27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsروح القرآن

Ayah 27:64

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون ہے جو خلق کی ابتداء کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرے گا، اور کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے، کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے، کہہ دیجیے کہ تم اپنی دلیل لائو اگر تم سچے ہو

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَمَنْ یَّرْزُقُـکُمْ مِّنَ السَّمَـآئِ وَالْاَرْضِ ط ئَ اِلٰـہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (النمل : 46) (بھلا کون ہے جو خلق کی ابتداء کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرے گا، اور کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے، کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے، کہہ دیجیے کہ تم اپنی دلیل لائو اگر تم سچے ہو۔ ) اللہ تعالیٰ کی صفت ابتداء خلق اور اعادہ خلق کی وضاحت یہ سادہ سی بات جس کو ایک جملے میں بیان کردیا گیا ہے اپنے اندر ایسی تفصیلات رکھتی ہے کہ آدمی ان کی گہرائی میں جتنی دور تک اترتا جاتا ہے اتنے ہی وجودِاِلٰہ اور وحدت اِلٰہ کے شواہد اسے ملتے چلے جاتے ہیں۔ پہلے تو بجائے خود تخلیق ہی کو دیکھیے۔ انسان کا علم آج تک یہ راز نہیں پاسکا ہے کہ زندگی کیسے اور کہاں سے آتی ہے۔ اس وقت تک مسلّم سائنٹفک حقیقت یہی ہے کہ بےجان مادے کی محض ترکیب سے خودبخود جان پیدا نہیں ہوسکتی۔ حیات کی پیدائش کے لیے جتنے عوامل درکار ہیں ان سب کا ٹھیک تناسب کے ساتھ بالکل اتفاقاً جمع ہو کر زندگی کا آپ سے آپ وجود میں آجانا دہریوں کا ایک غیرعلمی مفروضہ تو ضرور ہے لیکن اگر ریاضی کے قانون بخت و اتفاق (Lawof Chance) کو اس پر منطبق کیا جائے تو اس کے وقوع کا امکان صفر سے زیادہ نہیں نکلتا۔ اب تک تجربی طریقے پر سائنس کے معملوں (Laboratories) میں بےجان مادے سے جاندار مادہ پیدا کرنے کی جتنی کوششیں بھی کی گئی ہیں، تمام ممکن تدابیر استعمال کرنے کے باوجود وہ سب قطعی ناکام ہوچکی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ جو چیز پیدا کی جاسکی ہے وہ صرف وہ مادہ ہے جسے اصطلاح میں (D.N.A) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مادہ ہے جو زندہ خلیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ جوہرِحیات تو ضرور ہے مگر خود جاندار نہیں ہے۔ زندگی اب بھی بجائے خود ایک معجزہ ہی ہے جس کی کوئی علمی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکی کہ یہ ایک خالق کے امروارادہ اور منصوبے کا نتیجہ ہے۔ اس کے بعد آگے دیکھیے۔ زندگی محض ایک مجرد صورت میں نہیں بلکہ بیشمار متنوع صورتوں میں پائی جاتی ہے۔ اس وقت تک روئے زمین پر حیوانات کی تقریباً 10 لاکھ اور نباتات کی 2 لاکھ انواع کا پتہ چلا ہے۔ یہ لکھوکھا انواع اپنی ساخت اور نوعی خصوصیات میں ایک دوسرے سے ایسا واضح اور قطعی امتیاز رکھتی ہیں، اور قدیم ترین معلوم زمانے سے اپنی اپنی صورت نوعیہ کو اس طرح مسلسل برقرار رکھتی چلی آرہی ہیں کہ ایک خدا کے تخلیقی منصوبے (Design) کے سوا زندگی کے اس عظیم تنوع کی کوئی اور معقول توجیہ کردینا کسی ڈارون کے بس کی بات نہیں ہے۔ آج تک کہیں بھی دو نوعوں کے درمیان کی کوئی ایک کڑی بھی نہیں مل سکی ہے جو ایک نوع کی ساخت اور خصوصیات کا ڈھانچہ توڑ کر نکل آئی ہو اور ابھی دوسری نوع کی ساخت اور خصوصیات تک پہنچنے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہی ہو۔ متحجرات (Fossils) کا پورا ریکارڈ اس کی نظیر سے خالی ہے اور موجودہ حیوانات میں بھی یہ خنثیٰ مشکل کہیں نہیں ملا ہے۔ آج تک کسی نوع کا جو فرد بھی ملا ہے، اپنی پوری صورت نوعیہ کے ساتھ ہی ملا ہے، اور ہر وہ افسانہ جو کسی مفقود کڑی کے بہم پہنچ جانے کا وقتاً فوقتاً سنا دیا جاتا ہے، تھوڑی مدت بعد حقائق اس کی ساری پھونک نکال دیتے ہیں۔ اس وقت تک یہ حقیقت اپنی جگہ بالکل اٹل ہے کہ ایک صانع حکیم، ایک خالق الباریٔ المصور ہی نے زندگی کو یہ لاکھوں متنوع صورتیں عطا کی ہیں۔ یہ تو ہے ابتدائے خلق کا معاملہ۔ اب ذرا عادہ خلق پر غور کیجیے۔ خالق نے ہر نوع حیوانی اور نباتی کی ساخت و ترکیب میں وہ حیرت انگیز نظام العمل (Mechanism) رکھ دیا ہے جو اس کے بیشمار افراد میں سے بےحد و حساب نسل ٹھیک اسی کی صورت نوعیہ اور مزاج و خصوصیات کے ساتھ نکالتا چلا جاتا ہے اور کبھی جھوٹوں بھی ان کروڑہا کروڑ چھوٹے چھوٹے کارخانوں میں یہ بھول چوک نہیں ہوتی کہ ایک نوع کا کوئی کارخانہ تناسل کسی دوسری نوع کا ایک نمونہ نکال کر پھینک دے۔ جدید علم تناسل (Genetics) کے مشاہدات اس معاملے میں حیرت انگیز حقائق پیش کرتے ہیں۔ ہر پودے میں یہ صلاحیت رکھی گئی ہے کہ اپنی نوع کا سلسلہ آگے کی نسلوں تک جاری رکھنے کا ایسا مکمل انتظام کرے جس سے آنے والی نسل اس کی نوع کی تمام امتیازی خصوصیات کی حامل ہو اور اس کا ہر فرد دوسری تمام انواع کے افراد سے اپنی صورت نوعیہ میں ممیز ہو۔ یہ بقائے نوع اور تناسل کا سامان ہر پودے کے ایک خلیے (Cell) کے ایک حصہ میں ہوتا ہے جسے بمشکل انتہائی طاقتور خوردبین سے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ چھوٹا سا انجینئر پوری صحت کے ساتھ پودے کے سارے نشو و نما کو حتما ًاسی راستے پر ڈالتا ہے جو اس کی اپنی صورت نوعیہ کا راستہ ہے۔ اسی کی بدولت گیہوں کے ایک دانہ سے آج تک جتنے پودے بھی دنیا میں کہیں پیدا ہوئے ہیں انھوں نے گیہوں ہی پیدا کیا ہے، کسی آب و ہوا اور کسی ماحول میں یہ حادثہ کبھی رونما نہیں ہوا کہ دانہ ٔ گندم کی نسل سے کوئی ایک ہی دانہ ٔ جو پیدا ہوجاتا۔ ایسا ہی معاملہ حیوانات اور انسان کا بھی ہے کہ ان میں سے کسی کی تخلیق بھی بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ ناقابلِ تصور وسیع پیمانے پر ہر طرف اعادہ خلق کا ایک عظیم کارخانہ چل رہا ہے جو ہر نوعی امتیازات اور موروثی خصوصیات کو اپنے ذرا سے وجود کے بھی محض ایک حصے میں لیے ہوئے ہوتا ہے، اور پھر اس انتہائی نازک اور پیچیدہ عضوی نظام اور بےانتہا لطیف و پرپیچ عملیات (Progresses) کو دیکھیے جن کی مدد سے ہر نوع کے ہر فرد کا تخم تناسل اسی نوع کا فرد وجود میں لاتا ہے، تو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ ایسا نازک اور پیچیدہ نظام العمل کبھی خودبخود بن سکتا ہے اور پھر مختلف انواع کے اربوں ملین افراد میں آپ سے آپ ٹھیک چلتا بھی رہ سکتا ہے۔ یہ چیز نہ صرف اپنی ابتداء کے لیے ایک صانع حکیم چاہتی ہے بلکہ ہر آن اپنے درست طریقہ پر چلتے رہنے کے لیے بھی ایک ناظم و مدبر اور ایک حیی وقیوم کی طالب ہے جو ایک لحظہ کے لیے بھی ان کارخانوں کی نگرانی و رہنمائی سے غافل نہ ہو۔ یہ حقائق ایک دہریئے کے انکارِخدا کی بھی اسی طرح جڑ کاٹ دیتے ہیں جس طرح ایک مشرک کے شرک کی۔ کون احمق یہ گمان کرسکتا ہے کہ خدائی کے اس کام میں کوئی فرشتہ یا جن یا نبی یا ولی ذرہ برابر بھی کوئی حصہ رکھتا ہے۔ اور کون صاحب عقل آدمی تعصب سے پاک ہو کر یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سارا کارخانہ خلق و اعادہ خلق اس کمال حکمت و نظم کے ساتھ اتفاقاً شروع ہوا اور آپ سے آپ چلے جارہا ہے۔ (تفہیم القرآن) اللہ تعالیٰ کی صفت رزاقی کی وضاحت اس آیت کریمہ میں دوسرا سوال یہ کیا گیا ہے کہ تمہیں آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے ؟ یہ سوال بظاہر بہت سادہ سا ہے لیکن حقیقت میں اس کا جواب نہایت مشکل ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا دسترخوانِ ربوبیت صرف زمین پر ہی بچھا ہوا نہیں ہے بلکہ اس کی وسعت سمندروں اور آسمانوں تک دراز ہے۔ اور پھر اس دسترخوان سے فیض یاب ہونے والی مخلوقات میں صرف انسان نہیں بلکہ حیوانات کی لاکھوں انواع اور نباتات کی لاکھوں اجناس شامل ہیں۔ ان غذائوں سے بہرہ ور ہونے والے حیوانات اور دیگر مخلوقات کے افراد اربوں سے بھی فزوں تر ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ ہر ایک کی غذائی ضروریات الگ الگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ تمام کی غذائی ضروریات کا اندازہ کرسکے اور ان میں باہمی جو فرق پایا جاتا ہے اس کا تعین ہوسکے۔ لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہر مخلوق کو اس کی ضرورت اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق نہ صرف غذا ملتی ہے بلکہ اس کی حفاظت کا سامان بھی ہوتا ہے۔ اور اس سے بھی مزید حیران کن بات یہ ہے کہ تمام مخلوقات کے غذائی انتظام میں زمین اور آسمان کی اتنی مختلف قوتیں مل کر کام کرتی ہیں کہ جن کا شمار مشکل ہے۔ اور ان قوتوں میں بظاہر تخالف کی نسبت پائی جاتی ہے لیکن یہ اپنا فرض انجام دینے میں کامل ہم آہنگی رکھتی ہیں۔ اگر کہیں ان کے توافق میں کمی آجائے یا کہیں تناسب کمزور پڑجائے تو غذا کا ایک ذرہ بھی وجود میں نہیں آسکتا۔ اسرائیلی روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر جب نبوت کی ذمہ داریاں تفویض کی جارہی تھیں اور فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا جارہا تھا تو آپ ( علیہ السلام) نے عرض کیا کہ پروردگار ! میں پیچھے درے میں اپنے اہل خانہ کو چھوڑ آیا ہوں۔ مجھے اجازت دی جائے کہ میں ان کی غذا اور سکونت کا کوئی انتظام کرلوں تو پھر عازم مصر ہوں گا۔ پروردگار نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ ہم تمہارے اہل خانہ کی ضرورتوں سے غافل ہیں۔ حکم دیا کہ جس چٹان پر کھڑے ہو اس پر اپنا عصاء مارو۔ چٹان ٹوٹی تو اس کے نیچے ایک چھوٹی چٹان نظر آئی۔ فرمایا کہ اس پر بھی ضرب لگائو۔ اس کے نیچے ایک بڑا پتھر دکھائی دیا۔ فرمایا اسے بھی توڑو۔ جب وہ پتھر ٹوٹا تو اس کے اندر ایک جانور نظر آیا جس کے منہ میں تازہ کھ اس کی پتی تھی اور وہ کھا رہا تھا۔ پروردگار نے فرمایا، موسیٰ یہ بھی ہماری مخلوق ہے، ہم تین پتھروں کے نیچے اسے دیکھتے اور اسے غذا مہیا کرتے ہیں۔ تو کیا تیرے اہل خانہ کی ضروریات کی ہم کفالت نہیں کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ رزق کا ایسا وسیع انتظام پروردگارِ عالم کی قدرت و حکمت کے سوا کسی اور کے بس میں کہاں۔ تم کس برتے پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو معبود بناتے ہو۔ آخر میں فرمایا کہ یہ چند سوالات ہیں جن کا ہر اس شخص کو جواب دینا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کے وجود کا انکار کرتا ہے۔ اور ان لوگوں کو بھی جواب دینا چاہیے جو ان صفات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔
Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

