Ayah 27:41قَالَ نَـکِّرُوْا لَھَا عَرْشَھَا نَنْظُرْ اَتَھْتَدِیْٓ اَمْ تَـکُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لاَ یَھْتَدُوْنَ ۔ (النمل : 41)
(حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس کے تخت کی شکل بدل دو ، دیکھیں وہ صحیح بات تک پہنچتی ہے یا ان لوگوں میں سے ہے جو راہ راست نہیں پاتے۔ )
تخت ذریعہ ہدایت
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس تخت کو ہدایت کا ذریعہ بنایا، اس لیے اپنے ملازموں کو حکم دیا کہ اس تخت کی شکل اس طرح بدل ڈالو کہ وہ ملکہ کے لیے اجنبی سا ہو کر رہ جائے۔ جب تک غور سے نہ دیکھا جائے پہچاننا مشکل ہو کہ یہ ملکہ ہی کا تخت ہے۔ مقصود اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کیا وہ صرف اپنے مشاہدے پر اکتفا کرتی ہے یا حقیقت کو جاننے کے بھی درپے ہوتی ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ ہم دیکھیں گے کہ کیا وہ اس تخت کو دیکھ کر حقیقت کو پالینے میں کامیاب ہوتی ہے۔ اور کیا وہ اس بات پر غور و فکر کرتی ہے کہ ڈیڑھ ہزار میل کے فاصلے پر موجود تخت جس اللہ تعالیٰ کے عظیم بندے نے میری آمد سے پہلے یہاں منگوا رکھا ہے جبکہ اتنے وقت میں وہاں سے کسی آدمی کا آنا بھی ممکن نہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف ایک حکمران نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہے، تخت کی یہ منتقلی اس کا معجزہ ہے جس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی طاقت کام کررہی ہے۔ دیکھنے والے صرف اس کے جاہ و جلال کو دیکھتے ہیں، اس کے خوبصورت محلات کو دیکھتے ہیں اور اس کے کروفر سے اندازہ کرتے ہیں کہ وہ شاید عام حکمرانوں کی طرف ایک حکمران ہے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں، وہ حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کر شکرگزار بندہ اور اس کا رسول بھی ہے۔
Ayah 27:42فَلَمَّا جَـآئَ تْ قِیْلَ اَھٰـکَذَا عَرْشُکِ ط قَالَتْ کَاَنَّـہٗ ھُوَ ج وَاُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِھَا وَکُنَّا مُسْلِمِیْنُ ۔ (النمل : 42)
(ملکہ جب حاضر ہوئی تو اس سے سوال کیا گیا کہ تیرا تخت ایسا ہی ہے ؟ اس نے کہا یہ تو گویا وہی ہے، ہم کو اس سے پہلے ہی علم حاصل ہوچکا تھا اور ہم نے سراطاعت جھکا دیا تھا۔ )
ملکہ سبا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دربار میں
ملکہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دربار میں پہنچ گئی تو اس سے پوچھا گیا کہ یہ تخت جو تمہارے سامنے پڑا ہے، کیا یہ تمہارا ہی ہے ؟ تو اس نے دیکھ کر کہا کہ یہ تو بالکل ویسا ہی معلوم ہوتا ہے اور پھر وہ جان گئی کہ یہ واقعی میرا تخت ہے۔ تب اسے اندازہ ہوا کہ میں اب تک اپنے قاصدوں سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دانش و حکمت، آپ ( علیہ السلام) کے جاہ و جلال اور آپ ( علیہ السلام) کے کمالات کے بارے میں جو کچھ سن چکی ہوں، آپ ( علیہ السلام) اس سے بھی بڑھ کر ہیں۔ یقینا یہ سب کچھ ایک حکمران میں جمع نہیں ہوسکتا، یہ صرف نبوت و رسالت کے کمالات اور لوازم ہیں۔ اور اسی بات کی تائید کے لیے اس نے یہ لمبا سفر اختیار کیا تاکہ وہ براہ راست حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے گفتگو کرکے صحیح رائے تک پہنچ سکے۔ اب جبکہ اس نے اپنی آنکھوں سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی عظمت و شوکت دیکھی جس کی وہ قلبی طور پر پہلے سے معترف ہوچکی تھی تو اس نے فرمانبردار اور مسلمان ہونے کا اعلان کردیا۔ چونکہ ملکہ کے ہمراہ اس کے اعیانِ سلطنت اور امراء بہت بڑی تعداد میں آئے تھے اور وہ بھی پہلے سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کمالات اور نیک نامیوں کے تذکرے سن چکے تھے۔ تو ملکہ نے تنہا مسلمان ہونے کا اعلان نہیں کیا بلکہ اپنے تمام عمائدینِ سلطنت کو بھی اس اقرار میں شامل کیا۔ اس لیے کُنَّا مُسْلِمِیْنُ کہا گیا۔
Ayah 27:43وَصَدَّھَا مَا کَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط اِنَّھَا کَانَتْ مِنْ قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ ۔ (النمل : 43)
(اور اسے روک رکھا تھا ایمان لانے سے ان چیزوں نے جن کو اللہ کے ماسوا وہ پوجتی رہی تھی کیونکہ وہ ایک کافر قوم میں سے تھی۔ )
ایک سوال کا جواب
گزشتہ آیت کی وضاحت سے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اگر ملکہ اور اس کے عمائدین حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے علم و حکمت سے اس قدر متأثر اور قلبی طور پر ان کے مطیع اور منقاد تھے تو پھر وہ مسلمان کیوں نہ ہوئے اور اب تک ایک غلط دین پر قائم کیوں رہے ؟ اس آیت کریمہ میں اس کا جواب دیا گیا ہے کہ دو چیزیں اس کے لیے رکاوٹ بنی ہوئی تھیں جو ہر صالح تبدیلی کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اسے آفتاب کی پرستش اپنے آبائواجداد سے ورثے میں ملی تھی۔ اور دوسری یہ بات کہ اس کا تعلق ایک کافر قوم سے تھا۔ یعنی ایک طرف آبائواجداد کی تقلید اور دوسری طرف قومی روابط کی زنجیر، جبکہ وہ اس قوم کی ملکہ بھی تھی، اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ یوں تو ایک عام آدمی بھی اپنے تعصبات کے پتھروں کو ہٹانے میں جلدی کامیاب نہیں ہوتا بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ اسے توفیق دے دے۔ لیکن جہاں تک حکمرانوں کا تعلق ہے انھیں اپنی سیادت و قیادت کے باعث ان بندھنوں کا توڑنا دوسرے لوگوں سے ہزار گنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ لیکن یہ ملکہ کی سلامتِ طبع اور قوت فیصلہ کا نتیجہ تھا کہ وہ اپنے ماحول کی بالکل غلام بن کر نہیں رہی بلکہ وقت آنے پر اس نے ان تمام رکاوٹوں کو توڑ ڈالا۔
Ayah 27:44قِیْلَ لَھَا ادْخُلِی الصَّرْحَ ج فَلَمَّا رَاَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّۃً وَّ کَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْھَا ط قَالَ اِنَّـہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌمِّنْ قَوَارِیْرَ ط 5 قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (النمل : 44)
(ملکہ سبا سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ، پس جب اس نے اسے دیکھا تو اس کو گہرا پانی گمان کیا اور اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں، حضرت سلیمان نے کہا یہ تو شیشوں سے بنا ہوا محل ہے، ملکہ پکار اٹھی، اے میرے رب ! میں اپنی جان پر ظلم کرتی رہی ہوں، اور اب میں نے سلیمان کے ساتھ اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کے حوالہ کیا۔ )
محل میں ملکہ کی حیرانی
