27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsروح القرآن

Ayah 27:82

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

اور جب ہماری بات ان پر پوری ہونے کا وقت آن پہنچے گا تو ہم ان کے لیے ایک جانور زمین سے نکالیں گے جو ان سے گفتگو کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے

وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْھِمْ اَخْرَجْنَا لَہُمْ دَآبَّـۃً مِّنَ الْاَرْضِ تُـکَلِّمُھُمْ لا اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیٰـتِنَا لاَ یُوْقِنُوْنَ ۔ (النمل : 82) (اور جب ہماری بات ان پر پوری ہونے کا وقت آن پہنچے گا تو ہم ان کے لیے ایک جانور زمین سے نکالیں گے جو ان سے گفتگو کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے۔ ) اتمامِ حجت کے بعد کا مرحلہ جب ہماری بات پوری ہونے کا وقت ان پر آپہنچے گا، کا مطلب یہ ہے کہ لوگ جب قبولیتِ حق سے بہت حد تک محروم ہوجائیں گے اور اہل حق کی تبلیغی کاوشیں بےاثر ہونے لگیں گی تو تب اللہ تعالیٰ اتمامِ حجت کے لیے ایسی نشانیاں ظاہر کرے گا جس کے بعد وقوع قیامت کا مرحلہ شروع ہوجائے گا۔ چناچہ آثار قیامت میں جو نشانیاں بیان فرمائی گئی ہیں ان میں سے ایک نشانی دَآبَّـۃُ الْاَرْضِکا خروج ہے جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) کے قول کے مطابق دَآبَّـۃُ الْاَرْضِ کا ظہور اس وقت ہوگا جب نیکی کا حکم کرنے والا اور بدی سے روکنے والا زمین میں کوئی شخص باقی نہیں رہے گا۔ حضرت ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ یہی بات انھوں نے خود حضور ﷺ سے سنی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان امربالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ دیں گے تو قیامت قائم ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ ایک جانور کے ذریعے سے آخری مرتبہ حجت قائم فرمائے گا۔ وہ لوگوں سے آکر کلام کرے گا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ان آیات پر یقین نہیں کرتے تھے جن میں قیامت کے آنے اور آخرت کے برپا ہونے کی خبریں دی گئی تھیں۔ تو اب مجھ سے سن لو کہ آخرت کا وقت قریب آن لگا ہے۔ اور جو کچھ قرآن اور آنحضرت ﷺ نے بتایا تھا وہ سب سچا تھا۔ خروجِ دابہ کا وقت رہی یہ بات کہ اس جانور کے خروج کا وقت کون سا ہوگا ؟ اس کے متعلق نبی کریم ﷺ کا ارشاد یہ ہے کہ آفتاب مغرب سے طلوع ہوگا اور ایک روز دن دیہاڑے یہ جانور نکل آئے گا۔ ان میں سے جو نشانی بھی پہلے ہو وہ بہرحال دوسری کے قریب ہی ظاہر ہوگی۔ حدیث کی تمام بڑی کتابوں میں ایسی روایات موجود ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے بتایا ہے کہ قیامت کے قریب زمانے میں دجال کا خروج، دَآبَّـۃُ الْاَرْضِکا ظہور، دخان اور آفتاب کا مغرب سے طلوع، وہ نشانیاں ہیں جو یکے بعد دیگرے ظاہر ہوں گی۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ( رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کی اولین علامتوں میں سے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت دَآبَّـۃُ الْاَرْضِکا نکلنا ہے۔ ان دو میں سے جو بھی پہلے واقعہ ہوا دوسرا اس کے فوراً بعد ہوگا۔ اس کے علاوہ اس کے قدوقامت، مقامِ خروج وغیرہ کے متعلق بڑی تفصیل سے روایات مذکور ہیں۔ لیکن امام رازی فرماتے ہیں : واعلم انہ لادلالۃ فی الکتاب علی شیء من ھٰذہ الامور فان صَحَّ الخبر فیہ من الرسول ﷺ قبل والا لم یلتفت الیہ (کبیر) ” خوب جان لو کہ کتاب اللہ میں ان امور پر کوئی دلالت نہیں، جو چیز صحیح احادیث سے ثابت ہے وہ مان لی جائے گی، ورنہ اس کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا۔ “ ایک اشتباہ کا جواب ممکن ہے کہ ذہن میں یہ خیال آئے کہ ایک جانور انسانوں سے کلام کیسے کرے گا ؟ تو یہ بات اس لیے بعیدازعقل نہیں کیونکہ پروردگار اپنی ایک قدرت کے کرشمے کے طور پر اس جانور کو ظاہر فرمائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس جانور کا خروج اور اس کی غیرمعمولی صفات اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ظہور کے طور پر ہوں گی۔ اور اس کی قدرت سے کوئی بات مستبعد نہیں۔ ویسے بھی جس شخص نے قیامت کے حالات کو غور سے پڑھا ہے وہ جانتا ہے کہ قیامت سے پہلے تو صرف یہ جانور لوگوں سے باتیں کرے گا لیکن وقوع قیامت کے بعد انسان جب اللہ تعالیٰ کی عدالت میں کھڑا کیا جائے گا تو اس کے تمام اعضاء باتیں کریں گے۔ اور جب ان اعضاء سے کہا جائے گا کہ تمہیں یہ بولنے کی طاقت کس نے دی ؟ تو وہ جواب میں کہیں گے اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْ اَنْطَقَ کُلِّ شَیْ ئٍ ” ہمیں اس نے بولنے کی طاقت دی ہے جس نے ہر چیز کو بولنا سکھایا۔ “
Ayah 27:83

