Ayahs 26:34–35قَالَ لِلْمَلَاِحَوْلَـہٗٓ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ۔ یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ بِسِحْرِہٖ صلے ق فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ ۔ (الشعرآء : 34، 35)
(فرعون نے اپنے اردگرد کے سرداروں سے کہا، بیشک یہ شخص بڑا ہی ماہر جادوگر ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے تو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو۔ )
معجزات کی قاہری اور فرعون کی ہشیاری
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جیسے ہی اپنے عصا اور اپنے یدبیضا کے دو معجزے دکھائے تو سب دیکھنے والے حیران و ششدر اور ہک دک رہ گئے۔ کسی کے تصور میں بھی یہ بات نہ آسکتی تھی کہ وہ موسیٰ جو فرعون کے گھر میں پلے بڑھے اور پھر دس سال پہلے حادثـۃً ایک شخص کی موت سے پریشان ہو کر مصر سے غائب ہوگئے اور اب دس سال کی روپوشی کے بعد منصہ شہود پر آئے ہیں ان کے ہاتھ سے ایسے معجزات کا ظہور بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن فرعون بڑا ذہین آدمی تھا اس نے لوگوں کے تأثرات سے اندازہ لگا لیا کہ یہ بات صرف دربار تک محدود نہیں رہے گی، رفتہ رفتہ لوگوں میں پھیلے گی تو پہلے لوگوں کے ذہن ان معجزات کی ہیبت سے مرعوب ہوں گے اور پھر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی دعوت سے ہموار ہو کر ایمان کے راستے پر چل نکلیں گے جو ہمارے لیے مشکلات کا باعث ہوسکتے ہیں۔ اس کی ذہانت اور عیاری نے فوراً اس کا حل سوچا اور اپنے گردوپیش بیٹھے ہوئے درباریوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ یہ شخص جسے تم بظاہر بہت سیدھا سادہ دیکھ رہے ہو اور اس کے ہاتھوں سے غیرمعمولی کمالات کا اظہار دیکھ کر مرعوب ہوئے جارہے ہو، یہ درحقیقت ایک بہت بڑا جادوگر معلوم ہوتا ہے۔ اور جادوگری کا فن چونکہ مصر میں کمال کو پہنچا ہوا ہے اور عام بھی ہے، تو اس نے اپنی دس سالہ غیرحاضری میں معلوم ہوتا ہے اسی فن میں کمال پیدا کیا ہے۔ اور مزید یہ بات کہ یہ ایک ایسی قوم کا فرد ہے جو ماضی میں اس ملک کی حکمران رہ چکی ہے۔ اب اگرچہ اس کا ماضی ایک افسانہ بن چکا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ بعض دماغ ابھی تک اس کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہ ذہین نوجوان جسے ہمارے گھر میں رہنے کی وجہ سے شعور کا جوہر اور علم کی دولت مل گئی ہے یہ اس سے کام لے کر اس ملک کی حکومت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اس کی قوم ایک بڑی تعداد میں پہلے سے اس ملک میں موجود ہے اور وہ خاندان بھی موجود ہے جو اس ملک کا حقیقی حکمران تھا۔ اگر اس شخص کی قیادت نے ان دونوں خاندانوں کو جمع کرکے ان میں حکومت کی امنگ توانا کردی تو یہ بات بہت بعید نہیں کہ یہ ملک پر قبضہ کرکے تمہیں اس ملک سے نکال دیں۔ تم تو صرف اس کے کمالات کو دیکھ رہے ہو، میں اس کے پس پردہ مضمر خطرات کی بو سونگھ رہا ہوں۔ اب بتائو، ہمیں اس خطرے کو روکنے کے لیے کیا کرنا چاہیے اور تم اس سلسلے میں کیا مشورہ دیتے ہو۔
Ayahs 26:36–37قَالُوْٓا اَرْجِہْ وَاَخَاہُ وَابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَ ۔ یَاْ تُوْکَ بِکُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ ۔ (الشعرآء : 36، 37)
(وہ بولے کہ اسے اور اس کے بھائی کو ابھی ٹالیے اور شہروں میں ہر کارے بھیج دیجیے۔ جو آپ کے پاس تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں۔ )
درباریوں کا مشورہ
درباریوں نے مشورہ دیا کہ آپ کے خیال میں یہ ایک بہت بڑا جادوگر ہے تو اس کے جادو کا توڑ تو جادو ہی سے کیا جاسکتا ہے اور ملک میں جادوگروں کی کمی نہیں۔ اس شہر میں بھی ان کی ایک بڑی تعداد ہوگی، لیکن مقابلہ چونکہ ایک بڑے جادوگر سے ہے اس لیے ہمیں صرف مقامی جادوگروں پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ ملک بھر میں اپنی طرف سے ہر شہر میں ہر کاروں کو بھیج دیجیے جو ایک سے ایک بڑا جادوگر تلاش کرکے لائیں، پھر دیکھیں گے کہ یہ دو آدمی ملک بھر کے جادوگروں کا کیسے مقابلہ کرتے ہیں۔
Ayahs 26:38–40فَجُمِعَ السَّحَرَۃُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ۔ وَّقِیْلَ لِلنَّاسِ ھَلْ اَنْـتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَ ۔ لَعَلَّـنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَۃَ اِنْ کَانُوْا ھُمُ الْغٰلِبِیْنَ ۔ (الشعرآء : 38، 39، 40 )
(چنانچہ ایک روز مقررہ وقت پر جادوگر اکٹھے کرلیے گئے۔ اور لوگوں سے کہا گیا کیا تم (مقابلہ دیکھنے کے لیے) جمع ہو گے۔ تاکہ ہم جادوگروں کا ساتھ دیں، اگر وہ غالب رہنے والے ثابت ہوں۔ )
مقابلے کی تیاری
درباریوں کے مشورے پر پورے ملک میں جادوگروں کو جمع کرنے کے لیے لوگ پھیلا دیئے گئے اور وہ پورے ملک سے جادوگروں کو ایک معین دن اور معین وقت پر جمع کرکے لے آئے۔ وہ معین دن سورة طٰہٰ کی صراحت کے مطابق قبطیوں کی عید کا دن تھا جسے قرآن کریم نے یوم الزینۃ کے نام سے یاد کیا ہے اور معین وقت چاشت کا وقت تھا۔ عید کے دن ویسے ہی لوگ فارغ اور میلوں ٹھیلوں میں جانے کے لیے بیتاب ہوتے ہیں، اس لیے وہ دن مقرر کیا گیا۔ اور چاشت کا وقت اس لیے رکھا گیا تاکہ لوگ اس وقت تک آسانی سے پہنچ سکیں اور دور بیٹھنے والوں کو تیز روشنی کے باعث جادوگروں کے کرتب اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کمالات کو دیکھنے کا موقع ملے۔ اور مقابلے کا جو بھی نتیجہ نکلے اس میں کسی کو اشتباہ پیدا کرنے کا بہانہ ہاتھ نہ آئے۔ علاوہ ازیں لوگوں میں دلچسپی بلکہ شوق پیدا کرنے کے لیے اس تأثر کو پھیلانے کا اہتمام کیا گیا کہ یہ مقابلہ محض مقابلہ نہیں بلکہ اہل مصر کے آبائی دین اور فرعون کی ربوبیت اور اس کی عظمت کی عزت کا سوال ہے جسے دو آدمیوں نے چیلنج کیا ہے۔ اور ہمارے ملک بھر کے جادوگر اس عظیم خطرے کو روکنے اور اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے جمع ہورہے ہیں۔ ہر شخص کا فرض ہے کہ ان کی حوصلہ افزائی اور ان کا ساتھ دینے کے لیے اس موقع پر ضرور پہنچے۔ ہمارے جادوگروں کی کامیابی درحقیقت ہمارے دین کی بقاء اور فرعون کی عظمت و جلال کی سربلندی ہے۔ ایسے نازک موقع پر شریک ہو کر اپنے جذبات سے جادوگروں کو طاقت فراہم کرنا درحقیقت اپنا فرض انجام دینا ہے۔