ملکہ کی استقبالی مصروفیت سے فارغ ہونے کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے خدام نے ملکہ سے درخواست کی کہ وہ محل کے اندر تشریف لے چلیں۔ ملکہ جیسے ہی محل میں پہنچی تو اس کی آنکھیں خیرہ ہو کر رہ گئیں۔ اس نے اندر داخل ہونے سے پہلے فرش پر نگاہ ڈالی تو اسے محسوس ہوا کہ یہ پانی کا گہرا حوض ہے جس سے گزر کر شاید آگے جانا پڑے گا۔ مہمانی کے آداب کی وجہ سے اس نے کوئی سوال کرنا مناسب نہ سمجھا اور یہ خیال کیا کہ مجھے بہرحال اس پانی میں اتر جانا چاہیے۔ چناچہ اس فیصلے کے بعد اس نے بےساختہ پائینچے چڑھا لیے جس سے پنڈلیاں کھل گئیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا تو آپ ( علیہ السلام) نے توجہ دلائی کہ یہ پانی کا حوض نہیں بلکہ یہ محل اور اس کا فرش شیشہ سے بنایا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ محل کا فرش شیشہ کی دبیز تختیوں سے بنایا گیا تھا اور اس کے نیچے پانی بہہ رہا تھا۔ اور اس کی وجہ سے یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس کے اندر داخل ہونے والا کسی حوض میں اتر رہا ہے۔ ملکہ باوجود اس کے کہ عیش و تنعم میں پلی بڑھی اور دولت و رفاہیت اس کے گھر کی لونڈی رہی۔ باایں ہمہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے شان و شکوہ نے اسے مبہوت کردیا۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا طرززندگی ذریعہ ہدایت بنا
ملکہ ایک ذہین و فطین اور صاحب بصیرت خاتون تھی۔ اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ہر معاملے کو بہت غور سے جانچا اور پرکھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے اس کی سب سے پہلی آگاہی اس مکتوبِ گرامی سے ہوئی جو آپ ( علیہ السلام) نے ملکہ کو لکھا۔ اس مکتوب میں جب ملکہ نے دیکھا کہ اسے عام بادشاہوں کے طریقے سے ہٹ کر اللہ رحمن ورحیم کے نام سے شروع کیا گیا ہے تو اس کو خوشگوار تبدیلی کا احساس ہوا۔ پھر جب اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بیش قیمت تحائف بھیج کر آزمانا چاہا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بےنیازی اسے متأثر کیے بغیر نہ رہ سکی۔ تحائف لانے والے وفد نے واپس جا کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کروفر، شاہانہ رعب و جلال، حکمت و دانش اور آپ ( علیہ السلام) کی متقیانہ زندگی کے بارے میں جو رپورٹ دی اس نے اس تأثر میں اور اضافہ کیا۔ چناچہ انھیں تأثرات میں ڈوبتے ہوئے ملکہ نے فیصلہ کیا کہ مجھے خودحاضر ہو کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے گفتگو کرنی چاہیے اور ان کے معمولات کو دیکھنا چاہیے تاکہ ان کی دعوت کی سچائی کا اندازہ ہوسکے۔ اسی حوالے سے جب وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچی اور آخر میں محل میں جانے کا اتفاق ہوا تو اب اس کے تأثرات فیصلہ کن حیثیت اختیار کرگئے۔ اور اس نے محسوس کیا کہ حکومتیں اور ریاستیں اور شاہانہ جاہ و جلال اور شان و شکوہ اور غیرمعمولی علم و دانش، انسان میں کبروغرور پیدا کرتا ہے، لیکن سلیمان ایک عجیب انسان ہیں کہ انھیں دوسرے حکمرانوں سے بڑھ کر شاہانہ وقار حاصل ہے۔ اس کے باوجود ان میں نہ کبروغرور ہے، نہ رعونت و خودسری۔ وہ ہر بات پر رب العالمین کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان کی حکومت دراصل اللہ رب العالمین کی حکومت ہے جس کی خلافت کا فرض وہ باحسن طریق انجام دے رہے ہیں۔ وہ محلات میں رہتے ہیں لیکن دل میں غریبوں کا درد بسا ہوا ہے۔ اور ان کے ہر کام میں عاجزی اور فروتنی کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ عبدیت وانابت اور شکرگزاری اور وفاداری یہ دنیادار حکمرانوں میں کبھی نہیں ہوتی، یہ صرف اسی کو نصیب ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ حکومت و ولایت کے ساتھ نبوت بھی عطا کرتا ہے اور یا اس شخص کو نصیب ہوتی ہے جو اس کے راستے پر چلتا ہے۔ چناچہ ان تأثرات نے اسے یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کردیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے رسول بھی ہیں۔ اور میں ان کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے ان کے ہاتھ پر ایمان لاتی ہوں اور اپنے آپ کو رب العالمین کے سپرد کرتی ہوں۔
ملکہ سبا کی یہ سرگزشت بائیبل کے عہدعتیق و جدید اور روایاتِ یہود سب میں مختلف طریقوں سے آئی ہے، مگر قرآن کا بیان ان سب سے مختلف ہے۔ البتہ دونوں میں ایک قدرمشترک موجود ہے۔ اور ہمارے اکثر مفسرین نے اسے خلاصے کے طور پر ذکر کیا ہے، ہم اسے تفہیم القرآن سے مولانا مرحوم کے تبصرے کے ساتھ نقل کررہے ہیں۔
ملکہ سبا کا ذکر تو رات میں اور اس پر تبصرہ
” اور جب سبا کی ملکہ نے خداوند کے نام کی بابت سلیمان کی شہرت سنی تو وہ آئی تاکہ مشکل سوالوں سے اسے آزمائے۔ اور وہ بہت بڑے جلو کے ساتھ یروشلم آئی …… جب وہ سلیمان کے پاس پہنچی تو اس نے ان سب باتوں کے بارے میں جو اس کے دل میں تھیں اس سے گفتگو کی۔ سلیمان نے ان سب کا جواب دیا…… اور جب سبا کی ملکہ نے سلیمان کی ساری حکمت اور اس محل کو جو اس نے بنایا تھا اور اس کے دسترخوان کی نعمتوں اور اس کے ملازموں کی نشست اور اس کے خادموں کی حاضرباشی اور ان کی پوشاک اور اس کے ساقیوں اور اس سیڑھی کو جس سے وہ خداوند کے گھر کو جاتا تھا دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گئے اور اس نے بادشاہ سے کہا کہ وہ سچی خبر تھی جو میں نے تیرے کاموں اور تیری حکمت کی بابت اپنے ملک میں سنی تھی۔ تو بھی میں نے وہ باتیں باور نہ کیں جب تک خود آکر اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیا اور مجھے تو آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا کیونکہ تیری حکمت اور اقبال مندی اس شہرت سے جو میں نے سنی بہت زیادہ ہے۔ خوش نصیب ہیں تیرے لوگ اور خوش نصیب ہیں تیرے یہ ملازم جو برابر تیرے حضور کھڑے رہتے اور تیری حکمت سنتے ہیں۔ خداوند تیرا خدا مبارک ہو جو تجھ سے ایسا خوشنود ہوا کہ تجھے اسرائیل کے تخت پر بٹھایا…… اور اس نے بادشاہ کو ایک سو بیس قنطار سونا مسالے کا بہت بڑا انبار اور بیش بہا جواہر دیئے اور جیسے مسالے سبا کی ملکہ نے سلیمان بادشاہ کو دیئے ویسے پھر کبھی ایسی بہتات کے ساتھ نہ آئے…… اور سلیمان بادشاہ نے سبا کی ملکہ کو سب کچھ جس کی وہ مشتاق ہوئی اور جو کچھ اس نے مانگا دیا۔ پھر وہ اپنے ملازموں سمیت اپنی مملکت کو لوٹ گئی۔ “
(سلاطین 10: 1۔ 13۔ اسی سے ملتا جلتا مضمون 2۔ تواریخ 9: 1۔ 12 میں بھی ہے)
عہدِ جدید میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ایک تقریر کا صرف یہ فقرہ ملکہ سبا کے متعلق منقول ہوا ہے :
” دکھن کی ملکہ عدالت کے دن اس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ اٹھ کر ان کو مجرم ٹھہرائے گی، کیونکہ وہ دنیا کے کنارے سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکمت سننے کو آئی اور دیکھو یہاں وہ ہے جو سلیمان سے بھی بڑا ہے۔ “ (متی 12: 43۔ لوقا 11: 31)
