26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsروح القرآن

Ayahs 26:1–2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ کتاب مبین کی آیات ہیں

طٰسٓمّٓ۔ تِلْکَ اٰیٰتُ الْـکِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۔ (الشعرآء : 1، 2) (ط۔ س۔ م) یہ کتاب مبین کی آیات ہیں۔ ) یہ کتاب خود اپنی حقانیت کی دلیل ہے بعد میں آنے والی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار آنحضرت ﷺ کے تبلیغی مشن کو ناکام کرنے کے لیے کبھی آپ کو شاعر یا کاہن قرار دیتے اور اس سے یہ تصور دینا چاہتے کہ جس طرح کاہنوں کی باتیں الجھی ہوئی اور ناقابلِ فہم ہوتی ہیں اسی طرح تمہاری باتیں بھی ہماری سمجھ میں آنے والی نہیں۔ اور کبھی آپ سے نئی نئی نشانیوں کا مطالبہ کرتے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے رسول ہو تو ہمیں یہ یہ حیرت انگیز کارنامے دکھائو جس کی تفصیل متعدد، مواقع پر گزر چکی ہے۔ چناچہ ان دونوں باتوں کے رد کے لیے اس سورة کی پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں۔ مبین کا معنی ہے خود روشن یا دوسری چیزوں کو روشن کرنے والی۔ یعنی اس کتاب کی بنیادی صفت یہ ہے کہ یہ اپنی ذات میں ایک روشن کتاب ہے جس کی کوئی بات الجھی ہوئی نہیں۔ اس کی زبان فصاحت و بلاغت کا شاہکار ہے۔ اس نے اپنی دعوت کے ہر پہلو کو گوناگوں اسلوبوں سے مدلل و مبرہن کردیا ہے۔ کون سی ایسی گرہ ہے جسے اس کتاب نے نہیں کھولا، کون سا ایسا عقدہ ہے جس کا حل قرآن نے پیش نہیں کیا۔ ایسی کتاب پیش کرنے والے کو شاعر قرار دینا یا کاہن کہنا حقیقت کا خون کرنے کے مترادف ہے۔ اگر نشانی ہی کی طلب ہو تو اس کتاب سے بڑھ کر اور نشانی کیا ہوسکتی ہے۔ اس کتاب کو پیش کرنے والا امی قوم کا فرد، امی ماحول میں پروان چڑھنے والا اور خود اپنی ذات میں امی ہے جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتا، جس نے زندگی بھر کسی کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہیں کیے، جو کبھی کسی لائبریری میں نہیں گیا اور جائے بھی تو امی ہونے کی وجہ سے علمی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ لیکن اس کے باوجود اس نے وہ کتاب پیش کی ہے جس کا ایک ایک لفظ اپنے اندر اعجازی شان رکھتا ہے۔ اس نے ان علمی اسرارورموز کی گرہیں کھولی ہیں جن کے سامنے دنیا کی عقل و خرد سپرانداز ہوچکی تھی۔ اس نے وہ علمی محاکمے کیے ہیں جو آج تک کوئی نہ کرسکا۔ اس نے تاریخی صداقتوں کو مبرہن کیا ہے اور تاریخی خیانتوں کو پکڑا ہے۔ اس نے ایک ایسا مربوط نظام زندگی دیا ہے جس میں کہیں تضاد نہیں پایا جاتا۔ اور جس کی کوئی بات علمی مسلمات سے متصادم نہیں۔ یہ وہ نشانی ہے جو ہدایت حاصل کرنے والے کے لیے اپنے اندر ہدایت کا بیش بہا سامان رکھتی ہے۔ ایسی نشانی کی موجودگی میں کسی اور نشانی کی کیا ضرورت ہے۔
Ayah 26:3

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

اے پیغمبر ! ) شاید آپ اپنے آپ کو ہلاک کردیں گے کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں بنتے

لَعَلَّـکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلاَّیَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 3) (اے پیغمبر ! ) شاید آپ اپنے آپ کو ہلاک کردیں گے کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں بنتے۔ ) بَاخِعٌ … جو رگ ریڑھ کی ہڈی میں سے گزرتی ہوئی گردن میں پہنچتی ہے اسے بَخَاعٌ کہتے ہیں۔ جب ذبح کرتے وقت چھری یہاں تک پہنچ جائے تو ذبح مکمل ہوجاتی ہے، اسی سے بَاخِعٌماخوذ ہے۔ اس کا معنی ہے ایسا ذبح کرنے والا جس نے چھری بخاعتک پہنچا دی۔ نبی کریم ﷺ کی جس حالت کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے سورة کہف میں بھی یہی بات تھوڑی سے وضاحت سے کہی گئی ہے۔ فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ عَلٰی آثَارِھِمْ اِنْ لَّمْ یُوْمِنُوْا بِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا ” شاید آپ ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہیں، اگر وہ لوگ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔ “ ان آیات سے تین حقائق کا استحضار ان آیتوں کو دیکھتے ہوئے تین باتیں ذہن میں ابھرتی ہیں۔ پہلی یہ بات کہ نبی کریم ﷺ کو اپنی دعوت کی حقانیت اور اس کے انکار کرنے والوں کے ہولناک انجام کا انتہائی حد تک یقین تھا۔ کیونکہ جو شخص کسی بات کی دعوت دیتا ہے اگر وہ اسے محض ایک علمی نظریہ سمجھتا ہے تو وہ اس کے قبول یا عدم قبول پر اس قدر حساس نہیں ہوتا۔ اور اگر وہ اپنی کہی ہوئی باتوں کو ظنی گمان کرتا ہے تب بھی ان باتوں کو وہ اپنی جان پر ترجیح نہیں دے سکتا۔ اسی طرح اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ میری باتوں کو قبول کرلینے سے دنیوی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں اور رد کردینے سے چند نقصانات کا اندیشہ ہے تب بھی وہ اسے زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں بناتا۔ لیکن آنحضرت ﷺ جس طرح اپنی جان کو ہلکان کیے دے رہے تھے اور اس حد تک صدمے سے دوچار تھے کہ قرآن کریم کو بار بار تسلی کے لیے مداخلت کرنا پڑی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ اس بات کا حتمی یقین رکھتے تھے کہ میں جس بات کی دعوت دے رہا ہوں وہ دنیا کی سب سے بڑی صداقت ہے اور انسانی زندگی کے لیے اس کی حیثیت آب حیات سے بڑھ کر ہے۔ اسی سے دنیوی عزت و کرامت وابستہ ہے اور اسی سے اخروی کامیابیاں اور کامرانیاں حاصل ہوں گی۔ اور اس کا انکار کرنے والے ایک ہولناک انجام سے دوچار ہوں گے۔ دوسری بات جس کا احساس ہوتا ہے وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک میں اللہ تعالیٰ کے آستانے سے کٹے ہوئے لوگوں اور انسانیت سے گرے ہوئے انسانوں سے اس حد تک محبت ہے کہ آپ ان کی بھلائی کے لیے بار بار ان کا دامن کھینچتے ہیں، بار بار انھیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، بار بار انھیں یقین دلاتے ہیں کہ تم کھائی کی طرف بڑھ رہے ہو، لیکن وہ اس کے جواب میں گالیاں دیتے ہیں، اذیتیں پہنچاتے ہیں، الزامات لگاتے ہیں، حتیٰ کہ آپ کے قتل کے منصوبے باندھتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ آپ ان کی حرکتوں سے مکدر یا متنفر ہو کر انھیں دعوت دینا چھوڑ دیں اور انھیں تقدیر کے حوالے کرکے خاموشی سے گھر بیٹھ جائیں۔ آپ نہ صرف کہ اپنی تبلیغی مساعی میں کسی طرح کی کمی نہیں کرتے بلکہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اور رو رو کر اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے ہدایت مانگتے ہیں۔ یہ وہ رویہ ہے جو دنیا کے کسی انسان میں دکھائی نہیں دیتا۔ حتیٰ کہ ماں باپ جو ہمدردی اور غمگساری کا استعارہ ہیں وہ بھی بعض دفعہ اولاد سے لاتعلق ہوجاتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول کبھی اپنے مخالفین سے لاتعلق اور بےنیاز نہیں ہوتے۔ تیسری بات جو محسوس ہوئے بغیر نہیں رہتی وہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ دیکھتے ہیں کہ گھر میں فاقوں کی حکمرانی ہے۔ ایمان لانے والے نان شبینہ کے محتاج ہورہے ہیں۔ آپ کے جانثار جان لیوا مصائب سے دوچار ہیں۔ ابتلاء و آزمائش کی بھٹی گرم سے گرم تر ہوتی جارہی ہے لیکن ان میں سے کوئی بات بھی آپ کے لیے پریشانی کا باعث نہیں بنتی۔ آپ کو پریشان کرنے اور ہلکان کرنے والا وہ منظر ہے جس سے آپ کو روزانہ دوچار ہونا پڑتا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ پوری قوم میں گمراہی و ضلالت، اخلاقی پستی، ہٹ دھرمی اور اصلاح کی ہر کوشش کے مقابلے میں اندھی مزاحمت روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ وہ خیر اور بھلائی کی ہر بات کو اپنے لیے ناقابلِ قبول سمجھ رہے ہیں۔ یہ وہ صورتحال ہے جس سے آنحضرت ﷺ کے دل پر وہ ہلاک کردینے والی کیفیت طاری ہوتی ہے جس سے آپ روز بروز ہلاکت کی طرف بڑھتے جارہے ہیں۔ یہ تینوں کیفیات جو اس آیت کریمہ کے الفاظ سے خودبخود پھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول کے سوا یہ کیفیت کسی اور میں نہیں ہوتی۔ یوں تو آپ کی نبوت اور رسالت کے بیشمار دلائل ہیں لیکن اگر کسی کو باقی دلائل سے آگاہی نہ ہو تو اس کے لیے یہ کیفیات ہی آپ کی حقانیت کو اجاگر کرنے کے لیے کافی ہیں۔
Ayah 26:4

