Ayahs 26:149–150وَتَـنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِھِیْنَ ۔ فَاتَّـقُواللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔
(الشعرآء : 149، 150)
(تم پہاڑ کھود کھود کر فخریہ ان میں عمارتیں بناتے ہو۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ )
آخرت فراموشی سے پیدا ہونے والے تمدن کا فساد
گزشتہ مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم چونکہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہو کہ شاید ہمیشہ یہیں رہنا ہے اس لیے عاقبت نااندیش ہو کر مادی زندگی کی محبت میں ڈوب گئے ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تم پہاڑوں کو کھود کھود کر اور تراش تراش کر ان کے اندر عمارتیں بناتے ہو تاکہ وہ بھی پہاڑوں ہی کی طرح پائیدار اور غیرمعمولی مضبوط ہوں اور ایک طویل زمانے تک تمہارے نام کو زندہ رکھیں۔ قوم عاد کو بھی اسی ذہنیت نے تباہ کیا اور قوم ثمود بھی ان کی جانشینی کا حق ادا کررہی تھی۔ صاحب تفہیم القرآن نے ان کے ان تاریخی کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ :
جس طرح عاد کے تمدن کی نمایاں ترین خصوصیت یہ تھی کہ وہ اونچے اونچے ستونوں والی عمارتیں بناتے تھے، اسی طرح ثمود کے تمدن کی سب سے زیادہ نمایاں خصوصیت جس کی بنا پر وہ قدیم زمانے کی قوموں میں مشہور تھے، یہ تھی کہ وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر ان کے اندر عمارتیں بناتے تھے۔ چناچہ سورة فجر میں جس طرح عاد کو ذَاتُ الْعِمَاد (ستونوں والے) کا لقب دیا گیا ہے۔ اسی طرح ثمود کا ذکر اس حوالے سے کیا گیا ہے کہ اَلَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ” وہ جنھوں نے وادی میں چٹانیں تراشی ہیں۔ “ اس کے علاوہ قرآن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاں میدانی علاقوں میں بھی بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے تھے تَـتَّخِذُوْنَ مِنْ سُھُوْلِھَا قُصُوْرًا (الاعرا، آیت 74) اور ان تعمیرات کی غرض وغایت کیا تھی ؟ قرآن اس پر لفظ فٰرِھِیَنْ سے روشنی ڈالتا ہے۔ یعنی یہ سب کچھ اپنی بڑائی، اپنی دولت و قوت اور اپنے کمالاتِ فن کی نماش کے لیے تھا، کوئی حقیقی ضرورت ان کے لیے داعی نہ تھی۔ ایک بگڑے ہوئے تمدن کی شان یہی ہوتی ہے۔ ایک طرف معاشرے کے غریب لوگ سر چھپانے تک کو ڈھنگ کی جگہ نہیں پاتے، دوسری طرف امراء اور اہل ثروت رہنے کے لیے جب ضرورت سے زیادہ محل بنا چکتے ہیں تو بلا ضرورت نمائشی یادگاریں تعمیر کرنے لگتے ہیں۔
ثمود کی ان عمارتوں میں سے کچھ اب بھی باقی ہیں جنھیں 1959 ء کے دسمبر میں، میں نے خود یکھا ہے۔ یہ جگہ مدینہ طیبہ اور تبوک کے درمیان حجاز کے مشہور مقام العلاء (جسے عہدنبوی میں وادی القریٰ کہا جاتا تھا) سے چند میل کے فاصلے پر بجانبِ شمال واقع ہے۔ آج بھی اس جگہ کو مقامی باشندے الحجر اور مدائن صالح کے ناموں ہی سے یاد کرتے ہیں۔ اس علاقے میں العلاء تو اب بھی ایک نہایت سرسبز و شاداب وادی ہے جس میں کثرت سے چشمے اور باغات ہیں، مگر الحجر کے گردوپیش بڑی نحوست پائی جاتی ہے۔ آبادی برائے نام ہے۔ روئیدگی بہت کم ہے۔ چند کنوئیں ہیں۔ انہی میں سے ایک کنویں کے متعلق مقامی آبادی میں یہ روایت چلی آرہی ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی اسی سے پانی پیتی تھی۔ اب وہ ترکی عہد کی ایک ویران چھوٹی سے فوجی چوکی کے اندر پایا جاتا ہے اور بالکل خشک پڑا ہے۔ اس علاقے میں جب ہم داخل ہوئے تو العلاء کے قریب پہنچتے ہی ہر طرف ہمیں ایسے پہاڑ نظر آئے جو بالکل کھیل کھیل ہوگئے ہیں۔ صاف محسوس ہوتا تھا کہ کسی سخت ہولناک زلزلے نے انھیں سطح زمین سے چوٹی تک جھنجوڑ کر قاش قاش کر رکھا ہے۔ اسی طرح کے پہاڑ ہمیں مشرق کی طرف العلاء سے خیبر جاتے ہوئے تقریباً پچاس میل تک اور شمال کی طرف ریاست اردن کی حدود میں تیس چالیس میل اندر تک ملتے چلے گئے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تین چار سو میل لمبا اور سو میل چوڑا ایک علاقہ تھا جسے ایک زلزلہ عظیم نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔
ثمود کی جو عمارتیں ہم نے الحجر میں دیکھی تھی، اسی طرح کی چند عمارتیں ہم کو خلیج عقبہ کے کنارے مدین کے مقام پر، اور اردن کی ریاست میں پٹرا (Petra) کے مقام پر بھی ملیں۔ خصوصییت کے ساتھ پٹرا میں ثمود کی عمارات اور نبطیوں کی بنائی ہوئی عمارات پہلو بہ پہلو موجود ہیں اور ان کی تراش خراش اور طرزتعمیر میں اتنا نمایاں فرق ہے کہ ہر شخص ایک نظر دیکھ کر ہی سمجھ سکتا ہے کہ یہ دونوں نہ ایک زمانے کی ہیں اور نہ یہ ایک ہی قوم کا طرزتعمیر ہے۔ انگریز مستشرق ڈاٹی (Daughty) قرآن کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے الحجر کی عمارات کے متعلق یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ ثمود کی نہیں بلکہ نبطیوں کی بنائی ہوئی عمارات ہیں لیکن دونوں قوموں کی عمارات کا فرق اس قدر واضح ہے کہ ایک اندھا ہی انہیں ایک قوم کی عمارات کہہ سکتا ہے۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ پہاڑ تراش کر ان کے اندر عمارتیں بنانے کا فن ثمود سے شروع ہوا، اس کے ہزاروں سال بعد نبطیوں نے دوسری اور پہلی صدی قبل مسیح میں اسے عروج پر پہنچایا اور پھر ایلورا میں (جس کے غار پٹرا سے تقریباً سات سو برس بعد کے ہیں) یہ فن اپنے کمال کو پہنچ گیا۔ (تفہیم القرآن)
Ayahs 26:151–152وَلاَ تُطِیْعُؤٓا اَمْرَالْمُسْرِفِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلاَ یُصْلِحُوْنَ ۔
(الشعرآء : 151، 152)
(اور حدود سے گزر جانے والوں کی بات نہ مانو۔ جو ملک میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔ )
گمراہ لیڈرشپ تباہی کا باعث ہے
حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے ایک اور بہت بڑی حقیقت منکشف فرمائی اور ایک تباہ کن چیز سے انھیں روکنے کی کوشش کی۔ وہ یہ ہے کہ قومیں جس طرح ہَوائے نفس کے اتباع اور مادی محبت میں استغراق کی وجہ سے تباہ ہوتی ہیں، اسی طرح گمراہ لیڈرشپ بھی ان کی تباہی کا سب سے بڑا سبب ہوتا ہے۔ اور اس میں قصور صرف لیڈرشپ کا نہیں ہوتا بلکہ ان گمراہ لیڈروں کے پیچھے چلنے والوں کا بھی ہوتا ہے۔ دنیا کی حد سے بڑھی ہوئی محبت سے جو مزاج بنتا ہے اس کے نتیجے میں قوم، صالح قیادت کی پیروی کرنے سے ہمیشہ گریز کرتی ہے۔ وہ لیڈر انھیں مانتی ہے جو ان کی خواہشات کو غذا فراہم کرتے اور ان کے برے ارادوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ چناچہ قوم ثمود بھی اسی حادثے کا شکار تھی۔ اس سے حضرت صالح (علیہ السلام) نے روکتے ہوئے کہا کہ تم جن لوگوں کی اطاعت کرتے ہو وہ حد سے گزر جانے والے لوگ ہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ تمہیں فواحش و منکرات سے روکیں وہ اس کی ترغیب دیتے اور خود آگے بڑھ کر اس کو اختیار کرتے ہیں۔ تمہاری اصلاح کا لازمی تقاضا ہے کہ تم ان کی اطاعت سے توبہ کرو اور میری فرمانبرداری اختیار کرو۔ کیونکہ تم جن لوگوں کی پیروی کررہے ہو وہ نام تو تمہاری اصلاح کا لیتے ہیں لیکن حقیقت میں اصلاح کی بجائے افساد کررہے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جس طرح اس کائنات کی بقا کا انحصار اس امر پر ہے کہ اس کے اندر ایک ہی خدا کا ارادہ کا فرما ہے، اسی طرح زمین کی اصلاح کا انحصار اس امر پر ہے کہ اس کے اندر اسی ایک خدا کا قانون چلے۔ اگر خدا کے قانون کے سوا کوئی اور قانون اور نظام اس میں چلایا جائے تو یہ زمین کے امن و عدل کو درہم برہم کرنا ہے۔ اگرچہ اس کو کتنے ہی خوبصورت نام اور کتنے ہی نیک ارادے کے ساتھ چلایا جائے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور ان کے راستوں پر چلنے والوں کے سوا جتنے بھی قائدین ہیں وہ سب اس زمین پر اللہ تعالیٰ کا قانون نہیں، اپنی خواہشات پر مبنی قانون بنانے اور چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجہ اس کا اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ زمین میں فساد برپا ہے۔
Ayahs 26:153–154قَالُوْٓا اِنَّمَا اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ۔ مَـآ اَنْتَ اِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا صلے ج فَاْتِ بِاٰ یَـۃٍ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ (الشعرآء : 153، 154)
(ان لوگوں نے کہا کہ تم تو بس ایک سحر زدہ آدمی معلوم ہوتے ہو۔ تم تو بس ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو، تو تم کوئی نشانی لائو اگر تم سچے ہو۔ )
الْمُسَحَّرِیْنَ ، مُسَحَّرٌکی جمع ہے، سحرزدہ آدمی کو کہتے ہیں۔ ایک زمانے میں لوگوں کا یہ خیال تھا کہ دماغی اختلال اور پاگل پن کسی جن کے اثر سے لاحق ہوتا ہے یا جادو کے اثر سے۔ اس لیے جب وہ کسی کو سحر زدہ قرار دیتے ہیں تو مراد اس سے یہ ہوتی تھی کہ تم پاگل اور مجنون ہو۔
قوم کا جواب
قومِ ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تنقید کو قبول کرنے کی بجائے پاگل پن قرار دیا، کہ تمہیں نہ ہماری ترقی اچھی لگتی ہے، نہ ہمارے وسائل کی فراوانی۔ تمہیں ہماری معاشرت پر بھی اعتراض ہے اور ہمارے فنِ سنگ تراشی پر بھی۔ حتیٰ کہ تم ہمارے لیڈروں اور رہنمائوں پر بھی معترض ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ تمہیں تو ہر بات میں کیڑے ہی نظر آتے ہیں۔ یہ کیفیت پاگل پن میں تو ہوسکتی ہے، عقلمندی میں نہیں۔ ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ تم بڑی صلاحیتوں کے مالک ہو، لیکن تمہارا دماغ تو معلوم ہوتا ہے کہ بالکل چل گیا ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ ہمیں تمہاری دماغی صحت پر بھی شبہ ہے اور تم اپنے آپ کو نبی اور رسول کہتے ہو۔ حالانکہ نبوت اور رسالت ایک عظیم منصب ہے جو کسی انسان کو نہیں ملتا۔ بجز اس کے کہ اس میں کوئی غیرمعمولی باتیں پائی جاتی ہیں۔ تم تو ہماری طرح ایک عام آدمی ہو۔ ہم تمہیں خدا کا رسول کیسے مان لیں۔ اور تمہارے ڈراو وں سے مرعوب ہو کر اپنی تہذیب و ترقی کی بساط کیسے لپیٹ دیں۔ تم اگر اپنے دعوائے نبوت میں واقعی سچے ہو تو پھر کوئی ایسی نشانی دکھائو، جسے دیکھ کر ہم یقین کرلیں کہ بیشک تم خدا کے رسول ہو۔
Ayahs 26:155–156قَالَ ھٰذِہٖ نَاقَـۃٌ لَّھَا شِرْبٌ وَّلَـکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ۔ وَلاَ تَمَسُّوْھَا بِسْوْٓئٍ فَیَاْخُذَکُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ (الشعرآء : 155، 156)
(حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا یہ ایک اونٹنی ہے، ایک دن اس کے پانی پینے کی باری ہے اور ایک مقرر دن تمہاری باری ہے۔ اسے کوئی گزند نہ پہنچانا ورنہ تمہیں ایک برے دن کا عذاب آپکڑے گا۔ )
حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) سے مروی ہے کہ قوم ثمود نے آپ ( علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کیا کہ اس چٹان سے سرخ رنگ کی اونٹنی نکلے، جو دس ماہ کی حاملہ ہو اور ہماری آنکھوں کے سامنے بچہ جنے، تو ہم تمہیں رسول مان لیں گے۔ آپ ( علیہ السلام) نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی۔ دعا قبول ہوئی اور اس چٹان سے ان کی مطلوبہ اونٹنی نکل آئی۔
قوم کے مطالبے پر نشانی کا ظہور