کہہ دیجیے، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ جب اٹھائے جائیں گے

قُلْ لاَّیَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلاَّ اللّٰہُ ط وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ۔ (النمل : 65) (کہہ دیجیے، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ ) علمِ غیب کی حقیقت گزشتہ آیات میں قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی توحید اور الوہیت پر دلائل دیتے ہوئے اس کی چند صفات کا ذکر فرمایا ہے۔ مثلاً یہ کہا گیا ہے کہ وہی ذات ہے جو آسمانوں اور زمین کی خالق ہے، جس نے آسمان سے پانی اتارا، جس نے زمین کو قوت روئیدگی بخشی اور جس نے خوش منظر اور خوش ذائقہ باغات پیدا کیے۔ جس نے اپنی بیشمار مخلوقات کے لیے زمین کو رہنے کے قابل بنایا، جس نے ان کے درمیان نہریں جاری کیں اور زمین کو ڈولنے سے بچانے کے لیے پہاڑوں کی میخیں گاڑیں۔ اور دو سمندروں کے درمیان میٹھے اور کھاری پانی کی دو روشیں جاری کیں اور دونوں کے درمیان غیرمرئی پردہ حائل کردیا۔ پھر وہی ہے جو محتاج کی دادرسی کرتا ہے، ہر پریشان حال کا دکھ دور کرتا ہے، زمین پر قوموں میں اکھاڑ بچھاڑ کرتا ہے اور ایک کو دوسرے کا جا نشین بناتا ہے اور وہی ذات ہے جس نے بروبحر کی تاریکیوں میں مخلوقات کی رہنمائی فرمائی۔ مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق، تدبیر، رزاقی اور ربوبیت اور اس کی صفت ہدایت کو بیان کرنے کے بعد اب اس کے علم محیط کو بیان کررہا ہے، کیونکہ ہر عقلمند آدمی یہ سمجھتا ہے کہ جو ذات ان صفات کے ساتھ موصوف ہے اور دنیا کا کارخانہ جس کی وجہ سے وجود میں آیا اور جس کی تدبیر سے رواں دواں ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ غیرمعمولی علم سے آراستہ نہ ہو۔ کیونکہ اگر وہ رزاق ہے تو جب تک اسے لاکھوں انواع میں بٹے ہوئے حیوانوں اور لاکھوں انواع میں پھیلی ہوئی بیلوں کے بارے میں علم نہیں ہوگا تو اس کی صفت ربوبیت کس طرح ان کے لیے مفید ہوسکتی ہے۔ وہ اگر پریشان حالوں کو سہارا دیتا اور ان کی مشکلات کو دور کرتا ہے تو اگر اسے انسانوں کے احساسات اور ان کی فعلی اور انفعالی صلاحیتوں اور ان کی قوت ادراک اور اس کی تاثیر و تأثر کی کیفیتوں اور اس کے دل و دماغ کی مناسبتوں کا کامل علم نہیں ہوگا تو وہ دل دہی اور دل جوئی کا سامان کیسے کرسکتا ہے، اور انسان کے دکھوں کا تدارک کیسے کرسکتا ہے۔ علیٰ ھذا القیاس اس کی ایک ایک صفت کو سامنے لایئے اور اس سے متعلق مخلوقات کا مراقبہ کیجیے اور پھر اس کی بیشمار انطباق کی شکلوں کا تصور کیجیے تو تب تھوڑا سا اندازہ ہوگا کہ جو ذات بھی اس طرح کی صفات کی مالک ہے وہ جب تک اس غیرمعمولی علم سے آراستہ نہ ہو جس سے تمام مخلوقات تہی دامن ہے اور پھر جس کے علم کی وسعتیں بےکراں نہ ہوں وہ ظاہر ہے کہ اپنی مخلوقات کی نہ ضرورتوں کو پورا کرسکتا ہے اور نہ ان کے لیے رحمت ثابت ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرک قوموں نے جب بھی کسی کو اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک کیا اور استمداد کے لیے ان کے سامنے ہاتھ پھیلایا تو انھوں نے ہمیشہ شریک کی جانے والی قوتوں کے بارے میں یہ یقین کیا کہ وہ علم کی ان تمام وسعتوں سے آراستہ ہیں جو باقی مخلوقات کی رسائی سے باہر ہیں۔ اس لیے پروردگار نے اپنی صفات کو ذکر کرنے کے بعد ضروری سمجھا کہ یہ بات بھی واضح کردی جائے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب کے علم کو نہیں جانتا۔ عالم الغیب اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ لیکن مشرک قومیں ہمیشہ اس میں ٹھوکر کھاتی رہی ہیں۔ اور امت مسلمہ جس پر توحید کا ایک ایک گوشہ واضح کردیا گیا ہے اس کے بعض افراد بھی افراط وتفریط میں مبتلا ہوئے بغیر نہیں رہے۔ اس لیے یہ بات جان لینی چاہیے کہ غیب اس علم کو کہتے ہیں جو حواس کی رسائی سے بالا تر ہو اور جسے قوت عقل سے حاصل نہ کیا جاسکے۔ اور علامہ آلوسی کی وضاحت کے مطابق جو کسی کے بتانے سے حاصل نہ ہو۔ جو علم کسی کے بتانے سے حاصل ہوگا چاہے بتانے والا پروردگار ہی کیوں نہ ہو اسے علم غیب نہیں کہا جاسکتا۔ ورنہ تو آج ہر حافظِ قرآن اور ہر عالم دین کو جزواً یا کُلاً عالم الغیب ماننا پڑے گا۔ اسی طرح اہل علم نے اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دوسری تمام صفات کی طرح اس کی یہ صفت بھی قدیم ہے، ذاتی ہے اور غیرمتناہی ہے۔ یعنی ایسا نہیں کہ وہ پہلے کسی چیز کو نہیں جانتا تھا اور اب جاننے لگا ہے بلکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ سے ہر چیز کو اس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی اس کی حین حیات میں بھی اور اس کے مرنے کے بعد بھی اپنے علم تفصیلی سے جانتا ہے۔ اور یہ علم اس کو کسی نے سکھایا نہیں بلکہ یہ علم اس کا ذاتی علم ہے۔ نیز اس کے علم کی نہ کوئی حد ہے نہ نہایت۔ اس لیے اہلسنّت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اولین و آخرین کا علم رکھنے کے باوجود آپ ﷺ کا علم اللہ تعالیٰ کے علم کی طرح قدیم نہیں بلکہ حادث ہے۔ آپ ﷺ کا علم ذاتی نہیں بلکہ عطائی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سکھانے سے حاصل ہوا۔ آپ ﷺ کا علم غیرمتناہی و غیرمحدود نہیں۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق آپ ﷺ کے علم کی نسبت اللہ تعالیٰ کے علم محیط کے ساتھ اتنی بھی نہیں جتنی پانی کے ایک قطرہ کو دنیا بھر کے سمندروں سے ہے۔ اسی بنیاد پر اسلام کا یہ بنیادی عقیدہ ٹھہرا کہ عالم الغیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اور جس قدر چاہے اپنی معلومات کا کوئی گوشہ کھول دے۔ اور کسی غیب یا بعض غیوب کو اس پر روشن کردے۔ لیکن علم غیب بحیثیتِ مجموعی کسی کو نصیب نہیں۔ اور عالم الغیب ہونے کی صفت صرف اللہ رب العالمین کے لیے مخصوص ہے۔ اس لیے فرمایا وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُھَا اِلاَّہُوَ ” اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، انھیں کوئی نہیں جانتا اس کے سوا۔ “ اور سورة لقمان آیت 34 میں ارشاد فرمایا ” کہ اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، اور وہی بارش نازل کرنے والا ہے اور وہی جانتا ہے کہ مائوں کے رحم میں کیا پرورش پا رہا ہے اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ وہ کیا کمائی کرے گا اور کسی متنفس کو خبر نہیں ہے کہ کس سرزمین میں اس کو موت آئے گی۔ “ قرآن کریم کی یہ تصریحات اس بات میں کسی قسم کا شک نہیں رہنے دیتیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو عالم الغیب سمجھنا اور یہ سمجھنا کہ کوئی دوسرا بھی جَمِیْعُ مَاکَانَ وَمَایَکُوْنُ کا علم رکھتا ہے، قطعاً ایک غیراسلامی عقیدہ ہے۔ بخاری اور مسلم اور تمام بڑی بڑی کتابوں نے صحیح سندوں کے ساتھ حضرت عائشہ ( رض) کا یہ قول نقل کیا ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے ” جس شخص نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ جانتے ہیں کہ کل کیا ہونے والا ہے، اس نے اللہ پر سخت جھوٹ کا الزام لگایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ! تم کہہ دو کہ غیب کا علم اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں میں سے کسی کو بھی نہیں ہے۔ “ ابن المنذر حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) کے مشہور شاگرد حضرت عکرمہ ( رض) سے ذکر کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا، یارسول اللہ ! قیامت کب آئے گی ؟ اور ہمارے علاقے میں قحط برپا ہے، بارش کب ہوگی ؟ اور میری بیوی حاملہ ہے، وہ لڑکا جنے گی یا لڑکی ؟ اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں نے آج کیا کمایا ہے لیکن یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کل میں کیا کمائوں گا۔ اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں کہاں پیدا ہوا ہوں، یہ فرمایئے میں کہاں مروں گا ؟ ان سوالات کے جواب میں آپ ﷺ نے سورة لقمان کی وہ آیت پڑھی جو اوپر گزر گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ باتوں کا علم کسی کو نہیں دیا۔ اسی طرح حدیث جبرائیل میں جب آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی ؟ تو آپ ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ میں پوچھنے والے سے زیادہ اس بارے میں کوئی علم نہیں رکھتا۔ یعنی نہ حضرت جبرائیل کو معلوم ہے کہ قیامت کب آئے گی اور نہ حضور ﷺ جانتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا علم جس کی کوئی انتہا نہیں وہ چونکہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے اس لیے اسے علم کہا جاتا ہے، علمِ غیب نہیں کہا جاتا۔ اسی طرح آپ ﷺ کا علم عطائی ہے، ذاتی نہیں۔ جزوی ہے کلی نہیں۔ حادث ہے قدیم نہیں۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ علم دیا گیا ہے اور قیامت میں مزید دیا جائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں آپ ﷺ کا علم اتنا بھی نہیں جتنا سوئی کے ناکے کو سمندر میں ڈبونے کے بعد پانی ناکے میں لگارہ جاتا ہے۔ جو لوگ آنحضرت ﷺ کے علم کو عام لوگوں کے علم کی حدود میں محدود کرتے ہیں وہ گستاخی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور جو آپ ﷺ کے علم کو لامحدود بتاتے ہیں، وہ شرک کی وادی میں داخل ہوجاتے ہیں کیونکہ لامحدود علم صرف اللہ تعالیٰ کا علم ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 27:66

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ گم ہوگیا ہے ان کا علم آخرت کے بارے میں، بلکہ وہ اس کے بارے میں شک میں ہیں، بلکہ وہ اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں

بَلِ ادّٰرَکَ عِلْمُہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ قف بَلْ ھُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْھَا قف ز بَلْ ھُمْ مِّنْھَا عَمُوْنَ ۔ (النمل : 66) (بلکہ گم ہوگیا ہے ان کا علم آخرت کے بارے میں، بلکہ وہ اس کے بارے میں شک میں ہیں، بلکہ وہ اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں۔ ) اِدّٰرَکَ کی تحقیق اِدّٰرَکَ … اصل تَدٰرَکَہے۔ تا کو دال میں ادغام کیا اور ہمزہ کو بڑھا دیا تاکہ ساکن سے ابتداء نہ ہو۔ جس طرح تَثَاقَلَسے اِثَّاقَلَ بن گیا۔ امام فخرالدین رازی اس کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس کا معنی انتہا کو پہنچنا، فنا ہوجانا ہے۔ جب پھل پک جاتا ہے اور توڑنے کے قابل ہوجاتا ہے تو عرب کہتے ہیں ادرکت الثمرۃ ” پھل نے اپنی پختگی کی نہایت کو پا لیا۔ “ ایسی صورت میں دو کیفیتیں پیدا ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ درخت پر پھل جب اپنی پختگی کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو گھنا ہو کر ایک دوسرے سے مل جاتا ہے۔ اس سے اہل لغت نے یہ سمجھا کہ اس سے اختلاط اور گڈمڈ ہونے کا مفہوم پیدا ہوگیا ہے اور دوسری کیفیت یہ پیدا ہوتی ہے کہ پھل پک جانے کے بعد توڑ دیا جاتا ہے۔ پھر وہ اپنی شاخ پر لٹکتا ہوا نظر نہیں آتا۔ تو اس سے بعض اہل لغت کے نزدیک گم ہوجانے کا معنی پیدا ہوگیا۔ اس طرح سے آیت کے پہلے جملے کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ آخرت کے باب میں ان کا علم الجھا ہوا ہے۔ اور اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ ان کا علم آخرت کے متعلق گم ہوگیا ہے۔ اس لیے حضرت حسن ( رض) سے اس لفظ کا یہ مفہوم منقول ہے اضمحل علمھم یعنی قیامت کے متعلق ان کا علم مضمحل ہوگیا۔ یعنی وقوع قیامت پر انھیں یقین ہی نہ رہا۔ علامہ قرطبی نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا بل ضل وغاب علمھم فی الاخرۃ فلیس لھم فیھا علم یعنی قیامت پر انھیں پختہ یقین ہے۔ دل ہی دل میں اس کے وقوع کو مانتے ہیں لیکن ہٹ دھرمی اور تعصب کے باعث اقرار کی جرأت نہیں کرسکتے۔ مشرکین کی اصل بیماری الوہیت پر نہایت واضح دلائل قائم کرنے کے بعد مشرکین کے یکسو نہ ہونے کی وجہ بیان کی جارہی ہے، کہ اتنے مضبوط دلائل سے بھی ان کا شرک سے تائب نہ ہونا اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بارے میں یکسو نہ ہونا اس بناء پر ہے کہ وہ آخرت کے بارے میں شدید خلجان میں مبتلا ہیں۔ بنیادی طور پر یہ لوگ خواہشات کے پرستار ہیں۔ ہَوائے نفس کو اپنا معبود بنا چکے ہیں۔ دنیا کی محبت نے انھیں کسی بڑے فیصلے کے قابل نہیں چھوڑا۔ خواہشات کا اتباع چونکہ ان کی زندگی کا معمول بن گیا ہے اور آخرت پر یقین کرلینے سے ان کا یہ معمول باقی نہیں رہ سکتا۔ پھر انھیں ماننا پڑے گا کہ وہ خود رو پودوں کی طرح پیدا نہیں ہوئے کہ مل دل کے ختم ہوجائیں بلکہ ان کی زندگی کا ایک مقصد ہے۔ اور اسی مقصدیت کے حوالے سے ان سے ان کی زندگی کا حساب مانگا جائے گا۔ انھیں اپنے ایک ایک پل اور ایک ایک عمل کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ یہ بات چونکہ ان کے طرزِزندگی سے میل نہیں کھاتی، اس لیے وقوع قیامت کے بارے میں غیرسنجیدگی بلکہ خلجان کا شکار ہوگئے ہیں۔ کائنات اور خود اپنی زندگی کے حقیقی مسائل کے بارے میں انھوں نے کبھی سنجیدگی سے سوچنے کی زحمت نہیں کی۔ انھیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ ان کے فلسفہ حیات اور زندگی کے حقائق کے درمیان کوئی مطابقت ہے یا نہیں۔ چونکہ دلائل کا سامنا نہیں کرسکتے اس لیے کھل کر قیامت کا انکار نہیں کرتے۔ خواہشاتِ نفس سے آزادی کا حوصلہ نہیں اس لیے قیامت کا یقین نہیں کرسکتے۔ اس طرح سے وہ قیامت کے علم کے بارے میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علم کا سررشتہ ان کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ہے۔ اسی الجھائو کا نتیجہ ہے کہ انھوں نے مستقبل سے آنکھیں بند کرلی ہیں۔ خواہشاتِ نفس کی پیروی میں اندھوں کی طرح چلنا اپنا معمول بنا لیا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ جب کبھی انھیں یہ خیال ہوتا ہے کہ ممکن ہے قیامت برپا ہو ہی جائے تو پھر شفاعت کا غلط عقیدہ ان کا سہارا بن جاتا ہے کہ اگر واقعی قیامت آگئی تو یہ ہمارے دیوی دیوتا اور یا جن قوتوں کے بارے میں ہمیں یقین ہے کہ وہ ہماری سفارش کرسکتی ہیں وہ ہماری سفارش کرکے ہمیں اللہ تعالیٰ سے چھڑا لیں گی، اس لیے ہمیں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔
Ayahs 27:67–68

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے کہ کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم دوبارہ نکالے جائیں گے ؟

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

اس کی دھمکی ہمیں بھی دی گئی اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادا کو بھی، یہ محض اگلوں کے افسانے ہیں

وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا ئَ اِذَا کُنَّا تُرٰبـًا وَّ اٰبـَـآؤُنَـآ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْن۔ َ لَقَدْ وُعِدْنَا ھٰذَا نَحْنُ وَاٰبـَـآؤُنَا مِنْ قَبْلُ لا اِنْ ھٰذَٓا اِلَّآ اَسَاطِیْرُالْاَوَّلِیْنَ ۔ (النمل : 67، 68) (اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے کہ کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم دوبارہ نکالے جائیں گے ؟ اس کی دھمکی ہمیں بھی دی گئی اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادا کو بھی، یہ محض اگلوں کے افسانے ہیں۔ ) آخرت سے متعلق کفار کا رویہ اس سے پہلے کی آیت میں یہ بات واضح کی جا چکی ہے کہ کفار کے غیرسنجیدہ رویئے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت سے گریزوفرار اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بےنیازی اور لاپرواہی کا سبب اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ وہ آخرت کے بارے میں یکسو نہ تھے۔ کبھی یکسر اس کا انکار کردیتے، کبھی اقرار کرتے تو محض ایک وہمی آدمی کی طرح جو کسی بات کا اقرار بھی کرتا ہے تو اس کی زندگی کے اعمال پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اور ان کی اس غیرسنجیدہ روش نے انھیں دلائلِ آفاق اور دلائلِ انفس سے بالکل اندھا بنا کے رکھ دیا تھا۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کے اسی غیرسنجیدہ رویئے کی وضاحت کرتے ہوئے پروردگار فرما رہے ہیں کہ یہ کافر لوگ وقوع قیامت میں شک کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد ہمیں مٹی میں دفن کردیا جائے گا اور ایک مدت کے بعد زمین کی مٹی اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ہمارے جسموں کو کھاجائے گی۔ ہماری ہڈیاں تک بوسیدہ ہو کر مٹی میں شامل ہوجائیں گی۔ حتیٰ کہ ایک وقت آئے گا کہ کسی کو اندازہ بھی نہیں ہوسکے گا کہ یہاں کسی شخص کو دفن کیا گیا تھا۔ تو کیا اس وقت ہمیں اور ہمارے آبائواجداد کو مٹی سے نکالا جائے گا۔ یعنی کس قدر یہ بات بعیدازعقل ہے کہ ہمارا جسم فنا ہوگیا، ہماری ہڈیاں تک گل سڑ گئیں، ہمارا وجود مٹ گیا اور ہمارے باپ دادا ہم سے پہلے اس انجام کو پہنچ چکے۔ یہ معروضی حالات کی شہادت ہے جو ہمیں آپ کی اس بات کو قبول کرنے سے مانع ہے۔ قیامت کا چرچا نیا نہیں دوسری آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے بارے میں جو کچھ آپ ﷺ ہم سے کہہ رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں، ہم قیامت کی آمد کا چرچا بہت دنوں سے سن رہے ہیں۔ جس طرح آج ہمیں اس سے ڈرایا جارہا ہے، ہمارے آبائواجداد کو بھی اسی طرح اس سے ڈرایا گیا، لیکن قیامت کو نہ آنا تھا، نہ آئی۔ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ قیامت کے وقوع پذیر ہونے کے دعوے محض افسانے ہیں جو ہر زمانے میں دہرائے گئے ہیں۔ اور سچی بات یہ ہے کہ ان کی کوئی حقیقت معلوم نہیں ہوتی۔ غالب نے جنت کے بارے میں شک و شبہ کا اظہار کرتے ہوئے اسے دل بہلاوا قرار دیا تھا۔ ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
Ayah 27:69

