Ayah 26:189فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَھُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِ ط اِنَّـہٗ کَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ (الشعرآء : 189)
(پس انھوں نے اسے جھٹلا دیا، پس آدبوچا ان کو چھتری والے دن کے عذاب نے، بیشک وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھا۔ )
یَوْمِ الظُّلَّۃِ کا عذاب آگیا
قومِ شعیب پر جو عذاب آیا، اس کی کوئی تفصیل قرآن مجید میں یا کسی صحیح حدیث میں مذکور نہیں ہے۔ اس آیت کے ظاہر الفاظ سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے چونکہ آسمانی عذاب مانگا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک بادل بھیج دیا، وہ چھتری کی طرح ان پر اس وقت تک چھایا رہا جب تک عذاب نے ان کو بالکل تباہ نہ کردیا۔ سورة ہود آیت 94 میں اس آیت کی تعبیر لفظ صَیْحَۃٌسے کی گئی ہے جس کے معنی ڈانٹ اور کڑک کے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عذاب دور سے دیکھنے میں غبار یا ابر یا دھویں کے ایک ستون یا سائبان کی شکل میں نظر آیا۔ اور پھر اس نے صَیْحَۃٌ کی شکل اختیار کرلی۔
ابنِ جریر ( رض) نے حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) کا یہ قول نقل کیا ہے من حدثک من العلماء ما عذاب یوم الظلۃ فکذبہ۔
” علماء میں سے جو کوئی تم سے بیان کرے کہ یوم الظلۃ کا عذاب کیا تھا، اس نے جھوٹ بولا۔ “
واللہ اعلم۔
Ayahs 26:190–191اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَـۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔
(الشعرآء : 190، 191)
(بیشک اس میں بہت بڑی نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ )
گزشتہ ہر سرگزشت کے بعد اس آیت کی تشریح ہوچکی ہے۔
Ayahs 26:192–194وَاِنَّـہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ ۔ عَلٰی قَلْبِکَ لِتَـکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ۔ (الشعرآء : 192 تا 194)
(اور بیشک یہ ( قرآن کریم) نہایت اہتمام سے پروردگارِ عالم کا اتارا ہوا ہے۔ اسے لے کر آپ کے دل پر امانتدار روح اتری ہے۔ تاکہ آپ لوگوں کو انذار کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔ )
خاتمہ سورة کی آیات، قرآن کریم کا مرتبہ و مقام
یہاں سے خاتمہ سورة کی آیات شروع ہورہی ہیں اور اس سورة کی آخری آیات اپنے اسلوب کے مطابق اولین آیات کا تتمہ اور اس کے مرکزی مضمون سے وابستہ ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کس قدر مربوط کتاب ہے۔ سورة کے آغاز میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ قرآن کریم کا کتاب الٰہی ہونا بالکل واضح ہے۔ جو لوگ اسے ماننے سے انکار کررہے ہیں اور پھر اس پر کسی نشانی کا مطالبہ کررہے ہیں وہ محض بہانہ جو ہیں، اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہر طرح کی نشانی دکھا دینا کوئی بعید بات نہیں، لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ نہ کسی کو زبردستی گمراہ رکھا جائے اور نہ کسی کو زبردستی ہدایت دی جائے۔ غیرمعمولی نشانیاں دکھا کر ایمان کی طرف مائل کرنا درحقیقت عقل پر جبر کرنا ہے جبکہ اس کے پیش نظر یہ ہے کہ جو شخص بھی ایمان لائے وہ عقل و بصیرت سے کام لے کر ایمان لائے۔ البتہ ہٹ دھرمی اور طریق آباء پر عصبیت نے پہلے بھی قوموں کو تباہ کیا ہے اور اب بھی اس کی زہرناکی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ پھر اس بات کو تاریخ کی روشنی میں مبرہن کرنے کے لیے متعدد انبیائے کرام کی سرگزشتیں بیان فرمائی گئیں اور یہ بھی واضح کیا گیا کہ ان سرگزشتوں میں کتنی نشانیاں ہیں جو ان قوموں کو دکھائی گئیں لیکن وہ محض اپنی ہٹ دھرمی کے باعث ہدایت کا راستہ اختیار نہ کرسکیں۔ اور مزید یہ کہ خود ان قوموں کی سرگزشتیں بجائے خود اپنے اندر ایسی نشانیاں رکھتی ہیں جو نشانیوں کے طلبگاروں کے لیے کافی و وافی ہیں۔ ان سرگزشتوں کو ختم کرنے کے بعد کلام پھر اصل مضمون کی طرف پلٹ گیا ہے اور نہایت وضاحت سے بتایا جارہا ہے کہ ہم نے اپنے آخری رسول پر جو کتاب اتاری ہے اس کا مقام و مرتبہ کیا ہے۔
سب سے پہلی یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ یہ قرآن کریم رب العالمین نے نہایت اہتمام کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ تنزیل کے معنی اہتمام سے اتارنے کے ہیں۔ اس میں مخالفین کے لیے تنبہ ہے کہ تم اس کلام کو عام کسی کلام پر قیاس مت کرو، اسے رب العالمین نے اتارا ہے اور رب العالمین کی شان یہ ہے کہ جس طرح اس کی ربوبیت نے انسان کی جسمانی ضروریات کو بہم پہنچایا ہے اور اس میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے تقاضوں کو جس طرح اس کے فیضانِ ربوبیت نے پورا کیا اور پھر جس طرح بوقت ضرورت حواس اور عقل کا نور عطا فرمایا ہے اور ایک فرد سے لے کر تمام نوع انسانی تک جس طرح اس کی ربوبیت نے جودوکرم کی بارش کی ہے اور کسی کو بھی اپنے فیضان سے محروم نہیں رہنے دیا، بالکل اسی رب العالمین نے ہمہ جہت، ہمہ نوع اور ہمہ گیر قسم کی معنوی اور روحانی ربوبیت سے قرآن کریم کو نازل فرمایا ہے۔ اس میں انسانی ہدایت کی کسی ضرورت کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا۔ جہاں تک اس کی حفاظت و صیانت کا تعلق ہے اس کی نزاکتوں اور باریکیوں کا اس حد تک لحاظ فرمایا گیا ہے کہ اسے لے کر وہ فرشتہ نازل ہوا ہے جو سب فرشتوں کا مطاع اور سردار ہے، جس کی قوتوں کا کوئی ہمسر نہیں، جو اپنے اندر ملکوتی صفات رکھنے کے ساتھ ساتھ روحانیت کا وہ اعلیٰ معیار رکھتا ہے کہ اسے پروردگار نے روح سے پکارا ہے اور اسے روح کے نام سے موسوم کردیا گیا ہے۔ اپنی خلقی معصومیت اور فطری روحانیت کے باوجود اسے امین نام دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کلام اس کی حفاظت میں دیا جاتا ہے اس میں کسی طرح کی کمی بیشی کا تصور بھی محال ہے۔ اور شاید اسی بات پر زور دینے کے لیے اس فرشتے کے اصل نام کی بجائے اس کی دو عظیم صفتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور اس میں کوئی اشتباہ نہیں ہونا چاہیے کہ روح الامین وہی فرشتہ ہے جس کا نام جبرائیل ہے۔ کیونکہ یہاں جس فرشتے کی صفات بیان ہورہی ہیں وہ اس حوالے سے ہو رہی ہیں کہ وہ فرشتہ اس قرآن کریم کو لے کر نازل ہوا ہے اور قرآن کریم نے سورة بقرہ کی آیت 97 میں صاف صاف فرمایا قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّـہٗ نَزَّلَـہٗ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ” کہہ دیجیے، کہ جو کوئی دشمن ہے جبرائیل کا تو اسے معلوم ہو کہ اسی نے یہ قرآن اللہ کے حکم سے آپ ﷺ کے دل پر نازل کیا ہے۔ “
