26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsروح القرآن

Ayah 26:110

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

فَاتَّـقُواللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ (الشعرآء : 110) (تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ ) اس آیت کے تکرار کا سبب ایک ہی رکوع میں اس آیت کا دوبارہ آنا بعض دفعہ وجدان پر گراں گزرتا ہے اور آدمی اسے تکرار سمجھ کر بدمزہ بھی ہوتا ہے، لیکن ایسا احساس قلت تدبر کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ ان آیات میں اس فقرے کی تکرار بےوجہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے یہ فقرہ لانے کا سبب یہ تھا کہ اس سے پہلے رسول امین کے حوالے سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی صداقت پر دلیل قائم کی گئی تھی۔ وہ دلیل چونکہ ناقابلِ انکار ہے اس لیے اس کے بعد فرمایا کہ ایسی واضح اور مضبوط دلیل کے بعد بھی اگر تم میری نبوت سے انکار کرتے ہو تو پھر اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اب دوبارہ اس فقرے کو اس لیے لایا جارہا ہے کہ اس سے پہلے دوسری دلیل بیان کی گئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ تمہاری طرف آنے والا پیغمبر ایسا بےغرض آدمی ہے کہ جس نے محض اصلاحِ خلق کے لیے اپنی زندگی وقف کردی ہے۔ اس کی زندگی کی ترجیحات بدل گئی ہیں، اس نے صرف اصلاحِ خلق کی خاطر دنیا کا ہر دکھ اٹھانا گوارا کرلیا ہے، حتیٰ کہ اپنا کاروبار، اپنے تعلقات اور اپنی تمام منفعتیں معرض خطر میں ڈال دی ہیں۔ تم اگر ایسے شخص کی نیت پر حملہ کرتے اور اس کی صداقت پر شبہ کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ میری اطاعت کرو۔ اس میں دراصل رسول کے مقام کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ مان لینے کو تو انسان مختلف لوگوں کو مانتا ہے۔ کسی کو کسی حیثیت سے مانتا ہے اور کسی کو کسی حیثیت سے۔ لیکن اس میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ جسے تم مان رہے ہو اس کی اطاعت کرنا بھی لازم ہو۔ اس لیے یہاں یہ بات واضح کی جارہی ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کا رسول مانو اور رسول ماننے کا مطلب یہ ہے کہ میری اطاعت بھی کرو، کیونکہ رسالت کے مفہوم میں چند تصورات شامل ہیں۔ 1 رسول وہ ہوتا ہے جو معصوم ہوتا ہے اور کبھی اس سے گناہ کا صدور نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ کی قدرت اس کی حفاظت کرتی ہے۔ 2 وہ رہنمائی میں کبھی غلطی نہیں کرتا، کیونکہ وہ جو حکم دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتی ہے۔ 3 اس کا قول و عمل اور پسند و ناپسند حجت اور قانون ہوتا ہے جس کا انکار کرنا کفر ہے۔ 4 اس کا طریق زندگی اسوہ حسنہ ہوتا ہے جس کی پیروی کرنا ضروری ہے۔ 5 اس کی اطاعت، اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور اس کی معصیت اللہ تعالیٰ کی معصیت ہے۔ یہ تصورات چونکہ رسالت کا حصہ ہیں، اس لیے اگر تم مجھے رسول مانتے ہو تو پھر ان تصورات کو بھی قبول کرو اور میری اطاعت کو بھی واجب جانو۔
Ayah 26:111

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

انھوں نے جواب دیا کہ کیا ہم تم پر ایمان لے لائیں، حالانکہ تمہاری پیروی صرف گھٹیا لوگ کررہے ہیں

قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لَـکَ وَاتَّـبَعَکَ الْاَرْذَلُوْنَ ۔ (الشعرآء : 111) (انھوں نے جواب دیا کہ کیا ہم تم پر ایمان لے لائیں، حالانکہ تمہاری پیروی صرف گھٹیا لوگ کررہے ہیں) خوئے بدرا بہانہ بسیار حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں آپ ( علیہ السلام) کی قوم کے متکبرین اور رئوسا نے جواب دیا کہ ہم آپ ( علیہ السلام) پر کیسے ایمان لاسکتے ہیں جبکہ تم پر ایمان لانے والے ایسے لوگ ہیں جو خاندانی لحاظ سے بڑے گھٹیا ہیں، مالی لحاظ بڑے مفلس اور گنگال ہیں، معاشرے میں انھیں کوئی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ رہے اونچے طبقہ کے بااثر اور خوشحال لوگ ان میں سے کوئی شخص بھی آپ ( علیہ السلام) کی دعوت پر ایمان نہیں لایا۔ اگر آپ ( علیہ السلام) کی دعوت میں کوئی وزن ہوتا تو قوم کے امراء، علماء، مذہبی پیشوا، معززین اور سمجھدار لوگ اسے قبول کرتے۔ لیکن ان میں سے تو کوئی بھی شخص آپ ( علیہ السلام) پر ایمان نہیں لایا، آپ ( علیہ السلام) کے پیچھے لگے ہیں تو ادنیٰ درجہ کے چند نادان لوگ جو کوئی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔ اب کیا ہم جیسے بلند پایہ لوگ ان بےشعور اور کمین لوگوں کے زمرے میں شامل ہوجائیں۔ جو کچھ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے امراء نے آپ ( علیہ السلام) سے کہا، ہر قوم کے مالداروں اور سرداروں نے ہمیشہ اپنی طرف آنے والے پیغمبروں سے اسی قسم کی باتیں کی ہیں۔ ان لوگوں کی سوچ یہ تھی کہ حق صرف وہ ہے جسے قوم کے بڑے لوگ حق مانیں، کیونکہ وہی عقل اور سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ رہے چھوٹے لوگ تو ان کا چھوٹا ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بےعقل اور ضعیف الرائے ہیں۔ ایسے لوگوں کا کسی پر ایمان لانا کیا اہمیت رکھتا ہے۔
Ayahs 26:112–115

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

کہا مجھے اس کی کیا خبر جو وہ کرتے رہے ہیں

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے، اگر تم سمجھو

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں مومنوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوں

