27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsروح القرآن

Ayah 27:1

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

ط۔ س۔ یہ آیات ہیں قرآن اور ایک واضح کتاب کی

طٰسٓ قف تِلْـکَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَکِتَابٍ مُّبِیْنٍ ۔ (النمل : 1) (ط۔ س یہ آیات ہیں قرآن اور ایک واضح کتاب کی۔ ) ایک اشکال کا جواب یہاں قرآن کو معرفہ اور کتاب کو نکرہ لایا گیا ہے، لیکن سورة الحجر میں قرآن کو نکرہ اور کتاب کو معرفہ ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے تِلْکَ اٰیٰتُ الْـکِتَابِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍاس کی کیا وجہ ہے ؟ تفسیر مظہری میں اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ قرآن اور کتاب کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک یہ کہ دونوں اس کتاب الٰہی کے عَلَم (نام) ہیں جو نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ دوسری یہ کہ یہ اس کلام کی صفتیں ہیں۔ یعنی قرآن سے مراد مقرو (پڑھا جانے والا) ہے اور کتاب سے مکتوب جو لکھا جاتا ہے۔ جہاں انھیں معرفہ ذکر کیا گیا ہے وہاں یہ عَلَم کی حیثیت سے مذکور ہیں اور جہاں نکرہ لایا گیا ہے، وہاں بحیثیت صفت۔ کتاب مبین کا مفہوم قرآن کتاب الٰہی کے ذاتی ناموں میں سے ایک نام ہے اور یہ سب سے زیادہ معروف ہے۔ اس کے ساتھ کتاب مبین کی صفت کئی اہم حقائق کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ 1 کہ یہ کتاب حق اور باطل کا فرق اس طرح کھول کے بیان کرتی ہے اور پھر دونوں کے مصادیق تائید کے طور پر اس طرح پیش کرتی ہے کہ حق اور باطل نمایاں طور پر الگ الگ دکھائی دیتے ہیں اور دونوں میں التباس کا کوئی خطرہ باقی نہیں رہتا۔ 2 کہ اس کی زبان اس قدر واضح اور اس قدر جامع و مانع ہے کہ کسی بات کے سمجھنے میں دشواری پیدا نہیں ہوتی۔ اس کتاب کی تعلیمات، اس کی ہدایات اس قدر سہل، سادہ، مربوط اور دل میں اتر جانے والی ہیں کہ کسی شخص نے اگر اپنے دل و دماغ میں تحفظات کے پتھر حائل نہ کر رکھے ہوں تو انھیں قبول کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ 3 یہ کتاب اپنے ہر دعوے پر خود ایسی حجت ہے کہ اس کی صحت و صداقت کو جانچنے کے لیے کسی خارجی شہادت اور کسی معجزہ و نشانی کی ضرورت نہیں۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب کا اس سے بہتر مصداق شاید ہی کوئی اور ہو۔ جس کتاب کی یہ صفات اور خصوصیات ہوں وہ اپنے اندر اتمامِ حجت کی خصوصیت بھی رکھتی ہے۔ اس لیے اس کتاب کے انکار کرنے والوں کو سوچنا ہوگا کہ وہ انکار کی صورت میں کتنے بڑے خطرے کو دعوت دے رہے ہیں۔
Ayahs 27:2–3

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

یہ ہدایت و بشارت ہے ان ایمان لانے والوں کے لیے

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہی ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں

ھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ۔ (النمل : 2، 3) (یہ ہدایت و بشارت ہے ان ایمان لانے والوں کے لیے۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہی ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں) کتاب کی دو خصوصیات ہدایت، بشارت اس کتاب کی دو خصوصیات کو ذکر کیا گیا۔ ایک یہ کہ وہ ہدایت ہے اور دوسرا یہ کہ وہ بشارت ہے۔ اس میں جو بات سب سے پہلے ہماری توجہ اپنی طرف مبذول کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کا کام ہدایت دینا اور بشارت دینا ہے۔ اس لحاظ سے اسے مصدر کی بجائے اسم فاعل کی صورت میں لانا چاہیے تھا لیکن یہاں دونوں صفات کو مصدر کی صورت میں لایا گیا ہے۔ اس میں دراصل اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ کتاب ہدایت اور بشارت کے وصف میں اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کسی کو آپ سخی کہنے کی بجائے مجسم سخاوت اور حسین کہنے کی بجائے ازسرتاپا حسن کہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی سخاوت میں اس حد تک بڑھا ہوا ہے کہ گویا خود سخاوت بن گیا ہے اور اپنے حسن اور خوبصورتی میں اس درجہ کو پہنچ گیا ہے کہ خود اسے حسن کہا جانا چاہیے۔ اور دوسری بات جس کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کتاب سب کے لیے ہدایت ہے۔ اپنے اپنے مقام و مرتبہ اور کیفیت کے مطابق ہر شخص اس سے ہدایت حاصل کرسکتا ہے۔ البتہ یہ بشارت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اسے قبول کرتے اور اس پر ایمان لاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بالفعل ہدایت ہے۔ لیکن نتیجے اور آخرت کے اعتبار سے بشارت اور خوشخبری ہے۔ ہدایت کی شرائط دوسری آیت کریمہ میں ہدایت کے لیے کچھ شرائط کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم راہ راست کی طرف سب کو متوجہ کرتا ہے۔ لیکن اس راستے پر چلنے کے لیے جب تک طبیعت میں آمادگی پیدا نہ ہو اس وقت تک وہ اپنی آغوش اس کے لیے نہیں کھولتا۔ اس آمادگی ہی کو ایمان کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے جس کا آغاز اقرار سے ہوتا ہے اور جس کا اتمام عمل اور اطاعت سے گزرتے ہوئے قلبی تصدیق پر ہوتا ہے۔ اور اس کی وسعت میں توحید، رسالت اور آخرت بھی شامل ہیں۔ یعنی جو شخص ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تینوں باتوں پر یقین رکھتا ہو۔ اور اس کے ساتھ ساتھ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ قرآن کریم کے اساسی تصورات کو مان کر ہی نہ رہ جائے بلکہ اس راستے پر چلنے اور قرآن کریم کی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے کمربستہ بھی ہوجائے۔ اسی کو اطاعت اور اتباع کہتے ہیں۔ دائرہ ایمان میں داخل ہونے کے بعد اطاعت کے لیے سب سے پہلے جو حکم اپنی طرف متوجہ کرتا ہے وہ نماز ہے۔ یعنی جو آدمی سورج نکلنے کے بعد ایمان لاتا ہے، دوپہر کے بعد اسے ظہر کی نماز پڑھنا ہوگی۔ اسی طرح دن کے کسی وقت میں بھی ایمان لانے والا وقت کی پابندی کے ساتھ نماز پڑھنے کا پابند ہے۔ اسی طرح جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا ہے اس کی دولت کے حوالے سے سب سے پہلے زکوٰۃ کا حکم اسے اپنی طرف بلاتا ہے۔ اس لیے ان دو عبادات کا ذکر صرف اس لیے فرمایا گیا ہے کہ اطاعت کے راستے میں سب سے پہلے پیش آنے والے یہ دو احکام ہیں۔ ان دو پر عمل کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایمان لانے والا شخص واقعی اپنے ارادے میں مخلص اور اپنے فیصلے میں سنجیدہ ہے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ آخرت پر یقین لانا ایمان کا لازمی جز ہے۔ لیکن اس کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے قرآن کریم نے ایمان بالآخرت کا دوبارہ ذکر فرمایا کیونکہ عملی زندگی میں اللہ تعالیٰ کا اقرار بھی کسی شخص کو احکام کی اطاعت پر مجبور نہیں کرتا۔ اور نہ اس کے اندر جذبے کی قوت پیدا ہوتی ہے تاوقتیکہ اس کے دل و دماغ میں یہ عقیدہ راسخ نہ ہوجائے کہ مجھے ایک روز اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے اور اپنے ایک ایک عمل کی جوابدہی کرنی ہے۔ جیسے ہی یہ خیال انسان کی سوچ کا حصہ بنتا ہے تو اب اس کے لیے یہ بات ممکن نہیں رہتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کسی حکم سے سرتابی کرنے کی جرأت کرسکے۔ اس لیے یہاں حصر کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ یہی لوگ ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یعنی صرف مان لینے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ یقین کی قوت انھیں عمل پر اکساتی ہے اور اس کے نتیجے میں وہ زندگی وجود میں آتی ہے جو ایک مومن سے مطلوب ہے۔
Ayah 27:4

