28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsروح القرآن

Ayahs 28:52–53

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

اور جن کو ہم نے کتاب عطا کی اس سے پہلے، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب یہ ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لے آئے، بیشک یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے، ہم اس سے پہلے ہی سرتسلیم خم کرچکے ہیں

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰـھُمُ الْـکِتٰبَ مِنْ قَبْلِہٖ ھُمْ بِہٖ یُؤْمِنُوْنَ ۔ وَاِذَا یُتْلٰی عَلَیْھِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِہٖ اِنَّـہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَـآ اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلِہٖ مُسْلِمِیْن۔ (القصص : 52، 53) (اور جن کو ہم نے کتاب عطا کی اس سے پہلے، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ اور جب یہ ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لے آئے، بیشک یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے، ہم اس سے پہلے ہی سرتسلیم خم کرچکے ہیں۔ ) اہلِ کتاب کے صالحین کے ایمان لانے پر اظہارِتحسین آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی دعوت کے راستے میں یوں تو مشرکینِ عرب نے بھی رکاوٹیں کھڑی کرنے اور اس کا راستہ روکنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی، لیکن پورے عرب یا عرب کے کسی قبیلے نے اجتماعی طور پر اس دعوت کو مسترد نہیں کیا۔ قریش نے سب سے زیادہ ہیکڑی دکھائی، لیکن اس دعوت کی برومندی اور فلاح و کامرانی کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں بھی قریش ہی نے دیں اور ان کی تمام تر مخالفت کے باوجود دعوت کی قبولیت کا سلسلہ کبھی نہیں رکا بلکہ اندر ہی اندر اس دعوت کے اثرات پھیلتے رہے۔ لیکن وہ طبقہ جنھوں نے اجتماعی طور پر اس دعوت کو رد کردیا، وہ اہل کتاب کا طبقہ ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جسے بعض لوگ اس وقت بھی سند کے طور پر پیش کرتے تھے اور آج بھی اس سے استدلال کرتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم اور تاریخِ مذہب کا طالب علم اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کی تمام تر مخالفت کے باوجود ان کے صالحین کا ایک قابل ذکر طبقہ ایسا ضرور ہوا ہے جنھوں نے آگے بڑھ کر اس دعوت کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اسے حرز جان بھی بنایا۔ یہود میں عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اور نصاریٰ میں شمعون کے پیروکاروں نے ہر طرح کے ناموافق حالات کا سامنا کرتے ہوئے اس دعوت کو قبول کرنے کا حوصلہ دکھایا۔ قرآن کریم انھیں لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مشرکینِ مکہ کو شرم دلا رہا ہے کہ تم اپنے گھر آئی ہوئی نعمت کو ٹھکرا رہے ہو حالانکہ دور دور کے لوگ اس کی خبر سن کر آرہے ہیں اور اس کی قدر پہچان کر اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ بھی مفسرین نے بیان کیا ہے جسے ابن ہشام اور بیہقی وغیرہ نے محمد بن اسحاق کے حوالے سے اس طرح روایت کیا ہے : ہجرتِ حبشہ کے بعد جب نبی کریم ﷺ کی بعثت اور دعوت کی خبریں حبش کے ملک میں پھیلیں تو وہاں سے 20 کے قریب عیسائیوں کا ایک وفد تحقیقِ حال کے لیے مکہ معظمہ آیا اور نبی کریم ﷺ سے مسجد حرام میں ملا۔ قریش کے بہت سے لوگ بھی یہ ماجرا دیکھ کر گردوپیش کھڑے ہوئے۔ وفد کے لوگوں نے حضور ﷺ سے کچھ سوالات کیے جن کا آپ ﷺ نے جواب دیا۔ پھر آپ ﷺ نے ان کو اسلام کی دعوت دی اور قرآن مجید کی آیات ان کے سامنے پڑھیں۔ قرآن سن کر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور انھوں نے اس کے کلام اللہ ہونے کی تصدیق کی اور حضور ﷺ پر ایمان لے آئے۔ جب مجلس برخاست ہوئی تو ابوجہل اور اس کے چند ساتھیوں نے ان لوگوں کو راستہ میں جا لیا اور انھیں سخت ملامت کی کہ ” بڑے نامراد ہو تم لوگ، تمہارے ہم مذہب لوگوں نے تم کو اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس شخص کے حالات کی تحقیق کرکے آئو اور انھیں ٹھیک ٹھیک خبر دو ، مگر تم ابھی اس کے پاس بیٹھے ہی تھے کہ اپنا دین چھوڑ کر اس پر ایمان لے آئے۔ تم سے زیادہ احمق گروہ تو کبھی ہماری نظر سے نہیں گزرا۔ “ اس پر انھوں نے جواب دیا کہ ” سلام ہے بھائیو تم کو، ہم تمہارے ساتھ جہالت بازی نہیں کرسکتے۔ ہمیں ہمارے طریقے پر چلنے دو اور تم اپنے طریقے پر چلتے رہو۔ ہم اپنے آپ کو جان بوجھ کر بھلائی سے محروم نہیں رکھ سکتے۔ “ (سیرت ابن ہشام ج 2، البدایہ والنہایہ، ج 3، ص 82) ان کا ایمان صرف زبان کے اقرار تک محدود نہ تھا بلکہ جب ان پر قرآن کریم کی آیات پڑھی جاتیں تو وہ نہ صرف اس پر ایمان لانے کا اعلان کرتے بلکہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ ہم اگرچہ پہلی آسمانی کتابوں کے ماننے والے ہیں، لیکن ہمارے آبائواجداد نے جس طرح ان میں تحریفات کی اور آج قرآن کریم ان سے پردہ اٹھا رہا ہے تو ہم قرآن کریم کے بیان اور انکشاف کو حق سمجھتے ہیں جو ہمارے رب کی طرف سے ہمیں پہنچایا جارہا ہے۔ اور ہمارے علماء نے خیانت سے کام لیتے ہوئے اگرچہ آج نبی آخرالزماں ﷺ اور قرآن کریم کے بارے میں بہت سی پیشگوئیوں کو خلط ملط کردیا ہے، لیکن ہم چونکہ اصل حقیقت سے واقف ہیں اس لیے ہم پہلے سے اس انتظار میں تھے کہ کاش وہ وقت ہماری زندگی میں آئے جب نبی آخرالزماں ﷺ کی بعثت ہو، اور ہم اپنی آنکھوں سے وہ زمانہ دیکھیں جس کا تذکرہ ہم اپنی کتابوں میں پڑھتے رہے ہیں۔ اس لحاظ سے آج قرآن کریم کی شکل میں جو کچھ ہمارے سامنے ہے ان میں سے کوئی چیز بھی نئی نہیں۔ ایمان کی وہی دعوت ہے جو اس سے پہلے تورات اور انجیل میں دی جا چکی ہے۔ وہی عبادات ہیں جن سے ہم پہلے سے آگاہ ہیں، اگرچہ اہل کتاب نے ان میں بہت کچھ بدل ڈالا۔ لیکن آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم ان تمام پیشگوئیوں کے مصدق اور مصداق بن کر آئے ہیں۔ اس لیے جیسے ہی اس دولت کو اپنے سامنے پایا جس کے ہم منتظر تھے تو ہم ان کی اطاعت میں داخل ہوگئے اور ہم جو پہلے ہی سرتسلیم خم کرچکے تھے اب زبان سے بھی اس کا اظہار کرنے لگے۔ اور مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہو کر اپنی قسمت سنوارنے لگے۔
Ayah 28:54

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کو دہرا اجر ملے گا بوجہ اس کے کہ وہ ثابت قدم رہے، وہ برائی کو بھلائی سے دفعہ کرتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

اُوْلٰٓئِکَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَھُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَیَدْرَئُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰـھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ (القصص : 54) (یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کو دہرا اجر ملے گا بوجہ اس کے کہ وہ ثابت قدم رہے، وہ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ) اہلِ کتاب میں سے ایمان لانے والوں پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اہلِ کتاب میں سے جن سعید روحوں کے ایمان لانے کی خبر گزشتہ آیات میں دی گئی ہے اب ان کے ایمان کی قبولیت اور اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیرمعمولی انعامات کا ذکر فرمایا جارہا ہے، لیکن ان انعامات کی تفصیل بیان کرنے کی بجائے لپیٹ کر اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ نہ بیان کرنے کے باوجود بھی بیان کا حق ادا ہوگیا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ ہیں جو اپنی استقامت کے صلہ میں دہرا اجر پائیں گے۔ یعنی ایک مومن جو ایمان کے تقاضوں کو پورا کرکے اللہ تعالیٰ کے یہاں ایسے بےپایاں انعامات کا مستحق ٹھہرے گا کہ جن کا اس دنیا میں تصور کرنا بھی محال ہے۔ کیونکہ آج کون ہے جو اس کا تصور کرسکے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کے لیے ایسی جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن کا عرض زمین و آسمان ہیں۔ انسان آج تک آسمان کی حدود کے قریب بھی نہیں پہنچ سکا، تو وہ ایسی وسیع جنت کا کیا تصور کرے گا۔ لیکن یہ ایسے خوش نصیب لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ انھیں اس امت کے مومن سے دہرا اجر عطا فرمائے گا۔ یہ خیال نہ کیا جائے کہ انھیں اس امت کے اہل ایمان پر فضیلت دی جارہی ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ یہ بھی اسی امت کا حصہ ہیں اور اسی رسول کے امتی ہیں جس رسول کی نام لیوا یہ امت ہے۔ لیکن ان خوش نصیب لوگوں کو ایمان کے لیے دہری مشقت اٹھانی پڑی ہے کہ اہل کتاب میں سے ہوتے ہوئے پہلے وہ اپنے نبی اور اپنی کتاب پر ایمان رکھتے تھے اور مرورزمانہ کے ساتھ ساتھ اہل کتاب میں ایمان و عمل کے حوالے سے جو بیشمار خرابیاں پیدا ہوئیں اور بدعات و خرافات نے جس طرح عام زندگی پر تسلط حاصل کیا انھوں نے ہر طرف سے دامن بچا کر اپنے نبی اور کتاب کی خالص شریعت پر عمل کرنے کی کوشش کی اور اس راستے میں جو بھی مشکلات پیش آئیں انھیں خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ اور ساتھ ہی ساتھ نبی خاتم اور دین کامل کی پیشنگوئی جو پہلی کتابوں میں کی گئی اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور دوسرے انبیائے (علیہم السلام) نے ان کا اعلان کیا، یہ برابر اس کے لیے چشم براہ رہے۔ چناچہ جب نبی آخرالزماں ﷺ تشریف لے آئے تو انھوں نے اسے یوسفِ گم گشتہ سمجھ کر آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا۔ جبکہ اہل کتاب نے اجتماعی طور پر اس دین کامل کی دعوت کو رد کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن یہ عبداللہ بن سلام کے ساتھی اور نصاریٰ میں سے شمعون کے پیروئوں نے اپنی قوم کے مبتدعین اور محرفین کے ہاتھوں انتہائی مصائب جھیلے، لیکن ان کی پامردی و استقامت میں کبھی فرق نہ آیا۔ یہی اہل حق تھے جن کو قرآن کی دعوت قبول کرنے کی توفیق حاصل ہوئی۔ اور قرآن نے متعدد سورتوں میں ان کی ثابت قدمی کو تسلیم کیا اور ان کے لیے دہرے اجر کا اعلان کیا۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری سے روایت ہے جسے بخاری اور مسلم دونوں نے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ثَلاَ ثَۃٌ لَھُمْ اَجْرَانِ رُجْلٍ مِّن اَہْلِ الْکِتَابِ اٰمَنَ بِنَبِیَّہِ وَاٰمَنَ بِمُحَمَّدٍ ” تین شخص ہیں جن کو دہرا اجر ملے گا، ان میں سے ایک وہ ہے جو اہل کتاب میں سے تھا اور اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا، پھر محمد ﷺ پر ایمان لایا۔ “ اہلِ کتاب میں ایمان لانے والوں کی صفات اب ان خوش نصیب لوگوں کے کچھ اخلاقِ حسنہ بیان کیے جارہے ہیں جن میں پہلی بات یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ ان کے صبر و عزیمت کا حال یہ ہے کہ اپنے بھائی بندوں اور اپنے ہم مذہبوں کے ہاتھوں انھیں اس آخری دین کے قبول کرنے کے نتیجے میں جن زہرہ گداز مصائب سے واسطہ پڑا ہے انھوں نے کبھی اس سے حوصلہ نہیں ہارا۔ اور کبھی مشتعل نہیں ہوے۔ لوگوں نے ایذائیں پہچائیں، بدزبانی سے کام لیا، تمسخر اڑایا اور ہر طرح کی توہین کی، لیکن انھوں نے ایسی ہر برائی کا جواب نیکی اور خیرخواہی سے دیا۔ وہ دکھوں کے جواب میں ہمیشہ دعائیں دیتے رہے، گالیاں سن کر ہمیشہ نصیحت سے کام لیا۔ بڑی سے بڑی تکلیف پر بھی کبھی مایوس نہ ہوئے، شرافت سے گری ہوئی حرکتیں کی گئیں لیکن ان کی مومنانہ شرافت اور کریمانہ عفو و درگزر کو کبھی شکست نہ دی جاسکی۔ مزید ایک صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ ایمان لانے کے نتیجے میں صرف ان کے رویئے ہی میں تبدیلی نہیں آئی بلکہ ان کی زندگی کے اہداف بھی بدل گئے۔ بنی اسرائیل بالخصوص یہود کی شناخت آج تک زرپرستی رہی ہے۔ لیکن ان کا حال یہ ہے کہ مخالفین کی عداوت اور مخالفت نے اگرچہ ان کے مالی معاملات تلپٹ کرکے رکھ دیئے، ان کے لیے آسودگی سے گھر چلانا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ باایں ہمہ جو کچھ بھی ان کے پاس آتا ہے وہ اس میں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر نظریہ جو زندگی کا نظام پیش کرتا ہو، اجتماعی زندگی کی تعلیم دیتا ہو، ایک نئی سوسائٹی بنانے کی فکر میں ہو، ریاست کی تنظیم جس کے اہداف میں شامل ہو، جس کی منزل اجتماعی انقلاب ہو، اس کے افراد کی سب سے بڑی قوت اگرچہ ایمان اور حسن عمل ہوتی ہے لیکن اسے بروئے کار لانے کے لیے قدم قدم پر مالی معاونت کی ضرورت پڑتی ہے۔ جس دعوت کی منزل صرف درویشی اور دنیا سے لاتعلقی کو فروغ دینا ہو وہ بھی بنیادی ضرورتوں سے بےنیاز نہیں ہوسکتی۔ چہ جائیکہ وہ دعوت جو اپنے سامنے دھرتی کو ایک نیا روپ دینے کے لیے اٹھی ہو اس لیے یہ لوگ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ انھیں عطا کرتا ہے اسے اپنی حد تک محدود نہیں رکھتے بلکہ انفاق فی سبیل اللہ سے کام لیتے ہیں۔
Ayah 28:55

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

جب یہ کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہتے

وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْـہُ وَقَالُوْا لَنَـآ اَعْمَالُنَا وَلَـکُمْ اَعْمَالُـکُمْ ز سَلٰـمٌ عَلَیْکُمْ ز لاَ نَبْتَغِی الْجٰھِلِیْنَ ۔ (القصص : 55) (جب یہ کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہتے۔ ) گزشتہ مضمون کا تسلسل گزشتہ آیت میں عفو و درگزر ان کا خاص وصف بیان کیا گیا۔ اس آیت کریمہ میں اس کی مزید وضاحت محسوس ہوتی ہے اور یہ شاید اس لیے باردگر بیان کی جارہی ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ( رض) کو ایسی ہی صورتحال سے واسطہ تھا۔ اور آپ کے دشمن آپ کے ساتھ بدترین رویہ اختیار کرچکے تھے۔ ایسے حالات میں اہل حق کا سب سے مضبوط حربہ عفو و درگزر اور صبر و استقامت ہی ہوتا ہے۔ چناچہ یہ اہل کتاب جو اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہوئے ہیں انھیں بھی جب ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہونا پڑا تو انھوں نے وہی رویہ اختیار کیا جو ہمیشہ سے اہل ایمان کا شیوہ رہا۔ ممکن ہے اس میں اشارہ ابوجہل کے بےہودہ رویئے کی طرف ہو۔ جو اس نے حبشہ سے آئے ہوئے ان مسافروں کے ساتھ اختیار کیا تھا جو حق کی تلاش میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچے تھے اور جیسے ہی انھوں نے قرآن کریم کو سنا اور حضور ﷺ نے ان کے سامنے دعوت حق پیش کی تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور انھوں نے اس دعوت کو اس طرح بےتابانہ قبول کیا گویا وہ برسوں سے اس کی تلاش میں تھے۔ اور جب ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے انھیں لعنت ملامت کی تو انھوں نے جواب میں یہی کہا کہ تمہارے لیے تمہارے اعمال مبارک ہوں، اور ہمیں اپنے اعمال کی فکر کرنے دو ۔ پھر انھوں نے سلام کہا، اس سلام سے سلام مفارقت مراد ہے۔ جیسا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کو سلام کیا تھا۔ یہ کسی سے پیچھا چھڑانے کا ایک نہایت شائستہ طریقہ ہے۔ اور مزید یہ کہا کہ تمہارا رویہ کچھ مناسب نہیں، ہم ایسا طرزعمل اختیار نہیں کرسکتے، کیونکہ اس کا نتیجہ الجھائو کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ تم اگر اصل بات کی طرف توجہ دینا نہیں چاہتے تو ہمارے پاس بلاوجہ الجھنے کا وقت نہیں۔
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہی ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے

