے والد جیسا کہ اس سے پہلے میں واضح کرچکا ہوں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے دین پر تھے اور انھیں کی شریعت کے پیروکار تھے۔ یقینا نکاح کی تمام تفصیلات اسی شریعت کے مطابق عمل میں آئی ہوں گی۔ جہاں تک ملازمت کی شرط کا تعلق ہے اس کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اس رشتے سے اصل غرض یہی تھی کہ میں بوڑھا آدمی ہوں، کوئی بیٹا میرے پاس نہیں ہے جو میری جائیداد کا انتظام سنبھالے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم داماد بن کر میرے دست وبازو بنو۔ ایسا نہ ہو کہ شادی کے بعد تم اپنی بیوی کو لے کر یہاں سے چلے جاؤ، تو پھر یہ شادی ہمارے مسائل میں اور اضافہ کردے گی۔ کیونکہ پہلے تو دونوں بہنیں گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، جب ایک بچی رہ جائے گی تو اسے باہر بھیجنا اور بھی مشکل ہوجائے گا۔ ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک مسافر اور اجنبی کی حیثیت سے جائے پناہ کی تلاش میں تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کررہے تھے کہ یا اللہ، میری مدد فرما۔ کوئی تعجب نہیں کہ بچیوں کے باپ نے یہ پیشکش کسی اشارہ غیبی سے کی ہو۔ اور پھر ان کا یہ کہنا کہ میں تم پر کوئی زبردستی نہیں کرنا چاہتا۔ اس طرح سے حضرت موسیٰ کو معاملہ میں غور کرنے کے لیے مہلت دی جارہی تھی تاکہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔ چنانحہ حضرت موسیٰ نے خوشی سے اس شرط کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ نے پردیس میں ایک صالح آدمی کا داماد بننے کی انھیں عزت عطا کی۔ اور دونوں نے اپنے درمیان طے کردہ معاملے پر اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہرایا، تاکہ دونوں کو اطمینان بھی حاصل ہو اور ضمانت بھی ملے۔
Ayah 28:29

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

پس جب حضرت موسیٰ نے مدت پوری کرلی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر چلے تو طور کی جانب سے انھیں ایک آگ نظر آئی، انھوں نے اپنے اہل سے کہا، تم لوگ ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے میں وہاں سے کوئی خبر یا آگ کا انگارہ لائوں تاکہ تم لوگ تاپو

فَلَمَّا قَضٰی مُوْسَی الْاَجَلَ وَسَارَبِاَھْلِہٖٓ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا ج قَالَ لِاَھْلِہِ امْکُثُوْٓا اِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْٓ اٰتِیْکُمْ مِّنْھَا بِخَبَرٍ اَوْجَذْوَۃٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّـکُمْ تَصْطَلُوْنَ ۔ (القصص : 29) (پس جب حضرت موسیٰ نے مدت پوری کرلی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر چلے تو طور کی جانب سے انھیں ایک آگ نظر آئی، انھوں نے اپنے اہل سے کہا، تم لوگ ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے میں وہاں سے کوئی خبر یا آگ کا انگارہ لائوں تاکہ تم لوگ تاپو۔ ) مصر کو واپسی اور جلوہ طور کا مشاہدہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) موعودہ مدت پوری کرنے کے بعد بیوی بچوں کو ساتھ لے کر مصر کے لیے روانہ ہوئے۔ قرآن کریم اور تورات میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا کہ آپ ( علیہ السلام) نے آٹھ سال مدت گزاری تھی یا دس سال۔ البتہ حضرت حسن ابن علی ( رض) فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے آٹھ کی بجائے دس سال کی مدت پوری کی تھی۔ حضرت ابن عباس ( رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے خود یہ بات مروی ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا قضیٰ موسیٰ اتم الاجلین واطیبہما عشرسنین ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے وہ مدت پوری کی جو زیادہ کامل اور ان کے خسر کے لیے زیادہ خوشگوار تھی، یعنی دس سال۔ “ آپ ( علیہ السلام) کے خسر نے جس طرح آپ ( علیہ السلام) پر احسان کیا، گھر کی چھت مہیا کی اور بیٹی نکاح میں دی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے احسان شناس آدمی سے یہ کیسے توقع ہوسکتی تھی کہ وہ دس سال کی بجائے آٹھ سال کی مدت پوری کرکے عازم سفر ہوجاتے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس گھر کو چلانے والا کوئی دوسرا سہارا نہیں ہے البتہ یہ ممکن ہے کہ اس وقت تک دوسری بیٹی کا نکاح ہوچکا ہو اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے کوئی دوسرا سبب پیدا کردیا ہو۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بیوی کے سوا آپ ( علیہ السلام) کے دو بچے بھی تھے۔ قرآن کریم کے بیان کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بچوں کو لے کر اس راستے پر جارہے تھے جس راستے پر جبلِ طور پڑتا ہے۔ اور یہ راستہ مصر کو جانے کا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کا ارادہ مصر جانے کا تھا۔ اور اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ بائیبل اور تلمود دونوں کا متفقہ بیان ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ قیام مدین میں وہ فرعون مرچکا تھا جس کے ہاں انھوں نے پرورش پائی تھی اور اب ایک دوسرا فرعون مصر کا فرمانروا تھا۔ اثنائے سفر میں جب آپ ( علیہ السلام) جبلِ طور کے قریب پہنچے تو رات اندھیری تھی اور سردی شدید تھی۔ اندھیرے میں راستے کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ آپ ( علیہ السلام) موسم کی شدت اور تاریکی کے گہرا ہونے کے باعث پریشان تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم راستہ غلط کر جائیں، کہ آپ ( علیہ السلام) نے طور کی جانب سے آگ کی ایک چمک سی دیکھی۔ آپ ( علیہ السلام) نے بیوی اور بچوں سے فرمایا، تم لوگ یہیں ٹھہرو، مجھے آگ کی چمک نظر آئی ہے، میں وہاں جاتا ہوں اگر وہاں کوئی راہ بتانے والا مل گیا تو راستہ پوچھ لوں گا ورنہ آگ کا ایک انگارہ لے آئوں گا تاکہ یہاں آگ جلا کر آپ کی سردی دور کرنے کا سامان کرسکوں۔
Ayah 28:30

