28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsروح القرآن

Ayah 28:84

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو کوئی نیکی کما کر لائے گا تو اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور جو برائی لے کر آئے گا تو برائیاں کمانے والوں کو وہی بدلہ ملے گا جو وہ کرکے آئیں گے

مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیْرٌمِّنْھَا ج وَمَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلاَ یُجْزَی الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلاَّ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (القصص : 84) (جو کوئی نیکی کما کر لائے گا تو اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور جو برائی لے کر آئے گا تو برائیاں کمانے والوں کو وہی بدلہ ملے گا جو وہ کرکے آئیں گے۔ ) آخرت میں جزاء و سزا کا طریقہ اس آیت کریمہ میں جزاء اور سزا کا وہ قانون بیان فرمایا گیا ہے جس پر آخرت میں عمل ہوگا۔ پہلی بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ نیکوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ جو معاملہ فرمائیں گے اس کی بنیاد اس کے فضل پر ہوگی۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ نیکی کا صلہ نیکی کے تول کے برابر نہیں ہوگا۔ کیونکہ برابر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جیسی نیکی کی گئی ہو بالکل ویسا ہی اس کا صلہ دیا جائے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا کرم یہ ہوگا کہ وہ اپنے فضل کو بنیاد بنا کر زیادہ سے زیادہ صلہ عطا فرمائے گا۔ قرآن کریم کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ فضل کی شرح عمل کی نسبت دس گنا زیادہ ہوگی، یعنی آدمی ایک نیکی کرے گا اور اس کا بدلہ اسے دس نیکیوں کے برابر ملے گا۔ لیکن یہ کم سے کم معاوضہ ہے۔ تقویٰ اور اخلاص میں اضافے کے ساتھ اس معاوضے میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا جس کی کوئی انتہاء نہیں۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ جو شخص دنیا میں برائی ہی کے چلن کو اختیار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ناراض ہو کر ہر طرح کے معاوضے سے محروم نہیں فرمائیں گے بلکہ اس کے ساتھ عدل کے مطابق معاملہ فرمائیں گے۔ یعنی جو کچھ اس نے کیا ہوگا اور جیسا کچھ کیا ہوگا اس کا ثمرہ اس کے آگے رکھ دیا جائے گا۔ اور اسے بتادیا جائے گا کہ یہ تمہاری ہی کاشت کی ہوئی فصل کا حاصل ہے، تمہاری اپنی ہی پیداوار ہے، اب اس کا مزہ چکھو۔
Ayah 28:85

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

بیشک جس نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے وہ آپ کو ایک بہترین انجام تک پہنچانے والا ہے، اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت لے کر کون آیا ہے اور کون ہے جو کھلی ہوئی گمراہی میں ہے

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ط قُلْ رَّبِّیْٓ اَعْلَمُ مَنْ جَآئَ بِالْھُدٰی وَمَنْ ھُوَفِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (القصص : 85) (بیشک جس نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے وہ آپ کو ایک بہترین انجام تک پہنچانے والا ہے، اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت لے کر کون آیا ہے اور کون ہے جو کھلی ہوئی گمراہی میں ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اور بشارت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کے سلسلے میں جس بات کو نمایاں فرمایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اچانک نبوت و رسالت جیسی عظیم ذمہ داری سے گراں بار کیے گئے۔ وہ حالت سفر میں تھے، بکریوں کے ایک ریوڑ کے سوا ان کے پاس کچھ نہ تھا۔ ہاتھ میں ایک عصا تھا جو مختلف کاموں میں معاون اور ہر وقت کا ساتھی تھا۔ دنیا کے وسائل کے حوالے سے آپ ( علیہ السلام) بالکل تہی دامن تھے۔ لیکن آپ ( علیہ السلام) کو اس شخص کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا جو ایک بہت بڑی حکومت کا مالک، بیشمار فوجوں اور اسلحہ جنگ سے مسلح اور ایک زرخیز ملک کا مطلق العنان حکمران تھا، جس کی خلاف طبع بات کا نتیجہ موت سے کم نہ تھا۔ لیکن آپ ( علیہ السلام) نے اس کے سامنے کلمہ حق کہا۔ سالوں تک حق و باطل کی کشمکش جاری رہی، لیکن نتیجہ کیا ہوا کہ حق بےیارومددگار ہونے کے باوجود غالب رہا اور باطل اپنی تمام قہرمانی قوتوں سمیت بحرقلزم کی موجوں کی نذر ہوگیا۔ اسی طرح قارون جیسا خزانوں کا مالک دولت مند آپ ( علیہ السلام) کا انتہائی قرابت دار اپنی تمام تر دولت و وجاہت کے باوجود سالوں تک آپ ( علیہ السلام) کی مخالفت میں سرگرداں رہا۔ بالآخر زمین کا رزق ہو کر رہ گیا۔ آج پھر محمد رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان معرکہ حق و باطل برپا ہے۔ ایک طرف دنیا بھر کے وسائل ہیں اور دوسری طرف سچائی اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پر بھروسہ ہے۔ اس کے سوا ان کے پاس بےکسی اور بےبسی کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے مخالفین پر غلبہ دیا، بالکل اسی طرح نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو قریش اور دیگر اہل باطل پر غلبہ عطا فرمائے گا۔ اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے نبی کریم ﷺ کو پیش نظر آیت کریمہ میں تسلی بھی دی گئی ہے اور غلبہ حق کی پیشگوئی بھی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس کے بعد کی آیات میں قریش اور دیگر مخالف قوتوں کو تنبیہ بھی فرمائی گئی ہے۔ مَعَادٍ کا مفہوم مَعَادٍ کا معنی لوٹنے کی جگہ مرجع اور غائت ہے۔ البتہ اس کی مراد کے تعین میں اہل تفسیر میں اختلاف ہوا ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے جنت مراد لی ہے۔ لیکن سیاق کلام سے یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی۔ کیونکہ جنت تو ہر اس شخص کا صلہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح کی توفیق دی ہے۔ اور پھر اس صورت میں آنحضرت ﷺ کی تمام مساعی کے نتیجے کو آخرت تک محدود کردینا جو کسی طرح صحیح نہیں۔ اور مزید یہ کہ اس شکل میں آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی کا مضمون بھی مکمل نہیں ہوتا۔ بعض دیگر اہل تفسیر نے اس سے مراد بہترین انجام لیا ہے اور چونکہ اس لفظ کو نکرہ لایا گیا ہے اس لیے انھوں نے اس کی تنکیر کو تفخیمِ شان پر دلیل ٹھہرایا ہے۔ اس وجہ سے وہ اسے مُعْتَادٌحَسَنٌ کے معنی میں لیتے ہیں۔ اس میں یقینا آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ قریش تو یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ﷺ کا دین قبول کرلینا درحقیقت تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ کیونکہ قریش کی تمام تر قیادت و سیادت ان کے دین شرک سے وابستہ ہے اور اسی نے انھیں پورے عرب کا امام اور بیت اللہ کا متولی بنا رکھا ہے۔ اگر اس کی جگہ توحید کا تصور قبول کرلیا جائے تو تمام جزیرہ عرب کے قبائل ان کے خلاف یورش کریں گے۔ اس طرح سے ان کی ایسی ہوا خیزی ہوگی کہ ان کے لیے مکہ میں رہنا ناممکن ہوجائے گا اور جان بچانا بھی ایک مسئلہ بن جائے گا۔ اس لیے قریش یہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ نے اپنے آپ کو تو تباہی کے حوالے کردیا ہے ہم ان کے پیچھے لگ کر اپنے آپ کو تباہ نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو یقین دلا رہا ہے کہ یہ شپرہ چشم لوگ کیا جانیں کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ ایک بہترین انجام آپ ﷺ کے انتظار میں ہے۔ چند ہی سالوں میں پورا جزیرہ عرب آپ ﷺ کے زیراقتدار ہوگا۔ کوئی مزاحمت کرنے والی طاقت میدان میں باقی نہیں رہے گی۔ سارے عرب میں صرف آپ ﷺ کے دین کا ڈنکا بجے گا۔ چناچہ اس دور کے انسانوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ چند ہی سالوں میں ایک عظیم انقلاب برپا ہوا جس میں نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کو ایسی قیادت و وجاہت میسر آئی کہ تاریخ نے وہ حیرت انگیز منظر دیکھا جس کی پہلے کوئی مثال موجود نہ تھی کہ وہ قوم جس نے کبھی کسی منظم حکومت کے ماتحت رہنا سیکھا ہی نہ تھا آج اس پوری قوم پر اللہ تعالیٰ کے دین کا غلبہ تھا۔ وہ ایک خدا کی پرستار اور ایک نبی کی رہنمائی کو قبول کرنے والی تھی۔ اور پورے جزیرہ عرب میں کسی دو سرے دین کے لیے کوئی گنجائش باقی نہ رہی تھی۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک معاد سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ اور صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابن عباس ( رض) سے معاد کی یہی تفسیر منقول ہے۔ آئمہ تفسیر میں سے مقاتل کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہجرت کے وقت غار ثور سے رات کے وقت نکلے اور مکہ سے مدینہ جانے والے معروف راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستوں سے سفر کیا۔ کیونکہ دشمن تعاقب میں تھے۔ جب مقام جحفہپر پہنچے جو مدینہ طیبہ کے راستہ کی مشہور منزل رابغ کے قریب ہے اور جہاں سے مکہ سے مدینہ کا معروف راستہ مل جاتا ہے اس وقت مکہ مکرمہ کے راستہ پر نظر پڑی تو بیت اللہ اور وطن یاد آئے۔ اس وقت حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) یہ آیت لے کر نازل ہوئے جس میں آپ ﷺ کو بشارت دی گئی کہ مکہ مکرمہ سے یہ جدائی چند روزہ ہے اور بالآخر آپ ﷺ کو مکہ مکرمہ پہنچا دیا جائے گا جو فتح مکہ کی بشارت تھی۔ (قرطبی) اگر معاد کا یہ مفہوم بھی مراد لیا جائے اور حدیث میں ذکر ہونے کی وجہ سے بہتر ہے کہ یہی مراد لیا جائے تو سابقہ مفہوم اور اس مفہوم میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ کیونکہ معاد کو بہترین انجام اس لیے قرار دیا گیا کہ اس سے مراد آنحضرت ﷺ کی دعوت اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کا پورے جزیرہ عرب پر غلبہ تھا اور اس انقلاب کو برپا ہونا تھا جس کے لیے آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا تھا اور فتح مکہ بھی ظاہر ہے کہ اسی انقلاب کی کامیابی سے عبارت اور اسی انقلاب کی تکمیل کا پیش خیمہ ہے اور یہی وہ بہترین انجام ہے جس کے بعد پورے جزیرہ عرب پر اللہ تعالیٰ کا دین غالب آگیا اور اس کے دو ہی سال بعد نبی کریم ﷺ کو واپس بلالیا گیا۔ کیونکہ آپ ﷺ جس مقصد کے لیے تشریف لائے تھے وہ مقصد پورا ہوگیا۔ اس آیت کے دوسرے حصے میں تسلی کے اس مضمون کو ایک دوسرے پہلو سے مکمل فرمایا، یعنی آپ ﷺ کا اب تک معمول رہا ہے کہ آپ ﷺ ہدایت کی امید لیے ہوئے ہر دروازے پر دستک دیتے رہے ہیں اور مخالفین کی اذیتوں اور بدزبانیوں کے مقابلے میں بھی آپ ﷺ نے نہایت صبر سے کام لیا ہے اور تبلیغ و دعوت میں کبھی کمی نہیں آنے دی۔ اور مخالفین نے جیسے بھی اعتراضات اٹھائے آپ ﷺ نے اس کا جواب دیا۔ اب ان مخالفین سے بحث کا دروازہ بند کردیجیے اور صاف صاف ان سے کہہ دیجیے کہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اللہ تعالیٰ کی ہدایت لے کر آیا ہے اور کون کھلی ہوئی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔ اب معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔ وہی فیصلہ فرمائے گا کہ کون ہدایت پر ہے اور کون گمراہی پر۔ کیونکہ جہاں تک افہام و تفہیم کا تعلق ہے اس میں کوئی کمی باقی نہیں رہی۔ اب تم اپنے رویئے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہو۔
Ayah 28:86

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

آپ اس بات کے ہرگز امیدوار نہ تھے کہ آپ پر کتاب نازل کی جائے گی، یہ تو بس آپ کے رب کا فضل ہوا ہے، پس آپ کافروں کے مددگار نہ بنیں

وَمَا کُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ یُّلْقٰٓی اِلَیْکَ الْکِتٰبُ اِلاَّ رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ فَلاَ تَـکُوْنَنَّ ظَھِیْرًالِّـلْـکٰفِرِیْنَ ۔ (القصص : 86) (آپ اس بات کے ہرگز امیدوار نہ تھے کہ آپ پر کتاب نازل کی جائے گی، یہ تو بس آپ کے رب کا فضل ہوا ہے، پس آپ کافروں کے مددگار نہ بنیں۔ ) آنحضرت ﷺ کی نبوت کی واضح دلیل اس آیت کریمہ میں سابق مضمون کی مزید وضاحت بھی ہے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کی دلیل بھی۔ جہاں تک نبوت کی دلیل کا تعلق ہے اس کے بعض پہلو واضح ہیں۔ مثلاً نبی کریم ﷺ نے جس ماحول میں آنکھ کھولی اور پروان چڑھے، جس طرح آپ ﷺ کی تربیت ہوئی، جس طرح کے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا رہا، پھر جن لوگوں کے ساتھ آپ ﷺ کے خاندانی اور تجارتی روابط رہے، اور پھر جو لوگ تجارتی سفار میں آپ ﷺ کے شریک کار رہے، ان کے حالات کو دیکھتے ہوئے دو باتیں نہایت نمایاں ہوکرسامنے آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا کوئی گوشہ نبوت سے پہلے ایسا نہیں جس سے اہل مکہ واقف نہ ہوں۔ آپ ﷺ کے بکریاں چرانے کے زمانے سے لے کر غارحرا کی تنہائیوں تک ایک ایک تبدیلی اور ایک ایک مصروفیت کے جاننے والے لوگ موجود تھے۔ وہ سب اس بات پر متفق اور متحد تھے کہ آپ ﷺ کی چالیس سالہ زندگی میں کبھی آپ ﷺ سے کوئی ایسی بات ظاہر نہیں ہوئی، کبھی آپ ﷺ کی زبان سے کوئی ایسا کلمہ نہیں نکلا، کبھی آپ ﷺ نے کسی سے کوئی ایسی بحث نہیں فرمائی اور کبھی کسی ایسی مجلس میں نہیں پہنچے اور کبھی کسی ایسے آدمی سے ملاقات نہیں کی جس سے دور دور تک اس بات کا شبہ کیا جاسکتا ہو کہ آپ نبوت کا دعویٰ کرنے والے ہیں۔ یا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں بھی لوگوں کی اصلاح کے لیے اسی طریقے پر کام کروں جس طرح پہلے انبیائے کرام کیا کرتے تھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ مکہ میں ایک منفرد حیثیت کے مالک تھے۔ آپ کا بچپن دوسرے بچوں سے مختلف تھا، آپ کا لڑکپن دوسرے لڑکوں سے نمایاں تھا، آپ کی جوانی دوسرے جوانوں سے مختلف تھی۔ جوانی کی خوش فعلیاں جوانوں کے ساتھ صحبتیں، جوانوں جیسا لا ابالی پن، جوانوں کی طرح تفریحی مشاغل میں دلچسپیاں، گانے بجانے اور قصہ گوئی کی مجالس میں شرکت، سیر سپاٹے کے لیے جوانوں کے ساتھ مل کر کہیں باہر کا سفر، شعروشاعری سے غیرمعمولی دلچسپی، ان میں سے کوئی بات بھی آپ کے قریب تک بھی نہ پھٹکی تھی جبکہ لوگوں میں ہر طرح کی برائیوں کا چلن تھا، جھوٹ عام بولا جاتا تھا، سترپوشی کوئی اہمیت کی چیز نہ تھی، لڑائی جھگڑا لوگوں کا معمول تھا، دوسروں کی دلآزاری معمولی بات سمجھی جاتی تھی، شرافت و نجابت کی چنداں پرواہ نہ کی جاتی تھی، ہمدردی و غمگساری، خیرخواہی و ہمدردی، ایفائے عہد، وفاشعاری، صداقت کی پاسداری، ان باتوں کی بہت زیادہ پرواہ نہ کی جاتی تھی۔ لیکن آنحضرت ﷺ کی زندگی میں نہ ان برائیوں میں سے ہمیں کوئی برائی دکھائی دیتی ہے اور نہ ان خوبیوں میں سے کسی خوبی کا فقدان نظر آتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود حیرانی کی بات یہ ہے کہ آپ نے ان مکارمِ اخلاق کے حوالے سے کبھی کوئی نصیحت نہیں فرمائی تھی، کبھی کسی کو ملامت نہیں کی تھی، آپ ایک روشن چراغ ضرور تھے لیکن دوسروں کے گھروں میں روشنیاں بکھیرنا آپ کا معمول نہ تھا۔ یعنی آپ انتہائی پاکیزہ زندگی ضرور رکھتے تھے لیکن آپ میں کسی طرح کے ادعا کا کوئی شائبہ تک نہ تھا آپ شرافت و نجابتِ انسانی کی اعلیٰ مثال ہوتے ہوئے اور ہر طرح کے عیبوں سے پاک زندگی گزارنے کے باوجود علمی طور پر آپ انھیں باتوں کو جانتے پہچانتے تھے اور وہی چیزیں آپ کے تصورات کا حصہ تھیں جن سے اہل مکہ واقف تھے۔ آپ چونکہ امی تھے اس لیے کسی کتاب سے استفادہ آپ کے لیے ممکن نہ تھا۔ آپ کی معلومات اور آپ کے علمی تصورات عام عربوں سے قطعی طور پر مختلف نہ تھے جس سے کبھی کسی کو شبہ ہوتا کہ آپ کے اندر ایک نئی علمی دنیا وجود پذیر ہورہی ہے جس کی وجہ سے آپ لوگوں میں کچھ علمی خیالات کا نفوذ چاہتے ہیں اور آپ کسی مناسب موقع کے انتظار میں ہیں جب آپ اس کا اظہار کرسکیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ کوئی شخص بھی جو آپ کو اچھی طرح جانتا تھا وہ آپ کی پاکیزہ زندگی کا تو ضرور معترف تھا اور آپ کے خیالات کی پاکیزگی کی بھی شہادت دیتا تھا۔ وہ اس بات کا بھی اعتراف کرتا تھا کہ آپ دوسروں سے سیرت و کردار میں بہت مختلف ہیں۔ لیکن اس کا گمان کسی کو بھی نہ تھا کہ آپ نبی بننے والے ہیں اور نبوت کے دعوے کے لیے موقع کی تلاش میں ہیں۔ غارِحرا کی تنہائی میں جب فرشتہ آپ پر وحی لے کر نازل ہوا اور قرآن کریم کی چند آیات آپ کو سنائیں تو تمام مستند احادیث اور تمام معتبر مؤرخین اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نہایت پریشان اور مضطرب حالت میں اس طرح گھر تشریف لائے کہ سخت سردی محسوس کررہے تھے اور فرما رہے تھے زملونی زملونی، مجھے اڑھائو، مجھے اڑھائو۔ چناچہ آپ کو لحاف اڑھا دیا گیا۔ جب آپ کی طبیعت کسی حد تک پرسکون ہوئی تو آپ نے اپنی رفیقہ حیات حضرت خدیجہ ( رض) سے فرمایا، یہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ میں تو اپنی جان کے لیے خطرہ محسوس کرنے لگا ہوں۔ اور پھر سارا واقعہ انھیں سنایا۔ اس پر حضرت خدیجہ ( رض) نے کہا، کہ ہرگز نہیں ! آپ کو اللہ تعالیٰ کبھی کسی مشکل میں نہ ڈالیں گے، آپ تو قرابت داروں کا حق ادا کرتے ہیں، بےکس کو سہارا دیتے ہیں، بےزر کی دستگیری کرتے ہیں، مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں، ہر کارخیر میں مدد کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں، آپ کو اللہ تعالیٰ کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ پھر وہ آپ کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں۔ وہ ایک زی علم اور راست باز آدمی تھے۔ وہ آپ سے سارا واقعہ سننے کے بعد بےساختہ کہنے لگے یہ جو کچھ آپ کے پاس آیا تھا یہ وہی ناموس ہے جو موسیٰ کے پاس آیا تھا۔ کاش میں جوان ہوتا اور اس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو شہر سے نکال دے گی۔ آپ نے حیران ہو کر کہا کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے ؟ ورقہ نے جواب دیا، ہاں ! کوئی شخص ایسا نہیں گزرا کہ وہ چیز لے کر آیا ہو جو آپ لائے ہیں اور لوگ اس کے دشمن نہ ہوگئے ہوں۔ آپ کی زندگی کے حالات اور آپ کی رفیقہ حیات کی گواہی کیا یہ بات بتانے کے لیے کافی نہیں کہ آپ کے ذہن میں کبھی نبوت کا تصور بھی نہیں گزرا تھا۔ نہ آپ نے کبھی اس کی خواہش کی تھی، نہ کبھی آپ کو اس کی امید رہی۔ بلکہ جب نبوت کا پیغام آپ کے پاس پہنچا تو آپ اس وقت نہایت ششدر رہ گئے اور ہانپتے اور کانپتے ہوئے گھر پہنچے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت اسی طرح عطا فرمائی جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا فرمائی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ نبوت ایک ایسی وہبی چیز اور ایسا الٰہی پروانہ ہے کہ جس کسی کو عطا ہوتا ہے اسے دور دور تک اس کی امید نہیں ہوتی۔ یہ ضرور ہے کہ قدرت اس عظیم کام کے لیے اس کی تربیت کرتی ہے۔ لیکن اسے اس کا خواہشمند کبھی نہیں بناتی۔ سورة یونس میں اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا : قُلْ لَوْشَائَ اللّٰہُ مَاتَلَوْتُہٗ عَلَیْکُمْ وَلاَ اَدْرَاکُمْ بِہٖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرٌامِّنْ قَـبْلِہٖ اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ (آیت : 16) (اے نبی ان سے کہو، کہ اگر اللہ نے یہ نہ چاہا ہوتا تو میں کبھی یہ قرآن تمہیں نہ سناتا بلکہ اس کی خبر تک تم کو نہ دیتا، آخر میں اس سے پہلے ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں، کیا تم اتنی بات نہیں سمجھتے۔ ) اور سورة شوریٰ میں فرمایا : مَاکُنْتَ تَدْرِیْ مَاالْـکِتَابُ وَلاَ الْاِیْمَانُ وَلٰـکِنْ جَعَلْنَاہُ نُوْرًا نَہْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَائُ مِنْ عِبَادِنَا۔ (آیت 52) (اے نبی، تم جانتے تک نہ تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے، مگر ہم نے اس وحی کو ایک نور بنادیا جس سے ہم رہنمائی کرتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتے ہیں۔ ) ہماری ان گزارشات سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح نبی کریم ﷺ کو جس طرح نبوت عطا ہوئی کہ نہ آپ ﷺ کی ذات میں اس کا کوئی داعیہ موجود تھا، نہ آپ ﷺ کے اندر اس کی طلب پائی جاتی تھی، نہ کبھی آپ ﷺ نے اس کی خواہش فرمائی تھی، نہ آپ ﷺ کا ماحول اس کی غمازی کرتا تھا اور نہ آپ ﷺ کے قول و عمل میں اس بات کا کوئی شارہ پایا جاتا تھا بلکہ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کی رحمت، اللہ تعالیٰ کا عطیہ، اس کی طرف سے ایک عظیم ذمہ داری کی تفویض اور ایک بہت بڑے کام کی بجاآوری کے لیے انتخاب تھا۔ اور ذمہ داری بھی ایسی کہ جس میں نہ اپنے گھر بار کی فکر کی گنجائش تھی، نہ اس میں کاروبار اور تجارت کا کوئی امکان تھا، نہ اس میں کچھ پانے کی امید تھی بلکہ سراسر سب کچھ کھو دینے اور قربانی و ایثار کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ تھا جسے آدمی اپنی چاہت سے کبھی اختیار نہیں کرسکتا۔ ان حقائق کو دیکھتے ہوئے کوئی شخص بقائمی ہوش و حواس آپ ﷺ کی نبوت اور رسالت کی صداقت پر شبہ کرنے کی حماقت نہیں کرسکتا۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جب کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض کردہ ذمہ داری کو اپنی چاہت اور خواہش کے بغیر قبول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس ذمہ داری کی ادائیگی میں اس کی مدد فرماتا ہے۔ اور جب کسی منصب کی آدمی تمنا اور خواہش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اس منصب کے حوالے کردیتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ یہ عظیم منصب چونکہ ہم نے آپ ﷺ کے سپرد کیا ہے جس میں آپ ﷺ کی خواہش کا کوئی دخل نہیں، اس لیے ہم ہی اس کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مدد کریں گے، اس راستے میں پیش آنے والی مشکلات کو آسان کریں گے اور اس راہ کے بڑے سے بڑے دشمن کو ناکام و نامراد کریں گے۔ نیز یہ بات بھی کہ اس ذمہ داری کی ادائیگی میں آپ ﷺ کی کامیابی درحقیقت ہماری کامیابی ہے کیونکہ ہم نے اس کا بار آپ ﷺ کے سر پر ڈالا ہے۔ اس لیے راستے کی مشکلات کتنی بھی عظیم ہوں آپ ﷺ ہرگز اس کی پرواہ نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت کے سامنے کوئی مشکل بھی ٹھہر نہیں سکتی۔ اللہ تعالیٰ کے دین کا مزاج آیت کے آخر میں فرمایا فَلاَ تَـکُوْنَنَّ ظَھِیْرًالِّـلْـکٰفِرِیْنَ ” آپ ان کافروں کے مددگار اور پشت پناہ نہ بنیں۔ “ اس میں خطاب اگرچہ نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن اس میں جو تنبیہ و عتاب مضمر ہے اس کا رخ آپ کی طرف نہیں بلکہ آپ کے مخالفین کی طرف ہے۔ اس میں انھیں اس دین اور نبی کریم ﷺ کی دعوت کی اہمیت اور مزاج سے آگاہ کرنا ہے۔ یعنی انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ نبی کریم ﷺ کی دعوت کی تکذیب اور آپ کے لائے ہوئے دین کا انکار اور مخالفت اپنے اندر اس قدر نزاکت رکھتی ہے کہ پیغمبر جو دین کا مناد و مبلغ بن کے آیا ہے اور جس کی زندگی اور زندگی کے تمام وسائل اسی دین کے فروغ اور بالادستی کے لیے وقف ہیں۔ اگر وہ بھی کبھی ان کافروں کی کسی حد تک معاونت کرنے لگیں جو اس دعوت کا راستہ روک رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو بھی اس کی اجازت ہرگز نہیں دے گا۔ چہ جائیکہ ان کافروں کو برداشت کیا جائے جو اس دین کی مخالفت کررہے ہیں اور جن کی کوشش یہ ہے کہ اس دین کو لوگوں میں نفوذ کا موقع نہ ملے۔
Ayah 28:87

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی آیات سے روکنے نہ پائیں اس کے بعد کہ وہ آپ کی طرف اتاری جا چکی ہیں، اور آپ اپنے رب کی طرف (لوگوں کو) بلائیں اور ہرگز نہ ہوجانا شرک کرنے والوں میں سے

وَلاَ یَصُدُّنَّـکَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْکَ وَادْعُ اِلٰی رَبِّکَ وَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ (القصص : 87) (اور وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی آیات سے روکنے نہ پائیں اس کے بعد کہ وہ آپ کی طرف اتاری جا چکی ہیں، اور آپ اپنے رب کی طرف (لوگوں کو) بلائیں اور ہرگز نہ ہوجانا شرک کرنے والوں میں سے۔ ) ردِشرک میں آخری درجہ تک زور اور تاکید اللہ تعالیٰ کے دین کی اہمیت اور اس کی تبلیغ و دعوت کی حیثیت کو واضح کرنے کے بعد ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ مشرکین توحید کی دعوت کے ہرگز روادار نہیں اور توحید کی ایک ایک بات انھیں بری طرح کھلتی ہے اور وہ شرک کی مذمت میں کوئی بات سننا گوارہ نہیں کرتے۔ بنابریں آپ کے لیے انتہائی مشکل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جن کی بنیاد ہی توحید پر ہے کھل کر بیان کرنے کی کوشش فرمائیں۔ لیکن دین کی اہمیت کے پیش نظر ہم یہ بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ مشرکین اللہ تعالیٰ کی آیات کی تبلیغ و دعوت سے کبھی آپ کو روکنے کی جسارت نہ کریں۔ آپ ہر بات کو ڈنکے کی چوٹ کہیں، کیونکہ جو باتیں آپ پر نازل کی جا چکی ہیں وہ نہ واپس ہوسکتی ہیں اور نہ دبائی جاسکتی ہیں کیونکہ ان آیات کا سرچشمہ آپ کی ذات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ آپ کی حیثیت اللہ تعالیٰ کے دین کے مبلغ کی ہے، دین کے بانی اور شارع کی نہیں۔ آپ پر جو کلام اترتا ہے آپ تو بہرصورت اسے بندوں تک پہنچانے کے مکلف ہیں۔ اور اگر آپ اسے کسی دوسرے کی خاطر روکنا پسند فرمائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تبلیغ و دعوت پر دوسروں کی پسند و ناپسند کو ترجیح دی ہے تو یہ گویا شرک ہوگا۔ اور آپ تو دنیا میں شرک کو ختم کرنے کے لیے اٹھے ہیں۔ یہاں پر پہنچ کر پِتّہ پانی ہونے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کی گہرائی بھی دل میں اترنے لگتی ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کا مخالفین کو تصور دینا مقصود ہے۔
Ayah 28:88

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارو، کوئی معبود نہیں بجز اس کے، اس کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے، اسی کی حکمرانی ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے

وَلاَ تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَ م لَآاِلٰہَ اِلاَّھُوَ قف کُلُّ شَیْ ئٍ ھَالِکٌ اِلاَّ وَجْھَہٗ ط لَـہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (القصص : 88) (اور اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارو، کوئی معبود نہیں بجز اس کے، اس کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے، اسی کی حکمرانی ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ ) آنحضرت ﷺ کی دعوت توحید کا نچوڑ سابقہ مضمون کا تسلسل جاری ہے، اس آیت تک پہنچتے پہنچتے اس کی لو اور تیز ہوگئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت شرک نے ایسی وسعت اور متنوع صورت اختیار کرلی تھی کہ جس کا ازالہ آسان نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کا وہ گھر جسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کا مرکز بنایا تھا بت پرستی کا ایک بہت بڑا تیرتھ بن چکا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی دعوت مشرکین کے لیے ناقابل برداشت ہوتی جارہی تھی۔ اس لیے پیش نظر آیت کریمہ میں اس طرح اس مضمون کو کھول دیا گیا ہے کہ جس میں مداہنت کا ہر امکان ختم ہوجاتا ہے اور مخالفین پر اچھی طرح یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تم نبی کریم ﷺ سے اس معاملے میں کسی نرمی کی امید مت رکھو۔ چناچہ اس طرح کی ہر امید کو ختم کرنے کے لیے آپ سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور معبود کو نہ پکاریں۔ حالانکہ آپ سے اس کی کسی طرح امید نہیں ہوسکتی۔ لیکن بتایا صرف یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کو ایسی تاکید کے ساتھ یہ حکم دیا جارہا ہے تو دوسرے لوگوں کو اس کی اہمیت اچھی طرح جان لینی چاہیے۔ اور دوسرا معبود پکارنے سے اس لیے روکا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور معبود کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کائنات کی ہر چیز اس کے سوا فانی ہے۔ ہر چیز اس کے فرمان کے سامنے سرافگندہ ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ دم مار سکے۔ فیصلے کا تمام اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ چند روزہ زندگی گزارنے کے بعد آخرکار اسی کے پاس لوٹ کے جانا ہے۔ عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری اس طرح ہو کہ ہر جبین پر اس کی بندگی کا روشن نشان چمک رہا ہو اور دل اس کی محبت سے سرشار ہو، سینہ اس کے نورمعرفت سے منور ہو، کیونکہ اس کے تعلق کا یہی کم سے کم تقاضا ہے۔