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار دیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی ہی رہ جائیں

اِنْ نَّشَانُنَزِّلْ عَلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَآئِ اٰ یَـۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُھُمْ لَھَا خٰضِعِیْنَ ۔ (الشعرآء : 4) (اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار دیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی ہی رہ جائیں۔ ) اس آیت میں اَعْنَاقُھُمْ ، ظَلَّتْ کا اسم ہے۔ خَاضِعِیْنَ خبر ہے۔ نحوی قاعدے کے مطابقخَاضِعَۃ ہونا چاہیے تھا، لیکن بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اسم اگر مرکب اضافی ہو تو اس کی خبر میں مضاف کی بجائے مضاف الیہ کی مطابقت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ عربی زبان کا ایک معروف اسلوب ہے۔ بعض اہل لغت کے نزدیک اعناق رئوساء کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اس صورت میں اس تأویل کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مخالفین کے لیے تہدید آیت کے اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار مکہ نے ایسی نشانی دکھانے کا مطالبہ کیا ہوگا جو اس قدر غیرمعمولی اور حیرت انگیز ہو کہ اسے دیکھ لینے کے بعد کوئی شخص بھی آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار نہ کرسکے۔ چناچہ اس کا جواب دیتے ہوئے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ ہم اگر چاہیں تو ایسی کسی نشانی کا اتار دینا ہماری قدرت سے کچھ بعید نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اولاً تو امتوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ان کے منہ مانگے معجزات بھی بعض دفعہ انھیں دکھا دیئے گئے لیکن وہ پھر بھی ایمان نہ لائے۔ قوم صالح نے پہاڑ سے نکلتی ہوئی اونٹنی دیکھی جو ان کے مطالبے پر دکھائی گئی تھی لیکن انھوں نے اسے جادو قرار دے کر رد کردیا۔ اور ثانیاً یہ بات بھی ہے کہ اگر ایسی کوئی نشانی دکھا کر بالجبر کسی قوم کو مسلمان بھی بنادیا جائے تو اس کا فائدہ کیا ہوگا۔ کیونکہ جبری ایمان تو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ تو یہ چاہتا ہے کہ لوگ سوچ سمجھ کر اپنے اختیار اور ارادہ سے ایمان لائیں۔ اسی صورت میں جزاء اور سزا کی معقولیت سمجھ میں آتی ہے۔ اگر زبردستی کسی کو مومن بنادیا جائے تو ایمان پر جزاء کیسی۔ اسی طرح اگر کسی کو جبراً کافر بنادیا جائے تو کفر پر سزا کیسی۔ اور پھر یہ بات بھی ہے کہ اگر بالجبر لوگوں کو مومن بنانا ہوتا تو ہر انسان کو اسی فطرت اور ساخت پر پیدا کیا جاتا جس میں کفر نافرمانی اور بدی کا کوئی امکان ہی نہ ہوتا بلکہ ہر انسان پیدائشی طور پر فرشتوں کی طرح فرمانبردار ہوتا۔ لیکن اس سے انسانوں کی وہ آزمائش جو انھیں عقل و شعور دے کر اور پیغمبروں کی بعثت اور کتابوں کے نزول سے کی گئی ہے وہ سب ختم ہو کے رہ جاتی۔ اس لیے قرآن کریم میں سورة یونس آیت 99 میں ارشاد فرمایا گیا ہے (اگر تمہارا رب چاہتا تو زمین کے رہنے والی سب کے سب لوگ ایمان لے آتے، اب کیا تم لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کرو گے) ۔ سورة ہود آیت 119 میں فرمایا (اگر تیرا رب چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی امت بنا سکتا تھا، وہ تو مختلف راہوں پر ہی چلتے رہیں گے اور بےراہ رویوں سے صرف وہی بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے، اسی لیے تو اس نے ان کو پیدا کیا تھا) ۔ البتہ منہ مانگے معجزات دیکھنے اور ایمان نہ لانے کا نتیجہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ اس قوم کے لیے مہلت کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔ اب ان کے سامنے ایک ہی راستہ ہوتا ہے کہ وہ ایمان لائیں تو بچ جائیں، ورنہ عذاب کا شکار ہوجائیں۔ قریش کو وارننگ دیتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اگر ہم تمہارے مطالبے کے مطابق ایسی کوئی نشانی نازل کردیں تو پھر تم پر عذاب کا ایسا کوڑا برسے گا جس کے بعد تم کبھی گردنیں اٹھا نہ سکو گے۔
Ayah 26:5

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

ان لوگوں کے پاس رحمن کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے تو یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں

وَمَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ ذِکْرٍمِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلاَّ کَانُوْا عَنْہُ مُعْرِضِیْنَ ۔ (الشعرآء : 5) (ان لوگوں کے پاس رحمن کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے تو یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ ) مخالفین کے اصل مرض کی نشاندہی مخالفین کے اصل مرض کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کہنا یہ ہے کہ آئے دن ان کی طرف سے مختلف قسم کی نشانیوں کا مطالبہ یہ اصل مرض چھپانے کی ایک کوشش ہے۔ ان کا حقیقی روگ یہ ہے کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی پیغمبر اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر آیا ہے تو اس کے مخاطب لوگوں نے ہمیشہ اسے جھٹلایا اور اس کی بات سننے سے انکار کردیا۔ پھر رفتہ رفتہ یہ مرض اتنا بڑھا کہ علاج کے ساتھ ساتھ انھیں معالج سے بھی نہ صرف نفرت بلکہ دشمنی ہوگئی۔ مریض کی اصل بدنصیبی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ علاج سے بےنیاز اور معالج سے دشمنی پر اتر آئے۔ معالج اس کے مرض کی تشخیص کرے اور نہایت ہمدردی سے نسخہ تجویز کرے تو وہ اسے ہذیان اور بکواس سمجھے اور معالج کا تمسخر اڑائے۔ ایسے مریض کا دنیا میں کہیں علاج نہیں ہوسکتا اور وہ اپنے مرض سے کبھی شفایاب نہیں ہوسکتا۔ اسے اپنے مرض کی فکر کی بجائے معالج کو ناکام کرنے کی فکر رہتی ہے۔ یہی حال قریش اور دیگر اہل مکہ کا ہے۔ لیکن انھیں اندازہ نہیں کہ ان کی اس روش کا انجام کیا ہونے والا ہے۔
Ayah 26:6

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

بلاشبہ وہ تکذیب کرچکے تو آجائیں گی ان کے پاس اطلاعات اس چیز کی جس کا وہ استہزاء کیا کرتے تھے

