27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsروح القرآن

Ayah 27:18

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا، اے چیونٹیو ! اپنے بلوں میں گھس جائو، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انھیں خبر بھی نہ ہو

حَتّـٰٓی اِذَٓا اَتَوْا عَلٰی وَادِالنَّمْلِ لا قَالَتْ نَمْلَـۃٌ یّٰــٓاَ یُّـھَاالنَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰکِنَـکُمْ ج لاَ یَحْطِمَنَّـکُمْ سُلَیْمٰنُ وَجُنُوْدُہٗ لا وَھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ (النمل : 18) (یہاں تک کہ جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا، اے چیونٹیو ! اپنے بلوں میں گھس جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انھیں خبر بھی نہ ہو۔ ) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی فوجیں جس میں انسانوں، جنوں اور پرندوں کے لشکر شامل تھے جب مارچ کرتی ہوئی چیونٹیوں کی وادیوں میں پہنچیں تو ایک چیونٹی نے اپنے ہم جنسوں کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے کہا، اے چیونٹیو ! اپنے بلوں میں گھس جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کی فوجیں تمہیں روند ڈالیں اور انھیں خبر بھی نہ ہو کہ ہم نے کیا کر ڈالا۔ وادیِ نمل کی وضاحت اس آیت کو بھی آج کل کے بعض مفسرین نے تأویل کے خراد پر چڑھایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وادی النمل سے مراد چیونٹیوں کی وادی نہیں ہے بلکہ یہ ایک وادی کا نام ہے جو شام کے علاقے میں تھی اور نملۃ کے معنی ایک چیونٹی کے نہیں ہیں بلکہ یہ ایک قبیلہ کا نام ہے۔ اس طرح وہ آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ ” جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) وادی النمل میں پہنچے تو ایک نملی نے کہا کہ اسے قبیلہ نمل کے لوگو…“ لیکن یہ بھی ایسی تأویل ہے جس کا ساتھ قرآن کے الفاظ نہیں دیتے۔ اگر بالفرض وادی النمل کو اس وادی کا نام مان لیا جائے اور یہ بھی مان لیا جائے کہ وہاں بنی النمل نام کا کوئی قبیلہ رہتا تھا، تب بھی یہ بات عربی زبان کے استعمالات کے بالکل خلاف ہے کہ قبیلہ نمل کے ایک فرد کو نملہ کہا جائے۔ اگرچہ جانوروں کے نام پر عرب کے بہت سے قبائل کے نام ہیں، مثلاً کلب، اسد وغیرہ، لیکن کوئی عرب قبیلہ کلب کے کسی فرد کے متعلق قَالَ کَلْبٌ (ایک کتے نے یہ کہا) یا قبیلہ اسد کے کسی شخص کے متعلق قَالَ اَسَدٌ (ایک شیر نے کہا) ہرگز نہیں بولے گا۔ اس لیے بنی النمل کے ایک فرد کے متعلق یہ کہنا کہ قَالَتْ نَمْلَـۃٌ قطعاً عربی محاورہ و استعمال کے خلاف ہے۔ پھر قبیلہ نمل کے ایک فرد کا بنی النمل کو پکار کر یہ کہنا کہ ” اے نملیو ! اپنے گھروں میں گھس جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور انھیں خبر بھی نہ ہو۔ “ بالکل بےمعنی ہے۔ انسانوں کے کسی گروہ کو انسانوں کا کوئی لشکر بیخبر ی میں نہیں کچلا کرتا۔ اگر وہ ان پر حملے کی نیت سے آیا ہو تو ان کا اپنے گھروں میں گھس جانا لاحاصل ہے۔ حملہ آور ان کے گھروں میں گھس کر انھیں اور زیادہ اچھی طرح کچلیں گے۔ اور اگر وہ محض کوچ کرتا ہوا گزر رہا ہو تو اس کے لیے بس راستہ صاف چھوڑ دینا کافی ہے۔ کوچ کرنے والوں کی لپیٹ میں آکر انسانوں کو نقصان تو پہنچ سکتا ہے، مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ چلتے ہوئے انسان بیخبر ی میں انسانوں کو کچل ڈالیں۔ لہٰذا گر بنی النمل کوئی انسانی قبیلہ ہوتا اور اس کا کوئی فرد اپنے قبیلے کے لوگوں کو خبردار کرنا چاہتا تو حملے کے خطرے کی صورت میں وہ کہتا کہ ” اے نملیو، بھاگ چلو اور پہاڑوں میں پناہ لو تاکہ سلیمان کے لشکر تمہیں تباہ نہ کردیں۔ “ اور حملے کا خطرہ نہ ہونے کی صورت میں وہ کہتا کہ ” اے نملیو، راستہ سے ہٹ جاؤ تاکہ تم میں سے کوئی شخص سلیمان (علیہ السلام) کے لشکروں کی جھپیٹ میں نہ آجائے۔ “ یہ تو وہ غلطی ہے جو اس تأویل میں عربی زبان اور مضمونِ عبارت کے اعتبار سے ہے۔ رہی یہ بات کہ وادی النمل دراصل اس وادی کا نام تھا اور وہاں بنی النمل نامی کوئی قبیلہ رہتا تھا، یہ محض ایک مفروضہ ہے جس کے لیے کوئی علمی ثبوت موجود نہیں ہے۔ جن لوگوں نے اسے وادی کا نام قرار دیا ہے انھوں نے خود یہ تصریح کی ہے کہ اسے چیونٹیوں کی کثرت کے باعث یہ نام دیا گیا تھا۔ قتادہ اور مقاتل کہتے ہیں کہ واد بارض الشام کثیرالنمل ” وہ ایک وادی ہے سرزمینِ شام میں جہاں چیونٹیاں بہت ہیں۔ “ لیکن تاریخ و جغرافیہ کی کسی کتاب میں اور آثار قدیمہ کی کسی تحقیقات میں یہ مذکور نہیں ہے کہ اس وادی میں بنی النمل نامی کوئی قبیلہ بھی رہتا تھا۔ یہ صرف ایک من گھڑت ہے جو اپنی تأویل کی گاڑی چلانے کے لیے وضع کرلی گئی ہے۔ بنی اسرائیل کی روایات میں بھی یہ قصہ پایا جاتا ہے، مگر اس کا آخری حصہ قرآن کے خلاف ہے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شان کے خلاف بھی ہے۔ اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب ایک وادی سے گزر رہے تھے جس میں چیونٹیاں بہت تھیں تو انھوں نے سنا کہ ایک چیونٹی پکار کر دوسرے چیونٹیوں سے کہہ رہی ہے کہ ” اپنے گھروں میں داخل ہوجاؤ ورنہ سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں گے۔ “ اس پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس چیونٹی کے سامنے بڑے تکبر کا اظہار کیا اور جواب میں اس چیونٹی نے ان سے کہا کہ تمہاری حقیقت کیا ہے، ایک حقیر بوند سے تو تم پیدا ہوئے ہو۔ یہ سن کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) شرمندہ ہوگئے۔ (جیوش انسائیکلوپیڈیا، ج 11، ص 440) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کس طرح بنی اسرائیل کی غلط روایات کی تصحیح کرتا ہے اور ان گندگیوں کو صاف کرتا ہے جو انھوں نے خود اپنے پیغمبروں کی سیرتوں پر ڈال دی تھیں۔ ان روایات کے متعلق مغربی مستشرقین بےشرمی کے ساتھ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن نے سب کچھ ان سے سرقہ کرلیا ہے۔ عقلی حیثیت سے یہ بات کچھ بھی بعید نہیں ہے کہ ایک چیونٹی اپنی جنس کے افراد کو کسی آتے ہوئے خطرے سے خبردار کرے اور بلوں میں گھس جانے کے لیے کہے۔ رہی یہ بات کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی بات کیسے سن لی تو جس شخص کے حواس کلام وحی جیسی لطیف چیز کا ادراک کرسکتے ہوں، اس کے لیے چیونٹی کے کلام جیسی کثیف (Crude) چیز کا ادراک کرلینا کوئی بڑی مشکل بات نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 27:19

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

پس سلیمان اس کی بات پر مسکراتے ہوئے ہنس پڑے اور دعا کی اے میرے رب ! مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اس فضل کا شکرگزار رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور میں ایسے نیک کام کروں جو تجھے پسند ہوں اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے صالح بندوں میں داخل فرما

فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًامِّنْ قَوْلِھَا وَقَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْٓ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہُ وَاَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِکَ فِیْ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ (النمل : 19) (پس سلیمان اس کی بات پر مسکراتے ہوئے ہنس پڑے اور دعا کی اے میرے رب ! مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اس فضل کا شکرگزار رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور میں ایسے نیک کام کروں جو تجھے پسند ہوں اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے صالح بندوں میں داخل فرما۔ ) تَبَسَّمَ کا مفہوم تَبَسَّمَ کا لفظ بعض دفعہ استخفاف اور تحقیر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ضَاحِکًا کے اضافے سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہاں تبسم خوشی اور سرور کی نوعیت کا ہے، کیونکہ ضحک عموماً خوشی اور سرور کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ وزع کے اصل معنی روکنے، تھامنے اور سنبھالنے کے ہیں۔ واقعہ کی اصل روح اور مرکزی مضمون حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جب ایک چیونٹی کی آواز سنی جو چیونٹیوں کی وادی میں رہنے والی دوسری چیونٹیوں کو اطلاع دے رہی تھی کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر آرہا ہے، تم جلدی سے اپنے بلوں میں گھس جاؤ تاکہ وہ بےخیالی میں تمہیں پامال نہ کردیں۔ تو آپ ( علیہ السلام) نے اس کی آواز سن کر اور سمجھ کر تبسم فرمایا۔ کیونکہ انسانوں کے لیے دُور، تو کیا قریب سے بھی کسی چیونٹی کی آواز سننا بعیدازعادت ہے۔ اور پھر اس آواز کو سمجھ لینا، انسانی فہم سے ماورا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو چونکہ منطق الطیر کا علم عطا فرمایا تھا اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس غیرمعمولی صفت کی بنا پر اس چیونٹی کی آواز سنی اور سمجھی۔ تو بجائے اس کے کہ آپ ( علیہ السلام) اپنی ان غیرمعمولی صلاحیتوں پر اتراتے اور فخر کرتے آپ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے سامنے دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیئے اور یہ عرض کی کہ پروردگار، تو نے جس طرح مجھ پر غیرمعمولی انعامات کیے اور حیرت انگیز صلاحیتوں سے نوازا ہے اس سے اندیشہ ہوسکتا ہے کہ میں کبرنفس میں مبتلا نہ ہوجاؤں۔ اس لیے میں آپ ہی سے التجا کرتا ہوں کہ آپ اپنے فضل و کرم سے مجھے اپنے قابو میں رکھیں کہ میں اپنے اقتدار اور غیرمعمولی صلاحیتوں کے باعث غرورنفس میں مبتلا نہ ہوجاؤں۔ اور مجھے اس بات پر بھی اطمینان نہیں کہ میں غرور نفس سے بچنے کے لیے اپنے آپ پر بھروسہ کرسکتا ہوں۔ اس لیے کہ نفس امارہ ہمیشہ برائی کا حکم دیتا ہے۔ اس سے وہی بچ سکتا ہے جس پر آپ رحم فرمائیں۔ اس لیے مجھے توفیق دیں کہ میں ہمیشہ آپ کی عطا کردہ ان نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہوں جن سے آپ نے مجھے اور میرے والدین کو نوازا ہے۔ اور شکر کی احسن صورت یہ ہے کہ آپ مجھے توفیق عطا فرمائیے کہ میں زندگی میں ایسے نیک اعمال کروں جن سے آپ راضی ہوں اور جو آپ کو پسند آئیں۔ اور پھر اپنی رضا سے نوازتے ہوئے مجھے زمرہ صالحین میں داخل فرمائیں۔ یعنی میرا انجام اور میرا حشر ان صالح بندوں کے ساتھ ہو جنھیں جنت کی عزت ملنے والی ہے اور اس انعام کے لیے میرے اعمال کافی نہیں، آپ کی رضا اور جنت صرف اسے ملتی ہے جس پر آپ کی رحمت کا سایہ ہو۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے لن یدخل احدکم الجنۃ عملہ ” تم میں سے کسی کو بھی محض اس کا عمل جنت میں نہیں پہنچا دے گا۔ “ عرض کیا گیا ولاانت یارسول اللہ ” کیا حضور کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ “ آپ نے فرمایا ولاانا الاان یتغمدنی اللہ تعالیٰ برحمتہ ” ہاں، میں بھی محض اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں داخل نہیں ہوں گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے نہ ڈھانک دیں۔ “
Ayahs 27:20–21

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

ایک اور روز) آپ ( علیہ السلام) نے پرندوں کا جائزہ لیا، تو فرمانے لگے کہ کیا بات ہے، میں ہدہد کو نہیں دیکھ رہا ہوں، یا وہ غیرحاضروں میں ہے

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

اگر وہ غیرحاضر ہے) تو میں اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح کر ڈالوں گا یا پھر وہ کوئی واضح عذر میرے سامنے پیش کرے

وَتَفَقَّدَالطَّیْرَ فَقَالَ مَالِیَ لَآاَرَی الْھُدْھُدَ صلے ز اَمْ کَانَ مِنَ الْغَـآئِبِیْن۔ َاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْلَاَ اذْبَحَنَّـہٗٓ اَوْلَیَا تِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْن۔ (النمل : 20، 21) (ایک اور روز) آپ ( علیہ السلام) نے پرندوں کا جائزہ لیا، تو فرمانے لگے کہ کیا بات ہے، میں ہدہد کو نہیں دیکھ رہا ہوں، یا وہ غیرحاضروں میں ہے۔ (اگر وہ غیرحاضر ہے) تو میں اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح کر ڈالوں گا یا پھر وہ کوئی واضح عذر میرے سامنے پیش کرے۔ ) جانوروں سے پیغام رسانی کی خدمت ہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جنات اور پرندے بھی تھے۔ اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی ہوش مندی اور خبرگیری کا عالم یہ تھا کہ آپ ( علیہ السلام) ہر طرح کے لشکر اور اس کے سپاہیوں پر کڑی نظر رکھتے اور نگرانی کرتے تھے۔ اور نظم و ضبط اتنا سخت تھا کہ کسی کو غیرحاضر ہونے کی مجال نہ تھی۔ آپ ( علیہ السلام) نے درجہ بدرجہ بڑھتے ہوئے جب پرندوں کے دستے کا جائزہ لیا تو آپ کو ہدہد نظر نہیں آیا۔ تو آپ ( علیہ السلام) نے اس دستے کے ذمہ داروں سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھ رہا، کیا وہ غیرحاضر تو نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو بھی اس کے بارے میں کوئی علم نہ تھا، وہ غیرحاضر تھا، لیکن کسی کو اطلاع نہ تھی۔ آپ نے برہم ہو کر فرمایا کہ اگر وہ اپنی بلا اجازت غیرحاضری پر کوئی معقول عذر پیش نہ کرسکا تو میں اسے سخت ترین سزا دوں گا۔ اور ہوسکتا ہے کہ میں اسے ذبح کر ڈالوں، کیونکہ اس نے فوج میں ایک غلط رسم کی طرح ڈالی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہدہد ان جانوروں میں سے تھا جنھیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے باقاعدہ پیغام رسانی، سراغ رسانی اور دریافتِ احوال کی تربیت دے رکھی تھی۔ اور نہایت اعلیٰ پیمانے پر ان سے یہ کام لیا جاتا تھا۔ اور آپ چونکہ پرندوں کی بولی سمجھتے تھے اس لیے آپ سائنسدانوں سے بھی بڑھ کر ان سے کام لینے پر قادر تھے۔ جس طرح قدیم زمانے سے کبوتر ہمیشہ نامہ بری اور سراغ رسانی کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں، اسی طرح فلسطین کے علاقے میں ہدہد کی کثرت تھی اور یہ پرندہ بھی اس مقصد کے لیے کبوتر ہی کی طرح استعمال ہوتا رہا ہے۔ اور کبوتر ہی کی طرح یہ اپنے اندر ایسے کاموں کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ موجودہ زمانے کے بعض لوگ جنھیں معمول سے ہٹی ہوئی ہر بات میں شک کرنے کی عادت ہے اور ایسی بات کا بیان چاہے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کیوں نہ ہو، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی کوئی ایسی تأویل کی جائے جو آج کے دور کے مطابق اور ان کے اپنے مزاج سے ہم آہنگ ہو۔ چناچہ جس طرح ان لوگوں نے سابقہ آیت کی تفسیر میں وادی النمل اور نملۃ کے بارے میں تحقیق کے نام سے عجیب و غریب انکشافات کیے، اسی طرح ہدہد کے حوالے سے جو کچھ قرآن کریم نے بیان کیا ہے وہ ان کی عقل رسا کے لیے قبول کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ چناچہ انھیں اصرار ہے کہ یہاں ہدہد سے مراد کوئی پرندہ نہیں بلکہ کوئی انسان ہے جسے ملکہ سبا کے پاس بھیجا گیا اور اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اور دلیل یہ ہے کہ ہدہد کے حوالے سے جو باتیں قرآن کریم نے بیان کی ہیں انھیں ایک انسان ہی بیان کرسکتا ہے، کسی پرندے کے بس کی بات نہیں۔ قطع نظر اس سے کہ ہم لوگ پرندوں کی بولی اور ان کے احساسات اور صلاحیتوں سے بالکل ناواقف ہیں اس لیے ایسی کوئی بات حتمی انداز میں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ یہ کام کرسکتے ہیں یا نہیں۔ لیکن یہاں تو صرف دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اگر ہدہد کوئی پرندہ نہیں بلکہ کوئی انسان ہے جس کی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی فوج میں ایک نمایاں حیثیت تھی تو آخر قرآن کریم کو ایسی کیا مشکل پیش آئی ہے کہ وہ صاف سیدھی زبان میں اس طرح اس واقعہ کو بیان کرتا کہ جس سے یہ شبہ بھی پیدا نہ ہوتا کہ یہ کسی پرندے کی بات ہورہی ہے۔ لیکن جس طرح قرآن کریم نے اس واقعہ کو بیان کیا ہے، کوئی ایسا شخص جو معجزات کے بارے میں تحفظات نہیں رکھتا اور اس کی آنکھوں پر مخصوص رنگوں کی عینک نہیں، وہ ان آیات کو پڑھے تو اسے دور دور تک بھی اس کا امکان دکھائی نہیں دے گا، جو کچھ ہمارے یہ نام نہاد مفسرین تأویل کے انداز میں کہتے ہیں۔ اس لیے ہم ان کی تحقیقِ لطیف پر کچھ کہنے کی بجائے قرآن کے ہر قاری کی ذہانت پر اس بات کا فیصلہ چھوڑتے ہیں کہ قرآن کریم میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے کیا مفہوم ہوتا ہے۔
Ayahs 27:22–24