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو بس ایک کھلا ڈرانے والا ہوں

قَالَ وَمَا عِلْمِیْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ اِنْ حِسَابُھُمْ اِلاَّ عَلٰی رَبِّیْ لَوْتَشْعُرُوْنَ ۔ وَمَـآ اَنَا بِطَارِدِالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ اِنْ اَنَا اِلاَّ نَذِیْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الشعرآء : 112 تا 115) (کہا مجھے اس کی کیا خبر جو وہ کرتے رہے ہیں۔ ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے، اگر تم سمجھو۔ اور میں مومنوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوں۔ میں تو بس ایک کھلا ڈرانے والا ہوں۔ ) طبقہ امراء کے معارضے کا جواب ان آیات میں طبقہ امراء کے معارضے کا جواب ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ شرافت و رذالت کا انحصار تو آدمی کے عمل و کردار پر ہے نہ کہ نسب و خاندان اور مال و جائیداد پر۔ اور نہ علم و دانش مال و دولت سے خریدے جاسکتے ہیں اور نہ ذہین لوگ ہمیشہ بڑے خاندانوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ مجھے کیا معلوم کہ اب تک ان کا عمل کیا رہا ہے۔ ان کے ماضی کا احتساب میرے رب کے ذمہ ہے، میرے سامنے تو ان کا حاضر ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے رب پر ایمان لائے ہیں اور اس سے ڈرنے والے ہیں۔ تم میں اگر شعور کی رمق ہوتی تو تم جس طرح شرافت و رذالت کو مال و دولت اور نام و نسب کے حوالے سے دیکھ رہے ہو، یہ خناس تمہارے ذہنوں میں نہ ہوتا اور لوگوں کی غریبی قبول حق میں تمہارے لیے حجاب نہ بنتی۔ تم یہ چاہتے ہو کہ میں ان غریبوں کو دھتکار دوں اور تمہیں اپنے قریب کروں اور اس طرح شاید تم ایمان لے آئو۔ ایمان کی دعوت سب کے لیے ہے۔ ہر غریب اور امیر اور چھوٹا اور بڑا اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔ کوئی امیر شخص اس لیے ہدایت سے دور نہیں رہ سکتا کہ غریب لوگ ہدایت کیوں قبول کررہے ہیں۔ اور نہ عنداللہ اس کا یہ عذر مسموع ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک اصل دولت قبولیتِ ایمان ہے۔ جو شخص اس غرض کے لیے میرے پاس آتا ہے وہی اسلام کا اصل سرمایہ ہے۔ میں یہ بےہودہ طرزعمل اختیار نہیں کرسکتا کہ جو لوگ میری بات نہیں مانتے، میں ان کے پیچھے پھرتا رہوں۔ اور جو میری بات مانتے ہیں انھیں دھکے دے کر نکال دوں۔ میں صرف نذیرمبین ہوں یعنی ایک بےلاگ اللہ تعالیٰ سے ڈرانے والا۔ میں نے اپنا فریضہ انذار ادا کردیا۔ جو شخص ایمان لے آیا، اس نے اپنی منزل کو پا لیا۔ اور جو ایمان نہیں لائے گا اس کی مسئولیت اس پر ہے۔
Ayah 26:116

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

ان سرداروں نے کہا، اے نوح ! اگر تم باز نہ آئے تو تم سنگسار ہو کر رہو گے

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَـنْـتَہِ یٰـنُوحُ لَـتَـکُوْنَنَّ مِنَ الْمُرْجُوْمِیْنَ ۔ (الشعرآء : 116) (ان سرداروں نے کہا، اے نوح ! اگر تم باز نہ آئے تو تم سنگسار ہو کر رہو گے۔ ) بحث کے میدان میں پسپا ہونے کے بعد رجم کی دھمکی بحث کے میدان میں پسپا ہونے کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے اپنی خفت مٹانے اور اپنی قوم کو سہارا دینے کے لیے کہا کہ اے نوح ! اگر تم نے اپنی تبلیغ و دعوت کے کام کو نہ روکا اور تم نے ایک ایک آدمی کو متاثر کرنے کی کوشش نہ چھوڑی تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ اب باتوں کا وقت گزر چکا ہے، اب ہم تمہیں مزید برداشت نہیں کرسکتے۔ تم یقینا ہمارے ہاتھوں سے سنگسار ہو کے رہو گے۔ قوم کے لب و لہجہ کی سختی اور شدت خود بول رہی ہے کہ وہ اس سے پہلے بھی دھمکیاں دے چکے اور سخت زبان استعمال کرچکے تھے۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے محسوس کرلیا کہ اب فیصلے کا وقت آپہنچا ہے، کفر اپنا آخری وار کر گزرنا چاہتا ہے۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلا دیئے۔
Ayahs 26:117–118

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعا کی، اے میرے رب ! میری قوم نے مجھے جھٹلادیا ہے،

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کردے اور مجھ کو اور میرے ساتھ جو اہل ایمان ہیں ان کو نجات دے دے