فَـقَدْکَذَّبُوْا فَسَیَاْ تِیْھِمْ اَنْـبٰٓـؤُا مَاکَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ (الشعرآء : 6) (بلاشبہ وہ تکذیب کرچکے تو آجائیں گی ان کے پاس اطلاعات اس چیز کی جس کا وہ استہزاء کیا کرتے تھے۔ ) مخالفین کا علاج غلبہ دین جن لوگوں کا مرض یہ صورت اختیار کرجائے کہ وہ ہر نصیحت کا تمسخر اڑائیں اور عذاب کی تنبیہ کو مذاق سمجھیں اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی تبلیغ و دعوت کے مقابلے میں ناشائستہ حرکتیں کریں۔ ان کا علاج یہ نہیں کہ ان پر ایسی نشانیاں اتاری جائیں جسے دیکھ کر وہ ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں بلکہ ان کا علاج یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے اور ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ لیکن یہ اس صورت میں مناسب ہے جب اس قوم کو مٹانے کا فیصلہ ہوچکا ہو بصورت دیگر ان کی سزا کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ جس دین کا مذاق اڑاتے اور غلبہ دین کی خبروں کو پیغمبر کی بڑ سمجھتے ہیں اور قرآن کریم کو اساطیر الاولین قرار دیتے ہیں اس دین کو غالب کردیا جائے۔ مکہ جو ان کا مرکز اعصاب اور قوت کا سرچشمہ ہے اس سے انھیں محروم کردیا جائے اور جزیرہ عرب کی حد تک چند ہی سالوں میں اللہ تعالیٰ کے دین کا پھریرہ لہرانے لگے۔ تب انھیں یقین آئے گا کہ وہ جو کچھ کہتے رہے سراسر باطل تھا۔ اور اس راہ میں جو کچھ انھوں نے مساعی انجام دیں وہ سب رائیگاں گئیں۔ حقیقت وہی تھی جسے اللہ تعالیٰ کے عظیم رسول پیش کررہے تھے۔ اَنْـبٰٓـؤُاسے مراد یہی انقلابات و تنبیہات ہیں جن سے ان بڑے بڑے سنگدلوں کا علاج ہونے والا تھا۔ چناچہ اسی تنبیہ اور خبر کے مطابق چند ہی سالوں میں مکہ سرنگوں ہوا، عرب کے بیشتر علاقے مفتوح ہوگئے، رفتہ رفتہ جزیرہ عرب اسلام کی آغوش میں آگیا اور کل کے فراعنہ اور نماردہ اسلام لانے پر مجبور ہوگئے یا ملک چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ اور یا حق و باطل کی کشمکش میں قتل ہوگئے۔
Ayah 26:7

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے کتنی کثرت سے ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں اگائی ہیں

اَوَلَمْ یَرَوْا اِلَی الْاَرْضِ کَمْ اَنْبَتْنَا فِیْھَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ کَرِیْمٍ ۔ (الشعرآء : 7) (کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے کتنی کثرت سے ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں اگائی ہیں۔ ) زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ مخالفین کا اصل مرض مشخص کرنے اور اصل علاج واضح کرنے کے بعد فرمایا کہ ہرچند ان لوگوں کو کسی نشانی کی طرف متوجہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ تاہم اگر کچھ طبیعتوں میں جستجوئے حق کا مادہ موجود ہو تو ان کے لیے آسمان سے نشانی اترنے کی کیا ضرورت ہے اور وہ اس کے منتظر بھی کیوں ہیں جبکہ اس زمین پر گوناگوں نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس زمین کو دیکھو بظاہر مٹی کا ایک تودہ ہے لیکن نہ جانے قوت روئیدگی کا خزانہ چھپا کر کہاں رکھا گیا ہے کہ کوئی کارآمد تخم بکھیر کر دیکھو زمین اسے اگانے میں بخل سے کام نہیں لے گی۔ زمین کے مختلف قطعات ایک ہی جیسے ہیں اور اس میں اگانے کی مشینیں بھی یقینا ایک ہی جیسی ہوں گی، لیکن جتنے اقسام کے تخم ڈالے جائیں ویسے ہی پودے سر اٹھاتے اور پھل دینے لگتے ہیں۔ اور بعض دفعہ تو اس سے بھی حیرت انگیز منظر سامنے آتا ہے کہ زمین بھی ایک اور بیج بھی ایک۔ لیکن اس سے اگنے والے پودے جو پھل دے رہے ہیں اس کے رنگ میں بھی فرق ہے اور لذت اور تأثیر میں بھی۔ موسم کی شدت بعض دفعہ لہلہاتی فصل کو خشک کرنے لگتی اور یا نوزائیدہ بیجوں کو گرمی سے اگنے میں رکاوٹ بننے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آتی ہے تو دریا اور سمندروں سے بھاپ اٹھتی، فضاء میں ابر کی چادریں پھیلتیں اور جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے وہاں بارش برسنے لگتی ہے۔ لیکن زمین کے حوالے سے یہ عجیب صورتحال سامنے آتی ہے کہ موسلادھار بارش میں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ زمین سارا پانی نگل لے اور دلدل بن جائے اور یہ بھی نہیں ہوتا کہ سارا پانی اگل دے اور پتھر بن کر روئیدگی کے قابل بھی نہ رہے۔ یہ تو چند حیران کن نشانیاں ہیں جو زمین کی قوت روئیدگی کے حوالے سے سرسری نگاہ سے سامنے آتی ہیں۔ اس کے علاوہ زمین کے اندر اور اس سے ہونے والی پیداوار میں جو بیشمار عجائب وغرائب ماہرینِ ارض نے آج تک سمجھے ہیں انھیں پڑھ کر نہ صرف حیرانی ہوتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تخلیق پر بھی یقین بڑھ جاتا ہے اور یہ وہ چیزیں ہیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے پائوں کے نیچے اور ہمارے دائیں بائیں پھیلی ہوئی ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ انسان آسمان سے نشانی اترنے کا مطالبہ کرتا ہے لیکن اپنے سامنے دیکھنے کی زحمت نہیں کرتا۔
Ayah 26:8

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

اس میں بیشک بہت بڑی نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَـۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّوْمِنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 8) (اس میں بیشک بہت بڑی نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ ) ہر طرف نشانیاں ہیں مگر اندھے پن کا کیا علاج ؟ یہ لوگ بار بار نشانی کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہم نے زمین کی جس نشانی کا ذکر کیا ہے جس میں بیشمار انواع و اقسام کی چیزیں جس فراوانی سے اگ رہی ہیں اور جن مادوں اور قوتوں سے کام لیا جارہا ہے اور جو قوانین یہاں کارفرما ہیں اور پھر زمین سے پیدا ہونے والی ہر نبات کے جو خواص اور صفات رکھی گئی ہیں اور پھر جس طرح سے زمین سے اگنے والی ہر چیز مخلوقات کی طبیعتوں کے ساتھ ہم آہنگ پیدا کی گئی ہیں حتیٰ کہ اس کے اندر اگنے والی جڑی بوٹیاں انسان کے تجسس کو دعوت دیتی ہیں تو بیشمار فوائد سامنے آتے ہیں اور ان میں سے کتنی بوٹیاں ایسی ہیں جو انسان کے مختلف امراض کا علاج بنتی ہیں۔ ایک عالم نے جنوبی افریقہ کے سفر کا حال لکھتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وہاں ایک ایسا پودا ہے جس کے پتوں کی خوبصورتی دیکھنے والوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ لیکن اگر اس کا پتا توڑ لیا جائے تو جسم میں زہر کی ایک لہر سی اٹھتی ہے۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اسی پودے کے نیچے چھوٹے چھوٹے پتوں والی ایک بوٹی پیدا کی گئی ہے جس کے پتے اس زہر کا تریاق بنائے گئے ہیں۔ یہ نہایت معمولی واقعہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمین میں کیسی کیسی حیران کن نشانیاں موجود ہیں، لیکن انسان کی کو تاہی فکر کا کیا کہنا کہ ایک طرف وہ ستاروں کی گزرگاہوں کو روندتا ہے اور دوسری طرف زمین پر پھیلی ہوئی نشانیوں سے سبق نہیں سیکھتا۔
Ayah 26:9

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا رب بہت زبردست بھی ہے اور مہربان بھی

وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (الشعرآء : 9) (اور بیشک آپ کا رب بہت زبردست بھی ہے اور مہربان بھی۔ ) غلط فہمی کا ازالہ انسانوں کی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے بےاعتنائی اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت سے سرکشی اور تمرد تو قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔ لیکن جب اس طرف سے کوئی گرفت نہیں ہوتی تو انسان سرکشی میں اور بڑھ جاتا ہے اور یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ مجھے کوئی پکڑنے والا نہیں۔ پروردگار اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے ارشاد فرما رہا ہے کہ تمہارا رب عزیز یعنی غالب ہے۔ وہ اگر کسی کو سزا دینا چاہے تو کوئی اس کو روکنے والا نہیں۔ وہ ایسا زبردست ہے کہ ہر چیز اس سے پناہ مانگتی ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ رحیم بھی ہے۔ اس لیے وہ مہلت پر مہلت دیئے چلا جاتا ہے، عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کرتا، تاکہ اگر کوئی شخص سنبھلنا چاہے اور اپنے انجام کو بہتر بنانا چاہے تو وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اس کی رحمت کا سزاوار بن سکتا ہے۔ اور اگر کوئی برسوں کی نافرمایوں کے بعد بھی اس کی رحمت کو دعوت دیتا ہے اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرکے ندامت و عجز کے ساتھ معافی مانگتا ہے تو اس کی طرف سے معاف کرنے میں کوئی دیر نہیں ہوتی۔ وہ عمربھر کی نادانیوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی قدرت کا یقین اور دوسری طرف اس کی رحمت کی امید یہ دو چیزیں ہیں جو ایمان کی بنیاد اور مغفرت کی اساس ہیں۔ انہی کے استحضار سے زندگی میں تبدیلی آتی اور انہی کو بھول جانے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہوجاتی ہے۔
Ayahs 26:10–11

