28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsروح القرآن

Ayah 28:68

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور آپ کا رب ہی پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے (جو چاہتا ہے) ، انھیں کچھ اختیار نہیں، اللہ پاک و برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں

وَرَبُّکَ یَخْلُقُ مَایَشَآئُ وَیَخْتَارُ ط مَا کَانَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ ط سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَتَعٰـلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (القصص : 68) (اور آپ کا رب ہی پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے (جو چاہتا ہے) ، انھیں کچھ اختیار نہیں، اللہ پاک و برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ ) شرک کے خلاف صفت خلق و اختیار سے استدلال اس آیت کریمہ میں ایک بہت بڑی حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ کائنات میں جتنی مخلوقات ہیں ان سب کا خالق ایک ہے۔ چاہے ان مخلوقات کا تعلق انسانوں سے ہو یا فرشتوں سے یا جنوں سے۔ چاہے ان کا تعلق زمینوں سے یا آسمانوں سے اور چاہے ان کا تعلق مکانوں میں سے کسی مکان سے ہو۔ ان کا خالق اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور نہیں۔ یہ بات بالکل سامنے کی ہے کہ جس طرح ہر مخلوق کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اسی طرح ہر مخلوق کو پسند کرنا، اس کو خاص مقام و مرتبہ دینا، مخصوص صلاحیتیں عطا کرنا اور کسی خاص منصب پر فائز کردینا یہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کو زیب دیتا ہے۔ جس طرح اس کی تخلیق میں کوئی اس کا شریک نہیں، اسی طرح اس کے اختیار اور مناصب کی تفویض میں بھی کوئی اس کا ساجھی نہیں۔ شرک کا کاروبار کرنے والوں نے دونوں طرح کے شرک کیے ہیں۔ نہ جانے کس کس کو اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق میں شریک ٹھہرایا۔ اولاد اللہ تعالیٰ دیتا ہے، مشرکین نے اس کا انتساب مختلف قوتوں کی طرف کیا، زندگی اور موت اسی کے قبضے میں ہے لیکن مشرکین نے نہ جانے کس کس کو اس میں دخیل بنایا۔ اسی طرح مخلوقات کے اوصاف، ان کی صلاحیتیں اور طاقتیں بھی اللہ تعالیٰ ہی کی عطا اور دین ہیں۔ اور وہ جس کو چاہتا ہے ان میں سے جو مناسب سمجھتا ہے عطا کرتا ہے۔ لیکن انسانوں نے مختلف مخلوقات کی طرف اپنی مرضی سے ان اوصاف کا انتساب کر رکھا ہے۔ یہاں اس بنیادی خرابی کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ وہ جسے چاہے پیدا کرے، اور جیسا چاہے اسے بنائے، جس طرح کے چاہے اوصاف، صلاحیتیں اور طاقتیں بخشے، اور جو کام جس سے لینا چاہے، لے لے۔ جو مقام و مرتبہ کسی کو عطا کرنا چاہے، عطا کردے۔ ان باتوں میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ نہ جانے مشرکین نے یہ اختیارات کہاں سے حاصل کرلیے ہیں کہ مخلوق اس کی ہے اور اختیارات یہ تقسیم کرتے ہیں۔ بندے اس کے ہیں اور صلاحیتیں اور طاقتیں مشرکین ان کی طرف منسوب کررہے ہیں۔ جسے چاہتے ہیں مشکل کشا بنا دیتے ہیں، جسے چاہتے ہیں بارش کا مختار بنا دیتے ہیں، جسے چاہتے غیرمعمولی اختیارات سونپ دیتے ہیں جبکہ یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں اور جو شخص یا جو گروہ بھی ان اختیارات اور اعزازات کو کسی اور کی طرف منسوب کرتا ہے وہ دراصل شرک کا ارتکاب کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے ہر شرک سے پاک ہے۔ اس نے فرشتوں کو نور سے پیدا کیا اور معصوم ٹھہرایا، لیکن خدائی میں شریک نہیں کیا۔ اس نے اپنے آخری رسول کو تمام مخلوقات کا سردار بنایا اور سیدالاولین والآخرین ٹھہرایا، لیکن انھیں خدائی میں شریک نہیں کیا۔ وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے سرِ نیاز جھکاتا اور اسی کو مدد کے لیے پکارتا ہے۔ قسمتیں بنانے اور بگاڑنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ اور کوئی ایسا نہیں، جسے خدائی صفات و اختیارات کا حامل قرار دیا جائے۔
Ayah 28:69

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور آپ کا رب جانتا ہے جو کچھ کہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں

وَرَبُّکَ یَعْلَمُ مَا تُکِنُّ صُدُوْرُھُمْ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ۔ (القصص : 69) (اور آپ کا رب جانتا ہے جو کچھ کہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں۔ ) صفتِ علم سے استدلال جس سیاق کلام میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ دنیا میں کوئی شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ میں نے فلاں معاملے میں جو رائے اختیار کر رکھی ہے مجھے آج تک اس سے مختلف ایسی کوئی دلیل نہیں مل سکی کہ جس سے میں اپنی رائے کو بدلنے پر مجبور ہوجاتا۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ میری رائے کی اصابت میں کوئی شبہ نہیں، لیکن اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ الفاظ کے طوطے مینا اڑانا اور سخن سازی سے اپنی نیت پر پردہ ڈال دینا آج تو ممکن ہے لیکن قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری ہوگی تو وہ صرف زبان سے نکلنے والے الفاظ ہی نہیں دیکھے گا بلکہ اس کی نگاہ نیتوں اور دل کے ارادوں پر بھی ہوگی۔ وہاں نہ نیتیں چھپ سکیں گی نہ ارادوں پر پردہ ڈالا جاسکے گا۔ اس لیے جسے اپنی عاقبت عزیز ہے اسے اسی دنیا میں آخرت کی حاضری کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔
Ayah 28:70

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور اسی کے اختیار میں فیصلہ ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے

وَھُوَاللّٰہُ لَآاِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ ط لَـہُ الْحَمْدُفِی الْاُوْلٰی وَالْاٰخِرَۃِ ز وَلَـہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (القصص : 70) (اور وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور اسی کے اختیار میں فیصلہ ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ ) خلاصہ بحث اس سے پہلے کی آیات میں شرک کیخلاف اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق، اس کی صفت اختیار اور اس کے علم محیط سے استدال کیا گیا ہے۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں اس استدلال سے جو بدیہی نتیجہ نکلتا ہے اسے ہمارے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ جب کائنات کی ہر مخلوق اللہ تعالیٰ ہی کی قوت تخلیق سے وجود میں آئی ہے اور پھر ہر ایک مخلوق کے فرائض، اس کا دائرہ کار اور اس کے مطابق اس کی صلاحیتوں کا تعین اس کی سرشت کے مطابق اس کے لیے ماحول کا انتخاب، اور ماحول کے مطابق اس کی جسمانی اور معنوی ساخت اور ارتقاء اللہ تعالیٰ ہی کی صفت اختیار کا نتیجہ ہے۔ پھر ہر ایک مخلوق کو اس کے وجود اور فرائض کے حوالے سے جیسی کچھ ضرورتیں دی گئی ہیں اور ان کی نمود و پرداخت اور حفاظت و صیانت کے لیے جس آگہی کی ضرورت ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کے علم محیط سے ساری کائنات کو بہم پہنچ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہی تین چیزیں یعنی قوت تخلیق، قوت اختیار اور قوت علم محیط تمام کائنات کے وجود وبقاء کی ضمانت ہیں۔ اور یہ تمام قوتیں اور اس کا سررشتہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ تو پھر یہ کس قدر بےعقلی کی بات ہوگی کہ ایسی قوتوں کو اس کی ذات، اس کی صفات یا اس کے حقوق میں شریک مان لیا جائے جو ان بنیادی قوتوں سے تہی دامن ہیں۔ اور خود اپنے وجود میں وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ان صفات کی مرہونِ منت ہیں۔ اس سے ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ کہ وہی ایک اللہ ہے جو ان تمام صفات کا مالک ہے اور وہی اپنی الوہیت میں وحدہ لاشریک اور یکتا ہے۔ چونکہ ہر مخلوق اپنے وجود اور اپنی بقاء میں اسی کی رہین احسان ہے اور اسی کی نعمتوں سے متمتع ہورہی ہے۔ اس لیے ہر مخلوق پر اس کی ایک ایک نعمت کی حمد اور اس کا شکر واجب ہے۔ دنیا میں ہر مخلوق پر لازم ہے کہ اس کی زبان اس کی تعریف میں زمزمہ سنج رہے۔ اس کے اعضاء وجوارح، اس کی اطاعت اور بندگی میں مصروف رہیں اور اس کا دل اسی کی محبت کے احساسات سے لبریز رہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے جس طرح دنیا میں اس کی ہر مخلوق گراں بار ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر آخرت میں اس کی نعمتیں بالخصوص اس کی مکلف مخلوق کو عطا کی جائیں گی۔ اس لحاظ سے اس کے حمدوشکر کا سلسلہ دنیا تک محدود نہیں بلکہ آخرت میں بھی جاری رہے گا۔ جنت میں داخل ہونے والے بھی اپنی ہر مصروفیت اور ہر نشست کے اول و آخر اللہ تعالیٰ کی حمدوشکر سے ہی اپنے آپ کو شگفتہ و شاداب رکھیں گے۔ اسی طرح دنیا میں ہر مخلوق بالخصوص انسان کی قسمت کا فیصلہ اور آخرت میں نتیجے کا فیصلہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے اور سب کی پیشی بھی اسی کے حضور میں ہوگی۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں، اسی طرح اس کے سوا کوئی مرجع و مولیٰ بھی نہیں۔
Ayah 28:71