مزید فرمایا کہ وہ روح الامین یعنی جبرائیل اس قرآن کو لے کر آپ ﷺ کے قلب پر نازل ہوا ہے، آپ ﷺ کے نفس پر نہیں۔ قلب انسان کے وجود کا اشرف و اعلیٰ حصہ ہے، اس وجہ سے اس شبے کا کوئی امکان نہیں رہتا کہ اس میں کسی نفسانی وسوسہ یا شیطانی دغدغہ کا کوئی دخل ہوسکتا ہے۔ یوں تو اللہ تعالیٰ کے رسول کا نفس بھی طہارت و عصمت میں ملفوف ہوتا ہے، لیکن بہت دور کے شبہ کو دور کرنے کے لیے بھی پروردگار نے واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس کلام کو آپ ﷺ کے قلب مبارک پر نازل کیا ہے۔ اور جو چیز براہ راست قلب میں اترتی ہے اس میں کسی کمی بیشی کا احتمال نہیں ہوتا۔
اس کے بعد اس کلام کے اس اہتمام کے ساتھ اتارے جانے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ یہ قرآن اس لیے آپ ﷺ کے قلب مبارک پر نازل کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو انذار اور خبردار کردیں جو اللہ تعالیٰ اور آخرت سے بےپرواہ ہو کر زندگی بسر کررہے ہیں۔ اور ان پر یہ بات واضح کردیں کہ غفلت کے نتائج و عواقب کیا ہوسکتے ہیں۔ اور ساتھ ہی تنبیہ بھی فرمائی گئی ہے کہ یہ کلام محض کلام نہیں بلکہ یہ انذار ہے اور آپ صرف ایک مبلغ نہیں بلکہ منذر ہیں۔ اس لیے لوگوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جو شخص اس انذار کو نظرانداز کرے گا اس کا انجام نہایت خطرناک ہوگا۔
Ayah 26:195بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ ۔ (الشعرآء : 195)
(ایسی عربی زبان میں جو بالکل واضح ہے۔ )
اہلِ عرب پر احسان اور تنبیہ
قرآن کریم کی حقانیت کو واضح کرنے کے بعد یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اس کو ایک ایسی زبان میں نازل کیا ہے جو خود تمہاری اپنی زبان ہے اور اسلوب ایسا رکھا گیا ہے جو تمہارے لیے اطمینان بخش طریقے سے قابل فہم اور واضح الدلالت ہے، جس کی کوئی آیت بھی چیستان کی طرح گنجلک زبان نہیں رکھتی۔ اس کا مفہوم و مدعا ہر عربی زبان جاننے والا شخص بےتکلف سمجھ سکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے اندر ایسی فصاحت و بلاغت اور ایسے اعلیٰ پائے کا اندازِ بیان رکھتی ہے کہ جس کی مثال لانا انسانی استطاعت سے باہر ہے۔
ایک ایسی کتاب جس کی حقانیت کو چیلنج نہ کیا جاسکے اور جس کا سمجھنا انسانی فہم کے لیے نہایت آسان ہو، اور جس کی ہر بات نہایت اطمینان بخش طریقے سے عمل میں لائی جاسکتی ہو، اور جس کی کوئی حقیقت اور کوئی خبر مرورزمانہ سے کہنہ نہ ہوسکے۔ وہ یقینا اپنے اندر اتمامِ حجت کی شان بھی رکھتی ہے۔ جہاں اس کا آسان اور قابل عمل ہونا اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے وہیں وہ اہل دنیا کے لیے اتمامِ حجت بھی ہے۔ ایسی اوصاف کی حامل کتاب پر بھی اگر قریش اور دیگر مخالفین ایمان نہیں لاتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسی بیماری میں مبتلا ہیں جس بیماری میں وہ قومیں مبتلا تھیں جن پر اس سے پہلے عذاب نازل ہوچکا ہے۔
Ayahs 26:196–197وَاِنَّـہٗ لَفِیْ زُبُرِالْاَوَّلِیْن۔ اَوَلَمْ یَکُنْ لَّـھُمْ اٰیَـۃً اَنْ یَّعْلَمَہٗ عُلَمٰٓـؤُا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ ْیَل۔
(الشعرآء : 196، 197)
(اور اس کا ذکر اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی ہے۔ کیا ان لوگوں کے لیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اس کو علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں۔ )
قرآن کریم کے حق میں سابق صحیفوں کی شہادت
یہ قرآن کریم کے حق میں سابقہ آسمانی کتابوں کی شہادت کا حوالہ ہے۔ کہ قرآن کریم کی تعلیمات کا ذکر اور اس کی پیشین گوئی پہلی آسمانی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اور نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کی تعلیم و دعوت سے متعلق تورات، زبور اور انجیل میں پیشین گوئیاں موجود ہیں۔ قرآن کریم جن بنیادی باتوں کی دعوت دیتا ہے، یعنی ایک اللہ تعالیٰ کی بندگی کا بلاوا، آخرت کی زندگی کا عقیدہ، انبیائے کرام کی پیروی، اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کا تصور اور انسان سے یہ مطالبہ کہ وہ اپنی خود مختاری سے دستبردار ہو کر ان احکامِ الٰہی کی پیروی اختیار کرے جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیے ہیں۔ ان میں سے ہر بات پہلی آسمانی کتابوں میں موجود ہے اور انھیں باتوں کو قرآن کریم پیش کررہا ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کی ذات اور آپ ﷺ کی دعوت سے متعلق واضح پیشین گوئیاں سابقہ صحیفوں میں پائی جاتی ہیں۔ اور اہل کتاب کے علماء انھیں پڑھتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے وہ آنحضرت ﷺ کو پہچانتے بھی ہیں کہ یہ وہی نبی آخرالزماں ہیں جن کا ہماری کتابوں میں ذکر ہے۔ اور یہ قرآن وہی کتاب ہے جس کی نشانیاں ہماری کتابوں میں موجود ہیں۔ تو کیا اس کے بعد بھی قریش اور دیگر مخالفین کو کسی اور نشانی کی ضرورت ہے۔ اور یہ بات اس لیے کہی گئی ہے کہ عرب چونکہ امی تھے اور اہل کتاب شریعت کا علم رکھتے تھے اس لیے وہ دینی معاملات میں اہل کتاب کی برتری کو تسلیم کرتے تھے۔ اس لیے ان کے سامنے اہل کتاب ہی کی شہادت پیش کی گئی ہے کہ ان میں سے جو لوگ اہل کتاب میں سے زندہ ضمیر رکھتے ہیں اور نسلی عصبیت نے انھیں اندھا نہیں کیا وہ ان سے پوچھ لیں، وہ شہادت دیں گے کہ یہ کتاب واقعی وہی کتاب ہے اور یہ نبی واقعی وہی نبی ہے جس کا ذکر ہماری کتابوں میں موجود ہے۔
علماء بنی اسرائیل کی گمراہی
آنحضرت ﷺ کی مبارک زندگی میں کئی ایسے واقعات پیش آئے کہ اہل کتاب کے ان علماء نے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے تھے آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی حقانیت کی گواہی دی۔ سیرت ابن ہشام میں یہ واقعہ موجود ہے کہ حبش سے حضرت جعفر ( رض) کی دعوت سن کر تیس آدمیوں کا ایک وفد مکہ آیا اور اس نے مسجد حرام میں کفار قریش کے سامنے رسول اللہ ﷺ سے مل کر دریافت کیا کہ آپ ﷺ کیا تعلیم لائے ہیں ؟ حضور ﷺ نے جواب میں ان کو قرآن کریم کی کچھ آیات سنائیں۔ اس پر ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ اسی وقت آپ ﷺ کے رسول برحق ہونے کی تصدیق کرکے آپ ﷺ پر ایمان لے آئے۔ پھر جب وہ حضور ﷺ کے پاس سے اٹھے تو ابو جہل قریش کے چند لوگوں کے ساتھ ان سے ملا اور انھیں سخت ملامت کی۔ اس نے کہا، تم سے زیادہ احمق قافلہ یہاں کبھی نہیں آیا۔ نامرادو ! تمہارے یہاں کے لوگوں نے تمہیں اس لیے بھیجا تھا کہ اس شخص کے حالات کی تحقیق کرکے آئو، مگر تم ابھی اس سے ملے ہی تھے کہ اپنا دین چھوڑ بیٹھے۔ وہ شریف لوگ ابوجہل کی اس زجروتوبیخ پر الجھنے کی بجائے سلام کرکے ہٹ گئے، اور کہنے لگے کہ ہم آپ سے بحث نہیں کرنا چاہتے۔ آپ اپنے دین کے مختار ہیں اور ہم اپنے دین کے۔ ہمیں جس چیز میں اپنی خیر نظر آئی، ہم نے اسے اختیار کرلیا۔