Ayahs 26:41–42فَلَمَّا جَآئَ السَّحَرَۃُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَیِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ ۔ قَالَ نَعَمْ وَاِنَّـکُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ۔ (الشعرآء : 41، 42)
(پس جب جادوگر میدان میں آئے تو انھوں نے فرعون سے کہا، کیا ہمیں کوئی انعام بھی ملے گا، اگر ہم غالب رہے۔ فرعون نے کہا، ہاں۔ اور اس وقت تم مقربین میں سے ہو گے۔ )
ساحروں کی طلب اور فرعون کی حوصلہ افزائی
ان آیات کو پڑھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ جادوگروں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان اس مقابلے کو فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت حق و باطل کا معرکہ قرار دے چکے ہیں اور اسی حوالے سے ملک بھر میں جوش و جذبہ پیدا کردیا گیا ہے اور وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آج ہماری روایات اور فرعون کی عزت و حرمت جادوگروں کے ہاتھ میں ہے۔ آج اگر انھوں نے میدان مار لیا تو مصر اور اہل مصر اور فرعون کی ربوبیت سربلند ہوجائے گی۔ لیکن کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ایسے نازک موقع پر وہ جادوگر جو فرعون اور مصر کی عزت و حرمت کے امین بن کر آئے ہیں اور جو پورے ملک میں فنِ ساحری کے امام ہیں، ان کی ذہنی سطح اور ان کی خودداری کا عالم یہ ہے کہ وہ عین میدانِ معرکہ میں فرعون سے صلے اور انعام کا مطالبہ کررہے ہیں، گویا کہ ان کے نزدیک زندگی کا اصل ہدف مال و دولت اور شہرت و ناموری ہے۔ چناچہ ان کی ذہنیت کے مطابق فرعون انھیں جواب دیتا ہے کہ ہاں، تمہیں صرف انعام ہی سے نوازا نہیں جائے گا بلکہ غالب آنے کی صورت میں تمہیں فرعون کے دربار میں عزت و افتخار کی کرسی بھی ملے گی، اور تمہیں اس کے مقربین میں شامل کرلیا جائے گا۔
قومیں جب دین سے دور ہوتیں اور اللہ تعالیٰ سے رشتہ توڑ لیتی ہیں اور طاغوت اور دولت کی پجاری بن کر زندگی کے مقاصد طے کرتی ہیں تو ان کی ذہنی سطح ایک مردارخور جانور اور کلب دنیا سے بلند نہیں ہوتی۔ جس طرح پیٹ بھرا ہوا کتا ہر وقت زبان لٹکائے اور زمین کو سونگھتا ہوا چلتا ہے کہ شاید کہیں بوئے طعام آئے تو میں کھود کے نکال لوں۔ اور جس طرح مردارخور گدھ ہمیشہ مردار پر ہی اترتا ہے اسی طرح بندہ درہم و دینار اور دنیوی عزت و افتخار کا پجاری جب بھی سوچتا ہے دنیا اور دولت دنیا کے بارے میں سوچتا ہے۔ اور بڑے سے بڑے معرکے میں بھی اس کا ہدف اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا، یہی وہ لوگ ہیں جو ضمیر کی زندگی سے محر وم، قومی غیرت و حمیت سے بیگانہ اور اولوالعزمی اور حوصلہ مندی سے تہی دامن ہوتے ہیں۔
دوسری طرف ہم حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو دیکھتے ہیں کہ زخارفِ دنیا سے ان کا دامن خالی ہے۔ قوت اور ہیبت سے کوئی رشتہ نہیں، کوئی ان کی پشت پناہی کرنے والا نہیں۔ ایک ایسی قوم کے افراد ہیں جو انتہائی پسماندہ حکومتِ وقت کی معتوب اور غلامی کی ستم خوردہ ہے۔ باایں ہمہ ان کی ذات غیرت و حمیت کا سرچشمہ معلوم ہوتی ہے۔ وہ اقتدار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں، حکومتِ وقت کا طنطنہ انھیں مرعوب کرنے سے عاجز ہے، ان کی شخصیت اور جادوگروں کی شخصیت کا تقابل یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ حق اور سچ کہاں ہے اور سچے لوگ کیسے ہوتے ہیں۔ اور وہ کون ہیں جن پر انسانیت فخر کرتی ہے۔ اور جن کی رہنمائی گرے پڑے انسانوں کو عزت و افتخار عطا کرسکتی ہے۔
Ayah 26:43قَالَ لَھُمْ مُّوْسٰٓی اَلْقُوْا مَـآ اَنْـتُمْ مُّلْقُوْنَ ۔ فَاَلْقَوْا حِبَالَھُمْ وَعِصِیَّـھُمْ وَقَالُوْا بِعِزَّۃِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ ۔ (الشعرآء : 43، 44)
(حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا، پھینکو جو تم پھینکنے والے ہو۔ انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے ناموسِ فرعون کی قسم ہم ہی غالب رہنے والے ہیں۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ساحر میدانِ مقابلہ میں
میدانِ مقابلہ میں جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ساحرانِ مصر کا آمنا سامنا ہوا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ تم جو اپنا ہنر دکھانا چاہتے ہو، دکھائو۔ وہ اپنے ساتھ رسیاں اور لاٹھیاں لے کر آئے تھے وہ انھوں نے پانسہ کے تیروں کی طرح پھینکیں اور انھیں چونکہ اپنی مہارت پر ناز اور اپنی فتح کا یقین تھا اس لیے انھوں نے فرعون کی عزت یعنی اس کی ناموس اور جلال کی قسم کھاتے ہوئے کہا کہ آج ہم ہی غالب رہیں گے۔ اہل مصر چونکہ فرعون کو دیوتا سمجھتے تھے اس لیے ہر اہم کام کرنے سے پہلے اس کے نام کی قسم کھاتے تھے۔
جادوگروں نے جب اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو سورة الاعراف سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو جادو سے مسحور کردیا اور سب دہشت زدہ ہو کے رہ گئے۔ اور سورة طٰہٰ میں فرمایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں محسوس ہوا کہ جادوگروں کی رسیاں اور لاٹھیاں دوڑی چلی آرہی ہیں تو آپ ( علیہ السلام) کے دل میں بھی خدشہ سا محسوس ہوا۔ تب پروردگار نے فرمایا، مت ڈرو، بیشک تم ہی سربلند رہو گے، کیونکہ کبھی بھی کوئی جادو معجزے پر غالب نہیں آسکتا۔
Ayah 26:44فَاَلْقٰی مُوْسٰی عَصَاہُ فَاِذَا ھِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِکُوْنَ ۔ (الشعرآء : 45)
(تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا ڈالا، تو یکایک وہ نگلنے لگا جو فریب انھوں نے بنا رکھا تھا۔ )
معجزے کی قاہری
جادوگروں کی لاٹھیوں اور رسیوں کے مقابلے میں جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو وہ اژدھا بن کر پھنکارتا ہوا آگے بڑھا اور وہ لاٹھیاں اور رسیاں جو سانپوں کی طرح لہراتی اور بل کھاتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں انھیں ہڑپ کرنا شروع کردیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے انھوں نے جو سوانگ رچا رکھا تھا سب کو نگل گیا اور ہر چیز ختم ہو کر رہ گئی۔ البتہ یہ بات حتمی طور پر نہیں کہی جاسکتی کہ اژدھا نے ان رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل لیا تھا یا اس طلسم کو ختم کیا تھا جس کی وجہ سے یہ سب چیزیں سانپوں کی طرح لہراتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں۔ صورتحال کچھ بھی ہو یہ بات واضح ہے کہ ان کا جادو بےاثر ہو کر رہ گیا اور دیکھنے والے سمجھ گئے کہ عصائے موسیٰ کے مقابلے میں جادوگروں کی طلسم آرائی ناکام ہوگئی۔