بعض لوگوں کا گمان یہ ہے کہ وہ ایک عام اونٹنی تھی، ہوسکتا ہے کہ وہ اونٹنی حضرت صالح (علیہ السلام) کی ہو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوم ثمود کی آزمائش کے لیے اسے مقرر کردیا گیا۔ لیکن یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی۔ قوم ثمود نے معجزہ طلب کیا تھا اور کوئی سی اونٹنی بطور معجزہ اگر پیش کی جاتی تو قوم اسے یقینا ایک مذاق سمجھتی۔ اور سورة ہود سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے جو اونٹنی ان کے سامنے پیش کی، قرآن کریم نے اسے آیت، یعنی معجزہ سے تعبیر کیا ہے۔ اس لیے حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) کی روایت کے مطابق وہ اونٹنی ایک چٹان سے نکلی ہو تو کوئی بعید بات نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس اونٹنی کو اس قوم کے لیے ایک آزمائش بنادیا۔ اولاً تو اونٹنی کا غیرمعمولی طریقے سے وجود میں آنا ہی ان کے ایمان لانے کے لیے کافی ہونا چاہیے تھا لیکن مزید ان کے لیے اس بات کو آزائش بنایا گیا کہ یہ اونٹنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابل میں ایک بند کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر تم نے اس بند کو توڑا تو تم پر عذاب الٰہی آدھمکے گا۔ ایک دن تنہا یہ اونٹنی تمہارے کنوئوں اور چشموں سے پانی پیئے گی اور ایک دن ساری قوم کے انسان اور حیوان پانی پئیں گے۔ جو دن اونٹنی کی باری کا ہو اس دن کوئی اس کے مزاحم ہونے کی کوشش نہ کرے۔ عرب میں پانی کی کمیابی کی وجہ سے اس کی جو اہمیت تھی اس کے پیش نظر یہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔ اور قوم چونکہ اپنی آنکھوں سے غیرمعمولی طریقے سے چٹان سے اونٹنی کا نکلنا دیکھ چکی تھی اس لیے وہ اتنے سخت مطالبے پر بھی احتجاج تو کیا کرتی، خاموش رہی۔ اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کتنا عرصہ اس آزمائش کی بجاآوری میں گزرا۔ وہ ڈرتے تھے کہ اگر ہم نے اس اونٹنی کو کوئی نقصان پہنچایا تو ہم پر کوئی تباہی آسکتی ہے۔
Ayah 26:157فَعَقَرُوْھَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَ ۔ (الشعرآء : 157)
(پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، پھر ہوگئے پچھتانے والے۔ )
اگر یہ لوگ اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر ایمان لے آتے تو یہ آزمائش ان سے ٹل جاتی۔ ایک عرصے تک انھوں نے اس صورتحال کو برداشت کیا، لیکن ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ بغیر ایمان کے وہ کب تک اس پابندی کو نبھا سکتے تھے۔ آخر ان میں سے سب سے بڑے بدبخت نے جسارت کرکے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ پھر ہوش آیا تو اپنے کیے پر پچھتانے لگے۔ لیکن اب وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا کیونکہ انھیں یہ بتایا جا چکا تھا کہ اگر تم نے اس اونٹنی کو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی ہے، کوئی نقصان پہنچایا تو تمہیں عذاب آدبوچے گا۔ تو جب عذاب سر پر پہنچ جاتا ہے تو پھر کسی طرح کی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی۔ اس لیے ان کی ندامت بھی ان کے کام نہ آئی اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوگئے۔
Ayahs 26:158–159فَاَخَذَھُمُ الْعَذَابُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَـۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّـکَ لَھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (الشعرآء : 158، 159)
(بالآخر ان کو عذاب نے آپکڑا، بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔ اور بیشک تیرا رب عزیز اور رحیم ہے۔ )
جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نشانی کو بھی ظلم اور تعدی کا نشانہ بنایا اور اس کی حرمت کو پامال کر ڈالا تو تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب آگیا۔ اور قرآن کریم کے بیان کے مطابق حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ اب تمہارے لیے صرف تین دن کی مہلت ہے۔ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِکُمْ ثَلٰـثَـۃَ اِیَّام ” تین دن اپنے گھروں میں مزے کرلو۔ “ اس مہلت کے ختم ہونے کے بعد رات کے پچھلے پہر صبح کے قریب ایک زبردست دھماکہ ہوا اور اس کے ساتھ ایسا سخت زلزلہ آیا جس نے آن کی آن میں پوری قوم کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ صبح ہوئی تو ہر طرف اس طرح کچلی ہوئی لاشیں پڑی تھیں جیسے باڑے کی باڑھ میں لگی ہوئی سوکھی جھاڑیاں جانوروں کی آمد و رفت سے پامال ہو کر رہ گئی ہوں۔ ان کے سنگین قصر انھیں اس آفت سے بچا سکے نہ پہاڑوں میں کھودے ہوئے غار۔
اس کے بعد ترجیع کی آیت ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے ہوچکی ہے۔
Ayahs 26:160–164کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ نِ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ لُوْطٌ اَلاَ تَـتَّـقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّـقُواللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ وَمَـآ اَسْئَلُـکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ ج اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الشعرآء : 160 تا 164)
(قومِ لوط نے بھی رسول کی تکذیب کی۔ یاد کرو جبکہ ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا، کیا تم ڈرتے نہیں۔ بیشک میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسول ہوں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اور میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا، میرا معاوضہ تو اس کے ذمہ ہے جو رب العالمین ہے۔ )
یہ آیات گزشتہ انبیاء کرام کی سرگزشتوں میں گزر چکی ہیں اور وہاں ان کی وضاحت ہوچکی ہے۔
Ayahs 26:165–166اَتَاْتُوْنَ الذُّکْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْن۔ َ وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَـکُمْ رَبُّکُمْ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ ط بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ ۔ (الشعرآء : 165، 166)
(کیا تم ساری مخلوق میں سے مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔ اور تمہارے رب نے جو تمہارے لیے بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو، بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ )
سرکشی اور نافرمانی نئی نئی گمراہیوں کو جنم دیتی ہے