(جلد دوم، ص 32)
قرآن کریم میں بھی سورة القصص میں بھی اس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayahs 26:198–199وَلَوْ نَزَّلْنٰـہُ عَلٰی بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَ ۔ فَـقَرَاَہٗ عَلَیْھِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ مُؤْمِنِیْنَ ۔
(الشعرآء : 198، 199)
(اگر ہم اسے کسی عجمی پر اتارتے۔ اور وہ ان کو پڑھ کر سناتا تو وہ اس پر ایمان لانے والے نہ بنتے۔ )
قریش کے مطالبے کا جواب
قومیں جب بگڑتی ہیں تو فکر و عمل کی سلامتی سے بھی محروم ہوجاتی ہیں۔ کوئی صحیح سے صحیح تر بات اور واضح سے واضح تر بات بھی جو ان کے مفادات اور مزعومات سے متصادم ہو، ان کے لیے اپیل نہیں رکھتی۔ قرآن کریم کا عربی مبین میں نازل کیا جانا اہل عرب کے لیے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان تھا۔ وہ بجائے اس کے کہ اس احسان کی قدر کرتے اور آگے بڑھ کر قرآن کریم کو سینے سے لگاتے، انھوں نے یہ کہہ کر ماننے سے انکار کردیا کہ ایک عربی اگر فصیح عربی زبان میں کوئی کتاب پڑھ کر سناتا ہے تو اس میں خوبی کی کیا بات ہے۔ جس شخص کی زبان عربی ہے اس کے لیے عربی پڑھنا یا سنانا یا چند لوگوں کی معاونت سے فصیح عربی کتاب مرتب کردینا کوئی بڑا کام نہیں۔ قابل ذکر بات تو جب ہوتی جب قرآن کریم کو کسی عجمی پر نازل کیا جاتا تو وہ اسے فرفر لوگوں کو پڑھ کر سناتا تو ہم اسے واقعی ایک معجزہ سمجھ کر اس سے ایمان لے آتے۔ پروردگار اس کے جواب میں ارشاد فرما رہے ہیں کہ اگر ہم اس کتاب کو کسی عجمی پر نازل کردیتے تو یہ تب بھی ایمان نہ لاتے، اور اسے جھٹلانے کے لیے کوئی نہ کوئی وجہ پیدا کرلیتے۔ کیونکہ جو فرد یا قوم تکذیب کے راستے پر چل نکلتی ہے تو وہ واضح سے واضح بات پر بھی کوئی نہ کوئی توجیہ پیدا کرلیتی ہے۔ چناچہ قرآن کریم نے سورة الحجر آیات 14۔ 15 میں اس کی ایک مثال دی ہے۔ وَلَوْ فَـتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَائِ فَظَلُّوْا فِیْہِ یَعْرُجُوْنَ لَقَالُوْا اِنَّمَا سُکِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمُ مَّسْحُوْرُوْنَ ” اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیتے اور یہ اس پر چڑھنے لگتے تو یہ کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہورہا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔ “
Ayahs 26:200–203کَذٰلِکَ سَلَکْنٰـہُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ حَتّٰی بَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ۔ فَیَاْتِیَھُمْ بَغْتَۃً وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ فَیَقُوْلُوْا ھَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَ ۔ (الشعرآء : 200 تا 203)
(ہم مجرموں کے دلوں میں اس کو اسی طرح گزارتے ہیں۔ یہ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ عذاب الیم نہ دیکھ لیں۔ پس وہ ان پر اچانک آدھمکے گا اور وہ اس سے بیخبر ہوں گے۔ اس وقت کہیں گے کیا ہمیں کچھ مہلت ملے گی۔ )
قرآن کریم کی دعوت قبول نہ کرنے کا سبب
قرآن کریم کی حقانیت، فہم و افہام کے لیے اس کی سہولت، پہلی آسمانی کتابوں اور علماء بنی اسرائیل کی شہادت کے بعد قرآن کریم کے قاری کو یہ توقع پیدا ہوجاتی ہے کہ اب قرآن کریم کی دعوت کے قبول کرنے کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ اس کے مخاطب لوگ یقینا آگے بڑھ کر اسے ہاتھوں ہاتھ لیں گے، لیکن جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ قریش اور دیگر اہل مکہ کے انکار اور تمرد میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ ان کی مخالفت ضد اور عناد تک جا پہنچی ہے تو وہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ آخر اس کا سبب کیا ہے۔ قرآن کریم نے اسی حیرت واستعجاب کو دور کرنے کے لیے اس کے حقیقی سبب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب کسی شخص کا معدہ بگڑتا ہے اور نظام انہضام میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو رفتہ رفتہ اس کی یہ حالت ہوجاتی ہے کہ بہتر سے بہتر غذا اور مقوی اور مرغن اشیاء بھی نہ صرف اسے ہضم نہیں ہوتیں بلکہ اس کے اندر ہر اچھی سے اچھی غذا کے بارے میں ایک ایسی نفرت پیدا ہوجاتی ہے کہ اسے ان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں ہوتا۔ زندگی کی بقا کے لیے اگر زبردستی اسے کھانے پینے پر مجبور بھی کیا جاتا ہے تو وہ اس طرح کھاتا ہے جیسے اسے کوئی سزا دی جارہی یا زہر نگلنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ بالکل اسی طرح انسان کے دل و دماغ بھی بیمار ہوتے ہیں۔ ذکر سے دوری اور ہر بھلی بات سے مہجوری رفتہ رفتہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اس کے دین کی ہر بات سے سرکشی اور عناد کی کیفیت پیدا کردیتی ہے۔ وہ وحی الٰہی کو واہمہ خیال کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے رسول کو کبھی مجنون کہتا اور کبھی مسحور قرار دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اساطیر الاولین سمجھتا ہے، معجزات کو جادو قرار دے کر مسترد کردیتا ہے۔ یہ قریش اور دیگر لوگ ایسی ہی کیفیت سے دوچار ہیں۔ ان کے کانوں سے گزر کر دلوں تک اگر قرآن پہنچتا بھی ہے تو ایسے نہیں جیسے کوئی مرغوب چیز پہنچتی ہے بلکہ ایسے پہنچتا ہے جیسے سلاخ گزاری جاتی ہے اور ان کے دلوں میں اس سے مزید نفرت کی آگ بھڑکتی ہے۔ یہ لوگ قبولیتِ حق سے محروم ہوچکے ہیں۔ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے، یہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے تاوقتیکہ وہ عذاب الیم کو نہ دیکھ لیں۔ لیکن عذاب الیم اطلاع دے کر نہیں آتا کہ کوئی شخص اگر توبہ کرنا چاہے تو توبہ کرلے، وہ تو اچانک آدھمکتا ہے اور اس کے بعد قبولیتِ توبہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ جب اس عذاب کو دیکھیں گے تو پھر نہایت حسرت سے تمنا کریں گے کہ کاش انھیں کچھ مہلت دے دی جائے تو وہ ایمان لے آئیں۔ لیکن اب مہلت کا وقت گزر چکا ہوگا۔