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

پس کچھ زیادہ دیر نہیں گزری (کہ وہ آگیا) تو اس نے کہا کہ میرے علم میں وہ چیز ہے جو آپ کے علم میں نہیں ہے اور میں ملک سبا سے ایک یقینی خبر لایا ہوں

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

میں نے وہاں ایک عورت دیکھی جو اس قوم پر حکومت کرتی ہے اور اسے ہر طرح کا سروسامان بخشا گیا ہے اور اس کا ایک عظیم الشان تخت ہے

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

میں نے اس کو اور اس کی قوم کو دیکھا کہ وہ اللہ کے سوا سورج کو پوجتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیئے ہیں، پس اس نے ان کو صحیح راہ سے روک دیا ہے، اور وہ ہدایت قبول نہیں کرتے

فَمَکَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَالَمْ تُحِطْ بِہٖ وَجِئْتُکَ مِنْ سَبَاٍ م بِنَبَاٍیَّـقِـیْنٍ ۔ اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَۃً تَمْلِکُھُمْ وَاُوْتِیَتْ مِنْ کُلِّ شَیْ ئٍ وَّلَھَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ۔ وَجَدْتُّھَا وَقَوْمَہَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَزَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ فَصَدَّھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَہُمْ لاَ یَھْتَدُوْنَ ۔ (النمل : 22 تا 24) (پس کچھ زیادہ دیر نہیں گزری (کہ وہ آگیا) تو اس نے کہا کہ میرے علم میں وہ چیز ہے جو آپ کے علم میں نہیں ہے اور میں ملک سبا سے ایک یقینی خبر لایا ہوں۔ میں نے وہاں ایک عورت دیکھی جو اس قوم پر حکومت کرتی ہے اور اسے ہر طرح کا سروسامان بخشا گیا ہے اور اس کا ایک عظیم الشان تخت ہے۔ میں نے اس کو اور اس کی قوم کو دیکھا کہ وہ اللہ کے سوا سورج کو پوجتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیئے ہیں، پس اس نے ان کو صحیح راہ سے روک دیا ہے، اور وہ ہدایت قبول نہیں کرتے۔ ) ہدہد کی رپورٹ پس زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ہدہد آگیا۔ اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے اپنی کارگزاری کی رپورٹ پیش کی۔ اور یہ کہا کہ ملک سبا سے ایک ایسی اطلاع لے کر آیا ہوں جس کے یقینی ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اور میں نے ایسی معلومات جمع کی ہیں جن کی تفصیل سے آپ بھی واقف نہیں۔ آپ ایک ہوش مند اور باخبر حکمران ہیں، یقینا اس ملک اور اس کی حکومت سے آپ ناواقف نہیں ہوں گے لیکن اس کی تفصیلی اطلاعات کبھی آپ تک نہیں پہنچیں۔ چناچہ میں نے یہی خدمت انجام دی ہے اور میں اس کی تفصیلات سے آپ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ معلوم ہوتا ہے کہ سبا ایک شہر کا نام بھی ہے اور اس میں بسنے والی قوم بھی اسی نام سے معروف تھی۔ یہ قوم جنوبی عرب کی مشہور تجارت پیشہ قوم تھی جس کا دارالحکومت مارب موجودہ یمن کے دارالسلطنت صنعا سے 55 میل بجانب شمال واقع تھا۔ ایک ہزار سال تک یہ قوم عرب میں اپنی عظمت کے ڈنکے بجاتی رہی۔ عرب میں یمن اور حضرموت اور افریقہ میں حبش کے علاقے پر اس کا قبضہ تھا۔ یونانی مؤرخین اسے دنیا کی سب سے زیادہ مالدار قوم کہتے ہیں۔ تجارت کے علاوہ ان کی خوشحالی کا بڑا سبب یہ تھا کہ انھوں نے اپنے ملک میں جگہ جگہ بند باندھ کر ایک بہترین نظام آبپاشی قائم کر رکھا تھا۔ علامہ قزوینی نے آثارالبلاد میں سبا کو ایک شہر قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ شہر سبا بن یشحب بن قحطان نے آباد کیا تھا۔ یہ شہر دفاعی لحاظ سے بہت مستحکم اور گنجان آباد تھا۔ اس کی ہوا بڑی پاکیزہ اور پانی بہت میٹھا تھا۔ اردگرد پہاڑوں کا سلسلہ تھا، بارش ہوتی تو پانی بہہ کر ریگستان میں ضائع ہوجاتا۔ ملکہ بلقیس کے عہدحکومت میں دو پہاڑوں کے درمیان ایک زبردست بند تعمیر کیا گیا اور پانی کے اس طرح کے ذخائر اس ملک کی زرعی ترقی کا بہت بڑا سبب تھے۔ ہدہد نے اپنی تازہ معلومات اور چشم دید حالات پر مشتمل جو رپورٹ پیش کی اس کے اہم نکات یہ تھے کہ : 1 میں نے وہاں ایک عورت کو حکمرانی کرتے ہوئے دیکھا اور اندازِ کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ عورت کی حکمرانی اس کی نظر میں ایک تعجب انگیز امر تھی۔ 2 اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کا عالم یہ ہے کہ قدرت نے ان کو ہر نعمت سے نواز رکھا ہے۔ ملک کی رفاہیت کے لیے جو چیزیں ضروری ہیں وہ سب ان کو میسر ہیں۔ 3 ان کی حکمران عورت ملکہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور اس کی عظمت کا حال یہ ہے کہ اس کا ایک بہت عالی شان تخت ہے جس پر وہ دربار میں جلوہ افروز ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) کی روایت کے مطابق اس تخت کا طول 80 ہاتھ، عرض 40 ہاتھ اور اونچائی 30 ہاتھ تھی۔ اس زمانے میں بادشاہوں کی عظمت چونکہ تختوں کی وسعت سے پہچانی جاتی تھی اس لیے ہدہد نے اس کے تخت کو عرش عظیم قرار دیا۔ 4 ملک کی مذہبی اور اخلاقی حالت کا حال یہ ہے کہ ملکہ اور اس کی قوم کے لوگ سب آفتاب پرست ہیں۔ توحید اور خدا پرستی سے ناواقف، قیامت کے تصور سے نابلد، طلبِ دنیا میں منہمک اور مادہ پرستی سے جنم لینے والے اعمال و اخلاق انھیں ایسے عزیز ہیں کہ شیطان نے ان کی نگاہوں میں انھیں مزین کرکے پیش کیا ہے جس کی وجہ سے وہ ہمہ تن ان کے ساتھ وابستہ ہیں۔ چناچہ ان کی اسی روش نے ان کو صراط مستقیم سے دور کر رکھا ہے اور توحید اور خدا پرستی کی راہ ان کی آنکھوں سے اوجھل ہو کے رہ گئی ہے۔
Ayahs 27:25–26