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکارا گیا کہ اے موسیٰ ! میں ہی اللہ ہوں سارے جہان والوں کا مالک

فَلَمَّـآ اَتٰـھَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِیِٔ الْوَادِالْاَیْمَنِ فِی الْـبُـقْـعَـۃِ الْمُبٰـرَکَۃِ مِنَ الشَّجَرَۃِ اَنْ یّٰمُوْسٰٓی اِنِّیْٓ اَنَا اللّٰہُ رَبُّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (القصص : 30) (جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکارا گیا کہ اے موسیٰ ! میں ہی اللہ ہوں سارے جہان والوں کا مالک۔ ) جلوہ طور کا تعارف جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس جگہ پہنچے جہاں ان کو آگ نظر آئی تھی، تو وہاں انھیں حیران کن صورتحال سے واسطہ پیش آیا جس کا انھوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا۔ وہ تو یہ سمجھ کر گئے تھے کہ وہاں پر آگ جل رہی ہوگی اور میں اس سے کوئی انگارہ اٹھا لائوں گا۔ لیکن وہاں انھیں ایک آواز سنائی دی جو فضائے بسیط کی گونج کی طرح نہ تھی بلکہ وہ ایک وادی مبارک کی سمت سے آرہی تھی اور یہ وادی مبارک خطہ میں تھی اور اس مبارک خطے میں ایک درخت تھا جس سے یہ آواز آرہی تھی۔ یہ گویا کہ اس آواز کے تین ظرف تھے، اور ان میں ہر ظرف اس لحاظ سے نہایت مبارک تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے نوروظہور کے لیے انتخاب فرمایا تھا۔ اور اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی تھا کہ وہ اس کے قدوسیوں کی جلوہ گاہ اور ہر قسم کی شیطانی دراندازی سے پاک اور محفوظ تھی۔ آواز کے محل و مقام کی پاکیزگی کے اظہار کے بعد آواز نے اپنی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ تم آگ لینے آئے ہو، لیکن یہاں آگ نہیں بلکہ میں ہوں، اللہ، سارے جہانوں کا رب۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات والا صفات کا تعارف کرایا۔ رب العالمین کے چونکہ مضمرات بہت وسیع ہیں اس وجہ سے بعض دیگر مقامات میں اسی مضمون کو دوسرے الفاظ سے بیان فرمایا گیا ہے۔
Ayah 28:31