Ayahs 26:204–207اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ۔ اَفَرَئَ یْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰـہُمْ سِنِیْنَ ۔ ثُمَّ جَآئَ ھُمْ مَّا کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ ۔ مَآاَغْنٰی عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یُمَتَّعُوْنَ ۔ (الشعرآء : 204 تا 207)
(کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ کیا آپ نے غور کیا کہ اگر ہم ان کو چند سال تک اور بہرہ مند رکھیں۔ پھر ان کے پاس وہی چیز آجائے جس سے ان کو ڈرایا جارہا ہے۔ تو ان کے کس کام آئے گا جس سے وہ بہرہ مند رکھے گئے تھے۔ )
عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو جواب
قرآن کریم کا اسلوب چونکہ خطابی اسلوب ہے اور قرآن کریم کی آیات خطبے کی صورت میں آپ ﷺ پر نازل ہورہی تھیں جسے آپ ﷺ لوگوں کو پڑھ کے سناتے تھے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ لوگوں کے سامنے آپ ﷺ یہ خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ تو تحریر اور تقریر یا خطبے میں یہ فرق ہوتا ہے کہ تحریر میں کوئی خلاء بھی مفہوم و مدعا کی وضاحت میں رکاوٹ بن جاتا ہے، لیکن تقریر اور خطبے میں سامعین کے رویئے کا حوالہ ان کا طرزعمل یا خطیب کا کوئی اشارہ ایسے خلاء کو بھرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ پیش نظر آیات میں بھی ایسی ہی کیفیت معلوم ہوتی ہے کہ قریش اور اہل مکہ کی مسلسل سرکشی اور بغض وعناد نے بالآخر دعوت کے اس مرحلے تک انھیں پہنچا دیا کہ آپ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کی وارننگ دینے لگے لیکن دیگر تباہ ہونے والی قوموں کی طرح بجائے اس کے کہ وہ اس انذار سے سہم جاتے، مزید دلیر ہو کر جلدی عذاب لانے کا مطالبہ کرنے لگے کہ اگر عناد اور سرکشی کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب آیا کرتا ہے تو پھر ہم پر عذاب آنے میں تاخیر کیوں ہے۔ چناچہ ان کے مطالبے کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وہ اس تاخیر کو عذاب کے وہم ہونے پر محمول کررہے ہیں کہ اگر عذاب کو آنا ہوتا تو اب تک آچکتا، یہ محض ڈراوا ہے جس سے ہمیں ڈرایا جارہا ہے، حقیقت کچھ نہیں۔ لیکن وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ عذاب میں تاخیر تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رحمت ہے جس سے انھیں سنبھلنے کا موقع دیا جارہا ہے۔ اگر ان کا رویہ نہ بدلا اور قبولیتِ حق کے راستے سے ان کا انحراف اسی طرح جاری رہا تو یہ تاخیر ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ بالآخر انھیں اسی عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا جس سے انھیں ڈرایا جارہا ہے۔
Ayahs 26:208–209وَمَآ اَھْلَـکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ اِلاَّ لَھَا مُنْذِرُوْنَ ۔ ذِکْرٰی قف وَمَا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۔
(الشعرآء : 208، 209)
(اور ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر اس کے لیے پہلے ڈرانے والے بھیجے۔ یاددہانی کے لیے، اور ہم ظالم نہیں ہیں۔ )
قریش کو تنبیہ
یہ آیت قریش کے لیے ایک طرح سے تنبیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے جو اس نے قوموں کے معاملے میں خود اختیار فرمائی ہے کہ وہ ہر قوم کی طرف انذار کرنے والوں کو بھیجتا ہے۔ وہ انھیں خون جگر پی پی کر انتہائی ناموافق حالات میں بھی شب و روز یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے ایک مکلف مخلوق کے طور پر پیدا فرمایا ہے۔ تمہیں قسم قسم کی نعمتوں کے ساتھ ساتھ حواس اور عقل سے بھی بہرہ ور کیا ہے جبکہ کسی اور مخلوق کو یہ نعمتیں عطا نہیں فرمائی گئیں۔ مقصد اس کا صرف یہ ہے کہ تم اپنے مقصد تخلیق کو سمجھو، زندگی کے مقاصد کو پہچانو، تمہاری نفسانی خواہشات اور تمہارے مفادات کی ہوس تمہیں بار بار راہ راست سے ہٹانے کی کوشش کریں گے لیکن تمہاری حقیقی منزل کی یاددہانی کے لیے اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے رسول بھیجے اور کتابیں اتاری ہیں تاکہ تم اپنے مقصدزیست سے انحراف نہ کرو۔ اور اگر بھول گئے ہو تو تمہیں ازسرنو یاددہانی کرائی جائے، لیکن اگر ان تمام کاوشوں کے بعد بھی کوئی قوم یاددہانی کو قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے اور جو شخص یہ حق نصیحت ادا کرتا ہے اس کی دشمنی پر اتر آتی ہے، تو پھر ایسی قوم کو اللہ تعالیٰ مٹا دیتا ہے اور نئی قوم کو اسی جگہ اٹھا کھڑا کرتا ہے۔ اور یہ بار بار رسولوں کا یاددہانی کے لیے آنا اور حق نصیحت ہر طرح کے حالات میں ادا کرنا یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ رحیم ہے۔ لیکن جو قوم کسی طرح بھی راہ راست پر آنے کو تیار نہیں ہوتی تو پھر وہ اس کو عذاب کے ذریعے مٹا دیتا ہے، کیونکہ وہ عادل بھی ہے۔ اس طرح سے قریش کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ سنت الٰہی کے مطابق ایک منذر انذار کے لیے آچکا ہے۔ اگر تم نے اس کی دعوت کو قبول نہ کیا تو لازماً اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کا ظہور ہوگا اور تمہیں دنیا سے مٹا دیا جائے گا۔ اور یہ کوئی ظلم نہیں ہوگا بلکہ عین عدل ہوگا۔ کیونکہ جب کوئی قوم کارآمد ہونے کی بجائے جھاڑ جھنکار بن جاتی ہے یا صحیح پھل دینے کی بجائے خاردار جھاڑیوں کی شکل اختیار کرلیتی ہے تو اسے باغبان اکھاڑ پھینکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی اپنی زمین کی کھیتی میں دیر تک ایسی خاردار جھاڑیاں برداشت نہیں کرتا جو نوع انسانی کے لیے اذیت کا باعث ہوں۔
Ayah 26:210وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیٰـطِیْنُ ۔ (الشعرآء : 210)
(اس کو شیاطین لے کر نہیں اترے ہیں۔ )
مخالفین کے الزام کی تردید
