28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsروح القرآن

Ayah 28:36

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

پس جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو انھوں نے کہا یہ تو محض گھڑا ہوا جادو ہے اور ہم نے اس طرح کی باتیں اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سنی ہی نہیں

فَلَمَّا جَآئَ ھُمْ مُّوْسٰی بِاٰیٰـتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَاھٰذَٓا اِلاَّ سِحْرٌ مُّفْتَرًی وَّمَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِیْٓ اٰبَـآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ ۔ (القصص : 36) (پس جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو انھوں نے کہا یہ تو محض گھڑا ہوا جادو ہے اور ہم نے اس طرح کی باتیں اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سنی ہی نہیں۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات اور ان کی دعوت کی مخالفت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان بڑی بڑی نشانیوں کو لے کر جو دو معجزات کی صورت میں آپ ( علیہ السلام) کو دی گئی تھیں فرعون اور اس کی قوم کے پاس پہنچے اور انھیں اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلایا، تو انھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلے میں اور آپ ( علیہ السلام) کے معجزات کو دیکھ کردو باتیں کہیں۔ ایک بات تو یہ کہی کہ یہ دو حیرت انگیز چیزیں یعنی عصائے موسیٰ اور یدبیضا جنھیں موسیٰ اپنے معجزات قرار دے رہے ہیں حقیقت میں کوئی معجزہ نہیں بلکہ یہ جادو کے کرشمے ہیں۔ اور ہم پر رعب جمانے کے لیے انھیں معجزہ قرار دے کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نمائندگی کا دعویٰ کیا جارہا ہے یا ان کا ان نشانیوں کو سِحْرٌ مُّفْتَرًی قرار دینے سے مطلب یہ ہے تھا کہ یہ نفس شے میں حقیقی تغیر نہیں بلکہ محض ایک نمائشی شعبدہ ہے جسے یہ شخص معجزہ قرار دے کر ہمیں دھوکہ دے رہا ہے۔ اور یا ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ یہ شخص کسی کرتب سے ایک ایسی چیز بنا لایا ہے جو دیکھنے میں لاٹھی معلوم ہوتی ہے مگر جب اسے ہوا میں پھینکا جاتا ہے تو سانپ نظر آنے لگتی ہے۔ اور اس نے اپنے ہاتھ پر بھی کوئی ایسی چیز مل لی ہے کہ اس کی بغل سے نکلنے کے بعد وہ ہاتھ یکایک چمکنے لگتا ہے۔ یہ ایک مصنوعی طلسم ہے جو اس نے تیار کر رکھا ہے اور اسے معجزہ قرار دے رہا ہے۔ اور دوسری بات یہ کہی کہ موسیٰ جس طرح کی باتیں کررہے ہیں اور ان کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ رب العالمین کے رسول ہیں، بالکل انوکھا اور نرالا دعویٰ ہے۔ ہمارے آبائواجداد کے زمانے میں کسی رب العالمین کا ذکر کبھی نہیں سنا گیا۔ فرعون دراصل اپنی قوم کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ ہمارے باپ دادا نے بھی کبھی ایسی بات نہیں سنی جس سے یہ معلوم ہو کہ فرعونِ مصر سے اوپر بھی کوئی ایسی مقتدر ہستی ہے جو فرعون کو حکم دینے کی مجاز ہو، جو اسے سزا دے سکتی ہو، جو اسے ہدایات دینے کے لیے کسی آدمی کو اس کے دربار میں اس حیثیت سے بھیج سکتی ہو کہ وہ رب العالمین کا نمائندہ اور رسول ہے۔ اور فرعونِ مصر بھی درحقیقت اسی کی ہدایات کا تابع ہے۔ ان کے نزدیک یہ ایسی نرالی باتیں تھیں جو آج تک کسی کی زبان سے نہیں سنی گئیں۔
Ayah 28:37

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو اس کی طرف سے ہدایت لے کے آیا اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہونا ہے، بیشک ظالم ہرگز فلاح پانے والے نہیں

وَقَالَ مُوْسٰی رَبِّیْٓ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآئَ بِالْھُدٰی مِنْ عِنْدِہٖ وَمَنْ تَـکُوْنُ لَـہٗ عَاقِـبَۃُ الدَّارِ ط اِنَّـہٗ لاَ یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (القصص : 37) (اور موسیٰ نے کہا میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو اس کی طرف سے ہدایت لے کے آیا اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہونا ہے، بیشک ظالم ہرگز فلاح پانے والے نہیں۔ ) فرعون کی یا وہ گوئی کا جواب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی الزام تراشی اور دریدہ دہنی کے جواب میں فرمایا کہ تم مجھے مفتری قرار دے رہے ہو اور مجھے عطا کیے جانے والے معجزات کو جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی قرار دیتے ہو۔ میرا رب خوب جانتا ہے کہ میں کس حیثیت کا مالک ہوں۔ کیونکہ کسی انسان کی داخلی اور خارجی زندگی اس کی نگاہوں سے اوجھل نہیں۔ وہ نیتوں کے فتور اور ارادوں کے فساد سے بھی واقف ہے۔ اس سے یہ بات مخفی نہیں کہ کون اس کے پاس سے ہدایت لے کر آیا ہے اور کون لوگ اس کو جانتے بوجھتے جھٹلا رہے ہیں اور ہر ایک کا انجام بھی اس کے سامنے واضح ہے۔ میں اگر جھوٹا ہوں تو میں جھوٹ کے انجام سے بچ نہیں سکوں گا۔ اور اگر میں سچا ہوں تو تم سچے رسول کی تکذیب کی پاداش میں پکڑے جاؤ گے۔ اور اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب میں گہری نظر کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) نہایت مخفی انداز میں مستقبل کی خبر دے رہے ہیں البتہ اس کے لیے اسلوب نہایت بلیغ اور شائستہ منتخب کیا گیا ہے۔ یعنی کہنا یہ ہے کہ وہ دن دور نہیں جب میں اور میرے ساتھی انشاء اللہ تعالیٰ غالب اور فتح مند ہوں گے اور تم لوگ ذلیل و خوار ہو کے رہو گے کیونکہ وہ ظالم لوگ جو اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کرکے اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے ہیں وہ کبھی بھی فلاح نہیں پایا کرتے۔
Ayah 28:38

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا، اے اہل دربار ! میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔ تو اے ہامان میرے لیے گارے کو آگ دے (یعنی پختہ اینٹیں تیار کروا) پھر میرے لیے ایک اونچی عمارت بنا تاکہ میں موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں، میں تو اس کو جھوٹا آدمی خیال کرتا ہوں