اِنَّـکَ لاَ تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ج وَھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ ۔ (القصص : 56) (اے پیغمبر ! آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہی ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی گزشتہ آیات کی تشریح میں ہم عرض کرچکے ہیں کہ یہودونصاریٰ میں سے جن مخلص لوگوں نے ناموافق حالات کے باوجود اسلام قبول کیا اور اس کی صداقت کی بلندبانگ شہادت دی۔ قرآن کریم نے ان کی تعریف و تحسین فرمائی ہے۔ اور مفسرین نے اس حوالے سے حبشہ سے آئے ہوئے وفد کی قبولیتِ اسلام کی جو تفصیل بیان کی ہے ہم نے اس کا بھی ذکر کیا ہے۔ لیکن ان کی قبولیتِ اسلام سے نصیحت حاصل کرنے کی بجائے جس طرح اشرافِ قریش نے نامناسب رد عمل کا اظہار کیا، یقینا آنحضرت ﷺ کو اس سے دکھ ہوا ہوگا اور آپ ﷺ کے دل میں بار بار یہ خیال آیا ہوگا کہ دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے لوگ جس صداقت کو نہایت بےتابی اور اشتیاق سے قبول کررہے ہیں وہ اس بات کی شہادت ہے کہ یہ پڑھے لکھے لوگ قرآن کریم کی حقیقت کو پاچکے ہیں اور ان کی کتابوں نے نبی آخرالزمان کے بارے میں جو پیشگوئیاں کی تھیں ان پر یقین رکھتے ہیں۔ کاش ! اشرافِ قریش بھی اس حقیقت کو سمجھتے اور دولت ایمان سے مالامال ہوجاتے۔ لیکن یہ ایسے بدنصیب لوگ ہیں کہ اس حقیقت کو قبول کرنے کی بجائے شب و روز اس کا راستہ روکنے میں لگے ہوئے ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کے اسی تأثر کے پیش نظر آپ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور قریش کے ایمان نہ لانے سے آپ ﷺ کو جو صدمہ ہوا اس کی شدت کو کم کرنے کی سعی فرمائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ عربی زبان میں ہدایت کا لفظ مختلف مفاہیم میں استعمال ہوتا ہے اور ہم مختلف مواقع پر اس کا تذکرہ بھی کرچکے ہیں۔ تفصیل میں جائے بغیر اتنا جان لینا ضروری ہے کہ ہدایت کا ایک معنی اراء الطریق یعنی راستہ دکھانا ہے۔ اور دوسرا معنی ایصال الی المطلوب یعنی منزل پر پہنچا دینا ہے۔ پہلے معنی کے اعتبار سے آنحضرت ﷺ یقینا ھادی ہیں۔ اور دوسرے معنی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ ہدایت دینے والا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس آیت میں جس ہدایت کا انکار کیا جارہا ہے وہ دوسرے معنی یعنی ہدایت یافتہ بنا دینے کے مفہوم میں ہے۔ اور یہ بات بلاشک و شبہ کہی جاسکتی ہے کہ آنحضرت ﷺ ہر شخص کی ہدایت کے لیے جتنا شدید جذبہ اپنے اندر رکھتے تھے اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ آپ ﷺ کے ہم عصروں میں سے کوئی شخص ہدایت سے محروم نہ رہتا۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی تمام تبلیغی کاوشیں ان بدنصیبوں کا نصیب نہ بدل سکیں۔ اور جہاں تک راستہ دکھانے کا تعلق ہے آنحضرت ﷺ نے اس میں کبھی بال برابر بھی کوتاہی نہیں کی۔ آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ ہدایت قبول نہیں کرنا چاہتے، آپ ﷺ ان لوگوں کے پیچھے زیادہ ہلکان نہ ہوں۔ آپ ﷺ کا کام پیغامِ حق پہنچا دینا ہے، لیکن جسے آپ ﷺ چاہیں اسے ہدایت یافتہ بنادینا نہ یہ آپ ﷺ کے فرائض میں شامل ہے اور نہ یہ آپ کے اختیار میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت پانے کا اہل ہے اور کون نہیں۔ صحیحین کی روایت ہے کہ یہ آیت نبی کریم ﷺ کے چچا حضرت ابوطالب کے معاملہ میں نازل ہوئی ہے۔ ان کا جب آخری وقت آیا تو آنحضرت ﷺ نے بڑی دل سوزی سے کوشش کی کہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پر ایمان لے آئیں مگر انھوں نے ملت عبدالمطلب پر جان دینے کا اظہار کیا۔ آنحضرت ﷺ کو اس پر شدید صدمہ ہوا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یاد رہے کہ محدثین اور مفسرین جب کسی آیت کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ فلاں کے بارے میں نازل ہوئی تو عموماً اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ آیت فلاں واقعہ پر چسپاں ہوتی ہے اور اس آیت کے مضمون کی صداقت اس واقعہ سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس لیے یہ بات ضروری نہیں کہ یہ آیت حضرت ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کی صداقت حضرت ابوطالب کے ایمان نہ لانے سے ظاہر ہوتی ہے۔ کیونکہ یوں تو کسی شخص کے بھی ایمان نہ لانے سے حضور ﷺ کو دکھ ہوتا تھا لیکن سب سے بڑھ کر اگر کسی شخص کا کفر پر خاتمہ آنحضرت ﷺ پر شاق گزرا ہے تو وہ جنابِ ابوطالب تھے۔ کیونکہ ذاتی محبت اور تعلق کی بناء پر آپ ﷺ ان کی ہدایت کے شدید آرزومند تھے۔ سلف صالحین کا طرزعمل یہ رہا ہے کہ وہ حضرت ابوطالب کے ایمان نہ لانے کے واقعہ کو بغیر کسی وجہ کے بیان کرنا مناسب نہ سمجھتے تھے۔ اور جب کبھی اس کا تذکرہ ہوتا تو اس پر نہایت تأسف اور رنج کا اظہار کرتے۔ امت کو ہمیشہ یہی طرزعمل اختیار کرنا چاہیے۔ کیونکہ ان کا ایمان نہ لانا اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کو اس پر جو دکھ ہوا ہمارے لیے اس کا احترام لازم ہے۔
Ayah 28:57

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں اگر ہم آپ کے ساتھ اس کتاب کی پیروی اختیار کرلیں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے، کیا ہم نے انھیں متمکن نہیں کیا ایک پرامن حرم میں جس کی طرف ہمارے فضل سے ہر چیز کی پیداواریں کھنچی چلی آرہی ہیں مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