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

یہ کہ تم اپنا عصا ڈال دو ، جونہی ( حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا) تو آپ نے اس کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا گویا سانپ ہو، تو حضرت موسیٰ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پھر مڑ کر بھی نہ دیکھا، (ارشاد ہوا) اے موسیٰ ! آگے آئو، اور خوف نہ کرو، تم بالکل مامون ہو

وَاَنْ اَلْقِ عَصَاکَ ط فَلَمَّا رَاٰھَا تَھْتَـزُّکَاَنَّھَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبُ ط یٰـمُوْسٰٓی اَقْبِلْ وَلاَ تَخَفْ قف اِنَّـکَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ ۔ (القصص : 31) (یہ کہ تم اپنا عصا ڈال دو ، جونہی ( حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا) تو آپ نے اس کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا گویا سانپ ہو، تو حضرت موسیٰ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پھر مڑ کر بھی نہ دیکھا، (ارشاد ہوا) اے موسیٰ ! آگے آئو، اور خوف نہ کرو، تم بالکل مامون ہو۔ ) پہلا معجزہ اور اس کا اثر پروردگار نے اپنے تعارف کے بعد جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنا عصا زمین پر ڈال دو ، تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم کی تعمیل کی، لیکن آپ ( علیہ السلام) یہ دیکھ کر دہشت زدہ ہوگئے کہ آپ ( علیہ السلام) کے ہاتھ کا عصا سانپ کی طرح حرکت کرنے لگا ہے۔ ایک تو ماحول کی ہیبت، پھر رب العالمین کی عظمت اور ابھی سنبھلنے نہ پائے تھے کہ اپنے عصا کو سانپ بنتے ہوئے دیکھ کر خوف کی لپیٹ میں آگئے۔ ڈر کر اس طرح بھاگے کہ مڑ کے دیکھنے کی بھی جرأت نہ کی۔ معجزے سے پیغمبر کی کیفیت صداقت کی دلیل ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ کیفیت بجائے خود آپ ( علیہ السلام) کی نبوت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ اس سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ نبوت ایک اعزاز بھی ہے اور ایک گرانقدر ذمہ داری بھی۔ جسے یہ منصب دیا جاتا ہے اس کے سان گمان بھی نہیں ہوتا کہ میں اس ذمہ داری سے گراں بار کیا جارہا ہوں۔ لیکن پروردگار یہ ذمہ داری جس کے سر پر ڈالتا ہے اس کو اس کی ہمت، حوصلہ اور ادائیگی کی صلاحیت بھی عطا کرتا ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص کسی ہنر کو محنت سے سیکھتا ہے یا کسی منصب کو اپنی کوشش سے حاصل کرتا ہے تو وہ اس کی ذمہ داریوں اور اس راستے میں پیش آنے والے خطرات اور حیران کن چیزوں سے پہلے سے آگاہ ہوتا ہے۔ ساحروں، کاہنوں، متنبیوں اور مفتریوں کے ذہن میں پہلے سے ایک اسکیم ہوتی ہے اور وہ اس کے لیے بہت سے پاپڑ بیلتے ہیں، اس لیے ان کے لیے اس راستے کا کوئی تغیر نہ حیرانی کا باعث بنتا ہے اور نہ انھیں دہشت زدہ کرتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے ساتھ یہ سب کچھ ان کی مرضی اور علم کے بغیر سراسر اللہ تعالیٰ کے اختیار سے ہوتا ہے۔ اس لیے انھیں ابتدائی مشاہدات حیران بھی کرتے ہیں اور بعض دفعہ دہشت زدہ بھی کر جاتے ہیں۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خوفزدہ دیکھ کر پروردگار نے تسلی دی کہ گھبرایئے مت اس میں آپ کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔ البتہ یہ آپ کے دشمنوں کے لیے خطرہ ہے۔ آپ کو نبوت کا دیا جانا یہ معنی رکھتا ہے کہ اب آپ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہیں۔ یہ معجزات آپ کے لیے اسلحہ کی مانند ہیں اس سے آپ کے دشمنوں کے لیے خطرہ پیدا ہوسکتا ہے، آپ کے لیے نہیں۔
Ayah 28:32

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو، بغیر کسی مرض کے چمکتا ہوا نکلے گا اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازو بھینچ لو، پس یہ آپ کے رب کی جانب سے دو نشانیاں ہیں، فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جانے کے لیے، بیشک وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیں

اُسْلُـکْ یَدَکَ فِیْ جَیْبِکَ تَخْرُجْ بَیْضَآئَ مِنْ غَیْرِسُوْٓئٍ ز وَّاضْمُمْ اِلَیْکَ جَنَاحَکَ مِنَ الرَّھْبِ فَذٰنِکَ بُرْھَانٰنِ مِنْ رَّبِّکَ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَـلَاْ ئِہٖ ط اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ۔ (القصص : 32) (اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو، بغیر کسی مرض کے چمکتا ہوا نکلے گا اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازو بھینچ لو، پس یہ آپ کے رب کی جانب سے دو نشانیاں ہیں، فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جانے کے لیے، بیشک وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیں۔ ) دوسرا معجزہ یہ دوسرا معجزہ ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کیا گیا جو یدبیضا کے نام سے مشہور ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا گیا کہ اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو، جب اس کو نکالو گے تو وہ کسی مرض کے بغیر چٹاسفید سورج کی طرح چمکتا ہوا نکلے گا۔ جب بھی کبھی فرعون یا آل فرعون کی جانب سے خطرہ محسوس کرو جس کا ہر وقت امکان موجود ہے، کیونکہ فرعون ایک بگڑا ہوا خودسر حکمران ہے اور اس کے درباری طاقت کے نشہ میں چور ہیں اور تم دونوں بھائی بظاہر بےسروسامان اور ہر طرح کی قوت سے تہی دامن ہیں۔ تمہیں قدم قدم پر فرعون اور اس کے درباریوں سے واسطہ پڑے گا۔ جب بھی ان کی طرف سے کوئی خطرہ محسوس کرو تو اپنے داہنے ہاتھ کو بغل میں دبائو، تمہارے دل سے ہر طرح کا خطرہ نکل جائے گا۔ یہ شوکت و حشمت کے دعویدار تمہاری نگاہوں میں کٹ پتلیاں بن کے رہ جائیں گے۔ یہ دو معجزات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس لیے عطا فرمائے گئے کہ اول تو انھیں پوری طرح یقین ہوجائے کہ اس وقت جو ہستی ان سے مخاطب ہے وہی کائنات کے پورے نظام کی خالق ومالک اور فرمانروا ہے۔ اور دوسرے اس لیے کہ چونکہ انھیں ایک فاسق قوم سے واسطہ ہے جن سے تصادم کا ہر وقت خطرہ ہے۔ ان دو معجزات کی موجودگی میں نہ تو آپ کسی خوف کا شکار ہوں گے اور نہ دشمن آپ پر آسانی سے وار کرسکیں گے۔ اور پھر یہ معجزات آپ کے لیے سندماموریت کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ فرعون کو یقین آجائے گا کہ یہ دونوں یقینا کسی ایسی قوت کے نمائندے ہیں جو لاٹھی کو اژدھا میں تبدیل کرسکتا ہے اور ہاتھ کو چمکتے ہوئے سورج میں بدل سکتا ہے۔
Ayah 28:33

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے رب ! میں تو ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں، ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْہُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّـقْتُلُوْنِ ۔ (القصص : 33) (حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے رب ! میں تو ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں، ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک اندیشہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فریضہ رسالت کی ادائیگی کے لیے جب فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا گیا تو انھوں نے عرض کیا، میرے آقا تعمیلِ حکم میں سرتابی کی مجال نہیں، میں دل و جان سے اس کے لیے آمادہ ہوں۔ البتہ دل میں ایک کھٹکا سا لگا ہوا ہے کہ میرے ہاتھوں سے ان کا ایک آدمی مارا گیا تھا۔ اگرچہ میں اس کے قتل کا ارادہ نہیں رکھتا تھا، لیکن وہ لوگ تو بہرصورت مجھے اس کا قاتل سمجھتے ہیں، اس واقعہ کو یوں تو دس سال کی مدت گزر چکی ہے لیکن جب میں ایک رسول کی حیثیت سے ان کی ہدایت کے لیے جاؤں گا تو یقینا انھیں بھولی ہوئی باتیں بھی یاد آجائیں گی اور وہ میرے خلاف تنکے کو پہاڑ بنانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ایک آدمی کے قتل کو بھول جائیں۔ امکان اس بات کا ہے کہ ادائے رسالت کی نوبت آنے سے پہلے ہی وہ الزامِ قتل میں مجھے گرفتار کرلیں گے۔ اس طرح سے میں اپنے منصبی فریضہ کو ادا کرنے سے قاضر رہوں گا۔ آقا ! کوئی ایسی صورت پیدا کی جائے کہ میرے لیے ایسی کوئی مشکل پیدا نہ ہو۔
Ayah 28:34