وَقَالَ فِرْعَوْنُ یٰٓـاَیُّھَا الْمَلَاُ مَاعَلِمْتُ لَـکُمْ مِّنْ اِلٰـہٍ غَیْرِیْ ج فَاَوْقِدْلِیْ یٰـہَا مٰـنُ عَلَی الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّـعَلِّیْٓ اَطَّلِعُ اِلٰٓی اِلٰـہِ مُوْسٰی وَاِنِّیْ لَاَظُنُّـہٗ مِنَ الْـکٰذِبِیْنَ ۔ (القصص : 38) (اور فرعون نے کہا، اے اہل دربار ! میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔ تو اے ہامان میرے لیے گارے کو آگ دے (یعنی پختہ اینٹیں تیار کروا) پھر میرے لیے ایک اونچی عمارت بنا تاکہ میں موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں، میں تو اس کو جھوٹا آدمی خیال کرتا ہوں۔ ) فرعون کا استہزاء اور اس کے دعویٰ کا مفہوم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب فرعون کے سامنے اس کے بھرے دربار میں رب العالمین کا ذکر کیا تو اسے بہت ناگوار گزرا۔ اس نے محسوس کیا گویا اس کے پائوں تلے سے زمین سرک رہی ہے۔ کیونکہ رب العالمین کا تسلیم کیا جانا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کا نمائندہ مان لینا اپنے اندر یہ مفہوم رکھتا ہے کہ فرعون کو اس ملک میں حکومت کا کوئی اختیار نہیں، اصل حکومت رب العالمین کی ہے، اس کی انابت میں اس شخص کو محدود اختیارات استعمال کرنے کی اجازت ہوگی جسے وہ اپنا نمائندہ بنائے اور اس پر اپنے اعتماد کا اظہار کرے۔ چناچہ فرعون نے خیال کیا کہ اگر اس خطرناک بات کو میرے اہل دربار نے وزن دینا شروع کردیا تو میرے اقتدار کے لیے خطرہ پیدا ہوجائے گا۔ چناچہ انھیں خدشات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس نے اپنے رئوسائے مملکت کی طرف دیکھا، پھر بڑے غرور سے کہا کہ موسیٰ کی بات کی طرف التفات نہ کرنا، میں خوب جانتا ہوں، میرے سوا تمہارا اور کوئی اِلٰہ نہیں۔ اور جہاں تک میری الوہیت اور خدائی کا تعلق ہے وہ تو ایک ایسی معروضی اور زمینی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ فرعون نے اپنے دعوے میں اِلٰہ کا لفظ استعمال کیا ہے کہ میں ہی تمہارا اِلٰہ ہوں اور میرے سوا تمہارا اور کوئی اِلٰہ نہیں۔ اِلٰہ کا لفظ چونکہ خالق کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ فرعون نے شاید یہ لفظ اسی معنی میں استعمال کیا ہو۔ کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بڑے سے بڑے کافر اور مشرک نے بھی کبھی اپنے آپ کو خالق کائنات قرار نہیں دیا۔ کیونکہ ہر شخص یہ بات جانتا ہے کہ جو خود مخلوق ہو وہ خالق کیسے ہوسکتا ہے۔ ایسا دعویٰ تو صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو عقل سے بالکل تہی دامن ہو۔ فرعون ہزار گمراہ سہی لیکن وہ بیوقوف نہ تھا۔ وہ نہایت کامیابی سے ایک ملک کا نظام چلا رہا تھا۔ اور اس نے اپنی مملکت کو روئے زمین پر ایک بڑی حیثیت دے رکھی تھی۔ اس لیے اس کے بارے میں یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ایسے کسی پاگل پن کا اظہار کرسکتا تھا۔ اسی طرح اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ میرے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، کیونکہ اِلٰہ اگرچہ معبود کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، لیکن فرعون نے معبود ہونے کا کبھی دعویٰ نہیں کیا۔ اگر ایسا ہوتا تو مصر میں کسی اور معبود کی کبھی پرستش نہ کی جاتی۔ جبکہ قرآن کریم کی شہادت موجود ہے کہ اہل مصر نہ صرف مختلف معبودوں کی پوجا کرتے تھے بلکہ فرعون بھی بہت سے دیوتائوں کا پرستار تھا۔ سورة الاعراف آیت 187 میں قرآن کریم کا بیان ہے وَقَالَ الْمَلاَ ئُ مِنْ قَوْمِ فُرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰی وَقَوْمَہٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَیَذَرَکَ وَاٰلِھَتَکَ ” اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا، کیا تو، موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد برپا کرے اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ “ خود فرعون کو جس بناء پر معبودیت کا مرتبہ دیا گیا تھا، وہ بھی صرف یہ تھی کہ اسے سورج دیوتا کا اوتار مانا جاتا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر اِلٰہ کا مفہوم خالق کائنات یا معبودِ کائنات نہیں تو پھر آخر کیا تھا۔ قرآن کریم کی وضاحت سے اور تاریخ کی صراحت سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے یہ لفظ مطاع اور حاکم مطلق کے معنی میں استعمال کیا تھا۔ وہ کہنا یہ چاہتا تھا کہ اس سرزمینِ مصر کا مالک میں ہوں، یہاں حکم میرا چلے گا، یہاں قانون میرا ہی قانون مانا جائے گا، میری ذات ہی یہاں امرونہی کا سرچشمہ تسلیم کی جائے گی۔ چناچہ اس نے اپنی قوم سے کہا یَاقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَھٰذِہِ الْاَنْہَارُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ ” اے قوم ! کیا مصر کی بادشاہی میری ہی نہیں ہے، اور یہ نہرے میریں تحت جاری نہیں۔ “ اسی بناء پر وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بار بار کہتا تھا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اَبَائُ نَا وَتَـکُوْنَ لَـکُمَاالْکِبْرِیَائُ فِی الْاَرْضِ ” کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اس طریقے سے ہٹا دے جو ہمارے باپ دادا کے زمانے سے چلا آرہا ہے اور اس ملک میں بڑائی تم دونوں بھائیوں کی ہوجائے۔ “ حقیقت یہ ہے کہ اصل بنائے نزاع پیغمبروں اور فراعنہ ونماردہ اور حق و باطل میں صرف یہ نہیں کہ عبادت کس کی، کی جائے، قربانیاں کس کے نام پر کی جائیں، دلوں کی آبادی کس کے ذکر سے ہو، بلکہ یہ بھی ہے کہ پرستش کے ساتھ ساتھ اطاعت کس کی ہو، حق کے داعی اور اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول، اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی نہ پرستش کی اجازت دیتے ہیں اور نہ اطاعتِ مطلقہ کی اجازت دیتے ہیں۔ وہ صاف صاف یہ کہتے ہیں کہ جو مخلوقات کا خالق ہے وہی ان کا حاکم، مطاع، قانون دینے والا اور رہنمائے مطلق ہے۔ وہ دنیا میں کشورکشائی اور غیرمشروط حکمرانی کے لیے نہیں آتے، بلکہ وہ انسانوں کے سروں اور دلوں پر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے کے لیے آتے ہیں۔ وہ جس طرح ان کے سروں کو اس کے سامنے جھکاتے ہیں، اسی طرح ان کے قانون، ان کی تہذیب، ان کی ثقافت اور ان کے نظام زندگی کو اللہ تعالیٰ کے دین کے تابع کرنے کے لیے آتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی سروری کو قبول نہیں کرتے۔ بقول اقبال : سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آذری یہی بات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہی۔ اور ظاہر ہے جو اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔ اور یہی بات نبی کریم ﷺ نے قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے لازمی ٹھہرائی ہے۔ اسی بات کو ہلکا اور بےاثر کرنے کے لیے فرعون نے ایک دوسری بات استہزاء کے انداز میں کہی، کہ موسیٰ جس رب العالمین کا نام لیتا ہے اور وہ اسے حاکم حقیقی کے طور پر ہمارے سامنے پیش کررہا ہے، میں نے خوب سوچ بچار اور تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ دعویٰ سراسر باطل ہے۔ اس ملک میں میرے سوا کوئی دوسرا اِلٰہ نہیں۔ اس زمین کا پتا پتا میرے حکم سے حرکت کرتا ہے، یہاں کوئی کام میری اجازت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے زمین میں میرے سوا کسی دوسرے اِلٰہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ممکن ہے موسیٰ یہ کہنا چاہتے ہوں کہ آسمانوں پر ایک اِلٰہ ہے۔ تو اس نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اے ہامان ! تم پختہ اینٹوں کی ایک بلند عمارت بنائو، کیونکہ کچی اینٹیں زیادہ بلند عمارت کا بوجھ نہیں اٹھا سکیں گی، تاکہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ کے رب کو جھانک کر دیکھوں کہ وہ کہاں بیٹھا ہوا ہے، آخر وہ زمین پر کیوں نہیں اترتا۔ میرا گمان تو یہ ہے کہ موسیٰ ایک جھوٹے آدمی ہیں جنھوں نے محض اپنی طرف سے ایک بات بنادی ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ اہل مصر فرعون کو سورج جیسے بڑے دیوتا کا اوتار سمجھتے تھے۔ اس لیے ان سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ یہ سمجھتے ہوں کہ فرعون ایسی قدرت رکھتا ہے جس سے وہ آسمانوں کے اطراف میں پہنچ سکتا اور جھانک کر دیکھ سکتا ہے۔ اس لیے اگر وہ یہ بات کہتا ہے تو یقینا اس کا ایک وزن ہے۔ ویسے بھی شخصی حکومتوں میں رعایا کی غور و فکر کرنے کی قوتیں عموماً سلب ہوجایا کرتی ہیں۔ وہ اپنے بادشاہوں اور مطلق العنان حکمرانوں کے دماغ سے سوچتے اور انھیں کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ کامیاب حکمران وہی ہوتا ہے جو اپنی رعایا کو کبھی جاگنے نہیں دیتا اور ان کے ذہنوں کو خوف یا لالچ کے پردوں میں اس حد تک لپیٹ دیتا ہے کہ وہ اسی میں اپنی راحت و عافیت سمجھتے ہیں۔ اقبال نے ٹھیک کہا : نیند سے بیدار ہوتا ہے کوئی محکوم اگر پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری اس لیے قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ فرعون نے واقعی ایک محل تعمیر کرایا اور پھر اس پر چڑھ کر دیکھا بلکہ یہ تعمیر کے حکم کا ذکر ہے۔ اس لیے امام رازی فرماتے ہیں کہ فرعون نے یہ بات ازراہِ مذاق کہی تھی یا اپنی رعایا کو دھوکہ دینے کے لیے ایسا کہا تھا تاکہ لوگوں کی توجہ اصل معاملے سے ہٹا دی جائے۔ آگے چل کر فرماتے ہیں کہ رہا وہ قول جو کئی کتابوں میں نقل ہوتا چلا آیا ہے کہ اس نے ایک اونچا مینار تعمیر کیا، پھر وہ اس کے اوپر چڑھا اور ایک تیز انداز کو آسمان کی طرف تیر چلانے کا حکم دیا۔ جب وہ تیر لوٹا تو وہ خون سے آلودہ تھا۔ اس نے لوگوں کے سامنے اعلان کردیا کہ دیکھو میں نے موسیٰ کے خدا کا (نعوذباللہ) کام تمام کردیا۔ امام صاحب نے اس قول پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اور بعض تاریخی روایات میں کہا گیا ہے کہ ہامان نے اس محل کی تعمیر کے لیے پچاس ہزار معمار جمع کیے، مزدور اور لکڑی لوہے کا کام کرنے والے ان کے علاوہ تھے۔ اور محل کو اتنا اونچا بنایا کہ اس زمانے میں اس سے زیادہ بلند کوئی تعمیر نہیں تھی۔ پھر جب یہ تیاری مکمل ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو حکم دیا، انھوں نے ایک ضرب میں اس محل کے تین ٹکڑے کرکے گرا دیا جس میں فرعونی فوج کے ہزاروں آدمی دب کر مرگئے۔ قرطبی نے اس روایت کو ذکر کیا ہے لیکن حقیقت میں ان کی حیثیت تاریخی خرافات سے زیادہ نہیں۔
Ayah 28:39