وَقَالُوْٓا اِنْ نَّـتَّبِعِ الْھُدٰی مَعَکَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا ط اَوَلَمْ نُمَکِّنْ لَّھُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْ ئٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (القصص : 57) (اور وہ کہتے ہیں اگر ہم آپ کے ساتھ اس کتاب کی پیروی اختیار کرلیں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے، کیا ہم نے انھیں متمکن نہیں کیا ایک پرامن حرم میں جس کی طرف ہمارے فضل سے ہر چیز کی پیداواریں کھنچی چلی آرہی ہیں مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ ) قریش کے ایمان نہ لانے کا حقیقی سبب اس آیت کریمہ میں کفارِقریش کے اسلام نہ لانے کے حقیقی سبب کو بیان کیا گیا ہے جسے خود قریش عذر کے طور پر پیش کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قریش کو پیکر محسوس کی پوجا کی لذت، اَن دیکھے حقائق کو تسلیم کرنے سے فکری معذوری، حُبِ دنیا اور مادی زندگی کی اخروی زندگی پر ترجیح ان کے وہ امراض تھے جسے قرآن کریم نے بار بار بیان کیا ہے لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں جس حقیقی سبب کو بیان کیا جارہا ہے یہ تمام امراض اسباب کی حیثیت سے اس کے اند موجود ہیں۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہمیں اس وقت مکہ معظمہ اور ملک عرب کے دوسرے گوشوں میں امامت و سیادت کا جو منصب حاصل ہے ہماری عیش و عشرت، دولت و رفاہیت اور تمام عرب پر ہمارے اثرات ہماری اس امامت و سیادت کا نتیجہ ہیں۔ اگر ہماری بنیادی حیثیت کو نقصان پہنچا تو ہماری عظمت و قوت کے تمام سوتے خشک ہوجائیں گے۔ اس بات کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اس زمانے میں قریش کو جو پوزیشن حاصل تھی اس کا مطالعہ کیا جائے۔ اس پر صاحب تفہیم القرآن نے ایک مختصر نوٹ لکھا ہے، وہ اس کی وضاحت کے لیے کافی معلوم ہوتا ہے : قریش کو ابتداء ً جس چیز نے عرب میں اہمیت دی وہ یہ تھی کہ ان کا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ہونا انسابِ عرب کی رو سے بالکل ثابت تھا اور اس بناء پر ان کا خاندان عربوں کی نگاہ میں پیرزادوں کا خاندان تھا۔ پھر جب قصی بن کلاب کے حسن تدبیر سے یہ لوگ کعبہ کے متولی ہوگئے اور مکہ ان کا مسکن بن گیا تو ان کی اہمیت پہلے سے بہت زیادہ ہوگئی۔ اس لیے کہ اب وہ عرب کے سب سے بڑے تیرتھ کے مجاور تھے، تمام قبائل عرب میں ان کو مذہبی پیشوائی کا مقام حاصل تھا، اور حج کی وجہ سے عرب کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جو ان سے تعلقات نہ رکھتا ہو۔ اس مرکزی حیثیت سے فائدہ اٹھا کر قریش نے بتدریج تجارتی ترقی شروع کی اور خوش قسمتی سے روم و ایران کی سیاسی کشمکش نے ان کو بین الاقوامی تجارت میں ایک اہم مقام عطا کردیا۔ اس زمانہ میں روم و یونان اور مصر و شام کی جتنی تجارت بھی چین، ہندوستان، انڈونیشیا اور مشرقی افریقہ کے ساتھ تھی، اس کے سارے ناکے ایران نے روک دیئے تھے۔ آخری راستہ بحر احمر کا رہ گیا تھا، سویمن پر ایران کے قبضہ نے اسے بھی روک دیا۔ اس کے بعد کوئی صورت اس تجارت کو جاری رکھنے کے لیے اس کے سوا نہیں رہ گئی تھی کہ عرب کے تاجر ایک طرف رومی مقبوضات کا مال بحر عرب اور خلیج فارس کی بندرگاہوں پر پہنچائیں، اور دوسری طرف انہی بندرگاہوں سے مشرقی اموالِ تجارت لے کر رومی مقبوضات میں پہنچیں۔ اس صورتحال نے مکہ کو بین الاقوامی تجارت کا ایک اہم مرکز بنادیا۔ اس وقت قریش ہی تھے جنھیں اس کاروبار کا قریب قریب اجارہ حاصل تھا۔ لیکن عرب کی طوائف الملوکی کے ماحول میں یہ تجارتی نقل و حرکت اس کے بغیر نہ ہوسکتی تھی کہ تجارتی شاہراہیں جن قبائل کے علاقوں سے گزرتی تھیں ان کے ساتھ قریش کے گہرے تعلقات ہوں۔ سردارانِ قریش اس غرض کے لیے صرف اپنے مذہبی اثر پر اکتفا نہ کرسکتے تھے۔ اس کے لیے انھوں نے تمام قبائل کے ساتھ معاہدات کر رکھے تھے۔ تجارتی منافع میں سے بھی وہ ان کو حصہ دیتے تھے۔ شیوخِ قبائل اور بااثر سرداروں کو تحائف و ہدایا سے بھی خوش رکھتے تھے۔ اور سودی کاروبار کا بھی ایک جال انھوں نے پھیلا رکھا تھا جس میں قریب قریب تمام ہمسایہ قبائل کے تجار اور سردار جکڑے ہوئے تھے۔ ان حالات میں جب نبی کریم ﷺ کی دعوت حق اٹھی تو دین آبائی کے تعصب سے بھی بڑھ کر جو چیز قریش کے لیے اس کے خلاف وجہِ اشتعال بنی وہ یہ تھی کہ اس دعوت کی بدولت انھیں اپنا مفاد خطرے میں نظر آرہا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ معقول دلائل اور حجتوں سے شرک و بت پرستی غلط اور توحید صحیح بھی ہو تو اس کو چھوڑنا اور اسے قبول کرلینا ہمارے لیے تباہ کن ہے۔ ایسا کرتے ہی تمام عرب ہمارے خلاف بھڑک اٹھے گا۔ ہمیں کعبہ کی تولیت سے بےدخل کردیا جائے گا۔ بت پرست قبائل کے ساتھ ہمارے وہ تمام معاہدانہ تعلقات ختم ہوجائیں گے جن کی وجہ سے ہمارے تجارتی قافلے رات دن عرب کے مختلف حصوں سے گزرتے ہیں۔ اس طرح یہ دین ہمارے مذہبی رسوخ و اثر کا بھی خاتمہ کردے گا اور ہماری معاشی خوشحالی کا بھی۔ بلکہ بعید نہیں کہ تمام قبائلِ عرب ہمیں سرے سے مکہ ہی چھوڑ دینے پر مجبور کردیں۔ یہاں پہنچ کر دنیا پرستوں کی بےبصیرتی کا عجیب نقشہ انسان کے سامنے آتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ بار بار انھیں یقین دلاتے تھے کہ یہ کلمہ جو میں تمہارے سامنے پیش کررہا ہوں اسے مان لو تو عرب و عجم تمہارے تابع ہوجائیں گے۔ مگر انھیں اس میں اپنی موت نظر آتی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ جو دولت، اثر، رسوخ ہمیں آج حاصل ہے یہ بھی ختم ہوجائے گا۔ ان کو اندیشہ تھا کہ یہ کلمہ قبول کرتے ہی ہم اس سرزمین میں ایسے بےیارومددگار ہوجائیں گے کہ چیل کوے ہماری بوٹیاں نوچ کھائیں گے۔ ان کی کوتاہ نظری وہ وقت نہ دیکھ سکتی تھی جب چند ہی سال بعد تمام عرب محمد ﷺ کے ماتحت ایک مرکزی سلطنت کا تابع فرمان ہونے والا تھا، پھر اسی نسل کی زندگی میں ایران، عراق، شام، مصر سب ایک ایک کرکے اس سلطنت کے زیرنگیں ہوجانے والے تھے، اور اس قول پر ایک صدی گزرنے سے بھی پہلے قریش ہی کے خلفاء سندھ سے لے کر سپین تک اور قفقاز سے لے کر یمن کے سواحل تک دنیا کے ایک بہت بڑے حصہ پر حکمرانی کرنے والے تھے۔ (تفہیم القرآن) قریش کے خدشے کا علاج اَوَلَمْ نُمَکِّنْ لَّھُمْ … قریش کو قبول اسلام کے نتیجے میں اپنا سب کچھ چھن جانے کا جو دھڑکا لگا ہوا تھا اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ان نادانوں کو اس بات کا احساس نہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنی ذُرِّیت کو اس سرزمین پر لا کر بسایا اس وقت یہاں کیا تھا۔ نہ آبادی تھی، نہ معاشی وسائل کا کوئی وجود۔ ایک صحرا اور ریگستان کے سناٹے کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ کا گھر آباد ہوا اور اسی کی برکت سے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں یہاں آبادی ہوئی، پانی کا ایک چشمہ پھوٹا، حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کی اولاد پھلی پھولی اور قریش کا عظیم خاندان وجود میں آیا۔ آج حال یہ ہے کہ ہر علاقے سے ہر قسم کی پیداوار یہاں کھنچی چلی آرہی ہے۔ آج یہ بدنصیب یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انھوں نے اس دین کو اختیار کرلیا جس کی قرآن پاک دعوت دے رہا ہے، جو اصلاً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ہے تو یہ تباہ ہو کر رہ جائیں گے۔ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین نے ان کو یہاں بسایا، انھیں کے بنائے ہوئے گھر کی وجہ سے انھیں عظمتیں ملیں، امن نصیب ہوا اور عرب بھر میں امامت و سیادت ملی، احترام قائم ہوا اور اسی حوالے سے دوسرے ممالک کے درباروں میں بھی عزت کی حیثیت نصیب ہوئی۔ لیکن آج اسی دین اور اسی ملت ابراہیمی میں انھیں اپنی تباہی نظر آرہی ہے۔
Ayah 28:58