یہودی ربیوں کی روایات میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور ملکہ سبا کا قصہ اپنی بیشتر تفصیلات میں قرآن سے ملتا جلتا ہے۔ ہدہد کا غائب ہونا، پھر آکر سبا اور اس کی ملکہ کے حالات بیان کرنا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اس کے ذریعہ سے خط بھیجنا، ہدہد کا عین اس وقت وہ خط ملکہ کے آگے گرانا جبکہ وہ آفتاب کی پرستش کو جارہی تھی، ملکہ کا اس خط کو دیکھ کر اپنے وزراء کی کونسل منعقد کرنا، پھر ملکہ کا ایک قیمتی ہدیہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس بھیجنا، خود یروشلم پہنچ کر ان سے ملنا، ان کے محل میں پہنچ کر یہ خیال کرنا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) پانی کے حوض میں بیٹھے ہیں، اور اس میں اترنے کے لیے پائینچے چڑھا لینا، یہ سب ان روایات میں اسی طرح مذکور ہے جس طرح قرآن میں بیان ہوا ہے۔ مگر ہدیہ وصول ہونے پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا جواب، ملکہ کے تحت کو اٹھوا منگانا، ہر موقع پر ان کا خدا کے آگے جھکنا اور آخرکار ملکہ کا ان کے ہاتھ پر ایمان لانا، یہ سب باتیں بلکہ خدا پرستی اور توحید کی ساری باتیں ہی ان روایات میں ناپید ہیں۔ سب سے بڑھ کر غضب یہ ہے کہ ان ظالموں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے ملکہ سبا کے ساتھ معاذاللہ زنا کا ارتکاب کیا اور اسی حرامی نسل سے بابل کا بادشاہ بخت نصر پیدا ہوا جس نے بیت المقدس کو تباہ کیا (جیوش انسائیکلوپیڈیا ج 11۔ صفحہ 443) ۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ یہودی علماء کا ایک گروہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا سخت مخالف رہا ہے۔ ان لوگوں نے ان پر توراۃ کے احکام کی خلاف ورزی، غرورِ حکومت، غرورِ عقل و دانش، زن مریدی، عیش پرستی اور شرک و بت پرستی کے گھنائونے الزامات لگائے ہیں۔ (جیوش انسائیکلوپیڈیا ج 11 ص 439۔ 441) ۔ اور یہ اسی پروپیگنڈے کا اثر ہے کہ بائیبل انھیں نبی کے بجائے محض ایک بادشاہ کی حیثیت سے پیش کرتی ہے اور بادشاہ بھی ایسا جو معاذاللہ احکامِ الٰہی کے خلاف مشرک عورتوں کے عیش میں گم ہوگیا، جس کا دل خدا سے پھر گیا اور جو خدا کے سوا دوسرے معبودوں کی طرف مائل ہوگیا (سلاطین 11: 1۔ 11) ۔ ان چیزوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن نے بنی اسرائیل پر کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے اکابر کا دامن خود ان کی پھینکی ہوئی گندگیوں سے صاف کیا، اور یہ بنی اسرائیل کتنے احسان فراموش ہیں کہ اس پر بھی یہ قرآن اور اس کے لانے والے کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔
Ayah 27:45وَلَقَدْ اَرْسَلْنَـآ اِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاھُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ فَاِذَا ھُمْ فَرِیْـقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ ۔ (النمل : 45)
(اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو رسول بنا کر بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، تو وہ دو فریق بن کر آپس میں جھگڑنے لگے۔ )
انسان کے بنائو اور بگاڑ کے دو سبب
انسان کے بنائو اور بگاڑ کی دو بنیادیں ہیں۔ شکرگزاری و فروتنی اور تمردو استکبار۔ گزشتہ آیات میں شکرگزاری و فروتنی کے مصداق کے طور پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سرگزشت سنائی گئی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت و ریاست، دولت و رفاہیت اور جاہ و جلال جنھیں بگاڑ کے اسباب سمجھا جاتا ہے یہ بھی انسان کا کچھ نہیں بگاڑتے، اگر فروتنی و شکرگزاری کا جذبہ انسان میں پیدا ہوجائے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے جیسا جاہ و جلال عطا فرمایا اور جس طرح دنیا کے خزانے ان کے سامنے کھول دیئے گئے اس سے بجائے ان کے اندر علو و استکبار کے پیدا ہونے کے جذبہ شکر میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اور انھوں نے ہر نعمت کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھ کر اس کا حق ادا کرنے کی فکر کی۔ نتیجہ اس کا سامنے ہے کہ آج ان کی شخصیت حکمرانوں اور دولت مندوں کے لیے نصیحت کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ دوسری طرف ہم فرعون اور آل فرعون کو دیکھتے ہیں جنھیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے کم درجہ حکومت اور دولت سے بہرہ ور کیا گیا۔ لیکن ان دونوں نعمتوں سے ان لوگوں نے نصیحت حاصل کرنے کی بجائے انھیں علو و استکبار کا ذریعہ بنایا۔ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ اپنے اس رویئے کے باعث وہ اپنے اور اہل ملک کے لیے ایک مصیبت اور آفت بنے رہے۔ اور ان کا یہی رویہ قبولیتِ حق کے راستے میں دیوار بن گیا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئے اور بحرقلزم کی موجوں نے انھیں نگل لیا۔ اور فرعون کا جسم آج بھی عبرت کا سامان بن کر ایک میوزیم میں موجود ہے۔ چناچہ اسی سلسلہ نصیحت و عبرت کو آگے بڑھاتے ہوئے قرآن کریم اب خاص عرب کی اقوامِ بائدہ میں سے دو قوموں یعنی قوم ثمود و قوم لوط کے حالات و انجام کو قریش کے سامنے پیش کررہا ہے تاکہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہمیں ان ملکوں کی داستانیں سنائی جارہی ہیں جو ہم سے دور ہیں اور جن سے ہم براہ راست رابطہ نہیں رکھتے۔ یعنی مصر، فلسطین اور یمن۔ اب ان قوموں کے حالات ان کے سامنے بطور عبرت پیش کیے جارہے ہیں جن کی ترقی و سربلندی کے کھنڈرات اور یادگاریں آج بھی ان راستوں میں موجود ہیں جہاں سے وہ تجارتی قافلوں کے ساتھ گزر کے جاتے ہیں۔
حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت اور اس کا ردعمل
سب سے پہلے قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی سرگزشت بیان کی جارہی ہے۔ اور جیسا کہ عرض کیا گیا قوم ثمود وہ قوم ہے قریش جن کے کھنڈرات سے اچھی طرح واقف تھے، اور جن کی تاریخ سینہ بہ سینہ عربوں تک پہنچ چکی تھی اور ان کا بچہ بچہ اس سے واقف تھا۔ اور یہ بھی دکھایا جارہا ہے کہ قوم ثمود کی تباہی جس دعوت کو قبول نہ کرنے کے نتیجے میں ہوئی ہے وہ وہی دعوت تھی جسے آج محمد ﷺ قریش کے سامنے پیش کررہے ہیں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے جیسے ہی اپنی دعوت اپنی قوم کے سامنے پیش کی تو قوم میں دو گروہ بن گئے۔ ایک گروہ ان لوگوں پر مشتمل تھا جنھوں نے صداقت کی اس آواز کو سنا، اس پر لبیک کہا اور ایمان لے آئے۔ اور دوسرا وہ گروہ تھا جنھوں نے نہ صرف اس دعوت کو قبول نہیں کیا بلکہ مخالفت و معاندت اور اذیت رسانی پر تل گئے اور کوشش کی کہ حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو اس حد تک ہراساں کردیا جائے کہ وہ خود ہی اس دعوت سے دست کش ہوجائیں۔ قرآن کریم نے ان کے درمیان کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے :