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

شیطان نے ان کو صحیح راہ سے روک دیا ہے) کہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے اور وہ جانتا ہے جسے تم لوگ چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی عرش عظیم کا مالک ہے

اَلاَّیَسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْ ئَ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَعْلَمُ مَاتُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ ۔ اَللّٰہُ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ۔ (النمل : 25، 26) (شیطان نے ان کو صحیح راہ سے روک دیا ہے) کہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے اور وہ جانتا ہے جسے تم لوگ چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ ) یہ تضمین ہے علامہ قرطبی اور بعض دیگر کبار مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت ہدہد کا کلام نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جو بطور تضمین اس کے ساتھ شامل ہے۔ اس میں خطاب مشرکینِ مکہ سے ہے کیونکہ یہ قصہ سنانے کا حقیقی مقصد یہی حقیقت ان کے سامنے واضح کرنا ہے۔ ہدہد کا کلام گزشتہ آیت پر ختم ہوگیا۔ اس نے جب یہ کہا کہ میں نے قوم سبا کو دیکھا ہے، وہ سورج کو سجدہ کرتے ہیں، یعنی ان کے تمام اعمال کی بنیاد شرک کا عقیدہ ہے، اور باقی ان کی تمام خرابیاں اسی سے پھوٹی ہیں۔ اور ان کے انتہائی لغو اور غلط اعمال کو شیطان نے ان کے سامنے اس طرح مزین کردیا ہے کہ وہ صراط مستقیم سے روک دیئے گئے ہیں۔ چناچہ اس کے بعد پروردگار نے کلام کو حسب حال بنانے اور بات کو مکمل کرنے کے لیے فرمایا کہ یہ بصیرت سے محرومی اس حد تک راسخ ہوگئی ہے کہ وہ اس خدا کی بندگی کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں جو ہر آن ان چیزوں کو ظہور میں لا رہا ہے جو پیدائش سے پہلے نہ معلوم کہاں کہاں پوشیدہ تھیں۔ اور وہ زمین و آسمان کے تمام مخفی اسرار کو بےنقاب کر رہا ہے اور تمہاری ان تمام باتوں سے واقف ہے جنھیں تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اگر اپنی بےبصیرتی سے نکلنے میں کامیاب ہوجائے تو اسے اندازہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اِلٰہ بننے کے لائق نہیں۔ وہی ان تمام چیزوں کا خالق ومالک اور اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ دنیا شہنشاہوں کے تخت دیکھ کر ان کی عظمتوں کے فریب میں مبتلا ہوجاتی ہے جبکہ حقیقت میں عرش عظیم کا مالک وہی اللہ ہے جو ہر طرح کے شرک سے پاک ہے۔ فقہائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس مقام پر سجدہ واجب ہے۔ اسے سجدہ تلاوت کہا جاتا ہے۔ یہاں سجدہ کرنے سے مقصود یہ ہے کہ ایک مومن اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہو کر ثابت کردے کہ میں ان آفتاب پرستوں سے بیزار ہوں جن کا ذکر اس سے پہلی آیت میں کیا گیا ہے۔ اور میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور آستانے پر جھکنے اور کسی اور عظمت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
Ayahs 27:27–28

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

حضرت سلیمان نے کہا ابھی ہم دیکھے لیتے ہیں کہ تم نے سچ کہا یا تم جھوٹوں میں سے ہو

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

میرا یہ خط لے کر جائو اور ان کے پاس ڈال دو اور ہٹ کر دیکھو کہ وہ کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْـکٰذِبِیْنَ ۔ اِذْھَبْ بِّکِتٰبِیْ ھٰذَا فَاَلْقِہْ اِلَیْہِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْھُمْ فَانْظُرْ مَاذَا یَرْجِعُوْنَ ۔ (النمل : 27، 28) (حضرت سلیمان نے کہا ابھی ہم دیکھے لیتے ہیں کہ تم نے سچ کہا یا تم جھوٹوں میں سے ہو۔ میرا یہ خط لے کر جاؤ اور ان کے پاس ڈال دو اور ہٹ کر دیکھو کہ وہ کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ ) ہدہد کی عذرخواہی کا جواب ہدہد کی باتیں سننے کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم جو اپنی غیرحاضری کا عذر پیش کررہے ہو، ہم ابھی اس کی سچائی معلوم کیے لیتے ہیں، اندازہ ہوجائے گا کہ تم سچ بول رہے ہو یا جھوٹ کہہ رہے ہو۔ آپ ( علیہ السلام) نے ملکہ سبا کے نام ایک نامہ گرامی لکھوایا اور ہدہد کو حکم دیا کہ اسے لے جاؤ اور جن راہوں سے تم وہاں حالات معلوم کرکے آئے ہو، انھیں راہوں پر پرواز کرتے ہوے وہاں پہنچو، اور جا کے یہ میرا خط ان کے سامنے ڈال دو ۔ ڈال دینے کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کسی انسان کو نہیں، پرندے کو نامہ بر بنا کے بھیج رہے ہیں۔ کسی انسان کو یہ حکم نہیں دیا جاسکتا کہ تم وقت کے سب سے بڑے حکمران کا گرامی نامہ ایک معزز ملکہ کے سامنے ڈال دینا، بلکہ اس کے لیے بہت سے سفارتی آداب ہیں جن کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اپنے حکمران کا مکتوبِ گرامی دوسری کسی حکومت کے سربراہ کے حضور پیش کیا جاتا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ حکم بھی فرمایا کہ میرا خط ان کے سامنے ڈالنے کے بعد پرے ہٹ کر بیٹھ جانا اور دیکھتے رہنا کہ وہ اس خط کو دیکھ کر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ اسی سے اندازہ ہوسکے گا کہ تم نے جو کہانی بیان کی ہے اس کی حقیقت کیا ہے ؟ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ہدہد کو اپنا مکتوب دے کے ملکہ بلقیس کے پاس بھیجنا دلالت کرتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) پہلے سے ملک سبا اور اس کی ملکہ کے حوالے سے نہ صرف معلومات رکھتے تھے بلکہ ان کا معاملہ آپ ( علیہ السلام) کے زیرغور بھی تھا۔ کیونکہ تمام مؤرخین اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ فلسطین اور شام کے اڑوس پڑوس کی حکومتیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت کی باج گزار بن چکی تھیں۔ بعض علاقے آپ ( علیہ السلام) نے اپنی حکومت میں شامل کرلیے تھے اور بعض علاقوں کی حاکمیت ان کے حکمرانوں کے پاس اس لیے باقی چھوڑی گئی تھی کہ وہ آپ کی حکومت کے اطاعت گزار اور خراج دینے والے تھے۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ یمن کے ایک علاقے کی نہایت ترقی یافتہ اور دولت مند سلطنت کے بارے میں آپ بالکل بیخبر ہوں اور اگر باخبر بھی ہوں تو اس کے بارے میں کبھی آپ نے غور و فکر نہ کیا ہو۔
Ayahs 27:29–31

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

ملکہ سبا نے کہا، اے اہل دربار ! ایک گرامی نامہ میرے پاس ڈالا گیا ہے

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

تم لوگ میرے مقابل میں سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس حاضر ہوجائو