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال کو ان کے لیے خوشنما بنادیا ہے، پس وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ زَیَّـنَّا لَھُمْ اَعْمَالَھُمْ فَھُمْ یَعْمَھُوْنَ ۔ (النمل : 4) (بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال کو ان کے لیے خوشنما بنادیا ہے، پس وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ ) ایمان سے انکار کا سبب قرآن کریم کی تعلیمات حددرجہ واضح ہونے کے باوجود جو لوگ ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے بلکہ مخالفت اور معاندت پر تلے ہوئے ہیں ان کے انکار کا سبب پیش نظر آیت کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ وہ سبب یہ ہے کہ وہ لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے بلکہ اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھے بیٹھے ہیں۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب آدمی زندگی اور اس کی سعی و عمل کے نتائج کو صرف اسی دنیا پر محدود سمجھے گا اور ایسی کسی عدالت کا قائل نہیں ہوگا جہاں انسان کے پورے کارنامہ حیات کی جانچ پڑتال کرکے اس کے حسن و قبیح کا آخری اور قطعی فیصلہ کیا جانے والا ہو۔ اور جب وہ موت کو زندگی کے خاتمے کی علامت سمجھتا ہو اور کسی ایسی زندگی کا قائل نہ ہو جس میں حیات دنیا کے اعمال کی حقیقی قدر و قیمت کے مطابق ٹھیک ٹھیک جزاء و سزا دی جائے تو لازماً اس کے اندر ایک مادہ پرستانہ نقطہ نظر نشو و نما پائے گا۔ اسے اخلاقی قدریں بےمعنی محسوس ہوں گی۔ انسانیت نام کی چیز اس کے لیے اجنبی ہوجائے گی۔ اس کے نزدیک سب سے بڑی حقیقت نفع و نقصان کا وہ پیمانہ ہوگا جو اس کو لطف و لذت اور راحت و آرام کا سامان مہیا کرسکے۔ اس کے نزدیک مادی ترقی و خوشحالی اور قوت و اقتدار دنیا کی سب سے بڑی حقیقت بن جائے گی۔ اسے ہر وہ عمل اور ہر وہ کوشش کارآمد اور قابل عمل دکھائی دے گی جو اس کی ذات کی سربلندی اور اس کے عیش و عشرت میں اضافے کا باعث ہو۔ زندگی کی روحانی اور معنوی قدریں اس کے نزدیک کمزور لوگوں کے سہارے اور توہمات کے نتائج محسوس ہوں گے۔ چناچہ وہ جیسے جیسے حب دنیا کا اسیر ہوتا جائے گا ویسے ویسے مال و دولت میں اضافے کے لیے کی جانے والی کاوشیں اسے محبوب ہوتی جائیں گی اور وہ انھیں چیزوں کو روشن خیالی اور وقت کی سب سے بڑی آواز قرار دے گا۔ اور ہر وہ شخص جو نیکی اور بھلائی کی بات کرے گا اسے وہ بیوقوف اور احمق سمجھے گا۔ بظاہر وہ نہایت مہذب اور پڑھا لکھا آدمی ہوگا لیکن اسے اپنی ذات اور اپنی عیش و عشرت اس حد تک مرغوب ہوگی کہ اگر اسے دوسروں کے کھنڈرات پر اپنا محل اٹھانا پڑے اور دوسرے کی محرومیوں سے اپنی عیش و عشرت کی شمع جلانی پڑے تو اسے اس میں کوئی تکدر اور اجنبیت کا احساس نہیں ہوگا۔ یہی وہ چیز ہے جس کو اس آیت مبارکہ میں تزیینِ اعمال کا نام دیا گیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق انسان کے اپنے اعمال کے نتیجے میں سزا کے طور پر انسان اور معاشرے پر مسلط کی جاتی ہے۔ اور انسان کو لہو کے بیل کی طرح ساری زندگی اسی مطاف میں طواف کرتے ہوئے گزار دیتا ہے۔ دل کے احساسات مرجانے سے معدے کو ایسی وسعت ملتی ہے کہ انسان کی زندگی کا تمام تر سفر ڈائننگ روم سے واش روم تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا : دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامانِ موت فیصلہ تیرا، ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم
Ayah 27:5

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے بری سزا ہے اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ہیں

اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَھُمْ سُؤٓئُ الْعَذَابِ وَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ھُمُ الْاَخْسَرُوْنَ ۔ (النمل : 5) (یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے بری سزا ہے اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ہیں۔ ) سُؤٓئُ الْعَذَابِ سے مراد ؟ اس آیت میں چونکہ آخرت کے عذاب کا مستقلاً ذکر ہے اس وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ سُؤٓئُ الْعَذَاب کا تعلق دنیا سے ہے۔ جہاں تک آخرت کے عذاب کا تعلق ہے وہ تو سب جانتے ہیں کہ اس سے مراد جہنم کا عذاب ہے۔ لیکن جہاں تک سُؤٓئُ الْعَذَاب کا سوال ہے اس کی کوئی تفصیل بیان نہیں فرمائی گئی۔ کیونکہ جو لوگ آخرت سے لاتعلق ہو کر صرف دنیا کو بنانے سنوارنے میں لگے رہتے ہیں ان سب کا دنیا کے بارے میں نقطہ نگاہ یکساں نہیں ہوتا۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی کہ دنیا کی محبت میں ڈوب کر وہ جو طرزعمل اختیار کرتے ہیں ان میں بھی یکرنگی نہیں ہوتی۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک فرد سے لے کر ایک قوم کی اجتماعی زندگی تک دنیا طلبی، حُبِ دنیا اور دنیوی مفادات کو ہی حاصل زندگی سمجھنے کا نتیجہ کسی نہ کسی صورت میں سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔ کبھی ایک فرد دولت کی محبت میں قرابت کے رشتوں اور احباب کی محبت سے محروم ہو کر تنہائی کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگ عموماً خودکشی کی موت مرتے ہیں۔ اور جس معاشرے میں اس طرز عمل کی حکمرانی ہوجاتی ہے اس معاشرے میں سب سے پہلے گھروں کی دنیا اجڑتی ہے، رشتوں کا احترام ختم ہوتا ہے، معاملات میں ابتری کے باعث خانہ جنگی کے حالات پیدا ہوتے ہیں، اجتماعی زندگی طبقات کا شکار ہوجاتی ہے، اخلاقی قدریں دم توڑ جاتی ہیں، محبت و الفت، ہمدردی و خیرخواہی اور ایثار و قربانی کے الفاظ اپنا مفہوم کھو دیتے ہیں۔ اس حال میں افراد اور قوم ایسی تباہ کن صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں جسے قرآن کریم نے یہاں سُؤٓئُ الْعَذَاب سے تعبیر کیا ہے۔
Ayah 27:6

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور بیشک یہ قرآن آپ کو ایک حکیم وعلیم کی طرف سے سکھایا جارہا ہے

وَاِنَّـکَ لَـتُلَـقَّی الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ عَلِیْمٍ ۔ (النمل : 6) (اور بیشک یہ قرآن آپ کو ایک حکیم وعلیم کی طرف سے سکھایا جارہا ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور قرآن کے ہر قاری اور ہر سامع کو اعتماد کی دولت سے بہرہ ور کیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ اگر یہ لوگ آپ ﷺ پر ایمان نہیں لاتے بلکہ آپ ﷺ کی مخالفت و معاندت پر تلے ہوئے ہیں تو آپ اس کی بالکل پرواہ نہ کریں۔ آپ نہایت اطمینان سے اپنا کام سرانجام دیتے رہیں۔ کیونکہ یہ قرآن جس ذات کی طرف سے آپ پر اتارا جارہا ہے وہ حکیم بھی ہے اور علیم بھی۔ اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ اور قرآن کریم سے تعلق جوڑنے والے ہر شخص سے کہا جارہا ہے کہ یہ کوئی ہَوائی باتیں نہیں ہیں جو اس قرآن میں کی جارہی ہیں۔ اور نہ یہ کسی انسان کے قیاس اور رائے پر مبنی ہے بلکہ انھیں ایک حکیم وعلیم ذات القاء کررہی ہے جو حکمت و دانائی اور علم و دانش میں کامل ہے جسے اپنی خلق کے مصالح اور ان کے ماضی و حال اور مستقبل کا پورا علم ہے۔ وہ کبھی آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا بلکہ ہر قدم پر آپ کی رہنمائی کرے گا اور آپ کو منزل مقصود پر پہنچائے گا۔
Ayah 27:7

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

یاد کیجیے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا میں نے ایک آگ دیکھی ہے، میں ابھی وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آتا ہوں یا (اس آگ سے) کوئی شعلہ سلگا کر لاتا ہوں تاکہ تم تاپو

اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِاَھْلِـہٖٓ اِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا ط سَاٰ تِیْکُمْ مِّنْھَا بِخَبَرٍ اَوْاٰتِیْکُمْ بِشِھَابٍ قَـبَسٍ لَّعَلَّـکُمْ تَصْطَلُوْنَ ۔ (النمل : 7) (یاد کیجیے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا میں نے ایک آگ دیکھی ہے، میں ابھی وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آتا ہوں یا (اس آگ سے) کوئی شعلہ سلگا کر لاتا ہوں تاکہ تم تاپو۔ ) شِھَابٍ ، شعلۃ نارساطعۃ ” آگ کا چمکتا ہوا شعلہ “ (صحاح) انبیائے کرام کے واقعات بیان کرنے کا سبب والقبس اسم لما یقتبس من جمر وما شبہۃ (قرطبی) ” یعنی وہ آگ جو کسی انگارہ وغیرہ سے سلگائی جائے۔ “ یہ بات ایک سے زیادہ مرتبہ عرض کی جاچکی ہے کہ قرآن کریم کوئی تاریخ کی کتاب نہیں جس میں پہلوں کے واقعات بیان کیے جائیں۔ لیکن یہ بات ایک قاری کو بعض دفعہ سوچ میں ڈال دیتی ہے کہ قرآن کریم بار بار تاریخ کے بعض ابواب کو کیوں دہراتا ہے اور خصوصاً انبیائے کرام کے واقعات کو مختلف حوالوں سے کیوں ذکر کرتا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ نبوت اور رسالت کوئی عام تجربے کی چیز نہیں اور نہ یہ کوئی ایسا منصب ہے جسے محنت اور کوشش سے حاصل کیا جاسکے۔ یہ منصب سراسر اللہ تعالیٰ کی حکمت و مشیت کے تحت اچانک کسی کو عطا ہوتا ہے۔ اگر یہ عام تجربے کی چیز ہوتی تو لوگ اپنے تجربوں کے نتائج کے طور پر بہت سے اصول مرتب کرتے اور بہت سی ہدایات مدون ہوتیں۔ یہ چونکہ عطیہ الٰہی اور موہبتِ ربانی ہے۔ اس لیے اس کا تجربہ صرف انہی سعید نفوس کو ہوتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ اس منصب پر فائز کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول جن قوموں کی طرف مبعوث ہوتے ہیں ان کے لیے ان پیغمبروں کی دعوت عموماً ایک انوکھی اور اجنبی چیز سمجھی گئی ہے اور اس کیخلاف طرح طرح کے شبہات و اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ چناچہ نبوت اور رسالت اور تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں ہر پیغمبر کو جس طرح کے حالات سے سابقہ پڑا اور جن کیفیات سے گزرنا پڑا اور جن مشاہدات اور تجربات سے واسطہ پیش آیا ضروری تھا کہ ہر مناسب موقع پر انبیائے کرام اور رسولانِ عظام کے انہی تجربات اور مشاہدات کو آپ ﷺ پر نازل کیا جاتا تاکہ آپ ﷺ ان حالات کی روشنی میں اپنے لیے طمانیت و سکینت کا سامان پاتے اور مزید یہ کہ ان کے حالات کی روشنی میں آپ اپنے لیے حکمت کے وہ راستے تلاش کرسکتے جس پر سابقہ انبیاء کو چلنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اور شاید یہی وہ چیز ہے جس کی اقتداء کا آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا تھا۔ اور ان کی امتوں کے احوال کی روشنی میں آپ کے مخالفین اگر چاہتے تو اپنے لیے بہت کچھ روشنی کا سامان تلاش کرسکتے تھے۔ چناچہ یہی دو اسباب ہیں جن کی وجہ سے قرآن کریم بار بار انبیائے کرام کی تبلیغ و دعوت کی حکمتوں اور ان کی امتوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو بیان کرتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نبی اور رسول ہونے کی حیثیت سے اور اس سلسلے میں پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے سب سے زیادہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مشابہت رکھتے تھے۔ اور مزید یہ بات بھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات سب انبیائے کرام سے زیادہ تفصیل کے ساتھ تورات میں موجود تھے۔ اور پھر ان پر ایمان کی مدعی اپنی تمام خصوصیات سمیت ایک قوم بھی موجود تھی۔ اس لیے سب سے زیادہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات و تجربات قرآن کریم میں ذکر کیے گئے تاکہ آپ کے لیے تسکین و اطمینان کا باعث ہوسکیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کے مختلف ابواب قرآن کریم نے مختلف مواقع پر بیان کیے ہیں۔ پیش نظر آیات کریمہ میں ان واقعات کو ذکر کیا جارہا ہے جب آپ ( علیہ السلام) مدین میں آٹھ دس سال گزارنے کے بعد غالباً مصر واپسی کے لیے اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر نکلے اور راستے میں آپ ( علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز کیا گیا۔ ان واقعات کو ذکر کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ اس کے محل وقوع کو بیان کردیا جائے۔ مدین اور طور کا محل وقوع مدین کا علاقہ خلیجِ عقبہ کے کنارے عرب اور جزیرہ نمائے سینا کے ساحل پر واقع تھا۔ وہاں سے چل کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی حصے میں اس مقام پر پہنچے جو اب کوہ سینا اور جبلِ موسیٰ کہلاتا ہے اور نزول قرآن کے زمانے میں طور کے نام سے مشہور تھا۔ اسی کے دامن میں وہ واقعہ پیش آیا جو یہاں ذکر کیا جارہا ہے۔ یہ جگہ سطح سمندر سے تقریباً پانچ ہزار فیٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں رومی سلطنت کے پہلے عیسائی بادشاہ قسطنطین نے 365 عیسوی کے لگ بھگ زمانے میں ٹھیک اس مقام پر ایک کلیسا تعمیر کرا دیا تھا۔ اس کے 200 برس بعد قیصر جسٹینین نے یہاں ایک دیر تعمیر کرایا جس کے اندر قسطنطین کے بنائے ہوئے کلیسا کو بھی شامل کرلیا۔ یہ دیر اور کلیسا دونوں آج تک موجود ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور کے اسی مقام کی طرف بڑھ رہے تھے، جاڑوں کا موسم تھا، رات کا وقت، ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ رات کی سخت سخت خنکی میں راستہ گم کر بیٹھے۔ دور سے ایک روشنی دکھائی دی، اپنے گھر والوں سے کہا تم یہیں ٹھہرو، مجھے آگ نظر آئی ہے، میں وہاں جاتا ہوں، اگر کچھ لوگ وہاں ہوئے تو ان سے راستہ معلوم کرتا ہوں ورنہ آگ ہی کا کوئی انگارہ لاتا ہوں تاکہ تم لوگ اس سردی میں تاپ سکو۔
Ayah 27:8

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

تو جب ( حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے پاس آئے تو ندا آئی کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے، اور پاک ہے اللہ سب جہان والوں کا رب

فَلَمَّا جَآئَ ھَا نُوْدِیَ اَنْ م بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَھَا ط وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (النمل : 8) (تو جب ( حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے پاس آئے تو ندا آئی کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے، اور پاک ہے اللہ سب جہان والوں کا رب۔ ) وادیِ طور میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر عنایتِ ربانی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب وہاں پہنچے جہاں آپ ( علیہ السلام) کو آگ دکھائی دی تھی تو آپ ( علیہ السلام) نے دیکھا کہ وادی کے کنارے ایک خطے میں آگ سی لگی ہوئی ہے۔ مگر نہ کچھ جل رہا تھا اور نہ کوئی دھواں اٹھ رہا تھا۔ اور سورة القصص کی وضاحت کے مطابق اس آگ کے اندر ایک ہرا بھرا درخت کھڑا تھا جو جلنے کی بجائے اپنی سرسبزی اور شادابی میں پہلے سے دوچند ہوتا جارہا تھا۔ یکایک اس درخت میں سے آواز آنے لگی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کچھ اندازہ نہ کرسکے کہ یہ آواز کس کی ہے اور کہاں سے آرہی ہے۔ آپ ( علیہ السلام) کو چاروں طرف سے آواز سنائی دے رہی تھی۔ یہ ایک غیرمعمولی کیفیت تھی جس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پہلی دفعہ دوچار ہوئے تھے اور انبیائے کرام کے ساتھ ایسے ہی معاملات پیش آتے ہیں جو ان کے لیے حیرانی کا باعث ہوتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی جانب سے انبیاء (علیہم السلام) کے نفوس میں اور خارج کے ماحول میں ایک ایسی غیرمعمولی کیفیت پیدا کردی جاتی ہے جس سے یہ یقین حاصل ہوجاتا ہے کہ یہ ہونے والا واقعہ یا آنے والی آواز اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے، کسی شیطان کا کرشمہ نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ہاتف کی آواز تھی۔ چناچہ اس کی وضاحت کے لیے اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ آگ نہیں ہے بلکہ اس روشنی کے پردے میں اللہ تعالیٰ کی بابرکت ذات اپنے بابرکت کروبیوں کے جلو میں جلوہ گر ہے۔ اس غیرمعمولی صورتحال سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مانوس کرنے کے لیے یہ فرمایا گیا کہ وہ ذات بڑی بابرکت ہے جو اس آتش نما نور میں ہے اور اس کا سارا ماحول بھی بہت برکت والا ہے۔ ایک شبہ کا ازالہ البتہ اس آگ کا ایک مخصوص جگہ میں پایا جانا اور ہاتفِ غیبی کا یہ کہنا کہ بہت بابرکت ہے جو اس کے اندر ہے، یہ گویا اللہ تعالیٰ کی طرف اشارہ تھا۔ اس سے غلط فہمی ہوسکتی تھی کہ اللہ تعالیٰ کسی محدود مقام میں سما جاتا ہے اور انسانوں کی طرح مخصوص زبان میں گفتگو فرماتا ہے۔ اس لیے شبہ کے ازالے کا یہی بہترین طریقہ تھا جو اختیار کیا گیا۔ فرمایا : سُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ” یعنی اللہ تعالیٰ پاک اور منزہ ہے جہت و مکان سے، اور ان تمام عیوب سے جو حدوث کو مستلزم ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس بات پر متنبہ کرنا مقصود ہو کہ یہ معاملہ کمال درجہ تنزیہہ کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ اس آواز میں نہ درخت کا دخل ہے، نہ اللہ تعالیٰ کا نور کسی میں اترا ہے، نہ اس کی ذات نے کسی میں حلول کیا ہے۔ وہ ذات جو ہر طرح کی مشابہت سے پاک، ہر طرح کے حدوث سے منزہ اور ہر چون و چرا سے بالا ہے۔ وہ ان تمام صفات سے متصف ہوتے ہوئے بھی بذات خود تم سے مخاطب ہے۔ یہ اس کی تجلی ہے جو تمہیں نظر آرہی ہے۔
Ayah 27:9