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

اے پیغمبر ! ان سے کہئے، ذرا زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوچکا ہے

عرب کے منکرین قیامت بھی اسے ڈراوے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ پروردگار نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْاکَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (النمل : 69) (اے پیغمبر ! ان سے کہئے، ذرا زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوچکا ہے۔ ) عذاب کا ثبوت تاریخ کی روشنی میں قریش نے وقوع قیامت کو بعیدازعقل قرار دیا اور قیامت کی خبر کو ڈراوا ٹھہرایا۔ چناچہ ان کی دونوں باتوں کا جواب دیتے ہوئے پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ جہاں تک اس کے بعیدازعقل ہونے کا تعلق ہے اس کا جواب تو تمہاری نظروں اور عقلوں کے سامنے ہے۔ تم عادوثمود اور قوم لوط کی بستیوں سے گزرتے ہو۔ ان کا ایک ایک کھنڈر اور ایک ایک منظر اپنی زبان سے بول رہا ہے کہ وہ کتنے بڑے عذاب کا شکار ہوچکے ہیں۔ اور یہ عذاب ان پر صرف اس لیے آیا کہ وہ انکار وتمرد، فسق و فجور اور ظلم و ستم کی انتہا کو پہنچ گئے تھے۔ جو شخص ان کی بستیوں کی رونق اور وہاں کے رہنے والوں کی مستیوں کو دیکھتا تو وہ کبھی تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ یہاں چند دنوں کے بعد موت کا بسیرا ہوگا۔ انھیں بار بار اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا گیا، لیکن انھوں نے محض اسے ایک مذاق اور ڈراوا سمجھا اور اس کے وقوع کو بعیدازعقل قرار دیا۔ اور آج ان کے کھنڈرات ان کا ماتم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ معذب قوموں کے عذاب سے استدلال دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ معذب قوموں کا انجام کیا اس بات پر دلالت نہیں کررہا کہ یہ کائنات بےشعور طاقتوں کی اندھی بہری فرمانروائی نہیں ہے بلکہ یہ ایک حکیمانہ نظام ہے جس کے اندر ایک اٹل قانونِ مکافات کام کررہا ہے۔ چونکہ اصل دارالجزاء قیامت کے دن کو ٹھہرایا گیا ہے اس لیے دنیا میں اللہ تعالیٰ کا قانونِ مکافات نہ جلدی حرکت میں آتا ہے اور نہ مکمل طور پر نافذ کیا جاتا ہے۔ اس لیے وہ بار بار سنبھلنے کا موقع دیتا ہے۔ جو شخص یا جو قوم بدکرداری کے راستے پر چل نکلتی ہے اسے ایک خاص حد تک برداشت کیا جاتا ہے۔ لیکن اسے بالکل کھلی چھٹی نہیں دے دی جاتی۔ اللہ تعالیٰ کا ایک اپنا پیمانہ ہے جب وہ چھلک جاتا ہے تو بدکردار اور ظالم قومیں یہاں بھی پکڑی جاتی ہیں۔ لیکن اس گرفت سے پہلے ان کے پیدا کردہ فساد نے جن لوگوں کو نشانہ بنایا ہوتا ہے اور وہ اسی طرح دنیا سے چلے جاتے ہیں، ان پر ہونے والے مظالم تقاضا کرتے ہیں کہ فسق و فجور اور ظلم کا پیمانہ بھرنے سے پہلے پہلے جو لوگ دنیا سے جا چکے ہیں انھیں بھی قانونِ مکافات کے تحت گرفت میں آنا چاہیے۔ چناچہ اس حقیقت کا تقاضا یہ ہے کہ قیامت وقوع پذیر ہو، اور وہ پوری طرح قانونِ مکافات کو عملی جامہ پہنائے۔ تاکہ ہر مظلوم کو اس پر کیے جانے والے ظلم کا بدلہ ملے۔ اور ہر ظالم اپنے ظلم کی پاداش میں پکڑا جائے۔ فسق و فجور کا سبب آخرت سے انکار ہے اس آیت کریمہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسان اپنی زندگی میں حقائق سے جس طرح گریزوفرار کا راستہ اختیار کرتا ہے اور فسق و فجور اور ظلم و ستم میں بڑھتا چلا جاتا ہے اس کا بنیادی سبب آخرت کا انکار ہے۔ کیونکہ اس آیت کریمہ میں قرآن کریم نے جن معذب قوموں کی طرف اشارہ کیا ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ان کے انجام پر غور کرو اور ان پر آنے والے عذاب کی علت تلاش کرو۔ تو اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ان قوموں پر عذاب لائے جانے کی علت ان کی گمراہیاں اور بدکرداریاں تھیں اور ان کی بدکرداریوں کے پیدا ہونے اور پھر بیش از بیش بڑھتے چلے جانے کا سبب صرف یہ تھا کہ وہ کسی آنے والے دن کو جسے دارالجزاء قرار دیا جائے اور جس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کرنا پڑے اور جس میں آدمی کے اعمال کا حساب کتاب ہو، ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ چناچہ اسی انکارِآخرت نے انھیں غلط راستے پر ڈالا اور اسی پر بڑھتے چلے جانے کا حوصلہ دیا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر انسانوں کو اپنے رویئے کی اصلاح کرنا ہے اور اپنے حالات کو درست کرنے کی فکر ہے تو اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ قیامت کی حقیقت کو تسلیم کیا جائے اور اس کے آنے کا یقین پیدا کیا جائے۔ کیونکہ اسی یقین کی وجہ سے انسانی زندگی ٹھیک ڈگر پر چلتی ہے اور اس سے انکار یا اس میں شک و شبہ انسانی زندگی کی گاڑی کو پٹڑی سے اتار دیتا ہے۔
Ayah 27:70

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ! ان کے حال پر غم نہ کیجیے، اور نہ تنگی میں پڑیئے ان کی چالوں سے جو وہ چل رہے ہیں

وَلاَ تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ وَلاَ تَـکُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ ۔ (النمل : 70) (اور اے پیغمبر ! ان کے حال پر غم نہ کیجیے، اور نہ تنگی میں پڑیئے ان کی چالوں سے جو وہ چل رہے ہیں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی آنحضرت ﷺ کو دو حوالوں سے تسلی دی جارہی ہے۔ پہلا حوالہ یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ کافر اور مشرک لوگ آپ ﷺ کی دعوت کے انکار بلکہ عناد میں بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ آپ ﷺ کی شب و روز کی کوششوں سے بجائے اس کے کہ ان میں کوئی صالح تبدیلی آتی، ان کی ضد اور مخالفت میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ آپ ﷺ کی تمام تر ہمدردیاں اور غمگساریاں ان سنگدلوں میں نرمی کا باعث ثابت نہیں ہو رہیں۔ یہ صورتحال آپ ﷺ کے لیے انتہائی تشویش اور اذیت کا باعث بن رہی ہے۔ آپ ﷺ جانتے ہیں کہ ان کی یہ روش دنیا میں کسی ابتلاء اور آخرت میں جہنم کے عذاب کا باعث بن کے رہے گی۔ چناچہ ان کے انجام کی فکر آپ ﷺ کی تشویش اور پریشانی میں اضافہ کرتی چلی جارہی ہے۔ تباہی کی طرف وہ بڑھ رہے ہیں لیکن اس کا غم آپ ﷺ کو کھائے جارہا ہے۔ اس پر آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ آپ ان کی روش پر غم نہ کھائیں۔ وہ اگر محرومی اور بدبختی کو اختیار کرچکے ہیں تو اس کی آپ پر کیا ذمہ داری ہے۔ آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے۔ آپ اپنا فرض انجام دے چکے۔ ہٹ دھرمی کا علاج آج تک کسی کے پاس نہیں رہا۔ تسلی کا دوسرا حوالہ یہ ہے کہ مخالفین آپ ﷺ کے بارے میں جو منصوبے باندھتے رہتے ہیں اور جس طرح آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے درپے آزار رہتے ہیں اور ہر آنے والا دن ان کی مخالفت اور معاندت میں اضافہ کرتا چلا جارہا ہے، آپ ان کی شرارتوں اور چالوں سے ہرگز پریشان نہ ہوں۔ یہ جو کچھ بھی کرنا چاہتے ہیں ان میں سے کوئی بات بھی اللہ تعالیٰ کے اختیارات سے باہر نہیں۔ ان کی ہر چال اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں ہے۔ اس کی پشت پناہی آپ کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ وہ یقینا اس بات پر قادر ہے کہ آپ کو ان کے ہر شر سے محفوظ رکھے۔ ایسے مضبوط سہارے کی موجودگی میں آپ کو رنجیدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ اور ان کی منصوبہ بندیاں اور چال بازیاں بجائے اس کے کہ ان کے سیاہ نامہ عمل میں اضافے کا سبب بنیں، آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔
Ayahs 27:71–72