قَالَتْ یٰٓـاَیُّھَا الْمَلَؤُا اِنِّیْٓ اُلْقِیَ اِلَیَّ کِتٰبٌ کَرِیْمٌ۔ اِنَّـہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّـہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ اَلاَّ تَعْلُوْا عَلَیَّ وَاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ ۔ (النمل : 29 تا 31) (ملکہ سبا نے کہا، اے اہل دربار ! ایک گرامی نامہ میرے پاس ڈالا گیا ہے۔ وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ تم لوگ میرے مقابل میں سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس حاضر ہوجاؤ۔ ) مکتوبِ گرامی سے متعلق چند اہم امور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ہدہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے مکتوبِ گرامی کو کس طرح ملکہ سبا کے دربار تک پہنچایا، کہا جاتا ہے کہ ملکہ عمائدینِ سلطنت کے ساتھ دربار میں تشریف فرما تھی کہ ہد ہد نے ان کے سر پر پہنچ کر پھڑپھڑانا شروع کردیا۔ ملکہ نے سر اٹھا کر دیکھا تو ہدہد نے وہ مکتوب ملکہ کے سامنے ڈال دیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ملکہ محو استراحت تھی کہ ہدہد نے نہایت خاموشی سے خط اس کے اوپر رکھ دیا۔ خط کے پہنچنے کی کیفیت کچھ بھی ہو، قرآن کریم کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکہ کے اہل دربار میں سے کسی نے بھی اچانک اس طرح خط کے ڈالے جانے پر تعجب کا اظہار نہیں کیا۔ ملکہ نے بھی اسے معمول کی بات سمجھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں جانوروں کے ذریعے نامہ بری اور خطوط کا آنا ایک معمول کی بات تھی۔ اس دور کے بادشاہوں کے پاس تیز رفتار پیغام رسانی کا یہی ایک محفوظ ذریعہ تھا۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ملکہ نے اس خط کا ذکر کرتے ہوئے اسے کتاب کریم، یعنی معزز خط کے نام کی حیثیت سے پیش کیا ہے جس سے گمان ہوتا ہے کہ ملکہ اور اس کے درباریوں کے دلوں میں پہلے سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی عزت و عظمت موجود تھی۔ وہ اجمالی حد تک سہی، لیکن فی الجملہ آپ ( علیہ السلام) کے نام اور آپ ( علیہ السلام) کے کارناموں سے باخبر تھی۔ تیسری بات اس خط کے سلسلے میں جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ قدیم زمانے میں سلاطین و امراء کے خطوط و فرامین کا طریقہ یہ رہا ہے کہ خط کے آغاز میں مرسل اور مرسل الیہ کا نام لکھا جاتا تھا۔ اور آج بھی ہمارے علماء اور بزرگانِ دین کا یہی طریقہ ہے، لیکن اس خط میں مرسل یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا نام تو موجود ہے، مرسل الیہ کا نام موجود نہیں۔ اس سے یہ خیال گزرتا ہے کہ شاید یہ پورا خط نہ ہو بلکہ ملکہ نے اس کا خلاصہ اپنے اہل دربار کے سامنے پیش کیا ہو۔ لیکن اسے حتمی بات نہیں کہا جاسکتا اس لیے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ایک ملکہ کے نام خط لکھ رہے تھے آپ ( علیہ السلام) کی شرم و حیاء کا تقاضا یہی تھا کہ آپ ( علیہ السلام) بجائے اس کا نام لکھنے اور انفرادی طور پر اسے خطاب کرنے کے پوری قوم کو خطاب کریں، تاکہ اندازہ ہوسکے کہ آپ ( علیہ السلام) صرف ایک بادشاہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس خط میں مختصر ہونے کے باوجود دعوتی رنگ پوری طرح جھلکتا ہوا نظر آتا ہے۔ اسی لیے آپ ( علیہ السلام) نے اپنے نام کے فوراً بعد بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھ کر یہ واضح کردیا کہ ایک بادشاہ ہونے کی حیثیت سے میری جو بھی اہمیت ہے وہ اپنی جگہ ہے، لیکن اصل میری شناخت یہ ہے کہ میں اس اللہ کا پیغمبر اور بندہ ہوں جو رحمن اور رحیم ہے۔ اور اس اللہ کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ میں تمہیں اس کے عذاب سے بچانے کے لیے اسلام کی دعوت دوں۔ یہ خط بےحد مختصر ہے، لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں قدیم زمانے کے حکمران مختصر خط لکھنا ہی پسند کرتے تھے، لمبی بات کہنا اور بات کو پھیلانا آداب حکومت کے خلاف سمجھتے تھے۔ خود آنحضرت ﷺ کے مکتوباتِ گرامی اعجاز اور ایجاز کے بہترین نمونہ ہیں۔ ان کے خطوط میں خیرالکلام ماقل ودل کا حسن پایا جاتا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے مکتوبِ گرامی سے بھی یہی حسن مترشح ہوتا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے خط کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کرکے ایک تو یہ تأثر دیا ہے کہ اس کائنات کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے، اسی کو حکمرانی زیب دیتی ہے، دوسرے حکمرانوں کو وہ اپنی حکمرانی کا ذریعہ بنا کر ان کی آزمائش کرتا ہے کہ وہ کہاں تک اس امانت کا حق ادا کرتے ہیں، چونکہ وہ رحمن و رحیم ہے اس لیے گرفت اور سزا میں جلدی نہیں کرتا، بلکہ مہلت دیتا ہے۔ اپنے ایک جملے کے خط میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ زمین پر فساد کا صرف ایک سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی زمین کو غیر اللہ کی حکومت کے حوالے کردیا گیا ہے۔ اس فساد کو صلاح سے بدلنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ زمین پر بسنے والے سب انسانوں کو آزادیِ رائے کا حق ملے، وہ ہر طرح کے دبائو سے آزاد ہو کر اللہ تعالیٰ اور اپنے تعلق اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر اس کی حاکمیت کے بارے میں غور و فکر کریں اور جن نام نہاد حکمرانوں نے انھیں اپنی بندگی کی گرفت میں لے رکھا ہے اس طلسم کو توڑ دیا جائے تاکہ وہ آزادی اور آسانی سے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قبول کرکے اس کے سایہ عدل میں داخل ہوجائیں۔ تمہارے لیے بھی یہی راستہ ہے تمہیں اسلام لانے پر مجبور تو نہیں کیا جائے گا، لیکن اللہ تعالیٰ کی زمین پر خدا کے قانون کے نفاذ کی بجائے تم نے اپنا قانون نافذ کر رکھا ہے، اسی قانون کی بالادستی خدا سے بغاوت اور فساد فی الارض ہے۔ اس لیے تم اپنی حاکمیت کو چھوڑ کر اس زمین کو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے لیے واگزار کردو، اور میرے پاس مطیع و فرمانبردار بن کر حاضر ہوجاؤ۔ یعنی اپنی سیاسی خودمختاری سے دستبردار ہو کر اسلامی نظام کی ماتحتی قبول کرلو۔
Ayah 27:32

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

ملکہ نے کہا اے سردارانِ قوم میرے اس معاملے میں مجھے رائے دو ، میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا کرتی جب تک تم موجود نہ ہو

قَالَتْ یٰٓـاَیُّھَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْٓ اَمْرِیْ ج مَاکُنْتُ قَاطِعَۃً اَمْرًا حَتّـٰٓی تَشْھَدُوْنِ ۔ (النمل : 32) (ملکہ نے کہا اے سردارانِ قوم میرے اس معاملے میں مجھے رائے دو ، میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا کرتی جب تک تم موجود نہ ہو۔ ) حَتّـٰٓی تَشْھَدُوْنِ شھود سے بھی ہوسکتا ہے اور شہادت سے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا معنی ہوگا جب تک تم موجود نہ ہو۔ اور دوسری صورت میں جب تک تم گواہی نہ دو ۔ ملکہ کی اہل دربار سے مشاورت ملکہ نے اپنے درباریوں کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط سنایا۔ اور ہوسکتا ہے اس کے مضمرات سے بھی آگاہ کیا ہو۔ اس کے بعد ان سے مشورہ طلب کیا۔ اور اہل دربار کی اہمیت یا معاملے کی نزاکت کو واضح کرنے اور یا اہل دربار کی دلجوئی و استمالت کے لیے کہا کہ میں کوئی بھی اہم فیصلہ تمہاری موجودگی یا تمہاری شہادت کے بغیر کبھی نہیں کرتی۔ یہ معاملہ چونکہ بہت اہم ہے اس لیے تم غور و فکر سے اس بارے میں مجھے رائے دو ۔ ملکہ کا اپنے اہل دربار سے مشاورت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یا تو ملکہ کی طبیعت میں اپنی مطلق العنان فرمانروائی کا وہ غرور و پندار نہ تھا جو عام طور پر خودسر حکمرانوں میں ہوتا ہے اور ہمیشہ ان کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ اور یا شاید حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں ملکہ کی معلومات نے اسے باور کرا دیا تھا کہ ان سے لڑنا تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ البتہ یہ ممکن نہیں کہ محض ان کے خط لکھ دینے سے ہم اپنی آزادی اور حکمرانی سے دستبردار ہوجائیں اور ملک کا نظام ان کے حوالے کردیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ غور و فکر کے بعد کوئی راستہ نکالا جائے۔ لیکن کسی بھی طاقتور حکومت کے لیے لڑائی سے پہلوتہی کرنا آسان نہیں ہوتا۔ چاہے اس لڑائی کیخلاف کیسے ہی معقول دلائل کیوں نہ ہوں۔ اس لیے ملکہ یہ چاہتی تھی کہ میں اپنے ملک کو لڑائی کی تباہ ناکیوں سے بچائوں، لیکن بچنے کا ایسا راستہ تلاش کروں جو آبرومندانہ ہو۔ اور پھر اس کی ذمہ داری صرف مجھ پر نہ ہو بلکہ تمام عمائدینِ سلطنت اس ذمہ داری میں شریک ہوں۔
Ayah 27:33