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

اے موسیٰ ! یہ میں ہی ہوں، خدائے عزیزوحکیم

یٰـمُوْسٰٓی اِنَّـہٗٓ اَنَااللّٰہُ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (النمل : 9) (اے موسیٰ ! یہ میں ہی ہوں، خدائے عزیزوحکیم۔ ) احتمالات کی وضاحت گزشتہ آیت میں بیان کردہ غیرمعمولی صورتحال سے جو اشتباہات پیدا ہوسکتے تھے اور جس طرح اجمالی انداز میں بات فرمائی گئی تھی اور جس میں کئی احتمالات ممکن تھے ان تمام پردوں کو ہٹاتے ہوئے فرمایا کہ میں ہی خدائے عزیزوحکیم ہوں، میری ہی آواز تم نے سنی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ذاتی نام سے اپنا ذکر فرمایا اور اپنی دو صفات سے اپنا تعارف کرایا تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تبلیغ و دعوت کے کٹھن راستے پر چلتے ہوئے یہ اطمینان رہے کہ ان کی پشت پناہ ایک ایسی ذات ہے جو عزیز اور غالب ہے۔ البتہ وہ بعض دفعہ مخالفین کی گرفت میں تاخیر سے کام لیتا ہے۔ اور بعض دفعہ انھیں کھل کھیلنے کا موقع دیتا ہے۔ تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کوئی اس سے بچ کے بھی جاسکتا ہے۔ البتہ گرفت میں تاخیر اور ڈھیل پہ ڈھیل دیتے چلے جانا یہ اس کی حکمت و رحمت کا تقاضا ہے تاکہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اللہ تعالیٰ کے نبی کے سامنے ان دونوں صفات کی موجودگی ایک بہت بڑی ڈھارس کا کام دیتی ہے۔ اور لوگوں کی بےاعتنائیاں بلکہ بار بار حدود سے تجاوز اس کے حوصلے کو شکست دینے سے عاجز رہتا ہے۔
Ayah 27:10

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اے موسیٰ ! آپ اپنی لاٹھی پھینک دیجیے، تو حضرت موسیٰ نے اس لاٹھی کو دیکھا حرکت کرتے ہوئے گویا کہ وہ سانپ ہے تو آپ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پلٹ کر بھی نہیں دیکھا، (ارشاد ہوا) اے موسیٰ ! ڈرو نہیں، میرے حضور رسول ڈرا نہیں کرتے

وَاَلْقِ عَصَاکَ ط فَلَمَّا رَاٰھَا تَھْتَزُّکَاَنَّھَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ ط یٰـمُوْسٰی لاَ تَخَفقف اِنِّیْ لاَ یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ ۔ (النمل : 10) (اے موسیٰ ! آپ اپنی لاٹھی پھینک دیجیے، تو حضرت موسیٰ نے اس لاٹھی کو دیکھا حرکت کرتے ہوئے گویا کہ وہ سانپ ہے تو آپ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پلٹ کر بھی نہیں دیکھا، (ارشاد ہوا) اے موسیٰ ! ڈرو نہیں، میرے حضور رسول ڈرا نہیں کرتے۔ ) پہلا معجزہ اور اس کی وضاحت قرآن کریم میں دوسرے مواقع پر یہ بات واضح کی گئی ہے کہ پروردگار نے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف ہم کلامی بخشا اور آپ ( علیہ السلام) کو بتایا کہ ہم نے آپ ( علیہ السلام) کو نبوت کے لیے چن لیا ہے۔ اس کے بعد آپ ( علیہ السلام) کو چند معجزات عطا کیے گئے جن میں سب سے پہلا اور عظیم معجزہ عصائے موسیٰ تھا۔ آپ ( علیہ السلام) ہمیشہ اپنے ہاتھ میں ایک لاٹھی رکھا کرتے تھے جس کی مدد سے آپ بکریاں چراتے، بکریوں کے لیے پتے جھاڑتے، تھک جاتے تو اس پر ٹیک لگا لیتے۔ اور بھی لاٹھی سے جو کام لیے جاتے ہیں اس سے لیتے تھے۔ وہی لاٹھی آپ ( علیہ السلام) کے ہاتھ میں تھی۔ یہ بات سراسر غلط ہے جو عوام میں پھیلائی گئی ہے کہ وہ لاٹھی جنت سے حضرت آدم (علیہ السلام) لے کر آئے تھے، اس سے روشنی پھوٹتی تھی، اس کا قد حضرت موسیٰ و کے قد کے برابر تھا۔ یہ سب خانہ ساز باتیں ہیں۔ ایک عام لاٹھی تھی جیسے چرواہوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ آپ کو حکم دیا گیا کہ اس لاٹھی کو زمین پر پھینک دیجیے۔ جیسے ہی آپ نے لاٹھی زمین پر پھینکی، اس نے سانپ کی طرح بل کھاتے ہوئے چلنا شروع کردیا۔ قرآن کریم نے کہیں تو اس لاٹھی کو تبدیلی کے بعد جَآنٌّ کے نام سے یاد کیا ہے جو چھوٹے اور پتلے سانپ پر بولا جاتا ہے اور کہیں اسے حَیَّۃٌ سے تعبیر کیا ہے۔ یہ ہر طرح کے سانپ کو کہتے ہیں اور کہیں اسے ثعبان کا نام دیا گیا ہے جو اژدھا کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تعبیر میں اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ یہ عصا جب سانپ کی شکل اختیار کرتا تھا تو ہمیشہ ایک جیسی شکل نہیں ہوتی تھی۔ کبھی عام سانپ کی طرح ہوتا، کبھی باریک سانپ کی طرح اور کبھی اژدھا کی شکل اختیار کرلیتا تھا، جیسے ساحرانِ مصر کے سامنے اژدھا کی شکل میں ان کے سانپوں پر جھپٹا۔ لیکن بعض علماء کا خیال ہے کہ وہ ہمیشہ ہی اژدھا کی صورت میں ظاہر ہوتا تھا۔ لیکن اس کی پھرتی اور تیزی کی وجہ سے اسے دوسرے ناموں سے یاد کیا گیا ہے، یعنی جسامت میں وہ اژدھا تھا۔ لیکن پھرتی اور تیزی میں عام سانپ کی طرح تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جیسے ہی اپنے عصا کو سانپ کی طرح رینگتے دیکھا تو آپ اس سے خوف زدہ ہو کر بھاگ نکلے اور خوف آپ پر ایسا طاری ہوا کہ آپ نے مڑ کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا کہ سانپ پیچھے آرہا ہے یا وہیں کہیں رہ گیا ہے۔ اس سے دو باتوں کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ اگر یہ بننے والا سانپ جسامت میں چھوٹا اور پتلا ہوتا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے جری اور تنومند آدمی کے لیے خوفزدہ ہونے کا کوئی موقع نہ تھا۔ آپ بڑی آسانی کے ساتھ اسے کچل سکتے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یقینا عصا نے اژدھا کی شکل اختیار کی تھی۔ اور ہوسکتا ہے وہ بل کھاتا ہوا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف بڑھا ہو۔ تو ایسی صورت میں انسانی فطرت کا تقاضا یہی تھا کہ آپ اس سے ڈر کر بھاگ کھڑے ہوتے کیونکہ خالی ہاتھ آدمی اژدھا کا مقابلہ تو نہیں کرسکتا۔ نبی کی حقانیت کی دلیل دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ نبوت کے ابتدائی مرحلہ کے مشاہدات نبی کے لیے بالکل نامانوس، نہایت انوکھے اور عجیب ہوتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ اس کو ان سے مانوس کردیتا ہے۔ کیونکہ اسے نبوت بغیر کسی کوشش، خواہش یا امید کے محض اللہ تعالیٰ کی عطا کے طور پر ملتی ہے اور ایک فریضے کے طور پر پیغمبر اس کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ اسے ایک لمحہ پہلے تک اپنی نبی بن جانے کا سان گمان بھی نہیں ہوتا۔ اور یہ کیفیت نبی کی حقانیت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ نبوت کے جھوٹے دعویدار قدم قدم شہرت کے مراحل طے کرتے اور اپنے دعوے کے لیے زمین ہموار کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ اور بعض دفعہ اس کاروبار میں اپنے ہمراز لوگوں کو بھی شریک کیا جاتا ہے۔ اور لوگوں کے ایمان کی آزمائش کے لیے وقت کے ساتھ ساتھ مختلف دعوے کیے جاتے ہیں۔ کبھی مناظر بن بیٹھے، اس طرح سے ہم خیال لوگوں کا اعتماد حاصل کیا، پھر داعی کا روپ دھارلیا، بعض لوگوں سے اپنے آپ کو مجدد لکھوایا، پھر خود کو مہدی کہنے لگے، پھر ایک جست لگائی اور نبوت کے منصب پر فائز ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ایسی ہر حرکت اور ہر ارادے سے پاک ہوتے ہیں۔ ایک حقیقت کا اظہار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھاگتے ہوئے دیکھ کر پروردگار نے ارشاد فرمایا : موسیٰ ! ڈرو نہیں، میرے حضور رسول ڈرا نہیں کرتے۔ نہایت دلنواز انداز میں تسلی دیتے ہوئے ایک بہت بڑی حقیقت کو واشگاف فرمایا کہ نبی اللہ تعالیٰ کا سب سے مقرب اور سب سے زیادہ معتمد ہوتا ہے۔ دنیا اسے اذیت دیتی، ڈراتی دھمکاتی اور خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن وہ ہر بات کی شکایت اپنے اللہ سے کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کے بھروسے پر دنیا کی مخالفتوں کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتا۔ اے موسیٰ تم میرے رسول ہو، اور میرے حضور میں تم ایسے ہو جیسے بچہ ماں کی آغوش میں ہوتا ہے۔ میرے حضور میں تمہارے لیے عافیت اور پناہ ہے، کوئی خطرہ اور اندیشہ نہیں۔ یہ تو اندیشوں سے بچنے کے لیے ماویٰ اور ملجا ہے۔
Ayah 27:11