نفسیات کے ماہرین جانتے ہیں کہ جس طرح نیکیوں اور اچھائیوں کا ایک سلسلہ نسب ہے کہ ایک نیکی دوسری سے پھوٹتی ہے اور اس طرح سے ایک سلسلۃ الذہب کو وجود دیتی ہے۔ اسی طرح برائی کبھی منفرد نہیں ہوتی۔ جب دلوں سے اللہ تعالیٰ کا خوف اٹھ جاتا ہے اور ان میں بعض دوسری چیزیں گھر کر جاتی ہیں تو ایسے دلوں سے نئی نئی برائیوں کی خواہشیں سر اٹھاتی اور نئی نئی قباحتیں جنم لیتی ہیں۔ پیش نظر آیات میں قوم لوط کی ایک بہت بڑی برائی کا ذکر کیا جارہا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے اندر صرف یہی ایک برائی پائی جاتی تھی بلکہ اس سے صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان کے مزاج اور ماحول کا فساد کس حد تک پہنچ گیا تھا کہ جس نے ان کی فطرت تک کو بگاڑ کے رکھ دیا تھا۔
فطرت کا بگاڑ
ہر شخص فطری طور پر اپنی شخصیت کی تکمیل کے لیے عورت کی طرف میلان رکھتا ہے۔ اسی سے شخصیت کا خلاء بھرتا، فطرت کا تقاضا پورا ہوتا اور سلسلہ نسب کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ مرد کا مرد سے شہوت رانی کا تعلق یہ خلاف فطرت فعل ہے جو مزاج کے فساد اور ماحول کے بگاڑ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی قوم من حیث المجموع اس میں مبتلا ہوجاتی ہے یا اس فعل کی شناعت اس قوم سے اٹھ جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شرم و حیاء جو نظام اخلاق کی ریڑھ کی ہڈی ہے وہ اٹھ چکا ہے۔ اور اب اس قوم میں خیر کا کوئی پہلو باقی نہیں رہا۔ چناچہ قوم لوط کی اس برائی کے ذکر کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
آیتِ کریمہ کے الفاظ میں دو مطالب کی گنجائش ہے۔ ایک یہ کہ ساری مخلوق میں سے صرف مردوں کو تم نے خواہشِ نفس پوری کرنے کے لیے چھانٹ لیا ہے حالانکہ دنیا میں بکثرت عورتیں موجود ہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر میں تم ہی ایسے لوگ ہو جو شہوت رانی کے لیے مردوں کے پاس جاتے ہو، ورنہ انسانوں میں کوئی دوسری قوم ایسی نہیں بلکہ حیوانات میں سے بھی کوئی جانور یہ کام نہیں کرتا۔
دوسری آیت کریمہ میں ایک بہت بڑے فطری نقصان کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ تم اس حد تک اس برائی کے رسیا ہوگئے ہو کہ تمہاری فطرت بالکل مسخ ہو کے رہ گئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شہوت رانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے عورت کو پیدا کیا ہے اور مرد اور عورت دونوں میں ایک دوسرے کی طلب پیدا کی ہے لیکن تم اس فطری تقاضے سے محروم ہوگئے ہو۔ اس کا نتیجہ ہے کہ کھیتوں کو تم نے خشک ہونے کے لیے چھوڑ دیا ہے اور بنجر کو سیراب کرنے کی کوشش کررہے ہو۔ اس پر اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ تم فطرت کی تمام حدود پامال کرچکے ہو اور تمہارے اندر انسانیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔
Ayah 26:167قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَہِ یٰـلُوْطُ لَتَـکُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ ۔ (الشعرآء : 167)
(انھوں نے کہا، (خاموش) اے لوط، اگر تم اس سے باز نہ آئے تو تمہیں ضرور ملک بدر کردیا جائے گا۔ )
قوم کی فیصلہ کن دھمکی
بعض اہل علم نے اس آیت کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ ” اے لوط ! اگر تم ان باتوں سے باز نہ آئے تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں ان میں تو بھی شامل ہو کر رہے گا۔ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) سے پہلے بھی مختلف وقتوں میں مختلف لوگوں نے ان کے خلاف زبان کھولنے کی کوشش کی، یا جو کچھ وہ چاہتے تھے اس کے خلاف چلنے کی کوشش کی تو انھوں نے اسے بستی سے نکال دیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا جارہا ہے کہ اگر تم بھی اب اس طرح کی باتیں کرو گے اور اس برائی پر احتجاج کرو گے تو ہم تمہیں بھی ملک بدر کردیں گے۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس برائی پر نکیر ایک مدت سے جاری کر رکھی تھی، اور وہ آپ ( علیہ السلام) کی اخلاقی برتری اور بزرگی کے باعث آپ ( علیہ السلام) کو برداشت کرتے چلے آرہے تھے۔ لیکن اب شاید آپ ( علیہ السلام) کی نوائوں میں تیزی آگئی یا آپ ( علیہ السلام) نے ان کے گریبان جھنجوڑنے شروع کردیئے تھے تو انھوں نے بھی فیصلہ کرلیا کہ اب لوط (علیہ السلام) اور اس کے خاندان والوں کو اس بستی سے نکال دیا جائے ورنہ اندیشہ ہے کہ ان کے اثرات دوسروں پر اثرانداز نہ ہوجائیں۔ سورة الاعراف اور سورة النمل میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہتے تھے اَخْرِجُوْا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِکُمْ اِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَّـتَـطَھَّرُوْنَ ” لوط اور اس کے خاندان والوں کو بستی سے نکال باہر کرو، یہ لوگ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔
Ayah 26:168قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِکُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَ ۔ (الشعرآء : 168)
(حضرت لوط نے کہا میں تمہارے اس عمل سے سخت بیزار ہوں۔ )
حضرت لوط (علیہ السلام) کی استقامت
حضرت لوط (علیہ السلام) نے قوم کی دھمکی کے جواب میں نہایت استقامت اور اعتمادعلی اللہ کا ثبوت دیتے ہوئے نہایت جرأت سے کہا کہ تم اگر مجھے اس بستی سے نکالنے کا فیصلہ کرچکے ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں حق بات کہنے سے باز آجاؤں۔ میں تم پر یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ تم جس قابل نفرت عمل بد کا شکار ہو، میں اس سے شدید بغض اور نفرت رکھتا ہوں۔ یوں تو ” قلی “ کا معنی ہی شدید بغض و نفرت ہوتا ہے لیکن مِّنَ الْقَالِیْنَ میں جمع لانے سے کلام میں زیادہ زور پیدا ہوگیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اس عمل بد سے صرف میں ہی بیزار نہیں ہوں بلکہ ہر وہ شخص جو فطرتِ سلیم اور عقل مستقیم رکھتا اور کسی بھی حد تک شریفانہ قدروں کا پاسبان ہے وہ اس انتہائی قابل نفرت فعل سے گھن کھاتا اور نفرت کرتا ہے۔ تم اگر مجھے نکالنا چاہتے ہو تو مجھے اس کی پرواہ نہیں اس لیے کہ کوئی شریف آدمی بھی تم جیسے لوگوں کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتا۔