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:83 in the Quran reader

اور ذرا تصور کیجیے اس دن کا جب ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کی ایک فوج اکٹھا کریں گے جو ہماری آیات کی تکذیب کیا کرتے تھے، پھر ان کی درجہ بندی کی جائے گی

وَیَوْمَ نَحْشُرُمِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّـکَذِّبُ بِاٰیٰـتِنَا فَھُمْ یُوْزَعُوْنَ ۔ (النمل : 83) (اور ذرا تصور کیجیے اس دن کا جب ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کی ایک فوج اکٹھا کریں گے جو ہماری آیات کی تکذیب کیا کرتے تھے، پھر ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔ ) قیامت کی یاددہانی اور محشر میں مکذبین کی حالت علاماتِ قیامت میں سے ایک علامت کے ذکر سے جب قیامت کی طرف توجہ مبذول ہوئی تو روزحشر کی یاددہانی فرمائی گئی کہ اس دن کو یاد رکھو جس دن اللہ تعالیٰ ہر امت میں سے اپنی آیات کا انکار کرنے والوں کی ایک پوری فوج جمع کرے گا اور پھر ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔ اس سے بتانا شاید یہ مقصود ہے کہ قیامت کا انکار کرنے والے بعض دفعہ ان لوگوں کی کثرت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو عقیدہ و عمل کے فساد کے باعث یقینا جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ تو یہ کروڑوں اور اربوں کی تعداد میں لوگ آخر کس طرح جہنم میں سما جائیں گے۔ پروردگار نے فوج کا لفظ لا کر اشارہ فرمایا ہے کہ جہنم کی وسعتیں بےپناہ ہیں۔ ہم جہنم میں جانے والوں کو فوج در فوج جمع کریں گے۔ وہاں افراد کا سوال نہیں ہوگا۔ ان فوجوں کے جہنم میں ڈالے جانے کے بعد بھی جہنم کی وسعتوں میں کمی نہیں آئے گی۔ وہ تو برابر ہل من مزید پکارتی رہے گی۔ اور یہ بھی اشارہ فرمایا کہ فوجوں کا ہجوم بھی بغیر کسی شناخت کے نہیں ہوگا بلکہ عقیدہ و عمل میں فساد کے تنوع کے اعتبار سے ان میں درجہ بندی کی جائے گی۔ بہت بڑی تعداد کے باوجود ہر شخص جہنم کی اس وادی میں پھینکا جائے گا جو اس جیسے مجرمین کے لیے بنائی گئی ہوگی۔ کوئی شخص اگر اپنے کفر و شرک کے باوجود خدمت خلق میں لگا رہا ہوگا تو اسے یقینا ان لوگوں کے ساتھ نہیں رکھا جائے گا جو کافر اور مشرک ہونے کے ساتھ ساتھ ظالم و جابر بھی ہوں گے۔ ہر شخص کی فائل محفوظ ہوگی، ہر شخص کا نامہ عمل بول رہا ہوگا۔ یہ لوگ اپنے عقیدہ و عمل کے اعتبار سے اگرچہ کسی رحم کے مستحق نہیں ہوں گے لیکن سزا میں بےانصافی ان کے ساتھ بھی نہیں ہوگی۔
Ayah 27:84