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

مگر وہ شخص جس نے کوئی زیادتی کی ہو، پھر اس نے برائی کے بعد اس کو بھلائی سے بدل دیا، تو میں معاف کرنے والا مہربان ہوں

اِلاَّ مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا م بَعْدَ سُؤٓئٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (النمل : 11) (مگر وہ شخص جس نے کوئی زیادتی کی ہو، پھر اس نے برائی کے بعد اس کو بھلائی سے بدل دیا، تو میں معاف کرنے والا مہربان ہوں۔ ) عام اصول اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بشارت میری بارگاہ پناہ اور عافیت کی جگہ ہے، ڈرنے کی جگہ نہیں۔ ہاں اگر کوئی شخص برائی کا ارتکاب کرتا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے یا کوئی زیادتی کرتا ہے یعنی کسی کا حق چھینتا ہے یا کسی پر زیادتی کرتا ہے تو اس کے لیے یقینا اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی اور سے ڈرنے کا کوئی موقع نہیں۔ وہی ایک ذات ہے جو اگر غفورورحیم ہے تو اس کا عذاب بھی عذاب الیم ہے۔ وہ جب پکڑنے پہ آتا ہے تو کوئی اس کے راستے میں مزاحم نہیں ہوسکتا۔ لیکن اگر کوئی شخص جس نے برائی کا ارتکاب کیا ہو وہ برائی سے توبہ کرلیتا اور نیکی کا راستہ اختیار کرلیتا ہے اور حقوق العباد تلف کرنے والا لوگوں کے حق ادا کرنے والا بن جاتا اور ان پر مہربان اور شفیق ہوجاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر نہ کوئی بخشنے والا ہے اور نہ کوئی مہربان ہے۔ ممکن ہے اس میں اشارہ اس بات کی طرف بھی ہو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے نادانستگی میں ایک قبطی کا قتل ہوگیا تھا جس میں اگرچہ آپ کے ارادے کو دخل نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے نیک اور سلیم الفطرت بندے اپنے نفس کو الائونس دینے کی بجائے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اندیشے میں رہتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ یہ قصور اگرچہ بلا ارادہ سرزد ہوا ہے لیکن سرزد تو ہوا ہے اس لیے آپ نے فوراً اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور یہ کہا رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ ” اے پروردگار میں اپنے نفس پر ظلم کر گزرا ہوں، مجھے معاف فرما دے۔ “ فَغَفَرَلَـہٗ ” پس اللہ تعالیٰ نے اسی وقت انھیں معاف فرما دیا۔ “ (القصص : آیت 16) یہاں اسی معافی کی بشارت دی گئی ہے۔ یعنی اس بات کا امکان ہوسکتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کو اپنے گناہ کے انجام سے اندیشہ ہو جو نادانستگی میں آپ سے سرزد ہوگیا تھا۔ لیکن جب ہم اسے معاف کرچکے اور آپ اس برائی کو بھلائی سے بدل چکے تو اب میرے پاس آپ کے لیے مغفرت اور رحمت کے سوا کچھ نہیں ہے۔
Ayah 27:12

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

آپ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالیے، وہ بغیر کسی مرض کے چمکتا ہوا نکلے گا، (یہ دو معجزات) نو معجزات میں سے ہیں، فرعون اور اس کی قوم کی طرف جایئے، بیشک وہ بڑے سرکش لوگ ہیں