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ یہ دھمکی کب ظہور میں آئے گی، اگر آپ سچے ہیں

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

کہہ دیجیے، ممکن ہے کہ جس چیز کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو اس کا کوئی حصہ تمہارے پیچھے ہی لگا ہوا ہو

وَیَـقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْـتُمْ صٰدِقِیْن۔ َ قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّـکُوْنَ رَدِفَ لَـکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ ۔ (النمل : 71، 72) (وہ کہتے ہیں کہ یہ دھمکی کب ظہور میں آئے گی، اگر آپ سچے ہیں۔ کہہ دیجیے، ممکن ہے کہ جس چیز کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو اس کا کوئی حصہ تمہارے پیچھے ہی لگا ہوا ہو۔ ) یَـکُوْنَ اور رَدِفَدونوں فعل ہیں اور ان کا فاعل ” بعض “ ہے۔ تنازع فعلین کی وجہ سے ایک کا فاعل اسم ظاہر ہوگا اور دوسرے کا اسم ضمیر، جس کا مرجع وہ اسم ظاہر ہوگا۔ رَدِفَ بغیر صلہ کے بھی آتا ہے اور لام کے صلہ کے ساتھ بھی آتا ہے۔ کلام عرب میں دونوں کی نظیریں ملتی ہیں۔ اس کے معنی ہیں ایک شے کے دوسری شے کے پیچھے لگے ہوئے ہونے کے۔ مکذبین کے مطالبے کا جواب اللہ تعالیٰ کا جو رسول بھی کسی قوم کی طرف مبعوث ہوا ہے وہ اپنی قوم کی اصلاح کے لیے اپنی لسانی، عملی اور ترغیبی قوتوں کو ہر ممکن طریقے سے بروئے کار لانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا رسول جب مسلسل اپنی دعوت و تبلیغ کو خاطرخواہ نتائج پیدا کرتا نہیں دیکھتا تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے دنیا میں اچانک عذاب کی آمد اور قیامت میں آخرت کے عذاب سے ڈراتا ہے۔ کبھی معذب قوموں کی تاریخ سے عذاب کی تباہ ناکیوں کو متشکل کرکے ان کے اندر اضطراب پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور کبھی دلائل آفاق وانفس سے قیامت کا یقین پیدا کرنے کی سعی کرتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی میں تبدیلی کرنے پر آمادہ ہوجائے، لیکن قوموں کا رویہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ بجائے اس سے اثر قبول کرنے کے عذاب اور قیامت کو ایک سوالیہ نشان بنا لیتے ہیں۔ بجائے اس سے ڈرنے اور فکرمند ہونے کے اسی کی آمد کو رسول کی رسالت کی دلیل قرار دے دیتے ہیں۔ اور بار بار مطالبہ کرتے ہیں کہ تم یہ کہتے ہو رسولوں کی تکذیب پر پہلی قوموں پر عذاب آتا رہا ہے، تو ہم تکذیب تو کرچکے، اب عذاب آنے میں کیا دیر ہے۔ تم جو بار بار ہمیں کبھی عذاب اور کبھی قیامت کی دھمکی دیتے ہو، تو اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو یہ دھمکی پوری کرکے کیوں نہیں دکھاتے۔ پروردگار نے دوسری آیت میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تم جس چیز کی جلدی مچا رہے ہو، یعنی بار بار کبھی قیامت کا اور کبھی عذاب کا مطالبہ کرنے لگتے ہو۔ اسی قیامت کی ایک ہلکی سی شکل اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے، اسی کو ” بعض “ کے لفظ سے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا کہ ممکن ہے وہ عذاب تمہارے قریب آ لگا ہو، یعنی سر پر پہنچ گیا ہو۔ عَسٰٓی کے معنی کی وضاحت عَسٰٓیکا لفظ تمنی، ترجی اور امید دلانے کے لیے آتا ہے۔ عموماً اس کا ترجمہ کیا عجب، ممکن ہے یا شاید کے لفظ سے کیا جاتا ہے۔ اور یہ تمام الفاظ شک پر دلالت کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے کسی فیصلے میں شک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ جب قرآن کریم میں عَسٰٓی کا لفظ آتا ہے تو شک کے لیے نہیں بلکہ یقین اور جزم کا فائدہ دیتا ہے۔ یہ دراصل شاہانہ اندازِ کلام ہے۔ امام بیضاوی فرماتے ہیں کہ بادشاہ رمز و کنایہ سے ہی اپنے ارادہ کا اظہار کیا کرتے ہیں۔ تصریح کی انھیں چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ کوئی آدمی کہہ سکتا ہے کہ پھر اس طرح کے الفاظ کا استعمال جو شک پر دلالت کرتے ہیں پروردگار کے کلام میں آخر کیا ہی کیوں جاتا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ ایسے الفاظ کے استعمال سے اللہ تعالیٰ کی شان بےنیازی کا اظہار ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس کی قدرت ایسی غالب ہے کہ اس کا کسی چیز کو چاہنا اور پھر اس چیز کا ہوجانا گویا ایک ہی بات ہے۔ کیونکہ اس کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کوئی کام کرنا چاہے اور وہ نہ ہوسکے۔ اور دوسری بات یہ بھی کہی جاسکتی ہے کہ جہاں تک عذاب کے نزول کا تعلق ہے اس کا ایک سرا اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے بندھا ہوا ہے، اور جس کے وقوع میں کوئی شبہ نہیں۔ لیکن دوسرا سرا قوم کے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ ایمان لے آئے تو وہ عذاب سے محفوظ ہوسکتی ہے۔ اور اگر تکذیبِ رسل میں بڑھتی چلی جائے حتیٰ کہ پیغمبر اور اصحابِ ایمان کے قتل کے درپے ہوجائے تو پھر عذاب کا ظہور ہو کے رہتا ہے۔ عَسٰٓی کا استعمال درحقیقت قوم کے رویئے کے حوالے سے ہے، اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے حوالے سے نہیں۔ گزشتہ معذب قوموں نے اپنی روش نہ بدلی تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا ظہور ہو کے رہا۔ اور آنحضرت ﷺ کی قوم کی اکثریت ایمان لے آئی، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پیغمبر کی ہجرت جو درحقیقت عذاب کا اعلان ہوتی ہے، آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے بعد بھی اہل مکہ میں دھیرے دھیرے قبولیتِ اسلام کی اندر ہی اندر تحریک چلتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ معاہدہ حدیبیہ کے بعد چند ہی مہینے میں تقریباً 70 افراد ساحل سمندر پر جمع ہوگئے، کیونکہ معاہدے کی رو سے وہ مدینہ منورہ میں آ نہیں سکتے تھے۔ اور یہ سب وہ لوگ تھے جو آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے بعد درپردہ مکہ میں مسلمان ہوئے تھے۔ اب جبکہ انھیں ساحل سمندر پر ایک پناہ گاہ میسر آئی تو وہ خاموشی سے چھپتے ہوئے وہاں پہنچ گئے
Ayah 27:73

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا رب لوگوں پر بڑے فضل والا ہے، مگر ان میں کے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

وَاِنَّ رَبَّکَ لَذُوْفَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَ یَشْکُرُوْنَ ۔ (النمل : 73) (اور بیشک آپ کا رب لوگوں پر بڑے فضل والا ہے، مگر ان میں کے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ ) مخالفین کی بدنصیبی اللہ تعالیٰ کی وسعت کا کیا ٹھکانہ ہے کہ اس کا فضل و کرم صرف اپنے فرمانبردار اور شکرگزار بندوں پر ہی نہیں بلکہ کافروں، منکروں اور نافرمانوں پر بھی اس کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔ جو لوگ اپنی نافرمانی، تمرد اور سرکشی کے باعث اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق ہوجاتے ہیں بلکہ ان کی سرکشی یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ عذاب کے لیے جلدی مچانے لگتے ہیں۔ اور عذاب میں تاخیر کو اپنے برسرحق ہونے پر اور پیغمبر کے برسرغلط ہونے پر دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں حالانکہ عذاب میں تاخیر صرف اس لیے ہوتی ہے کہ لوگ اگر سنبھلنا چاہیں اور اپنا رویہ درست کرنا چاہیں تو انھیں اس کا موقع ملنا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ عذر پیش نہ کرسکیں کہ ہمیں تو کسی نے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ لیکن لوگوں کی ناشکری کا حال یہ ہے کہ وہ اس مہلت اور اس فضل کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے جھوٹے ہونے کی دلیل بنا لیتے ہیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ جس دروازے سے انھیں رحمت لے کر پلٹنا تھا وہاں سے وہ اللہ تعالیٰ کا غضب لے کر لوٹتے ہیں۔
Ayahs 27:74–75