Ayah 26:169رَبِّ نَجِنِّیْ وَاَھْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الشعرآء : 169)
(اے میرے رب ! تو مجھے اور میرے اہل و عیال کو ان کی بدکرداریوں (ان کے عمل کے انجام) سے نجات دے۔ )
حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعا
حضرت لوط (علیہ السلام) نے قوم کی دھمکیوں سے اندازہ کرلیا کہ اب میری قوم آخری اقدام کر گزرنا چاہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب فیصلے کی آخری گھڑی قریب آگئی ہے۔ ایسے موقع پر ہمیشہ سنت الٰہی حرکت میں آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوجاتا ہے۔ چناچہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنے متعلقین اور اپنے اوپر ایمان لانے والوں اور اپنے آپ کو نجات دینے کی استدعا کی، کیونکہ ” اَھَلْ “ اہل بیت کے ساتھ ساتھ ایمان لانے والوں پر بھی بولا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم میں سے بھی کچھ لوگ ایمان لائے ہوں۔
Ayahs 26:170–173فَنَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَـہٗٓ اَجْمَعِیْنَ ۔ اِلاَّ عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ ۔ ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ ۔ وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَّطَرًا فَسَآئَ مَطَرُالْمُنْذَرِیْنَ ۔ (الشعرآء : 170 تا 173)
(آخرکار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو نجات دی۔ بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔ پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا۔ پھر ان پر برسائی ایک بارش، تو کیا ہی بری تھی وہ بارش جو ان پر برسی جن کو انجام سے آگاہ کیا جا چکا تھا۔ )
قبولیتِ دعا اور قوم کا انجام
قرآن کریم نے بعض دوسری سورتوں میں کسی حد تک تفصیل سے بیان کیا ہے کہ کس طرح نوجوان مہمانوں کی شکل میں دو فرشتے عذاب کی اطلاع دینے کے لیے آئے اور کس طرح قوم کے لفنگوں نے برائی کے ارادہ سے حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر کا محاصرہ کیا اور کس طرح حضرت لوط (علیہ السلام) نے انھیں گھر سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی، آخر اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ آپ ( علیہ السلام) کو اور آپ ( علیہ السلام) کے اہل خانہ کو بستی سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا، لیکن بیوی کے بارے میں حکم دیا کہ اس کو ساتھ نہ لے جایا جائے کیونکہ وہ آپ ( علیہ السلام) پر ایمان نہیں رکھتی تھی۔ صبح ہوتے ہی ایک زور کا دھماکہ ہوا اور ایک ہولناک زلزلے نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کرکے رکھ دیا۔ پھر ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔ قرآن کریم کے اشاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بارش دو طرح کی تھی، ایک تو آتش فشاں کے پھٹنے سے ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسے۔ اور دوسرے ایک طوفانی ہوا چلی جس نے ان پر پتھرائو کیا۔ صاحب تفہیم القرآن نے اس عذاب کے حوالے سے جو تحقیقی نوٹ لکھا ہے وہ استفادہ کے قابل ہے۔
بائیبل کے بیانات، قدیم یونانی اور لاطینی تحریروں، جدید زمانے کی طبقات الارضی تحقیقات اور آثارقدیمہ کے مشاہدات سے اس عذاب کی تفصیلات پر جو روشنی پڑتی ہے اس کا خلاصہ ہم ذیل میں درج کرتے ہیں :
بحیرہ مردار (Dead Sea) کے جنوب اور مشرق میں جو علاقہ آج انتہائی ویران اور سنسان حالت میں پڑا ہوا ہے، اس میں بکثرت پرانی بستیوں کے کھنڈروں کی موجودگی پتہ دیتی ہے کہ یہ کسی زمانے میں نہایت آباد علاقہ رہا تھا۔ آج وہاں سینکڑوں برباد شدہ قریوں کے آثار ملتے ہیں حالانکہ اب یہ علاقہ اتنا شاداب نہیں ہے کہ اتنی آبادی کا بوجھ سہار سکے۔ آثارِقدیمہ کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس علاقے کی آبادی و خوشحالی کا دور 2300 قبل مسیح سے 1900 قبل مسیح تک رہا ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق مؤرخین کا اندازہ یہ ہے کہ وہ دو ہزار برس قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے میں گزرے ہیں۔ اس لحاظ سے آثار کی شہادت اس بات کی تائید کرتی ہے کہ یہ علاقہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) کے عہد ہی میں برباد ہوا ہے۔
اس علاقے کا سب سے زیادہ آباد اور سرسبز و شاداب حصہ وہ تھا جسے بائیبل میں ” سدیم کی وادی “ کہا گیا ہے جس کے متعلق بائیبل کا بیان ہے کہ ” وہ اس سے پیشتر کہ خداوند نے سدوم اور عمورہ کو تباہ کیا، خداوند کے باغ (عدن) اور مصر کے مانند خوب سیراب تھی۔ “ (پیدائش، باب 13۔ آیت 10) موجودہ زمانے کے محققین کی عام رائے یہ ہے کہ وہ وادی اب بحیرہ مردار کے اندر غرق ہے اور یہ رائے مختلف آثار کی شہادتوں سے قائم کی گئی ہے۔ قدیم زمانہ میں بحیرہ مردار جنوب کی طرف اتنا وسیع نہ تھا جتنا اب ہے۔ شرق اردن کے موجودہ شہر الکرک کے سامنے مغرب کی جانب اس بحیرے میں جو ایک چھوٹا سا جزیرہ نما ” اللسان “ پایا جاتا ہے، قدیم زمانے میں بس یہی پانی کی آخری سرحد تھی۔ اس کے نیچے کا حصہ جہاں اب پانی پھیل گیا ہے (جسے ملحقہ نقشے میں ہم نے آڑی لکیروں سے نمایاں کیا ہے) پہلے ایک سرسبز وادی کی شکل میں آباد تھا اور یہی وہ وادی سدیم تھی جس میں قوم لوط کے بڑے بڑے شہر سدوم، عمورہ، ادمہ، ضبوئیم اور ضغر واقع تھے۔ دو ہزار برس قبل مسیح کے لگ بھگ زمانہ میں ایک زبردست زلزلے کی وجہ سے یہ وادی پھٹ کر دب گئی اور بحیرہ مردار کا پانی اس کے اوپر چھا گیا۔ آج بھی یہ بحیرے کا سب سے زیادہ اتھلا حصہ ہے، مگر رومی عہد میں یہ اتنا اتھلا تھا کہ لوگ اللسان سے مغربی ساحل تک چل کر پانی میں سے گزر جاتے تھے۔ اس وقت تک جنوبی ساحل کے ساتھ ساتھ پانی میں ڈوبے ہوئے جنگلات صاف نظر آتے ہیں بلکہ یہ شبہ بھی کیا جاتا ہے کہ پانی میں کچھ عمارات ڈوبی ہوئی ہیں۔