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

یاد کرو جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا کہ جائو ظالم لوگوں کے پاس

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

یعنی قوم فرعون کے پاس، کیا وہ ڈریں گے نہیں

وَاِذْ نَادٰی رَبُّکَ مُوْسٰٓی اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ قَوْمَ فِرْعَوْنَ ط اَلاَ یَتَّـقُوْنَ ۔ (الشعرآء : 10، 11) (یاد کرو جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا کہ جاؤ ظالم لوگوں کے پاس۔ یعنی قوم فرعون کے پاس، کیا وہ ڈریں گے نہیں۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت قریش اور دیگر اہل مکہ کو ان کے عبرتناک انجام سے متنبہ کرنے اور نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو حق و باطل کی اس کشمکش میں کامیابی و کامرانی کی نوید سنانے کے لیے آگے چند انبیائے کرام اور ان کی امتوں کی سرگزشتیں بیان کی جارہی ہیں جن میں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون اور آل فرعون کی سرگزشت بیان کی گئی ہے۔ اس سرگزشت کو وہاں سے شروع کیا گیا ہے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپس مصر جاتے ہوئے راستہ بھول گئے اور ایک یخ بستہ تاریک رات میں پہاڑی درے میں راستے کی تلاش میں حیران کھڑے تھے کہ دور سے ایک آگ دکھائی دی۔ وہاں پہنچے تو وہ وادی مقدس طویٰ تھی جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کو اپنے کلام سے مشرف فرمایا اور منصب رسالت پر سرفراز کرکے فرعون اور اس کی قوم کے پاس انذار کے لیے جانے کی ہدایت کی۔ سرگزشت سے پہلے چند باتوں کی طرف توجہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کی تفصیلات سے پہلے چند ایسی باتوں کی طرف توجہ ضروری ہے جو اس سرگزشت سے نمایاں ہوتی ہیں۔ سب سے پہلی بات جس کی طرف متوجہ کیا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اور مسلمان یقینا قریش کی اذیت رسانیوں کے باعث نہایت جانگسل صورتحال سے دوچار ہیں۔ لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت کے آغاز سے بھی پہلے جن حالات سے واسطہ پڑا اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ نبی کریم ﷺ ایسی صورتحال سے دوچار نہیں ہوئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسی قوم کے فرد تھے جسے فرعونیوں نے ظالمانہ طریقے سے اپنا غلام بنا رکھا تھا۔ وہ آپ ( علیہ السلام) کی قوم کے ہر نومولود کو اس خیال سے قتل کرنے کے درپے تھے کہ ان کو کسی نجومی نے اس خبط میں مبتلا کردیا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو فرعون کا تختہ الٹ دے گا۔ اور یا وہ بنی اسرائیل کی بڑھتی ہوئی افرادی قوت سے خوفزدہ تھے اور وہ آج کے دور کی خاندانی منصوبہ بندی کی بجائے نرینہ بچوں کو قتل کرکے اس خطرے سے بچنا چاہتے تھے۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے آپ ( علیہ السلام) کی زندگی کی حفاظت کے لیے آپ ( علیہ السلام) کو ایک ٹوکرے میں ڈال کر دریائے نیل کی لہروں کے سپرد کردیا کہ شاید وہ اس طرح سے اپنے خطرناک انجام سے بچ جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے دستگیری فرمائی کہ ایسے مایوس کن حالات میں آپ ( علیہ السلام) کو فرعون کے گھر پہنچا دیا اور وہیں آپ ( علیہ السلام) کی پرورش کے امکانات پیدا کردیئے۔ لیکن نبی کریم ﷺ کو ایسی کسی صورتحال سے دوچار نہیں ہونا پڑا۔ آپ ﷺ قریش کے معزز گھرانے کے فرد تھے۔ آپ ﷺ نے یتیمی کے دکھ ضرور اٹھائے لیکن آپ ﷺ کی نمود و پرداخت ایک آزاد بچے کی طرح ہوئی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوئے تو ایک اسرائیلی کی مدد کرتے ہوئے ایک قبطی ان کے ہاتھ سے مارا گیا۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) کی گرفتاری کا فیصلہ ہوا، قتل کے منصوبے تیار ہوئے اور آپ ( علیہ السلام) اپنی جان بچانے کے لیے مصر سے بھاگے اور مدین پہنچ گئے۔ اور پھر دس برس روپوش رہنے کے بعد واپس مصر آرہے تھے تو آپ ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا اور فرعون کی ہدایت کے لیے جانے کا حکم دیا۔ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایسا کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔ آپ ﷺ اپنے ملک میں نہایت عزت کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے کہ جب آپ ﷺ کو نبوت دی گئی۔ قتل جیسا کوئی الزام آپ ﷺ کی ذات پر نہ تھا۔ فرعون کی سلطنت اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقتور سلطنت تھی اور فرعون آپ ( علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک قبطی کے قتل ہوجانے کی وجہ سے آپ ( علیہ السلام) سے ذاتی انتقام کی خواہش دل میں رکھتا تھا، لیکن قریش کو فرعون کی طاقت اور حکومت سے کوئی نسبت نہ تھی اور انھیں نبی کریم ﷺ سے کوئی عناد نہ تھا اور نہ کسی کا انتقام آپ ﷺ کے ذمہ تھا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہایت خطرناک حالات اور خطرناک دشمن کے سامنے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجے گئے تھے جبکہ آپ کی جان بھی خطرے میں تھی اور آپ کی پشت پناہی کے لیے کوئی طاقت بھی نہ تھی اور فرعون اور آل فرعون بےپناہ وسائل کے مالک اور نہایت قوت و وجاہت رکھتے تھے۔ لیکن جب ہم تاریخ کو دیکھتے ہیں تو وہ ہمیں بتاتی ہے کہ فرعون اپنی تمام تر حکومت اور وسائل کی فراوانی کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کچھ نہ بگاڑ سکا اور آخرکار ان سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔ اس سے قریش اور دیگر اہل مکہ کو یہ سبق دینا ہے کہ تم اپنی جس طاقت و قوت پر ناز کرتے ہو وہ فرعون کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، اور نبی کریم ﷺ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت بہتر پوزیشن میں ہیں۔ جب فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسی بےبس اور بےکس شخصیت کا کچھ نہ بگاڑ سکا تو تم بھی نبی کریم ﷺ ، اسلامی دعوت اور مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے اور اس کشمکش میں بالآخر ناکام و نامراد ٹھہرو گے۔ دوسری بات جس کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور آل فرعون کے سامنے ایسی کھلی نشانیاں دکھائیں اور آپ ( علیہ السلام) کے ہاتھ سے ایسے حیرت انگیز معجزات کا ظہور ہوا جس سے زیادہ واضح نشانیوں کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اور پھر اس پر مستزاد یہ کہ فرعونیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو جادو کہہ کر بےاثر کرنا چاہا، لیکن جادوگروں کے ساتھ آپ ( علیہ السلام) کے مقابلے میں جادوگروں کی بےبسی اور پھر ان کے اعترافِ حق نے اس بات پر مہرتصدیق ثبت کردی کہ آپ ( علیہ السلام) جادوگر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ باایں ہمہ فرعون اور اس کی قوم نے آپ ( علیہ السلام) پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ کیا قریش کو اس سے سبق نہیں ملتا کہ جب قومیں ہٹ دھرم ہوجاتی ہیں، تو بڑی سے بڑی نشانی کو دیکھ لینا بھی ان کے لیے سودمند نہیں ہوتا۔ اور ایک وقت آتا ہے کہ یہ ہٹ دھرمی انھیں تباہی کے راستے پر لے جاتی ہے۔ قریش کو اگر اپنے انجام کی کچھ بھی فکر ہے تو انھیں بجائے نشانیوں کا مطالبہ کرنے کے پہلی امتوں کی تباہی کے اسباب پر غور کرنا چاہیے اور ان اسباب کو دور کرنے کی فکر کرنی چاہیے جن اسباب کی وجہ سے معذب قوموں میں سے ہر قوم بدترین تباہی کا شکار ہوئی۔ ان تمہیدی کلمات کے بعد پیش نظر آیات پر غور کیجیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ آپ ( علیہ السلام) فرعون اور قوم فرعون کے پاس جائیں جو نہایت ظالم قوم ہے جنھوں نے اپنے اوپر ظلم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اپنے جیسے ایک انسان کو رب بنا رکھا ہے۔ وہ سر جو صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنا چاہیے وہ فرعون کے سامنے جھکتا ہے اور وہ تمام اختیارات انھوں نے فرعون کو سونپ رکھے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق ہیں۔ مزیدبرآں ان کے ظلم کا حال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم کر رکھا ہے، ان سے سخت بیگار لی جاتی ہے، عمارتوں کی تعمیر کے لیے بڑے بڑے پتھر ان سے اٹھوائے جاتے ہیں اور پھر اسی ظلم پر اکتفا نہیں، ان کے بیٹوں کو قتل کیا جاتا ہے اور بیٹیوں کو گھروں کی صفائی اور اپنی ہوس رانی کے لیے زندہ رکھا جاتا ہے۔ ان کے اس بڑھتے ہوئے ظلم کو روکنے کے لیے ان کے پاس جائیے اور انھیں توجہ دلائیے کہ ان کا یہ ظلم اور ان کی یہ سرکشی آخر کہاں تک پہنچے گی کیا وہ یہ بات بھول گئے ہیں کہ کائنات کا ایک خالق ومالک بھی ہے۔ باقی مخلوقات کی طرح فرعون کو بھی اسی نے پیدا کیا ہے۔ کیا یہ لوگ اس کے قہر و غضب سے کبھی نہیں ڈریں گے۔
Ayahs 26:12–14