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور اس نے اور اس کی فوجوں نے ناحق تکبر کیا اور انھوں نے گمان کیا کہ وہ ہماری طرف نہیں لوٹیں گے

وَاسْتَـکْبَرَھُوَ وَجُنُوْدُہٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِالْحَقِّ وَظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ اِلَیْنَا لاَ یُرْجَعُوْنَ ۔ (القصص : 39) (اور اس نے اور اس کی فوجوں نے ناحق تکبر کیا اور انھوں نے گمان کیا کہ وہ ہماری طرف نہیں لوٹیں گے۔ ) فرعون اور اس کے عیان سلطنت اعتقاد کی جس خرابی اور عمل کی جس ناہمواری کا شکار تھے اس کا سبب اپنے وسائل پر بیجا اعتماد اور اپنی ذات پر جھوٹا پندار تھا جس نے انھیں ایک ایسے ناحق گھمنڈ میں مبتلا کردیا تھا کہ وہ زمین پر اپنے آپ کو سب سے بڑی قوت سمجھنے لگے تھے۔ ملک کی مطلق العنان حکومت کے باعث ایک ایسے اقتدار کے نشے میں مخمور تھے جس نے انھیں اپنے انجام سے بالکل بےفکر کردیا تھا اور انھیں یقین ہوگیا تھا کہ وہ کبھی لوٹ کر اللہ تعالیٰ کے پاس نہیں جائیں گے۔ نہ جانے انھیں یہ بات کیوں سمجھ نہ آتی تھی کہ جس ذات نے کائنات کو پیدا کیا ہے اور جو کائنات کے تدبیر و انتطام کو اس طرح چلا رہا ہے کہ کسی کو اس کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں ہے۔ اس کی موجودگی میں کوئی ایسا شخص جس نے نہ کسی مخلوق کو پیدا کیا اور نہ مخلوق کے انتظام و انصرام کو چلانے میں اس کا کوئی حصہ ہے وہ اگر حاکم حقیقی کے سامنے خودسری دکھائے تو اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ اس کی شامت اسے بلا رہی ہے۔ یہی وہ استکبارِ ناحق ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے برگشتہ کرتا اور اس کو اپنے انجام سے لاپرواہ کردیتا ہے۔ چناچہ فرعون نے بھی اسی سرکشی کے باعث اپنے آپ کو شتربے مہار بنا کے چھوڑا۔ اور اس کے نتیجہ آخر یہ ہوا۔
Ayah 28:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

تو ہم نے اس کو اور اس کی فوجوں کو پکڑا، پس ان کو سمندر میں پھینک دیا، تو غور کرو ظالموں کا انجام کیسا ہوا

فَاَخَذْنٰـہُ وَجُنُوْدَہٗ فَـنَـبَذْنٰـھُمْ فِی الْیَمِّ ج فَانْظُرْکَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (القصص : 40) (تو ہم نے اس کو اور اس کی فوجوں کو پکڑا، پس ان کو سمندر میں پھینک دیا، تو غور کرو ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔ ) اس استکبار کے نتیجے میں فرعون اور اس کے حواریوں نے جو سرکشی اختیار کی اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا یہ دی کہ انھیں سمندر میں پھینک دیا۔ اس کی تفصیلات گزشتہ سورتوں بالخصوص سورة طٰہٰ کی تفصیل میں گزر چکی ہیں۔ اس واقعہ اور اس کی تفصیلات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ پھر غور کرو کیسا ہوا ظالموں کا انجام۔ اور یہی وہ حقیقی سبق ہے جس کے لیے یہ سرگزشت سنائی گئی ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی بھی ہے اور ان کفار مکہ کے لیے تنبیہ بھی جو آنحضرت ﷺ کی دعوت کے معاملے میں بالکل فرعون کی روش پر چل رہے تھے۔ اگر فرعون کی طرح انھوں نے بھی اپنی سرکشی کو روکنے کی کوشش نہ کی تو اللہ تعالیٰ کا عذاب سمندر ہی کی شکل میں نہیں آتا اس کی بیشمار شکلیں ہیں، وہ کسی شکل میں بھی آئے اس کی گرفت میں آنے والے کبھی بچ نہیں سکتے۔
Ayah 28:41

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

ہم نے ان کو دنیا میں جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیشوا بنایا اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی

وَجَعَلْـنٰـھُمْ اَئِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ ج وَیَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ لاَ یُنْصَرُوْنَ ۔ (القصص : 41) (ہم نے ان کو دنیا میں جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیشوا بنایا اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔ ) فرعون اور اس کے حواری اپنی ذات میں ایک مثال بنا دیئے گئے۔ بڑے سے بڑا گمراہ آدمی بھی بعض دفعہ دوسروں کی گمراہیوں کی تقلید کرتا ہے اور کبھی اپنی روش میں تبدیلی لانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ لیکن یہ ایسے بدنصیب واقع ہوئے تھے کہ قدرت نے انھیں مہلت دی تھی کہ وہ لوگوں کو بگاڑنے اور راہ حق سے دور کرنے کے لیے جو مساعی بھی انجام دینا چاہیں ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ اس کے نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کی سزا بھی ایسی بےروک ہوگی کہ قیامت کے دن کہیں سے بھی ان کو مدد نہیں پہنچے گی۔ آیت کا دوسرا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ بڑے سے بڑے مفسد لوگ دنیا میں گزرے ہیں لیکن فرعون اور اس کے دائیں بائیں رہنے والے لوگ اپنی ذات میں اس لحاظ سے ایک نمونہ ہیں کہ انھوں نے سرکشی، گمراہی اور بدچلنی کے ایسے راستے کھولے ہیں کہ جس میں ان کا کوئی ہمسر نہیں۔ آئندہ نسلوں کو گمراہ کرنے میں جو انھوں نے مثالیں چھوڑی ہیں اس کا کہیں جواب نہیں۔ انھوں نے جس برائی کی طرف بھی توجہ کی اس کو پوری طرح سیراب کیا۔ اور جس صداقت کے مقابلے میں بھی ہتھیار اٹھایا ظلم کی انتہا کردی۔ اس لحاظ سے وہ واقعی اس قابل ہیں کہ انھیں گمراہ دنیا کا امام کہا جائے۔ ان کی زندگی فی الواقع جہنم کی آگ کی طرف دعوت دیتے گزری ہے۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ آگ کی طرف دعوت دینے کو استعارۃً استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اپنے حقیقی معنی میں نہیں بلکہ مجازی معنی میں ہے۔ لیکن سید انور شاہ صاحب ( رح) کی تحقیق یہ ہے کہ آخرت کی جزاء عین عمل ہے۔ انسان کے اعمال جو وہ دنیا میں کرتا ہے برزخ اور پھر حشر میں اپنی شکلیں بدلیں گے اور جوہری صورتوں میں نیک اعمال گل و گلزار بن کر جنت کی نعمتیں بن جائیں گے اور اعمالِ کفر و ظلم آگ اور سانپ، بچھوئوں اور طرح طرح کے عذابوں کی شکل اختیار کرلیں گے۔ اس لیے جو شخص اس دنیا میں کسی کو کفروظلم کی طرف بلا رہا ہے وہ حقیقتاً اس کو آگ ہی کی طرف بلا رہا ہے۔
Ayah 28:42