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

اے پیغمبر ان سے کہئے کہ بتائو کہ اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لیے قیامت تک رات ہی کو مسلط کردے تو کون معبود ہے اللہ کے سوا جو تمہارے پاس روشنی لے آئے، تو کیا تم سنتے نہیں ہو

قُلْ اَرَئَ یْـتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ مَنْ اِلٰـہٌ غَیْرُاللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِضِیَـآئٍ ط اَفَلاَ تَسْمَعُوْنَ ۔ قُلْ اَرَئَ یْـتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ النَّھَارَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ مَنْ اِلٰـہٌ غَیْرُاللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِلَیْلٍ تَسْکُنُوْنَ فِیْہِ ط اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ ۔ (القصص : 71، 72) (اے پیغمبر ان سے کہئے کہ بتائو کہ اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لیے قیامت تک رات ہی کو مسلط کردے تو کون معبود ہے اللہ کے سوا جو تمہارے پاس روشنی لے آئے، تو کیا تم سنتے نہیں ہو۔ اے پیغمبر ان سے پوچھئے کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر تم پر دن ہی کو ہمیشہ کے لیے تاقیامت اللہ تعالیٰ مسلط رکھے تو کون معبود ہے اللہ کے سوا جو تمہارے لیے رات کو لائے جس میں تم سکون پائو، تو کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو۔ ) مخاطب کے مسلّمات سے استدلال مخاطبوں کی خفتہ فطرت کو جگانے اور مردہ ضمیر کو بیدار کرنے کے لیے سوالیہ انداز اختیار فرمایا گیا ہے، اور اس کا آغاز لفظ ” قل “ سے کیا گیا ہے جس میں ایک تحکم بھی ہے اور بےساختگی بھی۔ اور ایسی باتوں سے متعلق سوال کیا گیا ہے جو بالکل بدیہی نوعیت کی ہیں اور مزید لطف کی بات یہ ہے کہ مشرکینِ عرب بھی جس طرح اللہ تعالیٰ کو خالق مانتے تھے، اسی طرح وہ روزوشب کا خالق اور متصرف بھی اللہ تعالیٰ ہی کو تسلیم کرتے تھے۔ اس لحاظ سے سوال کی کاٹ اور بھی گہری ہوجاتی ہے کیونکہ وہ اپنے اعتقاد کے خلاف تو جواب نہیں دے سکتے۔ پہلی آیت میں یہ سوال کیا گیا ہے کہ تمہاری زندگی کی ساری ہمہ ہمی شب و روز کے اختلاف پر مبنی ہے۔ دن کی روشنی انسان کو سرگرمی کا پیغام دیتی ہے اور انسان حصول معاش کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ اور رات کی تاریکی آرام و راحت اور سکون و اطمینان کا پیغام بن کر آتی ہے۔ اور یہی اختلافِ لیل و نہار انسانی ضروریات کا کفیل، اس کی صحت وبقاء کا ضامن اور موسمی تغیرات کا باعث ہے۔ اس لیے ان کے حوالے سے سوال کرتے ہوئے پوچھا گیا ہے کہ بتائو تو سہی کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ہمیشہ کے لیے رات ہی کو مسلط کردے، اور سردیوں کی طویل رات ہر چیز کو جما دے، چولہے بجھ جائیں اور انسانی ضرورت کی ہر چیز زندگی سے محروم ہوجائے تو تمہارے معبودوں میں سے کوئی ہے جو تمہارے لیے دن کی روشنی نمودار کرسکے۔ اسی طرح اگر وہ تمہارے اوپر قیامت تک کے لیے دن ہی کو مسلط کردے کہ ماہ جون کا دن اگر چالیس گھنٹے تک طویل ہوجائے تو ہر چیز جل کر بھسم ہوجائے، سمندروں کا پانی بھاپ بن کر اڑ جائے اور زندگی کی بقاء کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔ تو کیا تمہارے معبودوں میں سے کسی کے اندر یہ قوت ہے کہ وہ رات کو لاسکے، جس میں دن کے تھکے ماندے سکون پائیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس کائنات کے تصرفات میں جن پر تمام مخلوقات کی بقاء کا انحصار ہے تمہاری ان دیویوں اور دیوتائوں کا کوئی دخل نہیں ہے۔ تو آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں کہ تم نے ان کو خدا کی خدائی میں شریک بنا رکھا ہے۔ دونوں آیتوں کے آخر میں سوال میں زور پیدا کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم سنتے نہیں ہو اور کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟ اسلوبِ بیان کی بلاغت کا کیا کہنا کہ رات کی مناسبت سے سننے کا ذکر فرمایا۔ کیونکہ رات کی تاریکی میں دیکھا تو نہیں جاسکتا لیکن سنا تو جاسکتا ہے۔ اور دن کی مناسبت سے دیکھنے کا ذکر فرمایا کیونکہ دن کی روشنی دیکھنے میں معاون ہوتی ہے۔ اور نصیحت کے لیے سننا بھی کفایت کرتا ہے اور دیکھنا بھی۔ لیکن انسان کی غفلت کا کیا کہنا کہ وہ سننے کے وقت سنتا نہیں اور دیکھنے کے وقت دیکھتا نہیں۔
Ayah 28:72

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

اے پیغمبر ان سے پوچھئے کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر تم پر دن ہی کو ہمیشہ کے لیے تاقیامت اللہ تعالیٰ مسلط رکھے تو کون معبود ہے اللہ کے سوا جو تمہارے لیے رات کو لائے جس میں تم سکون پائو، تو کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو

وَمِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَـکُمُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (القصص : 73) (اور اپنی رحمت سے اس نے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم (رات میں) سکون حاصل کرو، اور تاکہ تم (دن میں) اس کے فضل کے طالب بنو، اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔ ) دونوں دلائل کا نتیجہ گزشتہ دو آیتوں میں پیش کردہ دلیل نے یہ بات ثابت کردی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں کہ وہ شب و روز کو ایک دوسرے کے بعد لاسکے۔ اور اللہ تعالیٰ پر انسان کا کوئی حق نہیں جس کی ادائیگی کے لیے انسانوں کے لیے شب و روز کا لانا ضروری ہو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شب و روز کا اختلاف اور دونوں کا ایاب و ذہاب اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کا نتیجہ ہے۔ اور مزید یہ کہ شب و روز کا لانا کسی کا استحقاق نہیں۔ اس سے آپ سے آپ یہ بات نکلتی ہے کہ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ظہور اور اس کے فضل و عنایت کا صدور ہے۔ یہ اس کا کرم ہے کہ وہ رات کو لاکر تمہارے لیے راحت و سکون کا بستر بچھا دیتا ہے، پھر دن کے طلوع سے تمہارے لیے تلاش رزق و فضل کا میدان گرم کردیتا ہے۔ یہ سراسر اس کی رحمت اور اس کا احسان ہے۔ اور یہ سب کچھ اس لیے اس نے کیا ہے تاکہ انسان اس سے فائدہ اٹھائیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ لیکن وہ شخص کس قدر نامراد اور جری واقع ہوا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوتا اور زندگی کے وسائل کو بروئے کار لاتا ہے لیکن اس کی زندگی کی تمام کاوشیں اور تمام مشاغل اللہ تعالیٰ کی مرضی کیخلاف اور اس کی نافرمانی میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے اسلحہ کو اس کیخلاف استعمال کرتا ہے اور اس طرح اس کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔
Ayahs 28:73–75