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

اہلِ دربار نے جواب دیا کہ ہم طاقتور اور لڑنے والے لوگ ہیں، اور فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے، آپ غور کرلیں کہ کیا حکم دیتی ہیں

قَالُوْا نَحْنُ اُوْلُوْا قُوَّۃٍ وَّ اُوْلُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ 5 لا وَّالْاَمْرُاِلَیْکِ فَانْظُرِیْ مَاذَا تَاْمُرِیْنَ ۔ (النمل : 33) (اہلِ دربار نے جواب دیا کہ ہم طاقتور اور لڑنے والے لوگ ہیں، اور فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے، آپ غور کرلیں کہ کیا حکم دیتی ہیں۔ ) اہلِ دربار کا جواب اہلِ دربار نے جواب میں کہا کہ جنگ کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، ایک وسائلِ جنگ اور افرادی قوت کی اور دوسری جنگی مہارت اور جرأت و بسالت کی۔ یہ دونوں ضرورتیں ہمارے پاس پوری طرح موجود ہیں۔ لوگ ہماری جنگی مہارت اور شجاعت سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ اور ہمارے وسائل کی فراوانی بھی کسی سے مخفی نہیں۔ اور ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم جان پر کھیل کر لڑیں گے۔ لیکن جہاں تک فیصلے کا تعلق ہے اس کا اختیار آپ کو ہے۔ آپ غور و فکر کرلیجئے اور اس کے بعد ہمیں حکم دیجیے، ہم اطاعت میں کمزوری نہیں دکھائیں گے۔
Ayah 27:34

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

ملکہ نے کہا اس میں شک نہیں کہ بادشاہ جب کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں تو اسے برباد کردیتے ہیں اور اس کے معززین کو ذلیل کردیتے ہیں، اور یہی کچھ یہ لوگ بھی کریں گے

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْکَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَـۃً اَفْسَدُوْھَا وَجَعَلُوْٓا اَعِزَّۃَ اَھْلِھَـآ اَذِلَّـۃً ج وَکَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ ۔ (النمل : 34) (ملکہ نے کہا اس میں شک نہیں کہ بادشاہ جب کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں تو اسے برباد کردیتے ہیں اور اس کے معززین کو ذلیل کردیتے ہیں، اور یہی کچھ یہ لوگ بھی کریں گے۔ ) ملکہ کی رائے ملکہ نے محسوس کیا کہ اس کے اہل دربار کا رجحان جنگ کی طرف ہے اور ملکہ جنگ سے بچنا چاہتی تھی۔ وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی قوت و صولت اور ان کی دانش و حکمت سے متعلق بہت کچھ سن چکی تھی۔ چناچہ اس نے جنگ کے عواقب و نتائج سے اہل دربار کو آگاہ کرتے ہوئے کہا جنگ کسی ملک کی آبادی و ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ بربادی کا باعث ہوتی ہے۔ بادشاہ جب کسی ملک میں گھس جاتے ہیں تو اس کے وسائل پر قابض ہوجاتے ہیں اور اپنے مفتوحین کے بارے میں یہ کوشش کرتے ہیں کہ انھیں اس حد تک تہی دامن کردیا جائے کہ وہ ضروریاتِ زندگی کے سوا کچھ اور سوچنے کے قابل نہ رہیں۔ اور ان کے معززین کو اس حد تک پامال کردیا جائے کہ وہ سر اٹھا کے چلنے کا سوچ بھی نہ سکیں۔ چناچہ جس سر میں بھی سوچنے کی امنگ اور جس زبان میں بولنے کا حوصلہ اور جس دل میں آزادی کی تڑپ دیکھتے ہیں وہ اسے ہمیشہ کے لیے خاموش کردیتے ہیں۔ اور رفتہ رفتہ کمزور لوگوں میں خوشامدیوں اور ٹوڈیوں کا ایک ایسا طبقہ پیدا کردیتے ہیں جو غلامی میں عزت، جاسوسی میں شاہی قرب اور فاتحوں کی تہذیب کی نقل میں اپنا اعزاز سمجھتا ہے۔ اس طرح سے اس ملک کے حقیقی مالک ملک سے بیگانہ اور تیسرے درجے کے شہری بن کر رہ جاتے ہیں۔ اور یہ حرکت کوئی ایک بادشاہ نہیں کرتا بلکہ جو بادشاہ بھی کسی دوسرے ملک کو اپنی مملکت کا حصہ بنانا چاہتا ہے تو وہ یہی کچھ کرتا ہے۔ سلیمان بھی ایک بادشاہ ہیں۔ وہ جب قوت و جبر سے ہمارے ملک میں داخل ہوں گے تو وہ بھی اس ملک کے رہنے والوں کے ساتھ ایسا ہی کریں گے۔ اور آج جن کو معزز سمجھا جاتا ہے انھیں اپنے ملک میں کہیں جائے پناہ نہیں ملے گی۔
Ayah 27:35

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

میں ان کے پاس اپنے سفیر ہدیئے کے ساتھ بھیجتی ہوں، پھر دیکھتی ہوں کہ میرے سفیر کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں

وَاِنِّیْ مُرْسِلَـۃٌ اِلَیْھِمْ بِھَدِیَّۃٍ فَنٰظِرَۃٌ م بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ ۔ (النمل : 35) (میں ان کے پاس اپنے سفیر ہدیئے کے ساتھ بھیجتی ہوں، پھر دیکھتی ہوں کہ میرے سفیر کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں۔ ) حقیقت کا تجسس البتہ یہ بات کہ کوئی آبرومندانہ حل نکالنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم اس بات کا اندازہ کرسکیں کہ سلیمان کس طرح کے آدمی ہیں۔ وہ محض ایک بادشاہ ہیں یا اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں، جیسا کہ ان کے خط سے گمان ہوتا ہے۔ ان کی حیثیت کا تعین ہوجانے کے بعد پھر ان سے معاملہ کرنا آسان ہوجائے گا۔ چناچہ اس کا اندازہ کرنے کے لیے میں اپنے سفیروں کو تحائف دے کے بھیجتی ہوں۔ اگر وہ بادشاہ ہوئے تو مال و دولت کے حریص ہوں گے اور انھیں زیادہ سے زیادہ دولت کا لالچ دے کر ان سے کوئی مناسب معاملہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کے نبی ہوئے تو پھر ان کی قناعت و بےنیازی سے واضح ہوجائے گا کہ معاملہ محض ملک و دولت کا نہیں بلکہ اصول کا ہے۔ تو پھر ان سے معاملہ اصولی بنیادوں پر کیا جائے گا۔ تو اب میں اپنے قاصدوں کو تحائف دے کے روانہ کررہی ہوں۔ دیکھتے ہیں کہ وہ کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں۔
Ayah 27:36

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

جب قاصد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا، کیا تم لوگ میری مال سے مدد کرنا چاہتے ہو، مجھے اللہ نے جو کچھ دے رکھا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو اس نے تم کو دیا ہے بلکہ تم ہی ہو کہ اپنے ہدیوں پر خوش ہوتے ہو