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا، اے رب ! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھ کو جھٹلا دیں گے

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور میرا سینہ گھٹتا ہے اور روانی سے میری زبان نہیں چلتی، آپ ہارون کی طرف وحی بھیجیں

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور ان کا میرے ذمے ایک جرم بھی ہے، اس لیے میں ڈرتا ہوں وہ مجھے قتل کردیں گے

قَالَ رَبِّ اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یُّکَذِّبُوْنِ ۔ وَیَضِیْقُ صَدْرِیْ وَلاَ یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰی ھٰـرُوْنَ ۔ وَلَھُمْ عَلَیَّ ذَنْبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّـقْـتُـلُوْنَ ۔ (الشعرآء : 12، 13، 14) (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا، اے رب ! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھ کو جھٹلا دیں گے۔ اور میرا سینہ گھٹتا ہے اور روانی سے میری زبان نہیں چلتی، آپ ہارون کی طرف وحی بھیجیں۔ اور ان کا میرے ذمے ایک جرم بھی ہے، اس لیے میں ڈرتا ہوں وہ مجھے قتل کردیں گے۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے چند اندیشے نبوت اور رسالت ایک بہت نازک اور کٹھن ذمہ داری ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کا شدید احساس تھا۔ اس احساس کے تحت آپ نے عرض کی کہ اے میرے رب، مجھے اندیشہ ہے کہ فرعون اور آل فرعون میری تکذیب کریں گے اور مجھے جھٹلا دیں گے۔ اسی شدید احساس کے تحت میرا سینہ بھنچتا ہے اور ساتھ ہی اس بات کا خیال بھی ہے کہ میری زبان اظہارِ مدعا اور بحث میں بہت روانی سے نہیں چلتی۔ اور رسالت ایک ایسا منصب ہے جس میں قدم قدم پر لوگوں کے سامنے خطبہ دینے اور بعض دفعہ بحث کرنے کی نوبت آتی ہے۔ میں نے غور و فکر اور خاموشی کی زندگی گزاری ہے۔ اب اچانک مجھے ایک ایسی ضرورت سے دوچار کردیا جائے گا تو میں شاید اس سے عہدہ برآ نہ ہوسکوں، اس لیے ذمہ داری میں حضرت ہارون (علیہ السلام) کو میرا معاون بنا دیجیے۔ وہ میرے شریک کار کی حیثیت سے میری مدد کریں کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنی ساتھ اس منصب میں شریک کرنے کی دعا کی ہے اور اس کی وجہ یہی بیان کی ہے کہ وہ ان سے زیادہ فصیح واقع ہوئے ہیں یعنی بات کو زیادہ موثر طریقے سے اور رواں دواں انداز میں کہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اور مزید یہ عرض کی کہ الٰہی آپ جانتے ہیں کہ ان کا ایک گناہ اور جرم بھی میرے ذمے ہے۔ یہ دراصل اشارہ اس واقعہ کی طرف ہے جس کا ذکر سورة القصص میں ہے کہ بےخیالی میں ایک اسرائیلی کی مدد کرتے ہوئے ایک قبطی آپ ( علیہ السلام) کے ہاتھ سے مارا گیا تھا۔ آپ ( علیہ السلام) اس کے ظلم سے ایک اسرائیلی کو بچانے کے لیے آگے بڑھے تو اس نے آپ پر بھی دست درازی کی۔ آپ نے اسے روکتے ہوئے ایک مکا رسید کیا۔ مکا نہ تو آلہ قتل ہے اور نہ اقدامِ قتل پر دلالت کرتا ہے۔ یہ محض کسی کو روکنے یا سرزنش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن یہ اتفاق تھا کہ وہ شخص اس سے مرگیا۔ فرعون کی کابینہ میں پہلے ہی کچھ لوگ آپ کے خلاف ادھار کھائے بیٹھے تھے، ان کو جیسے ہی اس واقعہ کی خبر ہوئی، انھوں نے آپ کے قتل کے منصوبے باندھے اور آپ کی گرفتاری کے لیے سازش کی۔ آپ کو جیسے ہی کسی مخبر نے اطلاع دی تو آپ مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور مدین جا کر پناہ لی۔ اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ یہ فرما رہے ہیں کہ ان کا ایک قتل بھی میرے ذمے ہے، مجھے ڈر ہے کہ وہ اس جرم میں مجھے قتل کر ڈالیں گے۔
Ayahs 26:15–17

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہرگز نہیں، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جائو، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سننے والے ہیں

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

تم دونوں فرعون کے پاس جائو اور اسے کہو کہ ہم رب العالمین کے رسول ہیں

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے

قَالَ کَلاَّ ج فَاذْھَبَا بِاٰیٰـتِنَآ اِنَّا مَعَکُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ ۔ فَاْ تِیَا فِرْعَوْنَ فَـقُوْلاَ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ ۔ (الشعرآء : 15، 16، 17) (اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہرگز نہیں، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سننے والے ہیں۔ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ ہم رب العالمین کے رسول ہیں۔ کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔ ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطمینان دہانی اللہ تعالیٰ نے پوری شدت کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس اندیشے کو رد کردیا کہ وہ لوگ آپ کو قتل کردیں گے اور اطمینان دلاتے ہوئے یہ فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ جب تم فرعون کے پاس جاؤ گے تو کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں ہوں گے، ہم یقینا تمہارے ساتھ ہوں گے اور جو کچھ قبطی تم سے کہیں گے وہ ہم سب کچھ سنیں گے۔ ان کی کوئی بات بھی ہم سے مخفی نہیں ہوگی۔ اس لیے آپ پورے اطمینان کے ساتھ اس کے پاس جایئے اور اسے کہئے کہ ہم رب العالمین کے نمائندہ بن کے آئے ہیں۔ تم اپنے آپ کو مصر اور اہل مصر کا رب کہتے ہو، لیکن تم اس بات کو بھول گئے ہو کہ اس کائنات کا بھی ایک رب ہے، اس نے اس کائنات میں بسنے والوں کو کچھ فرائض کا پابند بنا رکھا ہے۔ انسان بھی اس کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے جو زمین پر آباد ہے، اسے بھی کچھ فرائض دے کر زمین پر پیدا کیا گیا ہے۔ اور کچھ حدود ہیں جن میں اس کی آزادی کو محدود کردیا گیا ہے جو کائنات کا رب اور مالک ہے وہی اس زمین کا بھی مالک ہے۔ وہ مختلف اوقات میں اہل زمین کی اصلاح اور ان کی حدود کی یاددہانی کے لیے اپنے پیغمبر بھیجتا رہتا ہے۔ وہ لوگوں کو باور کراتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص بھی اس زمین کے بنانے والے اور تمہیں پیدا کرنے والے کی مرضی سے آزاد نہیں۔ تمہیں یقینا ایک محدود آزادی دی گئی ہے لیکن اس کے استعمال کی حدود اور اس کے طریقے بھی واضح کیے گئے ہیں۔ انتظامی ضرورتوں کے تحت تمہیں جو نظم اجتماعی دیا گیا ہے اس میں تمہارا ایک امیر ہوتا ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کا اسی طرح پابند ہوتا ہے اور اس کے احکام کا اسی طرح مکلف ہوتا ہے، اور اس کی حدود میں اسی طرح محدود رہتا ہے جیسے اس کا ایک عام بندہ اور عام انسان رہتا ہے۔ اس کائنات کے حاکم نے ہمیں تمہارے پاس اپنا نمائندہ اور رسول بنا کر بھیجا ہے تاکہ ہم تمہیں تمہاری اصل حیثیت کا احساس دلائیں۔ ہم تمہاری بھی اصلاح چاہتے ہیں اور مصر کے باقی لوگوں کی بھی۔ اور ساتھ ہی یہ بھی چاہتے ہیں کہ تم نے بنی اسرائیل کو محض ظلم کا نشانہ بناتے ہوئے جس طرح غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے اس کا تمہیں کوئی حق نہیں۔ اگر تم یہاں انھیں آزادی نہیں دے سکتے تو پھر انھیں ہمارے ساتھ بھیج دو ، تاکہ وہ اپنے اصل وطن کی طرف لوٹ جائیں۔ اَنْ اَرْسِلْ ، اصل میں بِاَنْ اَرْسِلْہے۔ عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق ب حذف ہوگئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم اس پیغام کے ساتھ رسول بن کر آئے ہیں۔
Ayahs 26:18–19