اس سے پہلے آیت 92 میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ قرآن کریم رب العالمین کا نازل کردہ ہے اور اسے لے کر روح الامین آنحضرت ﷺ کے قلب اطہر پر اترے ہیں۔ اب اسی بات کا منفی پہلو بیان کیا جارہا ہے اور اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ قریش نبی کریم ﷺ کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے جو الزامات لگاتے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ محمد ﷺ جو حیرت انگیز کلام پیش کررہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے بلکہ اس کی تأثیر اور اعجاز کی وجہ یہ ہے کہ اس کلام کے نزول میں شیاطین شامل ہیں۔ جس طرح عام کاہنوں پر شیاطین اپنا کلام القاء کرتے ہیں، اسی طرح محمد ﷺ پر بھی شیاطین اس کلام کو القاء کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس کلام مبین کو شیاطین لے کر نہیں اترے بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے جسے روح الامین لے کر آتے ہیں۔
Ayahs 26:211–212وَمَا یَنْبَغِیْ لَھُمْ وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ۔ اِنَّھُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ ۔
(الشعرآء : 211، 212)
(نہ ان کے لیے لائق ہے اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں۔ وہ تو اس کی سماعت سے بھی معزول کیے جا چکے ہیں )
تردید پر پہلی دلیل
یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں یہ شیطانی کلام نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ قرآن کریم میں جو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں وہ شیطانوں کے لیے کسی طرح مناسب نہیں ہیں۔ عرب کی اکثر بستیوں میں کاہن موجود تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ شیاطین سے ربط و ضبط رکھتے ہیں اور شیاطین انھیں بہت ساری باتیں القاء کرتے ہیں۔ اس لیے اگر یہ دیکھنا ہو کہ شیاطین کس طرح کی باتیں پسند کرتے ہیں اور کون سی باتیں انھیں زیب دیتی ہیں اور وہ ان سے دلچسپی رکھتے ہیں تو کسی بھی کاہن سے مل کے دیکھ لیجیے کبھی بھی آپ کو کسی کاہن کی زبان سے خدا پرستی اور خدا ترسی کی تعلیم سننے کو نہیں ملے گی۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی کاہن نے شرک اور بت پرستی سے روکا ہو، آخرت کی بازپرس کا خوف دلایا ہو، ظلم اور بدکاری اور بداخلاقیوں سے منع کیا ہو، نیکوکاری اور راست بازی اور خلق خدا کے ساتھ احسان کی تلقین کی ہو، ان کا مزاج تو لوگوں میں فساد پیدا کرنا، برائیوں کی طرف مائل کرنا، گھروں کو اجاڑنا اور زندگی میں الجھنیں اور اڑچنیں پیدا کرنا ہے۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ کہاں قرآن کریم کی تعلیم اور کہاں شیاطین کی باتیں ان کا آپس کا کیا مقابلہ اور باہمی کیا نسبت ؟
اور یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن کریم کا مقصد اور مشن اور شیاطین کے مقصد اور مشن میں بنیادی فرق ہے۔ بلکہ دونوں ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ شیاطین ایک ایسا کلام اتار کر جو ان کے اپنے مقصد کے خلاف ہو، آخر اپنی سلطنت برباد کیوں کریں گے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اپنے وقت کے فقیہوں اور فریسیوں کے جواب میں یہی بات فرمائی تھی۔ جب انھوں نے آپ کے معجزات کے اثر کو مٹانے کے لیے عوام میں یہ پھیلانا شروع کیا کہ یہ بدروحوں کو لوگوں کے اندر سے نکالنے کا جو کرشمہ دکھاتے ہیں یہ بھوتوں کے سردار بعلزبول کی مدد سے دکھاتے ہیں۔ ان کے جواب میں سیدنا مسیح (علیہ السلام) نے جو کچھ فرمایا وہ انجیل کے الفاظ میں اس طرح سے ہے۔
” لیکن ان میں سے بعض نے کہا یہ تو بدروحوں کے سردار بعلزبول کی مدد سے یہ روحوں کو نکالتا ہے… مگر اس نے یعنی حضرت مسیح (علیہ السلام) نے ان کے خیالات کو جان کر ان سے کہا جس سلطنت میں پھوٹ پڑے وہ ویران ہوجاتی ہے اور جس گھر میں پھوٹ پڑے وہ برباد ہوجاتا ہے۔ اور اگر شیطان بھی اپنا مخالف ہوجائے تو اس کی سلطنت کس طرح قائم رہے گی ؟ (لوقا : 16۔ 18) بعینہ یہی بات قرآن کریم نے مَا یَنْبَغِیْ لَھُمْ کے دو لفظوں میں فرما دی ہے۔
دوسری دلیل
قرآن کریم شیطانی کلام نہیں ہوسکتا، اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ شیاطین اگر یہ کام کرنا بھی چاہیں تو یہ ان کے بس کا روگ نہیں ہے کیونکہ شیطان کی ایک فطرت ہے اور وہ اس سے ابا نہیں کرسکتا۔ اس کی کاوشوں کا ایک ہدف ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی جن مقاصد کو بروئے کار لانے کے لیے دنیا میں آتے ہیں اور جن بنیادوں پر اپنے ماننے والوں کی تربیت کرتے ہیں اور جو صفات ان کے اندر پیدا کرتے ہیں شیطان ان میں سے ہر چیز کو الٹ ڈالنا، ان کے برعکس صفات پیدا کرنا، اخلاق کی بجائے بداخلاقی کو فروغ دینا، نیکوکاری اور راست بازی کی بجائے برائی اور خیانت کو عام کرنا، گھروں کو بسانے کی بجائے اجاڑنا اور اللہ تعالیٰ کی زمین کو فساد سے بھر دینا اس کی اصل منزل ہے، یہ شیطنت کی فطرت بھی ہے اور شیاطین کے اہداف بھی ہیں۔ تو ان سے کیسے اس بات کا امکان ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی اس فطرت کو بدل دیں اور اپنے اہداف کو تبدیل کردیں۔ جس طرح خاردار جھاڑی کو کانٹوں سے بیگانہ نہیں رکھا جاسکتا اور ببول کے درخت پر کبھی پھول نہیں کھل سکتے اور زہر کبھی تریاق میں تبدیل نہیں ہوسکتا، اسی طرح رسالت اور شیطنت کے مقاصد یکساں نہیں ہوسکتے، دونوں کی فطرت ایک نہیں ہوسکتی۔ اس لیے فرمایا گیا کہ اگر شیاطین یہ کام کرنا بھی چاہیں تو نہیں کرسکتے۔
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم اپنی تعلیم کی بلندی و پاکیزگی اور اپنے مضامین کا ربط و ضبط اور انسانی فطرت کا لحاظ اور حقائق کے علم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ پایہ کی جو فصاحت و بلاغت رکھتا ہے اور اپنے اسلوب میں اعجاز اور ایجاز کی جو شان رکھتا ہے اس کے حوالے سے قرآن کریم نے انسانوں کے ساتھ ساتھ جنوں کو بھی بار بار چیلنج کیا کہ وہ اس قرآن کی مثال لائیں۔ لیکن ساتھ ہی واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ وہ اس کی مثال کبھی نہیں لاسکتے۔ اس حوالے سے بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس طرح کا کلام تیار کرنا شیاطین کے بس کی بات نہیں کیونکہ وہ نہ اس کی صلاحیت رکھتے ہیں، نہ ان کی فطرت اسے قبول کرتی ہے اور نہ ان کی کاوشوں کا ہدف اور ان کا مشن اس کی اجازت دیتا ہے۔
تیسری دلیل