فَلَمَّا جَآئَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ ز فَمَآ اٰتٰنِ یَ اللّٰہُ خَیْرٌ مِّمَّـآ اٰتٰـکُمْ ج بَلْ اَنْـتُمْ بِھَدِیَّتِکُمْ تَفْرَحُوْنَ ۔ (النمل : 36) (جب قاصد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا، کیا تم لوگ میری مال سے مدد کرنا چاہتے ہو، مجھے اللہ نے جو کچھ دے رکھا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو اس نے تم کو دیا ہے بلکہ تم ہی ہو کہ اپنے ہدیوں پر خوش ہوتے ہو۔ ) الفاظ میں دونوں باتوں کا احتمال ہے کہ ہدیہ لے کر جانے والا صرف ایک سفیر یا ایلچی ہو یا ایک پورا وفد ہو جو مختلف قسم کے ہدایا لے کر پہنچا ہو۔ دو حکومتوں کے درمیان ایسے معاملات میں عموماً سفارت صرف ایک آدمی کے توسط سے نہیں ہوتی بلکہ وفود کا آنا جانا ہوتا ہے۔ اس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس ایک وفد ہدایا لے کر گیا ہو۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ملکہ کے وفد کو جواب ملکہ کی طرف سے ہدایا دے کر بھیجا جانے والا وفد جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دربار میں پہنچا اور اس نے مناسب آداب کے ساتھ آپ ( علیہ السلام) کی خدمت میں ہدایا پیش کیے تو آپ ( علیہ السلام) نے لینے سے انکار کردیا۔ اور فرمایا کہ آپ یہ قیمتی تحائف دے کر مالی طور پر شاید میری مدد کرنا چاہتے ہیں اور آپ کا گمان یہ ہے کہ میرا ملک شاید کسی مالی بحران میں مبتلا ہے، اس لیے میں نے یہ جنگ کا ڈول ڈالا ہے تاکہ آپ لوگوں کے ملک پر قبضہ کرکے اپنے ملک کے لیے مالی وسائل فراہم کروں، یہ سوچ صحیح نہیں۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر اور بہتر عطا فرمایا ہے جو کچھ تمہارے پاس ہے۔ یعنی وسائلِ زندگی اور دولت و حشمت کے معاملے میں مجھ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے۔ آپ کے اس مال و دولت کی نہ مجھے ضرورت ہے اور نہ میرے ملک کو۔ میں نے آپ کی ملکہ کو ایک اصولی دعوت بھیجی ہے کہ آپ مطیع و فرمانبردار ہو کر میرے پاس حاضر ہوجائیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کے نظام عدل و انصاف کو نافذ ہونے کا موقع دیں۔ آپ لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہم نظریاتی لوگ ہیں اور ایک مقصد کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ اور وہی مقصد ہماری زندگی کی اصل منزل ہے۔ مال و دولت اگرچہ ہماری ضرورت ہے لیکن وہ ہمارا ہدف نہیں۔ یہ چیزیں آپ کو خوشیاں دے سکتی ہیں، ہمیں نہیں۔
Ayah 27:37

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

واپس جائو اپنے بھیجنے والوں کی طرف، ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کے مقابلے کی ان میں تاب نہیں، اور ہم انھیں وہاں سے ذلیل کرکے نکالیں گے اور وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے

اِرْجِعْ اِلَـیْھِمْ فَلَنَاْ تِیَـنَّـھُمْ بِجُنُوْدٍ لاَّ قِبَلَ لَھُمْ بِہَا وَلَـنُخْرِجَنَّھُمْ مِّنْھَـآ اَذِلَّـۃً وَّھُمْ صٰغِرُوْنَ ۔ (النمل : 37) (واپس جاؤ اپنے بھیجنے والوں کی طرف، ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کے مقابلے کی ان میں تاب نہیں، اور ہم انھیں وہاں سے ذلیل کرکے نکالیں گے اور وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ ) حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے رئیس وفد سے کہا کہ تم اپنی ملکہ اور اپنے اعیانِ مملکت کے پاس واپس جاؤ اور جا کر انھیں بتائو کہ ہم تحائف کے طلبگار نہیں ہیں، ہم تمہارے ملک کا نظام بدلنے کی فکر میں ہیں تاکہ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کر اللہ تعالیٰ کے عدل و احسان کے جھنڈے کے نیچے کھڑا کیا جائے۔ لیکن تمہارے اعیانِ سلطنت چونکہ اپنے اسباب و وسائل اور اپنی شجاعت و بسالت پر بڑا ناز کرتے ہیں، تو ہم بھی اپنی افواجِ قاہرہ لے کر تمہارے پیچھے پیچھے چلے آرہے ہیں۔ اور تم انھیں یقین دلائو کہ وہ ہمارے لشکروں کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ ہم ان کے ملک کو فتح کرنے کے بعد خودسروں کو وہاں سے اس طرح ذلیل کرکے نکالیں گے کہ وہ کبھی سر اٹھانے کے قابل نہیں ہوسکیں گے۔ کیونکہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ قومیں جنگ میں شکست کھا جاتی ہیں لیکن ان کے حوصلے شکست نہیں کھاتے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ ہم تمہاری فوجوں کا اس طرح کس بل نکالیں گے کہ تم کبھی بھول کر بھی جنگ کا نام نہیں لو گے۔
Ayah 27:38

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا، اے اہل دربار ! تم میں سے کون اس کا تخت میرے پاس لاتا ہے، قبل اس کے کہ وہ لوگ مطیع ہو کر میرے پاس حاضر ہوں

قَالَ یٰٓـاَیُّھَا الْمَلَؤُا اَیُّـکُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِھَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ ۔ (النمل : 38) (حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا، اے اہل دربار ! تم میں سے کون اس کا تخت میرے پاس لاتا ہے، قبل اس کے کہ وہ لوگ مطیع ہو کر میرے پاس حاضر ہوں۔ ) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعوتی تدبیر معلوم ہوتا ہے کہ سفیروں نے واپس جا کر ملکہ سبا کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دربار اور ان کی مملکت کے حالات کے بارے میں جو خبر دی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی متقیانہ زندگی کے بارے میں جو تفصیلات بہم پہنچائیں انھیں سامنے رکھتے ہوئے ملکہ نے یہ فیصلہ کرلیا کہ سلیمان محض ایک حکمران نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر معلوم ہوتے ہیں۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ میں ان کے پاس حاضر ہو کر بالمشافہ ان سے گفتگو کروں۔ چناچہ وہ نہایت خدم و حشم اور شاہی سازوسامان کے ساتھ فلسطین کی طرف روانہ ہوئیں اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اطلاع بھجوا دی کہ میں خود آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے بالمشافہ گفتگو کرنا چاہتی ہوں۔ تب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ خیال فرمایا کہ اس کے آنے سے پہلے اس کا تحت منگوا لیا جائے تاکہ تخت کو دیکھ کر اسے اندازہ ہوسکے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جس طرح شاہانہ جلال رکھتے ہیں اس سے بڑھ کر انھیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسی قدرتیں عطا کر رکھی ہیں کہ وہ چاہیں تو پندرہ سو میل کے فاصلے پر چشم زدن میں ایک ملکہ کا تخت منگوا سکتے ہیں۔ چناچہ اسی سوچ کے تحت آپ ( علیہ السلام) نے اپنے اہل دربار سے کہا کہ تم میں ایسا کون شخص ہے جو ملکہ سبا کے آنے سے پہلے اس کا تخت یہاں لے آئے۔
Ayah 27:39

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

جنوں میں سے ایک قوی ہیکل نے کہا کہ میں اس کو آپ ( علیہ السلام) کے پاس آپ ( علیہ السلام) کی اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے پہلے حاضر کردوں گا اور میں اس کام پر قدرت رکھنے والا اور ایک امانتدار ہوں

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِکَ ج وَاِنِّیْ عَلَیْہِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ۔ (النمل : 39) (جنوں میں سے ایک قوی ہیکل نے کہا کہ میں اس کو آپ ( علیہ السلام) کے پاس آپ ( علیہ السلام) کی اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے پہلے حاضر کردوں گا اور میں اس کام پر قدرت رکھنے والا اور ایک امانتدار ہوں۔ ) عِفْرِیْتٌتگڑے، زور آور اور قومی ہیکل کو کہتے ہیں۔ قرآن کریم نے مختلف مقامات پر اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو منطق الطیر کا علم دیا تھا، اسی طرح جنات کو ان کے لیے مسخر کردیا تھا۔ اور آپ ( علیہ السلام) کو ایسا علم عطا فرمایا گیا تھا جس کے ذریعے سے وہ جنوں سے کام لیتے اور جن ان کی اطاعت سے انکار نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے جس طرح انسان آپ ( علیہ السلام) کے دربار میں حاضر رہتے تھے اسی طرح آپ ( علیہ السلام) کے اہل دربار میں جنات بھی شامل تھے جو مختلف فرائض انجام دیتے تھے۔ انھیں جنات میں سے ایک بڑے قوی ہیکل اور ہوشیار جن نے آپ کے سوال کے جواب میں کہا کہ آپ کے حکم کی تعمیل کے لیے میں حاضر ہوں۔ میں اس مجلس کے برخاست ہونے سے پہلے پہلے ملکہ کے تحت کو حاضر کرسکتا ہوں۔ اور آپ کی مجلس کا وقت ظاہر ہے کہ چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں ہوگا۔ تو اس کا مطلب یہ تھا کہ میں پندرہ سو میل کے فاصلے پر ملکہ سبا کا عظیم الشان تخت جو نہ جانے کتنے پہریداروں کی حفاظت میں محفوظ ہوگا، میں تین چار گھنٹوں میں اسے آپ کے سامنے لاسکتا ہوں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آپ مجھ پر بھروسہ کرسکتے ہیں، میں اس تخت میں لگے ہوئے ہیروں اور جواہر کو کوئی نقصان نہیں پہنچائوں گا۔ میں جس طرح تخت کو اتنی دور سے اٹھا لانے کی طاقت رکھتا ہوں، اسی طرح میں امانتدار بھی ہوں۔ اس کی ایک ایک چیز کو بغیر کی کمی بیشی کے آپ کی خدمت میں حاضر کردوں گا۔
Ayah 27:40