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ کَذَّبُوْنَ ۔ فَافْـتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْـنَـھُمْ فَـتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 117، 118) (حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعا کی، اے میرے رب ! میری قوم نے مجھے جھٹلادیا ہے، اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کردے اور مجھ کو اور میرے ساتھ جو اہل ایمان ہیں ان کو نجات دے دے۔ ) فتح و نصرت کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف سے نبوت کے اعلان اور دعوت کے آغاز ہی میں قوم نے آپ ( علیہ السلام) کو ماننے سے انکار کردیا اور آپ ( علیہ السلام) کی نبوت کی تکذیب کردی۔ تو آپ ( علیہ السلام) نے فوراً اپنے رب سے درخواست کی کہ میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے، اس لیے ہمارے درمیان فیصلہ فرما دیجیے۔ گزشتہ آیت کے الفاظ شہادت دے رہے ہیں کہ قوم کی دھمکی اور ان کا لب و لہجہ یہ بتانے کے لیے کافی تھا کہ وہ اب حضرت نوح (علیہ السلام) سے جان چھڑانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو گزشتہ ساڑھے نو سو سال کی تبلیغی کاوشوں اور اس آخری دھمکی کے بعد کوئی شبہ نہیں رہ گیا تھا کہ اب میری قوم میں کوئی ایک شخص بھی ایمان قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ امرِواقعہ یہ ہے کہ حق و باطل کی محدود کشمکش بھی جانبین کے ارادوں کے سمجھنے کے لیے کافی ہوتی ہے، چہ جائیکہ ساڑھے نوسو سال کی طویل اور شدید کشمکش کے بعد بھی کوئی حتمی بات کہنا مشکل ہوتا۔ اس لیے حضرت نوح (علیہ السلام) نے صرف اپنے مخاطب لوگوں کے ایمان سے ہی مایوسی کا اظہار نہیں کیا بلکہ سورة نوح میں یہاں تک فرمایا کہ اے رب ! اگر تو نے انھیں چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا فاجر اور سخت منکرحق ہوگا۔ پروردگار نے بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس رائے کو درست قرار دیا اور اپنے وسیع علم کے حوالے سے فرمایا لَنْ یُّوْمِنَ مِنْ قُوْمِکَ اِلاَّمَنْ قَدْاٰمَنَ فَلاَ تَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ (ہود : آیت 36) ” تیری قوم میں سے جو ایمان لاچکے، بس وہ لاچکے، اب کوئی ایمان لانے والا نہیں ہے، لہٰذا اب ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑ دے۔ “ قوم کی ہدایت سے مایوسی کے بعد اب صرف فیصلے کی ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ میرے اور قوم کے درمیان آخری فیصلہ کردے، یعنی ایسا عذاب بھیج جو اس قوم کو تباہ کردے اور مجھے اور مجھ پر ایمان لانے والوں کو نجات دے دے۔ یہ وہ دعا ہے جو ہر رسول نے قوم پر اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ سے مانگی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی فراست سے اندازہ کرلیتے ہیں کہ اب تبلیغ و دعوت کا وقت گزر چکا، قوم کسی طرح بھی راہ راست قبول کرنے کے لیے تیار نہیں بلکہ وہ اس زبان کو خاموش کردینا چاہتی ہے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتی ہے۔ اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب آتا ہے۔
Ayahs 26:119–120

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

پس ہم نے حضرت نوح اور اس کے ساتھ والوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں نجات دی

ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ Open ayah 26:120 in the Quran reader

پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کردیا

فَاَنْجَیْنٰـہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْن۔ ثُمَّ اَغْرَقْـنَا بَعْدُالْبٰـقِیْنَ ۔ (الشعرآء : 120، 122) (پس ہم نے حضرت نوح اور اس کے ساتھ والوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں نجات دی۔ پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کردیا۔ ) دعا کی قبولیت اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعاصحیح وقت پر زبان سے نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اسے فوراً قبول فرما لیا۔ تفصیل مختلف مواقع پر گزر چکی ہے کہ طوفان اٹھا جس نے ہر چیز کو تباہ کر ڈالا اور حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں کو ایک عظیم کشتی کے ذریعے بچایا جسے حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اس کی ہدایت کے مطابق پہلے سے تیار کرچکے تھے۔ اس کشتی کو مشحون یعنی بھری ہوئی اس لیے کہا گیا ہے کہ ہدایتِ خداوندی کے تحت ضرورت کی اشیاء اور مختلف حیوان اور نجات پانے والے انسان اس طرح لادے گئے تھے کہ کشتی ان سے پوری طرح بھر چکی تھی۔ ہر اس مخلوق اور ہر اس چیز کے لیے الگ الگ جگہ بنائی گئی تھی جسے طوفان سے بچانا مقصود تھا۔
Ayahs 26:121–122

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

بیشک تیرا رب عزیزورحیم ہے

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَـۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّوْمِنِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (الشعرآء : 121، 122) (بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ بیشک تیرا رب عزیزورحیم ہے۔ ) یہ آخر میں وہی آیت ترجیع ہے جو اس سے پہلے بھی تین دفعہ گزر چکی ہے۔ روئے سخن قریش کی طرف ہے کہ یہ بار بار آپ ﷺ سے نشانی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر ان لوگوں کو واقعی کوئی نشانی ہی مطلوب ہے تو طوفانِ نوح سے بڑی نشانی اور کیا ہوگی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی پوری سرگزشت بجائے خود ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ اگر نشانی سے ہی ایمان لانا ہے تو پھر اس نشانی پر ایمان لائیے لیکن جیسے قوم نوح میں اکثر ایمان لانے والے نہ تھے، یہی حال قریش کا بھی ہے۔ ان کے سامنے مسلسل نشانیاں آرہی ہیں، لیکن یہ کسی سے سبق لینے کے لیے تیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے، وہ جب چاہے پکڑ سکتا ہے، لیکن وہ ساتھ ہی رحیم بھی ہے اس لیے مسلسل مہلت دیئے چلا جارہا ہے، شاید یہ لوگ مہلت سے فائدہ اٹھائیں۔
Ayahs 26:123–126

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

قومِ عاد نے رسولوں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

جبکہ ان کے بھائی ہود نے ان کو آگاہ کیا کہ کیا تم لوگ ڈرتے نہیں

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

میں تمہارے لیے ایک رسول امین ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