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:84 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو (پروردگار) پوچھے گا کہ تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا، یا وہ کیا تھا جو تم کرتے رہے ہو

حَتّٰیٓ اِذَا جَآئُ ْوقَالَ اَکَذَّبْـتُمْ بِاٰیٰـتِیْ وَلَمْ تُحِیْطُوْا بِھَا عِلْمًا اَمَّاذَا کُنْـتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (النمل : 84) (یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو (پروردگار) پوچھے گا کہ تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا، یا وہ کیا تھا جو تم کرتے رہے ہو۔ ) مکذبین سے ایک سوال جب سب مجرمین میدانِ حشر میں اکٹھے ہوجائیں گے جن میں عقیدہ و عمل کی ہر طرح کی خرابیوں کے حامل لوگ موجود ہوں گے تو پروردگار ان سے پوچھے گا کہ میں نے تمہیں عقل جیسی دولت عطا فرمائی اور پھر سلامتِ فکر کے لیے بار بار اپنے پیغمبر بھیجے اور فکری غذا کے لیے ان پر اپنی کتابیں نازل کیں اور ہر طرح کے دلائل سے اپنی وحدانیت، وحیِ الٰہی اور تمہاری اس کے لیے احتیاج، زندگی گزارنے کے لیے ایک ضابطہ حیات اور جزاء و سزا کے لیے روز حشر کے قیام کو واضح فرمایا۔ لیکن تم نے ان تمام دلائل کو رد کرتے ہوئے میری آیات کا انکار کیا۔ بتائو اس کی وجہ کیا تھی۔ حالانکہ تم جانتے ہو کہ جن بنیادی اعتقادات پر تمہیں ایمان لانے کی دعوت دی گئی تھی بالخصوص اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور قیامت کا وجود، تم اپنے محدود علم کے ذریعے ان حقائق کا احاطہ نہیں کرسکتے تھے۔ کیونکہ تمہارے پاس تمام اسرارِ کائنات کا علم نہیں جس کی بنیاد پر تم کوئی ایسا دعویٰ کرسکو۔ لیکن ان تمام کوتاہیوں اور ناتمامیوں کے باوجود تم نے میری آیات اور تنبیہات کی تکذیب کی۔ تو بتائو تمہارے پاس اس کے لیے کیا عذر ہے ؟ اور اگر تم نے میری آیتوں کی تکذیب نہیں کی تو بتائو تم نے کیا کیا ؟ اس الزام کو غلط ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل پیش کرو۔
Ayahs 27:85–86

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 27:85 in the Quran reader

اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر عذاب کا وعدہ پورا ہوجائے گا تب وہ کچھ بھی نہ بول سکیں گے

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 27:86 in the Quran reader

کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو بنایا تاکہ اس میں سکون حاصل کریں اور دن کو روشن بنایا بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لانا چاہیں

وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْھِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَہُمْ لاَ یَنْطِقُوْنَ ۔ (النمل : 85) (اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر عذاب کا وعدہ پورا ہوجائے گا تب وہ کچھ بھی نہ بول سکیں گے۔ ) مکذبین کی بےبسی اس سے پہلے بھی وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْھِمْ کا جملہ گزر چکا ہے۔ وہاں اس کا مطلب یہ تھا کہ جب کفار اپنے ایمان کو کسی بڑی نشانی دکھانے کے ساتھ مشروط کردیں گے اور بار بار اس نشانی کا مطالبہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ کا وہ فیصلہ ان پر مسلط ہوجائے گا جو منہ مانگی نشانی دکھانے پر عام طور پر مسلط کیا جاتا رہا ہے۔ وہی لفظ اس آیت میں دوبارہ لایا گیا ہے۔ لیکن یہاں ماجرا روزحشر کا ہے۔ اس لیے اس سے مراد دنیا کا فیصلہ نہیں بلکہ وہ فیصلہ مراد ہے جو تمام کفار و مشرکین اور مجرمین کو جہنم میں جھونک دینے کے لیے ہوگا۔ جب ان کا کفر و شرک اور نافرمانی جیسے جرائم کا ثبوت پوری طرح شہادتیں قائم ہوجانے کے بعد ان کے سامنے فراہم کردیا جائے گا تو تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوگا کہ آج کا دن چونکہ جزاء کا دن ہے آج ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ یہ لوگ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں کہ انھوں نے کتنے بڑے بڑے جرائم کیے ہیں۔ ان کے جرائم کا کم سے کم تقاضا یہ ہے کہ انھیں جہنم میں پھینک دیا جائے۔ اس سے پہلے کافر بہت کچھ سخن سازی سے کام لیں گے، اپنے جرائم سے انکار بھی کریں گے اور اپنے جرائم کی مختلف توجیہات بھی کریں گے۔ لیکن عذاب کا فیصلہ ہوجانے کے بعد ان کی زبانیں بالکل گنگ ہو کر رہ جائیں گی اور وہ کچھ بولنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ سورة یٰسین میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰی اَفْوَاھِھِمْ وَتُکَلِّمُنَا اَیْدِیْھِمْ وَتَشْہَدُ اَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے اعمال سے متعلق ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پائوں گواہی دیں گے۔ ) اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْکُنُوْا فِیْہِ وَالنَّھَارَ مُبْصِرًا ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ۔ (النمل : 86) (کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو بنایا تاکہ اس میں سکون حاصل کریں اور دن کو روشن بنایا بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لانا چاہیں۔ ) اس طرح کی آیات کے ترجمے میں دو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں اور دونوں صحیح ہیں۔ ایک طریقہ وہ ہے جس طرح ہم نے ترجمہ کیا کہ آیت کے الفاظ کے مطابق محذوفات کو فرض کیے بغیر ترجمہ کردیا گیا ہے۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پہلے جملے میں مُبْصِرًاکے قرینے سے مَظْلِمًاکو محذوف مانا جائے اور دوسرے جملے میں تَعْمَلُوْایا اس کے ہم معنی کوئی اور فعل محذوف سمجھا جائے۔ اسی طرح آیت کا آخری لفظ یُؤْمِنُوْنَ فعل کے معنی میں بھی لیا جاسکتا ہے اور ارادہ فعل کے مفہوم میں بھی۔ نشانیاں مانگنے والوں کو ملامت جو لوگ نشانیِ عذاب کا نہ صرف مطالبہ کرتے تھے بلکہ اپنے ایمان کو اس کے ساتھ مشروط ٹھہراتے تھے انھیں ملامت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یوں تو اللہ تعالیٰ کی اس کائنات میں ہر طرف بیشمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ آنکھیں بینا ہوں تو دیکھی جاسکتی ہیں۔ لیکن زیادہ نہیں تو دو نشانیاں تو ایسی ہیں جن کا ہر وقت مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور پھر اس مشاہدے کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ ہر انسان ہر وقت ان کے فوائد سے متمتع ہورہا ہے۔ اور پھر یہ نشانیاں ایسی نہیں جس کے دیکھنے کے لیے آنکھوں کی ضرورت ہو۔ اندھے بہرے اور گونگے سب ان سے فیضیاب ہورہے ہیں۔ ان نشانیوں سے مراد رات اور دن کی دو نشانیاں ہیں۔ رات کی تاریکی سے کون ہے جو ناواقف ہے۔ ہر شخص اس میں آرام ڈھونڈتا اور سکون پاتا ہے۔ اسی طرح دن کا اجالا ہر شخص کے لیے لطف و لذت اور سرگرمیوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ رات کا آرام انسان کو تازہ دم کرتا ہے تاکہ وہ دن کی روشنی میں روزی کے حصول کے لیے دوڑ بھاگ کرسکے۔ اور دن کی دوڑ بھاگ اسے تھکا دیتی ہے تو رات کی تاریکی اسے ماں کی آغوش بن کر تھپکیاں دیتی ہوئی اس طرح اپنے پہلو میں سلاتی ہے کہ اس کی قوت کارکردگی بحال ہوجاتی ہے۔ اور اگر آیات سے مراد صرف دو نہیں متعدد نشانیاں مراد لی جائیں تو رات اور دن کی دو نشانیوں میں متعدد نشانیوں کا وجود مضمر ہے۔ شب و روز کا یکے بعد دیگرے آنا اور کبھی اس میں تخلف کا نہ ہونا، تضاد کے باوجود ان میں توافق کی کارفرمائی، مخلوق کے لیے ان دونوں کی فیض رسانی اور پھر ان نشانیوں میں اس کی پنہاں قدرت، حکمت، ربوبیت اور حشر و نشر پر ان کا انطباق ایک جہانِ معنی ہے جس کا شمار کرنا آسان نہیں۔ نشانی کا مطالبہ کرنے والوں سے کہا جارہا ہے کہ تمہاری طلب اگر صادق ہوتی تو کیا ان نشانیوں میں سے کوئی نشانی تمہیں اپیل نہ کرتی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں میں ایمان کا ارادہ نہ ہو ان کے لیے روشن سے روشن نشانی بھی تاریکی بن جاتی ہے۔ اور جو اپنے اندر آمادگی کی تڑپ رکھتے ہیں ان کے لیے درختوں کا ایک ایک پتا معرفتِ کردگار کا دفتر بن جاتا ہے۔
Ayah 27:87