Ayahs 26:45–48فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ ۔ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ رَبِّ مُوْسٰی وَ ھٰـرُوْنَ ۔ (الشعرآء : 46، 4847)
(تو ساحر بےاختیار سجدے میں گرپڑے۔ بولے کہ ہم ایمان لائے رب العالمین پر۔ موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔ )
ساحروں کا اعترافِ حق
مصر کے یہ عظیم جادوگر، جادوگری کے فن کی حدود کے شناسا تھے۔ وہ اپنی علمی مہارت کے باعث خوب سمجھتے تھے کہ جادو کی حقیقت کیا ہے اور یہ دیکھنے والوں کو کہاں تک مسحور کرسکتا اور کسی شے میں کہاں تک تبدیلی پیدا کرسکتا ہے۔ انھوں نے عصائے موسیٰ کو جس طرح اژدھا کی صورت میں دیکھا اور پھر جس طرح اس نے ان کے سحروساحری کے سارے طلسم کو ختم کرکے رکھ دیا وہ اپنی ماہرانہ نگاہ سے سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں اور کسی انسان کے کمال میں وہ طاقت نہیں جس کا اظہار اس معجزے کی صورت میں ہوا ہے۔ اس کے پیچھے یقینا کوئی غیرمعمولی قوت ہے اور وہ وہی ہے جسے موسیٰ اور ہارون رب العالمین کا نام دے رہے ہیں۔
اس حقیقت کو جان لینے کے بعد یہ بھی ہوسکتا تھا کہ وہ وقتی طور پر خاموشی اختیار کرلیتے اور اقتدار کی ناراضی کا خطرہ مول نہ لیتے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کا ضمیر مردہ نہیں ہوا تھا، ان کے اندر ابھی تک قبولیتِ حق کی رمق باقی تھی۔ وہ اپنی پیشہ ورانہ کمزوریوں کے باوجود انسانیت سے تہی دامن نہیں ہوئے تھے۔ چناچہ ان کے سوئے ہوئے ضمیر نے انگڑائی لی اور وہ حیران کن حد تک قبولیتِ حق کی منزلیں طے کرتے ہوئے اقتدار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اظہارِحق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور سب سے پہلے عملی اظہار کے لیے سجدے میں گرے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعتراف حقیقت میں سجدے ہی میں ہوتا ہے۔ اور پھر سر اٹھا کر انھوں نے ایمان لانے کا اعلان کردیا۔ اور فرعون نے جس رب العالمین کا مذاق اڑایا تھا اسی پر اپنے ایمان لانے کا دعویٰ کیا۔ اور ہر طرح کے اشتباہات کو ختم کرنے کے لیے یہ بھی کہا کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لاتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب کسی دل میں ایمان اپنی آماجگاہ بناتا ہے تو اس میں روشنی کا کیسا سروسامان کردیتا ہے۔
Ayah 26:49قَالَ اٰمَنْـتُمْ لَـہٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَـکُمْ ج اِنَّہٗ لَکَبِیْرُکُمُ الَّذِیْ عَلَّمَکُمُ السِّحْرَ ج فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ 5 ط لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَاَرْجُلَـکُمْ مِّنْ خِلاَفٍ وَّلاَ وُصَلِّبَنَّـکُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ (الشعرآء : 49)
(فرعون نے کہا تم نے اس کو مان لیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں، ضرور یہ تمہارا بڑا (گرو) ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے، تو تم عنقریب جان لو گے میں تمہارے ہاتھ اور پائوں بےترتیب کاٹوں گا اور تم سب کو سولی چڑھا دوں گا۔ )
فرعون کی سیاست کاری
ساحرانِ مصر کا اس طرح برملا ایمان کا اعلان کرنا اور اعترافِ حق میں سجدہ ریز ہوجانا، یہ ایسی بات تھی جس کے نتیجے میں ایک بڑی تبدیلی کا آغاز ہوسکتا تھا۔ ہر آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوا ہوگا کہ جن لوگوں پر فرعون اور آل فرعون کی سچائی ثابت کرنے کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی ان کی طرف سے علیٰ رئوس الاشہاد فریقِ مخالف کی برتری اور سچائی اور اپنی شکست کا اعتراف کرلینے کے بعد اس بات میں کوئی شبہ ہی نہیں رہ جاتا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جس بات کی دعوت دے رہے ہیں وہی حق ہے۔ اور فرعون اور اس کے حمایتی سب باطل کے نمائندے ہیں۔ لیکن فرعون کی ذہانت اور شیطنت نے فوراً اس صورتحال کو بدلنے کے لیے ایک راستہ نکالا۔ اس نے انھیں جادوگروں کو جن پر اس معرکے کے سر کرنے کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اندازہ ہوگیا ہے کہ تم نے جو کچھ کیا وہ ایک سازش تھی، ملی بھگت تھی، ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس کے تم خود ایک کردار تھے۔ ورنہ ایک بالکل سیدھی سادی بات تھی کہ اگر تمہیں یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک راست باز آدمی ہیں اور ان کی دعوت حق پر مبنی ہے تو تمہاری خیرخواہی کا تقاضا یہ تھا کہ تم مجھے اعتماد میں لیتے، تنہائی میں مجھ سے بات کرتے تو میں سوچ سمجھ کے اس کے لیے راستہ نکالتا۔ لیکن تم نے میری اجازت کے بغیر سب کچھ بطورخود کر ڈالا جو اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ یہ فتح و شکست کا سارا ڈرامہ تمہاری ایک سازش ہے۔
بعض لوگوں نے اس آیت کریمہ کے پہلے جملے کا ایک اور طرح سے ترجمہ کیا ہے، اس پر بھی غور کرلینا چاہیے۔ وہ اس کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں کہ فرعون نے کہا کہ تم تو اس وقت ایمان لا چکے تھے جبکہ میں نے تمہیں ابھی موسیٰ سے مقابلے کی اجازت بھی نہیں دی تھی۔ یعنی یہ معرکہ تو بعد میں وجود میں آیا، تمہاری باہمی منصوبہ بندی تو اس سے پہلے طے ہوچکی تھی۔ تو وہ اجازت کا تعلق ان کے ایمان لانے سے نہیں بلکہ ان کے معرکہ میں اترنے سے جوڑتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں انجام کار بات ایک ہی رہتی ہے کہ تم نے جو کچھ کیا ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا اور اس لیے کیا کہ فنِ ساحری میں یہ تمہارا استاد اور گرو ہے۔ اسی سے تم نے اس فن میں کمالات حاصل کیے اور اسی کی وجہ سے تم اس سازش میں شریک ہوئے ہو۔ اب میں تمہیں ایسی سزا دوں گا جو ملک کے باغیوں کو دی جاتی ہے، یعنی میں تمہارے بےترتیب ہاتھ پائوں کاٹوں گا اور پھر تمہاری رسوائی کے لیے تمہاری لاشیں سولیوں پر لٹکائی جائیں گی۔ یہ باغیوں جیسی سزا تمہیں اس لیے دی جائے گی کہ تم نے یہ ساری سازش اسی لیے تیار کی ہے تاکہ اس طرح سے لوگوں کے ذہنوں کو متأثر کیا جائے اور حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی دھاک دلوں پر بٹھا دی جائے جس کے نتیجے میں لوگ ان کی نبوت پر ایمان لے آئیں اور ان کی ذات مرجعِ خلائق بن جائے۔ اس طرح سے تم ملک میں انقلاب برپا کرنے میں کامیاب ہوجاؤ۔ یہ درحقیقت مملکت کے خلاف ایک سازش ہے اور اس کی سزا وہی ہونی چاہیے جو باغیوں کی ہوا کرتی ہے۔