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے پیچھے اس دنیا میں بھی لعنت لگا دی اور قیامت کے دن ان کا شمار ملعونوں میں ہوگا

وَاَتْبَعْنٰـھُمْ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً ج وَیَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ھُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ ۔ (القصص : 42) (اور ہم نے ان کے پیچھے اس دنیا میں بھی لعنت لگا دی اور قیامت کے دن ان کا شمار ملعونوں میں ہوگا۔ ) یعنی جس دنیا میں وہ لیڈری اور پیشوائی کرتے رہے اسی دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے ہمیشہ کے لیے لعنت لگا دی اور آخرت میں وہ ذلیل و خوار ہوں گے۔ مَقْبُوْحِیْنَ کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ وہ مردود و مطرود ہوں گے، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بالکل محروم کردیئے جائیں گے، ان کی بری گت بنا جائی گی اور ان کے چہرے بگاڑ دیئے جائیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) نے اس کا معنی کیا ہے کہ مَقْبُوْحِیْنَ وہ ہیں جن کے چہرے بگڑ گئے ہوں، رنگ سیاہ ہو اور آنکھیں نیلی۔ اور جس کو ہر بھلائی سے دور ہانک دیا گیا ہو۔ (مظہری) یہی مضمون سورة ہود میں اس طرح بیان ہوا ہے۔ فَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَفِرْعَوْنَ ج وَمَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ ۔ یَقْدُمُ قَوْمَہٗ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ فَاَوْرَدَھُمُ النَّارَ ط وَبٔئْسَ الْوِرْدُالْمَوْرُوْدُ ۔ وَاُتْبِعُوْا فِیْ ھٰذِہٖ لَعْنَۃً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِط بِئْسَ الرِّفْدُالْمَرْفُوْدُ ۔ (ھود : 97۔ 99) ” تو انھوں نے فرعون کی رائے کی پیروی کی اور فرعون کی رائے صائب نہ تھی۔ وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور ان کو دوزخ کے گھاٹ پر اتارے گا اور کیا ہی برا ہوگا یہ گھاٹ ! اور اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی، اور کیا ہی برا ہوگا یہ صلہ جو ان کو ملے گا ! “
Ayah 28:43

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بنا کر اور ہدایت و رحمت بنا کر تاکہ وہ یاددہانی حاصل کریں

وَلَقَدْ اٰتَـیْنَا مُوْسَی الْـکِتٰبَ مِنْ م بَعْدِ مَـآ اَھْلَـکْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰی بَصَآئِرَلِلنَّاسِ وَھُدًی وَّرَحْمَۃً لَّعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ (القصص : 43) (پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بنا کر اور ہدایت و رحمت بنا کر تاکہ وہ یاددہانی حاصل کریں۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی کتاب کی تین صفات گزشتہ آیات میں پروردگار نے ظالموں کا انجام واضح فرمایا ہے اور اب اپنے اسلوب کے مطابق اس فضل و انعام کا ذکر کیا جارہا ہے جس نے مظلوموں کی کایا پلٹ دی۔ اور اس سرگزشت کی تمہید میں اس کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے۔ لوگ اپنی کو تاہی فکر کے باعث اللہ تعالیٰ کے فضل و انعام سے عام طور پر اس کی وہ نعمتیں مراد لیتے ہیں جس کا تعلق مادی زندگی سے ہے۔ یعنی غذائی ضرورتوں کی فراوانی، زمین کی سرسبزی اور شادابی، کاروباری ترقی یا دوسری قوموں پر مسلط ہونے کے امکانات، ان میں سے بیشتر چیزیں یقینا اللہ تعالیٰ کے انعامات میں شمار کی جاسکتی ہیں، لیکن ان کی حیثیت ضمنی ہے، اصلی نہیں۔ اس کی سب سے بڑی اور حقیقی نعمت وہ ہے جو کسی قوم کی بقاء کا سامان بنتی ہے جس سے انسانیت پھلتی پھولتی اور انسانی رشتے مستحکم ہوتے ہیں۔ اور انسان کا اپنے مالک سے ٹوٹا ہوا رشتہ ازسرنو جڑ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سب سے بڑی نعمت وحی الٰہی اور اس کے ذریعے سے عطا ہونے والی تعلیمات ہیں۔ جب قومیں ان سے روگردانی کرتی ہیں اور جو اس کی طرف دعوت دینے والے ہیں ان انبیائے کرام کی تکذیب کرتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کا عذاب ان کو عبرت بنا دیتا ہے اور وہ اپنے پیچھے تباہی کی داستانیں چھوڑ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کتنی قومیں اس روگردانی کے باعث اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئیں۔ آخر اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی تو اس نے بہت سی قوموں کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور ان پر وہ کتاب نازل فرمائی جسے اللہ تعالیٰ نے تین صفات سے متصف فرمایا۔ اس کی پہلی صفت پیش نظر آیت کریمہ میں جو بیان فرمائی گئی ہے وہ بصیرت ہے۔ یعنی دل و دماغ کی صلاحیتیں اور تعقل اور تفکر کی قوتیں بیدار کرنے والی۔ بعض اہل علم نے اس کا معنی بیان کرتے ہوئے فرمایا ھی نورفی القلب یبصربہ قلوبھم حقائق الاشیاء۔ بقدرالطاقۃ البشریۃ ” یعنی دل کی وہ روشنی جس سے انسانی طاقت کے مطابق حقیقتِ اشیاء پر آگاہی ہوتی ہے۔ “ اس کو بصورتِ جمع لانے سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ وہ کتاب ایسی آیات اور ایسے دلائل پر مشتمل تھی جو آنکھیں کھول دینے والی تھی۔ اس کتاب کی دوسری صفت ہے ہدایت۔ یعنی وہ کتاب جو زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ جو کتاب قانون بھی ہے۔ جس سے دلوں میں سکون و اطمینان بھی پیدا ہوتا ہے۔ جو صراط مستقیم کو بھی متشکل کردیتی ہے۔ تیسری صفت یہ ہے کہ وہ رحمت ہے۔ یعنی جو شخص یا جو معاشرہ اس کتاب کی رہنمائی کو قبول کرلیتا اور اسے ضابطہ حیات بنا لیتا ہے اس کے لیے یہ کتاب رحمت کا باعث ثابت ہوتی ہے۔ اور جب یہ دونوں لفظ یعنی ہدایت اور رحمت ایک ساتھ اس کتاب کی صفت کے طور پر آتے ہیں تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ کتاب دنیا کی زندگی میں ہدایت ہے اور آخرت کی زندگی میں رحمت ہے۔ صدیوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے کتاب و شریعت کی یہ نعمت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے بنی اسرائیل کو عطا کی۔ اور اس طرح سے انھیں دنیا کی امامت و پیشوائی کے منصب پر فائز کیا۔ لیکن بنی اسرائیل نے اس کتاب کے ساتھ جو سلوک کیا اس کی تفصیل سورة البقرہ کے تقریباً دس رکوعوں میں گزر چکی ہے۔
Ayah 28:44

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ! آپ اس وقت پہاڑ کے مغربی گوشے میں موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کو یہ فرمانِ شریعت عطا کیا اور نہ آپ ان لوگوں میں تھے جو وہاں موجود تھے