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

فرعون نے کہا کیا ہم نے تم کو بچپن میں اپنے اندر نہیں پالا اور تو رہا ہمارے اندر اپنی عمر کے کئی سال

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور تو نے ارتکاب کیا اس فعل کا جس کا تو نے ارتکاب کیا، اور تو بڑا احسان فراموش ہے

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّکَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِکَ سِنِیْنَ ۔ وَفَعَلْتَ فَعْلَتَکَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَاَنْتَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (الشعرآء : 18، 19) (فرعون نے کہا کیا ہم نے تم کو بچپن میں اپنے اندر نہیں پالا اور تو رہا ہمارے اندر اپنی عمر کے کئی سال۔ اور تو نے ارتکاب کیا اس فعل کا جس کا تو نے ارتکاب کیا، اور تو بڑا احسان فراموش ہے۔ ) فرعون کی برہمی فرعون نے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ دو باتیں سنیں، ایک تو یہ بات کہ ہم رب العالمین کی طرف سے رسول بن کر آئے ہیں اور دوسری یہ بات کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دیں، تو اسے تو آگ لگ گئی۔ وہ اس بات کا تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ اس کی غلام قوم کا ایک فرد اس کے سامنے دوبدو باتیں کرے اور پھر اس کی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے رب العالمین کا نام لے اور اپنے آپ کو اس کا نمائندہ ٹھہرائے۔ فرعون اپنے آپ کو ربکم الاعلیٰ کہتا تھا، یعنی میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں، تو یہ رب العالمین کہاں سے آگیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر سارے جہانوں کا رب کوئی اور ہے تو میں کیا ہوں۔ اس کے لیے اس سے بڑھ کر تکلیف دہ بات اور کیا ہوسکتی تھی اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ مطالبہ کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے، یہ تو نہایت خطرناک مطالبہ تھا۔ دنیا میں کبھی غلامی کی زنجیریں یوں بھی کٹی ہیں کہ اچانک کسی استعماری قوت نے کسی قوم کو اپنی غلامی سے نکلنے کی آزادی دے دی ہو۔ کیونکہ غلاموں سے ہمیشہ گھروں کی خدمت لی جاتی ہے، بڑی سے بڑی بیگار میں انھیں جوتا جاتا ہے، زمین کی کھیتی باڑی انھیں کے دم سے ہوتی ہے، آقائوں کے شاندار محلات انھیں کی محنت اور پسینے سے تعمیر ہوتے ہیں، وہ اپنے آقائوں کو ہر طرح کا آرام پہنچانے کے لیے آٹھوں پہر بےزبان چوپایوں کی طرح کام میں جتے رہتے ہیں۔ بنی اسرائیل کو جانے کی اجازت دے کر ملکی زندگی کو تلپٹ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس لیے اس نے نہایت برہمی سے کہا کہ تمہاری یہ جرأت کہ تم مجھ سے اس طرح کی باتیں کرو، کیا تم وہی نہیں جو پانی میں بہتے ہوئے ایک بےکس بچے کی صورت میں ہمارے محلات کے قریب آیا تو ہم نے اسے ترس کھا کر محل کی خادمائوں کے حوالے کردیا۔ پھر عرصہ دراز تک ہمارے گھر میں تم ناز و نعم سے پلتے رہے اور جب تم ہمارے گھر کا ہی کھا پی کر جوان ہوئے تو ہمارے ہی ایک آدمی کو قتل کرکے بھاگ نکلے اور آج تمہاری جرأت کا عالم یہ ہے کہ تم میرے سامنے مطالبات لے کر آگئے ہو۔ تمہیں تو ایک قاتل ہوتے ہوئے پھانسی کی کوٹھڑی میں ہونا چاہیے۔
Ayahs 26:20–22

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں نے اس کا ارتکاب اس وقت کیا تھا جبکہ میں ناواقف تھا

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

تو جب مجھے تم لوگوں سے اندیشہ ہوا تو میں تم سے بھاگ گیا، پھر میرے رب نے مجھے حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں سے بنادیا

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور وہ احسان جو تم مجھ پر جتلا رہے ہو، اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے

قَالَ فَعَلْـتُھَآ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَ ۔ فَفَرَتْ مِنْکُمْ لَمَّا خِفْتُکُمْ فَوَھَبَ لِیْ رَبِّیْ حُکْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ وَتِلْکَ نِعْمَۃٌ تَمُنُّھَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَ بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ ۔ (الشعرآء : 20، 21، 22) (موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں نے اس کا ارتکاب اس وقت کیا تھا جبکہ میں ناواقف تھا۔ تو جب مجھے تم لوگوں سے اندیشہ ہوا تو میں تم سے بھاگ گیا، پھر میرے رب نے مجھے حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں سے بنادیا۔ اور وہ احسان جو تم مجھ پر جتلا رہے ہو، اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب فرعون نے اپنے جن احسانات کا تذکرہ کیا اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو احسان فروشی کا طعنہ دیتے ہوئے ایک آدمی کے قتل کا الزام لگایا، اس کا جواب دیتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جہاں تک قتل کے الزام کا تعلق ہے وہ مجھ سے اس وقت سرزد ہوا جب میں ضالین میں سے تھا۔ ضالین، ضال کی جمع ہے۔ عام طور پر اس کا ترجمہ گمراہ کیا جاتا ہے کیونکہ ضلالت گمراہی کو کہتے ہیں، لیکن ہمیشہ ضلالت کا مفہوم گمراہی ہی نہیں ہوتا بلکہ عربی زبان میں کبھی اس لفظ کو ناواقفیت، نادانی، خطا، نسیان، نادانستگی وغیرہ معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک ضالسرگشتہ، جویائے راہ اور کھوئے ہوئے کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے۔ سورة الضحیٰ میں یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں بھی آیت کا مفہوم یہ ہے کہ قبطی کے قتل کا واقعہ جو مجھ سے سرزد ہوا اس کے پیچھے ارادہ فعل کام نہیں کررہا تھا، نہ میرے ہاتھ میں کوئی آلہ قتل تھا، میں نے اسے اس کے ظلم سے روکنے کے لیے ایک گھونسا مارا۔ میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ یہ شخص اس سے مرجائے گا۔ وہ کچھ ایسا بےڈھب پڑا کہ اس کی موت واقع ہوگئی۔ تو یہ جو کچھ ہوا، بیخبر ی اور بےخیالی میں ہوا۔ لیکن جب مجھے اندیشہ ہوا کہ میرے قتل کے منصوبے باندھے جارہے ہیں تو میں تم سے ڈر کر بھاگ نکلا۔ میں یقینا تمہارے ظلم سے ڈر کر بھاگا تھا۔ لیکن آج جبکہ میں لوٹ کے آیا ہوں تو میں ایک بھاگا ہوا مجرم نہیں بلکہ ایک ایسا شخص ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے علم و دانش اور پروانہ نبوت عطا فرمایا ہے۔ کیونکہ حکم ان دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور آپ کو رسول بنانے کا تذکرہ تو اس آیت میں صراحۃً کیا جارہا ہے۔ رہا تمہارا یہ احسان کہ میں تمہارے گھر میں پلا بڑھا ہوں تو اس سلسلے میں دو باتیں قابل توجہ ہیں۔ پہلی یہ بات کہ مجھے اس احسان کا اعتراف ہے جو تمہارے اہل خانہ نے مجھ پر کیا۔ لیکن کیا یہ احسان اس ظلم عظیم کو جائز ثابت کرنے کے لیے کافی ہے جو تم بنی اسرائیل پر کر رہے ہو کہ تم نے ان کی آزادی سلب کر رکھی ہے اور تم ان سے وہ سلوک کررہے ہو جو کوئی مہذب شخص جانوروں پر کرنا بھی جائز نہیں سمجھتا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم مجھے اس بات کا جواب دے سکتے ہو کہ میں تمہارے محل میں کیونکر پہنچا۔ تم نے بنی اسرائیل پر مظالم کی انتہا کرتے ہوئے یہاں تک نوبت پہنچا دی کہ تم نے ان کے بچوں کو قتل کرنا شروع کردیا جبکہ دنیا کی کوئی مہذب قوم بدترین حالات میں بھی بچوں کو قتل کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ تمہارے اس ظلم سے بچوں کو بچانے کے لیے مائوں نے نہ جانے کیسے کیسے ظلم کے چرکے سہے۔ میری ماں نے بھی مجھے بچانے کے لیے صبر کی سِل اپنے سینے پر رکھی اور مجھے ٹوکرے میں ڈال کر دریائے نیل کے سپرد کردیا۔ اگر تم نے میری قوم پر یہ ظلم روا نہ رکھا ہوتا تو میں تمہارے گھر کیوں پہنچتا۔ کیا میری پرورش کے لیے میرا اپنا گھر موجود نہ تھا۔ اور کیا مجھے دودھ پلانے کے لیے میری ماں کی آغوش نہ تھی۔ اور کیا میرا بوجھ اٹھانے کے لیے میرے باپ کے کندھے سلامت نہ تھے۔ کیا اس ظلم کے بدلے میں تمہیں یہ بات زیب دیتی ہے کہ تم مجھ پر اپنا احسان جتلائو۔ یہ تو میرے اللہ کا کرم ہے کہ تم جس بچے سے ڈر کر بچوں کو قتل کروا رہے تھے اس نے اسی بچے کو تمہارے گھر میں رکھ کر تربیت کروایا۔ آج اسی رب العالمین کا نمائندہ بن کر میں تمہارے سامنے کھڑا ہوں۔
Ayah 26:23