Ayahs 26:50–51قَالُوْا لاَ ضَیْرَ ز اِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ۔ اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَلَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰـنَـآ اَنْ کُنَّـآ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 50، 51)
(انھوں نے جواب دیا کچھ پرواہ نہیں، ہم اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کردے گا کیونکہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں۔ )
ایمان کی حیرت انگیز قوت
حیرت ہوتی ہے کہ یہ جواب وہ لوگ دے رہے ہیں جو اس معرکے کے آغاز میں نہایت لجاجت سے فرعون سے اپنی کامیابی کی صورت میں انعام کا مطالبہ کررہے تھے، گویا کہ ان کے نزدیک دنیا کا سب سے بڑا ہدف درہم و دینار یا وہ عزت و شہرت تھی جو انھیں فرعون کے دربار سے مل سکتی تھی۔ چناچہ ان کی اسی ذہنیت اور حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے فرعون نے جب انھیں انتہائی دھمکی دی تو ایک دنیادار آدمی کے لیے اس سے بڑی دھمکی کا تصور بھی نہیں ہوسکتا کہ اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوجائے۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ اس سے ہراساں ہوتے انھوں نے نہایت جرأت و استقامت کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ تم جو چاہو کرو، ہمیں اس کی بالکل پرواہ نہیں بلکہ ہم تو اس شہادت سے خوش ہیں کیونکہ اس نتیجے میں ہم اپنے اللہ سے یہ امید کرسکتے ہیں کہ ہم نے اس معرکے میں جس طرح حق کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی وہ ایک بہت بڑا گناہ تھا۔ اگر اس شہادت کے بدلے میں ہمیں اس کی معافی مل جائے تو یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا انعام ہوگا۔ رہی یہ بات کہ تم ہم سے زندگی چھین رہے ہو تو یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں، ہر شخص نے ایک نہ ایک دن اس دنیا سے جانا ہے۔ اور کسے خبر ہے کہ زندگی کتنے دن یا کتنے لمحے باقی ہے، سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ کے جانے والے ہیں۔ تو اگر ہم اس اعزاز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں کہ اسی کے نام کی سربلندی اور اس کے رسولوں کی معاونت کے سلسلے میں ہمیں شہادت کا تاج عطا کردیا جائے اور ہمیں قبائے گلکوں کا لباس پہنا دیا جائے تو اس سے بڑی ہماری سعادت اور کیا ہوگی۔ اور یہی وہ حقیقی زندگی ہے جو درحقیقت مومن کی معراج ہے کیونکہ زندگی صرف جینے کا نام نہیں بلکہ مقصد کے لیے مرنے کا نام بھی ہے۔
برتر از اندیشہ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی
Ayah 26:52وَاَوْحَیْنَـآ اِلٰی مُوْسٰٓی اَنْ اَسْرِبِعِبَادِیْٓ اِنَّـکُمْ مُّتَّبَعُوْنَ ۔ (الشعرآء : 52)
(اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی بھیجی کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ، بیشک آپ کا تعاقب کیا جائے گا۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کا دوسرا باب، آپ ( علیہ السلام) کی ہجرت
گزشتہ رکوع کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ جادوگروں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان مقابلے میں جب جادو معجزے کے سامنے بری طرح ناکام ہوا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ہاتھ پر حق کو فتح عطا فرمائی تو فرعون نے لوگوں کو یہ تأثر دینے کے لیے کہ یہ باطل پر حق کی فتح نہیں بلکہ حضرت موسیٰ اور جادوگروں کے درمیان ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ جادوگروں کو ڈرایا دھمکایا اور انھیں سولی پر لٹکانے کی دھمکیاں دیں لیکن اللہ تعالیٰ نے چونکہ ان پر حق کو روشن کردیا تھا، وہ بےسروسامان اور کمزور ہوتے ہوئے بھی فرعون کے جاہ و جلال کے سامنے ڈٹ گئے اور حق کی علامت بن گئے۔ اب اس سرگزشت کا دوسرا حصہ شروع ہورہا ہے اور درمیان میں قصے کے بہت سے اجزاء کو چھوڑ دیا گیا ہے کیونکہ قرآن کریم اپنی عادت و روایت کے مطابق کسی تاریخی واقعہ کے ان اجزاء کا ذکر کرتا ہے جو سلسلہ کلام کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ چناچہ جادوگروں کی ناکامی اور پھر ان کے ایمان لانے سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حق کی علامت اور اس کے پیغمبر بن کر تشریف لائے ہیں۔ حق و باطل کی اس کشمکش کے ایک حصے کو جادوگروں کی ناکامی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح کو حق و باطل کے درمیان کشمکش کے ایک باب کے طور پر مکمل کرنے کے بعد اب اس دوسرے رکوع سے حق و باطل میں کشمکش کی سرگزشت کے آخری باب کو بیان کرنے کی ابتداء کی جارہی ہے اور درمیان میں مصر میں رہتے ہوئے جتنے واقعات پیش آئے ہیں وہ قرآن کریم کی دوسری سورتوں میں بیان کیے گئے ہیں۔ یہاں چونکہ صرف حق و باطل کی کشمکش کو نمایاں کرنا مقصود ہے اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جادوگروں سے مقابلے اور پھر براہ راست فرعون کی قوتوں سے تصادم کے نتیجے میں جس طرح فیصلہ کن کامیابی اللہ تعالیٰ نے نصیب فرمائی صرف اس کا ذکر کرنا پیش نظر ہے۔
یہ واضح رہے کہ جادوگروں سے مقابلے میں کامیابی کے بعد مصر میں رہتے ہوئے بہت سے واقعات پیش آئے ہیں جن کا دوسری سورتوں میں ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے ہر واقعہ حق کی فتح کی علامت اور باطل کی شکست کا عنوان رکھتا ہے اور اس پوری سرگزشت میں ہم بار بار دیکھتے ہیں کہ باطل سرنگوں ہوتا اور ایمان کی امید دلا کر اس مصیبت سے نجات حاصل کرتا ہے لیکن پھر اپنے عہد سے منحرف ہوجاتا ہے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائشوں میں فرعون اور اہل مصر اس حد تک بےبس ہوجاتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے نکل جانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ چناچہ پیش نظر آیات میں کہانی کا یہ دوسرا منظر بیان کیا جارہا ہے۔