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کرچکے ہیں جن کے لوگ اپنی خوشحالی پر فخر کرنے لگے تھے، پس یہ ہیں ان کے گھر جن میں سکونت نہیں کی گئی ان کے بعد مگر بہت کم عرصہ، آخرکار ہم ہی ان کے وارث بنے

وَکَمْ اَھْلَـکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ م بَطِرَتْ مَعِیْشَتَھَا ج فَتِلْکَ مَسٰکِنُھُمْ لَمْ تُسْکَنْ مِّنْ م بَعْدِھِمْ اِلاَّ قَلِیْلاً ط وَکُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ ۔ (القصص : 58) (کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کرچکے ہیں جن کے لوگ اپنی خوشحالی پر فخر کرنے لگے تھے، پس یہ ہیں ان کے گھر جن میں سکونت نہیں کی گئی ان کے بعد مگر بہت کم عرصہ، آخرکار ہم ہی ان کے وارث بنے۔ ) قریش کو جن فکری اور اخلاقی گمراہیوں نے ہدایت سے دور رکھا ہے ان میں سے ایک خرابی کا حوالہ دے کر تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم جس چیز پر فخر کرتے اور اتراتے ہو، یہی تو وہ چیز ہے جس کی وجہ سے گزشتہ کئی امتیں تباہ ہوچکی ہیں اور ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب بھڑک چکا ہے۔ تم اپنی دولت و ثروت اور امارت و رفاہیت پر فخر کرتے اور اسی کو حاصل زندگی سمجھتے ہو اور اسی میں زیادہ سے زیادہ ترقی کو تم اپنی منزل بنا چکے ہو اور تمہیں اس شخص کی بات نہایت فضول معلوم ہوتی ہے جو تمہارے اس استغراق پر تنقید کرتا ہے تم اسے دیوانہ سمجھتے ہو۔ گویا کہ تمہارے نزدیک مادی زندگی کا حصول اور اس میں بیش از بیش ترقی زندگی کا اصل ہدف ہونا چاہیے۔ چناچہ ان کے اس رویئے پر تنقید کرتے ہوئے پروردگار ارشاد فرما رہا ہے کہ تم سے پہلے تم سے زیادہ ترقی یافتہ قومیں گزری ہیں۔ ان کے مساکن یعنی ان کی آبادیاں اور ان کے مکانات آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ اور تم ان قوموں کے کھنڈرات سے گزرتے ہوئے پہاڑوں میں کھدے ہوئے ان کے مکانات بارہا دیکھ چکے ہو۔ آج ان مکانات کی بےآبادی اور اس علاقے کی ویرانی اور وہاں جابجا پھیلی ہوئی نحوست خود اپنے منہ سے بول رہی ہے کہ یہاں بسنے والی قوموں نے جن چیزوں کو اپنے لیے عمردوام کا سامان سمجھا تھا وہی چیزیں ان کے لیے ہلاکت کا باعث بنیں۔ آج تاریخ انھیں صرف عبرت کے حوالے سے یاد کرتی ہے۔ کوئی ان کا نام لیوا زندہ نہیں۔ وہ جس چیز کو ترقی کا معیار سمجھتے تھے وہی چیز ان کے لیے ہلاکت کا سبب ثابت ہوئی۔ اہل حق نے دنیوی نعمتوں کو کبھی اپنے لیے حرام نہیں سمجھا اور نہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری کی۔ لیکن اگر یہی نعمتیں اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خوشحالی شکر کا ذریعہ بننے کی بجائے حق و باطل سے بےنیاز کردے اور دنیا طلبی ہی مقصد زندگی بن کر رہ جائے اور جس مقصد کی دعوت اس تصور میں کمی کرتی ہو تو اسے قبول کرنے سے انکار کردیا جائے۔ تو یہ وہ چیز ہے جس نے پہلی قوموں کو تباہ کیا اور قریش کو بھی اس تباہی کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ آخر میں ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں کی سرکشی نے زمین کو فساد سے بھر دیا تھا اور وہ اپنے آپ کو اس زمین کا مالک سمجھتے تھے وہ سب فنا ہوگئے۔ آخر ان کی ایک ایک چیز ان کی وراثت بن کر اللہ تعالیٰ کی ہی طرف لوٹ آئی۔ کیونکہ وہی زمین و آسمان اور اس میں پائی جانے والی ہر چیز کا خالق ومالک ہے۔ اور اس لحاظ سے ہر چیز کا وارث بھی ہے۔
Ayah 28:59

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور آپ کا رب بستیوں کا ہلاک کرنے والا نہ تھا جبکہ تک ان کی مرکزی بستی میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتا اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے مگر اس وقت جب ان کے رہنے والے اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے بن گئے

وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّھَا رَسُوْلاً یَّتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰـتِـنَا ج وَمَا کُنَّا مُھْلِکِی الْقُرٰٓی اِلاَّ وَاَھْلُھَا ظٰلِمُوْنَ ۔ (القصص : 59) (اور آپ کا رب بستیوں کا ہلاک کرنے والا نہ تھا جبکہ تک ان کی مرکزی بستی میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتا اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے مگر اس وقت جب ان کے رہنے والے اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے بن گئے۔ ) سنت اللہ کا بیان قریش کو انذار کرتے ہوئے ایک نہایت اہم حقیقت کو واشگاف فرمایا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ تم جن چیزوں اور جن ترقیات کو زندگی کی ضمانت سمجھتے ہو گزشتہ آیت کے آئینہ میں تم اس کا نتیجہ دیکھ چکے ہو۔ اگر دنیوی مال و دولت اور شوکت و رفاہیت زندگی اور اس کے دوام کی ضامن ہوتیں تو معذب قوموں کے کھنڈرات آج تمہیں اپنی داستانِ عبرت نہ سنا رہے ہوتے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی قوموں کو طویل زندگی ملتی ہے۔ اسی کی طرف سے وہ کامیابی اور کامرانی نصیب ہوتی ہے جس کا تعلق دنیا اور آخرت دونوں سے ہے۔ اس کی ضمانت تمہارے طوراطوار اور تمہاری زندگی کے مصنوعی اصولوں میں نہیں بلکہ اس کے لیے مستقل اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ہے جسے اس آیت میں بیان کیا گیا ہے اور وہ قانون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قوموں کی ہدایت کے لیے اپنے رسول بھیجتا ہے۔ ان پر اپنی کتابیں نازل کرتا ہے۔ وہ کسی بھی مرکزی مقام پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی تبلیغ و دعوت کا مرکز قائم کرتے ہیں۔ جو قوم اس دعوت کو قبول کرلیتی اور اس کے مطابق زندگی استوار کرلیتی ہے اسے دنیا و عقبیٰ کی کامرانیاں نصیب ہوجاتی ہیں۔ لیکن جو قوم اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے اور پیغمبر کی تکذیب کرتی ہے وہ بالآخر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوجاتی ہے۔ قریش بھی اللہ تعالیٰ کے قانون کی زد میں ہیں۔ اس کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کا رسول آچکا، اس پر کتاب نازل ہورہی ہے اور وہ پوری تندہی اور اخلاص کے ساتھ مکہ جیسی مرکزی بستی کو اپنا مرکز بنا کر قریش اور دیگر لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے انذار کررہا ہے۔ قریش بحیثیت قوم اس وقت حالت امتحان میں ہیں۔ اگر اس دعوت کو قبول کرلیتے ہیں تو دنیا اور آخرت کی کامرانیاں ان کے لیے ہیں۔ اور اگر اس سے انکار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا کسی وقت بھی برس سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قانون کے دوسرے مرحلے کو آیت کے دوسرے حصے میں ظلم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی اگر وہ قوم جس کی طرف رسول مبعوث ہوچکا اور کتاب نازل ہوچکی ہے، اگر وہ رسول کی دعوت کو قبول نہیں کرتی بلکہ وہ کفر و شرک کے ارتکاب کے ذریعے مسلسل اپنی جانوں پر ظلم جاری رکھتی ہے اور رسول کی تکذیب سے رکنے کا نام نہیں لیتی، تو اللہ تعالیٰ ایک خاص وقت تک مہلت دیتا ہے۔ آخرکار وہ قوم اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوجاتی ہے۔ لیکن اب اس کی تباہی اگرچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے لیکن اس کا سبب اس کا اپنا رویہ ہوتا ہے یعنی وہ کفر و شرک کے ذریعے اپنے اوپر ظلم ڈھاتے رہتے ہیں اور بالآخر ہلاکت کا نشانہ بن جاتے ہیں۔
Ayah 28:60