قَالَ الْمَلَأ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قُوْمِہٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ اَتَعَلَمُوْنَ اَنَّ صَالِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِہٖ ، قَالُوْا اِنَّا بِمَااُرْسِلَ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ ۔ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا اِنَّا بِالَّذِیْ اٰمَنْتُمْ بِہٖ کَافِرُوْنَ ۔ (الاعراف : آیت 75۔ 76)
(اس کی قوم میں سے جو سردار اپنی بڑائی کا گھمنڈ رکھتے تھے انھوں نے ان لوگوں سے جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے جو ان میں سے ایمان لائے تھے کہا، کیا واقعی تم یہ جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کی طرف سے رسول ہیں، انھوں نے جواب دیا، ہم اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں جس کو دے کر وہ بھیجے گئے ہیں، ان متکبرین نے کہا جس چیز پر تم ایمان لائے ہو اس کے ہم کافر ہیں۔ )
جس قوم میں بھی اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے ہیں انھوں نے جیسے ہی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی اطاعت کی دعوت اپنی قوم کو دی ہے تو اسی طرح ہر جگہ اہل ایمان اور انکار کرنے والوں کے دو گروہ وجود میں آئے اور ایک کشمکش کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ایمان لانے والے ابتداء میں ہمیشہ وہ لوگ رہے ہیں جنھوں نے آج تک بڑے لوگوں کے ظلم کو برداشت کیا اور وہ ہر لحاظ سے ظلم وتعدی کا نشانہ بنتے رہے۔ جیسے ہی ان کو احساس ہوتا ہے کہ یہ نئی اٹھنے والی آواز ایک نئی زندگی کا پیغام لے کر آئی ہے تو آگے بڑھ کر اسے قبول کرلیتے ہیں۔ لیکن قوم کا وہ بالائی طبقہ جنھوں نے آج تک ان کا استحاصل کیا ہے وہ اس دعوت کو بھی خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایمان لانے والوں کو بھی سزا دینے پر تل جاتے ہیں۔ اور یہی کچھ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کے ساتھ قریش کی طرف سے ہورہا تھا۔
Ayah 27:46قَالَ ٰیقُوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَۃِ قَبْلَ الْحَسَنَۃِ ج لَوْلاَ تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰہَ لَعَلَّـکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ (النمل : 46)
(حضرت صالح نے کہا، اے میری قوم کے لوگو ! تم بھلائی سے پہلے برائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو، تم اللہ سے مغفرت طلب کیوں نہیں کرتے، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے۔ )
آیتِ کریمہ میں السَّیِّئَۃ سے مراد اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ اور الْحَسَنَۃ سے مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔
مخالفین کا عام حربہ
قرآن کریم نے جابجا اس مضمون کو بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کی دعوت اور معاندین کی مخالفت میں جب تیزی پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا رسول محسوس کرنے لگتا ہے کہ مخالفین حد سے آگے بڑھتے جارہے ہیں، تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتا ہے اور انھیں تنبیہ کرتا ہے کہ جن قوموں نے بھی یہ رویہ اختیار کیا وہ بالآخر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئیں۔ میں تمہارے بارے میں بھی اسی بات کا اندیشہ رکھتا ہوں۔ تو مخالفین بجائے اس اندیشہ سے ڈرنے کے وہ محض اسے ڈراوا سمجھ کر استہزاء کا ذریعہ بنا لیتے ہیں اور بات بات پر پیغمبر سے مطالبہ کرنے لگتے ہیں کہ جس عذاب سے آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں وہ عذاب ہم پر لے کیوں نہیں آتے، یا اس کی کوئی نشانی ہم پر ظاہر کیوں نہیں کردیتے تاکہ ہم اس سے ڈر کر ایمان لے آئیں۔ چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے بھی ان کی دردمندی اور خیرخواہی کے جواب میں بار بار عذاب کا مطالبہ شروع کردیا۔ چناچہ اس پر تنبیہ کرتے ہوئے حضرت صالح (علیہ السلام) نہایت ہمدردی کے ساتھ انھیں سمجھاتے ہیں کہ تم کیسے لوگ ہو کہ بجائے اللہ تعالیٰ کی رحمت طلب کرنے اور اس سے استغفار کرنے کے تم اس کے عذاب کا مطالبہ کرتے ہو۔ وہ تمہیں اپنی رحمت سے نوازنا چاہتا ہے اور تم عذاب کے پتھروں کو دعوت دے رہے ہو۔ اگر تم میں کچھ بھی احساس کی رمق باقی ہے اس سے استغفار کرو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت مانگو۔
آنحضرت ﷺ کی قوم نے بھی آپ کی دعوت کے جواب میں یہی رویہ اختیار کر رکھا تھا۔ وہ بار بار آپ سے یہ کہتے تھے کہ اگر آپ کی دعوت کی تکذیب کا انجام ان کی ہلاکت ہے تو اس ہلاکت کی نشانی ہمیں دکھا کیوں نہیں جاتی تاکہ ہمیں واقعی یقین آجائے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور آپ اس کے رسول ہیں۔ انھیں حضرت صالح (علیہ السلام) کی سرگزشت سنا کر یہ بتایا جارہا ہے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو ان میں سے کوئی بات بھی نئی نہیں ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں ان کی قوم نے بھی یہی رویہ اختیار کیا اور آخر تباہ ہوگئی۔
Ayah 27:47قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِکَ وَبِمَنْ مَّعَکَ ط قَالَ طٰٓیِٔرُکُمْ عِنْدَاللّٰہِ بَلْ اَنْـتُمْ قَوْمٌ تُفْتَـنُوْنَ ۔ (النمل : 47)
(انھوں نے کہا ہم نے تو تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو بدشگونی کا نشان پایا ہے، حضرت صالح نے جواب دیا تمہارا نصیبہ اللہ کے پاس ہے بلکہ تم آزمائے جارہے ہو۔ )
اِطَّیَّرْنَاکی تحقیق
اِطَّیَّرْنَا … طیر سے ہے، طیر چڑیوں اور پرندوں کو کہتے ہیں۔ چونکہ توہم پرستوں میں چڑیوں اور پرندوں کے اڑنے سے فال لینے کا عام رواج رہا ہے۔ اس وجہ سے تطیرکا لفظ فال لینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ پھر اس کا غالب استعمال فالِ بد کے معنی میں ہوگیا۔ اسی مادے سے طائر کا لفظ بھی ہے جو اس چیز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس سے کوئی نیک یا بد فال لی جائے۔ اور پھر اسی مفہوم سے ترقی کرکے قسمت اور نصیب کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔
قوم کا بیہودہ ردعمل
عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول دنیا میں سایہ حق بن کر آتے ہیں۔ ان کا وجود جسدِ قوم میں روح کی مانند ہوتا ہے۔ ان کی دعوت کو قبول کرلینے کے نتیجے میں انسانیت کو شباب کی دولت ملتی ہے۔ اور انسان کے گھر میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اترنے لگتی ہے۔ لیکن اس کے دعوت کے قبول اور عدم قبول کے نتیجے میں چونکہ دو گروہ بن جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ خلیج گہری ہوتی جاتی ہے۔ نتیجتاً ہر گھر میں حق و باطل کی کشمکش چھڑ جاتی ہے اور قبیلے کی شیرازہ بندی جن تعصبات کے بل بوتے پر ہوتی ہے ان تعصبات کی موت سے قبیلے ٹوٹنے لگتے اور امت مسلمہ کی تشکیل شروع ہوجاتی ہے۔ اور اس ڈھلتے ہوئے سائے کے پجاری یہ کہنے لگتے ہیں کہ اس شخص کی دعوت نے ہمارے قومی شیرازہ کو پارہ پارہ کردیا ہے۔ ہر گھر میں ایک لڑائی برپا ہے، اپنے، اپنوں سے الجھ رہے ہیں اور ہم بیگانوں میں ایک تماشا بن کے رہ گئے ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب اور اس کی دعوت کے انکار کے نتیجے میں بعض دفعہ اس قوم پر ہلکے پھلکے حوادث بھی آتے ہیں جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنے میں آمادہ ہوں۔ کبھی بارش روک کر قحط سالی پیدا کردی جاتی ہے، کبھی سیلاب آنے لگتے ہیں، کبھی زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے لگتے ہیں، کبھی وبائیں پھیل جاتی ہیں، یہ سب جھنجھوڑنے کے اسباب ہیں جس کا مقصد قوم میں انکار کے جذبات کو کم اور آمادگی کے جذبات کو انگیخت کرنا ہوتا ہے۔ لیکن پروپیگنڈا کرنے والے ایسی ہی باتوں کا حوالہ دے دے کر لوگوں کو یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ تم پر یہ ساری مصیبتیں اس پیغمبر کی وجہ سے آئی ہیں۔ نعوذباللہ من ذلک یہ شخص تمہارے لیے نحوست کا باعث بن کے آیا ہے۔ اور اگر انھیں یہ کہا جائے کہ یہ سب کچھ تمہارے کفر، شرک اور ناشکری کا نتیجہ ہے تو ان کے دانشور ہمیشہ ان کو اس مغاطے میں مبتلا رکھتے ہیں کہ اس طرح کے نرم و سخت دن تو قوموں پر آیا ہی کرتے ہیں ان کو کسی کی تصدیق و تکذیب سے کیا تعلق۔ لیکن عام لوگ ان مصائب کو رسول اور اس کے ساتھیوں کی بت پرستی سے برگشتگی کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے معبودوں اور ہمارے باپ دادا کے دین کے مخالف بن کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس وجہ سے ہمارے معبودوں اور بزرگوں کی مار ان پر پڑی ہے۔ اور ان کی لائی ہوئی آفت میں ہم بھی حصہ پا رہے ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ تمہیں جو آزمائشیں اور آفتیں پیش آرہی ہیں یہ کسی کی نحوست کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کا سررشتہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ تم میں انابت الی اللہ کے جذبات پیدا کرنے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کی طرف مائل کرنے کے لیے تمہیں ان آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے۔ وہ اس طرح سے تمہیں آزمانا چاہتا ہے کہ تم میں قبول حق کی اگر کچھ بھی صلاحیت ہے وہ ان آزمائشوں سے ابھر کر سامنے آجائے۔ اور یا بصورت دیگر یہ ثابت ہوجائے کہ تم قبول حق کے جذبات سے بالکل محروم ہوچکے ہو اور اس قابل ہوگئے ہو کہ دھرتی تمہارا بوجھ مزید برداشت نہیں کرسکتی۔
Ayah 27:48وَکَانَ فِی الْمَدِیْنَۃِ تِسْعَۃُ رَھْطٍ یُّـفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلاَ یُصْلِحُوْنَ ۔
(النمل : 48)
(اور شہر میں نو خاندان تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور کوئی اصلاح کا کام نہ کرتے تھے۔ )
رَھْطٍ کا مفہوم
رَھْطٍ … تین سے لے کر دس تک یا سات سے لے کر دس تک کے گروہ کو کہتے ہیں۔ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس شہر میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی تھی اس میں نو جتھے یا نو گینگ تھے جو منظم شکل میں شہر میں فساد پھیلاتے تھے اور کسی بھی اصلاحی کوشش کو بارآور نہیں ہونے دیتے تھے۔ لیکن قرآن کریم نے سورة ہود میں اس لفظ کو خاندان کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ قوم شعیب نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا تھا وَلَوْلاَ رَھْطُکَ لَرَجَمْنٰـکَ ” اور اگر تیرا خاندان نہ ہوتا تو ہم تجھے سنگسار کردیتے۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں بھی رھط کا معنی خاندان ہے۔ جس طرح مکہ معظمہ میں مختلف قبائل آباد تھے اسی طرح حضرت صالح (علیہ السلام) کے شہر میں نو قبائل بستے تھے۔ یقینا ان میں سے ہر قبیلے کا ایک سردار تھا جو قبیلے کے تمام معاملات کا کرتا دھرتا اور اس کے مجموعی مفادات کا نگران تھا۔ جدھر یہ سردار چاہتا، ادھر قبیلہ رخ کرلیتا۔ چناچہ ایسی ہی صورتحال حضرت صالح (علیہ السلام) کے شہر میں بھی تھی کہ ان نو خاندانوں کے نو سردار تھے جن میں سے ہر ایک برائی کا نمائندہ اور فساد کا خوگر تھا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انھیں جب اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت دی اور انھیں بتایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری زندگیوں میں آسودگی آئے، تمہارے گھروں میں سکون پیدا ہو اور تمہاری آئے دن کی آپس کی لڑائیاں ختم ہوجائیں اور تمہارے اندر اخلاقِ حسنہ کا دوردورہ ہو اور تمہارے تمام معاملات ٹھیک نہج پر چلیں تو اس کی ایک ہی صورت ہے کہ تم اس دعوت کو قبول کرلو۔
زمین میں فساد کا سبب
جس طرح اہل زمین کے علاوہ تمام کائنات میں ہم ایک نظم و ضبط، ایک سکون و اطمینان اور ایک شائستگی اور آسودگی دیکھتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر مخلوق حتیٰ کہ بڑے سے بڑا کُرّہ بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر کمربستہ اور اس کے تکوینی نظام کا تابع ہے۔ ہمیں کہیں تصادم نظر نہیں آتا، کوئی فساد دکھائی نہیں دیتا، ہر کام اپنے وقت پر اور اپنے موقع پر سرانجام پا رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے قانون اور نظام میں کسی قسم کی خلل اندازی دکھائی نہیں دیتی۔ اہل زمین بھی بالکل اسی طرح کی اصلاحی صورتحال سے بہرہ ور ہوسکتے ہیں اگر وہ اس نقطے کو پالیں کہ باقی کائنات کی طرح وہ بھی اللہ تعالیٰ کے قانون کی فرمانبرداری اپنے اوپر لازم کرلیں، اس کے احکام و نواہی کی پابندی کریں، اس کے دیئے ہوئے حقوق و فرائض سے سرمو تجاوز نہ کریں، خواہشات و مفادات کے راستوں پر چلنے کی بجائے صراط مستقیم پر چلنا شروع کردیں۔ تو یہ وہ نسخہ کیمیا ہے جس کے نتیجے میں ہر طرح کا فساد ختم ہوجائے گا اور زمین اور اہل زمین صلاح و فلاح سے وابستہ ہوجائے گی۔ لیکن جب تک اہل زمین اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے اس کا راستہ روکنے میں اپنی مساعی بروئے کار لاتے رہیں گے اس وقت تک انفرادی اور اجتماعی زندگی فساد کا شکار رہے گی۔ چونکہ اس شہر کے نو کے نو خاندان اور ان کے روساء حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرنے اور آپ ( علیہ السلام) کی اطاعت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اس لیے اس کے نتیجے میں فساد برپا ہوتا تھا اور اسی کا اس آیت میں ذکر فرمایا گیا ہے۔
Ayah 27:49قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰہِ لَـنُـبَـیِّتَـنَّـہٗ وَاَھْلَـہٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّہٖ مَاشَھِدْنَا مَھْلِکَ اَھْلِہٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ۔ (النمل : 49)
(انھوں نے کہا اللہ کی قسم کھا کر عہد کرلو کہ ہم صالح اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے اور پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے اور ہم بالکل سچے ہیں۔ )
حضرت صالح (علیہ السلام) کے خلاف مخالفین کا منصوبہ