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے اس نے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم (رات میں) سکون حاصل کرو، اور تاکہ تم (دن میں) اس کے فضل کے طالب بنو، اور تاکہ تم شکر ادا کرو

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اس دن کا خیال کرو جس دن وہ انھیں پکارے گا پھر پوچھے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکالیں گے اور لوگوں سے کہیں گے لائو اب اپنی دلیل، اس وقت تم پر واضح ہوجائے گا کہ حق اللہ کی طرف ہے اور گم ہوجائیں گے ان کے وہ سارے جھوٹ جو انھوں نے گھڑ رکھے تھے

وَیَوْمَ یُنَادِیْہِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَکَآئِ یَ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ۔ وَنَزَعْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَھِیْدًا فَقُلْنَا ھَاتُوْا بُرْھَانَـکُمْ فَعَلِمُوْٓا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰہِ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ (القصص : 74، 75) (اس دن کا خیال کرو جس دن وہ انھیں پکارے گا پھر پوچھے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے۔ اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکالیں گے اور لوگوں سے کہیں گے لائو اب اپنی دلیل، اس وقت تم پر واضح ہوجائے گا کہ حق اللہ کی طرف ہے اور گم ہوجائیں گے ان کے وہ سارے جھوٹ جو انھوں نے گھڑ رکھے تھے۔ ) ایک اور پہلو سے سوال پہلی آیت بعینہ سلسلہ بحث کے آغاز میں گزر چکی ہے۔ اس میں سوال مشرکین کے ان شریکوں کے بارے میں تھا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بنا رکھے تھے۔ پھر سلسلہ بحث کے درمیان میں دوبارہ یہ آیت گزری ہے ہے لیکن اس میں سوال اس حوالے سے تھا کہ تمام امتوں سے پوچھا جائے گا بتائو تم نے رسولوں کی دعوت کا جواب کیا دیا تھا ؟ اب تیسری دفعہ یہ آیت ایک اور پہلو سے لائی جارہی ہے۔ ان میں سوال اگرچہ وہی ہے جو پہلی آیت میں گزرا ہے کیونکہ مداربحث توحید ہے اور شرک وہ چیز ہے جو توحید کی حقیقی ضد ہے۔ اس لیے اس سوال کو باردگر دہرایا گیا ہے۔ البتہ اب اس میں اضافہ یہ کیا گیا ہے کہ مشرکین کے جواب کا انتظار کیے بغیر ہر امت کی طرف مبعوث ہونے والے پیغمبر یا وہ برگزیدہ لوگ جو پیغمبروں کی دعوت لے کر امتوں کے پاس گئے انھیں ہر امت پر گواہی کے لیے طلب کرلیا جائے گا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ جب لوگوں سے یہ سوال کیا جائے گا کہ تم نے پیغمبروں کی دعوت کا کیا جواب دیا تو قرآن کریم نے ان کی بےبسی کا ذکر فرمایا تھا۔ کیونکہ وہ قیامت کا منظر دیکھ کر اچھی طرح اندازہ کرچکے تھے کہ ہم نے انبیائے کرام اور ان کی دعوت کے ساتھ جو کچھ کیا، آج اس کے نتیجے میں بہت ہولناک صورتحال سے دوچار ہونا ہے۔ اور اب جبکہ پیغمبروں کو گواہی کے لیے بلا لیا جائے گا تو کچھ نہ پوچھئے کہ ان کی گواہی کے بعد مشرکین پر کیا گزرے گی۔ وہ علیٰ روئوس الاشہاد گواہی دیں گے کہ ہم نے ان کو توحید کا پیغام پہنچایا۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی ایک ایک بات کو واضح کیا، اس کے احکام انھیں پڑھ کر سنائے، اس کی پسند و ناپسند کو کھول کر بیان کیا، لیکن یہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئے اور انھوں نے ہماری بات ماننے سے انکار کردیا۔ پیغمبروں کی شہادت کے بعد ان کے پاس کوئی دلیل اور کوئی سندباقی نہیں رہے گی کیونکہ تمام مشرک قوموں نے ہمیشہ اسی دلیل کے سہارے شرک کے کاروبار کو پھیلایا ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں اور جن قوتوں کو ہم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے یہ سب انبیائے کرام کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔ اور جب انبیائے کرام کی گواہی سے یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ سب کچھ ان کا خود تراشیدہ ہے تو سب پر یہ بات کھل جائے گی کہ حق بجانب اللہ ہے اور ان کے تمام خود تراشیدہ معبود بالکل بےحقیقت ہیں۔ رسولوں کی شہادت ان پر آخری حجت تمام کردے گی جس کے بعد کسی کے لیے لب کشائی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ اور جو کچھ وہ اب تک شرک کے حق میں دلائل دیتے رہے ہیں سب پادرہَوا ہوجائیں گے۔
Ayah 28:76

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

بیشک قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا، پھر وہ اپنی قوم کیخلاف سرکش ہوگیا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے جن کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت سے مشکل سے اٹھتی تھیں اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا کہ اترائو مت، اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا

اِنَّ قَارُوْنَ کَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰی فَبَغٰی عَلَیْہِمْ ص وَاٰتَیْنٰہُ مِنَ الْـکُنُوْزِ مَـآ اِنَّ مَفَاتِحَہٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَۃِ اُوْلِی الْقُوَّۃِ ق اِذْقَالَ لَـہٗ قَوْمَہٗ لاَ تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ ۔ (القصص : 76) (بیشک قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا، پھر وہ اپنی قوم کیخلاف سرکش ہوگیا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے جن کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت سے مشکل سے اٹھتی تھیں اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا کہ اترائو مت، اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ) قارون دنیا پرستی کا نمونہ اور اس کے اطوار قارون کا ذکر تورات کی کتاب گنتی باب 16 میں آیا ہے۔ بائیبل کی کتاب خروج باب 6 آیت 18۔ 21 میں جو نسب نامہ درج ہے اس کی رو سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قارون کے والد سگے بھائی تھے۔ گویا کہ قارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سگے چچا کا لڑکا تھا۔ تورات میں اس کا نام قورح مذکور ہوا ہے۔ یہ شخص بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون کے ساتھ جا ملا تھا اور فرعون نے یہ دیکھ کر کہ یہ حضرت موسیٰ اور ہارون علیما السلام کے گھر کا آدمی ہے اور آج کل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے بعد جس طرح بنی اسرائیل کے ساتھ مصریوں کی ایک نئی تاریخ رقم ہورہی ہے اس میں یقینا اس بات کا بہت دخل ہے کہ موسیٰ کی دعوت بنی اسرائیل میں جس طرح کی زندگی اور بیداری کا باعث بن رہی ہے اگر اسے بروقت روکا نہ گیا تو وہ اپنی کثرت تعداد اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان کے نتیجے میں فرعون اور آل فرعون کی حکومت کے لیے بہت بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ اندریں حالات بنی اسرائیل کے ایک موثر اور معزز گھرانے کا ایک فرد اگر ہمارے قریب آرہا ہے تو ہمیں ہر ممکن طریق سے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ چناچہ قارون کی جاہ پرستی اور ہوس زر نے اسے فرعون کی طرف بڑھنے پر مجبور کیا اور فرعون کی سیاسی مصلحتوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے اس پر اپنی مراعات اور عنایات کے دروازے کھول دیئے۔ وہ پہلے ہی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیما السلام سے حسد کے باعث مسلسل اس آگ میں جل رہا تھا کہ میں ان دونوں کے چچا کا بیٹا ہوں لیکن مجھے بنی اسرائیل میں ان کے مقابلے میں معمولی پذیرائی بھی میسر نہیں۔ اس لیے اس نے حسد سے مجبور ہو کر یہ فیصلہ کرلیا کہ میں ہر ممکن طریقے سے بنی اسرائیل اور موسیٰ اور ہارون کو نقصان پہنچائوں گا۔ چناچہ بنی اسرائیل میں اٹھتی ہوئی بیداری کے بارے میں وہ فرعون کو باخبر کرتا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغی اور دعوتی سرگرمیوں کی اطلاع دیتا اور فرعون اس کے جواب میں اسے اپنی ناگزیر ضرورت سمجھ کر اپنی قربت کے دروازے کھولتا جاتا۔ چناچہ وقت کے ساتھ ساتھ اس نے یہ حیثیت حاصل کرلی کہ قرآن کریم نے بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلے میں فرعون کے بعد مخالفت کے جو دو سب سے بڑے سرغنے تھے ان میں سے ایک اس کو شمار کیا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاَیَاَتِنَا وَسُلْطَانٌ مُّبِیْنٍ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَ ہَامَانَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا سَاحِرٌکَذَّابٌ (المومن آیت 23۔ 24) ” ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور کھلی دلیل کے ساتھ فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف بھیجا، مگر انھوں نے کہا کہ یہ ایک جادوگر ہے، سخت جھوٹا ہے۔ “ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ قارون اپنی قوم سے باغی ہو کر دشمن طاقت کا پٹھو بن گیا تھا اور اب اس کا شمار بڑے بڑے اعیانِ سلطنت سے بھی بڑھ کر ہامان کے برابر کی حیثیت سے ہوتا تھا۔ یہ بہت ہوشیار آدمی تھا، وقت کی مقتدر قوتوں سے وہ اپنی غداری کی پوری قیمت وصول کرتا تھا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ وہ دولت کے بڑے بڑے خزانوں کا مالک بن گیا تھا۔ اور اس کی مالداری کا یہ عالم تھا کہ اس کے خزانے اتنی بڑی تعداد میں تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کے لیے بھی بھاری معلوم ہوتی تھیں۔ یہ کوئی مبالغہ کا اسلوبِ بیان نہیں ہے بلکہ بیان واقعہ ہے۔ اس زمانے میں خزانوں کی حفاظت کے لیے وہ وسائل میسر نہیں تھے جو آج ہمارے پاس ہیں۔ اور نہ ابھی تالوں اور کنجیوں نے وہ شکل اختیار کی تھی جیسے آج ہمارے سامنے ہے۔ اس زمانے کے بڑے بڑے سرمایہ دار بالعموم زمین دوز خزانے بناتے اور ان کو محفوظ کرنے کے لیے ان کے پھاٹکوں اور دروازوں میں بڑے بڑے آہنی کنڈے لگا کر ان میں بھاری بھاری آہنی اڑنگے جو خاص اسی غرض کے لیے تیار کیے جاتے تھے پھنساتے۔ ان اڑنگوں کو پھنسانا اور کھولنا ایک مشکل کام ہوتا اور ان کے تمام لوازم مل ملا کر ایک بھاری بوجھ بن جاتے۔ جب بھی ان کو اٹھانے اور ہٹانے کی ضرورت پیش آتی تو ایک طاقتور جماعت کی ضرورت ہوتی۔ آیت کریمہ میں اسی طرح کی کنجیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اور کسی شخص کے پاس اس قسم کی کنجیوں کا پایا جانا اس کی سرمایہ داری کی نشانی تھا۔ قارون کے بگاڑ کا آغاز حسد سے ہوا۔ اس کی ہوس زر نے اس میں اضافہ کیا اور پھر قوم فروشی، استعمار پسندی اور ضمیر کی موت نے اسے ایسی سرکشی پر آمادہ کیا جس میں ہر قیمت پر قومی مفادات کی قربانی اور دولت کے حصول کے لیے فرعون کی ظالمانہ حکومت کے اقدامات کی ہر صورت میں تائید و نصرت اس کی زندگی کا معمول بن گئی۔ قوم کے دانشمند لوگوں نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی کہ تم مال و دولت کے برتے پر اور اقتدار کی قربت کے باعث حد سے آگے نہ بڑھو اور تکبر کا راستہ اختیار نہ کرو۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ اکڑنے اور اترانے والوں کو کبھی پسند نہیں کرتا۔ اسے سمجھانے والے یقینا قوم کے منتخب افراد ہوں گے لیکن قرآن کریم نے اس کے لیے قوم کا لفظ استعمال کیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے رویئے کی ناپسندیدگی اور اس کی بہتری کے لیے نصیحت میں ساری قوم شریک تھی۔ ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ اس شخص کو اپنی قوم سے کٹ کر دوسروں کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قوم کی غالب اکثریت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروکار تھی۔ بہت تھوڑے لوگ تھے جو اپنی مفادپرستی کے باعث قارون کے ساتھ تھے۔
Ayah 28:77

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس میں آخرت کے طالب بنو، اور دنیا میں سے اپنے حصہ کو نہ بھولو، اور احسان کرو جس طرح اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے، اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کرو، بیشک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