وَاَدْخِلْ یَدَکَ فِیْ جَیْبِکَ تَخْرُجْ بَیْضَآئَ مِنْ غَیْرِسُؤٓئٍ قف فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَقَوْمِہٖ ط اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ۔ (النمل : 12) (آپ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالیے، وہ بغیر کسی مرض کے چمکتا ہوا نکلے گا، (یہ دو معجزات) نو معجزات میں سے ہیں، فرعون اور اس کی قوم کی طرف جایئے، بیشک وہ بڑے سرکش لوگ ہیں۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا جانے والا دوسرا معجزہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصائے موسیٰ کے ساتھ جو دوسرا معجزہ عطا کیا گیا یہ اس کا بیان ہے۔ آپ ( علیہ السلام) سے کہا گیا کہ آپ اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالیے۔ چناچہ جب باہر نکالا گیا تو وہ چمکتے ہوئے سورج کی مانند تھا۔ لیکن ساتھ ہی ہر طرح کا تردد ختم کرنے کے لیے فرمایا کہ اس ہاتھ کی سفیدی اور چمک کسی بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ معجزے کی وجہ سے ہوگی۔ ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تردد ختم کرنے کے لیے یہ بات کہی گئی ہو۔ کیونکہ وہ اس سے پہلے اپنے عصا کو سانپ کی طرح رینگتا ہوا دیکھ کر غلط فہمی کا شکار ہوگئے تھے۔ ہاتھ کو چمکتا ہوا دیکھ کر بھی ممکن تھا کہ ان کے ذہن میں کوئی اور خیال پیدا ہوتا، اس لیے پہلے سے اس کی وضاحت کردی گئی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ مخالفین کی جانب سے کی جانے والی تأویلوں کا راستہ بند کرنا بھی مقصود ہو۔ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ جن لوگوں نے معجزات کا انکار کیا انھوں نے ہر معجزے کی کوئی نہ کوئی تأویل کی۔ یدِبیضا کے بارے میں کہا گیا کہ یہ کوئی معجزہ نہ تھا بلکہ برص کی بیماری تھی جس کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہاتھ سفید ہوگیا تھا۔ اور تعجب کی بات یہ ہے کہ تورات میں تحریف کرنے والوں نے یہ لکھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں برص کے مانند سفیدی تھی۔ یعنی انھوں نے بھی اسے برص کی بیماری قرار دیا اور معجزے کو تسلیم کرنے سے پہلوتہی کی۔ اس آیت کریمہ سے ایک اور بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نو معجزات عطا کیے گئے تھے جن کی تفصیل سورة الاعراف میں جو بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے۔ 1 عصائے موسیٰ 2 یدِ بیضا 3 جادوگروں کی شکست 4 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پیشگی اعلان کے مطابق سارے ملک میں قحط 5 طوفان 6 ٹڈی دل 7 تمام غلے کے ذخیروں میں سرسریاں اور انسان و حیوان سب کے بالوں میں جوئیں 8 مینڈکوں کا ہجوم 9 خون۔ چناچہ ابتداء میں صرف دو معجزات دے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو انذار کے لیے بھیجا گیا اور باقی معجزات کا ظہور آئندہ سالوں میں مختلف وقتوں میں ہوا۔ قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر واضح کیا گیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اعلان کے مطابق کوئی بلائے عام مصر پر نازل ہوتی تھی تو فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتا تھا کہ آپ ( علیہ السلام) اپنے خدا سے دعا کرکے اس بلا کو دور کرا دیجیے تو پھر جو کچھ آپ ( علیہ السلام) کہیں گے ہم مان لیں گے۔ مگر جب وہ بلا ٹل جاتی تھی تو فرعون اپنی ہٹ دھرمی پر اڑ جاتا تھا۔ ایک سوال اور اس کا جواب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ باقی انبیائے کرام کے معاملے میں ہم دیکھتے ہیں کہ انھیں اپنی قوم کے پاس انذار کے لیے بھیجا گیا لیکن معجزات کا ظہور اس وقت شروع ہوا جب تبلیغ و دعوت کو ایک مدت گزر گئی اور لوگوں نے ایمان لانے کی بجائے نشانیوں کا مطالبہ شروع کردیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کی تائید و نصرت کے لیے مختلف مواقع پر مختلف نشانیاں دکھائیں لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سلسلے میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں فریضہ نبوت کی ادائیگی کے لیے بھیجنے سے پہلے دو بڑے معجزات سے مسلح کیا، اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرعون بہت بڑی طاقت کا مالک، مطلق العنان فرمانروا، خدائی کا دعویدار، انتہائی متکبر اور منتقم المزاج آدمی تھا۔ اور ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر پہلے سے قبطی کے قتل کا ایک دعویٰ قائم تھا۔ اس کے قصاص کے لیے آپ ( علیہ السلام) کو گرفتار کیا جانے والا تھا کہ آپ ( علیہ السلام) مصر سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ اب آپ ( علیہ السلام) کی واپسی کی صورت میں اس کا غالب گمان تھا کہ وہ آپ ( علیہ السلام) کو دیکھتے ہی قصاص لینے کا حکم جاری نہ کردے۔ اس لیے ضروری تھا کہ آپ ( علیہ السلام) کو ایسے اسلحہ سے مسلح کرکے بھیجا جاتا کہ فرعون آپ ( علیہ السلام) پر دست درازی سے پہلے سوچنے پر مجبور ہوجاتا۔ یہ معجزات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ایک طرح کا دفاعی اسلحہ بھی تھا اور سند ماموریت بھی۔ ان کو دیکھ لینے کے بعد کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا تھا کہ آپ ( علیہ السلام) محض اپنی طرف سے نبوت کا دعویٰ کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف آپ ( علیہ السلام) کے دعوے کا انتساب بالکل غلط ہے۔
Ayah 27:13

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پس جب ان کے پاس ہماری آنکھیں کھول دینے والی نشانیاں آئیں، انھوں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو ہے

فَلَمَّا جَآئَ تْھُمْ اٰیٰـتُـنَا مُبْصِرَۃً قَالُوْا ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ۔ (النمل : 13) (پس جب ان کے پاس ہماری آنکھیں کھول دینے والی نشانیاں آئیں، انھوں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ ) مُبْصِرَۃً کے معنی ہیں آنکھیں کھول دینے والی نشانیاں۔ پیغمبروں کے معجزات آنکھیں کھول دینے والے ہوتے ہیں دیگر انبیائے کرام کی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب معجزات لے کر فرعون اور اپنی قوم کے پاس آئے تو ان کا معجزہ ہونا قوم سے مخفی نہیں رہا۔ اندھوں نے بھی جان لیا کہ ایسی نشانیاں دکھانا انسان کے بس کی بات نہیں۔ ان کی قاہری اور ان کے عدیم المثال ہونے نے سب کو اپنی حیثیت ماننے پر مجبور کردیا۔ لیکن جن لوگوں کو ایمان نہیں لانا تھا ان کی زبانیں تو گنگ ہوگئیں لیکن ایمان لانے کی بجائے انھوں نے ان نشانیوں کو کھلا ہوا جادو قرار دیا۔ حتیٰ کہ ملک بھر کے جادوگروں نے بھی جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا کر آپ کی صداقت کا اعتراف کرلیا تب بھی انکار کرنے والے آپ کے معجزات کو جادوگری ہی قرار دیتے رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعصبات کے اسیر لوگ اور مفادات کی زنجیروں میں گرفتار عقل سے محروم تو ہوتے ہی ہیں، اپنے دل کی آواز سننے سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔ اور یہی وہ مرض ہے جس میں قریش اور دیگر اہل مکہ مبتلا تھے۔
Ayah 27:14

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

انھوں نے سراسر ظلم اور غرور کے سبب سے ان نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ دل ان کے قائل ہوچکے تھے، پس دیکھ لیجئے کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا

وَجَحَدُوْا بِھَا وَاسْتَیْـقَـنَـتْـھَآ اَنْفُسُھُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ط فَانْظُرْکَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ ۔ (النمل : 14) (انھوں نے سراسر ظلم اور غرور کے سبب سے ان نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ دل ان کے قائل ہوچکے تھے، پس دیکھ لیجئے کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا۔ ) منکرین کے انکار کا اصل سبب فرعون، آل فرعون اور دیگر اہل مصر کے سامنے ملک بھر کے جادوگروں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ ہوا۔ اور سب دیکھنے والوں کے سامنے ساحرانِ مصر نے اعلان کیا کہ یہ جادو نہیں، معجزے کی قاہری اور صداقت کی بالادستی ہے اور ہم اس سچائی کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ اسی طرح پورے ملک پر قحط اور طوفان اور ٹڈی دل کا ٹوٹ پڑنا اور مینڈکوں اور سرسریوں کے کے بیشمار لشکروں کا امنڈ آنا کسی جادو کا کرشمہ نہیں ہوسکتا۔ یہ ایسے کھلے ہوئے معجزے تھے جن کے سامنے دل جھک گئے۔ لیکن مفادات کی دنیا نہ اجڑ سکی، غرور اور تکبر کا سر نہ جھک سکا۔ ان کے سرداروں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ ہمارے سر کٹ تو سکتے ہیں لیکن اس صداقت کے سامنے جھک نہیں سکتے جس صداقت کا اعلان ان زبانوں سے ہورہا ہے جو ہمارے غلاموں کی زبانیں ہیں اور جنھیں کسی طرح بھی ہم اپنی ہمسری کے لائق نہیں سمجھتے۔ قرآن کریم نے ان کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا أَ نُوْمِنُ لِبَشْرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُھُمَا لَنَا عَابِدُوْنَ ” کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں کی بات مان لیں حالانکہ ان کی قوم ہماری غلام ہے۔ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ حق کے انکار کا اصل سبب حقیقت کا مخفی ہونا نہیں بلکہ لوگوں کا ظلم و استکبار ہے جو ان کی بصارت اور بصیرت دونوں کو چھین لیتا ہے۔
Ayah 27:15