یہ بات قرین قیاس ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی اصلاحی کوششوں کو روکنے کے لیے مخالفین کے باہم اجلاس ہوتے ہوں کیونکہ وہ پریشان تھے کہ ہماری تمام تر اذیت رسانیوں کے باوجود حضرت صالح (علیہ السلام) کی اصلاحی دعوت کو روکنے میں ہمیں کامیابی نہیں ہورہی۔ اس کے اثرات آہستہ آہستہ پھیلتے جارہے ہیں۔ ہم جتنی سختی کرتے ہیں اس کے مقابلے میں ان کا صبر اور تحمل لوگوں کو سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ہم نے ان اثرات کو روکنے کے لیے ناقہ صالح کو بھی قتل کر ڈالا، لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ البتہ اس کے جواب میں حضرت صالح (علیہ السلام) نے ہمیں تین دن کا الٹی میٹم دے دیا ہے فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِی دَارِکُمْ ثَلاَ ثَـۃَ اَیَّامٍ ، ذٰلِکَ وَعْدٌغَیْرُمَکْذُوْبٍ ” کہا، تم اپنے گھروں میں تین دن مزے کرلو، اس کے بعد خدا کا عذاب آئے گا۔ “ اب ہمارے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ ہم اس زبان کو بھی ہمیشہ کے لیے خاموش کردیں۔ چناچہ انھوں نے انتہائی رازداری سے باہم مل کر حضرت صالح (علیہ السلام) کے گھر پر شب خون مارنے کا فیصلہ کیا اور قبائلی روایت کے مطابق یہ طے کیا کہ ایک ساتھ آپ ( علیہ السلام) کے گھر پر حملہ کیا جائے اور تمام قبائل کے نوجوان ایک ساتھ اس حملے میں شریک ہوں تاکہ صالح کا خاندان قصاص کا مطالبہ نہ کرسکے۔ اور اگر انھوں نے کوئی تھوڑا بہت واویلا مچایا تو ہم کہہ دیں گے کہ ہمارا تو اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم تو اس حملے کے وقت سرے سے موجود ہی نہ تھے۔ روایات میں ہے کہ وہ حملہ کرنے کے لیے حضرت صالح (علیہ السلام) کے گھر کی طرف بڑھے، فرشتوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے گھر کو گھیر رکھا تھا، یہ لوگ جب قریب پہنچے تو ان پر سنگباری کی گئی۔ ان پر پتھر برس رہے تھے لیکن پتھر برسانے والے نظر نہیں آرہے تھے۔ امامِ قرطبی کی روایت کے مطابق تمام حملہ آور اس سنگباری سے ہلاک ہوگئے۔ اور اس کے فوراً بعد قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب برسنے لگا۔
Ayahs 27:50–51وَمَکَرُوْا مَکْرًا وَّمَکَرْنَا مَکْرًا وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ مَکْرِھِمْ لا اَنَّا دَمَّرْنٰـھُمْ وَقَوْمَھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ (النمل : 50، 51)
(اور انھوں نے بھی چال چلی اور ہم نے بھی تدبیر کی، جسے وہ نہ جان پائے۔ پس دیکھو کیسا ہوا ان کی چال کا انجام، ہم نے ان کو اور ان کی پوری قوم کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ )
مخالفین کی چال کے مقابل میں اللہ تعالیٰ کی چال
انھوں نے نہایت خفیہ طریقے سے شب خون مار کر حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے خاندان کو ختم کرنے کی چال چلی اور اس میں تمام خاندانوں کو شامل کرکے انھوں نے اس چال کو اس حد تک مضبوط کیا کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کے خاندان کی طرف سے ہر طرح کے اندیشے کو بھی ختم کر ڈالا۔ لیکن ان کی چال انھیں پر الٹ گئی اور اس چال کی ناکامی کے لیے اللہ تعالیٰ نے تدبیر کی۔ اس کا وہ تصور بھی نہ کرسکتے تھے کہ ہماری ہلاکت اور بربادی ہماری اس چال کے ساتھ باندھ دی گئی ہے۔ چناچہ دوسری آیت کریمہ میں اسی تدبیر کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ لوگ تو گھر سے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے خاندان کو ختم کرنے کے لیے نکلے تھے لیکن ہم نے ان کی اس جرأتِ بیجا پر انھیں ایسا پکڑا کہ انھیں اور ان کی ساری قوم کو تباہ و برباد کر ڈالا۔
Ayahs 27:52–53فَتِلْکَ بُیُوْتُھُمْ خَاوِیَۃً م بِمَا ظَلَمُوْا ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۔ وَاَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَـتَّـقُـوْنَ ۔ (النمل : 52، 53)
(پس یہ ہیں ان کے گھر جو اجڑے پڑے ہیں بوجہ اس کے کہ انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے، بیشک اس کے اندر عبرت ہے ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں۔ اور ہم نے بچا لیا ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے اور جو ڈرتے تھے۔ )
قریش کو تنبیہ
یہ سرگزشتیں چونکہ قریش اور اہل مکہ کو سنائی جارہی ہیں تاکہ وہ ان سے سبق سیکھیں اور ہدایت قبول کرلیں۔ اس لیے انھیں سنا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ قوم ثمود ان قوموں میں سے ہے جن کے کھنڈرات پر سے تمہارے تجارتی قافلے گزرتے ہیں اور جس کی تباہی کی داستان سے تم اچھی طرح واقف ہو۔ تم گزرتے ہوئے ان کے کھنڈرات پر نگاہ ڈالو، یہ وہ لوگ ہیں جو تم سے زیادہ پر عیش اور آسودہ زندگی گزارتے تھے اور ان کے گھروں میں ہن برستا تھا۔ آج ان کے گھر ویران اور اجڑے پڑے ہیں اور دور دور تک زندگی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ آنحضرت ﷺ جب تبوک جاتے ہوئے صحابہ کرام ( رض) کے ساتھ یہاں سے گزرے تو حضور ﷺ نے صحابہ کرام ( رض) سے فرمایا، اس عذاب شدہ قوم کے علاقہ میں داخل ہو، تو روتے ہوئے داخل ہو۔ کیونکہ ان کا ایک ایک کھنڈر ان کی تباہی کی داستان سنا رہا ہے۔ لیکن انسان کی غفلت کا کیا کہنا کہ ایسے مقامات جہاں سے عبرت حاصل ہونی چاہیے اور جہاں سے گزرتے ہوئے آنکھوں سے آنسو بہنے چاہئیں، انسان نے ان جگہوں کو بھی کلچر کی تلاش میں سیرگاہ بنا لیا ہے۔ اور اس کے ایک ایک پتھر سے بجائے عبرت حاصل کرنے کے کلچر تلاش کیا جارہا ہے۔ اور ان کی تباہی کے اسباب کو اللہ تعالیٰ کا عذاب سمجھنے کی بجائے طبعی اسباب قرار دیا جارہا ہے۔ شاعر نے بڑی کام کی بات کہی ہے :
عبرت کی اک چھٹانک برآمد نہ ہو سکی
کلچر نکل پڑا ہے منوں کے حساب سے
اسی لیے آخر میں فرمایا کہ اس سرگزشت میں عبرت کی نشانیاں ہیں لیکن ان لوگوں کے لیے جو اس بات کا علم رکھتے ہیں کہ کوئی اندھا بہرا خدا اس کائنات پر حکومت نہیں کر رہا ہے بلکہ ایک حکیم و دانا ہستی یہاں قسمتوں کے فیصلے کررہی ہے۔ اس کے فیصلے طبعی اسباب کے غلام نہیں ہیں بلکہ طبعی اسباب اس کے ارادے کے غلام ہیں۔
دوسری آیت میں فرمایا کہ ہم نے ان لوگوں کو نجات دی اور وہ لوگ اس عذاب سے محفوظ رہے جو حضرت صالح (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور ان کی دعوت کے نتیجے میں اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص سے اپنے عدل کے مطابق معاملہ کرتا ہے۔ اور جب سرکشی حد سے گزر جاتی ہے تو پھر وہ انتقام بھی لیتا ہے۔ چناچہ اسی خوف نے انھیں ہدایت کی طرف آنے پر مجبور کیا اور وہ ہدایت سے بہرہ ور ہو کر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہے۔
Ayah 27:54وَلُوطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ وَاَنْـتُمْ تُبْصِرُوْنَ ۔ (النمل : 54)