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ کا رب خوب جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمان و زمین میں کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح رجسٹر میں لکھی ہوئی نہ ہو

وَاِنَّ رَبَّکَ لَیَعْلَمُ مَا تُـکِنُّ صُدُوْرُھُمْ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ۔ وَمَا مِنْ غَـآئِبَۃٍ فِی السَّمَـآئِ وَالْاَرْضِ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ۔ (النمل : 74، 75) (اور بلاشبہ آپ کا رب خوب جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔ اور آسمان و زمین میں کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح رجسٹر میں لکھی ہوئی نہ ہو۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مخالفین کو انذار مخالفین کی بڑھتی ہوئی مخاصمت چونکہ روز بروز منہ زور ہوتی جارہی تھی اس لیے آنحضرت ﷺ کا ان کی مخالفت کے حوالے سے پریشان ہونا فطری بات تھی۔ اور اس مخالفت کا جس طرح آپ ﷺ کے وفاشعار ساتھیوں کو نشانہ بنایا جارہا تھا اس سے بھی آپ ﷺ کی تشویش میں اضافہ ہورہا تھا۔ پروردگار نے ایسی ناگفتہ بہ صورتحال میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ آپ ﷺ کے دشمن جو کچھ کررہے ہیں جس میں ان کی دریدہ دہنی بھی شامل ہے اور ان کی جسمانی اذیت رسانی بھی۔ آپ ﷺ جب ان چیزوں کو دیکھتے ہیں یا آپ ﷺ کے علم میں آتی ہیں تو آپ ﷺ ان چیزوں میں شدت دیکھتے ہوئے شدید کرب محسوس کرتے ہیں، لیکن ہم آپ ﷺ کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ آپ نے تو ان کی صرف نظر آنے والے مخالفت کو دیکھا ہے اور ان کے منہ سے نفرت کے پھوٹتے ہوئے شعلے دیکھے ہیں اور اس نے آپ کو نہایت تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ لیکن ہم ان کے اس بغض و اضطراب کو بھی جانتے ہیں جن کے طوفان وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور وہ اس کے اظہار کے لیے مناسب وقت کے انتظار میں ہیں، آپ کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ جبکہ کوئی چیز ان کی ہم سے مخفی نہیں اور ان کا کوئی منصوبہ ہم سے پوشیدہ نہیں وہ آپ کو جس سے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ہم ان کے ارادوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اور ہمارا یہ بتانا کہ ہم دشمن کی ہر بات سے آگاہ ہیں اس کا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنی معلومات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم ان باتوں سے واقف ہیں تو ہم ان کا تدارک بھی کریں گے۔ آپ ہمارے رسول ہیں، ہم نے رسالت کی ذمہ داری آپ پر ڈالی ہے۔ تو آپ کی حفاظت اور دشمنوں کی اذیت رسانی سے آپ کو بچانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ اس لیے آپ کو ہر طرح سے اطمینان رکھنا چاہیے کہ دشمن آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ دوسری آیت کریمہ میں مخالفین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ آسمان و زمین کی ہر مخفی بات ہمارے یہاں ایک واضح کتاب میں درج ہے۔ اور یہ نوشتہ اس لیے تیار کیا جارہا ہے کہ کل کو قیامت کے دن جب تمہیں ہماری بارگاہ میں لایا جائے اور تم سے پوچھ گچھ کے بعد تمہاری سزا کا اعلان کیا جائے تو تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمیں ایسے کرتوتوں کی سزا دی جارہی ہے جن کا ہم نے ارتکاب نہیں کیا۔ یہ کتاب مبین تمہارے ایک ایک عمل پر گواہی دے گی۔ بلکہ یہ نامہ عمل جس کے ہاتھ میں بھی دیا جائے گا وہ اسے دیکھتے ہی چیخ اٹھے گا۔ مَالِھٰذَا الْکِتَابِ لاَ یُغَادِرُ صَغَیْرَۃً وَّلاَ کَبِیْرَۃَ اِلاَّ اَحْصٰھَا ” یہ کیسا نامہ عمل ہے جس میں نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑی گئی ہے، نہ بڑی۔ اس نے ہر بات کو شمار کردیا ہے۔ “ وہ قیامت کے روز ہر چیز کا نوٹس لے گا اور کوئی بات اس سے چھپائے بھی نہ چھپ سکے گی۔
Ayahs 27:76–78

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر ان بہت سی چیزوں کو بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور یہ (قرآن) ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

بیشک آپ کا رب ان لوگوں کے درمیان بھی اپنے حکم سے فیصلہ کردے گا اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے

اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اَکْثَرَالَّذِیْ ھُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْن۔ وَاِنَّـہٗ لَھُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ اِنَّ رَبَّکَ یَقْضِیْ بَیْنَھُمْ بِحُکْمِہٖ ج وَھُوَالْعَزِیْزُالْعَلِیْمُ ۔ (النمل : 76 تا 78) (بےشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر ان بہت سی چیزوں کو بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں۔ اور یہ (قرآن) ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔ بیشک آپ کا رب ان لوگوں کے درمیان بھی اپنے حکم سے فیصلہ کردے گا اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ ) ترہیب کے بعد ترغیب قریش اور دیگر مخالفین کو گزشتہ آیت کریمہ میں مخالفت سے روکنے اور پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تنبیہ اور تہدید کی گئی ہے کہ وہ جو کچھ آنحضرت ﷺ کے خلاف کررہے ہیں انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور اپنے علم کے مطابق ان سے معاملہ فرمائے گا اور ان کی مخالفتوں کی سزا دے گا۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں تخویف و تہدید کے بعد ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ تم جس قرآن کریم کی دعوت کی مخالفت کررہے ہو، تمہیں کچھ معلوم بھی ہے کہ اس کی علو مرتبت اور بلندیِ منزلت کا عالم یہ ہے کہ وہ جس طرح بنی اسماعیل پر اتمامِ حجت اور ہدایت و رہنمائی کے لیے نازل کیا گیا ہے اسی طرح وہ بنی اسرائیل پر بھی حجت تمام کررہا ہے حالانکہ اس کتاب کو ایک ایسے امی پر نازل کیا گیا ہے جس کی ذات بابرکات، جس کا ماحول اور جس کی قوم متداول علوم سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ باایں ہمہ اس نے بنی اسرائیل کی اس طرح رہنمائی کی ہے کہ انھوں نے عقائد و احکام، تاریخی محاکمات اور آداب زندگی میں جہاں جہاں ٹھوکریں کھائیں اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں تحریف و ترمیم سے کام لیا قرآن ان کی اصلاح کرتا ہے۔ ان کی بہت ساری خیانتوں پر گرفت کرتا اور بہت سی باتوں کو نظرانداز کردیتا ہے۔ تورات کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس میں صرف تحریف ہی نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ متناقض روایات کا مجموعہ بھی ہے۔ اس سے یہ پتہ چلانا ناممکن ہے کہ اس میں کتنا حصہ حق ہے اور کتنا باطل و محرف۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں جس طرح تورات کو حافظے کی مدد اور سنی سنائی باتوں سے ازسرنو مدون کیا گیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تورات کی حقیقت ہی گم نہیں ہوئی بلکہ اسے ایک طرح سے مسخ کردیا گیا۔ قرآن کریم نے جابجا ان کی اس طرح رہنمائی کی کہ ان کے سامنے حق و باطل کو واضح کرکے پیش کردیا گیا۔ دفع دخل مقدر ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ یہ سورت مکی ہے اس میں خطاب قریش سے ہے، انھیں کی باتوں کا جواب ہے اور انھیں کے اعمال پر تنقید بھی ہے۔ ایسی صورتحال میں یہود کا ذکر عجیب سا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ہم نے جس طرح اس آیت کی وضاحت کی ہے اگر اس میں غور کرلیا جائے تو یہ اعتراض ختم ہوجاتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے ابتدائی دور میں یہود صرف دور کے تماشائی تھے۔ لیکن جیسے جیسے اس دعوت کے قدم جمتے گئے یہود بھی آہستہ آہستہ مخالفت میں شریک ہوتے گئے۔ حتیٰ کہ بعض دفعہ وہ آنحضرت ﷺ کو پریشان کرنے کے لیے قریش کو سوالات سکھاتے۔ اور ان کا خیال یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ جب ان سوالات کا جواب نہیں دے پائیں گے تو قریش خود ہی بدگمان ہوجائیں گے۔ اس طرح سے وہ طریقے طریقے سے آنحضرت و کی دعوت کی مخالفت میں آگے بڑھتے گئے۔ تو پھر قرآن کریم نے بھی ان سے تعرض کرنا شروع کردیا۔ اور پھر حالات کے تقاضے کے مطابق رفتہ رفتہ ان کے ان اختلافات کا عقدہ بھی کھولا جو ان کی دینی زندگی کے لیے لاینحل عقدہ بن کر رہ گئے تھے۔ اور ان پر یہ بات واضح کردی کہ تمہارے معاملات میں روز بروز جو الجھنیں بڑھتی جارہی ہیں قرآن کریم ان کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا سامان بن کر آیا ہے۔ جو لوگ اس ہدایت کو قبول کریں گے اور ایمان لائیں گے ان کے لیے یہ رحمت ثابت ہوگا۔ ان کو اختلافات کی بھول بھلیوں سے نکال کر صراط مستقیم پر لائے گا۔ لیکن اگر انھوں نے اس قرآن کی قدر نہ پہچانی اور قرآن کریم کو زندگی کا رہنما نہ بنایا تو یاد رکھیں کہ آج تو اللہ تعالیٰ ان کے اختلافات اس کتاب کے ذریعے سے رفع کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے بعد وہ دن بھی آئے گا جب وہ اپنے حکم کے ذریعے سے ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ اس حکم سے مراد وہ حتمی اور آخری فیصلہ بھی ہوسکتا ہے جو قیامت کے روز ہوگا اور جس کے بعد کسی کے لیے زبان کھولنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ اور اس سے مراد دنیا میں بھی فیصلہ ہوسکتا ہے یعنی اس قرآن کی بدولت قریش اور دیگر اہل عرب ایمان کی دولت سے مالامال ہوں گے، وہ کفر اور شرک کی تاریکیوں سے نکل کر نہ صرف ایمان کی روشنی میں آجائیں گے بلکہ وہ اسلام کے مشعل بردار بن کر گھروں سے نکلیں گے اور وہاں وہاں روشنی کا سامان کریں گے جہاں جہاں آج سخت تاریکی ہے۔ اور وہ لوگ جو ریگزارِ عرب کے گوشہ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے دنیا کے پیشوا، قوموں کے امام، تہذیبِ انسانی کے استاد اور روئے زمین کے ایک بڑے حصے کے فرمانروا بن کر چھاجائیں گے۔
Ayah 27:79