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور ہم نے دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علم عطا کیا اور انھوں نے کہا کہ شکر ہے اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا ج وَقَا لاَ الْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (النمل : 15) (اور ہم نے دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علم عطا کیا اور انھوں نے کہا کہ شکر ہے اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ ) انسانی زندگی میں شکر کے اثرات انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایک مکلف مخلوق کی حیثیت سے زمین پر بھیجا۔ اسے شعور و خرد اور قوت امتیاز کی دولت سے بہرہ ور فرمایا، لیکن اس کی آزمائش کے لیے ابلیس اور اس کی ذُرِّیت کو بھی فریب و دجل کی صلاحیتوں سے مسلح فرما کر انسان کے ساتھ ہی زمین پر اتارا۔ البتہ انسانوں پر احسان یہ کیا کہ انھیں شعور و خرد کے ساتھ ساتھ وحی الٰہی کی رہنمائی سے بھی نوازا۔ بار بار پیغمبر بھیجے اور کتابیں اتاریں جن کی تعلیمات نے انسانوں کو ابلیسی قوتوں کی فریب کاریوں سے آگاہی بخشی اور ان کے مقابلہ کرنے کی تدبیر بتائی۔ اور جذبات و خواہشات میں ایک توازن پیدا کرنے اور مفادات کی ہوس کو قابو رکھنے کا سلیقہ سکھایا۔ اور ان کے خیالات و عواطف اور ان کے افکار و عوامل کو صحیح نہج پر رکھنے کے لیے آخرت کا عقیدہ عطا فرمایا اور اس کی فکر پیدا فرمائی۔ اور بار بار یہ بات واضح کی کہ یہی وہ فکر ہے جو تمہیں صراط مستقیم پر چلنے کی ضمانت دے سکتی ہے۔ اور اسی کو نظرانداز کرنے کی صورت میں تم اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بننے کی بجائے ظلم اور کبر و غرور کا پیکر بن سکتے ہو۔ چناچہ پیش نظر آیات میں فرعون اور قوم فرعون کی شکل میں ان لوگوں کی مثال بیان فرمائی جنھیں اللہ تعالیٰ نے دولت و حکومت سے نوازا۔ لیکن انھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ترغیب و ترہیب کے باوجود اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری اور اس کی بندگی کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے ظلم و استکبار کا راستہ اختیار کیا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ وہ اپنے اقتدار اور وسائل سمیت اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوگئے اور آج دنیا انھیں عبرت کے طور پر یاد رکھتی ہے۔ اب دوسری مثال حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کی دی جارہی ہے۔ جنھیں اللہ تعالیٰ نے فرعون سے بڑھ کر عظمت و شوکت عطا فرمائی اور ایسی قوت و اقتدار سے نوازا جس کی ان کے ہمعصر حکمرانوں میں مثال نہیں ملتی۔ لیکن وہ بجائے ظلم اور استکبار کا شکار ہونے کے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتے چلے گئے۔ ان کو ایک لمحہ کے لیے یہ گھمنڈ پیدا نہیں ہوا کہ ان کی حکومت و دولت اور قوت و عظمت ان کے اپنے ذاتی کارنامے ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ اسے اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عطا سمجھا اور ہمیشہ اسی پر اپنے رب کی حمدوثناء کرتے رہے۔ چناچہ دونوں عظیم باپ بیٹے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے انھیں علم کی دولت سے بہرہ ور فرمایا۔ یعنی انھیں سائنس کا علم بھی عطا فرمایا جس سے کام لے کر انھوں نے ایک عظیم سلطنت قائم کی۔ زمین میں چھپے ہوئے قوت کے سرچشموں کو بےنقاب کیا، نئے نئے ایجادات و صنائع سے ملک کو مالامال کردیا۔ اور ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ حکمت و معرفت عطا فرمائی جس نے انھیں کبھی بندگی کے راستے سے ہٹنے نہ دیا۔ ان پر یہ راز منکشف کیا گیا کہ حقیقت میں انسان کے پاس اپنا کچھ بھی نہیں، جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے۔ اور اس پر تصرف کرنے کے جو اختیارات بھی ان کو بخشے گئے ہیں انھیں بھی اللہ تعالیٰ کی ہی مرضی کے مطابق استعمال کیا جانا چاہیے۔ چناچہ یہ اسی علم کا ثمرہ ہے کہ وہ ایک عظیم مملکت کے سربراہ ہو کر بھی اللہ تعالیٰ ہی کا شکر ادا کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ اس کی دین ہے، ہماری کوئی ذاتی خصوصیت نہیں۔ اور بھی مومن بندے یہاں ایسے موجود تھے جنھیں خلافت عطا کی جاسکتی تھی، لیکن ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس فضیلت سے نوازا، تو یہ اس کا فضل و احسان ہے جس کی بجاآوری ہم پر لازم ہے۔
Ayah 27:16

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور ( حضرت) سلیمان (علیہ السلام) (حضرت) دائود (علیہ السلام) کے وارث ہوئے اور فرمایا، اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی کا علم دیا گیا ہے اور ہمیں ہر قسم کی چیزیں عطا کی گئی ہیں، بیشک یہ نہایت ہی کھلا ہوا فضل ہے

وَوَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ یٰٓـاَیُّھَاالنَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَاُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْ ئٍ اِنَّ ھٰذَا لَھُوَالْفَضْلُ الْمُبِیْنُ ۔ (النمل : 16) (اور ( حضرت) سلیمان (علیہ السلام) (حضرت) دائود (علیہ السلام) کے وارث ہوئے اور فرمایا، اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی کا علم دیا گیا ہے اور ہمیں ہر قسم کی چیزیں عطا کی گئی ہیں، بیشک یہ نہایت ہی کھلا ہوا فضل ہے۔ ) آیت میں وراثت کا مفہوم حضرت سلیمان (علیہ السلام) حضرت دائو (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ ان کا اصل عبرانی نام سولومون تھا جو سلیم کا ہم معنی ہے۔ 965 قبل مسیح میں حضرت دائود (علیہ السلام) کے جانشین ہوئے اور 926 قبل مسیح تک تقریباً چالیس سال تک فرمانروا رہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کی متعدد بیویاں تھی اور ہر ایک سے ان کی اولاد تھی۔ اس آیت کریمہ میں جس وراثت کا ذکر ہورہا ہے اگر اسے مال و جائیداد کی میراث سمجھا جائے اور کہا جائے کہ آپ کے سارے مال و جائیداد کے وارث حضرت سلیمان (علیہ السلام) بنے اور باقی تمام بیٹے اور بیٹیاں محروم کردی جائیں تو اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے نبی دنیا سے ظلم کو ختم کرنے کے لیے آتے ہیں، رواج دینے کے لیے تو نہیں آتے۔ جن لوگوں نے اس آیت کریمہ سے مال و دولت کی وراثت پر استدلال کیا ہے وہ شاید حضرت دائود (علیہ السلام) کو ظالم ثابت کرنے کی فکر میں ہیں، اللہ تعالیٰ اس سے اپنے پناہ میں رکھے۔ اس لیے بےغبار بات یہ ہے کہ اس وراثت سے مراد مال و جائیداد کی وراثت نہیں بلکہ نبوت اور خلافت میں حضرت دائود (علیہ السلام) کی جانشینی ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کی عظمت یہ ہے کہ آپ نے جنابِ طالوت کی جانشینی کو نئی نئی وسعتوں سے ہمکنار کیا۔ متضاد اور منتشر قبیلوں کو ایک منظم قوم کی شکل دی، ان کے اندر نظم و ضبط پیدا کیا اور عسکری قوت کے ساتھ ساتھ دینی اور روحانی قوت کو ایسا فروغ دیا کہ ایک طرف حکومت مستحکم ہوتی گئی اور دوسری طرف نہایت قابل فخر انسانی معاشرہ وجود میں آیا۔ یہ مختصر سی سلطنت ایک بہت بڑی سلطنت میں تبدیل ہوگئی۔ لوہے کی قوت کو دفاعی قوت میں تبدیل کیا اور بحرقلزم کے ساحل کے آس پاس لوہے کو ڈھالنے کی بڑی بڑی بھٹیاں قائم کیں جن میں دفاعی آلات بھی تیار ہوتے اور ملکی ضرورتوں کا دیگر سامان بھی تیار کیا جاتا۔ آپ نے ملک کو دین کا قلعہ اور قوت کا ایسا سرچشمہ بنادیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اسے آگے بڑھانے میں دشواری پیش نہیں آئی۔ آپ ( علیہ السلام) نے ایک طرف اگر بری فوج میں اضافہ کیا تو دوسری طرف بحری بیڑے کو اتنی ترقی دی کہ وہ دنیا کا سب سے طاقتور بحری بیڑہ شمار ہونے لگا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مزید ان پر کرم یہ فرمایا کہ انھیں پرندوں کی بولی کا خاص علم عطا کیا۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) نے ان کی تربیت کرکے انھیں فوج کا ایک حصہ بنادیا جن سے نامہ بری، خبررسانی اور سراغ رسانی کا کام نہایت اعلیٰ پیمانے پر لیا جاتا تھا۔ اس طرح سے انھوں نے گویا اپنی ایک فضائی فوج بھی مرتب کرلی تھی۔ بائیبل میں اللہ تعالیٰ کے اس عظیم احسان کا کوئی ذکر نہیں۔ البتہ بنی اسرائیل کی روایات میں اس کی صراحت موجود ہے۔ جیوش انسائیکلوپیڈیا جلد 11 کے صفحہ 1439 پر اس کی شہادت موجود ہے۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس وقت کی دنیا کا سب سے مضبوط حکمران بنایا اور آپ ( علیہ السلام) پر بَر و بحر کے خزانے کھول دیئے گئے، لیکن ان تمام احسانات، کروفر اور طاقت و اقتدار کے باوجود ایک لمحے کے لیے بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہوئے کہ یہ سب کچھ میرے دست وبازو اور میرے حُسنِ تدبیر کا نتیجہ ہے، بلکہ آپ ( علیہ السلام) اپنی قوم کو یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پرندوں کی بولیوں کا علم بھی عطا فرمایا ہے اور دیگر بیشمار اسباب و وسائل سے ہمیں ہمکنار کیا ہے۔ تو یہ سب کچھ اس کا کھلا ہوا فضل و کرم ہے۔ ہم تو اس در کے سائل ہیں۔ دو عالم سے غنی صرف وہی ذات ہے، ہماری عظمت اس در کی فقیری میں ہے۔ اور ہماری محرومی اس سے بےنیازی ہے۔ مَنْطِقَ الطَّیْرِ کا علم مَنْطِقَ الطَّیْرِ سے معلوم ہوتا ہے کہ پرندوں کے اندر بھی نطق و ادراک موجود ہے۔ ہم چونکہ اسے سمجھتے نہیں، اس لیے عام طور پر اس کا انکار کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ بات عام انسانوں کے تجربے میں آتی ہے کہحیوانوں اور جانورروں میں بھی نفرت، محبت، عتاب، التفات، خوشی، غم، فکرمندی، طمانیت، استمالت، ملاعبت جیسے جذبات پائے جاتے ہیں اور وہ الگ الگ بولیوں سے اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اور اس اظہار کو جانور تو آپس میں سمجھتے ہی ہیں وہ لوگ بھی سمجھتے ہیں جو جانوروں کی تربیت کرتے اور ان کی آوازوں اور اشارات سے آگاہی پیدا کرلیتے ہیں۔ اور جنھوں نے سائینٹفک طریقے سے ان حیوانات کا تجربہ اور مشاہدہ کیا ہے ان کی معلومات تو نہایت حیران کن اور دنگ کردینے والی ہیں۔ چیونٹی اور شہد کی مکھی کے بارے میں کتابیں لکھی گئی ہیں، انھیں پڑھ کر آدمی حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کیسی دانش و بینش اور فہم و فراست ودیعت فرمائی ہے۔ آج کتوں سے سراغ رسانی اور جاسوسی کے سلسلے میں جو کام لیے جارہے ہیں ان سے تو ایک دنیا واقف ہے اور کیسی حیرت کی بات ہے کہ کتے ان اسرار تک پہنچ جاتے ہیں جہاں انسان نہیں پہنچ پاتے۔ ایک وقت تھا جب کبوتروں سے نامہ بری کا کام لیا جاتا تھا۔ اور یہ سب کچھ اس حال میں ہوتا تھا کہ کام لینے والے ان کی بولی نہیں سمجھتے تھے اور نہ اپنی بات انھیں سمجھا سکتے تھے۔ اس کے باوجود یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہا۔ اور اگر انسان ان کی بولیوں سے واقف ہوجاتا تو یقینا ان کی صلاحیتوں سے ہزار چند کام لیا جاسکتا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی بند خزانے کی کلید عطا فرمائی تھی۔ یقینا آپ ( علیہ السلام) نے اس سے حیرت انگیز کام لیے۔
Ayah 27:17