کَذَّبَتْ عَادُ نِ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ ھُوْدٌ اَلاَ تَـتَّـقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّـقُواللّٰہَ وَ اَطِیْعُوْنِ ۔ (الشعرآء : 123 تا 126) (قومِ عاد نے رسولوں کو جھٹلایا۔ جبکہ ان کے بھائی ہود نے ان کو آگاہ کیا کہ کیا تم لوگ ڈرتے نہیں۔ میں تمہارے لیے ایک رسول امین ہوں۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ ) حضرت ہود (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) کی قوم کی سرگزشت قومِ نوح کے بعد جس قوم نے بہت ترقی کی اور جسے بہت عروج حاصل ہوا وہ قوم عاد تھی جس کا ذکر اس رکوع میں ہوچکا ہے۔ قرآن کریم نے واضح طور پر قوم عاد کو قوم نوح کا خلیفہ قرار دیا۔ ان کی جسمانی صحت اور مضبوطی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا وَزَادَکُمْ فِیْ الْخَلْقِ بَصْطَـۃً ” اور تمہیں جسمانی ساخت میں خوب تنومند کیا۔ “ ان کی ترقی کے حوالے سے فرمایا اَلَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلاَدِ ” جس کے مانند ملکوں میں کوئی قوم پید نہیں کی گئی۔ “ اپنی ترقی کے اظہار کے لیے انھوں نے بلند وبالا عمارتیں بنانے کا ایک کلچر پیدا کرلیا تھا اور ان کی عمارتیں عموماً اونچے اونچے ستونوں پر قائم تھیں اور اپنی بلند وبالا عمارتوں کے حوالے سے تاریخ میں ان کی بہت شہرت تھی۔ ان کا سیاسی نظام اگرچہ بظاہر بڑا مضبوط دکھائی دیتا تھا لیکن طبقات کے پیدا ہوجانے کی وجہ سے طاقتور لوگ اس نظام پر حاوی تھے اور انھوں نے قوت کے زور سے اختیارات پر قبضہ کر رکھا تھا۔ عقیدے کے اعتبار سے ایک اللہ کے قائل ہونے کے باوجود بندگی میں نہ صرف دوسروں کو شریک کرتے تھے بلکہ جابجا طواغیت نے اپنی مسندوں کا جال بچھا رکھا تھا۔ اس کے نتیجے میں مذہبی وحدت کا بھی فقدان تھا اور سیاسی وحدت بھی پارہ پارہ ہوچکی تھی۔ وہ طاقت کی زبان سمجھتے اور طاقت کی زبان بولتے تھے۔ ظلم ان کا اوڑھنا بچھونا بن چکا تھا۔ ان مفاسد کی وجہ سے تمدن بری طرح بگاڑ کا شکار ہوچکا تھا۔ بالاتر طبقات کی حکومت کے باعث ایک مضبوط ریاست کا وہم ہوتا تھا۔ ان کی ریاست الاحقاف کے نام سے جانی جاتی تھی جو آج ایک خوفناک ریگستان بن چکا ہے اور جس میں زندگی کے دور دور تک آثار نہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) ایسی طاقتور لیکن بگڑی ہوئی قوم میں مبعوث ہوئے انھوں نے بھی حضرت ہود (علیہ السلام) کی نبوت اور آپ ( علیہ السلام) کی دعوت کو جھٹلایا، چونکہ ان کی تکذیب درحقیقت پیغامِ رسالت کی تکذیب تھی، اس لیے انھوں نے صرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو ہی نہیں بلکہ ایک طرح سے تمام رسولوں کو جھٹلا دیا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اپنی قوم کے ساتھ اخوت کا رشتہ رکھتے تھے اس لیے انھیں غایت درجہ اپنی قوم سے ہمدردی تھی۔ اس لیے ان کے بگڑے ہوئے حالات اور مخدوش مستقبل کو دیکھتے ہوئے انھوں نے تبلیغ و دعوت کا آغاز انذار سے کیا۔ اور نہایت قوت سے انھیں جھنجوڑتے ہوئے کہا کہ کیا تم اپنے کرتوتوں کے باعث اللہ تعالیٰ اور اپنے برے انجام سے ڈرتے نہیں ہو۔ میں تمہارے پاس رسول امین کی حیثیت سے آیا ہوں، کیونکہ میری سابقہ زندگی سے تم پوری طرح واقف ہو۔ میرا بےعیب کردار میری حقانیت کی گواہی دیتا ہے۔ ایک معتبر اور معتمد رسول کے آجانے کے بعد تمہارے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا جس کے سہارے تم اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کی ہمت کرسکو۔ اللہ تعالیٰ کا پیغام میں تمہارے سامنے کھول کر پیش کرچکا ہوں اور میری ذات اور میرا عمل اس کی حقانیت کی شہادت دے رہا ہے۔ اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو تاکہ تم حق و باطل اور صحیح اور غلط میں امتیاز کرکے صحیح راستہ اختیار کرسکو۔
Ayah 26:127

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

وَمَـآ اَسْئَلُـکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ ج اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الشعرآء : 127) (میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔ ) اطاعت کی دلیل ایک تو اس لیے تمہیں میری اطاعت کرنی چاہیے کہ میں رسول امین ہوں، مجھ پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے، میری دیانت پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ اور دوسرا اس لیے کہ میں ایک بےغرض آدمی ہوں جس کے پیش نظر تمہاری صلاح و فلاح کے سوا اور کچھ نہیں۔ میں نے تبلیغ و دعوت کے عمل میں دنیوی اور مادی لحاظ سے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے۔ اگر میری کوئی اپنی غرض ہوتی تو میں کچھ نہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتا۔ البتہ مجھے اس پر ملال نہیں۔ میرے لیے تم میں سے کسی ایک کا ایمان لے آنا کسی خزانے کے ہاتھ آجانے سے بہتر ہے۔ اگر اس جذبہ اخلاص کی تم قدر نہیں کرو گے تو اپنا بہت کچھ نقصان کرلو گے۔
Ayahs 26:128–129