وَمَا کُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْقَضَیْنَـآ اِلٰی مُوْسَی الْاَمْرَ وَمَا کُنْتَ مِنَ الشّٰھِدِیْنَ ۔ (القصص : 44) (اور اے پیغمبر ! آپ اس وقت پہاڑ کے مغربی گوشے میں موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کو یہ فرمانِ شریعت عطا کیا اور نہ آپ ان لوگوں میں تھے جو وہاں موجود تھے۔ ) یہاں سے خاتمہ سورة کی آیات شروع ہورہی ہیں۔ یہ پہلی تین آیتیں آنحضرت ﷺ کی طرف التفات کی نوعیت کی ہیں جن میں آپ ﷺ کی نبوت کے ایسے دلائل دیئے گئے ہیں جو نہایت سادہ لیکن فطرت کے دروازے پر دستک دینے والے ہیں۔ یہ چونکہ مکی سورة ہے اس لیے اس میں براہ راست کلام کا رخ قریش کی طرف ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہود کو بھی سنایا جارہا ہے کیونکہ وہ بھی بہت حد تک حق و باطل کی کشمکش میں شریک ہوچکے اور قریش کو اعتراضات کا مواد فراہم کرنے میں شامل ہوچکے تھے۔ دونوں کو توجہ دلانے اور انکار کی صورت میں اتمامِ حجت کرنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو احکامِ شریعت دینے کے لیے جبلِ طور پر بلایا گیا تھا اور جبلِ طور چونکہ علاقہ حجاز کے مغربی جانب واقع ہے اس لیے اسے مغربی گوشہ قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ تو اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔ اور اسی طرح بنی اسرائیل کے ان ستر نمائندوں کو جن کو شریعت کی پابندی کا عہد لینے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بلایا گیا تھا، آپ ﷺ تو ان میں بھی موجود نہیں تھے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ آپ ﷺ کو حضرت موسیٰ اور ان پر نازل کی جانے والی کتاب، اور کتاب کے اترنے کی جگہ اور بنی اسرائیل کے تذبذب کے نتیجے میں ان کے نمائندوں کی جبلِ طور پر حاضری اور پھر وہاں پر پیش آنے والے واقعات، نیز تورات کی تفصیلات جن کا جابجا آپ نے قرآن کریم میں ذکر کیا ہے، کس ذریعے سے آپ تک پہنچیں جبکہ عرب کا گوشہ گوشہ ہمیشہ ان تفصیلات سے بیخبر رہا۔ آپ کے پاس علم کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے آپ کی رسائی ان معلومات تک ہوسکتی ہے۔ آپ امی ہونے کی وجہ سے اہل کتاب کے علمی ذخیرہ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ جو شخص بھی غیرجانبداری سے اس بات پر غور کرے گا، اسے یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ صدیوں پہلے پیش آنے والے واقعات کی حتمی اور قطعی خبر وحی الٰہی کے سوا اور کسی ذریعے سے نہیں مل سکتی۔
Ayah 28:45

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

لیکن اس کے بعد ہم نے اٹھائی ہیں بہت سی نسلیں، پس ان پر بہت زمانہ گزر چکا ہے، آپ اہل مدین کے درمیان بھی مقیم نہ تھے کہ ان کو ہماری آیات سنا رہے ہوتے، لیکن اس وقت کی (یہ خبریں) بھیجنے والے ہم ہیں

وَلٰکِنَّـآ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْہِمُ الْعُمُرُ ج وَمَا کُنْتَ ثَاوِیًا فِیْٓ اَھْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰـتِنَا لا وَلٰـکِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ ۔ (القصص : 45) (لیکن اس کے بعد ہم نے اٹھائی ہیں بہت سی نسلیں، پس ان پر بہت زمانہ گزر چکا ہے، آپ اہل مدین کے درمیان بھی مقیم نہ تھے کہ ان کو ہماری آیات سنا رہے ہوتے، لیکن اس وقت کی (یہ خبریں) بھیجنے والے ہم ہیں۔ ) آنحضرت ﷺ کی رسالت کی دلیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دنیا سے رحلت کے بعد کئی قومیں صفحہ ہستی پر نمودار ہوئیں اور تورات کی فراہم کردہ روشنی سے ان قوموں نے استفادہ کیا، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ویسے ویسے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پس پشت ڈالتے گئے۔ جس کتاب کو ہدایت و رحمت بنایا گیا تھا اس کی ہدایت سے منہ موڑنے کے باعث اللہ تعالیٰ کی رحمت ان سے منہ موڑ گئی۔ اب پروردگار نے اپنے آخری رسول کو مبعوث فرما کر اس ہدایت و رحمت کے سرچشمے کو ازسرنو زندہ کیا۔ اور انھوں نے اس کتاب میں ترمیم و تحریف کا جو ظالمانہ کردار جاری کر رکھا تھا اللہ تعالیٰ کے آخری رسول نے ضرورت کے تحت کہیں کہیں اس سے پردہ اٹھایا تاکہ اصل چہرے بےنقاب ہوسکیں اور لوگوں پر یہ حجت بھی قائم ہوسکے کہ بنی اسرائیل کی جن ظالمانہ خیانتوں سے دنیا ناواقف تھی اور تاریخ کے مختلف ادوار میں بنی اسرائیل نے اس کتاب سے برگشتگی کے باعث جو زخم اٹھائے تھے آج نبی آخرالزماں ﷺ جس طرح انھیں منصہ شہود پر لا رہے ہیں آخر ان مردہ معلومات کی عقدہ کشائی کس ذریعے کے بل بوتے پر کی جارہی ہے۔ مزید فرمایا گیا ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات دیئے جانے کے وقت آپ ﷺ جبلِ طور میں موجود نہیں تھے اور جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل نے ترمیم و تحریف کا کاروبار جاری رکھا آپ ﷺ اس وقت بھی موجود نہیں تھے۔ اسی طرح جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین پہنچے اور جو کچھ وہاں ان کے ساتھ پیش آیا اور دس سال گزار کر جب وہ وہاں سے روانہ ہوئے اس وقت بھی آپ ﷺ وہاں موجود نہ تھے۔ اور نہ آپ ﷺ اس وقت مدین کی بستیوں میں وہ کام کررہے تھے جو آج مکہ کی گلیوں میں کر رہے ہیں۔ ان تمام واقعات سے باخبر ہونا اور پھر اس کو نہایت صحت کے ساتھ دنیا پر آشکارا کرنا آپ ﷺ کا عینی مشاہدہ تو نہیں بلکہ یہ علم آپ ﷺ کو ہماری وحی کے ذریعہ سے ہی حاصل ہوا ہے۔ اور ہم نے ان باتوں سے آپ ﷺ کو اس لیے آگاہ کیا ہے کہ جس طرح ہم نے پہلے رسول بھیجے، اسی طرح آپ ﷺ کو بھی اپنا رسول بنایا ہے۔
Ayah 28:46

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

آپ طور کے دامن میں موجود نہ تھے جبکہ ہم نے موسیٰ کو پکارا، مگر آپ اپنے رب کی رحمت سے (مبعوث کیے گئے) تاکہ آپ ان لوگوں کو متنبہ کریں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا، شاید وہ نصیحت حاصل کریں