وَابْتَغِ فِیْمَآ اٰتٰـکَ اللُّہُ الدَّارَالْاٰخِرَۃَ وَلاَ تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا وَاَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ وَلاَ تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ ۔ (القصص : 77) (اور جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس میں آخرت کے طالب بنو، اور دنیا میں سے اپنے حصہ کو نہ بھولو، اور احسان کرو جس طرح اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے، اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کرو، بیشک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ) قوم کے اہل دانش کی قارون کو نصیحت سابقہ آیت کریمہ میں قارون کی قوم کے اہل دانش کی نصیحت کا ذکر کیا گیا ہے جو انھوں نے قارون کے بگڑے ہوئے طرز عمل کو دیکھ کر کی تھی۔ پیش نظر آیت میں اسی نصیحت کی مزید تفصیل ذکر فرمائی گئی ہے۔ اس میں چار باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جن میں ہر بات حکمت و معرفت کا خزینہ ہے۔ پہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے جو دولت بخشی ہے اور عزت و رسوخ عطا کیا ہے یہ اس لیے نہیں ہے کہ تم اسے اترانے کا ذریعہ بنائو اور فریب خوردگی کا شکار ہو کر دنیا اور دولت دنیا ہی کو اپنی منزل سمجھ بیٹھو۔ اور اللہ تعالیٰ کے وہ بندے جو دولت دنیا سے سروکار نہیں رکھتے یا اس سے تہی دامن ہیں ان کے ساتھ تکبر و غرور کا معاملہ کرنے لگو۔ تم تو اس لحاظ سے خوش قسمت ہو کہ تمہیں دولت و رفاہیت سے نوازا گیا ہے۔ اب تم اسے بھلائی کے کاموں میں خرچ کرکے اور اللہ تعالیٰ کے محتاج بندوں کی مدد کرکے آخرت کی فوزوفلاح حاصل کرسکتے ہو، کیونکہ دولت اللہ تعالیٰ کی جانب سے امتحان ہوتی ہے۔ اور دولت مند کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ چاہے تو اس امتحان میں کامیابی حاصل کرکے اسے آخرت میں فیروزمندی کا ذریعہ بنا لے، اور چاہے تو اسے مقصود سمجھ کر اسے گننے اور سینتنے میں لگا رہے۔ اور بجائے اسے فوزوفلاح کا ذریعہ بنانے کے اس کی چاکری اور حفاظت میں زندگی گزار دے۔ اس لیے ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ تمہاری دولت سرتاسر خدا کی بخشش ہے۔ یہ تمہارے اب وجد کی میراث نہیں اور نہ تمہاری قابلیت و استحقاق کا کرشمہ ہے۔ بجائے اس کا پرستار بننے کے اس کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا ذریعہ بنائو۔ تو یہ ایسی دولت ہوگی جو دنیا میں بھی کام آئے گی اور آخرت میں بھی کام آئے گی۔ اس نصیحت کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ تم دنیا میں سے اپنا حصہ مت بھولو۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ دنیا اور دولت دنیا تو ایک فانی اور آنی جانی چیز ہے۔ یہ آج تمہارے پاس ہے کل کو کسی اور کے پاس بھی ہوسکتی ہے۔ اولاً تو اسے حادثے سے دوچار ہوتے ہوئے دیر نہیں لگتی لیکن اگر ایسا نہ بھی ہو تو تمہارا اور اس کا ساتھ زیادہ سے زیادہ موت تک ہے۔ موت کی پہلی پھونک تمہارا اور اس کا تعلق توڑ دے گی، اس کے بعد تمہارے ساتھ تمہارے اعمال جائیں گے۔ اس لیے تم اگر اس دولت سے اپنا حصہ وصول کرنا چاہتے ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرو، بندوں کی ضروریات کے کام میں لائو، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا کو اپنی منزل بنا لو۔ آنحضرت ﷺ نے اسی عقدہ کو کھولتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ انسان کا وہی ہے جو اس نے کھالیا یا آگے بھیج دیا، یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کردیا۔ اور جو اس نے روک کے رکھا وہ تو اس کے وارثوں کا ہے، اور وہ آدمی کس قدر بیوقوف ہے جو وارثوں کو اپنے اوپر ترجیح دیتا ہے۔ لیکن اس آدمی کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے جو وارثوں کے لیے بھی نہیں چھوڑتا بلکہ اپنی ذات کی سربلندی اور فسق و فجور میں صرف کردیتا ہے، یعنی اس کی دولت نہ اپنے کام آئی اور نہ وارثوں کے۔ ایسے بدنصیب سے بڑھ کر اور بدنصیب کون ہوگا۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اہل دولت میں ایسے ہی بدنصیبوں کی کثرت ہے۔ تیسری بات نصیحت کے ضمن میں یہ کہی گئی کہ تم بھی بندوں کے ساتھ ویسا ہی احسان کا معاملہ کرو جیسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیا ہے کہ بغیر کسی استحقاق کے تمہیں خزانے عطا فرما دیئے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے بندوں کے لیے ان خزانوں کو خرچ کرکے تم اپنی عاقبت بنا لو۔ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا کم از کم بدلہ یہ ہوسکتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ مدد و تعاون کا رویہ اختیار کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اللہ تعالیٰ کا عیال ہے۔ اور جو شخص کسی کے عیال پر خرچ کرتا ہے وہ صاحب عیال کا دل جیت لیتا ہے۔ اور حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی پیاسے کو پانی پلاتا ہے، کسی بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے اور کسی ننگے کو کپڑے پہناتا ہے اس کے اس سلوک کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ قیامت میں بندوں کے ساتھ کی ہوئی اس کی نیکی کو اپنے ساتھ نیکی قرار دے گا اور اس پر بیش از بیش اجروثواب عطا فرمائے گا۔ اور چوتھی بات یہ ارشاد فرمائی کہ تم زمین میں فساد مت پھیلائو، اللہ تعالیٰ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح چوری، راہزنی، ڈکیتی، بندوں کی حق تلفی اور حق شکنی اور لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا فساد فی الارض ہے۔ اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر فساد فی الارض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اطاعت کی بجائے غیر اللہ کی بندگی اور اطاعت کی جائے۔ اور کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو اپنے حقوق بنا کر دوسروں سے اس کی ادائیگی کا مطالبہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کی مکلف مخلوق کے علاوہ اس کی تمام مخلوقات اس کے تکوینی قانون کی بندگی اور اس کی اطاعت میں زندگی گزارتی ہیں۔ کسی مخلوق کی یہ مجال نہیں کہ وہ کسی اور کی بندگی کرے یا کسی اور کے احکام کی اطاعت کرے۔ تمام مخلوقات کی زندگی کا سفربندگی اور اطاعت کے راستے نہج اور منزل کی طرف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مکلف مخلوق یعنی جن و انس کو بھی زندگی کے سفر کا یہی طریقہ سکھایا ہے، لیکن جب یہ دونوں مخلوقات اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اطاعت کی بجائے دوسروں کی بندگی اور اطاعت کرنے لگتی ہیں اور اپنی ذات اور اپنے مال اور اپنے علاقات میں اللہ تعالیٰ کے حقوق کو نظرانداز کرکے غیر اللہ کے حقوق کو زندگی کا زادراہ بنا لیتی ہیں تو یہیں سے اطاعت کے راستے پر چلتی ہوئی ٹریفک معصیت اور شرک کے راستے پر چلنے والی ٹریفک سے ٹکرانے لگتی ہے اور فساد بپا ہوجاتا ہے۔ کسی بھی متمدن اور مہذب ملک میں ایک آئین و قانون کی اطاعت اور پاسداری ملک میں امن کی ضمانت ہوتی ہے، لیکن اگر ایک ہی ملک میں دو قانون چلنے لگیں اور دونوں کی اطاعت ہونے لگے تو قدم قدم پر تصادم کی نوبت آئے گی اور گلی کوچوں سے لے کر زندگی کے مختلف دوائر میں عدالت اور حکومت کے ایوانوں تک ایک کہرام مچ جائے گا اور پورا ملک انارکی اور بدامنی کا جہنم بن جائے گا۔ نصیحت کرنے والوں نے قارون سے یہی قیمتی بات کہی کہ تم اپنی ذات اور اپنی دولت میں اس کی اطاعت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اپنے مال کو اس کے راستے میں خرچ کرو جس نے تمہیں مال عطا کیا ہے تو کہیں فساد برپا نہیں ہوگا۔ لیکن اگر تم اپنی حیثیت سے آگے بڑھ کر اور اپنی دولت کی اصل حقیقت کو نظرانداز کرکے تکبر اور استکبار کو اپنا معمول بنا لو گے اور دولت کو اللہ تعالیٰ ملکیت سمجھنے کی بجائے اپنی ملکیت سمجھ کر من مرضی کا رویہ اختیار کرو گے تو فساد کا راستہ کھل جائے گا، تم یہ طریقہ اختیار نہ کرو اللہ تعالیٰ ایسا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
Ayah 28:78

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

قارون نے کہا ! یہ سب کچھ تو مجھے اس علم کی بناء پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے، کیا اس نے یہ نہیں جانا کہ اللہ اس سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکا ہے جو قوت میں اس سے بڑھ کر اور جمعیت میں اس سے زیادہ تھی اور مجرموں سے ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے

قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ ط اَوَلَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَھْلَکَ مِنْ قَبْلِہٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ ھُوَ اَشَدُّمِنْہُ قُوَّۃً وَّاَکْثَرُ جَمْعًا ط وَلاَ یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِھِمُ الْمُجْرِمُوَنَ ۔ (القصص : 78) (قارون نے کہا ! یہ سب کچھ تو مجھے اس علم کی بناء پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے، کیا اس نے یہ نہیں جانا کہ اللہ اس سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکا ہے جو قوت میں اس سے بڑھ کر اور جمعیت میں اس سے زیادہ تھی اور مجرموں سے ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے۔ ) قارون کا جواب قارون نے نصیحت کے جواب میں یہ کہا کہ یہ مال و متاع مجھے جو حاصل ہے یہ سب میرے حُسنِ تدبیر اور کمال علم کا نتیجہ ہے۔ میں نے خود اپنی محنت اور دماغ سوزی سے کمایا ہے، اس کا اللہ تعالیٰ سے کیا تعلق۔ چونکہ اس نے مجھے میری محنت اور حُسنِ تدبیر سے ہٹ کر براہ راست اسباب سے ماورا کوئی چیز عطا نہیں کی، تو اس کے حقوق مجھ پر کیسے عائد ہوگئے۔ اور جب اس کے مجھ پر کوئی حقوق نہیں تو اس کی مخلوق کے حقوق بھی مجھ پر عائد ہونے کا کوئی معنی نہیں۔ یہ دولت میری ہے اور میری محنت اور دماغ سوزی کا نتیجہ ہے، اس لیے اس میں مجھے بجاطور پر یہ حق پہنچتا ہے کہ میں اس میں مکمل آزادی کے ساتھ اپنی مرضی بجا لائوں اور کسی دوسرے کو اس میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں۔ اُوْتِیْتُہٗ کے لفظ سے یہ گمان گزرتا ہے کہ شاید اس آیت کا یہ مفہوم ہو کہ یہ دولت مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے دی گئی ہے لیکن ان اوصاف اور اس علم کی وجہ سے دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔ یقینا وہ اوصاف اللہ تعالیٰ کو پسند ہوں گے۔ اس لحاظ سے میں اس کا پسندیدہ بندہ ہوں۔ اگر میں اس کی نگاہ میں پسندیدہ نہ ہوتا تو وہ نعمتوں کی بارش اس طرح مجھ پر نہ کرتا۔ بنابریں میں جس طرح اپنی دولت کو خرچ کررہا ہوں یہی وہ صحیح طریقہ ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ اَوَلَمْ یَعْلَمْ … قارون کے قول پر یہ اللہ تعالیٰ کا تبصرہ ہے۔ یہ بدنصیب شخص یہ سمجھتا ہے کہ مجھے دولت کا ملنا گویا میرے پسندیدہ ہونے کی دلیل ہے اور میں نے یہ سب کچھ اپنے علم اور اپنی صلاحیت سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے اس میں کسی اور کا کوئی دخل نہیں۔ اور وہ اپنے آپ کو بہت عالم و فاضل اور دانا و بینا سمجھتا ہے۔ لیکن اس بیوقوف نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ اس سے پہلے کتنے ایسے لوگ گزر چکے ہیں جو قوت و جمعیت میں اس سے کہیں بڑھ کر تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے چشم زدن میں ان کو تباہ کردیا۔ اور اگر قارون کی تباہی کا یہ واقعہ فرعون کی تباہی کے بعد پیش آیا ہے تو پھر کس قدر حماقت کی بات ہے کہ فرعون اس سے کہیں بڑھ کر وسائل کا مالک اور اسلحہ و قوت رکھنے والا اور مصر جیسی مضبوط حکومت کا مطلق العنان حکمران تھا۔ اور افرادی قوت کی بھی اس کے پاس کوئی کمی نہ تھی۔ باایں ہمہ جب قدرت نے اسے پکڑا تو کوئی اس کی مدد کو نہ پہنچ سکا۔ تو قارون خدا جانے کس خواب و خیال میں ہے ؟ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور اس کے سامنے بڑے سے بڑے مجرموں کی بےبسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب مجرموں کو پکڑنے کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو اسے اسباب کی فراہمی کا انتظار نہیں کرنا پڑتا اور نہ وہ مجرموں کو سنبھلنے کا موقع دیتا ہے۔ اور اس کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ کسی مجرم سے اس کے جرم کے بارے میں سوال کرے۔ وہ خالق ومالک ہے، وہ جرائم کی تحقیق و تفتیش کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ اس کا علم محیط خود اس کی سب سے بڑی سند ہے۔ اور قیامت کے دن ہر مجرم کی پیشانی، اس کے ہاتھ پائوں اور اس کے اعضاء وجوارح خود اس کیخلاف گواہی دیں گے۔
Ayah 28:79