اور تیسری دلیل اس پر یہ دی گئی ہے کہ وہ اس کی سماعت تک سے دور رکھے گئے ہیں یعنی اس قرآن کے القا میں دخیل ہونا تو درکنار جس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے روح الامین اس کو لے کر چلتے ہیں اور جس وقت محمد ﷺ کے دل پر وہ اس کو القا کرتے ہیں اس پورے سلسلے میں کسی جگہ بھی شیاطین کو کان لگا کر سننے تک کا موقع نہیں ملتا۔ اور مزید یہ کہ قرآن کریم ملأِ اعلیٰ کی باتیں کرتا ہے، عالم غیب کے اسرار منکشف کرتا ہے اور پیغمبر کی دعوت کے تسلسل کے ساتھ ساتھ ہدایات جاری فرماتا ہے، ضرورت کے مطابق رہنمائی مہیا کرتا ہے۔ ان میں سے کسی بات تک بھی شیاطین کے پہنچنے کا کوئی امکان نہیں۔ کیونکہ قرآن کے نزول سے پہلے سورة جن سے معلوم ہوتا ہے کہ شیاطین آسمانوں کے قریب آتے جاتے تھے، وہاں فرشتوں کی گفتگو سے بعض دفعہ انھیں بعض آئندہ ہونے والے فیصلوں کی خبر ہوجاتی تھی اور ان میں کچھ جھوٹ شامل کرکے کاہنوں تک پہنچاتے تھے اور اس طرح سے زمین پر گمراہی کا ایک کاروبار چلتا تھا، لیکن سورة جن میں خود جنات نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اب آسمان کو پہروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا ہے۔ اب اگر کوئی قریب جا کر کان لگانے کی کوشش کرے گا تو ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔ ایسی صورتحال میں ان کے لیے کیسے ممکن ہے کہ وہ قرآن کریم جیسا کلام اللہ تعالیٰ کے نبی پر نازل کرسکیں۔
Ayah 26:213فَلاَ تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَفَتَـکُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَ ۔ (الشعرآء : 213)
(پس اے پیغمبر ! اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو مت پکارو ورنہ آپ بھی سزا پانے والوں میں شامل ہوجاؤ گے۔ )
خطاب آنحضرت ﷺ سے، عتاب مخالفین پر
یہ اور آگے کی چند آیات آنحضرت ﷺ کی طرف التفات کی نوعیت کی ہیں۔ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ بعض دفعہ کسی برائی کی شناعت کو نمایاں کرنے کے لیے اپنے پیغمبر کو اس برائی سے روکتا ہے اور ارتکاب کی صورت میں عذاب الیم کی دھمکی دیتا ہے۔ لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ معاذاللہ آنحضرت ﷺ سے اس برائی کے ارتکاب کا اندیشہ ہوگیا تھا اور آپ ﷺ کو دھمکا کر اسے روکا گیا۔ بلکہ مقصود یہ ہوتا ہے کہ یہ برائی اور یہ جرم اللہ تعالیٰ کے یہاں اس قدر قابل نفرت اور شدید عذاب کا مستحق ہے کہ اگر پیغمبر بھی اس کا ارتکاب کرے جس کا کوئی امکان نہیں تو وہ بھی سزا سے نہ بچ سکے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے یعنی کسی اور کو معبود بنانے سے روکنے کے لیے آنحضرت ﷺ سے خطاب فرمایا گیا۔ لیکن اس میں روئے سخن قوم ہی کی طرف ہے۔ لیکن آپ ﷺ سے خطاب کا مطلب یہ ہے کہ اگر بالفرض آپ ﷺ بھی بندگی کی راہ سے بال برابر ہٹ جائیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو معبود کی حیثیت سے پکارنے لگیں تو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ چہ جائیکہ کوئی اور شخص اس جرم کا ارتکاب کرے اور پھر وہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت نہیں آئے گی تو اسے اپنے دماغ کا علاج کرنا چاہیے۔
Ayahs 26:214–215وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَـکَ الْاَقْرَبِیْنَ ۔ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔
(الشعرآء : 214، 215)
(اور اپنے قریبی خاندان والوں کو ڈرائو۔ اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ آپ کی پیروی اختیار کریں ان کے لیے اپنی شفقت کے بازو جھکائے رکھیں۔ )
قریبی خاندان کو انذار کا حکم کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں سب برابر ہیں
اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کی عظمت و اہمیت کی وجہ سے اس سے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کیخلاف بغاوت ہے جس کا ارتکاب کوئی بڑی سے بڑی شخصیت بھی کرے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکتی۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی صورت میں جو عذاب آسکتا ہے اور جس سے کسی کو بھی مفر نہیں اس سے اپنے قریبی خاندان والوں کو بھی خبردار کرو، کیونکہ اگر شرک کی سزا سے اللہ تعالیٰ کے رسول کو بالا نہیں رکھا گیا تو اور کوئی شخص کیسے بچ سکتا ہے چاہے خود وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے قریبی خاندان ہی سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو۔ اس کے قانون میں کسی کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ گمراہی اور بدعملی پر خدا کے عذاب کا خوف سب کے لیے یکساں ہے۔ اس کی بارگاہ میں عقیدہ و عمل کے اعتبار سے سب برابر ہیں۔ جزا اور سزا میرٹ پر ہوگی، نسب اور نسبت پر نہیں ہوگی۔
معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلے اپنے دادا کی اولاد کو ایک دعوت پر جمع کیا اور ایک ایک کو نام لے لے کر کہا، کہ ” اے بنی عبدالمطلب، اے عباس، اے صفیہ، اے فاطمہ محمد ﷺ کی بیٹی، تم لوگ آگ کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کرلو، میں اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے تم کو نہیں بچا سکتا۔ البتہ میرے مال میں سے تم لوگ جو کچھ چاہو مانگ سکتے ہو۔ “ پھر ایک مناسب وقفے کے بعد آپ ﷺ نے صفا پہاڑی کے سب سے اونچے مقام پر کھڑے ہو کر پکارا، یا صباحاہ (ہائے صبح کا خطرہ) ، اے قریش کے لوگو، اے بنی کعب بن لؤی، اے بنی مُرہ، اے آل قصَی، اے بنی عبدمناف، اے بنی عبدشمس، اے بنی ہاشم، اے آل عبدالمطلب، اس طرح قریش کے ایک ایک قبیلے اور خاندان کا نام لے لے کر آپ ﷺ نے آواز دی۔ عرب میں قاعدہ تھا کہ جب صبح تڑکے کسی اچانک حملے کا خطرہ ہوتا تو جس شخص کو بھی اس کا پتہ چل جاتا، وہ اسی طرح پکارنا شروع کردیتا اور لوگ اس کی آواز سنتے ہی ہر طرف سے دوڑ پڑتے۔ چناچہ حضور ﷺ کی اس آواز پر سب لوگ گھروں سے نکل آئے اور جو خود نہ آسکا اس نے اپنی طرف سے کسی کو خبر لانے کے لیے بھیج دیا۔ جب سب لوگ جمع ہوگئے تو بقول مسدس حالی :
یہ فرمایا سب سے کہ اے آل غالب
سمجھتے ہو تم مجھ کو صادق کہ کاذب
کہا سب نے قول آج تک کوئی تیرا
کبھی ہم نے جھوٹا سنا اور نہ دیکھا
کہا گر سمجھتے ہو تم مجھ کو ایسا
تو باور کرو گے اگر میں کہوں گا
کہ میں خدا کے سخت عذاب آنے سے پہلے تم کو خبردار کرتا ہوں، اپنی جانوں کو اس کی پکڑ سے بچانے کی فکر کرو، میں خدا کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا، قیامت میں میرے رشتہ دار صرف متقی ہوں گے، ایسا نہ ہو کہ دوسرے لوگ نیک اعمال لے کر آئیں اور تم لوگ دنیا کا وبال سر پر اٹھائے ہوئے آئو۔ اس وقت تم پکارو گے یامحمد ﷺ مگر میں مجبور ہوں گا کہ تمہاری طرف سے منہ پھیر لوں، البتہ دنیا میں میرا اور تمہارا خون کا رشتہ ہے اور یہاں میں تمہارے ساتھ ہر طرح کی صلہ رحمی کروں گا۔ اس مضمون کی متعدد روایات احادیث کی تمام معتبر کتابوں میں موجود ہیں اور جلیل القدر صحابہ نے انھیں روایت کیا ہے۔