بائیبل اور قدیم یونانی و لاطینی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقہ میں جگہ جگہ نفطہ (پٹرول) اور اسفالٹ کے گڑھے تھے اور بعض بعض جگہ زمین سے آتش گیر گیس بھی نکلتی تھی۔ اب بھی وہاں زیرزمین پٹرول اور گیسوں کا پتہ چلتا ہے۔ طبقات الارضی مشاہدات سے اندازہ کیا گیا ہے کہ زلزلے کے شدید جھٹکوں کے ساتھ پٹرول، گیس اور اسفالٹ زمین سے نکل کر بھڑک اٹھے اور سارا علاقہ بھک سے اڑ گیا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ اس تباہی کی اطلاع پا کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب حبرون سے اس وادی کا حال دیکھنے آئے تو زمین سے دھواں اس طرح اٹھ رہا تھا جیسے بھٹی کا دھواں ہوتا ہے۔
(پیدائش باب 19۔ آیت 28) (تفہیم القرآن)
Ayahs 26:174–175اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَـۃً وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔
(الشعرآء : 174، 175)
(بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔ اور بیشک تیرا رب عزیزو رحیم ہے۔ )
یہ آیات سابقہ سرگزشتوں میں گزر چکی ہیں اور وہاں ان کی وضاحت ہوچکی ہے۔
Ayah 26:176کَذَّبَ اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ (الشعرآء : 176)
(اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔ )
اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ کی تحقیق
ایکۃ … جھاڑی اور جنگل کو کہتے ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ اور اَصْحٰبُ مَدْیَنْ دو الگ الگ قومیں ہیں۔ اور حضرت شعیب کی بعثت ان دونوں کی طرف ہوئی، لیکن جمہور مفسرین دونوں کو ایک ہی کہتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ مدین کے پاس ایک جنگل بھی تھا، اس لیے اَصْحٰبُ مَدْیَنْ کو اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ بھی کہا جاتا ہے۔ صاحب تفہیم القرآن نے اس پر ایک تفصیلی نوٹ لکھا ہے، اسے ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔
اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِکا مختصر ذکر سورة الحجر آیت 78۔ 84 میں پہلے گزر چکا ہے۔ یہاں اس کی تفصیل بیان ہورہی ہے۔ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا مدین اور اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ الگ الگ قومیں ہیں یا ایک ہی قوم کے دو نام ہیں۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ دو الگ قومیں ہیں اور اس کے لیے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ سورة الاعراف میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اہل مدین کا بھائی فرمایا گیا ہے۔ وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا اور یہاں اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ کے ذکر میں صرف یہ ارشاد ہوا ہے کہ اِذْ قَالَ لَھُمْ شُعَیْبٌ (جبکہ ان سے شعیب نے کہا) ” ان کے بھائی “ (اَخُوْھُمْ ) کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس بعض مفسرین دونوں کو ایک ہی قوم قرار دیتے ہیں کیونکہ سورة الاعراف اور سورة ہود میں جو امراض اور اوصاف اصحاب مدین کے بیان ہوئے ہیں وہی یہاں اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِکے بیان ہورہے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت و نصیحت بھی یکساں ہے اور آخر کار ان کے انجام میں بھی فرق نہیں ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں اقوال اپنی جگہ صحیح ہیں۔ اصحاب مدین اور اَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ بلاشبہ دو الگ قبیلے ہیں مگر ہیں ایک ہی نسل کی دو شاخیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جو اولاد ان کی بیوی یا کنیز قطورا کے بطن سے تھی وہ عرب اور اسرائیل کی تاریخ میں بنی قطورا کے نام سے معروف ہے۔ ان میں سے ایک قبیلہ جو سب سے زیادہ مشہور ہوا مدیان بن ابراہیم کی نسبت سے مدیانی یا اصحاب مدین کہلایا اور اس کی آبادی شمال حجاز سے فلسطین کے جنوب تک اور وہاں سے جزیرہ نما سینا کے آخری گوشے تک بحرقلزم اور خلیج عقبہ کے سوا حل پر پھیل گئی۔ اس کا صدر مقام شہر مدین تھا جس کی جائے وقوع ابوالفدا نے خلیج عقبہ کے مغربی کنارے ایلہ (موجودہ عقبہ) سے پانچ دن کی راہ پر بتائی ہے۔ باقی بنی قطورا جن میں بنی ددان (Dedanites) نسبۃً زیادہ مشہور ہیں، شمالی عرب میں تیماء اور تبوک اور العلاء کے درمیان آباد ہونے اور ان کا صدر مقام تبوک تھا جسے قدیم زمانے میں ایکہ کہتے تھے۔ (یاقوت نے معجم البلدان میں لفظ ایکہ کے تحت بتایا ہے کہ یہ تبوک کا پرانا نام ہے اور اہل تبوک میں عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ یہی جگہ کسی زمانے میں ایکہ تھی) ۔
اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ کے لیے ایک ہی پیغمبر مبعوث کیے جانے کی وجہ غالباً یہ تھی کہ دونوں ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے تھے، ایک ہی زبان بولتے تھے، اور ان کے علاقے بھی بالکل ایک دوسرے سے متصل تھے بلکہ بعید نہیں کہ بعض علاقوں میں یہ ساتھ ساتھ آباد ہوں اور آپس کے شادی بیاہ سے ان کا معاشرہ بھی باہم گھل مل گیا ہو۔ اس کے علاوہ بنی قطورا کی ان دونوں شاخوں کا پیشہ بھی تجارت تھا اور دونوں میں ایک ہی طرح کی تجارتی بےایمانیاں اور مذہبی و اخلاقی بیماریاں پائی جاتی تھیں۔ بائیبل کی ابتدائی کتابوں میں جگہ جگہ یہ ذکر ملتا ہے کہ یہ لوگ بعل فغور کی پرستش کرتے تھے اور بنی اسرائیل جب مصر سے نکل کر ان کے علاقے میں آئے تو ان کے اندر بھی انھوں نے شرک اور زناکاری کی وبا پھیلا دی (گنتی، باب 25 آیت 1۔ 5، باب 31 آیت 16۔ 17) پھر یہ لوگ بین الاقوامی تجارت کی ان دو بڑی شاہراہوں پر آباد تھے جو یمن سے شام اور خلیج فارس سے مصر کی طرف جاتی تھیں۔ ان شاہراہوں پر واقع ہونے کی وجہ سے انھوں نے بڑے پیمانے پر راہزنی کا سلسلہ چلا رکھا تھا۔ دوسری قوموں کے تجارتی قافلوں کو بھاری خراج لیے بغیر نہ گزرتے دیتے تھے، اور بین الاقوامی تجارت پر خود قابض رہنے کی خاطر انھوں نے راستوں کا امن خطرے میں ڈال رکھا تھا۔ قرآن مجید میں ان کی اس پوزیشن کو یوں بیان کیا گیا ہے اِنَّـھُمَا لَبِـاِمَامٍ مُّبِیْنٍ ” یہ دونوں (قوم لوط اور اصحاب الایکہ) کھلی شاہراہ پر آباد تھے۔ “ اور ان کی راہزنی کا ذکر سورة الاعراف میں اس طرح کیا گیا ہے وَلاَ تَقْعُدُوْا بِکلِ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ ” اور ہر راستے پر لوگوں کو ڈرانے نہ بیٹھو۔ “ یہی اسباب تھے جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قبیلوں کے لیے ایک ہی پیغمبر بھیجا اور ان کو ایک ہی طرح کی تعلیم دی۔ (تفہیم القرآن)