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

پس وہ پوری شان و شوکت کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا، تو جو لوگ حیات دنیا کے طالب تھے کہنے لگے، کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے، بیشک وہ بڑے نصیبے والا ہے

فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ فِیْ زِیْنَتِہٖ ط قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوَنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا یٰـلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ قَارُوْنُ لا اِنَّـہٗ لَذُوْحَظٍّ عَظِیْمٍ ۔ (القصص : 79) (پس وہ پوری شان و شوکت کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا، تو جو لوگ حیات دنیا کے طالب تھے کہنے لگے، کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے، بیشک وہ بڑے نصیبے والا ہے۔ ) قارون کا اظہارِطاقت اور کمزور لوگوں کا تأثر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جن دنوں حق و باطل کی کشمکش جاری تھی اور قارون اپنے خزانوں اور اپنے اثرواقتدار سے فرعون کی تائید کررہا تھا، تو ایک روز اس نے اپنی قوت و جمعیت کی نمائش کے لیے کوئی جلوس نکالا تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں پر یہ ظاہر کرے کہ وہ کتنی بڑی حیثیت کا مالک ہے اور اس کے بدلے میں فرعون سے مزید مراعات حاصل کرسکے۔ اور فِیْ زِیْنَتِہٖ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر اس نے اپنی دولت و حشمت کا خاص طور پر مظاہرہ کیا۔ کیونکہ عوام پر ایسی ہی چیزیں اثر کرتی ہیں۔ بنی اسرائیل کے لوگ چونکہ ابھی پوری طرح تربیت حاصل نہ کرسکے تھے اور فرعون کی غلامی اور چاکری نے انھیں محرومیوں کا مرقع بنا رکھا تھا۔ اس لیے ان میں سے وہ لوگ جو ابھی تک دولت دنیا ہی کو متاع حیات سمجھتے تھے قارون کے ٹھاٹھ باٹھ اور کروفر کو دیکھ کر کہنے لگے کہ قارون تو واقعی بڑی قسمت والا ہے۔ کاش ہمارے پاس بھی وہ دولت و رفاہیت ہوتی جس سے قارون بہرہ ور ہے۔
Ayah 28:80

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے افسوس ہے تم پر، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو

وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَـکُمْ ثَوَابُ اللّٰہِ خَیْرٌلِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ج وَلاَ یُلَقّٰھَآ اِلاَّ الصّٰبِرُوْنَ ۔ (القصص : 80) (اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے افسوس ہے تم پر، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو۔ ) قوم کے تربیت یافتہ لوگوں کا ردعمل جو لوگ علم کی دولت سے بہرہ ور تھے یعنی جن کی نگاہیں دولت کی چمک نے خیرہ نہیں کی تھیں جن پر دولت میں استغراق اور اسے مقصد زندگی بنانے کا نتیجہ بھی واضح تھا وہ اس علم حقیقی سے آگاہ تھے کہ انسان کی ترقی درحقیقت اقدارِانسانیت کی پاسداری اور ان میں جِلا اور محنت سے عبارت ہے۔ انسانیت اخلاقِ حسنہ اور مکارمِ اخلاق کا نام ہے۔ انسان کا اصل مقصد بندوں کی بھلائی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ انسانی زندگی کی کشتی کو کھینے کے لیے دولت کے پانی کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ زندگی کے لیے اس وقت تک مفید ہے جب تک یہ اس کشتی کے نیچے رہتا ہے اور کشتی اس کے اوپر تیرتی رہتی ہے۔ لیکن اگر اس کشتی میں کہیں سوراخ ہوجائے اور پانی اس کے اندر داخل ہوجائے یا پانی کی موجیں سرکش ہو کر کشتی کو اپنی گرفت میں لے لیں تو اب یہ پانی کشتی کی ضرورت نہیں بلکہ مہلک ہے اور اس کی تباہی کا باعث بن جاتا ہے۔ انسانوں کا گھر دولت سے چلتا ہے لیکن ماں باپ کی شفقت اور بچوں کی اطاعت سے باقی رہتا ہے۔ معاشرے میں بسنے والے باہمی حقوق کی پابندی سے بستے ہیں۔ شہریت اور مدنیت بنیادی اخلاق کی پاسداری سے آگے بڑھتی ہیں ورنہ اس میں اور جنگل میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ جو لوگ اس علم حقیقی سے آگاہ تھے انھوں نے لوگوں کو سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ کا ثواب یعنی وہ رزق کریم جو حدود اللہ کے اندر رہتے ہوئے محنت اور کوشش کرنے کے نتیجے میں دنیا میں انسان کو ملتا ہے وہی انسانیت کی بقاء کا ضامن ہے۔ ان چند بنیادی حقائق کا یقین جن کی تعلیم مذہب دیتا ہے اور ان بنیادی اقدار اور احکام پر عمل جس کا حکم شریعتِ اسلامی دیتی ہے اس ایمان و عمل کے نتیجے میں جو انسانی زندگی وجود میں آتی ہے اس میں یہ شعور پیدا ہوتا ہے کہ زندگی کے صحیح اہداف کیا ہیں اور خود زندگی کی حقیقت کیا ہے اور اگر یہ دولت حاصل نہ ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے اجروثواب، رزقِ کریم اور حقیقی زندگی سے کبھی بہرہ ور نہیں ہوسکتے۔ دولت رکھنے کے باوجود اس کی حیثیت ایک مارگنج سے زیادہ نہیں ہوتی۔ وہ چالاک، ہوشیار اور شاطر تو بن جاتا ہے لیکن انسان نہیں بنتا۔ آخر میں فرمایا کہ زندگی کی یہ حقیقت اور زندگی کا یہ حقیقی علم صرف اسے نصیب ہوتا ہے جو صبر کے وصف سے متصف ہے۔ اور صبر سے مراد ہے اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو رکھنا۔ لالچ اور حرص و آز کے مقابلے میں ایمانداری اور راست بازی پر ثابت قدم رہنا، صداقت و دیانت سے جو نقصان بھی ہوتا ہو یا جو فائدہ بھی ہاتھ سے جاتا ہو اسے برداشت کرلینا، ناجائز تدبیروں سے جو منفعت بھی حاصل ہوسکتی ہو اسے ٹھوکر مار دینا، حلال کی روزی خواہ بقدرسدِرمق ہی ہو اس پر قانع و مطمئن رہنا۔ بس یہی وہ قوت ہے جس کے سہارے آدمی اس حکمت و موعظت کو پاسکتا ہے جس کی تلقین اصحابِ علم نے اس آیت میں کی ہے۔
Ayah 28:81

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

آخرکار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، تو نہ اس کے لیے کوئی جماعت ہی ایسی اٹھی جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ خود ہی اپنی مدافعت کرنے والا بن سکا