قریبی عزیزوں کو انذار کرنے کے حکم کی وجہ ایک اور بھی تھی، وہ یہ کہ تمام انبیاء۔ کی یہ سنت رہی ہے کہ انھوں نے اپنے زمانہ کے قائدین کو انذار کیا ہے۔ عوام کی طرف اس وقت توجہ فرمائی جب قائدین نے اپنے رویئے سے مایوس کردیا۔ نبی کریم ﷺ نے بھی اسی طریقے پر اپنے قریبی خاندان کو سب سے پہلے دعوت دی۔ کیونکہ وہ بیت اللہ کی تولیت اور اہل عرب کی دینی و سیاسی قیادت کا منصب اپنے پاس رکھتے تھے۔ چناچہ قرابت اور سیاست دونوں کا تقاضا یہ تھا کہ آپ ﷺ ان کو آنے والے خطرے سے آگاہ کریں۔ اگر وہ اصلاح قبول کرلیتے تو دوسروں کی اصلاح کا معاملہ بہت آسان ہوجاتا۔ لیکن حقیقی قدر و قیمت بہرحال اللہ تعالیٰ اور رسول کی نگاہ میں ان لوگوں کی تھی جو اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو قبول کرتے تھے۔ اس لیے بطورخاص ان کے بارے میں ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ آپ ﷺ کی پیروی کریں ان کے لیے اپنی شفقت کے بازو جھکائے رکھیں، یعنی جس طرح کسی خطرے کو محسوس کرکے مرغی اپنے بچوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپائے رکھتی ہے، اسی طرح آپ ﷺ ان لوگوں کو اپنی شفقت کے بازوئوں کے نیچے چھپائے رکھیں اور مسلسل ان کی ایسی تربیت کریں کہ کوئی غفلت کے سبب سے اس عذاب کی زد میں نہ آجائے جس کی مسلسل خبر دی جارہی ہے۔
Ayah 26:216فَاِنْ عَصَوْکَ فَـقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓ ئٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ (الشعرآء : 216)
(اگر وہ آپ کی نافرمانی کریں تو ان سے کہہ دیجیے کہ جو کچھ تم کرتے ہو میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ )
آیت کے مفہوم کی وضاحت
اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کے قریبی عزیزوں میں سے جو لوگ آپ کے انذار کی پرواہ نہ کریں تو آپ ان سے صاف الفاظ میں اعلانِ براءت کردیں کہ جو کچھ تم لوگ کررہے ہو، میں اس کی ذمہ داری سے بری ہوں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے والی چیز اس راستے پر چلنا ہے، میں جس کی دعوت دے رہا ہوں۔ اور ان عقائد و اعمال کا اتباع کرنا ہے جس کا میں حکم دے رہا ہوں۔ اس سے ہٹ کر میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس ارشاد کا تعلق صرف رشتہ داروں سے نہ ہو بلکہ سب کے لیے عام ہو، جن میں رشتہ دار بھی شامل ہیں اور عام لوگ بھی۔ کہ جو لوگ بھی آپ ﷺ کا اتباع کریں تو آپ ﷺ ان کے ساتھ نہایت ہمدردی اور غمگساری کا معاملہ کریں کیونکہ وہی لوگ آپ کا اثاثہ ہیں۔ لیکن جو لوگ ایمان لانے کے باوجود آپ کی نافرمانی کریں، انھیں خبردار کردیں کہ میں تمہارے اعمال کی ذمہ داری سے بری ہوں، یعنی میں تمہاری شفاعت نہیں کروں گا۔ اگرچہ بعض اہل علم نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو ان کے اعمال سے براءت کے اظہار کا حکم دیا گیا ہے، خود ان لوگوں سے نہیں۔ ممکن ہے قیامت کے دن وہ اپنی سزا پالینے کے بعد آنحضرت ﷺ کی شفاعت کے مستحق ٹھہریں اور نجات پاجائیں۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 26:217–220وَتَوَکَّلْ عَلَی الْعَزِیْزِالرَّحِیْمِ ۔ الَّذِیْ یَرٰ کَ حِیْنَ تَـقُوْمُ ۔ وَتَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیْنَ ۔ اِنَّـہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (الشعرآء : 217 تا 220)
(اور بھروسہ کیجیے خدائے عزیزورحیم پر۔ جو آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے جس وقت آپ کھڑے ہوتے ہیں۔ اور دیکھ رہا ہوتا ہے آپ کی آمد وشد کو سجدہ کرنے والوں میں۔ بیشک وہ سننے والا ہے جاننے والا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
نافرمانوں سے اعلانِ براءت کے بعد یقینا دشواریوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، لیکن آپ ﷺ کے لیے اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ آپ ﷺ اس ذات پر بھروسہ کیجیے جو عزیز بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ اس نے پہلے بھی ہر مشکل وقت میں آپ ﷺ کو سہارا دیا ہے اور آئندہ کے مراحل میں بھی وہ آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی ہر طرح مدد فرمائے گا۔ وہ چونکہ عزیز ہے اس لیے جو کچھ وہ کرنا چاہے کوئی اس کا ہاتھ نہیں روک سکتا۔ جس کی پشت پر اتنی بڑی طاقت ہو کہ کوئی اسے چیلنج نہ کرسکے اسے دنیا میں کوئی نیچا نہیں دکھا سکتا۔ وہ چونکہ رحیم بھی ہے تو آپ کو اس بات کا اطمینان ہونا چاہیے کہ آپ اس کے راستے میں جو تکلیفیں اٹھائیں گے اور جو قربانیاں دیں گے وہ اس کا صلہ اپنی رحمت سے عطا کرے گا اور اس راستے میں کی جانے والی کاوشیں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔
یہ کبھی گمان مت کرنا کہ جس ذات عزیز کی خاطر اور اس کے حکم کی تعمیل میں شب و روز محنت کرتے اور دکھ اٹھاتے ہیں وہ آپ سے بہت دور ہے۔ نہ جانے آپ کے حالات کی صحیح تفصیل اس تک پہنچتی بھی ہے یا نہیں اور آپ پر جو کچھ گزرتی ہے اسے اس سے آگاہی ہوتی بھی ہے یا نہیں۔ وہ تو آپ کے اس حد تک قریب ہے اور اس حد تک آپ اس کی نگاہوں میں ہیں کہ جب آپ تہجد کے لیے اٹھتے ہیں اس سے جب دعا و مناجات کرتے ہیں اور آپ پر ایمان لانے والے بھی شب خیزی میں اپنی جان لڑاتے ہیں تو وہ برابر آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اور آپ اپنے ماننے والوں کی شب خیزی و دعاومناجات کی کیفیت کو دیکھنے کے لیے ان میں آتے جاتے اور نگرانی کرتے ہیں آپ اس وقت بھی اس کی نگاہوں میں ہوتے ہیں۔ یوں تو دنیا میں کوئی مخلوق بھی اس کی نگاہوں سے اوجھل نہیں، کوئی پتا زمین پر گرتا ہے یا کوئی شگوفہ پھوٹتا ہے تو وہ اس کی نگاہوں میں ہوتا ہے۔ تمام کائنات کی وہ اس طرح نگرانی کرتا ہے کہ نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ وہ سوتا ہے اور نہ کوئی چیز اس کی نگاہوں سے غائب ہوتی ہے۔ لیکن یہاں جس دیکھنے کا ذکر ہورہا ہے اس سے مراد نہ نگرانی کا دیکھنا ہے اور نہ ربوبیت کا دیکھنا۔ نہ اس سے حفاظت کی نگاہ مراد ہے نہ اعمال کے جائزے کی۔ بلکہ اس سے مراد محبت، نصرت اور تائید کا دیکھنا ہے اور یہ ایک ایسی نگاہ ہے جسے نگاہ محبت کہنا چاہیے۔ جس کی معمولی رمق حاصل کرنے کے لیے عشق کی دنیا کا ہر فرد متاع زیست قربان کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اور اگر اس کا کوئی شمہ بھی نصیب میں آجائے تو وہ قسمت کی یاوری پر پھولا نہیں سماتا۔ اس کے لیے یہی بات فخرومباہات کا باعث ہوتی ہے کہ میں کسی کی نگاہ میں تو ہوں۔ سچ کہا شاعر نے :