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں، انھیں میرے ساتھ مدد کے طور پر بھیج دیجیے تاکہ وہ میری تائید کریں، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے

وَاَخِیْ ھٰرُوْنُ ھُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْہُ مَعِیَ رِدْأً یُّـصَدِّقُـنِٓیْ ز اِنِّیْ اَخَافُ اَنْ یُّـکَذِّبُوْنِ ۔ (القصص : 34) (اور میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں، انھیں میرے ساتھ مدد کے طور پر بھیج دیجیے تاکہ وہ میری تائید کریں، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔ ) اپنی تائید و نصرت کے لیے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے تعاون کی درخواست حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی تائید و نصرت کے لیے ایک اور درخواست پیش کی۔ سورة طٰہٰ میں ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں لکنت نہ تھی لیکن وہ اپنی عظیم ذمہ داری کے اعتبار سے اپنی قوت بیان میں کمی محسوس فرماتے تھے۔ اور اس کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ انھیں کبھی اس کی ضرورت محسوس نہ ہوئی تھی اور نہ اس کا تجربہ ہوا تھا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم تھی کہ وہ ان کے بڑے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو قدرت کلام اور فصاحتِ بیان میں ان پر تفوق دے چکا تھا۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) نے اسی حوالے سے التجا کی کہ انھیں اس کام میں میرا مددگار بنادیا جائے تاکہ وہ ہر موقع پر میری تائید اور مدد کریں۔ اگرچہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے تو ہر موقع پر آپ ( علیہ السلام) کی مدد کی لیکن رفتہ رفتہ آپ ( علیہ السلام) کی فصاحت و بلاغت اور زبان آوری میں اس حد تک ترقی ہوئی کہ آپ ( علیہ السلام) کو اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔
Ayah 28:35

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

پروردگار نے فرمایا، ہم تمہارے بھائی کے ذریعہ سے تمہارے ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو خاص دبدبہ عطا کریں گے تو وہ تم پر دست درازی نہ کرسکیں گے، ہماری نشانیوں کے باعث تم دونوں اور جو تمہارے پیروکار ہوں گے غالب رہیں گے

قَالَ سَنَشُدُّعَضُدَکَ بِاَخِیْکَ وَنَجْعَلُ لَـکُمَا سُلْطٰنًا فَلاَ یَصِلُوْنَ اِلَیْکُمَا ج بِاٰیٰـتِنَا ج اَنْـتُـمَا وَمَنِ اتَّـبَعَکُمَا الْغٰلِبُوْنَ ۔ (القصص : 35) (پروردگار نے فرمایا، ہم تمہارے بھائی کے ذریعہ سے تمہارے ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو خاص دبدبہ عطا کریں گے تو وہ تم پر دست درازی نہ کرسکیں گے، ہماری نشانیوں کے باعث تم دونوں اور جو تمہارے پیروکار ہوں گے غالب رہیں گے۔ ) دونوں درخواستوں کی قبولیت اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دونوں درخواستیں قبول کرلیں۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو رسالت دے کر آپ ( علیہ السلام) کا معاون و مددگار بنادیا۔ اور دوسری دعا کے سلسلے میں آپ ( علیہ السلام) کو اطمینان دلایا کہ ہم فرعونیوں پر تمہارا ایسا رعب و دبدبہ قائم کردیں گے کہ وہ تم پر کبھی دست درازی کی جرأت نہ کرسکیں گے۔ چناچہ واقعہ یہ ہے کہ فرعون اور اس کے اعیان پہلے ہی مقابلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس قدر مرعوب ہوگئے کہ وہ کبھی دھمکیوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ اپنے درباریوں میں اظہارِ غیظ و غضب کرتے ہوئے بعض دفعہ قتل تک کی باتیں بھی ہوئیں، لیکن کبھی کوئی ایسا اقدام نہ کرسکے جس سے آپ ( علیہ السلام) کو نقصان پہنچتا۔ بلکہ تورات سے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی مصر پر کوئی آفت آئی تو فرعون اور اس کے اعیان حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہی درخواست کرتے کہ وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ یہ آفت ٹل جائے۔