وَمَا کُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْنَادَیْنَا وَلٰـکِنْ رَّحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّـآ اَتٰـھُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍمِّنْ قَبْلِکَ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ (القصص : 46) (آپ طور کے دامن میں موجود نہ تھے جبکہ ہم نے موسیٰ کو پکارا، مگر آپ اپنے رب کی رحمت سے (مبعوث کیے گئے) تاکہ آپ ان لوگوں کو متنبہ کریں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا، شاید وہ نصیحت حاصل کریں۔ ) آنحضرت ﷺ کی رسالت کے اثبات میں مزید دلیل جس طرح آپ ﷺ ان مواقع پر موجود نہ تھے جن کا حوالہ سابقہ آیات میں دیا گیا ہے، اسی طرح آپ ﷺ طور کے پہلو میں بھی اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کو آواز دی۔ اس سے مراد وہ واقعہ ہے جو نبوت دیئے جانے سے پہلے پیش آیا کہ آپ ( علیہ السلام) آگ کی تلاش میں وادی ایمن کے کنارے پر پہنچ گئے، تب اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کو پکارا، اپنا تعارف کرایا اور آپ ( علیہ السلام) کو نبوت سے مشرف فرمایا، اور پھر آپ ( علیہ السلام) کو معجزات دیئے گئے۔ اور فرعون کی ہدایت کے لیے جانے کا حکم دیا گیا۔ آنحضرت ﷺ سے کہا جارہا ہے کہ آپ ﷺ ان تمام باتوں سے بالکل بیخبر تھے، لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت مقتضی ہوئی کہ وہ آپ ﷺ کو رسول بنائے۔ اس وجہ سے اس نے آپ ﷺ کو ان باتوں سے آگاہ کیا جو آپ ﷺ کی رسالت کی نہایت روشن دلیلیں ہیں، کیونکہ ان میں سے ایک ایک بات ایسی ہے جن سے پوری دنیائے علم بیخبر تھی۔ عرب کے کسی گوشے میں اس سے متعلق کوئی علم موجود نہ تھا۔ اہل کتاب خود اپنی کتابوں کو ترمیم و تحریف سے غیرمحفوظ بنا چکے تھے۔ لیکن آنحضرت ﷺ ان میں سے ایک ایک بات کو ایسی صفائی، سادگی، قطعیت اور علمی دیانت کے ساتھ پیش کررہے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کے پاس کوئی بتانے کا ذریعہ نہیں۔ آپ ﷺ کے بدترین مخالف بھی کبھی کھل کے یہ بات نہ کہہ سکے کہ آپ ﷺ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا سرچشمہ فلاں یہودی عالم یا فلاں عیسائی راہب ہے۔ اور اس طرح کی فضول بات کبھی کسی شخص کی زبان پہ نہ آسکی کہ آپ ﷺ کے پاس گزشتہ تاریخ اور علوم و آداب کی ایک لائبریری موجود ہے جس کی مدد سے وہ یہ ساری تقریریں کررہے ہیں۔ اور کبھی کسی نے یہ الزام نہ لگایا کہ آپ ﷺ نے کچھ مترجمین کی خدمات حاصل کررکھی ہیں جو عبرانی، سریانی اور یونانی کتابوں کے ترجمے کر کرکے آپ ﷺ کو دیتے ہیں۔ اور نہ کبھی کسی نے یہ بےپر کی بات کہنے کی جرأت کی کہ شام و فلسطین کے تجارتی سفروں میں آپ ﷺ یہ معلومات حاصل کرکے آئے تھے۔ کیونکہ یہ سفر تنہا نہیں ہوتے تھے۔ مکہ ہی کے تجارتی قافلے ہر سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ لگے ہوتے تھے۔ اگر کوئی اس وقت ایسا دعویٰ کرتا تو سینکڑوں زندہ شاہد یہ شہادت دے دیتے کہ وہاں آپ ﷺ نے کسی سے کوئی درس نہیں لیا، جبکہ مکہ میں آپ ﷺ کے دائیں بائیں آگے پیچھے بیسیوں لوگ ایسے موجود تھے جو ہر وقت آپ ﷺ کے حالات کی ٹوہ میں لگے رہتے۔ اگر ان کے یہاں ایسی کسی بات کے سراغ ملنے کا امکان بھی ہوتا تو وہ اس کے حصول کے لیے سب کچھ کر گزرتے۔ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ وہ انتہائی بگڑے ہوئے لوگ اس طرح کی گری ہوئی حرکت نہ کرسکے، لیکن آج کے مستشرقین جو اپنے آپ کو علم اور تحقیق کا وارث سمجھتے ہیں انھیں ایسی بےسروپا باتیں کہتے ہوئے بالکل شرم محسوس نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں شاید کبھی اس کی ضرورت محسوس نہ ہوئی ہو۔ لیکن یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جو قرآن کریم اور آپ ﷺ کے زمانے کی تاریخ سے بالکل بےبہرہ ہو اور اسے یہ خبر بھی نہ ہو کہ قرآن کریم نے اپنے مخالفوں کو بار بار چیلنج کے انداز میں یہ بات کہی کہ ہمارا پیغمبر جو کچھ بیان کررہا ہے یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم اس کی طرف وحی کرتے ہیں۔ اگر ہم انھیں یہ باتیں نہ بتاتے تو وہ کبھی ان باتوں کو نہ جان سکتے، جس طرح ان کی قوم اور اہل زمانہ ان باتوں سے بالکل بیخبر ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت کا مقصد لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّـآ اَتٰـھُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍمِّنْ قَبْلِکَ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ آنحضرت ﷺ کی نبوت پر دلائل قائم کرنے کے بعد آپ ﷺ کے مقصد بعثت کی طرف اشارہ فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سارا اہتمام اس لیے فرمایا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو ان کے انجام سے خبردار کریں۔ یاد رہے کہ یوں تو رسالت و نبوت کا کام سب سے کٹھن کام ہے لیکن آنحضرت ﷺ کے لیے یہ مشکل اس لحاظ سے فزوں تر ہوجاتی ہے کہ آپ ﷺ کو ایک ایسی قوم کی طرف مبعوث فرمایا گیا ہے جس کی طرف اس سے پہلے کوئی انذار کرنے والا نہیں آیا۔ یہ قوم جو اس وقت عرب میں آباد ہے ان میں سے بیشتر کا تعلق بنی اسماعیل سے ہے۔ عرب میں حضرت اسماعیل اور حضرت شعیب (علیہما السلام) کے بعد کوئی نبی نہیں آیا۔ تقریباً دو ہزار برس کی اس طویل مدت میں باہر کے انبیاء کی دعوتیں تو ضرور وہاں پہنچیں مثلاً حضرت موسیٰ ، حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کی دعوتیں۔ مگر کسی نبی کی بعثت خاص اس سرزمین میں نہیں ہوئی تھی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جب تک دنیا میں ایک رسول کا پیغام اپنی صحیح صورت میں موجود رہتا ہے اور لوگوں تک اس کے پہنچنے کے ذرائع موجود رہتے ہیں، کسی نئے رسول کی بعثت نہیں ہوتی۔ بجز اس کے کہ پچھلے پیغام میں کسی اضافے کی یا کوئی نیا پیغام دینے کی ضرورت لاحق ہو۔ ویسے بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے عظیم القدر فرزند کو ساتھ لے کر مکہ میں اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کیا تو مکہ میں ایک امت مسلمہ اٹھائے جانے کی دعا کی اور ساتھ ہی یہ التجا بھی کی کہ ان میں ایک ایسا رسول بھیجا جائے جو یہیں کے رہنے والوں کی اولاد میں سے ہو۔ یعنی قبیلہ قریش کا ایک فرد ہو۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور نبی کریم ﷺ دعائے خلیل کی اجابت بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ کی نبوت اگرچہ پوری نوع انسانی کے لیے ہے لیکن قریش اور عرب میں بسنے والے دیگر لوگ آپ ﷺ کے اولین مخاطب اور اس امت کا ہر اول دستہ ہیں۔ ان کی طرف اللہ تعالیٰ کے آخری رسول کی بعثت اس کی سب سے بڑی رحمت ہے۔ اگر ان لوگوں نے اس کی قدر کی تو اس کے نتیجے میں دنیا کی امامت کے منصب پر فائز ہوں گے۔ اور اگر انھوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو یہ ان کے لیے بہت بڑی نقمت کا باعث بن سکتی ہے۔ سنتِ الٰہی یہ ہے کہ اگر کوئی قوم خدا کے بھیجے ہوئے منذر کے انذار سے یاددہانی نہیں حاصل کرتی تو وہ تباہ کردی جاتی ہے۔
Ayah 28:47

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور ہم رسول نہ بھیجتے) اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان پر ان کے اعمال کے سبب سے کوئی مصیبت آئے تو وہ کہیں اے ہمارے رب تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے

وَلَوْ لَآ اَنْ تُصِیْبَہُمْ مُّصِیْبَۃٌ م بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلاً فَنَتَّبِعَ اٰیٰـتِکَ وَنَـکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (القصص : 47) (اور ہم رسول نہ بھیجتے) اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان پر ان کے اعمال کے سبب سے کوئی مصیبت آئے تو وہ کہیں اے ہمارے رب تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے۔ ) تین باتوں کی طرف اشارہ اس آیت کریمہ میں تین باتوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے فطرت، حواس اور عقل کی جو روشنی عطا فرمائی ہے وہ بھی انسان کو گمراہی اور بدعملی کی زندگی سے بچانے کے لیے کافی ہے۔ اس روشنی کے عطا کردینے کے بعد یہ ضروری نہیں کہ اللہ تعالیٰ وحیِ الٰہی کا نور بھی نازل فرمائے۔ کیونکہ یہ بات تو صحیح ہے کہ تفصیلی احکام وحی الٰہی کے بغیر جاننا ممکن نہیں۔ لیکن ضروریاتِ دین کی پہچان اور اللہ تعالیٰ کے عرفان کے لیے عقل اور فطرت کی رہنمائی کفایت کرتی ہے۔ اس رہنمائی کے بعد اگر پروردگار کی جانب سے لوگوں کی بدعملیوں کی سزا کا سلسلہ شروع ہوجاتا تو وہ عدل کیخلاف ہرگز نہ ہوتا۔ دوسری بات جس کی طرف اشارہ فرمایا گیا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو زمین پر فساد پسند نہیں۔ وہ انسانوں کی کج روی اور بدعملی کو ایک حد تک ہی برداشت کرتا ہے۔ جب اخلاقی پیمانے بھر جاتے ہیں تو پھر اس کی طرف سے سزا نازل ہوجاتی ہے۔ اور اس کے لیے ضروری نہیں کہ اس سے پہلے کسی نبی کی بعثت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ تیسری بات جس کی طرف اشارہ فرمایا گیا وہ یہ ہے کہ وحی الٰہی کا نزول اور رسول کی بعثت اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص ہے۔ یہ ہدایت کی بنیادی ضرورت نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے کمال عدل سے یہ پسند فرمایا کہ وہ ہر طرح کے عذر کو ختم کردے اور لوگوں پر حجت تمام کردے۔ اس کے لیے اس نے رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں۔ قریش اور دیگر اہل عرب کو سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا فضلِ خاص اور اس کی خصوصی رحمت ہے کہ اس نے آخری رسول کو ہمارے اندر مبعوث فرمایا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ تنبیہ بھی ہے کہ اگر اتنی بڑی عنایت کے بعد بھی تم لوگوں نے اس کی قدر نہ کی تو پھر انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت تمام ہوچکی ہے اب قیامت کے دن ان کا کوئی عذر مسموع نہیں ہوگا۔
Ayah 28:48