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

اے نبی ! آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں، بیشک آپ صریح حق پر ہیں

فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط اِنَّـکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ ۔ (النمل : 79) (اے نبی ! آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں، بیشک آپ صریح حق پر ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ پر توکل آپ ﷺ کی طاقت ہے گزشتہ مضمون کو مستحکم کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ مخالفین کی مخالفتوں کی ہرگز پرواہ نہ کریں، وہ جو چالیں چلنا چاہتے ہیں انھیں چلنے دیں۔ آپ ﷺ اپنے رب کی نصرت پر بھروسہ رکھیں۔ زندگی میں سب سے موثر قوت حق ہے، اور وہ آپ ﷺ کے پاس ہے۔ اس حق کی روشنی کو کوئی نہیں بجھا سکتا، حق ہی کا بول بالا ہوگا اور مخالفین خائب و خاسر ہوں گے۔
Ayahs 27:80–81

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ آپ اپنی پکار بہروں کو سنا سکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے جارہے ہیں

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

اور نہ آپ اندھوں کو ہدایت دینے والے ہیں ان کی گمراہی سے بچا کر، آپ تو اپنی بات انھیں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لائیں پھر وہ فرمانبردار بن جائیں

اِنَّـکَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَـآئَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ۔ وَمَـآ اَنْتَ بِھٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰـلَتِھِمْ ط اِنْ تُسْمِعُ اِلاَّ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰـتِنَا فَھُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ (النمل : 80، 81) (اے پیغمبر ! آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ آپ اپنی پکار بہروں کو سنا سکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے جارہے ہیں۔ اور نہ آپ اندھوں کو ہدایت دینے والے ہیں ان کی گمراہی سے بچا کر، آپ تو اپنی بات انھیں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لائیں پھر وہ فرمانبردار بن جائیں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی گزشتہ آیت میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے یہ فرمایا گیا تھا کہ آپ ﷺ ان کی مخالفتوں کی پرواہ نہ کریں اور نہ یہ خیال دل میں لائیں کہ ان کی مخالفتیں آپ ﷺ کے لیے ناکامی کا باعث بنیں گی۔ اصل طاقت اللہ تعالیٰ کی طاقت ہے اور وہ اس کے ساتھ ہوتا ہے جو حق کی علمبرداری اور اس کی پاسداری کے لیے اٹھتا ہے۔ اس وقت حق کے نشان آپ ﷺ ہیں۔ آپ حق کے علمبردار بھی ہیں اور حق کے سراجِ منیر بھی ہیں۔ اس لیے آج اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت صرف آپ کے ساتھ ہے۔ اب اسی سلسلہ مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ کو اس بات پر بھی دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ لوگ آپ کی بات سن کے نہیں دیتے۔ اور آپ کی تمام تر ہمدردانہ اور غمگسارانہ مساعیِ جمیلہ کے باوجود یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر طلب ہدایت کا ایک داعیہ ودیعت فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جو شخص اس داعیہ سے کام لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہدایت کی مزید راہیں کھول دیتا ہے۔ اور جو شخص اس داعیہ کو غلط جگہ استعمال کرتا یا عدم استعمال کے سبب اسے بیکار کردیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے لیے محرومی کا فیصلہ کردیتا ہے۔ یہ لوگ اپنے اس داعیہ سے محروم ہوچکے ہیں۔ ان کی نگاہوں میں بصارت تو ہے لیکن دل کی بصیرت ان سے چھن گئی ہے۔ اور ہدایت کے لیے بصارت سے زیادہ بصیرت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا : دل کا نور کر خدا سے طلب آنکھ کا نور دل کا نور نہیں یہ لوگ فطری صلاحیت سے محروم ہونے کے باعث اس قابل نہیں رہے کہ آپ کی تبلیغی کاوشوں سے ہدایت پاسکیں۔ جس طرح ایک مردہ حواس اور عقل سے محروم ہوجانے کے باعث ہر طرح کی چیز کو محسوس کرنے اور سمجھنے کے قابل نہیں رہتا۔ اسی طرح جو شخص دل کی بصیرت سے محروم ہوگیا وہ مردوں سے بڑھ کر مردہ ہے۔ تو آپ ایسے مردوں کو کیسے سنا سکتے ہیں۔ اسی طرح جو شخص بہرہ ہے آپ چیختے رہیں وہ آپ کی بات سن نہیں پائے گا۔ ان کا حال تو اس سے بھی بدتر ہے، یہ صرف بہرے نہیں بلکہ ان کا حال تو یہ ہے کہ جب آپ انھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں تو یہ پشت پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں، ایسے دل کے اندھوں اور ہدایت سے بھاگنے والے وحشت زدہ لوگوں کو آپ اپنی بات کیسے سنا سکتے ہیں۔ اور جب وہ آپ کی بات کو سننے سے ہی محروم ہیں تو وہ آپ کی بات کو قبول کیسے کرسکتے ہیں۔ اس لیے آپ کو ان کے ایمان نہ لانے پر دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان کا ایمان نہ لانا آپ کی کسی کوتاہی کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی محرومی کا نتیجہ ہے جس کا سبب وہ خود بنے ہیں۔ ایمان لانے کے لیے تو دل میں ایمان کا ارادہ ضروری ہے اور جب کوئی شخص ایمان لانے کے ارادے سے طلب صادق لے کر آپ کے پاس آتا ہے تو وہ ایمان سے محروم نہیں رہتا، بلکہ اس کے ارادے میں اللہ تعالیٰ ایسی برکت دیتا ہے کہ وہ ایمان سے بھی بہرہ ور ہوتا ہے اور اطاعت و فرمانبرداری بھی اس کے عمل کا حصہ بن جاتی ہے۔