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ Open ayah 27:87 in the Quran reader

اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں ہول کھا جائیں گے بجز ان لوگوں کے جنھیں اللہ اس ہول سے بچانا چاہے اور سب اس کے آگے سرفگندہ ہو کر حاضر ہوجائیں گے

وَیَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلاَّ مَنْ شَآئَ اللّٰہُ ط وَکُلٌّ اَ تَوْہُ دٰخِرِیْنَ ۔ (النمل : 87) (اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں ہول کھا جائیں گے بجز ان لوگوں کے جنھیں اللہ اس ہول سے بچانا چاہے اور سب اس کے آگے سرفگندہ ہو کر حاضر ہوجائیں گے۔ ) ہَولِ قیامت سے تذکیر مختلف طریقوں سے آخرت یاد دلائی جارہی ہے کیونکہ وہی ان آیات کا اصل موضوع ہے اور وہی انسانی زندگی میں صالح تبدیلی کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں دل و دماغ کو آخرت کے تصور کے قریب لانے کے بعد اب اس کے وقوع کی منظرکشی کی جارہی ہے۔ اور یہ شاید اس لیے بھی ضروری ہے کہ مشرکینِ عرب بالخصوص قریش قیامت اور آخرت کے تصور کو استہزاء بنا چکے تھے اور اگر ان میں سے کوئی شخص سنجیدگی سے بھی ذکر کرتا تو بہت ہلکے انداز میں ذکر کرتا تھا۔ اس لیے فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے ہول اور واقعہ کو معمولی نہ سمجھیں۔ جس دن اس کے وقوع پذیر ہونے کے لیینفخِ صور ہوگا، یعنی خدائی بگل بجایا جائے گا تو زمین و آسمان میں کوئی مخلوق ایسی نہیں ہوگی جس پر ہول اور گھبراہٹ طاری نہ ہو۔ البتہ اس گھبراہٹ سے صرف وہ لوگ محفوظ رہیں گے جنھیں اللہ تعالیٰ محفوظ رکھنا چاہے گا۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان خوش نصیب لوگوں میں انبیائے کرام، شہداء عظام اور اس کے مقبول بندے شامل ہوں گے۔ ان کے گھبراہٹ سے مامون رہنے کی وجہ ایک تو یہ ہوگی کہ انھیں پروردگار کی جانب سے تحفظ حاصل ہوگا، کوئی ناگوار بات ان پر اثرانداز نہ ہوسکے گی۔ اور دوسری وجہ جو انسانی ذہنوں کے قریب تر ہے وہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں قیامت اور آخرت کی ایک ایک بات پر یقین رکھتے تھے۔ اور وہاں کی حاضری کی انھوں نے پہلے سے تیاری کر رکھی تھی۔ چناچہ جب انھیں آخرت سے واسطہ پڑا تو انھیں کسی بات پر تعجب نہیں ہوا۔ یقین کا نور ہر جگہ ان کے لیے روشنی کا سامان بنا رہا۔ انھوں نے ہر تبدیلی کو جانی پہچانی چیز سمجھا۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ اس دن کی ہولناکی اور ہیبت کا عالم یہ ہوگا کہ بڑے چھوٹے لیڈر اور پیرو سب اس دن خدا کے حضور میں نہایت عاجزی اور ذلت کے ساتھ حاضر ہوجائیں گے۔ اس ذلت سے بھی وہ لوگ محفوظ رہیں گے جنھیں اللہ تعالیٰ محفوظ رکھنا چاہے گا۔
Ayah 27:88

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:88 in the Quran reader

تو اس دن پہاڑوں کو دیکھے گا تو گمان کرے گا کہ خوب جمے ہوئے ہیں حالانکہ وہ چل رہے ہوں گے، بادلوں کے چلنے کی طرح، یہ اس اللہ کی کاریگری ہوگی جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا، بیشک وہ ہر چیز سے باخبر ہے جو تم کررہے ہو

وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُھَا جَامِدَۃً وَّھِیَ تَمُرُّ مَرَّالسَّحَابِ ط صُنْعَ اللّٰہِ الَّذِیْٓ اَتْقَنَ کُلَّ شَیْ ئٍ ط اِنَّـہٗ خَبِیْرٌ م بِمَا تَفْعَلُوْنَ ۔ (النمل : 88) (تو اس دن پہاڑوں کو دیکھے گا تو گمان کرے گا کہ خوب جمے ہوئے ہیں حالانکہ وہ چل رہے ہوں گے، بادلوں کے چلنے کی طرح، یہ اس اللہ کی کاریگری ہوگی جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا، بیشک وہ ہر چیز سے باخبر ہے جو تم کررہے ہو۔ ) قیامت کا ایک اور منظر قیامت کے ہولناک مناظر میں سے ایک اور دل کو لرزا دینے والا منظر بیان کیا گیا ہے کہ اس روز پہاڑ اپنے حجم اور جسامت کے باوجود دیکھنے والوں کو حسب سابق کھڑے ہوئے نظر آئیں گے لیکن حقیقت میں وہ بادلوں کی طرح تیزی سے حرکت کررہے ہوں گے۔ یاد رہے کہ پہاڑوں کا بطور خاص ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ عرب کے حکماء کا حال یہ تھا کہ وہ پہاڑوں کو غیرفانی سمجھتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ ہر چیز فنا ہوسکتی ہے لیکن پہاڑ کبھی فنا نہیں ہوں گے۔ تو قیامت اور آخرت چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عام فنا اور ہلاکت کا دن ہوگا اس لیے پہاڑ بھی اس عمومی تباہی سے بچ نہیں سکیں گے۔ بادلوں کی طرح چلتے چلتے اچانک ایک جھٹکا لگے گا کہ سب کچھ تباہ ہو کر کے رہ جائے گا۔ جہاں تک ان کی پائیداری اور ثبات وقرار کا تعلق ہے اس میں کوئی کلام نہیں۔ اس میں استحکام اور پائیداری اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہوگی۔ لیکن جب تباہی اور بربادی کا اعلان ہوگا تو پہاڑ بھی اس سے کیسے محفوظ رہ سکیں گے۔ بتانا صرف یہ ہے کہ تمہیں ایک ایسے ہولناک دن سے واسطہ پڑنے والا ہے لیکن تمہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ تمہارے ایک ایک عمل سے باخبر ہے۔ وہ اپنے علم اور تمہاری شہادتوں کے مطابق تمہارے اعمال سے متعلق تمہاری جواب طلبی کرے گا۔
Ayah 27:89

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ Open ayah 27:89 in the Quran reader

جو نیک عمل لے کر آئیں گے تو ان کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور وہ اس دن گھبراہٹ سے مامون رہیں گے

مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَـہٗ خَبْرٌ مِّنْھَا ج وَھُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ ۔ وَمَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ فَکُبَّتْ وُجُوْھُھُمْ فِی النَّارِ ط ھَلْ تُجْزَوْنَ اِلاَّ مَاکُـنْـتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (النمل : 89، 90) (جو نیک عمل لے کر آئیں گے تو ان کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور وہ اس دن گھبراہٹ سے مامون رہیں گے۔ اور جو لوگ برائی لے کے آئیں گے تو وہ اوندھے منہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے، تمہیں بدلہ میں وہی دیا جائے گا جو تم کرتے رہے ہو۔ ) عدل و جزاء کا دن قیامت کے ہولناک مناظر اور روح فرسا واقعات کا ذکر کرکے فرمایا کہ قیامت کا دن بدلے اور انصاف کا دن ہے۔ اس دن نہ کسی کو محرومی کا شکار ہونا پڑے گا اور نہ کسی کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرتے ہوئے ہَوائے نفس کی مخالفت کی، مفادات کو نظرانداز کیا، خواہشات کو لگام ڈالی اور رضائے الٰہی کو اپنی منزل بنایا اور ہر ممکن طریقے سے ایثار اور قربانی کو اپنا شعار بنایا۔ اس دن ان کے اعمال کا صلہ ان کے اعمال سے بہتر انھیں دیا جائے گا۔ کیونکہ عمل کرنے والا اپنی ذات میں نہایت کمزور اور کوتاہ ہمت واقع ہوا ہے، لیکن بدلہ دینے والا نہایت کریم اور غنی ہے۔ اس کا بہتر سے بہتر عمل یقینا اپنے اندر کوئی نہ کوئی کمزوری رکھتا ہے، لیکن غنی اور کریم کی جزاء اس کی اپنی شان کے لائق ہے۔ یوں تو اس کے اندر بیشمار درجات ہیں لیکن ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ جزاء عمل سے بہتر ہوگی۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اس قیامت کے دن کی ہولناکی سے بالکل مامون اور محفوظ ہوں گے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہیں اور اس کی شریعت کی حدود کو پامال کرتے ہیں وہ بھی قیامت کے دن اپنے اعمال سمیت اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے۔ تو قیامت کا دن چونکہ عدل و انصاف کا دن ہے اس لیے وہ اپنی بداعمالیوں کے صلے میں اوندھے منہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے اور ایک پکارنے والا پکار رہا ہوگا کہ تم جس انجام سے دوچار کیے جارہے ہو، یہ کوئی ظلم اور زیادتی نہیں، یہ تمہارے ہی اعمال کا صلہ اور نتیجہ ہے۔ تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہورہی ہے بلکہ آج تم وہی کاٹ رہے ہو جو تم دنیا میں کاشت کرتے رہے ہو۔
Ayahs 27:90–92