بنی اسرائیل کی آبادی مصر میں کسی ایک جگہ آباد نہ تھی بلکہ ملک کے مختلف شہروں اور مختلف دیہات میں بٹی ہوئی تھی۔ البتہ مصر میں منف سے رعمسیس تک کے علاقے میں ان کی بڑی تعداد رہائش پذیر تھی۔ اسی علاقے کو جُشن کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ چنانحہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جیسے ہی فرعون کی طرف سے اجازت ملی کہ بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں تو آپ ( علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کے تمام علاقوں میں ہدایات بھیج دیں۔ تاریخ مقرر کردی گئی، رات کا وقت ٹھہرا اور ہر علاقے کے رہنے والوں کو اپنی علاقے سے نکل کر جس مخصوص جگہ پہنچنا تھا اس کا تعین کردیا گیا۔ اور پھر سب کے کمانڈر مقرر کرنے کے بعد حکم دے دیا گیا کہ تمام گروہ ایک خاص جگہ تک پہنچ جائیں تاکہ وہاں سے بحرقلزم کا رخ کیا جائے اور یہ بھی پیش نظر آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بتادیا گیا تھا کہ فرعون نے اگرچہ آپ ( علیہ السلام) کو شہر سے نکلنے کی اجازت دے دی ہے لیکن وہ اپنی بات پر قائم نہیں رہے گا، وہ آپ ( علیہ السلام) کے تعاقب کی کوشش کرے گا۔ اس لیے بہتر ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ دن کے اجالے میں آپ کا تعاقب کرے، آپ رات ہی رات میں اس کی دسترس سے دور نکل جائیں۔
Ayahs 26:53–56فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَ ۔ اِنَّ ھٰٓـؤُلَآئِ لَشِرْ ذِمَۃٌ قَلِیْلُوْنَ ۔ وَاِنَّھُمْ لَنَا لَغَـآئِظُوْنَ ۔ وَاِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَ ۔ (الشعرآء : 53 تا 56)
(پس فرعون نے شہروں میں (فوجیں جمع کرنے کے لیے) ہر کارے بھیجے۔ (اور کہلابھیجا) کہ یہ لوگ مٹھی بھر ہیں۔ اور بیشک انھوں نے ہم کو بہت ناراض کیا ہے۔ اور ہم ایک مستعد جمعیت ہیں۔ )
لَشِرْ ذِمَۃٌ … الجمع القلیل المختصر … مختصر اور حقیر گروہ کو شرذمۃ کہتے ہیں۔ اس کی جمع الشراذم ہے۔
تعاقب کے لیے فرعون کی تدبیریں
چناچہ فرعون نے سرداروں اور فوجیوں کو اکٹھا کرنے کے لیے مملکت کے تمام شہروں میں اپنے آدمی دوڑا دیئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ جادوگروں کے مقابلے سے لے کر کئی سالوں کی کشمکش میں اہل مصر دیکھ چکے تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پشت پر کوئی غیبی قوت ہے۔ اس وجہ سے فرعون اور اہل مصر دل میں آپ سے بہت خوفزدہ تھے۔ زیادہ ڈرنے والے شخص کی نفسیاتی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ ڈینگیں زیادہ مارتا اور اپنے خوف کو چھپانے کے لیے بہ کثرت احتیاطی تدابیر عمل میں لاتا ہے۔ فرعون کا رویہ بھی اس سے مختلف نہ تھا۔ ایک طرف وہ ملک بھر سے فوجیں طلب کررہا تھا اور دوسری طرف بنی اسرائیل کو ایک مٹھی بھر جماعت قرار دے کر ان کا خوف بھی دلوں سے نکالنا چاہتا تھا۔ اور اس احساس کے ساتھ کہ کوئی شخص ہماری تیاریوں کو ہماری خوفزدگی پر محمول نہ کرے۔ اپنی تمام تر کاوشوں کو احتیاطی تدابیر اور اپنی چوکسی کی علامت قرار دیتا تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ اپنے لوگوں کو یہ احساس دلا رہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کی بعض حرکتوں نے ہمیں بہت ناراض کردیا ہے۔ اس لیے ہم ان کو ہرگز اس کا موقع نہیں دینا چاہتے کہ وہ ملک میں کوئی گڑبڑ پیدا کریں یا ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں۔ اگرچہ ان کی حیثیت ہماری فوجوں کے مقابلے میں نہایت حقیر ہے، وہ مٹھی بھر اور حالات کے مارے ہوئے لوگ ہیں۔ اور ہم ان کے مقابلے ایک بہت بڑی جمعیت اور ایک بڑی قوت کے مالک ہیں، ہمارے لیے فکرمندی کی کوئی بات نہیں۔ تاہم احتیاط کا تقاضا ہے کہ چیونٹی کو بھی کاٹنے کا موقع نہ دیا جائے۔ چناچہ اس طرح سے اس نے ملک بھر سے اپنی فوجیں اور اپنے قابل ذکر جرنیل مصر میں طلب کرلیے۔
Ayahs 26:57–59فَاَخْرَجْنٰـھُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ وَّکُنُوْزٍوَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ ۔ کَذٰلِکَ ط وَاَوْرَثْـنٰـھَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ ۔ (الشعرآء : 57، 58، 59)
(سو اس طرح ہم نے نکالا انھیں ان کے باغوں اور چشموں سے اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے۔ (ہم اسی طرح کرتے ہیں، اور ہم نے ان چیزوں کا وارث بنایا بنی اسرائیل کو۔ )
مفسرین کا اختلاف اور آیت کا مفہوم
بعض مفسرین نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ جن باغوں، چشموں، خزانوں اور بہترین قیام گاہوں سے یہ ظالم لوگ نکلے تھے انہی کا وارث اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو کردیا۔ یہ مطلب اگر لیا جائے تو اس کا مفہوم لازماً یہ ہونا چاہیے کہ فرعون کے غرق ہوجانے پر بنی اسرائیل پھر مصر واپس پہنچ گئے ہوں اور آل فرعون کی دولت و حشمت ان کے قبضے میں آگئی ہو۔ لیکن یہ چیز تاریخ سے بھی ثابت نہیں ہے اور خود قرآن مجید کی دوسری تصریحات سے بھی اس آیت کا یہ مفہوم مطابقت نہیں رکھتا۔ سورة المائدہ، سورة الاعراف اور سورة طٰہٰ میں جو حالات بیان کیے گئے ہیں ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل مصر کی طرف پلٹنے کی بجائے اپنی منزل مقصود (فلسطین) ہی کی طرف آگے روانہ ہوگئے اور پھر حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانے (1013، 973 ق م) تک ان کی تاریخ میں جو واقعات بھی پیش آئے وہ سب اس علاقے میں پیش آئے جو آج جزیرہ نمائے سینا، شمالی عرب، شرق اردن اور فلسطین کے ناموں سے موسوم ہے۔ اس لیے ہمارے نزدیک آیت کا صحیح مفہوم یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے وہی باغ اور چشمے اور خزانے اور محلات بنی اسرائیل کو بخش دیئے جن سے فرعون اور اس کی قوم کے سردار اور امراء نکالے گئے تھے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف آل فرعون کو ان نعمتوں سے محروم کیا اور دوسری طرف بنی اسرائیل کو یہی نعمتیں عطا فرما دیں، یعنی وہ فلسطین کی سرزمین میں باغوں، چشموں، خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں کے مالک ہوئے۔ اسی مفہوم کی تائید سورة الاعراف کی یہ آیت کرتی ہے۔ فَانْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْـنٰـھُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّھُمْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰـتِنَا وَکَانُوْا عَنْھَا غٰفِلِیْنَ ۔ وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْا یُسْتَضْعَـفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَھَا الَّتِیْ بٰـرَکْنَا فِیْھَا (آیات 136، 137) ” تب ہم نے ان سے انتقام لیا اور انھیں سمندر میں غرق کردیا کیونکہ انھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور ان سے بےپرواہ ہوگئے تھے اور ان کی بجائے ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے اس ملک کے مشرق و مغرب کا وارث بنادیا جسے ہم نے برکتوں سے مالامال کیا تھا۔ “ یہ برکتوں سے مالامال سرزمین کا استعارہ قرآن مجید میں عموماً فلسطین ہی کے لیے استعمال ہوا ہے اور کسی علاقے کا نام لیے بغیر جب اس کی یہ صفت بیان کی جاتی ہے تو اس سے یہی علاقہ مراد ہوتا ہے۔ مثلاً سورة بنی اسرائیل میں فرمایا اِلَی الْمَسْجِدِالْاَقْصَی الَّذِیْ بَارَکَنَا حَوْلَـہٗ ۔ اور سورة انبیاء میں ارشاد ہوا وَنَجَّیْنٰہُ وَلُوْطًا اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بَارَکْنَا فِیْھَا لِلْعٰلَمِیْنَ ۔ اور وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَۃً تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰـرَکْنَا فِیْھَا۔ اسی طرح سورة سبا میں بھی اَلْقُرْیَ الَّتِیْ بٰـرَکْنَا فِیْھَا کے الفاظ سرزمینِ شام و فلسطین ہی کی بستیوں کے متعلق استعمال ہوئے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayahs 26:60–62فَاَ تْبَعُوْھُمْ مُّشْرِقِیْنَ ۔ فَلَمَّا تَرَآئَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰٓی اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ ۔ قَالَ کَلاَّ ج اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ ۔ (الشعرآء : 60، 61، 62)
(پس وہ ان کے تعاقب میں نکلے اشراق کے وقت۔ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو پکڑے گئے۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ہرگز نہیں، میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔ )
قوم کی کمزوری اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اعتماد علیٰ اللہ
صبح ہوتے ہی فرعونیوں نے بنی اسرائیل کا تعاقب کیا، حتیٰ کہ بحرقلزم کے کنارے بنی اسرائیل کے قریب پہنچ گئے۔ جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، بنی اسرائیل حواس باختہ ہوگئے۔ انھوں نے دیکھا کہ سامنے سمندر کی موجیں اٹھ رہی ہیں اور پیچھے فرعون کی فوجیں چڑھی چلی آرہی ہیں۔ سراسیمہ ہو کر کہنے لگے، ہم تو پکڑے گئے، اب کیا ہوگا ؟ تورات میں ہے کہ انھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو برا بھلا کہنا شروع کردیا اور کہا کہ کیا مصر میں ہمارے دفن ہونے کے لیے جگہ نہیں تھی کہ تم نے یہاں لا کر ہمیں مروانے کا سامان کیا۔ ایسے ہی موقعوں پر نبوت کی شان ظاہر ہوتی ہے اور ان کے رویئے سے معلوم ہوتا ہے کہ توکل علیٰ اللہ کسے کہتے ہیں۔ حالات اگرچہ حوصلہ شکن ہیں، سامنے بحربیکراں ہے جس کی موجیں موت کا پیغام دے رہی ہیں اور پیچھے فرعون کی فوجیں ہیں جو غیظ و غضب کی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ لیکن کیا مجال کہ ان حوصلہ شکن حالات کا اثر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طبیعت پر پڑا ہو۔ آپ ( علیہ السلام) نے پورے جلال سے فرمایا، کَلاَّ ، ہرگز نہیں۔ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی ذلیل نہیں ہونے دیتا۔ اس نے جو ہم سے وعدہ کیا ہے وہ ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ تمہیں ہرگز کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔ تورات میں یہ ماجرا اس طرح بیان ہوا ہے۔
” جب مصر کے بادشاہ کو خبر ملی کہ وہ لوگ چل دیئے تو فرعون اور اس کے خادموں کا دل ان لوگوں کی طرف سے پھر گیا اور وہ کہنے لگے کہ ہم نے یہ کیا کیا کہ اسرائیلیوں کو اپنی خدمت سے چھٹی دے کر ان کو جانے دیا … اور مصری فوج نے فرعون کے سب گھوڑوں اور رتھوں اور سواروں سمیت ان کا پیچھا کیا… اور جب فرعون نزدیک آگیا تب بنی اسرائیل نے آنکھ اٹھا کر دیکھا کہ مصری ان کا پیچھا کیے چلے آتے ہیں اور وہ نہایت خوفزدہ ہوگئے۔ تب بنی اسرائیل نے خداوند سے فریاد کی۔ اور موسیٰ سے کہنے لگے کیا مصر میں قبریں نہ تھیں کہ تو ہم کو وہاں سے مرنے کے لیے بیابان میں لے آیا ہے ؟ … تب موسیٰ نے لوگوں سے کہا ڈرو مت، چپ چاپ کھڑے ہو کر خداوند کی نجات کے کام کو دیکھو جو وہ آج تمہارے لیے کرے گا کیونکہ جن مصریوں کو تم آج دیکھتے ہو ان کو پھر کبھی ابد تک نہ دیکھو گے۔ خداوند تمہاری طرف سے جنگ کرے گا اور تم خاموش رہو گے۔ “ (خروج : باب 14: 5۔ 14)
Ayahs 26:63–66فَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰٓی اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْبَحْرَ ط فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِالْعَظِیْمِ ۔ وَاَزْلَفْنَا ثُمَّ الْاٰخَرِیْنَ ۔ وَاَنْجَیْنَا مُوْسٰی وَمَنْ مَّعَـہٗٓ اَجْمَعِیْنَ ۔ ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ ۔ (الشعرآء : 64 تا 66)
(پس ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو، سمندر پھٹ گیا اور ہر حصہ ایک عظیم پہاڑ کی مانند بن گیا۔ اور ہم قریب لائے وہیں دوسروں کو۔ موسیٰ اور ان سب لوگوں کو جو ان کے ساتھ تھے، ہم نے نجات دی۔ اور پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا۔ )
قدرتِ خداوندی کا کرشمہ