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بہتر اور پائیدار ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے

وَمَـآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْ ئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰـوۃِ الدُّنْـیَا وَزِیْـنَـتُـھَا ج وَمَا عِنْدَاللّٰہِ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ (القصص : 60) (تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بہتر اور پائیدار ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ ) قریش کو براہ راست تنبیہ اس سے پہلے کی آیات میں جو تنبیہات کی گئی ہیں ان میں روئے سخن اگرچہ قریش کی طرف تھا لیکن خطاب براہ راست ان سے نہ تھا۔ اب براہ راست قریش کے لیڈروں سے مخاطب ہو کر تنبیہ کی جارہی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تمہیں جو دنیوی خوشحالی اور امارت و رفاہیت حاصل ہے یہ محض حیات چند روزہ کا سامان اور عارضی رونق ہے۔ ان میں سے کوئی چیز بھی پائیدار اور ہمیشہ رہنے والی نہیں۔ ان میں بیشتر چیزیں وہم و گمان کے بتوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن یہ انسان کی کمزوری ہے کہ وہ اسی متاع غرور کو حاصل زندگی سمجھ کر زندگی کی تمام صلاحیتیں اس پر نچھاور کردیتا ہے اور اس وقتی چمک دمک پر ریجھ کر آخرت کے لیے جدوجہد کو نظرانداز کردیتا ہے اور حیات ابدی کے خزانوں کو ضائع کردیتا ہے۔ قرآن کریم نے اسی فریبِ نظر کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور یہ یقین دلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جن نعمتوں کا وعدہ کیا ہے وہی بہتر بھی ہیں اور وہی باقی رہنے والی بھی ہیں۔ اس لیے عقل سے کام لو اور ان حقائق کو سمجھنے کی کوشش کرو۔
Ayah 28:61

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کر رکھا ہے اور وہ اسے پانے والا بھی ہے کبھی اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جسے ہم نے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے رکھا ہے، پھر وہ قیامت کے دن (کٹہرے میں) حاضر کیے جانے والوں میں سے ہے

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰـہُ وَعْدًا حَسَنًا فَھُوَلاَ قِـیْـہِ کَمَنْ مَّتَّعْنٰـہُ مَتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ثُمَّ ھُوَ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ ۔ (القصص : 61) (بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کر رکھا ہے اور وہ اسے پانے والا بھی ہے کبھی اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جسے ہم نے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے رکھا ہے، پھر وہ قیامت کے دن (کٹہرے میں) حاضر کیے جانے والوں میں سے ہے۔ ) الْمُحْضَرِیْنَ … احضار سے ہے۔ اس کا مفہوم ہے مجرموں کی طرح پکڑ کر حاضر کرنا۔ اس لحاظ سے اس میں ذلت کا معنی پایا جاتا ہے۔ تو مراد اس سے وہ لوگ ہوں گے جو اپنے شرک کے باعث ذلت کے ساتھ میدانِ حشر میں حاضر کیے جائیں گے۔ کافر اور مومن کی ذہنیت کا مقابلہ قریش کے لیے ہدایت قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی خوشحالی اور دنیوی جاہ و منزلت ہے، جس کے بارے میں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کے قبول کرنے کے نتیجے میں یہ سب کچھ ختم ہو کر رہ جائے گا۔ ان کے ان باطل تصورات پر پہلے بھی گفتگو ہوچکی ہے، اب اسی کے ازالے میں ان کے غور و فکر کے لیے مزید کچھ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ اسلام تمہیں آخرت کی طرف بلاتا ہے اور ایک ایسے نظام زندگی پر کاربند ہونے کی دعوت دیتا ہے جس کے نتیجے میں دنیا میں تم آسودہ زندگی گزارو گے، باہمی رشتوں کے احترام کے باعث گھر سے لے کر ریاست کے ایوانوں تک ہر معاملے کی چول سیدھی ہوجائے گی۔ اور ایک ایسی پرسکون زندگی وجود میں آئے گی جس میں محبت، مروت، مؤدت، ہمدردی و غمگساری کی اقدار جنم لیں گی اور انسان صحیح انسانی زندگی سے آشنا ہوجائے گا۔ اور مرنے کے بعد آخرت میں وہ خوبصورت زندگی نصیب ہوگی جس کی نعمتوں پر کبھی زوال نہیں آئے گا، کہیں کوئی خدشہ جنم نہیں لے گا، ہر طرف خوشیاں اور مسرتیں ہوں گی اور انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کے سائے میں ابدی زندگی اور سکون سے ہمکنار ہوجائے گا۔ تم اس کی بجائے اس زندگی پر اصرار کررہے ہو جو چند روزہ ہے، جس میں چند انسان خوش عیشی کی زندگی گزار رہے ہیں اور بیشتر انسان دکھوں کے سائے میں رہتے ہیں جہاں طاقتور طاقت کے بل بوتے پر کمزوروں کی محرومیوں پر اپنی کامیابیوں کی عمارت استوار کرتا ہے۔ جہاں امیروں کے کتے مخمل کا لباس پہنتے اور غریبوں کے بچے موسموں کی شدت کا شکار ہو کر لقمہ اجل بن جاتے ہیں، جہاں ہر راحت اپنے ساتھ کوئی نہ کوئی تکلیف کا پہلو لیے ہوئے ہے اور ہر آسودگی کے اندر ابتری اور ناہمواری مضمر ہے اور جہاں کی بڑی سے بڑی دولت متاع غرور سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ لیکن کس قدر عجیب بات ہے کہ ایسی مختصر، ناپائیدار اور موہوم زندگی پر اصرار کے نتیجے میں اس زندگی سے منہ موڑ رہے ہو جو ہمیشہ رہنے والی اور مسرتوں و شادمانیوں سے عبارت ہے۔ اور پھر یہ بھی بھول جاتے ہو کہ تم جن لوگوں کا مذاق اڑاتے ہو وہ اس ابدی زندگی کے وارث بننے والے ہیں۔ اور تمہاری یہ چند روزہ زندگی ہمیشہ کی ذلتوں و رسوائیوں اور مصیبتوں میں تبدیل ہونے والی ہے۔ اگر تم اس تقابل کو سمجھ سکتے اور تمہارے اندر صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہوتی تو تم کبھی روزحشر کی رسوائیاں اور ذلتیں قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوتے۔ آج بھی تمہارے لیے یہ موقع ہے کہ تم ان دونوں زندگیوں میں تقابل کرکے آخرت کی زندگی کو اختیار کرنے کا فیصلہ کرو، ورنہ وہ دن ٹلنے والا نہیں جب سب غلط لوگوں کو بروزحشر جزاء و سزا کے کٹہرے میں زبردستی لاکھڑا کیا جائے گا۔
Ayah 28:62

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ تعالیٰ انھیں آواز دے گا پھر پوچھے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جنھیں تم میرا شریک گمان کرتے رہے ہو