(اور لوط کو ہم نے بھیجا جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا، کیا تم بدکاری کرتے ہو حالانکہ تم دیکھ رہے ہوتے ہو۔ )
یہ اوپر والے واقعہ پر معطوف ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں اَرْسَلْنَا محذوف ہے۔ الْفَاحِشَہَ کھلی ہوئی بےحیائی اور بےشرمی کو کہتے ہیں جس کے بےحیائی ہونے میں کسی اختلاف کی گنجائش نہ ہو۔
حضرت لوط (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) کی قوم کا بیان
آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو جس قوم کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا گیا، یوں تو باقی قوموں کی طرح وہ بھی عقیدے کی تمام خرابیوں میں ملوث تھی اور شرک اس کا بھی اوڑھنا بچھونا تھا۔ لیکن جو چیز اس کے لیے وجہِ امتیاز بن گئی تھی وہ ان کا انتہا درجہ بےحیاء ہوجانا تھا۔ قومیں جب اللہ تعالیٰ سے برگشتہ ہوتی ہیں اور آخرت کا عقیدہ ان کے دلوں سے نکل جاتا ہے تو وہ ہر طرح کی عملی خرابی اور اخلاقی آوارگی کا ارتکاب کرتی ہیں۔ لیکن قوم لوط اخلاقی آوارگی میں ساری قوموں سے آگے بڑھ چکی تھی۔ وہ بےحیائی میں نہ صرف زنا کا ارتکاب کرتی تھی بلکہ لواطت یعنی لڑکوں سے بدفعلی اس کا طرہ امتیاز بن گیا تھا۔ اور یہ مکروہ فعل ان کی گھٹی میں ایسا پڑا تھا کہ عورتوں سے دلچسپی بھی ان کے یہاں برائے نام باقی رہ گئی تھی۔ چناچہ ان کی اس عادت بد پر تنقید کرتے ہوئے حضرت لوط (علیہ السلام) ان سے یہ فرماتے ہیں کہ تم صرف بےحیاء ہی نہیں ہو بلکہ تمہاری بےحیائی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ تمہارے اندر وہ ذوق بالکل مردہ ہوگیا ہے جو بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ پردہ داری کا خیال رکھتا ہے۔ تم تو ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جس کو نہ جانے کتنی آنکھیں دیکھنے والی ہوتی ہیں جسے قرآن کریم نے سورة عنکبوت میں فرمایا وَتَاتُوْنَ فِی نَادیِْکُمُ الْمُنَکْرَ ” اور تم اپنی مجلسوں میں برا کام کرتے ہو۔ “ اور جسارت کا عالم یہ ہے کہ تم خود جانتے ہو کہ یہ بہت بری حرکت ہے، لیکن تم پھر بھی وہ حرکتیں کرتے ہو اور تمہیں کبھی اس پر ندامت نہیں ہوئی۔
Ayah 27:55اَئِنَّـکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَھْوَۃً مِّنْ دُوْنِ النِّسَـآئِ ط بَلْ اَنْـتُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُوْنَ ۔
(النمل : 55)
(کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے جاتے ہو بلکہ تم بڑے ہی جاہل ہو۔ )
خلافِ فطرت کام پر اظہارِتعجب و حیرت
اظہارِ تعجب و کراہت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ قضائے شہوت کے لیے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو پیدا کیا ہے، لیکن تمہاری فطرت شاید اس حد تک مسخ ہوگئی ہے کہ تم ان کے پاس جانے کی بجائے مردوں کے پاس جاتے ہو۔ اور مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ پوری کی پوری قوم اس کھلی بےحیائی میں اس طرح شریک ہے کہ ہر شخص اس بری حرکت پر فخر کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ تمہارا یہ رویہ دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ تم بہت بڑے جاہل لوگ ہو۔ جاہل صرف اَن پڑھ اور بےعلم کو نہیں کہتے بلکہ اس شخص کو بھی کہتے ہیں کہ جو جذبات اور خواہشاتِ نفس سے اس حد تک مغلوب ہوجائے کہ عقل و حواس کھو بیٹھے۔ اور اس قوم کا یقینا یہی حال تھا۔
Ayah 27:56فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْٓا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِکُمْ ج اِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَّـتَطَھَّرُوْنَ ۔ (النمل : 56)
(پس نہیں تھا ان کی قوم کا جواب، مگر یہ کہ انھوں نے کہا کہ آل لوط کو اپنی بستی سے نکال دو ، یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔ )
دلائل سے پسپائی
حضرت لوط (علیہ السلام) کی تنقید کا جواب تو ان کی قوم کے پاس بالکل نہ تھا۔ البتہ یہ حوصلہ بھی ان کے پاس نہ تھا کہ وہ اپنی برائیوں اور بےحیائیوں پر طعنہ زنی برداشت کرسکیں۔ اس لیے انھوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی تنقید سے بچنے کے لیے لوگوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ لوط اور اس کے ساتھی اور گھر والے عجیب لوگ ہیں کہ اٹھتے بیٹھتے ہماری برائیوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک ان کے سوا ساری قوم بدکردار لوگوں پر مشتمل ہے۔ صرف یہی پارسا لوگ ہیں۔ اب پوری قوم تو پارسا ہونے سے رہی، ان میں اور قوم میں جو خلیج حائل ہوگئی ہے اس کا ایک ہی علاج ہے کہ ان کو اپنی بستیوں سے نکال دو ۔ یہ نہ ہمیں دیکھیں گے اور نہ ہم پر تنقید کریں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی قوم برائی میں اس حد تک اتر جاتی ہے کہ وہ اس کی فطرتِ ثانیہ بن جاتی ہے تو پھر اس کے لیے اپنی اصلاح کرنا تو ممکن نہیں رہتا، پھر وہ اصلاح کرنے والوں اور تنقید کرنے والوں کو خاموش کرنے کے لیے زہر آلود طعنوں سے کام چلاتی ہے۔ بےنمازوں میں کوئی نمازی گھس جائے تو اسے صوفی صوفی کہہ کر شرمندہ کیا جاتا ہے۔ اور اذان ہونے پر بجائے اس کے کہ وہ کچھ کہے پہلے ہی اسے نماز کے لیے جانے کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ بےپردہ عورتوں میں کسی باپردہ عورت کا چلے جانا اس کے اپنے لیے مصیبت کا باعث بن جاتا ہے۔ اس کی طرف آنکھوں سے اشارے کیے جائیں گے، ہنسی اڑائی جائے گی، قدامت پرستی کے طعنے دیئے جائیں گے۔ چناچہ باپردہ خاتون کو یہ خیال ہوگا کہ میں نے پردہ کرکے شاید کوئی گناہ کیا ہے۔ اور مقصود ان لوگوں کا یہ ہوتا ہے کہ اس شخص نے ہمارے یہاں آکر ہمارے رنگ کو پھیکا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ اسے یا تو نکو بنادیا جائے اور یا اسے مجلس سے نکلنے پر مجبور کردیا جائے۔ غالب نے ٹھیک کہا :
میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی
سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
Ayah 27:57فَاَنْجَیْنٰـہُ وَاَھْلَـہٗٓ اِلاَّ امْرَاَتَہٗ ز قَدَّرْنٰـھَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ۔ (النمل : 57)
(سو ہم نے اسے اور اس کے لوگوں کو نجات دے دی، بجز اس کی بیوی کے، ہم نے فیصلہ کردیا اس کے متعلق کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔ )
فیصلہ کن چیز ایمان اور کفر ہے