فَخَسَفْنَا بِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَ قف فَمَا کَانَ لَـہٗ مِنْ فِئَۃٍ یَّنْصُرُوْنَـہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِق وَمَا کَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ ۔ (القصص : 81) (آخرکار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، تو نہ اس کے لیے کوئی جماعت ہی ایسی اٹھی جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ خود ہی اپنی مدافعت کرنے والا بن سکا۔ ) قارون کا عبرتناک انجام ہم اس سے پہلے یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ قارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نہ صرف خاندان سے تعلق رکھتا تھا بلکہ آپ ( علیہ السلام) کے چچا کا بیٹا تھا۔ بنی اسرائیل میں آپ ( علیہ السلام) کی عزت اور آپ ( علیہ السلام) کے کمالات کی وجہ سے حسد کا شکار ہوگیا۔ اس وجہ سے اس نے یہ نعرہ بلند کیا کہ خاندان کے تمام آدمی یکساں مقدس اور دیندار ہیں۔ تو آخر موسیٰ و ہارون ہی کو کیا ایسے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ وہ قوم کی امامت و پیشوائی کریں۔ دوسرے کو یہ حق کیوں حاصل نہیں۔ چناچہ وہ خاندان کے کچھ لوگوں کو ملا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کیخلاف بغاوت کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ کئی سالوں تک وہ اپنے مکروہ ارادوں کی کامیابی کے لیے کوشاں رہا حتیٰ کہ مفسرینِ کرام کی وضاحت کے مطابق اس نے ایک فاحشہ عورت کے ساتھ سازش کی کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے سامنے وعظ کررہے ہوں تو وہ مجمع عام میں آپ ( علیہ السلام) پر بدکاری کا الزام لگائے۔ اس طرح وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عزت کو ختم کرکے دینی منصب خود سنبھالنا چاہتا تھا۔ ایک روز آپ ( علیہ السلام) وعظ فرما رہے تھے تو وہ عورت کو آپ ( علیہ السلام) پر الزام لگانے کے لیے مجمع عام میں لے آیا، لیکن اللہ تعالیٰ کی شان کہ وہ سامنے آکر الزام لگانے کی بجائے سچ اگلنے پر مجبور ہوگئی اور اس نے سازش کو بےنقاب کردیا۔ اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نہایت صدمہ ہوا۔ آپ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ آپ ( علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں پروردگار کا غضب بھڑکا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کے حواریوں کے ساتھ زمین میں غرق کردیا۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ قارون نے اپنے ساتھ اڑھائی سو آدمی جمع کرکے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کیخلاف ایک فتنہ کھڑا کردیا اور کھلم کھلا بغاوت پر اتر آیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ سامری کے فتنہ کے بعد ان کی قوم میں ایک اور فتنہ اٹھ کھڑا ہوا ہے تو انھوں نے قارون اور اس کے ساتھیوں کو خیمہ اجتماع کے سامنے مباہلہ کی دعوت دی تاکہ واضح ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہوں میں مقبول اور پسندیدہ کون ہے۔ وضاحت کے لیے تورات سے ہم اس کا ضروری حصہ یہاں نقل کرتے ہیں۔ اور داتن اور ابیرام اپنی بیویوں، بیٹوں اور بال بچوں سمیت نکل کر اپنے خیموں کے دروازوں پر کھڑے ہوئے۔ تب موسیٰ نے کہا، اس سے تم جان لوگے کہ خداوند نے مجھے بھیجا ہے کہ میں یہ سب کام کروں کیونکہ میں نے اپنی مرضی سے کچھ نہیں کیا۔ اگر یہ آدمی (اشارہ قارون اور ان کے جتھ کی طرف ہے) ویسی ہی موت مریں جو سب لوگوں کو آتی ہے یا ان پر ویسے ہی حادثے گزریں جو سب پر گزرتے ہیں تو میں خداوند کا بھیجا ہوا نہیں ہوں۔ پر اگر خداوند کوئی نیا کرشمہ دکھائے اور زمین اپنا منہ کھول دے اور ان کو ان کے گھر بار سمیت نگل جائے اور یہ جیتے جی پاتال میں سما جائیں تو تم جاننا کہ ان لوگوں نے خداوند کی تحقیر کی ہے۔ اس نے یہ باتیں ختم ہی کی تھیں کہ زمین ان کے پائوں تلے پھٹ گئی اور زمین نے اپنا منہ کھول دیا اور ان کو اور ان کے گھر بار کو اور قورح کے ہاں کے سب آدمیوں کو اور ان کے سارے مال و اسباب کو نگل گئی۔ سودہ اور ان کا سارا گھر بار پاتال میں سما گئے اور زمین ان کے اوپر برابر گئی اور وہ جماعت میں سے نابود ہوگئے اور سب اسرائیلی جو ان کے آس پاس تھے ان کا چلانا سن کر یہ کہتے ہوئے بھاگے کہ کہیں زمین ہم کو بھی نہ نگل لے۔ (گنتی بات 16: 28۔ 34)
Ayah 28:82

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور پکار اٹھے وہ لوگ جو کل تک اس کے مرتبہ کی آرزو کررہے تھے، اوہو (اب پتہ چلا) کہ اللہ ہی کشادہ کرتا ہے رزق کو اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے، اگر اللہ کا ہم پر احسان نہ ہوا ہوتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا، لاریب، کافر فلاح نہیں پاتے

وَاَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَکَانَـہٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْکَاَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُ ج لَوْلَآ اَنْ مَّنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا ط وَیْکَاَنَّـہٗ لاَ یُفْلِحُ الْـکٰفِرُوْنَ ۔ (القصص : 82) (اور پکار اٹھے وہ لوگ جو کل تک اس کے مرتبہ کی آرزو کررہے تھے، اوہو (اب پتہ چلا) کہ اللہ ہی کشادہ کرتا ہے رزق کو اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے، اگر اللہ کا ہم پر احسان نہ ہوا ہوتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا، لاریب، کافر فلاح نہیں پاتے۔ ) اَمسِ … گزرے ہوئے کل کے معنی میں اس کا استعمال عام ہے۔ لیکن بعض دفعہ ماضی قریب کے مفہوم میں بھی بولا جاتا ہے۔ جس طرح ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں کہ یہ تو کل کی بات ہے۔ اس آیت میں یہ لفظ اسی معنی میں مستعمل معلوم ہوتا ہے۔ وَیْکَاَنَّ… اس میں وَیْ تنبیہ کا کلمہ ہے۔ جب اس کے ساتھ کَاَنَّ یا کَاَنَّـہٗ مل جاتا ہے تو اس کا مفہوم ہوتا ہے اوہو ! یا ارے ! یہ تو گویا وہی بات ہوئی۔ عوام کی کوتاہ فکری اور زودپشیمانی انسان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ حقائق کا جلدی ادراک نہیں کرتا جب تک وہ حقیقت مجسم شکل میں تجربہ بن کر اس کے سامنے نہیں آجاتی۔ ایسے خوش نصیب لوگ کم ہیں جو اپنی عقل کو خواہشات کی پیروی کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور اپنے دل کے احساسات کو نہ صرف توانا رکھتے ہیں بلکہ کبھی ہَوائے نفس سے اسے مکدر ہونے نہیں دیتے۔ لیکن بیشتر لوگ ہَوائے نفس کے تابع رہ کر زندگی گزارتے ہیں ان کی عقل خواہشات کی ایجنٹ ہوتی ہے اور ان کے دل میں ہمیشہ خواہشات کی فصل اگتی ہے۔ ایسے لوگ ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھتے اور ہر اقتدار کو لازوال سمجھتے ہیں۔ انھیں ہزار سمجھایئے کہ جن چیزوں سے تمہاری نگاہیں خیرہ ہورہی ہیں : یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے لیکن یہ بات ان کے دل میں نہیں اترتی۔ مگر جب کوئی بڑا حادثہ تجربہ بن کر ان کے سامنے آتا ہے تو تب ان کی آنکھیں کھلتی ہیں۔ قارون کے طمطراق اور اس کی دولت کی چمک دمک نے انھیں بری طرح مسحور کر رکھا تھا۔ اس کا ٹھاٹھ باٹھ اور کروفر دیکھ کر وہ اسی جیسا ہونے کی تمنا کررہے تھے۔ اب جو اچانک قارون اپنے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا تو ان کے دل و دماغ کو ایک دھچکا سا لگا کہ اوہو، یہ کیا ہوا۔ ہم جس دولت کو لافانی سمجھتے تھے اور اس کی وجہ سے قارون کی عزت و شہرت کو لازوال سمجھتے تھے۔ جب انھوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اس کی یہ تباہی اور ہلاکت دیکھی تو اب ان کی آنکھیں کھلیں اور بےساختہ پکار اٹھے کہ یہ کیسا فریبِ نظر ہے کہ ہم یہ تک نہ جان سکے کہ رزق کی تنگی اور فراخی اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح عزت و ذلت بھی اسی کے آستانے سے وابستہ ہے۔ وہ جس کا چاہتا ہے رزق کھول دیتا ہے لیکن اگر چاہے تو اسی کو آزمائش بنا دیتا ہے۔ اور جس کا چاہے رزق تنگ کردیتا ہے اور چاہتا ہے تو اسی کو رفع درجات کا سبب بنا دیتا ہے۔ لیکن ہماری نظریں ہمیشہ اس کے ظاہر تک محدود رہتی ہیں۔ اس کی تہہ میں اتر کر حقائق و عبر کے موتی چننے کی زحمت کبھی نہیں کرتیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہوا کہ ہم اس کے گروہ میں شامل نہ ہوئے ورنہ جس طرح اسے اور اس کے ساتھیوں کو زمین میں دھنسایا گیا ہے ہمارا انجام بھی یہی ہوتا۔ اب ہمیں اس بات کو حرزجان بنا لینا چاہیے کہ انجام کار کامیابی ان لوگوں کا مقدر ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلتے ہیں۔ اس کے ناشکرگزار اور اس کا انکار کرنے والے کبھی فلاح نہیں پاتے۔ قارون کی سرگزشت کا مقصد قارون کی یہ داستان محض داستان سرائی کے لیے بیان نہیں کی گئی بلکہ درحقیقت اس میں اس ذہنیت پر چوٹ لگائی گئی ہے جس کا ذکر آیت نمبر 57 میں گزر چکا ہے۔ قارون اسی ذہنیت کا نمائندہ تھا۔ وہ بھی قریش کی طرح یہ سمجھتا تھا کہ زندگی درحقیقت خوشحالی، فارغ البالی، زراندوزی، کثرتِ مال، کثرتِ اولاد، عہدہ و منصب، افرادی قوت، بالادستی اور ٹھاٹھ باٹھ کا نام ہے۔ جن نظریات کو قبول کرنے اور جس طرز زندگی کو اختیار کرنے سے فقروفاقہ، درویشی اور صبرواستغنا تک نوبت پہنچے وہ کتابی زندگی تو ہے، حقیقی زندگی نہیں۔ اور روئے زمین پر رہنے والوں میں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ لباس پہننے والے کی قدر لباس سے ہوتی ہے اور مکین کی عزت و عظمت مکان کی خوبصورتی سے۔ کرسی پر بیٹھنے والا کرسی کی قوت سے قوی ہوتا ہے۔ تصادم اور مقابلے کے وقت بنیادی صداقتیں اور ان پر ایمان کام نہیں آتا بلکہ افرادی قوت اور اسلحہ کی برتری کام آتی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جس طرز زندگی کے قبول کرنے کی دعوت دے رہے تھے وہ قارون کی سوچ اور فکر سے متصادم تھی۔ بالکل اسی طرح قریش اور عمائدینِ قریش بالخصوص ابولہب جیسے لوگوں کے تصوراتِ زندگی بھی آنحضرت ﷺ کے پیش کردہ طرز زندگی سے نہ صرف مخالف بلکہ متصادم تھے اور وہ انھیں کو کامیابی اور عزت و سربلندی کی ضمانت سمجھتے تھے۔ اور نبی کریم ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے کے نتیجے میں اپنی تباہی و بربادی دیکھتے تھے۔ قارون کا واقعہ بیان کرکے اور اس کی سوچ کو نمایاں دکھا کر یہ بتانا مقصود ہے کہ تم جس طرح سوچتے اور جو کچھ کررہے ہو دنیا میں پہلے بھی تمہاری فکر کے حاملین گزر چکے ہیں لیکن ہم تمہیں بتانا چاہتے ہیں کہ ان کا انجام کیا ہوا۔ انھوں نے پیغمبر کی دعوت کو رد کرنے کے لیے ایک سے ایک بڑھ کر بےہودہ طریقہ اختیار کیا۔ شرافتِ انسانی تک کو بھول گئے بالآخر تباہی و بربادی ان کا مقدر ٹھہری۔ وہ جس طرز زندگی کو اپنے لیے ہر طرح کی کامیابی کی ضمانت سمجھتے تھے وہی ان کی تباہی کا باعث ہوا۔ اور اس کی مثالیں ایک نہیں بہت ہیں۔ قارون عمائدینِ قریش کی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں اس فکر کی بہت بڑی مثال تھا۔ لیکن اس کے طرز فکر نے جیسی کچھ بےہودگیاں اس سے کروائیں اور جس طرح کے الزامات اس نے اللہ تعالیٰ کے پیغمبر پر لگائے اور پھر جس طرح اس کے انجام میں پکڑا گیا کہ نہ صرف وہ اور اس کے رفقاء زمین میں دھنسا دیئے گئے بلکہ جن خزانوں پر اسے بہت مان تھا اور جس دولت کو وہ اپنے لیے کامیابی کی ضمانت سمجھتا تھا وہ خزانے بھی اس کے ساتھ زمین میں دفن کردیئے گئے۔ اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین میں دھنسنے کا یہ عذاب قیامت تک اس کے ساتھ جاری رہے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سوچ جو انسان کو زندہ درگور کردیتی ہے اور زمین میں دفن کرکے چھوڑتی ہے کس قدر بدنصیبی ہے کہ انسان اسی سوچ کو بار بار اختیار کرتا اور اسی میں اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔
Ayah 28:83

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

یہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے جو زمین میں غروروفساد چاہنے والے نہیں ہیں اور انجام کی بھلائی خدا سے ڈرنے والوں ہی کے لیے ہے

تِلْکَ الدَّارُالْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُھَا لِلَّذِیْنَ لاَ یُرِیْدُوَنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلاَ فَسَادًا ط وَالْعَاقِـبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ (القصص : 83) (یہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے جو زمین میں غروروفساد چاہنے والے نہیں ہیں اور انجام کی بھلائی خدا سے ڈرنے والوں ہی کے لیے ہے۔ ) دارِآخرت کیسے لوگوں کے لیے ہے اوپر جو کچھ کہا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ دارآخرت ان لوگوں کے لیے خاص کردیا گیا ہے جو خدا کی زمین پر اپنی بڑائی قائم کرنے کے خواہاں نہیں۔ جو سرکشی اور تکبر کو زندگی کا عنوان نہیں بناتے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے بن کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ خدا کے بندوں کو اپنا بندہ بنانے کی کبھی کوشش نہیں کرتے۔ ان کی زندگی کا ہدف اللہ تعالیٰ کا بندہ بن کر اس کے قوانین کی اطاعت بھی ہے اور زمین اور اہل زمین پر اس کا نفاذ بھی ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ زمین پر بسنے والے جب سرکشی اور تکبر کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور بندہ بننے کی بجائے خدا اور طاغوت بن کر اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کا نظام نافذ کرنے کی بجائے خود ساختہ نظام اور اپنی مرضی کو مسلط کرتے ہیں تو فساد برپا ہوجاتا ہے۔ حق کی بجائے باطل کو فروغ ملتا ہے۔ عدل کی بجائے ظلم بروئے کار آتا ہے۔ حقوق سلب ہوتے اور بھلائیاں تلف ہوتی ہیں، نیکیوں کے خوشبودار اور مثمر درخت قدآور ہونے کی بجائے زہریلی جھاڑیاں پھیلتی ہیں۔ اس طرح سے زمین فساد سے بھر جاتی ہے۔ تو اس صورتحال کا نتیجہ یقینا تباہی و بربادی ہوگا۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا بھی جہنم ہے اور آخرت میں تو جہنم ہی ان کا مقدر ہوگا۔ لیکن جو لوگ زمین میں علو اور فساد نہیں چاہتے اللہ تعالیٰ نے دارآخرت کو ان کے لیے مخصوص کردیا ہے۔ دارِآخرت سے مراد جنت ہے۔ لیکن جنت دنیا میں کیے ہوئے ان اعمال کا نتیجہ ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارے کیے ہیں۔ اس لیے دونوں میں غائیت درجہ وابستگی ہے۔ جنت اسی کو ملے گی جو زمین میں نظام حق و عدل کا قائم کرنے والا ہوگا۔ اس لیے آیت کے آخر میں فرمایا کہ جنت کا یہ انجام متقین کے لیے ہے۔ اور متقین یقینا وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے، بندگی اختیار کرتے اور حق کی سربلندی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیتے ہیں۔