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

پس جب ہماری طرف سے حق ان کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰ کو دیا گیا تھا، کیا اس طرح کے لوگوں نے اس چیز کا انکار نہیں کیا جو اس سے پہلے موسیٰ کو دی گئی، انھوں نے کہا دونوں ماہر جادوگر ہیں جنھوں نے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے اور کہا کہ ہم اس سب کے منکر ہیں

فَلَمَّا جَآئَ ھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْلَآ اُوْتِیَ مِثْلَ مَـآ اُوْتِیَ مُوْسٰی ط اَوَلَمْ یَکْفُرُوْا بِمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ ج قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰہَرَا وقفۃ قف وَقَالُوْٓا اِنَّا بِکُلٍّ کٰفِرُوْنَ ۔ (القصص : 48) (پس جب ہماری طرف سے حق ان کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰ کو دیا گیا تھا، کیا اس طرح کے لوگوں نے اس چیز کا انکار نہیں کیا جو اس سے پہلے موسیٰ کو دی گئی، انھوں نے کہا دونوں ماہر جادوگر ہیں جنھوں نے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے اور کہا کہ ہم اس سب کے منکر ہیں۔ ) ایک اعتراض اور اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق قطع عذر اور اتمامِ حجت کے لیے جب مکہ معظمہ میں نبی کریم ﷺ کو مبعوث فرمایا اور آپ ﷺ پر قرآن کریم کو نازل فرمایا اور قرآن کریم اور رسول کریم دونوں چونکہ ایک ہی پیغام کے پیش کرنے والے اور ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اس لیے قرآن کریم نے دونوں کو حق کے نام سے تعبیر کیا کیونکہ یہ دونوں چیزیں اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ اور دونوں کی عظمت کا عالم یہ ہے کہ دونوں اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں۔ جس طرح سچائی کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا رسول اور قرآن کریم اس سچائی کے مبلغ اور مناد ہیں۔ نہ اس سرچشمے تک باطل کی گرد اڑ کر پہنچ سکتی ہے اور نہ ان دونوں کی صداقت کو مخالفین کی ژاژخائی مکدر کرسکتی ہے۔ چناچہ اب جبکہ یہ حق اللہ تعالیٰ کی طرف سے آگیا ہے اور اسی پر آئندہ انسانوں کی قسمت بننے یا بگڑنے کا انحصار ہے۔ تو شیطانی قوتوں نے اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے احسان سے انسانوں کو تہی دامن رکھنے کے لیے اپنے تمام حربے استعمال کرنے شروع کردیئے۔ اور اپنے ترکش کا ایک ایک تیر آزمانا شروع کردیا۔ اور پھر اس میں قریش، جو براہ راست اللہ تعالیٰ کے رسول کے مخاطب تھے نے ہی اس مخالفت میں اپنا رول ادا نہیں کیا بلکہ یہود بھی پوری طرح سے ان کی پشت پناہی کرنے لگے۔ چناچہ یہود ہی کے بتلانے اور اکسانے پر آنحضرت ﷺ کی نبوت کیخلاف وہ اعتراض کیا گیا جو اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ قریش اگرچہ یہودیت اور مسیحیت سے بالکل ناواقف نہیں تھے لیکن دونوں کی تفصیلات سے بالکل بیخبر تھے۔ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں سنتے رہتے تھے لیکن انھیں یہ معلوم نہ تھا کہ ان کو کس طرح نبوت ملی اور انھیں کیسے کیسے معجزات سے سرفراز کیا گیا۔ لیکن یہ یہود تھے جو انھیں ان باتوں سے آگاہ کرتے تھے اور پھر ان کو تیار کرکے آنحضرت ﷺ پر اعتراض کرنے کے لیے بھیجتے تھے۔ چناچہ انھیں کے اکسانے پر قریش نے یہ سوال کیا کہ جس طرح آپ ﷺ نبوت کا دعویٰ کررہے ہیں، اسی طرح یہود میں موسیٰ نام کے ایک عظیم پیغمبر گزر چکے ہیں۔ انھیں جب نبوت دی گئی تھی تو ساتھ ہی معجزات بھی دیئے گئے تھے۔ ان کا عصاء سانپ بن جاتا تھا، ان کا ہاتھ سورج کی طرح چمکتا تھا، ان کی دعا سے طوفان اٹھتے، ہَوائیں بےقابو ہوتیں اور زمین و آسمان سے بلائوں کا نزول ہوتا تھا۔ آپ ﷺ تو اس طرح کی کوئی نشانی لے کر نہیں آئے، تو آپ ﷺ کو نبی کیسے باور کرلیا جائے۔ اگر آپ ﷺ بھی نبی ہوتے، تو آپ ﷺ کو بھی ویسے ہی معجزات دیئے جاتے جیسے موسیٰ کو دیئے گئے تھے۔ قرآن کریم نے کسی لمبی بحث میں پڑے بغیر دوٹوک اور براہ راست جواب دیا کہ جن لوگوں نے تمہیں یہ سکھایا پڑھایا ہے ذرا ان سے یہ تو پوچھو کہ اگر ایسے معجزات دیکھنے کے بعد کسی نبی کے دعویٰ نبوت کو ماننا ضروری ہوجاتا ہے تو پھر ان کے بھائی بند یعنی حضرت موسیٰ کے ہمعصر لوگوں نے حضرت موسیٰ کو نبی ماننے سے کیوں انکار کیا تھا۔ انھوں نے عصائے موسیٰ اور ید بیضا کو معجزات ماننے کی بجائے جادو قرار دیا۔ اور حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے بارے میں بدتمیزی کرتے ہوئے یہ کہا کہ یہ دونوں بڑے ماہر جادوگر ہیں اور دونوں نے ایک دوسرے سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ ان دونوں بزرگوں کو ساحر کہنے کی بجائے آیت میں سحر کہا گیا ہے۔ سحر کا تثنیہ سحران ہے۔ اور یہ ساحر کے مفہوم میں ہے۔ عربی کا قاعدہ یہ ہے کہ جب اسم فاعل کو اسم مصدر کی صورت میں صفت یا خبر کے طور پر لایا جاتا ہے تو اس کے اندر مبالغہ کا مضمون پیدا ہوجاتا ہے۔ اور ” تظاہر “ کے معنی تعاون اور گٹھ جوڑ کرنے کے ہیں، یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) نے جو شاندار معجزے دکھائے تو ان پر ایمان لانے کی بجائے فرعون اور اس کے امراء نے کہا دونوں بڑے ماہر جادوگر ہیں۔ اور انھوں نے ہمارے خلاف گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ یہ دونوں اس گٹھ جوڑ کے ذریعے کیسے ہی کرتب دکھائیں اور کتنا زور لگائیں ہم ہرگز ان پر ایمان لانے والے نہیں۔ ہم انھیں بھی ماننے سے انکار کرتے ہیں اور ان کے معجزات کے بھی منکر ہیں۔
Ayah 28:49

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے، اچھا تو لائو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہے، میں اسی کی پیروی کروں گا، اگر تم سچے ہو