وَیَوْمَ یُنَاذِیْھِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَکَآئِ یَ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ۔ (القصص : 62) (اور اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ تعالیٰ انھیں آواز دے گا پھر پوچھے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جنھیں تم میرا شریک گمان کرتے رہے ہو۔ ) شرک اور اہل شرک کا انجام گزشتہ آیت کریمہ میں متاع دنیا کے فریب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم جب مسلمانوں کی غربت، کم مائیگی اور فلاکت کو دیکھتے ہو اور پھر اپنی خوش عیشی اور فارغ البالی پر نظر ڈالتے ہو تو تمہیں اپنے برسرحق ہونے اور اپنی کامیابی و کامرانی کا وہم ہونے لگتا ہے۔ اور مسلمانوں کی ناکامی اور نامرادی کا یقین آنے لگتا ہے۔ لیکن تم اس بات کو بھول جاتے ہو کہ تمہاری یہ خوش حالیاں چند روزہ ہیں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل اور نامرادیوں کا کوئی شمار نہیں۔ لیکن مسلمانوں کی تنگدستی اور بدحالی بھی چند دنوں کی بات ہے لیکن اس کے بعد ان کا درخشاں مستقبل ان کے انتظار میں ہے۔ دنیا کی آسودہ زندگی انھیں مصیبتوں سے طلوع ہونے والی ہے۔ اور پھر آخرت میں اس دنیا میں دی جانے والی قربانیوں کا ثمر جن نعمتوں کی صورت میں ملنے والا ہے ان کا نقشہ تو الفاظ میں کھینچنا ممکن ہی نہیں، تو ذرا غور کرو فانی اور باقی کا کیا مقابلہ۔ اور چند روزہ خوش عیشی کے نتیجے میں آخرت میں ہمیشہ کے عذاب کو لازم کرلینا کیسا خطرناک فیصلہ ہے۔ لیکن ان تمام باتوں کے جواب میں عرب کے مادہ گزیدہ اور دنیا کی خوش عیشی کے سحر میں ڈوبے ہوئے لوگ آخرت کا مذاق اڑاتے اور مسلمانوں کی کوتاہ نظری پر اظہارِ افسوس کرنے لگتے ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کی اسی غلط فہمی کا تدارک فرمایا گیا ہے، کیونکہ اہل عرب کا گمان یہ تھا کہ اولاً تو قیامت کے آنے کا امکان کوئی نہیں، اور اگر ایسا واقعہ ظہور پذیر ہو ہی گیا تو پھر وہ غیرمرئی قوتیں اور وہ خیالی معبود اور توہمات کے گھڑے ہوئے خدا اور اجرامِ فلکی میں سے بنائے ہوئے دیوتا اور اوتار اور اہل زمین میں بعض مشیخیت کے دعویداروں کے غیرمعمولی مراتب اور طاغوتی قوتوں کا بنا ہوا طلسم آخر کب کام آئے گا۔ ہم ان قوتوں سے جب استمداد کریں گے تو ہمارے لیے مشکل آسان ہوجائے گی۔ اسی دن کا حوالہ دے کر پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ ایسے تمام مشرکین سے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک بنائے اور ان کے بھروسے پر اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کی دعوت کا تمسخر اڑایا اور اس کے انذار کی تمام کوششوں کو مذاق بنا کے رکھ دیا۔ قیامت کے دن کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ میرے شریک جن کا تم اپنے تئیں بڑا مضبوط تصور رکھتے تھے اور جو بھی تمہارے اس خیال باطل کی تردید کرتا تھا تم اس کے ساتھ مرنے مارنے پر تیار ہوجاتے تھے۔ پروردگار کی طرف سے سوال کا یہ انداز بجائے خود دہلادینے والا ہے۔ کیونکہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی کبریائی، اس کی عظمت اور اس کا جلال ہر دیکھنے والے کی نگاہوں کے سامنے ہوگا۔ دنیا میں شرک کے اس کاروبار نے اللہ تعالیٰ کی جس کبریائی پر پردہ ڈال رکھا تھا قیامت کے دن پورے آب و تاب سے نگاہوں کے سامنے جلوہ گر ہوگی۔ جب ان مشرکین کو ان شرکاء کو پیش کرنے کا حکم دیا جائے گا تاکہ ان میں سے ہر ایک اپنے انجام کو پہنچے تو مشرکین کی بےبسی دیکھنے کے قابل ہوگی۔
Ayah 28:63

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

تو کہیں گے وہ لوگ جن پر عذاب کا فرمان ثابت ہوچکا، اے ہمارے رب ! یہ ہیں وہ لوگ جنھیں ہم نے گمراہ کیا، ہم نے ان کو اسی طرح گمراہ کیا جس طرح ہم گمراہ ہوئے، ہم تیرے حضور ان سے اعلانِ براءت کرتے ہیں، وہ ہماری پوجا نہیں کیا کرتے تھے

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْھِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا ھٰٓـؤُلَآئِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا ج اَغْوَیْنٰـھُمْ کَمَا غَوَیْنَا ج تَبَرَّاْنَـآ اِلَیْکَ ز مَا کَانُوْٓا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ ۔ (القصص : 63) (تو کہیں گے وہ لوگ جن پر عذاب کا فرمان ثابت ہوچکا، اے ہمارے رب ! یہ ہیں وہ لوگ جنھیں ہم نے گمراہ کیا، ہم نے ان کو اسی طرح گمراہ کیا جس طرح ہم گمراہ ہوئے، ہم تیرے حضور ان سے اعلانِ براءت کرتے ہیں، وہ ہماری پوجا نہیں کیا کرتے تھے۔ ) گمراہ لیڈروں اور ان کے پیروئوں میں تکرار قیامت کے دن ہر طرح کے مشرکین عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے، ان میں وہ بھی ہوں گے جنھوں نے دوسروں کو گمراہ کرنے اور حق کا راستہ روکنے میں اساسی رول ادا کیا ہوگا۔ اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو بجائے عقل و فکر سے کام لینے کے بلاسوچے سمجھے ان بڑے بڑے لیڈروں کے پیچھے چلتے رہے جنھیں دنیوی مال و دولت نے بڑائی دے رکھی تھی اور وہ اپنی اس بڑائی کو غلط عقائد کی تشہیر کا ذریعہ بنائے رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب ان سب سے یہ کہا جائے گا کہ جن قوتوں کو تم نے اپنے مزعومات کے مطابق اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا آج انھیں بلائو تاکہ وہ تمہاری مدد کریں، تو سراسیمگی کی حالت میں ان کی زبانیں گنگ ہو کر رہ جائیں گی، پھر اچانک وہ دیکھیں گے کہ وہ لوگ جنھیں دنیا میں قائدانہ کردار کی حیثیت حاصل رہی ہے انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا فیصلہ سنایا جارہا ہے، تو بےساختہ ان کی زبانیں کھلیں گی اور وہ اللہ تعالیٰ کے حضور شکایت کریں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جو ہماری گمراہی کا سبب بنے۔ انھوں نے زندگی کے ہر مرحلے پر ہمیں گمراہ کیا۔ چناچہ ان کے الزام پر وہ لوگ فوراً بولیں گے کہ ہم نے ان کو ہرگز گمراہ نہیں کیا بلکہ ہم نے ان کو زندگی کے اس رویئے اور عقیدے کی اسی نہج کی طرف رہنمائی دی جس طرف ہم خود چل رہے تھے۔ یعنی ہمارا وہ رویہ اور طرز عمل جو گمراہی پر مشتمل تھا اسی کی ترغیب ہم نے ان کو بھی دی۔ ہم جیسے بھی تھے ہم نے ویسا ہی ان کو بھی بنایا۔ یہ خود شامت زدہ تھے کہ انھوں نے ہماری پیروی کی۔ ہم آج تیرے حضور ان کے اعمال کی ذمہ داری سے اپنی براءت کا اظہار کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خود اپنی خواہشِ نفس کے پرستار تھے۔ اس لیے جو رویہ بھی انھوں نے اختیار کیا ان کی خواہشِ نفس ان کی رہنما بنی رہی۔ آج یہ کچھ بھی کہیں دنیا میں انھوں نے ہماری پرستش کبھی نہیں کی۔ تو ہم پر ان کی ذمہ داری کیسے عائد کی جاسکتی ہے۔ یہ خود اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔ تابع اور متبوع کا یہ جھگڑا اور ان کے اندر ہونے والی یہ جوتی پیزار قرآن کریم نے کئی جگہ ذکر فرمائی ہے۔ ہم صرف سورة اعراف سے ایک مثال پیش کرتے ہیں : قَالَ ادْخُلُوْا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِی النَّارِ ط کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَا ط حَتّٰیٓ اِذَا ادَّارَکُوْا فِیْھَا جَمِیْعًا لا قَالَتْ اُخْرٰھُمْ لِاُوْلٰـھُمْ رَبَّنَا ھٰٓـؤُلَآئِ اَضَلُّوْنَا فَاٰ تِھِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ۔ قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰـکِنْ لاَّ تَعْلَمُوْنَ ۔ وَقَالَتْ اُوْلٰـھُمْ لِاُخْرٰ ھُمْ فَمَا کَانَ لَـکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ ۔ (الاعراف : 38۔ 39) حکم ہوگا، داخل ہوجاؤ دوزخ میں ان گروہوں کے ساتھ جو جنوں اور انسانوں میں سے تم سے پہلے داخل ہوئے۔ جب جب داخل ہوگا کوئی گروہ، وہ اپنے ہم مشربوں پر لعنت کرے گا، یہاں تک کہ جب سب اس میں اکٹھے ہولیں گے، پچھلے اگلوں کے باب میں کہیں گے، اے ہمارے رب ! یہ لوگ ہیں جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا تو ان کو دونا عذاب دوزخ دے۔ ارشاد ہوگا، تم میں سے ہر ایک کے لیے دونا عذاب ہے لیکن تم جانتے نہیں اور اگلے پچھلوں سے کہیں گے، تمہیں بھی تو ہم پر کوئی فضیلت نہ حاصل ہوئی تو اپنے عمل کی پاداش میں اب عذاب چکھو۔
Ayah 28:64