بنی اسرائیل کی گھبراہٹ اور چیخ و پکار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اعتماد علیٰ اللہ کا اظہار کرتے ہوئے محکم لہجے اور حتمی یقین کے ساتھ اپنی قوم سے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمہیں لے کر آیا ہوں، یہ ممکن نہیں ہے کہ بحرقلزم ہمارا راستہ روک سکے۔ چناچہ وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ تم اپنے عصا کی ایک ضرب سمندر پر لگائو۔ ضرب پڑنے کی دیر تھی، سمندر کی اچھلتی اور شور مچاتی موجوں پر سکتہ طاری ہوگیا، جیسے کسی نے سرکش گھوڑے کے منہ میں لگام دے دی ہو۔ سمندر میں شگاف پڑگیا اور پانی کی لہریں بلند وبالا پہاڑوں کی طرح جامد و ساکت دونوں طرف کھڑی ہوگئیں۔ قرآن کریم نے دونوں طرف کے رکے ہوئے پانی کو بڑے پہاڑ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ ” طود “ پہاڑ کو کہتے ہیں۔ دونوں طرف پانی کے رک جانے کے باعث جو راستہ بنا وہ چند لمحے پہلے پانی کی گزر گاہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ تیز ہَوائوں نے لمحوں میں اسے خشک کرکے چلنے کے قابل بنادیا اور مزید یہ کہ راستے کو اتنا کشادہ کردیا گیا جس سے ہزاروں آدمی گزر سکتے تھے۔
بعض لوگوں نے اس عظیم واقعہ کو مدوجزر کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان کا گمان یہ ہے کہ بعض دفعہ طوفانی ہَوائیں سمندر کے پانی کو پھاڑ دیتی ہیں۔ چاند اور زمین کی کشش اپنا اپنا کام کرتی ہیں اور بعض دفعہ اس کے نتیجے میں پانی پھٹ جاتا ہے اور زمین دکھائی دینے لگتی ہے۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوا ہے کہ زمین ایک لمحے کو پھٹی اور پانی نیچے اتر گیا اور دریا کا بہائو رک گیا، لیکن دوسرے ہی لمحے ویسے ہی پوری تیزی سے بہنے لگا۔ ان کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ ایسا یہاں کوئی واقعہ پیش آیا ہو جس سے بنی اسرائیل پار اتر گئے اور فرعونی ڈوب گئے۔ لیکن ایسے بعیداز عقل مفروضے صرف وہی شخص باندھ سکتا ہے جس نے یہ بات طے کرلی ہو کہ مجھے بہرصورت معجزے کی حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرنا ہے ورنہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ سمندر کے پانی کا عصائے موسیٰ کی ضرب سے اس طرح دو حصوں میں تقسیم ہوجانا کہ دونوں طرف کا رکا ہوا پانی پہاڑوں کی مانند استادہ ہو اور کوئی لہر بھی اس کی اچھل کر آگے نکلنے کو تیار نہ ہو۔ اور پھر یہ دونوں طرف کے پہاڑ گھنٹوں اس طرح کھڑے رہیں کہ پہلے ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں بنی اسرائیل گزریں اور پھر انھیں کے نقوش قدم پر ہزاروں کی تعداد میں فرعون کی فوج اپنی گھوڑوں پر سوار باربرداری کے جانوروں سمیت سمندر میں اتر جائے تو تب عصائے موسیٰ کی دوسری ضرب پانی کو ملا دے۔ اور وہی خاموش موجیں جو پہاڑوں کی صورت میں کھڑی تھیں گرجتی ہوئی حرکت میں آئیں اور چشم زدن میں تمام فرعونیوں کو خش و خاشاک کی طرح بہا کے لے جائیں۔ کیا دنیا میں جب تک کی ہمیں تاریخ معلوم ہے کوئی ایک واقعہ بھی ایسا ہوا ہے کہ مدوجزر کے نتیجے میں پانی گھنٹوں رکا رہے بلکہ کسی عظیم شخصیت کے اشارے پر رکے اور اشارے پر بہنے لگے اور درمیان میں خشک راستے نکل آئیں۔ قرآن کریم نے اس بارے میں جو کچھ فرمایا ہے اور پہلی آسمانی کتابیں جو کچھ کہتی ہیں انھیں ایک طرف بھی رکھ دیا جائے تو بجائے خود سمندر کی عملی شہادت صریحاً یہ بات بتانے کے لیے کافی ہے کہ یہ ایک معجزے کا بیان ہے، عام قوانینِ فطرت کی کارفرمائی نہیں۔
حاصل کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے والے یعنی بنی اسرائیل کو ان کے ایمان اور پیغمبر کی معیت کی برکت سے سمندر سے نجات دی اور فرعونیوں کے ظلم سے آزادی بخشی، لیکن وہ لوگ جو کل تک ظلم کی برہنہ تلوار تھے اور جنھیں اپنی بےاماں قوت کے مقابلے میں کوئی دکھائی نہ دیتا تھا، حتیٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے معجزات دیکھ کر بھی راہ راست اختیار کرنے پر تیار نہ ہوئے، اللہ تعالیٰ نے انھیں غرق کردیا۔
Ayahs 26:67–68اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّـکَ لَھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔
(الشعرآء : 67، 68)
(بیشک اس واقعہ میں بہت بڑی نشانی ہے مگر ان لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں۔ اور بیشک آپ کا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ )
ترجیع کی آیت اور اس کا مفہوم
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کے آخر میں یہ آیت کریمہ وہی ہے جو اس کے بعد آنے والے ہر پیغمبر کی سرگزشت کے بعد آٹھ بار وارد ہوئی ہے۔ اس آیت کو ترجیع کہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قریش آنحضرت ﷺ سے بار بار آپ کی حقانیت اور آپ کے دین کی صداقت پر کوئی نشانی مانگتے تھے۔ انھیں بار بار ہر پیغمبر کی سرگزشت کے بعد یہ آیت لا کر بتایا گیا ہے کہ تمہیں نشانی کو دیکھنے کی خواہش ہے کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی نشانی ہوسکتی ہے کہ ایک نہایت جابر و قاہر حکمران کے سامنے نہایت بےسروسامانی کے ساتھ دو پیغمبر اللہ تعالیٰ کا دین لے کر پہنچتے ہیں اور اسے ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں اور پھر ان کے مطالبے پر قدم قدم پر انھیں معجزے دکھائے جاتے ہیں جن میں سے ایک ایک معجزہ ان پیغمبروں کی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے۔ لیکن ان کی آنکھوں پر ایسی پٹی بندھی ہوئی ہے کہ سالہا سال تک نشانیاں دیکھ کر بھی وہ راہ راست اختیار نہیں کرتے، حتیٰ کہ سمندر ان کے سامنے عصائے موسیٰ کی ایک ضرب سے پھٹ گیا اور پانی پہاڑوں کی مانند دونوں طرف کھڑا ہوگیا اور بیچ میں خشک اور کشادہ راستہ بن گیا۔ ایسی صریح علامتیں دیکھ کر بھی ان لوگوں کو ہوش نہ آیا، حتیٰ کہ وہ اپنے کفر اور سرکشی سمیت پانی کی موجوں کے حوالے ہوگئے اور ان کا عبرتناک انجام آج تک دنیا کے لیے ایک مثال بنا ہوا ہے۔ لیکن ان کے لیے کوئی نشانی بھی راہ ہدایت کا نشان نہ بن سکی۔ فرعون اس وقت ہدایت کی طرف آیا جبکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب انھیں اپنی گرفت میں لے چکا تھا اور چیختا ہوا کہنے لگا :
اٰمَنْتُ اَنَّـہٗ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّالَّذِیْ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْاِسْرَائِیْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (یونس : آیت 90)
قریش اور دیگر اہل مکہ کے لیے اس میں یہ نشانی ہے کہ ہٹ دھرمی اختیار کرنے والے ہمیشہ ہدایت کی دولت سے محروم رہتے ہیں۔