وہ سرسری ہی دیکھتے ہیں، دیکھتے تو ہیں
ہم خوش ہیں کہ ہیں کسی کی نگاہ میں
یہاں بھی درحقیقت یہی تصور دینا ہے کہ آپ اس طرح اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں رہتے ہیں کہ اس کی رحمت آپ پر قربان ہوتی رہتی ہے۔ اور جو وقت اہل دنیا کی غفلت کا ہے، آپ ﷺ کی اپنے اللہ سے محبت جس طرح اس وقت آپ کو اٹھا کھڑا کرتی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل و کرم، عنایت و رحمت اور محبت و قدردانی کے اظہار کی بارش ہونے لگتی ہے۔ جب آپ کے مقام و مرتبہ کا یہ عالم ہے تو آپ کو دشمنوں کی مخالفت و معاندت کی کیا پرواہ ہے۔
حِیْنَ تَـقُوْمُ کی تأویل
حِیْنَ تَـقُوْمُ کی تأویل میں مفسرین سے مختلف اقوال منقول ہیں اور ان میں سے کوئی قول بھی غلط نہیں۔ لیکن اگلی آیت کے قرینے کو دیکھتے ہوئے یہ بات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے کہ اس سے قیام اللیل مراد لیا جائے۔ اور انبیائے کرام اور سلف صالحین کی کی زندگیاں بھی اسی پر دلالت کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ انبیائے کرام کی دعوت کے سلسلے میں جیسے جیسے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے اور مخالفین کی مخالفت میں شدت آتی گئی ہے ویسے ویسے ان کے قیام اللیل، شب بیداری اور دعا و مناجات میں اضافہ ہوتا چلا گیا ہے۔ کیونکہ یہی وہ وقت ہے جس میں تعلق خاطر کی بنیاد پڑتی ہے اور سیرت و کردار کی جہتیں استوار ہونے لگتی ہیں اور مخالفین کی مخالفتوں سے زخمی دلوں کو مرہم ملنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے کا مسافر تازہ دم ہو کر دن کی سرگرمیوں میں اپنا رول ادا کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے۔
جب بھی کوئی پروردگار کو پکارتا ہے تو وہ اس کی پکار کو سنتا ہے اور اس کے پس منظر، تہ منظر اور پیش منظر کو جانتا ہے، لیکن سحرخیزی کی آہیں اور قیام اللیل کی مناجاتیں خصوصی ہدف اور اثر رکھتی ہیں۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات سمیع اور علیم کا ذکر فرمایا ہے تاکہ یہ معلوم رہے کہ اس وقت کی دعائیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔
Ayah 26:221ھَلْ اُنَبِّئُـکْمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰـطِیْنُ ۔ تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِـیْمٍ ۔ یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَکْثَرُھُمْ کٰذِبُوْنَ ۔ (الشعرآء : 221 تا 223)
(کیا میں تمہیں بتائوں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں۔ وہ اترتے ہیں ہر جھوٹ گھڑنے والے بدکار پر۔ وہ اپنے کان (شیطانوں کی طرف) لگائے رکھتے ہیں، اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں۔ )
شیاطین کن پر اترتے ہیں
گزشتہ آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ مخالفین آنحضرت ﷺ پر الزام لگاتے تھے کہ آپ ﷺ ایک کاہن ہیں، پیغمبر نہیں۔ جس طرح کاہنوں پر شیاطین غیب کی باتیں القاء کرتے ہیں، اسی طرح آپ پر بھی شیاطین یہ کلام القا کرتے ہیں جن کو آپ ہمارے سامنے وحی الٰہی کے نام سے پیش کرتے ہیں۔ چناچہ پروردگار نے گزشتہ آیات میں واضح فرمایا کہ قرآن کریم کا منبع ومصدر کیا ہے اور اس کے واسطہ نزول کے محفوظ ہونے کا عالم کیا ہے۔ اور جس پر یہ کلام نازل ہوا ہے اس کا پاکیزگی اور طہارت میں کیا مقام و مرتبہ ہے۔ جو شخص ان باتوں کو نگاہ میں رکھے گا وہ کبھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ آنحضرت ﷺ کاہن ہیں اور آپ ﷺ پر یہ کلام شیطانی القاء ہے۔ اب خلاصہ بحث کے طور پر مخالفین کو خطاب کرکے فرمایا جارہا ہے کہ اگر تم واقعی جاننا چاہتے ہو کہ شیاطین کن پر اترتے ہیں تو آئو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ شیاطین کیسے لوگوں پر اترا کرتے ہیں۔ یہ درحقیقت کاہنوں کی تصویر ہے جن کا دعویٰ یہ ہے کہ ان کے پاس شیاطین آتے ہیں۔ پیش نظر آیات میں ان کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ ان کی پہلی صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ یہ اَفَّاک ہوتے ہیں جس کا معنی ہے جھوٹا، جھوٹ گھڑنے والا، لاغی اور لپاٹیا۔ یعنی یہ عام لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لیے جھوٹ گھڑتے ہیں اور پھر اس دعوے کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ کہ یہ باتیں ان پر غیب سے القا ہوئی ہیں۔ ان کی دوسری صفت اَثِـیْمٍ بیان کی گئی ہے، اس کا معنی ہے گنہگار۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ نیکی سے دور اور گناہ کے رسیا ہوتے ہیں۔ انھیں اچھائی برائی میں کوئی تمیز نہیں ہوتی، حلال و حرام میں فرق نہیں کرتے، زندگی ان کی غلط کاموں اور گناہ کی باتوں میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے۔ اور تیسری صفت ان کی یہ بیان ہوئی ہے کہ ان کا ذریعہ علم شیاطین سے جھوٹ موٹ باتیں سننا اور پھر اپنی طرف سے بہت سے جھوٹ ملا کر لوگوں کے کانوں میں پھونکنا ہیں۔ اس کی تشریح ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے جو بخاری نے حضرت عائشہ ( رض) سے روایت کی ہے کہ ” بعض لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے کاہنوں کے بارے میں سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ کچھ نہیں۔ انھوں نے عرض کیا، یارسول اللہ ! بعض اوقات تو وہ ٹھیک بات بتا دیتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا وہ ٹھیک بات جو ہوتی ہے، اسے کبھی کبھار جن لے اڑتے ہیں اور جا کر اپنے دوست کے کان میں پھونک دیتے ہیں۔ پھر وہ اس کے ساتھ جھوٹ کی بہت سی آمیزش کرکے ایک داستان بنا لیتے ہیں۔ “ ان لوگوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ احمق لوگ جب کسی معاملے میں غیب کی باتیں معلوم کرنے کے لیے ان کے پاس جاتے ہیں تو یہ لوگ کچھ عملیاتِ سفلیہ کے ساتھ مراقبہ کرتے ہیں اور پھر ایک مقفیٰ کلام کی صورت میں (جو اکثر بالکل بےمعنی یا ذومعانی ہوتا ہے) اپنا الہام پیش کرتے ہیں کہ یہ ان پر غیب سے فلاں جن نے القاء کیا ہے۔ ان کے اس مراقبہ کو یہاں القاء سمع سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس لیے وہ مراقبہ میں اس طرح بیٹھتے ہیں گویا ہاتفِ غیب سے کوئی بات سننے کے لیے کان لگائے ہوئے ہیں۔