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

کیا تم ہر بلندی پر عبث ایک یادگار بنا ڈالتے ہو

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے

اَ تَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ اٰیَـۃً تَعْبَثُوْنَ ۔ وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّـکُمْ تَخْلُدُوْنَ ۔ (الشعرآء : 128، 129) (کیا تم ہر بلندی پر عبث ایک یادگار بنا ڈالتے ہو۔ اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔ ) رِیْعٌ … بلند زمین کو بھی کہتے ہیں اور اس راستے کو بھی جو دو پہاڑیوں کے درمیان سے گزر رہا ہو۔ اٰیَـۃٌ … یہاں نشانی اور یادگار کے مفہوم میں ہے۔ مَصَانِعَ … مَصْنَعْ کی جمع ہے۔ محلوں اور ایوانوں پر بھی بولا جاتا ہے اور مضبوط قلعے پر بھی۔ ترجیحات کے بگاڑ پر تنبیہ قوموں کی روحانی اور اخلاقی زندگی میں جب بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ اخلاقی اور روحانی اقدار کی قدر و قیمت نگاہوں سے گر جاتی ہے پھر کسی کی عظمت، سیرت و کردار سے نہیں بلکہ دولت و امارت سے جانچی جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں اخلاقی اور روحانی قدریں نہ صرف زوال پذیر ہوجاتی ہیں بلکہ رفتہ رفتہ مٹ جاتی ہیں اور مادی زندگی کی محبت دلوں میں اترتی چلی جاتی ہے۔ آغاز میں لوگ اخلاقیات کو نظرانداز کرکے کثرت دولت کو ہدف بناتے ہیں۔ پھر اسی میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے میں کوششیں صرف کرنے لگتے ہیں۔ پھر نام و نمود اور دولت کے اظہار کا مرض پھیلتا جاتا ہے پہلے مکانات بلند اور وسیع ہوتے ہیں اور پھر اسی میں ایک دوسرے سے مقابلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ایک شخص ایک منزل بناتا ہے، دوسرا، دوسری منزل اٹھاتا ہے۔ پہلا شخص اس کے مقابلے میں دوسری منزل تعمیر کرتا ہے تو دوسرا تیسری منزل کھڑی کردیتا ہے۔ اس طرح سے عمارتیں بلند ہوتی جاتی ہیں، انسان چھوٹا ہوتا جاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عمارات کی بلندی اپنے مکینوں سمیت زمین بوس ہوجاتی ہے۔ اسی کی طرف آنحضرت ﷺ نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ما الفقر اخشی علیکم ولکنی اخشی ان تبسط علیکم الدنیا کما بسطت علی من کان قبلکم فتنافسوھا کما تنافسوھا فتھلککم کما اھلکتھم ” میں تم پر ناداری سے نہیں ڈرتا، میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر کھول دی جائے گی، جیسے پہلی قوموں پر کھولی گئی۔ پھر تم دنیا طلبی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں لگ جاؤ گے۔ تو جس طرح اس سبقت نے پہلی قوموں کو تباہ کیا، تمہیں بھی ہلاک کردے گی۔ “ دولت جیسے جیسے بڑھتی جاتی ہے، ویسے ویسے نفس پرستی اور مادہ پرستی کی شدت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب صرف مکانات کی وسعت اور بلندی ہی مقصود نہیں رہتی بلکہ ہر بلند جگہ پر محض یادگار کے طور پر بلندوبالا عمارتیں بنانے (تاکہ دوسروں کے سامنے اپنی دولت کا اظہار ہو اور یہ یادگاریں دیر تک اس کے نام کو زندہ رکھیں) کی خواہش پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ وہ مادی جنون کی کیفیت ہے جو تمدن کے فساد کا باعث بنتی ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی تعمیرات پر جو گرفت کی ہے اس سے مقصود تمدن و تہذیب کے اسی فساد کو روکنا تھا جس سے بالآخر قومیں تباہ ہوجاتی ہیں اور ان عمارتوں کا ذکر آپ ( علیہ السلام) نے اس حیثیت سے کیا تھا کہ یہ نظام تمدن و تہذیب کی خرابیوں کی علامتیں ہیں۔
Ayah 26:130

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب تم کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو تو جبار بن کر ہاتھ ڈالتے ہو

وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ ۔ (الشعرآء : 130) (اور جب تم کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو تو جبار بن کر ہاتھ ڈالتے ہو۔ ) فساد فی الارض پر تنبیہ تم نے دولت و ثروت کے اظہار اور ضروریاتِ زندگی میں تکلف اور تعیش کے عناصر شامل کرنے میں اس حد تک غلو سے کام لیا ہے کہ اب تمہاری رہائش کے لیے مکان کافی نہیں بلکہ محلات درکار ہیں۔ پھر اسی پر تمہاری تسکین نہیں ہوئی تو تم نے اظہارِقوت و ثروت کے لیے ہر نمایاں جگہ میں یادگاریں قائم کرنے کا ایک سلسلہ شروع کردیا جس سے ایک طرف تمدن و تہذیب کو نقصان پہنچا تو دوسری طرف تمہارا انسانیت سے رشتہ ٹوٹ گیا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ قوم طبقات میں بٹ گئی۔ غریب، غریب تر اور کمزور، کمزور تر ہوتے چلے گئے اور تمہارے بگڑے ہوئے مزاج نے بجائے ان پر رحم کھانے کے ظلم کا ایسا بازار گرم کیا کہ کہیں انصاف کے لیے جائے پناہ باقی نہ رہی اور انسانی زندگی دکھوں سے زخم زخم ہو کر رہ گئی۔ اب تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنے لیے تو ہمیشگی اور دوام کی فکر میں ہو اور اس کے لیے جگہ جگہ بےفائدہ یادگاریں قائم کرتے پھرتے ہو۔ اور غریبوں کے ساتھ تمہارا معاملہ یہ ہے کہ تم جب بھی ان پر ہاتھ ڈالتے ہو تو ظالمانہ طریقے سے ڈالتے ہو۔ زمینوں پر کام کرنے والے ہاری اور مزارعے، کانوں میں کام کرنے والے مزدور اور سڑکوں اور گھروں میں کام کرنے والے کارکن تمہاری سختیوں میں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ اپنے کتوں تک سے تم پیار کرتے ہو لیکن ان کے بلکتے بچوں پر تمہیں رحم نہیں آتا۔ ممکن ہے پیش نظر آیت کریمہ میں حضرت ہود (علیہ السلام) اپنی قوم کے مزاجِ فساد کو واضح کرنے کے بعد ان کے خارجی فساد فی الارض کی طرف اشارہ کررہے ہوں کہ تمہیں جب بھی موقع ملتا ہے تو اپنے ہمسایہ ملکوں پر چڑھ دوڑتے ہو اور ان کو اپنا غلام و محکوم بنانے میں نہایت ظالمانہ طریقے اختیار کرتے ہو۔ تمہاری طاقت اپنے ہمسایوں کے لیے ایک تباہ کن قوت بن کر رہ گئی ہے۔ اس طرح سے خدا کی زمین تم نے خدا کے بندوں پر تنگ کردی ہے۔
Ayah 26:131