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے

قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الشعرآء : 23) (فرعون نے کہا کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مسکت جواب پر فرعون کا خلط مبحث فرعون جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں کا جواب نہ دے سکا تو اس نے کہا کہ تم جس رب العالمین کی نمائندگی کا دعویٰ کررہے ہو وہ کیا ہے ؟ جبکہ سب سے بڑا رب تو میں ہوں۔ ذرا اس کی حقیقت تو بیان کرو، کیونکہ عربی زبان میں ” ما “ کا لفظ کسی چیز کی حقیقت اور ماہیت معلوم کرنے کے لیے آتا ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سوال سے فرعون رب العالمین کی حقیقت معلوم کرنا چاہتا تھا۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حقیقت پر آگاہ ہونا انسان کے لیے ناممکن ہے۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس مسئلہ میں الجھنے کی بجائے ان دلائل و شواہد کی طرف اس کی توجہ مبذول کی جن پر اگر غور و فکر کیا جائے تو انسان رب العالمین کو پہچان سکتا ہے۔ لیکن بڑی حکمت سے ان دلائل و شواہد کو بیان کیا گیا ہے جن سے رب العالمین کی پہچان بھی آسان ہوجاتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ فرعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حیثیت بھی واضح ہوجاتی ہے۔ کہنا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جس رب کی نمائندگی کر رہے ہیں وہ درحقیقت محدود معنی میں رب نہیں بلکہ وہ سارے جہان والوں پر حاکمیت اور اقتدارِاعلیٰ رکھتا ہے اور فرعون غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ وہ ربِ اعلیٰ ہے وہ درحقیقت اس پروردگار کا تابع ہے جو حقیقت میں اقتدارِاعلیٰ کا مالک ہے۔ وہ اپنی بالاتر شان کے حوالے سے اپنے نمائندہ کے ذریعہ سے فرعون کو حکم دے رہا ہے کہ وہ اپنی رعایا کے ایک حصے کو اس کے نمائندہ کے حوالے کردے تاکہ بنی اسرائیل کو آزاد فضا میں وہ تربیت دی جاسکے جس کے نتیجے میں وہ اپنے اصل مالک و فرمانروا کے حقوق ادا کرنے کے قابل ہوسکے جن سے فرعون نے ظلماً انھیں روک رکھا ہے اور رفتہ رفتہ ان کی اصل حیثیت کو پامال کرکے رکھ دیا ہے۔
Ayah 26:24

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا (رب العالمین وہ ہے جو) آسمانوں اور زمین اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کا رب (مالک) ہے، اگر تم یقین کرنے والے ہو

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا ط اِنْ کُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 24) ( حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا (رب العالمین وہ ہے جو) آسمانوں اور زمین اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کا رب (مالک) ہے، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کلمہ حق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے جواب میں فرمایا کہ میں اس رب العالمین کا نمائندہ بن کر آیا ہوں جو آسمانوں اور زمین اور اس کے درمیان پوری کائنات کا مالک ہے۔ تم بھی اسی کی فرمانروائی کا ایک حصہ ہو اس لیے تمہیں اپنی اصل حیثیت کا احساس اور میری حیثیت کا ادراک کرتے ہوئے میری دعوت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ میں نہ تو اپنی مرضی سے آیا ہوں اور نہ کسی مخلوق کا نمائندہ بن کر آیا ہوں۔ میں اس کی طرف سے آیا ہوں جس کی تم بھی اسی طرح رعایا ہو جس طرح میں اس کی رعایا ہوں۔
Ayah 26:25

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون نے اپنے گردوپیش کے لوگوں سے کہا کیا تم سن نہیں رہے ہو

قَالَ لِمَنْ حَوْلَـہٗٓ اَلاَ تَسْتَمِعُوْنَ ۔ (الشعرآء : 25) (فرعون نے اپنے گردوپیش کے لوگوں سے کہا کیا تم سن نہیں رہے ہو۔ ) فرعون کی بوکھلاہٹ فرعون نے اپنے درباریوں اور حاشیہ نشینوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ تم سن رہے ہو یہ شخص کیا کہہ رہا ہے، یہ درحقیقت میری حیثیت کو چیلنج کررہا ہے اور ایک ایسے بالاتر حکمران کی نمائندگی کا دعویٰ کررہا ہے جس کے مقابلے میں، میں ایک ادنیٰ حیثیت کا مالک ہوں۔
Ayah 26:26

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا وہ جو تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے پہلے باپ دادا کا بھی

قَالَ رَبُّـکُمْ وَرَبُّ اٰبَـآئِکُمُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (الشعرآء : 26) ( حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہاوہ جو تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے پہلے باپ دادا کا بھی۔ ) کلمہ حق کی وضاحت اسلوبِ بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ فرعون نے چونکہ اپنے درباریوں اور حاشیہ نشینوں کو بھی اس گفتگو میں شامل کرلیا تھا اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی انھیں اپنے خطاب میں شامل فرماتے ہوئے کہا کہ میں جس کا نمائندہ بن کے آیا ہوں وہ جس طرح میرا اور فرعون کا رب ہے، اسی طرح وہ تمہارا اور تمہارے آبائواجداد کا بھی رب ہے۔ میں ان جھوٹے ارباب کا قائل نہیں ہوں جو کل تھے اور آج نہیں ہیں۔ اور جو آج ہیں اور کل نہیں ہوں گے۔ یہ فرعون جسے تم اپنا مالک اور رب سمجھتے ہو یہ کل نہ تھا اور ایک وقت آئے گا کہ یہ نہیں ہوگا۔ اور جو تمہارے آبائواجداد گزر چکے ہیں وہ ان فرعونوں کو اپنا رب سمجھتے تھے جو آج اپنا وجود کھو چکے اور قعرزوال میں ڈوب چکے ہیں۔ سوچ لو کیا رب کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ آج ہے اور کل نہیں ہوگا اور کل تھا آج نہیں ہے۔ رب تو وہ ہے جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔
Ayah 26:27

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

فرعون نے کہا بلاشبہ تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے بالکل ہی پاگل معلوم ہوتا ہے