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور ( حضرت) سلیمان کے جائزے کے لیے جنوں، انسانوں اور پرندوں میں سے ان کے لشکر جمع کیے گئے تھے اور ان کی درجہ بندی کی جارہی تھی

وَحُشِرَلِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّیْرِفَہُمْ یُوْزَعُوْنَ ۔ (النمل : 17) (اور ( حضرت) سلیمان کے جائزے کے لیے جنوں، انسانوں اور پرندوں میں سے ان کے لشکر جمع کیے گئے تھے اور ان کی درجہ بندی کی جارہی تھی۔ ) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی فوج اس آیت کریمہ میں یہ دکھایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جن خصوصی عنایات سے نوازا تھا اور آپ ( علیہ السلام) پر ایسی نوازشات کی گئی تھیں جن میں ان کا کوئی ہمسر نہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں صرف انسانوں پر ہی حکومت عطا نہیں کی بلکہ آپ ( علیہ السلام) کو جنوں اور پرندوں پر بھی اقتدار عطا فرمایا۔ بائیبل میں اگرچہ اس کا کوئی ذکر نہیں لیکن تلمود اور ربیوں کی روایات میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ جن بھی آپ ( علیہ السلام) کے لشکروں میں شامل تھے۔ اور آپ ( علیہ السلام) جنوں کے ساتھ ساتھ پرندوں سے بھی خدمت لیتے تھے۔ لیکن وہ لوگ جن کے لیے پیغمبروں کے معجزوں کا ہضم کرنا مشکل ہے اور ان کے نزدیک سب سے بڑا پیمانہ عقل کا پیمانہ ہے اور جو چیز اس پیمانے میں نہیں سماتی وہ اس کا صاف انکار کردیتے ہیں۔ انھوں نے جن اور طیر کی عجیب و غریب تأویلیں کی ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ” جن “ سے مراد پہاڑی قبائل کے وہ لوگ ہیں جنھیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے مسخر کرلیا تھا اور وہ ان کے ہاں حیرت انگیز طاقت اور محنت سے کام کرتے تھے۔ اور ” طیر “ سے مراد گھوڑسواروں کے دستے ہیں جو پیدل دستوں کی بہ نسبت بہت زیادہ تیزی سے نقل و حرکت کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ کو جو شخص بھی غور سے پڑھے گا اگر اسے عربی زبان اور اس کی گرامر سے کچھ بھی مس ہو تو وہ کبھی اسے تسلیم نہیں کرسکتا۔ قرآن کریم نے جن، انس اور طیر تینوں پر الف لام جنس کا استعمال کیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ تینوں ایک دوسرے سے مختلف الگ الگ اجناس کے لشکر ہیں اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن اور طیر انسانوں کی جنس میں سے نہیں، ورنہ جن اور طیر کے درمیان انس کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے اَلْجِنُّ وَالطَّیْرُ مِنَ الْاِنْسِکہا جاتا۔ یعنی جن اور طیر انسانوں ہی میں سے ہیں یا انسان کی جنس میں سے۔ لیکن ان تینوں کو مستقل طور پر الف لام تعریف کے ساتھ ذکر کرنا اس کے سوا کوئی معنی نہیں رکھتا کہ جن اور طیر انسان کے علاوہ کوئی اور مخلوق ہیں۔ اور اگر جن سے مراد پہاڑی قبائل لیے جائیں اور طیر سے مراد گھوڑ سوار دستے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ الگ الگ لشکر نہیں بلکہ انسانوں کی جنس میں سے دو لشکر ہیں جو اپنی بعض خصوصیات میں منفرد واقع ہوئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ محاورے میں کسی انسان کو اس کے فوق العادت کام کی وجہ سے جن اور کسی تیز رفتار آدمی کو پرندہ کہہ دیا جاتا ہے، لیکن اس کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ جن کا معنی طاقتور آدمی اور پرندے کا معنی تیز رفتار انسان ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ علامہ شبلی کو جب اطلاع ملی کہ حسرت موہانی نے اب کوئی سٹور کھول لیا ہے، تو انھوں نے انھیں خط لکھا کہ تم کبھی شاعری کرتے ہو، کبھی سیاسی مشاغل میں کھو جاتے ہو، کبھی جیل کاٹتے ہو اور کبھی جلوس نکالتے ہو اور اب تم نے ایک سٹور کھول لیا ہے، تم ایک آدمی ہو یا جن ہو۔ تو کیا اس کا ایک مطلب یہ سمجھ لیا جائے کہ حسرت موہانی انسان نہیں رہے، جن ہوگئے۔ ہم جب کسی حسین عورت کو دیکھتے ہیں تو اسے پری سے تعبیر کرتے ہیں، لیکن کوئی شخص یہ نہیں کہتا کہ حسین عورتیں پریاں ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ محاورات میں عام طور پر بعض دفعہ الفاظ کو حقیقی کی بجائے مجازی معنی میں لیا جاتا ہے۔ اور اہل لغت و فصاحت کے یہاں یہ بات مُسلَّم ہے کہ کسی کلام میں کسی لفظ کو حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنی میں صرف اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جبکہ آس پاس کوئی واضح قرینہ ایسا موجود ہو جو اس کے مجاز ہونے پر دلالت کرتا ہو۔ ورنہ حقیقی معنی کو چھوڑنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہوتا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں آخر ایسا کون سا قرینہ پایا جاتا ہے جس سے یہ گمان کیا جاسکے کہ جن اور طیر کے الفاظ اپنے حقیقی لغوی معنوں میں نہیں بلکہ مجازی معنوں میں استعمال کیے گئے ہیں۔