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور انھیں کہا جائے گا، اب پکارو اپنے شریکوں کو، تو وہ انھیں پکاریں گے لیکن وہ انھیں کوئی جواب نہیں دیں گے اور وہ عذاب سے دوچار ہوں گے، کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ ہدایت یافتہ ہوتے

وَقِیْلَ ادْعُوْا شُرَکَآئَ کُمْ فَدَعَوْھُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَھُمْ وَرَاَوُا الْعَذَابَ ج لَوْ اَنَّھُمْ کَانُوْا یَھْتَدُوْنَ ۔ (القصص : 64) (اور انھیں کہا جائے گا، اب پکارو اپنے شریکوں کو، تو وہ انھیں پکاریں گے لیکن وہ انھیں کوئی جواب نہیں دیں گے اور وہ عذاب سے دوچار ہوں گے، کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ ہدایت یافتہ ہوتے۔ ) مشرکین کی بےبسی جن لیڈروں کے بارے میں مشرکین کا خیال تھا کہ وہ ان کو گمراہ کرنے والے تھے، جب وہ ان سے اظہارِ براءت کردیں گے تو اللہ تعالیٰ مشرکین سے فرمائے گا کہ تمہارے لیڈر تو تم سے اظہارِ براءت کرچکے، اب تمہارے پاس آخری سہارا ایک ہی ہے کہ تم جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ معبود مانتے رہے ہو انھیں اپنی مدد کے لیے پکارو۔ ممکن ہے یہ بات ان سے اس لیے کہی جائے کہ انھیں اچھی طرح اپنی گمراہی کا یقین ہوجائے۔ اور جن سہاروں پر انھوں نے آخرت کا انکار کیا تھا ان سہاروں کی حقیقت بھی ان پر کھل جائے۔ چناچہ وہ بےبسی کی حالت میں ان نام نہاد معبودوں کو پکاریں گے۔ لیکن توہمات اور خیال آرائی کو نہ پہلے کہیں وجود ملا ہے اور نہ آج ملے گا۔ افسانہ کبھی حقیقت کی شکل اختیار نہیں کرسکا۔ ان کی بےبسی کی پکار بھی کسی کو جواب دینے پر آمادہ نہ کرسکے گی۔ چناچہ ادھر سے مکمل طور پر مایوس ہوجانے کے بعد اور ہر سہارے کے ٹوٹ جانے کے بعد وہ اپنے منطقی انجام کو پہنچیں گے اور اس عذاب سے دوچار کردیئے جائیں گے جس سے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے رسول نے انھیں ڈرایا تھا۔ آیت کریمہ کے آخر میں پروردگار ان کے حال پر اظہارِحسرت و افسوس کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کاش یہ لوگ ہدایت کے راستے پر چلنے والے ہوتے، اللہ تعالیٰ کے نبی کی دعوت کو قبول کرتے اور حق سے وابستگی اختیار کرتے تو آج اس عذاب سے دوچار نہ ہوتے۔
Ayahs 28:65–66

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ تعالیٰ انھیں پکارے گا اور پوچھے گا کہ تم نے ہمارے رسولوں کو کیا جواب دیا

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

تو اس دن ان کی سٹی بھول جائے گی، وہ (مارے دہشت کے) آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ گچھ بھی نہ کرسکیں گے

وَیَوْمَ یُنَادِیْھِمْ فَیَـقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرسَلِیْنَ ۔ فَعَمِیَتْ عَلَیْھِمُ الْاَنْـبَـآئُ یَوْمَئِذٍ فَھُمْ لاَ یَتَسَآئَ لُوْنَ ۔ (القصص : 65، 66) (اور اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ تعالیٰ انھیں پکارے گا اور پوچھے گا کہ تم نے ہمارے رسولوں کو کیا جواب دیا۔ تو اس دن ان کی سٹی بھول جائے گی، وہ (مارے دہشت کے) آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ گچھ بھی نہ کرسکیں گے۔ ) رسولوں کے حوالے سے لوگوں سے سوال اور ان کی بدحواسی یہ بھی احوالِ قیامت ہی کا تذکرہ ہے۔ اس سے پہلے کی آیات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں سے اپنی توحید کے حوالے سے سوالات کرے گا اور جن لوگوں نے شرک کو زندگی کا طرزعمل بنائے رکھا، مختلف پہلوئوں سے ان کے عقیدے کی خرابی، ان کے سہاروں کی ناتوانی اور ان کی بےبسی کو واضح کیا گیا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جس طرح توحید اور شرک کے حوالے سے لوگوں سے سوالات ہوں گے، اسی طرح رسولوں سے متعلق ان کے رویوں کے بارے میں بھی سوالات ہوں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دین کی پیروی کا تمام تر دارومدار اس کے بھیجے ہوئے رسولوں کی دعوت کے قبول یا رد کرنے پر ہے۔ جس قوم نے پیغمبر کی تکذیب کردی اور اس کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا اس نے درحقیقت اس مصدرومنبع سے اپنا رشتہ توڑ لیا جہاں سے انسانوں کو ہدایت ملتی ہے۔ اور روشنی کے اس سرچشمے سے آنکھیں بند کرلیں جہاں سے ہدایت کی روشنی نصیب ہوسکتی ہے۔ اس لیے ایک ایک امت سے یہ پوچھا جائے گا کہ تمہاری طرف ہم نے ہدایت کے لیے رسول بھیجے تاکہ کل کو تم بیخبر ی کا بہانہ نہ کرسکو۔ اور ان رسولوں نے زندگی کا ہر دکھ اٹھا کر تمہارے ساتھ خیرخواہی کا حق ادا کردیا۔ لیکن تم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ کیا ان کی دعوت کو قبول کیا یا رد کیا ؟ اس سوال کے ساتھ ہی دنیا ان کے سامنے اندھیر ہوجائے گی۔ اور ان کے جرم کی سنگینی پوری طرح ان پر کھل جائے گی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان پر ایسی بدحواسی طاری ہوگی کہ جواب دینے کی خواہش کے باوجود وہ کوئی بات کہنے پر قادر نہ ہوسکیں گے۔ ان کی اس حیرت زدگی اور بدحواسی کی کیفیت کو قرآن کریم نے فَعَمِیَتْ عَلَیْھِمُ الْاَنْـبَـآئُ کے فقرہ سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا لفظی معنی تو یہ ہے ” کہ فَصَارَتِ الْاَنْبَائُ عَلَیْھِمْ کَالْعُمْیَانِ ” یعنی ان کی دلیلیں اندھی ہو کر رہ جائیں گی اور جہاں وہ کھڑے ہوں گے وہاں تک نہ پہنچ سکیں گے۔ اسی کا ترجمہ ہم نے سٹی بھول جانے کے محاورے سے کیا ہے۔ اس سراسیمگی کا عالم یہ ہوگا کہ وہ پروردگار کے سوال کے جواب میں ایک دوسرے سے بھی کچھ پوچھ گچھ کرنے کی طاقت نہیں پاسکیں گے۔ نتیجتاً اپنے اس انجام کو پہنچ جائیں گے۔
Ayah 28:67

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

ہاں ! جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیے یقینا وہ کامیاب و کامران لوگوں میں سے ہوگا

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَـعَسٰٓی اَنْ یَّـکُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ ۔ (القصص : 67) (ہاں ! جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیے یقینا وہ کامیاب و کامران لوگوں میں سے ہوگا۔ ) اہلِ ایمان کے لیے فلاح کی بشارت جن لوگوں نے شرک کو زندگی کا دستورالعمل بنائے رکھا اور اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کرتے رہے ان کا ہولناک انجام بیان کرنے کے بعد اب انسانوں کے لیے کامیابی و کامرانی کے ایک راستہ کی نوید سنائی گئی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جس طرح گمراہ لوگوں کو جہنم کا ایندھن بنائے گا اسی طرح بہت سے لوگ اس کی بارگاہ سے نوازے بھی جائیں گے۔ ان میں سب سے زیادہ خوش نصیب وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے ہر باطل عقیدہ اور ہر غلط عمل سے توبہ کی۔ پیغمبر کی دعوت پر ایمان لائے اور اپنے ہر قول و فعل کے لیے شریعت کو میزان بنایا۔ اگر ان کے ایمان و عمل اور اخلاص وتقویٰ میں کوئی کمی نہ رہی تو یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کامیاب و کامران لوگوں میں شمار ہوں گے۔ عَسٰٓی… یوں تو عربی زبان میں امید کے معنی میں آتا ہے، لیکن جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو پھر وعدہ اور بشارت کا مفہوم اس کے اندر مضمر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ چونکہ کبھی اپنا وعدہ نہیں توڑ تا اس لیے اسے یقین کے معنی میں لیا جاسکتا ہے۔