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَـکُمُ الَّذِیْ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ۔ (الشعرآء : 27) (فرعون نے کہا بلاشبہ تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے بالکل ہی پاگل معلوم ہوتا ہے۔ ) فرعون کی جھنجلاہٹ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو سے فرعون چکرا کر رہ گیا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کے حاشیہ نشین بھی اس گفتگو کی کاٹ محسوس کررہے ہیں اور ان کے لیے یہ بات انتہائی حیران کن ہے کہ ایک غلام اور پسی ہوئی قوم کا فرد جو اپنی ظاہری حالت سے بےکسی کی تصویر نظر آتا ہے کس جرأت و جسارت سے مدعی ربوبیت کو کھری کھری باتیں سنا رہا ہے اور اس کی باتوں میں کتنی معقولیت اور کتنا زور ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ لوگ اس گفتگو کے بہائو میں بہہ جاتے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عظمت کے قائل ہوجاتے، اس نے آپ کی باتوں کو ہلکا کرنے کے لیے ازراہِ استخفاف کہا کہ یہ شخص جو اپنے آپ کو رب العالمین کا رسول کہتا ہے اور اس کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، یہ تو مجھے بالکل دیوانہ معلوم ہوتا ہے، اسے اندازہ ہی نہیں کہ اس کی باتیں کیا نتائج پیدا کرسکتی ہیں اور یہ اپنے لیے کیسے خطرات کو انگیخت کررہا ہے اور باتیں بھی اس طرح کی کررہا ہے جو آج تک کبھی کسی نے نہ کہیں اور نہ سنیں۔
Ayah 26:28

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا (کہ میں اس رب العالمین کی طرف سے آیا ہوں) جو مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے، اگر تم لوگ کچھ بھی عقل رکھتے ہو

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَیْنَہُمَا ط اِنْ کُنْـتُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔ (الشعرآء : 28) (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا (کہ میں اس رب العالمین کی طرف سے آیا ہوں) جو مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے، اگر تم لوگ کچھ بھی عقل رکھتے ہو۔ ) فرعون کی خدائی پر آخری ضرب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے فرعون ! تم مصر کی محدود مملکت پر اترا کر الوہیت کا دعویٰ کررہے ہو اور میں تمہیں حقیقت کی خبر دے رہا ہوں تو تم مجھے پاگل قرار دے رہے ہو، حالانکہ میرا بھیجنے والا وہ ہے جس کی الوہیت کا پھریرا مشرق اور مغرب میں لہرا رہا ہے اور مشرق و مغرب کے درمیان ہر جگہ اس کی سلطانی کا نقارہ بج رہا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے جو تمہیں اس ربِ اعلیٰ کی خبر دے رہا ہے اور اس کی ربوبیت کی وسعتوں کی طرف توجہ دلا رہا ہے وہ پاگل ہے اور تم جو ان وسعتوں سے بیخبر محدود حکومت کے حاکم ہو کر اپنے ربوبیت کے فریب میں مبتلا ہو، تو تم عقلمند ہو اور تمہیں ماننے والے بھی عقلمند ہیں۔ ذرا اندازہ کرو کہ تمہیں کس فریبِ نظر نے حقیقت سے بیخبر بنا رکھا ہے۔ اگر تم واقعی عقل و خرد کے راستے کے شن اور ہوتے تو میری باتوں سے حقیقت کا سراغ پاسکتے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فرعون اور اس کے ماننے والے ربوبیت کے ایک محدود تصور میں گھرے ہوئے تھے۔ ان کے لیے یہ بہت مشکل تھا کہ وہ ایک ایسے رب اور معبود کو تسلیم کریں جو قانونی اور سیاسی معنوں میں بھی بالادست حیثیت کا مالک ہو اور جو یہ حق رکھتا ہو کہ معاملاتِ دنیا میں جو حکم چاہے جاری کرسکے اور انسانوں کا یہ فرض ہو کہ اس کے امرونہی کو قانونِ برتر مان کر اس کے آگے جھک جائیں۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت اور ان کی باتیں اس کے لیے حماقت کے سوا اور کچھ نہ تھیں۔ چناچہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں سے عاجز آکر اس کے سوا کچھ نہ کرسکا کہ آپ کو دھمکی دینے پر اتر آیا۔
Ayah 26:29

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

فرعون نے دھمکی دیتے ہوئے) کہا اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود مانا تو میں تمہیں ضرور قیدیوں میں داخل کردوں گا

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰـھًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّـکَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 29) (فرعون نے دھمکی دیتے ہوئے) کہا اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود مانا تو میں تمہیں ضرور قیدیوں میں داخل کردوں گا۔ ) فرعون کی دھمکی فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل سے عاجز آکر دھمکی دیتے ہوئے کہنے لگا کہ اگر تم نے میرے اقتدارِاعلیٰ کے سوا کسی اور کے اقتدارِاعلیٰ کی بات کی اور میرے سوا کسی اور کو معبود مانا اور اس کی کبریائی کی دعوت دی تو میں تمہیں جیل میں ڈال دو گا۔ اس دور میں جیل میں ڈالے جانے والے لوگ موت سے پہلے کبھی نہیں نکالے جاتے تھے۔ تو اس کا مطلب یہ تھا کہ تم وہاں سے مر کر ہی باہر آئو گے، زندگی میں باہر کا سورج کبھی نہ دیکھ سکو گے۔ تو دوسرے لفظوں میں آپ ( علیہ السلام) کو ختم کردینے کی دھمکی دی گئی۔
Ayah 26:30

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

اگرچہ میں تیرے پاس ایک واضح چیز بھی لے آئوں

قَالَ اَوَلَوْجِئْتُکَ بِشَیْ ئٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الشعرآء : 30) (اگرچہ میں تیرے پاس ایک واضح چیز بھی لے آئوں۔ ) سندِ ماموریت کا اظہار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ تو مجھے انتہائی سزا دینے کا ذکر کر رہا ہے اور تیرا گمان شاید یہ ہے کہ میں ایک بےنوا اور بےسہارا آدمی ہوں اور تو میرے ساتھ جو کچھ بھی کر گزرے تیرے لیے بہت آسان ہے اور میں بار بار اس بات کا اظہار کرچکا ہوں کہ میں رب العالمین کا نمائندہ بن کر آیا ہوں، لیکن تمہیں شاید اس کا یقین نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اس کا یقین دلانے کے لیے ایسی نشانیوں کا تمہارے سامنے اظہار کروں جو ایک طرح سے میرے لیے سندماموریت کی حیثیت رکھتی ہیں تاکہ اس کے بعد تم فیصلہ کرسکو کہ میری سزا کا فیصلہ کیا حیثیت رکھتا ہے۔
Ayah 26:31

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

فرعون نے کہا پیش کرو اسے اگر تم سچے ہو

قَالَ فَاْتِ بِہٖٓ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ (الشعرآء : 13) (فرعون نے کہا پیش کرو اسے اگر تم سچے ہو۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس سوال پر فرعون نے کہا کہ اگر تم واقعی رب العالمین کی نمائندگی کے دعوے میں سچے ہو تو پھر کوئی ایسی نشانی دکھائو جو تمہارے اس دعوے کی تصدیق کرتی ہو۔
Ayahs 26:32–33

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ایک صریح اژدھا بن گیا

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

تو انھوں نے اپنا ہاتھ (بغل سے) باہر نکالا تو وہ یک لخت سب دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا

فَاَلْقٰی عَصَاہُ فَاِذَا ھِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ۔ وَّنَزَعَ یَدَہٗ فَاِذَا ھِیَ بَیْضَآئُ لِلنّٰظِرِیْنَ ۔ (الشعرآء : 32، 33) (تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ایک صریح اژدھا بن گیا۔ تو انھوں نے اپنا ہاتھ (بغل سے) باہر نکالا تو وہ یک لخت سب دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا۔ ) معجزات کا اظہور فرعون کے کہنے پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو اچانک وہ ایک اژدھا بن گیا۔ قرآن کریم نے کسی جگہ اس کے لیے حَیَّۃٌ اور کسی جگہ جَآنٌّ (جو بالعموم چھوٹے سانپ کے لیے بولا جاتا ہے) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور یہاں اسے ثُعْبَانٌ (اژدھا) کہا جارہا ہے۔ اہل علم نے اس کی توجیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عربی زبان میں سانپ کی جنس کے لیے متعدد الفاظ استعمال ہوئے ہیں حَیَّۃٌ سب کے لیے ایک مشترک لفظ کے طور پر بولا جاتا ہے۔ ثُعْبَانٌ کا لفظ اژدھا کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے کے لیے ان تین لفظوں کے استعمال کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنی جسامت میں تو ایک اژدھا تھا لیکن اپنی پھرتی اور تیزی کے اعتبار سے چھوٹے سانپ کی مانند تھا۔ جہاں تک ہاتھ کا تعلق ہے جسے یدبیضا کہا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جیسے ہی اپنا ہاتھ بغل میں دبا کر باہر نکالا تو وہ اس طرح چمکتا ہوا دکھائی دیا جیسے سورج چمکتا ہے اور سارا ماحول اس سے جگمگا اٹھا۔