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

جس کے پاس کتاب کا علم تھا، اس نے کہا میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں، پس جب اس نے وہ تحت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو اس نے کہا یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں، اور جو شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع کے لیے شکر کرتا ہے، اور جس نے ناشکری کی تو میرا رب بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْـکِتٰبِ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ قَـبْـلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْکَ طَرْفُـکَ ط فَلَمَّا رَاٰہُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَہٗ قَالَ ھٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ قف صلے لِیَبْلُوَنِیْٓ ئَ اَشْکُرُ اَمْ اَکْفُرُ ط وَمَنْ شَکَرَفَاِنَّمَا یَشْکُرُلِنَفْسِہٖ ج وَمَنْ کَفَرَفَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ کَرِیْمٌ۔ (النمل : 40) (جس کے پاس کتاب کا علم تھا، اس نے کہا میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں، پس جب اس نے وہ تحت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو اس نے کہا یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں، اور جو شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع کے لیے شکر کرتا ہے، اور جس نے ناشکری کی تو میرا رب بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے۔ ) اَلَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْـکِتٰبِ کا مفہوم جب جنوں میں سے ایک قوی ہیکل جن نے یہ کہا کہ آپ ( علیہ السلام) کی مجلس ختم ہونے سے پہلے میں وہ تخت آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا، تو ایک بزرگ جو کتاب کے عالم تھے، انھوں نے اسے لمبا وقت سمجھا اور کہا کہ اگر مجھے اجازت دی جائے تو میں پلک جھپکنے میں ملکہ کا تخت آپ کی خدمت میں حاضر کیے دیتا ہوں۔ چناچہ اسی ایک لمحے کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دیکھا کہ تخت ان کے سامنے موجود ہے۔ اس واقعہ میں بعض باتیں تشریح طلب ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ علم کتاب سے کیا مراد ہے ؟ مفسرین کے اس سلسلے میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے لوح محفوظ مراد ہے۔ بعض اسے کتاب شریعت قرار دیتے ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ علم کتاب سے مراد کتاب و شریعت یعنی تورات کا علم مراد نہیں، بلکہ اس سے مراد ایک ایسا علم ہے جو عملیاتِ سفلیہ کی طرح ناپاک اور ناجائز علم نہیں بلکہ ایسا علم ہے جسے کتاب و شریعت کے علم کے ساتھ ساتھ سیکھا بھی جاسکتا ہے اور اس کو زیرعمل لانے میں بھی کوئی شرعی قباحت نہیں۔ اب رہی یہ بات کہ وہ علم کون سا ہے، تو اس سے مراد، خواصِ کلمات اور اسمائے الٰہی کا علم ہے جو سحر و شعبدے وغیرہ جیسے علوم سفلیہ کے مقابلہ کے لیے دو فرشتوں کے ذریعے بنی اسرائیل کو بابل کی اسیری کے زمانے میں عطا ہوا تھا۔ یہ علم بجائے خود پاکیزہ ہے لیکن اس کی نوعیت ایک شمشیرِدو دم کی ہے جس کو فاسد اغراض میں استعمال کرکے انسان فتنہ میں پڑ سکتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ صاحب علم کتاب کون ہے ؟ اس میں بھی مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ کوئی اس سے حضرت خضر (علیہ السلام) کو مراد لیتا ہے اور بعض کے نزدیک اس سے آصف بن برخیاہ مراد ہیں جو یہودی ربیوں کی روایات کے مطابق رئیس الرجال ہیں۔ امامِ رازی کو اصرار ہے کہ اس سے خود حضرت سلیمان (علیہ السلام) مراد ہیں۔ لیکن یہ بات قرآن کریم کے سیاق کلام سے مناسبت نہیں رکھتی۔ ابن عربی کا خیال یہ ہے کہ یہ آصف بن برخیاہ کا تصرف ہے۔ تصرف اصطلاح میں خیال و نظر کی طاقت استعمال کرکے حیرت انگیز کام کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کے لیے نبی یا ولی بلکہ مسلمان ہونا بھی شرط نہیں۔ وہ مسمریزم جیسا ایک عمل ہے۔ ابن عربی کا کہنا یہ ہے کہ انبیائے (علیہم السلام) چونکہ تصرف کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اس لیے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ کام آصف بن برخیاہ سے لیا۔ یہ تمام اقوال اپنی جگہ لیکن قرآن کریم نے اس تصرف کو علم من الکتاب کا نتیجہ بتلایا ہے۔ اس لیے صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ کسی دعا یا اسم اعظم کا اثر تھا جس کا تصرف سے کوئی واسطہ نہیں، وہ کرامت ہی کے مفہوم میں داخل ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے اس عمل کو ایک ایسے شخص سے نسبت دی ہے جس کے پاس کتاب کا علم تھا۔ اس لیے زیادہ احوط بات یہ ہے کہ ہم صرف اتنی بات کو مانیں اور تسلیم کریں جتنی بات قرآن کریم میں فرمائی گئی ہے یا جو کچھ اس کے الفاظ سے مترشح ہوتا ہے، اس سے زیادہ کچھ کہنا یقینا بےاحتیاطی ہے۔ علمِ کتاب رکھنے والے وہ صاحب کوئی بھی ہوں، اتنی بات تو واضح ہے کہ وہ یقینا کوئی اللہ تعالیٰ کے ولی ہیں اور یہ ان کی کرامت ہے جس سے یہ حیرت انگیز واقعہ ظہور پذیر ہوا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شکرگزاری یہ واقعہ چونکہ ایک ایسے شخص کی کرامت سے ظہور میں آیا جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا امتی، آپ ( علیہ السلام) کا تربیت یافتہ اور آپ ( علیہ السلام) کا شاگرد تھا۔ تو بجائے اس کے کہ آپ یہ سوچ کر مغرور ہوجاتے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے شاگردوں کو کیسے کمالات عطا فرمائے ہیں، وہ فوراً پکار اٹھے کہ یہ سب میرے رب کا فضل ہے۔ اور وہ یہ فضل کرکے میرا امتحان کررہا ہے کہ میں اس کا شکرگزار اور فرمانبردار بندہ بنتا ہوں یا ناشکرا۔ جو شخص نعمت پا کر خدا کا شکرگزار رہتا ہے، وہ خدا کو کوئی نفع نہیں پہنچاتا بلکہ اپنے لیے نفع کا سامان کرتا ہے۔ میرا رب تو ہر طرح کے نفع سے بےنیاز ہے، لیکن اپنی بےنیازی کے ساتھ ساتھ وہ کریم بھی ہے۔ اس وجہ سے وہ ان لوگوں کو بھی اپنی نعمتوں سے محروم نہیں کرتا جو اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کی نہ صرف ناشکری کرتے ہیں بلکہ اس کیخلاف بغاوت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بعض لوگ اس اشتباہ کا اظہار کرتے ہیں کہ ڈیڑھ ہزار میل سے ایک تخت شاہی پلک جھپکنے میں کس طرح منگوایا جاسکتا ہے۔ یہ اشتباہ قلت فکر کا نتیجہ ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ زمان و مکان اور مادہ و حرکت کے جو تصورات ہم نے اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنا پر قائم کیے ہیں ان کے جملہ حدود صرف ہم پر منطبق ہوتے ہیں۔ خدا کے لیے نہ یہ تصورات صحیح ہیں اور نہ وہ ان حدود سے محدود ہیں۔ اس کی قدرت ایک معمولی تخت تو درکنار، سورج اور اس سے بھی زیادہ بڑے سیاروں کو آن کی آن میں لاکھوں میل کا فاصلہ طے کرا سکتی ہے۔ جس پروردگار کے صرف ایک حکم سے یہ عظیم کائنات وجود میں آگئی ہے تو اس کا ایک ادنیٰ اشارہ ہی ملکہ سبا کے تحت کو روشنی کی رفتار سے چلا دینے کے لیے کافی تھا۔ ہم قرآن کریم میں معراج کا واقعہ پڑھ چکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو ایک ہی رات میں بیت المقدس لے جایا گیا اور سنت کی وضاحت کے مطابق آپ ﷺ کو تمام آسمانوں کی سیر کرائی گئی۔ کوئی شخص ان وسعتوں کو دیکھ کر ایک رات میں اس سفر کا یقین نہیں کرسکتا، بجز اس کے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اذعان حاصل ہو۔