Ayahs 26:177–180اِذْ قَالَ لَھُمْ شُعَیْبٌ اَلاَ تَـتَّـقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّـقُواللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ وَمَـآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ ج اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔
(الشعرآء : 177 تا 180)
(یاد کرو جب شعیب (علیہ السلام) نے تم سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں۔ میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسول ہوں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا، میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔ )
یہ آیات اوپر انبیائے کرام کی سرگزشتوں میں گزر چکی ہیں اور وہاں ان کی وضاحت ہوچکی ہے۔
Ayahs 26:181–182اَوْفُوْا الْـکَیْلَ وَلاَ تَـکُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَ ۔ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَـقِیْمِ ۔
(الشعرآء : 181، 182)
(تم لوگ پورا پورا ناپو، اور نقصان پہنچانے والوں میں سے نہ بنو۔ اور صحیح ترازو سے تولو۔ )
قومِ شعیب کی سب سے نمایاں برائی پر تنقید
گزشتہ انبیائے کرام کی امتوں کے احوال میں ہم نے یہ دیکھا ہے کہ ہر امت کی تمام برائیوں اور قباحتوں کا ذکر کرنے کی بجائے ان برائیوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو ان کی اجتماعی زندگی پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوتی ہیں اور رفتہ رفتہ ان کی علامت بن جاتی ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ ان میں اتنی بڑی بڑی برائیوں کے پیدا ہونے کا سبب یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے بےنیاز اور آخرت میں جوابدہی کے احساس سے تہی دامن تھے۔ اور اسی آخرت فراموشی نے ان کے سیرت و کردار کو بالکل تباہ کردیا تھا اور ان کے اجتماعی معاملات تلپٹ کردیئے تھے۔ اصحابِ مدین جنھیں اصحابُ الایکہ کہا گیا ہے تجارت پیشہ لوگ تھے اور اس پیشے میں انھوں نے غیرمعمولی ترقی کی تھی۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) انھیں کی طرف مبعوث ہوئے۔ خدا فراموشی اور آخرت فراموشی نے ان کے اندر جو سیرت و کردار کا فساد اور معاملات کی خرابی پیدا کی تھی۔ ان میں سب سے بڑی برائی جس نے ان کی اجتماعی زندگی کو بالکل تباہ کردیا تھا، وہ ناپ تول میں کمی تھی۔ ان کے لینے کے باٹ اور تھے اور دینے کے باٹ اور۔ ہر ممکن طریقے سے دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔ اس برائی سے چونکہ جلبِ زر کا جذبہ اور دولت کی ہوس بڑھتی ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پورا معاشی نظام خرابیوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ نئی نئی معاشی بیماریاں پھوٹتی ہیں، بےایمانی، ناپ تول میں دغابازی، ملاوٹ، تہہ بازاری اور چور بازاری کی ایسی ایسی شکلیں وجود میں آتی ہیں کہ معاشرے کا ہر شخص بلبلا اٹھتا ہے اور پھر اس پر مستزاد یہ ہے کہ معاشی خرابیاں جس طرح اخلاقی خرابیوں کو جنم دیتی ہیں، اسی طرح معاشرے کے معاملات میں ابتری بھی پیدا ہوتی ہے، تعلقات کشیدہ ہوجاتے ہیں۔ ہر شخص دوسرے سے شاکی اور اپنے ملک سے متنفر ہونے لگتا ہے۔ اجتماعی زندگی کا وہ توازن جو کسی بھی قوم کی شیرازہ بندی کی بنیاد ہے، شکست و ریخت کا شکار ہوجاتا ہے۔ چناچہ یہ قوم ایسے تمام فسادات کا مرکز بن چکی تھی، لیکن تکلیف دہ بات یہ تھی کہ وہ ایک ہولناک تباہی کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن انھیں اس بات کا ہوش نہ تھا۔ بگڑی ہوئی قوموں کا بالعموم یہی حال ہوتا ہے کہ ان کے مالدار مال مست ہوجاتے ہیں اور ان کے باقی طبقے حال مست۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کا عذاب انھیں آ پکڑتا ہے۔
Ayah 26:183وَلاَ تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَـآئَ ھُمْ وَلاَ تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ۔ (الشعرآء : 183)
(اور لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو، اور زمین میں فساد نہ مچاتے پھرو۔ )
ناپ تول میں کمی اور ملاوٹ فساد کا پیش خیمہ ہے
ناپ تول میں کمی اور ڈنڈی مارنے سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ دوسرے کی چیز میں کمی کی جائے۔ معاوضہ زیادہ لیا جائے اور چیز کم دی جائے۔ اس سے جو ذہنیت پیدا ہوتی ہے اسی کے نتیجے میں ملاوٹ کی برائی جنم لیتی ہے۔ اس طرح بظاہر دکاندار گاہک کو چیز تو پوری دیتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ چیز پوری نہیں ہوتی بلکہ دوسری چیز ملا کر اسے پورا کیا جاتا ہے۔ اس میں ایک طرف ناپ تول میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو دوسری طرف ملاوٹ کے ذریعے صحتوں کی بربادی کا راستہ کھلتا ہے۔ بعض دفعہ ملاوٹ تو ایسی چیز سے کی جاتی ہے جو اصل چیز سے قیمت میں کم ہوتی ہے۔ اس میں تو صرف مالی نقصان ہوتا ہے لیکن بعض دفعہ ملاوٹ مضرصحت اشیاء کے ذریعے سے ہوتی ہے۔ اس میں لینے والے کا صرف مالی نقصان نہیں ہوتا بلکہ صحت بھی برباد ہوتی ہے۔ دودھ اور دہی میں آج جو کچھ ملایا جاتا ہے اس کا تصور ہی کپکپا دینے کے لیے کافی ہے۔ مرچوں میں پسی ہوئی اینٹیں ملائی جاتی ہیں، گھی میں چربی، شکر میں ریت، اور نہ جانے کیا کیا چیزیں ملائی جاتی ہیں جو صحت کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔ انتہا تو یہ ہے کہ دوا جو علاج کے لیے کھائی جاتی ہے خود اس میں بھی ملاوٹ کی جاتی ہے۔ ایسی تمام برائیاں اہل مدین میں پیدا ہوچکی تھیں۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ ان کی سرزمین میں زندگی کا توازن رخصت ہوجانے کے باعث برہمی کے راستے کھل گئے تھے، اور زندگی کا ہر شعبہ فساد کا شکار ہوگیا تھا بلکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قوم ہوس زر میں اس حد تک اندھی ہوگئی تھی کہ چونکہ بڑے بڑے تجارتی راستوں پر ان کا قبضہ تھا تو ان کی نفع اندوزی کی بڑھی ہوئی خواہش نے راستوں کو فساد کا مرکز بنادیا تھا۔ جو قافلہ بھی ان راستوں سے گزرتا، ٹیکسوں کے نام پر اسے لوٹنے کی کوشش کی جاتی۔ مختصر یہ کہ ہوس کی مختلف صورتوں نے تمام تجارتی اور مالی معاملات کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا کہ بازاروں میں گاہک لٹتے تھے اور سرحدوں پر قافلے لوٹے جارہے تھے۔ اور اس طرح انسانی زندگی فساد کا شکار ہوچکی تھی۔