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

بس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

فَاتَّـقُواللّٰہَ وَ اَطِیْعُوْنِ ۔ (الشعرآء : 131) (بس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ ) قوم کے اعمالِ فاسدہ پر تنقید کرنے کے بعد انھیں تباہی کے حوالے نہیں کیا بلکہ اب بھی پیش نظر یہ ہے کہ وہ کسی طرح اپنے برے انجام سے بچ جائیں۔ اس لیے نہایت دلسوزی اور دردمندی کے ساتھ باردگر تذکیر و تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے کانٹوں کی فصل بونے میں اگرچہ کوئی کمی نہیں کی لیکن ابھی وقت ہاتھ سے نہیں گیا، اگر اپنی غلط روش سے باز آجاؤ اور اپنے مفسد لیڈروں کی پیروی کرنے کی بجائے میری اطاعت کرو تو اب بھی اس ڈوبتی کشتی کو بچایا جاسکتا ہے۔ اور ازسرنو اصلاح کی امید کی جاسکتی ہے۔
Ayahs 26:132–135

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اور اس اللہ سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہیں مدد پہنچائی جن کو تم جانتے ہو

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

اس نے تمہاری مدد کی چوپایوں اور اولاد سے۔ اور باغوں اور چشموں سے

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

بیشک میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

انھوں نے جواب دیا کہ تم نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے سب یکساں ہیں

وَاتَّـقُوالَّذِیْٓ اَمَدَّکُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَ ۔ اَمَدَّکُمْ بِاَنْعَامٍ وَّبَنِیْنَ ۔ وَجَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ (الشعرآء : 132 تا 135) (اور اس اللہ سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہیں مدد پہنچائی جن کو تم جانتے ہو۔ اس نے تمہاری مدد کی چوپایوں اور اولاد سے۔ اور باغوں اور چشموں سے۔ بیشک میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ ) کفرانِ نعمت سے بچو گزشتہ آیت سے جو امید دلائی تھی اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ تم پر پہلے بھی اللہ تعالیٰ کے کتنے احسانات ہیں، وہ یقینا تمہیں تباہ نہیں کرنا چاہتا، تمہاری اصلاح چاہتا ہے۔ تم اس کے غیظ و غضب کے ساتھ ساتھ ان نعمتوں کے چھن جانے کی فکر کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اب تک چارپایوں، مال و اولاد اور باغوں اور چشموں کی صورت میں عطا فرمائی ہیں۔ اور تم خوب جانتے ہو کہ کس کثرت کے ساتھ تمہیں نعمتوں سے نوازا گیا ہے۔ یہ ساری نعمتیں تمہیں اس لیے تو نہیں دی گئی تھیں کہ آنے والے دن کی فکر کی بجائے سرکش و جبار بن کر اہل زمین کے لیے مصیبت بن جاؤ بلکہ یہ نعمتیں تو تمہیں شکرگزاری اور فرمانبرداری کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے دی گئی تھیں۔ لیکن تم نے جس طرح اللہ تعالیٰ کی زمین کو فساد سے بھر دیا ہے اس سے مجھے اندیشہ ہے کہ ایک ہولناک دن کا عذاب تمہیں نہ آپکڑے۔ کیونکہ کسی بھی پیغمبر کی تکذیب جب آخری مرحلے پر پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب حرکت میں آجاتا ہے اور وہ قوم تباہ کردی جاتی ہے۔ میں ایسے ہی عذاب کا تمہارے بارے میں اندیشہ رکھتا ہوں اور تمہیں بار بار اس سے بچنے کی ترغیب دے رہا ہوں۔
Ayah 26:136

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

یہ باتیں تو یونہی ہوتی چلی آئی ہیں

قَالُوْا سَوَآئٌ عَلَیْنَـآ اَوَعَظْتَ اَمْ لَمْ تَـکُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْن۔ (الشعرآء : 136) (انھوں نے جواب دیا کہ تم نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے سب یکساں ہیں۔ ) قلبی قساوت کی آخری حد قوموں میں بگاڑ کے بھی درجات ہیں۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ قومیں نصیحت سے لاپرواہی کا رویہ اختیار کرتی ہیں، پھر بےاعتنائی پیدا ہوتی ہے، لیکن دل میں اس بات کا احساس ضرور ہوتا ہے کہ جو لوگ اپنا وقت اور اپنی توانائی صرف کرکے ہمارے پاس نصیحت کے لیے آتے ہیں یقینا وہ ہمارے خیرخواہ ہیں۔ نصیحت قبول نہ بھی کی جائے، دل میں ناصح کی خیرخواہی کا احساس ضرور ہوتا ہے لیکن بگاڑ کا آخری درجہ یہ ہے کہ نہ، نصیحت سے تعلق رہے اور نہ ناصح سے، بلکہ ناصح سے بیزاری پیدا ہوجائے۔ اور صاف کہا جانے لگے کہ آپ ہمیں نصیحت کریں یا نہ کریں، ہمارے دلوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا، کیونکہ ہمارے ماحول، ہماری تعلیم و تربیت اور ہمارے طوراطوار نے ہمیں جو مزاج دیا ہے وہ تمہاری باتوں سے یکسر مختلف ہے۔ تم جو کچھ کہتے ہو ہمارے طبیعتیں اسے قبول نہیں کرتیں۔ تم اور وادی کے مسافر ہو، ہم اور وادی کے۔
Ayahs 26:137–138

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

اور ہم پر ہرگز عذاب آنے والا نہیں ہے

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

آخر کار انھوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا، اور ہم نے ان کو ہلاک کردیا