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:90 in the Quran reader

اور جو لوگ برائی لے کے آئیں گے تو وہ اوندھے منہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے، تمہیں بدلہ میں وہی دیا جائے گا جو تم کرتے رہے ہو

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ Open ayah 27:91 in the Quran reader

مجھے تو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اس گھر کو عزت و حرمت والا بنایا ہے اور ہر چیز اسی کے اختیار میں ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداری کرنے والوں میں سے بنوں

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 27:92 in the Quran reader

نیز یہ بھی کہ میں قرآن پڑھ کر سنائوں، تو جو ہدایت کی راہ اختیار کرے گا وہ اپنے ہی فائدے کے لیے اختیار کرے گا، اور جو گمراہی اختیار کرے گا تو آپ کہہ دیجیے کہ میں تو صرف ڈرانے والوں میں سے ہوں

اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ ھٰذِہِ الْبَلْدَۃِ الَّذِیْ حَرَّمَھَا وَلَـہٗ کُلُّ شَیْ ئٍ زوَّاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ جفَمَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ جوَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ۔ (النمل : 91، 92) (مجھے تو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اس گھر کو عزت و حرمت والا بنایا ہے اور ہر چیز اسی کے اختیار میں ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداری کرنے والوں میں سے بنوں ۔ نیز یہ بھی کہ میں قرآن پڑھ کر سنائوں، تو جو ہدایت کی راہ اختیار کرے گا وہ اپنے ہی فائدے کے لیے اختیار کرے گا، اور جو گمراہی اختیار کرے گا تو آپ کہہ دیجیے کہ میں تو صرف ڈرانے والوں میں سے ہوں۔ ) آنحضرت ﷺ کے مشن کی وضاحت سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ آپ فیصلہ کن انداز میں اپنے مشن کی وضاحت کردیں۔ اور قریش پر یہ بات اچھی طرح کھول دیں کہ میں شب و روز جس مقصد کی طرف تمہیں دعوت دے رہا ہوں وہ یہ مقصد ہے۔ دوسری آیت کے آخر میں ” قُلْ “ کا لفظ آیا ہے۔ یہ قرینہ ہے اس بات کا کہ آیت کے شروع میں بھی ” قُلْ “ کا لفظ محذوف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے اپنی تبلیغ و دعوت کا مقصد اپنے طور پر متعین نہیں کیا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے عین مطابق ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ یہ گھر اہل عرب جس کی انتہائی تعظیم کرتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا وہ گھر ہے جسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے تعمیر کیا تھا۔ اور اس گھر کو توحید کا مرکز بنایا گیا تھا۔ اور اسی گھر کے صحن میں کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کے دو عظیم بندوں نے ایک پیغمبر کی بعثت کے لیے دعائیں مانگی تھیں اور یہیں سے ایک امت مسلمہ کے اٹھائے جانے کی التجا کی تھی۔ وہ پیغمبر جس کے لیے حضرت خلیل اللہ نے دعا مانگی، وہ میں ہوں۔ اور جس امت کے اٹھائے جانے کے لیے التجا کی تھی وہ امت وہ ہے جو میری دعوت کے قبول کرنے سے وجود میں آئے گی۔ اور پھر حضرت خلیل نے آنے والے آخری نبی کے جن فرائض کا ذکر کیا تھا میں انھیں فرائض کی ادائیگی کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ چناچہ انھیں فرائض کی ادائیگی کا آغاز تلاوتِ قرآن کریم سے ہوتا ہے۔ تو میری یہ ذمہ داری ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کروں یعنی اسے پڑھ کر تمہیں سنائوں۔ اور یہ پڑھنا ایسا نہیں جیسے ایک قاری پڑھتا ہے، بلکہ یہ پڑھنا ایسا ہے جیسے شہنشاہِ عالم کا حکم وائسرائے پڑھ کے سناتا ہے۔ اور پھر یہ حکم نامہ ایسا نہیں کہ صرف سننے والوں پر لاگو ہوتا ہو، میرے لیے بھی ضروری ہے کہ میں اس کا فرمانبردار بن کے رہوں کیونکہ مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے اور میری فرمانبرداری کا طریقہ میری امت کے لیے حجت اور سنت ٹھہرایا گیا ہے۔ چناچہ میرے مشن کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص نے اس کو سنا اور اس پر عمل کیا تو اس کا فائدہ اسی کو حاصل ہوگا، یعنی اس کی دنیا سنور جائے گی اور آخرت میں وہ فائزالمرام ہوگا۔ اور جو شخص اس کے بعد بھی گمراہی پر جما رہا تو اس سے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ میں تو صرف خبردار کرنے والا ہوں۔ اس کا جو نقصان ہوگا وہ اس کی ذات کو ہوگا۔ اس کی دنیا بھی دکھوں سے معمور ہوگی اور اس کی آخرت ابدی ناکامیوں کی آماجگاہ ہوگی۔
Ayah 27:93