قُلْ فَاتُوْا بِکِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِاللّٰہِ ھُوَاَھْدٰی مِنْھُمَآ اَتَّبِعْہُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (القصص : 49) (اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے، اچھا تو لائو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہے، میں اسی کی پیروی کروں گا، اگر تم سچے ہو۔ ) قریش سے ایک مطالبہ گزشتہ آیات سے یہ بات تو ثابت ہوجاتی ہے کہ عقل اور فطرت کی روشنی کے باوجود انسان عموماً ہَوائے نفس کی یورش، مفادات کی ہوس اور بعض طبعی عوارض سے اس حد تک مقہور واقع ہوا ہے کہ وحی الٰہی کی رہنمائی قبول کیے بغیر اس کے لیے کوئی چارہ نہیں۔ اسی وجہ سے پروردگار نے ہمیشہ انبیائے کرام مبعوث فرمائے اور کتابیں نازل کیں تاکہ انسان نارسائیِ فکر کا شکار نہ ہو اور ان کا اتباع کرکے منزل مقصود تک پہنچے۔ اب جبکہ اسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ کے آخری رسول تشریف لے آئے اور آخری کتاب نازل ہوگئی تو بجائے اس کا اتباع کرنے کے قریش نے معجزات کے حوالے سے سوالات کھڑے کردیئے۔ قرآن کریم نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر معجزات ہی ہدایت کی اساس اور ضمانت ہیں تو پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے انکار کیوں کیا گیا۔ اور صاف صاف ان کے معجزات کو جادو قرار دیا گیا۔ جبکہ یہ بات طے ہوگئی ہے کہ ہدایت کے لیے بہرصورت کسی نہ کسی نبی اور کتاب کا ہونا ضروری ہے۔ چناچہ اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اگر اس نامعقول بات کو مان بھی لیا جائے کہ تورات اور قرآن کریم کی ہدایت کافی نہیں تو پھر تم کوئی ایسی کتاب لائو جو ان دونوں سے بہتر ہدایت دے سکتی ہو۔ کیونکہ ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کے نبی اور کتاب کا ہونا ازبس ضروری ہے۔ اور میں چونکہ ہدایت ہی کا پیروکار ہوں، اس لیے اگر تم کوئی اور کتاب پیش کردو جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہو اور قرآن اور تورات سے زیادہ ہدایت دیتی ہو تو مجھے اس کے اتباع سے بھی انکار نہیں ہوگا۔ لیکن اگر تم ایسی کوئی کتاب نہیں رکھتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی میں سچے نہیں ہو۔ تمہیں محض اعتراض کرنے سے دلچسپی ہے، ہدایت سے دلچسپی نہیں۔ اس سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ نبی کریم ﷺ قرآن کریم کی ہدایت سے یکسو نہیں تھے، اس لیے آپ ﷺ کسی اور کتاب کی پیروی کے لیے بھی تیار تھے۔ بلکہ اس کا مطلب تو صرف یہ ہے کہ جو کتاب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے وہ ہدایت اور نور کا سرچشمہ تھی، اور اسے واجب الاتباع ٹھہرایا گیا تھا۔ قرآن کریم اسی سلسلہ کی آخری کڑی ہے۔ وہ پہلی کتابوں کا انکار نہیں کرتا بلکہ ان کا مصدق اور ان میں کی جانے والی ترمیمات و تحریفات کا اصلاح کرنے والا ہے۔ اس میں پیش کی جانے والی ہدایت تمام ہدایتوں کی جامع ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کریم کی پیروی درحقیقت تمام کتابوں کی پیروی ہے جس طرح آنحضرت ﷺ کا اتباع تمام رسولوں کا اتباع ہے۔ اب نہ اللہ تعالیٰ کے اس آخری رسول کے بعد کوئی اور رسول آئے گا اور نہ اس کتاب کے بعد کوئی اور کتاب آئے گی۔
Ayah 28:50

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پس اگر وہ آپ کا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو یقین کر لیجیے کہ یہ دراصل اپنی خواہشات کے پیرو ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے، اللہ ظالموں کو ہرگز راہ یاب نہیں کرے گا

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَـکَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَھْوَآئَ ھُمْ ط وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ھَـواہُ بِغَیْرِ ھُدًی مِّنَ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (القصص : 50) (پس اگر وہ آپ کا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو یقین کر لیجیے کہ یہ دراصل اپنی خواہشات کے پیرو ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے، اللہ ظالموں کو ہرگز راہ یاب نہیں کرے گا۔ ) ہدایت کی پیروی سے گریز کرنے والا خواہشات کا پیرو ہے اگر یہ لوگ آپ ﷺ کے اس چیلنج کے جواب میں تورات اور قرآن کریم سے زیادہ کوئی ہدایت بخش کتاب پیش نہیں کرتے اور نہ ان میں سے کسی کی پیروی کے لیے تیار ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دراصل ہدایت کے پیروکار نہیں بلکہ اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ اندازہ فرمایئے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے بغیر محض اپنی خواہشات کا پیرو ہے اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا۔ نفس انسان کو گناہ کا حکم دیتا اور خواہشات کے راستے پر چلاتا ہے۔ اس کے اندر حق و باطل اور خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت نہیں، بلکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ نفس کے پھیلائے ہوئے جال میں عقل ایسا الجھتی ہے کہ اس کے لیے باہر نکلنا ممکن نہیں رہتا۔ اور بعض دفعہ تو عقل نفس کا ایجنٹ بن کر رہ جاتی ہے اور بجائے حق کا ساتھ دینے کے اس کے خلاف دلائل فراہم کرنے لگتی ہے۔ اقبال نے ایسے ہی موقع پر نہایت تأسف سے کہا تھا : خرد کی تنگ دامانی سے فریاد تجلی کی فراوانی سے فریاد گوارا ہے اسے نظارہ غیر نگہ کی نامسلمانی سے فریاد جو لوگ خواہشوں کی پیروی کرتے اور عقل سے رہنمائی لینے کی بجائے اسے خواہشات کا غلام بنا دیتے ہیں وہی دراصل ظالم ہیں۔ کیونکہ انھوں نے عقل کو مغلوب کرکے اور خواہش کو غالب بنا کر ظلم کا ارتکاب کیا ہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ تعالیٰ کبھی راہ یاب نہیں کرتا۔
Ayah 28:51

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور ہم مسلسل بھیجتے رہے ان کی طرف اپنا کلام تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں

وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَہُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ (القصص : 51) (اور ہم مسلسل بھیجتے رہے ان کی طرف اپنا کلام تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں۔ ) ہدایت کی تعلیم و تذکیر کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوا سابقہ آیات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کے راہ ِ راست پر چلنے اور صحیح رویہ کے مقابلے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہَوائے نفس کی پیروی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو انسان کو راستے سے بھٹکاتی، حق کا دشمن بناتی اور عقل کو اپنا صحیح رول ادا کرنے سے روکنے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔ اس کا علاج اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے جو ہدایت کا راستہ روشن کیا ہے اس کا اتباع کیا جائے اور ہرحال میں حق اور اہل حق کو رہنما بنایا جائے۔ اسی کے نتیجے میں انسانیت کی بقاء اور انسانی اقدار کی جلا کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن کریم ہدایت سے تعبیر کرتا ہے۔ تو انسان کے بہتر مستقبل کی ضمانت بلکہ انسان کی فلاح و کامرانی کا دارومدار چونکہ اسی ہدایت کو قبول کرنے پر ہے اس لیے پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ ہم نے ہدایت کی تعلیم و تذکیر کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہونے دیا بلکہ اس کے تسلسل کو برابر قائم رکھا۔ ہر رسول کی تعلیمات کے گم ہوجانے یا بےاثر ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیا رسول، نئی کتاب اور نئی شریعت لے کے آجاتا۔ اس طرح اس سلسلے میں کبھی انقطاع ہونے میں نہیں آیا۔ چناچہ اسی تسلسل کے حوالے سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کردہ کتاب کو اس کے حاملوں نے پس پشت ڈال دیا اور جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حکمت شریعت کو نظرانداز کردیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے محمد کریم ﷺ کو اس نعمت سے سرفراز فرمایا۔ اور جو ہدایت پہلی کتابوں میں انسانوں کو عطا کی گئی تھی اسی کو قرآن کریم کی شکل میں نئے اسلوب سے جامعیت اور کاملیت کے ساتھ نازل فرمایا۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں، وہی جانے پہچانے حقائق ہیں۔ البتہ انسانوں کے ذہنی افق میں ارتقاء کے باعث جو تبدیلی آرہی ہے قرآن کریم ان تمام تبدیلیوں کا جواب اور تمام امراض کا شافی علاج بن کر نازل ہوا ہے۔ اہل کتاب چونکہ دین کے بنیادی حقائق سے آگاہ ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ پیش قدمی کریں اور اس نعمت کو دوسروں سے آگے بڑھ کر قبول کریں جو انھیں پہلے ناتمام شکل میں مل چکی ہے، اور اب وہ کامل شکل میں جلوہ گر ہوئی ہے۔ اور بنی اسماعیل کو اس لیے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی مرتبہ براہ راست ان کو اپنی اس عظیم نعمت کا مورد بنایا ہے جبکہ وہ آج تک براہ راست اس نعمت سے کبھی مشرف نہیں ہوئے۔