اِنْ ھٰذَٓا اِلاَّ خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ۔ (الشعرآء : 137، 138) (یہ باتیں تو یونہی ہوتی چلی آئی ہیں۔ اور ہم پر ہرگز عذاب آنے والا نہیں ہے۔ ) تم ہمیں جس عذاب سے ڈرا رہے ہو، یہ ڈراوا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی بہت سے مذہبی خبطی اور اخلاق کی باتیں بگھارنے والے ایسی ہی باتیں کرتے رہے ہیں۔ اگر ان باتوں پر عذاب آنا ہوتا تو پہلے لوگوں پر عذاب آجاتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری باتوں کی حیثیت توہمات سے زیادہ نہیں۔ ہم ایسی فرضی باتوں سے یہ روگ نہیں پال سکتے کہ ہم پر عذاب آنے والا ہے۔ ہمیں ایسے کسی عذاب کا اندیشہ نہیں۔ سورة نمل آیت 68 میں یہی بات ان الفاظ میں کہی گئی ہے لَقَدْ وُعِدْنَا ھٰذَا نَحْنُ وَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ اِنْ ھٰذَا اِلاَّ اَسَاطِیْرُاْلاَ وَّلِیْنَ ” اس کی دھمکی ہمیں بھی سنائی جارہی ہے، اور اس سے پہلے ہمارے آبائواجداد کو بھی سنائی جا چکی ہے، یہ محض اگلوں کے افسانے ہیں۔ “ دوسرا مطلب اس آیت کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں ان میں سے کوئی نئی بات نہیں، صدیوں سے ہمارے باپ دادا یہی کچھ کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان کے طوراطوار بھی ایسے تھے، ان کا دین بھی یہی تھا، ان کا تمدن اور ان کے اخلاق بھی ہم سے مختلف نہیں تھے۔ لیکن ان پر ایسا کوئی عذاب نہیں آیا۔ تو ہم پر آخر ایسی کوئی آفت کیوں آپڑے گی۔ یہ بلاوجہ کے اندیشے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔
Ayahs 26:139–140

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں،

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

اور بیشک تمہارا رب وہ غالب اور مہربان ہے

فَکَذَّبُوْہُ فَاَھْلَـکْـنٰـھُمْ ط اِنّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَـۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّـکَ لَھُوْالْعَزِیْزُالرَّحِیْمْ ۔ (الشعرآء : 139، 140) (آخر کار انھوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا، اور ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں، اور بیشک تمہارا رب وہ غالب اور مہربان ہے۔ ) تکذیب کا نتیجہ جب قوم ہود نے تکذیب میں انتہا کردی حتیٰ کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی زندگی کے درپے ہوگئے، تو اللہ تعالیٰ کی سنت حرکت میں آئی تو اس قوم کو ہلاک کردیا گیا۔ بعض دیگر مواقع پر قرآن کریم نے بتایا ہے کہ ایک زور کی آندھی اٹھی، قوم ہود کی وادیوں کی طرف بڑھی، یہ لوگ یہ سمجھے کہ گھٹا اٹھ رہی ہے، بارش کی شدید ضرورت تھی، نہایت خوش ہوئے، خوب خوشیاں منائی جانے لگیں کہ بارش ہوگی تو قحط سالی ٹل جائے گی اور زمین غلہ اگلنے لگے گی، مگر وہ گھٹا خدا کا عذاب تھا۔ آٹھ دن اور سات راتوں تک مسلسل ایسی طوفانی ہوا چلتی رہی جس نے ہر چیز کو تباہ کر ڈالا۔ اس کے زور کا یہ عالم تھا کہ اس نے آدمیوں کو اٹھا اٹھا کر پھینکا۔ اس کی گرمی اور خشکی کا یہ حال تھا کہ جس چیز پر گزر گئی اسے بوسیدہ کرکے رکھ دیا۔ یہ طوفان اس وقت تک نہ تھما جب تک اس ظالم قوم کا ایک ایک متنفس ختم نہ ہوگیا۔ بس ان کی بستیوں کے کھنڈر ہی ان کے انجام کی داستان سنانے کے لیے کھڑے رہ گئے۔ اور آج کھنڈر بھی باقی نہیں ہیں۔ احقاف کا پورا علاقہ ایک خوفناک ریگستان بن چکا ہے جس میں زندگی کے دور تک آثار نہیں۔ اس کے بعد وہی آیات ترجیع ہیں جو اوپر گزر چکیں اور ان کی وضاحت پہلے ہوچکی ہے۔
Ayahs 26:141–145

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:141 in the Quran reader

ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:142 in the Quran reader

جب ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا، کیا تم ڈرتے نہیں

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:143 in the Quran reader

میں تمہارے لیے اللہ کا ایک امانتدار رسول ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:144 in the Quran reader

پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:145 in the Quran reader

میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو بس اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے

کَذَّبَتْ ثَمُوْدُالْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ صٰلِحٌ اَلاَ تَـتَّـقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّـقُواللّٰہَ وَاَطِیْعُـوْنِ ۔ وَمَـآ اَسْئَلُـکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍا ج اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔ جب ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا، کیا تم ڈرتے نہیں۔ میں تمہارے لیے اللہ کا ایک امانتدار رسول ہوں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو بس اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ ) حضرت صالح (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) کی دعوت کی سرگزشت اب قوم ثمود کا ذکر ہورہا ہے۔ قرآن کریم کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم عاد کے بعد جس قوم کو عروج عطا ہوا وہ یہی قوم تھی۔ لیکن اس قوم نے بھی اپنے انبیاء کی دعوت کے ساتھ وہی کچھ کیا جو پہلی قومیں کرچکی تھیں۔ ان کی تمدنی ترقی نے بھی بالآخر وہی شکل اختیار کی جو عاد کی ترقی نے کی تھی۔ یعنی ان کا معیارِ زندگی بلند سے بلند تر ہوتا گیا اور میعارِ انسانیت روز بروز گرتا گیا۔ جس طرح قوم عاد نے مادی زندگی کو اپنا ہدف بنا کر تکلف اور تعیش کی زندگی اختیار کی اور پھر بڑھتے بڑھتے عالی شان محلات زندگی کی ضرورت بن گئے اور دوام کی خواہش نے ہر بلند جگہ پر بلند وبالا عمارتیں بنا کر ہمیشہ کی یادگاروں کا سامان کیا۔ ان کے عقیدے کی تباہی جس نے ان کے اخلاق اور اعمال کو ابتری کے راستے پر ڈالا اور ساتھ ہی ساتھ مادی زندگی کی بےپناہ محبت نے تہذیب و تمدن کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ ان کی طرف مبعوث ہونے والے پیغمبر حضرت صالح (علیہ السلام) نے بار بار انھیں انذار کیا، اور اپنی سابقہ زندگی سے استشہاد کرتے ہوئے اپنے آپ کو ایک رسول امین کی حیثیت سے پیش کیا۔ اور انھوں نے توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ سے رشتہ توڑ کر اور دنیا دار اور خواہش پرست لیڈروں کی پیروی نے چونکہ تمہیں ہلاکت کے راستے پر ڈال دیا ہے، ان کی پیروی چھوڑو اور میری اطاعت کرو، کیونکہ میرے پاس وہ علم ہے اور مجھ پر وہ رہنمائی اترتی ہے جو تمہارے ہر طرح کے بگاڑ کا علاج کرسکتی ہے۔ اور انھیں مزید توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح میری زندگی کا ایک ایک عمل اعتماد دلانے والا ہے، اسی طرح میری بےغرض دعوت اور ہمدردی اور خیرخواہی پر مشتمل تبلیغ تمہارے دکھوں کا مداوا کرسکتی ہے۔ تمہیں اپنے معاشرے میں ایک شخص بھی بےغرض نظر نہیں آئے گا، لیکن میں کس قدر بےغر ضی اور ہمدردی و خیرخواہی سے شب و روز تمہاری اصلاح کے لیے کوشاں ہوں۔ کیا تمہیں اس سے اندازہ نہیں ہوتا کہ میرے پیش نظر تمہاری دنیا و عاقبت کے سنوارنے کے سوا اور کچھ نہیں، اس لیے تمہیں اپنی بھلائی کے لیے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور میری اطاعت کرنی چاہیے۔
Ayahs 26:146–148

اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 26:146 in the Quran reader

کیا تمہیں رہنے دیا جائے گا اس (عیش و طرب) میں جس میں تم یہاں ہو ہر خطرے سے محفوظ

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:147 in the Quran reader

باغوں اور چشموں میں

وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ Open ayah 26:148 in the Quran reader

کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رس بھرے ہیں

اَ تُتْرَکُوْنَ فِیْ مَا ھٰـھُنَـآ اٰمِنِیْنَ ۔ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنِ ۔ وَّزُرُوْعٍ وَّنَخْلٍ طَلْـعُـھَا ھَضِیْمٌ۔ (الشعرآء : 126 تا 148) (کیا تمہیں رہنے دیا جائے گا اس (عیش و طرب) میں جس میں تم یہاں ہو ہر خطرے سے محفوظ۔ باغوں اور چشموں میں۔ کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رس بھرے ہیں۔ ) خوشحالی سے پیدا ہونے والی غلط فہمی کا ازالہ دنیا کی محبت میں ڈوبے ہوئے لوگ جن بڑی بڑی خوش فہمیوں میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں سب سے بڑی خوش فہمی یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا یہ عیش دائمی اور ابدی ہے، اس کو کبھی زوال نہیں ہوگا اور نہ کبھی ان نعمتوں کا حساب لیا جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی اپنی عاقبت کے بارے میں سوچنے کی زحمت نہیں کرتے۔ یہی حال قوم ثمود کا بھی تھا کہ وہ دنیوی نعمتوں کو ہمیشہ رہنے والی نعمتیں سمجھتے تھے اور پھر ان نعمتوں پر ذاتی استحقاق کا دعویٰ بھی رکھتے تھے۔ درحقیقت نعمتوں کا حصول کوئی برائی نہیں۔ خوشحالی انسان کو آسودگی دیتی ہے۔ وسائلِ زندگی کی فراوانی کسی بھی قوم کی ترقی کی علامت ہوتی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ قوم کی حقیقی زندگی کا باعث اس وقت بنتا ہے جب اسے اپنا ذاتی استحقاق یا اپنی ملک سمجھنے کی بجائے امانت اور اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھا جائے۔ اور یہ یقین رکھا جائے کہ جس منعم حقیقی نے یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں بجا طور پر اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ ان کے بارے میں جواب طلبی کرے۔ اور ہر وہ شخص جس کو نعمتیں عطا ہوتی ہیں اس پر لازم ہے کہ وہ ان نعمتوں پر منعم حقیقی کا شکر بجا لائے اور انھیں امانت سمجھ کر حقِ امانت کی ادائیگی کی فکر کرے۔ اور جو شخص امانتوں کی فراوانی سے گراں بار کیا گیا ہے، اسے جوابدہی کے احساس سے اتنا ہی زیادہ فکرمند ہونا چاہیے۔ چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی صلاح و بقا کے لیے بار بار ان پر زور دیا کہ تمہارے اندر دولت کی جو ناہمواری اور خلق خدا کے حوالے سے بےالتفاتی نے جو مسائل پیدا کیے ہیں اس کا حل اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ تم اپنے اندر یہ یقین پیدا کرو کہ یہ نعمتیں ہمیشہ رہنے والی نہیں۔ یہ باغات اور چشمے اور یہ نخلستان اور جھکی ہوئی شاخوں والے پھلدار درخت حق دوام لے کر وجود میں نہیں آئے۔ یہ تمہارے لیے امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو نعمت بھی دی ہے اس کے ساتھ مسئولیت بھی عائد کی ہے۔ جب تک مسئولیت کی فکر پیدا نہیں ہوگی نہ نعمتوں پر شکر کا جذبہ پیدا ہوگا اور نہ راہ ہدایت نصیب ہوگی۔ طَلْـعُـھَا ھَضِیْمٌ … طَلْعٌ خوشے کو کہتے ہیں ہَضِیْمٌ وہ کھجور جس کے خوشے آپس میں گتھم گتھا ہوں، جو پھلوں سے لد کر جھک گئے ہوں۔ اور جن کے پھل پکنے کے بعد نرمی اور رطوبت کی وجہ سے پھٹے پڑتے ہوں۔ جو مٹھاس سے اتنے نرم اور گداز ہوں کہ منہ میں ڈالتے ہی گھل جائیں۔ یہ سارے مفاہیم ایک دوسرے سے قربت رکھتے ہیں اور ان سب کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