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 27:93 in the Quran reader

اور اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، وہ ابھی تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم ان کو پہچان جائو گے، اور جو کچھ تم لوگ کررہے ہو اس سے تمہارا رب بیخبر نہیں ہے

وَقُلِ الْحَمْدُلِلّٰہِ سَیُرِیْکُمْ اٰیٰـتِہٖ فَتَعْرِفُوْنَھَا ط وَمَا رَبُّـکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ (النمل : 93) (اور اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، وہ ابھی تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم ان کو پہچان جاؤ گے، اور جو کچھ تم لوگ کررہے ہو اس سے تمہارا رب بیخبر نہیں ہے۔ ) اے پیغمبر ان لوگوں کے سامنے اس بات کو بھی واشگاف کردیجیے کہ ہم نے آپ پر جو بےپایاں عنایات کی ہیں اور رحمۃ للعالمینی کی جو خلعت فاخرہ آپ کو ارزانی فرمائی ہے اور سیرت و کردار کی جو گوناگوں صفات عطا کی ہیں اور ختم المرسلینی کا جو درخشاں تاج آپ کے سرِنیاز پر رکھا ہے اور قرآن کریم جیسی بےمثل کتاب کا جو معجزہ عطا فرمایا ہے میں ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ لیکن تم ان نعمتوں کی قدر کرنے کی بجائے نئی نئی نشانیاں مجھ سے مانگتے ہو۔ وہ وقت جلد آنے والا ہے جب اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا، اس وقت تمہیں اندازہ ہوگا کہ تم نے کس طرح اپنی بدبختی کا سودا کیا۔ تب تم اس بات کو جان لو گے کہ میں نے تمہیں تمہارے انجام سے آگاہ کیا، لیکن تم نے اس کو جھٹلایا اور خود اپنی محرومی کو دعوت دی، مگر اس وقت اس جاننے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ تم جو کچھ آج میرے اور میری دعوت کیخلاف شرارتیں کرتے اور سازشیں تیار کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اس سے بیخبر نہیں۔ وہ ہر چیز سے آگاہ ہے۔ لیکن اس کے فیصلوں کا ایک وقت مقرر ہے، اس وقت تک تمہیں مہلت ملے گی۔ اور جب یہ مہلت کا وقت گزر جائے گا تو پھر تمہاری گرفت میں تاخیر نہیں ہوگی۔ بہتر ہے کہ اس وقت کے آنے سے پہلے اپنے آپ کو بدل لو۔