اور دوسری نشانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پیغمبر کا انکار کرنے والوں کو فوراً نہیں پکڑتا، مہلت پر مہلت دیتا چلا جاتا ہے اور اس وقت پکڑتا ہے جب اتمامِ حجت ہوجاتا اور مہلت کا وقت تمام ہوجاتا ہے۔ اور ایسا وہ اس لیے کرتا ہے کیونکہ وہ رحیم ہے اس لیے وہ پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔
تیسری نشانی یہ ہے کہ جب وہ پکڑنے پر آتا ہے تو بڑی سے بڑی قوت بھی اس کے سامنے تنکوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ فرعون اور آل فرعون اپنی تمام قہرمانی قوتوں کے باوجود اس کی پکڑ سے بچ نہ سکے اور بحرقلزم کی موجوں کی نذر ہوگئے۔
Ayah 26:69وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاَ اِبْرٰھِیْمَ ۔ اِذْ قَالَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖ مَا تَعْبُدُوْنَ ۔ قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَھَا عٰکِفِیْنَ ۔ (الشعرآء : 69 تا 71)
(اور اے پیغمبر، انھیں حضرت ابراہیم کا قصہ سنایئے۔ جبکہ انھوں نے اپنے باپ اور قوم کے لوگوں سے کہا، تم کس کی پرستش کرتے ہو۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور برابر ان کی پوجا پر جمے رہیں گے۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سرگزشت سے متعلق چند اہم امور اور دعوت کا آغاز
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سرگزشت بیان کی جارہی ہے۔ آپ ( علیہ السلام) کی سرگزشت قرآن کریم میں مختلف مواقع پر حسب ضرورت بیان کی گئی ہے۔ قرآن کریم چونکہ تاریخ کی کتاب نہیں بلکہ انسانی ہدایت کے لیے نازل ہوئی ہے اس لیے جس سرگزشت کا جتنا حصہ کسی موضوع کو بیان کرتے ہوئے ضروری ہوتا ہے اتنا ہی بیان کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور دیگر رسولانِ گرامی کے حالات ایک سے زیادہ جگہوں پر موقع کی مطابقت سے بطور استشہاد ذکر فرمائے گئے ہیں۔ یہاں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سرگزشت کا وہ حصہ بیان کیا جارہا ہے جب نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد شرک و توحید کے مسئلے پر آپ ( علیہ السلام) کی اپنے خاندان اور اپنی قوم سے کشمکش شروع ہوچکی تھی۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے تھے کہ آپ ( علیہ السلام) کے لیے ہجرت ناگزیر ہوگئی تھی۔ چناچہ ہجرت کے سفر سے پہلے آپ ( علیہ السلام) کی اپنے والد افرادِخاندان سے غالباً جو آخری گفتگو ہوئی ہے وہاں سے اس سرگزشت کا آغاز کیا جارہا ہے۔
قرآن کریم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت و کردار کو بہت نمایاں حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب کے لوگ بالعموم اور قریش بالخصوص اپنے آپ کو حضرت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا پیرو سمجھتے تھے۔ اور قریش کو تو آپ ( علیہ السلام) کی اولاد ہونے پر بڑا فخر تھا۔ اور آپ ( علیہ السلام) ہی کی وجہ سے قریش کعبہ کے متولی تھے اور ملک بھر میں بڑی عزت و احترام سے دیکھے جاتے تھے۔ اور انھیں ملت ابراہیمی پر ہونے کا دعویٰ بھی تھا۔ اسی طرح یہود و نصاریٰ بھی آپ ( علیہ السلام) کو اپنے دین کا پیشوا سمجھتے تھے۔ اس لیے قرآن کریم نے یہودونصاریٰ اور مشرکین سے کہیں الگ الگ اور کہیں ایک ساتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے ان کے خیالات پر تنقید کی ہے۔ مشرکینِ عرب سے بار بار یہ بات کہی گئی ہے کہ تم نے شرک کو اپنا اوڑھنا بچھونا اور اپنی علامت بنا رکھا ہے جبکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جن کی ملت پر ہونے کا تمہیں دعویٰ ہے مشرک نہ تھے بلکہ ان کی ساری لڑائی ہی شرک کے خلاف تھی۔ اور اسی لڑائی کی بدولت انھیں اپنے باپ، خاندان، وطن سب کچھ چھوڑ کر شام و فلسطین اور حجاز میں غریب الوطنی کی زندگی بسر کرنی پڑی تھی۔
یہودونصاریٰ سے بھی بار بار کہا گیا ہے کہ تم بھی اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا پیرو کہتے ہو جبکہ وہ نہ یہودی تھے نہ نصرانی۔ کیونکہ ان کا زمانہ یہودیت اور عیسائیت کی پیدائش سے بہت پہلے کا ہے۔ اس لیے تمہیں یہ سوچنا چاہیے کہ جن مخصوص عقائد و اعمال پر تم لوگ اپنے دین کا مدار رکھتے ہو وہ اس دین قدیم کے اجزاء نہیں ہیں جو ابتداء سے چلا آرہا ہے اور جس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی تھی۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے گھر اور شہر چھوڑنے سے پہلے اپنے والد اور اپنی قوم سے جو گفتگو کی اس میں آپ ( علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ تم جن چیزوں کی عبادت کرتے ہو ان کی حقیقت کیا ہے ؟ کیونکہ یہ تو آپ ( علیہ السلام) جانتے تھے کہ وہ لوگ بت پرستی کرتے ہیں۔ ” مَا “ کا لفظ کسی چیز کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے آتا ہے، اس سے محض سوال مقصود نہیں ہوتا۔ اس طرح سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا منشاء یہ تھا کہ آپ ( علیہ السلام) ان لوگوں کو ان کے معبودوں کی حقیقت کی طرف متوجہ کریں شاید وہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ ہم انسان ہونے کی حیثیت سے اشرف المخلوقات ہیں لیکن ہمارا عمل یہ ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے پتھر کے خدائوں کو پوجتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر شرم کی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔
قومیں جب بگڑتی ہیں تو صرف ان کے اعمال ہی میں بگاڑ پیدا نہیں ہوتا بلکہ ان کے افکار میں بھی بگاڑ پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ انتہاء درجہ کی عصبیت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ رفتہ رفتہ غور و فکر سے محروم ہوجاتے ہیں اور اپنی غلط سے غلط بات کو بھی صحیح اور حق سمجھ کر اس طرح اڑ جاتے ہیں کہ اس سے مختلف بات کی طرف توجہ کرنا بھی گناہ سمجھتے ہیں۔ یہی حال ان لوگوں کا بھی تھا۔ چناچہ انھوں نے جواب میں کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ جنھیں ہم پوجتے ہیں، وہ بت ہیں۔ لیکن ہم برابر ان کی پوجا پر جمے رہیں گے۔ تم کتنا ہی زور لگائو ہم اپنے ان معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ یہی وہ حمیت ِ جاہلی ہے جو عقل و شعور کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