Ayah 26:184وَاتَّـقُوالَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالْجِبِلَّۃَ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (الشعرآء : 184)
(اور اس ذات سے ڈرو جس نے تمہیں بھی پیدا کیا اور تم سے پہلی نسلوں کو بھی۔ )
جِبِلَّـۃٌ کے معنی ہیں خلق و خلقت۔
تاریخ سے سبق لینے کی ہدایت
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تاریخ سے سبق لینے کی طرف توجہ دلائی کہ تمہیں اگر کوئی اور حقیقت اپیل نہیں کرتی تو گزشتہ تاریخ پڑھ کے دیکھ لو۔ جن قوموں نے بھی تمدن و معاشرت میں فساد پیدا کیا وہ نیست و نابود کردی گئیں۔ تم ان سے بڑھ کر زمین کو فساد سے بھر چکے ہو۔ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق تمہیں مہلت دیتا چلا جائے۔ اگر تم نے اپنے رویئے کو درست نہ کیا تو چونکہ وہ عادل ہے نہ کسی سے زیادتی کرتا ہے اور نہ بلاوجہ کسی کو ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے۔ جس جرم کے باعث پہلی قومیں عذاب کا شکار ہوئیں، کوئی وجہ نہیں کہ تم اسی جرم کے باوجود اس کے عذاب سے بچے رہو۔
Ayahs 26:185–187قَالُوْٓا اِنَّمَـآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ۔ وَمَـآ اَنْتَ اِلاَّبَشَرٌ مِّثْـلُنَا وَاِنْ نَّظُنُّـکَ لَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ ۔ فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا کِسَفًا مِّنَ السَّمَـآئِ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔
(الشعرآء : 185 تا 187)
(انھوں نے جواب دیا، تم تو محض ایک سحرزدہ آدمی ہو۔ اور تم کچھ نہیں ہو، مگر ہمارے ہی جیسے ایک انسان، اور ہم تو تم کو بالکل جھوٹوں میں سے ہی خیال کرتے ہیں۔ پس تم ہم پر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرائو، اگر تم سچے ہو۔ )
قومِ شعیب کا مطالبہ عذاب
قومِ شعیب نے بالکل وہی جواب دیا جو ہمیشہ بگڑی ہوئی قومیں پیغمبروں کو دیتی رہی ہیں۔ اور اس سے پہلے گزرنے والی سرگزشتوں میں ہم اسے پڑھ چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تم یہ جو الٹی سیدھی باتیں کررہے ہو اور ہماری ترقی تمہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ اور دنیاداری کے معاملات کو تم روحانیت کے ترازو میں تولنا شروع کردیتے ہو۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کی وجہ سے تمہارے دماغ میں اختلال آگیا ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ تمہیں کبھی عذاب نظر آنے لگتا ہے اور تم ہمیں ڈرانے لگتے ہو۔ رہی یہ بات کہ تم اللہ تعالیٰ کا رسول ہونے کی وجہ سے ہمیں آنے والے خطرات سے باخبر کرنا چاہتے ہو، تو ہمارا گمان یہ ہے کہ تم رسول ہونے کا جھوٹا دعویٰ کررہے ہو، کیونکہ رسالت ایک غیرمعمولی منصب ہے، وہ ہر کہ و مہ کو تو نہیں مل سکتا۔ تم تو ہمارے جیسے ایک بشر ہو جس میں کوئی غیرمعمولی بات نہیں، تو ہم تمہیں رسول کیسے تسلیم کرلیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ تم یہ بھی کہتے ہو کہ اگر ہم نے تمہاری بات نہ مانی، تو آسمان ہم پر ٹوٹ پڑے گا۔ تو ٹھیک ہے تم آسمان سے کوئی ٹکڑا گرا کے دکھا دو ۔ لیکن جب تک آسمان کا کوئی ٹکڑا نہیں گرتا ہم کیسے باور کرلیں کہ تم واقعی اللہ تعالیٰ کے فرستادہ ہو۔
Ayah 26:188قَالَ رَبِّیْٓ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (الشعرآء : 188)
(حضرت شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تم کررہے ہو۔ )
اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے
جب پیغمبر اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوجاتا ہے تو ان کے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوا اس طرح کی بات کہتا ہے۔ کہنا مقصود یہ ہے کہ آسمان سے ٹکڑے گرانا میرے اختیار میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ میں تو اتنی بات جانتا ہوں کہ جو قوم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول کی تکذیب کرتی اور اس پر نازل کیے جانے والے دین کا انکار کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ ایک خاص حد تک اسے سنبھلنے کا موقع دیتا ہے۔ آخر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ قوم عذاب کا شکار ہوجاتی ہے۔ لیکن وہ وقت کب آئے گا، اسے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ وہ تمہارے اعمال سے خوب واقف ہے۔ جب وہ دیکھے گا کہ اب تم میں قبولیت کی آخری امید بھی باقی نہیں رہی تو پھر اس کا عذاب نازل ہوجائے گا۔ وہ زمین سے ابل بھی سکتا ہے اور آسمان سے برس بھی سکتا ہے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) کے جواب میں کفار قریش کے لیے بھی ایک تنبیہ تھی۔ وہ نبی کریم ﷺ سے بھی ایسے ہی مطالبے کرتے رہتے تھے۔ اَوْتُسْقِطَ السَّمَائَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفًا ” یا پھر گرا ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا، جیسے کہ تیرا دعویٰ ہے۔ “ اسی لیے ان کو سنایا جارہا ہے کہ ایسا ہی مطالبہ اصحاب الایکہ نے اپنے پیغمبر سے کیا تھا۔ جو جواب انھیں ملا، وہی تمہاری طلب کا جواب بھی ہے۔