قومِ لوط کا بگاڑ جب یہاں تک پہنچا کہ پیغمبر اور اس کے متعلقین بھی ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگئے اور اس کو اپنی بستی سے نکالنے کی تدبیریں ہونے لگیں، تب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کی تفصیلات قرآن کریم نے بعض دیگر مواقع پر ذکر کی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ آپ ( علیہ السلام) اپنے اہل کو لے کر رات ہوتے ہی گھر سے نکل جائیں۔ اہل سے مراد یہاں صرف اہل خانہ نہیں بلکہ آپ ( علیہ السلام) کے اہل و عیال اور اتباع و صحابہ سب مراد ہیں۔ اور پیچھے پلٹ کر نہ دیکھیں۔ البتہ آپ ( علیہ السلام) کی بیوی آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ نہیں جائے گی ہم نے اسے کے بارے میں طے کردیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ یعنی آپ ( علیہ السلام) کی قوم پتھروں کے جس عذاب کا شکار ہونے والی ہے آپ کی بیوی بھی ان میں شامل ہے۔ کیونکہ یہ وہ بدنصیب خاتون ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کے نبی کی مصاحبت نصیب ہوئی لیکن اس کی ہمدردیاں اپنی نابکار قوم کے ساتھ رہیں۔ ایسی عورت تو دوسرے لوگوں سے زیادہ عذاب کی مستحق ہے۔
Ayah 27:58وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَّطَرًا ج فَسَـآئَ مَطَرُالْمُنْذَرِیْنَ ۔ (النمل : 58)
(اور ہم نے ان پر برسایا ایک ہولناک برسانا، پس کیا ہی بری بارش تھی ان لوگوں پر جنھیں ڈرایا گیا تھا۔ )
قومِ لوط کا انجام
اس سے پہلے اس عذاب کی تفصیل گزر چکی ہے جس عذاب سے قوم لوط کو تباہ کیا گیا۔ اور پھر جس طرح ان پر پتھر برسائے گئے اور ان کی بستیاں بھی تباہ کردی گئیں ان کو ایک ایسا عبرت کا نشان بنادیا گیا جو بعد کی دنیا کے لیے دہلا دینے والا انجام تھا۔ اور اس کا سبب صرف یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول نے انھیں بار بار انذار کیا، لیکن انھوں نے اس پر کان دھرنا بھی گوارا نہیں کیا۔
Ayah 27:59قُلِ الْحَمْدُالِلّٰہِ وَسَلٰـمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰے ط آٰ للّٰہُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔
(النمل : 59)
(اے پیغمبر) کہہ دیجیے ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے برگزیدہ کیا، کیا اللہ بہتر ہے یا وہ چیزیں جن کو یہ شریک بنا رہے ہیں۔ )
خطبے کا آغاز اور آغاز گفتگو کی تعلیم
یہاں سے دوسرا خطبہ شروع ہوتا ہے اور یہ آیت کریمہ آنے والے خطبے کی تمہید ہے۔ اس میں یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی تقریر اور اپنی گفتگو کا آغاز کس طرح کرنا چاہیے۔ اس میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد کی گئی ہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے ان بندوں پر سلام بھیجا گیا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے برگزیدہ کیا ہے۔ ان برگزیدہ بندوں میں چونکہ سب سے بالاقامت اور علومرتبت کے حامل محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اس لیے مسلمانوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ وہ اپنی گفتگو اور تقریر کا آغاز حمدوثناء اور نبی کریم ﷺ پر خصوصاً دیگر انبیائے کرام، صحابہ کرام اور آپ کے تمام متبعین پر عموماً درودوسلام کے ساتھ کرتے ہیں۔ قرونِ اولیٰ سے لے کر استعمار سے پہلے تک مسلمانوں کا یہی طریقہ رہا ہے اور اسلامی ذہنیت رکھنے والے لوگ آج بھی اسی پر عامل ہیں، لیکن جن لوگوں کے دماغوں پر بدیشی تہذیب اور زبان کا غلبہ ہے وہ اب اس طریقے کو ملائیت سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اس کی تعلیم قرآن کریم نے دی اور نبی کریم ﷺ نے اسے معمول بنا کر اسلامی ثقافت کا حصہ بنادیا۔
یہاں سے وہ آیات شروع ہورہی ہیں جو خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ اس لحاظ سے اس خطبے میں اوپر بیان کیے گئے واقعات کے نتائج بھی سامنے رکھ دیئے گئے ہیں اور قرآن کریم کی دعوت توحید آفاقی و انفسی دلائل کی قوت کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ اور سورة کے آغاز میں جس طرح مخالفین کے اصل سبب انکار سے پردہ اٹھایا گیا تھا اس کو مزید دلائل سے مرصع فرما کر ذکر کیا گیا ہے۔
دو کردار اور ان کا انجام
اس آیت کریمہ میں بظاہر تو اللہ تعالیٰ کی حمد اور اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہے لیکن حقیقت میں یہ کہنا مقصود ہے کہ اوپر ہم نے جو واقعات بیان کیے ہیں ان سے دو کردار سامنے آتے ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ کے ان بندوں کا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا اور ہرحال میں اللہ تعالیٰ کے شکرگزار اور فرمانبردار رہے۔ حکومت و ریاست اور دولت و رفاہیت ان میں کسی قسم کا پندار یا تکبر پیدا کرنے کی بجائے عاجزی اور فروتنی کا ذریعہ بنی رہی۔ ان کی زندگیاں کامیابی و کامرانی کی منہ بولتی تصویر ہیں۔ ان سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور اس کے سامنے عاجز بن کر رہتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں سربلند فرماتا ہے اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کے ترانے گونجتے ہیں اور اس کی حاکمیت کے غلغلے بلند ہوتے ہیں اور دلوں پر یہ بات نقش ہوجاتی ہے کہ ہر طرح کی حمد وثناء اور ہر طرح کے شکروسپاس کا حقدار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اور سلامتی وبقاء اور نیک نامی صرف ان لوگوں کا مقدر ہے جو اللہ تعالیٰ کے شکرگزار بن کر رہتے ہیں۔
دوسرا کردار ان لوگوں کا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے بیش بہا نعمتوں سے نوازا۔ حکومت و ریاست جیسی نعمت عطا کی۔ مال و دولت ان کے گھر کی لونڈی بنی رہی، لیکن انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس حد تک ناشکری کی کہ خود خدا بن بیٹھے۔ ہر نعمت کو اپنی ملکیت سمجھا، خیر کی ہر قوت کو پامال کرکے رکھ دیا، علو و استکبار کی علامت بن کر لوگوں پر مظالم توڑے، اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی دعوت کو ہر ممکن طریقے سے روکنے کی کوشش کی اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں نہ جانے کتنے قوت کے مرکز تلاش کیے، اوتاروں اور دیوتائوں کی پوجا کی، پتھر کے بت تراشے اور انھیں خدائی کے منصب پر فائز کردیا۔ لیکن جب ان پر ان کی انہی حرکتوں اور تکذیبِ رسالت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو نہ ان کے خدا اور دیوتا کام آئے اور نہ ان کی حکومت اور دولت انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکی۔
ان دونوں کرداروں کو سامنے رکھ کر خطبے کی تمہید کے طور پر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا تمہارے معبودانِ باطل بہتر ہیں۔ پھر اس کے بعد مسلسل اللہ تعالیٰ کی قدرت اور تخلیق کے ایک ایک کرشمے کی طرف انگلی اٹھا کر پوچھا گیا ہے کہ بتائو یہ کام کس نے کیے ہیں ؟ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا بھی ان کاموں میں شریک ہے ؟ اور اگر نہیں ہے تو پھر تم نے انھیں خدا کیوں بنا رکھا ہے۔ اس طرح سے یہ آیات ردشرک کے لیے بھی ہیں اور دہریوں کی دہریت کے ابطال کے لیے بھی ہیں۔ آنحضرت ﷺ کا معمول یہ تھا کہ جب آپ ﷺ اس آیت کی تلاوت فرماتے تو فوراً اس کے جواب میں فرماتے بَلِ اللّٰہُ خَیْرٌوَّابْقٰی وَاَجَلُّ وَ اَکْرَمُ ” نہیں بلکہ اللہ ہی بہتر ہے اور وہی باقی رہنے والا اور بزرگ و برتر ہے۔ “